Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • جیت کا جشن  تحریر : امیر حمزہ کمبوہ

    جیت کا جشن تحریر : امیر حمزہ کمبوہ

    آج کا انسان بہت بھلکڑ اور مطلبی ہے جب چلنا سیکھتا ہے تو ڈر کے مارے دوسرے کی انگلی پکڑے رکھتا ہے ، لکھنا پڑھنا سیکھ رہا ہوتا ہے تو استاد سے سوال در سوال کر کے سیکھتا چلا جاتا ہے ، جاب میں آتا ہے تو اپنے سینئرز سے جلد از جلد زیادہ سے زیادہ سیکھ کر کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا جاتا ہے
    اور پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ کامیاب انسان بن جاتا ہے تب وہ اپنے ماضی کو بھول کر اپنی کامیابی کے جشن میں مصروف ہو جاتا ہے جیسے وہ اسی کامیابی کیلئے ہی پیدا کیا گیا ہو
    وہ بھول جاتا ہے کہ اس کی کامیابی کے پیچھے اللہ کے بعد کس کس کا ہاتھ ہے
    کس کس سے اس نے سیکھایا کہاں سے رہنمائی لی لیکن کامیابی کا نشہ اسے سب بھلا دیتا ہے بعض دفعہ انسان اپنی کامیابی میں کسی کو حصہ دار نہیں بنانا چاہتا اور وہ اپنے محسنوں کا ظاہری طور پر ذکر نہیں کرنا چاہتا
    حالانکہ میں نے مشاہدہ کیا ہے جو لوگ اپنے محسنوں کا نام سر عام لیتے ہیں وہ صاحب نظر لوگوں کے دل میں اپنا مقام بنا لیتے ہیں اور جو لوگ اپنی کامیابی کو ’’میں‘‘ سے جوڑ لیتے ہیں ان کی کامیابی کو ’’میں‘‘ ہی کھا جاتی ہے
    اس لیے اپنے محسنوں کو نہ تو نظر انداز کروں اور نہ ہی اپنے آپ کو ’’میں‘‘ میں مبتلا کرو

    اپنے رب تعالیٰ کا کا شکر ادا کریں اور اپنے والدین ، استاذہ اکرام ، صلاح کار ، قابل احترام سینئرز اور مخلص دوستوں کو اپنی کامیابیوں کی اصل وجہ سمجھیں اور ہو سکے تو کھلے عام اظہار بھی کریں یقین مانیں آپ کا رتبہ ان کی نظر میں اور اللہ کی نظر میں بلند ہوگا

    Twitter handle @AHK_313

  • عدم برداشت کا کلچر تحریر: آصف گوہر

    عدم برداشت کا کلچر تحریر: آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
    "جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے.”
    سورة العمران 134
    ہمارے ہاں عدم برداشت کا کلچر فروغ پا چکا ہے ۔آپ سڑک پر دیکھتے ہیں کہ گاڑی والا موٹرسائیکل والے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ذرا آپ اس کی شاہی سواری کے راستے میں حائل ہو جائیں تو فوری ہارن بجا کر دور ہٹنے کا کہا جائے گا پھر اگر ذرا تاخیر ہوئی تو گاڑی کے اندر سے ہی صلواتیں سنانا شروع کردیں گےاور خواہش ہوگی کے کچل کر آگے نکل جائیں اور اسی طرح یہی سلوک موٹرسائیکل والا رکشہ یا گدھا گاڑی والے کے ساتھ کرتا ہے
    ذرا سی انیس بیس پر سڑک پر دست و گریباں افراد اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔
    عدم برداشت کی یہ بیماری صرف عام آدمی تک محدود نہیں بلکہ ہمارے سیاستدانوں اور ایوانوں تک سرائیت کر چکی ہے جس کا مظاہرہ ہم نے بجٹ سیشن میں کیا اور اب آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران جلسوں میں ایک دوسرے کو یہودی ایجنٹ اور دیگر القابات سے نوازا گیا ۔سیاسی اختلافات کی یہ جنگ کارکنوں کے درمیان سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کو خوب گالیاں دے کر لڑ جاتی ہے ۔
    یہی حال عام گلی محلوں کا ہے معمولی سی بات پر قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور دشمنی کا یہ سلسلہ کئ نسلوں تک چلتارہتا ہےاور خاندان کے خاندان ختم ہوجاتے ہیں ۔
    یہ عدم برداشت کا کلچر ایک دم سے ہمارے معاشرے میں نہیں آیا ایک عرصہ تک پنجابی فلموں اور ہمسایہ ملک کی مادر پدر آزاد ثقافتی یلغار کا شاخسانہ ہے ۔
    ہمارے نظام تعلیم نے خوب ترقی کی لیکن تربیت اور کردار سازی کے شعبہ میں بری طرح ناکام رہا۔ اب حالات یہ ہیں کہ بارہویں جماعت کے چند طلباء نے لاہور میں پیپر بورڈ کے دفتر لے کر جانے والے استاد سےپرچوں کا بنڈل بندوق کے زور پر چھین کرآگ لگا دی اور استاد کی موٹرسائیکل بھی نظر آتش کردی۔
    میڈیا کا ایک کردار طلباء کو امتحانات ملتوی کروانے پر اکساتا رہا اور ریاست اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت اور کردار سازی پر بھی توجہ دی جائے رویوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی جائے لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں چھوٹی چھوٹی باتوں کو سر پر سوار کرلینے سے آپ مسلسل ڈپریشن کا شکار ہوکر اپنی ہی صحت کا نقصان کر بیٹھتےہیں ۔
    میں نے سعودی عرب قیام کے دوران کا عجیب واقعہ دیکھا ایک شہری کی گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئ دونوں گاڑی سے نیچے اترے میں نے حسب دستور سوچا یہ دست و گریباں ہونگے اور سڑک پر تماشا ہوگا لیکن کیا دیکھتا ہوں جس کی غلطی تھی اس نے سلام کیا اور درود پڑھا اللہم صلی وسلم علی نبینا محمد اتنا کہنا تھا کہ دوسرا مسکرایا گلے ملے اور معاملہ ختم۔
    غصہ انسان کی عقل کا دشمن ہے غصے کی حالت میں انسان وہ کچھ کر جاتا ہے کہ بعد میں ساری عمر پچھتاوا رہ جاتا ہے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ملاحظہ ہو اور عمل کرکے اپنی زندگیوں کو خوبصورت اور پرسکون بنائیں
    ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "غصہ نہ ہوا کر۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔”
    متفقہ علیہ ۔

    @Educarepak

  • ‏جیو اور جینے دو ۔ تحریر : سید احد علی

    آج کل ہر بندہ دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے اور اس پر تنقید کررہا ہے
    کوئی کسی کی تعریف کرکے راضی نہیں ہے ہر بندہ دوسرے کے کام کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا
    ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم دوسروں پر تنقید کا نشانہ بنائیں ، کون اچھا ہے ، کون برا ہے اس کے لیے اللہ تعالٰی ہیں ، ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم نفرتیں پیدا کریں ایک دوسرے کے لیے
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی گورے کو کالے اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ۔
    ہم سب کو اللہ نے بنایا ہے ، جب بنانے والے نے ہی کوئی فرق نہیں سمجھا تو ہمیں تو حق ہی نہیں.
    لہذا تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ دوسرے کے لیے آسانی کا ذریعہ بن جائیں اس کے خوشی غمی میں برابر کے شریک ہو جائیں حوس بھری نگاہوں سے دیکھنے سے بہتر ہے ایک سچے اور مخلص دوست بن کر رہیں اگر تنقید ہی کرنی ہو تو نرم لہجے سے تنقید کرے کیو نکہ نرم لہجہ ضمیر جگاتا ہے جبکہ سخت لہجہ آنا جگاتا ہے۔۔
    غیر ضروری تنقید وہ تلوار ہے جو سب سے پہلے خو بصورت تعلقات کا سر قلم کر تی ہے
    ہمیں چاہیے تنقیداگر مقصود ھے ھی تو تنقید برائے اصلاح کریں
    تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکے کہ ہم کیا ھیں تنقید کرنے سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے تنقید برائے اصلاح سے ہم بہترین معاشرہ ترتیب دے سکتے ھیں ہمیں اپنے اطوار و قلم سے محبتیں بانٹنی چاہیے نہ کہ نفرتیں
    نفرت تو آگے بہت ھے اسلیے جانے جانچے اور اصلاح کریں ۔
    اگر کسی کے لیے اپنے الفاظ سے زندگی خوشگوار نہیں کرسکتے تو برباد بھی نہ کریں ہماری زبان سے نکلا ہر لفظ ہمارے لیے تو ٹھیک ہے پر دوسرے انسان کو ہماری کون سی بات بری لگی ہو ہم نہیں جانتے سب کے لیے خوشی کا ذریعہ بن جائیں جیو اور جینے دو ۔

    @S_Ali_9

  • حسنِ اخلاق اور ہم لوگ  تحریر: عامر سہیل

    حسنِ اخلاق اور ہم لوگ تحریر: عامر سہیل

    جب ہم یہ لفظ اخلاق سنتے ہیں تو ایک چیز ذہن میں آتی ہے ہم سوچتے ہیں کہ اخلاق مطلب ہے میٹھا بولنا مسکرانا۔ حسنِ اخلاق میں محض میٹھا بولنا ہی نہیں حسن اخلاق سچ بولنا بھی ہے۔ اچھا گمان رکھنا بھی حسن اخلاق ہے۔ لیکن ہم لوگ میٹھا بول رہے ہوتے ہیں اور دل میں نقصان پہنچانے کے ارادے کر رہے ہوتے ہیں۔
    حسنِ اخلاق کسی کو نفع دینا ہے۔ اخلاق وفادار رہنا ہے جس دوست، ہم منصب کے ساتھ آپ ساتھ چل رہے ہوں آپ کو اس کے ساتھ وفادار رہنا چاہیے یہ بھی حسن اخلاق میں ہے۔ اخلاق کردار کے سنوارنے کو کہتے ہیں جب ہمارا کردار پاک ہو ہم کسی کو دھوکا نہ دیں مجبوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ ہم کسی کو دھوکہ دے کر اچھے اخلاق کے مالک بن سکتے ہیں بلکل بھی نہیں ہمارا دین ہمیں اس کی بلکل بھی اجازت نہیں دیتا۔ اگر آپ کو دھوکہ دے کر تکلیف ہوتی ہے کسی کو آسانی دے کر آپ کو سکون ملتا ہے آپ مطمئن ہوتے ہیں تو آپ اچھے اخلاق کے مالک ہیں اس کو اپنے اندر ڈھونڈ کر اپنی زندگی کو آسان بنانے۔
    غصے کو دبا لینا اور ضبط کر جانا بھی بہت اعلٰی صفت ہے جو آسانی سے نہیں آتی۔ غصے کے بارے تنبیہ کرنا اس کے فضائل بیان کرنا آسان ہے لیکن اس پر قابو اتنا ہی مشکل ہوتا۔ اگر آپ غصے کے وقت خود پر کنٹرول رکھیں تو یقینا آپ کامیاب ہوں گے۔
    غلط بات کو غلط رویہ کو برداشت کرنا اخلاق ہے بعض اوقات لوگ کہتے ہیں مجھ سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی حالانکہ غلط بات کو برداشت کیا جاتا ہے۔ صحیح بات کو برداشت نہیں قبول کیا جاتا ہے۔ ہمارے اسلام نے اس چیز ہر بہت زور دیا ہے کہ آپس میں حسنِ سلوک رکھو بھلے وہ تم سے کم طاقت میں ہے لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ امیر کے سامنے تو جھک جاتے ہیں اور غریب کو دباتے ہیں.
    نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
    أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا۔
    الحدیث۔
    سنن الترمذي:1162 ابواب البر والصلة
    ترجمہ:
    سب سے کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے
    حسنِ اخلاق کو عملی طور پر نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عمل کر کے دیکھایا ہے۔معاشرے میں اس چیز کی بہت کمی ہے انسان ایک دوسرے کو حقیر سمجھتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے آئی ہے ہماری نجات ہماری ترقی اسی راہ میں ہے جو راہ ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھایا ہے۔ لوگوں کو پرکھنا چھوڑ دیں خود احتسابی کریں۔
    کیا آپ نے لوگوں کی قدر کی؟
    کیا آپ اپنے والدین، اپنی بیوی کے ساتھ خوش اخلاق ہیں۔ کیا وہ آپ کو اپنی زندگی میں پا کر خوش ہیں اگر نہیں خوش تو آپ خود پر توجہ دینی چاہیئے آپ کہاں ہیں۔آپ خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کسی کے سامنے اس چیز کا جوابدہ صرف اللہ کو ہیں
    اس دنیا سے ہزاروں لوگ چلے جا چکے ہیں کیا اُن کے جانے سے دنیا کو فرق پڑا؟
    بلکل بھی نہیں تو آپ کے جانے سے بھی نہیں فرق نہیں پڑے گا اللہ پاک نے اگر آپ کو موقع دیا ہے تو اس سے فائدہ اٹھائیں توبہ کریں.اور اپنے حقیقی خالق و مالک کو پہچانیں اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر لوٹ آئیں۔ اور حقیقی مقصد کے لئے کوشش کریں.

  • ہم اور ہماری قوتِ برداشت .تحریر :  ریحانہ بی بی  (جدون )

    ہم اور ہماری قوتِ برداشت .تحریر : ریحانہ بی بی (جدون )

    ہم اور ہماری قوتِ برداشت

    انسان کی سب سے بڑی قوت, قوتِ برداشت ہے. اور حقیقت میں برداشت کرنا بزدلی نہیں ایک بہادری ہے کہ کسی دوسرے کے اختلاف رائے کو آپ کھلے دل سے برداشت کرلیتے ہیں. جتنی آپکی قوت برداشت مضبوط ہوگی اتنا ہی آپ خوش رہنے میں کامیاب ہونگے….
    مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج اس دور میں کوئی ماں باپ کی گالی دے تو ہم اسکو جان سے مارنے پہ تُل جاتے ہیں اور اگر وہی ماں باپ جب اولاد کے کسی غلط کام پر اسکو ڈانٹیں یا غصہ کریں تو اولاد نافرمانی کرنے پر اتر آتی ہے. ماں باپ کے آ گے نہ صرف اونچی آواز میں بولنے لگتی ہے بلکہ اُنکی آ نکھوں میں آنکھیں ڈالنے لگتی ہے.
    کئی حضرات گھر چھوڑ کے چلے جاتے ہیں کہ ہماری بےعزتی ہوگئی ہے. وہ اپنی انا کا مسلہ بنا لیتے اسکو… وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس کی ڈانٹ کو وہ اپنی بےعزتی سوچ رہے اسی ہستی کی بدولت دنیا میں تشریف لائے, اسی ہستی نے اُنکو پالا پوسا, پڑھایا لکھایا…
    اسکی بنیادی وجہ دین سے دوری ہے جسکی وجہ سے غصہ انکی شخصیت میں رچ بس گیا ہے.
    قوت برداشت نہ ہونے سے کئی شادیاں ناکام ہوجاتیں ہیں, مثلاً آپ اپنے پارٹنر کی چھوٹی سی غلطی پر بھی اُسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اسطرح رشتوں میں خرابیاں پیدا ہونے لگتی ہیں اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے.
    یہاں قصور کسی ایک پارٹنر کا نہیں دونوں طرف کا بھی ہوسکتا ہے. مرد اپنے پسند کی آیات حفظ کیے ہوتا ہے کہ بیوی پر اسے برتری حاصل ہے سو وہ ایک حاکم کی طرح خود کو سمجھنے لگتا ہے اور بیوی کے لئے اُسکے مزاج اسکے خاندان اسکی خوشی اسکی پسند ناپسند معنی رکھے.
    جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں ناچاقیاں جنم لینے لگتی ہیں. اور پھر بات بات پہ اسکی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے. بعض اوقات اولاد کے سامنے.. اور پھر وہ اولاد کیا احترام کریگی ؟؟
    نتیجہ یہ نکلتا ہے وہ گھر آخر ٹوٹ جاتا ہے .
    آج کی دنیا میں لڑائی جھگڑے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ لوگوں میں قوت برداشت کی کمی ہے.
    بہترین انسان وہ ہے جو مسائل حل کرتا ہے اور بدترین انسان وہ ہے جو مسائل پیدا کرتا ہے.
    آج کی سیاست کو دیکھ لیں!
    اگر ایک پارٹی کسی دوسری پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے تو بدلے میں اس سے بھی سخت الفاظ میں جواب آ تا ہے کہ میں ایسا نہیں تم ایسے ہو تم ویسے ہو وغیرہ وغیرہ کی سیاست جاری ہے. بس ایک دوسرے کی کردار کشی شروع ہوجاتی ہے.
    خود اپنے لئے بہترین وکیل کی طرح اپنا دفاع کرنے لگتے ہیں.

    اور تو اور ہمارے معاشرے میں اگر کسی کا کسی سے جھگڑا ہوتا ہے تو فریقین گولیاں برسانے لگتے ہیں اور کئی گھرانے انہی جھگڑوں کی وجہ سے اجڑ گئے.

    دیکھیں زندگی ایک بار ملتی ہے اسے نفرتوں اور اختلافات میں ضائع نہ کریں. محبتیں بانٹیں کیونکہ ایسا کرنے سے دل کو بھی سکون ملے گا..

    کچھ چیزوں کو, کچھ باتوں کو, کچھ لوگوں کو نظرانداز کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیں کیونکہ ضروری نہیں ہم ہر عمل کا ایک ردِعمل دکھائیں کیونکہ ہمارے کچھ ردعمل صرف اور صرف ہمیں ہی نقصان دیں گے بلکہ ہوسکتا ہے ہماری جان بھی لے لیں.
    دنیا میں سیاست دان ہوں, حکمران ہوں یا عام انسان انکا اصل حسن انکی قوت برداشت ہوتی ہے.
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے اندر برداشت کیسے پیدا کرسکتے ہیں..
    بہت آسان جواب.. حضرت محمد کی حیات طیبہ کو مد نظر رکھ کر.
    ایک بار ایک صحابی نے رسول اللہ سے عرض کیا یا رسول اللہ آپ مجھے زندگی کو پُرسکون اور خوبصورت بنانے کا کوئی فارمولا بتا دیں.
    آپ نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو.

    دیکھا جائے تو غصہ دنیا میں 90 فیصد مسائل کی ماں ہے اگر انسان اپنے غصے پر قابو پالے تو اسکی زندگی کے 90 فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں.
    جس شخص میں قوت برداشت ہے وہ کبھی ہار نہیں سکتا.

    @Rehna_7

  • ہم خوش کیو نہیں رہ سکتے . تحریر : انجینئرمحمد امیرعالم

    ہم خوش کیو نہیں رہ سکتے . تحریر : انجینئرمحمد امیرعالم

    ہم میں سے ہر ایک خوش رہنا چاہتا ہے پھر بھی اکثریت نا خوش کیوں ہے؟ بلا شبہ یہ بات مسلّم اور حقیقت پر مبنی ہے کہ اس کرہء ارض پر ہر انسان خوش رہنا چاہتا ہے لیکن اس کے باوجود بیشتر لوگ خوشی سے محروم ہوتے ہیں۔
    اب اس کی وجہ کیا ہے؟ در اصل ہم ان چیزوں میں خوشی ڈھوڈنتے ہیں جن سے ہمیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملتا‛ جن سے ہمیں خوشی مل ہی نہیں سکتی۔

    مثلاََ ہم میں سے ہر آدمی سمجھتا ہے کہ ڈھیر سارا پیسہ حاصل کر کے وہ خوشی اور مسرت کی زندگی بسر کرے گا لیکن حقیقی معنوں میں اگر دیکھا جائے تو دنیا میں اکثر وہ لوگ زیادہ پریشان اور ذہنی انتشار میں مبتلا ہوتے ہیں جو اچھے خاصے پیسے والے ہوتے ہیں۔

    آخرکیا وجہ ہے کہ اچھا خاصا پیسہ رکھنے والے‛ ہر قسم کی عیّاشی کرنے اور اپنی من پسند کی زندگی گزارنے والے لوگ قلبی سکون سے محرومی کے باعث زندگی سے تنگ آکر خود کشی کر لیتے ہیں۔

    ایک طرف ایک مالدار شخص اپنی حویلی کے ایک مخصوص شبستاں میں جہاں ان کے لئے ہر قسم کے آرام و آسائش کی چیزیں میسر ہوتی ہیں اپنے ایک قیمتی پلنگ پر بچھائے مخملی بستر میں ڈپریشن کی گولیاں کھا کر ساری رات نیند سے محرومی کے باعث کروٹیں بدلتا رہتا ہے‛ تو دوسری طرف ایک غریب آدمی اپنی جھونپڑی میں یا کہیں سرِ راہ خالص زمین کی فرش پر کسی اینٹ یا پتھر کو تکیہ بنا کر گہری نیند کے مزے لے رہا ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ دولت سے ہم خوشی حاصل نہیں کرسکتے۔

    لہٰذا خوش رہنے کے لئے قناعت پسند ہونا ضروری ہے۔
    جو نعمتیں ﷲ تعالٰی نے ہمیں عطا کی ہیں اُن نعمتوں کی قدر کرنی چاہئے‛ اور ہر وقت ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے‛ جو چیز ہمیں میسر نہیں اسے مشیّتِ الٰہی سمجھ کر صبر و قناعت کو اپنا شعار بنانا چاہئے۔

    اس کے علاوہ دنیا میں وہ لوگ جو ہم سے زیادہ مالدار ہوتے ہیں یا بظاہر ہم سے بہتر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ہم انہیں دیکھ کر رشک کرتے ہیں کہ کاش ہماری زندگی بھی ان کی طرح ہوتی۔
    ہمیں ایسے لوگوں کو دیکھ کر رشک کرنے کی بجائے ہمیشہ ان لوگوں کو دیکھنا چاہئے جو ہم سے زیادہ غریب ‛ تنگ دست اور لاچار ہوتے ہیں اور ان لوگوں کو دیکھ کر اس بات کا احساس پیدا کرنا کہ ﷲ تعالٰی نے ہمیں کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا ہے جن سے یہ لوگ محروم ہیں اور اس بات پر ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے۔

    اسلام بھی ہمیںں یہی بتا تا ہے کی دنیاوی اعتبار سے ہمیں خود سے نیچے لوگوں دیکھ کر ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے اور دینی اعتبار سے ہمیں خود سے زیادہ دیندار لوگوں کو دیکھ کر رشک کرنا اور ان سے سبقت لینے کے لئے کوشاں رہنا چاہئے۔

    اس کے علاوہ ﷲ تعالٰی کو اپنا محبوب و مقصود بنا لینا دونوں جہانوں کی کامیابی اور ہر قسم کی خوشی کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ کیوں کہ ﷲ تعالٰی کو جب محبوب بنائیں گے تو پھر محبوب کی خوشی میں عاشق کی خوشی ہوتی ہے اور محبوب جس حال میں رکھے گا عاشق کو تسلی اور سکون ملے گا۔

    بقولِ فراز:۔
    یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فراز!
    ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے

    ‎@EKohee

  • کوشش سے قوت . تحریر : زید علی

    کوشش سے قوت . تحریر : زید علی

    ایک طالب علم کو اس کے استاد نے کہا وہ تتلی کی زندگی پرتحقیق کرے اور اس کی زندگی کے آغازکا عملی طورپرمشاہدہ کرے۔ اس کے لیے انہوں نے اسے ایک کوکون دیئے۔ کوکون داراصل ایک ایسا گول سا غلاف ہوتا ہے جس میں تتلی پرورش پاتی ہے۔ طالب علم میں بہت زیادہ تجسس تھا کہ وہ یہ جان لے کہ تتلی اپنی زندگی کیسے شروع کرتی ہے؟ کچھ دن بعد طالب علم نے دیکھا کہ اس کوکون میں ایک سوراخ ہو چکا ہے۔ تتلی پورا زور لگا کر اس خول سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تتلی اپنی قوت اور جدوجہد کے باوجود اس خول سے باہر نہیں نکل پارہی تھی۔ اس کے پر ناتواں اور نہ ہونے کے برابر تھے۔ طالب علم نے فورا اس کی مدد کا فیصلہ کر کے اس خول کا سوراخ بڑا کر دیا کہ تتلی آسانی سے باہر نکل آئے مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تتلی اڑ ہی نہ پائی اور مر گئی۔ وہ بہت حیران ہوا اور اس نے یہ ساری بات اپنے استاد کو بتائی۔ استاد نے پوری تسلی سے طالب علم کی بات کو سنا ارو کہنے لگے۔ بیٹا! تتلی کی زندگی کے چار عہد ہوتے ہیں جنہیں انڈہ، لاروہ، پیوپا اور مکمل تتلی بن جانا کہا جا سکتا ہے۔ تتلی کے لیے فطرت کا اصول یہ ہے تتلی کو اس خول کو خود ہی توڑ کر باہر نکلنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے زندگی کے آغاز میں ہی خول سے جتنا زیادہ محنت کر کے باہر آئے گی اس کے پر اتنے ہی مظبوط اور خوشنما ہوتے ہیں۔ اس میں مشکل حالات میں جینے کی امنگ اور حوصلہ اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ بیٹا! ہم انسانوں کی زندگی بھی ایسی ہی ہے ہمیں ضرورت سے زیادہ مدد تبا و برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ ہماری زندگی کو بھر پور قوت اور طاقت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے مشکل اور سخت حالات میں خود ہی ہمت، جرات اور استقامت سے اپنی مشکلوں، مصیبتوں اور راستے کی رکاوٹوں پر قابو پا کر زندگی میں اپنا راستہ خود بنائیں۔ ہمیں زندگی میں قوت صرف کوشش سے ہی ملتی ہے۔ ہارتا صرف وہی ہے جو کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ بار بار کوشش کرنے والا اور ہمت نہ ہارنے والا کبھی ناکام نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خدا کا اصول ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔
    اللہ تعالی سے دعا ہے ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائے (آمین)

    @ZaidAli0000

  • وطن سے محبت   تحریر:  حادیہ سرور

    وطن سے محبت تحریر: حادیہ سرور


    وطن پہ فدا ہے جو انسان ہے
    کہ حب وطن جزو ایمان ہے

    وطن سے مراد ایسا خطہ جہاں انسان پیدا ہوتا ہے، پرورش پاتا یے،جہاں اس کے عزیز و اقارب رہتے ہوں اور جہاں اس کی تلخ و شیریں یادیں وابستہ ہوں۔ انسان کو فطری طور پر اپنے وطن کے درودیوار سے ، گل و خار سے اور کوچہ و بازار سے محبت ہوتی ہے۔ اس فطری وابستگی کو حبِ وطن کہا جاتا ہے۔
    سیدنا رضی الله عنھا کا فرمان اقدس ہے
    "وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے”
    اس کا مطلب ہے جس طری دیگر ارکان اسلام کا ایمان لانا ضروری ہے اس طرح وطن سے محبت کرنا بھی ضروری ہے۔ جو سرزمین انسان کو پالتی ہے۔ تقاضائے ایمان ہے کہ اس سے بھی ویسی ہی محبت کی جائے۔
    وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ جو کوئی بھی جہاں بھی جس شعبے میں بھی ہو وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے۔اپنے ذاتی مفادات کو وطن کی خاطر قربان کرنا اور وطن کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر عمل کرنا محب وطن ہونے کا ثبوت ہے۔
    وطن کی سرحدوں کی حفاظت بھی وطن سے محبت کا تقاضا ہے۔ سرحدوں سے مراد جغرافیائی سرحد کے ساتھ وطن کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ضروری ہےاور نئی نسل کو اپنے نظریہ وطن سے آگاہ کیا جائے۔
    ہم نے یہ وطن اسلام کے نام پر حاصل کیا اس کی نظریاتی اساس میں اسلام شامل یے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اس ملک میں اسلامی نظام رائج کریں۔ملکی روایات اور ثقافت کو فروغ دیں۔ غیروں کے طریقے اور طرز پر مبنی چیزیں دیں اور خالصتاً اسلام اور قرآن کے احکامات کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں۔ تب ہی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب پورا ہوسکے گا۔
    تحریر:

    @iitx_hadii

  • والدین اور اولاد اور والد کی بد دعا  تحریر: ذیشان علی

    والدین اور اولاد اور والد کی بد دعا تحریر: ذیشان علی

    ہمارا پیارا اسلام سب سے زیادہ والدین کے حقوق کی بات کرتا ہے،
    اسلامی تعلیمات کے مطابق ہمیں ہدایت دی گئی۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب وہ عمر رسیدہ ہو جائیں تو ان کی خدمت کرو۔
    اور ان کے اگے اف تک نہ کرو عاجزی کے ساتھ ان کے اگے جھکے رہو اور ان کے لئے دعا کیا کرو۔
    اللہ تعالی نے دونوں کو بلند مقام و مرتبہ دیا ہے۔
    اور شریعت میں اس سلسلے میں دو طرفہ حقوق اولاد کے والدین پر اور والدین کے اولاد پر واضح کیے ہیں،
    والد ایک سائبان شفقت ہے اور اولاد اس سائے میں پروان چڑھتی ہے۔
    وہ اپنی ساری زندگی بالخصوص اولاد کہ جوان ہونے تک ان کے لئے محنت مشقت کرتا ہے،
    والد اللہ رب العزت کی طرف سے دنیا میں ایک عظیم نعمت ہے۔ جب تک اولاد پر باپ کا سایہ سلامت رہتا ہے اولاد بے فکری کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتی ہے۔
    لیکن جب یہ سایہ شفقت قانون قدرت کے تحت اٹھا لیا جاتا ہے تب اولاد کو اس کی کمی محسوس ہوتی ہے اور اولاد کو زندگی کے اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز کا اندازہ ہوتا ہے،
    کہ باپ اولاد کے لیے کتنی مشکلات سے گزرتا ہے اور اولاد کو اپنی مشکلات کا اندازہ بھی نہیں ہونے دیتا۔
    والد ایک ایسا مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی اولاد کی حفاظت کرتا رہتا ہے اور انہیں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے،
    دعا ہے رب العزت سے کہ وہ ہمارے آپ کے سروں پر باپ کا سایہ تادیر قائم و دائم رکھے،
    اور جن کے والد اس دنیا سے گزر گئے ان کی بخشش و مغفرت فرمائے،
    اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کی نافرمانی سے اجتناب کرے کیونکہ یہ بہت ہی سخت گناہ ہے۔
    والد کی ناراضی اور اس کی بد دعا آپ کی کوئی دعا قبول نہیں ہونے دیتی۔
    والد کی بد دعا کے متعلق آپ سے ایک واقعہ شیئر کرتے ہیں،
    شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کے ہاں ایک شخص اپنے بیٹے کو بہت عرصے تک لے کر آتا رہا،
    شاہ صاحب رحمہ اللہ کبھی اس کے لئے دعا کرتے، کبھی کوئی عمل اس کے باپ کو بتاتے،
    تو کبھی تعویذ لکھ کر دے دیتے،
    لیکن اس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،
    ایک دن انہوں نے باپ سے پوچھا کیا تم نے کبھی اسے کوئی بد دعا دی ہے۔
    تو باپ نے کہا ہاں حضور اس کی حرکتوں اور اس کی نافرمانیوں کو دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا اور بہت دکھ ہوا اور میں نے غصے میں اسے بد دعا دی،
    تو شاہ صاحب نے فرمایا تو خود اس کا علاج کر۔
    بد دعا دے کے علاج مجھ سے کروانے آیا،
    ایک تو ہمیں والدین کی نافرمانی سے بچنا چاہیے اور دوسری طرف میری مخلصانہ عرض ہے کہ والدین کو چاہیے اٹھتے بیٹھتے نماز کے بعد اپنی اولاد کے لیے دعا کریں،
    ان کے بہتر مستقبل کے لئے دعا کریں والدین کی دعا! اولاد کی نسلوں تک ان کا ساتھ دیتی ہے،
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے دعا کی تھی، اور ان دعاؤں کا اثر قیامت تک ان کی نسلوں میں موجود رہے گا،
    اس لیے اپنی اولاد کو ایسی دعائیں دے جائیں جو ان کی نسلوں میں بھی سب کو نظر آئے اور وہ خود بھی اس کا مشاھدہ کریں،
    اللّٰہ سب کے والدین پر اپنا خصوصی کرم فرمائے، اور سب کی اولاد کو والدین کا فرمابردار بنائے، آمین

    @zsh_ali

  • علم کا اجالا تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    علم کا اجالا تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    مرکزی کردار
    رشید۔۔۔۔۔ایک گاؤں کا ان پڑھ کسان
    بشیر۔۔۔۔۔رشید کا دوست جو تھوڑا پڑھا لکھا ہے اور گاؤں میں رہتا ہے اور دفتری کاموں کو جانتا ہے
    احمد۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے آیا ہوتا ہے
    اسلم۔۔۔۔۔۔ایک گورنمنٹ کا ملازم پٹواری
    ظفر اقبال۔۔۔۔۔۔ اسسٹنٹ کمشنر

    آغاز میں ہوتا یوں ہے کہ رشید کسی سے زمین خریدتا ہے اور وہ اپنے دوست بشیر کے پاس جاتا اور کہتا ہے کہ وہ اس کا کام کروا دے۔۔۔۔۔

    رشید:- میاں بشیر کیا حال ہیں اور کدھر مصروف ہوتے ہو؟

    بشیر۔۔ الحمدللہ رب کا کرم ہے اور دفتروں کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔
    رشید:- یار بات یہ ہے کہ میں نے کچھ زمین خریدی ہے اور اسے اپنے نام کروانا چاہتا ہوں تم دفتروں کے معاملات جانتے ہو میں تو ان پڑھ جاہل ہوں۔

    بشیر:- اچھا بھائی کل تم تیار ہو کر آجانا ہم شہر چلے جائیں گے اور تمام معلومات لے کر آئیں گے اور بعد میں تمہارا کام کروا دوں گا۔
    (بشیر سرکاری لوگوں سے ملا ہوتا ہے اور پیسے لے کر سب کے کام کرواتا ہے اور وہ رشید کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے)

    بشیر:- اسلم بھائی (پٹواری) کیا حال ہیں اور یہ میرا دوست رشید ہے اس نے زمین نام کروانی ہے سرکاری فیس کے ساتھ جو بھی غیر سرکاری فیس ہے وہ بھی بتا دیں۔
    اسلم:- الحمدللہ۔
    زمین کی منتقلی کے لئے پچاس ہزار اور باقی پچاس ہزار غیر سرکاری فیس ہے۔ وہ بشیر کو علیحدہ کر کے بتاتا ہے کہ جس میں دس ہزار آپ کا ہے اور وہ بہت خوش ہوتا ہے۔
    بشیر:- اسلم بھائی آپ کا بہت شکریہ جو آپ نے مناسب ہدیہ لیا ہے باقی ہماری طرف سے فائنل سمجھیں اور وہ رشید کو آکر بتاتا ہے۔
    رشید:- بشیر بھائی مجھے کچھ پتہ نہیں جو سہی لگتا ہے وہ کر دیں۔
    (وہ شام کو گھر پہنچتے ہیں اور رشید اپنے گھر چلا جاتا ہے اور اسے احمد ملنے آتا ہے)
    احمد:- بھائی رشید کیا حال ہیں اور آج کل کیا چل رہا ہے؟
    رشید:- الحمدللہ بھائی جان۔۔۔۔۔ یار کچھ زمین خریدی ہے اور وہ کل منتقل کروانی ہے۔
    احمد:- بھائی سرکاری فیس کے علاوہ کوئی پیسے تو نہیں دیے؟

    رشید:- آپ کو تو پتہ ہے میں ان پڑھ ہوں بشیر کو ساتھ لے کر گیا تھا پچاس ہزار فیس کے ساتھ پچاس ہزار غیر سرکاری فیس دینی ہے۔
    احمد:- بھائی آج کل کوئی رشوت نہیں لیتا اور بشیر تو سب کچھ جانتا ہے، بھائی آج کل بہت سختی ہے۔
    رشید:- مجھے تو اس نے جو کہا میں نے تو اس کی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔
    احمد:- میں کل تمہیں لے کر جاؤں گا اور تمہارا کام سرکاری فیس کے ساتھ کروا دوں گا۔
    رشید:- احمد بھائی آپ کی مہربانی ہوگی میں تو کچھ نہیں جانتا.
    (احمد اور رشید اگلے دن شہر جاتے ہیں اور احمد اس کا کام کرواتا ہے)
    (احمد اسسٹنٹ کمشنر ظفر اقبال کے پاس جاتا ہے اور کام کرواتا ہے)
    احمد:- ظفر اقبال صاحب یہ میرا دوست ہے اس نے زمین نام کروانی ہے اور سرکاری طور پر زمین نام کر دیں اور جو فیس ہے یہ ادا کر دیتا ہے۔
    ظفر اقبال:- جناب میں ان کا مسئلہ ابھی حل کروا دیتا ہوں۔

    (ظفر اقبال اپنے سیکرٹری کو بلاتا ہے اور اس کو کہتا ہے سرکاری طور پر اس کا مسئلہ حل کرو)
    احمد؛- رشید میاں مبارک ہو آپ کا کام ہو گیا اور ہمارے سب ادارے سرکاری فیس پر کام کرتے ہیں معاشرے کے چند لوگوں کی وجہ سے ادارے خراب ہو رہےہیں۔
    رشید:- احمد بھائی یہ سارا کچھ آپ کی وجہ سے ہوا ہے مجھے تو کچھ پتہ نہیں تھا۔
    احمد؛- بھائی یہ تو میرا فرض تھا جو میں نے پورا کر دیا۔

    رشید:- احمد بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ۔
    ( جب یہ بات بشیر کو پتہ چلتی ہے تو وہ رشید کے پاس آتا ہے)
    بشیر:- رشید یار مجھے پتہ چلتا ہے کہ احمد نے تیرا کام کروا دیا ہے اور میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں۔
    رشید:- یار کوئی بات نہیں تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا یہی کافی ہے اور بات یہ ہے کہ معاشرے کا ہر شخص برا نہیں ہوتا….

    معاشرے میں چند لوگ غلط ہوتے ہیں پورا معاشرہ کبھی بھی غلط نہیں ہوتا اور ہمیں ہمیشہ اچھے لوگوں کو دیکھ کر ان کی اچھائی بیان کرنی چاہیے نا کہ برے لوگوں کی خامیاں بیان کرتے زندگی گزار دیں۔
    @ibn_e_Adam424