Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم

    بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم

    کراچی :بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم کا کراچی میں خطاب ،اطلاعات کے مطابق آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا ہےکہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے، آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں بھی بربریت جاری ہےاور عالمی برادری صورتحال کی سنگینی کا نوٹس لے۔

    سردار عبدالقیوم نیازی کا کہنا تھا کہ میں سندھ والوں کا مشکور ہوں، پاکستان میں اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں، کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، ہندوستان میں مودی اقلتیوں پر ظلم کررہا ہے۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ بانی پاکستان کےمزار پر حاضری کا فریضہ دینا ہے،جذبے کے ساتھ استقبال پر شکرگزار ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جارحیت اور گولا باری جارہی ہے، ایسے خطے سے وزیراعظم ہوں جسے ایل او سی کہتے ہیں، میرا گھر ایک ہزار گز بھارتی توپوں کے سامنے ہیں اورمیں آج بھی اس ایل او سی پر چلتا ہوں۔

    دوسری طرف کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں بار بار وحشیانہ مظالم کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے اور بھارتی فوجیوں کی طرف سے جعلی مقابلوں میںبے گناہ لوگوں کو شہید کرنا مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک معمول بن چکا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے کے نہتے عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور وہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لیے اپنی فوجی طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ کشمیری سات دہائیوں سے بھارتی مظالم برداشت کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے دہشت گردی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے لیکن بھارتی مظالم کشمیریوں کے عزم کو توڑنہیں سکتے کیونکہ ان مظالم سے کشمیریوں کا جذبہ آزادی مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کا عنوان شہداءکے لہو سے لکھا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے لیکن دنیا کی خاموشی سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنے مظالم بڑھانے کے لئے بھارت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ کشمیر کے بہادر عوام بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیں گے اور تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ علاقے میں بھارت کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور دنیا کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیریوں کو بھارتی قبضے کے چنگل سے آزادی حاصل کرنے کے لیے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے اور بھارت کو علاقے میں اپنی ریاستی دہشت گردی کی قیمت چکانا پڑے گی۔

     

     

     

     

  • حریت کانفرنس کا جیلوں میں نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہارتشویش

    سری نگر: حریت کانفرنس کا جیلوں میں نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہارتشویش ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی بدنام زمانہ جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی اور جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کشمیری نظربندمتعدد امراض کا شکارہوچکے ہیں۔انہوں نے بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے کے طول وعرض میں اندھا دھند گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی مزاحمتی تحریک سے وابستہ ساڑھے چھ ہزار سے زائد رہنماﺅں اور کارکنوں کو بے بنیاد اور من گھڑت الزامات پر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔

    ترجمان نے جبری گرفتاریوں کو سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی جابرانہ پالیسیوں کا مقصد کشمیر ی عوام کے آزادی کے بیانیے کو تبدیل کرنا ہے جو علاقے پر غیر قانونی قبضے کے بعد فسطائی بھارتی حکومت کا خواب رہاہے۔

    ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، وائس چیئرمین شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، محمد یوسف میر، امیر حمزہ، محمد یوسف فلاحی، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، شاہد یوسف، شکیل یوسف، ظہور وٹالی، طارق احمد ڈار، نذیر احمد ڈار، ظہور بٹ، رفیق گنائی، مقصود بٹ، ایوب میر، ایوب ڈار، نذیر پٹھان، غضنفر اقبال، عاقب نجار، عارف وانی، بشیر احمد، فاروق شیخ، ممتاز احمد، مظفر احمد ڈار، طارق پنڈت، حکیم شوکت، اسد اللہ پرے، معراج الدین نندا، عبدالرشید لون، ہلال احمد پیر، عابد زرگر، آصف سلطان، مولوی ناصر، مجاہد صحرائی اور راشد صحرائی سمیت غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماﺅں اور کارکنوں کی استقامت اور بہادری کو سراہا ۔

    انہوں نے کہا کہ ان نظربندوں نے کشمیر کاز کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔حریت ترجمان نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام تمام ”ضمیر کے قیدیوں‘ ‘کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ طبی دیکھ بھال اور بنیادی سہولیات کے بغیربھارت اور مقبوضہ علاقے کی تمام جیلوں میں ڈیتھ سیلوں میں نظر بند کشمیری سیاسی قیدیوں کی حالت زار کا نوٹس لے۔ترجمان نے علاقائی اور عالمی امن و خوشحالی کے لئے تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • ایس سی او اور زونگ کے مابین آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے لئے معاہدہ

    ایس سی او اور زونگ کے مابین آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے لئے معاہدہ

    اسلام آباد :ایس سی او اور زونگ کے مابین آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے لئے معاہدہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن اور چائنا موبائل پاکستان(Zong) کے مابین آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کے مختلف منصوبوں اور سرگرمیوں کے لئے MOU پر دستخطوں کی تقریب منعقد ہوئی گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر میں ایس سی او سب سے بڑی اور نمایاں ترین ٹیلی کام سروسز مہیا کرنے والی کمپنی ہے۔

    تقریب میں ایس سی او کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل شاہد صدیق ،زونگ کے سی ای او وانگ ہوا، زونگ کے چیف ٹیکنیکل آفیسر لو جیان ہوئی اور ایس سی او اور زونگ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

    نادرا نے ڈیٹا ہیکنگ سے متعلق ریمارکس پر ایف آئی اے عہدیدار سے وضاحت طلب کر لی

    معاہدے کے تحت زونگ اپنی سٹریٹجک سرگرمیوں کے ذریعے ایس سی او کے تعاون سے کام کرے گی کیونکہ SCO آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں پہلے سے ہی بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہے ۔ ایسے ہی SCO بھی وسیع البنیادرول آﺅٹ پلان کے لئے زونگ کو بیک ہال کنیکٹوٹی کی فراہمی کرے گی۔

    دونوں اداروں کو پہلے سے ہی مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے جس کا آغاز 2008 میں ہوا تھا 2011میں دونوں اداروں کے درمیان رومنگ کے منصوبے پر بھی عملدرآمد ہوا تھا۔

    حتساب عدالت اسلام آباد کے ایک اور جج نے چیئرمین نیب کو خط لکھ دیا

    اس موقع پر میجر جنرل شاہد صدیق نے کہا کہ آج ہم ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنے اشتراک عمل کو بڑھا رہے ہیں تاکہ ہم مل کر گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے عوام کو رابطوں کی خوب سے خوب تر سہولتیں فراہم کر سکیں اور ہماری خواہش ہے کہ دوسری سیلولر کمپنیوں کے ساتھ مل کر ہم گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے عوام کو جدید دور کی وہی سہولتیں فراہم کر سکیں جو پاکستان کے بڑے شہروں کو حاصل ہیں۔

    پیٹرول کی قیمت میں 50 روپے فی لیٹر کمی کا مطالبہ

  • کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پراظہار تشویش:حالات مزید بگڑگئے

    کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پراظہار تشویش:حالات مزید بگڑگئے

    سرینگر:مقبوضہ جموں وکشمیر: کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پر اظہار تشویش ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیریوں کی اپنے ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد کو دبانے کے لیے علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے کشمیریوں کے جذبہ آزاد ی کو دبانے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال پر نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو جموں و کشمیر پر بھارت کے جبری اور غیر قانونی قبضے کے بعد سے ہماری تحریک آزادی کا عنوان شہداکے خون سے لکھا گیا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ اس تحریک کو فوجی طاقت کے بہیمانہ استعمال سے کسی صورت دبایا نہیں جاسکتا۔ ترجمان نے سیاست دانوں، تاجروں، وکلائ، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، طلباءاور علمائے دین سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل تحقیقاتی ایجنسی کے مسلسل چھاپوں میں اضافے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جابرانہ ہتھکنڈے ماضی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور مستقبل میں بھی انکاکشمیریوں کی مضبوط اور پرامن مزاحمتی تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    ترجمان نے تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی کشتیاں جلا دی ہیں اور ہم غیر قانونی بھارتی قبضے سے مکمل آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ترجمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں نسل کشی، بلا جواز گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کو روکنے اور علاقائی اور عالمی امن کے لیے تنازعہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالے۔

    بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ایک بار پھر سرینگر کی تاریخی مسجد میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہ دینے پر بھارتی قابض انتظامیہ کی شدید مذمت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انجمن اوقاف نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ آج صبح ایک بار پھر قابض انتظامیہ اور بھارتی پولیس نے جامع مسجد کے مرکزی دروازے کو تالا لگا دیا اور وادی کشمیر کے مختلف حصوں سے آنے والے لوگوں کو مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

     

     

    انجمن جامع مسجد سے متعلق قابض انتظامیہ کی پالیسی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ قابض انتظامیہ نے مرکزی جامع مسجد کی جبری بندش کے تمام ریکارڈ توڑ دئے ہیں اور طاقت کے بل پر مذہبی حقو ق سمیت کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لئے گئے ہیں۔

    انجمن اوقاف نے تنظیم کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی 5اگست2019سے مسلسل گھر میں غیر قانونی نظربندی کی بھی شدید مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے مذہبی اور پر امن سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ انجمن نے جامع مسجد کو نماز جمعہ کیلئے بھی کھولنے کا مطالبہ کیا ۔

    برطانیہ کے شہر برمنگھم میں بی بی سی کے دفتر کے باہر بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے عالمی شہرت یافتہ کشمیری انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز کی غیر قانونی گرفتاری کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرین نے بی بی سی کے دفتر کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا ۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سرینگر میں قائم جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے پروگرام کوآرڈینیٹر خرم پرویز کی فوری رہائی کے لیے بھارت پر دبا ئوڈالے۔

     

     

     

    انہوں نے نہتے کشمیریوں کی نسل کشیُ پر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے کہاکہ این آئی اے نے 22نومبر کو خرم کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کیا اور بعد ازاں انہیں نئی دلی منتقل کردیاگیا۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں مودی حکومت کے جنگی جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے ۔ تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب ، خواجہ محمد سلیمان ، ٹرید کونسل برمنگھم کے صد ر Ian Scott ،سٹاپ دی وار کولیشن برمنگھم کے سیکریٹری جنرل سٹورٹ رچرڈسن ،رانا رب نواز، چوہدری اکرام الحق اور دیگر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔

     

     

  • کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی:بھارت نے خطرناک منصوبہ بنا لیا

    کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی:بھارت نے خطرناک منصوبہ بنا لیا

    نئی دہلی:کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی:بھارت نے خطرناک منصوبہ بنا لیا،اطلاعات کے مطابق تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کےلیے خطرناک منصوبہ بنا لیا ہے ، اس حوالے سے بھارت نے اسرائیل ، امریکہ کی مدد سے تحریک آزادی کشمیر کی نمائندہ جماعت حریت کانفرنس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے سازشیں جاری ہیں

    وادی کشمیر اور نئی دہلی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کل جماعتی حریت کانفرنس پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق کالے قانون یو اے پی اے کے تحت پابندی عائد کر سکتی ہے۔

    اس سازش پر سے پردہ ہٹاتے ہوئے کشمیرمیڈیاسروس کا کہنا ہے کہ بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ بھارتی وزارت داخلہ آنے والے دنوں میں کل جماعتی حریت کانفرنس اور تحریک حریت جموں کے تمام دھڑوں کو حق خود ارادیت کے لیے اپنی سیاسی اور سفارتی جدوجہد پرکالعدم قرار دینے پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

    ذرائع نے ٹائم آف انڈیا کو بتایا کہ مودی حکومت اور بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے قبل ازیں وزارت داخلہ کو کل جماعتی حریت کانفرنس کو ایک غیر قانونی تنظیم کے طور پر درج کرنے کا مقدمہ بنانے کے لیے رپورٹیں پیش کی تھیں۔ پابندی کے بعد کل جماعتی حریت کانفرنس حریت کانفرنس کو اپنے دفاتر اور بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا پڑے گا۔

    قبل ازیں مقبوضہ علاقے میں جموںوکشمیر لبریشن اور جماعت اسلامی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔حریت کانفرنس کی بنیاد 1993 میں کئی سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ رکھی گئی تھی جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے سیاسی حل کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔

    دوسری طرف تحریک آزادی کشمیر نے بھارت کی اس سازش کے خلاف عالمی برادری کو آگاہ کردیا ہے اورپاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ جلد از جلد بھارتی سازش کو ناکام بناتے ہوئے کشمیریوں کی نمائندہ جماعت حریت کانفرنس پربھارتی پابندیوں کا خواب چکنا چور کردے

  • سرینگر: خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری، فوری رہائی پر زور

    سرینگر: خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری، فوری رہائی پر زور

    سرینگر:خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری، فوری رہائی پر زور،اطلاعات کے مطابق بدنا م زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے” نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی “(این آئی اے) کی طرف سے انسانی حقوق کے کشمیری کارکن خرم پرویز کی گرفتاری پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھارت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ انہیں فوری رہا کرے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کشمیری کارکن خرم پرویز کی گرفتاری اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ کس طرح بھارت میں انسانی حقوق کے کاموں کو مجرمانہ بنانے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے انسداد دہشت گردی کے قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ٹویٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکام کو انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کے بجائے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے۔

    بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان نے سری نگر میں ایک بیان میں خرم پرویرکی گرفتاری کو مودی حکومت کی علاقے میں اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی حکام کی طرف سے انسانی حقوق کے محافظوں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر ظلم و ستم اور انتقامی کارروائیاں بی جے پی کی فسطائی حکومت کی آمرانہ ذہنیت کا واضح مظہر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کے بارے میں بھارتی قابض حکام کا ردعمل ہمیشہ سے آمرانہ رہا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ گرفتاریوں، دھمکیوں اور توہین آمیز مہم کا مقصد آزادی کی حامی قیادت اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو خوف و دہشت کا شکار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ خرم پرویز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے اور عالمی برادری کے سامنے بھارت کے سفاکانہ چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

    جموں و کشمیر ایمپلائز موومنٹ کے جنرل سیکرٹری جنید الاسلام نے خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں انسانی حقوق کے محافظوں کو ہراساں کیے جانے کا موثر نوٹس لیں۔ این آئی انے خرم پرویز کو پیر کو سرینگر میں گرفتار کیا تھا ۔ انہیں منگل کے روز نئی دہلی منتقل کیا گیا ۔

  • مقبوضہ کشمیر:کورونا وائرس سے ڈی ایس پی سمیت دو افراد ہلاک:کورونا کا قہرجاری

    مقبوضہ کشمیر:کورونا وائرس سے ڈی ایس پی سمیت دو افراد ہلاک:کورونا کا قہرجاری

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:کورونا وائرس سے ڈی ایس پی سمیت دو افراد ہلاک:کورونا کا قہرجاری ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 24گھنٹے کے دوران ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت دو افرادمہلک کورونا وبا کے باعث ہلاک ہو گئے جبکہ مزید 176افراد مہلک وبا میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انڈین ریزرو پولیس کی پہلی بٹالین کے ڈی ایس پی 53 سالہ اجے کمار شرما گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں اور وادی کشمیر میں ایک سرکاری ملازم مہلک وبا کے باعث انتقال کر گئے۔وادی کشمیر میں128افراد میں، جموں میں 32 اور لداخ خطے میں 16 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو ئی ہے۔

    ادھر مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے کورونا وبا کی آڑ میں کئی علاقوں میں کرفیو کا سلسلہ مزید طویل کردیا ہے،

    قابض انتظامیہ نے سری نگر کے 14 علاقوں میں 10 روز کے لیے کرفیو نافذ کر کے دفعہ 144 کے تحت اجتماعات اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد کر دی تھی ،مگراب اس میں مزید توسیع دی گئی ہے جس کی وجہ سے کشمیری بہت زیادہ پریشان ہیں‌۔

    مقبوضہ وادی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ قابض بھارتی انتظامیہ نے کشمیری مسلمانوں کو لاوارث چھوڑ دیا ہے اورجان بوجھ کرمسلمانوں کو کورونا میں دھکیلنے کی نئی دہلی کی سازشیں جاری ہیں ،

    ادھر حریت کانفرنس نے قابض بھارتی انتظامیہ کے امتیازی رویے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے اور کہا ہےکہ مودی سرکار مسلمانوں کو جان بوجھ کرمسائل میں الجھا کراپنے مفادات حاصل کررہی ہے ، ادھر آج سری نگر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایک طرف سخت سردی کی لہر جاری ہے تو دوسری طرف مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے ، کشمیری جائیں تو کدھر جائیں

  • سرینگر میں عام شہریوں کے قتل کی عدالتی تحقیقات کی جائیں‌:سول سوسائٹی گروپ آف انڈیا

    سرینگر میں عام شہریوں کے قتل کی عدالتی تحقیقات کی جائیں‌:سول سوسائٹی گروپ آف انڈیا

    سرینگر:سرینگر میں عام شہریوں کے قتل کی عدالتی تحقیقات کی جائیں‌:سول سوسائٹی گروپ آف انڈیا ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں قائم ایک سول سوسائٹی گروپ” کنسرنڈ سیٹیزنز گروپ“نے سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں ایک جعلی مقابلے میں عام شہریوں کے قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اصل حقیقت کو سامنے لانے کے لئے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سابق بھارتی وزیر یشونت سنہا کے زیر قیادت کنسرنڈ سیٹیزنز گروپ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ حکام کی طرف سے مجسٹریٹ کے ذرےعے تحقیقات کا حکم واقعے سے چشم پوشی کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ گروپ نے کہاکہ مجسٹریل انکوائری کو فوری طور پر عدالتی تحقیقات میں تبدیل کیا جانا چاہیے تاکہ سچائی کو بے نقاب کیا جا سکے اور قانون کی حکمرانی پر لوگوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔

    بیان میں کہاگیا کہ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ تحقیقات کو فوری طوپر مکمل کیا جائے اورواقعے میں ملوث افراد کو معطل کیاجائے۔ ہم ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طورپر جموں و کشمیر کا دورہ کریں اور اس مسئلے کو پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں اٹھائیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گروپ 2016 سے کشمیر کے دوروں کے بعد تیار کی گئی اپنی نو رپورٹوں میں کشمیر کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے جس طرح بہت سے دوسرے لوگ جن میںصورتحال سے واقف فوجی کمانڈر بھی شامل ہیں، فوجی حل کے بجائے سیاسی حل پر زوردے رہے ہیں۔

    بیان میں کہاگیا ہے کہ ہم نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ سیاسی حل تمام فریقین کے ساتھ بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے۔ لیکن ہمارے اس مطالبے سے کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔بھارتی حکومت نے گورنر راج سے لے کر آئینی تبدیلیوں تک ہر چیز کی کوشش کی ہے لیکن کچھ بھی نہیں کرسکی کیونکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔بیان میں کہا گیا کہ شہریوں کے قتل سے ثابت ہوا ہے کہ زمینی صورتحال معمول سے بہت دور ہے جس کا دعویٰ حکام وقتاً فوقتاً کرتے رہے ہیں۔

    بیان میں کہاگیا کہ بے گناہ شہریوں کے قتل جیسے واقعات سے صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔ گروپ نے بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کے اس بیان کی بھی مذمت کی جس میں انہوں نے عسکریت پسندوں کو تشدد کرکے قتل کرنے کی حمایت کی تھی۔ بیان میں کہاگیا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل راوت کو ملک کے قوانین کا کوئی احترام نہیں ہے اور وہ صرف جنگل راج پر یقین رکھتے ہیں۔ سی سی جی نے کہا کہ جنرل راوت کو فوری طور پر یہ بیان واپس لینا چاہیے اور اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔

  • مقبوضہ کشمیر: شہید عامر ماگرے کی میت اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ:شہادتوں کا سلسلہ نہ رُک سکا

    مقبوضہ کشمیر: شہید عامر ماگرے کی میت اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ:شہادتوں کا سلسلہ نہ رُک سکا

    سرینگر:مقبوضہ جموں وکشمیر: شہید عامر ماگرے کی میت اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ:شہادتوں کا سلسلہ نہ رُک سکابھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں ایک جعلی مقابلے شہید ہونے والے کشمیری نوجوان عامر ماگرے کی میت اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ قبل ازیں جعلی مقابلے میں شہید ہونے والے دو شہریوں محمد الطاف بٹ اور ڈاکٹر مدثر گل کی میتیں ہندوازہ کے قبرستان میں قبرکشائی کے بعد لواحقین کے حوالے کی گئیں۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ٹویٹر پر لکھا”عامر ماگرے کے اہلخانہ بھی تاحال اپنے پیارے کی مناسب طریقے سے تدفین کے منتظر ہیں ۔انہوںنے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خاندان انصاف مانگنے کے بجائے میت کی بھیک مانگ رہا ہے۔“

    کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا ”یہ کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ ماگرے ایک عام شہری ہے۔ انتظامیہ ان کی لاش واپس کرے“

    دریں اثنا شہید نوجوان عامرماگرے کے والد نے ڈپٹی کمشنر اورایس ایس پی رام بن سے ملاقات کی اور اپنے بیٹے کی میت واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔شہیدعامر کے والد محمد لطیف ماگرے نے ا پنے گاوں کے سرپنچ اور اپنے کئی رشتہ داروں کے ہمراہ ڈی سی اور ایس ایس پی سے ملاقات کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کی میت کے علاوہ کچھ نہیں مانگ رہا جو ہندواڑہ کے قبرستان میں دفن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب سری نگر کے دو شہریوں کی میتیں ان کے لواحقین کے حوالے کی گئیں میرے بیٹے کی میت بھی ہمارے حوالے کی جانی چاہیے۔

    ادھر دوسری طرف بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج ضلع کولگام میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوان کو ضلع کے علاقے Ashmujiمیں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ آخری اطلاعات تک علاقے میں بھارتی فوج کا آپریشن جاری تھا۔

  • 6نومبر 1947: مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کا قتل عام!   تحریر: محمد اختر

    6نومبر 1947: مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کا قتل عام! تحریر: محمد اختر

    قارئینِ کرام!6  نومبر 1947 مقبوضہ جموں و کشمیرکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ یوں کہا جائے کہ یہ دن دورِ  جدید کی تاریخ میں مسلم نسل کشی کا بھی ایک سیاہ باب ہے تو قطعَ غلط نا ہوگا، اِس دن دو لاکھ سے زائد مسلمانوں کو اُس وقت شہید کیا گیا جب وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔اس کے علاوہ ریاست جموں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے 6 نومبر 1947 کا دن ایک علامتی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ان شہداء کی یاد میں آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ان قربانیوں نے پوری دنیا کو بتایا کہ بھارت کے غیر قانونی قبضے اور مقبوضہ جموں و کشمیرکے لوگوں پر ظلم و جبر کے باوجودکشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور یہ قربانیاں اس امر کو بھی اجاگر کرتی ہیں کہ کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔قارئین، اگر تاریخ کے سیاہ اوراق کو پرکھا اور سمجھا جائے تو یہ بات باآسانی آیاں ہوتی ہے کہ مسلم نسل کشی کی منصوبہ بندیقیامِ پاکستان کے اعلان کے ساتھ پہلے ہی دن شروع کر دی گئی تھی۔ چونکہ، 19 جولائی کو مسلم کانفرنس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔ جس کے دردِ عمل میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے جشن منایااور بے حد خوشی کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں، کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ اس ہی جذبہ اور محبت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندو اور ڈوگرہ حکومت ہل گئی اور انہوں نے مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا۔ اس ضمن میں ادھم پور، ریاسی، کھٹیا، رامسو، رام نگر، یانی ہور کوٹلی، قصبوں میں مسلمانوں کا خون بہایا۔ انتہا پسند ہندوؤں اور سکھوں نے ہزاروں دیہاتیوں کو دھوکے سے گھروں سے باہر نکال کر گولیاں برسانا شروع کر دی۔قارئین کرام! یہاں یہ بات واضح رہے کہ راشٹریہ سویم سیاک سنگھ (آر ایس ایس) کے کارکنوں نے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی اور اس کو انجام دینے میں اہم کردار ادا کیا جو سلسہ تاحال ایک منظم سازش کے تحت جاری ہے۔اس کے علاوہ اسی دوران  ہزاروں معصوم بچیوں اور خواتین کو اغوا کیا گیا۔ حیران کن پہلو یہ ہے کہ قتل عام اتنا منظم تھا کہ جب نومبر کے ابتدائی دنوں میں جموں میں یہ قتل عام ہوا تو سری نگر میں کسی کو اس کا علم نہیں تھا۔ دراصل یہ سب کانگریس حکومت کے کہنے پر ہوا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 74 سالوں سے ہندوتوا نظریے کے تحت کشمیریوں کو ایک جامع حکمت عملی کے ذریعے نسل کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ واضح رہے، آج بھی بھارتی قابض افواج نت نئے طریقہ کاراپنائے ہوے،  آبادیاتی تبدیلی، جبری گمشدگیاں، حراستی قتل و دیگر حربوں کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک ِ آزادی کو کچلنے کی کوشش پر عمل پیرا ہے۔ قارئین کرام، یاد رکھیں! مسئلہ کشمیر کا حل اسی وقت ممکن ہے جب مسئلہ کے دو اہم فریق پاکستان، بھارت مل کر باوقار حل تلاش کریں۔ اس ضمن میں ریاستِ پاکستان بارہا اقوامِ عالم کو واضح کر چُکا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں  کے مطابق حل طلب چاہتا ہے جبکہ اس کے بر عکس بھارت مسئلہ کشمیر کو دبانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔خیال رہے،بھارت کے پہلے وزیراعظم نے عالمی برادری اور خود کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے گا۔ لیکن، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا موقف بدلتا گیا اور وعدہ اب تک پورا نہہو سکا۔ اقوامِ عالم کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اسی صورت میں ممکن ہے جب دو جوہری مسلح ممالک کے درمیان یہ دیرینہ تنازعہ حل ہو جائے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں عالمی برادری کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس کا ذمہ دار صرف اور صرف بھارت ہے، جوغیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر پر قابض ہے اور رائے شماری کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بھاگ رہا ہے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ وادی پر بھارت کے جارحانہ قبضے اور اس کے جارحانہ رویے کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کی ہندوتوا فاشست سرکا ر نے بھی معاملات کو اس سمت میں لے جانے کے انتظامات کر لیے ہیں اور آئے روز بھارتی افواج کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کیا جا رہا ہے جیسا کہ گزشتہ کل مزید پانچ ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اگرچہ، مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اگر یہ مسئلہ جوہری طاقت کے استعمال کی طرف جاتا ہے تو اِس کے عالمی امن پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور ممکنہ تباہ کن صورتحال سے بچنے کی کوشش کرے۔