Baaghi TV

Category: بچوں کی دنیا

  • بچوں سے مزدوری کروانا    تحریر : علی حیدر

    بچوں سے مزدوری کروانا تحریر : علی حیدر

    ایک پسماندہ اور بے روزگاری کے شکار معاشرے میں کم سن بچے مزدوری کرتے ہوئے , ہوٹلوں پہ کام کرتے ہوئے یا اینٹیں ڈھوتے ہوئے عام دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کم سن بچوں کی بڑی تعداد تعلیم کو خیر باد کہہ کر یا تو محنت مزدوری کرنے پہ لگ جاتی ہے یا کوئی ہنر سیکھتے ہوئی دیکھائی دیتی ہے۔
    اگرچہ ہمارے ملک میں بچوں سے مزدوری کروانا , ان سے جسمانی مشقت کا کام لینا جرم ہے اور مختلف ادوار میں اس کے لئیے قانون سازی بھی ہوتی رہی ہے لیکن یہ قانون رفتہ رفتہ بے اثر ہوتا گیا۔ چناچہ گلیوں میں بھیک مانگتے , انڈے , قہوہ اور برگر بیچتے , فیکٹریوں , ہوٹلوں اور اینٹوں کے بٹھوں میں کام کرتے معصوم بچے ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں جو کہ ہماری پسماندہ سوسائٹی کا ایک افسوسناک پہلو ہے۔

    بچپن بچے کے جسمانی خدوخال کی نشوونما اور ذہنی و نفسیاتی ارتقاء کا بنیادی مرحلہ ہوتا ہے جس کے لئیے سکول بہترین جگہ ہے۔ سکول بچوں کی شعوری سطح کو بلند کرنے کے لئیے ایک ایسا سازگار ماحول فراہم کرتا ہے جہاں وہ اپنے بہترین ہم عمروں کے ساتھ رہ کر آنے والے ذندگی کے لئیے خود کو تیار کر پاتے ہیں اور ان کی شعوری سطح بھی بلند ہوتی ہے۔لیکن سکول میں موجود بچوں کے مقابلے میں بچوں کی ذیادہ تعداد کا سکول کی بجائے مزدوری کرنے کے لئیے سکول سے باہر موجود ہونا اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ ہمارے معاشرے کا ڈھانچہ جن بنیادوں پہ استوار کھڑا ہے ان میں ضرور کوئی خامی ہے۔
    بظاہر اس کی بنیادی وجہ بے روزگاری اور آبادی میں اضافہ ہیں لیکن حقائق کا بغور تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے عوامل آپس میں جڑے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ان گنت مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ان مسائل میں مہنگائی , شعور کی کمی , پرانی روایات , غربت , بے روزگاری , منشیات اور صحت کی عدم سہولیات وہ مسائل ہیں جن میں ایک مسئلہ کی وجہ بن رہا ہے۔
    آبادی میں اضافہ بہت سے ماحولیاتی اور معاشرتی مسائل کو پیدا کرتا ہے کیونکہ آبادی میں اضافے سے ضروریات ذندگی بڑھ جاتی ہیں جن کو پورا کرنا خاندان کے اکیلے کمانے والے شخص کے بس میں نہیں رہتا۔
    ہمارے معاشرے کا افسوسناک اور منفی پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کے اکثر افراد اپنی عورتوں کو ملازمت کی اجازت نہیں دیتے اگرچہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہوں۔ چناچہ جب اکیلا مرد گھر کے اخراجات پورے نہیں کر پاتا تو وہ معصوم بچوں کی تعلیم چھڑوا کر ان کو کام پر لگا دیتا ہے۔
    معاشرے میں بچوں کے مشقت اور مزدوری کرنے کے کلچر کو ختم کرنے کے لئیے پہلا اقدام عورت کے لئیے ملازمت کے مواقع فراہم کرتے ہوئے اس کے ملازمت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ خاوند کے ساتھ مل کر حصول معاش میں اس کا ہاتھ بٹا سکے اور وہ دونوں مل کر اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے ذیور سے آراستہ کر کے ایک باشعور اور تعلیم یافتہ نسل کی بنیاد رکھیں۔
    بنیادی تعلیم حاصل کئیے بغیر ایک بچہ جب ایک خاندان کا سربراہ بنے گا تو وہ تب بھی مزدوری کر کے روزی کمائے گا ۔ یوں نہ صرف اس کی ساری ذندگی مزدوری میں گزر جائے گی بلکہ وہ خود بھی مستقبل میں اپنے بچوں کو تعلیم کے ذیور سے آراستہ کرنے کی بجائے ان کو مزدوری پہ لگا دے گا ۔ اس طرح ایک خاندان ایک ایسی نسل کو جنم دے گا جس کا کوئی بھی فرد پڑھا لکھا اور معاشی طور پہ خوشحال نہیں ہو گا۔
    معاشرے میں پھیلتے ہوئے جرائم , منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ اور محرومی و احساس کمتری کے شکار افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی کسی حد تک اسی وجہ سے ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ذیور سے آراستہ کرنے کی بجائے ان کو بچپن سے ہی جسمانی مشقت پہ لگا دیا جاتا ہے جہاں سے وہ متششدد بن کر جرائم کی راہ اپناتے ہیں یا منشیات کے عادی ہو کر ذندگی کی ذمے داریوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    بچے کی جسمانی مشقت کے ساتھ گھر کی معشیت کو وقتی طور پہ ذرا سا کاندھا تو میسر آ جاتا ہے لیکن اس کے نتائج دیر پا ہوتے ہیں جو نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔

    بچوں سے مزدوری کروانے کے کلچر کا بنیادی اور مؤثر حل یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے لئیے اقدامات اٹھائے جائیں

    بچوں کی جسمانی مشقت اور مزدوری کرنے کے خلاف قانون سازی عمل میں آنی چاہئیے ۔ اس مقصد کے لئیے وہ فیکٹری , ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان جو بچوں کو ملازمت کرنے کے لئیے اپنے پاس جگہ دیتے ہیں ان کے خلاف کاروئی عمل میں لائی جائے۔
    مرد کے ساتھ ساتھ نہ صرف عورت کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے بلکہ عورت کے ملازمت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ مرد کے ساتھ شانہ بشانہ مل کر گھر کی معشیت کا بوجھ ہلکا کر سکے۔
    معاشرے کے صاحب حیثیت افراد کو چاہئیے کہ وہ غریب خاندانوں کی کفالت کا ذمہ لیں اور ان کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کریں کیونکہ اکثر لوگ اپنے بچوں کو اس لئیے سکول نہیں بھیجتے کیونکہ وہ بچوں کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔

    @alihaiderrr5

  • معصوم بچے،، مسکراتی کلیاں،، جنت کے پھول،، گھر کی رونق تحریر: کائنات عزیز راجہ

    معصوم بچے،، مسکراتی کلیاں،، جنت کے پھول،، گھر کی رونق تحریر: کائنات عزیز راجہ

    معصوم بچے،، مسکراتی کلیاں،، جنت کے پھول،، گھر کی رونق ۔۔۔ جو کہیں ان کو۔
    ان کی تربیت والدین پر فرض ہے۔
    تربیت میں بول چال ، اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا، نماز روزہ سب شامل ہے۔
    بچہ ایک خالی پیپر ہوتا ہے اس پہ جو اس کے والدین لکھتے ہیں وہی پختہ ہو جاتا ہے ۔ اگر ماں باپ آپس میں ناشائستہ الفاظ استعمال کرتے ہیں تو بچہ بھی وہی سیکھے گا ۔ اگر ماں باپ آپس میں اتفاق پیار محبت سے رہتے ہیں تو بچہ بھی ایسا ہی ہو گا نیز یہ کہ بچوں پر سب سے زیادہ اثر ان کے والدین کا پڑتا ہے ۔ اسکے بعد ماحول کا اس کے بعد اس کے دوستوں کا۔
    یہ بات بھی تربیت میں شامل ہے کہ والدین بچے کی صحبت پر نظر رکھیں ۔ وہ کیسے دوستوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے اسکے دوستوں کا طرزِ زندگی کیسا ہے۔
    اسکے بعد آجاتا ہے بچے کی تعلیم : تو والدین کا یہ بھی فرض ہے کہ اپنے بچے کو دین کی تعلیم دیں ۔ دینی مدارس میں نیک لوگوں کی صحبت میں رکھیں تاکہ ان کے اثرات بچے پر پڑھیں ۔ بچوں کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات سنائیں اور ان کو یہ بات بتائیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس دین کو حاصل کرنے کے لیے کتنی مشقتیں اٹھائی اس سے بچے میں شوق و جذبہ پیدا ہوگا
    اپنے بچوں کو نماز کا عادی بنائیں تاکہ آپ پر کوئی وبال نہ ہو۔
    غور کیجئے: جس بچے کو آپ صبح ٥ بجے نماز کے لئے نہیں اٹھا رہے اسی بچے کو چھ بجے سکول کے لئے زبردستی جگا رہے ہیں۔
    صبح بچے کی نیند خراب ہوتی ہے اسے نہیں جگایا جاتا۔ ظہر میں وہ تھکا ہوا ہوتا ہے اس لیے نماز کا نہیں کہا جاتا۔ پھر عصر میں وہ اکیڈمی ہوتا ہے اس لئے نماز رہ جاتی ہے۔ مغرب میں وہ اکیڈمی سے واپس آتا ہے پھر سکول کا کام کرنا ہوتا ہے اور عشاء میں دن بھر کا تھکا ہوا بچہ سو جاتا ہے””
    یہ سب والدین کی زمہ داری ہے کہ وہ بچے کو سکھائیں۔
    ایسی مائیں ہوتی تھی جو اپنے بچوں کو کہتی تھی بیٹاکبھی جھوٹ نہیں بولنا ۔ بیٹا تم نے آگے دین کا کام کرنا ہے۔ بیٹا اپنی حاجتیں صرف اپنے مولا سے کہنا ۔ بیٹا اللہ نے تمہیں اپنے لئے پیدا کیا ہے۔۔۔
    ایسی عظیم مائیں ہوا کرتی تھی۔۔ آج اگر ہماری نسل خراب ہو رہی ہے تو اس کی وجہ بھی مائیں ہیں۔ کیونکہ انھوں نے اپنے بچوں کو زندگی کا اصل مقصد بتانا چھوڑ دیا ۔
    پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ماں اگر پرہیزگار تقوی والی ہو گی تو اولاد بھی نیک صالح ہوگی۔
    اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنائیں اور حفظ قرآن کی فضیلت خود بھی معلوم کریں کہ حافظ قرآن کے والدین کو قیامت کے دن ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے زیادہ ہو گی اور بچوں کو بھی بتائیں کہ حافظ قرآن کو قیامت کے روز کہا جائے گا قرآن پاک پڑھتا جا اور بہشت(جنت) کے درجوں پہ چڑھتا جا پس تیرا مقام وہی ہے جہاں آخری حرف پہ تو پہنچے۔
    ہمارے اکابرین میں تو ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جن کو تقریباً ساڑھے تین سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ تھا جب اس کا راز معلوم کیا گیا تو پتا چلا ماں جب بچے کو دودھ پلانے بیٹھتی تھی تو پہلے وضو کر کے قرآن لے کے بیٹھتی تھی اور دودھ پلاتے ساتھ تلاوت کیا کرتی تھی جس کی برکت سے بچے کو قرآن پاک حفظ ہو گیا ۔ ایسی بھی مائیں تھی ۔۔
    آج ہماری نسل کی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب والدین ہیں۔ جس نسل کے والدین تبلے کی تھاپ پہ ناچتے ہوں اس نسل میں ناچنے والے اور گانے بجانے والے ہی پیدا ہوں گے
    مائیں عظیم ہوں تو پھر بیٹیاں بھی رابعہ بصری جیسی ہوا کرتی ہیں مائیں عظیم ہوں تو پھر بیٹے بھی شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ جیسے ہوا کرتے ہیں۔
    والدین کو چائیے اپنا کردار باخوبی نبھائیں اور اپنی اولاد کو عالی ظرف اور باکردار اور اپنے لئے بہترین صدقہ جاریہ بنائیں۔

    "”

    @K_A_R123

  • مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے  تحریر: زاہد کبدانی

    مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے تحریر: زاہد کبدانی

    تعلیم کے دائرہ کار میں ، اسکولی طلباء کے لئے اسلامی تعلیم بہت ضروری ہے ، یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسکول کی دنیا میں داخلے سے قبل اسلامی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ جب بچے دنیا کی تعلیم میں داخل ہوں تو وہ اس کی عادت ڈالیں اور وہ صرف اسے روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں طلباء کے لئے اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے ، کیوں کہ اس جدید دور کے ساتھ طلباء میں بہت سے منفی اثرات پائے جاتے ہیں ، مثال کے طور پر ، ابتدائی اسکول کے بچے جنہوں نے طلباء میں اسلام کو اکسایا اور اس کے بعد اچھی سمت سگریٹ پی۔ طلباء جدید دور کے منفی اثرات سے بچیں گے۔ اسلام زندگی کا ایک طریقہ ہے ، اگر ہم میں اور ہماری زندگیوں میں کوئی مذہب نہیں ہے تو پھر زندگی بے چین ہو جائے گی ، اور ہم پریشانی محسوس کریں گے کیونکہ کوئی ہدایت نامہ موجود نہیں ہے ، دین میں ہر چیز کا اہتمام قرآن اور احادیث میں کیا گیا ہے ، جس سے شروع ہوتا ہے۔ دل کا ارادہ ، عبادت ، سلوک ، تعلیم ، خرید و فروخت یا معیشت ، معاشرتی۔ جیسا کہ آیت نمبر 255 میں بیان کیا گیا ہے ،

    سور بقرہ۔ طلباء کو اسلامی تعلیم کے فوائد میں متعدد چیزیں شامل ہیں:

    پہلے ، بچوں کے روحانی معاملات میں ، اگر بچوں نے ٹی کے دی ڈپو سے اسلامی تعلیم حاصل کی ہے ، تو وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اسلام کا اطلاق کرسکیں گے ، مثال کے طور پر باجماعت نماز پڑھنا ، والدین یا اساتذہ سے مصافحہ کرنا ، یقینا درخواست دینے میں ، طالب علم واقعتاً ماحول سے مدد اور تعاون کی ضرورت ہے ، خاندانی ماحول بنیادی چیز ہے جو والدین ہیں ، والدین کو لازمی ہے کہ وہ بچوں کو روزمرہ کی زندگی میں عمل درآمد کرنے کے لئے ہدایت کریں اور ان کی مدد کریں ، اس کے بعد طلباء کو اسلامی دینی تعلیم کے بارے میں اسکول میں جو کچھ ملتا ہے ، اس کے بعد والدین کو بھی اپنے بچوں کے تعلقات کی نگرانی کرنی ہوتی ہے ، کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے مستقبل کا تعین کرنا ضروری ہے ، اس کی روحانی گہرائی جتنی زیادہ ہوگی وہ جدید دور میں ہونے والے نقصان سے بچ جائے گا ، کیونکہ وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا۔
    دوسرا ، سلوک یا اخلاقیات کے لحاظ سے ، اسلامی دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کے اخلاق بہتر ہوں گے ، مثال کے طور پر والدین اور اساتذہ کا فرمانبردار ، شائستہ ، سب کے ساتھ شائستہ ، ایک دوسرے کی مدد کرنے میں مدد کرنا ، اس موقع پر ، طلباء کو آزمائے جانے کی ضرورت ہے والدین اور اساتذہ کے طرز عمل یا اخلاق سے ، اسلامی مذہب اور اچھے اخلاقی سلوک کے علم کے ساتھ ، طلباء کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ سیکولہ ایس ڈی ٹربائک دی ڈپوک طلباء کو اسلامی تعلیم مہیا کررہے ہیں اور خاندانی ماحول ، والدین ، ​​تعلقات ، اساتذہ کی مدد سے ، جو اس کے بعد زندگی میں لاگو ہوتے ہیں ، مسلم نوجوانوں کی نسلوں کو ان منفی اثرات اور اخلاقی نقصان سے بچانے میں مدد فراہم کریں گے جو طلباء کو جدید معاشرے میں دوچار کرچکے ہیں۔

  • بچوں کی صلاحیت پہچانیں  تحریر: نزاکت شاہ

    بچوں کی صلاحیت پہچانیں تحریر: نزاکت شاہ

    ہر بچہ مختلف عادات واطوار کا مالک ہوتا ہے ،ہر بچے کے شوق مختلف ہوتے ہیں، کوئی کھیل کا رسیا ہوتا ہے ،کوئی مطالعے کا ، کوئی ٹیکنیکل ذہن کا مالک ہوتا ہے اور کوئی مائنڈ گیمز کا ماسٹر،کسی کی آواز اچھی ہوتی ہے ، کسی کے بولنے کا انداز اچھا ہوتا ہے ۔لیکن یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ کسی بچے میں کوئی خوبی یا شوق نہ ہو ۔
    خرابی کب پیدا ہوتی ہے ؟؟؟
    جب والدین بچے پر اس چیز کو سیکھنے زور ڈالتے ہیں جس کی صلاحیت اس کے اندر موجود ہی نہیں ہوتی۔اور بچہ اس حد تک نتائج نہیں دے سکتا جو قدرتی صلاحیت والا بچہ دے سکتا تھا ۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچ باغی ہونے کے ساتھ ساتھ اعتماد کھونا شروع کر دیتا ہے ۔
    غیر ضروری دباؤ اس کی شخصیت کے بگاڑ کا سبب بنتا ہے ۔اس کے اندر والدین کا خوف پیدا کرتا ہے ۔اس کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے ۔بچے میں جو صلاحیت موجود نہیں ،اسے وہ سکھانے پر زور نہ دیں اور نا ہی اسے طعنہ دیں کہ وہ باقی بچوں جیسا کیوں نہیں ؟؟
    اس کی صلاحیت پہچانیں ،پھر اسے مواقع فراہم کریں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں ۔کچھ عرصے میں ہی حوصلہ افزا نتائج اپکے سامنے ہوں گے ۔
    معاشرے کو ایک صحت مند سوچ کی حامل نسل دیں ۔ایسی نسل جو ذہنی طور پر مضبوط اور منفرد ہو۔جس کی سوچ کا رخ مثبت ہو ۔جس میں احساس کمتری نہ ہو ۔یہ صدقہ جاریہ ہے جو اپ کیلئے ہمیشہ کام ائے گا ،
    تجربہ شرط ہے

    @NZ760

  • بچے تو باغ کے پھول ہیں   تحریر:  مدثر حسن

    بچے تو باغ کے پھول ہیں تحریر: مدثر حسن

    آج میرا دل خون کے آنسوں رو رہا ہے میرے سے لکھا نہیں جارہا ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہے میں اپنے معاشرے کی تلخ حقیقت بتانے جارہاہوں مجھے شرمندگی ہو رہی ہے کہ میرے تعلق اس معاشرے سے ہے جہاں پر کبھی سات سالہ بچی تو کبھی پانچ سالہ بچی کو اگواہ کر کے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرکے قتل کر دیا جاتا ہے

    میں پوچھتا ہوں ان پھول جیسے بچوں کا آخر قصور کیا ہے کیوں ان سے جینے کا حق لیا جاتا ہے کیوں ان کی زندگیاں محفوظ نہیں کیا یہی قصور ہے کہ وہ لڑکیاں ہیں کمزور ہیں اپنی حفاظت نہیں کرسکتی، ان درندوں کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں ۔۔۔۔۔۔

    جو لوگ ان پھول جیسی بچوں کے ساتھ زیادتی کر تے ہیں ان درندوں کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ کوئی دین یہ لوگ انسانوں کے روپ میں بھیڑیا ہیں ان میں انسانیت نام کی چیز نہیں اور یہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔۔۔۔۔

    کیونکہ ہمارا دین اسلام تو بچوں کے ساتھ پیار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔بچوں کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے

    بچے تو باغ کے پھول ہیں ان بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں یہ درندے جن کے گناہ فرشتے بھی نہیں لکھتے ان معصوم بچوں کی جانیں لیتے ہیں جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پیار کرنے کا حکم دیتے ہیں

    میں پوچھتا ہوں ان درندوں سے قیامت والے دن اللہ اور رسول ﷺ کو کیا منہ دکھاؤں گئے کس منہ سے سامنا کرو گئے تم لوگ واجب القتل ہو تم لوگوں کو عبرت ناک سزا دینی چاہیے تاکہ لوگوں کو خوف ہو جائے اور ایسا کرنے کا سوچے نہ دوبارا۔۔۔

    تم لوگ کافروں سے بھی بدتر ہو تم لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ساری زندگی جہنم کی آگ میں جلتے رہو گئے۔۔۔۔۔

    اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو ان جیسے حیوانی درندوں سے محفوظ رکھے آمین!!!!!

    @MudasirWrittes

  • بچپن کی یادیں تحریر : منیب انجم علوی

    بچپن کی یادیں تحریر : منیب انجم علوی

    عید کی چھٹیوں میں مجھے کچھ فرصت کے لمحات میسر آئے تو اُن لمحات میں مجھے میری سوچ میرے بچپن میں لے گئی جب امی جان ہمیں صبح فجر کی اذان کے ساتھ اٹھاتی نماز پڑھنے کے لئے اور وہ خود اُس وقت تک تحجد کے نوافل ادا کر چکی ہوتی ہم اُٹھ کر مسجد کی طرف چل پڑتے اور وہ گھر میں میری بہنوں کے ساتھ نماز کا اہتمام کرتی۔
    ہم جب نماز ادا کر لیتے تو اُس کے بعد مسجد محلے کے بچوں سے کھچاکھچ بھر جاتی جن کو قاری صاحب بغیر کسی معاوضے کے قرآن پڑھاتے تھے ہم بھی انہیں بچوں کے ساتھ مسجد میں قرآن پڑھتے پھر واپس گھر کی راہ لیتے ہمارے گھر پہنچنے سے پہلے والدہ نے آٹا گھوند کر چولہا جلایا ہوتا۔ والد صاحب صبح فجر کے فورا بعد کام کی طرف روانہ ہو جاتے اور ہم جب مسجد سے گھر پہنچتے وہ جا چکے ہوتے لیکن جانے سے پہلے وہ والدہ کو ہمارے سکول کا جیب خرچ دے کر جاتے تھے پھر ہم بھی سکول کے لئے تیار ہوتے اور سب بہن بھائی اکھٹے بیٹھ کر ناشتہ کرتے والدہ چولہے سے روٹیاں اتارتی جاتی اور ہم سب کھاتے جاتے اُس کھانے میں جو برکت تھی وہ شائد اب نہیں رہی کیونکہ اب نا تو ہمارے پاس وقت ہے اکھٹے بیٹھنے کا اور نہ ہی وہ خلوص باقی ہے اب جب اپنے بچپن کے وہ دن یاد کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کاش ہم بڑے ہی نہ ہوتے کاش وہ دن دوبارہ واپس آجائیں جب رشتوں میں محبت تھی وسائل کم تھے اور برکت ذیادہ( لیکن اب وسائل ذیادہ ہیں اور برکت کم) لیکن افسوس اب نہ تو وہ دن واپس آسکتے ہیں اور نہ ہم دوبارہ بچے بن سکتے ہیں لیکن ایک کام ہے جو ہم اب بھی کر سکتے ہیں اور وہ ہے رشتوں کا احساس ہم آج اپنے قریبی رشتوں کے لئے وقت نکالیں تو بہت سے مسائل خودبخود حل ہو سکتے ہیں
    اگر آپکو تحریر اچھی لگے تو اپنی قیمتی رائے سے اگاہ ضرور کیجیے

  • اپنے بچوں سے دوستی کریں . تحریر : شمس الدین

    اپنے بچوں سے دوستی کریں . تحریر : شمس الدین

    والدین کو چاہیے اپنے بچوں کی باتیں سنیں ان سے پیار کریں ان سے دوستی کریں. اپنے بچوں کا خاص خیال رکھیں ان کی ہر حرکت پر نظر رکھیں انہیں صاف بہتر ماحول دیں. سب سے پہلے اپنے بچوں کی اچھی پرورش کریں انہیں اچھا اخلاق سکھائیں بہتر سے بہتر تعلیم دیں. اپنے بچوں کو ٹائیم دیں ان کی کٹھی میٹھی باتیں سنیں.

    جو والدین اپنے بچوں کو ٹائیم نہیں دیتے وہ بڑا نقصان اٹھاتے ہیں. ان کے بچے جب بڑے ہوتے ہیں وہ بد اخلاق تعلیم محروم بڑوں کا کہنا نہیں مانتے برے کاموں میں مبتلا ہوجاتے ہیں. پہر والدین کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں. اگر شروع سے ان بچوں کی اچھی تربیت ہو ان کو اچھا بہتر ماحول دیا جائے انہیں بہتر تعلیم دی جائے تو وہ بچے بڑے ہوکر اچھے بن سکتے ہیں. بڑوں کا ادب بھی کریں اچھا اخلاق اپنائیں گے.

    معذرت سے کہنا پڑ رہا ہے کچھ والدین ایسے ہوتے ہیں جو بچوں کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے. میرا ان سے سوال ہے جب آپ کو اولاد نہیں چاہیے تھی تو ان کو پیدا کیوں کیا؟ جب ان کو اچھا ماحول نہیں دے سکتے اچھی تعلیم نہیں دے سکتے اچھا اخلاق نہیں سکھا سکتے تو پہر اولاد کو پیدا ہی کیوں کیا؟ اور ایسے بھی دیکھا ہے جب وہ بچے بڑے ہوتے ہیں والدین کا کہنا بلکل نہیں مانتے والدین سے اونچی آواز میں بات کرتے ہیں. تب ان والدین کو بھی احساس ہوتا ہے کے میرا بچہ کہنا نہیں مانتا اچھے طریقے سے بات نہیں کرتا. جب والدین شروع سے ہی اپنے بچوں کو آوارہ چھوڑ دیں گے تو نتیجہ یہی نکلے گا آپ کی اولاد بڑی ہوکر آپ کے سامنے کھڑی ہوگی آپ سے اونچی آواز میں باتیں کریگی ایک دن ایسا بھی آئیگا آپ کے بچے آپ دور بھی ہوجائیں گے.

    ایسی نوبت آنے پہلے اگر آپ چاہتے ہیں کے آپ کی اولاد بڑی ہوکر بااخلاق بنیں آپ کا کہنا مانے بڑوں کا ادب کرے تو آپ کو اپنے بچوں کو ٹائیم دینا ہوگا ان کی باتوں کو سننا ہوگا ان سے دوستی کرنا ہوگی. ان کی چھوٹی موٹی باتیں سننا ہوگی جب آپ اپنے بچوں کو ٹائیم دیں گے ان سے پیار محبت سے باتیں کریں گے ان کے جائز مطالبات مانیں گے ان کی اچھی تربیت کریں گے ان کو بہتر ماحول دیں گے اچھی تعلیم دیں گے تو یقینن آپ کی اولاد بڑی ہوکر آپ کے نقش قدم پر چلے گی. بس آپ کو شروع میں تھوڑی محنت کرنی پڑیگی. جب آپ یہ تمام کوشش ایمانداری کے ساتھ نبھائیں گے تو انشاء اللہ آپ کو نتیجہ بھی بہتر ملے گا.

    ہم امید کرتے ہیں تمام والدین اپنے بچوں کو ٹائیم دیں گے ان کی اچھی تربیت کریں گے. ان سے دوستی بھی کریں گے انہیں بہتر سے بہتر ماحول دیں گے. انہیں بہتر تعلیم دیں گے انہیں اچھا اخلاق سکھائیں گے.

    @shamsp6

  • محفوظ بچے بہتر مستقبل—- از—–عاشق علی بخاری

    محفوظ بچے بہتر مستقبل—- از—–عاشق علی بخاری

    آپ کا معمول تھا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر اکثر جایا کرتے تھے ایک بار ایسا ہوا کہ چھوٹا عمیر اپنی چ|یا کے مرجانے کی وجہ سے پریشان بیٹھا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کا دل بہلانے کے لیے) فرمایا: ياأباعمير مافعل النغیر تیری چڑیا کیا کرگئی؟

    یہی نہیں بلکہ جہاد سے واپس آتے یا گلی میں کھیلتے بچے نظر آتے آپ انہیں سلام کہتے، سواری پہ بٹھالیتے، حسن و حسین رضی اللہ عنہما دوران نماز آپ کی پیٹھ چڑھ جاتے جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلتا کہ میرے ساتھیوں میں سے کسی کے ہاں اولاد ہوئی ہے آپ انكے گھر جاتے برکت کی دعا کرتے، اپنے ہاتھ سے بچے کو گھٹی دیتے خود نام رکھتے.

    ایک بار أقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حسن یا حسین رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ دے رہے ہیں أقرع رضی اللہ عنہ کہنے لگے میرے دس بچے ہیں میں کبھی ان سے پیار نہیں کیا.

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے دل سے اللہ تعالیٰ نے محبت نکال دی ہو تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا بچوں سے متعلق فرمان ہے

    جو ہمارے چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں.
    اس سے بڑھ کر دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچے سے اجازت طلب کرتے ہیں کہ باری اور حق تو تمہارا ہی کیا میں تم سے بڑے شخص کو دودھ دے دوں؟

    یہ اسلامی تعلیمات ہی ہیں کہ بچوں اور بالخصوص بچیوں کو حقوق عطا کیے اور معاشرے میں برابری کا حق بھی دیا، اولاد کی بہتر تربیت کے فضائل بھی بتائے. ان اصولوں کو دیکھیں اور دوسری طرف انسانوں کے ظلم اور زیادتیوں کو دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے، کیا بس دنوں کا خاص کردینا ہی معصوم کلیوں پر کیے جانے والے ظلم، جبر اور زیادتیوں کے داغ مٹانے کے لیے کافی ہیں؟

    بچے کو معصوم پھول ہیں جو ہاتھ لگانے سے میلے ہوجائیں آج درندوں وحشیوں سے محفوظ نہیں اور ان وحشیوں کی پشت پناہی کرنے والے ہی ان معصوم جانوں کے لیے خصوصی دن منارہے ہوتے ہیں.

    عالمی ادارہ بہبود اطفال کی رپورٹس پڑھیں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیںعالمی ادارہ لکھتا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں دس لاکھ بچے جیلوں میں قید ہیں اور ان کے جرم قتل، ڈکیتی فسادات نہیں بلکہ معمولی معمولی جرائم پر انہیں قید کررکھا ہے.

    کشمیر، افغانستان، عراق شام، فلسطین کے بچے تو کسی گنتی میں ہی نہیں ہیں کیونکہ وہ کونسا کسی جیل میں قید ہیں.ادارہ اپنی رپورٹ میں مزید انکشاف کرتا ہے کہ ایک کروڑ سترہ لاکھ بچے ایسے ہیں جن سے جبری مشقت لی جاتی ہی ہے. یہ مہذب کہلانے والی اقوام کے کالے کرتوت ہیں.

    یہی نہیں بلکہ ہر سال تین لاکھ بچے اسمگل کیے جاتے، جنہیں جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے، میں پوچھتا ہوں کون کسے بیچتا ہے؟کیا دنیا میں کوئی قانون نہیں؟ کیا اہل دنیا یہ سب نہیں جانتے؟

    یقیناً سب جانتے ہوئے ہر ایک آنکھیں بند کیے ہوئے ہے.سب سے بڑھ کر حیرت ناک اور پتی ان کردینے والے اعداد و شمار ان بچوں سے متعلق ہیں جو جنگ زدہ علاقوں میں رہتے ہیں. یہ تعداد 415 ملین ہے جی ہاں 415 ملین!

    یعنی دنیا میں موجود ہر چھ میں سے ایک بچہ ایسی جگہ رہنے پہ مجبور ہے جہاں ہر طرف باردود ہی بارود ہے.؛ اور یہی نہیں بلکہ روز بروز اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے. انتقام کی آگ تو الگ ہے لیکن یہاں جوان ہونے والے بچوں میں سے اکثر کن کن جرائم میں ملوث ہوتے ہوں گے اس کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا.

    اغواء، جنسی زیادتی، قتل اسمگلنگ، جسم فروشی، نشے کا کاروبار یہ سب جرائم ان سے جڑے ہیں جنہیں ہم بچے کہتے ہیں. اور یہ ان مہذب اقوام کے منہ پہ سیاہ کالک ہے جو کسی بھی طرح صاف نہیں کی جاسکتی. مشرق وسطیٰ کہ جہاں سب سے زیادہ بچے جنگوں کا شکار ہیں کس نے مسلط کی ہیں؟ افغانستان، عراق، شام کے لاکھوں بچوں کا قاتل کون ہے؟ انڈیا کشمیر میں اور اسرائیل فلسطین میں جو گھناؤنے کھیل کھیل رہے ہیں ان کی پشت پناہی کرنے والے سے بھی اہل دانش ناواقف نہیں ہیں.

    چاہے امن ہو جنگ بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں اگر آج ہم نے انہیں محفوظ اور بہتر مستقبل نہ دیا تو کل یہی بچے ہمارے مستقبل کو برباد کرنے کا سبب بن سکتے ہیں، ضروت اس بات کی ہے والدین اور حکومتیں اپنا اپنا کردار ادا کریں.

    قلمکار: عاشق علی بخاری
    ای میل: abuhurerrabukhari@gmail.com
    موبائل نمبر: 03013582389

  • تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    کرونا وائرس اس وقت اپنی شدت کے ساتھ حملہ آور ہوچکا ہے. اس وقت دنیا کے 188 ممالک میں کرونا وائرس کے تین لاکھ آٹھ ہزار چار سو تریسٹھ کیسز ہیں اور یہ تعداد لمحہ با لمحہ بڑھتی چلی جارہی ہے. اس خطرناک وائرس سے اب تک تیرہ ہزار انہتر لوگ وفات پاچکے ہیں صرف اٹلی میں ایک دن میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے اٹلی میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوچکی ہے اب تک چار ہزار آٹھ سو پچیس لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں. جبکہ چین میں مرنے والوں کی تعداد تین ہزار دو سو اکسٹھ تھی.
    وطن عزیز پاکستان میں بھی صورتحال لمحہ با لمحہ بگڑتی چلی جا رہی ہے لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ موذی وائرس بڑی تعداد میں پھیلتا چلا جا رہا ہے کہاں پانچ چھ دن قبل پاکستان میں پچیس تیس کیسز تھے اور اب تعداد ساڑھے سات سو سے اوپر ہوچکی ہے. سماجی تنہائی کے لیے بنائے سینٹرز کی حالت نہایت تباہ کن ہے اور وہ بجائے کرونا وائرس کو روکنے کے کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں نرسریز کا کردار ادا کررہے ہیں دوسری طرف پاکستان میں بعض علماء کا کردار بھی نہایت ہی منفی ہے علماء کا یہ طبقہ بجائے لوگوں کو احتیاط اور سماجی تنہائی پر قائل کرنے کے ان کو گھل مل کر رہنے اوف اجتماعات وغیرہ منعقد کرنے پر اکسا رہا ہے ان علماء کے نزدیک یہ وائرس فقط میڈیا کی پیدا کردہ ہائپ ہے.
    اسی طرح کرونا وائرس کے مریض بھی خاص احتیاط نہیں برت رہے کوئی اسلام آباد پمز سے چھپ چھپا کر بھاگ رہا ہے تو کوئی ائرپورٹ پر رشوت دے کر چھپ کر نکل کر بیسیوں اپنے ہی رشتہ داروں میں کرونا وائرس کو پھیلا رہا ہے. سکھر سے بڑی تعداد میں لوگ جن میں کرونا وائرس کے کنفرم مریض بھی تھے وہ نکل کر بھاگ گئے ہیں. انتظامیہ بھی ان معاملات کو سنجیدہ نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور صورتحال خطرناک حد تک سنجیدہ ہورہی ہے. لوگوں کے ان رویوں کو لے کر پاکستان بھر میں جزوی طور پر لاک ڈاؤن ہوچکا ہے تعلیمی ادارے ، مارکیٹس، پبلک ٹرانسپورٹ، ریلوے وغیرہ بند کو بند کرنے کا اعلان ہوچکا ہے.
    تعلیمی اداروں میں چھٹیوں اور ٹیویشن سینٹرز کے بند ہونے کی وجہ سے بچے سارا دن فارغ ہیں. پہلے گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو بچے پارکس، گراؤنڈز ،رشتہ داروں کے ہاں اور مختلف علاقوں کی سیر و تفریح کو جاتے تھے مگر موجودہ صورتحال میں سبھی آپشنز ختم ہوچکے ہیں بچے سارا دن گھر ہیں اور مائیں اپنے بچوں سے سخت عاجز آچکی ہیں اور بچے بھی سارا دن والدین اور بالخصوص ماؤں کی ڈانٹ ڈپٹ سے چڑچڑے اور ضدی ہورہے ہیں جو کہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جس کو حل نہ کیا جاسکے ہم آپ کو کچھ ٹپس دیتے ہیں جن کے مطابق آپ بچوں کی جسمانی اور ذہنی تربیت کرسکتے ہیں اور ان کی تعلیمی ضروریات کو بھی ان چھٹیوں میں باآسانی پورا کرسکتے ہیں.

    آپ کو کرنا یہ ہے کہ بچوں کا چوبیس گھنٹے کا ٹائم ٹیبل بنائیں. کس ٹائم اٹھیں گے کس ٹائم سوئیں گے کیا کھائیں گے کیا پیئیں گے مطلب ہر چیز آپ کے چارٹ میں لکھی ہونی چاہیے. یہ زندگی کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے کہ آپ اپنی ہر چیز کو کیلکولیٹ کریں لیکن موجودہ دنوں میں اس پر عمل درآمد کرنا بہت آسان ہے اور یہ آپ کی اور آپکے بچوں کی ساری زندگی کے لیے بہت کارآمد اور منافع بخش ثابت ہوسکتا ہے. جن والدین اپنے بچوں کی بری صحبت اور بری عادات کی شکایت رہتی ہے وہ ان دنوں میں وہ سب عادات اور بری صحبتیں چھڑوا کر اپنے بچوں کی بہترین روحانی اور جسمانی تربیت کرسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے معاشرے میں بچوں اور والدین کے درمیان بہت بڑا ذہنی فرق ہوتا ہے اس کو ان دنوں میں دور کرکے آپ اپنے بچوں کو اپنا دوست بنا سکتے ہیں.
    آپ نے ان کا چوبیس گھنٹے کا شیڈول اور ٹائم ٹیبل بنا لیا ہے، ان کی ڈائٹ کا چارٹ بھی تشکیل دے دیا ہے تو اب آپ ایکٹیویٹز ، گیمز، لرننگ اور ایکسرسائز وغیرہ پر آجائیں.
    ایکسرسائز
    سب سے پہلے تو آپ اپنے بچوں کو ایکسرسائز کی عادت ڈالیں اس کے لیے کسی پارک جم یا کلب کو جوائن کرنا ضروری نہیں ہے ان دنوں میں ویسے بھی کہیں بھی جانے یا بچوں کو بھیجنے سے احتیاط برتیں کہ گھر رہنے میں ہی آپ کی بقاء ہے. اس کے لیے یوٹیوب پر بےشمار چینلز ہیں جو آپ کو بچوں اور بڑوں کی انڈور ایکسرسائز کروا سکتے ہیں آپ ان ویڈیوز کو دیکھ کر خود بھی اور بچوں کو بھی ایکسرسائز کروائیے. اسی طرح آپ اپنے بچوں کو حفاظت کی غرض سے سیلف ڈیفینس تیکنیکس لازمی سکھائیے.
    ایکٹیویٹیز
    آپ گھر میں چھوٹے بچے ہیں تو آپ گھر کے کسی کمرے یا کونے کو پارٹیشن کرکے بچوں کا ایکٹیویٹی روم بناسکتے ہیں اس میں بچوں کی دلچسپی کے لیے وال پیپرز، غبارے، لائٹس وغیرہ کا اہتمام کیا جاسکتا ہے اور اس ایکٹیویٹی روم میں آپ بچوں کو ڈرائنگ، ایلفابیٹک گیمز، پینٹنگ وغیرہ کی صورت بہترین ایکٹیویٹز میں مصروف کرسکتے ہیں بچوں کو رنگوں سے کھیلنا سکھائیے.
    گیمز
    آپ گھر کی چھت یا صحن میں بچوں کے ساتھ فٹ بال، کرکٹ، بیڈمنٹن کھیل سکتے ہیں. لیکن ایک بات یاد رکھیے کہ اس کے لیے محلے بھر کے بچوں کو ہرگز جمع نہ کیا جائے بلکہ ہر گھر والے اپنے اپنے بچوں کے ساتھ یہ گیمز کریں.
    تیراکی یا نہانا
    مارکیٹ سے بچوں کے لیے انڈور پولز باآسانی میسر ہوتے ہیں ویسے بھی موسم کی حدت میں اضافہ ہورہا ہے اور گرم موسم میں بچہ پانی کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے تو آپ گھر کے صحن میں یا کسی کونے میں اس پول میں پانی ڈال کر اپنے بچے کو گھنٹوں تک مصروف کرسکتے ہیں پانی میں جراثیم کش ڈیٹول کو بھی ملایا جاسکتا ہے لیکن اس بات کا خیال آپ نے رکھنا ہے کہ بچہ نہانے کے دوران پول سے پانی نہ پیئے.
    دینی تربیت
    گھر میں آپ بچوں کو خود سے قران سکھا سکتے ہیں اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے واقعات سنا کر ان کی دینی تربیت بہترین انداز سے کرسکتے ہیں. الرحیق المختوم سے روزانہ ایک دو پیجز بچوں کو پڑھ کر سنائے جاسکتے ہیں اگر آپ نہیں بھی پڑھ سکتے تو انٹرنیٹ پر آڈیو بکس میسر ہیں یہ اسٹوریز کی صورت بچوں کو اسلامی واقعات سناتے ہیں جن میں بچے خاصی دلچسپی لیتے ہیں.
    ڈاکیومینٹریز
    بچوں کی ذہنی بلوغت اور جنرل نالج میں اضافے کے لیے مختلف موضوعات پر ڈاکیومینٹریز انٹرنیٹ سے دکھا سکتے ہیں جن میں اسلامی ڈاکیومینٹریز، قیام پاکستان، نظریہ پاکستان، انسانی تاریخ وغیرہ
    کارٹونز
    شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچے کارٹونز نہ دیکھتے ہوں اور بچے پھر ہر طرح کے کارٹونز دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے عقائد اور اخلاقیات متاثر ہوتے ہیں آپ اپنے بچوں کے لیے کارٹونز کی سلیکشن خود کریں بے شمار صحیح العقیدہ اور اسلامی اور اخلاقی تربیت کرنے والے کارٹونز بھی ہیں مثال کے طور پر عمر اینڈ ہنہ کی سیریز ہے عبدالباری کی سیریز ہے اسی طرح کچھ ایسی کارٹونز کی سیریز ہیں جو بچوں کو قران سکھاتے ہیں تو آپ بچوں کو خود سے کارٹونز سلیکٹ کرکے دیں.
    لرننگ اور تعلیمی ضروریات
    اسکولز اور ٹیویشن سینٹرز بند ہوجانے کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی سلسلہ مکمل رک گیا ہے لیکن اس معاملے میں بھی پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے بے شمار تعلیمی ویب سائٹس ہیں جن پر بچوں کا سارا تعلیمی نصاب میسر ہے اور آپ اپنے بچوں کے تعلیمی سلسلے کو ان ویب سائٹس کی مدد سے جاری رکھ سکتے ہیں مثال کے طور پر
    سبق ڈاٹ پی کے
    ای لرن پنجاب
    خان اکیڈمی
    بی بی سی لرننگ
    فیوچر لرن
    وغیرہ وغیرہ
    ہم امید کرتے ہیں ان ٹپس پر عمل کرکے آپ بچوں کو بہترین انداز میں مصروف بھی کرسکتے ہیں اور ان کی بہتر تعلیمی، روحانی اور جسمانی تربیت بھی کرسکتے ہیں.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پرھیے

  • "تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض”  تحریر: غنی محمود قصوری

    "تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض” تحریر: غنی محمود قصوری

    اسلام و ماں باپ کے بعد سب سے بڑی نعمت تندرستی ہے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے جس سے اللہ رب العزت بندے کے صبر کو آزماتے ہیں اور اس کے بدلے میں آخرت کی پریشانیوں سے بھی نجات دیتے ہیں یوں تو ازل سے ہی کئی بیماریاں ہیں اور ہر انسان کسی نا کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے مگر ایک تھیلیسمیا نامی بیماری ایسی بھی ہے جو کہ ماں باپ کے جینیاتی خرابی کے باعث اولاد میں منتقل ہوتی ہے اللہ رب العزت ہر کسی کے بچوں کو اس موذی بیماری سے بچائے یہ بیماری ایسی ہے کہ ہر ہفتے خون کی بوتل کے علاوہ بطور علاج معالجہ ہزاروں روپیہ بھی خرچ ہوتے ہیں
    عالمی یوم تھیلیسمیا 8 مئی کو پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے
    ایک اندازے کے مطابق سنہ 2000 میں پاکستان میں تھیلیسمیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 60 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال تقریبا 6 ہزار نئے کیس سامنے آ رہے ہیں جو کہ بہت تشویشناک بات ہے اس سے بچاءو کیلئے حمل شروع ہوتے ہی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جوکہ تقریبا ہر سرکاری ہسپتال سے با آسانی ہو جاتے ہیں لہذہ ہمیں لوگوں میں اس بیماری سے بچاءو کے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنی ہوگی وہ اجتماعی طور پر کریں یا انفرادی طور مگر کریں ضرور مگر بہتر ہے کہ اجتماعی طور پر ہو تا کہ ایک ٹیم بن کر زیادہ لوگوں تک آواز با آسانی پہنچائی جا سکے
    اس بیماری میں مبتلا بچے کا خون بہت تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جسے کم سے کم ایک ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے اور بار بار خون کی تبدیلی کی بدولت ان بچوں کے دل و جگر بہت زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں جس کی بدولت ان بچوں کی زندگی کی مہلت 20 سے 25 سال تک ہی ہے وہ بھی بہت کم بچوں کی ورنہ زیادہ تر 13 سے 17 سال تک ہی یہ بچے دنیا میں رہ پاتے ہیں اس کے بعد یہ مریض و مہمان بچے ہم سے جدا ہو کر خالق حقیقی کے پاس پہنچ جاتے ہیں
    تھیلیسمیا میں زیادہ تر مریضوں کی تلی بڑھ جاتی ہے جس پر آپریشن کرنا لازمی ہوتا ہے اس آپریشن پر لاکھوں روپیہ خرچا آتا ہے جبکہ بار بار خون منتقلی کی بدولت ان کی خاص دوائی Desferrioxamicin کی ضرورت پڑتی رہتی ہے جس کی موجودہ قیمت 5 ہزار روپیہ ہے جو کہ ہر غریب انسان کے بس کی بات نہیں والدین کیلئے دوائی کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی خون کا بندوبست کرنا ہے جو کہ ایک کھٹن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ لوگ بار بار مالی مدد تو کر دیتے ہیں مگر خون ہر بار ہر بندہ نہیں دے سکتا ایسے میں کئی واقعات دیکھنے کو ملے کے مجبور و لاچار ماں باپ تنگ آ کر اپنے لخت جگروں کو ہسپتالوں و این جی اوز کے پاس چھوڑ کر بھاگ گئے اور کچھ کم عمر تھیلیسمیا کے مریض بچے محنت مشقت کرکے بیماری کیساتھ لڑتے ہوئے اپنا علاج معالجہ کرواتے ہیں
    ایسے میں ہم صحت مند افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان بچوں کیلئے خون کا بندوبست کریں تاکہ کوئی مجبور و لاچار ماں باپ اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کیلئے چھوڑ کر نا جائے مذید ان بچوں کیلئے ہر شہر کی سطح پر این جی اوز قائم کی جائیں جو کہ ان مریضوں کیلئے خون کے عطیات جمع کرنے کیساتھ علاج معالجے اور ان کی ضروریات زندگی کیلیے رقم بھی جمع کریں تاکہ اللہ رب العزت کے پاس پہنچ کر یہ بچے ہمارا گریبان نا پکڑ سکیں کہ الہی میں ان صحت و توانا لوگوں میں چند سال کیلئے آیا تھا مگر یہ مجھے اپنا خون عطیہ نہیں کرتے تھے اور مجھے کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ علاج معالجے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی مگر یہ پیسوں والے لوگ مجھ چند سالوں کے مہمان کو پیسے دینے سے انکاری تھے اور مجھے اپنے علاج معالجے کیلئے بیماری کیساتھ محنت و مشقت بھی کرنی پڑتی تھی
    پاکستان میں اس وقت سینکڑوں این جی اوز اور سرکاری و نجی ہسپتال ان کم عمر مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں تو اپنے خون و مال سے ان این جی اوز و معالج خانوں کی مدد کرکے ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے میں مدد کیجئے تاکہ کوئی غریب ماں باپ خون و پیسے کے نا ہونے کی بدولت اپنے لخت جگر کو مرنے کیلئے اکیلا نا چھوڑ دے اور اس مہمان مریض کو اپنے علاج معالجے کیلئے غربت کے باعث بیماری کیساتھ محنت و مشقت نا کرنا پڑے کیونکہ فرمان باری تعالی ہے ،جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا
    تو آگے بڑھیں جب تک ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال ہیں تب تک ان کو عام بچوں کی طرح زندہ رہنے کا موقع دیجئے