Baaghi TV

Category: کشمیر

  • صدر آزاد کشمیر کا امریکی کانگریس اراکین کے بھارتی حکومت کے نام خط کا خیر مقدم

    صدر آزاد کشمیر کا امریکی کانگریس اراکین کے بھارتی حکومت کے نام خط کا خیر مقدم

    آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چھ ارکان کی طرف سے بھارتی حکومت کے نام خط کا خیر مقدم کیا ہے،

    این آر او ملے گا یا نہیں وزیر اعظم نے اعلان کردیا

    اسلام آباد ۔ 28 اکتوبر (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چھ ارکان کی طرف سے بھارتی حکومت کے نام خط کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بھارتی حکومت کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کئے گئے شہریوں کی مکمل معلومات فراہم کرنے اور امریکی کانگریس کے ارکان اور صحافیوں کو مقبوضہ جموں کشمیر کا دورہ کر کے وہاں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کی اجازت دینے کے مطالبہ کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے امریکی کانگریس کے ارکان ڈیوڈ فسسلین، ڈینا ٹیٹس، کرسی ہولا ہان، اینڈی لیون، جیک میگ گورن اور سوسان وائلڈ کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے بھارتی حکومت سے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور مواصلات کی ناکہ بندی، سیاسی رہنماﺅں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری اور طویل عرصہ سے جاری کرفیو کے حوالے سے کئی سوالات پوچھے ہیں، صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ امریکی کانگریس کے ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لئے ربڑ کی گولیوں کے استعمال اور اس کے نتیجہ میں آنکھوں کی بصارت سے محروم بچوں سمیت دیگر شہریوں کی صحیح تعداد اور شہریوں کے حق احتجاج کے حوالے سے بھی کئی سوالات پوچھے ہیں،

    مولانا فضل الرحمن کی زیرقیادت مارچ کو اسلام آباد آنے دینا ہے یا نہیں؟ فیصلہ ہو گیا

    صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ پانچ اگست کے بعد مقبوضہ علاقے میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے باوجود اندھا دھند گرفتاریوں کا علم ہر خاص و عام کو ہے۔ بھارت کی نیشنل فیڈریشن آف وویمن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ اس رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پانچ اگست کے بعد تیرہ ہزار جوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں بارہ سے چودہ کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے امریکی کانگریس کے رکن الہان عمر، ٹیڈ یوہو، ابھی گہیل ، سپن برگر اور مائیکل فیز پیٹرک کی طرف سے امریکی ایوان نمائندگان کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی برائے جنوبی ایشیاءکے 22 اکتوبر کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال اور بھارتی فوج کے شہریوں کے ساتھ طرز عمل کے حوالے سے ان سوالات کو اٹھانے اور تشویش کا اظہار کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ ان اراکین کانگریس نے بھارتی حکومت سے مقبوضہ کشمیر سے فوری طور پر کرفیو ختم کرنے مواصلاتی ناکہ بندی ختم کرنے، شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔ صدر ریاست نے امریکی کانگریس کے ارکان کی طرف سے ایوان نمائندگان کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی حکومت کڑی تنقید کو عالمی برادری کے لئے ویک اپ کال قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی اور منظم قتل عام رکوانے کے لئے بلا تاخیر اقدامات کرے،

    صدر مسعود خان نے کہا کہ بھارت بڑھتی ہوئی عالمی تنقید اور کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے لئے واشنگٹن ڈی سی میں تھنک ٹینک پلانٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا لیکن بھارت کی تمام تر کوششوں کے باوجود واشنگٹن، برسلز اور لندن سے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش نہیں کیا جا سکا اور دنیا اب مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کے ساتھ اس کے وحشیانہ سلوک کی حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہو چکی ہے۔ بھارت کا مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جھوٹ پر مبنی بیانیہ اب اپنا اعتبار کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں سوالات پوچھنے کا عمل قابل قدر ہے لیکن عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو فوری مداخلت کر کے کشمیریوں کو بھارتی مظالم اور کشمیر کو بھارت کی نو آبادی بننے سے بچانا ہو گا،

  • 27اکتوبر یوم سیاہ—از–ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر ایک ایسی خوبصورت وادی جس کو جنت نظیر وادی کہا جاتا ہے۔
    برف سے ڈھکے پہاڑوں
    اور حسین کہساروں کی ایسی سرزمین جس کی وادیاں، جھرنے اور آبشاروں کی خوبصورتی کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے گویا دنیا میں ہی جنت کی سیر کرلی گئی ہو۔
    لیکن اس وادی کے لوگوں کا سب سے بڑا جرم مسلمان ہونا تھا تو اسی کی وجہ سے ان کی جنت کو جہنم بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔
    پاکستان اور بھارت کی تقسیم کے وقت یہ طے پایا گیا تھا کہ ریاستوں کو اختیار ہوگا اپنی مرضی سے دونوں ممالک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرسکتی ہیں کشمیریوں نے ڈوگرہ مہاراجہ کے شخصی راج سے نجات پانے کے لئے اپنی مخصوص جماعت آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی گئی جو کہ بھارتی شر پسندوں کو برداشت نہ ہوئی۔
    اسی دن سے بھارت نے کشمیر کے خلاف سازشوں کا تانا بانا بُننا شروع کردیا اور آخرکار اس کا عملی مظاہرہ 27اکتوبر 1947 کو رات کے اندھیرے میں بھارتی فوج کو کشمیر میں اتار کر کیا گیا اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما لیا گیا۔

    کشمیریوں نے خوب مزاحمت کی اور آدھا حصہ چھڑوا لیا جو کہ آج آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔
    اسی اثناء میں نہرو نے اقوام متحدہ کا رخ کیا اور وعدوں کے پل باندھ کر قراردادیں پیش کی کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق ہوگا اور وہ ریفرینڈم کے ذریعے جس ملک کے ساتھ چاہیں الحاق کرسکتے ہیں۔
    2نومبر کو اقوام متحدہ کے سامنے کی گئی نہرو کی تقریر آج بھی آن ریکارڈ موجود ہے لیکن کبھی بھی اس کے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

    اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں بکھیریں گئی اور کشمیریوں کی آواز دبانے کے لئے بہت سے مظالم کئے گئے۔
    کشمیر آج تک اپنی آزادی کی جنگ خود لڑ رہے ہیں اور ہندو بنیے کے مظالم کا شکار ہورہے ہیں لیکن پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
    غیر مسلم ممالک میں اگر کوئی جانور بھی ہلاک ہوجاۓ تو کئی کئی دن اس کے غم میں سوگ منایا جاتا ہے لیکن کشمیر شمشان گھاٹ کے مناظر پیش کرتا ہے جہاں ہر روز نوجوان،بچے ،بوڑھے اور عورتوں کا قتل عام ہورہا ہے اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کشمیریوں کا سب سے بڑا جرم مسلمان ہونا ہے….!!!!
    اس لئے ان کی زندگیوں کا غم پوری دنیا میں کسی کو نہیں ہوتا۔
    دنیا میں یہ کہاں کا قانون ہے کہ کوئی بھی ملک طاقت کے بل بوتے پر معصوم جانوں کے خون کا پیاسا ہوجاۓ اور بنا کسی جرم کے ان پر ظلم و زیادتی کرے لیکن اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا خواب خرگوش میں ہے۔

    کشمیریوں پر کیے گئے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں انٹرنیشنل میڈیا ہزاروں دفعہ کوریج کرچکا ہے کہ بھارتی فوج کس طرح مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔
    کس طرح کشمیری خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے اور ان پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اپنی معصوم جانوں اور ماؤں بہنوں کی عزتیں بچانے کے لئے اگر کشمیری بھارتی فوج کے مظالم کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔

    کیا بھارت اس قدر سفاکیت کے باوجود دہشت گرد نہیں ہے ؟؟؟؟؟

    گزشتہ کئی روز سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے کشمیریوں کے گھروں کو جیل بنا دیا گیا ہے جہاں کھانا پینا اور ادویات کی عدم دستیابی کی بدولت کئی کشمیری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    کیا یہ بھارتی دہشت گردی نہیں ہے؟؟؟؟

    بھارت نے خطے کا امن و امان تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن اسکا ہاتھ روکنے کے لئے اقوام متحدہ نے آنکھیں اور کان بند کر رکھے ہیں۔

    بھارت نے جدید ترین ٹیکنالوجی اور اسلحہ کا استعمال کرکے کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی اور ان کی آزادی کی آواز دبانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ہمیشہ سے منہ کی کھائی اور ناکام ہوا۔
    کشمیری سنگبازوں اور فریڈم فائٹرز کا مقابلہ کرنا بھارتی افواج کے بس کی بات نہیں رہی۔
    بھارت نے جس قدر مظالم کی انتہا کی اسی قدر کشمیری نوجوان قلم کتابیں چھوڑ کر مقابلے کے لئے نکل پڑے پی ایچ ڈی اسکالرز بھی بھارتی فوج کے مظالم کی روک تھام کے لیے عسکریت پسند تحریکوں کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوۓ۔
    کشمیریوں کے حوصلے کبھی پست نہیں ہوں گے اور آزادی پانے کی خاطر وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنی مدد آپ کے تحت جدوجہد جاری و ساری رکھیں گے لیکن ہم بطور مسلمان اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر بھارتی فوج کے خلاف ایکشن لے ورنہ ان کے اپنے ہی ممالک کے تمام لوگوں کا عدل و انصاف سے بھروسہ اٹھ جاۓ گا اور وہ دن دور نہیں جب دنیا کے منصفوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاۓ گا……!!!!!!

    27اکتوبر یوم سیاہ—از–ام ابیہا صالح جتوئی

  • ابن قاسم کی فریاد۔۔از قلم خنیس الرحمن

    ٓٓکشمیری آج ایک قابض فوج کے خلاف آپ کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔جب میں ایک دفعہ اپنے والد سے ملنے جیل میں گیا تو میں نے اپنے والد سے پوچھا آپ جیل میں کیوں ہیں تو میرے بھائی نے کہا کہ ابو ہوم ورک نہیں کرتے تھے تو اس وجہ سے ان کو انڈیا نے جیل میں ڈال دیا ہے تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ایک دفعہ مجھے اپنے ابو کی بہت یاد آرہی تھی تو میں نے جان بوجھ کر ہوم ورک نہیں کیا۔میں نے سوچا کہ شائد اس طریقے سے میں اپنے والد کے ساتھ رہ سکوں۔لیکن ایسا نہیں ہوا تو میں اپنے والد کے پاس گیا تو میرے والد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنی کمر سے اپنی شرٹ ہٹائی تو اس پر ٹارچر کے نشان تھے۔میں نے اپنی آنکھیں بند کیں میں نہیں دیکھ سکا تو میں نے اپنے ابو سے کہا یہ کس نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔یہ کس نے کیوں آپ کے ساتھ کیا ہے تو ابو نے کہا انڈیا۔۔چھوٹا سا تھا تب میں۔۔کشمیر میں بچے سکول بیگ سے زیادہ تابوت اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔جو بھی پاکستان میں ارباب اقتدار ہیں آپ انہیں کہیں وہ کشمیر کے لیے کچھ کریں کیونکہ صرف باتوں سے نو لاکھ فوج کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔آپ کو ضرورت ہے تب تک جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔بہت ظلم ہوچکاہے۔پچھلے سترسال سے کشمیری لاک ڈاؤن میں رہ رہے ہیں۔اب وقت آچکا ہے کہ پاکستانی قوم اس ایشوکو اٹھائے۔کشمیر میں لوگ کیا سڑکوں یا کسی ڈویلپمنٹ کے لیے لڑ رہے ہیں نہیں انڈیا سب کچھ دینے کو تیار ہے۔وہ سری نگر کو سمارٹ سٹی بنانے کو تیار ہے۔کشمیر ی کہتے ہیں ہمیں روٹی،کپڑااور مکان نہیں چاہیے ہم آدھی روٹی کھائیں گے لیکن سر نہیں جھکائیں گے۔یہ بات یاد رکھیں کہ کہ کشمیریوں کا آپ پر ایک قرض ہے اویہ مسئلہ کسی خاص فرد یا خاندان کا نہیں سب پاکستانیوں کا ہے۔۔
    یہ الفاظ ایک ایسے نوجوان کے ہیں جس کی والدہ اور والدہ اپنے آپ کو تحریک آزادی کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں بند ہیں۔جن کا جر م یہ ہے وہ آزادی کی صدا بلند کرتے ہیں۔یہ احمد بن قاسم کے الفاظ ہیں جو انہوں نے شاہراہ دستور پر ملین مارچ سے خطاب کے موقع پر کہے ایک وقت تھا ان کی والدہ پاکستان کے نام پاکستان کے صاحب اقتدار کے نام کشمیریوں کا پیغام بھیجا کرتی تھیں آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں پاکستان کا پرچم لہرانے کی وجہ سے زندان میں ہیں اس لیے آج خود بیٹا اپنی والدہ کا پیغام پاکستانیوں کو پہنچا رہا تھا۔احمد بن قاسم نے ان مختصرالفاظ میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم ان کی مشکلات اور ان کی فریاد کو ہمارے سامنے رکھ دیا،احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو جنہیں کشمیر کا نیلسن منڈیلا بھی کہاجاتا ہے،چھبیس سال سے اودھم پور کی جیل میں پابندسلاسل ہیں۔انہیں پہلی مرتبہ 1993ء میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیجا گیا اور پھر بعد میں بھارتی سپریم کورٹ نے جنوری 2003ء میں انہیں تاحیات عمر قید کی سزا سنادی تھی۔یوں ان کی ساری زندگی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے گزری ہے۔بھارتی حکومت اور فوج نے اس طویل عرصہ میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سخت اذیتیں پہنچائیں اور جدوجہد آزادی سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کیں لیکن غاصب بھارت کا ظلم وجبر انہیں جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔1993میں گرفتاری اور6سال کی نظربندی کے بعدعدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کردیاتھا لیکن بھارتی فورسز نے انہیں 2002ء میں نئی دہلی کے اندرا گاندھی ائرپورٹ پر اس وقت دوبارہ گرفتار کرلیا جب وہ لندن میں کشمیر کے حوالے سے ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔اس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود محض تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے جرم میں گرفتاررکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر قاسم فکتو مقبوضہ جموں کشمیر اور جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی سے شادی کے بعد ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم سیدہ آسیہ اندرابی اوران کے بیٹے کو1995ء میں رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹر قاسم فکتوکی سزا برقرار رہی۔ مسلم دینی محاذ کے سربراہ بھی ہیں انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی اور 125قیدیوں کو گریجویشن کرائی۔عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی تھی جو 14سال بنتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت نے انہیں 26 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے لیکن کوئی ان کی آواز سننے والا نہیں ہے۔ جیسا کہ احمد نے کہا کہ کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں آج ان کے والد بھی کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی تکمیل کے لئے جیل میں ہیں۔ذرائع کیمطابق احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو کو بھارت کی طرف سے بہت بھاری پیشکش کی گئی۔ ان کو اسلامک یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے حیثیت سے تعینات کرنے کی پیش کش کی گئی،اس کے علاوہ 2002 کے دوران آئی بی کے چند افسران نے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی پیش کش بھی کی تھی۔ اسی طرح انہیں وزارت تعلیم کاقلمدان بھی سنبھالنے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے ان سب کو ٹھکرا دیا۔احمد کی والدہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ تحریک آزادی کے لیے آوازبلند کرنے والی واحد خاتون ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ جیلیں کاٹیں۔آج بھی سیدہ آسیہ اندرابی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔انہیں بھی صرف پاکستان سے محبت کی سزا دی جارہی ہے وہ اپنے پروگراموں میں پاکستان کا پرچم لہراتی ہیں۔اپنے گھر پر پاکستانی پرچم لہراتی ہیں تو ان کے گھر کو بھارت کی طرف سے سیل کردیا جاتا ہے۔وہ یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ پڑھتی ہیں ان پر غداری مقدمہ کرکے جیل میں بند کردیا جاتا ہے۔وہ برملا دوٹوک کہتی ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ جینا مرنا پسند کرتے ہیں۔احمد جس طرح سے کہہ رہے تھے کہ ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔ان کی والدہ کا یہی جرم تھا وہ کہتی تھیں کہ اسلام کی بنیاد پر،ایمان کی بنیاد پر،قرآن کی بنیاد پر،محمدﷺ کی محبت کی بنیاد پر ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔آج کشمیر میں مسلسل کرفیو کو ۱سی سے زائد دن گزر چکے ہیں ہمیں جاگنا ہوگا۔لوگ کہتے ہیں جلسوں،تقریروں اور پرچم لہرانے سے کیا ہوتا ہے آج وہ پاکستان کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں،جیلیں کاٹ رہے ہیں،گولیاں کھا رہے ہیں ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ ہم ان کے لیے آواز بلند کرسکیں۔آسیہ اندرابی کہا کرتی ہیں کہ پاکستان مدینہ ثانی ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم بھی یہی کہتے ہیں آج ریاست مدینہ کی بیٹی کا لخت جگر ہم سے فریاد کررہا ہے کہ کشمیریوں کا آپ پر قرض ہے ہمیں اس قرض کا بدلہ چکانا ہوگا۔

  • بھارت کا تحریک آزادی کشمیر کو "موبائل سموں” سے کچلنے کا فیصلہ

    سری نگر: بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگانے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور کسی طرح تحریک آزادی کشمیر کو روکنا چاہتی ہے جس کے پیش نظر مودی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پولیس کی تصدیق کے بغیر نیا موبائل کنکشن جاری نہیں ہوگا

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں پولیس نے ٹیلی کام آپریٹرز سے کہا ہے کہ وہ پولیس کی تصدیق مکمل کیے بغیر صارفین کو کوئی نیا سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو ہدایات جاری کیں کہ ان کی سروسز کا غلط استعمال ہونے کی صورت میں ، کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے اب مناسب تصدیق کے بعد ہی پوسٹ پیڈ سم کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پولیس تصدیق کے ساتھ ساتھ کمپنی کا اپنا طریقہ کار(Know Your Customer) (کے وائی سی)بھی شامل ہے۔

    ایئر ٹیل کے ایک عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کو پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو بغیر تصدیق کے سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے پری پیڈ سم کارڈز کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
    حکام نے 70 دن کے وقفے کے بعد 14 اکتوبر کو 40 لاکھ سے زیادہ پوسٹ پیڈ فون بحال کئے تو اس کے بعد لوگو ں میں پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ میں کروانے کا رجحان بڑھ گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں 40 لاکھ پوسٹ پیڈ صارفین اور 26 لاکھ سے زیادہ پری پیڈ صارفین ہیں۔

    براڈ بینڈ ، موبائل فون سروسزاور انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلات کو 5 اگست کو معطل کردیا گیا ، جب بھارت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر خصوصی حیثیت ختم کردی اور ریاست کو دو مرکز علاقوں میں تقسیم کردیا۔
    ایک سینئر پولیس آفیسر نے ساؤتھ ایشین وائر کوبتایا کہ انہوں نے ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا ہے کہ کوئی نیا سم کارڈ جاری کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کے مناسب طریقہ کار پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا ، "اگر ٹیلی کام کمپنیوں نے پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ کنکشنز میں تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔”

    کشمیر بھر میں پوسٹ پیڈ کنکشن کی بحالی کے ایک ہفتہ بعد ، سینکڑوں افراد نئے پوسٹ پیڈ سم کارڈ حاصل کرنے یا پری پیڈ کارڈ کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل کرنے کے لئے جیو ، ایرٹیل ، بی ایس این ایل ، ووڈافون ، آئیڈیا اور دیگر آپریٹرز کے شورومزپر امڈآئے تاہم ، بہت سے صارفین مایوس لوٹے کیونکہ تمام ٹیلی کام کمپنیوں نے سموں کی پوسٹ پیڈ میں تبدیلی سے انکار کردیا تھا۔

  • آزاد کشمیر میں احتجاج کرنےوالے علیحدگی پسند کون لوگ ہیں ؟

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں نام نہاد قوم پرست جماعتوں کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری ہے اس احتجاج میں آزاد جموں و کشمیر کی چھوٹی بڑی 20 سے زائد جماعتوں کے اتحاد نے شرکت کر رکھی ہے، اس کا اتحاد کے احتجاج کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کشمیر کو کلی طور پر تمام اکائیوں کے سمیت مکمل آزاد کیا جائے اور اسے ایک خود محتار ریاست بننا چاہیے ،

    آزاد کشمیر کی بیشترعلیحدگی پسند تنظیمیں جو کہ حالیہ احتجاج کا حصہ ہیں کشمیر متعلق پوری پاکستانی قوم سے محتلف نظریات رکھتی ہیں، ان علیحدگی پسند تنظیموں کےمطابق 21 اکتوبر 1947 کو قبائلی مجاہدین کشمیری عوام کی مدد کیلئے کشمیر آئے تھے اور ان کے آنے کے بعد بھارت نے کشمیر میں اپنی افواج اتاری تھیں، اور انہی قبائلیوں کی وجہ سے کشمیر تقسیم ہوا اور انہی کی وجہ سے آج کشمیری ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں اور یہ بڑے مجرم ہیں، اور یہ تمام علیحدگی پسند لوگ 21 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کیلئے راولا کوٹ سے مظفرآباد کیلئے نکلے ہوئے تھے

    مظفر آبد میں اپر اڈا کے مقام پر ان لوگوں نے جلسے کا اعلان کر رکھا تھا جہاں انہوں نے اپنی تقریب کرنی تھی وہاں پر جب یہ لوگ اکٹھا ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے مظفر آباد قانون ساز اسمبلی کی طرف مارچ کرنا ہے، ابھی انتظامیہ کیساتھ مذاکرات ہو رہے تھے تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا ، حالات کو قابو کرنے اور نارمل حالت میں لانے کیلئے پولیس نے ان مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کیا ، اس ہنگامی صورت حال کے نتیجے میں ایک بزرگ شہری جا بحق ہوئے جن کا ان مظاہرین کیساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ، اس کے بعد مظفر آباد پریس کلب کے سامنے بھی احتجاج کیا گیا تھا جہاں پولیس کی بھاری نفری نے حالات کو قابو میں کیا گیا تھا

    اس سارے معاملے میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ان لوگوں کے مطالبے پہ دفتر خارجہ کو خط لکھا تھا کہ یوا ین کی ہیومن رائٹس کونسل کا وفد مظفرآباد آئے اور ان لوگوں سے ملاقات کرے، اس بعد راجہ فاروق حیدر ان علیحدگی پسند جماعتوں کو لیکر مظفرآباد میں یو این کے دفتر گئے جہاں انہوں نے اپنی یادادشت جمع کروائی جسے یہ کہتے ہیں کہ ان کے یو این کیساتھ مذاکرات ہوئے ،

    اور ان علیحدگی پسند جماعتوں کے احتجاج کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ 21 اکتوبر جس دن یہ احتجاج شروع ہوا اس دن ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان میں موجود تمام ممالک کے سفیروں کو کنٹرول لائن کا دورہ کروایا ہے اور بھارت کا جھوٹ کا پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور کشمیر ایشو پر پاکستان فرنٹ فٹ پر کھیل رہا ہے ، ایسے میں بھارت سے یہ ٹویٹس آنا شروع ہو گئی ہیں کہ مظفر آباد میں پاکستانی فوج کیخلاف احتجاج کرنے پولیس نے کشمیریوں پر لاٹھی چارج کیا ہے،

    کچھ انڈین ٹی وی چینلز نے تو اس ہنگامی صورتحال کو براہ راست بھی بھارت میں دکھایا جو کہ پاکستان کے امیج اور سالمیت کیلئے بالکل اچھا نہیں ہے ، اور یہ احتجاج مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے بھی جا ملتا ہے جو کہ وقت اور جگہ کے لحاظ سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ،

    مولانا فضل الرحمن بیرونی ایجنڈے پرپاکستان کوبدنام کرنے پرتلے ہوئے ہیں،سنی اتحاد کونسل

  • 26 سال سے جیل میں قید کشمیری باپ نے اپنے بیٹے کو خط میں کیا لکھا ؟

    پچھلی سات دہائیوں سے پاکستان کے پڑوسی بھارت نے وادی کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے جس طرح کشمیریوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے، تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی، اور اس طلم و جبر کی تاریک رات میں بھی کئی ایسے حریت کے ستارے چمکے جن کی روشنی آج تک مانند نہ ہوئی ،

    ایسے ہی ایک ستارے ڈاکٹر محمد قاسم ہیں جو کہ نڈر و بےباک کشمیری خاتون آسیہ اندرابی کے شوہر ہیں ، ڈاکٹر محمد قاسم پچھلے 26 سال سے جیل میں قید ہیں، عرصہ دراز سے ان کے اہلحانہ کو ان کی کوئی خبر نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں ، کچھ دن پہلے ڈاکٹر محمد قاسم نے اپنے بیٹے احمد بن قاسم کو ایک خط لکھا اور اس خط میں ایک نظم لکھ کر بھیجی ہے جس میں وہ اپنے بیٹے احمد اور اس جیسے کئی دلیر بیٹوں کی ڈھارس بندھاتے ہیں، ڈاکٹر محمد قاسم لکھتے ہیں

    میں روح ہوں
    یہ قید اور موت میرے لیے نہیں ہیں ، کیا مجھے ان سے ڈرنا چاہیے
    کون کسے قید کر رہا ہے ؟ نہ میں مارا گیا اور نہ مارا جاؤں گا
    یہ قید مجھے اپنے خطے اور لوگوں کے بارے سوچنے کا کہہ رہی ہے
    مییری روح تب تک میرا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی جب تک اپنا مشن پوارا نہ کر لوں

    ڈاکٹر محمد قاسم کے یہ الفاظ اپنے اندر اس قدر وزن رکھتے ہیں کہ پڑھنے والا کوئی بھی شخص جو کشمیری ہے یا کشمیریوں سے ہمدردی رکھتا ہے وہ پر عزم ہو جائے گا، اوراہل کشمیر کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار ہو جائے گا

  • "پاکستانیوں اور کشمیریوں کی محبت کی انوکھی مثال” تحریر: غنی غنی محمود

    "پاکستانیوں اور کشمیریوں کی محبت کی انوکھی مثال” تحریر: غنی غنی محمود

    ماں باپ سے محبت ایک فطری عمل ہے مگر بیٹیوں کو ماں باپ سے لڑکوں کی نسبت زیادہ محبت ہوتی ہے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملین مارچ کیلئے 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر تھی مگر سابق سربراہ آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل حمید گل مرحوم کی زوجہ محترمہ کی نماز جنازہ بھی 20 اکتوبر بوقت 2:30 پر تھی
    جب ماں باپ فوت ہو جائیں تو بہت دکھ ہوتا ہے مگر جب باپ کا سایہ پہلے ہی سر سے اٹھ چکا ہو تو پھر ماں کے مرنے کا دکھ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے عظمی گل جنرل حمید گل کی اکلوتی بیٹی ہیں مگر امت کی اس عظیم بیٹی نے ثابت کر دیا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں 2:30 پر اپنی شفیق و پیاری ماں کا جنازہ کروا کے ہماری یہ بہن انتہائی دکھ اور پریشانی میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنا نا بھولی اور کشمیر ملین مارچ میں اپنے مقررہ وقت پر خطاب کیا اور ملین مارچ کی نگرانی بھی کی واقع ہی ماں باپ کی تربیت بہت اثر رکھتی ہے جنرل گل مرحوم کی بیٹی نے کل ماں کے غم میں مبتلا ہوتے ہوئے بھی کشمیریوں کے غم کی آواز بلند کرکے ثابت کر دیا کشمیری اور پاکستانی بھائی بھائی ہیں
    کشمیریوں اور پاکستانیوں کی محبت بہت ہی پرانی ہے کیونکہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کا ناصرف مذہب ایک ہے بلکہ رسم و رواج اور بولی جانے والی زبان کی بھی آپس میں بہت مماثلت ہے کشمیریوں کی پاکستان سے محبت کا اندازہ قیام پاکستان میں کشمیری لوگوں کی قربانیوں سے اور پاکستانیوں کی کشمیریوں سے محبت کا انداز آزاد کشمیر کی آزادی اور تحریک آزادی جموں و کشمیر کی تحریک سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے
    یوں تو یہ محبت بہت پرانی ہے مگر جب سے انڈین حکومت نے کشمیر کی خود مختاری ختم کی ہے تب سے اس محبت میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے
    پچھلے تقریبا 3 ماہ سے کشمیری محصور ہیں اور نظام زندگی مفلوج ہو چکا ہے تلاشی کے بہانے نوجوانوں کو اٹھانا اور بعد میں جعلی مقابلوں میں شہید کر دینا انڈین فوج کا گھناؤنا فعل ہے جبکہ کشمیریوں کے پاس کھانے پینے کو بھی کچھ نہیں مگر افسوس کہ کشمیریوں پر انڈیا کے اس بیہمانہ ظلم و تشدد پر پوری عالمی برادری خاموش ہے ماسوائے پاکستان ترکی اور چند اکا دکا ممالک کے
    مظلوم کشمیریوں کے اس دکھ درد میں ہر پاکستانی برابر کا شریک ہے اور کشمیریوں پر انڈین ظلم کے خلاف ہر سطح پر اپنی آواز بلند کیئے ہوئے ہے اور تاریخ نے پہلی بار دیکھا کہ پاکستان کے شہروں کے علاوہ دیہاتوں اور گلی محلوں میں پاکستانی پرچم کیساتھ کشمیری پرچم بھی لہرا رہے ہیں جو کہ اس دو طرفہ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ایسی ہے محبت کا اظہار کرنے کیلئے کل پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں کشمیر یوتھ الائنس ملین مارچ میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں دنیا کا سب سے طویل ترین کشمیری پرچم لہرایا گیا جو کہ تقریبا 5 کلومیٹر پر محیط تھا جس کا مقصد کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیساتھ اسلام آباد میں قائم دنیا بھر کے سفارت خانوں تک پیغام پہنچانا تھا کہ کشمیریوں کے غم میں ہم پاکستانی ہر طرح سے شامل ہیں اور کشمیریوں کا غم ہمارا غم ہے ہم اپنی جان و مال کے ساتھ کشمیریوں کے کندھوں سے کندھے ملا کر کھڑے ہیں ان شاءاللہ

  • مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

    مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

    تقسیم ہند کے فوراً بعد جموں میں لاکھوں کشمیری مسلمانوں کا منظم قتل عام تاریخ کے ان واقعات میں سے ہے جس کے تحریری و زندہ ثبوت ہونے کے باوجود اس ہواقعے کے زکر کو دباکر ہندوتوائی ظلم کی اس بھیانک تصویر سے دنیا کو لاعلم رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے،

    نامور امریکی انسانی حقوق و سول رائٹس ایکٹیوسٹ میلکم ایکس کا کہنا ہے کہ "The Media is the most powerful entity of earth, have power to make the innocent guilty & the guilty look innocent” کے تحت ایسا ہی مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کیا گیا، بھارتی ظلم و جبر کو جائز قرار دینے کے لیے ہمیشہ سے مظلوم کشمیریوں کو دہشتگرد بنا کر دکھانے کی کوشش کی گئی،

    تقسیم ہند کے بعد 1947 میں ماہ اکتوبر کے وسط سے نومبر تک منظم طریقے سے جموں کے علاقے میں لاکھوں نہتے مسلمانوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا جسے بھارت کیساتھ ساتھ اہلیان مغرب نے بھی دبانے کی کوشش کی جبکہ چند پنڈت خاندانوں کا زکر اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ دنیا سمجھتی ہے ظلم ان کے ساتھ ہوا جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ظالم مظلوم بنادئیے گئے اور مظلوم کو ظالم بنادیا گیا، بلا جواز انسانیت کا قتل کیا گیا جس کا مقصد مسلمانوں کو ختم کرنا تھا،

    ادریس کانتھ کی تحقیق کے مطابق اکتوبر 1947 کے وسط میں ڈوگرا مہاراجہ نے RSS کی مدد سے جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا جس کے نتیجے میں تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار کشمیری مسلمانوں کو قتل کردیا گیا اور سات سے آٹھ لاکھ افراد کو جان بچا کر بھاگنا پڑا نتیجتاً تین ہفتے بعد مسلم اکثریتی جموں میں مسلمان اقلیت میں رہ گئے، اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن نے اس واقعے کو دبانے کے لیے میڈیا کو پابند کیا کہ وہ اس کی کوریج نہ کرے،

    ادریس کانٹھ کے مطابق یہ قتل عام قبائلیوں کے حملے سے پانچ روز پہلے شروع کیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ قبائلی پشتونوں نے ردعمل کے طور پر کشمیر کا رخ کیا، جواہر لعل نہرو نے اس واقعے کا ذمہ دار ڈوگرا مہاراجہ اور RSS کو قرار دیا انہوں نے 17 اپریل 1949 کو ولبھ بھائی پٹیل کو لکھے گئے خط میں اس کا زکر کیا جسے فرنٹ لائن میگزین نے شایع کیا اس کے علاوہ Horace Alexander نے اپنے آرٹیکل میں انسانی تاریخ کے اس المناک سانحے کو تفصیلی ڈسکس کیا جوکہ 16 جنوری 1948 کو The Spectator میں شایع ہوا،

    اس سانحہ سے قبل جموں کی 61% آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی معروف بھارتی دانشور و قانون دان AG Noorani نے اپنی کتاب Kashmir Dispute Vol-1 میں لکھا ہے کہ جموں کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے ایک منظم پلاننگ مرتب کی گئی جسکے لیے RSS کی مدد لی گئی جس نے باہر سے ہزاروں کی تعداد میں ہندوتوا دہشتگردوں کو جموں بھیجا اس کے علاوہ سنگھ پریوار کی ایک شاخ جموں پرجا پریشد بھی اس میں پیش پیش رہی جو بعد میں RSS کی سیاسی ونگ بھارتیہ جن سنگھ سے منسلک ہوگئی اور BJP بننے کے بعد اس کی اہم ونگ ہے،

    آرٹیکل 370 ختم کرکے جموں کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا مطالبہ اسی جماعت کا تھا جوکہ گولولکر کی آئیڈیولوجی "ایک ودھان، ایک نشان، ایک پردھان” پہ مشتمل تھا جسے گذشتہ بھارتی یوم آزادی کے موقع پر نریندر مودی نے اپنی اعلانیہ پالیسی و منزل ہونے کا اظہار کردیا ہے”، دس اگست 1948 میں The Times لندن نے تاریخی کمینہ پن اور سفاکیت کے اس المناک واقعہ پر رپورٹ شایع کی جس میں واضح کیا گیا کہ اس سے بڑھ کر دہشتگردی، حیوانیت، ظلم کی نظیر نہیں ملتی،

    RSS اور ڈوگرا مہاراجہ جیسے انسان نما حیوانوں نے وہ سفاکیت دکھائی کہ اگر کتّوں اور بھیڑیوں پر اس کا الزام تھونپا جائے تو وہ بھی اسے اپنی توہین سمجھیں گے یہ محض چند بدمعاشوں کا کام نہیں تھا بلکہ RSS کے ہزاروں بیرونی درندوں، جموں پرجا پریشد کے حیوانوں اور ڈوگرا کی فوج کے زریعے اسے منظم طریقے سے کیا گیا، اس رپورٹ میں The Times نے شایع کیا کہ "Over 237000 Muslims were systematically exterminated unless they escaped to Pakistan along the border by Dogra forces & Hindu extremists, this happened in the mid October, five days before the pathan invasion & nine days before Maharaja’s accession to India” یہ تاریخ کی وہ سفاکیت تھی کہ گاندھی بھی اسے دہشتگردی کہنے پہ مجبور ہوگئے گاندھی نے 25 دسمبر 1947 کو ریمارکس دئیے کہ "جموں کے ہندو، مہاراجہ ڈوگرا اور وہ ہندو جو باہر سے گئے

    جموں میں مسلمانوں کے قتل عام اور مسلمان عورتوں کی عصمت دری کے کے ذمہ دار ہیں” (Vol-90 of Gandhi’s work) یہ محض اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ منظم اور سرکاری سرپرستی میں ظلم و جبر کا عظیم واقعہ ہے، امریکہ میں ہولوکاسٹ میموریل میوزیم میں ایک نقشہ عیاں کیا گیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ مختلف علاقوں سے

    یہودیوں کو مشرق میں نئی آبادکاری کے نام پر اپنے مقبوضہ جات سے یہودیوں کو پولینڈ میں لا لا کر قتل کیا، بالکل اسی طرح نومبر میں ہزاروں مسلمانوں کو پاکستان شفٹ کرنے کے بہانے RSS کے دہشتگردوں نے اجتماعی طور پر ایک جگہ جمع کر کر کے شہید کیا، افسوس کہ ہولوکاسٹ کی طرح تاریخ کے اس بڑے قتل عام پر بات نہیں کی گئی نہ ہی اس پر زیادہ لکھا گیا، جموں کی 61 فیصد مسلمان آباد محض تین ہفتوں میں اقلیت بلکہ ختم ہوکر رہ گئی حتمی تعداد تو شاید کہیں زیادہ ہو البتہ اس وقت کے مغربی اخبارات، محققین اور تاریخ دانوں نے شہید ہونے والوں کی تعداد 237000 دو لاکھ سینتیس ہزار جبکہ ہجرت کرنے پہ مجبور ہونے ہوالوں کی تعداد ایک ملین کے قریب لکھی ہے،

    اگرچہ AG Noorani, Khalid Bashir, Arundhati Roy سمیت دیگر بہت سے رائٹرز نے اس پہ بہت کچھ لکھا مگر میڈیا و دیگر ڈبیٹس میں اس واقعہ کو وہ توجہ نہ ملی جو ملنی چاہئے تھی چنانچہ دنیا کی اکثریت اس سے لا علم ہے لہٰذا انسانی حقوق کی تنظیمیں ان سے وابستہ افراد، تمام کشمیری اور پاکستانیوں کو چاہئے کہ اکتوبر و نومبر میں اس سانحے پر زیادہ سے زیادہ سیمینارز، ڈبیٹس کروائیں، آرٹیکلز لکھیں تاکہ دنیا ہندوتوا دہشتگردوں کے ظلم اور کشمیریوں کی مظلومیت سے آگاہ ہوسکے۔

    آرزوئے سحر
    مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

  • کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

    کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

    خبر اور تصاویر گردش میں ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے شہر کٹھوعہ میں بھارتی ریاستی جبر کیخلاف کشمیریوں نے سیبوں پر نعرے لکھ کر بھارت بھیج دیئے۔

    تفصیلات کچھ یہ ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر، مہینوں پر محیط جاری لاک ڈاؤن اور مکمل تاریکی کے ماحول میں مظلوم کشمیریوں نے مزاحمت کے اظہار کا نیا راستہ اختیار کرتے ہوئے سیبوں پر بھارت مخالف اور پاکستان کے حق میں نعرے لکھ کر بھارت بھیج دیئے۔

    وقوعہ کے مطابق تاجروں کو حالیہ موصول ہونیوالے سیبوں پر جو نعرے لکھے گئے تھے ان میں

    "ہم کیا چاہتے آزادی”،

    "میری جان عمران خان”،

    "پاکستان زندہ باد”،

    "میں برہان وانی سے محبت کرتا ہوں”،

    "موسیٰ واپس آجاؤ شامل ہیں”،

    "جس نے ہلچل مچا دی ہے”۔

    ایک مقامی تاجر کے مطابق جب وہ صبح فروٹ منڈی گئے اور وہاں سے سیب لے کر آئے اور لڑکوں کو دکان پر سیب لگانے کو کہا تو جب انہوں نے سیبوں کے کریٹ کھولے تو ان پر نعرے لکھے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے فروٹ منڈی اور پورے بازار میں دہشت اور خوف کا ماحول بنا ہوا ہے، جس سے خریداروں کا رش کم ہو گیا ہے۔

    یہ تو تھی خبر اور اس کی تفصیل جس کو ہم نے من حیث القوم بلکل لائٹ موڈ پر لیا جیسے ستر سالوں سے ہم کشمیر کو لائٹ موڈ پر لے رہے ہیں پر صاحبان ذرا تصور کیجیئے کہ آپ کا مکمل سماجی, سیاسی اور سفارتی ناطقہ بند ہو اور آپ کو اپنی آواز دنیا کی سماعتوں تک پہنچانی ہو تو کیسے کیسے جتن کرنے پڑتے ہیں اور کتنی بے بسی اور معذوری دیکھنی پڑتی ہے۔

    کشمیری ہمارے بغیر ایک شاندار زندگی کے مزے لینا چاہیں تو ان کے لیئے یہ بات چنداں مشکل نہیں کہ وہ بھارت کو بخوشی تسلیم کرکے اس کا حصہ بن جائیں اور خصوصی مراعات سے کم از کم ان کی ایک سے دو نسلیں دنیا میں فیضیاب ہوجائیں پر ایسا نہ تو ہوا ہے اور نہ ہورہا ہے باوجود بھارت اور اسکے تمام دیدہ و نادیدہ ہمنواؤں کی محنت سے۔ ۔ ۔

    کیوں؟

    پاکستان آکر پتہ چلاکہ خاندان کیا ہوتا ہے ،شہزادی کیٹ

    کیونکہ اسلام اور پاکستان کے رشتے سے وہ خود کو کشمیری بعد میں جبکہ مسلمان اور پاکستانی پہلے تسلیم کرتے, کرواتے اور کہلواتے ہیں۔

    —کشمیری پاکستان کے نام پر جیتے اور پاکستان کے نام پر مرتے ہیں,

    —ان کے کفن سبز ہلالی پرچم میں ڈھکے جاتے ہیں اور ان کی قبروں پر وہی پرچم لہرائے جاتے ہیں,

    —ان کی عید شبرات رمضان نیا سال سب ہمارے فیصلوں اور اعلانات سے مشروط ہے,

    —ان کی ہر نظر پاکستان کی معاشی, اقتصادی, دفاعی اور سفارتی اڑان پر ہے,

    —ان کے لبوں پر آزادی کے نعرے اور دعائیں بعد میں لیکن پاکستان کے استحکام اور اس کی مضبوطی کے نعرے اور دعائیں اول ہیں,

    —کشمیری ہماری خوشیوں میں خوش اور ہمارے غموں میں غمگین ہوتے ہیں,

    —جتنا پاکستان ہمارا ہے اتنا ہی پاکستان کشمیریوں کا ہے جو اس کا اظہار جموں و کشمیر کی گلی گلی میں اپنے لہو کی قربانی دے کر کرتے ہیں۔

    کتنا دل دکھا اور آپ پزمردہ ہوئے اس خبر کو پڑھ سن کر کہ کشمیری اپنی بے بسی کے باوجود ہم سے محبت, بھائی چارے, امید, یقین اور یکجہتی کا اظہار کے لیئے سیبوں کا استعمال کررہے اور دنیا کو واضح پیغام دے رہے کہ کشمیر کل بھی پاکستان تھا, آج بھی پاکستان ہے اور کل بھی پاکستان ہی رہے گا ان شاء ﷲ بیشک ہندو غاصب فوج جتنا مرضی دبالے اور منہ بند کردے۔

    مولانا فضل الرحمن کی نگری”ملازئی ” میں 14 افراد دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے

    سیبوں پر لکھے نعرے اور محبت نامے تو بھارت اور دنیا کو بتانے اور سنانے کے لیئے تھے کہ بھارت اور دنیا جان لے کہ

    "کسی غلط فہمی میں مت پڑنا ہم مرتے دم تک پاکستان اور آزادی کی کوہار بلند کرتے رہیں گے”۔

    جبکہ سیب۔ ۔ ۔

    مجسم سیب کشمیریوں کا پاکستان اور امت مسلمہ کے پڑھے لکھے, انٹلیکچوئیل اور ٹیلینٹڈ نوجوانوں بلخصوص ہم سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو واضح اور صاف صاف پیغام ہے کہ

    "بھائیو ہم تو اپنے حصے کی محنت اور مشقت کر رہے ہیں, ہم تو ایسی سخت صورتحال میں بھی اپنی آواز بلند کررہے ہیں خواہ ایپل (سیب) کا آئی فون نہیں ہاتھ میں پر اللہ کی نعمت سیب (ایپل) کو اپنا ذریعہ مواصلات بنا کر آزادی آزادی, پاکستان پاکستان اور عمران عمران کررہے ہیں تاکہ دنیا جان لے کہ ہمارے مقصد میں ایک انچ بھی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ ہم پہلے سے زیادہ پر عزم اور پرجوش ہیں۔

    دوستو تمہارے لیئے تو ہماری آواز بننا اور دنیا کو جگانا مشکل نہیں کہ تمہارے پاس آزادی اور ایپل آئی فونز وغیرہ ہیں کہ ہم تو سیبوں تک محدود ہوکر بھی بھارت اور دنیا کو حریت کی آواز سنا رہے اور بھارتیوں کا سینہ جلا رہے اور ان کو خوف ذدہ کررہے ہیں تو تم بھی مایوس مت ہونا اور ہمیں بھولنا مت کہ ہم تو ہاتھ, منہ, کان اور زبان بندی کے باوجود تمہیں نہیں بھولے اور ہمارا یہ نعرہ سر بلند ہے کہ ہم کیا چاہتے آزادی اور پاکستان زندہ آباد لہذا اپنے اپنے ہاتھوں میں موجود ایپلز کا وہی استعمال کرو جو ہم یہاں اپنے باغات کے ایپلز کا کررہے۔”

    واللہ مجھے تو سیبوں پر لکھے نعرے پڑھ کر کشمیریوں کی اس ادا پر پیار اور ترس آیا لیکن سیب دیکھ کو شرمندگی ہوئی کہ دیکھو وہ بیچارے کس طرح ہماری خاطر کیسے کیسے حربے اختیار کررہے اور ہم یہاں اپنی سیاسی و مسلکی اور عصبی بحثوں میں الجھ کر انہیں فراموش کیئے جارہے ہیں۔

    ظلم کی بھی کوئی حدہوتی ہے،تیزاب نہ پھینکتے گولی ماردیتے ، سریم کورٹ

    کشمیر کے سیب پاکستانی نوجوانوں کو سیکھ اور سبق دے رہے وہ بلکل واضح ہے کہ حق اور حریت کی آواز بلند کرنی ہو تو وسائل کوئی مسئلہ نہیں جن کا رونا رویا جائے بلکہ حق اور حریت تو سیبوں کے ذریعے بھی بیان کیئے جاسکتے ہیں۔

    صاحبان کشمیری حریت پسند پاکستانیوں نے تو اپنے باغات کے سیبوں (ایپلز) کا استعمال کرلیا اور دنیا کو پیغام دے دیا, اب ہمارے باری ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں میں موجود ایپلز (سیب) کا جارحانہ استعمال کریں کشمیریوں کی آواز بننے کے لیئے۔

    یاد رہے کہ ستر سالوں کی کسک ہے یہ کوئی دو چار مہینےکی بات نہیں, کشمیری پاکستان کے نام پر جیتے ہیں اور پاکستان کے نام پر مرتے ہیں, وہ سبز ہلالی پرچم کی حرمت ہم سے زیادہ جانتے ہیں تو اے پاکستانیوں اب تم بھی ان کے خون کی حرمت سمجھو اور خدارا تیرے میرے کی سیاست سے نکل کر کشمیریوں کی آواز بنو۔

    آزادیات

    کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

  • "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    حالیہ دنوں میں جماعةالدعوة سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو زیر حراست لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ یہ افراد دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے رہے. اسی الزام میں جماعة الدعوة کے امیر اور یونیورسٹی آف انجییئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق پروفیسر حافظ محمدسعید اور انکے برادر نسبتی اور جماعة الدعوة کے نائب امیر عبدالرحمن مکی کو بھی پچھلے کچھ عرصہ سے زیر حراست رکھا ہوا ہے. ان گرفتاریوں پر پاکستان کے محب وطن اور کشمیر سے جذباتی تعلق رکھنے والے حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور بالخصوص حالیہ گرفتاریوں میں ایک بزرگ عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کی گرفتاری پر پاکستان کے مذہبی اور علمی حلقے بھی شدید مضطرب اور سراپا احتجاج ہیں کہ 74سالہ ایک ایسے عالم دین جو مفسر قران ہیں، جو بے پایاں علمی خدمات سرانجام دے چکے، جو پچھلے تقریباً 55 سال سے تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان میں ہزاروں علماء ان کے شاگرد ہیں ان کو اس پیرانہ سالی میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں گرفتار کرنا کیا معنی رکھتا ہے.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    پاکستان کی عوام اس وقت شش و پنج کا شکار ہے کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے کہ یہ بھی اسی روش پر چل نکلے ہیں جس پر ماضی میں پاکستان کے حکمران چلتے رہے کہ غیروں کے کہنے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کو اور بالخصوص ان لوگوں کو پس دیوار زندان دھکیل دینا جو خالصتاً پاکستان کے نام پر جی اٹھتے ہیں اور پاکستان ہی پر مر مٹتے ہیں جن کی صبح و شام پاکستان کی مالا جپتے ہوئے ہوتی ہے جو ہر مشکل و آفت میں پاکستان کا سہارا بنے، جو ہر مصیبت اور تنگی میں دست و بازو بنے اور جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے آہنی دیوار بنے انہی لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے حکومت پاکستان کن کو خوش کرنا چاہتی ہے اور کونسے مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے. ایسی مذہبی اور جہادی جماعتیں جن پر پاکستان کے اندر کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں ہے اور جو کبھی پاکستان کے لیے اندرونی طور پر مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنیں بلکہ ہمیشہ مسائل کو حل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوئی ہیں ان پر پابندیاں اور گرفتاریاں نہایت پریشان کن ہیں.

    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    ماضی میں بھی پاکستان کے حکمرانوں کا یہی طرز عمل رہا اور ان کی طرف سے دیئے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور خارجہ سطح پر برتی گئی مجرمانہ پہلو تہی نے پاکستان کو مسائل کے کنوؤں میں گرایا اور آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر جن شدید مسائل سے دوچار ہے وہ انہی کے اعمال کا شاخسانہ ہے جس کی سزاء اس محب وطن اور علماء کے طبقے کو سب سے زیادہ بھگتنی پڑ رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت بنی تو امید کی اک کرن نظر آئی کہ اب پاکستان کشکول نہیں پکڑے گا جس کی وجہ سے ہم بین الاقوامی سطح پر عزت اور جرات کے ساتھ کوئی قدم اٹھاسکیں گے اور کشمیر کی مسئلہ جو پچھلے ستر سال سے الجھا ہوا ہے اس پر عمران خان کی توجہ اور سنجیدگی دیکھ کر بھی امید بندھی تھی کہ یہ نیا بھی اب پار لگے گی لیکن ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں اور بھارت کے مضبوط پراپیگنڈے نے پاکستان کے ہاتھ کچھ اس طرح سے جکڑے ہیں کہ یہ چاہ کر بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور انکی مجبوری ہے کہ یہ عالمی سامراج کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ان کے کیے گئے فیصلوں آمین کہیتے رہیں.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    یہ سارے معاملات اور مسائل اس وجہ سے ہیں کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی آوازیں بند نہ کی گئیں اور ان کے قدم نہ روکے گئے تو بات کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی مسئلہ بہت آگے تک جائے گا اور بھارت کے کئی ٹکڑوں پر منتج ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس کے مسلسل کیے گئے پراپیگنڈے آج رنگ لا رہے ہیں ایک طرف تو اس نے ساری کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی کشمیر کے نام لیواؤں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور عالمی سامراج بھارت کی ہاں میں ہاں ملاکر پاکستان کے ہاتھ مزید باندھتا چلا جا رہا ہے. عالمی سامراج اور بڑی طاقتیں بھی اسلام سے خوفزدہ ہیں اور وہ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر اس خطے میں ان کا ضدی بچہ بھارت کمزور پڑگیا اور پاکستان کے قدم مضبوط ہوگئے تو پورا خطہ اسلامائز ہوکر ان کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گا یہی وجہ ہے کہ وہ بھی بھارت کے ہمرکاب ہوکر ایف اے ٹی ایف اور دیگر پابندیوں کی صورت پاکستان پر مسلط ہیں اور ہمارے لیے مسلسل مسائل پیدا کررہے ہیں اور پاکستان اپنے شدید ابتر معاشی، سیاسی، بین الاقوامی حالات کے پیش نظر مضبوط فیصلے لینے سے قاصر ہے.

    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah