Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • میری مرضی کیا ہے؟  احمد علی ہاشمی

    میری مرضی کیا ہے؟ احمد علی ہاشمی

    میری مرضی کیا ہے؟
    احمد علی ہاشمی

    مظاہرِ مرضی

    تجھ کو رب سے مانگ کے لوں گا
    نہ چلے گی تیری مرضی
    تم بھی اس کے میں بھی اس کا
    اور اسی کی چلے گی مرضی

    تجھ بن جیون سُونا سُونا
    سُونے ہی دن رات میرے
    تجھ کو پا کر ہی دم لوں گا
    یہ ہی ہے اب میری مرضی
    ——————————-
    حقیقتِ مرضی

    عشق بیماری جیسا یارو
    جس کو لگتا ہے وہ جانے
    مرض ہی بن جاتا ہے مرضی
    ہو گا وہی جو اسکی مرضی

    حسن مجازی، روپ مجازی
    ہوتا ہے یہ عشق مجازی
    روح سے جب تم پیار کرو تو
    جان لو گے تم حق کی مرضی

    مرضی، مرضی نہ تم کرنا
    اس کی مرضی پر تم رہنا
    مرضی سے کچھ کر نہیں سکتے
    لیکن برا ہے مرض یہ مرضی

  • امید چراغ منہال : از؛ زاہد سخی

    امید چراغ منہال : از؛ زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    مایوس دل میں اب بھی کوئی امید چراغ ہے
    بجھے انگاروں سے کیا اب سلگتی کوئی آگ ہے

    کوئی خطا کوئی غلطی کوئی نادانی ہوجائے
    فسون عشق میں گناہگار دل بھی بے داغ ہے

    نیند سے کوسوں دور وسوسوں کی کروٹیں ہیں
    کیسے کٹے کی یادوں کی رات الجھا اب دماغ ہے

    اب سمجھ نہیں آرہی کیسے سمجھاؤں ہمسفر کو
    نہ کوئی راستہ نہ سوچ نہ خیالوں میں کوئی جاگ ہے

    پہلی ملاقات طے ہوجائے پھر زندگی سہل ہوجائے گی
    کس کی ہاں کس کی نہ دونوں کی دوڑ بھاگ ہے

    اب امید سے یقین کی جانب سفر ہے سخی
    نجانے کیا سوچ کر یہ دل باغ باغ ہے

    #قلم_سخی

  • آثارِ سحر…!!!  بقلم:جویریہ چوہدری

    آثارِ سحر…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    آثارِ سحر…!!!
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔
    ہم کیا تھے،کہاں ہیں،ٹُوٹ سے گئے اور بِکھر گئے…
    رستے ہمارے وہ کیا ہوئے،کہ سُراغِ منزل بچھڑ گئے؟

    ارفع روایات کے امین ہم، احساس کے مکین تھے…
    یہ کس ڈگر پہ چل بیٹھے کہ اُن باتوں سے بپھر گئے…؟

    حق،ناحق ہے چیز کیا،حلال و حرام سے بے پرواہ…
    یہ کس کے حق پہ ڈال کے ڈاکہ،ہم حق سے بھی مفر گئے…!!!

    راہوں میں اپنی بچھا کر کانٹے،بُجھا کر چراغِ شبِ آخر…
    اندھیروں میں ڈوب کر ہاں کیوں آثارِ سحر گئے…؟

    یقیں محکم،عملِ پیہم،یکجہتی و عَزم رہے…
    کہ یہی وہ اصول ہیں جن سے کاٹے ہر عَہد میں سَفر گئے…!!!!!
    =============================

  • انساں اور انسانیت…  بقلم:جویریہ چوہدری

    انساں اور انسانیت… بقلم:جویریہ چوہدری

    انساں اور انسانیت…
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔
    اکثر لوگ ملتے ہیں…
    چھاؤں سے دھوپ میں…
    چلتے چلتے جو ڈھلتے ہیں…
    وہ رفاقتوں کے فریب میں…
    محبتوں کے آسیب میں…
    منزلوں کے جنون میں…
    دعوؤں کے ستون میں…
    رنگِ منافقت بھرتے ہیں…
    جھوٹ کی ملمع کاری سے…
    لفظوں کی آبیاری سے…
    ہمارے گرد وہ اکثر…
    گہرا حصار کَستے ہیں…!!!
    ساتھ کا یقین دلا کر…
    لفظ وفا کا مشروب پلا کر…
    مگر قدم پیچھے ہٹاتے ہیں…
    زباں سے خوش وہ رکھتے ہیں…
    دلوں کو چیر دیتے ہیں…!!!
    یہ وقت جب پلٹا کھاتا ہے…
    شب اور سحر دکھاتا ہے…
    تو منزل کی دہلیز پہ بیٹھ کر…
    شفق کی گہری سُرخی میں کھو کر…
    اُفق سے نکلتے آفتاب کی…
    جگمگاتی کرنوں میں…
    سب چہرے یاد آتے ہیں…
    اصل اپنی دکھاتے ہیں…
    ذہن کے دریچوں پر منڈلا کر…
    شفق میں ڈوب جاتے ہیں…!!!
    تب ستاروں کی روشنی میں…
    ایسے رویوّں کا ڈسا ہوا…
    تھکا مسافر پھر راہ تلاشتا ہے…
    راہ کے سب پتھر…
    تنہا ہی وہ تراشتا ہے…!!!
    راہوں کی سب رکاوٹیں…
    عزم سے اپنے وہ ہٹا کر…
    منزلوں کو پا کر…
    آثارِ رہ بھی چھوڑتا ہے…
    منافقانہ رویوّں کی…
    سب کڑیاں وہ توڑتا ہے…!!!
    گہری شب میں ہچکولے کھا کر…
    راہ کے طوفاں و بگولے سہہ کر…
    راز اک گہرا پاتا ہے…
    آزمائش کا چکر اُسے…
    سبق بڑا سکھاتا ہے…
    تب دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے…
    گہرائی میں اک کرن…
    کوئی احساس کی چمکتی ہے…
    اپنی راہ میں آئے اندھیروں میں…
    اُس احساس کی شمع جَلا کر…
    وہ دوسروں کو راہ دکھاتا ہے…
    خود پہ لگے زخموں کی ٹیسوں سے…
    وہ اوروں کو بچاتا ہے…
    اک گہرے درد سے گزر کر ہی…
    انساں انسانیت کو پاتا ہے…!!!
    ==============================

  • عہدِ وفا احمد علی ہاشمی

    عہدِ وفا احمد علی ہاشمی

    عہدِ وفا
    احمد علی ہاشمی

    دل مضطرب ہے میرا مجھے پیار ہو گیا ہے
    تیری یاد میں یہ تڑپے اور تو مجھے ستائے

    تیری خبر ملے جو ، دل باغ باغ پاؤں
    جو نہ رابطہ ہو تجھ سے مجھے چین پھر نہ آئے

    اے میری جان جاناں اک التجا ہے میری
    مجھ سے خفا نہ ہونا سدا راضی مجھ سے رہنا

    تیری چاہتوں کاطالب، میں تیرا ساتھ چاہوں
    تیرا ہاتھ مانگتا ہوں رب سے یہی دعا ہے

    قندیل، میرا آنگن سدا چمکے تیری ضو سے
    میرے پیار سے تو جاناں، تبسم سدا کا پائے

    یہ فیصلہ ہے میرا تجھے پاؤں گا خدا سے
    پھر خار دار رستے نہ کوئی رسم ڈرائے

  • ڈیجیٹل عاشق  از ؛ نعیم ہاشمی

    ڈیجیٹل عاشق از ؛ نعیم ہاشمی

    ڈیجیٹل عاشق
    نعیم ہاشمی

    مجھے آن لائن پاکر کوئی ہیلو اور نہ ہائے
    میں یہ کیسے مان جاؤں میری یاد ہے ستائے

    جو پوچھنے لگی وہ تیری نیند کیوں اڑی ہے
    چھوڑیں نہ فیس بک کو خواہ فیس نکل آئے

    میں نے کہا کہ چھوڑو اس فیس بک میں کیا ہے
    مجنوں بنا ہوں تیرا، تو لیلیٰ نظر آئے

    میرے رتجگوں سے پوچھو میرا حال کیا ہوا ہے
    میرا دل چرا لیا ہے اور ستم آزمائے

    کہنے لگی کہ جاناں چاہت میری یہی ہے
    میں پاس تیرے بیٹھوں اور وقت ٹھہر جائے

    ہوا مضطرب بہت میں لاحول پڑھتے بولا
    یہ وقت میری جاناں ہم پر کبھی نہ آئے

    اکیسویں صدی کا، میں ماڈرن ہوں عاشق
    جب نیٹ میرا نہ آئے تیری یاد ہے ستائے

    لفظوں سے کھیلنے کا اک ہنر شاعری ہے
    لازم ہے دور رہیے گر سمجھ کچھ نہ آئے

  • میرا سائباں  از ؛عائش نعیم

    میرا سائباں از ؛عائش نعیم

    2سومیرا سائباں
    عائش نعیم
    (میرا جسم میری مرضی کے مقابل مشرقی روایات کی امین ایک خوبصورت نظم)

    قائم رہے سایہ تیرا
    خوشیوں کی تو ہی ہے وجہ

    یہ لالہ زار تجھ سے ہے
    اس گھر کا تو سائباں

    یہ زندگی تجھی سے ہے
    تو زندگی کی ہے بہار

    یہ رب نصیب نہ کرے
    کہ ہو زندگی تیرے بنا

    تیرے ہی دم سے ہر خوشی
    اونچا رہے یہ نام تیرا

    لاہوت ہو پرواز تیری
    میرے لبوں پہ ہے دعا

    قائم رہے میرا سائباں
    میری چھت، میرا مہرباں

  • ظاہر و باطن…!!!  بقلم:جویریہ چوہدری

    ظاہر و باطن…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

    ظاہر و باطن…!!!
    (بقلم:جویریہ چوہدری)۔
    وہ ہمیں پہ کڑکے…
    ہمیں پہ گرجے…
    اور ہمیں پہ برسے…
    سو جگا گئے…
    راہ دکھا گئے…
    کر صفا گئے…!!!
    مگر جو دیکھا__
    پلٹ کر ہم نےاُنہیں…
    اپنی ادا کو…
    نہ وہ سنوار سکے…
    بے وقت صدا کو…
    نہ کردار سکے…!!!
    نہ گفتار سکے…
    وہ ہمیں پہ
    چاہتے تھے برسنا…
    سو ہم ہی کو نکھار گئے…!!!
    نہ گریباں میں…
    اپنے وہ جھانک سکے…
    نہ اداؤں کو اپنی…
    وہ تانک سکے…
    جو مقام تھا کھوکھلا…
    اُن کے دل میں ہمارا…
    صد شکر وہ اپنے ہی…
    لفظوں سے دل پہ ٹانک گئے…!!!
    جو ظاہری صناعی کا…
    تھا تعلق وقتوں سے…
    اپنے ظاہر کی جھلکی میں…
    باطن وہ اپنا دکھا گئے…
    سو جگا گئے…
    راہ دکھا گئے…!!!!!!
    =============================

  • وصالِ یار  از ؛ نعیم ہاشمی

    وصالِ یار از ؛ نعیم ہاشمی

    وصالِ یار
    نعیم ہاشمی

    تیری چاہتیں ملی ہیں
    اب اور کیا میں چاہوں
    تم جو مل گئے ہو مجھ کو
    اب اور کیا میں مانگوں

    نہیں دل میں کوئی حسرت
    نہ ہی اور کوئی چاہت
    تجھے پا لیا ہے میں نے
    اب اور کیا میں پاؤں

    یہ بہارِ جاوداں ہے
    تیرے ہی دم قدم سے
    تو رہے سدا سلامت
    اب اور کیا میں مانگوں

    عشرت کدے میں میرے
    روشن قندیل تیری
    رہے نور یہ فروزاں
    یہی صبح و شام چاہوں

    رہے تا ابد سلامت
    تیرا اور میرا تعلق
    نہ میں چاہوں حورِ عینا
    تیرا ساتھ ہی میں چاہوں

    تیرے ہی دم سے قائم
    سانسوں کی ڈور میری
    تیری رضا ملے جو
    پھر اور کچھ نہ چاہوں

  • کون ہےسپرپاور ؟  از :سفیر اقبال

    کون ہےسپرپاور ؟ از :سفیر اقبال

    #کون ہےسپرپاور

    کون ہے سپر پاور کس کی ضرب کاری ہے؟
    آج سب زبانوں پر کس کا نام جاری ہے…؟

    وقت کے فرعونوں پر اور کھلی فضاؤں پر
    کس کی بادشاہی ہے؟ کسی کی پہرے داری ہے؟

    ہے شدید تر کتنا ِاس عذاب کا کوڑا
    ساری دنیا پر واضح آج حکمِ باری ہے

    اک عظیم خالق کی یاد جب نہیں دل میں
    اک حقیر وائرس کا خوف کتنا طاری ہے

    اپنے سیف ہاوسز میں مطمئن جو کل تک تھے
    ان ثمود والوں پر سخت بے دیاری ہے

    بھولے ایک ہستی کو اور چھن گیا سب کچھ
    سخت بے یقینی ہے، سخت بے قراری ہے

    کیوں نظر چراتے تھے ایک بستی سے کل تک
    آج پوری دنیا میں لاک ڈاؤن جاری ہے

    کیسی بددعا تھی وہ پوچھو شامی بچے سے
    سسکیوں میں ہی جس نے عمر اک گزاری ہے

    اک ایک پنچھی کو جس نے نوچ ڈالا تھا
    خوف میں گھرا خود ہی آج وہ شکاری ہے

    جس نے ایک ساعت میں بستیاں کھنڈر کر دیں
    ایک ایک ساعت کا آج خود بھکاری ہے

    عالمی مسیحاؤ ….! کچھ تو آج بتلاؤ
    کیا علاج ہے اس کا؟ کیسی یہ بیماری ہے؟

    گر دوا نہیں تو پھر رب سے کچھ دعا کر لو
    کس کو کیا خبر آخر کل کو کس کی باری ہے؟

    ماں کے پیار سے بڑھ کر رب کو پیار ہے ہم سے
    اس کے پیار میں ہی بس عافیت ہماری ہے….!

    شاعری :سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر

    (نوٹ! تصویر اس دعا کی ہے جو اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں سکھائی تھی…. اس وقت جب قیدِ تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی سہارا اور مددگار نہیں تھا )