Baaghi TV

Category: کشمیر

  • 27 فروری : سرپرائز ڈے فارنیشن –از–غلام زادہ نعمان صابری

    27 فروری : سرپرائز ڈے فارنیشن –از–غلام زادہ نعمان صابری

    دوپہر کو مجھے فون آیااور پوچھاگیا کہ کہاں ہیں جناب
    ہم نے جواباً عرض کیا حضور گھر میں ہوں!
    فرمانے لگے آج سرپرائز ڈےہے کچھ وقت مل جائے گا،ہمارے حامی بھرنے پر کہا گیا کہ کچھ دوستوں کے ساتھ پاک ٹی ہاؤس میں چائے کا پروگرام بنایا ہے آپ سے شرکت کی استدعا ہے۔
    یہ تھے پاک بلاگرز فورم کے کوآرڈینیٹر محترم جناب عبدالحمیدصادق صاحب جنہوں نے سرپرائز ڈے پر دوستوں کو چائے کا سرپرائز دے ڈالا۔

    27فروری2019 کو بھارت نے روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان پر فضائی حملہ کردیا اور یہ حملہ اس کی ناکام کوشش ثابت ہوا اور پاک فوج کے جوانمرد شاہینوں نے بھارت کے دونوں حملہ آور لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔

    ان میں ایک مگ 21 جنگی طیارہ بھی تھا جسے بھارتی پائلٹ ابھی نندن اڑا رہا تھا۔طیارہ گر کر تباہ ہوگیا اور ابھی نندن کو پاک فوج نے زندہ گرفتار کر لیا۔

    پاک فوج نے مسلمان ہونے کے ناطے اسلامی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے بھارتی پائلٹ کی خوب آؤ بھگت کی اس آؤ بھگت میں جو سب سے اہم بات تھی وہ چائے کی ایک پیالی تھی۔
    یہ چائے کی ایک پیالی بھارتی پائلٹ کو کروڑوں روپے کامگ 21تباہ کرنے کے بعد پینا نصیب ہوئی۔اس حوالے سے اگر اس چائے کی پیالی کو دنیا کی مہنگی ترین چائے کی پیالی کہاجائے تو بیجا نہ ہوگا اور اگر اسی طرح ابھی نندن کو دنیا کا مہنگا ترین چائے نوش کہا جائے تو میرے خیال میں اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔

    پاک فوج کے جوانوں کی جوانمردی کو داددینے کے لئے جنہوں نے اس دن کو پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے یادگار بنایا لہذا اس یادگار دن کو منانے کے لئے محترم جناب عبدالحمیدصادق صاحب نے دوستوں کو اچانک سرپرائز دیا اور پاک ٹی ہاؤس میں اکٹھا کر لیا۔ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر محترم محمد شعیب مرزا صاحب نے بہت مشکل سے وقت نکال کر اس مختصر تقریب کو رونق بخشی کیونکہ اچانک اطلاع پر ان کا کسی پروگرام میں شرکت کرنا ناممکن کے ساتھ ساتھ مشکل بھی ہوتا ہے ان کی تشریف آوری کا بےحد شکریہ کہ وہ اپنی مصروفیات میں سے 15 منٹ نکال کر لائے تھے اور آدھاسے پون گھنٹہ دے کر تشریف لے گئے۔

    پاک بلاگرز فورم کے روح رواں جناب محمد نعیم شہزاد صاحب بھی تشریف لائے تھے ان سے پہلی بالمشافہ ملاقات تھی پاک بلاگرز فورم کے حوالے سے پہلے ان سے تعارف تھا مگر ملاقات نہیں تھی اس حوالے سے یہ تقریب ملاقات کا ایک بہانہ بھی بن گئی۔

    صدر شعبہ خواتین پاکستان قومی زبان تحریک محترمہ فاطمہ قمر صاحبہ بھی تشریف لائی تھیں جنہوں نے قومی زبان کے نفاذ بارے سیر حاصل گفتگو فرمائی۔
    ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر محترم جناب محمد شعیب مرزا صاحب نے پاک فوج کی لازوال قربانیوں کے تذکرے سے لے کر نفاذ اردوتک خوبصورت الفاظ میں روشنی ڈالی
    پاک بلاگرز فورم کے سر پرست جناب محترم محمد نعیم شہزاد صاحب نے بھی اظہار خیال کیا۔

    محترم عبدالحمیدصادق صاحب نے سرپرائز ڈے پرچائے کے حوالے سے خوبصورت کلام سنانے کے ساتھ ساتھ کچھ تجاویز بھی پیش کیں
    چائے کے ساتھ بسکٹ بھی تھے جنہوں نے چائے کے مزے کو دوبالا کیا

    اس مختصر مگر مؤثر تقریب کے انعقاد پرجناب عبدالحمیدصادق صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں آئندہ بھی ایسی مختصر تقریبات کا انعقاد ہوتے رہنا چاہئے جن سے علم وعمل میں اضافہ ہو اور کچھ حاصل کرنے کو ملے۔
    آخر اسی حوالے سے ایک قطعہ عرض ہے کہ
    بڑے گھمنڈ، بڑی شوخیوں سے
    آیا تھا دینے ہمیں سرپرائز
    رہے گا اسے تاقیامت یہ یاد
    دیا ہے جو ہم نے اسے سرپرائز

    غلام زادہ نعمان صابری

  • مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون کے دوران بہترین کوریج پرکشمیری صحافی نے اے ایف پی کا کیٹ ویب انعام جیت لیا

    مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون کے دوران بہترین کوریج پرکشمیری صحافی نے اے ایف پی کا کیٹ ویب انعام جیت لیا

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون کے دوران بہترین کوریج پرکشمیری صحافی نے اے ایف پی کا کیٹ ویب انعام جیت لیامقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون کے دوران بہترین کوریج پر کشمیری فری لانس رپورٹر احمر خان کو 2019 کا اے ایف پی کیٹ ویب انعام کا فاتح قرار دیا گیا ہے ۔

    اے ایف پی کے بہترین نمائندوں میں سے ایک کے نام سے منسوب یہ ایوارڈ ایشیا میں خطرناک یا مشکل حالات میں کام کرنے والے مقامی صحافیوں کو دیا جاتاہے ۔ستائیس سالہ احمر خان کو ایک ویڈیو سیریز اور رپورٹ کے لئے یہ اعزاز دیا گیا ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس رپورٹ میں اگست میں کشمیر کو اپنی نیم خودمختار حیثیت سے ہٹانے کے ہندوستان کے فیصلے کے بعد مسلم اکثریتی علاقے کے مقامی لوگوں پر اس کے اثرات کو واضح کیا گیا تھا۔

    کرفیو اور سیکیورٹی کی بھاری پابندیوں کے باوجود ،احمر خان نے سری نگر اور کشمیر کے دیگر شہروں کے رہائشیوں میں پائے جانے والے تناو ، خدشات اور مایوسیوں کو دستاویزی شکل دی۔
    احمر خان نے اپنی جیت پر کہاکہ یہ ایک حقیقی اعزاز ہے ، اور اورمیرے کام کے لئے بہت بڑی حوصلہ افزائی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ میں یہ ایوارڈ کشمیر کے بہادر صحافیوں کے نام کرتا ہوں کو دینا چاہتا ہوں جو گذشتہ چھ ماہ سے انتہائی مشکل حالات میں رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی ایوارڈ ہے۔

    کیٹ ویب پرائز3400ڈالر کے انعام پر مشتمل ہے۔جو ایشیا میں خطرناک یا مشکل حالات میں کام کرنے والے صحافیوں کو دیا جاتا ہے۔یہ 2007 میں اے ایف پی کے ایک نامہ نگار کے نام سے منسوب ہے ، جو 2007 میں 64 سال کی عمر میں انتقال کرگئی تھیں۔انہوں نے ویت نام کی جنگ کے دوران نڈر رپورٹنگ کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔

  • مقبوضہ کشمیر اور ھم  تحریر: خواجہ رضوان احمد

    مقبوضہ کشمیر اور ھم تحریر: خواجہ رضوان احمد

    دنیا کی سب سے بڑی جیل، کشمیر، جس میں تقریبا 12.55 ملین معصوم روحیں، ایک کھلی جیل میں قید ھیں۔ ایک رہورٹ کے مطابق 1990 سے اب تک 95،000 کشمیری معصوم شہید ھو چکے، 1،46،000 کو گرفتار کیا گیا، 22،000 عورتوں کے سہاگ اجاڑ کر انکو بیوہ کر دیا گیا، 1،07،000 معصوم بچوں کے والدین کو شہید کر کے انکو یتیم کیا گیا، اور اب تقریبا 15 جولائی 2019 سے اب تک کشمیر ایک مکمل کرفیو کے حصار میں ھے، جہاں پر رھنے والوں پر حیات تنگ کر دی گئی، اتنی تنگ کہ جس میں ھم جیسا آزاد و عیاش مسلمان 7 دن بھی زندہ نہ رہ پائے جس میں ھمارے کشمیری بہن بھائی 7 مہینے سے سانس لے رھے ھیں۔ کرفیو کے آغاز سے اب تک 1000 سے زائد لوگوں کو شدید زخمی و شہید کر دیا گیا، 3000 سے زائد مسلمانوں کو گرفتار کر کے نا معلوم عقوبت خانوں میں ڈال دیا گیا، موبائل سروس، انٹرنیٹ، لینڈ لائن فون، یہاں تک کہ بیرونی دنیا سے رابطے کا ھر ھر ذریعہ ختم کر دیا گیا۔ اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت، جنہیں یہ علم نہیں کہ کل کے دن انکو کھانے کے لیے کچھ میسر ھو گا یا نہیں، دواؤں کی شدید قلت، کہ بیمار ھو جائیں تو تقدیر ھی صحت یاب کر دے، یہانتک کہ عبادات تک پر پابندی، ایک مومن اپنے گھر کے دروازے سے مسجد تک جانے کے لئیے بھی روک دیا گیا، اللہ کا گھر صدائیں دے رھا اپنے ان مومن بندوں کو جو دن رات کی پانچوں نمازیں مسجد میں ادا کرتے تھے اور آج وہ تڑپ رھے ھیں، مسجد کے منبروں ہر کھڑے ھو کر اذان کی پاکیزہ صدائیں بلند کرنا چاھتے مگر طاغوت انکی کنپٹیوں پر بندوقوں کی نالیں جمائے بیٹھا ھے، یا اللہ، کیسا منظر ھو گا وہ، کیسی بے بسی ھو گی ان دلوں میں، کتنے ھی آنسوؤں کے سمندر ھونگے ان آنکھوں میں، جو اپنے رب کی بارگاہ میں چاھنے کے باوجود جانے سے قاصر ھیں۔۔۔ !!! اور اس سب سے قطع نظر کشمیری بہادر ماؤں کے بہادر سنگباز مجاھد بیٹے، کے جو گولیوں کا جواب پتھروں سے دے رھے ھیں، جن ھاتھوں میں کتاب و قلم ھونا تھا وہ ھاتھ یخ بستہ سردیوں میں اپنے دامن میں پتھر اٹھائے ظالم کو اپنی بساط سے بڑھ کر جواب دے رھے ھیں، انکے جذبے، انکے دل، اور انکی شیر جیسی دھاڑتی آواز میں وہ گرج ھے کہ جو بندوق تھامے کھڑے ناپاک ھندو فوجی کو بجی ایک لمحے کو لرزا کر رکھ دیتی ھے۔ یہ کیسا نوجوان ھے جو سینے پر گولی کھاتا ھے اور پھر اٹھ کر کافر کی طرف لپکتا ھے۔ یہ جذبہ یہ ھمت یہ ولولہ، اللہ اللہ۔۔۔۔۔قربان جاؤں ان ماؤں پر اور ان شیردل جوانوں پر۔
    اس سب قیامت میں ایک چیز فطری ھے جو ان میں بھی پائی جاتی ھے اور وہ ھے اپنے مسلمان بھائیوں کا انتظار، انکی راھیں تکنا، دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کی صفوں میں صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان و محمود غزنوی کو ڈھونڈنا۔۔۔ تقسیم کے وقت سے آج تک مائیں اپنے بچوں کو یہی دلاسہ دے رھے ھیں کہ گبھراو مت، تم اکیلے نہیں ھو، بارڈر پار تمہارے بھائی ھیں جو تمہارے پاس آنے تمہارے لئیے کٹنے مرنے کو بے تاب ھیں (شائد یہی آس ان کی نا ختم ھونے والی جدوجہد کی وجوھات میں سے ایک وجہ بھی ھے)۔۔۔!!!
    اور دوسری جانب ھم آزاد کشمیری و پاکستانی، کرفیو کے بعد ھم سے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں کشمیر سے یکجہتی کا اظہار کیا، میں نے ھر ایک کے دل میں اپنے ان مظلوم کشمیری مسلمانوں کے لئیے درد دیکھا۔ ایک طرف کشمیری حکمرانوں نے کشمیر سے غیر انسانی کرفیو اور پابندیوں کے خاتمے پر لب کشائی کی، تو دوسری طرف پاکستانی حکمرانوں نے بھی مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری کے سامنے اپنے انداز میں بلکہ ماضی سے بہتر طور پر پیش کیا۔ جہاں کشمیری عوام اپنے مظلوم بھائی، بہنوں، ماؤں، بیٹیوں کا درد لے کر لائن آف کنٹرول تک پنہچے وھیں پاکستانی عوام بھی ھر گھر ھر شہر سے کشمیری مظلوموں کا درد لے کر نکلے۔ مگر پھر یوں ھوا کہ سب کچھ جیسے تھم سا گیا، اس جذبہ ایثار نے داخلی انتشار اور کدورتوں کی صورت اختیار کر لی۔ کشمیری و پاکستانی کے نام پر، بلوچی و پٹھان کے نام پر، خود مختاری و الحاق کے نام پر زبان درازیاں، فتوے بازیاں، زھر میں بجھے نفرتوں کے تیر، اور کافر کافر، غدار غدار کے طعنے ھر فورم ھر گلی ھر پلیٹ فارم سے سنائی دینے لگے، اور اب تو یہ نفرت ایک مستقل دشمنی کا روپ اختیار کر چکی ھے، جس نے مجھے پہلی بار قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ میں پچلھے کئی دنوں سے زبانی تکرار کو فحش اور لغو گفتگو، نازیبا اور اخلاق سے گری ھوئی بہن اور ماں کی گالیوں میں بدلتا دیکھ رھا، جس نے جاھل اور پڑھے لکھے، خود مختاری والے اور الحاقی نطریے والے ھر ایک فرد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔۔!
    ایک طرف ھمارے حکمران بھی کشمیریوں پر ٹوٹنے والی قیامت کو معمول کی چیز سمجھ کر عادی سے ھو گئے اور دوسری طرف ھماری عوام بھی جیسے اسکی عادی ھو گئی۔
    محترم قاری، خدارا آج یہ پڑھتے ھوئے وقفہ کیجئیے اور اپنے دل میں جھانک کر دیکھئیے، کیا آپ بھی عادی سے نہیں ھو گئے اس قیامت کو لے کر ؟ کیا آپ نے بھی اسے کشمیریوں کی تقدیر نہیں سمجھ لیا ؟ کیا آپ کو بھی کشمیری معصوموں کی عزتوں اور انکی جانوں سے زیادہ اپنی کسی پارٹی یا شخصیت کا نکتہ نظر زیادہ عزیز نہیں ھے؟
    ھر ایک فرد دوسرے فرد کو، ھر ایک جماعت دوسری جماعت کو، ھر ایک مکتبہ فکر دوسرے مکتبہ فکر کو نیچا دکھانے اور غدار ثابت کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگائے ھے۔ بخدا، سب کو ایسے وقت دل و دماغ سے یہ خیال یکسر محو ھو جاتا ھے کہ کشمیر بھی کوئی چیز ھے، کرفیو میں بلکتے بھوکے بچے، اہنی عصمتوں کے لٹ جانے کا ڈر لئیے ھوئے پاکیزہ پردہ دار بچیاں، ناتواں ماں باپ جن کے بیٹے کرفیو کے دوران لا پتہ کر دئیے گئے، بخدا ھم لوگوں کو یہ سب بھول چکا ھے۔ بخدا ھم لوگ شخصیت پرستی میں ھر آخری حد کو بھی عبور کر چکے ھیں، ھماری غیرتیں، ھمارے جذبے، ھمارے احساس، ھماری جدوجہد، ھمارے جلسے جلوس، ھمارے نعرے، سب کے سب کنٹرولڈ ھو چکے ھیں، ھم روبوٹ بن چکے ھیں، جذبات سے عاری جسم، ایک خالی ڈبہ، جسکو جب ریموٹ سے جہاں چاھے کوئی استعمال کرے اور ھم نے استعمال ھونا ھے۔۔!!!
    میں اس تحریر میں نہ تو کسی کی حمایت کرونگا نہ کسی کے مخالفت، میرے الفاظ ھر ایک کے لئیے سوال ھیں، ھر پڑھنے والا بس اپنے دل کے کسی کونے تک جھانکے اور اپنے آپ سے ھی انکشاف کر دے کہ کیا واقعی ایسا نہیں ھے؟؟؟
    میرے بھائیو، وہ تاریخی اور ظالمانہ قید آج بھی برقرار ھے اس لہو سے بھری جنت میں، اور تم لوگ یہاں، خود مختاری و الحاق کو لے کر لڑ لڑ کر تقسیم در تقسیم ھوتے جا رھے، کیوں؟
    کل حشر میں رب کی عدالت میں کیا جواب دو گے رب کو اور ان جنت کے شہسواروں کو جو دنیا میں آج جہنم کا درد سہہ رھے ھیں، کیا ھمارے جذبے اور کوششیں ویسی ھیں کہ کل ھم انکی آنکھ سے آنکھ ملا پائیں؟ اگر آپکا جواب "ھاں” ھے تو مبارک ھو آپکو، اور اگر "نہیں” ھے تو اللہ نے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ھر ذی روح کو دی ھے، لا علمی یا کم علمی کا رونا کل کوئی نہیں رو سکتا کہ اے اللہ مجھے تو پتہ نہیں تھا، میں تو فلاں بن فلاں کا پیروکار تھا، اسی کے پیچھے چلتے ھوئے اپنی زندگی گزار دی۔۔۔!
    خدارا، اپنے جذبات اور اپنے غصے کو صحیح سمت دیجئیے، اپنے اپنے گروہ اور اپنی اپنی سوچ کو ھی دوسروں سے بالاتر کرنے کی بجائے ایک جسم ایک جان بن کر سوچیں، اور کشمیر کو لے کر یہاں بیٹھ کر ان کے فیصلے کرنا چھوڑ دیں، انکی آزادی کا سوچیں۔ 73 سال سے ظلم سہنے والے اپنی تقدیر کا فیصلہ بھی کر ھی لیں گے کہ انہوں نے کیا کرنا ھے۔ یہاں آزاد فضاؤں میں بیٹھ کر آپ لوگ انکے فیصلے نہ کریں، بلکہ انکے لئیے عملی جدوجہد کریں، جس پر آپکا ضمیر کل کو آپکو ملامت نہ کر سکے، ورنہ ایک صدی تو ہوری ھو رھی ان کو مستقل عذاب دنیا سہتے ایک اور صدی گزر جائیگی مگر میں یا آپ نہیں ھونگے انجام دیکھنے کے لئیے اور نہ ھی ھم بروز محشر انکے سامنے کھڑے ھونیکی جرات ھی کر پائیں گے۔۔۔!!!
    اللہ پاک ھمیں علاقائی، نسلی و لسانی تعصب سے پاک کر کے وحدت امت کے لئیے جدوجہد کرنے والا اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لئیے جان لٹانے والا مجاھد بنائے۔۔۔!!!
    والسلام۔
    محتاج دعا۔
    rizwan.at009@gmail.com

  • بھارتی فورسز نے جعلی  مقابلے میں بنایا کشمیریوں کو نشانہ

    بھارتی فورسز نے جعلی مقابلے میں بنایا کشمیریوں کو نشانہ

    بھارتی فورسز نے جعلی مقابلے میں بنایا کشمیریوں کو نشانہ

    باغی ٹی وی رپورٹ ‌‌: جنوبی کشمیر کے ضلع ترال اونتی پورہ کے بجہ کول کے مقام پر بدھ کے روز نصف شب کو ایک جعلی پولیس مقابلے میں تین مجاہدین کو شہید کر دیا گیا۔
    ساوتھ ایشین وائر کو جموں و کشمیر پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار یشانت شرما نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے ترال کے علاقے دیور میں سرچ آپریشن کے تین مجاہدین، امیرآباد ترال کے رہنے والے جہانگیر رفیق وانی، لورگام کے راجہ عمر مقبول اور بارہمولہ کے عزیراحمد بٹ کوشہید کر دیا ۔
    ساوتھ ایشین وائر کو معلوم ہوا ہے کہ دونوجوان جہانگیر رفیق اور عزیراحمد 12جنوری کو گرفتار کئے گئے تھے ۔ اور انہیں بدھ کی رات کو پولیس کی حراست میں گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔12جنوری کو حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر حماد کو ایک آپریشن میں شہید کیا گیا تھا اور اسی دوران انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
    دیگر ذرائع نے بتایا کہ عمر مقبول تنظیم انصار غزوة الہند جبکہ جہانگیر رفیق اور عزیراحمد حزب المجاہدین سے وابستہ تھے ۔جہانگیر وانی حزب کے اعلیٰ کمانڈر تھے ۔

  • ہمت و جرآت کا پیکر سید علی گیلانی   تحریر: غنی محمود قصوری

    ہمت و جرآت کا پیکر سید علی گیلانی تحریر: غنی محمود قصوری

    ہمت و جرآت کا پیکر سید علی شاہ گیلانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوا اس 90 سالہ بزرگ کا بچپن ،جوانی اور اب بڑھاپا بھی ہندو کے ظلم و جبر میں گزرا اور اب بھی اتنی بزرگی میں ہونے کے باوجود اپنی ہی وادی کشمیر جنت نظیر میں اپنے ہے گھر میں ہندو کی نظر بندی میں زندگی بسر کر رہے ہیں
    5 اگست 2019 کو انڈیا کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کے بعد پوری حریت قیادت کی طرح سید علی گیلانی صاحب بھی اپنے گھر سوپور میں نظر بند ہیں مسلسل 7 ماہ سے زائد کی نظر بندی کی بدولت ان کی صحت انتہائی متاثر ہوئی ہے جس سے ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن بن جانے سے انہیں تکلیف کا سامنا ہے سید صاحب کی صحت انتہائی تشویشناک ہے جس پر پوری کشمیری قوم کیساتھ پوری پاکستانی قوم بھی ان کی صحت و تندرستی کیلئے دعا گو ہے
    سید علی گیلانی صاحب الحاق پاکستان کے حامی ہیں ان کا موقف ہے کہ انڈیا کی فوجوں کے خلاف پاکستان اپنی فوجیں مقبوضہ وادی کشمیر میں داخل کرے اور انڈیا کی طرف سے اقوام متحدہ کی نا مانی جانے والی قرار دادوں پر طاقت کے بل بوتے پر عمل درآمد کروا کر تنازعہ کشمیر کو حل کروایا جائے
    سید علی گیلانی صاحب کی 90 سالہ عمر کا زیادہ حصہ انڈین جیلوں اور نظر بندیوں میں گزرا ہے
    جب انڈیا نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے مقبوضہ وادی کا لاک ڈاءون کرنے کیساتھ انٹرنیٹ و موبائل سروس بند کرکے کرفیو لگایا تھا اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا تب گیلانی صاحب نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے نام خط لکھا تھا کہ کشمیر کیلئے تب کچھ کرو گے جب ہم مٹ جائینگے
    سید صاحب نے شروع سے ہی اس نظریے کے حامی ہیں کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراد دادوں کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے اور اپنی فوجیں کشمیر سے نکال کر کشمیریوں کو ان کا حق استصواب رائے دے جس کی بدولت سید صاحب کو ہمیشہ سے پابندیوں اور جیلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ سید صاحب 90 سال سے زائد العمر ایک معمر اور ضعیف شحض ہیں مگر پھر بھی ان کی ایک آواز پر ان کی تحریک حریت و آل پارٹیز حریت کانفرنس کے علاوہ پوری وادی جموں و کشمیر کے لوگ سر پر کفن باندھ کر لبیک کہتے ہیں جس کے خوف سے انڈیا نے اس عظیم حریت لیڈر کو نظر بند کیا ہوا ہے جو کہ انٹرنیشنل لاء کے سخت خلاف ہے مگر افسوس کے انڈیا کو کوئی پوچھنے والا نہیں مگر اب پوری دنیا کو سید علی گیلانی صاحب کے موقف کا احساس ہو چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے استعمال کے بغیر حل نہیں ہو گا جس کی تازہ مثال 5 اگست 2019 سے اب تک پوری وادی کشمیر کا لاک ڈاءون، انٹرنیٹ و موبائل سروس کی بندش کے علاوہ سخت ترین کرفیو میں مظلوم کشمیریوں کی انڈین قابض فوج کے ہاتھوں شہادتیں و کشمیری ماءوں،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دریوں پر پوری دنیا کے دباؤ پر بھی انڈیا کا کان نا دھرنا اور کشمیریوں کے مصائب میں مذید اضافہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ بموقف عظیم کشمیری حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی کشمیر بزور شمشیر ہی آزاد ہوگا
    دعا ہے کہ اللہ تعالی اس عظیم حریت قائد سید علی گیلانی صاحب کو صحت و ایمان والی لمبی زندگی عطا فرما کر انہیں طلوع آزادی کشمیر دیکھنا نصیب فرمائے آمین

  • "اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں "بھارت میں پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے پر 3 کشمیری طلبہ گرفتار

    "اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں "بھارت میں پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے پر 3 کشمیری طلبہ گرفتار

    نئی دہلی :”اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں "بھارت میں پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے پر 3 کشمیری طلبہ گرفتارکرلیئے گئے ہیں،اطلاعات کےمطابق بھارتی پولیس ان کشمیری طلبا کو گرفتارکرنے کے علاوہ دیگرکشمیری طالب علموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے ماررہی ہے،

    ادھربھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق تینوں طلبہ بھارتی ریاست کرناٹکا کےضلع ہبالی کے ایک انجینئرنگ کالج میں زیر تعلیم ہیں جن کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں سے ہے۔

    بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کالج میں زیر تعلیم کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین طلبہ نے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگائے اور ویڈیو بھی بنائی جو وائرل ہو گئی، جس پر کارروائی کی گئی اور انہیں گرفتار کیا گیا۔

    بھارتی حکام کے مطابق مذکورہ ویڈیو میں ایک طالب علم کو ابتدائی طور پر بیک گراؤنڈ میوزک کے ساتھ کچھ بولتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد وہ سب دوسرے ”آزادی ” کا نعرہ لگاتے ہیں۔ پھر جو میوزک چل رہا ہے اس میں انہوں نے "پاکستان زندہ باد” بھی شامل کیا۔

    اسی سبب تینوں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی پولیس نے بغاوت کا الزام لگا کر گرفتار کیا ہے جن پر ضلع بجرنگ دل کے ہندو انتہاپسندوں نے حملے کی بھی کوشش کی تھی۔

  • شہبازشریف کو عمران خان کا مودی کے خلاف بیان ناراض کرگیا،توپوں کا رخ مودی کی بجائےعمران خان کی طرف موڑدیا

    شہبازشریف کو عمران خان کا مودی کے خلاف بیان ناراض کرگیا،توپوں کا رخ مودی کی بجائےعمران خان کی طرف موڑدیا

    لاہور: شہبازشریف کو عمران خان کا مودی کے خلاف بیان ناراض کرگیا،توپوں کا رخ مودی کی بجائےعمران خان کی طرف موڑدیا ،اطلاعات کےمطابق (ن) لیگ کے صدر شہبازشریف نے آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پروزیراعظم عمران خان کے کشمیریوں کے دشمن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف بیان کو ناپسند کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کےایسے بیانوں سے بھارت سے تعلقات مزید خراب ہوجائیں‌ گے

    ذرائع کےمطابق اپنی اسی ناراضگی کا اظہارشہبازشریف نے سیاسی زبان کا سہارا لیتے ہوئے کیا ، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں (ن) لیگ کے صدر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی خارجہ امور سے عدم واقفیت سے ملک کو بڑا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، عمران خان کے عجیب و غریب بیانات پاکستان اور بیرون ملک دوستوں کے وقارکو مجروح کر رہے ہیں۔

    شہبازشریف نے یہ ردعمل آج عمران خان کی تقریر پردیا ہے جوانہوں کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے کی ہے ،مودی کے خلاف وزیراعظم عمران خان کے سخت الفاظ شہبازشریف پربجلی بن کرگرے ، جس کی وجہ سے شہبازشریف نے نام لینے کی بجائے اشارتاً خارجہ پالیسی کا نام دے کرسخت تنقید کی ،

    ن لیگ کے صدرمیاں‌ شہبازشریف کا کہنا تھا کہ امور خارجہ پر بولنے سے پہلے معاملے کی نزاکت کا ادراک ہونا چاہیے، عمران خان کو چاہیے ایسے حساس معاملات پر بولنے سے پہلے کچھ پڑھ لیں یا بریفنگ لے لیا کریں تاکہ ملک کو شرمندگی سے بچاجاسکے۔

  • مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    کشمیر ایشو اور کے فریقین کے کرداروں پر تجزیہ!!!
    محمد عبداللہ کی تحریر

    مقبوضہ جموں و کشمیر پر پر ویسے تو قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت نے تقسیم ہند کے سبھی اصولوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اپنی افواج داخل کرکے جابرانہ قبضہ کرلیا تھا اور مسلسل کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا تھا لیکن جب سے نریندر مودی بھارت میں برسر اقتدار آیا ہے تب سے کشمیر کے مسلمانوں پر حالات مزید تنگ سے تنگ ہوتے چلے جا رہے ہیں. مودی نے اپنے پہلے دور حکومت میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالتے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اس کو بھارت میں ضم کرے گا اور بالآخر دوسری بار وزیراعظم بننے کے بعد پانچ اگست دو ہزار انیس کو نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا اور اس فیصلے پر ردعمل سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی افواج میں یکلخت اضافہ کرکے جموں و کشمیر میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کردیا. مقبوضہ وادی کے حالات سے بیرونی دنیا کی آگاہی اور مقامی لوگوں کے بیرونی دنیا سے روابط کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور ہر طرح کے ذریعہ مواصلات کو بند کردیا گیا. کشمیری مسلمان اس سے قبل ہی بھارتی افواج کی سنگینوں تلے مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے مگر اس طویل ترین کرفیو اور ہر طرح کی بندش نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی، بیرون ممالک موجود کشمیریوں کے اپنے پیاروں سے روابط مکمل طور پر منقطع ہوچکے تھے اور کسی کو نہیں پتا تھا کہ ان کے عزیز و اقارب کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا بھارتی افواج کے جبر اور ریاستی دہشت گردی کی تاب نہ لاتے ہوئے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ چکے ہیں.
    مودی نے اس انتہائی اقدام کے لیے بڑی زبردست ٹائمنگ کا انتخاب کیا ہے. ایک طرف تو پاکستان ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے پھنسا ہوا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں سیاسی انتشار اور اکھاڑ پچھاڑ نے بھارت کو اس فیصلے کو کرنے میں خاصی مدد دی ہے. کشمیریوں کا دنیا میں واحد وکیل پاکستان تھا اور ہے لیکن اس موقع پر پاکستانی بھی سوائے آہ و فغاں کرنے کے کچھ نہ کر سکے کہ انٹرنیشنل پریشر اور ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا اترنے کے چکر میں کشمیر کے نام لیواؤں کو پس دیوار زنداں دھکیل دیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پوری حکومتی مشینری تمام تر افرادی اور مادی وسائل کے باوجود بھی کشمیر پر ایک قابل ذکر احتجاجی پروگرام تک نہ کرسکی. یہ بڑی حیران کن صورتحال تھی کہ مذہبی جماعتوں کی کال پر ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ کشمیر کی آواز بنتے تھے مگر بہت بڑے بڑے سیاسی جلسے اور دھرنے کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومتی مشینری ہونے کے باوجود بھی کشمیر پر عوام کو جمع کرنے میں ناکام رہی ہے. وزیراعظم کے حکم پر دو تین دفعہ جمعہ کے بعد آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا بھی دشوار لگا اور بالآخر وہ بھی چھوٹ گیا. کشمیر پر بھارتی قبضے کے حوالے سے آجاکر پاکستان کے پلڑے میں وزیراعظم پاکستان کی دو چار تقاریر ہیں اور بڑا زبردست موقف ہے لیکن پتا نہیں کیا وجوہات ہیں کہ پاکستان اس موقف کو عالمی سطح پر پھیلانے سے قاصر ہے.
    مسئلہ کشمیر پر میرے خیال سے چار فریق بنتے ہیں ان میں سے دو تو ڈٹے ہوئے ہیں ان میں سے ایک انڈیا کہ اس نے انتہائی قدم تک اٹھالیا کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت، عالمی سطح پر متنازع حیثیت سب کو بالائے طاق رکھتے کشمیر کو بھارت کے اندر ضم کرلیا ہے اور اب اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی پلاننگ چل رہی ہے تاکہ کل کو دنیا کے مجبور کرنے پر اگر رائے شماری کروانی بھی پڑے تو کشمیر ہاتھ سے نہ جائے اس کے لیے بھارت کے ذرائع ابلاغ اور حتیٰ کہ فلم انڈسٹری ملکی اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کر رہی ہے ایسی موویز بنائی جا رہی ہیں کہ جن میں دکھایا جا رہا ہے کہ ہندو پنڈتوں پر ظلم کرکے ان کو کشمیر سے نکالا گیا تھا اور وہ اب اپنے گھروں کو واپس جانا چاہ رہے ہیں اسی طرح دوسرا اور سب سے متاثر فریق اہل کشمیر ہیں جو اب تک قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں مگر آزادی کے سوا ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا، وہ عزم و استقامت کے پہاڑ بن کر اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن اور کرفیو بھی ان کے عزم و استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکا جبکہ تیسرا فریق عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کا فورم مسئلہ کشمیر پر مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انسانیت کے کسی بڑے قتل عام کے منتظر ہیں ان کی مجرمانہ خاموشی انڈیا کی ہی مددگار ثابت ہورہی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا چوتھا اور اہم فریق پاکستان کہ جس کی بقاء مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے وہ دعوے تو بلند و بانگ رکھتا ہے اور بہت کچھ کرنا بھی چاہتا ہے مگر کچھ بھی کر نہیں پا رہا یا کرنا نہیں چاہ رہا. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی پر وزیراعظم پاکستان اور بالخصوص وزیر خارجہ ایک لمحہ بھی ٹک نہ بیٹھتے اور مسلسل لابنگ کرتے عالمی فورمز کو متحرک کرتے، عالمی کانفرنسز اور پریس کانفرنسز کا انعقاد کرتے، اقوام عالم کو مسئلہ کشمیر پر قائل کرنے کے لیے ہنگامی دورے کیے جاتے مگر پتا نہیں وہ کونسی وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان اب تک نہ تو لابنگ کرسکا، نہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرسکا یہاں تک کہ ڈھنگ کی کوئی ڈاکیومنٹری یا مووی تک بنا سکا جو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو اجاگر کرتی. بلاشبہ مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقاریر بہت جاندار اور بہترین موقف کی حامل ہیں مگر جہاں ریاستوں کی بقاء کا مسئلہ ہو وہاں دو چار تقاریر تک محدود نہیں رہا جاتا وہاں عملی اور ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں اور جراتمندانہ فیصلے لینے پڑتے ہیں وگرنہ تاریخ معاف نہیں کیا کرتی.

  • کشمیراور ہم—از—عثمان عبدالقیوم

    کشمیراور ہم—از—عثمان عبدالقیوم

    سکول سے لے کر کالج تک اور وہاں سے یونیورسٹی تک یہ بات اساتذہ کرام سے سنتے آ رہے ہیں کتابوں میں پڑھتے آ رہے کہ تقسیم ہند کے وقت وائسرائے ہند لارڈ ماونٹ بیٹن نے کہا تھا کہ تقسیم ہند کے وقت کسی بھی ریاست کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہو گی اگر کوئی ریاست میں موجود لوگوں کا اس بات پر اختلاف ہو کہ پاکستان کے ستاھ شامل ہونا ہے یا بھارت کے ساتھ تو ایسی صورتحال میں وہاں کی عوام سے رائے لے اسکے نتائج کے مطابق فیصلہ حتمی اور قابل قبول ہوگا ریاست جموں کشمیر پر اسی طرز پر حالات کی سنگینی معمول پر آنے تک رائے دہی کروا کر اسکی الحاق کا وعدہ کیا گیا جو آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔

    میں راجہ مہاراجہ کشمیر اور بھارت کے درمیان غاصبانہ قبضہ کی غرض سے 1947اپنی فوج کو وادی میں داخل کر کے بڑے حصے پر قابض ہو گیا تاہم اہلیان کشمیر کی کی جانب سے بھرپور مذاہمت پر بھارت نے اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا اور بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے دنیا کے سامنے یہ وعدہ کیا کہ وہ جلد اس مسئلے پر تقسیم ہند کے وقت الحاق کے حوالے سے جو طریقہ کار اس وقت کے وائسرائے کے طریقہ کے مطابق رائے شماری کروا کر اس کے مطابق فیصلہ کروا دے گا مگر تب سے آج تک بھارت اس وعدے سے مکمل طور پر مکر گیا اور یہ راگ الاپنے لگا کشمیر تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے حالانکہ مسلم اکثریت کی وجہ سے اسکا پاکستان کے ساتھ ملنا لازم ہے مگر اقوام متحدہ گونگی بنے دیکھ رہی ہے۔

    دوسری جانب دنیا کے نزدیک کشمیر سب سے حسین اور خوبصورت ٹکڑا ہے کیونکہ یہ وادی اپنے دامن میں پہاڑوں کے سائے تلے دریاوں سے زرخیز ہونے والی سرزمین ہے اوراسی قدرتی حسن کے باعث و نسبت وادی زمین پر جنت تصورکی جاتی ہے مگر دنیا والوں تم کیا جانو خطہ ارض پر وادی کشمیر سب سے زیادہ ظلم و جبر سہنے والے خطوں میں صف اول پر ہے کیونکہ یہ وہ وادی ہے جہاں بارود اور خون کی مہک اب وہاں کے پھولوں اور پھلوں سے زیادہ تیز ہے دریا اپنی موجوں میں خون لیے پہاڑوں سے ٹکراتی ہیں وہاں بسنے والے جوان ہوں یا بوڑھے بچے ہوں یا عورتیں سب ہرآہٹ پر خود کو بھارتی فوجیوں کی گولی کا نوالہ بنتے محسوس کرتے ہیں۔

    یہاں تک بھارت کے ظلم و ستم سے اب تک تقریبا 1 لاکھ افراد شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے ہزاروں بچے یتیم، ہزاروں بہنیں بیوہ ہو چکیں 10 سے 12 ہزار نوجوان بھارتی آرمی کے ہاتھوں اغواء ہونے کے بعد لاپتہ ہوئے سینکڑوں بہنوں کی عزت کو تار تار کیا ہزاروں کی تعداد میں نا معلوم قبریں ملی ہیں یہاں تک کے شاید کوئی ایسا ظلم نہیں جو مظلوم کشمیری پر آزمایا نا ہو بلکہ پچھلے سالوں میں میں پیلٹ گن اور کیمکلز کا بے جا استعمال کیے گئے اور سینکڑوں معصوم انکا شکار ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھوں کی بنائی کھو بیٹھے حالات اس قدر خوف زدہ ہیں کے 9 لاکھ فوجی اس وادی میں تعینات ہیں

    ایک اندازے کے مطابق 7 کشمیریوں پر ایک ظالم فوجی تعینات ہے اور اسی غرور میں دنیائے کفر کے بڑے بڑے سرداروں کی مدد سے پچھلے سال اپنے کالے قانون میں ترمیم کر کے کشمیر کی آزادی کی حیثیت کو ختم کر کے اپنا ؑعلاقہ بنانے کی کوشش کی اور کشمیر میں پچھلے 6 ماہ سے تمام بنیادی سہولتیں مطعل ہیں کھانے پینے کی اشیاء ، میڈیکل کی سہولیات سمیت موبائل فون اور انٹرنیٹ مسلسل بند ہیں

    اس ظلم کے خلاف نا ہی کوئی ملالہ بولی نا امن کی این جی اوز نا کفار کی لونڈی اقوام متحدہ بولی باوجود اتنے ظلم و بربریت وہ آج بھی پاکستان زندہ باد، کشمیر بنے گا پاکستان، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ جیسے نعرے بلند کرتے ہوئے قربانیاں دے رہیں ہیں مسجدوں میں پاکستان کے ترانے گونجتے ہیں شہداء کو پاکستان کے پرچم میں قبر میں اتارا جاتا ہے دن رات لبوں پر ایک دعا رہتی ہے اے اللہ کشمیر کو پاکستان بنا دے آزادی کے لیے اس طرح مسلسل ڈٹے ہیں وہاں موجود بھارتی فوج کا اپنی حکومت سے یہ کہنا ہے اگر فوج کودئے گئے مخصوص کالے قانون واپس لیے گئے تو کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور کالے قانون کی وجہ سے ہی ابھی تک کشمیر آزاد نہیں ہوا۔

    افسوس کی بات یہ ہے ایک طرف ہم کشمیریوں کی حق خوداریت کے حق میں اور بھارتی قبضہ کے خلاف بات کرتے ہیں اور دوسری جانب ہمارے سابقہ وزیر اعظم کا رویہ ایسا ہے کہ بھارت میں جا کر حریت قیادت سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا تھا پچھلے دور حکومتوں میں خارجہ کے اہم امور کے لئے ہمارا وزیر خارجہ نہیں جو عالمی سطح پر کشمیر پر بات کر سکے دنیا کو یہ بتا سکے تحریک آزادی کشمیر ایک نظریہ کی بنیاد پر ہے کشمیر اور پاکستان کے رشتے کی نطریاتی بنیاد دنیا کے سامنے رکھ سکیں

    یہاں تک کو کشمیر کے لئے بین الاقوامی فورم پربات کرنے والے افراد کشمیر کے نقشے و تاریخ کے مطلق نہیں جانتے سول سطح پر کشمیر پر ہماری کوئی منظم پالیسی نہیں کشمیر کمیٹی پر کئی سال براجمان رہنے والے صرف سہولیات اور دعوتیں اڑانیں میں حالات کی سنگینیوں سے غافل سوتے رہے بہت بھی کیا تو رٹہ رٹایا مذمتی بیان دے دیا اور اب محب وطن لوگوں کو بھارت کے کہنے پر کشمیر پار بات کرنے والوں کو پابند سلاسل کرتے رہے بطور عوام کشمیر کی آزادی کو لطیفہ کے طور پر لیتے ائے اگر کوئی ذاتی مسئلہ حل ناہو تو ہم یہ کہ دیتے ہیں یار یہ تو مسئلہ کشمیر بن گیا ہے یہ تو حل ہو ہی نہیں سکتا دوکانوں کے اوپر پوسٹر آویزاں ہیں

    کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے جب مایوسی کے یہ حالات ہوں تو کیسے مان لیں کشمیرکی ہم مدد کر سکیں گے بلکہ پچھلے سال وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کشمیر کا کیس بہت اچھے انداز میں ہیش کیا گیا دنیا کے سامنت سیکولر اور جمہوریت کا دعویدار بھارتی ظلم و بربریت کا پردہ فاش کیا جب بھارت کو دنیا کے سامنے رسوائی کا سامنا کروایا بلکہ حریت قیادت نے خان صاحب کا شکریہ ادا کیا مگر بطور قوم ہم نے سراہنے کی بجائے اس کا بھی خوب مزاق کیا اپوزیشن کے چند اراکین نے یہ تک کہ دیا کہ یہ تقریر نہیں بچگانہ زہن کی حامل تقریر تھی

    ان سب باتوں کو چھوڑ کر کشمیر کی ازادی کے لئے ہمیں خود ہی محمد بن قاسم پیداء کرنا ہوگا ہمیں خالد بن ولید رضی اللہ جیسے بہادر نڈر حوصلہ اپنانا ہوگا حیدر کرار جیسی شجاعت پیداء کرنی ہوگی ہمیں اپنے اندر ایسا محمود غزنوی تلاش کرنا ہوگا جو کشمیر کی آزادی کا مجاہد بن سکے اور اگر ایسا کچھ کر نہیں سکتے تو کم از کم انکے لیے میسر سوشل میڈیاکے ذریعے مظلوموں کی آواز بنیں فیس بک پوسٹ اپروو نا بھی کرے تو پریشان نا ہوں واٹس ایپ، ٹویٹر یا دیگر سماجی سائٹس پر انکے لیے لکھیں بولیں

    آخرمیں اپنی قوم سے حکمران جماعت و اپوزیشن سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ اب پھر 5 فروری کا دن آ رہا ہے جسکو دنیا بھر میں پاکستانی اور کشمیری یوم یکجتی کشمیر کے طور پر ہر سال کی طرح سرکاری سطح پرمنانے کا اعلان ہو چکا ہے یہ مسئلہ ہمارا اپنا ہے نیند سے بیدار ہو کر اب ہمارے جاگنے کا وقت ہے کیونکہ اگر ہم مشترکہ آواز بلند کریں گے دنیا بات سنے کی اگر بکھر کر ماضی دہرائیں گے دنیا بھی ہماری بات پر توجہ نہیں دے گی مختصر یہ کہ گر آج نہ جاگے تو کبھی جاگ نہ پائیں گے

    دعا ہے اللہ رب العزت کے حضور کے دنیا کی جنت نظیر وادی جلد آزاد ہو

    کشمیراور ہم—از—عثمان عبدالقیوم

  • 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر سال کی طرح اس سال بھی 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا جا رہا ہے مگر ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ جو دن ہم منا رہے ہیں اس کا مقصد کیا ہے اور تاریخ میں اس کی کیا اہمیت ہے
    ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ تقریبا 84000 مربع میل ہے جس میں سے 70 فیصد پر انڈیا 1947 سے قابض ہے جبکہ باقی 30 فیصد کا علاقہ ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے اس وقت ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی 1 کروڑ سے زیادہ ہے
    80 لاکھ سے زاہد باشندے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندو کی غلامی و ظلم و جبر کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 25 لاکھ کے قریب ریاست آزاد جموں و کشمیر کے آزاد و خودمختار شہری ہیں
    1846 میں مسلمانوں کے دشمن انگریز پلید نے ریاست جموں و کشمیر کو غدار ڈوگرہ راجہ غلام سندھ کو اس وقت کے 75 ہزار کے عیوض بیچ دیا تھا پھر تقسیم ہند کے بعد جبکہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو دیئے جائینگے مگر 26 اکتوبر 1947 کو اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمان جموں و کشمیر اور معائدہ تقسیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف الحاق بھارت کا اعلان کیا جسے غیور کشمیریوں نے ناقبول کیا مسلمانان جموں و کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کے خلاف سیخ پا ہو گئے کیونکہ وہ شروع سے ہی نعرہ لگاتے آئے تھے کشمیر بنے گا پاکستان اور قیام پاکستان کیلئے غیور کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں بھی دیں جو کہ تاریخ میں سنہری حروف کیساتھ رقم ہیں
    مسلمانان مقبوضہ جموں و کشمیر کا مہاراجہ کے فیصلے کے خلاف غصہ بڑھتا گیا اور انہوں نے فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مظاہرے کئے اور اپنی آزادی کیلئے پاکستان کے مسلمانوں کو پکارا اور یوں پاکستان و ہندوستان کے مابین پہلی جنگ قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی لڑی گئی اکتوبر 1947 سے 1 جنوری 1949 تک کی اس جنگ میں بھارت کو پاکستانی قبائلیوں اور فوج کے علاوہ غیور کشمیریوں سے منہ کی کھانی پڑنی اور اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا قیام عمل میں آیا آج جس کا دارالحکومت مظفر آباد ہے جہاں اس کی اپنی آزاد سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہے ان کا اپنا علیحدہ صدر و وزیراعظم ہے
    عنقریب تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہونے والی یہ جنگ پورے بھارت کو اپنی لپٹ میں لے لیتی اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل میں جاکر منت سماجت کی کہ جنگ بندی کروائی جائے کیونکہ نہرو جان چکا تھا کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے بعد اب یہ جنگ نہیں رکنے والی اور یہ جنگ پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کروا کے بھارت تک پہنچ جائے گی اسی لئے نہرو سلامتی کونسل پہنچا جس کے باعث سلامتی کونسل میں بیٹھے انسان نما جانوروں سے ساز باز کرکے جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور اس کیساتھ نہرو و سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا کہ ریفرنڈم کروایا جائیگا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا کہ آزاد خود مختار کشمیر
    اب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے کل 18 قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر ہر بار بھارت انکاری رہا مگر افسوس کہ سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں
    سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کرواتے ہوئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے مگر بھارت و تمام عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے و ظلم و جبر میں رہتے ہوئے کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک 1 لاکھ سے زائد شہادتیں ہزاروں ماءوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہونے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں
    ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں و گھروں میں لہراتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں
    جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا