Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • سفر فنا کا کون کرتا ہے   تحریر: حسنِ قدرت

    سفر فنا کا کون کرتا ہے تحریر: حسنِ قدرت

    محبت فنا ہو جانا ہے کسی کی خاطر اور پھر وہی فنا بقا کی طرف لے جاتی ہے آپ کو یہ بات تھوڑی سی عجیب لگے گی ایک بہت ہی مشہور کہانی ہے بادلوں کا جھنڈ ایک صحرا سے گزر رہا تھا وہاں ایک ننھے بادل کے ٹکڑے کو ریت کے ایک چھوٹے سے زرے سے محبت ہوگئی بادل ہواؤں کے رخ پہ جارہے تھے لیکن وہ وہاں نہ برسے کیونکہ اس بنجر زمین پہ برسنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا لیکن بادل کا وہ ٹکڑا جسے اس ریت کے ذرے سے محبت ہوئی تھیں وہ وہاں سے نہیں جا سکتا تھا اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ برسے گا تو یہیں بالآخر جب اسکے دوست جارہے تھے اس نے پیار سے اُس ریت کے ذرے کو دیکھا اور پانی کی چند بوندیں جو اسکے پاس تھیں اس نے اُس ریت کے ذرے پہ ڈال دیں اس مٹی میں شاید کوئی بیج پڑا تھا وہ پھوٹ پڑا اور بہت جلد وہاں ایک تن آور درخت بن گیا جو ریت کے ذرے اور بادل کے ٹکڑے کی محبت سے وجود میں آیا اب مسافر وہاں آرام کرتے تھے ،پرندے اُس درخت کی چھاؤں میں آتے چہچہاتے تھے اس طرح وہ بادل کے اس ٹکڑے اور ریت کے ذرے کی محبت کے گیت گاتے تھے
    محبت تو ہی ہے کسی کے لیے اپنا سب کچھ دے دینا بے غرض ہوجانا اور یہاں فنا میں بھی بقا ہے اگر آپ سچے ہیں تو چاہے وہ اللّٰہ کی محبت ہے یا بندوں کی کیونکہ جو شخص اپنے خدا سے محبت کرتا ہے وہ کسی طرح کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتا اس طرح اگر ساری انسانیت سے محبت کرتا ہے تو بے لوث خدمت کرتا ہے
    اگر کسی انسان تک اسکی محبت محدود ہے تو وہ اس سے صلے کی توقع نہیں کرتا چاہے اس سارے سفر میں وہ فنا ہی کیوں نہ ہو جائے
    جب وہ ان اصولوں کو اپناتا ہے تو وہ فنا اسکی بقا بن جاتی ہے اور وہ کہانی امر ہو جاتی ہے

    اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا منصور کے نام سے مشہور ہوتا ہے
    انسانیت سے محبت کرنے والا عبد الستار ایدھی کے نام سے مشہور ہوتا ہے
    اور
    کسی انسان سے محبت کرنے والا کبھی رانجھا کے نام سے مشہور ہوتا ہے تو کبھی مجنوں و فرہاد کے نام سے
    لیکن سوال پھر وہی ہے کہ سفر فنا کا کون کرتا ہے؟

    Twitter:@HusnHere

  • اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے تحریر : راجہ ارشد

    اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے تحریر : راجہ ارشد

    ہم ہر روز سینکڑوں ایسے بچوں کو دیکھتے ہیں جو کسی شاہراہ پر کھڑے پانی کی بوتلیں اٹھائے رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں کئی کسی پارک میں غبارے بیچتے نظر آئیں گے یا کسی ہوٹل پر برتن دھوتے دکھائی دیتے ہیں یہ میرے بچے اس قوم کا اس وطن کا مستقبل ہیں۔

    یہ اس مٹی کے محافظ آزادی کے امین ہیں ہم ایسے کرداروں کو دیکھ کر اپنی زندگی کی مصروفیات میں مگن ہو جاتے ہیں احساس کا ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے عملی طور پر تو کچھ کرنا شاید ہم اپنی توہین سمجھتے ہیں یا پھر اپنی ذمہ داری ہی نہیں سمجھتے یہ غربت میں پلنے والے میرے بچے محنت کش اللہ کے بہترین دوست ہیں۔

    جو روز قیامت صرف حکمرانوں کی ہی نہیں ہر صاحب استطاعت کی شکایت کریں گے بڑے محلات میں رہنے والے آرام دہ گاڑیوں میں سفر کرنے والے میدان حشر میں ان بچوں کے مجرم ہوں گے وطن عزیز کی آزادی کے وقت جسم پر جو دو کپڑے تھے سات دہائیوں کے بعد اپنے تن کو ڈھانپنے کے لئے ایک چادر بھی مشکل سے ملتی ہے سندھ کے تھر میں چلیں جائیں یا بلوچستان کے ریگستانوں میں پنجاب کے دیہاتوں کی بات ہو یا پھر پختونخواہ کے دور دراز پہاڑی علاقوں کی جہاں غربت نے اس قدر ڈیرے ڈالے ہیں کہ بچوں کی تعلیم تو درکنار لباس اور خوراک بھی پوری طرح نہیں ملتی ہے۔

    جہاں پینے کا صاف پانی نہیں ہے بھوک سے بچے مر رہے ہیں میرے بچوں نے یہ سوال ہم سب سے کرنا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے سوال تو ہو گا نماز روزوں کا لیکن بات جب بھوک کی ہو گی تو شاید وہ شکایت ہمارے لیے سزا کا باعث بن جائے یہ میرے بچے رزق حلال کماتے ہیں ان کو تعلیم کی ضرورت ہے ان کے بھی خواب ہیں وہ بھی شہر میں جانا چاہتے ہیں ایئر کنڈیشن روم میں بیٹھ کر نوکری کرنا چاہتے ہیں کاروبار کرنا چاہتے ہیں ان کے بھی ارمان ہیں اچھے کپڑے پہننا چاہتے ہیں زندگی کو جینا چاہتے ہیں۔

    چھوٹی چھوٹی خوشیاں دیکھنا چاہتے ہیں یہ اس قوم کا مستقبل ہیں ان کی تربیت ان کی تعلیم اچھا لباس اچھا گھر ہم سب کی ذمہ داری ہے حکمرانوں سے امید رکھنا اور صرف حاکم وقت کی ذمہ داری سمجھ کر آنکھیں بند کر لینے سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

    ہر انسان کو انفرادی طور پر اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے ایک ایسے بچے کی اچھی تربیت کرنا اسے تعلیم دلانا اچھا اور قابل شہری بنانا نا صرف دلی سکون دے گا بلکہ صدقہ جاریہ ہو گا ہمیں عہد کرنا ہے اپنی حیثیت کے مطابق اس کام کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کرنا ہے کسی کے دکھاوے یا شاباش لینے کے لئے نہیں۔

    بلکہ اللہ کی رضا کے لیے کرنا ہے انشاءاللہ جس دن ہم اپنی انفرادی ذمہ داریوں کو پورا کرنے لگے تو میری قوم کے بچے نہ بھوکے سوئیں گے نا ہی سڑکوں پر ننگے پائوں پھرتے نظر آئیں گے بلکہ اس قوم کا ہر فرد پڑھا لکھا باشعور معزز شہری ہو گا یہی ترقی کی طرف جاتا راستہ ہے جس سے ہم عظیم قوم بن سکتے ہیں۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • رزق کمانا آسان کام نہیں  تحریر : چوہدری  عطا محمد

    رزق کمانا آسان کام نہیں تحریر : چوہدری عطا محمد

    اللّٰہ تعالٰی نےرزق تو نصیب میں لکھ دیا لیکن وسیلہ بنایا پردیس
    اور پردیس کی زندگی اک ایسی میٹھی جیل ہے جو انسان چاہ کر بھی نہیں چھوڑ سکتا.
    اپنے پیاروں سے بچھڑ کر کسی کا باپ تو کسی کا بھائی اور کسی کا شوہر زرق حلال کی خاطر میلوں دور نکل جاتا ہے۔اور کئی سال بچارا دن رات خون پسینہ اک کر کے اپنے اہل خانہ کے روشن مستقبل کی خاطر اپنی، ندگی کے قیمتی دن اپنوں پر وار دیتا ہے اور رب تعالی کے حکم سے جب کئی سالوں بعد واپس لوٹتا تو ایسا لگتا کہ کسی اجنبی شہر کی طرف سفر کر رہاے اور اسکے ساتھ رویہ بھی وہی اپنایا جاتا کہ یہ تو مہمان ہے اور حقیقت ہے بھی یہی کہ اب اس کا دیس پردیس بن چکا ہوتا کیونکہ وہ چند دنوں کا مہمان ہی تو بن کر جاتا ہے اور پردیس ہی اب اسکا دیس ہے.

    اپنوں سے بچھڑ کر کون پردیس جانا چاہتا ہے مگر اپنوں کی ہی خاطر جانا پڑتا ہے۔۔جانا پڑتا ہے۔۔۔

    اور اگر اک جائزہ لیا جاے تو دنیا میں سب سے بڑی غربت غریب الوطنی ہے حصول رزق کے لیے اپنے وطن کو چھوڑ کر سے دیار غیر میں جوان گیا اور پردیس میں بوڑھے ہوگئے ان کا درد وہی جانتے ہیں جب اپنے والدین کی دروازے پر لگی آنکھیں بند ہو جانے کے بعد بھی گھر نا آسکے وہ اپنے بچوں کے بچپن کے دنوں کو محسوس نہ کر سکے انکی کلکاریاں نا سن سکے ان کو ننھے ننھے ہاتھوں کو چھو کر پیار سے چوم نہ سکے اپنے بچے کو گود میں لے کر اسے باپ کا پیار نہ دے سکے باپ کے ہوتے ہوے بھی بنا باپ کی زندگی کے عادی بنا دیے یہ کیسا ستم ہے ان معصوم کلیوں پر جن کی خاطر وہ ہزاروں میل دور بیٹھا محنت مزدوری کر رہا وہ ان کے سکول کا پہلا دن سکول تک نہ چھوڑ سکے نا دیکھ سکے وہ ان کی زبان سے نکلا پہلا لفظ نا سن سکے.
    وہ انکی کمی کو شدید محسوس کرتے رہے تب جب دوسرے بچے اپنے بابا کے کندھوں پر بیٹھ سکول جاتے دیکھتے وہ دیکھتے کہ انکے بابا انہیں سکول کے دروازے پر پیار کرتے انکے چہرے پر شفت بھرا ہاتھ پھیرتے اور کہتے کہ بیٹا میں چھٹی ٹائم لینے آ جاؤں گا تب کیا بیتتی ہے ان بچوں کے دلوں پر وہ معصوم کلیاں تب انکے دل مرجھا جاتے اور دل میں حسرت لیے سکول کی سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہو بوجھل قدموں سے اندر داخل ہو جاتے ہیں مگر یہ واقعہ انکے دل ودماغ میں نقش ہو جاتا ہے اور بچہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتا باپ کا سایہ پاس ہونا بھی خدا کی بہت بڑی نعمت ہے. اللّہ تعالیٰ کسی باپ کو اسکے بچوں سے دور نہ کرے اور اسکی قسمت میں پردیس نہ لکھے.

    پردیس میں بیٹھا شخص اپنے کئی رشتوں کو کھو چکا جن کے ساتھ زندگی کے کئی سال گڈار چکا ہوتا وہ آج منو مٹی تلے دب چکے مگر وہ بیچارہ پردیس کی کی جیل میں قید انکے آخری دیدار کو بھی نہ آ سکے

    یہ غریب الوطنی کا درد وہی جانتا ہے جو اس سے گزرتا ہے وہ اپنی بیوی کے ساتھ جوانی کے خوبصورت ایام نا گزار سکا تب جب اسکی شادی کو کچھ ماہ ہی ہوے تھے وہ اسے اپنی بنا جرم قید میں ڈال کر اس سے دور چلا جاتا ہے.
    وقت و حالات نے اس کی تمام توانائیاں نچوڑ ڈالیں وہ اپنے اہل خانہ کی خوشحال زندگی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرگیا تب جب یہ اسکی زندگی کے خوبصورت دن اور لمحات تھے انکی اس قربانی کو کون لوٹا کردے گا شایداس کا کوئی ازالہ نہیں اور نہ ملے گا.

    پردیس کی قید میں وہ تنہا بیمار ہوا ٹھیک ہوگیا اپنوں سے دور رہ کر اداس ہوا پھر ہنس دیا اپنوں کی آواز فون پر سنی تو تسلی کرلی مگر وہاں دیس میں بیٹھے اپنے گھروں بیٹھے اسکی کال کو بھی اک فضول وقت گذاری کا کہہ کر مرضی سے سنتے وہ پھر بھی انہیں محسوس نہیں کرواتا اور مصنوعی مسکراہٹ اور جھوٹے لب ولہجہ سے کچھ لمحے بات کر لیتا اور خود ہی خود یہ کہہ کر تسلی دے لیتا کہ وہ مصروف تھے تم نے کیوں مجبور کیا انہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ اسکے دل پر کیا گذر رہی ہوتی وہ اک تو اپنا سب کچھ قربان کر چکا ہوتا اپنی جوانی اپنی شادی کے بعد کے خوبصورت دن اپنے بچوں بچپن مگر پھر بھی اسکی زبان سے کبھی شکوہ وگلہ نہ نکلا ٹھیک ہوکر بھی خود کو غلط کہہ لیا اورجب دل بہت تنگ ہوا تو اٹھا اور اپنے وطن اپنے گھر کی یاد میں چائے بنائی اور کھڑکی میں کھڑا ہوکر پینے لگا آسمان کی طرف نظر دوڑائی چاند کو دیکھا اور سوچوں پڑ گیا کہ یہ مرے گاؤں میں بھی نکلا ہوگا

    یہ سردیوں کا موسم یہ بلا کی سردی اپنے گھر کی رضائی میں بیٹھا چائے پکوڑے کے مزے لینے والا شخص اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر خوش گپیوں کو یاد کر کے ہنسنے لگتا اور وہ ہنسی مزاق جو سب بہن بھائی مل کر کرتے تھے سب بہت یاد آتا ہے مگر وہ پھر بھی اپنوں کے لیے آنسو آنکھوں میں بھینچ لیتا ہے خود کو سنبھالتا ہے اور بے دھیانی میں اک آدھ آنسو اسکی کی چائے کی پیالی میں گر جاتا ہے اور وہ دل کو تسلی دے کر چاے کی چسکی لیتا اور کہتا ہے پہلے والا گذر گیا یہ بھی گذر جاے گا.
    اور قسمت اچھی ہو تو کمرے میں ساتھ رہنے والے اگر کوئی اچھے ساتھ مل جائیں تو پھر کبھی کبھی مل جل کر ایک دوسرے کا درد بانٹ لیتے ہیں اور پردیس کی گرمی میں اپنی وطن کی سردی یاد کرکے چائے سے دل ٹھنڈا کرلیتے ہیں.

    پردیسیوں کے نام

    ایک ایسا سفر کروایا زندگی نے
    جس میں پاؤں نہیں میری روح تھک گئی

    @ChAttaMuhNatt

  • کتب بینی . تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

    کتب بینی . تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

    ‏کہنا ہے آج مجھ کو بس اتنا احباب سے
    گر ہوسکے تو جوڑ لو رشتہ کتاب سے

    علم ایک ایسا سمندر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ علم وہ روشنی ہے جس سے انسان اپنی ذات اور تمام انسانیت کو ماضی، حال اور مستقبل کے آئینے میں دیکھ سکتا یے اور یہ آئینہ ہمیں کتابوں کی شکل میں میسر آتا ہے۔کتابیں جہاں اپنے اندر تاریخ سمیٹے ہوئے ہیں وہیں معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ بھی ہیں۔

    اس وقت ہمارے معاشرے میں کتابیں خریدنے اور پڑھنے کا رجحان کم ہوتا جارہا یے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ موبائل اور انٹرنیٹ ہیں۔ جہاں انسان سارے دن اپنے موبائل میں مصروف رہتا ہے وہاں اس کے پاس ایک آدھا گھنٹا بھی میسر نہیں کہ کتاب پڑھ لے۔
    دور حاضر میں انسان کی مصروفیات بہت بڑھ گئی ہیں۔ ہر انسان زندگی کی الجھنوں اور مسائل کا شکار ہے۔ ان مسائل اور مشکلات نبردآزما ہونے کے لئے کتابوں کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ایک اچھی کتاب انسان کو ذہنی سکون اور قلب کو منور کرتی ہے ۔ کتاب بینی قاری کے علم میں اور اس کی قدر ومنزلت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
    کتاب ایک بہترین ناصح اور شفیق دوست ہے۔کتاب علم کے نور اور قلم کی عظمت کا خوبصورت اظہار ہے۔ جو لوگ خود علم کے سرچشمے سے وابستہ رکھتے ہیں وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔
    بقولِ شاعر
    ہم نشینی اگر کتاب سے ہو
    اس سے بہتر کوئی رفیق نہیں

    @mujahidabbasta1

  • میرے دیس کی عیدیں بدل گئیں تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    میرے دیس کی عیدیں بدل گئیں تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    محترم قارئین عید کی مبارکباد کے ساتھ ماضی کے جھروکوں میں کھلکھلاتی بکرا عیدوں کے سفر کو چلتے ہیں.
    ذوالحج کے چاند کے ساتھ ہی بکرے کے گلے میں رنگ برنگ پٹے پہنا لینا
    اگر بکرے کا رنگ سفید ہے تو اس پہ مہندی لگانا.
    اسے صاف ستھرا کر کے گلیوں میں گھمانا اور دوستوں کے ساتھ اٹکیلیاں کرنا.
    پی ٹی وی پہ حج ٹیلی کاسٹ دیکھنے کے لیے چونکہ سکول سے چھٹی ہوا کرتی تھی تو
    مؤدب ہو کر
    لبیک الھم لبیک ان الحمدونعمت لک ولالملک لا شریک لک
    کی صدا دینا.
    سر شام کپڑے جوتے چوڑیاں پھیلا کر رکھ لینا اور مہندی لگوانا.
    صبح تیار ہونا ویسی طلب کرنا اور قربانی کے بکرے کو بار بار گلے لگانا اس کے ناز اٹھانا اور زارو قطار رونا.
    ایسے ہزاروں لمحے جو اب ہم سے کوسوں دور نکل گئے
    عیدوں پہ ناراضیاں ختم کرنے کے لیے عید سے ایک دن پہلے ایک دوسرے کے گھر منانے جانا
    کسی فوت شدہ کی پہلی عید پہ اہل خانہ سے اظہار غم و یکجہتی کے لیے لازمی جانا
    یہ رویات ٹکنالوجی چرا لے گئی
    اب ہم میلوں دور بیٹھے دوستوں ڈالرز اور فینز سے تو رابطے میں ہیں مگر پاس بیٹھے بڑے بوڑھوں سے بہت دور چلے گئے.
    معلوم نہیں کسی نے اپنے گھر کے تمام افراد کو عید مبارک کہا کہ نہیں.
    یہ تبدیلی نہیں تنزلی ہے اعلی اقدار سے اخلاقی پستی کی جانب
    اب ہماری عیدیں اداس ویران ہیں .اب ہم عید مناتے نہیں گزارتے ہیں.
    سو کر یا تکیے بھگو کر
    ہم بکرا عید سے دو دن پہلے لاتے ہیں کاٹتے کھاتے ہیں سٹیٹس لگاتے ہیں اور کھو جاتے ہیں اپنے ہی اندر کی دنیا میں.

    جہاں عید تہوار ہوا کرتا تھا اب خرافات کا لائسنس بن گئی

    نا جانے کب سے عید کے سارے لمحے اور ذائقے ہماری زندگی کی ہتھیلیوں سے ریت کی مانند پھسل رہے تھے معلوم تب ہوا جب عیدیں سو کر گزرنے لگیں

    آپکی عیدوں کا حال تو آپ جانیں
    میرے دیس کی تو عیدیں بدل گئیں
    بیتی ہوئی عیدوں کی یادیں باقی ہیں.

    @hsbuddy18

    Hspurwa198@gmail.com

  • عِشق . تحریر : محمد طلحہ

    عِشق . تحریر : محمد طلحہ

    عشق کے عام طور معنی پھٹ جانے کے ہیں لیکن میں اس قدر گھٹیہ اور غیر مناسب الفاظ ( پھٹ جانے) کو عشق کا معنی نہیں سمجھتا میں اپنی اصطلاح میں عشق کے معنی کو ” سب کچھ لٹا دینا” کے سمجھتا ہوں

    عشق کی ع سے ناواقف لوگ بیواقوفیت کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں کسی بھی ذات کا طالب بن جانا یا پھر کسی بھی ذات کو ہر حال میں حاصل کرنا عشق کہلاتا ہے
    یہ عشق ہی تھآ جو وجہہ تخلیقِ کائنات بنا یہ عشق ہی تھا جس نے محبت کی شیرینی کو الفاظوں میں بیان کیا

    عشق أس گرم آگ کا نام ہے جو عاشق کے اندر کو سوائے خدا کے سب کچھ جلا دیتی ہے عشق مجنوں بنا دیتا ہے
    عشق قلندر مزاجوں کا وطیرہ، اور سکندر مزاجوں کا نام نہاد جزیرہ سمجھا جاتا ہے عشق نے اس دنیا کو چمکایا عشق ہی اس دنیا کو رلا رہا ہے کوئی عشق سے تیر گیا کوئی بہہ گیا یہ قدرت کا اصول ہے جس کو عشق کا مزہ دستیاب ہوگیا اسکو عشق سے چھٹکارا مشکل ہے جس کو عشق کا مزہ دستیاب نہیں وہ دربدر اپنی زندگی میں لاپتہ ہے
    عشق کرنا آسان ہے اسکو نبھانا مشکل ہے سسی پنوں سے لے کر بغدادیّ "ص” تک سبھی نے عشق کیا لیکن کامیابی کسی کو نہ مل سکی، آئیے میں اپنی نظر میں آپ کو عشق کی اقسام سے آگاہ کرتا ہوں عشق کی تین اقسام ہیں

    پہلی عشقِ مجازی
    دوسری عشقِ حقیقی
    تیسری عشقِ ادھوری

    عشقِ مجازی کو عام فہم زبان میں دنیا کا عشق کہتے ہیں جو کہ عمومی طور پر اکثریت کو نصیب ہو جاتا ہے عمومی طور پر کچھ لوگ عشق کر تو لیتے ہیں لیکن اپنے مقصد کا حصول کر کے عشق کو شک میں ڈال دیتے ہیں،
    اسکے بعد آتا ہے عشقِ حقیقی جسکو عام طور پر اصل عشق کہا جاتا ہے یعنی اپنے اللہ سے جس نے اسے پیدا کیا، جس نے اسے رزق اور عشق دیا اس سے جب عشق کیا جاتا ہے تو دنیا کے دوسرے عشق بھی مل جاتے ہیں اس عشق کو کرنے سے آپ ہر مقام پر کامیاب ہوجاتے ہیں اس عشق کی راہ میں چلنے والوں نے ہمیشہ کامیابی حاصل کی ہے،

    اِنسان سچے دِل سے عشق صرف اللہ سے ہی کرتا بے اور کرنا بھی اصولاً یہی عشق چاہیے بے شک اللہ پاک کی ذات ہی اتنی بے نیاز ہے محبت بھری ہے محبت کرنے والی ہے کل کائنات کے خالق و مالک اور رازق ہیں یقیناً اور بے شک ایک بشر کی ذات کے لیے اُن سے بڑھ کر تو کُچھ بھی نہیں اللہ پاک سے عشقِ حقیقی کی دعا مانگنی چاہیے

    تیسرے نمبر پر آتا ہے
    عشقِ ادھوری یعنی نہ ملنے والا عشق انسان کسی بھی عورت کو دیکھ کر اس پر فدا ہو جائے گویہ اسکے عشق میں پاگل مجنوں، بن جائے کوئی بھی ایکٹریس اسکو اچھی لگے اور وہ اس کو خام خیالی میں ہوائی پلاؤ بناتے ہوئے سوچتا رہے اسے میری نظر میں عشقِ ادھوری کہتے ہیں

    آپ کو اصل عشق کی طرف جانے سے پہلے عشقِ مجازی کرنا پڑتا ہے انسان کو جب عشقِ مجازی سے ٹھوکر لگتی ہے تبھی جاکر عشقِ حقیقی نصیب ہوتا ہے
    یہ فطری اور انسان کا صوابدیدی اختیار ہے انسان جس عشق کو چاہے اپنی زندگی میں لاگو کرسکتا ہے آپ کس عشق کے قائل ہیں وہ آپ نے خد چننا ہے صحیح اور غلط عشق کا انتخاب آپ نے خد کرنا ہے اگر آپ اپنے عشق کے ساتھ مخلص ہیں تو عشق مل سکتا ہے اگر نہیں تو یہ بدنصیبی ہے کہ آپ اپنے عشق کے ساتھ مخلص نہیں ہیں آپ کے سامنے 3 منازل ہیں آپ اسے اپنی عقل اور معیار کے مطابق چن سکتے ہیں باقی نصیب میں جو ملے وہ آپکا مقدر

    عشق وہ واحد چیز ہے جو کسی بھی رنگ و نسل، زبان ملک و تہذیب کے اعتبار سے ہر انسان کو نصیب ہوتا ہے یہ ایک علمیہ اور تلخ حقیقت ہے کہ جو جو دنیا بدلتی جارہی ہے جو جو نِت نئے لوگ دنیا میں آتے جارہے ہیں عشق کا معیار بدل چکا ہے عشق کی ترجیحات بدل چکی ہے اب وہ عشق میں پختگی اور استواری نہیں رہی وہ جذبہ نہیں رہا اسی ادھوری اور لاپرواہ دنیا کی وجہ سے عشق کرنے والے کا جذبہ مانند پڑتا جارہا ہے

    انسان کو ایک مثبت اور محبت بھرے معاشرے کو تہذیب و تمدن میں مددگار ثابت کرنے کے لیے عشقِ حقیقی کی طرف راغب ہونا چاہیے

    @Talha0fficial1

  • "لمحہ فکریہ”  تحریر : فرزانہ شریف

    "لمحہ فکریہ” تحریر : فرزانہ شریف

    *چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔*
    میں ایک جنرل بات کررہی ہوں کہ ہم کیا کرتے ہیں ۔۔!!
    کسی کے بارے میں یاد دلانا ہو تو ہماری گفتگو کچھ اس قسم کی ہوتی ہے.

    . کونسی ؟
    اچھا وہ جو گنجی ہے اب اس نے سر پر نقلی وگ لگائی ہوئی ہے؟ ہاں اچھا وہ جو چھوٹے سے قد کی ہے چلتی ہوئی ایسے لگتی ہے جیسے کوئی گینڈی جارہی ہے ؟؟
    اچھا وہ بڑے سے منہ والی ؟
    جو یوں چلتی تھی ؟
    نقل اتار کر دکھائی جاتی ہے
    اچھا وہ جو دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہے ؟؟

    کونسا ؟

    اچھا وہ موٹی گردن والا ؟
    وہ جس کی طوطے کی چونچ جیسی ناک ہے۔؟
    اچھا وہ جو لنگڑا کر چلتا ہے ؟
    اچھا وہ جو بیٹھا مٹھ کھڑا گٹھ ۔؟
    وہ جو خود اتنا "کوجا” ہے اور بیوی اسے اتنی پیاری مل گئی ہے ؟ پہلوئے حور میں لنگور۔۔؟

    ہم سورہ تین کی ابتدائی آیات پڑھیں تو واضح ہوتا ہے کہ چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔

    *قسم ہے انجیر*
    *اور زیتون کی*
    *اور طورِ سینا کی*
    *اور امن والے اس شہر کی*
    *بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔*

    کتنے آرام سے ہم اللہ کی تخلیق کا مذاق اڑا دیتے ہیں اور محسوس بھی نہیں کرتے کہ دراصل ہم انجانے میں اپنےنامہ اعمال میں مسلسل گناہ لکھوا رہے ہیں ۔
    کسی کو لمبا ہونے پر باتیں سننی پڑتی ہیں،

    کسی کو چھوٹا ہونے پر،
    کسی کا رنگ کالا،
    کسی کی ناک موٹی،
    کسی کو چہرے پر دانے نکل آئیں تو پوچھ پوچھ کر اسکی مت مار دیتے ہیں،
    کسی کے چہرے پر بال ہوں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں
    کسی کی آنکھیں چھوٹی ہیں تو اس کو بھی معاف نہیں کرتے ۔۔!!!

    حالانکہ انسان کا ان میں سے کسی پر بھی اختیار نہیں۔

    یقیناً حسین چہرا سبھی کو اچھا لگتا ہے لیکن وہ حسن بھی رب نے ہی دیا ہےتو تعریف اسی کی، اور اگر کسی کے چہرے کا مذاق آپ اڑا رہے ہیں تو ہم دراصل اس بندے کا مذاق نہیں اڑا رہے ہوتے بلکہ خالق کی تخلیق کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں ۔ہم خود جو مکھی کا ایک پر بنانے کی سکت نہیں رکھتے اس خالق کی بنائی چیزوں میں نقص نکال رہے ہوتے ہیں استغفراللہ ۔۔!!
    وہ رب جو ایک کے بعد دوسری، تسیری اور پھر چوتھی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین ساخت پر بنایا ہے۔۔

    *اللَّهُمَّ أَنْتَ حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي*

    اے اللہ ! جس طرح تو نے ہمیں باہرخوبصورت بنایا ہے، ہمارا اندرکردار بھی خوبصورت بنا دے۔

    روزویلٹ کا ایک بڑا مشہور قول یاد آ رہا ہے :

    *” Great Minds Discuss ideas;*
    *Average Minds Discuss Events;*
    *Small Minds Discuss People.”*
    .

  • خود اعتمادی  تحریر : عمر خان

    خود اعتمادی تحریر : عمر خان

    خدا کی قدرت ہے کہ اُس نے ایک بہت بڑی دنیا بنائی۔ اس دنیا میں ہر رنگ اور نسل کی مخلوق تخلیق کی۔ سبحان اللّٰہ اسکی قدرت پر کہ ایک واحد ذات کی تخلیق ہونے کے باوجود انسان نہ صرف رنگ کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہے بلکہ انسان کی انفرادی خصوصیات بھی ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہیں۔
    پھر میں سوچتا ہوں کہ ہم میں یہ تنازعات کیوں پائے جاتے ہیں؟کیوں ہمارے دل و دماغ خود کو دوسروں سے مختلف اور بہترین تصور کرنے سے قاصر ہیں؟
    اسکی سب سے بڑی وجہ خود اعتمادی کی کمی ہے۔ جیسے انسان کے اندر لمحیات کی کمی اسے لاغر کر دیتی ہے بلکل ویسے ہی خود اعتمادی کی کمی انسان کے دماغ کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیتی ہے۔
    کیوں انسانی عقل اشرف المخلوقات کا لقب بھول جاتی ہے؟کیوں ہم ہمیشہ دوسروں کی پیروری اور دوسروں کو کاپی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں؟
    صرف اور صرف ہمیں اعتماد نہیں اپنی آپ پر۔ سنو: جو اُس شخص نے کیا وہ ہم بھی کر سکتے ہیں۔ جو کامیابیاں اُس کو میسر ہیں وہ ہمیں بھی میسر ہو سکتیں ہیں بلکہ ہم اس سے بہتر پا سکتے ہیں کیونکہ ہم اس کے قابل ہیں۔ لیکن اس قابلیت کو پہچاننے میں جو رکاوٹ ہے وہ خود اعتمادی کی کمی ہے۔
    کچھ کرنے سے پہلے ہی ہار مان جانا کہاں کی عقل مندی ہے؟
    منزل کا راستہ تلاش کرنے سے پہلے ہی سواری کی تلاش کرو گے تو کامیابی کا راستہ کٹھن ترین ہو گا۔ خود اعتماد شخص ہمیشہ خود کی صلاحیتوں پر انحصار کرتا ہے.
    بے اعتماد شخص کی مثال اس پرندے کی سی ہے جو کسی کی قید میں رہنے کو خود کی آزادی سمجھتا ہے۔ اور اسی پنجرے کو آسمان میں لے اُڑنے کے خواب دیکھتا ہے۔
    جب انسان خود کی صلاحیتوں کو پہچاننا اور خود کو تراش کر ایک بہترین انسان بنانے کی طرف متوجہ ہو گا تو مجھے اُمید کہ آنے والی نسلیں اتنی خود اعتماد ہوں گی کہ وہ اپنی منزلیں خود بنا سکیں گیں.
    (ان شاءاللّٰہ )
    مجھے فخر ہے کہ میرے اندر خود اعتمادی کی صلاحیت موجود ہے۔ میں پُر اعتماد شخص ہوں خود کو پہچانتا ہوں اپنی کامیابیوں کا امیدوار ہوں۔ غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے والا شخص ہوں۔
    کیا آپ ایک پُر اعتماد شخص ہیں؟؟خود کا تجزیہ کریں سوال کریں اپنے نفس سے اور خود کو آنے والی نسلوں کے لئیے مثال بنائیں.

    @U4_Umer_

  • درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو . تحریر : عمر عطاء

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو . تحریر : عمر عطاء

    چند سال پہلے میرے بابا کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا واقعہ پرموجود کچھ بے شرم لوگوں نے مدد کرنے کی بجاۓ جیب سے نقدی خالی کرلی بھلا ہو وہاں پرموجود ان لوگوں کا جوبابا کو اچھی طرح جانتے تھے انہوں نے وہ نقدی ان بے شرموں سے واپس لے کر بعد میں ہمارے حوالے کی۔
    کیا ہمارے اندررتی برابربھی انسانیت کا احساس نہیں ہے۔

    ایسے بہت سارے واقعات منظرعام پر آۓ ہیں کہ روڈ ایکسیڈنٹس متاثرین سے زیورات، نقدی اورموبائل فونز ہتھیا لیے جاتے ہیں۔ علی پور روڈ جو کہ قاتل روڈ کے نام سے مشہور ہے۔ آۓ روز یہاں پر حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں اورسینکڑوں جانیں ضائع ہوئ ہیں لیکن یہاں کے سیاستدانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ میرے ایک رشتہ دار جو کہ پٹرولنگ پولیس میں ہوتے ہیں بتا رہے تھے کہ کچھ سال قبل روہیلانوالی میں ایک بس کو حادثہ پیش آیا تھا اور اس میں تمام لوگ جان کی بازی ہار گئے تھے جن میں اکثریت خواتین کی تھی۔ اس سنگل روڈ پر حادثات تو روز کا معمول ہیں لیکن دل دہلا دینے والی بات یہ کہ وہ بولتے ہیں جب ہم لوگ ان تک پہنچنے تو خواتین کے کانوں سے بالیاں تک اتار لی گئیں تھیں۔ میں سوچ رہا تھا اللّٰہ تعالیٰ نے اس وجہ سے ہی قیامت کا دن رکھا ہے تاکہ مظلوموں کی شنوائی ہو سکے۔

    وہاں پرصرف مظلوم کی حمایت کی جائے گی اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملے گی۔ انسان کو اشرف المخلوقات بھی صرف اس وجہ سے بنایا گیا ہے کہ وہ انسانیت سے محبت سے پیش آۓ۔

    بقول شاعر
    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں!

    انسان جب نیکی پر اترتا ہے تو وہ فرشتوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا ہے لیکن یہی انسان جب گرنے پر آتا ہے تو شیطان سے بھی بد تر ہو جاتاہے۔ بات صرف احساسات کی ہے.

    Momi_70

  • غفلت کی نیند اور زندگی کی بربادی تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    غفلت کی نیند اور زندگی کی بربادی تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    کسی نادان شخص کی طرح ہم بھی اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو رضائے الٰہی کے حصول میں گزارنے کے بجائے غفلت یا گناہوں میں گزار دیتے ہیں اگر کبھی ضائع ہونے والے ان قیمتی لمحات کا حساب لگانا چاہیں تو شاید ہمارے لیے ممکن نہ ہو

    البتہ کوشش ضرور کرتے رہنا چاہیے اس لیے کہ وقت ایسی نعمت ہے جو سب جو یکساں ملتی ہے

    یہ نہیں کہا جا سکتا کہ غریب کے لیے دن رات میں 24 گھنٹے ہیں تو امیر کے لیے 27۔ بلکہ اللّٰه نے ہم میں سے ہر ایک کو دن رات کی صورت میں 24 گھنٹوں میں 1440 منٹ یا 86400 سیکنڈ عطا فرمائے ہیں- اب یہ ہم پر ہے کہ کون ان اوقات کی قدر کرتا ہے اور کون برباد کیونکہ ایک نہ ایک روز اس زندگی کا اختتام ہونے والا ہے

    حضرت حسن بصری ؒ فرماتے تھے کہ :

    "اے ابنِ آدم! تو مختلف مرحلوں کا مجموعہ ہے جب بھی تیرے پاس سے دن یا رات گزرتے ہیں تو تیرا ایک مرحلہ ختم ہو جاتا ہے اور جب تیرے تمام مراحل ختم یو جائیں گے تو تو اپنی منزل یعنی جنت یا جہنم تک پہنچ جائے گا”

    خود کے ساتھ انصاف کیجیے اور غفلت کی نیند سے جاگ کر اپنی زندگی کا قیمتی وقت رائیگاں ہونے سے بچائیں کامیابی آپ کا مقدر ٹھہرے گی۔

    @H___Malik