Baaghi TV

Category: کشمیر

  • یوم آزادی پاکستان اور ہم  تحریر:شعیب بھٹی

    یوم آزادی پاکستان اور ہم تحریر:شعیب بھٹی

    یوم آزادی پاکستان اور ہم
    شعیب بھٹی

    14 اگست پاکستانیوں کو آزادی کی یاد تو دلواتی ہی ہے لیکن نظریہ پاکستان کی خاطر شہید ہونے والے ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کی یاد بھی تازہ ہوجاتی ہے۔ جنہوں نے کلمہ کی بنا پر یہ ملک حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی، اس خطے کو پیارا سا نام دیا اور اس کا نام لبوں پر سجاۓ پیاری سی نٸی وجود میں آنی والی مملکت کو دیکھنے کے خواب آنکھوں میں سجاۓ اللہ کی جنتوں کے مہمان بن گٸے۔ دو قومی نظریہ اسلامی نظریہ حیات پر مبنی نظریہ ہے اس نظریہ پر ایک ملک کا وجود میں آنا مسلمانوں کے دور غلامی سے نکلنے کی نوید تھا۔ برصغیر کے مسلمان ایسا خطہ حاصل کرنے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار تھے۔ پھر وقت آیا سر سید و اقبالؒ کے خواب کو قاٸد اور ساتھیوں کی محنت سے تعبیر ملی تو وقت نے قربانیوں کا تقاضا کردیا۔ وقت کا دامن خون سے بھرنے کے لیے برزگوں نے اپنا خون پیش کیا۔ ماٶں کی عزتیں نچاور ہوٸی معصوموں کو نیزوں میں پرویا گیا۔ کنوٶں میں چھلانگیں لگاٸی گٸیں لیکن خون سے وقت کا دامن بھرنے تک ڈیڑھ لاکھ لوگ قربان ہوچکے تھے۔ یہ قربانیاں نٸی نویلی دلہن کی طرح سندر اسلامی مملکت میں زندگی گزارنے کی ٹرپ میں پیش کی گٸی تھی۔ لیکن ابھی کچھ اور بھی تھے جنہوں نے نجانے شاید صدیوں اس مملکت میں شامل ہونے کے لیے قربانیاں دینی تھی۔ جو گڑھ، حیدر آباد دکن، پنجاب اور راجھستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو مکار ہندوٶں اور انگریزوں نے مل کر پاکستان سے نکال دیا اور ان علاقوں کے مسلمانوں کا مقدر ہندٶوں کی غلامی ٹھہری وہ اس پر آمادہ نہ ہوۓ ہجرت کی کوشش میں کچھ کٹ گٸے اور کچھ نے غلامی کو قبول کرلیا۔ بلکل اسی طرح ایک اور جنت نظیر خطہ جس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور اس خطے پر پلید ہندٶوں نے مکر و فریب سے قبضہ کرلیا۔ قاٸد اعظم نے اس کی آزادی کی خاطر جہاد کا حکم دیا تو انگریز آرمی چیف نے فوج داخل کرنے سے انکار کردیا جس پر قباٸلی مجاہدین نے اس خطہ پر موجود دہشت گردوں پر حملہ کیا اور چھوٹا سا علاقہ آزاد کروالیا فتوحات کو دیکھتے ہوۓ مکار ہندٶ چالبازی سے اسکو اقوام متحدہ میں لے گیا اور خطے کے لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کرنے لگا لیکن یہ آواز پون صدی سے نہ دب سکی ہے نہ کم ہوٸی ہے بلکہ روز بڑھتی ہی جارہی ہے شاید اس اسلامی مملکت کے لیے ابھی اور قربانیاں درکار ہیں تبھی تو ظالم آزاد ہیں اس خطے کا نام کشمیر ہے ہاں کشمیری اس بات کے لیے خون دیتے جارہے ہیں کہ ہم نے اسلامی مملکت میں شامل ہونا ہے
    پچھلے 72 سالوں سے کشمیری ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ لیکن 5 اگست 2019 کے اقدام کے بعد کشمیر کو مکمل جیل بنادیا گیا۔ گجرات کے مسلمانوں کا قاتل انڈین وزیراعظم مودی جبر و طاقت سے کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنانا چاہتا ہے لیکن یہ ہرگز مکمن نہیں ہوگا۔ پچھلے کچھ عرصے سے کشمیر کی تحریک آزادی میں بہت زیادہ شدت آٸی جس سے فاٸدہ حاصل کیا جاسکتا تھا اور عالمی دنیا کو متوجہ کرنے کا سنہری موقع نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے گنوا دیا گیا۔ کشمیری پوسٹر بواۓ برہان وانیؒ کی شہادت کے بعد سگنباز تحریک میں کشمیر کے طلبا و طالبات کی شرکت نے انڈیا کو پریشان کردیا تھا لیکن ایسے وقت میں پاکستانی حکمرانوں نے کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کی بجاۓ ہندوستان سے دوستی بڑھانی شروع کردی۔ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کا کشمیری حریت رہنما سے ملاقات پر پابندی کی شرط پر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا کمشیریوں سے غداری کے مترادف تھا لیکن کشمیریوں نے پھر پاکستان کے علم کو تھاما سینے سے لگایا اور اسی میں دفن ہونا اعزاز سمجھا۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی کشمیر کی بات عالمی فورم پر اٹھانا شروع کی۔ 5 اگست کے اقدام کے بعد 14 اگست کو پاکستانی پرچموں کے ساتھ کشمیری پرچم بھی پورے پاکستان میں لہراۓ گے اور کشمیریوں کو پیغام دیا کہ پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے ستمبر 2019 میں وزیراعظم عمران خان نے مظفرآباد میں خود کو کشمیر کا سفیر کہا اور قوم سے وعدہ کیا کہ ہر فورم پر کشمیر کے لیے آواز بلند کروں گا۔ عمران خان نے حکومت کی خارجہ پالیسی میں کشمیر کو پہلی ترجیح بنایا جو کہ پچھلی 20 سالہ حکمرانوں کی بے اعتناٸی کا شکار تھی پچھلے 20 سالہ اقتدار میں گزشتہ حکومتوں کی کشمیر کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کا ازالہ شروع کیا گیا اور اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کشمیر کے حقیقی سفیر ہونے کا حق ادا کیا۔ اس خطاب میں ہندوستانی وزیراعظم کی دہشت گرد سوچ اور دہشت گرد ہندو تنظیم آر ایس ایس کے ساتھ تعلق کو بے نقاب کیا۔ مودی کو ہٹلر اور نازی ازم سے متاثرہ بتایا اور آر ایس ایس کے دہشت گرد نظریات کو دنیا کے سامنے عیاں کیا جو ایشیا کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ہیں۔ اس خطاب کے بعد اقوام متحدہ نے کشمیر کے لیے پچھلے 50 سال میں پہلی مرتبہ بند کمرہ اجلاس بلایا۔ وزیراعظم عمران خان کشمیر کے سفیر کے ساتھ وکیل بھی بن گٸے اور خارجہ پالیسی کو پچھلی حکومت سے بہتر کرتے ہوۓ پاکستان کو عالمی تنہاٸی سے نکال لاۓ۔ ستمبر 2019 میں بھارت نے اپنا نیا نقشہ جاری کیا جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ وکیل کشمیر وزیراعظم عمران خان نے جوابی وار کرتے ہوۓ کابینہ سے پاکستان کا نیا نقشہ پاس کروایا جس میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اس نقشہ کو قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا اور ساتھ ہی اسے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا حکم دیا جو کہ موجودہ حکومت کا احسن اقدام ہے۔ اسلام آباد میں موجود کشمیر ہاٸی وے کا نام تبدیل کرکے سرینگر ہاٸی وے رکھ کر اس بات کا عزم کیا گیا کہ اب اس قافلے کی منزل سرینگر ہے کشمیریوں کے دل سدا سے پاکستان کے ساتھ ڈھرکتے ہیں اور کشمیریوں کے ہاں اسلامی مہینوں کا آغاز پاکستان کی سرکاری اعلان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جو کہ محبت اور تعلق کی اعلٰی مثال ہے۔ کشمیری بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی جو بھارتی جبر و استبداد کے سامنے آہنی دیوار ہیں جن کا حوصلہ و استقاقت کے ٹو اور ہمالیہ سے بلند ہے پاکستان سے بے لوث محبت کے اعزاز میں انہیں پاکستان کا اعلی ترین سول ایوارڈ "نشان پاکستان” دینے کا اعلان کیا گیا اور سینٹ میں اس کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گٸی۔
    اس حکومت نے پچھلی حکمومتوں کی کشمیر کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کو بدل کر کشمیر کو ترجیحی پالیسی بنادیا ہے لیکن کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے والے، محب وطن طبقہ گزشتہ کی طرح اس حکومت میں بھی پابند سلاسل ہے جن کا جرم پاکستان کو عالمی معیار کی فلاحی تنظیم دینے کے ساتھ کشمیر کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ سفیر کشمیر سے وکیل کشمیر کے سفر کو مکمل کرنے لیے وزیراعظم عمران خان کو ناکردہ جرموں کی سزا کاٹنے والے محب وطن طبقے کے دکھوں کا ازالہ کرنا چاہیے تاکہ کشمیریوں کو مثبت پیغام دیا جاسکے کہ آپ کی خاطر آواز بلند کرنے والے پاکستانیوں کی آنکھ کے تارے ہیں۔ محسنوں اور محب وطن طبقے کا دفاع ہر حکومت کی خارجہ پالیسی میں شامل ہونا چاہیے اور اس پر بلاوجہ کے عالمی دباٶ کو مسترد کردینا چاہیے۔
    عمران خان کا 5 اگست کو یوم استحصال منانا، اسلامی ممالک کی رکن تنظیم کے سربراہ کو کشمیر پر خاموش رہنے پر سخت ردعمل دینا قابل صد تحسین ہے لیکن ملک و ملت کے دفاع کے لیے جانیں نچاور کرنے والوں کو نظر انداز کرنا نہایت حوصلہ شکن کام ہے جس سے محب وطن طبقے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی دل آزاری بھی ہوتی ہے کشمیر کا سفیر اور وکیل بننے کے لیے کشمیر کی پاکستان میں موثر آواز کو دبنے سے روکنا ہوگا۔ کشمیر شہ رگ پاکستان ہے اس کو عملی جامہ پہنانا ہوگا اور شہ رگ کو دہشت گردوں سے آزادی دلوانے لیے مزید اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ آرایس ایس کا ہندوتوا نظریہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے اس نظریے کو کچلنے کے لیے عالمی دنیا کو عمران خان کی بات پر یقین کرنا ہوگا۔ دنیا کا امن اب کشمیر سے جڑ چکا ہے اور اس امن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور ادارے اپنا کردار ادا کررہے ہیں لیکن اگر حالات بگڑے تو اس کی ذمہ دار گونگی،بہری اور اندھی دنیا ہوگی۔ جو مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش تماشاٸی بنے ہوۓ ہیں۔ ہم کشمیری ہیں کمشیر ہمارا ہے

  • آزادی کی شفق  تحریر:عاصم مجید لاہور

    آزادی کی شفق تحریر:عاصم مجید لاہور

    آزادی کی شفق
    عاصم مجید لاہور

    دنیا میں حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔
    نئے اتحاد سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان بھی اپنی منزلیں متعین کر چکا ہے۔
    چین کا دنیا بھر میں تجارتی منصوبہ ترقی پذیر ممالک میں مقبول ہو چکا ہے۔ چین کی معاشی ترقی کا دارو مدار بہت حد تک اسی تجارتی منصوبہ پر ہے۔ پاکستان میں بننے والا سی پیک چین کے تجارتی منصوبہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے۔ سی پیک چین کو گلگت بلتستان کے ذریعے جوڑتا ہے۔ انڈیا نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھا اور مقبوضہ کشمیر کی قانونی حثیت تبدیل کر دی۔
    جس سے واضح طور پر چین و پاکستان کو چیلینج کیا گیا۔ جوابا چین نے لداخ میں انڈیا کی درگت بنائی اور پاکستان نے کچھ دن پہلے مقبوضہ کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا ہے۔ چین کو اربوں ڈالر کے منصوبہ کو محفوظ کرنے کے لیے انڈیا کی مداخلت قطعی طور پر قبول نہیں۔ لہذا چین کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ لداخ پر چین کا قبضہ کا نتیجہ چند ماہ بعد سامنے آ سکتا ہے، ممکن ہے کہ چین انڈیا کی فوج کی سپلائی لائن کاٹ ڈالے۔
    موسم سرما میں سرینگر کے جوزیلا پاس سے ہوتے ہوئے منالی کے راستے روہتانگ پاس کے ذریعے لداخ پہنچنے کے راستے پر برف کی دبیز چادر جمی رہتی ہے۔ جو کہ انڈیا کی فوج کے لیے بہٹ مشکلات لا سکتی ہے۔
    گزشتہ ایک سال سے حکومت پاکستان نے کافی موثر انداز میں مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کیا ہے۔ حکومت پاکستان کے کئی وزرا سوشل میڈیا پر انڈیا کا بھیانک چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے اخبارات میں کئی آرٹیکل لکھے گئے ہیں۔ امریکہ و برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کشمیر کے لیے آوازیں بلند کی گئی ہیں۔ اور کچھ ممالک کے سربراہوں نے بھی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بات کی ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کے لیے وزرا خارجہ کا اجلاس طلب کیا جا رہا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں پچھلے کچھ عرصہ سے پاکستان کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ جنگلات کے تحفظ اور کورونا وائرس کی روک تھام میں دنیا بھر میں پاکستان کی تعریف ہوئی ہے جبکہ انڈیا کا منفی چہرہ دنیا بھر کے سامنے آیا ہے۔ انڈیا پورے خطہ میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ بلکہ دنیا بھر میں واحد ہندو ریاست نیپال بھی انڈیا سے نظریں پھیر چکا ہے۔
    حکومت پاکستان کلبھوشن کے معاملہ پر انڈیا کو دنیا بھر میں دہشت گرد ثابت کرنا چاہتی ہے۔کلبھوشن اور انڈیا مزید بدنامی سے بچنے کے لیے اپیل بھی نہیں کرنا چاہتے۔ مگر حکومت پاکستان بین الاقوامی عدالت کی رو سے کلبھوشن کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلا رہی ہے۔ جس کی ہر پیشی پر نہ صرف انڈیا اور پاکستان کا میڈیا کوریج دے گا بلکہ دنیا بھر کا میڈیا اس کیس پر بولے گا۔ جب کلبھوشن کو ساری دنیا کے سامنے دہشتگردی کے اعتراف میں سزا ہو گی تو پوری دنیا انڈیا کا سفاک دہشت گردی والا چہرہ دیکھے گی۔
    ان تمام حالات میں نظر یہی آ رہا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے حکومت پاکستان اپنے راستے متعین کر چکی ہے۔
    پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کو نقشہ میں شامل کرنا بہت سارے رستے کھول سکتا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کو اپنا علاقہ قرار دے کر قانونی حثیت سے فوج کو داخل کروا سکتا ہے۔ اور جس دن یہ کام ہو گیا تو اللہ کی مدد سے کشمیر ضرور آزاد ہو گا۔ اسی طرح حکومت پاکستان سید علی گیلانی کو یوم آزادی پر نشان پاکستان دینے جا رہی ہے۔ جس کا مطلب آزادی کشمیر کے لیے کوشش کرنے والوں کو حکومت پاکستان حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے۔
    مگر حکومت پاکستان کو کشمیر کے محسنوں کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ جن کو بیرونی دباو پر پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ جو ہر موقعہ پر کشمیر کی آزادی کے لیے گلی کوچوں میں عوام کو یک زبان کر دیا کرتے تھے۔ اگر ان کا کیس اقوام متحدہ میں احسن انداز میں لڑا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ ان پر پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں۔
    ہم پاکستانی پر امید ہیں کہ کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔ دعا گو ہیں کہ حکومت پاکستان کی مظلوم کشمیریوں کے لیے جو بھی مخلص کاوشیں ہیں وہ جلد رنگ لائیں۔ ان شا اللہ پاکستان مکمل ہونے کو ہے۔ جلد اس پار کے لوگ اس پار جائیں گے۔ ہمارے دریا آزاد ہوں گے۔ شہ رگ چھڑائی جائے گی۔ کشمیر جلد پاکستان بنے گا۔
    اِس پار ملی تھی آزادی
    اُس پار بھی لیں گے آزادی
    ان شا الل

  • تکمیل پاکستان اور آزادیِ کشمیر میں پاکستان کا کردار  ازقلم:ام ابیہا صالح جتوئی

    تکمیل پاکستان اور آزادیِ کشمیر میں پاکستان کا کردار ازقلم:ام ابیہا صالح جتوئی

    تکمیل پاکستان اور آزادیِ کشمیر میں پاکستان کا کردار
    ازقلم:ام ابیہا صالح جتوئی

    پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اسکو حاصل کرنے کے لئے ہمارے آباؤاجداد نے بہت سی جانیں قربان کیں بہت سے مصائب اور دشوار گزار راستوں کو عبور کیا اپنے لخت جگر آنکھوں کے سامنے قربان ہوتے دیکھے ہر طرف خون میں ڈوبی لاشیں اور ان لاشوں میں اپنوں کو ڈھونڈنا اور پھر انہیں وہیں چھوڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت کرنا بلاشبہ بہت کھٹن وقت تھا۔
    شہداء کی قربانیوں نے ہمیں پاکستان جیسی پیاری دھرتی کا تحفہ دیا۔
    پاکستان ایک ایسا اسلامی ملک ہے جو کہ دنیا کے تمام مظلوموں بالخصوص مظلوم مسلمانوں کے زخموں کا مرہم ہے کسی بھی مشکل یا پریشانی کے وقت تمام ممالک کی نظریں افواج پاکستان پر ہوتیں ہیں۔
    دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان بھی اپنی نظریں گاڑھے ہوئے ہیں لیکن ہمارے ادارے انکے مذموم مقاصد کو پورا ہونے سے پہلے ہی فنا کر دیتے ہیں۔
    پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ایسا متنازع خطہ جسے پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے اس پر بھارت نے جابرانہ قبضہ جمایا ہوا ہے کشمیری عوام بھارت کے ترنگے اور قوانین کو جوتوں کی نوک پر رکھتے ہیں وہ پاکستان سے الحاق اور بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔
    کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبانے کے لئے بھارت نے نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی ایسی شرمناک مثالیں قائم کی ہیں کہ جن سے تاریخ بھی نالاں ہے۔
    گزشتہ سال 5اگست2019 میں بھارت نے کشمیر پر مکمل لاک ڈاون کردیا اور جگہ جگہ فوج تعینات کردی جو کہ بہت ہی سنگین جرم ہے اور اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔
    برسوں سے قربانیاں دینے والی مظلوم کشمیری عوام کے حوصلے بلند بالا ہیں وہ اپنے مقصد سے انحراف نہیں کرتے اور نہ کسی قسم کا سمجھوتہ…..!!!!
    بھارت یہ واضح طور پر جانتا ہے کہ اسکی کوششیں ناکام جائیں گیں اس لئے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر کشمیریوں کو ڈرانے اور انکی آواز دبانے کے لئے نت نئے حربے استعمال کررہا ہے۔
    بھارت کشمیر کی نسل کرکے ان کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے بھارت کی موجودہ حکومت فرعونِ ثانی کا کام سر انجام دے رہی ہے اسی زمن میں معصوم کشمیری بچوں کو شہید کر رہی ہے جبکہ حالیہ فیک ان کاؤنٹر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے ایک شرمناک طمانچہ ہے۔
    5اگست 2020 کو جب کشمیر میں قابض فورسز کی جانب سے لاک ڈاؤن کا ایک سال مکمل ہونے کو تھا اس سےایک روز قبل پاکستان نے اپنا نیا سیاسی نقشہ پیش کیاجس میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔
    پاکستان کشمیریوں کی آزادی کے لئے روزِاول سے ہی کوشاں ہے اور ہر طرح سے کشمیریوں کا ساتھ دیتا ہے اقوام متحدہ سے اس مسئلے کے حل کے لئے پاکستان نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے اور پوری دنیا کو بھارت کا وحشی پن دکھانے میں کامیاب ہوا ہے۔
    نئے نقشے میں کشمیر کو شامل کرنے سے کشمیری جدوجہد ایک نئے موڑ پر آگئی ہے کشمیری حریت رہنما اور کشمیری و
    عوام کے جذبات اور مقاصد کو تقویت ملی ہے جبکہ بھارت کو اپنی شکست نظر آتی دکھائی دے رہی ہے۔
    پاکستان اقوام متحدہ کی سفارشات کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ جنگ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    اسکے ساتھ ساتھ پاکستان حریت رہنما سید علی گیلانی کو پاکستان کے اعلی ترین اعزاز "نشان پاکستان” سے نوازے گا اور اسلام آباد میں گیلانی نام سے ایک یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا ہے جس کے تمام سلیبس میں سید علی گیلانی کی سوانح حیات کو بطور لازمی مضمون شامل کیا جاۓ گا ۔
    حکومت پاکستان کے علاوہ کوئی بھی جماعت یا گروپ عالمی سطح پر کشمیر کا ساتھ دینے یا کشمیر کی آواز کو دبانے والے درندوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرے تو بیرونی دباؤ میں آکر اسکو بین کردیا جاتا ہے ایسے ہی ایک جماعت جو کہ پاکستان میں فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے نام سے مشہور ہے جس کا کام فلاح کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا پاکستان میں جہاں کہیں بھی قدرتی آفات آتیں یہ جماعت سب سے پہلے لوگوں کی مدد کو پہنچ جاتی تھی اور پاکستان کے محب وطن لوگ بے لوث ہو کر پاکستان کی خدمت میں مصروف تھے یہ جماعت کسی ایک شخص یا ادارے کی جماعت نہیں ہے بلکہ پورے پاکستان کی جماعت ہے ہر پاکستانی کے دل پر راج کرنے والی جماعت ہے پاکستان کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے لئے جدوجہد کرنے والی جماعت ہے بیرونی دباؤ میں آکر پاکستان نے اس پر پابندی عائد کردی ہے۔
    تمام محب وطن پاکستانیوں کی خواہش ہے کہ اس جماعت سے تمام تر پابندیوں کو ہٹایا جاۓ اور انکو کام کرنے کی اجازت دی جاۓ تاکہ پاکستان اور کشمیر کے لئے یہ لوگ اپنی خدمات سر انجام دے سکیں اور دشمن کو پاکستان کی طاقت دکھا سکیں۔

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے التجاء ہے کہ ہمارے پاک وطن کو دشمنوں کی گندی نظروں سے محفوظ فرمائے اور کشمیر کو جلد سے جلد آزادی نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین 🤲🏻
    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

  • چناروں میں ہندتوا کا رقص اور تحریک آزادی کشمیر تحریر :سفیر اقبال

    چناروں میں ہندتوا کا رقص اور تحریک آزادی کشمیر تحریر :سفیر اقبال

    چناروں میں ہندتوا کا رقص اور تحریک آزادی کشمیر
    تحریر :سفیر اقبال

    ایک سال گزر گیا ….
    پورے ایک سال میں بھارت نے کاشمیر کو اٹوٹ انگ بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا…. ایل او سی کو فریز کروا لیا… امریکہ کی خاموش حمایت سے ہر قسم کے عالمی قانون کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ کر لاک ڈاون لگایا…. نیٹ سروس بند کی اور چناروں کی وادی کو ساری دنیا سے کاٹ دیا….! جہاں دل کیا، جب دل کیا معصوم کشمیری ماؤں بچوں کو خون میں تڑپا دیا … گھر جلا دئیے…. اور لاشوں کو بھون دیا ….!

    اس دوران سید علی گیلانی اور ان کے رفقاء ہوا پہ لکھ لکھ کر پاکستان کو مدد کے لیے پکارتے رہے… دریائے نیلم کی تند و تیز لہریں کشتیاں جلانے والے کسی طارق بن زیاد کا انتظار کرتی رہیں…. درد کے آنگن میں سسکتی کشمیری بہنیں محمد بن قاسم کو پکارتی رہیں…. بابری مسجد…. فاتح القدس صلاح الدین ایوبی کا انتظار کرتے کرتے مندر میں تبدیل ہو گئی لیکن عرب سے کوئی محمد بن قاسم…. مصر سے کوئی صلاح الدین ایوبی…. مراکش سے کوئی طارق بن زیاد…. افریقہ سے کوئی یوسف بن تاشفین اور پاکستان سے کوئی رجل عظیم کوئی محسن اس بستی کی مدد کے لیے نہ پہنچا. (کاشمیر کے محسن کاشمیر سے محبت کرنے کے جرم میں پاکستان میں قید رہے جس طرح کاشمیری حریت رہنما پاکستان سے محبت کرنے کے جرم میں بھارتی جیلوں میں قید تھے ) کاشمیر کی خاک شہیدوں کے لہو سے سیراب ہوتی رہی… اور ہندوتوا کا رقص چناروں کی وادی میں مسلسل جاری رہا….!

    جب دینی غیرت زنگ آلود ہو جائے اور ملکوں کے ذاتی مفادات پہلی ترجیح بن جائیں تب غیرت خداوندی جوش میں آتی ہے. جن لوگوں نے ایک بستی کے لاک ڈاون سے چشم پوشی کی تھی اب ساری دنیا میں لاک ڈاون دیکھ رہے تھے. رب کا عذاب اتنا شدید برسا کہ ساری دنیا نے کاشمیر کے لاک ڈاون کا درد محسوس کر لیا. ایک بستی سے نظریں چرانے والوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے شہر کے شہر اجاڑ دئیے.

    لیکن وقت ہر زخم کا مرہم ہوتا ہے. سورج ہمیشہ سر پر نہیں رہتا. کاشمیر کی طرف عالمی برادری کی توجہ بڑھی…. دنیا میں لاک ڈاون میں کمی آنا شروع ہوئی. پاکستان جو پہلے ہر ایسے موقع پر کاشمیر کے حوالے سے "ہم ساتھ کھڑے ہیں” والا بیان دے کر دل و دماغ میں تشکیک کے یہ بیج بو رہا تھا کہ شاید اب پاکستان کے لیے کاشمیر کا مطلب آزاد کاشمیر ہے …. اچانک اس نے سرینگر تک جانے کے عزم کا ارادہ کیا. کپواڑہ سے لیکر لولاب تک راجوری سے لیکر بانڈی پورہ تک …. سارے کاشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا…. شاہراہ کاشمیر کو شاہراہ سرینگر میں بدل دیا…. جارحانہ سفارتکاری دکھاتے ہوئے دوستی دشمنی بدلنے کے ارادوں کا اظہار کیا….!

    اور یہ سب کچھ پورے ایک سال بعد 5 اگست کے بعد کیا….. تا کہ دنیا تک یہ پیغام جا سکے کہ بھارت اگر ایک سال میں اٹوٹ انگ کو اپنا نہیں کر سکا تو اب کشمیریوں کو اپنی مرضی سے جینے کا حق ملنا چاہیے.

    اب ساری دنیا ایک طرف ہے اور ہندوتوا دوسری طرف….! کشمیر کی وادی میں ایک سال تک فاتحانہ اور بلا روک ٹوک جبر و تشدد برپا کرنے کا انجام عالمی سطح پر بھارت کی تنہائی کی صورت میں نکلا…. ورنہ اس سے قبل عالمی سطح پر مسئلہ کاشمیر پر ایک غلطی بھارت کی سامنے آتی تو دس زیادتیاں پاکستانی فریڈم فائیٹرز کی بھارت بیان کر کے دنیا کو رام کر لیا کرتا تھا.

    لیکن اب پاکستان کاشمیر کے معاملے میں ایک ایک قدم محتاط ہو کر اٹھا رہا ہے. مقبوضہ کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کرنے کے بعد… شاہراہ کشمیر کو شاہراہ سرینگر میں تبدیل کرنے کے بعد… اب پاکستان اپنے نام آخری خط لکھنے والے قائدِ حریت سید علی گیلانی صاحب کو نشانِ پاکستان کے اعزاز سے بھی نوازنے والا ہے. اب ایسے موقع پر پاکستان کو چاہیے کہ مزید جرات اور ہمت کا مظاہرہ کرے اور عالمی دباؤ کو نظر انداز کر کے پاکستان کی فلاحی تنظیموں اور کشمیر کے محسنوں کو بھی آزاد کرے… انہیں کھل کر کام کرنے کا موقع دے تا کہ سفارتی محاذوں پر جیتی جانے والی جنگ عملی میدانوں میں ناکامی کا شکار نہ ہو.

    آزادیاں کیسے ملتی ہیں اور کتنی قربانیوں کے بعد ملتی ہیں…. یہ دیکھنے کے لیے دور کیوں جائیں. پاکستان کو ہی دیکھ لیں. 1857 کی جنگ آزادی کی جدوجہد کو منفی کر کے بھی دیکھیں تو 90 سال بنتے ہیں. 1857 میں ناکامی کے بعد کافی عرصہ تک مسلمانوں میں جدوجہد آزادی کی تحریک ٹھنڈی پڑ گئی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ کوئی واضح نظریہ، دو ٹوک موقوف برصغیر کے مسلمان نہیں اپنا سکے. انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہم نے کرنا کیا ہے اور علیحدہ وطن کا بھی کوئی نقشہ کسی کے ذہن میں نہیں تھا.

    1930 میں علامہ اقبال نے اس عزم کو بطور تصور پیش کیا. تمام مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کی تجویز دی اور 1940 میں محمد علی جناح نے اس کو نظریہ پاکستان کا نام دے کر مسلمانان برصغیر کے دلوں میں راسخ کر دیا.

    وہ نظریہ جب ہر مسلمان کے دل میں موجزن ہوا تو سات سال کے اندر ہی مسلمان ایک علیحدہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے.

    کشمیر کے مسلمان بھی جب نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ پر سختی سے عمل پیرا ہوں گے تو ان شا اللہ صبح آزادی کو حاصل کر لیں گے اور اگر ذاتی مشاہدے کی بات کی جائے تو برہان وانی کی شہادت کے بعد جو کچھ زمین و آسمان نے دیکھا…. جتنی محبت اسلام اور جدو جہد آزادی کے ساتھ کاشمیریوں کی دیکھی آج تک پوری اسلامی تاریخ ہی نہیں انسانی تاریخ بھی اس کی مثال دینے سے قاصر ہے. اگر تحریک کا کل وقت بر ہا ن وانی کی شہادت کے بعد کا لیا جائے اور حکومتی سطح پر پاکستان کی طرف سے پر زور حمایت کا وقت موجودہ حکومت کے حساب سے دو سال لیا جائے تو خود اندازہ کر لیں کہ ان چار سالوں میں تحریک عالمی سطح پر کہاں سے کہاں تک پہنچ چکی ہے اور صبح آزادی کے لیے مزید کتنا وقت درکار ہے.

    اس آگ میں جلنے والوں کے کہتے ہیں براہیمی تیور
    کشمیر کے جنت بننے میں ممکن ہی نہیں تاخیر بہت

  • توڑ اُس دستِ جفا کش کو یا رَبّ  تحریر: مقدس کشمیری

    توڑ اُس دستِ جفا کش کو یا رَبّ تحریر: مقدس کشمیری

    "توڑ اُس دستِ جفا کش کو یا رَبّ۔۔۔”

    تحریر مقدس کشمیری

    کہانی ایک ہی مگر کردار جدا جدا وقت اور حالات کے ساتھ ظالم اور ظلم کے زوایے بدلتے رہے مگر مظلوم بے دست وپا ایک کشمیر ہی رہا اس کشمیرکے ہر گھر اور گھر کے ہر فرد کی ایک جیسی کہانی ہے اور ایک جیسا مشترکہ دکھ ماؤں کا بیٹےکھو جانے کادکھ، بیٹیوں کی عصمتیں لٹنے کا غم، جوان بیٹوں کے تڑپتے لاشوں پہ آنسوں بہاتی بوڑھی آنکھیں اور ان انکھوں میں صدیوں سے آبادبے بسی سب دن بدن بڑھ رہا ہے اور ان کا مداوا کم ہو رہا ہے بھارتی فوج کے جور و ستم کی داستانیں اب چنار کے پتے پتےپر رقم ہو چکی مگر وہ آواز ہوا کے دوش پہ نہیں سنائی دیتی جس میں مظلوم کی داد رسی ہو۔
    کہتے ہیں کہ ظالم کو روکنے والا کوئی نہ ہو تو ظلم ہر شب کے بعد بڑھتا ہے پھر ظالم کے ہتھکنڈے بھی اپنے ہوتے اور قانون بھی اپنے یہی کچھ کشمیریوں نصیب ٹھہرا!
    بھارتی فوج جس کو جب چاہے جہاں چاہے گولی مار کر شہید کردیتی ہے اور اسے حریت پسند کا نام دے دیا جاتا ہے ستم کی یہ داستانیں روز رقم ہوتی ہیں اور پرانی ہو جاتی ہیں اگلے روز کا سورج ایک نئی انہونی کو جنم دیتا ہے جموں کے ضلع راجوری کے گاؤں کے رہائشی تین نوجوان روزگار کے سلسلے میں ضلع شوپیاں میں جاتے ہیں، کراۓ پر مکان حاصل کر کے رہائش اختیار کرتے ہیں، اور وہاں مزدوری شروع کر دیتے ہیں،
    اسی دوران 18 جولائی کو بھارتی درندہ صفت فوج کو ضلع شوپیاں کے گاؤں ایمشی پورہ میں حزب سے وابستہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خبر ملتی ہے،
    بھارتی فورسز، سی آر پی ایف،66راشٹر رائفلز اور پولیس کے خصوصی دستے ان کے خلاف مشترکہ آپریشن تشکیل دیتے ہیں، اور چند گھنٹوں میں حریت پسندوں کا خاتمہ کردیتے ہیں۔ پل بھر ہندوستان میں کہرام مچ جاتا ہے ہر ٹی وی سے زہر اگلا جانے لگتا ملی ٹنٹ دہشت گرد خطرناک آتنک وادی اور جانے کن کن ناموں سے پکارا جاتا کہ بھارتی فوج نے مار دیئے دنیا کو تصویر کا ایسا رخ دکھایا جاتا کہ گویا یہ افراد بھارت کو تباہ کرنے چلے تھے۔
    انڈین میڈیا پر یہ خبر چلتی ہے کہ "حزب المجاہدین سے وابستہ تین خطرناک عسکریت پسند بھارت کی بہادر سینا نے مارگرائے ہیں۔ اور بار بار چلتی اس خبر میں سب کچھ چھپا دیا گیا کہ بے چارے مارے جانے والے اصل میں تھے کون؟
    شناخت بتائی جاتی تو بزدل فوج کی بہادری کا پول کھل جاتا یوں
    بھارتی فوج لاشیں بھی لواحقین کے حوالے نہیں کرتی، اپنے طور پر ہی دفنا دیتی ہے، ادھر بوڑھے والدین کے سہارے جو ان کے لئے دو وقت کی روٹی کمانے گھر والوں سے جدا تھے
    وہ مزدور نوجوان روزگار کے سلسلے میں شوپیاں کے علاقے میں رہائش پزیر تھے، ان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ کافی دن منقطع رہتا ہے، گھر والے یہی سمجھتے ہیں کہ شائد سروس ڈاؤن ہیں، یا نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، ستم ظریفی دیکھیئے کہ اک قیامت گزر گئی مگر فوج نے اپنے مکر پر پہرہ جماۓ رکھا،چنددنوں بعد ان نوجوانوں کے اہلخانہ تک 18 جولائی کو مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر پہنچتی ہے تو تب انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو ہمارے جگر پارے تھے، 26 سالہ امتیاز احمد، 21 سالہ 21 سالہ محمد یوسف اور 15 سالہ محمد ابرار تھے، جنہیں بھارتی فوج نے شوپیاں سے اغواہ کرکے جعلی انکاؤنٹر میں عسکریت پسندوں کا ٹیگ لگا کر شہید کردیا، 18 جولائ گزرا ایک داستان غم اور بڑھا گیا آنسو دکھ اور کرب تین گھروں کا مقدر ٹھہرا بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت پانے والے بے قصوروں کا
    یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ بھارتی فوج نے معصوم کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا ہو، بلکہ بھارتی فوج کا تو وطیرہ ہی یہی ہے کہ آئے روز کشمیریوں کے گھروں میں چھاپے مار کر، ماؤں بہنوں کی عزتوں کے ساتھ کھلواڑ کرنا اور گھروں کا قیمتی سامان لوٹ کر لے جانا، یا توڑ پھوڑ کرنا، اور مردوں کو چاہے وہ بچے ہوں، بوڑھے ہوں یا نوجوان انہیں اغواء کر کے لے جانا،بعد میں عسکریت پسندوں کا ٹیگ لگا کر جعلی مقابلوں میں شہید کر دینا،
    کون سا جنگی جرم ہے جس کا ارتکاب بھارتی فوج نے نہ کیا ہو،
    ابھی کچھ دن پہلے ہی بھارتی فوج نے فریڈم فائٹرز کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنے کے بعد اپنی ذلت مٹانے کے لیئے، سوپور میں تین سالہ نواسے کے ساتھ سفر کررہے بزرگ کو گاڑی سے نکال کر گولیوں کا نشانہ بنایا، بعد میں تین سالہ عیاد کو شہید نانا کی لاش پر بٹھا کر فوٹو شوٹ کرتے رہے،
    اس سے چند دن پہلے اننت ناگ کے ضلع کولگام میں باپ کے ساتھ دکان پر جارہے دو بہنوں کے اکلوتے بھائی، چھ سالہ نہان احمد کو گولیوں کا نشانہ بنا کر، اس ماں کی گود اجاڑ کر جس نے سات سال کی دعاؤں، التجاؤں کے بعد بیٹے جیسی نعمت لی تھی، اپنی درندگی کا ثبوت دیا۔
    کبھی بھارتی فوج دوارن معرکہ اپنی بہادری کا ثبوت دینے کے لئے کشمیری نوجوانوں کو "ہیومن شیلڈ” کے طور پر استعمال کرتی ہے تو کبھی پاکستانی راہنماؤں کے بیان کو واٹس ایپ سٹیٹس لگانے کے جرم میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
    کیا کشمیر میں بسنے والے انسان نہیں؟
    یا وہ انسانی حقوق کے حقدار نہیں؟
    کون انصاف دلاۓ گا امتیاز، یوسف ابرار کے لواحقین کو؟
    کون نہان احمد کی ماں کا درد محسوس کرے گا؟
    کون تین سالہ عیاد کے ذہن میں نقش ہوچکے نانا کے تڑپتے لاشے اور بھارتی فورسز کے درندگی کے نقوش کو مٹاۓ گا؟ کیا ظلم کی یہ داستانیں یونہی رقم ہوتی رہیں گی اور ستم کی کہانیں کشمیر کے گھر گھر پھیلتی رہیں گی۔۔۔۔؟؟
    توڑ اُس دستِ جفا کش کو یا رَبّ
    جس نے روح آزادی کشمیر کو پامال کیا۔۔۔!!!

  • دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان کے عزم و ہمت کی  کہانی

    دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان کے عزم و ہمت کی کہانی

    دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان محمد عامر کے عزم و ہمت کی کہانی جس نے اپنی زندگی کے بدترین حادثے کے باوجود امید نہیں کھوئی اور اپنی زندگی کا سفر جاری رکھا-

    باغی ٹی وی :کشمیری نوجوان محمد عامر بازوؤں سے محروم ہیں لیکن وہ اپنی ریاستی ٹیم کے کپتان ہیں عامر نے 8 سال کی عمر میں اپنے باپ کی چکی پر ایک حادثے میں اپنے بازوؤں سے محروم ہو گئے تھے ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ان کے والد اپنا روزگار حاصل کرنے کے لئے کرکٹ بیٹ بناتے تھے-
    https://twitter.com/plalor/status/1292328668425883649?s=08
    لیکن کرکٹ کھیل کے لئے اس کے جذبے نے یہ کھیل کبھی نہیں چھوڑا محمد عامر کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد میرے ساتھ جو بھی بری چیزیں پیش آئیں جن بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس نے مجھے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے اور کچھ الگ کرنے کا قائل کرلیا-

    اپنے بازوؤں سے محروم عمار بولنگ کرسکتا ہے اور اپنے پیروں ، گردن اور منہ کا استعمال کرتے وہ گیند پکڑ سکتا ہے –

    عامر کے اس ایکسیڈینٹ کے بعد اس کے والد کو اس کا علاج کروانے کے لئے اپنی چکی اور زمین بیچنی پڑی لیکن پھر بی ڈاکٹر عامر کے بازوؤں کو بچانے میں ناکام رہے اور ان حالات میں عامر کو معاشرے میں قبول کرنا مشکل معلوم ہوا۔

    ڈاکٹروں نے عامر کے والد کو کہا کہ وہ بیکار ہے اور اس کے والد کو اسے بچانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہئے تھا۔ 2 ماہ کے بعد جب عامر صحتمند ہو گیا تو اس نے واپس سکول جانا شروع کیا لیکن اساتذہ نے اسے کہا کہ اسے گھر میں ہی رہنا چاہئے کیونکہ تعلیم اس کے لئے نہیں ہے ۔

    عامرخود کفیل ہے اور وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے اخروٹ بیچ کر کتابیں خریدتا ہے۔

    عامر کا کہنا ہے کہ میں نے کبھی امید نہیں چھوڑی اور میں نے کبھی شکست قبول نہیں کی۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں زندگی میں آگے بڑھتا رہوں گا اور یہی میری خواہش رہی ہے-

    ارطغرل ڈرامے کے معروف کردار دو تلواریں لیا ننھا بمسی سامنے آ گیا

    بدترین معاشی مشکلات کا شکار بلوچ لوک فنکار واسو خان کس حال میں ہیں؟

  • کشمیر پر بھارت اب معاہدہ شملہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا  تحریر: انشال راٶ

    کشمیر پر بھارت اب معاہدہ شملہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا تحریر: انشال راٶ

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راٶ
    کشمیر پر بھارت اب معاہدہ شملہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا

    جنگ عظیم اول کے بعد دنیا کو تباہی سے بچانے اور عالمی انصاف کی فراہمی کے اہداف کے ساتھ لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں آیا جو کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکا، دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام عالم نے بہتر دنیا کی تشکیل کی غرض سے انجمن اقوام متحدہ کے قیام کو ضروری سمجھا۔ سابق امریکی صدر ہینری ایس ٹرومین نے اقوام متحدہ کے قیام کے وقت جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوے وہاں موجود تمام اراکین کو مخاطب کرتے ہوے کہا کہ ہمیں تمام دنیا کو انصاف فراہم کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا لیکن افسوس "میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی” کے مصداق یہ خواب عملی طور پر تعبیر نہ ہوسکا کیونکہ چھوٹی موٹی مرمتوں سے دنیا امن کا گہوارہ نہیں بن سکتی جب تک کہ تمام بڑے مسائل حل نہ کرلیے جائیں، اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اس کی سیکیورٹی کونسل کی سب سے اہم ذمہ داری عالمی امن و انصاف کو یقینی بنانا اور دنیا کو جنگوں کی ہولناکیوں سے بچانے کے لیے اقدام کرنا ہے لیکن ستر سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل بھارت سے اپنی پاس کردہ متعدد قراردادوں کے باوجود عالمی قوانین کی پاسداری کروانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اس وقت عالمی امن کے لیے شدید خطرہ ہے جو دو ایٹمی قوتوں بھارت و پاکستان کو کسی بھی وقت جنگ میں الجھا سکتا ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک کے مابین چار ہولناک جنگیں ہوچکی ہیں لیکن اب دونوں ہی ایٹمی قوت ہیں اور ممکنہ طور پر جنگ کی صورت دونوں ایٹمی ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کرسکتی ہیں ایسے میں یہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ سات دہائیوں سے لٹکے مسئلہ کشمیر کا حل اپنی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق کرے جس سے بھارت مختلف ہتھکنڈوں و حیلے بہانوں کا استعمال کرکے ستر سالوں سے مفر ہے۔ کشمیریوں کی شروع سے ہی مذہبی، ثقافتی و سماجی ہم آہنگی موجودہ پاکستان کے لوگوں سے تھی اور جغرافیائی لحاظ سے بھی موجودہ پاکستان سے منسلک تھا یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے بعد کشمیریوں کی بڑی اکثریت نے پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی، 5 ستمبر 1947 کو کسان مزدور کانفرنس ہوئی اور پاکستان میں شمولیت کی قرارداد پاس کی، 18 ستمبر کو کشمیر سوشلسٹ پارٹی نے پاکستان سے الحاق کی قرارداد پاس کی۔ کشمیریوں کے اس رجحان کو دیکھتے ہوے بھارت نے جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا جس کے ردعمل میں قبائلی مجاہدین کشمیری مسلمانوں کی مدد کو پہنچنا شروع ہوگئے اور جب بات ڈوگرا فوج و ہندوتوا شدت پسندوں کے بس سے باہر ہوگئی تو نہرو سرکار نے بھارتی فوج کو کشمیر میں داخل کردیا جس کے نتیجے میں پاک بھارت جنگ پھوٹ پڑی جس میں بھارتیوں کی زبردست پٹائی ہوئی تو نہرو سرکار فوراً اقوام متحدہ جا پہنچی۔ اقوام متحدہ کی ثالثی پر پاکستان نے جنگ بندی کردی اور معاملہ عالمی قوانین کے تحت اقوام متحدہ پر چھوڑ دیا۔ سیکیورٹی کونسل میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی اور معاملہ استصواب رائے کے زریعے حل کرنے کے فارمولے کے تحت طے پایا اس ضمن میں UNSC نے متعدد قراردادیں پاس کیں لیکن ہٹ دھرم بھارت مختلف ہتھکنڈوں سے ٹال مٹول کرتا رہا۔ اسی دوران بھارت نے 1954 میں نام نہاد الیکشن کرواکر پپٹ کشمیر اسمبلی سے بھارت کے ساتھ الحاق کی منظوری لیکر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیا جس کے جواب میں UNSC نے قرارداد 122 پاس کی جس میں نام نہاد کشمیر الیکشن اور نام نہاد اسمبلی کے قانون کو مسترد کرتے ہوے استصواب رائے کے مطابق الحاق کا فیصلہ قائم رکھا اور سابق بھارتی آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کے انکشاف کہ "کشمیری مین اسٹریم لیڈر 1947 سے بھارت سے پیسے لے رہے ہیں” جس کے جواب میں کشمیری مین اسٹریم لیڈر نے کہا کہ "اس کے بدلے ہم بھارتی پرچم کو کشمیر میں سرنگوں رکھے ہوے ہیں” کے بعد اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بھارت اپنے چند زرخرید پپٹ کے زریعے نہ صرف کشمیر کے ناجائز الحاق کو قائم رکھے ہوے تھا بلکہ اپنے کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ، آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ وغیرہ اور ظلم و بربریت کو روا رکھے ہوے تھا۔ بھارت کبھی سیٹو اور سینٹو کا بہانہ بناکر تو کبھی سوویت یونین کے پیچھے چھپ کر اقوام متحدہ کی قراردادوں پہ عمل کرنے سے بھاگتا رہا اور پھر 1972 میں پاک بھارت شملہ معاہدہ ہوا جس کے تحت دونوں ممالک راضی ہوے کہ آپسی معاملات باہمی رضامندی سے طے کیے جائینگے اس کے بعد سے جب بھی مسئلہ کشمیر کے حل کا سوال اٹھا تو بھارت نے اسے Bilateral کہہ کر مسترد کردیا۔ 1998 کے پاک بھارت ایٹمی دھماکوں کے بعد اقوام متحدہ نے قرارداد 1172 کے زریعے دونوں ممالک پر کشیدگی ختم کرنے اور تعلقات کی بہتری کے لیے زور دیا لیکن بھارت اپنی فطرت سے باز نہ آیا وقتی دکھاوا کرکے بھارت پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں کی سرپرستی کرتا رہا۔ ملکہ الزبتھ نے پاک بھارت دورے کے موقع پر کشمیر کی ثالثی کی آفر کی تو بھارت نے اسے دو طرفہ یا باہمی معاملہ کہہ کر مسترد کردیا، اس کے بعد یہ جواب ترکی، چین و ایران کی آفرز کے جواب میں دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انٹوریو گٹیرس کی ثالثی کی آفر کی تو بھارت نے جواباً شملہ معاہدہ کا زکر کرتے ہوے کہا کہ اب UNMOGIP کی ضرورت نہیں یہ ہمارا باہمی مسئلہ ہے اس کے علاوہ فرانس کے دورے کے موقع پر بھی نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ و فرانسیسی قیادت کو یہی جواب دیا لیکن 5 اگست 2019 کو یکطرفہ طور پر آرٹیکل 370 اور 35-A کو منسوخ کرکے کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کے مودی سرکار کا اقدام نہ صرف شملہ معاہدہ و لاہور ڈیکلیئریشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ ویانا کنوینشن کی بھی خلاف ورزی ہے اور ویانا کنوینشن کے آرٹیکل 60 کے تحت پاکستان اب مزید اس معاہدہ کو مکمل یا جزوی منسوخ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اب بھارت کے پاس یہ جواز باقی نہیں رہ سکتا کہ وہ کشمیر کو بائی لیٹرل مسئلہ کہہ کر عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بھاگ سکے۔ اس کے علاوہ مودی سرکار کی حکمت عملی سے اب حریت لیڈروں کے علاوہ مین اسٹریم لیڈر بھی بھارت سے متنفر ہوگئے ہیں جس کا فائدہ پاکستان کو اٹھانا چاہئے اور اقوام عالم کو جھنجھوڑ کر بیدار کرے۔ UNSC کو عالمی امن کو یقینی بنانے کے لیے عراق طرز پر بھارت کے خلاف ایکشن لینا ہوگا ورنہ کوئی بعید نہیں کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے کسی بھی ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

  • یوم استحصال کشمیر  از قلم: ساجدہ بٹ

    یوم استحصال کشمیر از قلم: ساجدہ بٹ

    یوم استحصال کشمیر

    از قلم: ساجدہ بٹ

    197 سے کشمیری استحصال کا شکار ہیں اور ستم بالائے ستم
    5 اگست 2019 کشمیریوں کے لئے اک اور قیامت کا دن تھا یہ وہ دن تھا جب بھارت نے کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کر دیا ۔
    کشمیر لہو لہو ہے ۔ہر طرف بھارت کی حقوق انسانیت کو پامال کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور کوئی روکنے والا نہیں ،
    آخر کب تک میرے کشمیری مسلمان ان ظالم و جابر لوگوں کے ہاتھ میں پستے رہیں گے آخر کیوں ؟
    آج کے اس ترقی یافتہ دور میں اس تعلیمی یافتہ دور میں کیوں خاموش تماشائی بن کر دیکھتے رہیں کسی کو ظلم کرتے ہوئے ،کیوں دیکھتے رہیں کہ کوئی حقوقِ انسانی کے سب سے بڑے حق آزادی کو پیروں تلے روند ڈالے۔
    آخر کیوں؟؟؟

    اس غم میں کلیاں زرد ہوئیں،اس سوچ میں غنچے سوکھ گئے

    ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا

    دنیا کے منصفو کُچھ تو بولو کہ کیوں کشمیریوں کو آزادی کا حق حاصل نہیں ہو سکتا؟
    غیر مسلم کی طرف سے خاموشی کو تو کسی حد تک ہم برداشت کرتے ہیں لیکن میرا مسلم ممالک سے ایک سوال ہے کہ57 سے زیادہ مسلم ممالک نے کشمیر کے لیے اب تک کیا کیا؟؟؟
    آپ سب تو ہمارے اپنے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تو یاد ہو گا سب کو ۔۔۔۔۔۔
    کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں،،،
    تو مسلمانو آپ کو اپنے بھائیوں کا احساس کیونکر نہیں ہے ؟؟
    دو چار نعرے لگا کر کُچھ نہیں ہو گا سن لو مسلمانوں اب وقت ہے کہ کچھ عملی اقدام اٹھائیں کشمیریوں کے لئے کوئی قربانی پیش کریں ۔۔۔ہم پاکستانی یہ ہر گز نہیں چاہتے کہ کشیمر ہر صورت ہمارا حصہ بنے ہم تو بس یہ چاہتے ہیں کہ جو کشمیری چاہتے ہیں اُن کی وہ بات پوری کی جائے اُن کو آزادی د دی جائے ۔۔۔۔۔

    آزادی دی جائے۔۔۔۔۔۔

    آزادی دی جائے۔۔۔۔۔
    اُن کی مرضی سے دی جائے
    آپ بہت بڑے دولت مند ہیں نیک ہیں، سپر پاور ہیں،بہت تعلیمی یافتہ ہیں , لیکن آپ کے سامنے ظلم ہو رہا ہے اور مظلوم کے لئے آپ کُچھ بھی نہیں کر سکتے تو پھر آپ میری نظر میں ظالم ہیں آپ نیک کیسے ہو سکتے ہیں؟؟؟

    مانگتے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ

    اپنے خورشید پہ پھیلا دیئے سائے ہم نے

  • آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے  تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے

    صالح عبداللہ جتوئی

    اگست تو ایسا مہینہ جب ہم خوشیاں مناتے تھے اور پورے پاکستان میں جشن کا سا سماں ہوتا تھا اور ہر طرف سبز ہلالی پرچم اور آزادی کی خوشیوں سے لبریز نغمے و ترانے گاۓ جاتے اور صد شکر ادا کیا جاتا اور سجدے کیے جاتے آخر یہ سب کیوں نہ ہو ہم اس مہینے میں آزاد جو ہوۓ تھے لیکن پھر کیا ہوا عرصہ دراز سے شہ رگ پاکستان کشمیر کی زندگی اجیرن کر دینے والے بھارت نے نت نئے طریقوں سے معصوم کشمیریوں کی قید و بند کا سلسلہ جاری رکھا اور کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 ختم کر کے سخت ترین کرفیو نافذ کر دیا اور اس طرح ہماری شہ رگ مزید دشمنوں کی جکڑ میں آ گئی لیکن پھر کیا ہوا وہ پاکستان جس کی شہ رگ دشمنوں کے قبضہ میں مضبوطی سے جکڑی گئی تو ہم نے بھی لفظوں کے تیر چلانے شروع کر دیے اور امن امن کا راگ الاپنے لگ گئے کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ اپنا حق مانگنے کے لیے بھی ہتھیار اٹھاۓ تو ہمیں دنیا دہشت گرد ہی قرار نہ دے دے اور پھر ہم نے تقریروں، نغموں، احتجاجوں اور دھوپ میں کھڑے ہونا بہتر سمجھا تاکہ دنیا کو سمجھ آ جاۓ کہ ہم تو ظالموں کے خلاف ہیں اور کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں بھلا اس طرح بھی کوئی ساتھ ہوتا ہے؟
    کیا نغموں سے کشمیر آزاد ہو جاۓ گا؟

    کبھی بھی نہیں
    ‏‎نغموں سے کشمیر آزاد نہ ہو پاۓ گا اس کے لیے مذمت اور رونے دھونے کی بجاۓ انڈیا کی مرمت کرنی ہو گی نغمے تو پون صدی سے گاۓ جا رہے ہیں اور دن بھی کشمیر کے حوالے سے بہت منسوب ہو گئے ہیں لیکن کیا فائدہ ہوا اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے آگے اپنا دکھ رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ انہیں مسلمانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے اب جو بھی ہو گا وہ تقریروں، منتوں اور نغموں سے نہیں ہو گا بلکہ سخت کاروائی سے ہو گا۔

    اب آرٹیکل 370 کے حوالے سے بھی دن پاکستانی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پہ شامل ہو گیا ہے اور ایک اور دن پاکستان کو نغموں اور احتجاجوں کے لیے مل گیا اب اس کرفیو کو سال بیت گیا لیکن نغموں اور تقریروں سے کیا حاصل ہوا کیا ہمارے رویے سے کسی کے سر پہ جوں تک رینگی؟
    کیا کشمیر آزاد ہوا؟
    چلو آزادی کو چھوڑو یہ بتاؤ کیا کرفیو ختم ہوا یا کرفیو میں نرمی بھی آئی؟
    نہیں نہ اور ایسے آنی بھی نہیں جس طرح ہمارے رویے ہیں کیونکہ ہمیں کسی کی پرواہ نہیں ہے ہم صرف باتوں کے شیر ہیں اور کشمیریوں کو بلاوجہ کی تسلیاں دیتے ہیں۔

    ہمارے رویے یہ ہیں کہ ‏‎وہ جس دن ظلم کرتے ہیں ہم اس دن کبھی بلیک ڈے اور کبھی یکجہتی کا دن مناتے ہیں اور رونا روتے ہیں کہ بھارت جا جا کشمیر سے نکل جا اور کبھی چھوڑ دے ہماری وادی والے نغمے گاتے ہیں اور کبھی جمعہ والے دن دھوپ میں کھڑے ہو کے آزادی کے نعرے لگاتے ہیں اور بھارت کو گالیاں دیتے ہیں لیکن اب سال گزر گیا اور یہ دن بھی تاریخی ہو گیا اور اسی طرح سالہا سال گزرتے جائیں گے اور 5 اگست کا دن بھی منایا جاتا رہے گا اور نغمے ریلیز ہوں گے اور بات نعروں تک ہی رہ جاۓ گی۔

    ‏‎پتہ نہیں کشمیری ہم سے کیونکر امیدیں لگا کے بیٹھے ہیں کیونکہ ایسے واقعات سے تو ہمیں نت نئے نغموں ترانوں اور دھوپ میں کھڑا ہونے اور احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے موقع مل جاتا اور ہم مذمت بھی اچھے سے کر لیتے ہیں اور کشمیریوں کو جھوٹی تسلیاں بھی دے لیتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں یہ کس قسم کا ساتھ ہے جو احتجاج کر کے ہی دیا جاتا؟

    پون صدی سے یہی احتجاج ہی تو جاری ہے لیکن انہوں نے ہمیں کشمیر کیوں نہیں دیا؟
    اگر اس طرح نہیں مانتے تو ایک موسیقی کی محفل بارڈر پہ جا کے ہی منعقد کر کے دیکھ لیں پھر شاید بھارت کشمیر دے دے۔

    واللہ ہمارے یہ رویے بہت تکلیف دہ ہیں اور کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہے کیونکہ ہم نہ تو خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی کشمیریوں کے ترجمانوں کو کچھ کرنے دیتے ہیں بلکہ ان کو پابند سلاسل کر کے ظالموں کو ہی خوش کرتے ہیں تو ہم کیسے مخلص ہو سکتے ہیں کشمیریوں کے ساتھ؟

    ‏‎اللہ ہماری افواج اور سیاستدانوں کو نغموں مذمتوں اور احتجاجوں سے باہر نکال کر صحیح معنوں میں کشمیر کے ایجنڈے پہ کام کرنے اور بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور کشمیری بہن بھائیوں کو آزادیاں نصیب فرمائیں آمین یا رب..
    پاکستان زندہ باد
    کشمیر پائندہ باد

  • چنار کا درخت، بعض تاریخی پہلو اور میجک آف کشمیر  از قلم : عاقب شاہین

    چنار کا درخت، بعض تاریخی پہلو اور میجک آف کشمیر از قلم : عاقب شاہین

    چنار کا درخت، بعض تاریخی پہلو اور میجک آف کشمیر

    از قلم : عاقب شاہین

    یوں تو کشمیر کی خوبصورتی میں مختلف قسم کے چھوٹے بڑے درختوں کا اہم کردار ہے تاہم چنار کا درخت اپنی عظمت ، قدوقامت اور حُسن کی وجہ سے اپنا ایک اہم مقام رکھتا ہے ۔۔۔ یہ بہت گھنا ہوتا ہے ، اِس کی شاخیں لمبی لمبی ہوتی ہیں ، پتے بڑے اور انسانی پنجے سے مشابہ ہوتے ہیں۔۔۔ یہ عظیم الشان درخت بے ثمر ہوتا ہے مگر اِس کی لکڑی جوہر دار ہوتی ہے۔۔۔ شدید ترین گرمی میں اِس کا سایہ تپتے وجود کو فرحت کا احساس دلاتا ہے ۔۔۔ اِس کے پتوں کی سرسراہٹ کی آواز انسان کو مدہوش سا کر دیتی ہے ۔۔۔ تیز بارش میں یہ اپنے نیچے پناہ لینے والوں کو دس منٹ تک بھیگنے نہیں دیتا ۔۔۔ یہ بہت شفیق ، ملنسار اور محبت کرنے والا درخت ہے ۔۔۔
    یہ عظیم الشان درخت 25 میٹر لمبا اور اِس کی موٹائی 50 فٹ بلکہ کہیں کہیں اِس سے بھی زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔ موسمِ گرما میں جہاں اِس کے بڑے بڑے سرسبز پتے دِل کو موہ لیتے ہیں وہاں موسمِ خزاں میں یہ پتے سُرخ رنگ میں تبدیل ہو کر ایک موقعے پر ایسا نظارہ پیش کرتے ہیں جیسے درخت میں آگ لگی ہو ۔۔۔ اِس موسم میں چنار کا درخت ایک عجیب قسم کا نظارہ پیش کرتا ہے جِسے دیکھ کر فطرت شناس لوگ خوب لطف اندوز ہوتے ہیں ۔۔۔

    آگئی لو خزاں کی پربت تک
    وادیوں میں چنار جلتے ہیں

    رات کے وقت قمقموں کی روشنیاں جب چناروں کے پتوں پر پڑتی ہیں تو اُنہیں سُرخ رنگِ زیبائی سے رنگ دیتی ہیں اور مظاہرِفطرت کا نظارہ کرنے والے متحیر نگاہوں سے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔۔۔ چنار کے درخت نے اپنی منفرد پہچان ، خوبصورتی اور عظمت کی بدولت یہاں کے ادب اور شعروشاعری میں بھی اپنا ایک مقام حاصل کیا ہے ۔۔۔ شیخ عبداللہ نے بھی اپنی سوانحِ حیات کا نام آتشِ چنار رکھا ہے ۔۔۔
    یہ درخت کشمیر کی ثقافت کا ایک انمول حصہ ہے ، کشمیر میں اِسے شاہی درخت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے ۔۔۔ اِس درخت کو میجک آف کشمیر یا جادوئے کشمیر بھی کہتے ہیں ، اِسی لیے تو ڈاکٹر علامہ اقبال جیسے عظیم مفکر نے کشمیری لوگوں کو چنار کے درخت کے ساتھ تشبیہ دے کر کہا ہے:

    جِس خاک کے خمیر میں ہے آتشِ چنار
    ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند

    عام خیال یہ ہے کہ کشمیر میں چنار کا پہلا پودا 1586ء میں مغلوں کے ریاست پر تسلط جمانے کے بعد سرزمینِ فارس سے لا کر بویا گیا تھا لیکن بعض محققین کہتے ہیں کہ کشمیر میں سب سے پُرانا چنار 1374ء میں لگایا گیا ۔۔۔ کشمیر میں صدیوں سے موجود چنار اِس کی شناخت بن چکا ہے ۔۔۔ افسوس !!! انفراسڑکچر کی ترقی کے نئے منصوبوں جیسے سڑکوں کی کشادگی ، سرکاری عمارتوں ، ہوٹلوں ، تجارتی مراکز اور دوسری تعمیرات کے نام پر یا کسی اور بہانے سے کشمیر میں چناروں کو بڑی بے دردی کے ساتھ کاٹا جا رہا ہے۔۔۔ محافظینِ ماحول کا کہنا ہے کہ کشمیر ہر سال مجموعی طور پر چنار کے تقریباً سات سو درختوں سے محروم ہو جاتا ہے ۔۔۔ چنار کے پودے کو تناور ، جلالی اور سجاوٹی درخت بننے میں ایک صدی لگتی ہے لیکن یہاں درجنوں درختوں کو بغیر کسی پچھتاوے اور جواب دہی کے کاٹ ڈالتے ہیں ۔۔۔ مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ صرف سرینگر میں درجنوں ایسے چنار ہیں جو متعلقہ حکام کی لا پرواہی یا پھر حکومت کی مجرمانہ خاموشی کے نتیجے میں سوکھ کر رہ گئے ہیں ۔۔۔
    سیاحت سے تعلق رکھنے والے افراد کو یہ فکر لاحق ہے کہ ماضی میں لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا یہ بلند و قامت درخت اگر اِسی طرح سے کٹتا رہا تو وادیِ کشمیر کے حُسن کا نظارہ کرنے والے یہاں آنا ترک کر دیں گے ۔۔۔

    اے وادیِ کشمیر ، اے وادیِ کشمیر
    کشمیر تیرا حُسن ہوا درد کی زنجیر
    آنسو ہیں تیری آنکھ میں، پیروں میں زنجیر
    قدرت نے چناروں سے کیا تجھ کو مزین
    باطل نے بنایا ہے تجھے درد کی تصویر
    اے وادیِ کشمیر ، اے وادیِ کشمیر