Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر:اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ خواتین تاحال انصاف کی منتظر

    مقبوضہ کشمیر:اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ خواتین تاحال انصاف کی منتظر

    اسلام آباد:مقبوضہ کشمیر:اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ خواتین تاحال انصاف کی منتظر،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی متاثرہ خواتین کو انصاف نہیں مل سکا۔بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991 کی شب ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران آٹھ سال کی بچیوں سے لے کر اسی برس کی خواتین تک کی 100 کے قریب کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے واقعے کو اکتیس سال گزر چکے ہیں لیکن متاثرہ خواتین ابھی تک انصاف کی منتظر ہیں جبکہ گھناونے جرم میں ملوث فوجی آزاد گھوم رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی یادیں کشمیری عوام کے ذہنوں میں آج بھی زندہ ہیں۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی فوجیوں نے جنوری 1989 سے اب تک مقبوضہ جموں وکشمیر میں 11ہزار 2سو 47 خواتین کی عصمت دریعصمت دری اور بے حرمتی کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی طرف سے اپنے فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت دی گئی استثنیٰ کنن پوش پورہ جیسے واقعات کی بنیادی وجہ ہے۔کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے جبر و استبداد کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر ایک دھبہ ہے جو مقبوضہ علاقے میں خواتین کی آبروریزی کو ریاستی دہشت گردی کے ایک آلہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ کنن پوش پورہ واقعہ قابض بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیر میں کیے جانے والے جنگی جرائم کا ثبوت ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو توڑنے کے لیے عصمت دری کو فوجی حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کیس کو دوبارہ کھولنے کے لیے بھارت پر دباوڈالا جانا چاہیے تاکہ مجرموں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا کہ بھارت کو کشمیریوں کے خلاف گھناونے جرائم کے ارتکاب کے لیے جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں مطلق العنان حکمرانی، غیراعلانیہ مارشل لاءنافذ ہے:حریت کانفرنس

    مقبوضہ کشمیرمیں مطلق العنان حکمرانی، غیراعلانیہ مارشل لاءنافذ ہے:حریت کانفرنس

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرمیں مطلق العنان حکمرانی، غیراعلانیہ مارشل لاءنافذ ہے:حریت کانفرنس نے عالمی دنیا کو نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے قابض بھارتی فورسز کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جابرانہ اقدامات کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لیے کیے جارہے ہیں۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بے گناہ لوگوں کی تذلیل کے لئے نازیبا زبان کا استعمال اور ناقابل تنسیخ حق،حق خودارادیت کے لئے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک بے سود کوشش ہے جس سے بھارت کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بیان میںکہا گیا کہ لوگوں کے خلاف فوجی طاقت کے وحشیانہ استعمال کے باوجود بھارت کے غیر قانونی قبضے سے آزادی کے مقدس مقصد کے لئے کشمیریوںکے حوصلے اور بہادری ناقابل تسخیر ہے۔

    بیان میں کہاگیا کہ اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے والی شہری آبادی کے خلاف دس لاکھ سے زائد قابض فوجیوں کی تعیناتی بین الاقوامی قانون اور 1948 میں اقوام متحدہ کے منظور شدہ انسانی حقوق کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس نے محاصرے اور تلاشی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران جبری گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں بے گناہ لوگوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے جیلوں میں ڈالا گیا ہے جبکہ قانون کی حکمرانی کو تباہ کیا گیا ہے اور حریت پسندکشمیریوں کو زیر کرنے کے لیے ایک مطلق العنان حکمرانی اور غیر اعلانیہ مارشل لا ءنافذکیا گیا ہے۔حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق اور انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباو ڈالیں کہ وہ انہیں مقبوضہ علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت دے تاکہ وہ محصور کشمیریوں سے مل سکیں اورموجودہ سنگین صورتحال کا جائزہ لے سکیں ۔

    دریں اثناءکل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما ایڈووکیٹ دیونیدر سنگھ بہل نے جموں میںجاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی فسطائی حکومت اور آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈوں سے کوئی اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بھارت کو ہندو ریاست بنانے پر تلی ہوئی ہے اور پورے بھارت میں اقلیتوں کا جینا دوبھر کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کرناٹک اور دیگر علاقوں میںمسلمان طالبات کے ساتھ بھارتی حکومت اور انتظامیہ کے ناروا سلوک کی شدید مذمت کی۔

    ادھر بھارتی ریاست پنجاب میں دارالحکومت چندی گڑھ سمیت مختلف شہروں میں قائم یونیورسٹیوں سے منسلک200 سے زیادہ کالجوں نے کشمیری طلباءکے کوائف جمع کرنا شروع کردیے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹک کے بعد اب پنجاب کے مختلف کالجوں میں زیر تعلیم سینکڑوں کشمیری طلباءکو بھارتی حکام اور ایجنسیوں نے اپنی ذاتی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان ناصر کھوئی ہامی نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی پنجاب کے کالجوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباءکوذاتی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ان سے کہا گیا ہے کہ وہ کورسز کی تفصیلات کے ساتھ اپنا موجودہ اور مستقل پتہ، سیل نمبراور ای میل وغیرہ فراہم کریں۔جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھارت میں کشمیری طلباءکو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • بھارتی عدالت نے 8 کشمیریوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے:ظلم کا سلسلہ جاری

    بھارتی عدالت نے 8 کشمیریوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے:ظلم کا سلسلہ جاری

    نئی دہلی:بھارت کی ایک عدالت نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں منی لانڈرنگ کے جھوٹے الزامات میں 8 کشمیریوں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں
    ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی طرف سے پیش کردہ ایک درخواست پر غلام نبی خان، عمر فاروق شیرا، منظور احمد ڈار، ظفر حسین بٹ، نذیر احمد ڈار، عبدالمجید صوفی، مبارک شاہ اور محمد یوسف کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کئے۔۔ عدالت اس معاملے کی مزید سماعت 30 مارچ کو کرے گی۔

    یاد رہے کہ صرف جنوری 2022 ء میں 22 کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید اور 17 کو بدترین تشدد کے ذریعے زخمی کر دیا گیا اور اگر 5 اگست 2019 ء سے لے کر 31 دسمبر 2021 ء تک کی تفصیلات پر نظر ڈالی جائے تو اس عرصہ میں شہید کیے گئے کشمیریوں کی تعداد 681 بنتی ہے۔ ان میں 13 کشمیری خواتین بھی شامل ہیں جبکہ119 کشمیری نوجوان ناجائز قابض بھارتی فوج کے عقوبت خانوں میں تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔ گھروں میںآئے روز کی جانے والی تلاشیوں کے دوران خواتین سے دست درازی سے مشتعل ہو کر بھارتی فوجیوں سے اُلجھنے والے 55 کشمیری موقع پر اپنے ہی گھر میں ماں باپ و بہن بھائیوں کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنائے گئے ۔

    اسی طرح کی تلاشیوں کے دوران 17 خواتین کو عصمت دری کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ بھارتی فوج پر پتھر برسانے کے جرم میں کمسن بچوں کو گرفتار کیا گیا۔ لمینگی کی انتہا یہ ہے کہ گرفتار کیے گئے بچوں کی رہائی کیلئے کشمیریوں سے بھاری رشوتیں وصول کرنے کے علاوہ بچوں سے قریبی رشتہ رکھنے والی خواتین کی آبرو ریزی تک کی گئی۔ ان واقعات کو منظر عام پر لانے کے جرم میں 2 کشمیری صحافی شہید کردیئے گئے۔

    ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ابھی بھی 8 ہزار کشمیری بغیر مقدمات کے جیلوں میں بند ہیں۔ بیشتر بڑے تعلیمی ادارے بھارتی فوج نے اپنے تصرف میں لے رکھے ہیں جس سے وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کا مستقبل تاریک ہو چکاہے۔ کشمیریوں کو معاشی طور پر تباہ کرنے کیلئے ان کے کھیتوں و باغات میں فوج کے کیمپ لگا کر مالکان کا وہاں داخلہ ممنوع قرار دیا جا چکا ہے ۔ سیبوں کے درختوں کو کاٹا جا رہا ہے کشمیری خاندان ان کٹے ہوئے درختوں سے لپٹ کر کس طرح دھاڑیں مار کر رو رہے ہیں

  • مودی سرکارمقبوضہ جموں وکشمیر اور اترپردیش میں گرفتار صحافیوں کی رہا کرے:ششی تھرور

    مودی سرکارمقبوضہ جموں وکشمیر اور اترپردیش میں گرفتار صحافیوں کی رہا کرے:ششی تھرور

    نئی دہلی:مودی سرکارمقبوضہ جموں وکشمیر اور اترپردیش میں گرفتار صحافیوں کی رہا کرے:اطلاعات کے مطابق انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے بھارتی وزیر داخلہ پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری صحافیوں فہد شاہ، سجاد گل اور بھارتی مصنف صدیق کپن کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے لیے کردار ادا کریں جنہیں مختلف الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تھرور نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریںلوک سبھا میں زیرو آور کے دوران مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ فہد شاہ اور سجاد گل کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غداری کے الزام میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جبکہ صدیق کپن اتر پردیش میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق کالے قانون یو اے پی اے کے تحت طویل عرصے سے حراست میں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیر، اتر پردیش یا بھارت میں کہیں بھی صحافی محفوظ طریقے سے اور گرفتاری کے خوف کے بغیر اپنا کام کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی وزیر داخلہ پر زور دیا کہ وہ بھارت میں آزادی صحافت کے تحفظ کے مفاد میں فہد شاہ، سجاد گل اور صدیق کپن کی فوری اور غیر مشروط رہائی میں سہولت فراہم کریں۔

    یاد رہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارت میں مجرم آزادانہ گھوم رہے ہیں جب کہ سچائی کیلئے کھڑے ہونے والے جیلوں میں بند ہیں۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی کا یہ تبصرہ بھارت میں بی جے پی کے مرکزی وزیر کے بیٹے کو عدالت سے ضمانت ملنے کے پس منظر میں آیا ہے۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کو ضمانت دے دی ہے جسے گزشتہ برس 3اکتوبر کو پیش آنے والے لکھیم پور کھیری واقعے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد مارے گئے تھے۔

    محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں لکھا” عمر خالد ، فہد شاہ ، وحید پرہ اور صدیق کپن الزامات کے تحت جیل میں بند ہیں لیکن ایک وزیر کا بیٹا فری ہو گیا، بھارت میں مجرم آزادنہ گھومتے ہیں اور سچ بولنے والوںکو چیل بھیج دیا جاتا ہے۔“

  • مودی سرکارکشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کےخطرناک منصوبے پرکام کررہی ہے:عالمی ادارہ

    مودی سرکارکشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کےخطرناک منصوبے پرکام کررہی ہے:عالمی ادارہ

    سری نگر:مودی سرکارکشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کےخطرناک منصوبے پرکام کررہی ہے:اطلاعات کے مطابق نریندر مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اس کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدام کے بعد اس قتل عام کے خدشات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموںوکشمیرکو دنیا کے سب سے بڑے فوجی جماﺅ والے خطے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں بھارتی فوجی انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض بھارتی فوجی کالے قوانین کی آڑ میں روز بے گناہ کشمیریوں کو بے دردی سے قتل کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی مسلمانوں کا قاتل ہے اور وہ بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کر چکا ہے۔بین الاقوامی ماہرین نے بھی مقبوضہ علاقے میں نسل کشی کے آنے والے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

    امریکہ میں قائم Watch Genocideنے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیراور بھارتی ریاست آسام کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔ جینوسائیڈ واچ کے بانی Gregory Stanton نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر اور آسام میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ان کے قتل عام کا پیش خیمہ ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھی خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نسل کشی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو کشمیریوں کے بے رحمانہ قتل پر مجرمانہ خاموشی ترک کرنی چاہیے اور انہیں بھارتی مظالم سے بچانے کے لیے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

  • مقبوضہ کشمیر:مقبول بٹ کےیوم شہادت پرہڑتال کااعلان:    حریت کانفرنس کےخلاف بھارتی سازشوں کی مذمت

    مقبوضہ کشمیر:مقبول بٹ کےیوم شہادت پرہڑتال کااعلان: حریت کانفرنس کےخلاف بھارتی سازشوں کی مذمت

    سرینگر: مقبوضہ جموں وکشمیر:مقبول بٹ کے یوم شہادت پر کل ہڑتال کا اعلان:حریت کانفرنس کے خلاف بھارتی سازشوں کی مذمت ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ممتاز کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ کی شہادت کی 38 ویں برسی کے موقع پر کل بروز جمعہ مکمل ہڑتال کی جائے گی۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، میر واعظ عمر فاروق اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے دی ہے۔بھارت نے محمد مقبول بٹ کو تحریک آزادی کشمیر میں اہم کردار ادا کی پاداش میں 11 فروری 1984 کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر انکا جسد خاکی جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دیا تھا۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماو¿ں نے اپنے بیانات میں محمد مقبول بٹ کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداءکی عظیم قربانیاں تحریک آزادی کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شہداءکی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ان کے مشن کو ہر قیمت پر پایہءتکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

    تحریک آزادی جموں و کشمیر اور جموں و کشمیر پولیٹیکل موومنٹ کی طرف سے بھی سرینگر اور دیگر علاقوں میں پوسٹرز چسپاں کیے گئے میں جن کے ذریعے لوگوں سے کل مکمل ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے ۔ لوگوں سے کشمیری شہداءکے لیے دعائیہ اجتماعات منعقد کرنے کو بھی کہا گیا۔

    ھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکرٹری مولوی بشیر احمد عرفانی نے حق خودارادیت کے لیے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے بھارتی جابرانہ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مولوی بشیر احمد عرفانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف کشمیر کی مزاحمتی تحریک کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو تحریک آزادی کو بدنام کرنے کے حوالے سے بھارتی سازشوں اور مذموم عزائم کا تلخ تجربہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں حالات پر امن ہونے کا غلط تاثر دے کر بین الاقوامی برادری کو دھوکہ دینے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

    مولوی بشیر احمد عرفانی نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ کی طرف سے محمد مقبول بٹ کے یوم شہادت پر دی جانے والی ہڑتال کی کال کا اعادہ کرتے ہوئے آزادی پسند عوام سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال کو بھر پور طریقے سے کامیاب بنائیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے آزادی پسند عوام شہید محمد مقبول بٹ کے مقدس مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عہد کرتے ہیں۔

  • میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید

    میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید

    اسلام آباد:میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید کا کشمیر ایک انسانی المیہ ہے کے ویبنار سے خطاب،اطلاعات کے مطابق کشمیر یوتھ الائنس اور ملٹی اومکس کے تعاون سے اسلام آباد میں ایک ویبنار کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان کے معروف سیاسی رہنما اور سینیٹرمشاہد حسین سید نے مرکزی خطاب کیا

    کشمیر یوتھ الائنس اور ملٹی اومکس کے تعاون سے منعقد ہونے والے اس ویبنار میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ میرے وطن کے جوانوں پر اب یہ ذمہ داری ہے آگئی ہے کہ وہ جید وسائل کے ساتھ اپنی کوششوں اور توانائیوں‌کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورم پر اجاگر کریں اور کشمیریوں کو جلد از جلد بھارتی کی غلامی سے نجات دلائیں

    اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے کشمیریوتھ الائنس کی جدوجہد کی تعریف بھی کی اور کشمیریوں کےلیے آواز بلند کرنے پرخراج تحسین پیش کیا

    کشمیر ایک انسانی المیہ ہے کہ نام سے منعقد ویبنار سے کشمیر یوتھ الائنس کے سینیئر نائب صدر طہٰ منیب نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی تحریک میں اہل پاکستان کو پہلے سے زیادہ بھرپور اندازسے مدد کرنی چاہیے اور ہر فورم پرکشمیریوں‌ کے لیے آواز بھی بلند کرنی چاہیے ، طہٰ منیب نے اس موقع پر کہا کہ حکومت وقت کو چاہیے کہ اب وہ کشمیریوں کی آزادی کےلیے عملی اقدامات کرے باتوں سے نکل کر اب میدان عمل میں آئے تاکہ کشمیریوں کو بھی یہ احساس ہو کہ پاکستان نے ان کے لیے فیصلہ کُن کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے

    کشمیر کے حوالے سے منعقد اس ویبنار میں کشمیر یوتھ الائنس کے صدر سید مجاہد گیلانی نے بھی شرکت کی اور گفتگو کرتے ہوئے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس پروگرام کو منظم کرنے والے دو نوجوان رہنما جن میں ایک انعم امیتاز اور دوسرے محمد اختر ہیں جن کو بطور ماڈیٹرز کے خدمات سرانجام دینے اور کشمیریوں کے لیے یہ ویبنار منقعد کرنے پر خراج تحیسن بھی پیش کیا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا

    اس موقع پر سید مجاہد گیلانی نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہمارے نوجوان اہل کشمیر کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے والے ہیں اور انہیں بھرپور امید ہےکہ یہی نوجوان دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز بن کران کی آزادی کےلیے جدوجہد کریں گے اور ایک دن آئے گا جب اس جدوجہد کے نتیجے میں اہل کشمیر بھارت کی غلامی سےنکل کر ایک آزاد انسان کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر زندگی گزار سکیں گے

  • افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان

    افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان

    سری نگر :افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں شہید کشمیری رہنما افضل گورو کی برسی کے موقع پر کل یومِ سیاہ اور ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، جمعے کو مقبول بٹ کی برسی پر بھی ہڑتال کی جائےگی۔

    کشمیر میڈیاسروس کےمطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان کا کہناہے کہ دونوں شہید رہنماؤں نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی روح پھونکی اور اب کشمیریوں کی چوتھی نسل جدوجہد آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانےکے لیے پر عزم ہے ۔

    ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھارتی فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کا نوٹس لیں،تنازع کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ناگزیر ہے۔

    حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ عالمی برادری بالخصوص انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں تہاڑ جیل سے مقبول بٹ اور افضل گورو کی باقیات ان کے اہلخانہ کے حوالے کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔

    خیال رہےکہ کشمیری رہنماافضل گورو کو 9 فروری 2013 اور مقبول بٹ کو 11 فروری 1984میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، بعدازاں ان کی میتوں کو جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا گیا تھا۔

  • قومی سلامتی پالیسی کی طرح حکومت قومی کشمیر پالیسی بنائے:ڈاکٹرشعیب پرویزکا کشمیرسیمنارسے خطاب

    قومی سلامتی پالیسی کی طرح حکومت قومی کشمیر پالیسی بنائے:ڈاکٹرشعیب پرویزکا کشمیرسیمنارسے خطاب

    لاہور:قومی سلامتی پالیسی کی طرح حکومت قومی کشمیر پالیسی بنائے، پھر بات آگے بڑھے گی ورنہ اگرسابقہ حکمرانوں کی طرح کشمیرپالیسی رہی توپھرکشمیری کبھی آزاد نہیں ہوسکیں گے،کچھ کرنا ہوگا:ڈاکٹرشعیب پرویز نے سیدھی اور سچی بات کرکے پالیسی سازوں کو ایک نہایت ہی مفید مشورہ دے کر ایک گائیڈ لائن دے دی ہے ، ڈاکٹر شعیب پرویز نے کشمیریوں کی تحریک آزادی پر یہ محققانہ مشورہ یو نیورسٹی آ ف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں‌ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئےدیا ، ڈاکٹر شعیب پرویز نے پاکستان کے ذمہ داروں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ براہ مہربانی قومی سلامتی پالیسی کیطرح قومی کشمیرپالیسی بھی بنانی چاہیے ، ایک ٹھوس پالیسی ہوگی تو معاملات آگے بڑھیں گے

    یو نیورسٹی آ ف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹرشعیب پروز کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کے لیے جس طرح کوششیں جاری ہیں اس سے تو کبھی بھی کشمیریوں کو آزادی نہیں مل سکے گی ، اس کےلیے ایک فیصلہ کن راونڈ کھیلنا پڑے گا ،ڈاکٹرشعیب پرویز نے جھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ ایک وقت تھا جب جماعت الدعوۃ جیسی جماعتیں جہاد کشمیر کے لیے فنڈز اکھٹا کیا کرتی تھیں اور کشمیری مجاہدین کی مدد کو پہنچتے تھے آج اسی جماعت کو ایف اے ٹی ایف کی خواہش پرکالعدم قرارد ے کر کُھڈے لائن لگا دیا گیا ہے

     

     

     

    ڈاکٹرشعیب پرویز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں‌ پر کشمیر کی آزادی کا بوجھ ہے ، پوری قوم پاک افواج کے ساتھ ہیں ،اس لیے قومی مقتدر ادارے کو کشمیرپالیسی کے حوالے سے دلیرانہ اقدامات اٹھانے ہوں گے ، اسٹیبلشمنٹ کو سابقہ حکومتوں کی کوتاہوں پر قابو پاتے ہوئے اب فیصلہ کن مرحلے کی طرف آگے بڑھنا چاہے ،

    ڈاکٹر شعیب پروز کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بھی عجیب رویے اور منتشرالمزاج افراد اور جماعتیں ہیں جو کشمیریوں کی تحریک آزادی کےلیے کوشاں اداروں اور افراد کے خلاف دشمن کی خواہشات کے مطابق اپنی توبوں کا رُخ کیے ہوئے ہیں جبکہ ہمارا پاکستانیوں اور کشمیریوں کا ازلی دشمن اپنی افواج کے پیچھے اس قدر مضبوط کھڑا ہے کہ پاکستان میں‌ بھارتی افواج کی ناک کٹوانے والے ابھی نندن کو پھر بھی ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے ،

    ڈاکٹرشعیب پروز کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام بین الاقوامی ادارے بھارتی نواز ہیں، وہ نہ تو کشمیریوں کے قتل عام پر دُکھ کا اظہار کرتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کی کوششوں کوخاطرمیں لاتے ہیں بلکہ حالات تو یہ ہیں کہ ہم کشمیریوں کے لیے آوازبلند کرتے ہیں تو اقوام متحدہ کی طرف سے جواب ناں میں ملتا ہے ، ہم کشمیریوں‌ کے قتل عام پر دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کرواتے ہیں تو ایف اے ٹی ایف اور دیگربھارتی نوازادارے ہماری سُنتے ہی نہیں اور ہماری کوششوں‌ پر نو کمنٹس کہہ کرپانی پھیر دیتے ہیں‌

    ڈاکٹرشعیب پرویز کا کہنا تھا کہ ہمیں‌ اپنی پاک افواج پر بھروسہ ہے اور ہماری دعائیں بھی ان کے ساتھ ہیں جب ساری دنیا ایک طرف ہے تو پھر کشمیریوں پرمظالم روکنے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا اور پھر ہی کشمیر آزاد ہوگا اور یہ صرف پاک افواج اور کشمیری مجاہدین ہی کریں‌گے ، ان کا بار بار یہ کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کوعالمی برادری کی بھارتی نوازی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی کشمیری پالیسی پر نظرثانی کرکے کشمیری مجاہدین کی کھُل کر مدد کرنی چاہیے ، پھر حالات بھی بدلتے دیکھیں گے اور اس کی برکت سے پاکستان میں‌ دہشت گردی کو ختم ہوتا بھی دیکھیں گے

    ان کا یہ کہنا تھا کہ ہم کئی سالوں سے ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں۔ یہ سلسلہ ایسے کب تک منائیں گے ، انہوں نے اپنی گفتگو میں سینیئر صحافی مبشرلقمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں وہ شخصیت بھی موجود ہے جو کشمیریوں کی تحریک آزادی کے لیے ایک مجاہد کی طرح ہر وقت زبان اور قلم سے اپنے حصے کا جہاد کررہی ہے ، ڈاکٹر شعیب پرویز نے مبشرلقمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیریوں کے لیے کوشاں نوجوانوں‌ کاتعارف بھی کروایا اور اس مسئلے کو ہرفورم پراٹھانے کا عہد بھی کیا ، ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی مبشرلقمان کی طرح کشمیریوں کی آزادی کے لیے ہر فورم پرآوازاٹھاتے رہیں گے اور ضرورت پڑی تو عملی طور بھی جدوجہد میں شامل ہوں گے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اب پچھلی کوتاہیوں ناکامیوں‌ کو دھو کر نئے سرے سے کشمیرکی آزادی کےلیے فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہوں

    یاد رہے کہ و ایم ٹی میں ” پاکستان کشمیر پالیسی، آبجیکٹوز اینڈ اپروچز پر سیمینار کا انعقاد “سیمینار میں وفاقی وزیر و چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی، سینئر صحافی و تجزیہ کار مبشر لقمان، ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر آصف رضا، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی چیئر مین کشمیر یوتھ ایسوسی ایشن، پروفیسر ڈاکٹر شعیب پرویز نے شرکت فرمائیں اور ایک پالیسی ساز گفتگو کی

  • سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹیوئٹر پر“پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر“ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹیوئٹر پر“پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر“ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    لاہور:سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹیوئٹر پر “پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر“ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموں کشمیر پر بھارتی ریاستی دہشتگردی کے خلاف آواز اور مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

     

     

     

     

    تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو یکجہتی کشمیر سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،کشمیر یوتھ الائنس کیجانب سے #5thFebKashmirSolidarityDay ہیش ٹیگ 4 فروری شام 6 بجے جاری کیا گیا جو دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، جس میں 800 سے زاہد سوشل میڈیا صارفین نےحصہ لیا اور یہ ہیش ٹیگ دنیا بھر کے 16.1 ملین سوشل میڈیا صارفین نے دیکھا، جبکہ کشمیر سے متعلق دیگر ٹرینڈ بھی ٹویٹر کے ٹاپ ٹرینڈ میں شامل رہے۔

     

    اس موقع پر سربراہ کشمیر یوتھ الائنس ٹیوئٹر ٹیم محمد اختر کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ کشمیر یوتھ الائنس اسی جذبے اور مستعد قدمی سے ہندوستان کا مکروہ چہرہ عالمی برداری کے سامنے بے نقاب کرتا رہے گا کہ کس طرح بھارت مقبوضہ جموں کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کرتے ہوۓ جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

    مزید یہ کہ اب مسئلہ کشمیر محض دنوں پر محیط نہیں رہے گا بلکہ اب پورا سال ٹرینڈ کے ذریعہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرتے رہیں گے۔