Baaghi TV

Category: کشمیر

  • ابن قاسم کی فریاد۔۔از قلم خنیس الرحمن

    ٓٓکشمیری آج ایک قابض فوج کے خلاف آپ کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔جب میں ایک دفعہ اپنے والد سے ملنے جیل میں گیا تو میں نے اپنے والد سے پوچھا آپ جیل میں کیوں ہیں تو میرے بھائی نے کہا کہ ابو ہوم ورک نہیں کرتے تھے تو اس وجہ سے ان کو انڈیا نے جیل میں ڈال دیا ہے تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ایک دفعہ مجھے اپنے ابو کی بہت یاد آرہی تھی تو میں نے جان بوجھ کر ہوم ورک نہیں کیا۔میں نے سوچا کہ شائد اس طریقے سے میں اپنے والد کے ساتھ رہ سکوں۔لیکن ایسا نہیں ہوا تو میں اپنے والد کے پاس گیا تو میرے والد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنی کمر سے اپنی شرٹ ہٹائی تو اس پر ٹارچر کے نشان تھے۔میں نے اپنی آنکھیں بند کیں میں نہیں دیکھ سکا تو میں نے اپنے ابو سے کہا یہ کس نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔یہ کس نے کیوں آپ کے ساتھ کیا ہے تو ابو نے کہا انڈیا۔۔چھوٹا سا تھا تب میں۔۔کشمیر میں بچے سکول بیگ سے زیادہ تابوت اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔جو بھی پاکستان میں ارباب اقتدار ہیں آپ انہیں کہیں وہ کشمیر کے لیے کچھ کریں کیونکہ صرف باتوں سے نو لاکھ فوج کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔آپ کو ضرورت ہے تب تک جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔بہت ظلم ہوچکاہے۔پچھلے سترسال سے کشمیری لاک ڈاؤن میں رہ رہے ہیں۔اب وقت آچکا ہے کہ پاکستانی قوم اس ایشوکو اٹھائے۔کشمیر میں لوگ کیا سڑکوں یا کسی ڈویلپمنٹ کے لیے لڑ رہے ہیں نہیں انڈیا سب کچھ دینے کو تیار ہے۔وہ سری نگر کو سمارٹ سٹی بنانے کو تیار ہے۔کشمیر ی کہتے ہیں ہمیں روٹی،کپڑااور مکان نہیں چاہیے ہم آدھی روٹی کھائیں گے لیکن سر نہیں جھکائیں گے۔یہ بات یاد رکھیں کہ کہ کشمیریوں کا آپ پر ایک قرض ہے اویہ مسئلہ کسی خاص فرد یا خاندان کا نہیں سب پاکستانیوں کا ہے۔۔
    یہ الفاظ ایک ایسے نوجوان کے ہیں جس کی والدہ اور والدہ اپنے آپ کو تحریک آزادی کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں بند ہیں۔جن کا جر م یہ ہے وہ آزادی کی صدا بلند کرتے ہیں۔یہ احمد بن قاسم کے الفاظ ہیں جو انہوں نے شاہراہ دستور پر ملین مارچ سے خطاب کے موقع پر کہے ایک وقت تھا ان کی والدہ پاکستان کے نام پاکستان کے صاحب اقتدار کے نام کشمیریوں کا پیغام بھیجا کرتی تھیں آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں پاکستان کا پرچم لہرانے کی وجہ سے زندان میں ہیں اس لیے آج خود بیٹا اپنی والدہ کا پیغام پاکستانیوں کو پہنچا رہا تھا۔احمد بن قاسم نے ان مختصرالفاظ میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم ان کی مشکلات اور ان کی فریاد کو ہمارے سامنے رکھ دیا،احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو جنہیں کشمیر کا نیلسن منڈیلا بھی کہاجاتا ہے،چھبیس سال سے اودھم پور کی جیل میں پابندسلاسل ہیں۔انہیں پہلی مرتبہ 1993ء میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیجا گیا اور پھر بعد میں بھارتی سپریم کورٹ نے جنوری 2003ء میں انہیں تاحیات عمر قید کی سزا سنادی تھی۔یوں ان کی ساری زندگی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے گزری ہے۔بھارتی حکومت اور فوج نے اس طویل عرصہ میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سخت اذیتیں پہنچائیں اور جدوجہد آزادی سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کیں لیکن غاصب بھارت کا ظلم وجبر انہیں جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔1993میں گرفتاری اور6سال کی نظربندی کے بعدعدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کردیاتھا لیکن بھارتی فورسز نے انہیں 2002ء میں نئی دہلی کے اندرا گاندھی ائرپورٹ پر اس وقت دوبارہ گرفتار کرلیا جب وہ لندن میں کشمیر کے حوالے سے ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔اس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود محض تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے جرم میں گرفتاررکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر قاسم فکتو مقبوضہ جموں کشمیر اور جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی سے شادی کے بعد ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم سیدہ آسیہ اندرابی اوران کے بیٹے کو1995ء میں رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹر قاسم فکتوکی سزا برقرار رہی۔ مسلم دینی محاذ کے سربراہ بھی ہیں انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی اور 125قیدیوں کو گریجویشن کرائی۔عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی تھی جو 14سال بنتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت نے انہیں 26 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے لیکن کوئی ان کی آواز سننے والا نہیں ہے۔ جیسا کہ احمد نے کہا کہ کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں آج ان کے والد بھی کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی تکمیل کے لئے جیل میں ہیں۔ذرائع کیمطابق احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو کو بھارت کی طرف سے بہت بھاری پیشکش کی گئی۔ ان کو اسلامک یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے حیثیت سے تعینات کرنے کی پیش کش کی گئی،اس کے علاوہ 2002 کے دوران آئی بی کے چند افسران نے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی پیش کش بھی کی تھی۔ اسی طرح انہیں وزارت تعلیم کاقلمدان بھی سنبھالنے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے ان سب کو ٹھکرا دیا۔احمد کی والدہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ تحریک آزادی کے لیے آوازبلند کرنے والی واحد خاتون ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ جیلیں کاٹیں۔آج بھی سیدہ آسیہ اندرابی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔انہیں بھی صرف پاکستان سے محبت کی سزا دی جارہی ہے وہ اپنے پروگراموں میں پاکستان کا پرچم لہراتی ہیں۔اپنے گھر پر پاکستانی پرچم لہراتی ہیں تو ان کے گھر کو بھارت کی طرف سے سیل کردیا جاتا ہے۔وہ یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ پڑھتی ہیں ان پر غداری مقدمہ کرکے جیل میں بند کردیا جاتا ہے۔وہ برملا دوٹوک کہتی ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ جینا مرنا پسند کرتے ہیں۔احمد جس طرح سے کہہ رہے تھے کہ ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔ان کی والدہ کا یہی جرم تھا وہ کہتی تھیں کہ اسلام کی بنیاد پر،ایمان کی بنیاد پر،قرآن کی بنیاد پر،محمدﷺ کی محبت کی بنیاد پر ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔آج کشمیر میں مسلسل کرفیو کو ۱سی سے زائد دن گزر چکے ہیں ہمیں جاگنا ہوگا۔لوگ کہتے ہیں جلسوں،تقریروں اور پرچم لہرانے سے کیا ہوتا ہے آج وہ پاکستان کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں،جیلیں کاٹ رہے ہیں،گولیاں کھا رہے ہیں ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ ہم ان کے لیے آواز بلند کرسکیں۔آسیہ اندرابی کہا کرتی ہیں کہ پاکستان مدینہ ثانی ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم بھی یہی کہتے ہیں آج ریاست مدینہ کی بیٹی کا لخت جگر ہم سے فریاد کررہا ہے کہ کشمیریوں کا آپ پر قرض ہے ہمیں اس قرض کا بدلہ چکانا ہوگا۔

  • بھارت کا تحریک آزادی کشمیر کو "موبائل سموں” سے کچلنے کا فیصلہ

    سری نگر: بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگانے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور کسی طرح تحریک آزادی کشمیر کو روکنا چاہتی ہے جس کے پیش نظر مودی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پولیس کی تصدیق کے بغیر نیا موبائل کنکشن جاری نہیں ہوگا

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں پولیس نے ٹیلی کام آپریٹرز سے کہا ہے کہ وہ پولیس کی تصدیق مکمل کیے بغیر صارفین کو کوئی نیا سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو ہدایات جاری کیں کہ ان کی سروسز کا غلط استعمال ہونے کی صورت میں ، کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے اب مناسب تصدیق کے بعد ہی پوسٹ پیڈ سم کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پولیس تصدیق کے ساتھ ساتھ کمپنی کا اپنا طریقہ کار(Know Your Customer) (کے وائی سی)بھی شامل ہے۔

    ایئر ٹیل کے ایک عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کو پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو بغیر تصدیق کے سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے پری پیڈ سم کارڈز کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
    حکام نے 70 دن کے وقفے کے بعد 14 اکتوبر کو 40 لاکھ سے زیادہ پوسٹ پیڈ فون بحال کئے تو اس کے بعد لوگو ں میں پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ میں کروانے کا رجحان بڑھ گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں 40 لاکھ پوسٹ پیڈ صارفین اور 26 لاکھ سے زیادہ پری پیڈ صارفین ہیں۔

    براڈ بینڈ ، موبائل فون سروسزاور انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلات کو 5 اگست کو معطل کردیا گیا ، جب بھارت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر خصوصی حیثیت ختم کردی اور ریاست کو دو مرکز علاقوں میں تقسیم کردیا۔
    ایک سینئر پولیس آفیسر نے ساؤتھ ایشین وائر کوبتایا کہ انہوں نے ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا ہے کہ کوئی نیا سم کارڈ جاری کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کے مناسب طریقہ کار پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا ، "اگر ٹیلی کام کمپنیوں نے پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ کنکشنز میں تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔”

    کشمیر بھر میں پوسٹ پیڈ کنکشن کی بحالی کے ایک ہفتہ بعد ، سینکڑوں افراد نئے پوسٹ پیڈ سم کارڈ حاصل کرنے یا پری پیڈ کارڈ کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل کرنے کے لئے جیو ، ایرٹیل ، بی ایس این ایل ، ووڈافون ، آئیڈیا اور دیگر آپریٹرز کے شورومزپر امڈآئے تاہم ، بہت سے صارفین مایوس لوٹے کیونکہ تمام ٹیلی کام کمپنیوں نے سموں کی پوسٹ پیڈ میں تبدیلی سے انکار کردیا تھا۔

  • آزاد کشمیر میں احتجاج کرنےوالے علیحدگی پسند کون لوگ ہیں ؟

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں نام نہاد قوم پرست جماعتوں کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری ہے اس احتجاج میں آزاد جموں و کشمیر کی چھوٹی بڑی 20 سے زائد جماعتوں کے اتحاد نے شرکت کر رکھی ہے، اس کا اتحاد کے احتجاج کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کشمیر کو کلی طور پر تمام اکائیوں کے سمیت مکمل آزاد کیا جائے اور اسے ایک خود محتار ریاست بننا چاہیے ،

    آزاد کشمیر کی بیشترعلیحدگی پسند تنظیمیں جو کہ حالیہ احتجاج کا حصہ ہیں کشمیر متعلق پوری پاکستانی قوم سے محتلف نظریات رکھتی ہیں، ان علیحدگی پسند تنظیموں کےمطابق 21 اکتوبر 1947 کو قبائلی مجاہدین کشمیری عوام کی مدد کیلئے کشمیر آئے تھے اور ان کے آنے کے بعد بھارت نے کشمیر میں اپنی افواج اتاری تھیں، اور انہی قبائلیوں کی وجہ سے کشمیر تقسیم ہوا اور انہی کی وجہ سے آج کشمیری ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں اور یہ بڑے مجرم ہیں، اور یہ تمام علیحدگی پسند لوگ 21 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کیلئے راولا کوٹ سے مظفرآباد کیلئے نکلے ہوئے تھے

    مظفر آبد میں اپر اڈا کے مقام پر ان لوگوں نے جلسے کا اعلان کر رکھا تھا جہاں انہوں نے اپنی تقریب کرنی تھی وہاں پر جب یہ لوگ اکٹھا ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے مظفر آباد قانون ساز اسمبلی کی طرف مارچ کرنا ہے، ابھی انتظامیہ کیساتھ مذاکرات ہو رہے تھے تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا ، حالات کو قابو کرنے اور نارمل حالت میں لانے کیلئے پولیس نے ان مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کیا ، اس ہنگامی صورت حال کے نتیجے میں ایک بزرگ شہری جا بحق ہوئے جن کا ان مظاہرین کیساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ، اس کے بعد مظفر آباد پریس کلب کے سامنے بھی احتجاج کیا گیا تھا جہاں پولیس کی بھاری نفری نے حالات کو قابو میں کیا گیا تھا

    اس سارے معاملے میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ان لوگوں کے مطالبے پہ دفتر خارجہ کو خط لکھا تھا کہ یوا ین کی ہیومن رائٹس کونسل کا وفد مظفرآباد آئے اور ان لوگوں سے ملاقات کرے، اس بعد راجہ فاروق حیدر ان علیحدگی پسند جماعتوں کو لیکر مظفرآباد میں یو این کے دفتر گئے جہاں انہوں نے اپنی یادادشت جمع کروائی جسے یہ کہتے ہیں کہ ان کے یو این کیساتھ مذاکرات ہوئے ،

    اور ان علیحدگی پسند جماعتوں کے احتجاج کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ 21 اکتوبر جس دن یہ احتجاج شروع ہوا اس دن ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان میں موجود تمام ممالک کے سفیروں کو کنٹرول لائن کا دورہ کروایا ہے اور بھارت کا جھوٹ کا پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور کشمیر ایشو پر پاکستان فرنٹ فٹ پر کھیل رہا ہے ، ایسے میں بھارت سے یہ ٹویٹس آنا شروع ہو گئی ہیں کہ مظفر آباد میں پاکستانی فوج کیخلاف احتجاج کرنے پولیس نے کشمیریوں پر لاٹھی چارج کیا ہے،

    کچھ انڈین ٹی وی چینلز نے تو اس ہنگامی صورتحال کو براہ راست بھی بھارت میں دکھایا جو کہ پاکستان کے امیج اور سالمیت کیلئے بالکل اچھا نہیں ہے ، اور یہ احتجاج مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے بھی جا ملتا ہے جو کہ وقت اور جگہ کے لحاظ سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ،

    مولانا فضل الرحمن بیرونی ایجنڈے پرپاکستان کوبدنام کرنے پرتلے ہوئے ہیں،سنی اتحاد کونسل

  • 26 سال سے جیل میں قید کشمیری باپ نے اپنے بیٹے کو خط میں کیا لکھا ؟

    پچھلی سات دہائیوں سے پاکستان کے پڑوسی بھارت نے وادی کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے جس طرح کشمیریوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے، تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی، اور اس طلم و جبر کی تاریک رات میں بھی کئی ایسے حریت کے ستارے چمکے جن کی روشنی آج تک مانند نہ ہوئی ،

    ایسے ہی ایک ستارے ڈاکٹر محمد قاسم ہیں جو کہ نڈر و بےباک کشمیری خاتون آسیہ اندرابی کے شوہر ہیں ، ڈاکٹر محمد قاسم پچھلے 26 سال سے جیل میں قید ہیں، عرصہ دراز سے ان کے اہلحانہ کو ان کی کوئی خبر نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں ، کچھ دن پہلے ڈاکٹر محمد قاسم نے اپنے بیٹے احمد بن قاسم کو ایک خط لکھا اور اس خط میں ایک نظم لکھ کر بھیجی ہے جس میں وہ اپنے بیٹے احمد اور اس جیسے کئی دلیر بیٹوں کی ڈھارس بندھاتے ہیں، ڈاکٹر محمد قاسم لکھتے ہیں

    میں روح ہوں
    یہ قید اور موت میرے لیے نہیں ہیں ، کیا مجھے ان سے ڈرنا چاہیے
    کون کسے قید کر رہا ہے ؟ نہ میں مارا گیا اور نہ مارا جاؤں گا
    یہ قید مجھے اپنے خطے اور لوگوں کے بارے سوچنے کا کہہ رہی ہے
    مییری روح تب تک میرا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی جب تک اپنا مشن پوارا نہ کر لوں

    ڈاکٹر محمد قاسم کے یہ الفاظ اپنے اندر اس قدر وزن رکھتے ہیں کہ پڑھنے والا کوئی بھی شخص جو کشمیری ہے یا کشمیریوں سے ہمدردی رکھتا ہے وہ پر عزم ہو جائے گا، اوراہل کشمیر کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار ہو جائے گا

  • "پاکستانیوں اور کشمیریوں کی محبت کی انوکھی مثال” تحریر: غنی غنی محمود

    "پاکستانیوں اور کشمیریوں کی محبت کی انوکھی مثال” تحریر: غنی غنی محمود

    ماں باپ سے محبت ایک فطری عمل ہے مگر بیٹیوں کو ماں باپ سے لڑکوں کی نسبت زیادہ محبت ہوتی ہے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملین مارچ کیلئے 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر تھی مگر سابق سربراہ آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل حمید گل مرحوم کی زوجہ محترمہ کی نماز جنازہ بھی 20 اکتوبر بوقت 2:30 پر تھی
    جب ماں باپ فوت ہو جائیں تو بہت دکھ ہوتا ہے مگر جب باپ کا سایہ پہلے ہی سر سے اٹھ چکا ہو تو پھر ماں کے مرنے کا دکھ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے عظمی گل جنرل حمید گل کی اکلوتی بیٹی ہیں مگر امت کی اس عظیم بیٹی نے ثابت کر دیا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں 2:30 پر اپنی شفیق و پیاری ماں کا جنازہ کروا کے ہماری یہ بہن انتہائی دکھ اور پریشانی میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنا نا بھولی اور کشمیر ملین مارچ میں اپنے مقررہ وقت پر خطاب کیا اور ملین مارچ کی نگرانی بھی کی واقع ہی ماں باپ کی تربیت بہت اثر رکھتی ہے جنرل گل مرحوم کی بیٹی نے کل ماں کے غم میں مبتلا ہوتے ہوئے بھی کشمیریوں کے غم کی آواز بلند کرکے ثابت کر دیا کشمیری اور پاکستانی بھائی بھائی ہیں
    کشمیریوں اور پاکستانیوں کی محبت بہت ہی پرانی ہے کیونکہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کا ناصرف مذہب ایک ہے بلکہ رسم و رواج اور بولی جانے والی زبان کی بھی آپس میں بہت مماثلت ہے کشمیریوں کی پاکستان سے محبت کا اندازہ قیام پاکستان میں کشمیری لوگوں کی قربانیوں سے اور پاکستانیوں کی کشمیریوں سے محبت کا انداز آزاد کشمیر کی آزادی اور تحریک آزادی جموں و کشمیر کی تحریک سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے
    یوں تو یہ محبت بہت پرانی ہے مگر جب سے انڈین حکومت نے کشمیر کی خود مختاری ختم کی ہے تب سے اس محبت میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے
    پچھلے تقریبا 3 ماہ سے کشمیری محصور ہیں اور نظام زندگی مفلوج ہو چکا ہے تلاشی کے بہانے نوجوانوں کو اٹھانا اور بعد میں جعلی مقابلوں میں شہید کر دینا انڈین فوج کا گھناؤنا فعل ہے جبکہ کشمیریوں کے پاس کھانے پینے کو بھی کچھ نہیں مگر افسوس کہ کشمیریوں پر انڈیا کے اس بیہمانہ ظلم و تشدد پر پوری عالمی برادری خاموش ہے ماسوائے پاکستان ترکی اور چند اکا دکا ممالک کے
    مظلوم کشمیریوں کے اس دکھ درد میں ہر پاکستانی برابر کا شریک ہے اور کشمیریوں پر انڈین ظلم کے خلاف ہر سطح پر اپنی آواز بلند کیئے ہوئے ہے اور تاریخ نے پہلی بار دیکھا کہ پاکستان کے شہروں کے علاوہ دیہاتوں اور گلی محلوں میں پاکستانی پرچم کیساتھ کشمیری پرچم بھی لہرا رہے ہیں جو کہ اس دو طرفہ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ایسی ہے محبت کا اظہار کرنے کیلئے کل پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں کشمیر یوتھ الائنس ملین مارچ میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں دنیا کا سب سے طویل ترین کشمیری پرچم لہرایا گیا جو کہ تقریبا 5 کلومیٹر پر محیط تھا جس کا مقصد کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیساتھ اسلام آباد میں قائم دنیا بھر کے سفارت خانوں تک پیغام پہنچانا تھا کہ کشمیریوں کے غم میں ہم پاکستانی ہر طرح سے شامل ہیں اور کشمیریوں کا غم ہمارا غم ہے ہم اپنی جان و مال کے ساتھ کشمیریوں کے کندھوں سے کندھے ملا کر کھڑے ہیں ان شاءاللہ

  • مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

    مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

    تقسیم ہند کے فوراً بعد جموں میں لاکھوں کشمیری مسلمانوں کا منظم قتل عام تاریخ کے ان واقعات میں سے ہے جس کے تحریری و زندہ ثبوت ہونے کے باوجود اس ہواقعے کے زکر کو دباکر ہندوتوائی ظلم کی اس بھیانک تصویر سے دنیا کو لاعلم رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے،

    نامور امریکی انسانی حقوق و سول رائٹس ایکٹیوسٹ میلکم ایکس کا کہنا ہے کہ "The Media is the most powerful entity of earth, have power to make the innocent guilty & the guilty look innocent” کے تحت ایسا ہی مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کیا گیا، بھارتی ظلم و جبر کو جائز قرار دینے کے لیے ہمیشہ سے مظلوم کشمیریوں کو دہشتگرد بنا کر دکھانے کی کوشش کی گئی،

    تقسیم ہند کے بعد 1947 میں ماہ اکتوبر کے وسط سے نومبر تک منظم طریقے سے جموں کے علاقے میں لاکھوں نہتے مسلمانوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا جسے بھارت کیساتھ ساتھ اہلیان مغرب نے بھی دبانے کی کوشش کی جبکہ چند پنڈت خاندانوں کا زکر اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ دنیا سمجھتی ہے ظلم ان کے ساتھ ہوا جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ظالم مظلوم بنادئیے گئے اور مظلوم کو ظالم بنادیا گیا، بلا جواز انسانیت کا قتل کیا گیا جس کا مقصد مسلمانوں کو ختم کرنا تھا،

    ادریس کانتھ کی تحقیق کے مطابق اکتوبر 1947 کے وسط میں ڈوگرا مہاراجہ نے RSS کی مدد سے جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا جس کے نتیجے میں تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار کشمیری مسلمانوں کو قتل کردیا گیا اور سات سے آٹھ لاکھ افراد کو جان بچا کر بھاگنا پڑا نتیجتاً تین ہفتے بعد مسلم اکثریتی جموں میں مسلمان اقلیت میں رہ گئے، اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن نے اس واقعے کو دبانے کے لیے میڈیا کو پابند کیا کہ وہ اس کی کوریج نہ کرے،

    ادریس کانٹھ کے مطابق یہ قتل عام قبائلیوں کے حملے سے پانچ روز پہلے شروع کیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ قبائلی پشتونوں نے ردعمل کے طور پر کشمیر کا رخ کیا، جواہر لعل نہرو نے اس واقعے کا ذمہ دار ڈوگرا مہاراجہ اور RSS کو قرار دیا انہوں نے 17 اپریل 1949 کو ولبھ بھائی پٹیل کو لکھے گئے خط میں اس کا زکر کیا جسے فرنٹ لائن میگزین نے شایع کیا اس کے علاوہ Horace Alexander نے اپنے آرٹیکل میں انسانی تاریخ کے اس المناک سانحے کو تفصیلی ڈسکس کیا جوکہ 16 جنوری 1948 کو The Spectator میں شایع ہوا،

    اس سانحہ سے قبل جموں کی 61% آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی معروف بھارتی دانشور و قانون دان AG Noorani نے اپنی کتاب Kashmir Dispute Vol-1 میں لکھا ہے کہ جموں کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے ایک منظم پلاننگ مرتب کی گئی جسکے لیے RSS کی مدد لی گئی جس نے باہر سے ہزاروں کی تعداد میں ہندوتوا دہشتگردوں کو جموں بھیجا اس کے علاوہ سنگھ پریوار کی ایک شاخ جموں پرجا پریشد بھی اس میں پیش پیش رہی جو بعد میں RSS کی سیاسی ونگ بھارتیہ جن سنگھ سے منسلک ہوگئی اور BJP بننے کے بعد اس کی اہم ونگ ہے،

    آرٹیکل 370 ختم کرکے جموں کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا مطالبہ اسی جماعت کا تھا جوکہ گولولکر کی آئیڈیولوجی "ایک ودھان، ایک نشان، ایک پردھان” پہ مشتمل تھا جسے گذشتہ بھارتی یوم آزادی کے موقع پر نریندر مودی نے اپنی اعلانیہ پالیسی و منزل ہونے کا اظہار کردیا ہے”، دس اگست 1948 میں The Times لندن نے تاریخی کمینہ پن اور سفاکیت کے اس المناک واقعہ پر رپورٹ شایع کی جس میں واضح کیا گیا کہ اس سے بڑھ کر دہشتگردی، حیوانیت، ظلم کی نظیر نہیں ملتی،

    RSS اور ڈوگرا مہاراجہ جیسے انسان نما حیوانوں نے وہ سفاکیت دکھائی کہ اگر کتّوں اور بھیڑیوں پر اس کا الزام تھونپا جائے تو وہ بھی اسے اپنی توہین سمجھیں گے یہ محض چند بدمعاشوں کا کام نہیں تھا بلکہ RSS کے ہزاروں بیرونی درندوں، جموں پرجا پریشد کے حیوانوں اور ڈوگرا کی فوج کے زریعے اسے منظم طریقے سے کیا گیا، اس رپورٹ میں The Times نے شایع کیا کہ "Over 237000 Muslims were systematically exterminated unless they escaped to Pakistan along the border by Dogra forces & Hindu extremists, this happened in the mid October, five days before the pathan invasion & nine days before Maharaja’s accession to India” یہ تاریخ کی وہ سفاکیت تھی کہ گاندھی بھی اسے دہشتگردی کہنے پہ مجبور ہوگئے گاندھی نے 25 دسمبر 1947 کو ریمارکس دئیے کہ "جموں کے ہندو، مہاراجہ ڈوگرا اور وہ ہندو جو باہر سے گئے

    جموں میں مسلمانوں کے قتل عام اور مسلمان عورتوں کی عصمت دری کے کے ذمہ دار ہیں” (Vol-90 of Gandhi’s work) یہ محض اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ منظم اور سرکاری سرپرستی میں ظلم و جبر کا عظیم واقعہ ہے، امریکہ میں ہولوکاسٹ میموریل میوزیم میں ایک نقشہ عیاں کیا گیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ مختلف علاقوں سے

    یہودیوں کو مشرق میں نئی آبادکاری کے نام پر اپنے مقبوضہ جات سے یہودیوں کو پولینڈ میں لا لا کر قتل کیا، بالکل اسی طرح نومبر میں ہزاروں مسلمانوں کو پاکستان شفٹ کرنے کے بہانے RSS کے دہشتگردوں نے اجتماعی طور پر ایک جگہ جمع کر کر کے شہید کیا، افسوس کہ ہولوکاسٹ کی طرح تاریخ کے اس بڑے قتل عام پر بات نہیں کی گئی نہ ہی اس پر زیادہ لکھا گیا، جموں کی 61 فیصد مسلمان آباد محض تین ہفتوں میں اقلیت بلکہ ختم ہوکر رہ گئی حتمی تعداد تو شاید کہیں زیادہ ہو البتہ اس وقت کے مغربی اخبارات، محققین اور تاریخ دانوں نے شہید ہونے والوں کی تعداد 237000 دو لاکھ سینتیس ہزار جبکہ ہجرت کرنے پہ مجبور ہونے ہوالوں کی تعداد ایک ملین کے قریب لکھی ہے،

    اگرچہ AG Noorani, Khalid Bashir, Arundhati Roy سمیت دیگر بہت سے رائٹرز نے اس پہ بہت کچھ لکھا مگر میڈیا و دیگر ڈبیٹس میں اس واقعہ کو وہ توجہ نہ ملی جو ملنی چاہئے تھی چنانچہ دنیا کی اکثریت اس سے لا علم ہے لہٰذا انسانی حقوق کی تنظیمیں ان سے وابستہ افراد، تمام کشمیری اور پاکستانیوں کو چاہئے کہ اکتوبر و نومبر میں اس سانحے پر زیادہ سے زیادہ سیمینارز، ڈبیٹس کروائیں، آرٹیکلز لکھیں تاکہ دنیا ہندوتوا دہشتگردوں کے ظلم اور کشمیریوں کی مظلومیت سے آگاہ ہوسکے۔

    آرزوئے سحر
    مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

  • کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

    کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

    خبر اور تصاویر گردش میں ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے شہر کٹھوعہ میں بھارتی ریاستی جبر کیخلاف کشمیریوں نے سیبوں پر نعرے لکھ کر بھارت بھیج دیئے۔

    تفصیلات کچھ یہ ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر، مہینوں پر محیط جاری لاک ڈاؤن اور مکمل تاریکی کے ماحول میں مظلوم کشمیریوں نے مزاحمت کے اظہار کا نیا راستہ اختیار کرتے ہوئے سیبوں پر بھارت مخالف اور پاکستان کے حق میں نعرے لکھ کر بھارت بھیج دیئے۔

    وقوعہ کے مطابق تاجروں کو حالیہ موصول ہونیوالے سیبوں پر جو نعرے لکھے گئے تھے ان میں

    "ہم کیا چاہتے آزادی”،

    "میری جان عمران خان”،

    "پاکستان زندہ باد”،

    "میں برہان وانی سے محبت کرتا ہوں”،

    "موسیٰ واپس آجاؤ شامل ہیں”،

    "جس نے ہلچل مچا دی ہے”۔

    ایک مقامی تاجر کے مطابق جب وہ صبح فروٹ منڈی گئے اور وہاں سے سیب لے کر آئے اور لڑکوں کو دکان پر سیب لگانے کو کہا تو جب انہوں نے سیبوں کے کریٹ کھولے تو ان پر نعرے لکھے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے فروٹ منڈی اور پورے بازار میں دہشت اور خوف کا ماحول بنا ہوا ہے، جس سے خریداروں کا رش کم ہو گیا ہے۔

    یہ تو تھی خبر اور اس کی تفصیل جس کو ہم نے من حیث القوم بلکل لائٹ موڈ پر لیا جیسے ستر سالوں سے ہم کشمیر کو لائٹ موڈ پر لے رہے ہیں پر صاحبان ذرا تصور کیجیئے کہ آپ کا مکمل سماجی, سیاسی اور سفارتی ناطقہ بند ہو اور آپ کو اپنی آواز دنیا کی سماعتوں تک پہنچانی ہو تو کیسے کیسے جتن کرنے پڑتے ہیں اور کتنی بے بسی اور معذوری دیکھنی پڑتی ہے۔

    کشمیری ہمارے بغیر ایک شاندار زندگی کے مزے لینا چاہیں تو ان کے لیئے یہ بات چنداں مشکل نہیں کہ وہ بھارت کو بخوشی تسلیم کرکے اس کا حصہ بن جائیں اور خصوصی مراعات سے کم از کم ان کی ایک سے دو نسلیں دنیا میں فیضیاب ہوجائیں پر ایسا نہ تو ہوا ہے اور نہ ہورہا ہے باوجود بھارت اور اسکے تمام دیدہ و نادیدہ ہمنواؤں کی محنت سے۔ ۔ ۔

    کیوں؟

    پاکستان آکر پتہ چلاکہ خاندان کیا ہوتا ہے ،شہزادی کیٹ

    کیونکہ اسلام اور پاکستان کے رشتے سے وہ خود کو کشمیری بعد میں جبکہ مسلمان اور پاکستانی پہلے تسلیم کرتے, کرواتے اور کہلواتے ہیں۔

    —کشمیری پاکستان کے نام پر جیتے اور پاکستان کے نام پر مرتے ہیں,

    —ان کے کفن سبز ہلالی پرچم میں ڈھکے جاتے ہیں اور ان کی قبروں پر وہی پرچم لہرائے جاتے ہیں,

    —ان کی عید شبرات رمضان نیا سال سب ہمارے فیصلوں اور اعلانات سے مشروط ہے,

    —ان کی ہر نظر پاکستان کی معاشی, اقتصادی, دفاعی اور سفارتی اڑان پر ہے,

    —ان کے لبوں پر آزادی کے نعرے اور دعائیں بعد میں لیکن پاکستان کے استحکام اور اس کی مضبوطی کے نعرے اور دعائیں اول ہیں,

    —کشمیری ہماری خوشیوں میں خوش اور ہمارے غموں میں غمگین ہوتے ہیں,

    —جتنا پاکستان ہمارا ہے اتنا ہی پاکستان کشمیریوں کا ہے جو اس کا اظہار جموں و کشمیر کی گلی گلی میں اپنے لہو کی قربانی دے کر کرتے ہیں۔

    کتنا دل دکھا اور آپ پزمردہ ہوئے اس خبر کو پڑھ سن کر کہ کشمیری اپنی بے بسی کے باوجود ہم سے محبت, بھائی چارے, امید, یقین اور یکجہتی کا اظہار کے لیئے سیبوں کا استعمال کررہے اور دنیا کو واضح پیغام دے رہے کہ کشمیر کل بھی پاکستان تھا, آج بھی پاکستان ہے اور کل بھی پاکستان ہی رہے گا ان شاء ﷲ بیشک ہندو غاصب فوج جتنا مرضی دبالے اور منہ بند کردے۔

    مولانا فضل الرحمن کی نگری”ملازئی ” میں 14 افراد دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے

    سیبوں پر لکھے نعرے اور محبت نامے تو بھارت اور دنیا کو بتانے اور سنانے کے لیئے تھے کہ بھارت اور دنیا جان لے کہ

    "کسی غلط فہمی میں مت پڑنا ہم مرتے دم تک پاکستان اور آزادی کی کوہار بلند کرتے رہیں گے”۔

    جبکہ سیب۔ ۔ ۔

    مجسم سیب کشمیریوں کا پاکستان اور امت مسلمہ کے پڑھے لکھے, انٹلیکچوئیل اور ٹیلینٹڈ نوجوانوں بلخصوص ہم سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو واضح اور صاف صاف پیغام ہے کہ

    "بھائیو ہم تو اپنے حصے کی محنت اور مشقت کر رہے ہیں, ہم تو ایسی سخت صورتحال میں بھی اپنی آواز بلند کررہے ہیں خواہ ایپل (سیب) کا آئی فون نہیں ہاتھ میں پر اللہ کی نعمت سیب (ایپل) کو اپنا ذریعہ مواصلات بنا کر آزادی آزادی, پاکستان پاکستان اور عمران عمران کررہے ہیں تاکہ دنیا جان لے کہ ہمارے مقصد میں ایک انچ بھی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ ہم پہلے سے زیادہ پر عزم اور پرجوش ہیں۔

    دوستو تمہارے لیئے تو ہماری آواز بننا اور دنیا کو جگانا مشکل نہیں کہ تمہارے پاس آزادی اور ایپل آئی فونز وغیرہ ہیں کہ ہم تو سیبوں تک محدود ہوکر بھی بھارت اور دنیا کو حریت کی آواز سنا رہے اور بھارتیوں کا سینہ جلا رہے اور ان کو خوف ذدہ کررہے ہیں تو تم بھی مایوس مت ہونا اور ہمیں بھولنا مت کہ ہم تو ہاتھ, منہ, کان اور زبان بندی کے باوجود تمہیں نہیں بھولے اور ہمارا یہ نعرہ سر بلند ہے کہ ہم کیا چاہتے آزادی اور پاکستان زندہ آباد لہذا اپنے اپنے ہاتھوں میں موجود ایپلز کا وہی استعمال کرو جو ہم یہاں اپنے باغات کے ایپلز کا کررہے۔”

    واللہ مجھے تو سیبوں پر لکھے نعرے پڑھ کر کشمیریوں کی اس ادا پر پیار اور ترس آیا لیکن سیب دیکھ کو شرمندگی ہوئی کہ دیکھو وہ بیچارے کس طرح ہماری خاطر کیسے کیسے حربے اختیار کررہے اور ہم یہاں اپنی سیاسی و مسلکی اور عصبی بحثوں میں الجھ کر انہیں فراموش کیئے جارہے ہیں۔

    ظلم کی بھی کوئی حدہوتی ہے،تیزاب نہ پھینکتے گولی ماردیتے ، سریم کورٹ

    کشمیر کے سیب پاکستانی نوجوانوں کو سیکھ اور سبق دے رہے وہ بلکل واضح ہے کہ حق اور حریت کی آواز بلند کرنی ہو تو وسائل کوئی مسئلہ نہیں جن کا رونا رویا جائے بلکہ حق اور حریت تو سیبوں کے ذریعے بھی بیان کیئے جاسکتے ہیں۔

    صاحبان کشمیری حریت پسند پاکستانیوں نے تو اپنے باغات کے سیبوں (ایپلز) کا استعمال کرلیا اور دنیا کو پیغام دے دیا, اب ہمارے باری ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں میں موجود ایپلز (سیب) کا جارحانہ استعمال کریں کشمیریوں کی آواز بننے کے لیئے۔

    یاد رہے کہ ستر سالوں کی کسک ہے یہ کوئی دو چار مہینےکی بات نہیں, کشمیری پاکستان کے نام پر جیتے ہیں اور پاکستان کے نام پر مرتے ہیں, وہ سبز ہلالی پرچم کی حرمت ہم سے زیادہ جانتے ہیں تو اے پاکستانیوں اب تم بھی ان کے خون کی حرمت سمجھو اور خدارا تیرے میرے کی سیاست سے نکل کر کشمیریوں کی آواز بنو۔

    آزادیات

    کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

  • "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    حالیہ دنوں میں جماعةالدعوة سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو زیر حراست لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ یہ افراد دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے رہے. اسی الزام میں جماعة الدعوة کے امیر اور یونیورسٹی آف انجییئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق پروفیسر حافظ محمدسعید اور انکے برادر نسبتی اور جماعة الدعوة کے نائب امیر عبدالرحمن مکی کو بھی پچھلے کچھ عرصہ سے زیر حراست رکھا ہوا ہے. ان گرفتاریوں پر پاکستان کے محب وطن اور کشمیر سے جذباتی تعلق رکھنے والے حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور بالخصوص حالیہ گرفتاریوں میں ایک بزرگ عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کی گرفتاری پر پاکستان کے مذہبی اور علمی حلقے بھی شدید مضطرب اور سراپا احتجاج ہیں کہ 74سالہ ایک ایسے عالم دین جو مفسر قران ہیں، جو بے پایاں علمی خدمات سرانجام دے چکے، جو پچھلے تقریباً 55 سال سے تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان میں ہزاروں علماء ان کے شاگرد ہیں ان کو اس پیرانہ سالی میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں گرفتار کرنا کیا معنی رکھتا ہے.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    پاکستان کی عوام اس وقت شش و پنج کا شکار ہے کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے کہ یہ بھی اسی روش پر چل نکلے ہیں جس پر ماضی میں پاکستان کے حکمران چلتے رہے کہ غیروں کے کہنے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کو اور بالخصوص ان لوگوں کو پس دیوار زندان دھکیل دینا جو خالصتاً پاکستان کے نام پر جی اٹھتے ہیں اور پاکستان ہی پر مر مٹتے ہیں جن کی صبح و شام پاکستان کی مالا جپتے ہوئے ہوتی ہے جو ہر مشکل و آفت میں پاکستان کا سہارا بنے، جو ہر مصیبت اور تنگی میں دست و بازو بنے اور جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے آہنی دیوار بنے انہی لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے حکومت پاکستان کن کو خوش کرنا چاہتی ہے اور کونسے مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے. ایسی مذہبی اور جہادی جماعتیں جن پر پاکستان کے اندر کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں ہے اور جو کبھی پاکستان کے لیے اندرونی طور پر مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنیں بلکہ ہمیشہ مسائل کو حل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوئی ہیں ان پر پابندیاں اور گرفتاریاں نہایت پریشان کن ہیں.

    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    ماضی میں بھی پاکستان کے حکمرانوں کا یہی طرز عمل رہا اور ان کی طرف سے دیئے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور خارجہ سطح پر برتی گئی مجرمانہ پہلو تہی نے پاکستان کو مسائل کے کنوؤں میں گرایا اور آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر جن شدید مسائل سے دوچار ہے وہ انہی کے اعمال کا شاخسانہ ہے جس کی سزاء اس محب وطن اور علماء کے طبقے کو سب سے زیادہ بھگتنی پڑ رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت بنی تو امید کی اک کرن نظر آئی کہ اب پاکستان کشکول نہیں پکڑے گا جس کی وجہ سے ہم بین الاقوامی سطح پر عزت اور جرات کے ساتھ کوئی قدم اٹھاسکیں گے اور کشمیر کی مسئلہ جو پچھلے ستر سال سے الجھا ہوا ہے اس پر عمران خان کی توجہ اور سنجیدگی دیکھ کر بھی امید بندھی تھی کہ یہ نیا بھی اب پار لگے گی لیکن ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں اور بھارت کے مضبوط پراپیگنڈے نے پاکستان کے ہاتھ کچھ اس طرح سے جکڑے ہیں کہ یہ چاہ کر بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور انکی مجبوری ہے کہ یہ عالمی سامراج کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ان کے کیے گئے فیصلوں آمین کہیتے رہیں.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    یہ سارے معاملات اور مسائل اس وجہ سے ہیں کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی آوازیں بند نہ کی گئیں اور ان کے قدم نہ روکے گئے تو بات کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی مسئلہ بہت آگے تک جائے گا اور بھارت کے کئی ٹکڑوں پر منتج ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس کے مسلسل کیے گئے پراپیگنڈے آج رنگ لا رہے ہیں ایک طرف تو اس نے ساری کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی کشمیر کے نام لیواؤں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور عالمی سامراج بھارت کی ہاں میں ہاں ملاکر پاکستان کے ہاتھ مزید باندھتا چلا جا رہا ہے. عالمی سامراج اور بڑی طاقتیں بھی اسلام سے خوفزدہ ہیں اور وہ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر اس خطے میں ان کا ضدی بچہ بھارت کمزور پڑگیا اور پاکستان کے قدم مضبوط ہوگئے تو پورا خطہ اسلامائز ہوکر ان کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گا یہی وجہ ہے کہ وہ بھی بھارت کے ہمرکاب ہوکر ایف اے ٹی ایف اور دیگر پابندیوں کی صورت پاکستان پر مسلط ہیں اور ہمارے لیے مسلسل مسائل پیدا کررہے ہیں اور پاکستان اپنے شدید ابتر معاشی، سیاسی، بین الاقوامی حالات کے پیش نظر مضبوط فیصلے لینے سے قاصر ہے.

    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "علی گڑھ یونیورسٹی کا مایہ ناز اسکالر بطور مجاہد کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    "علی گڑھ یونیورسٹی کا مایہ ناز اسکالر بطور مجاہد کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    کشمیر کی حسین وادی لولاب کے ایک گاؤں کا رہائشی منان وانی جو ایک کالج لیکچرار بشیر وانی کے گھر میں پیدا ہونے ہوا اور پروان چڑھا. تعلیمی مدارج کو طے کرتا ہوا علی گڑھ یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے لیے ریسرچ کر رہا تھا. وہ تھا تو سائنس کا طالب علم لیکن کشمیر کی صورتحال اور بھارتی افواج کے مظالم نے اس کو شعلہ جوالا بنا دیا تھا اور اس نے تقریر و تحریر کے ذریعے بھارتی افواج کے کشمیر پر ظالمانہ قبضے کے خلاف جہاد شروع کردیا. شاندار تعلیمی ریکارڈ اور مختلف ادبی ایوارڈ رکھنے والے اس منان وانی نے جب دیکھا کہ اس کی تقریر و تحریر خاطر خواہ نتائج نہیں دے رہی اور بھارتی افواج کے مظالم روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں تو علی گڑھ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے اس اسکالر نے اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑا اور باقاعدہ طور گن اٹھاکر کشمیری مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوگیا. اپنی ممتاز حیثیت اور شخصیت کی بنا پر کشمیری حریت پسندوں کی تنظیم حزب المجاہدین کا مقامی کمانڈر بنا اور بھارتی افواج کو بزور قوت سبق سکھانے لگا. کشمیر کی آزادی کی اس جنگ میں وہ مسلسل بھارتی مسلح افواج کے مقابل برسر پیکار رہا اور بالآخر گیارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو ہندواڑہ میں ایک جنگل میں بھارتی افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش. تین جنوری دو ہزار اٹھارہ سے گیارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ تک کے اس نو ماہ اور نو دن کے مسلح جدو جہد آزادی کے اس سفر میں منان وانی شہید نے بھارتی افواج کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا.
    منان وانی کی شہادت پر اس وقت کی کٹھ پتلی حکومت بھی چپ نہ رہ سکی اور اس شہادت کو قومی نقصان قرار دیا. کپواڑہ کے رکن اسمبلی انجنئیر رشید نے منان وانی کی شہادت پر اپنے ردعمل میں کہا :’منان کی قلم بندوق سے خاموش کردی گئی، اور اس طرح نئی دلی نے منان کے قیمتی افکار کے آگے سرینڈر کردیا۔’
    منان وانی شہید نے دو خط لکھے جو کشمیر کے مقدمے کی سی حیثیت رکھتے ہیں. اس میں سے ایک خط کے مندرجات ملاحضہ کریں.

    "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ

    غیر قانونی تسلط کو سمجھنا اتنا آسان نہیں،یہ ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی رجحان ہے۔ دہائیوں پہ محیط،طویل خون ریزتنازعہ نے کشمیری قوم کو اقوام عالم میں سیاسی لحاظ سے، سب سے زیادہ مدبر اقوام کی صف میں لاکھڑا کردیا ہے۔
    وقت کے ساتھ ہم سب نے کسی حد تک اس غیرقانونی تسلط کے پیچیدہ طر یق کار،ساخت اور مشینری کو سمجھ لیا ہے۔بھارت بحیثیت نو آبادیاتی ریاست،آہستہ آہستہ مگر مسلسل کشمیر میں اپنی نوآبادیاتی حکمرانی کو جواز فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہورہی ہے۔مگر،غیر قانونی تسلط سرطان کی طرح ہوتا ہے، اس لئے بحیثیت قوم اور سماج ہمارے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم بھارتی نوآبادیاتی ریاست کی عسکری، ذہنی اور سیاسی شاطرانہ چالوں سے باخبر رہیں۔ ممکن ہے آپ حیرت زدہ ہوں گے کہ اس شخص نے قلم کے بجائے بندوق کوچن لیا، کیوں؟ لکھنے کا فیصلہ کیا۔ہاں چند ایسی چیزیں ہیں جنہوں نے میرے لئے خاموش رہنا سخت مشکل بنا دیا۔
    سادہ لوح، بھولے بھالے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل کر غداروں نے آج کل حقائق کو توڑ مروڑ کرپیش کرکے اندھیرا کیاہے تاکہ وہ بھارت کے غیر قانونی تسلط، جبری قبضے اور ظلم و جبر کو سند جواز فراہم کریں۔
    حقوق البشر کے محافظین تجارتی دیو بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس تنازعہ کو ظلم وجبر سے دبائے گئے لوگوں کے دکھ اور درد کو نمایاں کرکے تجارت کا ذریعہ بنادیا ہے۔ اس تمام فعالیت اور سرگرمیوں کو براہ راست دہلی کے مصور خانوں سے ہدایات جاری ہوتی ہیں۔
    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ
    پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرانک میڈیا تک، ہر ایک، چاہے وہ ظالم ہے یا مظلوم، اس نے ہمیں آڑھے ہاتھوں لینے، لتاڑنے یا سرزنش کرنے کے لیے چنا ہے۔ چاہئے ہمارا راستہ اور طریقہ کار ہو، نظریات اور خیالات ہوں، وہ ہمیں بدروح، شیطانی صفت انسان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
    تیسرا نکتہ جس نے مجھے خاموشی توڑنے پر مجبور کیا وہ یہ ہے، وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں جبراًبندوق کے بجائے امن کی شاخ زیتون تھما دی گئی، تاکہ مزاحمت کے پرامن طریقوں کا ڈھنڈورا پیٹا جائے۔ جب انہوں نے اپنی سوچ اور منطق کے مطابق ہمارے مزاحمتی طریقہ کار کو جواز فراہم کیا،حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں اور ہمارے نظریات کو رد کیا۔
    اور بالآخر جب ایک پولیس اہلکار جو کہ بعد میں انسانی حقوق کا محافظ بنا، جس نے اپنے دور میں بیکارانہ طریقے سے لوگوں کی جائز خواہشات کو کچلنے کی کوشش کی اب بددلانہ اور غیر منطقی دلائل کے ذریعے سے انسانیت اور اعتدال پسندی کا مبلغ بننے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جواب دینا لازم بنتا ہے۔ یوں مجھ جیسے شخص(جس کے پاس وسائل ہیں نہ متذکرہ بالا لوگوں کی طرح آرام و آسائش ہے) جس نے پہلے ہی قلم کے بجائے بندوق کو چنا ہے، کے لیے اُسی زبان میں جواب دینا لازم بنتا ہے، تاکہ ہم اپنے نکتہ نظر کو پیش کرسکیں۔
    میرا ماننا ہے کہ یہ بے حد ضروری ہے کوئی اندر کا واقف کار بھی اپنا نکتہ نظر سامنے رکھے تاکہ حقائق مسخ نہ ہوں۔ میں جبری قبضے کی طویل تاریخ میں نہیں جاؤ ں گا، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے ہر ایک جبری قبضے سے متعلق بخوبی آگاہ ہے، کیسے شروع ہوا،وجوہات کیا تھیں اور اس کے اثرات کیا ہیں۔ مزاحمت کا نیا دور 2008 کے تلاطم کے بعد شروع ہوا، تب سے مزاحمت کے طریقے سختی سے اور مثبت انداز میں تبدیل ہوئے۔ مزاحمت کے طریقوں میں تبدیلی کے ساتھ ظلم و زیادتی کے ہتھکنڈوں نے بھی نشود نما پائی۔
    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    بھارت کو اس بات کا شدید احساس ہوا کہ وہ اب کشمیریوں کو زیادہ دیر بڑے بوٹوں کی غلامی تلے خاموش رکھ سکیں گے اور نہ ہی اپنے غیر قانونی قبضے کو جواز فراہم کرسکتے ہیں۔ اس لیے بھارت جان بوجھ کر کشمیر کے تاریخی اور سیاسی حقائق کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
    ہر دن، ہروقت، نئے مکالے، تذکرے، مباحثے اور خیالات کو میڈیا میں مختلف افراد اور ایجنسیوں کے ذیعے پھیلایا جارہا ہے۔ بھارت بہت ہوشیاری اور چالاکی سے ایک ایسے بیانیہ کی صنعتکاری سے لوگوں کو الجھائے،پریشان کرنا چاہتے ہیں، جو فوج کی موجودگی اور ظلم و جور کے ہتھکنڈوں کے موافق ہو اورریاست جموں کشمیر کی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال ہو۔ بعض افراد کو طاقت ور اور وسائل سے بھرپور مقام اس لئے تفویض کئے گئے، کہ وہ ایسے بے محل اور غیرمتعلق بیانیہ، مقالہ جات سامنے لائیں، جسے لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے اور پرانے، حقیقی اور اصل بیانیہ فرسودہ اور بے جوڑ لگے۔
    ایک دن ایک بیوروکریٹ (سرکاری ملازم) لکھتا ہے کہ "صرف بھارت ہی کشمیریوں کے پاس ایک معقول دانشمندانہ انتخاب وچناو ہے” اور دوسرے دن ایک سیاستدان نے سوال کیا "کیوں عسکریت پسند موت کو گلے لگانے میں عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں؟” میں یہاں کوشش کروں گا کہ ان مبہم دلائل کو مسمار کرکے ان کے پیچھے چھپی منافقت کو بے نقاب کروں۔ "ہم سپاہی ہیں، ہم مرنے کے لیے نہیں، بلکہ جیتنے، سرخ رو ہونے کے لیے لڑتے ہیں۔ موت کے بجائے ہم بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ سپر ہونے میں عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں۔ بھارتی عسکری طاقت، ظلم و جبر، استبداد، بھارت کے ہم کاریوں اور سب سے بڑھ کر اُس کے غرور اور گھمنڈ، جب ہم اس تمام کے خلاف لڑتے ہوئے جاں کی بازی ہار جاتے ہیں، تو ایسی جانثاری پر ہم عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں۔” ہم سے میرا مطلب تمام کشمیری اور کشمیری سے میرا مطلب ریاست جموں کشمیر کے وہ تمام شہری جوبھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف کسی نہ کسی طریقے سے برسر جدوجہد ہیں، نہ کہ صرف وہ جو بندوق بردار ہیں۔
    کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    ایک اُستاد، چاہئے وہ سکول، کالج یا جامعہ کا ہو، جو ایمان داری اوردیانت داری کے ساتھ بچوں کو تعلیم دیتا ہے یا ایک ڈاکٹر جو ہر وقت اپنے مریضوں کے ساتھ نیک دلی اور ہمدردی کا برتاؤکرتا ہے۔ ایک طالب علم جو آبرومندانہ طریقے سے غیرقانونی قبضے کے نتیجے میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرتا ہے یا ایک سنگباز جو قابض افواج کی جانب پتھر پھینکتا ہے جبکہ بدلے میں اُسے گولیاں سہنی پڑتی ہیں۔ ایک کالم نویس، تبصرہ نگارجو بے خوف ہوکے لکھتا ہے یا ایک صحافی جو موقع پہ حقائق کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ وہ شخص جو غیر قانونی قبضے، تسلط کے خلاف فقط بولتا ہی ہے یا ایک وکیل جو عدالت میں قانونی جنگ لڑتا ہے۔ ایک سرکاری ملازم جو اپنے فرائض منصبی اخلاص کے ساتھ انجام دیتا ہے یا وہ پولیس والا جو لوگوں کو (قتل کرنے، دہشت زدہ کرنے، معذور کرنے اور مقامی لوگوں پر تشدد کرنے) کے بغیر فقط امن و امان قائم رکھنے کی اپنی اصل ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ہم سب مزاحمتی سپاہی ہیں۔
    مزاحمت میں خلیج اور سوسائٹی کے حصے بخرے کرنے کی غرض سے نئی شناختیں اور تقسیم پیدا کی جارہی ہے۔2016سے پہلے بھارت کے خلاف تلا طم کو دانستہ طور صرف شہراور قصبوں کے ساتھ منسلک کیا گیا تھااور عسکریت کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہ چند ان پڑھ،بھٹکے ہوئے دیہی لڑکوں کی کاروائی ہے۔اب احتجاجوں کوجنوبی کشمیرکے دیہاتیوں،(جنہیں معیشت کی کوئی سوج بوجھ نہیں) کے ساتھ منسلک کیا جاتاہے۔ اگرچہ لوگوں نے ایسے بیانیہ کو،مزاحمتی تحریک کے تئیں بھرپور حمایت دکھا کر بارہا مسترد کیا ہے۔
    ہمیں اس امر سے خبردار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے کہ کیسے بھارتی تسلط لوگوں کو احمقانہ گفتگو کے ذریعے ایک دوسرے سے جداکرتے ہیں۔ کبھی ذیلی علاقائی (نارتھ اور ساؤتھ) اورکبھی فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر کشمیر کی تحریک آزادی کے خلاف دونوں، سماجی اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک سخت مضبوط مہم جاری ہے۔ وہ لوگ جو غیرقانونی قبضے، تسلط کے خلاف برسر پیکار ہیں اُنہیں متعصب،جنونی، بنیادپرست اور اُن کا پسندیدہ لفظ دہشت گرد کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اس مہم کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ بخوبی حقائق سے آ گاہ ہیں مگر لوگوں کو بیوقوف بنانے کا یہ وہ کام ہے جو اُنہیں سپرد کیا گیا ہے۔
    بارہویں کلاس کے لیے بھارتی NCERT کی پولیٹکل سائنس کی نصابی کتاب "دہشت گرد” کی یوں تعریف کرتی ہے "جو کوئی بھی،کسی شہری کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے اندھادھند نشانہ بناتا ہے ” دہشت گرد کی اس تعریف سے ایک انسان واضح طور پر یہ سمجھ سکتا ہے کون دہشت گرد ہونے کے قابل اور اہل ہے۔ جب سے ہماری کاروائیوں سے ہر ایک باخبر ہے۔ بھارت کے برعکس ہم عام شہریوں،چاہئے وہ کشمیری ہو یا بھارتی،اور غیر محارب قتل نہیں کرتے۔وہ لوگ جو ہمیں دہشت گر د کہہ کر پکارتے ہیں ٹیکسٹ بک کو تبدیل کریں یااپنے علم بدیع و معانی کو۔
    مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ
    بھارتی حکومت اپنے لوگوں کو یہ سکھاتی ہے کہ کشمیری عسکریت و آزادی پسند ایسے نوجوان لڑکے ہیں جن کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں۔ جو 72حوروں کی لالچ میں عسکریت میں شامل ہوچکے ہیں اور وہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اس طرح مر جانے سے وہ سیدھے جنت میں جائیں گے۔ اس میں کوئی انکار نہیں کہ اسلام ہمارے کسی کام کے کرنے کا محرک اور زندگی گزارنے کا طریقہ ہے اور اسلام فی الحقیقت کسی بھی طریقے اور ذرائع سے ظلم و زیادتی کے خلاف لڑنے پر جنت کا وعدہ فرماتا ہے۔ مگر جس طرح میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ ہم سپاہی ہیں، ہم جنگ میں صرف اس لئے نہیں کودے کہ جان دیکر جنت میں چلے جائیں بلکہ دشمن کے خلاف لڑ کر اُسے شکست دینے کے لیے میدان میں آئے ہیں.
    ایک مجاہد اپنا سب کچھ قربان کرنے کے باوجود جنت کا دعویٰ،استحقاق یا مطالبہ،نہیں کرسکتا۔جنت اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار میں ہے اور کسی کے جنتی ہونے کا فیصلہ صرف ان حقائق کی بنیاد پر نہیں ہوگا کہ وہ میدان قتال میں لڑکر جان دے چکا ہے بلکہ جنت میں داخلے کے لیے کثیر معیار ہیں۔اس کے علاوہ،ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے ہیں کہ اسلام خاص طور پر ہم سے تعلق رکھتا ہے،لیکن یہ سچ ہے کہ ان ظالموں کی، مذہب کے نام پرلوگوں کو استعمال کرنے کی طویل ترین تاریخ ہے۔وہ ہمیشہ اسلام کا ایک مخصوص حصہ منتخب کرکے،اُسے اپنی مرضی کا مطلب و معنیٰ اخذ کرکے اپنے جبری قبضے کو جواز بخشنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ہم ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں. غیرقانونی قبضے اور تسلط پر عذر خواہی کرنے والے بھارتی فوجی طاقت، کثیر فوج اور میزائل ٹیکنالوجی کی شان و شوکت دکھاتے ہیں۔ ہاتھوں میں زنگ آلود کلاشنکوف لئے چند سو نوجوان لڑکوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس دس لاکھ فوج کا آپس میں موزانہ کیا جاتا ہے۔ دنیا کی تازہ ترین فوجی تاریخ، چاہے وہ امریکہ ویت نام میں، یو ایس ایس آر افغانستان میں یا نیٹو افغانستان میں ہو، ہمیں یہ بات سکھاتی ہے کہ جنگیں کثیر فوج اور جدید ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں جیتی جاتیں۔ کیوں بھارت کو ایک بھاری بجٹ کے ساتھ بارہ لاکھ فوج کی ضرورت پڑتی ہے ان چند مٹھی بھر نوجوانوں سے لڑنے کے لیے؟ ایسے ہر ایک سوال کا جواب یہی ہے کہ بھارت پہلے ہی کشمیرمیں جنگ ہار چکا ہے۔
    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    ایک وقت تھا جب لڑائی ایک بندوق برداراور ہزاروں بھارتی فوجیوں کے درمیان ہوتی تھی لیکن اب ایک مجاہد تک رسائی سے پہلے قابض فورسز کو ہزاروں غیرمسلح آزادی کی جنگ لڑنے والوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے. وہ لوگ جو فریڈم فائٹر نوجوانوں کی مدد کے لیے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر انکاونٹرزکی جگہ کا رخ کرتے ہیں، تو اس سے ہمیں لوگوں کے خواہشات اور جذبات کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
    کشمیری مجاہدین اور آزادی پسندوں کو دہشت گرد گردان کر اور یہ کہہ کر کہ یہ ایسے نوجوان لڑکے ہیں جن کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں ممکن ہے بھارت اپنے شہریوں اور دنیا کو بیوقوف بنالے مگر بھارت کہاں سے یہ جواز فراہم یا تلاش کرسکتا ہے کہ اُ س کے خلاف لڑنے والی پوری قوم کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں۔ بھارت سراسر مایوسی کی کیفیت میں ہے! ہر رات اُن کی ٹیلی ویژن چینلز پہ یہ عیاں ہوتا ہے۔ بھارتی سرکار کشمیر کے خلاف میڈیا پر نفرت سے بھری، زہریلا، کینہ پرور پرپیگنڈا مہم چلا کر اپنی ناکامیوں کو چھپاتی ہے۔ ایک شخص آسانی سے اندازہ لگاسکتا ہے کہ کس درجہ اور سطح کی مایوسی ہے.
    مقبوضہ کشمیرمیں حکومتی خفیہ اداروں کی جانب سے کالجز اور جامعات کے معلموں کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ طالب علم مسلسل نگرانی میں رکھے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کو حکماً خاموش کیا گیا ہے۔ قوانین بنائے گئے ہیں جن کی روح سے سرکاری ملازمین سے یہ کہا گیا کہ وہ سرکاری پالیسی (حکمت عملی) کے خلاف تنقید سے احتراز کریں گے۔ کیسے ایک عذر خواہی کرنے والا، جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر بھارت کا ایک حصہ ہے، اس بیان کو واضح کرے گا.
    اکثر اوقات اس پر بحث و تمحیص کی جاتی ہے کہ ہمیں پرامن ذرائع سے بھارت کے جمہوری ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بلاشبہ،طریقہ کار اور کاغذات کی حد تک بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے،مگر عملی بنیادوں پر جمہوریت کے لیے اہل نہیں۔ کیسے آپ ایک ایسی قوم سے یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ آپ کی آواز پر کان دھرے، جس کا نام نہاد جمہوری طریقے سے منتخب وزیر اعظم فرقہ وارانہ فسادات کا بنیادی معمار ہو۔ جہاں الیکشن ہی فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑے جاتے ہوں. جہاں آبروریزی کرنے والا، بلاتکاری اور پیشہ ور مجرم ہی قانون بنانے والے ہوں، جہاں ذرائع ابلاغ کو برسراقتدار حکومت ہی چلاتی ہو۔ جہاں ایک نسل کی ہر ایک آواز اور ہر ایک نکتہ چیں، تنقید کرنے والے کو موت کی نیند سلاکر یا کسی اور طریقے سے خاموش کیا جاتا ہے۔جہاں حکومت پر اعتراض کرنے والے ہر شخص کو قوم دشمن قراردیا جاتاہے اور الیکشن کو(Populism) یعنی اشخاص کے انفرادی مفادات کو مدنظر رکھ کر، اور چالاکیوں کی بنیاد پر جیتا جاتا ہے۔ جہاں حکومتی ایجنسیوں کو مخالفوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں اقلیت کو اپنے وجود کے خطرے کا سامنا ہے، جہاں ہر ایک اختلافی آواز کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔جہاں ایک مسلمان کو فقط فریج میں گوشت رکھنے کی پاداش میں دن کی روشنی میں زیر چوب لاکر ہلاک کیا جاتا ہے۔جہاں سر پر ٹوپی رکھنے والا اور برقعے میں ملبوس ہر ایک عورت مشکوک دہشت گرد ہے، جہاں طالب علموں کو سرکاری حکمت عملی کے خلاف احتجاج پر جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔جہاں ماہرین تعلیم اور صحافیوں کومحض اس بنیاد پر قتل کیا جاتا ہے کہ وہ حکومت وقت کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں۔لہٰذا،کشمیر میں کتنے لوگ مرتے ہیں،بھارتی سیاستدانوں کے لیے بھارت میں ووٹ حاصل کرنے والی پالیسی کے سوا کچھ نہیں۔
    مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل
    ہندوستانی قوم کے اجتماعی ضمیر کے اطمینان کے لیے ایک کشمیری کی لاش کو الیکشن مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔فوجی، معصوموں کو گولیوں کا نشانہ بنانے اورخواتین کی آبرو ریزی میں فخر محسوس کرتے ہیں،اور بھارت کے عام عوام کو جنگ جو میڈیاکے بیانیہ کے ذریعے سے اس طرح اور اس حد تک ذہن سازی کی جاتی ہے، جیسے اُنہیں کوئی عقیدہ سکھایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ حقیقت میں اس تمام کی حمایت کرتے ہیں۔یہ صرف کشمیر تک محدود نہیں، جو حالات بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں،نکسلی علاقوں اور سرزمین بھارت کے قبائلی حصوں کے ہیں، ان حالات کے مقابلے میں اچھے نہیں۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں آبروریزی، قتل و غارت گری، ظلم و تشدداور انسانی حقوق کی پامالیاں وہاں بھی بہت عام ہیں۔ مقامی حلیفوں کو استعمال کرکے، افسپا،ڈی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کی پناہ میں جاکر کشمیر میں ہمیشہ جمہوریت کو غیرقانونی قبضے،تسلط کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
    ستم ظریفی یہ ہے کہ شیخ عبداللہ کے وقت سے لیکر ان بھارت نواز سیاستدان کو ہمیشہ بھارتی جبری قبضے اور بھارتی مفادات کے لیے توپ کے ایندھن کے طور استعمال کئے گئے۔ اگر کبھی بھی انہوں نے کوئی مطالبہ کیا یا لوگوں کے حقوق کے لیے لب کشائی کئی تو ان حاشیہ برداروں کو بعد میں ایسے پھینکا گیا جس طرح ٹیشو پیپرکو استعمال کرکے پھینکا جاتا ہے۔
    حال ہی میں بھارت نواز جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت کو اس کے اتحادی نے، نام نہاد وزیر اعلیٰ کو بتائے بغیر جس طرح گرادیا،ایک متعلقہ مثال ہے۔ یہ ایک کم تر، مگر کشمیر میں جمہوریت کا ایک اہم،بامعنیٰ مظاہرہ ہے۔ سیاسی محاذ پر، موجودہ گورنمنٹ اپنے سابقین کی مانند متکبرانہ اندازمیں کام کرتی ہے اور مکمل طورپر مخالف انصاف پسند علاقائی آوازوں کو نظر انداز کرکے بھارت کے چپے چپے کو زعفرانی رنگ(ہندتوا) میں رنگنا چاہتے ہیں۔ سرزمین بھارت اور مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں، پہلے سے موجود علٰحیدگی پسند اور آزادی پسند جذبات بالترتیب ان حالات سے شدت اختیار کرتے ہیں۔ یہ چند خیالی اور لفاظانہ دعوے نہیں؛حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ خالصتان تحریک کے احیاء کے ساتھ "دراویدستان ” کے لیے بھی آوازیں اُٹھی ہیں۔ذات پات،جو تاریخی اعتبار سے بھارت کی سب زیادہ گہری فالٹ لائن ہے اب مزید وسیع ہوتی جارہی ہے۔ جب یہ سب چیزیں ہورہی ہیں؛اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارت نے تباہ ہونا ہی ہے اور کشمیر کی مزاحمتی تحریک اس سارے عمل کا پیش خیمہ ہے۔
    "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ
    موجودہ بھارتی حکومت اپنے ملک کی پوری تاریخی بنیاد کو بگاڑنے اور تبدیل کرنے کے مشن پر ہے اور ایسا کرنے کی کوشش میں وہ جب مسئلہ کشمیر کو اُٹھاتے ہیں تو اپنے متعصبانہ فسطائی سیاسی خیالات کی نظر سے اُٹھاتے ہیں۔ مگر مسئلہ کشمیر کی، سراسر مختلف بنیادیں اور تاریخی سیاق و سباق ہے۔ اکثر ملاحظہ کیا گیا ہے کہ ایک طرف کشمیر کے لوگوں کو چیزیں پیش کی جاتی ہیں کہ وہ کشمیر کی تاریخی اور سیاسی حقیقت کو بھول جائیں اور دوسری طرف اُنہیں ہندوستانی فوجی قوت کی نمود و نمائش کے ذریعے دھمکایا جاتا ہے۔مقامی آبادی کو روزانہ سیز اینڈ سرچ آپریشنز "CASOs” ، جوانوں کی شبانہ گرفتاری، ہر ایک آزادی پسند آواز کو پس دیوار زنداں کرنا، احتجاجیوں پرچھروں اور اشک آور گیس کی بارش کرکے ہر غیر مسلح اور پرامن احتجاج کو محدود کرنا، حقیقی ” ہندوستان کے تصور” اور اُس کی جمہوریت کی ایک چھوٹی سے جھلک ہے۔
    کرفیو کے نفاذ کے ذریعے تمام آبادی کو اپنے گھروں میں مقید کرکے،مزاحمت کے پرامن طریقوں کا استقبال ہمیشہ گولیوں،چھروں اور اشک آور گیس سے کرکے کشمیر میں امن کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ ہر ایک قوم ترقی، تعلیم اور دیگر دوسری چیزیں چاہتی ہے مگر اپنی عزت ووقار اور آزادی کی قیمت پر نہیں۔ وہ لوگ احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں جو کھیل کود اور تعلیم کو کشمیر کی تاریخ کے عوض بیچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ ان حقائق پر شاہد ہے کہ جنگوں میں قوموں کو شکست تو دی گئی لیکن اُنہیں اپنی تاریخ بھولنے پر مجبور نہیں کیا جاسکا۔
    یہاں تک کہ اگر کشمیر میں مسلح مزاحمت ختم ہوجاتی ہے،اور بالکل کوئی آزادی کی تحریک نہیں رہتی،لوگ آج نہیں تو کل اپنی حق آزادی کے لیے ایک نئی تحریک شروع کریں گے۔ تاریخی حقائق اور انصاف پر مبنی تحاریک اور خیالات و نظریات،مخصوص افراد کی ملکیت ہوتی ہے نہ اس نمائندگی کرتے ہیں۔چاہئے وہ شخصیات کسی بھی قدوقامت کے کیوں نہ ہوں۔ ایک شخض،چاہئے کتنا ہی بڑا قائد کیوں نہ ہو، (مرد/خاتون)صرف تحریک کا حصہ ہے بذات خود تحریک نہیں۔اگر ایک راہنماکسی بھی بنیادپر اپنے مؤقف کو تبدیل کرکے راہ مفاہمت پہ چل نکلتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک ہی خراب اور بدعنوان ہے؟شیخ عبداللہ کشمیر کا سب سے مشہور اور بلند پایہ لیڈر تھا۔ مگر کس چیز نے اُس کی قبر کوبرصغیر کی سب سے زیادہ غیر محفوظ اور پُر حفاظت قبر بنادیا؟ وہ لوگ جو انفرادی شخصیات کو نمایاں،اُجاگر کرکے ہمیں تحریک کی بدعنوانی اور غیر قانونیت دکھانا چاہتے ہیں اُنہیں اس بات پر غور و فکر کرنا چاہئے۔ لوگوں کے لیے صرف وہی لیڈر(مرد/خاتون) مستنداورقابل قبول،جو مسئلہ کشمیر کے حقیقی تاریخی سیاسی بیانیہ کے ساتھ کھڑا، قائم رہے۔حکومت صرف ظلم و زیادتی کی تدابیرکی نشود ونما کرسکتی ہے مگر وہ وقت پر ان پالیسیوں سے اجتناب کرکے تاریخ کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ اس لیے بھارتی قبضے کے لیے عذر خواہی کرنے والوں کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ وہ،ہمیں بحیثیت انسان دیکھیں جو عظمت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔مگر، اُنہیں ہمیشہ یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ غیر قانونی قبضے،تسلط کے سایے تلے زندگی گزارنے میں کوئی عظمت و وقار نہیں۔مظلومین کی حیثیت سے ہم پابند ہیں کہ ہم ہر قسم کی ناانصافی،ظلم اور جبر کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق جدوجہد کریں۔ اور غیر قانونی قبضہ، تسلط کے زیر سایہ زندگی گزارنے سے بڑھ کر کون سی ناانصافی، ظلم اور جبر ہوسکتا ہے؟ ہمارے لوگوں کی مزاحمت نے قابضین کو اس حدتک مایوس کردیا،یہاں تک کہ وہ اُن لوگوں کو بھی برداشت نہیں کرسکتے،جو مقامی آ بادی کے غالب بیانیہ کی تائید تک نہیں کرتے۔مثال قائم کرنے کے لیے وہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں،امن کے سفیروں کو بھی پابند سلاسل یا قتل کرتے ہیں، بصورت دیگر جنہوں نے کبھی بھی ناجائز قبضے کے خلاف زبان نہیں کھولی۔ ہمیں اور ہمارے مقاصد کی سرزنش کے لیے مذہبی گفتگو کو سامنے لانے سے مسائل کے حل میں کبھی بھی آسانی پیدا نہیں ہوسکتی۔ ہمیں اس حقیقت کے بارے میں یہ واضح ہونا چاہئے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ مذہب جس کی ہم پیروی کرتے ہیں رسومات اور عبادات کاسیٹ کے بجائے ایک نظام زندگی ہے۔ اس لئے ایک انسان کا اپنی سوچ، اصول اور نظریات اسی سسٹم سے اخذ کرنا قدرتی امر ہے۔ دوسرا یہ کہ ہر ایک کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ظلم وجبر اور جارحیت کے خلاف بندوق اُٹھائے۔ مگر یہ ہر ایک کے لیے فرض ہے کہ وہ ظلم و جبر کے خلاف کھڑا ہوجائے۔ اور آخری بات، بحیثیت مسلم جو ایمان رکھتا ہے کہ اسلام انسانیت کے مکمل نظام حیات ہے، سماجی، اقتصادی اور سیاسی سسٹم کا احاط کرتا ہے، ہماری بھی تمنا ہے کہ اسی سسٹم کی حکمرانی ہو، مگر یہ سسٹم، نظام دھونس اور زور زبردستی کے ساتھ نافذالعمل نہیں لایا گیا، چاہئے حالات کیسے بھی تھے۔ ہمارا مقصد خاص یہ ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو بیرونی غیرقانونی تسلط، جارحیت سے آزاد کرنا چاہتے ہیں،اور یوں ہم ایک امن اور انصاف کا ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر ایک سوچ اور نظریہ پہ مباحثہ ہوگااور لوگوں کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ منتخب کریں جو کچھ بھی وہ پسند کریں۔ تاریخ اس حقیقت پر گواہ رہی ہے کہ جہاں بھی لوگوں نے حقیقی آزادی میں زندگی گزاری، اور اسلام کو حق حکمرانی دیا گیا،لوگوں نے نہ صرف اس کو خوش آمدید کہا بلکہ انصاف اور امن کا دوردورہ دیکھا۔ جیسا کہ ایک عظیم انقلابی میکولم ایکس کہتے ہیں؛ ہماری کتاب میں ایسا کچھ بھی نہیں، قرآن ہمیں خاموش ہوکے ظلم و جور برداشت کرنا سکھاتا۔ ہمارا مذہب ہمیں عاقل اور ہوشیار بن کررہنے کی تلقین کرتا ہے۔
    (منان وانی، سابق پی ایچ ڈی،سکالر،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ مجاہد حزب المجاہدین).
    ان خطوط نے منان وانی شہید کی شخصیت کا قد مزید بڑا کردیا اور ان کو کشمیر کے ایک وکیل کی سی حیثیت سے متعارف کروادیا ہے. کشمیر کے پوسٹر بوائے کے طور پر مشہور ہونے والے برہان مظفر وانی شہید کے بعد منان وانی شہید کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ہیرو بن چکے ہیں اور نوجوان ان کی طرح تعلیمی سلسلے کو ادھورا چھوڑ کر منان وانی شہید کا رستہ اختیار کر رہے.
    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ

    "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ

    اس وقت ہم سیالکوٹ کے ایک تعلیمی ادارے میں نائنتھ کلاس میں زیر تعلیم تھے. وہ 08 اکتوبر 2005 کی صبح کا وقت تھا اور کلاس روم میں انگلش کا پریڈ جاری تھا.میں کلاس روم میں پچھلے بنچوں پر موجود طلباء سے سبق سن رہا تھا (مانیٹر ہوتے تھے ہم) کہ اچانک کمرہ لرزنے لگا، سر قدرت اللہ ہمارے انگریزی کے استاد تھے وہ باہر نکلے تو دیکھا زلزلہ آیا ہوا ہے انہوں نے سب طلباء کو باہر نکلنے کو کہا ہم سب بھاگ کر باپر نکلے اور عمارتوں کے درمیان گراؤنڈ میں آکر بیٹھ گئے اور استغفار کے کلمات زبان سے جاری ہونے لگے. تعلیمی ادارے کی مسجد کے مینار کافی لمبے تھے ان کو زلزلے میں باقاعدہ درختوں کی ٹہنیوں کی طرح لہراتے دیکھا تو دل اچھل کر حلق میں آگیا. یہ دو تین منٹ کے لمحات قیامت کے لمحات تھے مگر ہمیں کیا پتا تھا کہ پاکستان کے کچھ علاقوں اور بالخصوص آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد اور گرد و نواح میں واقعی یہ لمحات قیامت بن کر ٹوٹے تھے اور ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے. بعد کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 86 ہزار لوگ اس زلزلے میں جاں بحق ہوگئے تھے. تقریباً ستر ہزار کے قریب لوگ زخمی تھے اور معمولی زخمی نہیں تھے بلکہ کسی کا بازو کٹ چکا تھا تو کسی کی ٹانگ، کوئی ٹنوں ملبے تلے پھنسا تھا تو کوئی دریا کی لہروں کے سپرد ہوا تھا وہ قیامت صغریٰ کے مناظر تھے جو ان آنکھوں نے دیکھے.ریسکیو اور ریلیف کا ایک لمبا سلسلہ تھا جو شروع ہوا تو دنیا بھر سے امداد آنی شروع ہوئی، پاکستانیوں نے بھی اپنے بھائیوں کے لیے اپنے مال اور راشن کے منہ کھول دیئے اور ہر بندے نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر تعاون کیا اور زخمیوں اور پیچھے بچ جانے اور بے گھر ہونے والے تقریباً 2.8 ملین لوگوں کو سہارا دیا. خوراک، میڈیسن، بستر، کپڑے، راشن الغرض ہر چیز کے ٹرکوں کی لمبی لائنیں تھیں جو ان لوگوں تک پہنچی اور وہ پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوئے.
    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    ابھی کچھ دن قبل آزاد کشمیر کے ہی علاقے میرپور میں پھر سے زلزلہ آیا جس نے آٹھ اکتوبر والے زلزلے کی غمناک یادیں تازہ کردیں. گوکہ اس زلزلے میں زیادہ نقصان تو نہ ہوا لیکن آرمی اور دیگر ریسکیو کے ادارے پہنچے اور ریسکیو اور ریلیف کا کام شروع کرکے لوگوں کو بحالی میں مدد دی. لیکن ایک زلزلہ پچھلے دو ماہ سے بھی زائد عرصہ میں شہ رگ پاکستان کے مقبوضہ علاقے میں بھی جاری ہے. ستر سالوں سے بھارتی افواج کے ظلم و ستم کی چکی میں پستے کشمیریوں کی حالت زار پچھلے 65 دن کے کرفیو سے اور بھی محدوش ہوچکی ہے. آزاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں زلزلہ آیا تو پاکستان سمیے دنیا بھر سے امداد کی ایک لمبی لائن تھی جس کا ہم اوپر والی سطور میں ذکر کرچکے اس کے علاوہ افواج پاکستان ، ریسکیو کے اداروں سمیت مذہبی جماعتوں کے ہزاروں رضاکاروں پر مشتمل ریسکیو اور امدادی کاروائیاں جاری رکھنے، ملبہ ہٹانے، زخمیوں کو فیلڈ اسپتالوں میں پہنچانے، ان کو خوراک ، پانی اور بستر دینے، ان کے گھر تعمیر کرنے اور دیگر ریلیف کے مختلف کام والوں کی بہت بڑی تعداد تھی لیکن موجودہ کرفیو کی کیفیت میں مقبوضہ وادی کے لوگوں کی مدد کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے، 65 دن کے کرفیو میں کاروبار اور دیگر ذرائع آمدن کی بندش نے کشمیریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے.بھوک و پیاس سے جاں بلب کشمیری اطراف و کنار میں دیکھتے ہیں لیکن ان کی مدد و حمایت والی ساری آوازیں خاموش کرائی جاچکی ہیں. کشمیریوں کے گھروں سے راشن، بچوں کے لیے دودھ اور اسپتالوں کے بند ہونے سے بیماروں کے پاس سے دوائیاں بالکل ختم ہوچکی ہیں اور کہیں سے مدد کا کوئی سلسلہ نہیں ہے. بھارتی افواج کا ظلم و تشدد، جیلوں کو بھرنا، ساری کی ساری قیادت کا قید ہونا، آئے روز شہادتیں، مسلسل اجتماعی قبروں میں بیسیوں کشمیریوں کو دفنانے کا سلسلہ جاری ہے. اگر یہ کرفیو جلد از جلد ختم نہیں ہوتا تو اس خطہ ارض پر بہت بڑا انسانی بحران اور حادثہ پیدا ہونے جارہا ہے جس سے صرف آٹھ ملین کشمیری ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ پاکستان و بھارت بھی جنگ کی لپیٹ میں آئیں گے اور یہ دو ایٹمی اور نظریاتی ملکوں کی جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لی گی. بھارت نے اس کرفیو اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل کمال ہوشیاری سے اپنی پراپیگنڈا مشینری کو استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق میں پاکستان سے ان کے لیے اٹھنے والی سبھی مضبوط اور موثر آوازوں کو خاموش کروا دیا ہوا ہے، ایف اے ٹی ایف کے شکنجے کیں پاکستان کو جکڑ کر اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان کے حکمران بے بس نظر آتے ہیں.
    "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ
    گوکہ عالمی سطح پر پاکستان کی انتظامیہ اور بالخصوص وزیراعظم پاکستان عمران خان مسئلہ کشمیر کو بہت احسن انداز میں ڈسکس کر رہے ہیں اور یہ ایشو دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہا ہے لیکن یہ عام حالات نہیں ہیں کہ جس میں صرف تقریریوں یا سفارتی اقدامات تک محدود رہا جائے یہ ہنگامی حالات ہیں کشمیری 65 دن کے کرفیو سے قریب المرگ ہیں. ساری حریت قیادت قید ہے اور پاکستان میں بھی ان کے ہمنوا پابندیوں میں ہیں. ایسے میں اقوام عالم اور بالخصوص حکومت پاکستان کو جاں بلب کشمیریوں کے لیے کچھ عملی اقدامات کرنے چاہیں جو آٹھ ملین کے شدید ترین انسانی بحران کو بچانے میں اہم کردار ادا کر سکیں.
    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah