Baaghi TV

Category: کشمیر

  • سرکاری ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت؟مظفرآباد کے مریضوں کا استحصال

    سرکاری ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت؟مظفرآباد کے مریضوں کا استحصال

    سرکاری ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت؟مظفرآباد کے مریضوں کا استحصال
    تحریر:سیدہ کنزا نقوی
    بات کی جائے سرکاری ہسپتالوں کی تو پاکستان بھر میں یہ حالات ہیں کہ مریض کا چیک اپ کروانے کے لیے سفارش کی ضرورت پڑتی ہے، اور اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش نہ ہو تو پھر آپ کو پرائیویٹ ہسپتال میں ہی اپنا علاج معالجہ کروانے کے لیے جانا ہوگا، کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں بغیر سفارش کے آپ کو سہولیات ملنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بنا دی گئی ہیں۔ ایسا ہی حال آزاد کشمیر مظفرآباد کے سرکاری ہسپتالوں کا بھی ہے، جہاں پر بھی کئی حیران کن واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ ڈاکٹرز کی غفلت سے مریض جان کی بازی ہار جاتے ہیں، غلط آپریشن کی وجہ سے مریض کی حالت بگڑ جاتی ہے یا سفارش نہ ہونے کی وجہ سے مریض کو داخل نہیں کیا جاتا۔

    یہ سارا خوف اس لیے پیدا کیا جاتا ہے کہ عوام سرکاری ہسپتالوں کے بجائے ان ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینک پر چیک اپ کے لیے جائیں جو خود سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ہیں۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب مریض سرکاری ہسپتال میں ٹیسٹ وغیرہ کروانے جاتا ہے تو اسے ڈرایا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی مشینری ناقابل اعتبار ہے جو کبھی چلتی ہے اور کبھی رک جاتی ہے۔ اس پر آنے والی ٹیسٹ رپورٹ بھی ناقابل اعتماد ہوتی ہے، اس لیے مریضوں کو پرائیویٹ کلینک جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جہاں ان سے تسلی بخش چیک اپ کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

    یوں مریضوں کو بدظن کر کے انہیں پرائیویٹ کلینک پر بلایا جاتا ہے اور پھر الٹراساؤنڈ، ایکسرے وغیرہ کے نام پر بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ جو مریض ان ڈاکٹروں کے نجی کلینک پر جانے سے انکار کر دے، اسے یہ کہہ کر ذلیل کیا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتال میں سہولیات کا فقدان ہے اور اسے ایسے نظرانداز کیا جاتا ہے جیسے وہ انسان نہیں بلکہ کوئی جانور ہو۔

    جو مریض سرکاری ہسپتال میں علاج معالجہ کے لیے آتے ہیں، اگر وہ پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکوں کی بھاری فیس چکانے کی استطاعت رکھتے ہوں تو وہ کبھی بھی سرکاری ہسپتال کا رخ نہ کریں۔ پرائیویٹ کلینکوں پر ٹیسٹ کروانے کی بھاری فیسیں، جیسے 1900 روپے یا 1200 روپے الٹراساؤنڈ کے لیے، غریب مریضوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔

    یہاں یہ بات کرنا لازم ہے کہ اگر سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹرز نے مریضوں کو اپنے پرائیویٹ کلینک پر بلا کر لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھنا ہے اور حکمران یونہی ان ڈاکٹروں کی غنڈہ گردی پر خاموش رہیں گے تو ان سرکاری ہسپتالوں کو بند کر دینا چاہیے تاکہ عوام کو یہ علم ہو کہ انہیں علاج کے لیے بھاری فیس ادا کرنی ہوگی۔

    حکومت وقت سے چند سوالات ہیں:

    کیا سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر کا نجی کلینک چلانا قانونی ہے؟
    کیا ان کلینکوں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے؟
    کیا حکومت اور متعلقہ ادارے ان کے خلاف کارروائی کریں گے؟

    عوام کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کی تحقیقات کریں اور عوام کے ساتھ ہونے والے اس استحصال کو روکیں کیونکہ سرکاری تنخواہ پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کو نجی کلینک کے ذریعے مریضوں کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

  • وزیر اعظم آزاد کشمیر  کامقبوضہ کشمیر میں انتخابات کو مسترد کرنے کا اعلان

    وزیر اعظم آزاد کشمیر کامقبوضہ کشمیر میں انتخابات کو مسترد کرنے کا اعلان

    وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو "ڈھونگ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری قوم ایسے انتخابات کو قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بات ضلع سدھنوتی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ چودھری انوار الحق نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر جلد آزاد ہو گا، اور یہ کہ آج کی سکون کی زندگی خاکی وردی کی قربانی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان کی مملکت کو خطرہ ہوا، وہاں فوجی جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔
    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کے تعاون سے عوام کو آٹے اور بجلی میں ریلیف فراہم کیا گیا ہے، اور ہم کسی صورت میں پاکستان کی احسان فراموشی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بلوچ عوام کی تحریک آزادی میں دی جانے والی خدمات کو بھی سراہا، یہ کہتے ہوئے کہ "کشمیر آزاد کرانے والے یہاں کے لوگ ہیں۔چودھری انوار الحق کا یہ بیان مقبوضہ کشمیر کی سیاسی صورتحال اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔

  • بالاکوٹ: مہانڈری میں پہاڑ سرکنے سے بستی خطرے میں، سیلاب کی تباہیوں کا سلسلہ جاری

    بالاکوٹ: مہانڈری میں پہاڑ سرکنے سے بستی خطرے میں، سیلاب کی تباہیوں کا سلسلہ جاری

    بالاکوٹ(باغی ٹی وی رپورٹ) مہانڈری میں پہاڑ سرکنے سے بستی خطرے میں، سیلاب کی تباہیوں کا سلسلہ جاری

    بالاکوٹ کے علاقے مہانڈری میں پہاڑ سرکنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جس سے مقامی بستی کے لوگ شدید خوفزدہ ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہاڑ کے اوپر واقع مکانوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور پہاڑ سرکنے کے بعد علاقہ مکینوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پہاڑ دریائے کنہار میں گر گیا تو اس سے ایک بڑی جھیل بننے کا خطرہ ہے جو کہ مزید تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

    یہ یاد رہے کہ مہانڈری میں 19 روز قبل آنے والے سیلاب سے ایک بڑی جھیل بن گئی تھی جس کا بند توڑنا ممکن نہیں ہو سکا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ زیر زمین پانی جمع ہونے کی وجہ سے پہاڑ سرکنے کا یہ خطرہ پیدا ہوا ہے۔

  • آزاد جموں و کشمیر میں بھی مالی سال 24-2023  کا بجٹ پیش

    آزاد جموں و کشمیر میں بھی مالی سال 24-2023 کا بجٹ پیش

    سینئر موسٹ وزیر و وزیرخزانہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کرنل (ر)وقار احمد نورنے مالی سال 24-2023 کے لیے 2کھرب 32 ارب،4کروڑ70لاکھ روپے حجم کا تاریخی ٹیکس فری عوام دوست بجٹ ایوان میں پیش کر دیا، جس میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 42 ارب روپے کی تاریخی رقم مختص کی گئی ہے۔جبکہ نظر ثانی میزانیہ مالی سال 23-2022، 1کھرب،56ارب94کروڑ 70لاکھ روپے بھی منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔

    بجٹ میں سرکاری ملازمین کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے تنخواہ وپینشن میں کیے جانے والے اضافہ کے مطابق حکومت آزادکشمیر بھی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوے اضافہ پر غور کرے گی۔ مالی سال 2023-24کا بجٹ آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے سینئر موسٹ وزیر ووزیر خزانہ کرنل (ر) وقار احمد نورنے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں غیر ترقیاتی اخراجات کا کل تخمینہ 1کھرب 90 ارب 4کروڑ 70لاکھ روپے لگایا گیا ہے جس میں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے لیے 7ارب 56کروڑ 69لاکھ روپے، بورڈ آف ریونیو کے لیے 1ارب 67کروڑ 20لاکھ روپے، سٹیمپس 4کروڑ 40لاکھ روپے، لینڈ ریکارڈ اینڈ سیٹلمنٹ 5کروڑ 13لاکھ روپے، ریلیف و بحالیات 1ارب 99کروڑ 22لاکھ روپے، پنشن کے لیے 35ارب، تعلقات عامہ کے لیے 37کروڑ 93لاکھ، عدلیہ کے لیے 3ارب1کروڑ 14لاکھ روپے، داخلہ (پولیس) کے لیے 8ارب 13کروڑ 72لاکھ روپے، جیلخانہ جات 32کروڑ 69لاکھ روپے، شہری دفاع 39کروڑ 86لاکھ روپے،

    علاوہ ازیں آرمڈ سروسز بورڈ کے لیے 10کرو ڑ8لاکھ روپے، مواصلات و تعمیرات عامہ کے لیے 6ارب 20کروڑ 67لاکھ روپے، تعلیم کے لیے 40ارب 13کروڑ 30لاکھ روپے، صحت عامہ کے لیے 17ارب 52کروڑ 60لاکھ روپے، سپورٹس،یوتھ اینڈ کلچر و ٹرانسپورٹ کے لیے 18کروڑ 32 لاکھ روپے، مذہبی امور کے لیے 26کروڑ 62لاکھ روپے، سماجی بہبود و امور نسواں کے لیے74کروڑ 66لاکھ روپے، زراعت کے لیے 1ارب 6کروڑ 16لاکھ روپے، لائیو سٹاک و ڈیر ڈویلپمنٹ کے لیے 96کروڑ 46لاکھ روپے، خوراک 37کروڑ 24لاکھ روپے، سٹیٹ ٹریڈنگ 14ارب53کروڑ 40لاکھ19ہزار روپے، جنگلات، وائلڈ لائف وفشریز کے لیے 1ارب 78کروڑ 56لاکھ روپے، کوآپریٹیو 2کروڑ 55لاکھ روپے، توانائی و آبی وسائل 10ارب64کروڑ 29لاکھ، لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے لیے 81کروڑ 74لاکھ، صنعت،لیبر ومعدنی وسائل 27کروڑ 82لاکھ روپے، پرنٹنگ پریس 15کروڑ 60لاکھ، ابریشم 14کروڑ 2لاکھ، سیاحت 17کروڑ 69لاکھ، متفرق 31ارب 34کروڑ 93لاکھ81ہزارروپے ،Capital Expenditureکے لیے 4ارب روپے شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاپتہ افراد ،جرائم پیشہ نکلے،جیلوں میں موجود، عدالت نے درخواست نمٹا دی
    خطبہ حج کا ترجمہ اردو سمیت دنیا کی کتنی زبانوں میں براہ راست نشر کیا جائے گا؟
    خدیجہ شاہ سمیت گرفتار 180 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ موخر
    لاپتہ آبدوزکی کمزورسیفٹی پرماضی میں خدشات کا اظہارکیاگیا تھا،برطانوی اخبار کا انکشاف
    صابر شاکر کے گھر سے کلاشنکوف اور گولیاں برآمد،مقدمہ درج
    بلوچستان کے 35 اضلاع کےڈسٹرکٹ کونسلزز کی مخصوص نشستوں پر پولنگ کل ہو گی
    آئندہ مالی سال 2023-24کے لیے آمدن کا کل تخمینہ1کھرب 66ارب45کروڑروپے ہے جس میں ان لینڈ ریونیو 44ارب روپے،لینڈ ریکارڈ اینڈ سٹیلمنٹ 15کروڑ روپے، سٹیمپس 40کروڑروپے، آزادجموں وکشمیر ٹرانسپورٹ اتھارٹی 6کروڑ 50لاکھ روپے، آرمڈ سروسز بورڈ 4کروڑروپے، لا اینڈ آرڈر 14کروڑ 50لاکھ روپے، داخلہ (پولیس) 24کروڑ روپے، جیل خانہ جات 8 لاکھ روپے، موصلات و تعمیرات عامہ 65کروڑروپے، تعلیم 28کروڑ روپے، صحت 16کروڑروپے، خوراک 40کروڑروپے، زراعت 1کروڑ 10لاکھ روپے، وائلڈ لائف و فشریز 7کروڑ 50لاکھ روپے، لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ 4کروڑروپے، جنگلات 1ارب 20کروڑ روپے، برقیات 25ارب روپے، پرنٹنگ پریس 10کروڑروپے، صنعت 4کروڑ 50لاکھ روپے، لیبر 50لاکھ روپے، ابریشم 50لاکھ روپے، معدنیات 10کروڑ روپے،سیاحت 1کروڑ 20لاکھ روپے، سماجی بہبود 2لاکھ روپے، مذہبی امور 7کروڑ روپے، متفرق 65کروڑ 60لاکھ روپے، فیڈرل ویر ایبل گرانٹ 90ارب روپے،واٹر یوزج چارجز 1ارب 70کروڑ روپے، لون ایڈوانسز اینڈ ایڈ جسٹمنٹ آف اوور ڈرافٹ 90کروڑ روپے، ترقیاتی بجٹ جن شعبوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے ان میں زراعت و لائیو سٹاک کے لیے 90کروڑ، سول ڈیفنس /SDMAکے لیے 15کروڑ روپے، ترقیاتی ادارہ جات کے لیے 34کروڑ 50لاکھ، تعلیم کے لیے 4ارب 30کروڑ، ماحولیات کے لیے 15کروڑ،جنگلات /واٹر شیڈ کے لیے 80کروڑ روپے، وائلڈ لائف و فشریز کے لیے 7کروڑ 50لاکھ روپے، صحت عامہ کے لیے 3ارب روپے، صنعت و معدنیات کے لیے 52کروڑ روپے، آزادجموں وکشمیر ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے لیے 28کروڑ روپے، گورننس /متفرق کے لیے 1ارب 35کروڑ روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 3کروڑ روپے، انفامیشن اینڈ میڈیا ڈویلپمنٹ کے لیے 20کروڑ روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے 80کروڑ روپے، لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے لیے 3ارب 70کروڑ روپے، فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ کے لیے 2ارب 46کروڑ 50لاکھ روپے، توانائی و آبی وسائل کے لیے 4ارب 30کروڑ روپے، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے 2ارب 40کروڑ روپے، لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ کے لیے 55کروڑ روپے، سماجی بہبود وترقی نسواں کے لیے 30کروڑ روپے، سپورٹس اینڈ یوتھ اینڈ کلچر کے لیے 50کروڑ روپے، سیاحت کے لیے70کروڑ روپے، جبکہ موصلات و تعمیرات کے لیے 14ارب 50کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

  • ضمنی انتخابات؛ تنویر الیاس کی نشست پر پی ٹی آئی ہار گئی

    ضمنی انتخابات؛ تنویر الیاس کی نشست پر پی ٹی آئی ہار گئی

    آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم تنویر الیاس کی نشست پر ضمنی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ آزادجموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 15 باغ ٹو میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک جاری رہی ہے۔

    تاہم 189 میں سے 72 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے ہیں جس میں پیپلز پارٹی کے ضیاء القمر 9 ہزار 660 ووٹ لے کر سب سے آگے ہیں۔ جبکہ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق دوسرے نمبر پر مسلم لیگ نواز کے امیدوار مشتاق منہاس ہیں جو اب تک 7 ہزار 917 ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    پی ٹی آئی کےکرنل ضمیر خان دور دور تک نظر نہیں آئے ، دو سال پہلے اس نشست پر پی ٹی آئی نے ساڑھے 5 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم واضح رہے کہ یہ نشست سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی نا اہلی پر خالی ہوئی تھی۔

    اس خبر کو مزید اپڈیٹ کیا جارہا

  • آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سے پی ٹی آئی کے اراکین ناراض، بغاوت کا خدشہ

    آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سے پی ٹی آئی کے اراکین ناراض، بغاوت کا خدشہ

    مظفر آباد: پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے خلاف بغاوت کے خدشے کے پیش نظر پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا۔

    توشہ خانہ کیس ؛عمران خان کے ساتھ ساتھ ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم کا نام بھی سامنے…

    مظفرآباد سے ذرائع کے مطابق عمران خان نے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی پارلیمانی کا اجلاس کل زمان پارک لاہورمیں طلب کر لیا، جس میں وزیراعظم آزادکشمیرسردار تنویر الیاس کے خلاف پی ٹی آئی اراکین کی بغاوت کاخدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ایس ای سی پی کی انتظامیہ کی ملاقات

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ناراض اراکین اجلاس میں عمران خان کو وزیراعظم کی ناقص کارکردگی سے آگاہ کریں گے اور انہیں عہدے سے ہٹا کر کسی دوسرے شخص کو وزیراعظم نامزد کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیوگوئٹریس سےملاقات

    ذرائع کے مطابق ناراض اراکین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار تنویز الیاس کی گزشتہ 7 ماہ کی کارکردگی سے انتہائی مایوس ہیں اور وہ مختلف معاملات پر تحفظات بھی رکھتے ہیں۔

  • بلدیاتی انتخابات میں امن وامان کی صورت حال ہرصورت قائم رکھی جائےگی :چیف الیکشن کمشنر

    بلدیاتی انتخابات میں امن وامان کی صورت حال ہرصورت قائم رکھی جائےگی :چیف الیکشن کمشنر

    مظفرآباد:بلدیاتی انتخابات میں امن وامان کی صورت حال ہرصورت قائم رکھی جائےگی،اطلاعات کےمطابق چیف الیکشن کمشنرآزادجموں وکشمیر جسٹس ریٹائرڈ عبدالرشید سلہریا کی زیر صدارت بلدیاتی انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال اور سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

    مظفرآباد سے ذرائع کےمطابق اجلاس میں سینئر ممبر الیکشن کمیشن راجہ محمد فاروق نیاز،چیف سیکرٹری محمد عثمان چاچڑ نے بذریعہ ویڈیو لنک اور پرنسپل سیکرٹری احسان خالد کیانی، انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر امیر احمد شیخ، سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن راجہ امجد پرویز علی خان،سینئرایڈیشنل سیکرٹری مالیات راشد حنیف، سینئر ایڈیشنل سیکرٹری قانون راجہ زاہد محمود، سیکرٹری الیکشن کمیشن محمد غضنفر خان، ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی شبیر احمد عباسی، سپیشل سیکرٹری داخلہ حمید مغل، ڈی آئی جی پولیس عرفا ن مسعود کشفی اور ڈائریکٹر اطلاعات امجد حسین منہاس ودیگر نے شرکت کی۔

    اجلاس میں سیکورٹی انتظامات کے حوالہ سے مختلف تجاویز زیر غور لائی گئیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنز پر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے کوآرڈینیشن اینڈ پیس کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جن میں سرکاری ملازمین، تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور معززین علاقہ شامل ہوں گے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری، پرنسپل سیکرٹری، آئی جی پولیس، سیکرٹری سروسز اور سپیشل سیکرٹری داخلہ کی جانب سے بریفنگ دی اور حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے دوران سیکورٹی فورسز کی فراہمی سمیت دیگر امور پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

    حکومت کی جانب سے اس بات کی مکمل یقین دہانی کروائی گئی کہ سیکورٹی فرورسز فراہم ہو جائیگی اور انتخابات اپنے مقررہ وقت پر27 نومبرکو ہوں گے۔اس موقع پر طے پایا کہ آئندہ اجلاس میں پولنگ کے دوران سیکورٹی انتظامات کو سیکورٹی فورسز کی میسر تعداد کو دیکھتے ہوئے حتمی شکل دی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومت کو کہا گیا کہ 21 نومبر کو ہونے والے اجلاس میں سیکورٹی فورسز و دیگر امور کے حوالہ سے حتمی طور پرآگاہ کیا جائے۔ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ عبدالرشید سلہریا نے ہدایت کی کہ 27 نومبر کو بلدیاتی کا ہر ممکن انعقاد یقینی بنایا جائیگا، حکومت سیکورٹی فورسز کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائے۔

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • ڈیرہ غازی خان ۔ کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی

    ڈیرہ غازی خان ۔ کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی

    ڈیرہ غازی خان ۔ کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی
    باغی ٹی وی رپورٹ۔کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف پوری پاکستانی قوم ایک پیچ پر ہے،حکومت پنجاب کی ہدایت پر یوم استحصال کشمیر ڈے کے موقع پر ڈیرہ غازی خان میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی ڈی سی آفس سے بمبے چوک تک نکالی گئی۔

    ریلی میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریاض ملغانی،ڈسٹرکٹ ناظر نذر حسین کورائی،اسسٹنٹ ڈائریکٹر ارجمند شہباز،انفارمیشن آفیسر خالد رسول،شہزادالاسلام،ذوالفقار احمد،اساتذہ،طلبا،تاجروں،سول سوسائٹی اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔شرکا نے کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی مظالم کیخلاف پر شگاف نعرے بھی لگائے جب کہ ریلی میں فضا کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونجتی رہی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریاض ملغانی نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے،وہ دن دور نہیں جب کشمیری اپنی آزادی چھین کر پاکستان سے الحاق کریں گے،

    بھارتی مظالم کشمیریوں کو انکے حق خود ارادیت سے نہیں روک سکتے،ڈسٹرکٹ ناظر نذر حسین کورائی نے کہا کہ کشمیری پر مظالم سے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے،کشمیری خود کو اکیلا نہ سمجھیں،پاکستانی قوم انکے ساتھ ہے،ریلی میں شرکا کی طرف سے کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کو سلام بھی پیش کیا گیا۔ریلی کے اختتام پر کشمیر کی آزادی،پاکستان اور مسلمانوں کی سلامتی کیلئے دعائیں بھی کی گئیں۔

  • "باتیں اور دعوے نہیں کشمیر سے وفا کیجیئے” از قلم محمد عبداللہ

    "باتیں اور دعوے نہیں کشمیر سے وفا کیجیئے” از قلم محمد عبداللہ

    کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور آرٹیکل 370 کو ختم کیے ہوئے بھارت کو تین سال ہوگئے ہیں لیکن کشمیر آج بھی بھارت کے لیے ویسا ہی ہے جیسا نوے کی دہائی میں تھا، کشمیر میں کوئی چوٹی، کوئی بلڈنگ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جہاں بھارتی ترنگا لہرا سکے.
    کشمیری آج بھی سینہ تان کر کھڑے ہیں. قربانیاں دینے کے باوجود اپنے آپ کو بھارت کا شہری کہنے اور سمجھنے کو تیار نہیں ہیں، اور قربانیاں بھی ایسی کہ پوری وادی میں شاید ہی کوئی گھر ہو جہاں کوئی شہید نہ ہوں. وگرنہ تو کیفیت یہ ہے کہ بیٹا ہے تو باپ نہیں ہے. باپ ہے تو بھائی غائب ہے.
    بلکہ بقول احمد بن قاسم پاکستان میں نارمل یہ کہ والدین ہیں بہن بھائی ہیں آپ صبح اٹھتے ہیں ناشتہ کرتے ہیں اور پھر روٹین کے کام کاج میں جاتے ہیں کوئی یونیورسٹی جاتا تو کوئی جاب پر اور کوئی گھر کے کاموں میں مصروف ہوتا ہے.
    جبکہ کشمیر میں نارمل یہ ہے کہ بیٹا رو رہا ہے کیونکہ اس کا باپ شہید ہے. ماں غمگین ہے کہ لخت جگر انڈیا کی جیل میں ہے، بہن ساکت بیٹھی ہے کہ صبح اس کے بھائی کو بس سے اتار کر گولیوں سے بھون دیا گیا ہے. صبح اٹھ کر کالج و اسکول اور جاب پر جانے کی فکر نہیں بلکہ نارمل یہ ہے کہ احتجاج ہے، معرکہ ہے، پتھراؤ ہے اور ظلم ہے.
    جو لوگ کشمیر کو جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ بھارت وہاں پر ہر قسم کے ترقیاتی کام کروانے کو تیار ہے، ہر قسم کی سہولت کشمیریوں دینے کو تیار ہے لیکن کشمیری ہر قسم کے لالچ، ہر قسم کے ظلم اور ہر قسم کی قربانی کے باوجود بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر پاکستان کا پرچم اٹھاتے ہیں اور پاکستان کا ساتھ دینے کی بات کرتے ہیں.
    جبکہ ہم پاکستانیوں کی صورتحال کہ ہم ساتھ کھڑے ہیں، سوشل میڈیا کی پوسٹس کے ساتھ، اخبارات میں اشتہارات دے کر، آدھا گھنٹہ چپ کھڑے ہوکر ، نغمے اور ترانے بنا کر بلکہ اب تو وہ سلسلے بھی گئے اور ساتھ کھڑا ہونے کی باتیں بھی قصہ پارینہ ہوئیں. اب تو باز گشت ہے لائن آف کنٹرول کو انٹرنیشنل بارڈر میں بدلنے کی، ادھر تم اور ادھر ہم والے نظریات کی…
    کشمیر کی تقسیم کے فارمولوں کی آوازیں ابھر رہی ہیں لیکن یاد رکھیے گا یہ کشمیر ہے شہداء کا مقدس لہو اس سرزمین پر گرا ہے، ہزاروں ماؤں نے اپنے لخت جگر اس کے لیے قربان کیے ہیں آپ اس مقدس لہو سے غداری کریں گے تو نہ قدرت آپ کو معاف کرے گی اور نہ وہ مائیں جن کے جگرگوشے اس سرزمین پر قربان ہوئے.
    اٹھیے کشمیر سے وفا کیجیئے، تقسیم برصغیر کے اس نامکمل ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیے اور کشمیریوں کو آزادی دلوائیے دیکھیے اللہ کی رحمتیں آپ کے پاکستان پر کیسے برستیں ہیں اور ظلمتوں کے بادل کیسے چھٹتے ہیں.
    دل جوش میں لا فریاد نہ کر
    تاثیر دکھا تقریر نہ کر
    یا طاقت سے کشمیر چھڑا
    یا آرزو کشمیر نہ کر

  • برہان وانی کا یومِ شہادت:شہدائے کشمیرکی تاریخ کا ایک روشن باب

    برہان وانی کا یومِ شہادت:شہدائے کشمیرکی تاریخ کا ایک روشن باب

    لاہور:برہان وانی کا یومِ شہادت:شہدائے کشمیرکی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، برہان وانی کی شہادت 8 جولائی کوہوئی اس دن کی مناسبت سے برہان وانی کی شہادت کے نمایاں پہلوکچھ اس طرح ہیں

    ۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حریت پسندرہنما برہان وانی کی شہادت کو 6 سال گزر چکے۔
    ۔ برہان وانی کا یومِ شہادت بھارت سے آزادی اور حقِ خود ارادیت کیلئے مزاحمت کے عہد کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
    ۔ برہانی وانی کو جموں و کشمیر میں ہندوستانی فورسز نے8جولائی2016کو شہید کیا۔
    ۔ صرف 15سال کی عمر میں ہندوستانی فوجیوں کے خلاف آواز اُٹھانے والے برہان وانی ایک ہونہار طالب علم تھے۔
    ۔ خالد وانی کی شہادت کے بعد ان کے چھوٹے بھائی برہان وانی نے بھارتی سامراج کے خلاف مزاحمت کی تحریک کو مشکل ترین حالات میں منظم کیا۔
    ۔ کشمیری نوجوانوں کے نزدیک برہان وانی ایک دَلیر حریت پسند اور ہیرو تھے۔
    ۔ برہان وانی نے وادی کشمیر کے جنگلوں، پہاڑوں اور بیابان علاقوں میں رہ کر مشکل ترین حالات میں بھارتی ا فواج کو کئی برس تک تگنی کا ناچ نچوایا۔
    ۔ ہندوستانی فوج کی جانب سے حریت پسند رہنما برہان وانی کی کسی بھی قسم کی اطلاع دینے والے کو 10 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
    ۔ برہان وانی نے بھارتی دہشت اور وحشت کے سامنے آکر نہ صرف ان کو للکارا بلکہ پوری دُنیا کے سامنے بھارتی افواج کے جنگی جرائم کو بے نقاب بھی کیا۔
    ۔ برہان وانی کو بھارتی فوجیوں نے اس لیے شہید کیا کیونکہ وہ اپنی قوم اور لوگوں کے لیے کھڑے ہوئے۔
    ۔ برہان وانی کو کشمیر کی نئی مسلح تحریک کا ‘پوسٹر بوائے’ بھی کہا جاتا ہے
    ۔ 8 جولائی 2016 کو برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پر عوامی تحریک شروع ہوئی تھی جسے دبانے کے لیے سرکاری کارروائیوں میں درجنوں افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
    ۔ امریکہ میں مقیم معروف کشمیری آرکیٹیکٹ ٹونی اشائی نے برہان وانی کیلئے لکھا کہ”میں انھیں نہیں جانتا لیکن میں نے سنا ہے کہ سب کشمیری ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں“۔
    ۔ اسوا شاہ نے برہان وانی کی نماز جنازہ کی تصویر شیئر کی اور لکھا ”دو لاکھ افراد ان کے جنازے میں شامل ہوئے اور لاکھوں کشمیریوں نے غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی۔ وہ کشمیر کا بیٹا ہے۔ وہ ہمارا ہیرو ہے۔ وہ ہمارا برہان ہے۔“
    ۔ برہان وانی کی جرات و بہادری کو کشمیری عوام کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
    ۔ کشمیر کی تاریخ میں برہان وانی کو جرات اور مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیا جائے گا۔