Baaghi TV

Category: کشمیر

  • ایل او سی:بھارتی فوج کی بلا اشتعال شیلنگ سے ایک نوجوان شہید اور 6 شہری زخمی

    ایل او سی:بھارتی فوج کی بلا اشتعال شیلنگ سے ایک نوجوان شہید اور 6 شہری زخمی

    مظفر آباد: آزاد جموں اور کشمیر کے ضلع بھمبر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار سے بھارتی فوج کی بلااشتعال شیلنگ سے ایک نوجوان شہید جبکہ 6 شہری زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز شام 5 بجے بھارتی فوج کی جانب سے بھاری شیلنگ کے نتیجے میں مختلف گاؤں اور ساماہنی کی دھال کھمباہ یونین کونسل میں لوگ زخمی ہوگئے۔

    سونا میں بروہ گاؤں کے قریب ایک بستی میں ایک کالج کا طالبعلم اس وقت زندگی گنوا بیٹھا جب ایک مارٹر شیل کا خول اس کے قریب آگرا اور اس کے جسم کو چھلنی کردیا متوفی کی شناخت 16 سالہ وحید کے نام سے ہوئی۔

    جبکہ بروہ گاؤں میں دشمن کی شیلنگ سے 60 سالا راجا مسعود اور 50 سالہ یاسین زخمی ہوئے۔

    اس کے علاوہ کھمباہ گاؤں میں 25 سالہ مصباح، 22 سالا محمد سلیمان اور 40 سالہ محمد ظہیر جبکہ رام لوہ گاؤں میں 70 سالہ محمد قاسم زخمی ہوگیا۔

    علاوہ ازیں متاثرہ علاقے مین گاڑی اور کئی مکانات کو نقصان پہنچنے کے بھی اطلاعات ہیں۔

  • تبصرہِ کتاب : انڈیڈ فینٹسی   از قلم : ایمان کشمیری لاہور

    تبصرہِ کتاب : انڈیڈ فینٹسی از قلم : ایمان کشمیری لاہور

    تبصرہِ کتاب : انڈیڈ فینٹسی

    از قلم : ایمان کشمیری لاہور

    انڈیڈ فینٹسی ، عابد شاہین کے خوبصورت الفاظ سے مزین انگلش نظموں پر مشتمل ایک ایسی کتاب ہے جو تصوف کے بیان سے بھر پور ہے ۔۔۔ ٹیکنالوجی کے اس پرفتن دور میں جہاں ہر کوئی بے راہ روی کا شکار ہے ، عابد شاہین کی یہ شاہکار کتاب لوگوں خاص کر نوجوانوں کےلیے راہنمائی اور رب تک پہنچنے کی راہ فراہم کرتی ہے ۔۔۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نوجوان مصنف مقبوضہ کشمیر کے رہنے والے اور اپنی عمر کے اعتبار سے ابھی صرف انیس برس کے ہیں ، مگر قابلیت اور ذہنی استعداد میں بڑوں بڑوں کو مات دیتے نظر آتے ہیں ۔۔۔
    انڈیڈ فینٹسی کی نظموں کا مطالعہ کرنے بعد معلوم ہوتا ہے کہ شاعر نے کس قدر خوبصورتی سے اپنے اعلی خیالات کو دلکش پیرائے میں صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے ۔۔۔ تصورات اور الفاظ کا استعمال اس قدر عمدہ ، دلکش اور سلیس ہے کہ مطالعہ کرنے والا داد دِیے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔ خیالات کو ہر قسم کے تصنع، بناوٹ اور پیچیدگی سے پاک رکھا گیا ہے۔۔۔کلام ایسا عمدہ ، صاف اور عام فہم ہے کہ اسے اعلی سے لے کر ادنٰی تک ہر طبقہ اور ہر درجہ کے لوگ سمجھ سکتے ہیں۔۔۔
    حالات و واقعات کا بیان اصلیت اور راستی سے مزین ، ہر قسم کے جھوٹ اور خود آرائشی سے پاک صاف ہے۔۔۔ شاعری ایسے بےساختہ اور مؤثر پیرائے میں بیان کی گئی کہ معلوم ہوتا ہے شاعر نے مضمون اپنے ارادے سے نہیں باندھا بلکہ مضمون نے شاعر کو مجبوراً اپنے تئیں بندھوایا ہے ۔۔۔
    شاعری میں مناظرِ فطرت کے بیان کے ساتھ ساتھ فطرتِ انسانی اور نفسیاتِ انسانی بھی غالب نظر آتی ہے ۔۔۔ کمسن شاعر عابد شاہین کی صحت پر کشمیر کے تکلیف دہ ماحول کا گہرا اثر ہے ، وادئ پُر آشوب میں رہنے اور ہر لمحہ اپنے ارد گرد آگ و خون کا کھیل دیکھنے کے بعد حساسیت اُن کے مزاج کا خاصہ بن گئی ہے ، بس یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری میں درد کا عنصر غالب نظر آتا ہے ۔۔۔ ہاں درد کا بیان تو ضرور ہے مگر مایوسی کہیں نہیں ملتی ۔۔۔ وہ نظم کا آغاز بڑے درد سے کرتے ہیں مگر اختتام تک پہنچتے پہنچتے قاری کو ایک نئی اُمید دے جاتے ہیں ۔۔۔
    عابد شاہین کی شاعری سے جو سبق مجھے ملا وہ یہ ہے کہ دکھ بُرے نہیں ہوتے ، یہی تو رب سے لو لگانے اور کچھ کر کے دکھانے کا ذریعہ ہیں ۔۔۔ خوشیوں میں تو انسان سب بھول جاتا ہے ، اکثر اوقات تو رب کو بھی یاد نہیں رکھتا مگر یہ دُکھ اور درد ہی تو ہیں جو اُسے رب سے جوڑے رکھتے ہیں ۔۔۔ میں سمجھتی ہوں کمسن شاعر کی صلاحیتوں کے پیچھے بھی یہی درد مضمر ہیں جنھوں نے اُسے عروج کی راہ پر ڈال دیا ہے ۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے کشمیری شاعر کی صلاحیتوں کے نکھار میں اضافہ فرمائیں گے اور وہ جلد ہی شہرت کے آسمان پر پرواز کریں گے ۔۔۔۔ ان شاءاللہ تعالی

    کتنا کمسن ، خُوبرُو یہ شاعرِ کشمیر ہے
    ہاں بڑھا دی تُو نے تو الفاظ کی توقیر ہے
    داد دیتی ہوں ، بڑا ہی دلنشیں انداز ہے
    تیرے تو الفاظ میں ایماں بھری تاثیر ہے

  • ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے  از قلم: صالح عبداللہ جتوئی

    ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے از قلم: صالح عبداللہ جتوئی

    ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے

    از قلم صالح عبداللہ جتوئی

    پاکستان کو وجود میں آۓ تقریباً پون صدی ہونے کو ہے اور اس وطن کی عظیم شان اور قدر و قیمت ہے کیونکہ یہ وطن ہمیں بے بہا قربانیوں، محنتوں اور اللہ کی خاص غیبی مدد سے حاصل ہوا ہے نہ کہ ہمیں طشتری میں ڈال کے دیا گیا ہے اس کے لیے ہمارے اسلاف نے اپنے آپ کو رنگ دیا لیکن تحریک آزادی کو کچلنے نہیں دیا اور یہ اس بات کا مظہر بھی ہے کہ ہم علیحدہ ریاست حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور یہاں پہ ہم آزادانہ طور پہ اپنی مذہبی رسومات کو بھی ادا کر سکتے ہیں اور بلا خوف خطر سر اٹھا کے بھی جیتے ہیں۔

    یقیناً اس ملک کی تاریخ پڑھیں تو کئی قصے سامنے آتے ہیں جن کو سن کے دل خون کے آنسو روتا ہے لیکن سلام ہے ہمارے بزرگوں اور لیڈرشپ کو جنہوں نے اپنا آج ہمارے مستقبل پہ قربان کر دیا لیکن تحریک آزادی کو آنچ تک نہیں آنے دی اس وطن کو شہداء نے اپنے خون سے سینچا ہے نہیں تو آج ہم انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی میں زندگی گزار رہے ہوتے اور کوئی ہمارا پرسان حال نہ ہوتا۔

     اللہ عزوجل نے ہمیں لیڈر ایسے دیے تھے کہ وہ غلامی کا ایک لمحہ بھی گزارنا پسند نہیں کرتے تھے۔ مولانا محمد علی جوہر نے برطانیہ میں کہا تھا کہ "بیماری کے باوجود میرے یہاں آنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ میں اپنے ملک کے لئے آزادی کا پروانہ لے کر واپس جاؤں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ایک غلام ملک میں جانے کی بجائے ایک آزاد ملک میں مرنا پسند کروں گا۔
    پھر علامہ اقبال نے کہا کہ:

    یورپ کی غلامی پر رضا مند ہوا تو
    مجھ کو تو گلا تجھ سے ہے یورپ سے نہیں

    پھر ہم نے آزادی تو حاصل کر لی لیکن پاکستان کی تکمیل نہ ہو سکی اور پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ کھڑا کر دیا گیا جو آج تک حل نہیں ہو سکا اور اس کے ساتھ گورداس پور فیروز پور اور حیدر آباد دکن سمیت کئی ریاستوں پہ بھارت نے غاصبانہ قبضہ جما لیا جو کہ ابھی تک ان کے قبضہ میں ہے۔

    اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کو احسن طریقے سے حل کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا لیکن لاکھوں کشمیریوں کی قربانیوں کے باوجود اس مسئلہ کو پس پشت ڈال دیا گیا اور اس مسئلہ کو مزید گھمبیر بنایا جاتا رہا اور آزادی کے متوالوں کو خاموش کروانے کے لیے سر توڑ کوششیں شروع ہو گئیں اور اس تحریک کو دبانے کے لیے بھارت نے طرح طرح کے اوچھے ہتھکنڈے اپنانا شروع کر دئیے اور اس آڑ میں انہوں نے بچے بوڑھے جوان اور عورتوں تک کا قتل عام شروع کر دیا کبھی ان پہ پیلٹ گنوں کا استعمال کرتے تو کبھی ان کو مارا پیٹا جاتا اور کبھی معصوم لڑکیوں اور حاملہ عورتوں تک کی عصمت ریزی کی جاتی رہی لیکن یہ تحریک دبنے کی بجاۓ مزید زور پکڑ گئی اور پڑھے لکھے نوجوانوں نے بھی سکول کالج اور یونیورسیٹیز سے رخ موڑ کے آزادی کے لیے بندوق کا سہارا لے لیا جس میں پی ایچ ڈی اسکالر منان وانی اور برہان وانی جیسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس تحریک کو تقویت دی اور بھارت کے رونگٹے کھڑے کر دئیے کیونکہ جو بھی شہید ہوتا اس کے جنازے میں لاکھوں لوگ شامل ہوتے اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بلند کرتے کیونکہ وہ بھارت کے ساتھ بالکل بھی الحاق نہیں چاہتے اور یہ تک وصیت کر کے جاتے کہ ان کو پاکستانی جھنڈے میں دفن کیا جاۓ اور بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتا اور حریت رہنماؤں تک کو کبھی نظر بند کر دیتا ہے اور کبھی جھوٹے مقدمے بنا کے جیلوں میں ڈال دیتا ہے اور کبھی سرچ آپریشن کی آڑ میں معصوم لوگوں کا انکاؤنٹر کر دیتا ہے۔

    جب بھارت کے ظلم و ستم اور بربریت کا کشمیریوں پہ اثر نہ ہوا تو انسانیت کے دشمنوں نے کشمیریوں کی زندگی تنگ کرنے کے لیے 5 اگست 2019 کو سخت ترین کرفیو لگا دیا جو کہ ابھی تک جاری ہے اور ان کا کھانا پینا تک محال ہے لیکن واللہ ہمیں فخر ہوتا ہے ان ماؤں بہنوں اور بیٹیوں پہ جنہوں نے یوم آزادئ پاکستان پہ گھروں میں پرچم پاکستان بنا کے یہ پیغام دیا کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے اور بھارت کو پیغام دیا تم بازاروں سے جھنڈے غائب کروا سکتے ہو لیکن ہمارے دلوں سے پاکستان کی محبت کو کم نہیں کر سکتے۔

    آج ہم پہ وقت آن پہنچا ہے کہ کشمیریوں کا ساتھ دیں اور ان کا حوصلہ بلند کریں اور ان کے زخموں پہ مرہم رکھیں کیونکہ ان کا اللہ کے بعد پاکستان کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے وہ آپ کے جھنڈے کے ساتھ دفن ہونا پسند کرتے ہیں اور پون صدی سے بھارت کے ظلم کے آگے انہوں نے گھٹنے نہیں ٹیکے اور پاکستان کے لیے اپنے سینے تک چھلنی کروا دئیے ماؤں نے اپنی گودیں اجڑوا دیں اور بوڑھوں نے اپنے لخت جگر پیش کر دئیے لیکن پھر بھی ان کے دلوں سے پاکستان کے لیے محبت ذرا بھی کم نہیں ہوئی۔

    آج ہم پہ لازم ہے چکا کہ ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کا ساتھ دیں اور بھارتی مظالم کو پوری دنیا کے سامنے پیش کریں اور پاکستانی حکومت سے بھی گزارش ہے کہ وہ اقوام متحدہ پہ دباؤ ڈالیں کہ وہ قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیں کیونکہ ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے اگر ہم خاموش رہے تو ہماری شہ رگ پنجہ استبداد میں رہے گی اور ہمارے کسی بھی جشن آزادی کی وقعت نہیں رہے گی اور ہم براۓ نام آزاد ہوں گے کیونکہ کشمیر کے بنا ہم مکمل نہیں ہیں ہماری شہ رگ ہم سے الگ ہے اس لیے اپنی آواز بلند کریں اور جیسے ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دے کے پاکستان حاصل کیا تھا اسی طرح کشمیریوں کی قربانیوں کو بھی رنگ دیتے ہوۓ آزاد ہونے میں مدد دیں۔
    اللہ ملک پاکستان اور مظلوم مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین۔
    کشمیر بنے گا پاکستان ان شاء اللہ
    پاکستان زندہ باد
    کشمیر پائندہ باد

  • 15 اگست یوم سیاہ    ازقلم: محمد عبداللہ گِل

    15 اگست یوم سیاہ ازقلم: محمد عبداللہ گِل

    15 اگست یوم سیاہ
    ازقلم محمد عبداللہ گِل
    73 برس بیت چکے ہیں ایک خوبصورت وادی ظالم کے قبضے میں ہے۔اس خوبصورت وادی کا نام کشمیر ہے اور اس پر ظلم‌ و بربریت کرنے والا ظالم بھارت ہے۔برِصغیر پاک و ہند میں بھی ہندو تو آزاد ہی تھے۔بڑے بڑے عہدے ان کے پاس تھے اور انگریزوں کی چمچہ گری کرنا ان کا کام تھا۔اصل ظلم تو مسلمانوں پر ہوتا تھا۔مسلمان محکوم بنے ہوئے تھے اس ملک میں جس کے وہ کبھی حاکم ہوا کرتے تھے۔ہندو اور کانگرس نہیں چاہتی تھی کہ پاکستان بنے وہ چاہتے تھے کہ انگریز جب نکلے تو سارے کا سارا برصغیر ہمارے قبضے میں آئے۔لیکن بھارت کا یہ خواب خواب ہی رہ گیا اور قائداعظم کی کوششوں سے پاکستان معرض وجود میں آگیا جو کہ کانگرس اور گاندھی کی شکست تھی۔کشمیر ایک ریاست تھی جس کا راجا ہندو تھا۔لیکن کشمیر میں اکثریت تو مسلمانوں کی تھی۔کشمیر کو حق دیا گیا تھا کہ دونوں میں سے جس ملک کے ساتھ چاہے الحاق کر لے۔کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے تھے لیکن وہاں کے راجا ہری سنگھ نے چند ٹکے لے کر خود دہلی میں جا بیٹھا اور وادی پر بھارت کا جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ ہو گیا۔اس وقت کشمیر میں 10 لاکھ کے لگ بھگ فوج ہے۔جب مسلہ کشمیر اقوام متحدہ میں گیا تو قرار دادیں منظور کی گئی جن کے مطابق کشمیر میں استصواب رائے کروایا جائے جو کہ آج تک نہ ہو سکا۔کیونکہ بھارت جانتا ہے اگر میں نے استصواب رائے کروا دی تو کشمیری پاکستان سے الحاق کرے گئے۔اس لیے بھارت پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھا۔73 سال کا عرصہ گزر گیا بہت سی بہنوں کی عزتیں پامال کی۔لاکھوں ماوں کے سر کے ڈوپتے نوچیں گے۔لاکھوں بچوں کو یتیم کیا۔
    لیکن عالمی برادری خاموش کیوں؟
    اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کیوں نہیں؟
    ہماری امیدیں وابستہ ہیں امریکہ، برطانیہ اور اقوام متحدہ سے جو کہ غیر مسلموں کی پٹھو تنظیم ہے۔

    اس کا جواب اللہ تعالی نے قرآن مجید میں دیا ہے:-
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘ ؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾

    ترجمہ:-

    اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالٰی ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا ۔

    آج ہماری دوستیاں امریکہ اور برطانیہ سے ہے اور مودی سے ہے جو کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
    ادھر کشمیر میں کل 14 اگست کو صورتحال یہ تھی کہ کرفیو لگا ہوا تھا۔کشمیری بہنوں اور ماوں نے گھر میں خود پرچم سلائی کر کے سرینگر کے چوک میں پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا۔کشمیر کے چوک میں نعرے لگے
    "جیوے جیوے پاکستان
    تیری جان میری جان
    پاکستان پاکستان ”
    کشمیریوں کا پاکستان کے حق میں نعرے لگانا اپنے گھروں کی چھتوں پر پاکستان کے پرچم لہرانا۔اور ریلیاں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران حب پاکستان میں گولیاں اور پیلٹ گنوں کا نشانہ بن کر اپنی آنکھوں کی بینائی کو ضائع کروا لینا الحاق پاکستان کا ثبوت یے۔
    آج 15 اگست جو کہ ظالم ملک بھارت کی آزادی کا دن ہے کشمیر کے سرینگر کے لال چوک میں خاموشی طاری ہے۔کشمیری خاموش اس لیے ہیں کیونکہ وہ آج کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔
    کشمیر میں تو یہ صورتحال ہے کہ کشمیری نوجوان اور بچے ان کو کچھ نہ ملے تو وہ پتھروں کے ساتھ ہی مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔بھارتی فوج کر بھی کیا سکتی ہے زیادہ سے زیادہ کا آپا آسیہ اندرابی کو گائے زبح کرنے کے جرم میں گرفتار کر سکتی ہے۔گرفتاری کی صعوبتوں کے باوجود آپا جی کے دل میں پاکستان کی محبت کا بڑھ جانا اس کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان سے الحاق چاہتی ہے۔بزرگ قائد حریت سید علی گیلانی صاحب جو کہ طویل عرصے سے علیل ہے۔علالت کے باوجود ان کو نظربند کرنا اور نظربندی کے دوران بھی ٹویٹ کے ذریعے 14 اگست کو ان کا پاکستان کو مبارک باد دینا بھارت کے ظلم کے خلاف ان کا آواز بلند کرنا پاکستان سے محبت کی علامت ہے۔
    آخر کشمیری اور پاکستانی آج کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر کیوں نہ منائے؟آج کے دن بننے والے ملک بھارت نے پاکستان کی شہ رگ کو قیدی بنا رکھا ھے۔کشمیر مسلمانوں کو کھانا نہیں مل رہا۔کشمیری یوم سیاہ اس لیے مناتے ہیں کیونکہ بھارت ظالم نے ان سے اظہار خیال کو حق چھین لیا اور ان کا آئینی،جمہوری حق جو کہ استصواب رائے کا تھا چھین لیا۔ان ظالموں نے کشمیریوں کو ان کے آباواجداد کے ملک میں ہی قید کر دیا۔باہر سے آ کر ان پر قبضہ کر لیا اور ان کی بیٹیوں کی عزتوں کو لوٹا جا رہا ہے۔😭😭
    یہ وہ۔کشمیر ہے جو اقبال کے تخیل کا مظہر یوں تھا:-

    آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
    کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر

    اب حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا آغاز کر دینا۔کیونکہ واضح حکم ربی ہے:-

    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الۡکُفَّارِ وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾ ٙ

    اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہیے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالٰی متقی لوگوں کے ساتھ ہے ۔
    ریاست مدینہ کے بانی خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-
    حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)

    کاہے کی آزادی اور کون سا جشن آزادی؟ بھارتیو تم مقید ہی کب تھے جو آزاد ہوتے. تم تو قابض تھے صیاد تھے اب بھی ہو..14اگست 1947 بھارت کا یوم شکست تھا اور ان شاء اللہ 2020 ان کا دوسرا یوم شکست ہوگا. جب کشمیر آزاد کرائیں گے.اے اللہ کشمیر کو آزادی نصیب فرما اور ظالموں کو نست و نابود فرما

  • ابھی کشمیر باقی ہے  بقلم:زینب بنت ابو عدیل

    ابھی کشمیر باقی ہے بقلم:زینب بنت ابو عدیل

    عنوان :
    ابھی کشمیر باقی ہے۔

    بقلم [زینب بنت ابو عدیلؒ]

    کشمیر 1947ء میں پاکستان کے حصے میں آیا ۔لیکن اس پر بھارت نے قبضہ کر لیا ۔وادی کشمیر پہاڑوں کے دامن میں کئی دریاؤں سے زرخیز ہونے والی سرزمین ہے ۔ یہ اپنی قدرتی حسن کی وجہ سے زمین پر جنت تصور کی جاتی ہے

    قدرت کا کرشمہ ہے یہ میرا کشمیر
    آؤ دوزخ میں ڈوبی ہوئی جنت دیکھو
    کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعے کی اہم ترین وجہ ہے ۔دونوں ممالک کشمیر پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں ۔جن میں 1947ءکی جنگ 1965ءکی جنگ اور 1999ء کی کارگل کی جنگ ہے
    16 مارچ 1846ء میں انگریز نے 75 لاکھ کے عوض کشمیر گلاب سنگھ ڈوگرہ کو فروخت کردیا ۔
    جب 1925ء میں امر سنگھ کا بیٹا ہری سنگھ سازش سے جانشین بنا تو اسے قادیانی حمایت حاصل تھی ۔قادیانی کشمیر میں الگ ریاست چاہتے تھے ۔اس کے دور میں کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ گئے ۔
    1931ءمیں پہلی مسجد ریاسی میں شہید ہوئی ۔کوٹلی میں پہلی مرتبہ نماز جمعہ پر پابندی لگائی گئی ۔ایک کانسٹیبل نے قرآن کی بے حرمتی کی ۔عبدالقدیر نامی مسلمان نے بے مثال احتجاجی جلسے کیے جو کہ گرفتار ہوگیا ۔اور پھر مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوگیا 13 جولائی کو شہدائے کشمیر ڈے اسی قتل عام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
    1947ءمیں ہندوستان کی تقسیم کے وقت تمام ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک سے الحاق کرلے ۔ کشمیر مسلم اکثریتی ریاستیں تھی۔ عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق چاہا لیکن ہندو مہاراجہ نے بھارت سے الحاق کر لیا ۔ ہندو مہا راجا کے الحاق کا جواز بنا کر بھارت نے اپنی فوج کشمیر میں داخل کرلیں ۔
    دوسری طرف مجاہدین نے بہت سے علاقے ہندو مہاراجہ کے قبضے سے چھڑوا لئے ۔ جن میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر شامل ہیں
    بعد میں کشمیر کا فیصلہ اقوام متحدہ میں لایا گیا ۔جہاں ایک کمیشن کے ذریعے کشمیر میں استصواب رائے کا فیصلہ کیا گیا ۔جس کو بھارت کے
    وزیراعظم نے بھی تسلیم کیا اور پاکستان نے بھی تسلیم کیا لیکن بات میں بھارت اس وعدے سے مکر گیا جب کشمیری عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق چاہا ۔بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ فیصلے کو کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا ۔اور اب تک لاکھوں کشمیر شہید ہوچکے ہیں اور مسلسل قابض بھارتی افواج کی بربریت کا شکار ہیں۔
    جنت نظیر وادیِ کشمیر کو ایک فوجی چھاؤنی اور بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ کشمیراور کشمیری عوام محکومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں- بھارتی فوج نے کشمیر یوں کی نسل کشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی -مگر نادان بھارتی حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ کشمیر ی مسلمانوں کے جذبۂ حق حریت کو ختم کر سکتا ہے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے کیونکہ حق کبھی مٹا ہے نہ مٹے گا –
    کشمیر ی جدوجہد بھارتی مظالم کے باوجود زندہ اور پر جوش رہے گی کیونکہ ان کو علامہ اقبال کا درج ذیل درس یاد ہے….
    جِس خاک کے ضمیر میں ہو آتشِ چنار
    ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند
    کشمیری نوجوان اپنا خون دے کر، سہاگنیں اپنا سہاگ ، بہنیں اپنے بھائی،مائیں اپنے لختِ جگر،باپ اپنے بڑھاپے کا سہارا قربان کر کے اِس جدوجہد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں
    نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گو اے ہندوستاں والوں
    تمھاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
    کشمیر کے تمام دریائوں کا رخ پاکستان کی طرف اور تمام راستے بھی پاکستان کی طرف جاتے ہیں جبکہ بھارت کی طرف بڑی مشکل سے جاتے ہے 90فیصد سے زائد مسلمان ہی رہتے ہیں اور ان کی غالب اکثریت بھی ہمیشہ پاکستان سے ہی الحاق کے لیے سر گرم رہی ہے اس لحاظ سے کشمیر اور پاکستان کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور انہیں کسی طرح بھی الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ کشمیر پاکستان کی روح ہے ۔
    کشمیریوں کو اب گولی و بارود کی آگ سے نکالنا ہو گا تاکہ وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح اپنی جائے پیدائش، وادیِ کشمیر کی تازہ و صحت مند ہوا میں زندگی بسر کر سکیں۔ (آمین )

  • یوم آزادی، ایک عہد کا دن   تحریر: عشاء نعیم

    یوم آزادی، ایک عہد کا دن تحریر: عشاء نعیم

    یوم آزادی، ایک عہد کا دن
    تحریر عشاء نعیم

    تہتر سال پہلے دنیا کے نقشے پہ ایک ایسا وطن ابھرا تھا جس کے بننے سے بھی پہلے کفار کی نیندیں حرام ہو گئی تھیں اور انھوں نے اس کے معرض وجود میں آنے سے بھی پہلے سازشیں کیں اور اس کے جغرافیہ میں تبدیلی کر دی اور بہت سے اہم علاقے ڈنڈی مارتے ہوئے اس کے دشمن ملک کے حوالے کر دئیے ۔
    جن میں پنجاب کے کچھ علاقے، جونا گڑھ ،مناوادر،حیدر آباد اور سب سے اہم ریاست جسے بانی پاکستان نے شہہ رگ قرار دیا ‘کشمیر’ جس کی سرحد کہیں سے بھارت کے ساتھ نہیں لگتی تھی، صرف ایک علاقہ گورداس پور جو پاکستان کے حصے میں آیا تھا وہ بھی بھارت میں شامل کردیا ۔تاکہ بھارت بعد میں اسی راستے سے کشمیر پہ قابض ہو سکے ۔
    اور ہوا بھی وہی ستائیس اکتوبر 1947ء میں ہی بھارت نے اپنی غیر قانونی ،غیر انسانی طریقے سے، حق خودارادیت کی دھیجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کردیں ۔
    (اس کی اگلی منزل پاکستان تھا لیکن الحمداللہ پاکستان قائم و دائم ہے اور تا قیامت رہے گا ۔ان شا اللہ)۔
    لیکن کشمیریوں نے اس قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ سے وہاں نعرہ لگتا ہے "پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ "۔
    "تیری جان میری جان ،پاکستان پاکستان، حافظ سعید سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ "۔ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے”۔
    کشمیریوں کے معاملہ جب اقوام متحدہ میں پہنچا تو وہاں فیصلہ کیا گیا کشمیری اپنا فیصلہ ایک ریفرنڈم کے ذریعے خود کریں گے کہ وہ کس ملک کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، جسے بھارت نے بھی تسلیم کیا ۔
    لیکن چونکہ بھارت جانتا ہے کشمیریوں کا فیصلہ کیا ہے کشمیریوں پہ ظلم و ستم ، لالچ کرفیو ،ہر قسم کا ہتھیار ناکام ثابت ہو گیا ہے ان کا ہر جنازہ جو بھارت فوج کے ہاتھوں شہادت کے نتیجے میں نکلتا ہے ،پاکستان کے پرچم میں لپٹا،
    کشمیریوں کے ہاتھوں میں پاکستان کے پرچم اور ایک جم غفیر کے لبوں پہ ‘ ہے حق ہمارا آزادی، پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ ، کشمیریوں کا فیصلہ سناتا ہے۔
    اسی پاکستان نے اور پاکستانیوں نے بھی ہمیشہ کشمیر کو اپنا حصہ اور اپنا حق سمجھا ہے ۔اور ان کی جدوجہد آزادی کی ہر طرح سے حمایت کی ہے ۔کیونکہ قائد اعظم نے اپنی موت سے چند روزقبل فرمایا تھا
    ’’ کشمیر سیاسی اور قومی اعتبار سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔کوئی خود دار ملک اور قوم یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اپنی شہ رگ کو دشمن کی تلوار کے حوالے کر دے”۔
    وقت کے ساتھ پاکستان کشمیر کے متعلق پالیسی کبھی جارحانہ اور کبھی کمزور لگی ۔کسی حکومت کے دور میں لگا مسلہ کشمیر دبا دیا گیا ہے تو کبھی محسوس ہوا یہ حکومت آزاد کروا کر ہی دم لے گی ۔
    موجودہ حکومت بھی شروع میں کشمیر کے معاملے میں بہت پرجوش نظر آئی لیکن جب پانچ اگست 2019 ء جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو اس وقت قوم منتظر تھی کہ پاکستان اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دے گا لیکن ایسا کچھ ہوتا نظر نہ آیا قوم کی نظریں لگی رہیں۔،لیکن پالیسی کچھ اور نظر آئی کیوں کہ پانچ اگست سے پہلے ہی پاکستان کی ایک بہت بڑی اور کشمیریوں کی حمایتی جماعت جماعت الدعوہ کو کالعدم قرار دیا جا چکا تھا اور اب مزید ان پہ الزامات کے ساتھ ساتھ (جو پہلے بھارت لگاتا تھا ) سزائیں بھی سنائی جانے لگیں ۔یہ جماعت جسے اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا تھا کہ یہ ایک فلاحی جماعت ہے لیکن کشمیریوں کے حق میں بھی بولتی تھی سو اسے پابند کرنے کا صاف مطلب تھا کہ پاکستان میں کشمیریوں کی آواز کو پابند کرنا۔۔۔۔۔اور بہت سے صحافی و دیگر طبقے کے لوگ بھی کہتے ہیں جب کشمیریوں کی آواز حافظ سعید کو پابند کرتے ہو تو کشمیر کی آزادی کی حمایت کیسی ؟
    لیکن وقت مزید آگے بڑھا تو ایک خوش آئند اعلان ہوا کشمیر کی تحریک آزادی کے روح رواں سید علی گیلانی صاحب کو نشان پاکستان دینے کا اعلان ہوا ،جس سے اندھیرے میں کچھ روشنی ہونے کا امکان نظر آیا ۔
    لیکن اس کے بعد پھر خاموشی اور اب اچانک پاکستان نے کشمیر کا نقشہ اپنے نقشے میں شامل کرلیا ہے اور آفیشلی جاری کرنے کے ساتھ اعلان ہوا ہے کہ اسے اقوام متحدہ سے منظور کروایا جائے گا ۔
    یہ انتہائی خوش کن اعلان ہے ۔
    اس سے قوم کی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ اگر حکومت پاکستان یہ نقشہ اقوام متحدہ میں اپروو کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان کے لیے کشمیر کا حصول آسان ہو جائے گا ۔
    لیکن مسلہ یہ ہے کیا اقوام متحدہ جو تہتر سال سے اس مسلے پہ چند ایک جملے بولنے اور سننے کے علا وہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے ،واقعی اس نقشے کو تسلیم کر لے گی ؟
    اقوام متحدہ جو ایک(غیر مسلم ) انسان کے لیے تڑپ اٹھتی ہے ،جو سوڈان میں تو ایک سال کے اندر اندر عیسائیوں کی الگ ریاست قائم کروادیتی ہے کیا کشمیریوں کے بہتے خون کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اس اقدام کی حمایت کرے گی ؟
    یا موجودہ حکومت یہ سب کر کے صرف قوم کے دماغ ٹھنڈے کرنا چاہتی ہے ؟
    میرے سوالوں کے جواب یقینا کسی کے پاس نہیں بلکہ یہ وقت کے پاس ہیں اور وقت ہی دے گا ۔
    پاکستان کو بنے تہتر سال ہو گئے ہیں لیکن یہ ابھی بھی مکمل نہیں ہے کیونکہ شہہ رگ کے بغیر کوئی وجود قائم نہیں رہ سکتا ہے اور ہماری شہہ رگ پہ دشمن قابض ہے دشمن سے اپنی شہہ رگ کو ہر صورت چھڑوانا ہوگا ۔
    تاکہ تکمیل پاکستان ہو سکے ۔
    ابھی تکمیل باقی ہے
    ابھی کشمیر باقی ہے
    سن اے دشمن ہم لوٹیں گے
    تیری طرف ابھی ہماری جاگیر باقی ہے

  • آزادی، ایک جذبہ، ایک جنون   تحریر:محمد نعیم شہزاد

    آزادی، ایک جذبہ، ایک جنون تحریر:محمد نعیم شہزاد

    آزادی، ایک جذبہ، ایک جنون
    محمد نعیم شہزاد

    آزادی نام ہے ایک جذبے کا، ایک لگن ہے جو قلب و روح کو مضطرب رکھتی ہے اور جابر کے سامنے کلمہ حق بیان کرنے کی تڑپ پیدا کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ اور پیار میں سب جائز ہے۔ آزادی جنگ اور پیار دونوں کے جذبات کا دلنشین مرکب ہے، یہ محبت ہے اپنے وطن کی، یہ جنگ ہے باطل کو مٹانے کی اور اپنے وطن کا پھریرا لہرانے کی۔ یہ جذبہ سب جذبات پر غالب ہے اور وطن کی محبت تمام محبتوں پر حاوی ہے۔ آزادی متاعِ عزیز ہے مگر اس کے حصول کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے؟ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ آزادی کے لیے سچے جذبے اور لگن کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔
    یہ لگن ہی ہے جو اپنا آپ بھلا دیتی ہے اور صرف آزاد فضاؤں میں بسنے کی تمنا بے چین رکھتی ہے۔ دن، رات ایک ہی لگن میں مگن آزادی کے پروانے جان تک دینے سے دریغ نہیں کرتے اور اپنے خون سے آزادی کی داستان کو امر کر دیتے ہیں ۔

    لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے

    اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی

    مملکت خداداد پاکستان آزادی کے 73 ویں جشن کی تیاری میں ہے۔ یہ وہی ریاست ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ پاکستان بن تو گیا ہے مگر قائم نہ رہ سکے گا۔ تحریک آزادی پاکستان کے راہنما محمد علی جناح کے الفاظ آج بھی کان میں گونجتے ہیں کہ کوئی طاقت بھی پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی اور ہم اپنی آنکھوں سے اس عظیم قائد کی بصیرت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
    وسائل کی کمی کے باوجود، جان و مال کے نقصان کے بعد لٹے پھٹے کارواں کو آزاد وطن میں آباد کر کے اس عظیم شخص نے اسی جذبہ حریت کے تحت یہ الفاظ ادا کیے جن کی صداقت پر آج دنیا شاہد ہے۔ اس عالیشان جذبہ کی بنیاد دو قومی نظریہ پر استوار تھی۔ یہ ایک ایسی مضبوط بنیاد ہے جس پر تعمیر وطن ممکن ہوئی۔ جذبوں کی صداقت کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے

    سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

    دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

    آزادی کے 73 برسوں میں ارض وطن نے مختلف موسموں کے رنگ دیکھے۔ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، طاقت اور اختیار کے حصول کی جنگ، اقرباء پروری، بددیانتی اس ملک کے لیے ناسور بنی رہی اور اس کی ترقی کی راہ میں حائل رہی مگر ارض پاکستان نے خدائے ذوالجلال کی رحمت و عنایت سے وہ کمال پایا جو کسی اور کو حاصل نہ ہوا۔ آج بڑی بڑی طاقتیں پاکستان سے دوستی کی خواہاں ہیں اور پاکستان سے اچھے تعلقات بنانا چاہتی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ دفاعی اور تجارتی معاہدے کیے جاتے ہیں۔ قدرت نے پاکستان کو گوادر پورٹ کی شکل میں ایک عظیم الشان انعام سے نوازا ہے۔ اور ریاست پاکستان اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہے جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے مگر اک کسک باقی ہے، پاکستان تقسیم ہند کے فارمولے اور نظریہ پاکستان کے مطابق ابھی اپنے وجود کی تکمیل کا منتظر ہے۔ کشمیر جنت نظیر پر جابر بھارت قابض ہے اور ہر ستم روا رکھے ہوئے ہیں۔ 5 اگست 2019 کو آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیر کی الگ حیثیت کا انکار کرتے ہوئے اسے اپنا اٹوٹ انگ ظاہر کیے ہوئے ہے۔ اس انگ بے رنگ کا ٹوٹنا ہے اچھا جس کا وجود زمانے بھر کے لیے سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ معنی نہیں رکھتا۔ 73 برسوں میں تحریک آزادی کشمیر نےبھی کئی اتار چڑھاؤ دیکھے، ہواؤں کے بدلتے رخ، اپنے بیگانوں کی کج ادائی اور حقوق انسانی کی تنظیموں کی سماعت سے محرومی عام رہی مگر جب نوجوان آزادی کے جذبے سے معمور ہوں اور زبان حال سے کہہ رہے ہوں

    دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت

    میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

    تو ان کے جذبوں کو مات نہیں دی جا سکتی۔ سال بھر سے وادی جنت نظیر میں بدترین لاک ڈاؤن ہے، ذرائع مواصلات بند ہیں، مگر دنیا میں بھارتی دہشت گردی کی بازگشت گونجتی ہے۔ کشمیری حریت رہنماؤں سے دنیا اظہار ہمدردی کرتی ہے اور ان کو ہیرو مانتی ہے۔ راستے کھل رہے ہیں، منزل نظر آ رہی ہے پاکستان نے اپنا نیا نقشہ جاری کر کے بھارت کے اٹوٹ انگ کا نظریہ توڑ دیا ہے شاہراہ کشمیر کا نام بدل کر

    کیا کرشمہ ہے مرے جذبۂ آزادی کا

    تھی جو دیوار کبھی اب ہے وہ در کی صورت

    دیواریں گر رہی ہیں، راستے کھل رہے ہیں اور انقلاب برپا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ زمانہ تیزی سے تبدیلی کی طرف گامزن ہے۔

    یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں

    کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے

    در و دیوار آزادی کے نغموں سے گونج رہے ہیں، فضائیں معطر ہیں افق سے آزادی کا سورج طلوع ہوا چاہتا ہے مگر ہم ہزیمت کا شکار کیوں ہیں، کیوں اپنے وطن کے محبان کو پابند سلاسل کرتے ہیں۔ اغیار تو جان کے دشمن تھے ہی اپنے تو بیگانوں جیسی روش پر نہ اتریں ۔ چمن میں بہار کی آمد ہے مگر نغمہ سرا بلبلیں پنجروں میں بند ہیں۔ کشمیر میں روز اٹھتے لاشوں کو دیکھنے سے محروم بصارتوں کو وطن پرستی جرم نظر آتی ہے۔ وقت بدل جاتا ہے مگر انسانی رویے یاد رکھے جاتے ہیں۔ محسنین کی جگہ زندان نہیں بلکہ ان کا مسکن آزاد وطن کی آزاد فضائیں ہیں۔ آزادی کے متوالوں کی آزادی بحال کی جائے اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ شامل کرنے دیا جائے۔ وہ دن دور نہیں ہے جب ہم حقیقی اور مکمل آزادی کا سورج دیکھیں گے۔

    نہ ہوگا رائیگاں خون شہیدان وطن ہرگز

    یہی سرخی بنے گی ایک دن عنوان آزادی

  • یوم آزادی پاکستان اور کشمیر کا بدلتا منظر نامہ تحریر: جویریہ بتول

    یوم آزادی پاکستان اور کشمیر کا بدلتا منظر نامہ تحریر: جویریہ بتول

    یوم آزادی پاکستان اور کشمیر کا بدلتا منظر نامہ
    جویریہ بتول

    یومِ آزادی قریب ہے اور دل میں مچلتا شکر کا اک سمندر ہے…
    جذبات کے دریا کے دھارے ہیں تو آنکھوں میں تشکر کے آنسو…
    کہ آزادی کتنی عظیم نعمت ہے اور اس کے لیئے آگ و خون کے کتنے صحرا و دریا طے کرنا پڑتے ہیں…؟
    گزشتہ یومِ آزادی سے اس یومِ آزادی تک کا عرصہ ایک درد کی کیفیت میں گزرتا رہا ہے…
    کشمیر میں کرفیو کے بعد پاکستان اور اہلیانِ پاکستان کو ایک عجب سی بے کلی اور اضطراب کا سامنا رہا ہے اور انسانیت کی اس پامالی پر ہر فورم پر مناسب آواز بلند کی جاتی رہی ہے…
    جوں جوں یومِ آزادی قریب آتا ہے تو اس دل کی دھڑکنیں مذید تیز ہونے لگتی ہیں اور بانیانِ پاکستان کی دور اندیشی اور تدبر کو سلامِ عقیدت کھل کر پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کہ جنہوں نے یہ ناؤ دوہری دشمنی کے گرداب سے نکال کر ساحل تک پہنچائی اور آج ہم ایک آزاد وطن کے باسی اور آزاد فضاؤں میں سانسیں لے رہے ہیں…
    حبس کی اس رُت میں یومِ آزادی سے قبل ایک ٹھنڈا جھونکا یہ ہے کہ وطنِ عزیز پاکستان نے مقصدِ قیام پاکستان کے عین مطابق ایک نقشہ جاری کیا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے،جو جہدوجہد آزادئ کشمیر کو ایک نیا رنگ اور نیا موڑ فراہم کرنا ہے…
    اگرچہ مہذب دنیا نے اس سنجیدہ مسئلہ سے مکمل آنکھیں موڑ رکھی ہیں لیکن پاکستان نے کشمیریوں کو تنہائی کا احساس کبھی نہیں ہونے دیا…
    یہ جدید دور کی جدید پالیسیاں ہیں جنہیں دشمن کے عزائم کے جواب کے لیئے بطورِ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
    پاکستانی قوم کے ساتھ اب حکومتی سطح پر یہ اقدامات بلاشبہ لائقِ تحسین ہیں اور مظلوموں کے رِستے زخموں پر مرہم کی ایک کوشش بھی…
    تحریکِ آزادئ کشمیر کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کے لیئے نشانِ پاکستان کا اعلان بھی ان کی پاکستان سے اٹوٹ انگ محبت کا اعتراف ہے جسے سراہا جانا چاہیئے…
    یہ تو سچ ہے کہ آزادی اور قید برابر نہیں ہیں،پنجرہ اگر سونے کا بھی ہو تو وہ آزادی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا…
    اسی کے لیئے ایک سفر کا آغاز ہوا تھا جو پاکستان کی شکل میں تعبیر سے ہمکنار ہوا،
    اور تشکیلِ پاکستان سے تکمیلِ پاکستان کا یہ سفر کشمیر کے گلی کوچوں میں جیوے جیوے پاکستان اور پاکستان زندہ باد کی شکل میں آج بھی جاری ہے…
    اس راہ کے مسافروں نے سفر کی ہر صعوبت کو برداشت کر کے بھی اس سفر کی روانی کو زندہ رکھا ہے…!!!
    اپنے کیریئر،کاوبار اور نسلیں قربان کر کے اس سفر کو لہو کے چراغوں سے روشنی بخشی ہے، تو یومِ آزادی کے اس پر مسرت موقع پر ان کی آزادی کی خواہش کی تکمیل کے لیئے دل سے نکلتی دعائیں ہیں اور عالمی انسانیت کی رکھوالی کے دعویداروں کے کردار پر افسوس بھی…
    حب الوطنی ایک ایسا جذبہ ہے جو زبردستی پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک انسان کے دل اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور وہ وطن کی مٹی سے محبت اپنی سانسوں کا حصہ بنا لیتا ہے اور پھر اگر اسے جُرم بھی کہا جائے تو اسے اپنے حسابوں میں رکھنا فخر بن جاتا ہے…
    بلاشبہ ایسے لوگ قوم کے عسر و یسر کے لمحات میں ایک سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں،ان کی قدر دانی اور ان کا پیغام دنیا تک پہنچانا کشمیر کی تحریکِ آزادی کی مضبوطی ثابت ہو سکتی ہے۔
    ہمیں محب وطن لوگوں کی قدر کرتے ہوئے پاکستان کے وقار،اس کے سبز ہلالی پرچم کی سر بلندی اور تعمیر و ترقی کے لیئے مل کر کردار ادا کرنا اور آگے بڑھنا ہو گا کہ کسی بھی قوم کی مضبوطی اور کامیابی کے یہی معیار ہیں…!!!
    سفرِ خونچکاں کی یہ داستان آزاد پاکستان ہم سب کا مان،شان اور آن ہے…!!!
    یہ پاک وطن ہے آن ہماری…
    اس کے دم سے ہے شان ہماری…
    اس کے دم سے قائم ہیں…
    یہ دل اور جان ہماری…
    لاکھوں جانیں لٹا کر پائی…
    یہ دھرتی مثلِ گلستان ہماری…
    اس کا درد ہے اپنا درد…
    اس کی خوشی پہچان ہماری…
    ہر مشکل سے ٹکرائیں گے ہم…
    اس کی پکار ہے زبان ہماری…
    ہر اک میلی نگاہ پھُوٹے گی…
    ہرائے گی ہمیں نہ تھکان ہماری…
    اس کے محافظوں کے دم قدم سے…
    سوتی ہے قوم با امان ہماری…
    نہ در آسکےگا کوئی روزنِ دیوار سے…
    ہے حصار کی عمارت عالیشان ہماری…
    عدو نے قوت پہ بھروسہ کیا تھا…
    خاصیت تھی لیکن جذبۂ ایمان ہماری…
    یہ پاک وطن ہے آن ہماری…
    اس کے دم سے ہے شان ہماری…
    بلاشبہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور یہ بے مول تو نہیں ملا کرتی…تاریخِ قیام پاکستان اس کی سب سے بڑی گواہ ہے۔
    دعا ہے مرا وطن سلامت تا قیامت رہے…آمین
    قوم کو یومِ آزادی مبارک…!!!

  • آزادی کی گونج   تحریر:منہال زاہد سخی

    آزادی کی گونج تحریر:منہال زاہد سخی

    آزادی کی گونج
    منہال زاہد سخی

    وہ قلم اٹھانا چاہتا تھا لیکن اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے یا قلم میں روشنائی نہیں تھی یا اس کے ہاتھ سطریں لکھنے سے قاصر تھا ۔ اس کا دل اسے پکار رہا تھا لکھ دے لیکن اس کا دماغ اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا ۔ اسے یوں محسوس ہورہا تھا کہ پچھلے دور کی شہنائیاں پھر کبھی نہیں بجیں گی ۔ لیکن وہ اک بات سے بے خبر تھا کہ شہنائیاں بجیں گی ضرور لیکن کسی اور کے ہاتھوں سے ۔ ہاں وہ لکھنا چاہتا تھا ایک ایسی شخصیت کو جسے دنیا نے خود لکھ دیا تھا ۔ اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں ۔ وہ اٹھا اور کمرے میں روشنی کرتی ڈیجیٹل شمع کو بجھا دیا ۔ اور خوب رونے لگا ۔ اس کی ہچکی بند گئی اس کی چھوٹی سی داڑھی بھیگ چکی تھی ۔ آنسو اس کی قمیض کو تر کر رہے تھے ۔ وہ اس شخصیت کا ادنیٰ سا غلام تھا اور ساری عمر غلامی میں جینا چاہتا تھا ۔

    اس کی آنکھوں کے بہتے آنسوؤں میں اس اک شخصیت کے ماضی کا عکس تھا ۔ اس کی یاد گیلی پلکوں میں نقش تھی ۔ کمرے کے ویران سے ماحول سے اسے اس کی آواز اپنی سماعتوں سے ٹکراتی محسوس ہوئی ۔ اس کا ذہن یہ تسلیم نہیں کر رہا تھا کیوں اک بے گناہ کو سزا دی گئی ہے کیوں اس پر مقدمات کی بھرمار ہے ۔ وہ خود سے کہنے لگا سب کچھ حقیقت ہو سکتا ہے لیکن اس ایک کے ساتھ زیادتی ہے ۔ اس کے سوچوں میں پھر کچھ الفاظ اور جملے گونجنے لگے ۔ سال 2017 کشمیر کے نام ۔ سال 2018 بھی کشمیر کے نام ۔ وہ تو محض اک اعلان تھا لیکن اس کی ساری زندگی قائد اعظم کی بتلائی گئی پاکستان کی شہہ رگ کی خاطر وقف تھی ۔ اس کی مکمل زندگی اس مادر ملت کے دفاع کیلئے گزری ۔ اس کی شخصیت ایسی کہ ہر شخص اس کی عزت کرنے پر مجبور ہو جاتا تھا ۔ اس کا رعب ایسا کہ دشمن نام سن کر کانپنے لگتے ۔ اس کا نام اتنا عزت دار کہ کشمیر کی وادیوں میں ہتھیار بم اور دھماکوں کی گونج میں گونجتا تھا ۔ اس کا کردار ایسا کہ ہر شہید کے جنازے پر اس کے نعرے گونجتے ۔ شہداء کی خواہش آخر ہوتی کہ اس سے مل کر اس کی آواز سن کر جام شہادت نوش کروں ۔ اس کے ذہن میں خاکہ بنتا چلا گیا ۔ اس کی پکار اس کی سماعتوں سے ٹکرا کر اسے جھنجھوڑ رہی تھی ۔ اس نے قلم پھینکا ڈائری بند کی اور پورے گھر کو روشن کرتا ہوا باہر نکل چکا ۔ وہ چل رہا تھا بوجھل قدموں سے اس کا بدن اسے آگے بڑھنے کا کہہ رہا تھا لیکن اس کے بوجھل قدموں میں جان نہیں تھی ۔ وہ بار بار اپنے بازو کو اوپر کر کے آنکھیں اور ناک صاف کرتا ۔ لیکن پھر کچھ دیر بعد آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ۔ اور وہ بار بار یہ عمل دہرانے پر مجبور ہو جاتا ۔

    اس نے وطن عزیز کے 72 برس سامراج کی قید پر نظر دوڑائی تو اسے وجود بے قابو ہوتا دکھائی دیا ۔ پھر سے اس کے خیالات اس کے ذہن میں نہیں اس کے پورے بدن میں گردش کر رہے تھے ۔ آج 5 اگست 2020 تھا اور بنیے کے کرفیو کو کشمیر میں اک سال ہوگیا تھا ۔ اس کے ذہن میں بار بار اک خیال چمک رہا تھا اگر وہ آج آزاد ہوتا تو کوئی کراچی سے اسلام آباد کشمیر مارچ ہوتا ۔ اس کے ذہن میں لاہور سے اسلام آباد کا مارچ گردش کر رہا تھا ۔ اس کے آنسو کم ہوگئے تھے پر رکے نہیں تھے وہ چلتا جا رہا تھا اچانک اس کی نظر ڈیجیٹل بینرز پر پڑتی ہے جو کشمیری رہنماؤں کا عکس پیش کرتے ہوئے اسلام آباد کی دیواروں پر آویزاں تھے ۔ وہ اک دفعہ تو سوچنے پر مجبور ہوگیا کیا یہ وہ ہی پاکستان ہے ۔ کیا پاکستان کی قیادت کے تخت پر مخلص لوگ براجمان ہوگئے ہیں ۔ اسے پورے اسلام آباد میں یہ ہی نظر آیا ۔ وہ سب کچھ بھول چکا تھا ۔ دھیرے دھیرے اسے ساری بات سمجھ آنا شروع ہوگئی تھی ۔ وہ گھر کی جانب تیز تیز قدم چل پڑا ۔ اسے سوشل میڈیا استعمال کئے کافی وقت بیت چکا تھا ۔ وہ گھر پہنچا وائی فائی کا بٹن دبایا ۔ موبائل جیب سے نکالا اس کے موبائل پر کوئی پاسورڈ نہیں تھا ۔ اس نے موبائل کھولا فیسبک لاگن کی تو پہلی پوسٹ دیکھ کر حیران ہوگیا ۔ کہ حکومت نے پاکستان کے نقشے کو مقبوضہ کشمیر کے ساتھ مکمل کرلیا ہے ۔ اور وہ نقشہ اقوام متحدہ میں پیش ہوگا اسے یقین نہیں آیا ۔ وہ فیسبک کی نیوز فیڈ دیکھتا گیا ۔ اور آگے کیا دیکھتا ہے برطانوی پارلیمنٹ کی دیوار پر آویزاں ڈیجیٹل بینر کشمیر کیلئے حق کی آواز بلند کر رہا ہے ۔ وہ پوسٹ پڑھتا گیا اور کیا دیکھتا ہے کراچی بین الاقوامی ہوائی اڈہ کشمیری رہنماؤں اور کشمیر کے حق میں لگے بینرز سے سجا ہوا ہے ۔ اس نے پڑھا کی سید علی گیلانی کو نشان پاکستان سے نوازا جائے گا ۔ وہ پوسٹ پڑھتا گیا ایک پوسٹ پر آکر وہ رک گیا ۔ وزیر اعظم کے آفیشل فیسبک پیج مجاہد گیلانی خطاب کرتے نظر آئے ۔ بہت کچھ ایسا اس کی بصارتوں سے ٹکرایا ۔ اس پر سکتہ طاری ہوچکا تھا ۔ وہ بہت کچھ اپنے قلم کی نوک کے نذر کرنے کیلئے جمع کر چکا تھا اس کے خیالات اس کے قلم پر مضبوط گرفت کر رہے تھے ۔ قلم میں جان آگئی تھی لیکن اس کے بدن پر سکتہ طاری تھا ۔

    وہ سمجھ گیا تھا کہ کس شخصیت کی آج آواز گونج رہی ہے ۔ وہ پر سکون تھا اس کی مکمل تھکاوٹ کسی اجنبی راستے کی مسافر بن چکی تھی ۔ وہ اپنے خیالات کی دنیا میں گم ہو چکا تھا ۔ کوئی اسے اس خیالات سے نکالنے کیلئے موجود نہ تھا ۔ اچانک ڈیجیٹل شمع بجھ گئی اسے پنکھے کی ہوا آنا ختم ہوگئی ۔ اور اسی لمحے وہ وہ اپنے خیالات کے محور سے نکل چکا تھا ۔ وہ اٹھا اس کے قدموں میں جان آگئی تھی ۔ وہ وضو کرنے کیلئے چل پڑا ۔ وضو مکمل کرکے اس نے دو رکعت نماز ادا کی اور دونوں ہاتھ بلند کر کے اس ایک شخصیت کیلئے دعا مانگنا شروع کردی اس کی آنکھیں پھر بھیگ چکی تھیں ۔ اور اس کے لبوں سے دعا نکل رہی تھی اے اللہ اس شخصیت کو سلامت رکھنا اس کی حفاظت فرمانا اس کی عمر میں اضافہ فرما ۔ اور نجانے کس لمحے دعا مانگتے مانگتے اس کی آنکھ لگ گئی ۔ اس کو معلوم ہوچکا تھا ماضی کی شہنائیاں بج رہی ہیں لیکن کسی اور کے ہاتھوں سے ۔ اسے معلوم ہوچکا تھا اس ایک شخص کی آواز ہزاروں سال گونجے گی ۔ (آمین)

  • یوم پاکستان اور تحریک آزادئ کشمیر  تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    یوم پاکستان اور تحریک آزادئ کشمیر تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    یوم پاکستان اور تحریک آزادئ کشمیر

    صالح عبداللہ جتوئی

    پاکستان ایسی ریاست ہے جس کا قیام اسلامی اصولوں کی بنیاد پہ وجود میں آیا جس کا مقصد اسلامی روایات کی پاسداری کرنا اور تمام مسلمانوں اور غیر مسلموں کو حقوق کا تحفظ کرنا تھا تاکہ تمام مذاہب کے لوگ آزادانہ طور پر اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کر سکیں اور اس کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے بہت زیادہ قربانیاں پیش کیں اور اس گلشن کو اپنے خون سے سینچ دیا لیکن تحریک آزادی میں ذرا بھی خلل نہیں آیا اور ہمارے بزرگوں کی قربانیوں اور محنتوں کی بدولت 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آ گیا لیکن بدقسمتی سے شہ رگ پاکستان کشمیر پہ بھارتی ظالم افواج نے زبردستی قبضہ جما لیا اور ان پہ طرح طرح کے مظالم ڈھانا شروع کر دئیے اور طاقت کے استعمال سے کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے طرح طرح کے اوچھے ہتھکنڈے اپنانا شروع لر دیے لیکن کشمیری ان مظالم پہ بالکل بھی نہ جھکے بلکہ ان کے آگے آہنی دیوار بن گئے اور ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے جس کے نتیجے میں وہ آزاد کشمیر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اس سرگرم تحریک کو دیکھ کے بھارت گھبرا گیا اور مجاہدین کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے آگے گڑگڑانے لگ گیا اور یقین دہانی کروائی کہ ہم اس مسئلے کو ریفرنڈم کے ذریعے حل کریں گے اس لیے آپ ہتھیاروں کا استعمال نہ کریں اور اس بات پہ کشمیریوں نے سمجھوتہ کر لیا تاکہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکے لیکن انہیں یہ ڈر تھا کہ اگر یہاں پہ ریفرنڈم ہوا تو کشمیر ہاتھ سے نکل جاۓ گا اس لیے انہوں نے کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ کیا اور اس خطے کے مسئلہ کو سلجھانے کی بجاۓ متنازعہ بنا دیا اور تب سے لے کر آج تک اقوام متحدہ کی گونگی زبان کو کوئی ہلا نہیں سکا اور اس نتیجے میں کئی کشمیری عورتیں بزرگ جوان اور بچے اپنی جانیں اور عصمتیں گنوا چکے ہیں کبھی ان پہ پیلٹ گنوں کا استعمال کر کے ان کو نابینا کیا جاتا ہے تو کبھی ان کی نسل کشی کرنے کے لیے نوجوانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے تو کبھی معصوم عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے اور بوڑھوں تک کو مارا پیٹا جاتا ہے لیکن سلام ہے ان کشمیریوں کو جنہوں نے لاکھوں جانوں کے نذرانوں کے باوجود پاکستان کا پرچم ہی لہرایا ہے اور اسی میں دفن ہوۓ ہیں۔
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو کشمیر پاکستان پاکستان کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتا اس کے لیے ہم نے کیا رویہ رکھا اور ان کے لیے کیا کیا؟

    تقریباً پون صدی سے شہ رگ پاکستان پنجہ استبداد میں ہونے کی وجہ سے ظلم و ستم کا شکار ہے اور اس حوالے سے کئی حکومتوں کا ایجنڈا آزادئ کشمیر تھا اور کئی حکومتوں کا کام اس مسئلہ کو صرف اور صرف الجھانا ہی تھا جس کی وجہ سے کشمیریوں کو بہت زیادہ نقصانات کا سامنا بھی ہوا لیکن وہ پھر بھی ثابت قدم رہے یہاں تک کے جواں سالہ حریت رہنما جیلوں میں پڑے بوڑھے ہو گئے اور ان کا جرم تک ثابت نہیں ہو پایا لیکن ان کا ایک ہی نعرہ تھا ہے اور رہے گا کشمیر بنے گا پاکستان۔

    نظریہ پاکستان اور کشمیر پہ ہونے والے ظلم و ستم پہ پاکستان اور کشمیر کے دلوں کی دھڑکن حافظ محمد سعید اور اس کی فلاحی تنظیم کو بیرونی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے بین کر دیا جاتا ہے اور حافظ محمد سعید کو بلا وجہ پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے جو کہ کشمیریوں کے ساتھ غداری کرنے کے مترادف ہے لیکن دوسری طرف عمران خان صاحب کی حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے کشمیر کے حوالے سے ان کا دوٹوک مؤقف ہے کہ کشمیر پہ ہونے والے مظالم کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جاۓ اور ان کا مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑا جاۓ اور انہیں یادہانی کروائی جاۓ کہ پون صدی سے جس مسئلہ کو پس پشت ڈالا گیا ہے اب اس کو حل کرنے کا وقت آن پہنچا ہے اب مزید کشمیری نوجوان ان کے ظلم کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جاۓ گا لیکن بوکھلاہٹ کے شکار بھارت نے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا اور ظلم و تشدد کا بازار گرم کر دیا اور اگلے ہی ماہ عمران خان صاحب نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوۓ بھرپور طریقے سے مظلوم کشمیریوں کی وکالت کی اور بھارت کے ناپاک عزائم سے باخبر کیا اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا اعلان کر دیا اور یہ پاکستانی تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا تھا کہ کوئی وزیراعظم اس طرح کھل کے کشمیر کے حق میں اور بھارتی مظالم کے خلاف بول رہا تھا اور اس طرح کشمیر کے حوالے سے سفارتی محاذ کو بھی شاہ جی (شاہ محمود قریشی) نے زبردست طریقے سے سنبھالا اور ہر فورم پہ بھارت کو بے نقاب کیا اور کشمیریوں پہ ہونے والے ظلم کو عیاں کیا۔

    اب بھارتی کرفیو کو سال بیت چکا ہے تو پاکستان نے اس دن کو یوم استحصال کے طور پہ منایا اور کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر کے سیاسی و سرکاری نقشہ جاری کر دیا جس میں یہ دکھایا گیا کہ یہ بھارت کی طرف سے غیرقانونی قبضہ ہے اور کشمیر ہائی وے کو سرینگر ہائی وے کا نام بھی دے دیا اور پوری دنیا خصوصاً بھارت میں کھلبلی مچ گئی کیونکہ یہ نقشہ ان شاء اللہ کشمیر کی آزادی کی طرف ایک بہت بڑا قدم ہے اور اس موقع پہ اعلان کیا کہ 14 اگست کو بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو بھی نشان پاکستان کا اعزاز بھی دیا جاۓ گا جو کہ اس بات کا قوی ثبوت ہے کہ پاکستان کشمیر کے ساتھ تھا ہے اور رہے گا اور اسی طرح بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کو دکھاتا رہے گا اور یہ اس بات کی طرف بھی واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کسی بھی مسئلہ کے حل کے لیے جنگ کو کارآمد نہیں سمجھتا بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہتا ہے اور یہ دکھانا چاہتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور شہ رگ کے بغیر ہمارا کوئی وجود نہیں ہے۔

    ہمارا کشمیر کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف ہے اور اس سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے جس طرح ہمارے اسلاف نے پاکستان حاصل کرنے کے لیے ڈھیروں شہادتیں پیش کیں اور طرح طرح کے مصائب سے گزرے اسی طرح ہم کشمیریوں کی قربانیوں کو بھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور جلد ہی کشمیر کو آزاد کروائیں گے ان شاء اللہ

    اللہ حکومت پاکستان کو اسی طرح کشمیریوں کا ساتھ دینے اور بھارتی بربریت کا پردہ چاک کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی جاگنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین یا رب
    پاکستان زندہ باد
    کشمیر پائندہ باد
    کشمیر بنے گا پاکستان ان شاء اللہ