Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ہمارا مقصدِ حیات  تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    ہمارا مقصدِ حیات تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    دنیا ایک امتحان گاہ ہے جس میں اللّٰه نے ہمیں آخرت میں ہونے والے امتحان میں تیاری کے لیے پیدا فرمایا ہے تا کہ بروزِ قیامت یہ معلوم ہو سکے کون اطاعتِ خداوندی کا پیکر بنا رہا اور کون نافرمانوں کی فہرست میں رہا

    ہمیں اس امتحان کی تیاری کے لیے پیدائش سے لے کر موت تک کا جو مخصوص وقت دیا گیا ہے اس دورانیے میں اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی اللّٰه اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے بسر کرنی ہے اور یہی ہمارا "مقصدِ حیات” ہے

    آتے ہوئے اذان اور جاتے ہوئے نماز
    قلیل وقت میں آئے اور چلے دیئے

    اللّٰه نے ہمیں عبادت و اطاعت کے ذریعے اپنی رضا حاصل کرنے کے لیے زندگی کی انمول نعمت سے نوازا ہے پس جس شخص کی زندگی میں بندگی نہ ہو بھلا وہ بھی بندہ ہے؟؟ کیونکہ بے بندگی رضائے خداوندی کے حصول میں سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہ ہوگا

    ہزاروں مصروفیات کے باوجود دنیا کے لیے جیسے بھی ممکن ہو ہم وقت نکال ہی لیتے ہیں تو کیا جس مقصد کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے اس کے لیے تھوڑا سا وقت بھی نہیں نکال سکتے؟ اس سلسلے میں ہمارا طرزِعمل کیسا ہے اس پر خود ہی غور فرما لیجیے کیونکہ ہمارا مقصدِ حیات تو رضائے خداوندی کا حصول ہے

    مگر افسوس! صد افسوس! ہم اس سب سے غافل ہو کر دنیا کی ترجیحات میں مگن ہو چکے ہیں۔

    ہمارے مذہب کا نام اسلام ہے اور ہم مسلمان ہیں اگر ان الفاظ کے معانی پر غور کر لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمیں تو احکامِ اللّٰه کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کا حکم ہے مگر شاید ہم دَھن کی دُھن میں نہ صرف اپنے مقصدِ حیات کو بھول کر رحمتِ خداوندی سے دور ہو چکے ہیں بلکہ خود اپنے آپ سے بھی غافل ہو چکے ہیں

    حیرت شیخ ابوطالب فرماتے ہیں کہ اللّٰه نے اہلِ سلامتی و نجات کے دو گروہ بنائے ہیں جن میں سے کچھ، کچھ سے افضل ہیں جبکہ ہلاکت و بربادی والے افراد کا صرف ایک ہی درجہ ہے ان میں سے کچھ، کچھ سے پستی میں ہیں۔ لہٰذا بروزِ قیامت جن لوگوں کے بائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال ہوگا وہ ان کا دل اس حسرت میں مبتلا ہو گا کہ وہ دائیں ہاتھ والوں میں کیونکر نہ ہوئے۔ اور دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیئے جانے والے اس حسرت میں مبتلا ہوں گے کہ وہ مقربین میں کیونکر نہیں اور مقربین اس حسرت میں مبتلا ہوں گے کہ وہ شہدا میں کیوں شامل نہیں اور شہدا چاہتے ہوں گے کہ وہ مقامِ صدیقین پر فائز ہوتے

    الغرض یہ دن حسرت کا ہوگا جس سے غافلین کو ڈرایا گیا ہے پس جو لوگ آج یہاں مردہ ہیں کل وہاں ان کی حالت کیسی ہوگی؟ کیونکہ ان کے پاس تو کوئی نیکی نہ ہو گی۔

    اپنے مقصدِ حیات کو پہچانیے اور اللّٰه کی رضا و عبادت میں خود کو پا لیں اور زندگی کو حقیقت معنوں میں جیئیں۔ ہماری زندگی کا حقیقی مقصد یہی تو ہے

    اور بے شک دونوں جہانوں میں اللّٰه کی رضا اور خوشنودی کا کوئی نعم البدل نہیں
    اور اللّٰه کی خوشنودی پانے کا بہترین ذریعہ اس کے رسولؐ کی سنت و احکام پر عمل کرنا ہے۔ اللّٰه اور اس کے رسول کی پیروی ہم سب پر واجب ہے

    اپنی سانس کی مالا کے ٹوٹنے سے خود کے آنے کا مقصد پہچانیے اسی میں بھلائی و بہتری ہے آج کی بھی اور آنے والے کل کی بھی اور اس کے بعد روزِ محشر میں بھی یہی ہماری مددگار بھی ہوگی

    وتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ

    @H___Malik

  • سبق آموز از    تحریر: صدام حسین

    سبق آموز از تحریر: صدام حسین

    یہ کہانی میری آپ بیتی ہے بس سانپ اور دوسرے کردار نقلی ہیں کہانی کو سمجھنے والے دماغ سے اگر پڑھا جائے تو بہت زبردست پوائنٹ ہے کسی کے لئے

    *سبق آموز ____*
    گاؤں میں میرے ایک دوست نے ایک سانپ رکھا ہوا تھا نہایت ہی خوبصورت اور دلکش سفید رنگ دھاری دار تھا
    میں اکثر اس کے گھر پر جاتا اور سانپ کے ساتھ دل بہلاتا تھا، یا آپ یوں کہ لیں کہ میں اس سے بہت مانوس ہوگیا تھا، ایک دن میں سانپ کے ساتھ کھیل رہا تھا میں لیٹا ہوا تھا کہ سانپ نے مجھے پاؤں پر ڈس لیا، ﷲ کی قدرت خون کڑوا ہونے کی وجہ سے مجھے کچھ خاص پریشانی تو نہ ہوئی بس ڈنگ کی تھوڑی سی تکلیف ہوئی_

    میں دوست کو بتائے بغیر واپس آگیا کچھ دنوں بعد جب دوبارہ اس کے گھر گیا تو سانپ نے ایک بار پھر خلافِ توقع مجھے ڈس لیا، اور حیرانی کی بات مجھے کچھ نہ ہوا اب کی بار میں ایک دن کے ناغہ کے بعد گیا تو سانپ نے اپنا نرم سا جسم میرے اردگرد لپیٹ لیا، میں بے خبری میں اس سے کھیلتا رہا جیسا کہ میں بتا چکا ہوں میں اس سانپ کم دوست زیادہ سے بہت مانوس ہو چکا تھا اس لئے اسے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا _
    خیر مجھے کسی کام سے شہر جانا پڑ گیا جب ایک ہفتے بعد میں واپس آنے لگا تو دوست نے کال کی کہ کسی ماہر ڈاکٹر کو ساتھ لے آنا سانپ بیمار ہوگیا ہے اسے چیک کروانا ہےمیں ڈاکٹر کو لے کر سیدھا دوست کے گھر آیا، میرے دوست نے بتایا کہ سانپ نے ایک ہفتے سے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے کمزور ہو گیا ہے،
    جب ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کرنے کے بعد جس چیز کا انکشاف کیا تو ہم دونوں حیران رہ گئے_______

    ہوا یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جب سانپ میرے جسم کے اردگرد گھیرا ڈال کر کھیل رہا تھا تو بظاہر وہ کھیل رہا تھا مگر اصل میں وہ جا ئزہ لے لیا تھا کہ کتنے دن وہ کھانا نہ کھائے تو مجھے وہ کھا سکتا ہے اس لئیے سانپ نے ایک ہفتے سے کھانا نی کھایا- مزید یہ کہ جب میں نے بتایا کہ سانپ دو دفعہ مجھے ڈس چکا ہے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر آپ پہلی دفعہ ہی اِسے مار دہتے تو اچھا ہوتا مگر آپ نے خود موقع دیا اسے اس میں سانپ کی نہیں آپکی غلطی ہے اگر آپ اُسی دن مار دیتے تو آج یہ آپکو کھانے کی تیاری نہ کر رہا ہوتا_____ لہذا میں نے دوست کے ساتھ مل کر اُس سانپ کو ٹھکانے لگایا اور ﷲ کا شکر ادا کیا_____

    *خلاصہ* :- آپ بھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ آپ کے دوستوں، رشتے داروں، اور خیر خواہوں کی شکل میں کئی ایسے سانپ ہونگے جو آپکو ڈسنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اپنے آپکو محفوظ رکھئیے زمانے سے اور لوگوں کے شر سے، ضروری نہیں وہ سانپ بظاہر ہی کوئی سانپ ہو کسی کسی انسان کا دل، دماغ، زبان، آنکھ غرض کُچھ بھی ایسا سانپ ہو سکتا ہے جس سے آپکو نقصان تو ہوتا ہے پر پتا تب چلتا ہے جب آپ برباد ہو چُکے ہوتے ہیں_
    ایک بات اور قارئین انسان کی سب سے بڑی دولت اُسکی عزت ہے اسے سنبھال کر رکھیں کیونکہ یہ ایک بار چلی گئی تو واپس نی آئے گی اپنے آپ کو معاشرے میں ایسے بنائیں کہ دوسرے آپکی کاپی کریں نا کہ آپ سے نفرت کریں_
    @SAA_afridi

  • احساس برتری ایک خطرناک بیماری تحریر: شازیہ ستار

    احساس برتری ایک خطرناک بیماری تحریر: شازیہ ستار

    کتنی عجیب بات ھے کہ ھم احساس کمتری کو تو بہت تذکروں میں لاتے ہیں اور فٹ سے کسی کو طعنہ بھی دے دیتے ہیں مگر ھم احساس برتری کا نہ ھی ذکر کرتے اور نہ ھی اسکو بیماری گردانتے ہیں یہ بہت خطرناک بیماری کی ایک قسم ھے احساس برتری کا شکار انسان خود کو حراست کسی سے برتر و بالا سمجھتا ھے اور اپنے عہدے اور حسب نسب پہ فخر کرتا ھے کیونکہ اس کی ذات میں کوئی صفات نہین ھوتی ہے اور اسکے اندر بےچینی اور بے سکونی ھوتی ھے تو وہ ھر وقت اپنے لباس اور اپنے گھر اور گاڑی کی تعریف ھی سُننا چاہتا ھے پھر ایسے لوگ دوسروں کی ھر وقت تضحیک کرنے سے بھی باز نہیں آتے کیونکہ اس سے انکے احساس فخر کو تسکین مل رھی ھوتی ھے ۔۔۔یہ بیماری معاشرے کے لئے پھر فساد اور بگاڑ کا سبب بنتی ھے اور بہت سے لوگوں کی دل آزاری کا ذریعہ بھی ۔۔لہذا اسکو بھی بیماری مان کر اسکا تدارک بہت ضروری ھے
    ورنہ یہ بیماری معاشرے میں ناسور کی طرح بڑھتی جارہی ہے اسکی وجوہات کو جاننا بھی ضروری ہے وجہ پتہ ھو گی تو قابو پایا جا سکتا ہے
    اس میں مبتلا لوگ اپنے ساتھ رہنے والوں اپنے کولیگز اپنے رشتہ داروں کی زندگی کو اجیرن کئے رکھتے ہیں
    بدقسمتی سے ھر دوسرے بندے میں یہ بیماری موجود ھے مادیت پرستی اور بے حسی بھی اسکی وجوہات میں شامل ہے ۔جس انسان میں تکبر نہیں ھوتا عاجزی ھوتی ھے وہ کبھی کسی کو کم تر نہیں سمجھتا اسلام میں تکبر کو شرک کے گناہ جیسا سمجھا جاتا ھے کہ جس کے دل میں رائی برابر تکبر آیا اس نے بہت بڑا گناہ کیا ۔۔اللہ پاک ھمین اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور انکو سدھارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    @ALLAHknowbetter

  • میری محبت، ایک افسانہ . تحریر: محمد وسیم

    میری محبت، ایک افسانہ . تحریر: محمد وسیم

    عاطف اورعروج کی پہلی ملاقات پنجاب پبلک لائبریری میں ہوئی۔ عاطف انجینرنگ کے آخری سال میں تھا اور عروج ڈاکٹر بن رہی تھی۔ شعبہ مختلف مگر خیالات بہت یکساں تھے۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا اور بے تکلفی بڑھتی گئی۔ ایک دن دونوں محو گفتگو تھے کہ اچانک عاطف کو کال آ گئی۔ اس نے عروج سے معزرت کی اور موٹر سائیکل پر چلا گیا۔ عاطف جا رہا تھا کہ اچانک ٹرک کی ٹکر سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ ہسپتال پہنچنے پر اس کا علاج و معالجہ شروع ہوا، اس کی جیبوں کی تلاشی لی گئی تاکہ شناخت ہوسکے، وہاں سے ایک فون نمبر ملا جو عروج کا تھا۔ انہوں نے اس نمبر پر کال کی اور عاطف کے حادثہ کے بارے میں بتایا توعروج یہ خبر سن کر حواس باختہ ہوگئی اور فوراََ ہسپتال پہنچی۔ ڈاکٹروں نے عروج کو بتایا کہ عاطف کے اعصاب کو شدید نقصان پہنچا ہے اور شاید اب وہ عمر بھر چل پھر نہیں سکتا۔ عروج اب ہسپتال میں ہی رہ کر عاطف کی دیکھ بھال کرنے لگی۔ اسی طرح دو ماہ گزر گئے۔ ڈاکٹروں نے عاطف کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا۔ چونکہ وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھا اس لیے عاطف عروج کے ساتھ ہی رہنے لگا۔ وہ اس کا بہت زیادہ خیال رکھتی۔ اسی طرح چھ ماہ گزر گئے اور وہ تندرست ہوگیا لیکن معذور، دونوں کی تعلیم مکمل ہوگئی۔ عاطف نے عروج کو شادی کی پیش کش کی۔ عروج پہلے تو بہت خوش ہوئی لیکن ایک خیال نے اسے پریشان کردیا۔ خیال یہ کہ عاطف تو معذور ہو گیا ہے، والد صاحب اس حالت میں عاطف کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ اس نے عاطف سے کہا کہ اسے اس حالت میں والد صاحب کبھی بھی قبول نہیں نہیں کریں گے۔ اس لیے اسے چلنا پھرنا ہوگا اور جب تک وہ عروج کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے قابل نہیں ہو پاتا تب تک وہ اس کے ساتھ شادی نہیں کر سکتی۔ عاطف نے عروج سے کہا کہ تم تو جانتی ہوکہ میں عمر بھر چل نہیں سکتا تو میں تمہاری یہ شرط کبی بھی پوری نہیں کر سکتا۔ عروج نے کہا کہ اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو اور چاہتے ہو کہ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں تو تمہیں یہ کرنا ہوگا۔ محبت میں مرتا کیا نہ کرتا۔ بے چارہ عاطف عشق کے ہاتھوں مجبور عروج کی شرط مان گیا۔ عروج نے اپنے آبائی گھر جانے کی اجازت لی اور کہا کہ جب تم چلنے کے قابل ہو جاو تو میرے ابا سے میرا رشتہ طلب کر لینا وہ تمیں انکار نہیں کریں گے۔ وہ چلی گئی۔ اور چونکہ وہ خود ڈاکٹر تھی اس لیے وقتاََ فوقتاََ عاعف کی اعصابی قوت کے ٹپس دیتی رہی۔ عاطف نے چلنے پھرنے کی کوشش کی انتہا کردی۔۔ شروع شروع میں وہ بیساکھیوں کے سہارے چلنے لگا۔ پھر آہستہ آہستہ لاٹھی کے سہارے اور آخر کار وہ بغیر سہارے کے چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔ تین سال گزر گئے۔ اب اس نے عروج کو کال کی اور اپنے آنے کی اطلاع دی کہ وہ اس کے باپ سے اس کا ہاتھ مانگنے آرہا ہے۔ عاطف عروج کے گھر گیا، وہاں اس کی خوب خاطر تواضع کی گئی۔ اس نے عروج کے باپ سے رشتہ کے بارے میں بات کی تو اس نے عروج کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے پوچھ لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ عاطف اب عروج کی طرف توجہ کرتا ہے۔ عروج کہتی ہے” بڑی دیر کردی مہرباں آتے آتے” ۔ اب تو وقت گزر چکا۔ عروج اپنے شوہر کو آواز دیتی ہے کہ ” وسیم! زرا محمود اور خزینہ کو باہر لے کر آئیے” محمود عروج کا بیٹا اور خزینہ اس کی بیٹی تھی۔ وہ اپنے شوہر اور بچوں کا تعارف عاطف سے کرواتی ہے۔

    عاطف حواس باختہ ہوگیا اورعروج سے کہا کہ وہ محبت وہ وعدے وہ سب کچھ کیا تھا۔ عروج کہتی ہے کہ میں ایک پیشہ ور ڈاکٹر ہوں اور میرا کام مریضوں کو کسی بھی طریقے سے صحت یاب کرنا ہے اس لیے وہ تو محض میں تمہاری صحت یابی کے لیے محبت کا ڈرامہ کر رہی تھی۔ بہر حال میرا تجربہ کامیاب رہا۔

    @mstrwaseem

  • عنوان : ﷽ "ذوالحجہ دس دن اور دس راتوں میں چهپے بابرکت خزانے  ‏تحریر : عائشہ شاہد

    عنوان : ﷽ "ذوالحجہ دس دن اور دس راتوں میں چهپے بابرکت خزانے ‏تحریر : عائشہ شاہد

    ماہ ذوالحجہ آپ سب مسلمانوں کو مبارک ہو.
    اس مبارک مہینے کی پہلی دس راتوں کی ﷲ تعالٰی نے قسم کهائی ہے کہ ان دس راتوں میں بہت بڑی طاقت ہے

    بلکہ یوں کہیئے کہ ﷲ تعالٰی کی بہت حکمت چھپی ہوئی ہے
    ان راتوں میں ﷲ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے
    ان راتوں میں ﷲ تعالٰی کی قسم گردش کر رہی ہے
    ان راتوں میں برکت و عافیت کے خزانے پوشیدہ ہیں
    ان راتوں میں ایک پوشیدہ نور ہے
    ان ہی راتوں میں مدد ہی مدد ہے ﷲ تعالی کی طرف سے
    ذوالحج کی 10 راتوں میں اولاد ہے
    ان ہی راتوں میں بندشوں کا خاتمہ ہے
    ان راتوں میں مال و دولت میں برکت بھی ہے
    ان ہی راتوں میں پریشانیوں کا خاتمہ بھی ہے..
    ان ہی راتوں میں خوش بختی ہے
    ان راتوں میں دین و دنیا پوشیدہ ہے
    ان راتوں میں سچی توبہ کریں معافی مانگیں خلوت جلوت کے گناہوں کی رو رو کر معافی مانگیں . بعض اوقات بہت کچھ عطاء ہونے والا ہوتا ہے مگر ہمارے گناہ سامنے آجاتے ہیں.

    ذوالحجہ کے پہلے دس دن دنیا کے افضل دن ہے اللّٰہ پاک نے ان دس دنوں کی قسم قرآن پاک میں اٹھائی ہے سورہ فجر کی پہلی آیات میں ( والفجر . ولیال عشر۔ ترجمہ فجر کی قسم ۔اور دس راتوں کی قسم )
    حضرت جابر بن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ یارسول اللّہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں افضل ترین دن ذوالحجہ کے دس دن ہیں

    حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے رسول ﷲ نے ارشاد فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں جس میں عمل صالح ﷲ کے ہاں (ذو الحجہ کے) دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی’’ یا رسول ﷲ ﷺ کیا جہاد بھی ان کے برابر نہیں؟
    آپ ﷺ کافرمان: ہاں مگر وہ شخص جو جان و مال لے کر جہاد کے لیے نکلے اور پھر ان میں کوئی بھی واپس نا آئے یعنی اپنا سب جان و مال قربان کردے
    نبی کریم ﷺ کی سنت احکامات پر علم پیرا ہو جائیں.دعا میں ﷲ تعالٰی سے اس مہینے میں پوشیدہ برکت و عافیت کے خزانے مانگیں پوری امت اپنے مسلمان جو تکلیف میں جو ظلم کا شکار ہیں ان کے لیے مانگیں انسان ذات اور پرند چرند کے لیئے خیر کی دعا مانگیں

    ﷲ تعالی سے رزق میں برکت اور خیر و عافیت مانگیں
    @BinteChinte

  • پاکستان میں اشیاء ضروریہ مہنگی کیوں ہوتی ہیں؟   تحریر: ثاقب محمود

    پاکستان میں اشیاء ضروریہ مہنگی کیوں ہوتی ہیں؟ تحریر: ثاقب محمود

    جی ہاں جناب پاکستان میاشیاء کی قیمتیں اچانک آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں اس کی کیا کچھ وجوہات ہیں؟ تو جناب من اس کی وجہ ہم خود ہیں جس چیز کی ویلیو نہیں ہوتی اس کو اہمیت دینا ہمارا شیوہ ہے اور ہم اس چیز کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں جس کا فائدہ ذخیرہ اندوز اور مافیا اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ،مثلا” ٹماٹر 100 کا 5 کلو بک رہا ہے ہم نے لے کے ذخیرہ کرنا شروع کردیا مارکیٹ خالی کر دی دوسرے دن وہی ٹماٹر مارکیٹ سے غائب اور سونے کے بھاو ملےگا لیکن آپکو کیا؟ آپ نے تو ذخیرہ کرلیا ہے ،ایسے ہی مزید چیزیں بھی ہیں عورتوں کے استعمال کی چیزیں لے لیں انتہائی تھرڈ کلاس کے کپڑے بھی مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں بارگیننگ مافیا بیٹھا جہاں داو لگا داو لگا لیا کوئی ریٹ فکس نہیں کوئی پرافٹ کا پتا نہیں ،اب چلتے ہیں باقی چیزوں کی جانب تو جناب گاڑیوں کی طرف چلا جائے زرا جینون کے چکر میں 35 سال چلی ہوئی سوزوکی ایف ایکس کے لوگ پانچ پانچ چھ چھ لاکھ مانگ رہے ہیں جی ہاں سوزوکی ایف ایکس اور مہران 92 ماڈل جینون اگر 4 لاکھ کی تو نئی تو مہنگی ہوگی نہ ہم نے ڈھائی سے تین لاکھ کے مٹیرئیل کی گاڑی کو 12 سے 13 لاکھ تک پہنچا دیا کیوں ہم اتنی اہمیت دیتے ہیں ہم چیزوں کو ہم چیزوں کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں اور جب تک اس کی قیمت آسمان سے باتیں نہیں کرتی ہمیں سکون نہیں سوزوکی ویگنار دیکھ لیں یار زیادہ سے زیادہ 7 لاکھ کریں لیکن 18 سے 20 لاکھ تک اندازا”
    پہنچی ہوئی ہے ، ایک آٹو رکشہ میرے حساب سے 60 ستر ہزار سے اوپر نہیں ہونا چاہیے لیکن وہ بھی 3 لاکھ کا مل رہا ہے سود خوروں نے تو قسطوں پر اس سے بھی مہنگا کر دیا ہے ، موٹر بائیک سی ڈی 70 دیکھ لیں کتنا مہنگا ہے اور 125 کا کیا ریٹ ہے یے سب ہم لوگوں کی غلطی ہے ہم یا تو سستی چیز کو اتنی زیادی اہمیت دے دیتے ہیں کے وہ مہنگی ہو جاتی ہے،اور سب سے اہم بات ہم کوالٹی پر کمپرومائز کر لیتے ہیں اس لئے ملاوٹ خور مافیا سستی چیزیں آسانی سے بنا کر مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں ، تو معزز قارئین کرام اگر ہمیں پتا چل جائے کے دو دن بعد پٹرول مہنگا ہونے والا ہے تو ہم پہلے سے ہی لائنیں لگا کر کھڑے ہو جاتے ہیں جیب میں پیسے نہ بھی ہوں تو کوشش
    کرتے ہیں کہیں سے قرض پکڑ کر ٹیکنکی فل کروا لیں ،ٹینکی کے علاوہ بھی بوتلوں میں بھر لیں ،
    پٹرول مہنگا ہوگا دو دن بعد اور ہم اس کو اہمیت پہلے سے ہی دینا شروع کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے ریٹ اوپر جانے کے بعد نیچے آنے کا نام نہیں لیتا ،
    کہتے ہیں کے صدر ایوب خان کے دور میں ٹماٹر کچھ پیسے مہنگا ہوا تو حکومت کی طرف سے اعلان ہوا کے ٹماٹر بیچنے والے کو چھوڑیں اور چو ٹماٹر خریدتے ہیں انہیں کوڑے ماریں جائیں ، کہتے ہیں کے لوگوں نے کوڑوں کے ڈر سے ٹماٹر خریدنا ہی چھوڑ دیا اور عینی شاہدین کے مطابق لاہور میں ٹماٹروں سے بھرے ٹرک دریائے راوں میں بہائے گئے لیکن کسی نے خریدےنہیں، تو کیا آج بھی ہم اسی رویے کے متحمل ہیں کیا آج بھی ہمیں کوڑوں کی ضرورت ہے،
    مہنگائی کا صرف ایک ہی حل ہے
    کے ہم کوالٹی پر کمپرومائز نہ کریں اور چیز کے حجم اور میٹیرئل کے حساب سے قیمت ادا
    کریں اگر آپکو لگے کے چیز مہنگی ہے تو اس کو چھوڑ دیں متبادل دیکھیں اس چیز کے بغیر رہنے کی عادت ڈالیں آپ کے آباو اجداد بھی رہتے رہے ہیں ان چیزوں کے بغیر ان گاڑیوں کے بغیر ان موٹر سائیکلوں کے بغیر یقین جانئے آپ ان چیزوں کی اہمیت کو کم کریں آپ سوچیں مہنگی چیز نہیں لینی اور اس کے بغیر گزارہ کرنا ہے ،
    پھر دیکھیں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں کیسے کمی آتی ہے ۔
    اس کے علاو ہماری حکومت کا بھی کام ریٹ کو کنٹرول کرےبارگیننگ مافیا کو لگام ڈالے سیکنڈ ہینڈ چیز کی بھی ایک حد مقرر کرے ۔
    اور سب سے زیادہ چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے ۔
    ہر چیز ایک حد تک اور کیپیسٹی
    کے مطابق فروخت کی جائے، آپکےشہر میں اگر 10 ہزار رکشے کی ضرورت ہے لیکن آپنے 3 لاکھ رکشہ فروخت کردیا تو وہ رکشے کہاں چلیں گے ، مثلا” آپکی کمپنی ہے اس میں 50 بندوں کی گنجائش ہے اور آپ نے رکھ لیا 350 بندہ تو آپکو ان کا خرچہ نکالنے کے لئے دونمبری کرنی پڑے گی ایسے ہی ہے ہمارا سسٹم جب تک ہر بزنس کی ایک پراپر چین نہ بنائی جائے ، اور ہر بزنس کو حالات دیکھتے ہوئے کیپیسٹی کے مطابق فروغ دیا جائے تو ہی وطن عزیز ترقی کرے گا ایک ہی چیز پر فوکس نہ کریں اور ایک ہی چیز کے پیچھے نہ پڑ جائیں آپ اپنا اور ملک کا جانے انجانے میں نقصان کر بیٹھتے ہیں ، اسلئے اگر کوئی کہے کہ رکشے کا کام اچھا ہے تو سارے رکشہ ہی نہ لینے بیٹھ جائیں ، اگر کوئی کہے کہ ہاسپٹل کا بزنس اچھا ہے تو سب ڈاکٹر ہی نہ بننا شروع ہو جائیں، اور اگر کوئی کہے کہ سکولز کا یا اکیڈمی کا کام اچھا ہے تو سب سکول اور تعلیم کو بیچنے کے چکر میں نہ پڑ جائیں ، کیونکہ ہر چیز بکاو بنائیں گے تو معاشرتی نقصان میں آپ بھی شریک ہونگے کام سارے ہی اچھے ہیں لیکن اہم یے ہے کے آپ لو کونسا کام آتا ہے آپ اپنے پروفیشن کے مطابق کریں اور ایمانداری سے کریں ، آپ دیکھیں معاشرے میں کیسے سدھار آتا ہے ہے اور ریٹ کیسے جگہ پر آتے ہیں، اللہ ہمارے وطن پاک کو ترقی عطا فرمائے آمین۔

    @Ssatti_

  • معافی مانگئے معاف کیجئے تحریر  : محمد اویس

    معافی مانگئے معاف کیجئے تحریر : محمد اویس

    بس اتنی کوشش کیا کریں کہ کوئی آپ کی وجہ سے اپنے رب کے سامنے نہ رو پڑے
    یقین کیجیے اگر کوئی آپ کی وجہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں رو پڑا اور جو رو رہا ہے وہ سچا اور مظلوم بھی ہے، تو آپ کی آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا بھی تباہ ہو سکتی ہے ۔
    کوشش کیجئے کہ کسی کا دل توڑنے کا بائث نہ بنیں ۔
    اگر کسی کا دل توڑا ہے ، ظلم کیا ہے ، دل آزاری کی ہے ، کسی کو اپنے رعب و دبدبے سے ڈرایا ہے تو فورا اُس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیجئے اِس سے پہلے کہ وہ اپنا فیصلہ اللّه پر چھوڑ دے
    اور
    اگر آپ کو کسی نے رلایا ہے، دل آزاری کی ہے ، ظلم کیا ہے، دھوکہ دیا ہے تو آپ کو میرا مشوره ہے کہ بڑے دل کا مظاہرہ کیجئے اور اللّه کی رضا کی خاطر اُس شخص کو معاف فرما کر درگزر سے کام لیجئے..
    ان شاءاللہ ! اس معاف کرنے کا اللّه آپ کو بہترین صلہ عطا فرماۓ گا ۔
    کیونکہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ ” جو رحم نہیں کرتا اُس پر رحم نہیں کیا جاتا اور جو معاف نہیں کرتا اُس کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ”
    (مسند امام احمد ج۷ص۷۱ حدیث ،۱۹۲۶۴ )
    اور معاف کرنے سے تو عزت بھی بڑھتی ہے،
    جی ہاں !
    حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے ربّ  تیرے نزدیک کون سا بندہ زیادہ عزّت والا ہے؟ فرمایا: ” وہ جو بدلہ لینے کی قدرت کے باوُجود مُعاف کردے۔”
    (شعب الایمان ج۶ص۳۱۹حدیث۸۳۲۷ )
    آج کل دیکھا گیا ہے ہر دوسرا گھر لڑائی جھگڑوں اور ناراضگیوں کی آفت میں مبتلا ہے ، کہیں بھائی بھائی کی آپس میں نہیں بنتی تو کہیں والدین اولاد سے ناراض ہیں ، کہیں بہنیں بھائیوں سے بات کرنے کو تیار نہیں تو کہیں ساس بہو کی آپس میں ٹھنی رہتی ہے الغرض ہر جگہ نااتفاقی اور ناراضگیوں نے اپنے جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں۔
    اس لئے آپ سے عرض ہے کہ کوئی شرعی عزر نہ ہو تو معافی مانگنے ، معاف کرنے اور رجوع میں پہل کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ ایک ہمارا "رب” بھی تو ہے جو دن رات ہماری ہزارہاں غلطیاں و گناہ دیکھنے کہ باوجود ہم پر فوراً عذاب مسلط نہیں فرماتا بلکہ ہمیں توبہ و معافی مانگنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔
    بے شک اللہ پاک غفور و رحیم ہے اور ہم اُس کے بندے ہیں۔

    تو آخر میں خلاصہ کلام یہی ہے کہ معافی مانگئیے اور
    معافی دیجئے اور اپنے روٹھے ہوئے منا لیجئے ۔
    اور
    مجھ گناہ گار کو بھی اپنی دعاوں میں یاد رکھیے۔
    جزاک اللہ خیرا !

    @Awsk75

  • جس تن لاگے، اوہی جانڑے تحریر: مجاہد حسین

    میں 5 سال کا تھا جب ابو فوت ہوئے (اللہ ان کے درجات بلند فرمائے)
    بھائیوں کے اصرار کے باوجود امی نے دوسری شادی نہیں کی،
    تین بھائی سکول میں تھے۔
    میں اور ایک چھوٹا بھائی ابھی سکول نہیں جاتے تھے۔
    ورثے میں تین کنال زمین ملی، دو کنال زرعی ایک بنجر۔
    ‏دو گائے تھیں ایک وچّھا ایک وچّھی تھی۔
    تین بکریاں تھیں۔
    شروع شروع میں رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کی طرف سے فصل کٹائی پر صدقات کی مد میں اتنی گندم جمع ہو جاتی تھی کہ سال بھر کے لئے کافی ہوتی تھی۔
    کچھ عرصے بعد بڑے بھائی کو کالج چھوڑنا پڑا اور ویک ویگن پر کنڈکٹر لگ گیا۔
    ‏وقت گزرتا گیا
    ہماری ضروریات اس زمین اور جانوروں سے پوری ہوتی رہیں۔
    بڑے تینوں بھائی کام کاج پہ لگ گئے۔ سب سے بڑے کی شادی بھی ہوگئی۔ سرکاری ملازمت بھی لگ گئی۔
    اب اس کے بچے بھی ہو گئے تھے تو شہر میں الگ گھر بھی بنا لیا،
    لیکن ماں کو کب آرام تھا۔ ہم چھوٹے تھے
    اب توجہ کا مرکز بنے۔
    ‏کسی بھی طرح میں نے سکول (اول پوزیشن سے) پاس تو کر لیا لیکن آگے کالج داخلے کے لئے اخراجات نہیں تھے۔ بڑا بھائی جو شہر میں رہتا تھا، میرے کاغذات جمع کروا دئے اور انٹریو کی تاریخ بھی آگئی۔
    سوال یہ تھا کہ پیسے کہاں سے آئیں؟؟
    ‏اماں نے ایک وچھا پال پوس کے بیل بنایا تھا، چنگا سوہنڑا۔
    بیچنا پڑا۔۔۔
    داخلہ ہو گیا
    اور میں کالج سے گریجویٹ ہو گیا۔
    اماں کی دعا سے رزلٹ سے پہلے ہی نوکری مل گئی۔
    اور آج بیرون ملک اللہ کے فضل سے اپنی سوچ سے بھی زیادہ کما رہا ہوں۔
    سب بھائی خود مختار ہیں۔
    اپنے اپنے گھر خوش ہیں۔
    ‏ہم نے ایسے بھی دن دیکھے ہیں کہ کبھی کبھی دو دو دن تک گندم کے دلیئے میں لسی ڈال کر کھا کے گزارا کرنا پڑا۔
    اس دن ہماری عید ہوتی تھی جس دن گڑ والے چاول بنتے تھے۔
    حالات کا احساس اورادراک تھا اس لئے عید اور میلوں کا شوق پیدا ہی نہیں ہوا۔
    آج الحمدللہ خود مختار ہیں۔
    ‏سوال یہ ہے کہ جناب! یہ سب ممکن کیسے ہوا۔
    تو محترم! ماں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
    نا کبھی نا شکری کی نہ ہمیں سکھائی۔
    گھر میں بندھی ان دو گائیوں، چند مرغیوں اور دو تین کنال زمین سے رب نے ماں کے وسیلے سے ایسا انتظام چلایا کہ کبھی کبھی جب آج سوچتے ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
    ‏قصہ مختصر: عمران خان نے جو غریبوں کو بھینسیں، بکریاں یا مرغیاں دی ہیں ان کی اہمیت کا اندازہ ملاوٹ والا دودھ، پلاسٹک کے انڈے اور پانی سے بھرا گوشت کھا کر اسٹنٹڈ گروتھ کے حامل ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے بے ضمیروں کو نہیں ہوگا۔

    کیونکہ جناب!
    جس تن لاگے، اوہی جانے

    @Being_Faani

  • مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے تحریر: طاہرہ

    مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے تحریر: طاہرہ

    ایک لڑکی جب اپنے والدین کے گھر سے وداع ہوتی ہے تو اسکے دل میں مستقبل کے لئے ہزاروں خواب امیدیں خواہشیں ہوتی ہے. ہم لڑکیوں کو بچپن سے ہی زہن نشین کرا دیا جاتا ہے کہ تمہارا اصلی گھر شوہر کا گھر ہوگا. اسی ایک سپنے کو ایک لڑکی سینچتے بڑی ہوتی ہے والدین کے گھر کتنے بھی ناز و نعم سے پلی چھوٹی سی پری جب بابل کے گھر سے وداع لیتی ہے تو اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اب اسی گھر کو اپنا ماننا ہے اسی گلستان کو سینچنا ہے اسکی اینٹوں کو جوڑے رکھنا ہے اور جب وہ گلستان وہ آشیان وہ سائبان کسی وحشی درندے کی بھی اماہ جگاہ ہو تو وہی حسین خواب ایک بھیانک حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے.
    اپنی تکلیفوں پر روتی بلبلاتی جب والدین کے سامنے کچھ کہنے کی کوشش کرے تو اسے ہی سمجھایا جاتا ہے کہ گھر ایسے نہیں بنتے اسکے لئے قربانی دینی پڑتی ہے اپنے خوابوں کی.
    اسکی تکلیف کوئی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا جان چھڑکنے والے ماں باپ اسکے دکھوں کو ان دیکھا کردیتے ہیں شادی کے بعد صرف کہنے کو ہی نہیں واقعی لڑکیوں کو پرایا دھن سمجھا جانے لگتا ہے.وہ دل ہی دل کڑہتی سسکتی اپنے ماں باپ کے مان انکی عزت کیلئے جسم اور روح پر پڑتے نیل کو سہتی رہتی ہے.سب یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی انسان ہے اس کو بھی تکلیف ہوتی ہے بیٹیاں بوجھ تو نہیں ہوتی بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں جو اللہ خوش ہوکر گھروں میں برساتا ہے بیٹیوں کی تربیت پر تو جنت کی وعید ہے مگر یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا کسی مزہب میں نہیں لکھا کہ بیٹیوں کو مرنے کیلئے چھوڑ دو.
    شادی کے بعد بھی وہ آپ کی ہی بیٹی ہوتی ہے کوئی اپنے جسم کا ٹکڑا کاٹ کر کیسے علیحدہ کرسکتا ہے
    اسلام نے لڑکیوں کو وہ سارے حقوق دئیے جو اسکا حق تھا پھر معاشرہ کیوں ان کو خوش رہنے کا حق نہیں دیتا کیوں ان کے لئے زندگی نام نہاد غیرتوں سے باندھ دی جاتی ہے اگر وہ کہتی ہیں کہ وہ تکلیف میں ہے تو اسکی تکلیف سمجھیں.
    بیٹیاں آپ کے آنگن کی بلبل ہیں اگر وہ خاموش ہوجائیں تو اسکی روح کی چیخیں سننے کی کوشش کریں
    اپنی بیٹیوں کو عینی نا بننے دیں

    @Chiishmish

  • زندگی  اور موت   تحریر:ازان حمزہ ارشد

    زندگی اور موت تحریر:ازان حمزہ ارشد

    موت سب سے بڑی حقیقت ہےجس کو ہر شخص بھلا بیٹھا ہے اور زندگی سب سے بڑا دھوکہ ہے جس کے پیچھے ہر شخص بھاگ رہا ہے۔زندگی ایک خوبصورت جھوٹ اور موت ایک کڑوا سچ ہے۔ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی سب سے بڑی نعمت ہے۔اکثر لوگ زندگی کا یہ مطلب نکالتے ہیں کہ بس صبح جاگیں، کام پر جائیں، وآپس آئیں ،کھانا کھائیں ، سو جا ئیں اور کچھ عرصے بعد مر جائیں۔ زندگی محض خود کو ایک مشین بنا دینے کا نام نہیں بلکہ زندگی ہمارے کیے گئے اچھے اور برے اعمال کا کمرہِ امتحان ہے۔جس کا نتیجہ روزِ محشر سنایا جائے گا۔ اللہ عز و جل نے ہمیں پیدا کیا تاکہ ہمیں آزمائے اور ہمارا امتحان لے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الملک میں فرمایا:
    "وہی ہے جس نے موت وحیات کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے۔” (الملک:2)
    ہم انسان چاہے جتنی بھی کوشش کرلیں جتنے بھی جتن کر لیں پر موت کی اٹل حقیقت کو نہیں ٹال سکتے کیونکہ ایک نہ ایک دن ہم سب نے خالقِ حقیقی سے جا ملنا ہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں فرمایا
    ” ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔” (الملک:185)
    اصل زندگی وہی ہے جس میں روحانیت ہو۔روحانی زندگی کیا ہے اللہ کی یاد اور ذکر میں لگے رہنا، درودوسلام کا ورد کرتے رہنا۔ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور لوگوں تک پہنچانا تا کہ ان کے لیئے باعث ِفائدہ اورنمونہ ہو۔غریبوں اور کمزوروں کی مدد کرنا ، رہنمائی کرنا اور ان کی جہاں تک ممکن ہو مالی مدد کرنا ، ظلم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا، کسی مشکل میں پھنسے شخص کو دلاسا دینا۔کسی نا انصافی کرنے والے کے خلاف کھڑے ہونا، اپنی عبادات کا اہتمام کرنا اور دوسروں کو بھی عبادت کی تلقین کرنا ۔حلال کھانا، ہمیشہ سچ بولنا، امانتوں کا خیال رکھنا ، موت کو یاد رکھنا، قبرستان جانا ، عبرت حاصل کرنااور وہاں بسنے والوں کے لیئے دعاۓمغفرت کرنا ۔ یہی کامیاب زندگی ہے ۔ زندگی ایسی گزاروکہ زندگی کو فخر ہو کہ کوئی اسے ایسے گزار کر گیا جیسے گزانے کا حق تھا ، اور قبر کو بھی فخر ہو کہ اس میں رسول ِ پاک ؐ کا سچا عاشق اور غلام آیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو آخرت کی صحیح معنوں میں تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔(آمین)
    موت کی آغوش میں جس دن ہمیں سونا ہوگا
    نہ کوئی تکیہ ہوگا نہ کوئی بچھونہ ہوگا
    ساتھ ہوں گے اعمال ہمارے
    اور قبرستان کا چھوٹا سا کونا ہوگا
    Twitter: @Aladdin_Hu_Me