Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • نیا زمانہ نۓ فتنے تحریر: ایم.ایم.صدیقی صاحب

    عہد جدید کا فتنۂ کبرٰی کیا ہے …؟
    مندوبین کرام۔۔۔۔! زمانے کے نۓ چیلینج کو آپ نظر انداز نہیں کرسکتے کم از کم امت مسلمہ کے لۓ اس چیلینج کو نظرانداز کرنے کا کوٸ جواز نہیں ..! فتنے کسی زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں اور ایک ہی فتنہ ہمیشہ نہیں ہوتا نۓ نۓ فتنے سراٹھاتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے لۓ نۓ نۓخطرے سامنے آتے ہیں جاہلیت نۓ نۓ رنگ وروپ میں سامنے آتی ہے اور بڑے دم خم کے ساتھ میدان میں اترتی ہے

    اقبالؒ نے غلط نہیں کہا تھا
    اگرچہ پیر ہےمٶمن جواں ہیں لات ومنات

    بڑی خطرناک بات ہے کہ لات و منات یعنی باطل طاقتیں اور جاہلیتِ قدیم تو زندگی اور جوش و خروش سے بھرپور ہوں اور مٶمن میں جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا وارث اور ناٸب ہے
    کہنگی اور فرسوگی پستی اور افسردگی کنارہ کشی اور پسپاٸ کی ذہنیت پیدا ہوجاۓ لات ومنات نۓ دم خم کے ساتھ نٸ امنگوں اور ولولوں کے ساتھ نٸ تیاریوں اور نۓ طریقوں کے ساتھ نۓ نعروں اور نٸ للکار کے ساتھ میدان میں آٸیں اور مٶمن پر موت طاری ہوجاۓ اس کے قُوٰی میں افسردگی اور اضمحلال پیدا ہوجاۓ وہ زندگی کے میدان سے فرار اختیار کرکے یا کنارہ کش ہوکر گوشۂ عافیت تلاش کرلے جہاں وہ اپنی زندگی کے دن گزار سکے اور لات و منات خم ٹھونک کر میدان میں کھزے ہوں اوردعوت مبارزت دے رہے ہوں
    اس زمانے کا فتنہ اور چیلینج کیا ہے …؟ اس زمانے کا چیلینچ یہ ہے کہ اسلام کو اس کی جداگانہ تہذیب اس کی مخصوص معاشرت اس کے عاٸلی قوانین اس کے نظام تعلیم اس کے زبان و ادب اس کے رسم الخط اور اس کے پورے ورثے سے الگ کردیا جاۓاور اسلام محض چند عبادات اور چندمذہبی و معاشرتی رسوم و تقریبات کا مجموعہ بن کر رہ جاۓ

    ✍️….رشحات قلم….
    @soxcn

  • خدمت خلق  تحریر: فیصل شہزاد گوندل

    خدمت خلق تحریر: فیصل شہزاد گوندل

    کسی قوم کے زندہ قوم کہلانے کی سب سے بڑی دلیل یہ سمجھی جاتی ہے کہ اس کے افراد کے دل میں انسانوں کے لٸے کتنا احساس اور رحمدلی ہے اور اس کے یہی جذبات اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے بھی ایک دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں کہ وہ قوم دنیا کی قیادت کا حق رکھتی ہے یا نہیں ۔ درحقیقت افراد اور قوموں کے درمیان برتری کا فیصلہ بھی انہی آثار کے مطابق ہوتا ہے جو اس میدان میں چھوڑتی ہیں ۔ اسلام قدرت رکھنے والے ہر شخص کو خیر کی دعوت دیتا ہے اور یہ دعوت اس طرح کی ہے کہ ایک مالدار، غریب ،مزدور تاجر ،زمیندار ، شاگرد، استاد، عورت مرد ،بوڑھا ،اندھا، کمزور بھی نیکی کا کام بنا کسی تردد کے کر سکتا ہے اور اس کے مالی حالات معاشرے میں نیکی اور بھلائی کے کام کر نے میں اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بنتے ۔ دین اسلام میں کوئی ایسا انسان نہیں پایا جاتا جو کسی نہ کسی طریقے سے بھلائی کا کام نہ کر سکتا ہو۔ ہر انسان اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق بھلاٸی کے کام کر سکتا ہے۔ مالدار اپنے مال اور اپنے مرتبے کے ذریعے نیکی کا کام کرے گا۔ غریب ہے تو اسے چاہیے کہ وہ یہ کام اپنے ہاتھ اپنے دل ،اور اپنی زبان سے کرے۔ حضورﷺ کے زمانے میں بعض ناداروں نے آپ سے شکایت کی کہ مالدار لوگ نیکی کے میدان میں ان سے آگے بڑھ گئے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنی دولت کو فاہ عامہ اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرر ہے ہیں اور ناداروں کے پاس کوئی چیز نہیں ہے جو وہ نیکی کی راہ میں دیں ۔ ان کے سامنے حضورﷺ نے وضاحت کی کہ نیکی کے کام کا ذریعہ صرف مال ہی نہیں ہے بلکہ ہر وہ کام نیکی اور بھلائی کا کام ہے جس سے دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچے ۔ آپﷺ نے فرمایا: ’تم جو ایک دفعہ اللہ کی تسبیح کرتے ہو یہ بھی نیکی ہے ، کسی بھلائی کا حکم دینا بھی نیکی ہے، برائی سے روکنا بھی نیکی ہے،راستے سے کانئے وغیرہ تکلیف دینے والی چیز کا ہٹانا بھی نیکی ہے،دو آدمیوں میں صلح کرا دینا بھی نیکی ہے، اور کسی یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ دینا بھی نیکی ہے۔ اس طرح اسلام خیر کے دروازے معاشرے کے تمام لوگوں کے لیے کھول دیتا ہے ۔ اور یہ خیر اور فلاح صرف ہم مذہب کے لیے نہیں بلکہ اسلام انسان کو انسان دوستی کے اس اونچے مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں سے خیر و نیکی کے کام تمام انسانی برادری کے لیے عام ہو جاتے ہیں چاہے ان کا مذہب ،ان کی زبان ،ان کا ملک اور ان کی قومیت کوٸی بھی ہو۔ ہمارے نبی ﷺ فرماتے ہیں: لوگ اللہ کے عیال ( خاندان) ہیں اللہ کے نزدیک محبوب وہ ہے جو اس کے عیال کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہو۔

    @MrGondalll

  • سالگرہ کی خوشیاں     تحریر: عمیر وحید

    سالگرہ کی خوشیاں تحریر: عمیر وحید

    سالگرہ کا دن بھی خوب ہوتا ہے کیونکہ یہ سال میں ایک ہی دفعہ آتا اور زندگی کا ایک سال کم کر کے چلا جاتاہے۔ امیر لوگ اسے بہت خوشی سے مناتے ہیں۔ امیر لوگ بہت خوب کھانے مثلاً فروٹ چاٹ، ریشین اور پیزا وغیرہ کا اہتمام کرتے اور گھریلو کھانوں کا الگ سے انتظام ہوتا۔ جب سالگرہ کا فنکشن شروع ہوتا ہے تو سب مہمان اکھٹے ہوتےاور کیک کاٹتے ہیں۔ اور خوب انجوائے کرتے ہیں۔
    یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں انھیں مل کر خوب سے خوب تر بنانا چاہیے۔
    لیکن ان خوشیوں کے وقت لوگ بہت زیادہ فضول خرچی اور کھانوں کو ضائع کرتے ہیں۔ کیک برتھڈے بوائے کے منہ پر لگا رہے ہوتے، کوک سے اسے نہلا رہے ہوتے ہیں۔ رزق کو ضائع کر رہے ہوتےہیں۔
    اس کے ساتھ ساتھ اسے کیمرے کی آنکھ میں بند بھی کر رھے ہوتے ہیں تا کہ بعد میں اسے لوگوں کو دیکھا سکے کہ ہم نے خدا کے دیئے ہوئے رزق کو کیسے ضائع کرتے رہیں ہیں اور رزق کی بے خرمتی کرتے رہے ہیں۔
    نا جانے ہمارا معاشرہ یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ ناجانے کتنے غریب لوگ سڑکوں پر سو رہیں ہیں۔ نا ان کے پاس کھانے کو کچھ ہے اور نا ہی پہننے کو۔ وہ بیچارے ناجانے کیسے اپنی سادہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔
    ان امیر لوگوں کو چاہیے کہ اگر خدا نے انہیں اپنی دولت سے نوازا ہے تو اسے فضول خرچی اور دوسرے برے کاموں میں خرچ نا کریں بلکہ اس سے ان غریب مسکینوں کی مدد کریں تاکہ انھیں بھی دو وقت کا کھانا نصیب ہو سکے۔

    Twitter I’d: UmmisSays

  • ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل ہے  ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل ہے ؟ تحریر: احسن ننکانوی

    پاکستان میں ٹک ٹاک پر ایک بار پھر پابندی ۔

    ذرائع کے مطابق :
    ٹک ٹاک پر پابندی غلط مواد اپلوڈ کرنے کی وجہ سے لگائی گئی ہے ۔
    پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کی روشنی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں ٹِک ٹاک ایپ اور ویب سائٹ پر پابندی لگا دی ہے۔
    جس پر پی ٹی اے نے بیان دیا کے نا مناسب مواد اپلوڈ کرنے کی وجہ سے ٹک ٹاک پر پابندی لگائی گئی۔

    اس سے پہلے رواں برس مارچ میں بھی پی ٹی اے نے پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ٹک ٹاک ایپلی کیشن پر پابندی عائد کی۔

    پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ٹک ٹاک کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹک ٹاک پر ڈالی جانے والی ویڈیوز ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔‘ ہاں ایسا ہے بھی بہت ساری ویڈیوز ایسی ہوتی ہیں جو بالکل نا مناسب ہوتی ہیں

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں بے راہ روی پھیل رہی ہے، اسے فوری طورپر بند کیا جائے۔

    رواں برس جون میں سندھ ہائی کورٹ نے بھی ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کیے جانے کے حوالے سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ایپ پر پاکستان بھر میں پابندی عائد کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔
    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بہت بار اس کی شکایت پی ٹی اے کو کی ہے لیکن انہوں نے اس پر ایکشن نہیں لیا ہے ۔
    درخواست گزار کی بات مانتے ہوئے ۔
    پھر سندھ ہائیکورٹ نے اس ایپ پر پابندی لگوا دی۔
    اب بات یہ ہے کیا ٹک ٹاک پر پابندی لگانا مسئلے کا حل ہے؟
    جب ٹک ٹاک پر پابندی لگائی جاتی ہے تو اس کے مقابلے والی ویب سائٹس ہیں۔ لوگ ان پر منتقل ہوجاتے ہیں۔
    اس طرح جتنے بھی لوگ ٹک ٹاک پر موجود ہیں وہ سارے اب ایپس کو استعمال کرتے ہیں۔
    اور ان کی ریٹنگ بڑھتی ہے ۔
    ٹک ٹاک پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
    مسئلہ حل ہوگا جو مواد اپلوڈ کیا جاتا ہے ۔
    بے ہودہ اور غیر اخلاقی مواد اس کی روک تھام کی جائے ٹک ٹاک پر بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو پاکستان کے کلچر کو پروموٹ کر رہے ہیں۔
    جن میں سر فہرست ‘زنیر کمبوہ ‘ کبیر آفریدی ‘ اور بھی بہت سارے بھائی ہیں۔
    اس کے علاوہ بہت ساری معلوماتی ویڈیوز بھی لوگ بناتے ہیں۔
    میں کچھ ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو خالص اسلامی ویڈیوز بناتے ہیں اور لوگ کو شعور دلاتے ہیں۔
    بہت سارے دوست شاعری کی ویڈیوز بناتے ہیں اور اپنے ادبی ورثہ کو پروموٹ کرتے ہیں جن میں میں بھی سر فہرست ہوں۔
    میں یہ بات نہیں کرتا کہ پابندی لگی ہے تو کیوں۔ اس پر ٹک ٹاک ایپلی کیشن کی کمپنی کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔
    کہ فلاں فلاں مواد کو اپنے ایلگورتھم میں ڈالے اور اگر ایسا مواد اپلوڈ ہو تو اس اکاؤنٹ کو فوری طور پر بلاک کیا جائے ۔
    اور ان کو کمیونٹی گائیڈ لائنز کا میسج بیجھا کیا جائے ۔
    اگر ہم کوئی اسلامی بات کرتے ہیں تو ہم کو کمیونٹی گائیڈ لائنز کا پیغام آ جاتا ہے۔
    اس کے علاوہ جیسے اگر کوئی بندہ اسلحہ اور کوئی لڑائی کی ویڈیوز ڈالتا ہے تو اس کی ویڈیو بلاک کر دی جاتی ہے۔
    ایسے ہی اگر کوئی غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کرتا ہے۔تو اس کی ویڈیو فوری طور پر بلاک کرنی چاہیے۔
    ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    کیوں اس ایپلیکیشن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
    اسلامک کلپس ، پاکستان کے سیاحتی مقامات، کھانے پکانے کی ٹپس، ادبی ورثہ شاعری، ایجوکیشنل اقوال ، اب ہم ٹیکنالوجی کی دنیا میں جی رہے ہیں۔
    تو ہم اس حالات کے مطابق چلنا ہوگا۔
    اگر لوگ اس کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔ تو تم اس کو اچھائی کے لئے استعمال کرو ۔
    پابندی مسئلے کا حل نہیں ہوتی یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ تم اس سے ہار گئے۔

  • ماں ایک انمول رشتہ اور ہم بے قدرے  تحریر :- فرمان اللہ

    ماں ایک انمول رشتہ اور ہم بے قدرے تحریر :- فرمان اللہ

    ماں ایک ایسا انمول تحفہ ہے جس دنیا میں نہیں بلکہ پورے کائنات میں کوئی نعمل بدل نہیں لیکن اس کا احساس ہر کسی کی پاس نہیں اور نہ ہی ہر کسی کو یہ نعمت راس آتی ہے اکثر ہماری معاشرے میں ایسے بارہا واقعات رونما ہوتے ہے جو دل دہلا دینے والے ہوتے ہے جس کو دیکھ کر ایک عام انسان دور کی بات ہے بلکہ ایک پتر دل انساں بھی پوٹ پوٹ کر رونے پہ اتر آئیگا
    واقعات میں بشتر ماں پر کوئی ظلم جبر کرتا نظر آئیگا کوئی گھر سے نکال باہر کرتا ہے تو کوئی گھر پر ہی زاندان کی ماند ایک کوٹری میں بند کرکے بھوک و افلاص میں چھوڑ دیتے ہے۔۔
    اخیر کیسے کرلیتے ہے یہ بدبخت اپنے جننت کی ساتھ؟ جس ماں پہ ظلم کرتے ہے وہ بچپن میں اگر اسی بیٹے کو چھوٹی سے خروچ بھی آتی تو ایسی تڑپتی جسا کہ خنجر گھونپ گیا ہو سینے میں۔ جب ہلکا سا بخار ہوجاتا تو تو ساری رات نہ سونے والے ماں ایسی جاگتے جیسا کہ دل ڈھوب سا گیا ہو ایسا درد محسوص کرتے جسی بچے کو نہیں بلکہ ان کی سانسیں روکھ دے گئی ہو۔
    یہ تکالیف تو کچھ بھی نہیں میں نے کچھ محتصر سے ذکر کئی کچھ محبتیں لکھنا بھی تھے۔
    آج وہی بچہ اپنی ماں پہ ظلم جبر کرہا ہے جب وہ کسی چیز کا ضد کرتا تو اپنی اپ کو گیروی رھتے لیکن اپنے بچوں کو وہ سب میصر کرتے اس ماں پہ ظلم کرتے جب سکول جاتے تو سکول تک خود چھوڑنے جاتی بیگ سر پر رکھ لیتے اور اپ کو گود میں اٹھا کر چھوڑ آتی۔۔
    اپنی ہر خواہش ہر خوشی اپ پر قربان کرنے والے ماں کو آج یہ صلہ مل رہا ہے اے بد نصیب بیٹھے تجھے نہ دنیا راس آئیگے نہ آخرت اب بھی وقت ہے سدھر جائیں اب بھی وقت ہے ان کی خدمت کریں نہیں کرسکتے تو کم از کم ان کو ذلیل و رسوا نہ کریں ان کو گھروں سے نہ نکالیں ان کو گھروں سے باہر نہ پھینکے یاد رہے اگر ایسا ہی کتے رپی تو وہ دل دور نہیں جب اس کا بدلہ جلد اپ کی دھانے پہ ہوگا۔۔
    اللہ تعالی سے بس یہی ایک خواہش کہ مجھے کبھی ماں باپ کی دکھ نہ دیکھائیں ان کی جدائی نہ دیکھائیں اللہ میرے ماں باپ بلکہ ہر ماں ، باپ کو لمبی ، تندرست اور خوشیوں بری زندگی عطاء کریں آمین۔۔
    (Femikhan_01@

  • گفتگو . تحریر : صابرحسین چانڈیو

    گفتگو . تحریر : صابرحسین چانڈیو

    آپ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ کی بات جب تک ان تین پہلوؤں سے گزر نہ جائے اس وقت تک آپ اپنی بات نہ ہی کہیں تو بہتر ہے اگر آپ اپنی بات کہنا چاہتے ہیں تو آپ اپنی گفتگو کو سب سے پہلے سچ کے ترازو میں تولیں پھر اپنے آپ سے سوال کریں کہ آپ جو بولنے والے ہیں کیا وہ سچ ہے؟

    اگرآپ کو جواب درست میں آئے تو پھر آپ اس کے بعد اپنی بات کو اہمیت کے پہلوؤں سے گزاریں کیونکہ اہمیت اس چیز کی ہوتی ہے جو فائدہ مند ہو اگر آپ کی بات فایدہ مند ہے تو اس کی اہمیت بھی ہو گی پھر آپ اپنے آپ سے سوال کریں کہ آپ جو بات کرنے والے ہیں کیا وہ بات اہم ہے اگر جواب اہم کیلئے آئے تو آپ اس کے بعد اپنی بات کو مہربانی کے پہلوؤں سے گزاریں پھر آپ اپنے آپ سے سوال کریں کیا آپ کے الفاظ نرم اور لہجہ مہربان ہے؟

    اگر آپ کے الفاظ نرم نہیں ہیں اور لہجہ بھی مہربان نہیں تو آپ خاموش رہنے کو ترجیح دیں خواہ آپ کے سینے میں کتنا ہی بڑا سچ کیوں نہ ہو اور آپ کی بات کتنی ہی ضروری کیوں نہ ہو کیونکہ سخت بات کا اثر خود پر زیادہ پڑتا ہے
    کبھی کبھی جو کام تلوار نہیں کر سکتی وہ کام زبان کر گزرتی ہے تلوار کا زخم بھر جاتا ہے مگر زبان کا کاٹا عمر بھر نہیں بھرتا جو آگے کئی نسلوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے.

    @SabirHussain43

  • راج کا راز .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    راج کا راز .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    پیشہ جو کہ فارسی زبان سے اردو زبان میں آیا جس کو انگریزی میں Profession، عربی میں کسب، فن اور شغل پراکرت میں کام اور ازبک میں کسب کہتے ہیں۔اسی پیشہ سے پیشہ وارانہ، پیشہ وری جیسے مرکب الفاظ معرض وجود میں آے۔ اسی سے پیشہ اٹھانا بھی مستعمل ہے جس سے مراد پیشہ اختیار کرنا ہے۔ایک لفظ پیشہ آموز بھی ہے جس سے مراد کوئی کام یا فن وغیرہ سکھانے والا ہے۔اگر بات کی جاے انگریزی کے لفظ Professionکی تو یہ لاطینی زبان سے لیا گیا ہے جب کہ فرانسیسی زبان میں اسے حلف نامے سے جوڑا گیا ہے۔اسی لفظ پیشہ سے جڑا ایک بنیادی لفظ مزدور نہ ہوتا تو اس جہان رنگ و بو میں اونچے اونچے محلات، دیدہ زیب عمارتیں اور نظر سے اوجھل ہوتی بلند وبالا چھتیں بھی نہ ہوتیں۔حیدر علی جعفری کا شعر ہے
    ؎خون مزدور کا ملتا جو نہ تعمیروں میں
    نہ حویلی نہ محل اور نہ کوئی گھر ہوتا
    فارسی کے لفظ ”مُزد“ کے ساتھ ”ور“بطور لاحقہ صفت لگانے سے مُزدور بنا۔فارسی کے مزدور سے وہی مراد ہے جو انگریزی کے لفظ Labourerاور سنسکرت کے سیوک سے مراد ہے۔عام زبان میں لفظ مزدور مجور کا تلفظ اختیار کرلیتا ہے اب یہ بھی محض اتفاق ہی ہوگا کہ لفظ مجور عربی کے لفظ ماجور کے قریب ترین ہے جس کے معنی اجر دینے کے ہیں۔ظریف لکھنوی شامت الیکشن میں لکھتے ہیں
    ؎حسب خواہش گر بدل مجھ کو عطاکردیں جناب
    کیا عجب پیش خدا ماجوربھی ہوں اور مثاب
    اب لفظ مستری کی طرف ذرا غور فرمائیے اور پھر ذرا مسطر کو دیکھیں جس سے مراد ایسا آلہ جس سے سطریں بنائی جائیں جسے ہمارے ہاں فُٹا بھی کہتے ہیں۔اب اگر لفظ مستری اور مسطری کو دیکھیں تو کیاخیال آتاہے؟ یہ لفظ اصل میں مسطری ہوگاجو بعدازاں مستری ہوگیا۔اسی لفظ مستری کے لیے راج مستری کا لفظ بھی استعمال میں رہا ہے۔ راج عربی زبان کے لفظ راز کی تبدیل شدہ شکل ہے جس کا معنی ماہر کے ہیں اور راج کے بھی یہی معنی ہیں۔اسی طرح فارسی کے لفظ خدمت کے ساتھ لفظ گار کو صفت فاعلی استعمال کرکے خدمت گار کا لفظ بنایا گیا جس کا مطلب خدمت کرنے والا ہوتا ہے۔اسی لفظ خدمت کے ساتھ رسیدہ لگاکر خدمت رسیدہ کردیا جاے تو اس سے مراد ایسا ملازم ہوگا جو نوکری کے قابل نہ ہو۔اب اسی لفظ ملازم کو دیکھیے جو کہ عربی کے لفظ لزوم سے نکلا ہے۔ ساتھ رہنے والے، چپکے رہنے والے اور تنخواہ یا اجرت پر کام کرنے والے کو مُلازِم کہتے ہیں۔لفظ ملازم کے مرکبات اگر دیکھیں تو ملازم پیشہ، ملازم خاص، ملازم درگاہ سرکار اور ملازم متعہد وغیرہ ہیں۔ قارئین کے لیے میری طرح ملازم متعہد لفظ نیا ہوگا تو اس کا معنی بتاتا چلوں کہ اس سے مرادوہ ملازم ہوتا ہے جس کو خاص شرائط پر ملازمت ملی ہو۔
    ؎آاے اثرملازم سرکار گریہ ہو
    یاں جزگہر خزانے میں تنخواہ ہی نہیں

    ریلوے اسٹیشن پر لال کپڑے پہنے بوجھ اٹھاتے لوگ تو آپ سب نے دیکھے ہی ہوں گے۔ پاکستانی ریل کی خستہ حالی کے سبب اس طبقے کا حال بھی کافی پتلا ہوچکا ہے۔لفظ قلی جہاں سے آیا ہے وہ علاقہ تو اس وقت پاکستانیوں کی نظروں میں سمایا ہوا ہے۔ لفظ قلی ترکی زبان سے اردو میں آیا۔ اردو میں تو اس سے مراد وہ مزدور ہے جو باربرداری کا کام کرتا ہے اور ترکی میں اس سے مرادغلام /بندہ ہے جیسے ہمارے ہاں عبداللہ، عبدالخالق وغیرہ۔اب جب انگریز ہندوستان میں آیا تو گجرات کی ایک ذات یا برادری غربت کے ہاتھوں بار برداری کا کام کیا کرتی تھی جنھیں کولی کہا جاتا تھا۔ لفظ کولی انگریزی میں پرتگالی سے لیا گیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ انگریز اس لفظ سے ہندوستان میں ہی واقف ہوے ہوں۔انگریز اسے ک کے ساتھ لکھا کرتے تھے اور اردو میں اہل ترک کی وجہ سے قلی مستعمل ہوا۔منور رانا کا شعر ہے
    ؎بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہے
    رہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہوجاتے ہیں
    شنید ہے کہ جب انگریز آے تو انھوں نے نوکر کو Boyکہنے کا رواج ڈالا۔ ہوسکتا ہے کہ اس لفظ Boy میں Slaveچھپا بیٹھا ہو۔ کیوں کہ کمپنی کا دور انسانی لحاظ سے ایسا کوئی قابل قدر نہیں ہے اور ویسے بھی انگریز ہندوستانی عوام کو بلڈی سویلین ہی سمجھتی تھی۔ انگریزوں نے اپنی کالونیوں سے ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں انسانوں کو خرید کریا پھر مختلف حیلوں بہانوں سے ان کی آزادی کو چھین کر انھیں Slaveبنا کر اپنے کام نکلواے ہیں۔ویسے خدمت گاروں کو رقم دے کر خریدنے کی روایت بھی موجود رہی ہے جس کے لیے اردو زبان میں لفظ ”غلام“ مستعمل تھا۔حالاں کہ عربی زبان میں غلام سے مراد ایسا نوجوان لڑکا ہے جس کی مونچھیں اور داڑھی ابھی صرف نام کی ہو۔ اردو زبان میں ایسے لڑکے کے لیے اغلام کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔سنسکرت میں غلام کے لئے لفظ داس استعمال ہوتا ہے۔سراج فیصل خان اسی لفظ داس کو کس طرح اپنے شعر میں عبرت کا ساماں بناتے ہیں۔

    لکھاہے تاریخ کے صفحہ صفحہ پر یہ
    شاہوں کو بھی داس بنایا جاسکتاہے
    ہوٹلوں میں کام کرنے والوں کی ایک قسم waiterبھی کہلاتی ہے۔اگر انگریزی زبان کے لفظ waiterکو دیکھیں تو اس سے مراد ایک ایسا ملازم ہے جو کھانے کی میز پر منتظر رہتا ہو۔ جسے آج سے چند سال قبل بیرا کہہ کر پکارا جاتا تھایہ انگریزی کے لفظ Bearerکی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ شروع کے ادوار میں بوجھ اٹھانے والوں کے لیے یہ لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔ انگریزی میں یہ لفظ لاش کو قبر تک لے جانے والے کے لیے بھی مستعمل رہا ہے۔انگریز جب ہندوستان پر قابض ہوا تو نچلی ذاتوں کے لوگ جو چھوٹے موٹے کام کیا کرتے تھے ان کے لیے کئی قسم کے نام بھی ساتھ لایا جن میں یہ ایک یہ لفظ بھی تھا۔شروع میں تو پانی بھرنے والوں کو یہ لفظ دیاگیا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ان میں سے کچھ کو صاف ستھرے سفید کپڑوں میں ملبوس کرکے کھانے کی میزوں کے اردگرد تعینات کردیا گیا اوران کے ذمہ میزوں پر کھانا پہنچانالگا دیاگیا۔جب یہ لفظ ہندوستانیوں کے ہاتھ لگا تو انھوں نے دوسری زبانوں کے دیگر الفاظ کی طرح اسے بھی اپنی زبان پر چڑھانے کے لیے Bearerسے بیرا کردیا۔احمد راہی کی ایک نظم ”بہت ضروری بات اک تم سے کرنا تھی“ میں لکھا ہے
    ؎کوئی بیرانہ کوئی بٹلرنہ کوئی ماماں شاماں
    کوئی گراج نہ کوئی کارکوئی ڈرائیورنہ خانساماں
    کسی دور میں خانساماں کی بڑی عزت اور قدر ہوا کرتی تھی۔اس بات کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ مکاتیب امیر مینائی میں اسی خانساماں کے متعلق لکھا ہے کہ ”آپ کا ممنون ہوں خانساماں صاحب نے سفارش کی“ انگریز نے آکر جہاں ملک کو لوٹا وہی اس عالی مرتبت عہدے کو کم کرتے کرتے صرف کھانا پکانے تک محدود کردیا جب کہ اس سے قبل کسی بڑے گھرانے کے میرسامان کو خانساماں کہاجاتا تھا۔اگر خان کو الگ کردیا جاے اور ساماں کو علاحدہ تو میری بات کی تصدیق ہوسکتی ہے۔انگریزی کے لفظ بٹلر کی بات کروں تو لفظ سے ہیbottleعیاں ہوکر شراب کی ایک ولایتی قسم کی یاد دلاتی ہے۔یہ لفظ فرانسیسی زبان سے انگریزی میں آیا اور شروع میں wineکی رکھوالی کرنے والے کو Butlerکہتے تھے پھر آگے بڑھتے بڑھتے Headکے معنوں میں آیا اور پھر اسے گھر کے کاموں خصوصاََ کھانے سے جڑی چیزوں سے جوڑ دیا گیا۔سیماب اکبرآبادی کیا خوب کہہ گئے
    ؎کیوں جام شراب ناب مانگوں
    ساقی کی نظر میں کیا نہیں ہے
    کہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے لیکن ان رازوں سے پردہ اٹھانا میرے بس میں کہاں؟ میں بھی سیکھ رہا ہوں آپ بھی تھوڑا تھوڑا کرکے میرے ساتھ سیکھتے جائیے۔احمد علوی صاحب کے شعر میں اگرچہ لفظ ادائیگی ادا ہوا ہے لیکن دل کو چھو سا گیا ہے آپ بھی پڑھ لیجیے
    ؎الفاظ کی ادائیگی طرزبیان سیکھ
    کرنا اگر ہے عشق تو اردو زبان سیکھ

  • معذور افراد باہمت اور باصلاحیت افراد  تحریر : محمد نوید

    معذور افراد باہمت اور باصلاحیت افراد تحریر : محمد نوید

    اقوام متحدہ کے قانون کے تحت معذور افراد جنہیں خصوصی افراد یا اسپیشل پرسن بھی کہا جاتا ہے ایسے افراد کو کہتے ہیں جو کسی ایسی جسمانی یا دماغی بیماری میں مبتلا ہوں جو انسان کے روزانہ کے معمولات زندگی سرانجام دینے کی اہلیت و صلاحیت پرگہرے اور طویل اثرات مرتب کرے یا وہ بیماری اس فرد کے کام کرنے کی اہلیت یا صلاحیت کو ختم کرے۔ معذوری ذہنی بھی ہو سکتی ہے جسمانی بھی، پیدائشی بھی ہو سکتی ہے اور حادثاتی بھی
    معذور افراد کے لیے نوکریوں میں 3 فیصد کوٹہ متعین ہے جبکہ اس کو بڑھا کر 5 فیصد کرنا چاہیے
    اب آتے ہیں انکے مسائل کی طرف ایک جگہ سے دوسرے مقام تک سفر میں اُن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ وہ روڈ انفراسٹرکچر حائل ہوتا ہے۔سڑک پار کرنا ایک امتحان ہوتا ہے۔ حکومت سے درخواست ہے کہ معذور افراد کی رسائی کے لیے سرکاری اداروں اور بلڈنگ اور پرائیویٹ سیکٹرز کو باور کروایں کہ معذور افراد کو ایکسیسبلٹی مہیا کی جاۓ ریمپ بنا کر دیے جائیں
    حکومت ماہانہ وظیفہ مقرر کرے
    مفت وہیل چیئرز فراہم کی جاۓ تاکہ وہ آنے جانے کیلئے کسی کے محتاج نہ ہو مفت علاج کی سہولیات مہیا کی جائیں اور گاہے بگاہے سیمینارز منعقد کئے جائیں جہاں ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جا سکے

    @naveedofficial_

  • علم  تحریر : عائشہ رسول

    علم تحریر : عائشہ رسول


    علم زندگی کا بہترین زاویہ ہے. جس سے انسان بنتا ہے اور انسانیت کی طرف سفر شروع کرتا ہے. علم ہو اور انسان تبدیل نہ ہو تو یہ علم نہیں علم کے ساتھ ظلم ہے.
    علم کی روشنی سے زہن اور فکر منور ہوتی ہے. جو علم زہن کو تاریک کرے وہ علم نہیں… وہ کسی کا یاد کروایا ہوا سبق ہوتا ہے.. . علم انسانی احساسات کو زندگی بخشتا اور شعور کی آبیاری کرتا ہے.جو علم انسان کو اندھے راستوں پہ لے جائے وہ خدا کا عطا کردہ علم نہیں. جو رزق حلال کھاتے ہیں وہ جانتے ہیں علم کیا ہے, عالم کیسا ہوتا ہے اور عالمیت کیا ہے جو خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر بجالاتے ہیں وہ ان نعمتوں سے واقف ہیں.
    وہ علم سب سے بڑی نعمت ہے جس سے انسانیت کی تعمیرِنو ہوتی ہے.
    علم انسان کو زھنی بلندیوں تک لے جاتاہے مگر سن لو… وہ علم”علم” نھیں’جو زھنی پستیوں سے نکلنے نہ دے, جو خیالوں سے باندھ دے, جو بے غرض سوچ میں جکڑ دے… بلکہ علم تو وہ ہے…. جو فکرکو ھر لمحہ ایک نئی حیات بخش دے, جو روح کو سیراب کردے, جو زہن کو ضیابخش دے.
    علم اس وقت تک باقی رہے گا جب تک علم والے اور علم کے مطابق عمل کرنے والے زندہ ہیں
    سب سے بڑا علم یہی ہے کہ موت یقینی ہے اور ایک دن ہمارے اعمال کا حساب ہوگا اور نامہ اعمال ہمارے
    ہاتھوں میں تھما دیے جائیں گے اور وہ "یوم حساب”ہوگا
    اور جو لوگ ہر یوم کو "یوم حساب” سمجھ کر گزارتے ہیں میں انکے علم کی قدر کرتی ہوں

    آؤ سب مل کراس علم سے دوستی, آشنائی اور شناسائی کر لیں
    ہماری دین, دنیا اور آخرت سب کے لیے یہ کامیاب ترین نسخہ ہے اور یہ وہ علم ہے جس علم سے نجات ہو گی
    اللہ ہمیں علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی توفیق عطا کرے… آمین…
    "وما علینا الا البلاغ المبین ”

    Official Twitter handle
    ‎@Ayesha__ra

  • ‏توبہ ہی بقاء آخرت اور رضا الہی ہے  تحریر : مدثر حسین

    ‏توبہ ہی بقاء آخرت اور رضا الہی ہے تحریر : مدثر حسین

    آج کا موضوع انسان کے نفس اسکی خواہشات اور اللہ رب العزت کی بندگی سے متعلق ہے. یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کیوں انسان شیطان کے بہکاوے میں آتا ہے آخر کیوں رب کی بارگاہ سے دور ہو جاتا ہے.
    اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور انسان کو بہت عمدہ شکل و صورت سے نوازا ہے جیسا کی قرآن کریم میں ارشاد فرمایا

    لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘(۴)

    ترجمۂ کنز العرفان

    بیشک یقیناہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا ۔

    تفسیر صراط الجنان

    { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ: بیشک یقینا ہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا۔ } اللّٰہ تعالیٰ نے انجیر،زیتون،طور سینا اور شہر مکہ کی قسم ذکر کر کے ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو سب سے اچھی شکل وصورت میں پیدا کیا ،اس کے اَعضاء میں مناسبت رکھی،اسے جانوروں کی طرح جھکا ہوا نہیں بلکہ سیدھی قامت والا بنایا، ،اسے جانوروں کی طرح منہ سے پکڑ کر نہیں بلکہ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر کھانے والا بنایا اوراسے علم، فہم، عقل، تمیز اور باتیں کرنے کی صلاحیت سے مُزَیّن کیا۔( خازن، والتین، تحت الآیۃ: ۴، ۴ / ۳۹۱، مدارک، التین، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۳۶۰، ملتقطاً)

    انسان کو اتنا خوش شکل ہونے کے بعد اتنی عظمتوں عزتوں. عمتوں کے بعد تو تابعدار ہونا چاہیئے تھا پھر بھی نافرمانی کیوں؟

    اگر انسان اللّٰہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی تخلیق میں غور کرے تو اس پر روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اسے حسن ِصوری اور حسن ِمعنوی کی کیسی کیسی عظیم نعمتیں عطا کی ہیں اور اس چیز میں جتنا زیادہ غور کیا جائے اتنا ہی زیادہ اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کی معرفت حاصل ہوتی جائے گی اور اس عظیم نعمت کو بہت اچھی طرح سمجھ جائے گا۔

    شیطان انسان کے نفس کو کسی نا کسی ہوس میں الجاھے رکھتا ہے جس سے وہ رحمان کے راستے سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر خسارے میں ہو جاتا ہے جیسا کی اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا.
    وَ الْعَصْرِۙ(۱)اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲)اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)

    ترجمۂ کنز العرفان

    زمانے کی قسم۔ بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔ مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔

    تفسیر صراط الجنان
    {وَالْعَصْرِ: زمانے کی قسم۔}
    {اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ: بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قسم ذکر کرکے فرمایا کہ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے کہ اس کی عمر جو اس کا سرمایہ اور اصل پُونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو ایمان اور نیک عمل کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشقتوں پر صبر کرنے کی وصیت کی جو دین کی راہ میں انہیں پیش آئیں تو یہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے خسارے میں نہیں بلکہ نفع پانے والے ہیں کیونکہ ان کی جتنی عمر گزری وہ نیکی اور طاعت میں گزری ہے۔( روح البیان، العصر، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۱۰ / ۵۰۵-۵۰۶، خازن، العصر، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۴ / ۴۰۵، ملتقطاً)

    اسی طرح ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ(۲۹) لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ‘‘(فاطر:۲۹،۳۰)

    ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو اللّٰہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیےہوئے رزق میں سے پوشیدہ اوراعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی ۔تاکہ اللّٰہ انہیں ان کے ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے بیشک وہ بخشنے والا، قدرفرمانے والا ہے۔

    سورہِ عصر کی آیت نمبر2اور 3سے حاصل ہونے والے نتائج
    (1)…انسان کی زندگی اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اس سرمائے سے وہ اُسی صورت میں نفع اٹھا سکتا ہے جب وہ اِسے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں خرچ کرے اوراگر وہ یہ سرمایہ اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے، اس کی نافرمانی کرنے اور گناہوں میں خرچ کرتا رہا تو اسے کوئی نفع نہ ہو گا بلکہ بہت بڑا نقصان اٹھا ئے گا ،لہٰذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت میں مصروف ہوجائے ۔

    (2)…انسان کی زندگی کا جو حصہ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت میں گزرے وہ سب سے بہتر ہے۔

    (3)…دنیا سے اِعراض کرنا اور آخرت کی طلب میں اور ا س سے محبت کرنے میں مشغول ہونا انسان کے لئے سعادت کا باعث ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا‘‘(بنی اسرائیل:۱۹)

    ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئےایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہوتو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔
    اگر نفس شیطانیت میں مائل ہو جاے تو رب العالمین سے اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کی دعا کرنی چاہیئے اور اسکو شیطان کا کھلونا بننے سے بچانا چاہیے
    اللہ سے توبہ کرنی چاہیے جیسا کی قرآن میں ارشاد ہوتا ہے.
    وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵)اُولٰٓىٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ(۱۳۶)

    ترجمۂ کنز العرفان

    اور وہ لوگ کہ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرلیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرلیں تواللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اللہ کے علاوہ کون گناہوں کو معاف کر سکتا ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اپنے برے اعمال پر اصرار نہ کریں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے بخشش ہے اور وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ (یہ لوگ) ہمیشہ ان (جنتوں ) میں رہیں گے اورنیک اعمال کرنے والوں کا کتنا اچھا بدلہ ہے۔

    تفسیر صراط الجنان

    {ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ: اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔} پرہیزگاروں کے اوصاف کا بیان جاری ہے اوریہاں ان کا مزید ایک وصف بیان فرمایا، وہ یہ کہ اگر اُن سے کوئی کبیرہ یا صغیرہ گناہ سرزد ہوجائے تو وہ فوراً اللہ عَزَّوَجَلَّ کو یاد کرکے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ، اپنے گناہ پر شرمندہ ہوتے ہیں اور اسے چھوڑ دیتے ہیں اور آئندہ کیلئے اس سے باز رہنے کا پختہ عزم کرلیتے ہیں اور اپنے گناہ پر اِصرار نہیں کرتے اور یہی مقبول توبہ کی شرائط ہیں۔ اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ’’ تیہان نامی ایک کھجور فروش کے پاس ایک حسین عورت کھجوریں خریدنے آئی۔ دکاندار نے کہا کہ یہ کھجوریں اچھی نہیں ہیں ، بہترین کھجوریں گھر میں ہیں ، یہ کہہ کراس عورت کو گھر لے گیا اور وہاں جا کر اس کا بوسہ لے لیااور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ اس عورت نے کہا : اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر۔ یہ سنتے ہی تیہان نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور شرمندہ ہو کر حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں سارا ماجرا عرض کیا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ ایک روایت یہ ہے کہ’’ دو شخصوں میں بڑا پیار تھا، ان میں سے ایک جہاد کے لئے گیااور اپنا گھر بار دوسرے کے سپرد کر گیا۔ ایک روز اُس مجاہد کی بیوی نے اُس انصاری سے گوشت منگایا ، وہ آدمی گوشت لے آیا،جب اُس مجاہد کی بیوی نے گوشت لینے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا تواس نے ہاتھ چوم لیالیکن چومتے ہی اسے سخت شرمندگی ہوئی اور وہ جنگل میں نکل گیا اور منہ پر طمانچے مارنا اور سرپر خاک ڈالنا شروع کردی۔ جب وہ مجاہد اپنے گھر واپس آیا تو اپنی بیوی سے اپنے اُس دوست کا حال پوچھا۔ عورت بولی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے دوست سے بچائے۔ وہ مجاہد اُس کو تلاش کرکے حضور سید المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں لایا۔ اس کے حق میں یہ آیات اتریں۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۳۵، ۱ / ۳۰۲)ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں واقعے اس آیت کا شانِ نزول ہوں۔ بہر حال خلاصہ تو واضح ہے گناہ کا ہو جانا نفس کا بھٹک جانا اتنی بڑی غلطی نہیں جتنی علم ہونے کے باوجود غلطی پر نا صرف قائم رہنا بلکہ اس پر اکڑ جانا اور توبہ نہ کرنا یہ سب سے بڑی غلطی ہے

    ‎@EngrMuddsairH