Baaghi TV

Category: بچوں کی دنیا

  • والدین و اولاد کے حقوق و فرائض تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    والدین و اولاد کے حقوق و فرائض تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    اولاد سے حق مانگتے ہیں مگر اس سے پہلے فرائض کا ادا کرنا نہایت اہم امر ہے۔جو آج والدین ہیں وہ کل خود اولاد تھے، جو آج اولاد ہیں وہ کل والدین ہونگے۔ سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ وقت کا چکر ہے، اگر حق کل چاہئیے تو آج حقوق ادا کریں اور اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی مت کریں۔

    پہلی بات تو سمجھنے کی ہے کہ اولاد ہے کیا؟ کیا آپ ان پر ولی ہیں یا ان کے آقا؟ کیا آپ ان کے مالک ہیں یا رکھوالے؟ اولاد اللہ نے عطا فرمائی ہے، والدین کو کچھ اہم ذمہ داریاں دے کر ان کو ولی کیا۔باپ کو فقط دو فرائض دیے گئے۔
    1۔ بہترین نام رکھو۔
    2۔ بہترین تعلیم و تربیت کرو۔
    "بہترین” ہر شخص کی استطاعت اور معاشی و معاشرتی حیثیت سے مشروط ہے۔ اس ضمن میں پہلی بات تو ہے کہ انسان دوسرے انسان کا آقا نہ بنے اور اولاد کو ایک امانت مان کر انکی بہترین حفاظت کرے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر انکی تربیت کا اہتمام کرے۔

    معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے، اگر لوگ ایک دوسرے سے شاکی رہنے لگیں تو معاشرے میں بے حسی، ابتری اور ایک دوسرے سے تناؤ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

    آج کل ہمارا معاشرہ بھی اسی ابتری کا شکار ہے اور ہر شخص دوسرے سے نالاں نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے حقوق کا تو پتا ہے مگر ہم نے اپنے فرائض بُھلا دیے ہیں۔ ہم برملا یہ تو کہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ادا نہیں کیے جاتے لیکن ہم خود اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتے نظر آتے ہیں۔ گھر کی چار دیواری سے لے کر محلے اور پھر ملکی سطح پر ایک خود غرضی اور بے حسی کی فضا مسلط ہے۔

    افسوس! قربانی، ایثار، وفا اور محبت کے اسباق ہم نے فراموش کر دیے ہیں۔ گھر کی چار دیواری میں والدین اولاد سے اور اولاد والدین سے، بہن بھائیوں سے اور بھائی بہنوں سے، بیوی شوہر سے اور شوہر بیوی سے نالاں ہے۔ ہمسائے، ہمسائے سے، رشتے دار رشتے داروں سے، استاد شاگرد سے، شاگر د استاد سے، عوام حکم رانوں سے اور حکم ران عوام سے غرض ہر شخص دوسرے سے بے زار ہے۔ ساتھ رہنا، نہ چاہتے ہوئے بھی تعلق نبھانا محض مجبوری ہے۔
    والدین کہتے ہیں اولاد ہماری نافرمانی کرتی ہے ہماری نگہہ داشت نہیں کرتی، ہمارا کہنا نہیں مانتی، ہمارا حق ادا نہیں کرتی، ہم نے اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر ان کی خواہشات پوری کیں مگر ان کے پاس ہمارے لیے وقت نہیں، انہیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، معاشرے میں باعزت روزگار کے لیے پیٹ کاٹ کر تعلیم دلائی مگر اب شادی بیاہ جیسے معاملات میں ہمیں چھوڑ کر دوسروں کو اولیت دیتی اور ہماری رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔

    اولاد کا کہنا ہے ماں باپ ہم سے محبت نہیں کرتے، ہمیں پیدا کیا اچھی پرورش کی، تعلیم دلائی یہ ان کا فرض تھا مگر ہمارے والدین ہم پر اب ہر وقت احسان جتاتے ہیں، ہم جوان ہوچکے ہیں انہیں اپنی لڑائی جھگڑے سے فرصت نہیں، ماں باپ کی ہر وقت کی لڑائی کی وجہ سے ہمارا گھر آنے کو دل نہیں چاہتا، گھر میں سکون نام کو نہیں، ہمیں اپنی مرضی نہیں کرنے دیتے جب ہم نابالغ تھے تو ان کی ہر بات مانی اب ہم اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں مگر ہمیں تھوڑی سی بھی آزادی میسر نہیں، ہم کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرسکتے، یہاں تک اپنی پسند سے مضمون کا انتخاب بھی نہیں کرسکتے۔ والدین ہمیں رشتے داروں اور دوستوں کے سامنے ڈانٹتے ہیں۔

    اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں اپنے حق کی بات تو کرتے ہیں مگر فرائض دونوں بُھول چکے ہیں۔ انسان کو زمانے کے مطابق تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ بات بالکل سچ ہے جو کل فیشن تھا وہ آج تبدیل ہو چکا ہے، والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں سے محبّت کریں، ان کی اچھی تربیّت کریں، انہیں اچھی تعلیم دلائیں، جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کی شادی کرائیں، ان سے دوستانہ سلوک کریں، کچھ ان کی مانیں اور کچھ اپنی منوائیں تاکہ انہیں احساس ہوکہ والدین کے نزدیک ان کی اہمیت ہے۔ کسی کے سامنے انہیں ڈانٹیں نہیں، لڑائی جھگڑا نہ کریں۔ اکثر بچے والدین کی آپس کی ناچاقی سے اور دوسروں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنے بچوں کو پُرسکون ماحول دیں۔ زمانے کی تبدیلی کے مطابق جینے کا حق دیں تاکہ بچے معاشرے کے مفید رکن بن سکیں۔ پرانی روایات کوجدید دور سے ہم آہنگ کریں تا کہ بچے اسے اپنانے میں عار محسوس نہ کریں۔ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

    ایسے والدین جو اپنے فرائض کو اچھی طرح سے سر انجام دیتے ہیں وہی جنّت میں گھر بنانے کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ گالی گلوچ، مار پیٹ اور اپنے فرائض کو درست طریقے سے انجام نہ دینے والے والدین سے جنّت بھی روٹھ جاتی ہے۔ اسی طرح اولاد کا فرض ہے کہ وہ والدین کی خدمت کریں ان کی حکم عدولی نہ کریں اگر کسی بات پر اختلاف ہے تو آرام اور تحمّل سے اپنی بات سمجھائیں ان کو وقت دیں اور یہ باور کرائیں کہ والدین ان پر بوجھ نہیں بل کہ والدین کے دم سے ان کے گھر میں برکت ہے۔

    اﷲ تعالیٰ اپنے حقوق میں پہلوتہی تو معاف کر دے گا مگر اس انسان کو اُس وقت معافی نہیں جب تک وہ انسان اُسے معاف نہ کرے جس کا اُس نے دل دکھایا ہو۔ ہمیں اپنے فرائض اور حقوق کا ادراک ہونا چاہیے تاکہ ہم اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

  • اولاد کی تربیت کا آسان طریقہ  تحریر: خالد عمران خان

    اولاد کی تربیت کا آسان طریقہ تحریر: خالد عمران خان

    آجکل کے دور میں جب دنیا بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور دن با دن مصروفیت بڑھتی جا رہی ہے ایسے وقت میں ماں باپ اپنی مصروفیات کے ساتھ اپنی اولاد کی پرورش کے لیے پریشان ہیں بہت آسان طریقے کار کو اپنا کر آپ بچوں کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں.

    بچوں کو دین کے بارے میں سیکھانا سب سے اہم ہے جب اذان سنتے ہی آپ ٹیلی ویژن بند کر دیتے ہیں اور فورا نماز کے لئے تّیاری کرتے ہیں تو عنقریب آپ اپنے اس طرز عمل سے اپنے بچوں کو نماز کا پابند بنانے کا طریقہ سیکھا دیں گے جب بچے ماں باپ کو نماز پڑھتا دیکھتے ہیں جب بچے اور ازان کا احترام کرتا دیکھتے ہیں تو بچے آپ سے سیکھتے ھیں وہ نماز کے بھی پابند بنتے ہیں اور ازان کے وقت ازان کو احترام سے سنتے ہیں.

    جب آپ گھر میں داخل ہوتے وقت سب سے پہلے سب کو سلام کرتے ہیں تو بچے بھی آپکی یہ عادت اپنا لیتے ہیں بچے آپ کے عادت کو خاص طور پر دیکھتے ہیں اور اور لازمی اپنے والدین کی عادات اپنانے کی کوشش کرتے ہیں.

    والدین خاص طور اس بات کا خیال رکھیں کے جس رویئے سے وہ اپنے بڑوں سے پیش آتے ہیں اسّی طرح جب آپ اپنے والدین کا احترام کر تے ہے تو اپنے بچوں کے سامنے اور ان کے ہاتھوں کو بوسا دیتے ہیں تو آپ کے بچے آپکے اس عمل سے ماں باپ کی عزت کرنا سیکھتے ہیں اور وہ آپ سے عزت آی پیش آتے ہیں.

    جب والدین یہ میاں بیوی مختلف کام کاج میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں تو اس سے آپ کے بچے بھی سیکھتے ہیں اور ایک
    دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے تعاون کرنا سیکھتے ہیں اس طرح کی چیزیں وہ بچپن سے ہی سیکھ رہے ہوتے ہیں تو لازمی آپ ان باتوں کا خیال رکھیں اور اپنے رویے گھر میں خاص طور پر ٹھیک رکھیں۔بچوں کے سامنے خاص طور پر کسی قسم کے جھگڑے سے دور رکھیں ایسا کوئی عمل ان کے سامنے نہ کریں تاکہ ان میں بھی اس طرح کی عادت نہ پڑے۔

    جو ماں باپ نماز اور تلاوت قرآن کی پابند ہو تو اسے دیکھ کر اس کی بچے بھی نماز اور
    تلاوت قرآن کی پابند بنیں گے.

    جو ماں باپ گھر میں مُحبت کا ماحول رکھتے ہیں باہمی اتفاق و مفاہمت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، اپنی اولاد کے سامنے لڑائی جھگڑا اور بلند آواز سے بات نہیں کرتے تو ان کے بچے گھر سے ماں باپ سے بہن بھائیوں سے محبت کرنے والے، اپنے اِرد گرد کے لوگو کے ساتھ الفت و محبت اور باہمی اتفاق ومفاہمت سے زندگی گزارنے والے بن جاتے ہیں.

    7- جو والدین اپنے رشتے داروں سے نرمی برتے ہیں کر اپنے عزیز و اقارب کی عزت کرتے ہیں تو ان کی اولاد بھی اس سے نرمی اور حسن سلوک سیکھتی ہے۔

    جو والدین آپس میں با ہمی مشورے سے مختلف امور میں ایک دوسرے سے رائے لیتے ہیں اور بچوں سے بھی راۓ مشورے لیتے ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر گفت و شنید کر تے ہیں اور اپنے بچوں کی رائے کا بھی احترام کر تے ہے تو اس سے بھی ان کے بچوں میں بھی باہمی راۓ مشورے اور مثبت رویہ اپنانے کی عادت پیدا ہوتی ہے آسان اور چھوٹے چھوٹے سے طریقے اپنا کر آپ اپنے گھر کا ماحول بہتر کر سکتے ہیں.

    Twitter handle
    @KhalidImranK

  • بچوں میں کتب بینی کا شوق تحریر : محمد وقار

    بچوں میں کتب بینی کا شوق تحریر : محمد وقار

    دورِ حاضر میں بچوں میں کتب بینی کی عادت ہونا بہت ضروری ہے. بچوں میں مطالعے کا شوق نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ اور بھی پہلوؤں سے کارآمد ہے. بچوں کو کتابیں پڑھانا تو اتنا مشکل کام نہیں جتنا ان میں مطالعے کا شوق اور دلچسپی ابھارنا مشکل ہے. کسی بھی عادت کی داغ بیل بچپن میں ڈال دیناضروری ہوتا ہے اور مطالعے کی عادت تو باالخصوص بچپن ہی سے پروان چڑھنی چاہیے. مطالعے سے بچے کی زبان و بیان میں نکھار آئے گا، جہاں بولے گا مدلل گفتگو کرے گا. تعلیمی میدان کے معرکے بھی آسانی سے سر کر لے گا.
    بچوں کے اندر کسی بھی قسم کی تبدیلی لانے کے لیے صرف نصیحت کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، بچے ان نصائح کی عملی شکل ہمارے اندر دیکھنا چاہتے ہیں اور پھر وہ اسی بات کو نقل کرتے ہیں جو وہ بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں. لہٰذا بچوں کے سامنے بیٹھ کر روزانہ مطالعے کو اپنا معمول بنا لیں. بچے بھی ساتھ بیٹھ کر اگر ورق گردانی کرتے رہیں تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں کیونکہ بچوں کو سکھانا ہے تو اس مرحلے کو بھی خوش اسلوبی سے طے کرنا ہوگا تا کہ بچے کتابوں سے متنفر نہ ہوں بلکہ پیار کریں.
    کتب بینی کا شوق پیدا کرنے کے لیے بچوں کے لیے رنگ برنگی تصاویر والی کہانیاں لے کر آئیں، پہلے خود انہیں تصاویر کی مدد سے دلچسپ انداز میں کہانی سنائیں، آسان الفاظ کا استعمال کریں اور بالکل بچے کی ذہنی اور تعلیمی سطح کو ذہن میں رکھیں. کہانی سنانے کے بعد چھوٹے چھوٹے سوالات کریں اور پھر آخر میں بچے سے وہ کہانی ان کے اسلوب میں سنیں.
    گھر میں چھوٹی سی لائبریری کا ہونا بہت ضروری ہے جہاں بچوں کی پہنچ آسان ہو. تا کہ بچے اپنی پسند کی کتابیں اٹھا کر پڑھ سکیں.
    ہم بچوں کو جس طرح ان کی پسند کے کپڑے اور کھلونے دلوانے لے جاتے ہیں اس طرح انہیں بازار لے جانا چاہئیے جہاں وہ اپنی پسند کی کتابیں خرید سکیں. اکثر کتب میلہ لگا کرتا ہے وہاں اپنے ہمراہ لے جائیں تا کہ بچوں کو کتابوں کی اہمیت اور قدر و قیمت کا اندازہ ہو.
    بچے کو کتابیں لا کر دے کر یا اس کے سامنے دو دن کتابیں پڑھ لینے سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ بچہ اب کتابوں کا شوقین ہو گیا ہے، اس ضمن میں صبر سے کام لینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ جلد بازی کسی بھی طور اثر انگیز ثابت نہیں ہو سکتی.
    اگر بچہ کسی اچھی کتاب کا انتخاب کرے، اس کو خود ہی آپ کی غیر موجودگی میں پڑھ کر آپ کے آنے پر آپ سے ڈسکس کرے تو بھلے اس کا تبصرہ کیسا بھی ہو اس کی کھل کر تعریف کریں اسے سراہیں، حوصلہ افزائی کسی بھی انسان سے کوئی بھی کام کروا لیتی ہے.
    اگر ہم ترقی کی شاہراہ پہ قدم رکھنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ لوگوں میں کتب بینی کی عادت ہو،کیوں کہ علم کی فصل قلم و کتابت کی جس زمین پر اگتی ہے اسے پڑھنے کا شوق رکھنے والے لوگ ہی سیراب کر سکتے ہیں. جس معاشرے میں مطالعے کا شوق ختم ہو جائے وہاں علم کی پیداوار بھی ختم ہو جاتی ہے.
    ‎@WaqarKhan104

  • میں اور میری امی جان تحریر ۔  فرزانہ نیازی

    میں اور میری امی جان تحریر ۔ فرزانہ نیازی


    آج میں آپ کو اپنے بارے میں کچھ بتانا چاہتی ہوں زندگی میں میں نے جو چاہا وہ ملا خود کو بہت خوش نصیب بھی سمجھتی ہوں پر کہیں سے بدنصیب بھی ہوں شاید آپ کی آنکھ میں آنسو بھی آجائیں میرے الفاظ سن کر میں اپنی امی سے بہت محبت کرتی تھی مجھے لگتا تھا میں مر جاؤں گئی اگر امی مجھے ایک منٹ بھی مجھ سے دور رہی تو ہمیشہ اپنی امی سے یہ شکایت رہی کہ وہ مجھ سے زیادہ بھائی سے پیار کرتیں ہیں امی کے ساتھ سونے کی بات آئی تو دونوں کی ضد میں جیت بھائی کی ہوئی لیکن میرا بھائی میری جان تھا
    کھانا کھلانے کی باری آتی تو پھر سے وہی ضد،اور جیت پھر بھائی کی
    تب میں ناراض ہوتی تو امی مجھے ہمیشہ یہی کہتیں تھیں
    بیٹیاں ضد نہیں کرتی ہوتی وہ بات مانتی اچھی لگتی ہیں ایک دن مجھ سے وعدہ لیا اپنے بھائیوں کا خیال رکھو گئی
    اس وقت میں سوچتی تھی پتا نہیں امی ایسا کیوں بول رہی ہے مجھے سمجھ نہیں آتی تھی انکی باتیں بس یہی سوچتی تھی بات نہیں مانوں گی
    میں بہت ضدی ہوتی گئی کسی کی نہیں سنتی سب کی لاڈلی تھی امی میرے لیے بہت پریشان ہوتیں اور کہتیں تھیں
    اس لڑکی میں پارہ بھرا ہے نچلا بیٹھنا اسے آتا ہی نہیں
    پتا نہیں زندگی میں کیسے چلے گی
    وہ گھر میں لڑکیوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتی تھی امی کہتی تھی
    میں ان کو پڑھاتی ہوں یہ میرے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں گی
    میں نے کبھی نہیں سوچا کہ صدقہ جاریہ کیا ہوتا ہے
    مسجد سے کسی کے فوت ہو جانے کا اعلان سنتیں تو فورا کام چھوڑ چھاڑ قرآن پاک لے کر بیٹھ جاتیں میں پوچھتی
    اپکو کیا پتہ کون فوت ہوا ہےاور فوت ہونے والے کو کیا پتہ آپ کون ہیں
    تو کہتیں
    الله کو تو پتہ ہے نہ پھر جب میں کسی کو ایصال ثواب کروں گی تو ہی تو کوئی مجھے بھی کرے گا
    مجھے انکی باتوں کی کبھی سمجھ نہیں آئی میں صرف 8 سال کی تھی انہوں نے کبھی اپنے حق میں کچھ نہیں بولا
    خاموشی
    یہ انکا معمول رہا ہر مہینہ کے شروع میں چاول بنا کر مدرسہ کے بچوں کو کھلاتی تھی
    تو بہت پیار سے کہتیں
    یہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں الله کے باغ کے پھولاس لیے انہیں کھلاتی ہوں
    وہ ایسی ہی تھیں کبھی کسی سے شکایت نہیں کی ہر تکلیف خاموشی اور صبر سے برداشت کر لیتیں تھیں پر وہ بیمار رہنے لگی ایک دن میں سکول میں تھی واپس آئی تو امی نہیں تھی مجھے چھوڑ کر اپنے گھر نانو پاس چلی گئی جب کہ میں دادا جان دادو جان کی لاڈلی تھی میں ادھر کی رہتی تھی کبھی نہیں گئی نانو گھر امی وہاں 2 دن رہی 3 دن کی صبح وہ اللہ کے پاس چلی گئی جب ہمیں پتا چلا تو مجھے یقین ہی ہوا پہلے بس دل بند ہو رہا تھا سوچ سوچ کر پھر پتا نہیں کیا ہوا جب امی سامنے تھی تھی تو بلکل نہیں روئی بلکے بھائیوں کو سنبھال لیا بابا ہمیں دیکھ کر بہت روتے تھے نانو صدمے سے اپنے حوش و حواس کھو بیٹی وہ وقت آج بھی یاد ہے مجھے آج میں 22 سال کی ہو گئی ہوں پورے خاندان کو یہی لگتا میرے بغیر کچھ میں اپنے بھائیوں بابا کیلئے سب کچھ ہوں دل میں اس بات کا افسوس ہے امی مل نہیں پائی دعا ہے اللّٰہ پاک امی کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ ایک چھوٹی سی نصیحت ہے جو لوگ مجھے پڑھ رہے ہیں اپنی کی قدر کریں زندگی شاید آپ کی ہو پر آپکی ماں شاید بہت ہی کم رہا گئی ہو جتنا ہو سکے وقت دیا کریں انھیں ۔۔!!!
    ‎@Miss__niazi

  • ‏پاکستان میں غربت کی وجوہات اور غربت کا خاتمہ    تحریر: زاہد کبدانی

    ‏پاکستان میں غربت کی وجوہات اور غربت کا خاتمہ تحریر: زاہد کبدانی

    غربت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ ہے اس حقیقت کے ساتھ کہ اکثر لوگوں کے پاس محدود اقتصادی وسائل ہیں اور ان کا معیار زندگی کم ہے۔ عوام تعلیم ، صحت ، مواصلات اور اچھی خوراک میں جدید سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ ایسے لوگ آمدنی کے وسائل کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں اور وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ متوازی زندگی گزارنے کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ مقابلے کے اس دور میں وہ اپنے حقوق سے محروم محسوس کرتے ہیں اور کمتریاں ان پر حاوی ہوتی ہیں۔ وہ کنبے کے ساتھ بیٹھنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ انہیں اچھے لوگوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات نہیں دیے جاتے کیونکہ وہ غربت کی وجہ سے ناپسندیدہ ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر ناخواندہ ہوتے ہیں اور ان کی دوستی ایک ہی قسم کے لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا معیار زندگی تعلیم اور معاشی وسائل کے بغیر نہیں بڑھتا۔ غربت خود ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ غریب لوگ نئے رجحانات پر عمل کرنے سے قاصر ہیں اور وہ سماجی زندگی میں نئے طریقے اپنانے میں ناکام رہتے ہیں۔

    غربت ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ وہ اپنی آمدنی کے وسائل بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ غربت کو ایک سماجی مسئلہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ آگے بڑھنے والے لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ترقی کے طریقے نہیں سمجھتے: وہ زیادہ تر مایوس ہوتے ہیں جب ان کی ضروریات زندگی نہیں ہوتی
    پوری. مایوسی میں وہ جارحانہ ہو جاتے ہیں اور ایسی حرکتیں کر سکتے ہیں جو کہ مجرمانہ نوعیت کی ہیں۔ دوسروں کی نفرت کی وجہ سے وہ رد عمل لیتے ہیں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ وہ معاشی عدم مساوات کی وجہ سے امیر لوگوں کی گاڑیاں اور املاک تباہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات امیر آدمی کا بچہ اغوا ہو جاتا ہے۔ کبھی اس کی گاڑی اٹھا لی جاتی ہے اور کبھی ”اس کے گھر میں ڈاکو ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ امیر آدمی پر قتل جیسے زیادہ گھناؤنے جرم کی طرف جاتا ہے۔ اس طرح سے. غربت ایک سماجی مسئلہ ہونے کی وجہ سے سنگین نوعیت کے دیگر سماجی مسائل پیدا کرتا ہے۔
    ایک معاشرتی مسئلہ کے طور پر غربت۔
    غربت ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ یہ کئی سماجی مسائل کو جنم دیتا ہے جو کہ ذیل میں دیے گئے ہیں۔
    1. غربت ناخواندگی اور جہالت پیدا کرتی ہے۔
    بہت سے بچے اس مسئلے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ہر سال لاکھوں بچے معاشی مسائل کی وجہ سے تعلیم کے بجائے کمانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    2۔ دہشت گردی بھی غربت کی پیداوار ہے۔
    دہشت گرد بہت سارے پیسے دے کر چھوٹے بچوں اور غریب نوجوانوں کو پھنساتے ہیں اور انہیں ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گرد بننے کی تربیت دیتے ہیں۔
    3. جرائم اور معاشرتی برائیاں:
    جرائم اور معاشرتی برائیاں کے تحت پیدا ہوتی ہیں۔ غربت کی چھتری لوگ غربت کی وجہ سے جرائم کرتے ہیں۔ بہت سی سماجی برائیاں بھی اس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
    4: اقتصادی اور سماجی ترقی میں رکاوٹ:
    5: غربت ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے جو پوری قوم کو پریشان کرتی ہے۔ تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ غربت ایک سماجی مسئلہ ہے اور یہ بھی ہے
    کہ، بہت سے دوسرے سماجی مسائل کی ماں ہے،

    غربت کی وجوہات۔
    غربت کی کئی وجوہات ہیں جو کہ ذیل میں دی گئی ہیں۔ جن میں. قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی کمی:
    ہم قدرتی ماحول سے معاشی وسائل حاصل کرنے سے قاصر ہیں جو خدا نے ہمیں دیا ہے۔ یہ زمین ، پہاڑ ، پہاڑ ، دریا اور آبشار ہیں جہاں سے ہم اپنی تکنیکی مہارت سے دولت حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم پہاڑوں سے بہنے والے پانی کو ڈیموں میں کنٹرول اور موڑ سکتے ہیں جہاں سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور نہروں کو آبپاشی کے لیے۔
    کم معیار کے کام سے بچیں:
    2: ہماری قوم کے لوگ محنت اور مشقت سے گریز کرتے ہیں۔ وہ ، سڑک پر اور سڑک پر کام کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ وہ مزدوری میں کام نہ کرکے بلکہ صاف ستھرا لباس پہن کر اپنے آپ کو قابل احترام سمجھتے ہیں۔ احترام اور وقار کا یہ تصور انہیں گھروں میں گھس جاتا ہے ، رہنے کے لیے گندی جگہیں اور ان کے رہائشی علاقوں میں صفائی ستھرائی کی سہولتوں سے محروم معیاری کھانا۔
    محنت کی کمی منشیات کی لت کا باعث بنتی ہے:
    3: ایسے لوگ جو محنت سے گریز کرتے ہیں غریب آدمی کی زندگی گزارتے ہیں اور زیادہ تر منشیات کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ ہیروئین ، چرس اور زیادتی کی دوسری چیزوں میں گھس جاتے ہیں۔ ممنوعہ حرکتیں ان کی عادات میں داخل ہو جاتی ہیں اور وہ ناجائز سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتی ہیں ، جو زندگی میں مجرمانہ کارروائیوں کا باعث بنتی ہیں۔
    مخالف سماجی عادات:
    4: بے روزگار اور بے روزگار لوگ بھی ایسی عادتوں میں پڑ جاتے ہیں ، جو کہ سماج مخالف ہیں ، جیسے ’جوا ، شراب نوشی ، دھوکہ دہی ، چوری اور ڈکیتی۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو ان اقسام کے ساتھیوں میں مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ وہ مطمئن رہتے ہیں اور اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے گھر سے چیزیں چوری کرتے ہیں۔ تمباکو نوشی اور جھوٹ بولنا بری عادت ہے جو ایسے بے کار بالغوں کے عمومی رویے میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ بیکار اور بیکار لوگ ہیں جو اچھے شہریوں سے نفرت کرتے ہیں۔

    ‎@Z_Kubdani

  • تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

    تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

    اس دنیا میں آنے والا انسان پہلے دن سے ہی عالم نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ انسان بغیر استاد کے کچھ سیکھ سکتا ہے۔دنیا میں آنے کے بعد بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود کہلایا گیا ہے ۔میرے نزدیک والدین ہی اپنے بچے کے بہترین استاد ہوتے ہیں۔ ان کی دی گئی تربیت بچے کی زندگی کو اسی راستے پر لاتی ہے۔ جس پر والدین نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہوتا ہے۔اور کچھ سبق زندگی سکھا دیتی ہے۔ تو کچھ استاد کی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔

    استاد جس علم کی روشنی کو تقسیم کرتا ہے اس سے بہت سارے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ علم ایک سے دوسرے میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہےگا۔ قارئین علم بغیر عمل کے بے فائدہ ہے تعلیم آپ نے حاصل کر بھی لی اگر کسی چیز کے بارے میں تعلیم مکمل کرلیں اور اس کو یاد بھی کر لیا۔ لیکن اس پر خود عمل نہیں کرتے تو ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ علم پھیلانا دوسروں میں تقسیم کرنا صدقہ جاریہ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ہوتا کیا ہے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان کے اندر تکبر آ جاتا ہے۔جسے اپنے علم پر گھمنڈ ہو جو تعلیم یافتہ دوسروں کو خود سے کمتر سمجھے تو ایسے عالم سے وہ جاہل بہتر ہے جس کے اندر کسی چیز کا گھمنڈ نہیں ہوتا بڑی عاجزی کے ساتھ بات سنتا اور عمل بھی کرتا ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک علم والا اپنے بہترین اخلاق اور بہترین تعلیمات کے ذریعے علم و شعور کی بیداری کے لئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ سننے پڑھنے والوں کے اندر مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا ہو اور اس کو حاصل کرنے کے بعد عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے۔
    بہت سی ایسی شکایات سننے کو ملتی ہیں کہ نوجوان نسل بدتمیز ہے اور ان میں کوئی شعور نہیں ہے۔ لیکن یہاں پر یہ سوال بھی جنم لیتا ہے ۔

    کیا آج کے دور میں علم تقسیم کرنے والے خود باعمل ہیں ؟
    کیا ان کا مقصد دوسروں تک علم کو امانت سمجھ کر پہنچانا ہے۔ یا پھر حصول روزگار کے لئے اس شعبے کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔اور ترجیحات میں صرف ذاتی فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔

    یاد رکھیں جہاں آج ایک نسل کو بد اخلاق تصور کیا جاتا ہے وہاں صرف آج کی پروان چڑھتی یہ نوجوان نسل قصوروار نہیں۔ بلکہ اس نسل کے والدین بھی اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے بغیر تحقیق کیئے اپنے بچوں کی تربیت کے لئے ایسا انتخاب کیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بسنے والا ہر باشعور شخص قصوروار ہے ۔ان سب کے سامنے علم کو صرف بیچا گیا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج جہاں علم کی قیمت لگائی جاتی ہے علم کو بیچا جا رہا ہے۔ اس کے خریدار بھی اتنے ہی زیادہ ہیں جو جتنا طاقتور ہے وہ تعلیم کی ڈگریاں خرید لیتا ہے۔وہ لوگ جو دن رات محنت کرنے والوں بچوں کے حق پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ وہ کردار ذمہ دار ہیں جو بیچتے اور خریدتے ہیں سچ کہوں تو برا لگے گا حقیقت تو یہ ہے اب علم کی منڈی لگی ہوئی ہے۔ جو جتنا پیسے والا ہو گا اس کے پاس اتنی بڑی ڈگری ہو گی۔ اب ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس کو خرید تو لیا جائے لیکن بے عمل ہو اس منڈی میں جب علم کے ہی سودے ہوں گے تو قوم میں علامہ اقبال کے شاہین نہیں بلکہ ایک جاہل نسل پروان چڑھے گی۔

    پھرہو گا کیا یہ کتابیں کسی سڑک کے کنارے آپ کو ملیں گی یا کسی کباڑیے کے پاس چند کوڑیوں کے عوض بک رہی ہوں گی۔ جب تعلیم حاصل کرنے کا مقصد روزگار ہو پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ایک باشعور شہری ہیں اس ملک کے یا ایک پڑھے لکھے جاہل ہیں ۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @No1Hasham

  • سکول  میں ڈانس کلچر معاشرے کی تباہی تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    سکول میں ڈانس کلچر معاشرے کی تباہی تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ماں کی گود کے بعد بچے کی درسگاہ کی زمہ داری اس کے اساتذہ پر عائد ہو جاتی ہے. جو اسے زندگی کے جھمیلوں سے نمٹنے کے لیے ہیرے کی طرح تراشتا ہے. اس زمرہ میں معاشرتی اصول و ضوابط کے مطابق تعلیمی اداروں میں یہ کام سر انجام دیا جاتا ہے. جہاں اساتذہ اپنے علم و ہنر کے جوہر آزماتے ہوئے طالب علم کو تراشتے اور انمول ہیرا بناتے ہیں.
    تعلیمی سرگرمیوں میں بچوں کی صحت اور جسمانی تروتازگی کے لیے مختلف کھیلوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے.
    گزشتہ چند سالوں میں جب تعلیمی اداروں میں Co-Education نظام کے ترجیحات کو ایک نیا رنگ دیا. پہلے پہل تو اوقات کار بچوں اور بچیوں کے الگ تھے. پھر رفتہ رفتہ اوقات کا تو درکنار کمرہ جماعت بھی اکٹھے ہو گئے. اس پر پھر جو آزادی دی گئی اس نے تعلیمی اداروں کے معیار کو برباد کر کے رکھ دیا. آج میٹرک جماعت کے طلبہ ٹک شاپس پر گلچھرے اڑاتے دکھائی دیتے ہیں. رہی سہی کسر سکولوں اور کالجز میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی مد میں ڈانس پارٹیوں نے نکال دی. آج کل تو معروف ادارے ماڈرنائزیشن کے نام سےکپل ڈانس جیسی لعنتوں کا سہرہ اپنے سر سجاتے نظر آتے ہیں. جس عمر میں بچوں کو اچھائی اور برائی کا شعور آنا چاہیے تھا اس عمر میں ان کی آپسی انڈرسٹینڈنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے.
    یہ کیسی تعلیم ہے جس میں بچوں کو انڈرسٹینڈنگ کے نام پر عشق و معشوقی کے جزبات سکھاے جا رہے ہیں. ہماری نسلوں کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے. میرا اتفاق ہوا انگلش لینگوج کا کورس کرنے کا. اتفاقاً اس ادارے میں صبح میں سکول اور شام میں ٹیوشن سنٹر قائم تھا. میں اور میرے برادر محترم سمیت ان کے چند دوست بھی جو کہ اس کورس میں دلچسپی رکھتے تھے نے شمولیت اختیار کی. شام میں ہم سب بھائی اور دوست اس ادارے میں اپنے انگریزی زبان کہ تقویت کا عزم لیے داخل ہوئے. وہاں ایک تعداد آٹھویں سے دسویں جماعت کے طلبہ اور طالبات کی بھی تھی. پہلا دن تو تعارف میں گزرا. لیکن انکی اٹکیلیوں اور شرارتوں سے فضا نامعقول محسوس ہوئی. اگلے دن جب ہم دوبارہ کلاس لینے پہنچے تو ہم سے پہلے ایک بڑی تعداد اس ادارے میں بچوں کی صف اول میں موجود تھی. مختصر تعارف سے معلوم ہوا کہ یہ اسی سکول کے بچے ہیں جو صبح یہاں سکول پڑھتے ہیں. کلاس کو شروع ہوئے 15 منٹ گزرے تو چٹ چیٹ کا آغاز ہو گیا. جو کہ بڑھتے بڑھتے کاغذ کے گولے بنا کر ایک دوسرے کو مارنے تک جا پہنچا. استاد محترم وہاں تہزیب کا درس دیتے بے بس دکھائی دے رہے تھے. بالآخر استاد محترم کی جوانی پر بات چھڑ گی اور نو عمر 28 سالہ استاد محترم بھی خوش گپیوں میں مشغول ہو گئے. کلاس کا وقت انہی خوش گپیوں میں مکمل ہوا. ہمارے بار بار اصرار پر کلاس پر توجہ دلانے کی ناکام کوشش بھی جاری رہی. وہ دن ہمارا اس ادارے میں آخری دن تھا. کیا یہ ہمارے مستقبل کے معمار ہیں؟
    میرا سوال ان طالبات سے بھی ہے جنہیں چٹ چیٹ سے فرصت نہیں تھی.
    جن طلبا کے جزبات چکنی چپٹی باتوں سے ابھارے گئے کیا وہ کل روشن مستقبل بنا پائیں گے. پھر گناہ سب لڑکوں کا ہوتا کہ اچھے رشتے نہیں ملتے. پڑھی لکھی بیٹیاں بوڑھی ہو رہی ہیں. کیا ہم یہ اپنا مستقبل بنا رہے ہیں. میرا سوال ان طلبا سے بھی ہی جنہیں بکنی چپٹی باتیں سننے کا شوق ہے. کیا اپنی گھر کی بہن بیٹی کو یہ آزادی دو گے. کہ وہ تمہاری من چاہی گڑیا کی طرح اپنے کسی شہزادے کی باہوں میں جھومتی پھرے؟
    کیا ماں باپ اس لیے بھیجتے کہ ان کے بڑھاپے کو اپنے نکھٹو مستقبل سے برباد کرو؟
    میرا سوال تعلیمی اداروں سے ہے. یہ انڈرسٹینڈنگ کے نام پر بچوں کے جزبات ابھار کر اور ڈانس پارٹیوں سے ان میں قربتیں بڑھا کر ڈانس پارٹیوں میں تنگ لباس سے بچیوں کے جسموں کی نمائش کروا کر اور شہوت کو فروغ دے کر کونسا بھلائی کا کام انجام دیا جا رہا ہے؟ اللہ رب العزت کے متعین کردہ حج و عمرہ کے فرائض جہاں عورت کو صفا مروہ دوڑنے تک کی اجازت نہیں تم بنت ہوا کو نا محرموں میں نچا کر کونسی روزی حلال کر رہے ہو؟
    حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا. جو شخص چاہے کہ مسلمانوں میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عزاب ہے.
    خدارا ہوش کے ناخن لیں. ماں باپ اپنے بچوں کے لباس اور تہزیب کا خیال کریں. اساتذہ بچوں کے مستقبل کو خراب ہونے سے روکیں. تعلیمی ادارے اس طرح کے ماحول کو ترک کر کہ ایک اچھا پلیٹ فارم مہیا کریں. جہاں سے نکلنے والے طلبہ اور طالبات تمہارے سکھاے ہوے علم و اداب کی بدولت اپنا مستقبل روشن کر سکیں. تاکہ مستقبل کی نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے.

    @EngrMuddsairH

  • بیٹی کے نام اہم پیغام تحریر: محمد سدیس خان

    بیٹی کے نام اہم پیغام تحریر: محمد سدیس خان

    پیاری بیٹی!
    خاوند کے گھر جاکر قناعت والی زندگی گزارنے کا اہتمام کرنا،جو دال روٹی ملے اس پر راضی رہنا، جو کچھ شوہر کی خوشی کے ساتھ مل جائے وہ مرغ پلاؤ سے بہتر ہے، جو تمہارے اصرار پر خاوند نے ناراضگی سے دیا ہو۔
    خاوند کی ہر بات کو ہمیشہ توجہ سے سننا اور اس کو اہمیت اور اولین دینا، ہر بات میں اس کی بات پر عمل کرنے کی کوشش کرنا، اس طرح تم اس کے دل میں جگہ بنا لوگی، کیونکہ اصل آدمی نہیں آدمی کا کام پیارا ہوتا ہے۔
    اپنی زینت وجمال کا ایسا خیال رکھنا کے جب وہ تمہیں نگاہ بھر کے دیکھے تو اپنے انتخاب پر خوش ہو، یاد رکھو کے تمہارے جسم ولباس کی بو یاہئیت اسے کراہت ونفرت نہ دلائے۔
    خاوند کی نگاہ میں بھلی معلوم ہونے کے لیے اپنی آنکھوں کو کاجل سرمہ سے حسن دینا، کیونکہ پرکشش آنکھیں پورے وجود کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جچادیتی ہے، غسل اور وضو کا اہتمام کرنا، یہ سب سے اچھی خوشبو ہے اور صحت خوبصورتی کا راز ہے۔
    خاوند کا کھانا وقت سے پہلے ہی اہتمام سے تیار رکھنا، کیونکہ دیر تک برداشت کی جانے والی بھوک بھڑ کتے ہوئے شعلوں کی مانند ہو جاتی ہے۔
    خاوند کی آرام کرنے اور نیند پوری کرنے کے اوقات میں سکون کا ماحول بنانا، کیونکہ نیندادھوری رہ جائے تو طبیعت میں غصہ اور چڑچڑاپن پیدا ہوجاتا ہے۔
    خاوند کی اجازت کے بغیر کوئی گھر میں نہ آئے۔
    خاوند کا مال لغویات یا فضول نمائش اور فیشن میں برباد نہ کرنا، مال کی بہتر نگہداشت حسن انتظام سے ہوتی ہے۔
    خاوند کی نافرمانی نہ کرنا بلکہ اس کی راز داررہنا، کیونکہ نافرمانی چلتی پر تیل کا کام کرے گی، اگر تم آوروں سے خاوند کا راز چھپا کر نہ رکھ سکی تو اس کا اعتماد تم پر سے ہٹ جائے گا اور پھر تم اس کے دورخےپن سے محفوظ نہ رہ سکوگی۔
    خاوند اگر کسی وجہ سے غمگین ہوتو اپنی کسی خوشی کا اظہار نہ کرنا بلکہ اس کے غم میں برابر کی شریک رہنا ورنہ تم اس کے قلب کو مکدر کرنے والی شمار ہوگی۔
    خاوند کی نگاہ میں اگر تم قابل تکریم بننا چاہتی ہوتو اس کی عزت واحترام کا خوب خیال رکھنا اور اس کی مرضیات کے مطابق چلنا، اس طرح تم اس کو بھی ہمیشہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں بہترین رفیق پاؤ گے۔
    جب تک تم خاوند کی خوشی اور مرضی کی خاطر اپنا دل نہیں ماروگی اور اس کی بات اوپر رکھنے کے لیے خواہ تمہیں پسند ہویا ناپسند زندگی کے کئی مرحلوں میں اپنے دل میں اٹھنے والی خواہشوں کو دفن نہیں کروگی اس وقت تک تمہاری زندگی میں کبھی خوشیوں کے پھول نہیں کھلیں گے۔
    تمہاری خوشی تمہارے شوہر کی خوشی سے وابستہ ہے، تم میں سے ہر کوئی دوسرے کی سعادت یا شقاوت کا سبب بن سکتا ہے
    لہذا اپنے اور شوہر کے درمیان کسی بھی نفرت کی بات کو پیدا نہ ہونے دینا، کہیں ایسا نہ ہو کے ایک بات سے کئی نفرتیں جنم لیں، بالآخر معاملہ ہاتھ سے نکل جائے۔
    اپنی استطاعت کے مطابق شوہر کی بات ماننا، اس کے ساتھ استہزاء ومذاق نہ کرنا، بے ہودہ باتوں سے بچنا ، زیادہ غصے میں نہ آیا کرنا کیونکہ یہ طلاق کی چابی ہے ، زیادہ ناراض نہ ہوا کرنا کیونکہ اس سے بغض پیدا ہوتا ہے۔
    اپنی صحت کا خیال رکھنا اور نقصان دہ کریمیں اور پاؤڈر مل کر اپنے چہرے کی تروتازگی اور رونق ختم نہ کرنا۔
    جس کا بوجھ تمہیں اٹھانہ ہے اسے بھر پور ہمت وطاقت سے اٹھانا اور یہ بات ذہن میں رکھنا کے باہر کے معاملات شوہر کے ذمے ہیں لیکن گھر کے امور کی صرف تم جواب دہ ہو۔
    Twitter user name @msudais0

  • تربیتِ اولاد کے چند رہنما اصول تحریر  : باچاخانزادہ

    تربیتِ اولاد کے چند رہنما اصول تحریر : باچاخانزادہ

    بچوں کی تربیت اس دور کا سب سے اہم چیلنج بن چکا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تربیتِ اولاد ایک نہایت صبر آزما اور جاں گسل کام ہے مگر اس کے نتائج و ثمرات کو مد نظر رکھا جائے تو یہ کام مشکل نہیں رہتا۔ بڑے مقاصد کے لیے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ بچوں کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد اور دنیا و آخرت کا بہترین ذخیرہ بنانے سے بڑا مقصد اور کیا ہوسکتا ہے! سو اس لحاظ سے اس راہ کی مشقتیں پھر بھی کم ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی برحق ہے کہ نیک کام کے ہر مرحلے پر خدا کی مدد و نصرت شامل حال رہتی ہے جس سے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ ذیل میں چند ایسے اصول لکھ رہے ہیں جو تربیت کے لیے نہایت موزوں ثابت ہوں گے۔ تجربہ اس بات کا شاہد ہے۔
    اولا تو یہ ذہن میں رکھیں کہ بچے کی مثال ایک سادہ لوح کی ہے۔ وہ اپنے بڑوں کو دیکھ دیکھ کر اس لوح میں رنگ بھرتا ہے۔ جیسا معاملہ اور برتاؤ اس کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ اس کی زندگی کے ضابطے بنتے جاتے ہیں۔ اس لئے والدین کو خصوصاً بچوں کے حوالے سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    1- غلط کی حوصلہ شکنی
    عموماً بچے کبھی کبھار غلطیاں کردیتے ہیں۔ کبھی تو اوروں کی دیکھا دیکھی میں اور کبھی عدمِ توجہی کے باعث۔ بچہ کوئی غلطی کرے تو اس پر پیار سے باز پرس ضرور کرنی چاہیے، تاکہ اسے احساس ہو کہ یہ غلطی دوبارہ نہیں کرنی ہے اور یہ کہ میرے سے سوال جواب کرنے والے لوگ موجود ہیں جو میرے ہر عمل کی نگرانی کر رتے ہیں۔ عام طور پر والدین محبت کے دھوکہ میں آکر ایسے مواقع یہ کہتے ہوئے نظر انداز کردیتے ہیں کہ "ابھی توبچہ ہے۔ بعد میں سیکھ جائے گا”۔ یاد رہے یہ ایک تباہ کن غلطی ہوتی ہے جو بچے کی تربیت میں بہت منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بعد میں کبھی نہیں سیکھا جاتا، بچپن کا سیکھا پچپن تک ساتھ چلتا ہے۔ پکڑ نہ کرنے کے باعث بچہ اپنی غلطی کی اصلاح کے بجائے اس پر جری ہوجاتا ہے۔ یوں غلطی در غلطی کی ایک لڑی بنتی چلی جاتی ہے۔

    2- اچھائی کی تعریف
    بچے عموماً پاک طینت اور صاف دل ہوتے ہیں۔ برائیوں کی طرح ان کی اچھائیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کوئی اچھی بات کہیں، اچھا کام کریں تو تعریف ضرور کرنی چاہیے۔ اپنی وسعت کے بقدر حوصلہ افزائی بھی کریں تاکہ اسے معلوم ہو کہ اچھائیوں کی قدر کی جاتی ہے۔ آپ کا یہ عمل انہیں مزید اچھائیوں کی شہہ دے گا۔ اس میں ایک بات کا دھیان رہنا چاہیے کہ تعریف اور حوصلہ افزائی کے ساتھ مزید اچھائیوں کی بھی ترغیب دی جائے۔ اسی ایک اچھائی پر اکتفاء نہیں کرنا چاہیے۔

    3- ضد کبھی پوری نہ کریں
    بچے ضدی کیوں بنتے ہیں؟ کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ضد سے بات مانی جاتی ہے۔ جب آپ ان کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے تو وہ سمجھ بیٹھے گا کہ اپنی بات ایسے منوائی جاتی ہے۔ اس لیے بچہ جب کبھی ضد کرے دل پر پتھر رکھ کر اسے پورا کرنے سے باز رہیں۔ وہ روئے دھوئے جو کرے، آپ نے ہار نہیں ماننی۔ یہی بچے کے ساتھ خیر خواہی اور محبت کا تقاضا ہے۔ ایک مرتبہ ضد پوری نہ ہوگی تو پھر کبھی ضد پنے کی شکایت نہیں ہوگی۔

    4- ذمہ داری سونپیں
    عمر کے لحاظ سے بچوں کو ذمہ داریاں بھی سونپیں۔ چھوٹا ہے تو گھر میں کوئی گلاس اٹھوا دیں۔ اپنے کھلونے سمیٹنے کی ذمہ داری دیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس سے بچے میں احساس ذمہ داری پیدا ہوگی۔ وہ شروع سے ہی ایک ذمہ دار حیثیت سے پروان چڑھنا شروع ہوجایے گا۔ جن والدین کو اپنے بچوں کے بھولے پن اور سادگی کی شکایت رہتی ہے وہ یہ کام کر کے مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔

    5- گپ شپ کریں، رائے لیں
    بچوں کے ساتھ میٹنگز رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ معمول کی نشستوں کے علاوہ خصوصی نشست رکھنے کا بھی اہتمام کریں جس کے لئے انہیں پہلے سے بتائیں کہ ایک خاص بات کرنی ہے۔ گفتگو سنجیدہ ہونی چاہیے جس میں بچوں کی رائے لی جائے۔ ان کی آراء پر مثبت تبصرے بھی ساتھ کریں۔ کہیں نقص ہو تو وہ بھی بتائیں۔ اس سے بچوں میں فیصلہ سازی کی قوت پیدا ہوگی۔ ان کا دماغ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔

    6- لکھوائیے
    ایک صاحب نے کہا میں نے اپنے بچوں کو بہترین تحریر نویسی سکھانے کے لئے یہ اصول اپنایا کہ جو معاملہ ہو میں ان سے لکھنے کا کہتا۔ یوں وہ لکھ لکھ کر بہترین لکھاری بن گئے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بھی گاہے بگاہے بچوں سے لکھوائیں۔ کہیں گھومنے گئے تو اس پر کچھ لکھوائیں۔ اسکول پر لکھوائیں۔ والدین، اساتذہ، بہن بھائی، پسند نا پسند، ڈھیر سارے موضوعات ہیں جن پر بچے بآسانی لکھ سکتے ہیں۔ لکھنا سیکھیں گے تو سمجھنا بھی سیکھیں گے۔ ایک لکھای قوم کا ترجمان ہوتا ہے۔ لکھنا بھی آنا چاہیے۔

    7- خود مثال بنیں
    بچوں کو جیسا بنانا چاہتے ہیں خود بھی ویسا بننے کی کوشش کریں۔ جو بات انہیں کہیں خود بھی عمل کریں۔ یاد رکھیں! خود عمل کیے بغیر صرف آرڈر جاری کرنا اپنی محنت ضائع کرنے والی بات ہے۔ بچے سنتے کم دیکھتے زیادہ ہیں۔ جیسا ماحول ویسا کردار ہوگا۔ انہیں جیسا دکھایا جائے گا ویسے ان کی شخصیت کی تعمیر ہوگی۔

    درج بالا چند اصول تربیت کے حوالے سے تجربات کا نچوڑ ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے بچے آپ کے لئے دنیا میں نیک نامی اور افتخار کا باعث بنیں گے۔ بچے والدین کی سب سے قیمتی دولت ہیں۔ ان کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ دھیان رہے کہیں یہ دولت زندگی کی مصروفیات کی نذر ہو کر ضائع نہ ہو جائے۔ زندگی جتنی بھی مصروف ہو، بچوں کے لیے وقت ضرور نکالیں۔

    @bachakhanzada5

  • چائلڈ لیبر ایک لعنت تحریر: فروا نذیر

    چائلڈ لیبر ایک لعنت تحریر: فروا نذیر

    بچے فرشتوں کا دوسرا روپ اور اللہ کی خاص رحمت ہوتے ہیں۔ والدین کیلیے اولاد نعمت ہوتی ہے اللہ پاک نے بچے سے لے کر بوڑھے تک ہر انسان کو خاص الخاص بنایا ہے۔
    ہر انسان کو کسی نہ کسی مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔

    آج میں ان چھوٹے بچوں کی بات کرنا چاہوں گی جو معاشرتی نا انصافیوں اور اس ظالم معاشرے کی سرمایہ دارانہ روشوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور بچپن سے ہی ہاتھوں میں قلم کی جگہ ہتھوڑی اور کندھوں پہ سکول بیگ کی جگہ بیلچہ اٹھا لیتے ہیں۔
    کوئی بھی انسان ایسا نہیں جو یہ چاہے کہ میں بچپن سے ہی کمانا شروع کردوں۔
    ہر گھر میں حالات مختلف ہوتے ہیں
    اللہ پاک کیلیے سب انسان برابر ہیں لیکن اللہ نے ہر انسان کو برابر وسائل نہیں دیئے۔ کسی کو کم دیئے تو کسی کو زیادہ۔
    اللہ لے کر بھی آزماتا ہے اور دے کر بھی آزماتا ہے۔

    اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف۔
    ہمارے معاشرے میں معاشرتی ناانصافیاں شروع سے چلتی آ رہی ہیں۔
    گو کہ آج کل کے دور میں زندگی گزارنا آسان نہیں ہے پیسہ ایک ضرورت بن چکی ہے۔ اس لئے ہر شخص کو اپنی بقا کو یقینی بنانے کے لئے زر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعلیم، راشن، ادویات، اور دیگر روزمرہ کی بنیادی ضروریات پیسوں کے بغیر نہیں مل سکتیں۔
    جن بچوں کو اچھی تعلیم اور مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں مزدوری پر لگا دیا جاتا ہے
    آخر کیوں۔۔۔؟؟
    صرف اور صرف پیسے کیلیے!!!!!

    انسان کا اچھی اور بہترین زندگی گزارنا حق ہے۔ اور ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ اس کی اولاد پڑھے لکھے اور ترقی کرے۔
    کیونکہ ایک بچے کیلیے تعلیم بہت اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن ایسی کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر بچوں کو تعلیمی اداروں کی بجائے فیکٹریوں اور کارخانوں میں داخل کر دیا جاتا ہے؟ حالانکہ بچوں کی تعلیم اور صحت کی ذمہ داری تو ریاست کی ہوتی ہے۔
    جب ہم بغور جائزہ لیں گے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ جن حکمرانوں کو ہم نے اپنے اور ملک کے بھلے اور مفاد کے لئے منتخب کیا تھا ہمارے اصل دشمن ہی وہی نکلے۔ حکمرانوں کی اپنی تجوریاں تو بھری رہیں لیکن عوام ے گھروں کی چارپائیاں بھی بک گئیں۔ حکمرانوں کی اولاد تو یورپ اور دوبئی میں عیاشی کرتی رہی لیکن عوام کی اولاد سڑکوں پہ آ گئی۔
    یہی دو طبقاتی نظریہ ہی قوموں کی کمزوری کی وجہ ہوتا ہے۔
    بچے قوموں کا مستقبل ہوتے ہیں اور کسی بھی قوم کا روشن مستقبل اس قوم کے ہونہار بچوں پہ منحصر ہوتا ہے۔ جس قوم کے بچے ہی سڑکوں پہ ہوں اس قوم کا مستقبل کیا ہو گا۔
    معاشرتی نا انصافیوں کا شکار بچے جب معاشرے میں کہیں کام کرتے نظر آتے ہیں تو لوگ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔
    میرا اس موضوع پر تحریر لکھنے کا یہی مقصد ہے کہ جہاں چھوٹے بچے ورکرز ہیں کام کر رہے ہیں ان کو حقارت سے نہ دیکھیں اور انکی مزدوری وقت پر دیں تاکہ وہ تعلیم کو چھوڑ کر جس مقصد کیلیے کما رہے ہیں وہ پورا ہو سکے اور وہ سکون کی زندگی بسر کرسکیں۔
    آپ سب سے بھی جتنا ہو سکے ایسے مظلوم بچوں کی مدد کریں تاکہ اگر ممکن ہو سکے تو وہ ساتھ ساتھ تعلیم بھی حاصل کر سکیں۔۔۔

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا فرمائے اور ہر آزمائش میں سرخرو کریں

    آمین ثمہ آمین

    Twitter id: @InvisibleFari_