Baaghi TV

Category: کشمیر

  • زائرہ وسیم نے ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹ دوبارہ فعال کرلیا

    زائرہ وسیم نے ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹ دوبارہ فعال کرلیا

    گذ شتہ سال اسلام کی خاطرشوبز کو خیرباد کہنے والی زائرہ وسیم نے گذشتہ روز اپنا ٹویٹر اور انسٹا گرام اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیئے تھے تاہم انہوں نے اپنا ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹ دوبارہ فعال کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گذ شتہ سال ا سلام کی خاطرشوبز کو خیرباد کہنے والی زائرہ وسیم نے گذشتہ روز اپنا ٹویٹر اور انسٹا گرام اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیئے تھے تاہم انہوں نے اپنا ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹ دوبارہ فعا ل کرلیا ہے۔ زائرہ وسیم نے ٹڈیوں کے حملوں کے بارے میں ٹوئٹ کیا تھا جس میں انہوں نے سورۃ اعراف کی آیت نمبر 133 کا حوالہ دیا تھا۔ جس پر زائرہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی وجہ سے زائرہ وسیم نے اپنا تصدیق شدہ ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا تھا لیکن آج اُن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹوئٹ سامنے آیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے پوچھا کہ ’زائرہ وسیم نے اپنا اکاؤنٹ کیوں ڈیلیٹ کیا تھا؟


    صارف کے اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے زائرہ وسیم نے لکھا کہ چونکہ میں بھی ایک انسان ہوں تو میں بھی باقی سب کی طرح سوشل میڈیا سے اُس وقت وقفہ لے سکتی ہوں جب میرے اردگرد شور حد سے زیادہ بڑھ جائے۔

    زائرہ وسیم کے اس ٹوئٹ پرٹوئٹر صارفین نے اُن کے اس فیصلے کی سراہتے ہوئے ان کی حمایت کی اور سوشل میڈیا پر خوش آمدید کہا اور صارفین نے کہا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں پریشان نہ ہوں یقیناً اللہ دیکھ رہا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے-
    https://twitter.com/adnanaltafmeer/status/1266690178040676353?s=19
    https://twitter.com/lala_sehra/status/1266693941744762881?s=19


    https://twitter.com/mdsaharul3/status/1266699732375597056?s=19


    https://twitter.com/hkalal123/status/1266698699519881216?s=19

    زائرہ وسیم کوٹڈیوں کے حملوں کے بارے میں ٹوئٹ کرنا مہنگا پڑگیا

  • بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں

    بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں

    بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں اور بھارتی فوج کی کشمیرویوں پر ظلم و ستم اور تشدد اور بربریت ابھی بھی برقرار ہے بلکہ دن بدن شدت اختیار کر تا جا رہا ہے پاکستان ٹویٹر پر #300DaysOfKashmirSiege ٹرینڈ کر رہا ہے

    باغی ٹی وی : بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں بھارت نے کشمیریوں پہر کرفیو نافذ کر رکھا ہے مظلوم کشمیریوں کو ان کے گھروں میں قید کر رکھا ہے تمام مساجد سکولز کالجز تمام ثقافتی مذہبی کاروباری اور معاشی سرگرمیاں بند ہیں کشمیری قید و صعوبت کی زندگیاں گزار رہے ہیں اور بھارتی فوج کی کشمیرویوں پر ظلم و ستم اور تشدد اور بربریت ابھی بھی برقرار ہے بلکہ دن بدن شدت اختیار کر تا جا رہا ہے پاکستان ٹویٹر پر #300DaysOfKashmirSiege ٹرینڈ کر رہا ہے
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266721535693402112?s=20
    سید اویس علی نامی صارف نے لکھا کہ قائداعظم نے آزادی پاکستان سے قبل ہی کشمیر مقصد کی حمایت کی تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ کشمیریوں خصوصا ً مسلمانان کو معاشرتی معاشی حقوق اور انصاف ملنا چاہئے۔
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720956900429825?s=20
    سید اویس نامی صارف نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان تمام بین الاقوامی فورموں پر کشمیری عوام کا کیس لڑ رہا ہے۔
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720578918023168?s=20
    سید اویس نے مزید لکھا کہ حریت قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے ، انٹرنیٹ بند ہے اور میڈیا پرپابندی ہے کیونکہ کسی غیر ملکی صحافی کو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720669850615809?s=20
    5 اگست کو بھارت کے یک طرفہ طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد محصور زندگی گزار رہے ہیں
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720809118248961?s=20
    پاکستان بھارت کے بدصورت چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لئے سفارتی محاذ پر اپنی کوششیں دوگنا کرے گا۔کشمیر بنےگا پاکستان!
    https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720888864542720?s=20
    کشمیر ایٹمی فلیش پوائنٹ بن گیا ہے ، اور دنیا اس تنازعہ پر ہندوستان کے نظریہ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔


    فواد نامی صارف نے لکھا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کی تحقیقات اور رپورٹ کرنے کے مینڈیٹ کے ساتھ خصوصی نمائندہ تشکیل دیں-


    رومیو نامی صارف نے لکگا خود ہندوستان نے یہ سمجھا ہے کہ وہ طویل عرصے تک کشمیریوں کو سفاک محاصرے میں نہیں روک سکتے ہیں لہذا وہ مواصلاتی ناکہ بندی ، آبادکاری میں ردوبدل اور شہریوں کے قتل کو تیز کرکے کشمیر کی آواز کو دبانے کی حتمی کوشش کر رہے ہیں۔
    https://twitter.com/Mr_AK_1315/status/1266718017347518464?s=20
    ایے کے نامی صارف نے لکھا کہ تاہم ، خط میں بھارتی رہنما جواہر لال نہرو نے قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہندوستانی پارلیمنٹ میں بیانات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کے اپنے عہد کا اعادہ کرتے رہے
    https://twitter.com/Javeria58/status/1266718006312394752?s=20
    جویریہ عارف نامی صارف نے لکھا کہ ہندوستانی نظم و نسق کے خلاف علیحدگی پسندوں کی بغاوت کی وجہ سے ہندوستان کے زیر انتظام – ریاست جموں و کشمیر – میں 60 سالوں سے تشدد رہا ہے۔
    https://twitter.com/ishaqbaig181/status/1266717880592326657?s=20
    اسحاق بیگ نامی صارف نے لکھا کہ دریں اثنا ء، وزیر اعظم عمران نے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے عوام کو مقبوضہ کشمیر کے باشندوں کی جدوجہد کی حمایت کرنے کے لئے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے خلاف متنبہ کیا۔
    https://twitter.com/ishaqbaig181/status/1266717794764275713?s=20
    اسحاق بیگ نامی صارف نے لکھا کہ لندن میں کئی برطانوی کشمیری پارلیمنٹ چوک پر موم بتی کی روشنی کے لئے جمع ہوئے تھے جس دن سے ہندوستان کی حکومت نے آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دیا تھا۔

    واضح رہے کہ اگست 2019 کو بھارت نے ظلم و جبر کی داستان رقم کرتے ہوئے کشمیر میںن کرفیو نافذ کر دیا تھا اور آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دیا تھا-

    کشمیری تنہا نہیں، ترک تمہارے ساتھ ہیں، طیب اردگان کا دبنگ اعلان

    مقبوضہ کشمیر، پلوامہ میں کار بم دھماکا

    بھارتی فوج مجاہدین کی قبروں سے بھی ڈرنے لگی

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی درندگی جاری، 2 کشمیری شہید

  • ٹویٹر ٹرینڈنگ سے کیا ہوتا ہے؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    ٹویٹر ٹرینڈنگ سے کیا ہوتا ہے؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    "ٹویٹر ٹرینڈز سے کیا ہوتا ہے”
    سب سے پہلے تو شکریہ اور حوصلہ افزائی  ان دوستوں کا جو اس ایکٹیویٹی میں شامل ہوتے.
    اور جو معترض حضرات ہیں ہمارے دوست اور بھائی ہی ہیں. ذرا بتائیے گا پاکستان کے کتنے لوگوں کو ڈاکٹر قاسم فکتو کا پتا ہے کہ وہ کون ہیں کیا ہیں؟ اس ٹرینڈ کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ آپ کے لوگوں کو آپ کے ہیروز کا پتا چلتا ہے. جب کوئی ٹرینڈ ٹاپ فائیو میں آتا ہے تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے. دوسری بات کہ ہمارے ٹرینڈز سے ڈاکٹر قاسم فکتو کو رہائی نہیں ملے گی لیکن کم از کم کسی ڈسکشن، کسی فورم پر بحث، انڈیا کو رگیدنے کا حصہ تو بنے گی کاوش، تیسری بات کہ ہم سے تو اہل کشمیر کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا آپ چھوڑ سکتے ہیں تو چھوڑ دیں، ہمارے بس میں جو ہے ہم وہ کرتے رہیں گے جہاں تک اللہ نے موقع دیا تھا عملی کام بھی کرتے رہے اب اگر استطاعت کی بورڈ تک کی ہے تو اس پر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھیں گے اور نہ ہی اڑتے تیروں کو چھیڑیں گے البتہ اپنا نظریاتی کام اور ایکٹیویٹیز جاری رکھیں گے سوشل میڈیا پر بھی. چوتھی بات کہ عمل خواہ چونچ میں پانی لاکر آگ بجھانے کا ہو یا فقط اپنے الفاظ سے کسی غمزدہ کے زخموں پر مرحم رکھنے کا ہمیشہ آپ کی سائڈ دیکھی جاتی ہے کہ آپ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں (خواہ الفاظ سے ہی سہی) یا چپ رہ کر صف اغیار کو تقویت دیتے ہیں. پانچویں بات کل کو اللہ کے سامنے کم از کم یہ تو کہہ سکیں گے کہ اللہ ہم آواز تو اٹھاتے رہے تھے جس کی تو نے توفیق دی تھی. چھٹی بات کہ حکومت کیا کرتی ہے، عالمی ادارے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں، ہماری آواز کہاں تک موثر ثابت ہوتی ہے یا مکمل بےکار جاتی ہے یہ ہزار درجے بہتر ہے کسی ہوتے ہوئے کام پر اعتراض اٹھا کر اس کو روک دینے سے. چھٹی بات کہ اگر سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے سے کچھ نہیں ہوتا تو بھائی تسی ایتھے گنڈیریاں ویچدے جاؤ کم کرو جاکے. باقی جہاں تک بات ہے آپ لوگوں کے اعلیٰ ایمان کی جو ڈائریکٹ میدان مقتل سے، کفر کی چوکی پر پھٹنے سے ذرا چند سیکنڈز پہلے فیسبک پر پوسٹ ڈال رہے ہوتے ہیں کہ آپ لوگوں کے ٹرینڈز سے کیا ہوتا ہے تو بھائی آپ سے مقابلہ نہیں ہوسکتا ہمارا ایمان بہت کمزور ہے ہم جو کرسکتے ہیں وہ کر رہے ہیں میرا اللہ ان شاءاللہ آگے بڑھنے کی بھی توفیق دے گا.

    دنیا بھر میں ٹرینڈنگ کو اہمیت حاصل ہے، پالیسی ساز ادارے،قانون ساز اسمبلیاں، بین القوامی ذرائع ابلاغ، بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں آپ کے ٹرینڈز پینل پر نظر رکھتی ہیں. عرب اسپرنگ کوئی بہت پرانا ایشو نہیں ہے وہ ان ٹرینڈز کی ہی گیم تھی جس نے برسوں سسے قائم عرب بادشاہوں کو تحتوں سے اٹھاکر پھینک دیا تھا.

  • کیا ریاض نائیکو کی شہادت سے تحریک آزادی کمزور ہوئی؟  تحریر :غنی محمود قصوری

    کیا ریاض نائیکو کی شہادت سے تحریک آزادی کمزور ہوئی؟ تحریر :غنی محمود قصوری

    گزشتہ سال 5 اگست سے تاحال مقبوضہ وادی کشمیر میں کرفیو نافذ ہے جس کی بدولت کشمیریوں کا کاروبار زندگی معطل ہے انٹرنیٹ و موبائل سروس بند ہے کرونا کی وجہ سے پچھلے ماہ انٹرنیٹ کی بحالی چند علاقوں میں بطور مجبوری کی گئی تھی جسے اب ریاض نائیکو کی شہادت پر پھر بند کر دیا گیا ہے
    اس وقت مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں تقریںا 10 لاکھ انڈین فوج و پولیس تعینات ہے جبکہ مقبوضہ وادی کی آبادی 80 لاکھ ہے یعنی ہر 8 کشمیریوں پر ایک قابض ہندو فوجی مسلط ہے اور یوں وادی کشمیر جنت نظیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے
    90 کی دہائی سے غیور کشمیری انڈین فوج کے ساتھ مسلح نبرد آزما ہیں جس کی بابت ہندو آئے دن کرفیو لگائے رکھتا ہے مگر موجودہ مودی گورنمنٹ نے وادی میں طویل ترین لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے
    اس لاک ڈاؤن سے قبل انڈین فورسز سے لشکر طیبہ،حرکت المجاہدین،البدر،جیش محمد اور حزب المجاہدین جیسی مسلح جہادی تنظمیں ہی متحرک تھیں مگر حیرت انگیز طور پر جب سے انڈیا نے تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کرکے طویل ترین لاک ڈاؤن کیا ہے تب سے مسلح جہادی تنظیموں میں اضافہ ہوا ہے ان نئی تنظیموں میں تحریک ملت اسلامی جموں و کشمیر ،جموں و کشمیر غزنوی فورس،دی جوائنٹ کشمیر فرنٹ اور دی ریزیڈنس فرنٹ نامی مسلح جہادی تنظمیں بھی بڑی تیزی سے ابھر کر سامنے آئی ہیں
    رواں سال جنوری سے اب تک انڈین فورسز نے ظلم و بربریت کو برقرار رکھتے ہوئے 27 بڑے آپریشن کئے ہیں جن میں 64 مجاہدین شہید اور 25 گرفتار ہوئے ہیں اور یہ شہادتیں اور گرفتاریاں تاریخی لحاظ سے اب تک سب سے زیادہ ہیں
    6 مئی 2020 کو حزب المجاہدین کے ٹاپ کمانڈر ریاض نائیکو بھی انڈین فورسز کیساتھ جھڑپ میں شہید ہو گئے ہیں جس سے تحریک آزادی کشمیر سے پیار کرنے والے خاص طور پر فکر مند ہو گئے ہیں مگر جانتے ہیں کیا واقعی نائیکو کی شہادت سے تحریک آزادی کمزور ہو گی؟
    33 سال قبل پلوامہ کے گاؤں بیگ پور میں اسد اللہ نائیکو کے گھر ریاض نائیکو نے آنکھ کھولی ریاض نائیکو تعلیم حاصل کرنے کے بعد ریاضی ٹیچر مقرر ہوئے مگر ان کا خواب انجینئر بننا تھا مگر ان کے اندر کا ریاضی دان ہر وقت انڈین فورسز کے ظلم کو بھی جمع کرتا رہا 2003 میں ریاض نائیکو کی والدہ کے کزن کو انڈین فورسز نے جعلی مقابلے میں شہید کر دیا اور وقت فوقتاً ریاض نائیکو کے گھرانے کو بھی تلاشی کے بہانے تنگ کیا جاتا رہا جس پر نائیکو سخت نالاں تھے اور بالآخر 21 مارچ 2010 کو حزب المجاہدین سے اپنی مسلح زندگی کا آغاز کیا اور بہت جلد نائیکو نے ایک ماہر ریاضی دان ہونے کے ناطے انڈین فورسز کی مشکلات میں جمع کا اضافہ کیا 2016 میں ٹاپ کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ان کو حزب المجاہدین کا آپریشنل چیف مقرر کیا گیا اور جلد ہی نائیکو کی صلاحیتوں سے انڈین فورسز بوکھلا گئیں اور ان کے سر کی قیمت 12 لاکھ روپیہ مقرر کر دی گئی وانی کی شہادت کے بعد وہ سب سے معتبر اور زندہ ٹاپ کمانڈر تھے جنہیں ڈھونڈنے کیلئے انڈین فورسز نے کئی آپریشن کئے مگر ہر بار ناکام رہی 2 مئی کو انڈین فورسز اپنے ایک کرنل،میجر اور سپیشل آپریشنل گروپ کے کمانڈو کی ہلاکت کے بعد سخت ہواس باختہ ہو گئی ایسے میں 6 مئی کو گزشتہ 6 ماہ سے ایجنسیوں کے سپیشل ٹارگٹ ریاض نائیکو کی اطلاع سکیورٹی فورسز کو ملی جنہوں نے اپنی حال ہی میں بنی درگت کا بدلہ لینے کیلئے بہت بڑا آپریشن کیا مگر نائیکو کو زندہ پکڑنے میں ناکام ہونے پر نائیکو کے پناہ حاصل کئے ٹھکانے کو بارود سے اڑا کر نائیکو کو شہید کر دیا گیا ان کیساتھ اور مجاہد بھی شہید ہوئے نائیکو کی شہادت پر انڈین فوج نے ایک تاریخی خوشی محسوس کی اور ایسے اظہار کیا جیسے اب تحریک آزادی کمزور ہو جائے گی مگر وہ بھول گئے ہیں کہ ابو قاسم کی شہادت سے برہان وانی ابھر کر سامنے آیا تھا پھر اس کے بعد ریاض نائیکو انڈین فورسز کیلئے ڈراؤنا خواب بن گیا تھا حالانکہ اس وقت تک پہلے والی فریڈم فائٹرز تنظیمیں ہی تھیں جبکہ اب 4 مذید نئی مسلح عسکری تنظیمیں بھارت کے مدمقابل ہیں اور ان کے سربراہان انڈین فورسز کیلئے اپنے ویڈیو پیغام بھی جاری کر چکے ہیں جو کہ انڈین فورسز کے سینوں پر مونگ دل رہے ہیں
    نائیکو کی شہادت سے نئے نوجوان تحریک آزادی کیلئے میدانوں میں اتریں گے جیسے نائیکو اترا تھا سو یہ تحریک آزادی مذید تقویت کیساتھ انڈین فورسز کیلئے سر درد بنے گی اور تقویت پائے گی کیونکہ تاریخ گواہ ہے کشمیریوں نے نا اپنے ارادے بدلے ہیں اور نا ہی اپنے نعرے اب ہر آنے والے دن میں کشمیریوں کے دلوں میں جذبہ آزادی ابھر رہا ہے
    شہید کی جو موت ہے قوم کی وہ حیات ہے

  • راجہ داہر ہیرو نہیں بلکہ ایک ظالم انسان تھا  صدر جموں و آزاد کشمیر مسعود خان

    راجہ داہر ہیرو نہیں بلکہ ایک ظالم انسان تھا صدر جموں و آزاد کشمیر مسعود خان

    گذشتہ روز دس رمضان المبارک سے نامور سپہ سالار کے راجہ داہر پر حملے اور اس کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سندھی قوم پرست حلقوں ۔ این جی اوز اور ملک کے سیکولر و لبرل حلقوں کی جانب سے راجہ داہر کو سندھ کا بیٹا قرار دے کر قومی ہیرو بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ یہ پاکستانی سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے

    باغی ٹی وی: ارض پاک میں ہر روز کسی نہ کسی نئے شگوفے کا سامنا ہے کہیں اسرائیل کے جھنڈے اسلام آباد میں نصب ہو رہے ہیں ۔ رنجیت سنگھ کا مجسمہ لاہور لگایا گیا اور اب سندھ میں راجہ داہر کو ہیرو بنانے کی مہم ہے راجہ داہر کو ایک منصف ، سندھ کا بیٹا اور کامیاب حکمران کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ جسے ایک ” بیرونی عرب حملہ آور” محمد بن قاسم نے شکست دے کر ہلاک کر دیا تھا ۔
    دراصل یہ برصغیر میں اسلام کی آمد کے خلاف "دلی بغض” تکلیف اور دکھ کے اظہار کی ایک کوشش ہے ۔ اسلام کی آمد پر تنقید کی بجائے محمد بن قاسم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

    راجہ داہر کو ہیرو بنا کر دراصل ایک اسلامی ہیرو کو متنازعہ کرنے کی کوشش ہے ۔ یہ سب ایک خاص حلقے کی جانب سے کیا جا رہا ہے اس مہم کے تحت اپنی مرضی کے تاریخ دانوں کے حوالوں کے ذریعے ایسے تمام واقعات کو ہی جھوٹا قرار دیا گیا ہے جن میں راجہ داہر کے بارے منفی تاثر پیدا ہو اس دور میں لکھی گئی کتابوں جن میں راجہ داہر کی جانب سے عرب جانیوالے ایک قافلے کی لڑکیوں کو یرغمال بنانے ، اپنی بہن سے شادی رچانے اور عوام پر ظلم و ستم کے واقعات درج ہیں ان سب کو مسترد کرکے موجودہ دور کے ایسے من پسند تاریخ دانوں کے حوالے دئیے گئے ہیں جن میں جی ایم سید وغیرہ شامل ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ عالمی میڈیا اور کچھ این جی اوز اب یہ مطالبہ شروع کرانے کی کوشش میں ہیں کہ سندھ میں اسلام کے فروغ کا باعث بننے والے محمد بن قاسم کو ولن اور راجہ داہر کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے ۔


    یو جے سعدی نامی خاتون صارف نے ان لبرل لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ 10 رمضان ، یوم بل اسلام ، اس دن جب اسلام برصغیر میں ایک عظیم نوجوان ہیرو محمد بن قاسم کی آمد کے ساتھ آیا ، جو راجہ داہر کے ہاتھوں اغوا کیے گئے لوگوں کی مدد کرنے آیا تھا۔ وہ لڑکی ناہید کے لکھے ہوئے خط کے جواب میں آیا
    https://twitter.com/SaadiUj/status/1257251711548305408?s=20
    انہوں نے مزید لکھا کہ اور وہ لوگ جو 10 رمضان المبارک کے دن کو دہر کے لئے سب سے زیادہ مبارک دن منارہے ہیں ، انھیں شرم آنی چاہئے ، اگر محمد بن قاسم نہ آتے تو ، آپ لوگ بھی آج مسلمان نہ کہلاتے-


    یو جے سعدی کی ٹویٹ کے جواب میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر مسعود خان نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے اپنا خیالات کا اظہار کیا اور لکھا کہ راجہ داہر ہیرو نہیں تھا۔ ایک ظالم انسان تھا ، اس نے ظلم کیا۔ نوجوان ہیرو محمد بن قاسم انسانیت کو بچانے کے لئے دنیا کے اس حصے میں آئے تھے۔

    دوسری جانب کچھ لبرل لوگ راجہ دہر کو ہیرو اور مسلم عظیم سپہ سالار محمد بن قاسم کو ولن قرار دے رہے ہیں

    https://twitter.com/OthoMujeeb/status/1257268969582596096?s=20
    ایک صارف مجیب اوٹھو نے لکھا کہ 10 رمضان المبارک.آج کے دن لٹیرے، قاتل، ڈاکو محمد بن قاسم نے سندھ دھرتی پے حملا کیا، لوٹ مار کی اور سندھ کی عصمت پائمال کی.اور اس رھزن سے لڑتے لڑتے راجہ داھر سندھ پے قربان ہوئے گئے.راجہ ڈاھر کی عظمت کو سلام!


    علی رضا نامی صارف نے لکھا کہ آپ سے گزارش ہے کہ حقیقی تاریخ کا مطالعہ کیجیئے۔ درسی کتب میں نسیم حجازی نامی بد بخت کے ناول پر مبنی جھوٹی تاریخ درج ہے۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ محمد بن قاسم کو حجاج بن یوسف ملعون نے سندھ بھیجا تھا آل رسول کا نام و نشان مٹانے۔ وہ کوئی ہیرو نہیں ظالم تھا۔


    اس صارف کی ٹویٹ کے جواب میں طلحہ شہباز نامی صارف نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ اور راجی داہر تو آل رسول کا محافظ تھا ہے ناں

    واضح رہے کہ گذشتہ روز دس رمضان المبارک سے سے نامور سپہ سالار کے راجہ داہر پر حملے اور اس کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سندھی قوم پرست حلقوں ۔ این جی اوز اور ملک کے سیکولر و لبرل حلقوں کی جانب سے راجہ داہر کو سندھ کا بیٹا قرار دے کر قومی ہیرو بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ گذشتہ سال سے ایک خاص حلقے کی جانب سے کیا جا رہا ہے

    مسلمان اپنے رول ماڈل کے مطابق زندگی گزاریں تو انکی زندگی سنور جائے، رحمت ہی رحمت رمضان ٹرانسمیشن میں گفتگو

    حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی زندگی نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کیلیے بھی مشعل راہ، رحمت ہی رحمت ٹرانسمیشن میں گفتگو

  • کشمیر میں فوجی افسروں کی ہلاکت ، بھارت میں صف ماتم بچھ گئی

    کشمیر میں فوجی افسروں کی ہلاکت ، بھارت میں صف ماتم بچھ گئی

    باغی ٹی وی : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کو حریت پسندوں کیجانب سے شدید نقصان پہنچا ہے میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی کے ضلع کپواڑا میں مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں بھارتی فوج کے کرنل اور میجر سمیت 5 اہلکار ہلاک ہوگئے جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہنڈوارا میں بھارتی افواج کی جانب سے آپریشن جاری تھا کہ اسی دوران نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جب کہ واقعہ کے بعد بھارتی افواج کی فائرنگ سے 2 کشمیری بھی شہید ہوگئے۔
    واقعہ کے بعد علاقے میں بھارتی فورسز کی بھاری نفری طلب کرلی گئی ہے اور علاقے کا محاصرہ کرکے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
    اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان میلہورہ زینہ پورہ گائوں میں منگل کو 7روز کے دوران دوسرے 17گھنٹے طویل معرکے میں جھڑپ میں 3عسکریت پسند غازی ابراہیم ، برہان کوکا اور ناصر بھٹ شہید ہو گئے تھے ۔جبکہ فوج اور پولیس کے 2اہلکار زخمی ہوئے تھے .

    بھارتی فوج کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کے نیتجے میں ایک جواں سال خاتون شہنواز بانو زوجہ فاروق احمد کوک ابھی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور ایک نوجوان پیلٹ لگنے سے بھی زخمی ہوا۔

    جھڑپ کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مذکورہ گاؤں میں 22اپریل کو اسی طرح کی ایک جھڑپ میں 4نوجوان شہید ہوئے تھے۔ منگل کی سہ پہرآپریشن شروع ہوتے ہی ضلع شوپیان اور پلوامہ میں انٹر نیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھی۔ میلہورا شوپیاں میں آپریشن میں شہید ہونے والے 2افراد کی لاشیں برآمدکرلی گئی ہیں جبکہ تیسرے کی تلاش کے لئے آپریشن صبح نو بجے تک جاری تھا۔

  • کورونا پابندیوں کی وجہ سے بھارتی فوج کشمیریوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے مبشر لقمان نے پردہ فاش کر دیا

    کورونا پابندیوں کی وجہ سے بھارتی فوج کشمیریوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے مبشر لقمان نے پردہ فاش کر دیا

    بھارتی فوج کے مظالم رمضان المبارک میں بھی نہ رک سکے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے

    باغی ٹی وی : بھارتی فوج کے مظالم رمضان المبارک میں بھی نہ رک سکے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے ایک طرف کورونا کا خوف تو دوسری طرف بھارتی فوج کا کشمیریوں پر ظلم و ستم جا ری ہے بھارتی فوج کا ظلمو ستم اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کورونا پابندیوں کی وجہ سے بھارتی فوج نہتے اور مظلوم کشمیریوں کو ہلاک کر رہی ہے اور ہلاک ہونے والے کشمیریوں کی لاشیں ان کے ورثاء کے علم میں لائے بغیر دفن کر ہی ہے


    سئینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس بھارتی فوج کی اس ظلم اور بربریت پر آواز اٹھاتے ہوئے لکھا کہ کورونا پابندیوں کی وجہ سے ، ہندوستانی فوج زیادہ سے زیادہ اضافی ہلاکتیں کر رہی ہے اور ہلاک ہونے والے لوگوں کوان کے اہل خانہ کو بتائے بغیر دفن کررہی ہے

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ برس ماہ اگست سے کرفیو نافذ ہے جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثت کا خاتمہ کیا تھا تاہم اب کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن مزید سخت کیا گیا ہے،بھارتی پولیس نے متعدد صحافیوں کو بھی حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی اور کام کرنے سے روک دیا ہے جبکہ چند روز قبل بھارتی فوج نے خاتون صحافی سمیت 3 صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرکے انہیں گرفتار کیا تھا

  • کشمیری خاتون فوٹو جرنلسٹ کے خلاف مقدمہ درج

    کشمیری خاتون فوٹو جرنلسٹ کے خلاف مقدمہ درج

    کشمیری خاتون جرنلسٹ مسرت زہرہ کو ملک مخالف پوسٹس اپلوڈ کرنے کے الزام پر تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ بھارت اس سے قبل بھی کشمیری صحافیوں کو قید کرچکا ہے

    سرینگر(ساوتھ ایشین وائر )مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس نے جواں سال خاتون فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کو یو اے پی اے ایکٹ (غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ترمیم شدہ ایکٹ)کے تحت سوشل میڈیا پر ملک مخالف مواد شائع کرنے کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے

    لاہور : ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سائبر پولیس نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے اس بات کا دعوی کیا ہے کہ مسرت زہرہ نوجوانوں کو اپنے فیس بک پوسٹس کے ذریعے ملک مخالف سرگرمیاں انجام دینے کے لیے اکسا رہی تھیں جس کی وجہ سے امن و قانون میں خلل واقع ہونے کا امکان تھا

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ فیس بک صارف ایسا مواد بھی اپ لوڈ کررہی ہیں جو ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں کو بڑھاوا دیتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی شبیہہ بگاڑنے کے مترادف ہے اس ضمن میں سائبر پولیس نے ایک ایف آئی آر زیر نمبر 10/2020 زیر سیکشن UAPA) act) کے تحت ان پر مقدمہ درج کیا ہے

    القمرآن لائن کے مطابق مسرت زہرہ سرینگر کے علمگری بازار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون فوٹو جرنلسٹ ہیں جو قومی و بین الاقوامی سطح پر مختلف میڈیا اداروں کے ساتھ فری لانس فوٹو گرافر کے طورپر وابستہ ہیں اور ان کا کام ملکی سطح پر کافی سراہا گیا ہے

    مسرت زہرہ نے ساوتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بارے میں صبح تک کوئی علم نہیں تھا تاہم انہوں نے سوشل میڈیا پر ہی پولیس کا پریس ریلیز دیکھا جس میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی تفصیلات درج تھیں

    واضح رہے سائبر پولیس نے اس سلسلے میں جاری پریس ریلیز میں انہیں صرف ایک عام فیس بک صارف کے طور پر ظاہر کیا ہے تاہم اس میں انہیں فوٹو جرنلسٹ نہیں لکھا گیا ہے-ساوتھ ایشین وائر نے جب کشمیر کی خاتون صحافی یونین کی صدر اور سرکردہ خاتون صحافی فرزانہ ممتاز سے بات کہ تو انہوں نے کہا کہ وہ ایس پی سائبر پولیس کے ساتھ اس سلسلے میں بات کریں گی اور مزید تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی ردعمل ظاہر کریں گی

    مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا

    ” آسیہ اندرابی کو رہا کرو” ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    بھارت یہ ناں سمجھے کہ کرونا کی وجہ سے کشمیری اپنے موقف پرکمزورہوگئے ہیں،کشمیرہماراہے،سارے کا سارا ہے ،الطاف حسین

  • ایک ہی خاندان کے 25 ڈاکٹرز خدمت خلق میں مصروف

    ایک ہی خاندان کے 25 ڈاکٹرز خدمت خلق میں مصروف

    ایک ہی خاندان کے 25 ڈاکٹرز خدمت خلق میں مصروف، رفاہ انٹرنیشنل ہسپتال کرونا کے مریضوں کیلئے تیار، کرونا ٹیسٹ سے ڈرنے والوں کیلئے خصوصی پیغام، ڈاکٹر اسامہ ظفر سے خصوصی گفتگو

    جب قوموں پر مشکل وقت آجاتے ہیں تو قومیں میں سے ہی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو انہیں مشکل وقت ست نکالتے ہیں اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس جیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہے اور پوری دنیا کو اس مشکل وقت سے نکالنے میں جو لوگ اہم کردار ادا کر رہے ہیں وہ ڈاکٹر اور پورا پہرا میڈیکس سٹاف ہے

    ڈاکٹر اسامہ جو سماجی کارکن سوشل ایکٹویسٹ ہیں اور انہوں نے خود کو کورونا وائرس کے خلاف جہاد میں خود کو پیش کیا اور یہ رفاء نامی فلاحی ادارے کے ساتھ بھی منسلک ہیں

    رضی طاہر کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں۔ڈاکٹر اسامہ نے کورونا کی علامات اس کے علاج احتیاطی تدابیر کے بارے میں بتانے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر کی خدمات کے بارے میں بھی بتایا کہ ڈاکٹر کس طرح ان مشکل حالات میں اپنی زندگی کو ایک بڑے رسک میں ڈال کر خدمات سرانجام دے رہے ہیں

    رضی طاہر کےایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے ڈبلیو ایچ او نے اسے وبائی مرض قرار دیا ہے اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے انہوں نے کہا ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے جو ہمارے فرائض ہیں وہ ہم۔سرانجام دے رہے ہیں

    انہوں نے اپنے ادارے رفاہ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی یونیورسٹی کے چانسلر حسین محمد خان نے جب وبا پھیلی سب سے پہلے وینٹینلی اپنے ہاسپٹل کو پیش کیا اور گورنمنٹ کو 30 بیڈ کورونا متاثرین کی valention کے لیے دیئے اور کورونا آئسولیشن کی وارڈ کے لیے اب بیڈز کے ساتھ مکمل سامان کے ساتھ 12 وینٹی لیٹر بھی دئیے اور ایمرجنسی کے لیے ایک آئی سی یو بھی مکمل طور پر تیار کر رکھا تھا تاکہ اگر وبا پھیلتی ہےتو اس سے نبٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں

    انہوں نے کہا ہمارے ادارے رفاہ نے ہمیشہ ہی ہر مشکل۔صورتحال میں اہم۔کردار ادا کیا ہے چاہے زلزلہ ہو یا سیلاب یا وبا ہر مشکل۔صورتحال میں پیش پیش رہا ہے ڈاکٹر اسامہ کے مطابق کورونا کے حوالے سے اپنے سٹاف کو ٹرینڈ کیا لوکل ایریاز میں ہیلپ لائن متعارف کرائی اس پر کوئی بھی کسی بھی ٹائم کال۔کر کے بیماری کے حوالے سے پوچھ سکتے ہیں ڈاکٹر ہر وقت لوگوں کی مدد کے لیے موجود ہیں مستحق لوگوں کی مدد کر رہے ہیں

    ڈاکٹراسامہ نے بتایا کہ اس حوالے سے ان کا ایک پوراسوشل ویلفئیر کا شعبہ ہے جس کی سربراہی اظہر حلیم کرتے ہیں راشن دے رہے ہیں اور غریبوں کا مفت علاج کر رہے ہیں

    جو لوگ چیک اپ کروانے سے ڈر رہے ہیں اپنی بیماری کو چھپا رہے ہیں ان کو پیغام دیتے ہوئے ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ اگر آپ کو کوئی علامات جیسے کھانسی نزلہ زکام بخار سانس کا۔رکنا ظاہر ہوتی ہیں تو فورا چیک اپ کروائیں اس بیماری کو نہ چھپائیں اس طرح آپ اپنےبساتھ ساتھ اپنے خاندان کا بھی نقصان کریں گے انہوں نے بتایا 85 فیصد لوگوں میں معمولی نزلہ ہوتا ہے جو ٹھیک ہو جاتا ہے جبکہ 15 فیصد میں یہ صورتحال شدید علامات کے ساتھ ظاہر ہرتی ہیں جن میں بوڑھے شوگر اور دل کے مریض یا وہ لوگ جن کا مدافعتی نظام۔کمزور ہو شامل ہیں

    انہوں نے بتایا کہ ان کی فیملی میں 25 سے 30 ڈاکٹر ہیں جو اس وقت پاکستان انگلینڈ اور آئرلینڈ میں اس خطرناک بیماری کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں جن میں ان کی والدہ والد کزنز اور وہ۔خود شامل ہیں

    ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ وہ خود اور ان کے کزنز کوٹلی آزاد کشمیر میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں انہوں نے بتایا کورونا کے خلاف ان کی فیملی بہت محنت کر رہی ہے دن رات ڈیوٹی کر رہی ہے انہوں نے کہا ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹرز کو بھی آئسولیٹ ہونا پڑتا ہے تاکہ ہمارے سے یہ بیماری کسی۔دوسرے کو نہ لگ جائے

    انہوں نے کہا کورونا کے مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کی زندگی بھی کورونا مریض کے جیسی ہوتی ہے کیونکہ ڈاکٹر بھی مکمل طور پر آئسولیٹ ہوتا ہے وہ۔کسی سے مل۔نہیں سکتا خود کو آئسولیٹ کرنا پڑتا ہے خدانخواستہ اگر ڈاکٹر میں علامات آجاتی ہیں تو وہ باقی لوگوں کوبھی متاثر کر سکتا ہے

    ڈاکٹر اسامہ نے کہا ہمیں ٹریٹمنٹ کے دوران خود کو۔محفوظ رکھنے کے لیے مکمل سامان مہیا نہیں ہے ہمارے ڈاکٹر متاثر ہو رہے ہیں یہ وہ چیزیں ہیؑ جس سے ڈاکٹرز کی زندگی رسک میں ہے

    ڈاکٹر اسامہ نے کہا گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس سٹاف کو خود کو محفوظ رکھنے کا۔مکمل سامان مہیا کریں اگر طبی عملہ اور ڈاکٹرز انفیکٹ ہونا شروع ہو گئے تو بیماری کا۔علاج کون کرے گا صورتحا مزید کشیدہ ہو جائے گی

    ہاتھوں کی صفائی میں ہی سب کی بھلائی،کرونا وائرس کےمزید 30 کیسز، مریضوں کی تعداد 2856 ہوگئی ، ترجمان

    اہم ٹیکسٹائل یونٹ نے لوگوں کی جانیں بچانے والوں کی جانیں بچانے کے لیے 1 ہزارحفاظتی کٹس عطیہ کردیں

    خیبر پختونخواہ کے ڈاکٹرزسمیت طبی عملے کے 25 اراکین میں کرونا کی تشخیص، ایک کی ہوئی موت

  • کشمیری خاتون نے حج کیلئے جمع کی گئی رقم کرونا فنڈ میں عطیہ کر دی

    کشمیری خاتون نے حج کیلئے جمع کی گئی رقم کرونا فنڈ میں عطیہ کر دی

    ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان خاتون نے 11 لاکھ روپےجو انہوں نے حج کا فریضہ انجام دینے کے لئے جمع کئے تھے کورونا وائرس سے نجات کے لئے عطیہ دے کرثابت کر دکھایا ہے کہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے

    باغی ٹی وی : مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی مسلمان خاتون خالدہ بیگم نے حج کا فریضہ انجام دینے کے لئے 11 لاکھ روپے جمع کئے تھے جو ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی تھی کورونا وائرس فنڈ میں دے کر ثابت کر دیا کہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے

    ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر کی ایک بوڑھی عورت خالدہ بیگم نے دنیا کو ایک بڑا پیغام دیا ہے خالدہ بیگم نے اپنی عمر کے آخری حصے میں ، بالکل اسی طرح جیسے کوئی بھی مسلمان حج کرنا چاہتا ہے تاہم ، ان نے اپنا منصوبہ عالمی وبا کے پیش نظر ہو گیا

    خالدہ بیگم نے اس سال حج ادا کرنے کے لئے 11 لاکھ (5 لاکھ INR) کی بچت کی تھی لہذا عالمی وبا کے پیش نظر حج کا فریضہ اس سال اد اکیا جائے گا یا نہیں ابھی تک سعودی حکومت کی طرف سے واضح نظریہ سامنے نہیں آیا تاہم ان حالات کو دیکھتے ہوئے کشمیری خاتون نے اپنی رقم راہ خدا میں خرچ کرنے کا ارادہ کرلیا

    گذشتہ 234 دنوں سے کشمیرمیں مکمل طور پر لاک ڈاؤن نافذ ہے ، COVID-19 کے آغاز نے ہندوستان کی ریاست کو مزید مشکلات سے دوچار کردیا ہے انڈیا کو کشمیر کے کرفیو کے بعد سے ہی سیاسی اور معاشرتی طور پر ہنگاموں کا سامنا ہے اس کے برعکس ، خالدہ بیگم جیسے مسلمان مودی کے ہندوتوا کے ایجنڈے کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ ان کا مقابلہ محبت کے ساتھ کیا جائے گا

    خالدہ بیگم نے حج کے لئے جمع کیا ہوا کا پیسہ ’خدمت بھارتی‘ کے نام سے فلاحی تنظیم کو دیا ہے جو آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) سے منسلک ہے آر ایس ایس بڑے پیمانے پر کشمیریوں اور مسلمانوں کے حقوق چھیننے کے لئے کوشاں ہے

    آر ایس ایس کے ایک کارکن نے کہا کہ خالدہ بیگم جی نے ملک میں اچانک پھیل جانے والی کووڈ 19 کے مسکل حالات میں جموں اینڈ کشمیر میں کئے گئے سیوا بھارتی کے فلاحی کاموں سے متاثر ہو کر پانچ لاکھ روپے فنڈ دینے کا اعلان کیا ہے

    خالدہ بیگم ایک بڑے دل کی مالک سماجی کارکن ہیں بوڑھی کشمیری عورت ، اپنی عمر کے آخری حصے میں ہونے کے باوجود ، ماضی میں کشمیریوں کے لئے ایک عظیم سماجی کارکن رہی ہیں کشمیری بیوروکریٹس کے کنبے سے تعلق رکھنے والی خالدہ جی میں بے لوث خدمت کرنے رحجان پایا جاتا ہے 79سالہ کشمیری خاتون کا اس بات پریقین ہے کہ اس نے کوویڈ 19 میں اپنی خوشی کے لئے جو رقم دی تھی ، اور وہ بجا طور ان کے حج سے زیادہ منافع ادا کریں گی

    یہ وقت انسانیت کی خدمت کرنے کا ہے خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب نسل یا فرقہ سے ہو ، ہمایوں سعید