Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • زبان اقوام کی پہچان . تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

    زبان اقوام کی پہچان . تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

    زندہ وطن میں روحِ ثقافت اسی سے ہے
    آزادیِ وطن کی علامت اسی سے ہے

    زبان کسی بھی قوم کی ثقافت کا بنیادی جزو ہے۔زبان ہی کے ذریعے انسان اپنے خیالات، جذبات اور احساسات دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ زبان کسی بھی قوم کی پہچان کی علامت ہوتی ہے۔ زبان ہر قوم کی قومی یکجہتی اور اتحاد کا مظہر ہوتی ہے۔ایسی زبان جو عوام کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرتی ہو اور اس قوم کے تمام لوگ اس زبان کو بذریعہ اظہار استعمال کرسکیں اسے قومی زبان کہتے ہیں۔
    زبانوں کا اختلاف دو قوموں کی ثقافت کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ بعض اوقات زبان کا تنازعہ دو مختلف ممالک کے قیام کا موجب بن جاتا ہے۔

    ہمارے ہاں تقسیم پاک و ہند ہو یا تقسیم مشرقی پاکستان و مغربی پاکستان اس تقسیم کی بنیادی وجہ زبان ہی تھی۔
    1867 میں بنارس میں ہونے والے اردو ہندی تنازعے کے بعد برصغیر کے مسلمانوں میں الگ وطن کے حصول کی خواہش اٹھی۔ سرسید احمد خان نے اسی تنازعے کے بعد دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھی اور تمام دنیا کو باور کروایا کہ ہندوستان ایک برصغیر ہے ملک نہیں اور یہاں پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں اور ان میں مسلمانوں کی الگ پہچان ہے۔زبان کا ہی تنازع قیام پاکستان کا سبب بنا۔

    کسی بھی ملک و قوم کی قومی یکجہتی کا انحصار اس ملک و قوم کی قومی زبان پر ہوتا ہے۔ قومی زبان ملت میں یگانگت کا سبب بنتی ہے۔ قوموں کی فلاح و بہبود اور زندہ ہونے کا ثبوت اس قوم کی زبان ہوتی ہے۔

    @mujahidabbasta1

  • امید کی کرن:  تحریر.عمرخان

    امید کی کرن: تحریر.عمرخان

    آگ تو ناجانے کب کی بُجھ گئی تھی۔ اب صرف راکھ بچی تھی اور میں اپنی سوچوں میں ڈوبا خواہشوں اور امیدوں کی تکمیل کا سوچتے اُس راکھ کو گورے جا رہا تھاجو دھیرے دھیرے یخ ٹھنڈی ہوئے جا رہی تھی۔
    میری سوچیں میرے دماغ پہ حاوی ہوئے جا رہی تھیں،
    آخر یہ اُمیدوں اور خواہشوں کی تکمیل کیونکر ممکن نہیں؟ کیونکر وقت کہ ساتھ ہر اُمید ختم ہوئے جاتی ہے؟ کیونکر میں خواہشوں کو تکمیل نہیں دے پا رہا؟لگتا تھا کہ اب کامیابی ممکن ہی نہیں۔ اب تو ناکامی مقدر ہے۔ لیکن یہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ راکھ جو میری آنکھوں کے سامنے بلکل بُھج چکی تھی‚ اس میں ایک ہلکی سی روشنی منور ہوئے جاتی ہے۔ یہ روشنی !!یہ روشنی کیسی ہے؟ ایک عجیب کشمکش میں مبتلا میں ایک اور سوچ سوچنے ہر مجبور ہوا کہ جیسے اس بُجھی ہوئی راکھ میں سے اس چھوٹی سی چنگاری نے اُمید نہ کھوتے ہوئے اپنے ہونے کا احساس مجھے دلایا تو میں انسان ہو کر نہ اُمید کیسے ہو سکتا ہوں ؟
    تب سمجھ آیا کہ انسان زندگی کہ کتنے ہی اندھیروں کا شکار کیوں نہ ہو ایک جگنو اُمید کا اسکے ہمدم ہوتا ہے جو ہر وقت اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اندھیرا زیادہ دیر نہیں ہے خواہ وہ جگنو چھوٹا ہی ہوتا ہے لیکن اس سے جڑی امیدیں بہت بڑی ہوتی ہیں.
    انسان زندگی میں کتنا ہی بے سکون اورنہ اُمید کیوں نہ ہو اسکی زندگی مکمل امیدوں اور کاوشوں ہر انحصار کرتی ہے.
    امیدیں ایک ایسی ڈور ہیں جو انسان کو زندگی کی روشنیوں سے باندھے رکھتی ہیں. زندگی کی خوبصورتی انہی چھوٹی اور بڑی امیدوں کی تکمیل پر ہے. جب زندگی میں اُمید کی کوئی کرن جاگتی ہے تو اسے پورا کرنا جوش اور ولولہ انسان کو اس کے خالق کے قریب کر دیتا ہے بس عقل انسانی اپنی امیدوں کو پہچاننے سے قاصر ہے.
    اس بُجھی راکھ میں ایک چھوٹی سی چنگاری نے آگ مکمل نہ بُجھنے کا احساس دلا کر مجھے اس قابل بنایا کہ اپنی خواہشوں کی تکمیل کےلئیے اپنی اُمید کی کرن کو کبھی مرنے نہیں دینا اور یہی زندگی کی بھاگ دوڑ ہے۔

    ‎@U4_Umer_

  • تحریر: سید غازی علی زیدی پاکستانی معاشرہ، منتشر یا مستحکم

    تحریر: سید غازی علی زیدی پاکستانی معاشرہ، منتشر یا مستحکم

    ذہنی، فکری اور نظریاتی لحاظ سے زبوں حالی کا شکار، ادراک واحساسات سے عاری، مادیت پرستی و جاہ و نصب کی چاہ میں تمام اقدار وروایات کو ٹھکراتا، پاکستانی معاشرہ۔۔۔حصول زر کیلئے ہر جائز و ناجائز کا سہارا لیتے والدین اور اس حرام کمائی کو عیاشی میں اڑاتی نوجوان نسل، تعلیم کو کمائی کا ذریعہ بناتے اساتذہ اور تربیت سے ناآشنا طلباء، غرض آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔
    تعلیم و تربیت اور اخلاقی اقدار پاکستانی معاشرے میں ایک قصہ پارینہ بنتے جارہے۔ تمیزوتہذیب کی مذہبی و مشرقی روایات جن پر کبھی فخر کیا جاتا تھا آج ان کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ معاشرہ بری طرح سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ بےشعور لوگ تماش بین جبکہ باشعور لوگ بےبسی کی تصویر بنے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ بہتان طرازی کو ہتھیار سمجھتے سیاستدان، اخلاقیات سے عاری میڈیا اور گالم گلوچ کو فیشن سمجھتی نوجوان نسل، غرض ایک طوفان بدتمیزی ہے جس نے پورے معاشرے کو یرغمال بنایا ہوا۔ کیا بچے، کیا بوڑھے کیا خواتین، ہر ایک نے تمیز کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ تنقید برائے تنقید ہم لوگوں کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ حسد، غیبت، جھوٹ، چغلی غرض ہر وہ اخلاقی برائی جس پر قرآن وسنت میں سخت سزا کی وعید ہے وہ آج ہمارے سماج میں معمولی بات سمجھی جاتی۔
    پاکستانی عوام ہر بات میں مغرب کی مثال دیتے نہیں تھکتے لیکن جب بات اصولوں کی آئے تو ہم سے بڑا بےاصول کوئی نہیں۔ ایک طوفان بدتمیزی ہے جس کی ہر شعبہ زندگی پر یلغار ہے۔ سوشل میڈیا کے نام نہاد جنگجو اپنا مقصد پورا کرنے کیلئےہر حد پار کرتے نظر آتے۔ سمارٹ فون کی آڑ میں نہ کسی کی عزت محفوظ ہے نہ جان۔ بلاشبہ سوشل میڈیا کے مثبت کردار سے کسی کو انکار نہیں جس کی وجہ سے بڑے بڑے مجرم نہ صرف بینقاب ہوئے بلکہ ان کو سزائیں بھی ہوئیں۔ لیکن وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارا معاشرتی نظام دن بدن زبوں حالی کا شکار ہو رہا اور آنے والے کل کی بنیاد دروغ گوئی، فحاشی اور دشنام طرازی پر رکھی جارہی ہے۔ بلا تحقیق کے کی گئی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ اچھی بھلی زندگیوں کو جہنم بنانے کیلئے کافی ہے۔ بلیک میلنگ کا گھناؤنا کھیل اپنے عروج پر ہے۔
    بقول شاعر!
    انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر
    انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا
    مجموعی طور پر یہ حالات اچھے خاصے انسان کو نفسیاتی مریض بنانے کیلئے کافی ہیں۔ سونے پر سہاگا! مایوسی اور ناامیدی زہر قاتل کی طرح معاشرے کی رگوں میں سرائیت کر چکی ہے۔
    کوئی بھی ذی شعور انسان سوشل میڈیا کا تجزیہ کر کے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کر سکتا کہ انتہا پسندی کا شکار، فہم و فراست سے عاری معاشرہ انتشار اور بگاڑ کی راہ پر گامزن ہے۔ تعلیم و آگاہی سے نابلد نوجوان نسل کو انٹرنیٹ کا بے دریغ استعمال جسمانی و ذہنی طور پر تباہ کررہا۔ عامیانہ اور محدود سوچ کے حامل افراد اپنا جاہلانہ نقظہ نظر ہر کس و ناکس پر تھوپتے نظر آتے۔ اخلاقیات اور علم و دانش کا جنازہ نکل چکا ہے جبکہ والدین، اساتذہ و اربابِ اختیار بے بسی سے تماشا دیکھ رہے ہیں۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات میں سے باشعور لوگ آگے آئیں اور منظم ہو کر اخلاقی پستی، مذہبی عدم برداشت، بےراہ روی جھوٹ اور فریب کی دلدل میں جکڑے زوال پذیر معاشرے کو باہر نکالنے کا عزم کریں۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ "اللّٰہ تعالیٰ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی اور بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو”(سورہٗ النحل۔90 )
    یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ جب کوئی معاشرہ بداعمالیوں میں حد سے تجاوز کر جاتا ہےتو خداایک حد تک اُسے مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کر لے۔ لیکن اگر برائی کی روش برقرار رہے تو قانون قدرت حرکت میں آتا دنیا ہی میں ذلت اور پستی مقدر بن جاتی۔ہم مسلمانوں کیلئے دین اسلام ہی واحد نصب العین اور حضور اکرم ﷺ کی اسوہ حسنہ بہترین نمونہ ہے۔ اور اسی پر عمل کرکے ہم ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے اور دنیا و آخرت میں سرخروئی حاصل کر سکتے۔

    : @once_says

  • تحریر : روشن دین دیامری :  موجودہ  دور میں ہم سیرتؐ سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں

    تحریر : روشن دین دیامری : موجودہ دور میں ہم سیرتؐ سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پوری انسانیت کے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ اپؐ کی تعلیمات ہمارے لے ثقافت یا مذہب سے قطع نظر اس دنیا کی ہر قوم کے لئے معاشرتی ترقی اور خوشحالی کے مثال کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اپؐ کی ولادت ہم سب کے لے باعث رحمت ہے ، یہ بہت اہم ہے کہ ہم اپؐ کے پیروکار ہونے کے ناطے ، ان کی پیش کردہ اسلامی تعلیمات کے تناظر میں اپنے موجودہ معاشرتی الجھنوں کا سنجیدگی سے تجزیہ کریں اور انسانیت کو ناانصافی اور جبر سے آزاد کرنے کے لئے اپؐ کے حکمت عملی پہ عمل کرے ۔ ہم اپؐ کے زندگی کے مختلف پہلوں کا تجزیہ کرکے جس میں اپؐ کی طرف سے اجتماعی بنیادوں پر شروع کی گئی جدوجہد کا طریقہ کار پہ عمل کر سکتے ہیں ، ہم استحصالی قوتوں کے ہاتھوں انسانیت کی مروجہ پریشانی اور بدحالی کو ختم کرنے کے لئے یقینی طور پر اپنے لائحہ عمل کو طے کرسکتے ہیں۔ حضور نبی اکرم (ص) کی زندگی سے متعلق پہلا اور اہم تصور یہ ہے کہ ان کی آمد کا واحد مقصد اس وقت کے ظالم نظام سرمایہ دارانہ طاقتوں کے ذریعہ مسلط انسانیت کو ظلم ، جبر اور استحصال سے آزاد کرنا تھا۔ بلا شبہ ، اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے اس مشن کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا اپنے دور کے استحصالی معاشی اور سیاسی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کر ، معاشی انصاف ، معاشرتی مساوات ، اجتماعیت ، امن ، اور انسانیت پسندی کے اصولوں پر مبنی معاشرتی نظام کی بنیاد رکھی۔ اپؐ کی زندگی کا ہر پہلو اسلامی اصولوں پر زور دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الوداعی خطبہ میں ، انہوں نے کہا ، "لوگو ، بیشک آپ کا رب اور پالنے والا ایک ہے اور آپ کا آباؤ اجداد ایک ہے۔ آپ سب حضرت آدم علیہ السلام کے اولاد ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنے تھے۔ اللہ کے سامنے تم میں سب سے ممتاز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ کسی
    عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں ہے اور نہ ہی کسی عربی پر کسی عجمی کو فضیلت حاصل ہے نہ ہی کسی گورے کو سیاہ پر اور نہ ہی کسی سیاہ کو کسی گورے پر ، سوائے اس کے کہ جس کا تقویٰ ذیادہ ہو۔ قبل از اسلام میں ، خواتین کو انتہائی شرم کی علامت سمجھی جاتی تھی اور ان کے معاشرے میں کوئی قابل احترام حیثیت حاصل نہی تھی۔ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرتی مساوات پر مبنی نظام کے نفاذ کے ذریعہ ان سے باوقار اور خود مختار زندگی جینے کا حق دیا۔ اپؐ کے متعدد تعلیمات خواتین کی عزت اور معاشرے میں ان کے کردار پر زور دیتی ہیں۔
    مثال کے طور پر ، اپنے الوداعی خطبے میں ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ، "اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ یہ ان کا حق ہے ۔اور وہ بہت سارے معاملات خود سنبھالنے سے قاصر ہیں۔ لہذا اللہ سے ڈرو اور ان کے بارے میں شعور رکھو ،اور ان کے جائر مطالبات پورے کرو جسے میں نے اپ کو کر کے دیکھایا ہے۔ ، آپ کا باہمی رشتہ مقدس ہے۔ اجتماعی اور ایمانداری کی بنیاد پر آنحضرتؐ کی زندگی کے مذکورہ بالا اصولوں کا تجزیہ کرکے ، ہم اپنے موجودہ معاشرتی بحران پر قابو پانے کے لئے حکمت عملی مرتب کرسکتے ہیں۔ سنت نبوی (ص) کا دوسرا پہلو اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کی باضابطہ جدوجہد ، معاشرے کے غلط لوگو ں کی نشاندہی کرکے ایک اچھا معاشرہ بنایا جاائے ۔اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے حکمران طبقے کے استحصال ایجنڈوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک اجتماعی حکمت عملی تیار کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا گہرا تجزیہ یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی پوری جدوجہد کا جو کہ دنیا بھر استحصال زدہ سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کو ختم کرنا تھا۔ اس وقت ، مکہ مکرمہ کے خود غرض حکمران طبقے نے اپنی قوم کو دھوکہ دہی سے غلام بنانے کے لئے ایک بے رحمانہ سیاسی نظام بنایا تھا۔ اور وحشیانہ اور غیر انسانی سلطنتں جیسے روم اور فارس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھی یہی معاملہ تھا۔ مکہ مکرمہ کے اس مستند حکمران فرقے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انسانیت دوست مشن کی شدید مخالفت کی اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو سخت تکلیف پہنچائی۔ انہوں نے معاشرے کے کمزور اور لاچار لوگوں کو اپنی نمائندگی قبول کرنے اور اپنے مسلط کردہ آمرانہ نظام کی بالادستی کی مکمل پابندی کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ حضور (ص) عرب ممالک پر ذاتی شان و شوکت کی خواہش رکھتے ہیں۔لیکن اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے مل کراس ظالمانہ نظام کو ختم کر دیا اور ایک عادلانہ معاشرہ قائم کیا۔ اللہ تعالی سے دے دعا ہے ہم اپؐ اور جماعت صحابہؓ کے طرز زندگی پہ عمل کر کے ایک انسانی معاشرہ ترتیب دیں۔امین

    @rohshan_Din

  • تحریر  شمیل:  سوشل میڈیا کا کردار

    تحریر شمیل: سوشل میڈیا کا کردار

    آج کل ہر طرف ایک نفسانفسی ہے ہر کوئی اپنے مہیا پلیٹ فارم سے آواز اٹھا چاہتا ہے اپنی آواز کو حکام بالا تک یا کم از کم اس بند کواڑ تک لے جانا چاہتا ہے جس سے یا جہاں سے اس کے مسئلے کا یا ان لوگوں کے مسائل کا مداوا ہو سکے جن کے لیے وہ آواز اٹھا رہا ہے.

    مختلف قسم کے لوگ ہر طبقے ہر میڈیم پہ آواز اٹھاتے ہیں
    کہیں کوئی سڑکوں پہ احتجاج کر رہا ہے
    کہیں کوئی تھانے کچہری کے سامنے
    کہیں کوئی ہسپتال کے سامنے عمل پیرا ہے

    غرض یہ کہ جس کی جہاں تک رسائی ہو پاتی ہے وہ وہاں تک جاتا ہے.
    ہمارے معاشرے اور ہماری زندگیوں میں بہت بڑا بدلاؤ جو چیز لے کر آئ وہ ہے سوشل میڈیا کا دور
    یوٹیوب
    فیس بک
    انسٹا گرام
    ٹویٹر
    وغیرہ وغیرہ.
    ان کا کردار بہت ہی مثبت ہے لیکن ایک بات واضع کر دوں کہ کردار مثبت تب ہی ممکن ہوتے ہیں جب آپ کا اپنا عمل مثبت ہو اور اس کے ثمرات اس سے بھی بڑھ کے نکلتے ہیں..
    بہت سے لوگوں کو انصاف کی فراہمی بروقت بھی میسر ہوئی اور بہت سے لوگوں کے سالوں لٹکے کام بھی پورے ہوے جب بہت سے لوگوں نے مل کر سوشل میڈیا پہ مثبت آواز کو مسئلے کو اجاھر کیا جن میں زینب قتل کیس ہو گیا جو سرفہرست ہے لوگوں کا سوشل میڈیا کے ذریعے آواز اٹھانا ہی اداروں کو حرکت میں لے کر آیا..
    قصہ مختصر یہ کہ جہاں منفی سوچ کو مار دینا ہو منفی نیت کو ختم کرنا ہو وہاں مثبت پہلو اور ارادہ لازم ہے.

    @Shameel512

  • شرم و حیا . تحریر: ہیر ملک

    شرم و حیا . تحریر: ہیر ملک

    نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ… اَمّا بَعْد…

    آج کچھ بات کرتے ہیں شرم و حیا اور دینِ اسلام میں اس کی اہمیت پر.

    حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ "حیا ایمان میں سے ہے اورایمان جنت میں ہے. بے حیائی بدی میں سے ہے اور بدی جہنمی ہے.” (ترمذی شریف)
    یعنی اہلِ ایمان جنتی اور بے حیا جہنمی ہیں.

    شرم و حیا عورت کا زیور اور مرد کی زینت ہے. شرم و حیا دونوں ہم معنی الفاظ ہیں جن کا مطلب ہے کہ جس کام میں انسان کو کوئی گُناہ یا بے ادبی معلوم ہو اُس سے پرہیز کرے.

    انسان کا یہ فطری وصف ہے جس سے اِس کی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی پرورش ہوتی ہے. شرم و حیا ایک ایسی خوبی ہے جو بہت سے گناہوں سے بچاتی ہے. عفت اور پاکبازی کا دامن اِسی کی بدولت ہر داغ سے پاک رہتا ہے.

    حدیثِ قُدسی میں آیا ہے کہ "عزت اور جلال والے رب کو اِس بات سے حیا آتی ہے کہ جب اُس کا کوئی بندہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر کچھ مانگتا ہے اور وہ اُن ہاتھوں کو خالی لوٹا دے.” (مسند احمد)

    حیا کا فطری وصف اگرچہ اپنی جگہ تعریف کے قابل ہے تاہم وہ کبھی کبھی انسان کے لیے اس وقت مُضر بھی ہو جاتا ہے جب اُس میں بُزدلی اور خوف کا عنصر شامل ہو جاتا ہے اور وہ بہت سے اجتماعی کام محض شرم و حیا کی وجہ سے نہیں کر سکتا. اِس لیے حیا کی حقیقت میں بُزدلی کا جو جُز شامل ہے شریعتِ مطہرہ نے اِس کی اصلاح کی ہے اور وہ یہ ہے کہ امرِ حق کے اظہار میں شرم و حیا دامن گیر نہ ہو. لیکن دوسروں کی مروت سے چُپ رہ جانا ایک قسم کی شرافت ہے جو ایک معنی میں تعریف کے قابل ہے. چنانچہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نہایت شرمیلا اور حیادار تھا. اِس وجہ سے نقصان اٹھاتا تھا. اُس کا بھائی، اُس پر ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا. حضور ﷺ نے دیکھا تو فرمایا "اِس پر غُصہ نہ کرو کیونکہ حیا ایمان سے ہے.”

    یہی شرم و حیا جو ایمان کا ایک جُز ہے شرعی حیا ہے. یعنی جس طرح ایمان کا مطلب یہ ہے کہ تمام فواحش و منکرات سے اجتناب کیا جائے اِسی طرح شرم و حیا بھی انسان کو اِن چیزوں سے روکتی ہے.

    شرم و حیا انسان میں فطری ہوتا ہے اور اگر اِس کی مناسب تربیت کی جائے تو وہ قائم رہتا ہے اور اگر اِس کے خلاف صحبت مل جائے تو اِس کا ساتھ جاتا رہتا ہے. مثال کے طور پر مشرق کی عورت اور مرد میں شرم و حیا ہر معاملہ میں بدرجہ اتم موجود ہے اِس کے برعکس مغرب کی عورت و مرد شرم و حیا سے قطعاً عاری ہیں.

    ایک بچہ جس کی تربیت شرم و حیا کے مطابق کی جائے وہ کسی کے اصرار پر بھی اپنے کپڑے اُتارنے کو تیار نہیں ہو گا. مثال کے طور پر کسی بھی بچے کے حساس سَتر کو برہنا کریں گے تو وہ بچہ اس کی مدافعت کرے گا اور کئی بچے تو ہاتھوں سے مزاحمت اور رو کر اس کی مدافعت کرتے ہیں.

    رسول ﷲ ﷺ جب بچے تھے تو خانۂ کعبہ کی تعمیر کا کام ہو رہا تھا. آپ ﷺ اینٹیں اُٹھا اُٹھا کر لا رہے تھے. آپ ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ نے کہا کہ تم تہمد کھول کر کندھے پر رکھ لو کہ اینٹ کی رگڑ نہ لگ جائے. آپ ﷺ نے ایسا کیا تو آپ ﷺ پر بے ہوشی طاری ہو گئی. ہوش آیا تو زبان پر تھا "میرا تہمد”. حضرت عباسؓ نے تہمد باندھ دیا.

    نبوت کے بعد بھی آپ ﷺ کا یہ حال تھا کہ صحابہؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلے تھے.

    حدیث شریف میں ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا: "الحَيَاءُ خَيرٌ كُلُّهٌ” یعنی حیا سراپأ خیر ہے.
    یعنی حیا سراسر خیر ہے اور اس میں سو فیصد خوبیاں ہیں.

    شرم و حیا کی کئی اقسام ہیں. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "ایمان کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا ایمان کی ایک بہت بڑی شاخ ہے.” (بخاری شریف)

    ​ان اقسام پراگر لکھا جائے تو ایک زندگی چاہیے. انسان کی زندگی کے ہر معاملہ میں شرم و حیا کا دخل ہے. مثلاً لڑکیاں لڑکوں کے ہجوم میں جاتے ہوئے گھبراتی (شرماتی) ہیں. اگر اُن کو کوئی چیز لینی ہے تو صرف شرم و حیا ہی اُن کا رستہ روکتی ہے. اس کے برعکس مردوں کے لیے شرم و حیا یہ ہے کہ وہ عورتوں کا ہجوم دیکھ کر راستہ سے ہٹ جاتے ہیں، نگاہیں جھکا لیتے ہیں یا پھر کام کی جگہ پر عورتوں کو پہلے کام کرنے دیں یا اُن کے لیے کام کرنے کے لیے جگہ بنائیں.

    لین دین، رشتہ داری، ہمسائیگی، شہری، دوست، مُلکی دوست، غیر مُلکی دوست، حتی کہ اس کا دائرہ کار تمام انسانیت پر مُحیط ہے.

    شرم و حیا ایک مسلمان، کافر کے ساتھ سلوک کرتے ہوئے بھی ملحوظِ خاطر رکھتا ہے. مثال کے طور پر رسولِ کریم ﷺ نے کُفارِ مکہ کے ساتھ ہر معاملہ میں شرم و حیا اور اخلاق کا دامن کبھی نہیں چھوڑا. یہ شرم و حیا ہی تھی کہ فتحِ مکہ کے بعد، عورتوں، بچوں اور ضعیفوں پر ہاتھ اُٹھانے سے سختی سے منع کیا گیا تھا. جس کے گھر کا دروازہ بند ہو اُس پر حملہ کرنے سے منع کیا گیا. اور شرم و حیا کی حد یہ تھی کہ اپنے عظیم دشمن ابو سفیان کے گھر پناہ لینے والے کو بھی معاف کیا.

    حضور ﷺ نے زندگی کے ہر معاملے میں، ہر قوم اور ہر نسل کے ساتھ شرم اور حیا کا خیال رکھتے ہوئے سلوک کیا. اگر تمام مسلمان "خصوصاً” اور دوسرے انسان "عموماً” اس پر عمل کرنا شروع کر دیں تو اولادِ آدم ایک قوم بن کر اُبھرے گی.

    یہ شرم و حیا کا عمل ہے جس کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان سے محبت کرتا ہے. اُس کی مدد کرتا ہے. اُس سے روابط بڑھاتا ہے، رشتہ داریاں پیدا کرتا ہے، تجارت کرتا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جُلنا بڑھاتا ہے.

    شرم و حیا صرف ایمان ہی نہیں بلکہ مکمل دین ہے.
    حدیثِ قُدسی میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
    "ہر دین کی (خاص) عادت ہوتی ہے اور اسلام کی عادت حیا ہے”. (مشکوٰۃ شریف)

    یہی انسانیت کی معراج ہے. اگر انسان میں فطرتاً شرم و حیا نہ ہوتی اور وہ اس کی حفاظت نہ کر پاتا تو دُنیا میں آج انسانیت نہ ہوتی بلکہ چنگیزی ہوتی.
    جیسا کہ ایک اور حدیثِ قُدسی میں ارشاد کیا کہ”حیا اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اٹھ جائے تو دوسرا بھی خود بخود اٹھ جاتا ہے”. (مشکوٰۃ شریف)

    ایک اور حدیث میں حیا کی فضیلت اس طرح بیان ہوئی کہ "بے حیائی جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے عیب دار ہی بنائے گی. اور حیا جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے مزین اور خوبصورت ہی کرے گی.” (ترمذی شریف)

    انسان کو ﷲ کا شُکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے انسان کو مل کر رہنے کے لیے شرم و حیا جیسا عطیہ عطا فرمایا جس کی وجہ سے وہ آج اشرف المخلوقات ہے.

    و آخر دعوانا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ…

    @heermmalik

  • ‏مسلمانوں کی اصل تاریخ . تحریر:عرفان محمود گوندل

    ‏مسلمانوں کی اصل تاریخ . تحریر:عرفان محمود گوندل

    مسلم سائنسدانوں کا حشر جو خود مسلمانوں نے کیا۔

    یعقوب الکندی
    فلسفے، طبیعات، ریاضی، طب، موسیقی، کیمیا فلکیات کا ماہر تھا۔ الکندی کی فکر کے مخالف خلیفہ کو اقتدار ملا تو مُلّا کو خوش کرنے کی خاطر الکندی کا کتب خانہ ضبط کر کے اس کو ساٹھ برس کی عمر میں سرعام کوڑے مارے گئے اور تماش بین عوام قہقہہ لگاتے تھے۔

    ابن رشد
    یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اندلس کے مشہورعالم ابن رشد کو بے دین قراردے کراس کی کتابیں نذرآتش کر دی گئیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے جامع مسجد کے ستون سے باندھا گیا اور نمازیوں نےاس کے منہ پر تھوکا۔ اس عظیم عالم نے زندگی کے آخری دن ذلت و گمنامی میں بسر کیے

    ابن سینا
    جدید طب کے بانی ابن سینا کو بھی گمراہی کا مرتکب اور مرتد قرار دیا گیا۔ مختلف حکمران اس کے تعاقب میں رہے اوروہ جان بچا کر چھپتا پھرتا رہا۔ اس نے اپنی وہ کتاب جو چھ سو سال تک مشرق اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی، یعنی القانون فی الطب، حالت روپوشی میں لکھی۔

    زکریاالرازی
    عظیم فلسفی، کیمیا دان، فلکیات دان کو جھوٹا اور کافر قرار دیا گیا حاکم وقت نے حکم دیا کہ اس کی کتاب اس وقت تک اس کےسر پر ماری جائے جب تک یا تو کتاب نہیں پھٹ جاتی یا رازی کا سر اس طرح بار بار کتابیں سرپہ مارے جانے کی وجہ سے وہ اندھا ہو گیا اور باقی زندگی کبھی نہ دیکھ سکا۔

    خلافت عثمانیہ کے ٹوٹنے کی بہت سی وجوہات تھیں لیکن جو سب سے بڑی وجہ تھی وہ یہ تھی کہ کچھ مولویوں نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ توپ کے گولوں میں حرام میٹریل استعمال ہوتا ہے لہذا اس میٹریل کو بنانا تو دور کی بات اس کے قریب جانا بھی گناہ کبیرہ ہے ۔
    سرسید احمد خان نے دیکھا کہ برصغیر میں ہندو تعلیمی میدان میں باقی سب قوموں سے آگے بڑھتے جارہے ہیں، ہر اسکول اور کالج میں
    ہندو اورمسلمان طالب علموں کا تناسب دس اور ایک کا ہے اور اگر کہیں پر دو چار مسلمان طلبا ہیں تو وہ بھی انگریزی کے قاعدے کو ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے ہیں، دوسرے لفظوں میں ان دنوں والدین اور مولوی حضرات انگریزی زبان اور کتاب کو ہاتھ لگانا مکروہ قرار دے رہے تھے۔ ایسی صورتحال پر سر سید احمد خان کا ماتھا ٹھنکا اور انھوں نے مسلمان طلبا کو انگریزی تعلیم حاصل کرنے پر آمادہ کرنے کی مہم چلائی جس کے نتیجے میں ان پر انگریز کا پٹھو اور کافرہونے کے فتوے لگادیے گئے۔

    کبھی کبھی سوچتا ہوں ہم اپنے بچوں کو سچ کیوں نہیں پڑھاتے ۔۔۔ ؟
    مسلمانوں جیسے جیسے غدار پچھلے ہزار سال میں پیدا ہوئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی ۔
    جس طرح مسلمانوں نے اپنے طاقت کو زوال میں تبدیل کیا اور جیسے اپنے آپ کو تباہ کیا ۔
    آنے والی صدیوں میں لوگ حیرت کا اظہار کریں گے کہ ان مسلمانوں کا دین انہیں کیا کہتا تھا اور یہ کرتے کیا تھے ۔

    بدقسمتی سے ہم مسلمان خود اپنے اکابرین کے اس بیش بہا خزانے سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ سلسلہ اب بھی اگر اسی طرح جاری رہا تو آنے والی دہائیوں اور صدیوں میں مسلم امہ اقوام عالم سے مزید پیچھے رہ جائے گی۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ خواب غفلت سے نکلا جائے
    اور  اگر آگے بڑھنا ہے تو ایک قومی ایمرجنسی لگانی ہوگی تاکہ ہماری قوم اپنا سارا زور تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کی طرف لگائیں تاکہ غربت کے شکنجے سے آزاد ہوسکیں۔

    @A_IG68

  • ‏بانی پاکستان تیرا احسان ہے . تحریر: سیدماجد حسین شاہ

    ‏بانی پاکستان تیرا احسان ہے . تحریر: سیدماجد حسین شاہ

    پاکستان کے بانی محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں واقع وزیرمینشن کے نام سے مشہورمکان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام پونجا جناح تھا ، اور والدہ مٹھی بائی تھیں ، وہ ایک مرچنٹ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک عظیم سیاست دان اور اپنے وقت کے ایک مشہور وکیل بھی تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرستہ الاسلام میں حاصل کی، میٹرک کا امتحان جامعہ ممبئی سے پاس کیا اور بعدازاں اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر لندن روانہ ہوگئے۔ محمد علی جناح نے 1895 میں لندن کی یونیورسٹی سے 19 برس کی عمر میں قانون کی ڈگری حاصل کرکے کم عمر ترین ہندوستانی قانون دان کا اعزاز حاصل کیا اور کچھ ہی عرصے بعد ہندوستان واپس آکر باقاعدہ طور پر وکالت کا آغاز کیا جہاں ان کا شمار نامور وکلا میں کیا جانے لگا۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے بہت جدوجہد کی اور اپنی غیر معمولی کاوشوں کی بدولت انہیں مولانا مظہرالدین نے "قائداعظم” کے لقب سے نوازا۔

    بیس سال کی عمر میں آپ نے بمبئی ہائی کورٹ میں داخلہ لیا جب وہ برٹش انڈیا واپس آئے تو بار میں داخل ہونے والے وہ سب سے کم عمر شخص تھے ، جہاں انہوں نے قوم کے سیاسی امور میں دلچسپی لینا شروع کی اور اگلے تین سالوں میں مشہور ہوگئے۔ بمبئی کے ایڈووکیٹ جنرل نے انہیں اپنے بار کے لئے کام کرنے کی دعوت دی اور چھ ماہ کے بعد 1500 روپے ماہانہ تنخواہ کی پیش کش کی ، جو اس وقت بہت بڑی رقم تھی لیکن انہوں نے نرمی سے اس پیش کش سے انکار کردیا اور کہا کہ اس نے روزانہ 1500 کمانے کا منصوبہ بنایا ہے اور اسے ثابت کردیا کہ اس کی بے عیب کوششوں سے مستقبل میں ممکن ہے۔ لیکن نئی ریاست پاکستان کے بطور گورنر جنرل ، انہوں نے اپنی ماہانہ تنخواہ کے طور پر 1 روپیہ مقرر کیا۔ وہ عدل پسند آدمی اور سمجھدار شخصیت تھے۔

    جناح نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے 1906 میں کیا ، پھر سات سال بعد ، وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے کانگریس اور مسلم لیگ کو ایک ساتھ کام کرنے کے لیے بہت جدوجہد کی لیکن ایک ہی وقت میں ، انہوں نے برصغیر میں نسلی مذہب کی ثقافت کو پایا اور محسوس کیا کہ برصغیر کے مسلمان انگریزوں کے تحت اپنے ثقافتی اور معاشرتی حقوق کی قربانی دے رہے ہیں۔پھر انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے اپنی کوششیں شروع کیں اور ایک آزاد ریاست بنانے کا منصوبہ بنایا جہاں مسلمان آزادی کا سانس محسوس کرسکیں۔ سب سے بڑی طاقت اس آزادی میں تمام مسلمان تنظیموں کا اتحاد تھا ، اور یہ قائد اعظم کی قیادت ہے جو برصغیر کے تمام مسلمانوں کو ایک علیحدہ مملکت رکھنے کے اسی ایجنڈے پر متحد کیا۔ پاکستان کا قیام ہزاروں آزادی پسندوں کے خون کے ساتھ ساتھ جناح کی قیادت کا نتیجہ ہے ، پاکستان ان کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا تھا۔

    وہ حق اور سچ کے سب سے بڑے ترجمان تھے، وہ ہمیشہ مخالفین کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا ہو جا تےتھے اور کبھی کسی بات کو ناممکن نہیں سمجھتے تھے ۔ گاندھی نے ان اصولوں کے عزم کے سبب انہیں "ناممکن آدمی” کہا۔ جناح نے کہا: "فیصلہ سنانے سے پہلے سو بار سوچو ، لیکن ایک بار فیصلہ سنانے کے بعداس پر ڈٹ جاو ، اس فیصلے کے ساتھ ایک مضبوط آدمی کی طرح کھڑے ہو جاؤ
    1930 میں وہ برصغیر کے تمام مسلمانوں کا غیر متنازعہ رہنما بن گئےاور مسلم لیگ کی قیادت کرنا شروع کردی۔ 1940 میں، مسلم لیگ نے مینار پاکستان لاہور میں قرارداد پاکستان کا مسودہ تیار کیا ، جو جنگ آزادی میں ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ثابت ہوا ہے۔ قرارداد پاکستان منظور ہونے کے بعد ، آپ نے دن رات محنت کی اور اپنی صحت کے بارے میں بھی فکر مند نہیں رہےجو دن بدن گرتی جارہی تھی ، لیکن آپ نے نے اسے خفیہ رکھا اور کبھی کسی کے سامنے اس کا انکشاف نہیں ہوں دیا ، ان کی قربانی اپنے مفاد کے لئے نہیں بلکہ پوری مسلم قوم کیلئے تھی۔ ان کی دانشمندانہ قیادت اور بھرپور کوشش کی وجہ سے ہی پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا۔ وہ کئی سالوں سے تپ دق کے ساتھ برسرپیکار رہے لیکن اسے کبھی بھی اپنی کمزوری نہیں بنایا.

    قائداعظم محمد علی جناح ہمیشہ تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کے خواہاں تھے لیکن انھوں نے کشمیر کو ہندوستانی چنگل سے آزاد کروانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کا عزم بھی کیا تھا، قائداعظم کے کشمیر کے تین دورں سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں کشمیر اور اس کی سیاست میں گہری دلچسپی تھی، قائداعظم اصولوں والے آدمی تھے۔ وہ پاکستان کے مشن پر اپنی ذمہ داری اور مستحکم یقین کے پیش نظر کامیاب ہوئے اور آج ہمیں بھی اسی عزم اور حوصلےکی ضرورت ہے۔ قائد کے وژن سے انحراف پاکستان کے استحکام کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوگا۔ اگر کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہ بنایا گیا تو مستقبل میں ملک کو شدید چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کی صورتحال نے قائداعظم محمد جناح کے ہر لفظ کو درست ثابت کیا۔ ایک سیاسی طور پرمتحد، معاشرتی طور پر ہم آہنگ اور معاشی طور پر خوشحال پاکستان غیر قانونی بھارتی محکومیت سے کشمیر کی آزادی کی راہ ہموار کرے گا۔ قائد اعظم کی کشمیریوں کے ساتھ وابستگی کی تکمیل ہوگی.

    فرمان قائداعظم ہےحب الوطنی لوگوں کو ملک و قوم کے مفاد کو محفوظ رکھنے کی طاقت اور ہمت دیتی ہے۔ حب الوطنی کے لئے ملک کی خودمختاری ، سالمیت اور وقار اعلیٰ ترین اقدار ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ محب وطن ان اقدار کے تحفظ کے لئے قربانی پیش کرتے ہیں دو قومی نظریے قیام پاکستان کی اساس ہے۔ دو قومی نظریہ نےبرصغیر کے دو بڑی برادریوں ، ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین ثقافتی ، سیاسی ، مذہبی ، معاشی اور معاشرتی عدم مساوات ہیں۔
    قائداعظم کے حوالے
    1-میں صحیح فیصلہ لینے میں یقین نہیں رکھتا ، میں فیصلہ لاتا ہوں اور اسے درست کرتا ہوں۔”
    محمد علی جناح
    2-فیصلہ لینے سے پہلے سو بار سوچو ، لیکن ایک بار جب فیصلہ کرلیا جاتا ہے تو ایک مضبوط آدمی کی طرح اس کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔
    – محمد علی جناح
    3-دنیا میں دو طاقتیں ہیں۔ ایک تلوار ہے اور دوسرا قلم۔ دونوں کے مابین زبردست مقابلہ اور دشمنی ہے۔ ان دونوں کی نسبت خواتین کی ایک تیسری طاقت مضبوط ہے۔
    – محمد علی جناح
    3-بہترین کی توقع کرو ، بدترین کے لیے تیار رہو۔
    – محمد علی جناح
    4-جمہوریت مسلمانوں کے خون میں ہے ، جو انسانیت کی مکمل مساوات پر نگاہ رکھتے ہیں ، اور بھائی چارے ، مساوات اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔
    – محمد علی جناح
    5-کوئی بھی قوم عظمت کے عروج تک نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ آپ کی خواتین آپ کے شانہ بشانہ نہ ہوں۔ ہم بری رسم و رواج کا شکار ہیں۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے کہ ہماری خواتین گھروں کی چار دیواری کے اندر قیدی بن کر بند رہیں۔ اس قابل فریب حالت کے لئے کہیں بھی اجازت نہیں ہے جس میں ہماری خواتین کو رہنا پڑے۔
    محمد علی جناح اس کے علاوہ ان کی اور بھی کوٹیشنز ہیں آپ بہت ہی ایماندارشفیق اور سادہ انسان تھے
    11 ستمبر 1948 کو آپ کی موت ہوگئی ، جب آپ نے کہا ، “اسٹیٹسمین ایک قاتل کی سرپرستی سے مر گیا تھا۔ اسٹیٹسمین کا پاکستان سے تعزیت کے بعد ہی انتقال ہوگیا۔ ایک ایسا شخص جس میں اسٹیٹسمین ، جس نے پاکستان کے درپے ہونے کی جنگ لڑی تھی ، وہ مخالف دشمن پیدا کرنے اور ناقابل قبول ریاست میں ہلچل تک محدود تھا اور زیادہ تر غلط فہمی ہونے کا یقین رکھتا تھا۔
    شکریہ قائداعظم اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے آمین
    پاکستان زندہ باد

    ‎@SHAHKK14

  • اردو زبان کا زوال . تحریر : طلحہ

    اردو زبان کا زوال . تحریر : طلحہ

    أردو زبان کا زوال کی جانب بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث ہماری روایات، معاشرتی اقدار، اخلاقیات، طور طریقے حتیٰ کہ چال چلن سب کچھ تبدیل گا جن ہوچکا، گویا یوں سمجھئے ہم نے غیر لوگوں کی زبانوں کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہم جس معاشرے کا حصہ بنتے جارہے یا بن چکے ہیں قوی امکان اورگہری أمید وابستہ کی جاسکتی ہے کہ ہمارا اردو زبان سے مکمل تعلق ختم ہو جائے گا، یا پھرہم اردو زبان کو فقط اپنی قومی زبان ہی کہہ سکیں گے اس بڑھ کر کچھ نہیں غیر قانونی اور غیر پسندیدہ زبانیں جس قدر ہمارے دماغ، ہمارے جسم میں پیوست ہوتی جارہی ہیں جس طرح ہمارے معاشرے کا لازمی جزو بنتی جارہی ہیں ہم بجائے ترقی کریں ہم دن بدن نیچے جارہے ہیں.

    کیونکہ جو قوم اپنی قومی زبان کو اپنے گھروں، اپنے معاشرتی اقدار و روایات، اپنی تعلیم، اپنے طور طریقے میں رائج نہیں کرسکتی وہ قوم مشکل ہی کیا کبھی بھی ترقی کا ہلکا سا مزہ بھی نہیں چکھ سکتی، ہماری قومی زبان اردو کی تباہی کے زمے دارانگریزوں کی نحوست تو ہے ہی ہم بھی قومی زبان کی تباہی اورپستی کے برابرکے قصور وارہیں أردو کی تنزلی کی صورتحال کا آپ اس ایک بات سے لگا لیں حال ہی میں گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران احمد خان نیازی نے ایک مراسلہ جاری کیا کہ آئندہ جو بھی قومی یا سرکاری تقریبات منعقد ہوں گی یا کوئی بھی سرکاری سیمنار منعقد کیا جائے گا اسکو أردو زبان میں رائج کیا جائے گا دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی مراسلے کو انگلش زبان میں شائع کیا گیا اس قدر اردو زبان کی پَستی کا اندازہ شائید ہی کبھی نہ ہو مطلب ہم مکمل بے حِس اور لاچار ہی یہاں پراس امرکا ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے.

    ہم انگلش کے نام پراس قدرغلام ہوچکے ہیں کہ انگریزی ہمارے معاشرے کا لازمی جزو بنتی جارہا ہے، غیر محسوس طریقے سے اورجس انداز سے أردو کا زوال شروع ہوا وہ اب تک جاری ہے نا جانے کب رکے، ہمارا تعلیمی لیول میں انگریزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے پہلے پڑھائی کرنے والے کو طالب علم کہتے تھے اب سٹوڈنٹس بن گئے ہیں اردو کی بے بسی اور تنزلی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ طالب علم سے لے کر سٹوڈنٹس تک آتے آتے ہم اپنی قومی زبان کو مکمل بھول چکے ہیں.

    میرا وزیراعظم عمران احمد خان نیازی سے مطالبہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام سے لے کر ریاستی نظام اورمعمالات میں اردو زبان کو فوری رائج کریں تاکہ قوم اپنی اردو زبان کا ہر موقع پر استعمال کرتے ہوئے عظیم قوم بن سکے۔

    @Talha0fficial1

  • عمران خان کا دورہ ازبکستان اورامیرتیمورکی قبرپہ حاضری . تحریر: حسنین مغل

    عمران خان کا دورہ ازبکستان اورامیرتیمورکی قبرپہ حاضری . تحریر: حسنین مغل

    گزشتہ دنوں عمران خان ایشائی ممالک کی ایک تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے ازبکستان پہنچے کانفرنس کے بعد انہوں نے مشہور مسلمان فاتح ” امیر تیمور ” کی قبر پے حاضری دی اور دعا کی "امیر تیمور” تیمور ایک ترک منگول قبیلے برلاس سے تعلق رکھتا تھا چنگیز خان اورامیر تیموردونوں کا جد امجد تومنہ خان تھا. تیمورلنگ کا تعلق سمرقند سے تھا وہ سمرقند کے قریب ایک گاؤں ’’کیش‘‘ میں پیدا ہوا اس کے والدین معمولی درجے کے زمیندار تھے تیموردریائے جیحوں کے شمالی کنارے پرواقع شہرسبز(جس کو کش بھی کہتے ہیں) 1336ء میں پیدا ہوا۔ یہ علاقہ اس وقت چغتائی سلطنت میں شامل تھا جو زوال پزیرتھی چغتائی حکمران بے بس ہوچکے تھے اورہرجگہ منگول اور ترک سرداراقتدارحاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔

    تخت نشین ہونے کے بعد اس نے صاحب قران کا لقب اختیارکیا۔ (علوم نجوم کی رو سے صاحب قران وہ شخص کہلاتا ہے جس کی پیدائش کے وقت زہرہ اور مشتری یا زحل اورمشتری ایک ہی برج میں ہوں۔ ایسا شخص اقبال مند، بہادراورجری سمجھا جاتا ہے مجازاً اپنے دورکا عظیم ترین حکمران)۔

    تیمور نے اپنی زندگی میں بیالیس ملک فتح کیے۔ وہ دنیا کے چند نادر لوگوں میں بھی شامل ہوتا ہے۔ تیمور کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ ایک وقت میں اپنے دونوں ہاتھوں سے کام لے سکتا تھا وہ ایک ہاتھ میں تلوار اُٹھاتا تھا اور دوسرے ہاتھ میں کلہاڑا، اسلام کا یہ بہادرسپوت 18 فروری 1405ء کو انتقال کر گیا اس کی لاش سمرقند لاکر دفنائی گئی لڑائیوں میں زخم کھانے کی وجہ سے تیمورکا دایاں ہاتھ شیل ہوگیا تھا اوردائیں پاؤں میں لنگ تھا اس لیے مخالف مورخین اس کو حقارت سے تیمورلنگ لکھتے تھے۔

    @HasiPTI