Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارت کشمیر میں اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کوویڈ 19 کی صورتحال کا استعمال کررہاہے: مقررین

    بھارت کشمیر میں اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کوویڈ 19 کی صورتحال کا استعمال کررہاہے: مقررین

    بھارت کشمیر میں اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کوویڈ 19 کی صورتحال کا استعمال کررہاہے: مقررین

    :اسلام آباد:اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 43 ویں اجلاس کے موقع پر عالمی مسلم کانگریس (ڈبلیو ایم سی) کے تعاون سے کشمیر ٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کےآئی آر) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ویبنار میں مقررین نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی زیر قیادت فاشسٹ حکومت نے کشمیریوں کے خلاف اپنے وحشیانہ مظالم کو مزید تیز کرنے کے علاوہ کشمیر میں اپنے غیر قانونی لاک ڈاؤن کو بڑھانے کے بہانے بے شرمی کے ساتھ کوویڈ 19 کی وبائی بیماری کا استعمال کیا ہے۔

    اس ویبنار میں برطانوی پارلیمنٹیرین جناب خلیل محمود، برطانیہ کے سائے وزیر جناب سلیمان الیاس خان، جنوبی افریقہ سے انسانی حقوق کی کارکنوں محترمہ کلیئر بڈویل، مسٹر حسن اشرف برطانیہ، لبنان کی تجربہ کار انسانی حقوق کارکن لنڈیا کینن سید فیض نقشبندی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ویبینار کے مقررین نے موجودہ غیر یقینی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ کئی مہینوں سے دوہرے لاک ڈاؤن میں پھنسے کشمیریوں کو بھارتی قابض حکام کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس وبا کی آڑ میں خطے میں اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی ایک شرمناک کوشش کی جس میں وہ ناکام ہوچکا ہے۔ کورونا ٹیسٹنگ کٹس اور کشمیر کے اسپتالوں میں دیگر ضروری صحت کے آلات کی کمی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس وبائی بیماری کے دوران ہندوستان نے خطے کے صحت کے شعبے کو مجرمانہ طور پر نظرانداز کیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وبائی امراض کے دوران اسپتالوں میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس کے علاوہ صحت کے سامان کی بھی شدید قلت تھی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کورونا وائرس کے باوجود جان بوجھ کر ہوا ہے۔ کشمیر کی آبادیاتی تشکیل کو تبدیل کرنے کے ہندوستان کے مذموم ڈیزائنوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 ذیلی شق 6 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قبضہ کرنے والی طاقتیں کشمیر کے علاقے کی حیثیت یا آبادی کو تبدیل نہیں کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کی اس طرح کی کوئی بھی کوشش چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 146 اور 147 کے تحت جنگی جرائم کی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ بہت ساری عالمی حکومتوں نے خطے کی غیر معمولی صورتحال پر خاموش اور خاموش رہنے کا انتخاب کیا۔ بااثر حکومتوں کی جانب سے یہ مجرمانہ خاموشی انہوں نے کہا کہ IOK میں مودی کے اقدامات کی ایک مکمل حمایت ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر کی ثالثی کی پیش کش کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنہری موقع تھا کہ پرامن حل تلاش کریں لیکن ہندوستان جس کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ ہراس اقدام کو روکا جائے جس کا مقصد ایک مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا ہے نے ایک بار پھراس پیش کش سے انکار کر دیا۔

    For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)

  • بھارتی اداکارہ دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما کو کھری کھری سنا دیں

    بھارتی اداکارہ دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما کو کھری کھری سنا دیں

    بھارتی اداکارہ دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کو کھری کھری سنا دیں۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ دیا مرزا سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر بی جے پی رہنما کا انتہائی غیرذمہ دارانہ بیان دیکھ کر برہم ہو گئیں اور کھری کھری سنا دیں کہا کہ کیا آپ میں ہمدردی کا کوئی جذبہ باقی نہیں بچا ہے؟

    دیا مرزا کے اس ٹویٹ ہر بی جے پی رہنما نے لکھا کہ انہیں اپنی فورسز سے ہمدردی ہے، تمام بھارتیوں سے ہمدردی ہے قطع نظر اس کے کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔


    انہوں نے دیا مرزا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یا د رکھنا میں سیلیکٹڈ پلاک ہولڈر نہیں ہوں میں آپ کا بڑا پرستار ہوں اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوگی کہ آپ پاکستان کے اقدامات کی مذمت کریں نا کہ مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام سے ہمدردی دکھائیں۔

    بی جے پی رہنما کے اس ٹویٹ کے جواب میں اداکارہ نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا کہ ہمدردی کسی خاص لوگوں کیلئے مختص نہیں، یا تو ہم کسی سے ہمدردی کرتے ہیں یا نہیں کرتے-


    دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں ماڈل ٹاؤن کے علاقے سوپور میں پیش آنے والے واقعے جس میں 3سالہ ننھے بچے کے سامنے اُس کے نانا کو گولیاں مار دی گئیں تھیں، کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ کوئی بھی بچہ اس دُکھ اور بربریت کو نہیں سہہ سکتا۔

    انہوں نے لکھا کہ آپ ان معاملات میں سیاست ترک کردیں تو پھر ہی میرا تعاون اور حمایت حاصل کرسکیں گے۔

    واضح رہے دو روز قبل ہونے والے واقعے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے دنیا کو جنجھوڑ کر رکھ دیا جس میں ایک چھوٹا، تقریباً 3 سالہ بچہ خون میں لت مت اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے پاس سیکورٹی اہلکار کھڑے ہیں۔

    کشمیر پر بھارتی ظلم و تشدد پر دنیا کی خاموشی کسی صورت قابل قبول نہیں، کشمیریوں کی زندگیاں بھی اہم ہیں، مہوش حیات

    بھارتی فوج نے پوری انسانیت کے سینے میں گولی ماری ہے۔ وزیراعلی عثمان بزدار

    مقبوضہ کشمیر میں پوتے کے سامنے داداکو گولی مار کر بھارتی فوج نے بچے کا بچپن چھین لیا، مشعال ملک

    ننھا کشمیری بچہ تحریک آزادی کا نیا استعارہ، دنیا بھر میں غم کی لہر

    شہباز شریف کی مقبوضہ کشمیر میں ساٹھ برس کے بشیر احمد کو کم سن نواسے کے سامنے گولیاں مار کر شہید کرنے کی شدید مذمت

  • کشمیر کی لہولہان وادی اور انسانیت کا رویہ    تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    کشمیر کی لہولہان وادی اور انسانیت کا رویہ تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    کشمیر کی لہولہان وادی اور انسانیت کا رویہ

    صالح عبداللہ جتوئی

    گزشتہ سات دہائیوں سے شہ رگ پاکستان پنجہ استبداد میں ہے اور نت نئے طریقوں سے معصوم بچوں نوجوانوں اور بوڑھوں عورتوں پہ ظلم ڈھایا جا رہا ہے اور ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور وحشیانہ سلوک سے انہیں ذہنی و جسمانی تشدد سے دوچار کیا جا رہا ہے۔

    لیکن اس تشدد میں مزید اضافہ تب ہوتا ہے جب وہاں بھارت ناجائز قبضہ قائم کرنے میں ناکام ہوتا ہے اور کشمیریوں کی شہریت تک کو ختم کرنے کے درپے ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ظالم افواج بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 میں سخت کرفیو لگا دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں نے بس و بے یارومددگار کشمیری گھروں میں محصور ہو کے رہ جاتے ہیں اور انٹرنیٹ سروس تک بند کر دی جاتی ہے تاکہ ان کا پوری دنیا سے رابطہ کٹ جاۓ اور اس نتیجے میں نے چارے کشمیری اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور مخلص بہن بھائیوں سے دور ہو جاتے ہیں اور کئی بھوک پیاس سے بلک بلک کے خالق حقیقی سے جا ملے ہوں گے لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔

    تب سے لے کر اب تک تقریباً 11 ماہ بیت چکے ہیں لیکن مودی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی اور دنیا کی کسی بھی انسانی حقوق کی تنظیم یا اقوام متحدہ نے اس پہ ٹھوس ایکشن نہیں لیا اور نہ ہی بھارت پہ پابندیاں لگیں اور نہ ہی انہیں کسی دھمکی کا سامنا ہوا کیا کشمیر میں مرنے والے انسان نہیں ہیں یا پھر انسانیت کے دائرے میں صرف کفار آتے ہیں کیونکہ یورپ میں تو جانور بھی مرے تو اس پہ سوگ منایا جاتا اور ہزاروں لیکچرز دئیے جاتے لیکن یہاں تو کبھی پیلٹ گنوں کا استعمال ہوا اور آنکھوں کی بینائیاں چھین لی گئیں بچوں کا قتل عام کیا گیا عورتوں کی عصمت دری کی گئی اور بوڑھوں تک کو پکڑ کے گرفتار اور نظر بند کیا گیا اور آزادی مانگنے پہ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئے لیکن یہاں نہ اقوام متحدہ کا بس چلا اور نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیمیں یہاں پہنچ پائیں حالانکہ امریکہ میں نسل پرستی کی وجہ سے ایک کالے کو قتل کر دیا گیا تو پورا امریکہ بند ہو گیا تھا لیکن یہاں تو ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں لیکن ان پہ کسی قسم کی اقتصادی معاشی پابندی نہیں لگی اور جو بھی پابندیاں ہوتی وہ صرف پاکستان کے لیے رہ گئی ہیں جو بلاوجہ ایف اے ٹی ایف کو بنیاد بنا کے لگا دی گئیں اور دہشتگردی کا الزام دیا جاتا رہا حالانکہ اصل دہشتگرد تو گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والا مودی ہے جو شاید اقوام متحدہ کے ساۓ تلے ہی پل رہا ہے۔

    ہمارے معزز وزیر اعظم عمران خان صاحب نے بھی سفارتی سطح پہ بہت سی ناکام کوششیں کیں اور پاکستان میں موجود کشمیریوں کے نمائندوں کو پابند سلاسل کر کے یہ منطق دی کہ ہم کشمیر کو آزاد کروائیں گے حالانکہ یہ کشمیر کے حوالے سے تنزلی کی طرف پہلا قدم تھا خیر اس کے بعد انہوں نے پاکستانیوں کو گانے چلا چلا کے دھوپ میں بھی کھڑا کیا اور کانفرنسز بھی منعقد کیں اور جنرل اسمبلی میں بھرپور انداز میں تقریر بھی کی اور اس میں بھارت کو ایکسپوز بھی کیا اور بھارت کو ان ہی کی زبان میں جواب دینے کا بھی عندیہ دیا اور اس موقع پہ نام نہاد اقوام متحدہ نے یقین دلایا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں اور بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیں گے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور نہ ہی مودی کو اس سے فرق پڑا بلکہ ہو سکتا ہے اس کے ساتھ کئی ممالک کے سفارتی و تجارتی تعلقات بڑھ گئے ہوں اور اس کا ظلم کم ہونے کی بجاۓ مزید بڑھ گیا اور اس نے کئی نہتے کشمیریوں کو خون سے رنگ دیا اور تو اور بھارتی ظالم فوج نے ایک معصوم بچے کے سامنے اس کے دادا کو شہید کر دیا جو کہ دودھ لینے جا رہے تھے اب یہ دنیا کو نظر نہیں آیا کہ ایک بچے کے سامنے یوں گولیاں چلیں گی اور اس کے اپنوں کو قتل کیا جاۓ گا تو اس کے ننھے دماغ پہ کیا بیتے گی کیا کوئی بھی مذہب اس کی اجازت دیتا ہے اور آج کی دنیا میں کون ہے جو مغلوب ہو کے زندگی گزارے گا کیا کشمیری مسلمانوں کے حقوق نہیں ہیں کیا یہ آزاد نہیں رہنا چاہتے کیا یہ انسان نہیں ہیں؟

    یہی بچہ بڑا ہو کے بندوق اٹھانے پہ مجبور ہو گا لیکن پھر اس کو دہشت گرد کہنے والے سرٹیفائڈ درندے جو بھارتی وردیوں میں ملبوس ہیں سامنے آ جائیں گے اور پوری دنیا ان کے تماشے دیکھ کے مظلوم کو ہی ظالم کہہ گی کہ انہوں نے ریاست کے خلاف بندوق اٹھائی ہے۔

    بھارت سے اگر کشمیر لینا ہے تو ہمیں بھی چین کی پالیسی اپنانا ہو گی کیونکہ مذاکرات سے کبھی بھی یہ معاملہ حل نہیں ہو گا اور مذمتوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا چاہے نغمے بناۓ جائیں یا سالہا سال دھوپ میں ہی کیوں نہ کھڑے رہیں ایسے کشمیر آزاد نہیں ہو گا اور نہ ہی اس معاملے میں دوسرے ممالک پہ امید لگانی ہو گی کیونکہ بھارت کے ساتھ کئی مسلم دشمن ممالک کا اشتراک ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے ختم کرنے کے درپے ہیں اس لیے وہ کبھی بھی مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھائیں گے کیونکہ وہ کبھی بھی مسلمانوں کو ترقی کرتا اور آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے اس لیے کافروں کی تعداد سے گھبرانے کی بجاۓ اللہ کی نصرت پہ یقین بڑھے گا تب ہی سرخروئی عطا ہو گی وگرنہ ہم ہر سطح پہ ناکام و نامراد لوٹیں گے اور غلامی ہمارا مقدر بنے گی۔

    اللہ ملک پاکستان اور تمام عالم کے مسلمانوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور کشمیر کو جلد از جلد آزادی کی خوشیاں نصیب فرمائیں آمین یا رب العالمین-

  • کشمیر لہو لہو     تحریر:ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر لہو لہو تحریر:ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر لہو لہو
    تحریر:ام ابیہا صالح جتوئی

    میں اپنے غم کی داستاں کہوں تو کس طرح کہوں
    مجھے بتا اے آسماں میں کیا کروں میں کیا کروں

    پاکستان کی شہہ رگ جو کہ ہندو بنیے کے قبضے میں پچھلی کئی دہائیوں سے ظلم وبربریت کا نشانہ بن رہی ہے لاکھوں بے گناہ کشمیری ان گنت مظالم کا شکار ہورہے ہیں کشمیریوں پر ڈھاۓ جانے والے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن انسانی عالمی حقوق کی تنظیمیں خواب خرگوش میں محو ہیں یورپین ممالک بالخصوص غیر مسلم ممالک میں ایک جانور بھی مر جاۓ تو یہ نام نہاد تنظیمیں ہاتھ میں موم بتیاں پکڑ کر سوگ منانے میں مصروف ہوجاتی ہیں لیکن ایک ایسی وادی جو کہ کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہورہی ہے وہ کسی کو نظر نہیں آتا یہ تنظیمیں تمام انسانوں کے لئے بنی ہیں یا صرف غیر مسلموں اور جانوروں کے لئے؟؟؟؟؟

    معصوم کشمیریوں پر ڈھاۓ جانے والے مظالم بھارت کے جارحانہ حربوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
    کشمیر جنت نظیر وادی جہاں پاک نفوذ عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے تو کبھی معصوم بچے موت کی گھاٹ اتار دئیے جاتے ہیں….!!!!
    کہیں ماؤں کے لعل خون میں نہاتے ہیں تو کبھی قابل احترام بزرگ اپنی جان کی بازی ہار دیتے ہیں….

    "ہم روز بیان کرتے ہیں مصرعوں کے جال میں”
    "لفظوں کے ہیر پھیر میں امت کی سسکیاں”

    حال ہی میں ایک معصوم بچے کے ساتھ دودھ لینے کی غرض سے گھر سے نکلے ایک بزرگ کق بے دردی سے گولیاں مار کر شہید کردیا گیا ننھے بچے کے سامنے اس کے دادا جان پر خون کی ہولی کھیلی گئی….!!!
    کیا گزری ہوگی اس ننھے سے دل پر جب وہ اپنے دادا جان کو ان ظالموں سے بچا نہ پایا ہوگا…!!!!

    کیا اگر یہی بچہ جب بڑا ہوکر ظالموں کے ظلم کو روکنے کے لئے بندوق کا سہارا لے گا تو اس کو دہشت گرد قرار دیا جاۓ گا؟؟؟؟؟؟

    واہ رے دھوکے باز دنیا کیا یہ ہے تیرا انصاف؟؟؟؟؟

    "ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
    وہ قتل بھی کریں تو چرچا نہیں ہوتا”

    کشمیری آج بھی راہیں تک رہے ہیں کسی مسیحا کی…!!!
    جو آکر ان ظالموں کے ہاتھ کو روکے گا…!!!
    کسی ارطغرل غازی کی….!!!
    جو اپنی تلوار سے ظالموں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا….!!!

    ان مظالم کو روکنے کے لئے بہت سے نوجوانوں نے اپنی زندگیاں قربان کیں اور کتابیں قلم چھوڑ کر معسکر کا رخ کیا تاکہ بھارتی وحشیوں کے مظالم کو روک سکیں بہت سے پی ایچ ڈی اسکالرز بھی اس مقدس جدوجہد میں شہادت کے رتبے کو پاگئے اور بہت سے ایسے ہیں جو اسکو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے دن رات تگ و دو میں ہیں۔

    بطور پاکستان کی شہہ رگ کے پاکستان کی زمہ داری ہے مظلوموں کی آواز کو سن کر خاموش نہ بن جاۓ بلکہ ان کے مظالم کم کرنے کے لئے انٹرنیشنل لیول تک کاوشوں کو تیز تر کرے تاکہ معصوم کشمیریوں کا بہتا لہو رک سکے اور ظالم درندوں سے کشمیریوں کو چھٹکارا مل سکے۔

    کشمیر کی آزادی کے لئے بہایا گیا خون کا ایک ایک قطرہ رنگ لاۓ گا اور شہداء کی قربانیوں کا ثمر کشمیر کی آزادی کی صورت میں ملے گا۔
    ان شاءاللہ عزوجل

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • کشمیر کی وادی خون رنگ  از قلم: ۔مشی حیات

    کشمیر کی وادی خون رنگ از قلم: ۔مشی حیات

    کشمیر کی وادی خون رنگ

    از قلم۔۔۔مشی حیات

    ‏میرے الہی رحم کرنا میرے کشمیر کی حالت پر۔۔!!
    کفار کے گھیرے میں کشمیر کی وادی پر۔۔!!
    ماؤں کی ممتا پر،باپ کی شفقت پر۔۔۔۔!!
    کر فرشتے نازل جو بھیجے تھے مقام بدر پر۔۔!!
    جو تقدیر بدل دیں فتح کے اجالوں سے۔۔!!
    کچھ ایسی رحمت کر کشمیر کی وادی پر۔۔۔!!

    بہت عام الفاظ بن چکے ہیں کہ جنت نظیر وادی 72 سالوں سے دشمنوں کی ظلم و سربریت کا شکار ہے۔۔۔۔
    چھوٹے سے بچے سے بھی پوچھ لیا جائے وہ بھی بتا سکتا ہے کشمیر کیا ہے۔۔۔؟وہاں ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔!!میں اس مظلوم وادی کے لیے اپنے جذبات لکھ رہی ہوں کہ جہاں الفاظ تو کم پڑھ سکتے ہیں مگر اس وادی کا حال بیان نہیں ہو سکتا۔۔۔۔!!
    ناظرین۔۔!!
    کب تک۔۔!!آخر کب تک کشمیری قربانیاں دیتے رہے مائیں بیٹوں کو پیش کرتی رہیں اور بچے یتیم ہوتے رہیں۔۔۔۔!!
    سوشل میڈیا کا جدید دور ہے کیا چیز آنکھوں کے سامنے سے نہیں گزرتی ہمارا ایمان ختم ہو چکا ہے۔۔۔ہم ایک کافر دشمن جو رہا ہی ازل سے جہنم کا پتلا کچھ دن پہلے حرام موت کے گھاٹ اترا تو مسلمانوں کے جذبات دیکھنے کے قابل تھے۔۔۔کوئی کہہ رہا تھا خدا اسے سکون دے تو کوئی کہہ رہا تھا اسے جنت میں جگہ ملے۔۔۔۔!!
    ارے ہم کہاں کے مسلم۔۔۔کہاں کے مومن ہیں۔۔۔!!
    کچھ دن پہلے شوپیاں کشمیر کے علاقے میں جاری ظلم اور اس میں شہید ہونے والے امت مسلم کے جگر گوشے ان کے لیے تو کسی مسلم کا دل نہیں پگھلا سوائے چند احباب کے۔۔۔!!
    کیا ہم بھول گئے اپنی تاریخ کو۔۔۔!!
    ارے ہمارے آباواجداد نے جانیں پیش کی تھی۔۔۔اپنی گردنیں کٹائی تھی اس ملک کی کے لیے۔۔!!
    ہمیں تو ان کے نقش پہ چلنا تھا مگر ہم نے اگر راہ اپنائی تو صرف کفار کی۔۔۔غیر مسلم کی۔۔۔کوئی عملی اقدام نہیں۔۔۔!!
    اگر کچھ تنظیمیں کشمیر کے لیے اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہی تھی انہیں پابند سلاسل کردیا گیا۔۔۔!!
    کوئی دن ایسا نہیں جب مظلوم کشمیریوں نے جنازے نہ اٹھائے ہوں۔۔۔حد سے زیادہ ظلم کیا جارہا۔۔۔۔
    کون سے ہیرے جو ہم نے نہیں کھوئے۔۔۔!!
    ہم نے برہان جیسا ہیرو کھویاجو دشمنوں کی آنکھوں میں آج بھی کھٹکتا ہے۔۔۔!!

    ہم نے اشفاق جیسا سائنس دان کھویا جو اس ملک کا مستقبل تھا۔۔۔!!

    ہم نے ماجد زرگرجیسا 66 گھنٹے تک لڑنے والا بہادر کھویا

    ہم نے بشیر جیسا اٹیکر اور صدام جیسا عظیم جنگجو کھویا

    ہم نے منان کی شکل میں قلم کھویا

    ڈاکٹر ذیشان کی صورت میں PhD سکالر اور ڈاکٹر عثمان کی شکل میں باپ کھویا

    ہم نے سمیر ٹائیگر کی شکل میں شیر کھویا

    ہم نے نوید جٹ کی صورت میں اعلی فلائنگ جٹ کھویا

    ہم نے مدثر کی صورت میں 14 سال کا ننھا مجاھد کھویا

    ہم نے 8 سال محاذ پر لڑھنے والا ابو القاسم پاکستان کا لال کھویا

    اقوام کو سمجھنا ہوگا ہم نے کیاکھویا کیا پایا۔۔۔!!
    ظلم کی اور کیاحد ہو سکتی ہے کہ ایک ننھےاور معصوم پھول کے سامنے اس کے دادا جان کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے۔۔۔!!
    تصورکریں۔۔۔خدانخواستہ آپ کے سامنے آپ کے ساتھ یہ مناظر ہوں آپ کی کیا حالت ہوگی۔۔!!
    تھوڑا نہیں پورا سوچنا ہوگا۔۔!!
    ناظرین۔۔۔!!
    ہم نے بہت مہنگے ہیرے کھو دیے وہ تو جنت کے بالاخانوں میں ہیں ان شآءاللہ لیکن کیا ہم نے اپنا فرض نبھایا۔۔۔!!
    اس وقت سب سے پہلے قوم کے حاکم کو چاہیے کہ عملی نوٹس بنائے صرف باتوں سے آزادیاں نہیں ملتی۔۔۔!!
    تقریر سے ہو گا نہ تحریر سے ہوگا
    کشمیر تیرا فیصلہ شمشیرسے ہوگا
    خدارا۔۔۔!!
    محترم عمران خان صاحب ہم آپ کی تہہ دل سے عزت کرتے ہیں لیکن آپ کو کشمیر پر مکمل سوچنا ہو گا۔۔۔۔اب تاخیر نہیں کرنی ہوگی۔۔!!
    کشمیر 72 سال سے آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔۔۔اس کے خواب کو تعبیر صرف اللہ رب العزت کی ذات کے بعد قوم کا حکمران دے سکتا۔۔۔!!
    اللہ کے لیے مدینہ کی ریاست میں عمر فاروق جیسا کارنامہ سرانجام دے دیا جائے۔۔۔
    ظالموں کے ہاتھوں سے شہہ رگ پاکستان کو چھڑا لیا جائے۔۔۔!!
    میرے پاس الفاظ تو بہت ہیں۔۔۔ جذبات بھی بہت ہیں مگر کشمیریوں کی اس بے انتہاء محبت اور قربانیوں کے آگے قلم سے صرف آنسو اور لہو ہی نکلتا ہے۔۔۔۔!!
    آخر کب تک اور کتنا ظلم میرے کشمیر کے مقدر میں ہوگا۔۔۔۔!!

    ‏اک وقت مقرر ہے فرعون کے ظلموں کا۔۔۔۔!!
    دجال کے آنے کا آفتوں کے بڑھانے کا۔۔۔۔!!
    ازل سے ہی کافر دشمن رہا دیں کا۔۔۔!!
    نہ گھبرانا کشمیر میرے اک وقت ابھی آنا ہے۔!!
    ظلمت کے اندھیروں کو جب جھڑ سے مٹانا ہے۔!!
    جہاد کے شعلوں سے وادی کو چھڑانا ہے۔۔!!
    ان شآءاللہ۔۔
    ================

  • کشمیری بیٹی کی فریاد   تحریر :غلام زادہ نعمان صابری

    کشمیری بیٹی کی فریاد تحریر :غلام زادہ نعمان صابری

    کشمیری بیٹی کی فریاد
    غلام زادہ نعمان صابری

    وہ تنہا رہ گئی تھی،عذاب مسلسل نے اسے زندہ لاش بنا دیاتھا۔اسے یقین تھا کہ مصیبت میں کوئی اس کی مدد کو پہنچے گا شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ جن پہ وہ تکیہ کر رہی ہے وہ پتے تو کب کے سوکھ چکے ہیں وہ اب کسی کو ہوا دینے کے قابل نہیں رہے ۔
    وادی میں موت کا راج تھا۔ دن کا چین اور رات کا سکون موت کا فرشتہ یہاں سے کہیں بہت دور لے جا چکا تھا۔
    وہ زندگی کو موت کی امانت سمجھ کر سانس لے رہی تھی۔
    اسے ان مہربانوں پر بہت غصہ تھا جو گلے پھاڑ پھاڑ کر کھوکھلے نعروں سے کام چلا رہے تھے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر رہے تھے،وہ انہیں وقت کا منافق سمجھتی تھی۔
    اسے معلوم تھا کہ کوئی لمحہ اس کی موت کا انتظار کر رہا ہے اور وہ کسی بھی وقت اس لمحے کے سپرد ہوسکتی ہے ۔اس نے وقت کے منافقوں اور بے حسوں کے نام ایک تحریر لکھنے کا فیصلہ کیا۔اس نے کاغذ قلم پکڑا اور کچھ لکھنے لگی لیکن وہ رک گئی اور کچھ سوچنے لگی۔سوچتے سوچتے وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ اسے تحریر لکھنے کا کیا فائدہ ہوگا، جن کے نام وہ تحریر لکھے گی ان تک کون پہنچائے گا، بالفرض اگر پہنچ بھی جاتی ہے تو وہ اس پر کیا ررعمل ظاہر کریں گے۔
    بالآخر اس نے ہوا کو ضامن بنایا اور ایک تحریر لکھ کر اس کے سپرد کر دی۔
    "کشمیر کی موجودہ صورت حال اس قدر درد ناک ہے کہ اسے وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جن کے دل میں درد ہو اور مسلمان کو مسلمان کا بھائی سمجھتے ہوں اور اس حدیث مبارکہ پر عمل پیرا ہوں کہ اگر کسی مسلمان بھائی کو کاٹنا چبھے تو دوسرا بھائی اس کا درد محسوس کرے۔
    میں تنہا بیٹھی گھر کے درودیوار کو گھور رہی ہوں۔میرے سامنے میرے پیاروں کے لاشے پڑے ہیں جن میں میرے بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائی شامل ہیں۔ہمیں گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔ہر طرح کی سہولتیں اور آسانیاں چھین لی گئی ہیں،نہ کھانے کو اناج ہے اور نہ پینے کے لئے پانی اور نہ بیماروں کے لئے دوائیاں۔
    میرا معصوم بھائی جو ایک پل بھوک برداشت نہیں کر سکتا تھا کئی دنوں کی بھوک پیاس سے سسک سسک کر شہید ہوگیا۔
    چھوٹے بھائی کی دردناک شہادت کا منظر میری چھوٹی بہن کے دل ودماغ پر نقش ہو کر گیا اور وہ اسی غم میں اللہ کو پیاری ہو گئی۔
    میرا جواں سال بھائی اپنے بیمار ماں باپ کے لئے دوائیاں اورکھانے پینے کا سامان لینے کےلئے بھوکا پیاسا باہر نکلا،کچھ ہی لمحے بعد گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آوازیں آئیں میں نے دروازے کے سوراخ سے دیکھا تو میرا بھائی خون میں لت پت پڑا تھا۔میں بے بسی کے عالم میں بے جان وجود کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔ آنکھیں آنسوؤں سے خشک تھیں وجود میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا آخر روتی تو کیسے روتی۔
    رات کے اندھیرے میں چپکے سے بھائی کی لاش کو پاؤں سے گھسیٹ کر گھر میں لائی،اٹھانے کی سکت نہیں تھی ورنہ بھائی کی لاش کی یوں بے حرمتی نہ کرتی۔
    میں روازنہ رات کو گھر میں تھوڑی تھوڑی زمین کھودتی رہی تاکہ ان کو دفنانے کے لئے قبر تیار ہوجائے۔
    اب میں تھی اور میرے بوڑھے ماں باپ۔۔۔۔۔!
    میرے سامنے میرے دو بھائیوں اور ایک بہن کی لاشیں پڑی تھیں۔میرے بیمار اور بوڑھے ماں باپ بھی سب کچھ دیکھ رہے تھے لیکن ان میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر ان کے پاس آتے اور ان کی شہادت کو نذرانے کے طور چند آنسو پیش کرتے۔
    چند لمحوں بعد دو لاشوں کا اور اضافہ ہو گیا.
    میں نے پانچ لاشوں کو ایک ہی قبر میں دفن کر دیا۔
    اب میں ہوں اور میرا سایہ ہے۔
    میرا سایہ سرگوشی میں مجھ سے پوچھتا ہے کہ تمہارے غیرت مند بھائی آ رہے ہیں نا؟؟
    تمہارے دو بھائی تو شہید ہو گئے ہیں تو کیا ہوا ،تمہارے کروڑوں بھائی تو زندہ ہیں نا؟؟؟
    تمہارا ایک بھائی تم سب کی بھوک،پیاس اور بیماری کو برداشت نہیں کر سکا تھا اور تمہارے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نکل پڑا تھا. وہ نہیں لا سکا تو کیا ہوا باقی بھائی دیکھنا ضرور لائیں گے کچھ نہ کچھ۔
    اپنے سائے کی باتیں اور طفل تسلیاں سن کر میں سکتے میں آ گئی ۔
    کئی گھنٹے بعد اچانک مجھے سرگوشی سنائی دی کہ تمہاری مدد کے لئے بہت سارے بھائی آ رہے ہیں. مگر میں اسے جواب نہیں دے سکتی تھی. میں بھی تو بھوکی پیاسی تھی نا. میں اسے کیسے بتاتی کہ اسے سراب نظر آ رہا ہے؟
    اسے کیسے بتاؤں کہ کوئی نہیں آ رہا ہے !
    سائے کی باتوں نے مجھے پاگل کر دیا تھا ۔میں اچانک چیخ مار کر اٹھی. اور کہا کہ دیکھو میرے بھائی دروازے پر دستک دے رہے ہیں. میرے لیے میرے بھائی آ گئے ہیں. اتنا کہہ کر دروازے کی طرف دوڑی. دروازہ کھولا. دہلیز پر گری. اپنے نہ آنے والے بھائیوں کی راہ تکتے ہوئے نظریں سڑک پر تھیں اور جسم بے جان ہو گیا. مجھے یوں لگا جیسےچراغوں میں روشنی نہ رہی

    میرے بہت سے نو جوان کشمیری بھائی کئی دنوں سے پولیس کی حراست میں ہیں جن میں میرا ایک سگا بڑا بھائی بھی شامل ہے، وہ زندہ بھی ہے یا نہیں کچھ خبر نہیں. سنا ہے یہاں کہ ہر گھر سے ایک ایک فرد کو گرفتار کیا گیا ہے اور کچھ مہینوں بعد چھوڑ دیا جائے گا. مگر جب بھائی قید کی سزا اور تشدد برداشت کر کے نڈھال وجود کے ساتھ سکون حاصل کرنے گھر واپس آئیں گے تو پتہ نہیں ویران گھر دیکھ کر کیا سوچیں گے.
    اب میں گھر میں اکیلی بچی ہوں.میں زندگی میں کبھی ایک دن بھی تنہا نہیں رہی تھی مگر اب اس پوری دنیا میں ہمیشہ کے لیے تنہا ہو گئی ہوں. سوچ رہی ہوں کہ میرے بھائی جو کروڑوں میں ہیں ان کو آنے میں کتنے مہینے لگیں گے؟
    کیا کشمیر اتنا زیادہ دور ہے کہ کئی مہینے گزرنے کے بعد بھی کوئی نہیں پہنچ پایا.

    میری قوم میں تو بہت غیرت مند لوگ تھے جو اتنے بہادر اور سورما تھے کہ اسٹیج پر کھڑے ہو کرحکومت وقت کو للکارا کرتے تھے. اتنے دلیر تھے کہ اگر کسی مذہبی و سیاسی جلوس پر پابندی لگ جاتی تو پوری دنیا کو ہلا دینے کی بات کرتے تھے. اب تو معاملہ جلسے جلوس کا نہیں بلکہ زندگیوں کا ہے. یقیناً ان کی غیرت میں بھونچال آ گیا ہو گا. اور وہ ہماری مدد کو آ ہی رہے ہوں گے.
    کیا کشمیر اتنا دور ہے کہ آنے میں کئی مہینے لگ جائیں ؟
    نہیں.۔۔۔۔ کشمیر اتنا دور تو نہیں ہے کہ یہاں پہنچنے کے لئے مہینے درکار ہوں۔

    میں نے تو پیارے آقا کریم، خاتم النبیین، محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پاک پڑھی ہوئی ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ میری امت ایک جسم کی مانند ہے. جس کے ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو درد پورے جسم کو ہوتا ہے.
    مسلم امت کے جسم کا ایک حصہ کشمیر لہو لہو ہے. یقیناً حدیث پاک کے مطابق درد تو پورے جسم کو ہو گا نا؟
    لیکن محسوس ہو رہا ہے بلکہ دکھائی دے رہا ہے کہ امت میں وہ دردنہیں رہا اگر درد ہوتا تو بے چینی بھی ہوتی. ہماری بھوک، پیاس، بیماری، لاچاری سب جذبات کو پورا جسم محسوس کرتا۔
    میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ میرے کروڑوں مسلمان بھائی بہن گہری نیند میں ہیں اور خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں،کیوں کہ ان کے اپنے گھر محفوظ ہیں شاید اس لیے. مجھے اس طرح شور نہیں مچانا چاہیے ورنہ ان کی نیند ٹوٹ جائے گی تو وہ غصہ کریں گے ۔
    اگر کسی کو گہری نیند سے جگا دیا جائے تو اسے غصہ تو آتا ہے اور ساتھ ہی دل کرتا ہے کہ جگانے والے کی آواز دبا کر اس کا گلہ گھونٹ دیا جائے۔

    یا رب العالمین…!!! آج تک کربلا کو کتابوں میں پڑھا اور سنا تھا. آج تونے دکھا دیا ہے۔اے پروردگار میں تیری شکر گزار ہوں کہ آج کے کربلا میں تونے ہمیں بھوک پیاس برداشت کرنے والوں اور شہید ہونے والوں میں سے رکھا ہے.
    تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے مولا کہ تونے مجھے یزیدی لشکر میں ظالم بنا کر نہیں رکھا اور باقی کی قوم میں کوفیوں کی طرح بے حس اور خاموش بننے والوں میں شامل نہیں کیا.تیرا بے حد شکر ہے کے تونے اہل بیت کی سنت ادا کرنے والوں میں شامل کیا ۔
    کئی مہینے تک امت مسلمہ کی اور بالخصوص اکابرین کی خاموشی بتاتی ہے کہ میں نے بالکل صحیح سوچا ہے.
    بس ایک کام کرنا جو میں آپ لوگوں سے التجا کی صورت میں کہہ رہی ہوں۔
    اگر تمہارے آنےسے پہلےمیں شہید ہو گئی تو انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ لینا اور مجھے اسی حالت میں دفن کردینا. کل روز محشر میں اسی حالت میں میزان پر جانا چاہتی ہوں، کیوں کہ بہت حساب کتاب باقی ہے۔
    ہوا اس تحریر کو امانتاً اپنے ساتھ ساتھ لئے پھررہی ہے۔ابھی تک اسے کوئی ایسا مسلمان ملک نہیں ملاجہاں وہ یہ تحریر پھینک کر امانت سے سبکدوش ہو جائے۔

  • داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی   تحریر: سفیر اقبال

    داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی تحریر: سفیر اقبال

    داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی
    تحریر سفیر اقبال

    یہ ہے نصف صدی پر محیط ظلم و جبر کی وہ ساری داستاں جو صرف چار تصاویر تصاویر میں نظر آ رہی ہے.

    حملہ کیسے شروع ہوا کہاں سے شروع ہوا نہیں معلوم. بے بنیاد الزام آتنک وادیوں پر لگ گیا بہرحال تصاویر کے مطابق ایک بیگناہ کشمیری شہید ہو گیا جس کا تین چار سال کا پوتا چلتی گولیوں کے درمیان اس کے سینے پر بیٹھا رہا کہ دادا جان ابھی شاید نیند سے بیدار ہو جائے اور مجھے واپس گھر لے جائے.

    اگلی تصویر میں بے یار و مددگار دادا کی لاش پڑی ہے اور اس کے ساتھ فوجی اس انداز میں کھڑے ہیں جیسے یہ انسان کی نہیں کسی جانور کی لاش ہو…. (کچھ انسانی رمق باقی ہو تو جانور کی لاش کے پاس بھی اس انداز میں بے فکری سے کھڑے ہونا مشکل ترین کام ہوتا ہے )

    اس سے اگلی تصویر میں بچے کو اٹھا کر پیار کیا جا رہا ہے اور اس سے اگلی تصویر میں اس کو ٹافیاں عنایت کر دی گئیں.


    یہ ہے کہانی ہر اس کاشمیری نوجوان کی جو بچپن میں اپنے باپ دادا، چاچو، ماموں کو بے قصور مرتا دیکھتا ہے اور اپنے دل میں انتقام پالنا شروع کر لیتا ہے. یہ مناظر بھولنے والے نہیں. یہ زخم کسی مرہم سے ٹھیک ہونے والے نہیں.

    برہمن آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نہ تو سارے مسلمانوں کو قتل کر سکتا ہے اور نہ ہی انہیں ان کی زمین سے نکال سکتا ہے. صرف ایک ہی طریقہ پے اس کے پاس کہ کسی طرح ان کا دل جیتا جائے لیکن دل جیتنے کا طریقہ بے قصور باپ کو قتل کرنے کے بعد بیٹے کو ٹافیاں دینا کبھی نہیں ہو سکتا. جس زمین پر آگ بوئی جائے وہ پھول پیدا نہیں کر سکتی.

    نوجوان وقتی طور پر خاموش ہو بھی جائیں لیکن باپ یا دادا کے قاتل کبھی نہیں بھلائے جا سکتے…..! ظالم بنیا اپنی تدبیریں کرتا ہے مگر کچھ تدبیریں اللہ رب العزت کرتا ہے اور اسی کی تدبیر سب سے کارگر ہے.

    آرمی کے غنڈے لاکھ دنیا کو دکھاتے رہیں کہ ہم کشمیری بچوں سے محبت کرتے ہیں مگر کشمیری شہداء کے چھینٹوں سے تر اپنے سرخ دامن نہیں چھپا سکتے. انتقام کی آگ بہت اذیت ناک ہوتی ہے جو دلوں میں اگر ایک بار بھڑک اٹھے تو چند ٹافیاں اس آگ کو کبھی نہیں بجھا سکتیں.

  • وادی کشمیر اور آتشِ نمرود    تحریر: سفیر اقبال

    وادی کشمیر اور آتشِ نمرود تحریر: سفیر اقبال

    وادی کشمیر اور آتشِ نمرود
    سفیر اقبال

    سوچا تھا اس بار کچھ نہیں لکھوں گا…..
    تا کہ ہاتھ باندھنے، روڑے اٹکانے اور حوصلہ توڑنے والوں کو بھی علم ہو کہ ذہنی شکست کیا ہوتی
    لیکن پھر خیال آیا جب لڑنے والے شکست قبول نہیں کر رہے تو میں لکھنے سے کیوں ہاتھ پیچھے کروں…اور جنہیں گھر سے باہر نکل کر افق کا منظر دیکھنے کی ہمت و جرات تک نہیں کیوں ان چند لوگوں کی وجہ سے ذہنی شکست قبول کروں.

    تو عرض یہ ہے کہ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس طرح کے مناظر اور اس طرح کے معرکے دکھا کر ڈرا دھمکا کر انہیں اپنے ساتھ ملا لیں گے. یہی خوش فہمی لاک ڈاون شروع کرتے وقت بھی تھی کہ جب تک اقوام متحدہ یا پاکستان کی طرف سے شدید ری ایکشن نہیں آتا تب تک ہم نیٹ سروس بند کر کے دنیا سے ان کا رابطہ ختم کروا لیں گے اور لاک ڈاون کا بہانہ بنا کر اندر کھاتے انہیں خوراک و آسائش مہیا کرتے رہیں گے اور بالآخر انہیں اپنا گرویدا بنا لیں گے. اور بعد میں دنیا کو دکھا دیں گے کہ ہم ایک ہیں اور بھائی بھائی ہیں. اور اب آزادی کی کوئی ضرورت نہیں.

    لیکن ان گائے کا پیشاب پینے والوں کی قسمت میں جنت اور جنت نظیر کی دودھ کی نہریں کبھی نہیں تھیں. اتنا عرصہ گزر گیا نیٹ سروس بحال ہو گئی لیکن اس بستی میں آج تک کوئی ترنگا لہراتا نظر نہیں آیا… جہاں سبز ہلالی پرچم لہراتا نظر آتا تھا آج بھی لہرا رہا ہے مگر جبری طور پر اپنا بنا لینے والی قاتل و بے رحم حکومت وہاں پر ترنگا نہیں لہرا سکی. وہ مظلوم لیکن غیرت مند لوگ اپنا غم اپنی خوشیاں، اپنے روزے اور اپنی عیدیں سبز ہلالی پرچم کے ساتھ منانا پسند کرتے ہیں… اب بھی! اور جابر و قاتل حکومت یہ سب دیکھنے کے باوجود بھی انہیں روکنے میں ناکام ہے.

    وہ مزاحمت کاروں کو بھون رہے ہیں اور بچوں بزرگوں کو دھمکا رہے ہیں. ہو سکتا ہے لالچ بھی دے رہے ہوں اور عین ممکن ہے کہ اس لالچ کی وجہ سے کچھ نہ کچھ لوگ ہتھیار ڈال کر ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہوں اور تحریک کے خلاف سرگرم ہو چکے ہوں اور غداروں کی صف میں کھڑے ہو گئے ہوں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تحریک ختم ہو رہی ہے.

    مائیں اپنے بیٹے گنوانے کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دے رہیں. اندازہ کریں پاکستان کے اندر پاکستان کا کھانے والے ہلکی سی اونچ نیچ کی وجہ سے پاکستانی پرچم جلانے پر آ جاتے ہیں، مردہ باد کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں اور سوشل میڈیا اور اردگرد کی ساری فضا میں ڈھکے چھپے الفاظ میں گالیوں کے پھول بکھیر دیتے ہیں لیکن جو نہ تو پاکستان کا کھاتے ہیں، نہ ہی کسی معاہدے کے پابند ہیں وہ اس قدر درد سہنے کے باوجود اس درد کو پاکستان کے ساتھ نہیں جوڑتے… پاکستانی پرچم جلا کر ہندو ریاست کے ساتھ وفاداری ثابت نہیں کرتے… پاکستان کے خلاف طنزیہ پوسٹیں اور طنزیہ کمنٹس کر کے مشہور ہونے کی کوشش نہیں کرتے.

    اللہ تحریک آزادی کے لیے کوشش کرنے والوں کو اور ان کی کوششوں کو جانتا ہے اور جو لوگ اس جدوجہد میں دانستہ و نادانستہ طریقے سے رکاوٹ ڈال رہے ہیں اللہ انہیں اور ان کی کوششوں کو بھی خوب جانتا ہے. بس یہی دعا ہے کہ اللہ سب کو ان کی کوششوں کے مطابق اجر عطا فرمائے.

    کا شمیر کی آزادی کب ہے… کتنی قریب ہے اس سوال کا جواب جاننے کی پاداش میں کتنی آنکھیں نکال دی گئیں کتنے جسم بھون دئیے گئے لیکن مائیں آج بھی دودھ پیتے بچوں کو آزادی کا ہی سبق پڑھاتی ہیں. زمینی حقائق جو بھی ہوں لیکن ایمان یہی ہے کہ جب حالات ایسے ہوں کہ اونٹ کو چرانے والا عبدالمطلب بیت اللہ پر چڑھائی کرنے والے ہاتھیوں کو نہ روک سکے تو اللہ تعالیٰ ابابیل بھیجتا ہے اور جب اللہ کا رسول رو رو کر اللہ سے منت اور دعا کرے کہ اگر یہ پیدل اور غیر مسلح تین سو تیرہ افراد دنیا سے مٹ گئے تو تیرا نام لینے والا دنیا میں کوئی نہیں بچے گا تو تب اللہ تعالیٰ تلواروں نیزوں والے مشرکین کے خلاف مسلمانوں کی مدد کے لیے نظر نہ آنے والے فرشتے بھیجتا ہے.

    تحریر : سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر

  • بھارت: اظہارآزادی رائے جرم:لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو تشدد کانشانہ بنایا گیا

    بھارت: اظہارآزادی رائے جرم:لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو تشدد کانشانہ بنایا گیا

    نئی دہلی: بھارت: اظہارآزادی رائے جرم:لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو رپورٹنگ کے جرم میں نشانہ بنایا گیا,اطلاعات کےمطابق رائٹس اینڈ رسکس انیلیسیز گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں25 مارچ سے 31 مئی تک لاک ڈاون کے دوران 55 صحافیوں کو رپورٹنگ اوراپنی رائے کا اظہار کرنے پر کے لئے نشانہ بنایا گیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران 22 صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں، 10 کو گرفتار کیا گیا اور 9پر حملہ کیا گیا۔

    آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت کم از کم 22 صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایف آئی آر ان تارکین وطن کی حالت زار ، انتظامیہ کی بدانتظامی ، اور سیاسی رہنماں پر تنقید کی وجہ سے ان کی رپورٹ پر درج کی گئیں۔

    اس رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ کم از کم 10 صحافی گرفتار ہوئے اور چار دیگر کو سپریم کورٹ نے گرفتار ہونے سے بچایا۔ جبکہ سات صحافیوں کو سمن جاری کرنے یا شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ۔ نو افراد کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا جس میں دو پولیس تحویل میں تھے۔

    ذرائع کے مطابق اترپردیش میں 11 صحافیوں پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا ، اس کے بعد جموں و کشمیر (6)، ہماچل پردیش (5)، اور تمل ناڈو ، مغربی بنگال ، اڈیشہ اور مہاراشٹرا میں سے ایک ایک صحافی پر حملہ کیا گیا۔

  • مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال، شہادتوں میں اضافے کی وجوہات اور پاکستان کا کردار !!! محمد عبداللہ

    مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال، شہادتوں میں اضافے کی وجوہات اور پاکستان کا کردار !!! محمد عبداللہ

    مقبوضہ وادی کشمیر کے ایشو پر اگر لالی پاپس چاہیں تو ہزار مل جائیں گے، ہم مانتے اور جانتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کے انبار ہیں جن میں گھرا ہوا ہے جن کی وجہ سے کچھ کرنے سے سے قاصر ہے لیکن جو حقیقت ہے وہ تسلیم کرنی چاہیے کہ ہم نے بھارت کو کشمیر پر ٹینشن فری کردیا ہے اور فری ہینڈ دے دیا ہے اور وہ مقبوضہ سے آگے بڑھ کر آزاد کشمیر پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے. سب اچھا کی گردان کرنے والوں کو بتلاتا چلوں کہ کشمیر میں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں پندرہ حریت پسند شہید ہوچکے ہیں، صرف اپریل میں کشمیر میں شہید ہونے والوں کی تعداد بتیس سے زیادہ تھی اور جنوری دو ہزار بیس سے لے کر آج 2 جون تک سو سے زائد کشمیری ماؤں کے لخت جگر اپنی قیمتی جانیں اس آزادی کی خاطر قربان کرچکے ہیں. تین سو سے زائد دنوں پر مشتمل ٹرپل لاک ڈاؤن نے جہاں اہل کشمیر کی رہی سہی معیشت کو تباہ و برباد کردیا ہے وہیں حریت پسندوں کی موومنٹ وغیرہ محدود ہونے اور بھارتی فوج کے لیے جاسوسی کرنے والوں کی کثرت نے حریت پسندوں کی شہادتوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے. کشمیر کی سنجیدہ حریت قیادت ساری کی ساری بھارتی قید و بند میں ہے آجاکے یہی نوجوان تھے جو قافلہ آزادی کشمیر کی بھاگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے ایسے میں ان قیمتی ترین نوجوانوں کی مسلسل شہادتیں اور گرفتاریاں دیکھنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں اور تحریک آزادی کشمیر سے جڑے افراد تو اس پر سوائے کف افسوس ملنے کے کچھ نہیں کرسکتے. بھارت جہاں فوجی آپریشن کے ساتھ مسلسل کشمیری نوجوانوں کو شہید کر رہا ہے وہیں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے قانونی پہلوؤں سے بھی کشمیریوں کے ہاتھ کس کر باندھ رہا ہے. دوسری طرف ایک ایف اے ٹی ایف کے خوف کو لے کر ہم لوگوں نے اہل کشمیر کی مدد کے ممکنہ سبھی آپشنز ایک ایک کرکے بند کردیئے لیکن ایف اے ٹی ایف کا رانجھا پھر بھی راضی نہ ہوا. ایف اے ٹی ایف سے ہمیں خوف تھا کہ ہماری معیشت تباہ ہوجائے گی پابندیاں لگ جائیں گی، کوئی ملک تجارت نہیں کرے گا وغیرہ وغیرہ لیکن کرونا اس سے بھی بڑی بلا ثابت ہوا کہ ایف اے ٹی ایف تو فقط ہم پر عالمی پابندیاں ہی لگا پاتی (جوکہ ہرگز نہیں لگاسکتے تھے جب تک امریکہ افغان چنگل سے نکل نہیں جاتا) جبکہ کرونا نے تو آپ کی دکانیں تک بند کروا دیں لیکن آپ مرے نہیں ہیں زندہ ہیں تو اہل کشمیر کی مدد سے ہاتھ نہ کھینچیے. ٹویٹس اقوام عالم پر حجت تمام کرنے کو ضرور کیجیئے (ٹویٹس کرنے کو ایکٹوسٹس ہزار ہیں جو روزانہ ٹرینڈز کرکے کسی حد تک کشمیر ایشو کو زندہ رکھے ہوئے ہیں) لیکن اگر ان عالمی اداروں اور سپر پاورز نے کشمیر کے حوالے سے کچھ کرنا ہوتا تو اب تک کرچکے ہوتے یہ مسئلہ بلکہ جنگ آپ کی ہے جو آپ کو ہی لڑنا ہے. ٹویٹس اور تقاریر سے آگے بڑھیے اور ممکنہ سبھی آپشنز کو استعمال کیجیئے. جو کرسکتے ہیں وہ تو کریں اللہ آسمانوں سے مدد نازل کرے گا لیکن فضائے بدر پیدا کرنا پڑے گی.
    وما توفیقی الا باللہ
    محمد عبداللہ