Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • بزرگ

    بزرگ

    بزرگ ہماری دولت اور شہرت کے نہیں بلکہ محبت کے طلبگار ہوتے ہیں بزرگوں کی ہی مرہونِ منت ہمارے گھروں میں رونقیں ڈیروں میں محفلیں ہوتی ہیں بزرگوں کی قدر کرنا خاندانی لوگوں کا ہر دل عزیز شیوا ہوتا ہے

    ضعیف العٔمر بزرگوں کے جذبات کی قدر اور أنکے احساسات کو ترجیح دینے سے بزرگوں کے اندر قدرتی خوشی محسوس ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرنے کی بجائے جمِ غفیر کا ساتھی سمجھتے ہیں بزرگوں کی باتیں اکثر وزن کے اعتبار سے قابلِ بھروسہ اور قابلِ قدر سمجھی جاتی ہیں انکی باتوں کو غور سے سننے والا کبھی بھی زندگی کی مشکل روانی میں پریشان نہیں ہوتا جو بزرگوں کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں گویہ متوجہ ہی نہ ہو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا

    ہمارے ہاں ایک برگزیدہ بزرگ ہوا کرتے تھے ضعیف العٔمر تھے چلنے پھرنے سے قاصر بڑھاپا انکے انگ انگ میں کوٹ کوٹ کر بھر چکا تھا أس وقت بھی انکے جذبات آج کل کے نوجوانوں سے زیادہ طاقتور تھے کسی بھی مشکل وقت میں اگر ان سے مشورہ لینا ہوتا کسی کی جرآت نہیں تھی انکے آگے کوئی بلاوجہ تمہید باندھیں انکے ساتھ بات کرنے کے لیے قدر آور معتبر شخصیات جاتی اور مشورہ لیتی وہ اس انداز سے مشورہ اور مصیبت کا حل بتاتے تھے کہ پہاڑ جیسے مسئلے کو أن سے مشورہ لینے کے بعد روئی جیسہ مسئلہ لگتا تھا

    ایک دفعہ سڑک پار کرنے کے لیے انہیں کسی سہارے کی ضرورت تھی مجھے کہنے لگے ” پٔتر اے سڑک تے پار کروا چھڈ ‘” میں تیزی سے آگے لپکا سڑک پار کروائی جیب سے 10 روپے نکال کر دیے میں نے کہا یہ کیا انہوں نے بڑے انہماک اور دریا دلی سے جواب دیا جو میرے لیے متاثر کٔن تھا اور اس جملے نے مٔجھے کئی روز زندگی کا مقصد سمجھائے رکھا کہ کسی کا بھی کسی بھی موقع پر حق نہیں کھانا چاہیے جملہ سنئیے
    کہتے
    ” پٔتر تو کیڑا میرا نوکر لگا اے تیرا معاوضہ اے ”

    بظاہر تو میں نے اللہ کی رضا کے لیے سڑک پار کروائی لیکن اللہ کی شان یہ وہ طاقت ور
    جملہ تھا جو ہمارے معاشرے کے لیے سبق آموز ہے کہ کسی کا حق نہیں رکھنا چاہیے چاہیے حالانکہ یہ میرا حق نہیں تھا لیکن جملہ بزرگ کی زبان سے نکلا ہوا شائید بہت کچھ سمجھا گیا۔

    اردگرد اپنے بزرگوں ضعیف العمر لوگوں کی قدر کیا کریں انکو ترجیح دیا کریں آپکی زندگی صحرا سے گلشن بن جائے گی آپکو اندر سے قیمتی چیز کی خوشی محسوس ہوگی
    یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی کی ہر اونچ نیچ کو بڑی روانی کے ساتھ گزار کر بزرگ بنتے ہیں
    زندگی کے ایک ایک لمحے کو ان لوگوں نے پرکھا ہوتا ہے دورانِ بزرگی بڑے پر اثر طریقے اور قدر دانی کے ساتھ اپنے اللہ کو راضی کرتے ہیں یہ بزرگوں کا زوق و شوق ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں ایک ایک منٹ کو بغیر ضائع کیے اللّٰہ کی یاد میں گزار دیتے ہیں

    شائید غالب امکان یہی ہے کہ آج کل کے بزرگ زندگی کی آخری پیڑی ہو انکی قدر کریں انہیں حوصلہ دیں انکے ساتھ چند منٹ بیٹھ جایا کریں زندگی میں فائیدہ ہوگا انکو راحت محسوس ہوگی
    چشمِ فلک اور وقت نے بہت کچھ دیکھا شائید اب کی بار چشمِ فلک انسان کو "بزرگ” نہ دیکھ سکے
    کیونکہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اوسطاً عمر 60 سال ہے جو کہ بزرگ بننے سے پہلے ہی انسان منوں مٹی تلے چلا جائے گا۔
    شعر ہے کہ
    اے چشمِ فلک اے چشمِ زمیں
    ہم لوگ تو پھر آنے کے نہیں دو چار گھڑی کا سپنا ہے

    @Talha0fficial1

  • دوہرا میعار تحریر: سجاد قمر

    دوہرا میعار تحریر: سجاد قمر

    ﷲ سبحانہ و تعالی کا روحِ عرض پر ایک اصول رہا ہے کہ جب بھی کوئی قوم اس (ﷲ)کے دئیے ہوئے مہم/راستے پر نہیں چلی اس(ﷲ) نے اس قوم کو تباہ کر دیا یا اس سے اپنی رحمت کے سائے اُٹھا لیے اور ان کو کھلی چھُوٹ دے دی گئی کہ جو کرنا ہے کرو ایک دن میری ہی طرف پلٹ کر آؤ گے۔ چھ سو سال حکومت کی عربوں نے اور بلاآخر ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ پھر رحمت کے سائے ترکوں کے حصے میں آئے پھر برصغیر پر پڑے اور ستائیسویں رات یعنی شبِ قدر کو پاکستان ایک تحفہ کی صورت میں نازل ہوا۔ دنیا میں آزادی کی بہت سی تحریکیں چلی، کوئی عرب قومیت پر، کوئی نسل اور رنگ پر لیکن تحریک پاکستان وہ واحد تحریک تھی جو اسلام کے نام پر چلی کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔ یہ پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بنا، آج اسی میں رہنے والے مسلمان صرف نام کے مسلمان ہیں۔ اس ملک کو ﷲ سبحانہ و تعالی نے خاص مقصد کے کیے ہمیں تحفہ میں دیا لاکھوں مسلمانوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ملنے والے ملک میں ہر جگہ دوہرا میعار پایا جاتا ہے۔ یہاں رہنے والا ہر شخص اپنے چند ٹکے کے فائدہ کے لیے اسلام مذہب، دین، ایمان، قانون اور ریاست کا نقصان کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ یہاں ایک گلی محلے سے لے کر گاؤں شہر اور پھر صوبوں میں بھی نسلی تناسب عام ہے اسلام تو دور انسانیت کی بھی قدر نہیں۔ آج کل ہر جگہ سیاست چل رہی ہے وہ گھر ہو یا رشتہ دار، گاؤں ہو یا شہر، صوبہ ہو یا ملک۔ یہاں ایک پڑھے لکھے انسان کو ہزاروں جتن کرنے پڑتے ہیں ملازمت حاصل کرنے کے لیے لیکن ایک ان پڑھ جاہل چور ڈاکو وزیراعظم تک بن جاتا ہے۔ ہر ایک بندہ خود کو ایک اسلامی مذہبی مان کرکے دوسروں کو کافر یہودی ثابت کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ عوام ایک پڑھے لکھے یا مذہبی بندے کو ووٹ نہیں دیتی اور چور ڈاکو ، کرپشن سے بھرپور کو وزیر تک بنا دیتی ہے۔ ایک وقت کی روٹی چرانے والے کو مار مار لہولہان کر دیتی ہے اور اربوں چوری کرنے والوں کے نام کے نعرے لگتے ہیں۔ کسی محکمے میں ایک ایماندار آفیسر آنے سے سارے کرپٹ آفسران اس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کا حق تو دور کی بات ہے اپنے ہی گھر کے افراد اور رشتہ داروں کا حق کھانا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہر چیز میں ملاوٹ کرنے کی عادت کو دن بدن بڑھاتے ہیں اور الزام اپنے ہی چُنے ہوئے حکمرانوں کو دیتے ہیں۔ اپنی پسند کی چیزیں اقتدار مل جائے تو ٹھیک ورنہ اسلام کیا ریاست کیا ہر ایک کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ صدقہ خیرات کرنے والے ملک ہونے کے ساتھ ہم بےایمانی میں سب سے اُوپر ہیں۔ اس میں کسی کافر، یہودی اور عیسائیوں کا عمل دخل نہیں بلکہ اپنا ہی دوہرا میعار ہے جو ہم کو ہمارے کردار اور عادات پر پردہ ڈال کر صرف دوسروں کی خامیوں کو دیکھنے اور پرکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ آج کل پاکستان میں رہنے والے پاکستانی اور مسلمان کم پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان زیادہ نظر آتے ہیں۔ بشتر افراد سیاسی پارٹیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ کسی بھی ملک و ریاست کی سلامتی، امن و امان میں کلیدی کردار صحافت اور میڈیا کا ہوتا ہے جب کہ آج کل میڈیا بھی سیاست زد میں آیا ہوا ہے۔ یہ نہیں کہ سب ہی ایک طرح کے ہیں بہت سے صحافی آج بھی دن رات محنت کرکے ریاست، اسلام اور عوام کے مفاد کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب عوام کو سوچنا کہ ہمیں خود کو ٹھیک کر کے ایک اچھے مسلمان اور پاکستانی بننا ہے تاکہ ہم سے جو ﷲ نے بحثیت قوم کام لینا ہے وہ بھی کر سکیں اور دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے آخرت بھی سنور سکے۔ @SajjadHQamar

  • قلم کا ادب   حُسنِ قدرت

    قلم کا ادب حُسنِ قدرت

    قرآن پاک میں جہاں علم کا ذکر آیا ہے وہیں قلم کا بھی آیا ہے کیونکہ علم سکھانے کا ذریعہ”قلم” ہے اسلیے قلم ہمارے لیے حرمت کا باعث ہے لیکن دکھ تب ہوتا ہے جب میں قلم کی بے حرمتی ہوتی ہوئی دیکھتی ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے
    بچے اپنی پنسلز اور مارکرز کو پھینک رہے ہوتے ہیں ہمارے ہاتھ سے اگر سلیبس کی کتاب گِر جاتی تھی تو وہ ہم اٹھا کر چومتے تھے کہ یہ کتاب کی بے ادبی ہے ہم سے یہ زمین پہ گِر گئی، ہم نے اپنے استادوں کو بھی ایسے کرتے دیکھا تھا کہ اور وہ کہتے تھے کہ بیٹا اگر کتاب کی عزت کرو گے تو ہی علم آئے گا،ہمارے استاد سے پڑھانے کے دوران کتاب زمین پہ کبھی گِر جاتی تو وہ بسم اللہ پڑھ کر اٹھاتے تھے اسے چومتے تھے آنکھوں سے لگاتے تھے اور پھر استغفرُللہ پڑھتے تھے اسکے بعد دوبارہ ایک دفعہ بسم اللہ اور دور شریف پڑھ کے ہمیں پڑھانا شروع کرتے تھے اور آج کل بچے جیسے ہی بال پوائنٹ ختم ہو رہا ہے،مارکرزکی انک ختم ہو رہی ہے یا پین خراب ہو رہے ہیں تو ڈائریکٹ اسے ڈسٹ بین میں یعنی گند والی ٹوکری میں پھینک رہے ہوتے ہیں
    اکثر بچے تو نشانہ فکس کرتے ہیں ڈسٹ بین کا پھر ایک ساتھ استعمال شدہ پنسلز کوڑے دان میں پھینک کر خوش ہو رہے ہوتے ہیں جیسے انہوں نے بال پین ختم کرکے کوئی عظیم۔ کارنامہ سر انجام دیا ہو
    ایک دن سورہ علق پڑھتے
    ہوئے مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ ہم قلم کی بے حرمتی کرتے ہیں تب سے میں نے اپنی استعمال شدہ بال پین ڈسٹ بین میں نہیں ڈالتی تھی اور اپنی سہیلیوں کو بھی منع کرتی تھی تاکہ میرا نام قلم کی بے ادبی کرنے والوں میں نہ آئے
    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ قلم کی بےادبی کرنے سے بچیں اور آپکے بچے بھی قلم کا ادب کریں تو اسکے لیے آپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو بتائیں کہ قلم ہمارے لیے اسلیے بھی مقدس ہے کہ ہم اس کے ذریعے علم سیکھتے ہیں
    اسے اِدھر اُدھر نہ پٹخیں استعمال کرنے کے بعد آرام سے قلم کو اسکی جگہ ہر رکھ دیں
    جب ہمارا بال پین یا مارکرز ختم ہوں تو انہیں ایک باکس میں اکھٹا کریں اور جب وہ بھر جائے تو جو بندہ ری سائیلنگ کےلئے چیزیں لینے آتا ہے اسے دیں یا کسی ایسی شاپ پہ دے آئیں جہاں ریسائیکلنگ کا کام ہوتا ہے۔قلم کو گند میں نہ ڈالیں اور اس کا ادب کریں

  • استاد کا معاشرے میں مقام  تحریر : اسامہ خان

    استاد کا معاشرے میں مقام تحریر : اسامہ خان

    انسان ایک اشرف المخلوقات ہے لیکن اس کو اشرف المخلوقات کا اصل مقصد اور مطلب اس کے والدین اور اس کے استاذہ کرام سمجھاتے ہیں، ایک بچہ پیدا ہوتا ہے زندگی کے تین برس گھر میں گزارتا ہے اور اس کے بعد دنیاوی اور دینی تعلیم کے لئے سکول و مدرسہ جاتا ہے یہاں سے اس کا استاذہ کرام سے سیکھنے کا عمل شروع ہوتا ہے سکول میں اس کے بہت سے اساتذہ کرام تبدیل ہوتے ہیں جیسے کہ پرائمری سکول کے الگ استاد ہوتے ہیں مڈل کے الگ اور میٹرک کے الگ ایسے ہی یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے پرائمری میں بچے کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکھایا جاتا ہے کیا اس نے اپنے استاذہ اور والدین کا کیسے احترام کرنا ہے اور بڑوں سے کیسے بات کرنی ہے اس کے بعد مڈل اور میٹرک میں بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ معاشرے میں اپنی زندگی کیسے گزار سکتا ہے اور کامیاب انسان بننے کے لئے اس پر سب کا احترام لازم ہے۔ یہ سلسلہ کالجز اور یونیورسٹیز میں چلتا رہتا ہے لیکن جب بچہ یونیورسٹی میں جاتا ہے تو اس کو دنیا کے اصل رنگ دکھائے جاتے ہیں ان رنگوں میں ایک رنگ یہ بھی ہوتا ہے آپ کے ساتھ ساری زندگی کوئی نہیں چلے گا سوائے آپ کے والدین کے اور ساتھ ہی ساتھ استاذہ کرام پریکٹیکل کر کے دکھاتے ہیں کہ آپ نے اپنی زندگی کیسے گزارنی ہے اس کے بعد جب وہ بچہ ایک اعلی درجے کا افسر بن جاتا ہے تو اس کے پیچھے اس کے استاذہ کرام کی دعائیں اور محنتوں کا صلہ ہوتا ہے اگر استاذہ کرام اس پر اپنا وقت اور محنت نہ لگاتے شاید وہ بچہ ایک اچھے مقام تک نہ پہنچ سکتا آج استاذہ کرام کو برا بھلا کہا جاتا ہے کہ آپ نے ہمارے بچے پر ہاتھ کیوں اٹھایا اگرچہ دیکھا جائے تو آپ کے بچے کی بہتری کے لئے ہی ہوتا ہے، کل کو وہ بچہ جب ایک کامیاب انسان بن جاتا ہے تو استاد کو بھی کبھی بھی داد نہیں دیتا کہ آپ نے ہمارے بچے پر اتنی محنت کی کہ آج وہ اتنا اچھے مقام پر پہنچ گیا ہے حالانکہ استاد اس بچے کو دیکھ کر بے حد خوش ہوتا ہے کہ یہ بچہ ہم سے پڑھ کر گیا ہے اور آج اتنے اچھے مقام پر بیٹھا ہے، ایک استاد کے ہاتھ سے پڑھے ہوئے بچے سیاست دان، جج، وکیل، ڈپٹی کمشنر اور بہت بڑے بڑے انسان بنتے ہیں۔ لیکن افسوس اپنی کامیابی کے بعد ہم اپنے استاد اکرام کو بھول جاتے ہیں ایک دفعہ ایک استاد کا ٹریفک پولیس افسر نے چلان کاٹ دیا استاد کی مصروفیات کی وجہ سے پورا مہینہ چلان نہ بھروا سکے جب استاذہ کرام کو جج کے سامنے پیش کیا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ نے چلان کیوں نہیں جمع کروایا تو انہوں نے کہا میں استاد ہوں مصروفیات کی وجہ سے میں چالان جمع نہ کروا سکا جب جج نے یہ سنا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے تو ان کے ساتھ ساتھ سب اٹھ کھڑے ہوئے ان کے احترام میں تو جج صاحب نے کہا آپ جیسے استاذہ کرام کی وجہ سے آج ہم جج بنے ہیں یہ کہہ کر جج صاحب نے چلان پھاڑ دیا اور استاد صاحب کو باعزت طریقے سے ان کی مصروفیات کی طرف روانہ کیا۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے ایسی بے تحاشہ مثالیں پائی جاتی ہیں آج ہم جو بھی ہیں اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہیں ان کی دعاؤں کی وجہ سے ہیں اس لیے کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ اہم مقام پر فائز ایک استاد ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ باشعور قومیں بناتے ہیں وہی قومیں کل کو ملک کے لیے دن دگنی رات چگنی محنت کرتے ہیں لیکن یہ سفر یہی پر ختم نہیں ہوتا جب ایک انسان ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہو جاتا ہے اور اپنے ملک کے لیے کام کرنا شروع کر دیتا ہے تو اس کو اس وقت بھی ایک استاد کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی رہنمائی کر سکے کہ آپ نے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے کیسے لوگوں کی خدمت کرنی ہے اور یہ عمل مرتے دم تک جاری رہتا ہے

  • شعور_گناہ  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    شعور_گناہ تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    انسان کو اللہ رب العزت نے اشرف المخلوقات بنایا ہے. اچھائی اور برائی کی تمیز، رہن سہن کے طور طریقے سکھاے ہیں. زندگی کو راہ راست پر رکھنے اور بقا کے لئے گاہے بگاہے مختلف ادوار میں مختلف انبیاء کرام علیہم السلام بھیجے ہیں. جن کا سلسلہ ہمارے پیارے نبی کریم ختم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر ختم ہوا ہے. یہ سب انسان کو راہ راست کی تلقین اور رب کے بندوں کا رب سے تعلق قائم رکھنے کے لیے کیا گیا. شیطان چونکہ جب سے جنت سے نکالا گیا تب سے نوع انسانی کو راہ رب العالمین سے متنفر کرنے کا کام کرتا چلا آیا ہے. اسی سے محفوظ رکھنے کے لیے بنی نوع انسان کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کے نزول کا سلسلہ چلتا رہا. نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ رب العزت نے یہ زمہ داری امت کو سونپی کہ اچھائی کا حکم دے اور برائی سے روکے. انسان کی سب سے بڑی کمزوری جو کہ شیطان کا سب سے کارآمد ہتھیار بھی ہے وہ انسان کے اندر موجود اس کا نفس ہے. جسے شیطان دنیا کی طلب میں الجھاے رکھتا ہے. اگر انسان اس طلب کو کنٹرول نہ کرے تو یہی طلب بڑھتے بڑھتے ہوس کے درجے کو جا پہنچتی ہے. یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے انسان کا تباہی کا سفر شروع ہوتا ہے. انسان ہوس کے حصول کے لیے اچھائی اور برائی کی تمیز چھوڑ دیتا ہے. یہاں ہوس سے مراد ہر وہ خواہش کی شدت ہے جو اگر اعتدال میں رہے تو ضرورت کے درجے میں ہوتی ہے. اگر اعتدال کے دائرے سے باہر ہو جاے تو ہوس بن جاتی ہے.
    اگر انسان کو سفر کے لیے گاڑی کی ضرورت ہے تو یہ اس کی ضرورت ہے اگر مالی لحاز سے یہ فی الوقت اس کی پہنچ سے دور ہے تو اسے صبر کرنا چاہیے محنت کرے حلال اور حرام کی تمیز رکھے اور اپنے ضمیر کو شیطان کی ہتھے چڑھ کر اس ضرورت کو ہوس بننے سے محفوظ رکھے. ہوس اسی کو کہتے ہیں جس میں کسی طلب کا اپنی اصلی حیثیت سے اس قدر بڑھ جانا کہ اس کے حصول کے لیے انسان حلال اور حرام کا فرق نا رکھے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ہر برائی اور گناہ جیسے رشوت، چوری جھوٹ فریب حق تلفی الغرض انسان کا اس کی ضرورت کی تکمیل کے لیے ہر حد سے گزر جانا یہی ہوس ہے.

    ہر انسان کے اندر یہی نفس اس کے لیے منصف کا کام انجام دیتا ہے لیکن کب تک؟ جب تک یہ شیطان کےبہکاوے میں نہیں آتا. جب تک یہ زندہ رہتا ہے تب تک انسان اچھائی اور برائی کا شعور رکھتا ہے.

    انسان کا گناہ سے قبل گناہ کو بھانپ لینا اور اس سے بعض رہنا یہ اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے. اور نفس کہ زندہ ہونے کی دلیل ہے.

    *اسی کو شعور_گناہ کہتے ہیں*
    انسان رب کی راہ سے بھٹنے سے بچا رہتا ہے اور اللہ کے فرمانبرداروں میں شامل رہتا ہے.
    جب شعور_گناہ ختم ہو جائے تو رب العالمین کی طرف سے مہلت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور تب تک چلتا ہے جب تک انسان اپنی پوری قوت وقت طاقت لگا کر گناہوں سے اپنے دامن کو داغدار نہیں کر لیتا. رب کی رحمت اس بندے کو ڈھیل دیتی رہتی ہے وہ گناہ حق تلفی اور حقوق اللَّهُ حقوق العباد سب روند دیتا ہے. اور تباہی اس لیے ہوتی ہے کہ اس میں اس گناہ کا شعور ہی ختم ہو جاتاہے. وہ گناہ کر کہ سمجھتا ہے کہ میں ٹھیک راستے پر ہوں. جب انسان اپنی پوری قوت گناہوں پر صرف کر کے مطمئن ہو جاتا ہے اور اسے تب بھی احساس نہیں ہوتا کہ میں گناہ کرتا رہا. جب اسے کے رویے میں فرعونیت آجاتی ہے کہ میرا کوئی کچھ نہیں بگڑ سکتا. تب اس کا احتساب شروع ہو جاتا ہے جسے مکافات کہتے ہیں.
    پھر انسان کی سب کاوشیں بے بس ہو جاتی ہیں اور رب کی رحمت اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے. اور وہ رب کے غضب کا شکار ہونے لگتا ہے.
    اس کی مثال ماضی کے ادوار سے ملتی ہے.
    حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں ایک شخص بہت گنہگار تھا ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگا موسی علیہ السلام میں نہ آج تک کوئی گناہ نہیں چھوڑا تم اپنے رب سے کلام کرنے جا رہے ہو. رب سے میرے بارے سوال کرنا کہ وہ مجھے سزا کیوں نہیں دیتا. جب موسی علیہ السلام نے سوال کیا کہ اے رب العالمین اس کے گناہ کا تو سارا شہر گواہ ہے پھر بھی اس پر خوشحالی ہی خوشحالی ہے اسے سزا کیوں نہیں ملتی؟ جواب آیا موسی علیہ السلام اسے سزا مل چکی اسے گناہ کی طرح سزا کا شعور نہیں ہے پوچھا اللہ کیا سزا دی اسے؟ جواب آیا اس کی آنکھ سے ندامت کے آنسو چھین لیے ہیں یہ چاہے بھی تو میرے سامنے توبہ نہ کر سکے گا.
    تو پتہ چلا کہ شعور_گناہ ہو تو ندامت کی توفیق ملتی ہے اور جو رب العالمین کے سامنے اپنے کئے پر نادم ہو جائے رب کریم غفور الرحيم اسے معاف کر کے دوبارہ اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے. اپنے نفس کو شیطان سے بچائیں اور شعور_گناہ کو قائم رکھیں تا کہ رب العالمین کی رحمت کی آغوش میں رہ سکیں اسی میں دنیا و آخرت بھی بھلائی ہے

    @EngrMuddsairH

  • اُردو زبان کی اہمیت . تحریر: محمد اشرف

    زبان معاشرتی عمل اور انسانی خیالات و جذبات کے اظہار کا موثر ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے سے انسان اپنا ماضی الضمیر واضع کرتا ہےاور یہ انسان کو حیوان سے الگ کرتے ہے۔زندگی کی دل کشی اور رنگینی زُبان کی بدولت ہے،چناچہ ہر خطہ کا انسان اپنے زُبان سے جذبات لگاؤ رکھتا ہے۔ وہ اس کی بقا کیلئے مر مٹنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات زُبان کے اختلافات مُستقبل کی جُداگانہ راہیں متعین کر دیتے ہیں۔

    پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اس کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ اس کا قانون، ثقافت اور زبان اپنی ہو ۔ یہ چیزیں کسی قوم کی شناخت کا سبب بنتی ہیں اور اُسے دوسری قوموں میں ممتاز کرتی ہیں۔
    کسی قوم کی ترقی میں سب سے اہم چیز اُسکی زُبان ہوتی ہے۔وہ زُبان جسے قوم کے جملہ افراد بولتے اور سمجھتے ہوں،قومی زبان کہلاتی ہے۔ قومی زبان مختلف نسلوں ،قبیلوں اور علاقوں کے رہنے والے افراد کو ایک ڈوری میں پروتی ہے ۔ قومی زبان متعلقہ ملک کی عزت و توقیر کا ذریعہ ہوتی ہے ۔ پاکستان کی قومی زبان ‘ اُردو’ ہے۔
    یہ زبان پاکستان کی عظمت کی علامت اور قوم کی شناخت ہے۔ اردو کی ترقی ملک کی ترقی اور اردو کی پس ماندگی ملک کی پس ماندگی ہو گی ۔
    ” زندہ وطن میں رُوح ثقافت اِسی سے ہے
    آزادی وطن کی علامت اِسی سے ہے ”

    پاکستان کے مختلف علاقوں میں بہت سی مقامی زبانیں بولی جاتی ہیں جن کی حیثیت اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاہم پوری قوم اور پورے ملک کی زبان اردو ہے اوراُردو ہی واحد زبان کے طور پر پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ جب کسی ملک میں ایک سے زیادہ زبانیں بولی جائیں تو اُن میں سے وہی زبان قومی زبان قرار پاتی ہے جس کو ملک کے جملہ باشندے بول اور سمجھ سکتے ہوں ۔ پاکستان میں اردو کی یہی حیثیت ہے۔

    اس زبان کی وسعت اور بین الاقوامی حیثیت ک اندازہ اس بات سے ہو جاتا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں اسے بولا اور سمجھا جا رہا ہے ۔ یورپ، امریکہ اور بعض دوسرے ممالک کی یونیورسٹیوں میں باقاعدہ اسے پڑھایا جا رہا ہے ۔ عالمی سطع پر اردو چوتھے نمبر پر بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے ۔اس زبان کی اہمیت کے پیش نظر ہی قیام پاکستان کے وقت قائداعظم نے کہا تھا کہ’ پاکستان کی سرکاری زبان صرف اردو ہی ہوگی.

    مزید یہ کہ اُنہوں نے 21۔مارچ1948ءکو ڈھاکہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ’ایک مشترکہ سرکاری زُبان کے بغیر قوم متحد نہیں ہوسکتی اور نہ کوئی کام کر سکتی ہے۔جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے،وہ اُردو ہوگی.
    قائد اعظم کے مندرجہ بالا ارِشادات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جس نے پاکستان کے تمام علاقوں کے باشندوں کو ایک دھاگے میں پرویا ہوا ہے۔

    درجہ بالا بیانات کی روشنی میں یہ دعویٰ کرنا بے جا نہیں کہ اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور اس میں ترقی کرنے اور وسعت پانے کا فطری جوہر موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی فطری صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے ۔اور یہ بھی کہ اردو زبان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے تو یہ دنیا کی ترقی یا فتہ زبانوں میں ایک خاص مقام حاصل کر جائے گی ۔

    @M_Ashraf26

  • نفس، شیطان اور حضرتِ انسان   تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    نفس، شیطان اور حضرتِ انسان تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    اللّٰه نے دنیا میں انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر دنیا میں بھیجا جب کہ انسان نے خود کو ظالم بنا کر ظلم کی انتہا کر دی
    آج کے دور میں ایک انسان دوسرے انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اس دشمنی میں دوسرے کا نقصان کرنا اپنا فرض سمجھنے لگے ہیں اس کی سب سے بڑی اور اکلوتی وجہ انسان کا نفس ہے

    انسان بھول چکا ہے سب سے بڑا جہاد نفس کا جہاد ہے اور نفس کی کہے پر لبیک کر کے انسان ہر حد سے گِر رہا ہے

    آج کا انسان کہتا ہے کہ انسان جانور سے بدتر ہے لیکن خود کو راہِ راست پر کوئی نہیں لاتا۔ دوسرے کے عیب گننے
    میں سب ماہر ہیں لیکن خود کے عیب بھول جاتے ہیں

    نفس کی غلامی اور نفرت کے اندھیرے سے نکل کر اجالے
    میں قدم رکھیں
    کیونکہ
    ’’غلامی میں جسم تو رہتا ہے مگر اس سے روح خالی ہو جاتی ہے اور جس جسمِ میں روح نہ ہو اس سے کیا امید کی جا سکتی ہے؟ دل سے ذوقِ ایجاد و ترقی رخصت ہو جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اپنے آپ سے غافل ہو جاتاہے۔ جبرائیل اگر (نفس کی) غلامی اختیار کر لے تو اسے آسمان کی بلندیوں سے نیچے گرادیا جائے۔ اسی طرح ایک غلام تقلید پرست اور بت گر ہوتا ہے اس کے نزدیک ہر جدید یا نئی بات کفر ہوتی ہے‘‘

    غور کریں کہ تاجر اپنے کاروبار پر بیٹھا تسبیح کیے جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ ناقص مال کی فروخت بھی جاری ہے۔ یہی حال ہمارے علمائے کرام کا بھی ہے کہ علماء لوگوں کو تو واعظ و نصیحت کرتے ہیں لیکن اپنے آپ کو اور اپنے باطن کو نصیحت نہ کر سکے۔ ہم میں سے ہر وہ شخص جو کسی بھی کاروبارِ زندگی سے وابستہ ہے وہ ایسی ہی مثال پیش کر رہا ہے۔ ہم ان رذائل سے کیونکر چھٹکارا نہ پا سکے؟ اس لیے کہ ذکر و تسبیح جس نے کرنی ہے (یعنی قلب) اس تک بات نہیں پہنچی تو اصلاح کیسے نصیب ہو گی

    انسان کے پیدا ہوتے ہی اسے اللّٰه کا نام سکھا دیا جاتا ہے۔ اللّٰه کے نام کو سن سن کر انسان جان تو جاتا ہے کہ اللّٰه مالک ہے رازق ہے وغیرہ لیکن اس کی پہچان نہیں آتی۔ پہچان تب ہی آتی ہے جب اس قلب میں اللّٰه کےذکر کا نور کسی کامل و مکمل شیخ و رہبر کے قلب کے وسیلے سے داخل ہوتا ہے۔ یہی نور اس کو اپنے مالک کی اصل پہچان نصیب کرتی ہے اور اسے اپنے رب کا شکر گزار بندہ بناتی ہے۔ اسی نور سے "تصدیق بالقلب” میسر آتی ہے اور حقیقتِ ایمان اسی کا دوسرا نام ہے

    جب تک یہ ذکر کا نور قلب کو میسر نہیں آتا اس وقت تک صورتِ ایمان ہے۔ نماز تو پڑھ لیتا ہے لیکن وہ محض صورتِ نماز ہی ہوتی ہے یہی ذکر کا نور میسر نہ ہونے کے باعث رمضان المبارک میں محض بھوک پیاس کاٹتا ہے اور اعمالِ بد سے نہیں بچ پاتا۔ جس کسی کو یہ ذکر کا نور میسر آتا ہے تو وہ حقیقت میں حاصلِ رمضان و ایمان یعنی "لعلکم تتقون” کا نمونہ بنتا ہے

    آپ کے وجود نے ایک دن دنیا سے ختم ہو جانا ہے باقی رہے گا تو صرف ذکر. اب اس کا انحصار ہم پر ہے کہ ہم نیک ذکر یا برے ذکر میں یاد ہونا ہے ہر بات کا انحصار ہمارے خود کے اوپر ہے
    اس لیے اپنے ضمیر کو جگائیں اور خود کو بدلیں دنیا آپ کو دیکھ کر بھی بدل سکتی ہے

    "نفس کی غلامی سے موت اچھی”

    @H___Malik

  • کیا منٹو کو صفیہ سے محبت تھی؟ تحریر:طاہرہ

    کیا منٹو کو صفیہ سے محبت تھی؟ تحریر:طاہرہ

    منٹو اس معاشرے کے حساس اور نامور لکھاری کہیں نا کہیں اپنی ہی بہتر نصف کے معاشی تقاضوں کو نظر انداز کرتے رہے

    صفیہ نے کیا نہیں کیا تھا منٹو کیلئے جب منٹو سے ان کی شادی ہوئی تو منٹو کے پاس سوائے "منٹو”نام کے کچھ نہیں تھا زبردستی حاصل کئے گئے کہانی کے معاوضے جو کہ قریباً پانچ سو روپے تھا صفیہ نے انکے ساتھ زندگی کی شروعات کی. وہ حسین دور کہ جب ایک لڑکی اپنی آنکھوں میں حسین خواب سجاتی ہے صفیہ کو منٹو نے سوائے ادھار کی روٹی کے کیا دیا

    سعادت حسین منٹو کہتے ہیں
    "مگر یہ بھی تو سوچو کہ صفیہ نا ہوتی تو منٹو کیسے ہوتا کیا صابر عورت تھی کہان طعنوں اور نشے سے چورپچیس روپے کا ایک کہانی فروش کہاں صفیہ یہ دس روپے آپ کی بوتل کے پانچ روپے آپ کے آنے جانے کے اور یہ دس اس میں گھر کا خرچا چل جائے گا آپ بلکل پریشان نا ہوں میں ہوں نا……. ”
    آہ منٹو آہ وہ لکھاری جو عورت کے مدوجزر سے لے کر اسکی خواہشات تک پر لکھ لیتا تھا اپنی عورت کا درد اسکی تمنائیں نا سمجھ پایا منٹو کیلئے بوتل عزیز تھی صفیہ نہیں جب معلوم تھا مشکل ہے تو کیا منٹو کا حق بنتا تھا کہ جو پچیس روپے کماتے اس میں سے دس روپے اپنی شراب نوشی پر خرچ کرتے. کیا شراب انکے لئے اپنی تین ننھی پریوں سے زیادہ افضل تھی کیا منٹو کو صفیہ کا ساتھ ایسے نہیں دینا چاہیے تھا جیسے صفیہ نے دیا.
    صفیہ نے کیا نہیں کیا انکو شراب نوشی سے بچانے کیلئے شوہر کو سمجھایا انکی منت ترلے کیلئے گھنٹوں پہرا دیتی کہ شراب نا پئیں حتیٰ کہ مینٹل ہسپتال میں علاج کے غرض سے داخل بھی کروادیا ادبی محفلوں میں انکے ساتھ جاتیں کہ رستہ نا بھٹک جائے مگر منٹو نا بدلے یہاں تک کے صفیہ کے گھر میں غربت اور اداسی نے ڈیرے ڈال دئیے.
    محبت کی معراج تو صفیہ نے پائی منٹو جو اس معاشرے کے ناسور سماج کو دکھاتے اپنی زوجہ کے روح پر لگے زخم نا دیکھ سکے نگہت نصرت اور نزہت کی آنکھوں کی ویرانی نا دیکھ سکے
    منٹو سے مایوس ہوکر ایک ماں نے اپنے بچوں کی تربیت میں پناہ ڈھونڈی صفیہ بہت ہمت اور جرات والی تھی کہ جس نے اپنے مزاج خدا کی نظر اندازی کو اپنی طاقت بنایا اپنی بچیوں کی پرورش کی انکی شادیاں کی اس تمام عرصے میں نا "منٹو” کا نام نا اسکے نام سے ملنے والی رائلٹی اس کے کوئی کام آئی صفیہ منٹو کی محبت نا تھی بس
    آج منٹو کا نام ہر جگہ گونجتا ہے مگر صفیہ کہیں نہیں ہے مگر یہ بات درست ہے کہ اگر صفیہ نا ہوتی تو منٹو نا ہوتا.

    @Chiishmish

  • امام مسجد کی عزت    تحریر: وقاس محمد

    امام مسجد کی عزت تحریر: وقاس محمد

    والدین سے پوچھ کہ آپ کی خواہش کیا ہے کہ آپ کا بچہ بڑا ہو کر کیا بنے، تو جواب ہو گا… ڈاکٹر ،انجینئر، جج، وکیل، ٹیچر، بزنس مین وغیرہ وغیرہ پر 1 بھی ایسا نہیں ہو گا جو چاہتا ہو کہ اس کا بچہ مولوی بنے اسی طرح بچوں سے پوچھیں کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو انکا جواب بھی آپکو یہی ملے گا کہ وہ فوجی، ٹیچر، پائیلٹ، ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بننا چاہتے ہیں
    جو بچہ ہمارا کسی کمی یا معذوری کا شکار ہو اسکو ہم مدرسہ مولوی بننے بھیج دیتے ہیں سچ میں اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کو ایسے بچے ہی ملیں گے مدارس میں

    ایسا اس لئے ہے کہ ہم بس برائے نام امام مسجد یا مولوی کی عزت کرتے ہیں اصل میں ہمارے معاشرے میں مولوی صاحب کی کوئی عزت نہیں ہم آٹھ دس ہزار تنخواہ پر امام مسجد رکھتے ہیں اور کبھی شادی بیاہ یا فوتگی کے موقع پر انہیں پانچ سو ہزار دیکر بڑا احسان کرتے ہیں اور مذید دیکھیں کہ خطبہ نماز جمعہ یا عید کے موقع پر آپکو نظر آئے گا کہ مولوی صاحب کی طرف سے باقاعدہ سب کے سامنے چادر پھیلا کر چندہ مانگتے نظر آئیں گے
    ایک وقت ہوتا تھا جب مولوی صاحب یا امام صاحب جس محفل میں ہوتے تھے انہیں سب سے اہم جگہ پر بٹھایا جاتا تھا اور انکی حیثیت مہمانِ خصوصی جیسی ہوتی تھی جبکہ اب مولوی صاحب آپکو ایک کونے میں بیٹھے نظر آئیں گے بلکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ حافظ صاحب کو الگ جگہ بٹھاو وہ ختم درود پڑھیں اور دعا کر کے چلتے بنیں…

    آخر کیا ہے اسکی وجہ…
    میری نظر میں اسکی دو وجوہات ہیں
    پہلی تو یہ کہ اسلام میں مولوی جیسا کوئی عہدہ ہے ہی نہیں یہ ہماری کمزوری ہے کہ امامت کرانا، نکاح پڑھانا، جنازہ پڑھانے جیسے کام جو ہر مسلمان کو آنے چاہیئے ہم نے اپنی کمزوری کے بدلہ ایک بندہ مولوی یا امام مسجد کی زمہ داری لگا دی ہے
    دوسری سب سے اہم اور بڑی وجہ علماء اکرام اور آئمہ اکرام خود ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ بڑے بڑے علماء اور مشائخ انکی زندگی کا جائزہ لیں تو وہ خود بھی کام کرتے تھے اور اپنا روزگار ہوتا تھا ان کا، مدارس یا خان گناہوں کی زیر نگرانی کھیتی باڑی ہوتی تھی وہ بجائے خود ہاتھ پھیلانے کے کمزوروں اور مصیبت زدوں کی داد رسی کرتے تھے مسلم اور غیر مسلم ان سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف راغب ہوتے تھے جبکہ اب ہمارے علماء، مولوی، آئمہ آپکو چندہ مانگتے نظر آتے ہیں

    تو کیسے ہو گی مولوی/امام مسجد کی عزت؟ کون بنانا چاہے گا اپنے بچے کو مولوی یا امام مسجد؟ کون ایسے چندوں پر رہنے والا مولوی یا امام مسجد بننا چاہے گا؟؟

    باتیں میری سخت ہیں ہو سکتا آپ کو پسند ناں آئیں لیکن یہی حقیقت ہے ہم اس سے جتنا بھی منہ پھیر لیں
    @WailaHu

  • دوستی ایک نازک رشتہ تحریر:امتیاز احمد سومرو

    دوستی ایک نازک رشتہ تحریر:امتیاز احمد سومرو

    لفظ دوستی ایک ایسی مشعل ہے جو اجنبی ، انجان ، نا آشنا لوگوں کے دلوں میں بھی جلنے لگتی ہے اور یہ مشعل دوستی جیسے اعلی رشتے کو باہم روشن کرتی ہے۔جانتے ہیں اس مشعل کو جلانے کے لیے کس چیز کی ضرورت پڑتی ہے ؟ اعتماد ، جی ہاں اعتماد ہی وہ ہوتا ہے جو اس مشعل کو جلائے رکھتا ہے۔ اگر اعتماد ختم ہو جائے تو عرصہ دراز کی دوستی لڑ کھڑا جاتی ہے اور دم توڑنے لگتی ہے۔ اگر اعتماد بحال نا ہو تو یہ عظیم رشتہ دم توڑ جاتا ہے۔ لیکن ٹھہرئیے یہاں ایک اور بات غور طلب بات یہ ہے کہ دوبارہ اعتماد بحال کیونکر ہو؟ فرض کریں اعتماد بحال ہو بھی جائے تو کیا یہ پہلے جیسا مظبوط اعتماد ہو گا؟ کیا یہ ایسا اعتماد ہو گا جو دوستوں کی آپس کی ناچاکیاں اپنے اندر سمیٹ لے۔ ایسا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اب ایسا کیوں جناب!
    ۔
    ایسا اس لیے کہ اعتماد ایک نازک آئنیہ کی طرح ہوتا ہے جب تک آئینہ ٹوٹے نہ یہ مکمل اور پورا شفاف عکس دکھاتا ہے لیکن جب ٹوٹ جاتا ہے تو جڑنے کے بعد بھی یہ مکمل اور پورا عکس نہیں دکھاتا بلکہ دو عکس دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح دوستی میں بھی ہوتا۔ دوستی میں جب تک باہمی اعتماد برقرار رہتا ہے تب تک دوستوں کا عکسواضح اور ایک ہی دکھائی دیتا ہے لیکن جب باہمی اعتماد ٹوٹ جائے اور کم و بیش بحال بھی ہو جائے تو عکس دو ہی دکھائی دیتے پھر۔ دوستوں کی آرا میں یکجیہتی ختم ہو جاتی۔ ایسی دوستیاں پھر دیر پا نہیں چلتی بلکہ غلط فہمیوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔
    برائے کرم چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو در گزر کریں تاکہ اعتماد کا آئینہ ٹوٹنے نا پائے۔

    @Imtiazahmad_pti