Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • تبصرہِ کتاب : انڈیڈ فینٹسی   از قلم : ایمان کشمیری لاہور

    تبصرہِ کتاب : انڈیڈ فینٹسی از قلم : ایمان کشمیری لاہور

    تبصرہِ کتاب : انڈیڈ فینٹسی

    از قلم : ایمان کشمیری لاہور

    انڈیڈ فینٹسی ، عابد شاہین کے خوبصورت الفاظ سے مزین انگلش نظموں پر مشتمل ایک ایسی کتاب ہے جو تصوف کے بیان سے بھر پور ہے ۔۔۔ ٹیکنالوجی کے اس پرفتن دور میں جہاں ہر کوئی بے راہ روی کا شکار ہے ، عابد شاہین کی یہ شاہکار کتاب لوگوں خاص کر نوجوانوں کےلیے راہنمائی اور رب تک پہنچنے کی راہ فراہم کرتی ہے ۔۔۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نوجوان مصنف مقبوضہ کشمیر کے رہنے والے اور اپنی عمر کے اعتبار سے ابھی صرف انیس برس کے ہیں ، مگر قابلیت اور ذہنی استعداد میں بڑوں بڑوں کو مات دیتے نظر آتے ہیں ۔۔۔
    انڈیڈ فینٹسی کی نظموں کا مطالعہ کرنے بعد معلوم ہوتا ہے کہ شاعر نے کس قدر خوبصورتی سے اپنے اعلی خیالات کو دلکش پیرائے میں صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے ۔۔۔ تصورات اور الفاظ کا استعمال اس قدر عمدہ ، دلکش اور سلیس ہے کہ مطالعہ کرنے والا داد دِیے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔ خیالات کو ہر قسم کے تصنع، بناوٹ اور پیچیدگی سے پاک رکھا گیا ہے۔۔۔کلام ایسا عمدہ ، صاف اور عام فہم ہے کہ اسے اعلی سے لے کر ادنٰی تک ہر طبقہ اور ہر درجہ کے لوگ سمجھ سکتے ہیں۔۔۔
    حالات و واقعات کا بیان اصلیت اور راستی سے مزین ، ہر قسم کے جھوٹ اور خود آرائشی سے پاک صاف ہے۔۔۔ شاعری ایسے بےساختہ اور مؤثر پیرائے میں بیان کی گئی کہ معلوم ہوتا ہے شاعر نے مضمون اپنے ارادے سے نہیں باندھا بلکہ مضمون نے شاعر کو مجبوراً اپنے تئیں بندھوایا ہے ۔۔۔
    شاعری میں مناظرِ فطرت کے بیان کے ساتھ ساتھ فطرتِ انسانی اور نفسیاتِ انسانی بھی غالب نظر آتی ہے ۔۔۔ کمسن شاعر عابد شاہین کی صحت پر کشمیر کے تکلیف دہ ماحول کا گہرا اثر ہے ، وادئ پُر آشوب میں رہنے اور ہر لمحہ اپنے ارد گرد آگ و خون کا کھیل دیکھنے کے بعد حساسیت اُن کے مزاج کا خاصہ بن گئی ہے ، بس یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری میں درد کا عنصر غالب نظر آتا ہے ۔۔۔ ہاں درد کا بیان تو ضرور ہے مگر مایوسی کہیں نہیں ملتی ۔۔۔ وہ نظم کا آغاز بڑے درد سے کرتے ہیں مگر اختتام تک پہنچتے پہنچتے قاری کو ایک نئی اُمید دے جاتے ہیں ۔۔۔
    عابد شاہین کی شاعری سے جو سبق مجھے ملا وہ یہ ہے کہ دکھ بُرے نہیں ہوتے ، یہی تو رب سے لو لگانے اور کچھ کر کے دکھانے کا ذریعہ ہیں ۔۔۔ خوشیوں میں تو انسان سب بھول جاتا ہے ، اکثر اوقات تو رب کو بھی یاد نہیں رکھتا مگر یہ دُکھ اور درد ہی تو ہیں جو اُسے رب سے جوڑے رکھتے ہیں ۔۔۔ میں سمجھتی ہوں کمسن شاعر کی صلاحیتوں کے پیچھے بھی یہی درد مضمر ہیں جنھوں نے اُسے عروج کی راہ پر ڈال دیا ہے ۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے کشمیری شاعر کی صلاحیتوں کے نکھار میں اضافہ فرمائیں گے اور وہ جلد ہی شہرت کے آسمان پر پرواز کریں گے ۔۔۔۔ ان شاءاللہ تعالی

    کتنا کمسن ، خُوبرُو یہ شاعرِ کشمیر ہے
    ہاں بڑھا دی تُو نے تو الفاظ کی توقیر ہے
    داد دیتی ہوں ، بڑا ہی دلنشیں انداز ہے
    تیرے تو الفاظ میں ایماں بھری تاثیر ہے

  • اشفاق احمد کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے

    اشفاق احمد کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے

    پاکستان کے مصنف ، ڈرامہ نگار اور براڈکاسٹر اور اردو ادب کی معروف شخصیت اشفاق احمد کومداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کے مصنف ، ڈرامہ نگار اور براڈکاسٹر اور اردوادب کی معروف شخصیت اشفاق احمد کومداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے-انہیں ادب کے نشریاتی میدان میں خدمات کے لئے اشفاق احمد کو صدارتی تمغہ برائے حُسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

    اشفاق احمد 22 اگست 1925ء کو غیر منقسم ہندوستان کے ضلع ہوشیارپور کے گاؤں خان پور میں پیدا ہوئے۔ 1947میں قیام پاکستان کے بعد لاہور منتقل ہوگئے۔ افسانہ اورڈرامہ نگاری کے ساتھ فلسفی ، ادیب اور دانشور ہونے کے علاوہ بہترین براڈ کاسٹرتھےاشفاق احمد کو پنجابی ، اردو ، انگریزی ، اطالوی اور فرانسیسی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا-

    گورنمٹ کالج لاہورسے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی- روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد بھی رہے اور وطن واپسی کے بعد اپنا ماہانہ ادبی رسالہ داستان گو نکالا اور اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے ریڈیو پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔

    آپ طالبعلمی کے زمانے میں بچوں کے میگزین پھول میگزین کے لئے بھی کہانیاں لکھا کرتے تھے- 60 کی دہائی میں ایک فیچر فلم دھوپ اور سائے بھی بنائی۔ 1962 میں ریڈیو پاکستان پر ان کے پروگرام ’تلقین شاہ‘ اور پی ٹی وی پر ڈرامہ سیریل ’ایک محبت سو افسانے‘ سے انہیں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔

    90 کی دہائی میں اشفاق احمد نے سماجی و روحانی موضوعات پر گفتگو کا پروگرام ’زاویہ‘ شروع کیا جس نے ان کی شہرت آسمانوں کی بلندیوں پر پہنچا دیا-

    انھیں 1966 میں مرکزی اردو بورڈ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا جس کا نام بعد میں اردو سائنس بورڈ رکھ دیا گیا اس عہدے پر وہ 29 سال تک کام کرتے رہے وہ 1979 تک بورڈ کے ساتھ منسلک رہے۔ انہوں نے ضیاء الحق کے دور حکومت میں وزارت تعلیم میں مشیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

    1953ء میں شائع ہونے والے افسانے گڈریا نے ان کی شہرت کو چار چاند لگا دیئے۔ اشفاق احمد کی تصانیف میں ایک محبت سو افسانے ، اجلے پھول، سفردرسفر، کھیل کہانی، طوطا کہانی، من چلے کا سودا ،سفرِ مینا ، ٹاہلی تھلے، مختلف معاشروں میں عورت کی حیثیت ، فنکاراور زاویہ جیسے بہترین شاہکار شامل ہیں۔

    اشفاق احمد نے بانو قدسیہ سے شادی کی، جو خود بھی معروف مصنفہ اور ادیبہ تھیں- اشفاق احمد 7 ستمبر 2004ء کواپنے خالق حقیقی سے جاملے لیکن اس جہان فانی سے کوچ کرجانے کے اتنے برس بعد بھی ان کی جگہ کوئی نہ لے سکا، جو اپنے قصے، کہانیوں سے علم و حکمت، عقل ودانش اورفکرودانش کے موتی بکھیرسکے۔

    یاسر حسین اور رابی پیر زادہ کا ملکہ ترنم نورجہان کو خراج تحسین

    پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کی فلمیں اور ڈرامے اردو اور عربی زبان میں ڈب کر کے…

  • معروف شاعر احمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے

    معروف شاعر احمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے

    پاکستان کی معروف اور نامور شاعراحمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے آج 12 برس بیت گئے۔

    باغی ٹی وی : ماہر تعلیم ونامورشاعراحمد فراز12 جنوری 1931 کوکوہاٹ میں پیدا ہوئے ان کا اصلی نام سید احمد شاہ تھا لیکن وہ اپنے قلمی نام احمد فراز سے مشہورہیں کیونکہ انہوں نے اپنی شاعری فراز کے تخلص سے لکھی انھوں نے ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد شعروشاعری کا آغاز کر دیا، وہ مختلف تعلیمی اداروں میں ماہر تعلیم کے طور پر بھی اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے اردو شاعر ، اسکرپٹ رائٹر اور پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے چیئرمین تھے

    اپنی زندگی کے دوران ، انہوں نے ملک میں فوجی حکمرانی اور بغاوت پر تنقید کی جس پر انھیں جنرل ضیاء الحق کے دور میں پابند سلاسل بھی رکھا گیا۔

    احمد فراز کی شاعری پاکستان ، ہندوستان کے دنیا بھر میں بے حد مقبول تھی۔ وہ معاشرتی اجتماعات (مشاعرے) میں بہت زیادہ طلبگار شاعر تھے جہاں وہ اپنی آواز میں اپنی شاعری سناتے تھے۔ احمد فراز کا اکثر موازنہ محمد اقبال اور فیض احمد فیض سے کیا جاتا تھا۔

    مہدی حسن ، غلام علی ، جگجیت سنگھ اور رونا لیلیٰ جیسے گلوکاروں نے فلموں اور محافل موسیقی میں ان کی غزلوں کو گا کر ان کی شاعری کو بے حد مقبول کیا۔

    احمد فرازنے ہزاروں نظمیں کہیں اوران کے 14 مجموعہ کلام شائع ہوئے جن میں تنہا تنہا، دردآشوب، شب خون، میرے خواب ریزہ ریزہ، بے آواز گلی کوچوں میں، نابینا شہر میں آئینہ، پس انداز موسم، سب آوازیں میری ہیں، خواب گل پریشاں ہے، بود لک، غزل بہانہ کروں، جاناں جاناں اور اے عشق جنوں پیشہ شامل ہیں۔ احمد فرازکی تصانیف کے تراجم انگریزی، فرانسیسی، ہندی، یوگو سلاویہ، سویڈش، روسی، جرمنی و پنجابی میں ہوئے۔

    احمد فرازاردو، فارسی، پنجابی سمیت دیگرزبانوں پربھی مکمل عبوررکھتے تھے احمد فراز نے اسلام آباد ، پاکستان میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

    انہیں ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔ 25 اگست 2008 کو گردوں کے عارضہ میں مبتلا ہو نے کی وجہ سے ان کا اسلام آباد میں انتقال ہوگیا ، اور بعد ازاں حکومت پاکستان نے ان کی شاعری اور اردو ادب میں گراں قدر خدمات پر ہلال پاکستان سے نوازا۔

    مجھے خود پر فخر ہے کہ میں نے کینسر جیسے موذی مرض کا بہادری سے مقابلہ کیا نادیہ…

    پولیس نے چار روز کی مکمل تفتیش کے بعد فیشن بلاگر ڈاکٹر ماہا کی موت کو خودکشی…

    قتل کی دھمکیوں کے بعد پوجا بھٹ نے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ پرائیویٹ کر لیا

  • ہامی بھر ہی لی    تحریر:احمد آزاد، فیصل آباد

    ہامی بھر ہی لی تحریر:احمد آزاد، فیصل آباد

    ہامی بھر ہی لی
    احمد آزاد، فیصل آباد
    آپ لکھتے کیوں نہیں ؟ پاک بلاگرز فورم ” اک مجموعہ ہے جس میں نوجوان نسل کو لکھائی اور پڑھائی کی جانب شوق دلانے کی خاطر کام ہورہا ہے ۔ خواتین کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود ہے بلکہ لکھنے کے معاملے میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے ۔ اگرچہ عددی اعتبار سے قدرے کم ہیں۔ ” کے اک بھائی کا پیغام دیکھا تو جواب دیا کہ بس ایسے ہی لکھنا چھوڑا ہوا ہے۔ فرمائش کی گئی کہ لکھا کریں اور ہم نے سر تسلیم خم کردیا ۔ اسی طرح اک اور دوست کی طرف سے بھی کہا گیا اور انھوں نے بات کو مختصر کرتے ہوے کہا کہ آپ صرف "حامی” بھریں ۔ اب ہم کیسے ہامی کو حامی میں بدل کر بھر لیتے کہ حامی کا مطلب تو حمایت کرنا ہوگا جب کہ دوست اقرار کروا رہے تھے جو کہ ہامی بھرنا ہوتا ہے ۔ استاد محترم اطہر علی ہاشمی مرحوم "اللہ کریم جوار رحمت میں جگہ دے کہ صحافت کی شان تھے ” اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ ” حامی‘ اور ’ہامی‘ کا جھگڑا طے ہونے میں نہیں آرہا ہے۔ منگل کے ایک اخبار کی سرخی ہے ’’محتسب کے سامنے زبانی حامی بھرنے والا…‘‘
    ارے بھائی، حامی کا مطلب تو حمایت کرنے والا ہے، یہ کہیں بھری نہیں جاتی۔ اور جو بھری جاتی ہے وہ ’ہامی‘ ہے جس کا مطلب ہے ہاں، اقرار۔ ہامی بھرنا: اقرار کرنا کسی کام کا جو کسی قدر دشوار ہو، وعدہ کرنا، زبان دینا وغیرہ۔ ایک شعر میں ہامی کا استعمال دیکھیے:
    کیوں مرے قتل پہ ہامی کوئی جلاد بھرے
    آہ جب دیکھ کے تجھ سا ستم ایجاد بھرے”
    جب استاد ہی اس کے متعلق کہہ گئے ہیں کہ یہ جھگڑا ختم ہونے میں نہیں آرہا تو ہم بھی اس میں پڑنے کی بجاے آگے بڑھتے ہیں ۔ ابھی کل کی بات ہے عیدالاضحیٰ گذری ہے ویسے اشتہارات وغیرہ میں اسے بھی عیدالضحیٰ لکھا پڑھا ہے جس میں بنیادی کردار قسائی کا ہوتا ہے جن کو تو قسائی مل جاتا ہے وہ تو پہلے دن ہی فریضہ سے سبکدوش ہوجاتے ہیں اور جن کو موسمی قسائی میسر آجائیں ان کی عید کے بعد بھی صلواتیں سننے لائق ہوتی ہیں ۔ عیدالاضحیٰ کو بقرہ عید بھی کہتے ہیں جسے اب بکرا عید بھی لکھا ہوا پڑھا ہے ۔ شاید یہ بھی لفظ قسائی کو قصائی کرنے جیسا ہی ہو رہا ہے ۔ فرہنگ آصفیہ کے مطابق یہ لفظ قصّ سے بگڑ کر قسائی ہوا ہے ۔
    سودا کا شعر ہے
    جس دن سے اس قسائی کے کھونٹے بندھا ہے وہ
    گر رہے ہے اس نمط اسے ہر لیل و ہر نہار
    کسی دور میں چراغ کی بتی استعمال ہوا کرتی تھی جسے فتیلہ کہتے تھے اور یہی لفظ توپ یا بندوق کے توڑے پر بھی بولا جاتا تھا۔ جیسے جیسے چیزیں جدیدیت کا روپ دھار رہی ہیں ویسے ویسے الفاظ بھی اپنی ہیت تبدیل کررہے ہیں۔ پرانے وقتوں میں قفلی ملا کرتی تھی جو کہ لفظ قفل سے ملتا جلتا لفظ تھا اور اب اک عرصہ ہوا قفلی پڑھے ہوے اب تو قلفی اور قلفہ ہی چلتا ہے ۔اب دیکھیے کہ لفظ قفلی کا مطلب پیچ دار ظرف جو کہ ایک دوسرے میں آ کر پھنس جاتا ہے ۔ ایک دوسرے میں آتا ہوا نل یا نلی جیسے حقے کی قفلی اور برف کی قفلی۔ لغت میں تو قفل وسواس بھی ہے جس کا مطلب ہے گورکھ دھندا ہوتا ہے ۔ شاید یہ ایسا ہی گورکھ دھندا ہے جو سمجھ نہیں آرہا بلکہ جتنا سلجھ رہا ہے اتنا ہی الجھتا جارہا ہے ۔
    آج اک دوست کی نوکری کے سلسلہ میں اخباری اشتہارات دیکھ رہا تھا تو اس میں سرکاری اشتہارات بھی نظروں سے گذرے جس میں "مع” کو بمع اسناد و دستاویزات وغیرہ لکھا ہوا پڑھا ۔ اگر سرکاری سطح پر اس طرح کے ظلم و ستم کیے جائیں گے تو نجی اداروں میں تو قومی زبان کا اللہ ہی حافظ ہے ۔ ان کو چاہیے کہ کم از کم اک بندہ اردو زبان کا رکھ لیں جس کی خدمات سے استفادہ کرسکیں ۔ کسی دور میں ہم استفادہ کے ساتھ لفظ حاصل لگا کر خوش ہوا کرتے تھے پھر ہم مدیران جسارت کے ہتھے چڑھے تو انھوں نے جان چھڑوائی کہ استفادہ کے ساتھ حاصل لکھنے سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اک لفظ ادائی ہے رقم کی ادائی وغیرہ جسے ہر جگہ ادائیگی لکھا جاتا ہے ۔ یہ لفظ اس قدر مستعمل ہوچکا ہے کہ ادائی جو درست ہے دماغ قبول ہی نہیں کرتا ۔ اس پر بھی لگتا ہےسمجھوتا کرنا ہوگا کیوں کہ یہ لفظ بھی مہنگائی اور مہندی کی طرح عام ہوچکا ہے ۔بعض افراد کو اپنے نام کے ساتھ چوہدری لکھنے کا بڑا شوق ہوتا ہے جب کہ یہ لفظ چودھری ہے جسے لکھنے والوں نے چوہدری لکھ لکھ کر دماغ کا دہی بنایا ہوا ہے ۔ اب گاؤں کے چودھری کو بندہ کیسے سمجھاے کہ چودھری صاحب یہ لفظ جو آپ اپنی شان کو بڑھانے کے لیے لکھتے ہیں یہ لفظ چوہدری نہیں چودھری ہے؟ اصل چودھری کو تو سمجھانا دور کی بات شوقیہ لکھنے والوں کو سمجھا کر دیکھ لیجیے دن میں تارے نہ دکھاے تو کہیے گا ۔ ایسے ہی ہم نے غلطیوں سے سیکھا ہے اور اب بھی سیکھ رہے ہیں ۔ اس تحریر میں بھی کئی غلطیاں ہوں گی جو ہمارے بڑے نکالیں گے اور ہمیں خبردار بھی کریں گے۔

  • میوزک، اداکاری، ادب سمیت 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان

    میوزک، اداکاری، ادب سمیت 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان

    اسلام آباد:صدر پاکستان عارف علوی نے مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والی 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز کے لئے نامزد 184 شخصیات کو آئندہ سال 23 مارچ کو یوم پاکستان پر ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔ایوارڈز کے لیے منتخب کی گئی شخصیات میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی غیر ملکی شخصیات بھی شامل ہیں۔

    صدر پاکستان نے جہاں غیر ملکی شخصیات کو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا ہے، وہیں صدر مملکت نے میوزک، اداکاری، ادب اور دیگر فنون لطیفہ کے شعبہ جات سے بھی متعدد شخصیات کو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا ہے۔

    جبکہ صدر مملکت نے نشان امتیاز ایوارڈ کے لیے معروف مصور مرحوم صادقین نقوی، پروفیسر شاکر علی، مرحوم ظہور الحق، لیجنڈ صوفی گلوکارہ عابدہ پروین، ڈاکٹر جمیل جالبی، مرحوم محمد جمیل خان اور مرحوم شاعر احمد فراز کو منتخب کیا ہے۔

    دوسری جانب صدر مملکت نے ستارہ امتیاز کے لیے ادکارہ بشریٰ انصاری، اداکار طلعت حسین، آرٹسٹ محمد عمران قریشی، ڈرامہ نگار سلطانہ صدیقی، اداکار سید فاروق قیصر اوراینکر پرسن نعیم الطاف بخاری کو منتخب کیا ہے۔

    صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ایوارڈ کے لیے مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل، اداکارہ سکینہ سموں، ہمایوں سعید، گلوکار علی ظفر، گلوکار محمد علی شہکی، گلوکارہ مرحومہ مہہ جبین قزلباش، اداکار نعمت اللہ الیاس نعمت، اداکارہ صائمہ شاہ الیاس ریشم، آنجہانی گلوکار کرشن جی، گلوکارہ حنا نصر اللہ، موسیقار دریان خان، موسیقار ذوالفقار علی، آرٹسٹ ڈاکٹر عبدالقدوس عارف، لکھاری سرمد صحبائی، لکھاری ماہتاب محبوب، مرزا اطہر بیگ، اباسین یوسف زئی اور تاج جویو سمیت دیگر آرٹسٹوں کو بھی منتخب کیا ہے۔

  • ہمیں اپنی قومی زبان اردو لکھے اور بولے جانے پر شرمندگی کیوں؟  تحریر :غنی محمود قصوری

    ہمیں اپنی قومی زبان اردو لکھے اور بولے جانے پر شرمندگی کیوں؟ تحریر :غنی محمود قصوری

    زبان اللہ کی طرف سے عطاء کردہ ایک خاص نعمت ہے جو کہ معاشرتی ضرورت کے تحت بولی جاتی ہے تاکہ ہمارا مخاطب ہماری بات کو سمجھ سکے
    ہر علاقے ملک کی مختلف زبانیں ہیں اور اس کرہ ارض پر تقریبآ 6800 کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں مذید ان کے لہجے الگ سے ہیں اور اسی طرح پاکستان میں بھی ہے
    ہماری قومی زبان اردو ہے جو کہ پورے پاکستان میں لکھی،پڑھی اور بولی جاتی ہے اس کے علاوہ تقریبآ 70 زبانیں مذید بھی پاکستان میں بولی جاتی ہیں مگر ان تمام کی طرز اور الفاظ بڑی حد تک اردو سے ہی مماثلت رکھتے ہیں
    پاکستان کی کل آبادی کے 8 فیصد لوگ اردو بولتے ہیں اور یوں اردو پاکستان کی پانچویں بڑی اور دنیا کی نویں بڑی زبان ہے ماہرین لسانیات کے مطابق ہندی،ہندوی،ہندوستانی،دہلوی اور ریختہ بھی اردو کے قدیم نام ہیں اسی لئے اردو اتنی معروف اور دوسری زبانوں سے ملتی جلتی ہے کہ ہم بنگلہ دیش،انڈیا،نیپال غرضیکہ پورے برصغیر میں کہیں بھی اردو بولیں تو مخاطب کو بڑی حد تک سمجھ آ جاتی ہے اور ہماری معاشرتی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے
    دور غلامی میں 1849 میں انگریز نے معاشی ضرورت کے تحت پنجاب میں اردو کو دفتری زبان قرار دیا تھا اور 1947 میں قیام پاکستان کے وقت ریڈیو پاکستان سے قیام پاکستان کا اعلان بھی اردو میں ہی نشر کیا گیا تھا تاکہ ہم انگریز و ہندو کو باور کرا سکیں کہ ہم آزاد ہیں اب اپنی تہذیب و تمدن پر اپنی مرضی سے عمل پیرا ہو سکتے ہیں اور ہماری نسلیں اپنی تہذیب و تمدن اور ثقافت و مذہب پر آزادی سے عمل پیرا ہونگی اسی لئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ پاکستان کی سرکاری و قومی زبان اردو ہے حالانکہ قائد اعظم معاشی ضرورت کے تحت انگریز کے سامنے انگریزی بولتے تھے مگر جب وہ اپنے ہم وطنوں سے ہمکلام ہوتے تو اردو ہی بولتے تھے بطور دلیل ان کی کئی آڈیو،ویڈیو ریکارڈنگ اب بھی موجود ہیں مگر افسوس کہ لاکھوں شہادتوں ،کھربوں روپیہ کی جائیدادوں اور لاکھوں عزتوں کی قربانی دے کر حاصل کرنے والے ملک پاکستان کو آزاد ہوئے تقریبآ 74 برس بیت گئے مگر افسوس کہ اب بھی ہماری سرکار اور ادروں سے انگریزی نا نکل سکی آج بھی ہمارے دفاتر میں نوٹیفیکیشن انگریزی میں جاری کئے جاتے ہیں اور ہمارا پڑھا لکھا طبقہ روانی سے انگریزی بولتا ہے اور لکھتا ہے اور اس پر فخر محسوس کرتا ہے جبکہ ہمارے ملک کی آبادی کا بہت بڑا حصہ اب بھی کم پڑھا لکھا یا پھر ان پڑھ ہے اس لئے ان کو انگریزی کی ہرگز سمجھ نہیں آتی اور وہ اسے سمجھنے کیلئے کسی پڑھے لکھے کے محتاج بن جاتے ہیں
    پورے پاکستان میں لوگ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی مادری زبانیں بولتے ہیں اور وہ تمام مادری زبانیں اردو سے کافی مماثلت رکھتی ہیں اس لئے جب کسی سے اردو میں بات کرتے ہیں تو وہ بندہ کافی حد تک اردو کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے اور بڑی حد تک اردو بول بھی لیتا ہے
    زندہ قوموں کی پہچان ان کی تہذیب و ثقافت سے ہوتی ہے اور ہم دنیا کی نویں بڑی زبان اردو ہونے کے باوجود انگریزی کو ترجیح دیتے ہیں حتی انسانی حقوق کا رونا رونے والی این جی اوز ہمارے لوگوں کو انگریزی میں ہدایات دے کر چلی جاتی ہیں اور وہ غریب ان پڑھ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ آخر انہیں کہا کیا گیا ہے
    اس کام میں ہماری سرکار بھی کسی سے کم نہیں اب جبکہ پوری دنیا کرونا کی لپٹ میں ہے اور پوری دنیا اپنے باشندوں کو اپنی قومیں زبانوں میں ہدایات جاری کر رہی ہیں وہیں آج ہماری گورنمنٹ نہایت افسوس کیساتھ انگریزی میں ہدایات جاری کر رہی ہے جس کی مثال یہ ہے کہ ان پڑھ و کم پڑھے لکھے لوگوں نے بڑی مشکل سے ہلاک کو انگریزی میں ایکسپائر Expire ,Death رٹا ہوا تھا اب اس کی جگہ Deceased نے لے لی جبکہ تشویشناک کو لوگوں نے سیریس Serious رٹا تھا اب اس کی جگہ کریٹیکل critical نے لے لی اسی طرح Infected, Symptoms اور کئی الفاظ آ گئے جس سے عام لوگ بہت پریشان ہیں کہ بھئی یہ کیا بلا ہیں یہی وجہ ہے کہ قوم کرونا پر جاری ہدایات پر صحیح طرح سے عمل پیرا نہیں ہو رہی کیونکہ ان کو ان الفاظ کا علم ہی نہیں اور لوگوں کے پاس ایک دوسرے کو سمجھانے کا زیادہ وقت ہی نہیں سو انگریز کی غلامی کا طوق اتارتے ہوئے ہمیں اپنے دفتروں،بازاروں،گھروں اور سرکاری اداروں میں سو فیصد اردو بولنی،لکھنی اور پڑھنی چاہیے تاکہ دو قومی نظریے اور آزادی پاکستان کا مقصد واضع ہو سکے اور ہم ایک زندہ و جاوید آزاد قوم کہلوا سکیں اس میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ یہ ہماری قوم زبان ہے ہاں معاشی ضرورت کے تحت انگریزی،ہندی،فارسی،اور دیگر زبانوں کے بولنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ انہیں معاشی ضروت کے تحت سیکھا اور بولا جائے نا کہ قومی زبان سمجھ کر

  • "سندھ سے سندھڑی چلا اور لاہور پہنچا” آم (Mango) کی کہانی محمد عبداللہ کی زبانی

    "سندھ سے سندھڑی چلا اور لاہور پہنچا” آم (Mango) کی کہانی محمد عبداللہ کی زبانی

    "سندھ سے سندھڑی (آم , Mango) چلا اور لاہور پہنچا”

    آم(Mango) اس موسم میں چونکہ "عام” ہوتا ہے اور ہر بندہ جو گھر سے نکلتا ہے "امب”کے اس سیزن میں نہایت ارزاں قیمت پر قدرت کے اس عظیم تحفے کو فروخت ہوتا دیکھ کر "امب” لے ہی لیتا ہے. بچوں اور بڑوں کی یکساں پسند یہ پھل انفرادیت رکھتا ہے اور (مقامی روایات کے مطابق) آم (Mango) ہے بھی پھر پھلوں کا بادشاہ ( البتہ اس کی ملکہ اور آل اولاد کا کچھ پتا نہیں ہے).
    آم (Mango) کی ورائٹی اور پاکستان کے میدانی علاقوں کا مقامی پھل ہونے کی وجہ سے یہ مناسب قیمت پر دستیاب ہوتا ہے تو متوسط اور غریب طبقہ بھی دل کا "رانجھا راضی” کر سکتا ہے وگرنہ تو بعض پھل یا خشک پھل ایسے بھی ہیں جن کے بارے صرف سوچا ہی جاسکتا ہے اور خیالوں ہی خیالوں میں ان کو کھایا جاسکتا ہے لیکن جیسے ہی حواس کی دنیا میں واپس آتے ہیں تو ہمارے ایسوں کی جیب اور بٹوہ دونوں شکوہ کناں ہوتے ہیں کہ "پائن اپنی حیثیت دیکھو اور خواب دیکھو” .
    لیکن قدرت کا خاص کرم ہے کہ پھلوں کے یہ "بادشاہ سلامت” وافر میسر ہوتے ہیں اور یار دوست تو نہروں ، دریاؤں، ٹویب ویلز اور سویمنگ پولز کے کناروں پر درختوں کی گھنی چھاؤں میں بیٹھ کر آم (Mango) سے نہایت "عامیانہ” سلوک کرتے ہیں. اردو کے مشہور شاعر مرزا غالب مرحوم سے کئی روایات منسوب ہیں کہ ان کا فرمانا تھا کہ آم (Mango) ہوں اور عام ہوں مطلب چوکھے ہوں. اسی طرح ایک اور روایت جو ہمارے یہاں لطیفے کی شکل میں بیان کی جاتی ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ مرزا صاحب کا فرمانا تھا کہ بےشک "گدھا” آم نہیں کھاتا.
    اگر انسانوں کی بات کریں تو کچھ تو آم کے اس قدر شیدائی ہوتے ہیں اور آم (Mango) کی گٹھلی سے اس انداز سے میں انصاف کرتے ہیں کہ بےچاری گٹھلی بھی شرما کر کہتی ہے ” اجی اب بس بھی کیجیئے نا”. آم (Mango) سے خاطر خواہ انصاف کرنے والے دوستوں کا یہ کلیہ ہے کہ آم (Mango) کھاتے وقت جھجھک، شرم اور کپڑوں (ستر کو ڈھانپنا ضروری ہے) کو ایک سائڈ پر کردینا چاہیے تبھی آپ "آم” سے انصاف کرسکتے ہیں.
    اگر آپ آموں کی اقسام پر بات کریں تو یقین جانیے اللہ کی قدرت کے ایسے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ بندہ پکار اٹھتا ہے "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ”. سندھ کے شہر میرپور خاص میں سالانہ آموں کی نمائش لگتی ہے جس میں آم کی تین سو کے قریب قسمیں پیش کی جاتی ہیں. پنجاب کا سرائیکی علاقہ بالخصوص ملتان بھی آم (Mango) کی پیداوار میں سرفہرست ہے.
    ہمارے حیدرآباد کے دوست ہیں سیف اللہ سعید چلبلے اور شرارتی مزاج کے ایک دن کہنے لگے کہ بھائی آپ لاہور کے دوستوں کے لیے "سندھڑی” آموں کا تحفہ بھیج رہا ہوں تو یوں یہ سندھڑی سندھ سے چلا اور ملتان میں لنگڑے سے راہ و رسم بڑھاتا ہوا لاہور پہنچا جہاں ہم اس کے ساتھ انصاف کرنے میں مشغول ہیں.
    محمد عبداللہ

  • مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مار خور ایک نہایت ہی اعلی خصوصیات کا حامل جانور ہے۔ یہ پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور مشکل سے مشکل پہاڑی راستوں پر با آسانی سفر کرتا ہے۔ مارخور پاکستان کا قومی جانور بھی ہے اور بہت ساری بین الاقوامی تنظیمیں اس بات کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں کہ آنے والے سالوں میں مارخور کی نسل ختم ہو سکتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں مار خور کی تعداد صرف چند ہزار ہے اور پاکستان میں چار ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔

    کچھ پاکستانی اس بات کو بھی لے کر پریشان ہیں کہ اگر مارخور نہ رہا تو پاکستان کا قومی جانور ختم ہو جائے گا، لیکن میں اس خیال سے زیادہ پریشان نہیں کیونکہ مارخور سے ملتا جلتا ایک جانورہمارے معاشرے اور پورے ملک میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد پہلے پہل تو یہ جانوربہت کم تعدادمیں پایا جاتا تھا لیکن اب ہر گلی اور محلے میں پایا جاتا ہے اور اس جانور کا نام ہے حرام خور۔ یہ درندہ صفت انسان ملک کے بہت سے اداروں میں پائے جاتے ہیں جو حرام کے چند روپوں کی خاطر اپنے ہی ملک کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔

    میری حکومتِ پاکستان سے التجا ہے کہ مارخور کی بجائے حرام خور کو اپنا قومی جانور قرار دیا جائے کیونکہ ان کے جانور ہونے پر تو اختلاف کسی کو نہیں ہوگا، اور ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ حرام خور وطنِ عزیز میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کئی صدیوں تک ان کے ختم ہونے کا کوئی خدشہ بھی نہیں اسلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے تمام اداروں میں کرپٹ عناصریعنی حرام خوروں کو پاکستان کا قومی جانور قرار دیا جائے۔

  • لاک ڈاؤن وچ ویلیاں رہنا تحریر: محمد نعیم شہزاد

    لاک ڈاؤن وچ ویلیاں رہنا تحریر: محمد نعیم شہزاد

    لاک ڈاؤن وچ ویلیاں رہنا
    محمد نعیم شہزاد

    یا ایھا الرجال
    کی ہویا اے تواڈا حال

    لاک ڈاؤن وچ ویلے، موجاں
    کوئی میسج نہ کوئی کال

    وقت دا پہیہ چلدا جاوے
    سانہواں دے نال گھَٹدا جاوے

    جے نہ کجھ وی فکر کیتی
    ٹینشن اس گل دی نہ لتی

    آخر ہے سب نوں زوال
    لبھ لو حالی کمال

    گیا وقت فیر ہتھ نہیں آندا
    بیہھ کے انسان رہے پچھتاندا

    آپنے آپ دی قدر نوں جانو
    وقت دی قیمت نوں پہچانو

    ایہو سبق سکھاندے سارے
    گزر دے ماہ و سال

    دل وچ آپنے عزم کریں توں
    آپنا ویلا سانبھ لویں توں

    دنیا تے کجھ ایسا کر جا
    بن جا ایک مثال

    یا ایھا الرجال
    کی ہویا اے تواڈا حال

  • ہم اُن ساعتوں کے ہیں مسافر… بقلم:جویریہ بتول

    ہم اُن ساعتوں کے ہیں مسافر… بقلم:جویریہ بتول

    ہم اُن ساعتوں کے ہیں مسافر…
    [بقلم:جویریہ بتول]
    ہم اشکِ رواں کی کنجی لیئے…
    ادنیٰ سے عملوں کی پونجی لیئے…
    ہم اُن ساعتوں کے ہیں مسافر…
    ہیں جن میں رحمت کی گھڑیاں وافر…
    جب جنت کے در سب ہیں کھلے ہوئے…
    اور باب جہنم کے بند سب ہوئے…
    ہے سجدوں کا یہ ذوق و شوق…
    اور رنگِ عجز تحت و فوق…
    اُٹھے ہیں ہاتھ یہ دعاؤں کو…
    اِن دل سے نکلتی صداؤں کو…
    تو بابِ قبولیت سے پار کر دے…
    زباں سے نکلتے ان لفظوں میں…
    پھولوں کی سی مہکار بھر دے…
    ہم بے بس ہیں،ہم کُچھ بھی نہیں…
    جہاں بھی ہوں ہم اور رہتے کہیں…
    تری رحمت کے محتاج ہیں ہم…
    تری عطا کے اُمید وار کل و آج ہیں ہم…
    ہمیں اپنے صالح بندوں میں شامل رکھنا…
    ہمیں دولتِ تقویٰ میں کامل کرنا…
    ہر دور میں ہمیں تو اپنا ہی ڈر دے…
    تو سدا کے لیئے ہمیں اپنا کر لے…
    آتی جاتی سانسوں کی جو یہ ڈوری…
    ہم صبغۃ اللّٰہ میں یقیں سے رنگ لیں فوری…!!!
    اس زندگی کا مزہ بھی دوبالا ہو جائے…
    بعد مرنے کے بھی ہر سو اُجالا ہو جائے…!!!
    عدن کے باغوں کے جب ہم مکیں ہو جائیں…
    زندگی کے انداز کتنے حسیں ہو جائیں…؟
    ==============================