Baaghi TV

Category: کشمیر

  • میرپور زلزلہ کے آٍفٹر شاکس نے پھر تباہی مچا دی

    میرپور زلزلہ کے آٍفٹر شاکس نے پھر تباہی مچا دی

    میرپور زلزلہ کے آٍفٹر شاکس نے پھر تباہی مچا دی
    میر پورآزادکشمیر میں آفٹرشاکس کاسلسلہ جاری.میرپور کے علاقےجڑی کس میں گزشتہ رات آفٹرشاکس کے بعد2منزلہ عمارت گرگئی.ریسکیو اہلکاروں نےعمارت کےملبے تلے دبے3افراد کو زندہ نکال لیا گیا .میرپور کے علاقےجڑی کس میں گزشتہ رات آفٹرشاکس کے بعد2منزلہ عمارت گرگئی.گزشتہ ماہ آزاد کشمیر اور گردو نواح میں آنے والے زلزلے کے آفٹر شاکس کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور آج ایک بار پھر میرپور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے صبح 10 بج کر 28 منٹ پر آئے جن کا دورانیہ دو سے تین سیکنڈ تھا۔زلزلے کے جھٹکوں کے بعد لوگوں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے

    وزیراعظم عمران خان میر پور پہنچ گئے، زلزلہ متاثرین کی عیادت، کہا پیکج تشکیل دے رہے ہیں

    وزیراعلیٰ پنجاب میر پور پہنچ گئے، کہا پنجاب حکومت مشکل وقت میں زلزلہ متاثرین کے ساتھ ہے

    میر پور آزاد کشمیر میں زلزلے سے سڑک ٹوٹ گئی

  • عنوان: جنگ دستک دے رہی ہے——— از — تحریر: انشال راؤ

    عنوان: جنگ دستک دے رہی ہے——— از — تحریر: انشال راؤ

    شاید ہی کوئی ادیب یا قلم کار ہو جس کے پاس وہ الفاظ ہوں جو غزوہ ہند کی عظمت و فضیلت کا احاطہ کرسکیں کیونکہ غزوہ ہند کی فضیلت کا اعلان مدینہ سے ہوا تھا اور اس انداز سے ہوا کہ اہلیان مدینہ جان و مال نچھاور کرنے کی تمنا میں بے تاب رہتے تھے یہ سلسلہ اگلی سے اگلی نسلوں کو منتقل ہوتا ہوتا ہم تک پہنچا ہے آج کل خطہ ہند کی صورتحال بتارہی ہے کہ غزوہ ہند کی آمد آمد ہے، ٹرمپ کے تازہ ترین بیان "انڈیا یعنی ہندوتوا کے ساتھ مل کر اسلامی دہشتگردی کو دنیا سے ختم کرینگے” نے تو ممکنہ جنگ کی تصدیق کردی ہے،

     

    اقوام متحدہ میں‌ عظیم الشان خطاب ، وزیراعظم عمران خان پاکستان کی خوش قسمتی ہے ، صحافی اور علماء بھی واہ واہ کراٹھے ، خراج تحسین پیش کیا

    ٹرمپ کا تازہ ترین بیان صدر بش کے بیان ہی کا تسلسل ہے، صدر بش نے افغانستان پر چڑھائی سے قبل صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا اور اسے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا نام دیا تھا، اس کے بعد سے پوری امت مسلمہ مشکلات سے دو چار ہے، ٹرمپ کے حالیہ بیان سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ دہشتگردی یا دہشتگرد صرف اسلام اور مسلمان کی حد تک ہی محدود ہے وگرنہ برما میں جو ظلم و ستم کے پہاڑ مسلمانوں پہ ڈھائے گئے کیا کبھی کسی طرف سے انہیں دہشتگرد کہا گیا، بھارت میں کھلے عام سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و بربریت کا سلوک کیا جارہا ہے وہ ساری دنیا کے سامنے ہے، کیا کسی نے ہندوتوا دہشتگردی کا نام لیا؟ رپورٹیں تک جاری ہونے کے باوجود کہیں سے کوئی صدا بلند نہیں ہوئی،

     

    عمران خان سچے،ایماندار اور حقیقی لیڈر ہیں ،اسلام،مسلمان اورکشمیر پرواضح موقف پیش کرنے پر سلام، شوبز کی دنیا کا وزیراعظم کو خراج تحسین

    کشمیر میں پچاس دن سے زائد ہوگئے کرفیو جاری ہے مگر ٹرمپ صاحب کہتے ہیں کہ اسلامی دہشتگردی کو ختم کرنا ہے وہ بھی بھارت کے ساتھ مل کر جوکہ درحقیقت عالمی جنگ کی پیش خبر ہے، اس ضمن میں نامور امریکی تجزیہ نگار و مصنف جیرالڈ فلری اپنے کتابچہ میں کہہ چکے ہیں کہ "Nuclear Armageddon is at the door” جیسا کہ امریکہ فروری میں روس کے ساتھ INF ٹریٹی ختم کرنے کا اعلان بھی کرچکے اور روس و امریکہ مہلک ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافہ کرچکے ہیں، صورتحال کے پیش نظر جرمنی کی سپرمیسی میں یورپ بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگیا ہے، سابق جرمن وائس چانسلر و وزیرخارجہ Sigmar Gabriel نے اپنے آرٹیکل بعنوان "Europe & New Nuclear Arms Race” میں لکھتے ہیں کہ "Europe is now entering in potential dangerous period & must play a much more active role in nuclear arms debate” بات یہیں تک محدود نہیں ایران، کوریا و دیگر بہت سے ممالک اس دوڑ میں شامل نظر آرہے ہیں،

     

     

    چین جس کی توجہ کا مرکز و محور زیادہ تر تجارت معیشت ہی رہی اب پہلی بار طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہا ہے اور یکم اکتوبر کو اپنا بند تھیلا کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے، ایٹمی جنگ سر پر کھڑی ہے جس کا آغاز ممکنہ طور پر جنوبی ایشیا سے ہوتا نظر آرہا ہے بھارت تو پہلے ہی ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں پہل کا اعلان کرچکا ہے جسکے جواب میں پاکستان کا موقف بھی آچکا ہے کہ پہل کے بعد دوج بھی ہوتی ہے، اگر تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جتنی بھی بڑی طاقتیں گزری ہیں ان سب کے زوال کا سبب جنگی پھیلاو ثابت ہوا ہے، قدیمی عظیم سلطنت یورپ کا شیرازہ بکھرنے سے پہلے اس نے جنگوں کا دائرہ وسیع کردیا تھا، اس کے علاوہ سوویت یونین کی مثال سب کے سامنے ہے جس کے خاتمے کا سبب جنگی پھیلاو ہی بنا، امریکہ بھی اسی نقش قدم پہ چل رہا ہے اور جنگوں کو آگے سے آگے پھیلاتا جارہا ہے جو اس کے خاتمے کا عندیہ ہے،

     

     

    خطہ کشمیر اور اسکے نہتے عوام ہندوتوا دہشتگردوں کی بدترین جارحیت کی زد پہ ہیں وہ بظاہر تھکے ہوے، مٹتے ہوے، مغلوب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن حقیقتاً وہ ایک درجہ اوپر آگئے ہیں اور یہی اصول ہے کہ پستی سے بلندی کا سفر کرکے تھوڑی تھکاوٹ تو ضرور ہوتی ہی ہے جب یہ سکوت ٹوٹے گا تو کشمیر کا نظارہ بدلا ہوا ملے گا ہر گھر سے مسلح تحریک کشمیر جلوہ گر ہوگی بچہ بچہ برہان وانی بن کر سامنے آئیگا اور اس بات سے مکار ہندوتوا دہشتگرد بخوبی واقف ہے اسی لیے کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا ملٹری بیس بنا رکھا ہے، جس طرح نازی جرمنوں نے شوق وسعت میں جارحانہ حکمت اپنی اپنائی اور آخر میں خود ہی اس آگ کا شکار ہوگئے بعینہ بھارتی جارحیت بھی "پونیا بھومی بھارت” بنانے کے لیے وسعت دینے کا پلان ہے اور "شکاری خود یہاں شکار ہوگیا” کے مصداق بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا ہے اور شاہ ولی کی پیشین گوئی ہے کہ برہمن شکست کھا کر دائرہ اسلام میں داخل ہوجائینگے مگر یہ بات بھی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے کہ عالمی جنگ کا نقطہ آغاز یہی خطہ ہے جو شروع پاک بھارت جنگ سے ہوگی اور اختتام ساری دنیا کی تباہی پہ ہوگا،

     

    نیشنل سلیکشن کمیٹی کوآرڈینیٹر کی تلاش ، مصباح الحق نیا آئیڈیا لے آئے

     

    حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ جنگ کے بادل ہر طرف سے پاکستان کے سر پہ منڈلا رہے ہیں جبکہ اندرونی دشمن پاکستان کا دفاعی بجٹ کم کروا کر خوشیاں مناتے پھر رہے ہیں، SIPRI کی رپورٹ کے مطابق دنیا کا کل دفاعی اخراجات 2017 کے مقابلے میں 2.6 فیصد اضافے کیساتھ 2018 میں 1822 ارب ڈالر ہیں جسکے پانچ سب سے بڑے حصہ داروں میں امریکا، چین، سعودی عرب، بھارت اور فرانس ہیں، بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے جوکہ تقریباً ستر ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جبکہ پاکستانی افواج کو اندرونی دشمنوں نے ہدف تنقید بنا بنا کر دفاعی اخراجات کم کرنے پہ مجبور کردیا جس سے دشمن قوتوں کے کیمپ میں جشن منانے کا جواز پیدا ہوا، افواج پاکستان تو پوری طرح چوکنا ہے اب وقت ہے عوام کو حقیقی صورتحال اور دشمن کے ناپاک عزائم کو سمجھ کر ان کے آلہ کاروں کو پہچان کر رسوا کرنے کا جوکہ ہر پاکستانی کا فریضہ ہے

     

    عنوان: جنگ دستک دے رہی ہے——— از — تحریر: انشال راؤ

     

  • مسئلہ کشمیر پر عمران خان کا کردار!!!  تحریر غنی محمود قصوری

    مسئلہ کشمیر پر عمران خان کا کردار!!! تحریر غنی محمود قصوری

    مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جب جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے یہی صورت حال امت مسلمہ کی ہے 73 سالوں سے امت محمدیہ کے بیٹے بیٹیاں مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کے سائے تلے ہندو پلید کی غلامی میں جی رہے ہیں اور آج ہندو کی جانب سے کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیئے دو ماہ ہونے کو ہیں مقبوضہ وادی کشمیر مودی ظالم نے ظلم کی تمام حدیں پار کر دی ہیں جس پر پورا عالم کفر تو خاموش تھا ہی مگر حیرت اور دکھ عالم اسلام پر ہے کہ وہ جسم کے ایک حصے کی درد کو محسوس کرکے بھی گونگے بنے بیٹھے ہیں حالانکہ آج ہمارے اسلامی ممالک کے پاس ہر طرح کے مالی و عسکری وسائل موجود ہیں مگر سوائے پاکستان کے کسی کو توفیق نہیں کہ اس درد کو محسوس کرسکے
    اتنے سالوں میں کئی لیڈر آئے اور کشمیری قوم کے ساتھ تسلی و تشفیع پر اکتفا کرتے رہے مگر بدقسمتی سے کشمیر کا دفاع صحیح معنوں میں نا کر سکے بلکہ الٹا عالم کفر کے مذید غلام بنتے گئے
    ایسے میں 27 ستمبر کو اللہ رب العزت نے وزیراعظم عمران خان کو یونائیٹڈ نیشن کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کا موقع دیا مگر خان نے بھی اللہ کی مدد سے مسئلہ کشمیر کیساتھ ہندو پلید کی مکاری اور فریبی کو بھی دنیا کے سامنے خوب اچھی طرح باور کرایا جس پر پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے
    یقینا اس طریقے سے بات کرنا عالم کفر کے ایوانوں میں بہت ہمت و حوصلے کی بات ہے کیونکہ پہلے بھی ہزار سال جنگ تو کوئی گھاس کھانے کے نعرے لگا چکے ہیں جس سے پاکستانی و کشمیری قوم کا سیاستدانوں سے اعتبار اٹھ چکا تھا مگر آپ نے اس اٹھے ہوئے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنے کا عمل شروع کیا ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو کامیابی سے ہمکنار کرے
    مگر خان صاحب اللہ کا واسطہ ہے اب اگر سر اٹھا ہی لیا ہے تو یہ سر نیچا نا ہونے پائے کیونکہ آپ نے دیکھا بھی ہے پڑھا بھی ہے کہ سابقہ حکمرانوں نے کس قدر کمزوری کا مظاہرہ کیا اور آخر جوتے کھا کھا کر روانہ ہوتے رہے اور قصہ پارینہ بنتے گئے اور ان کیساتھ یہ ان کے رب کریم نے کروایا تاکہ وہ دنیا کے سامنے باعث عبرت بنیں کہ جو اپنے جسم و شہہ رگ سے وفاداری نہیں کرتا پھر جوتے ہی اس کے مقدر بنتے ہیں
    اگر اب آپ نے بھی اپنے الیکشن کی طرح مسئلہ کشمیر کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کیا تو پھر یقین جانیئے اللہ کے عذاب سے آپ بچ نا سکیں گے کیونکہ پاکستانی عوام سے کیئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی بدولت بڑی حد تک قوم آپ سے مایوس ہو چکی ہے مگر مسئلہ کشمیر کے معاملے پر آپ کی دلیری نے آپ کو ایک موقع دیا ہے اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس مسئلے کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرکے عالم اسلام کے ہیرو بنتے ہیں یاں پھر پہلوں حکمرانوں کی طرح روگردانی کرتے ہوئے اندھیروں کے مسافر بنتے ہیں
    باقی قوم پاکستان و عالم اسلام کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو آمین

  • مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں جہاں کرفیو کے باون دنوں سے وادی کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوئی ہے، غذائی اشیاء کی شدید قلت ہے، شیر خوار بچوں کے لیے دودھ بھی میسر نہیں ہے، مواصلات کے سبھی ذرائع پر سخت قسم کی پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے بھارتی مسلح افواج کی بربریت اور کرفیو میں جاں بلب کشمیریوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانا ناممکن سا ہوا پڑا ہے وہیں ایک بڑا مسئلہ اور نقصان ان کشمیری طلباء کا ہے جو وادی سے باہر مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں.

    مزید پڑھیں کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    پچھلے تقریباً دو ماہ سے ان میں سے کسی کا بھی اپنے گھر والوں سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے. ان کے پاس بجٹ پہلے ہی محدود ہوتا ہے وہ ختم ہوچکا ہے اور وہ فاقوں پر مجبور ہیں لیکن اس سے بڑا مسئلہ شدید قسم کی ذہنی اذیت ہے کہ کوئی اندازہ اور علم نہیں ہے کہ ان کے گھر والے کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں اور حالیہ آنے والے زلزلہ کے بعد تو دکھ کی یہ کیفیت مزید بڑھ گئی کہ اپنے والدین و بہن بھائیوں کی خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں مگر مواصلات، میڈیا، سوشل میڈیا غرض کے سبھی ذرائع کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے وہ اس عمل سے قاصر ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    کشمیری خواتین کی سب سے بڑی جماعت دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرانی کے بیٹے احمد بن قاسم کا کہنا تھا "زلزلے کے بعد آپ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بے ساختہ فون اٹھاتے ہیں اور نمبر ڈائل کرتے ہیں مگر آپ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر میں کرفیو ہے اور ہر قسم کی مواصلات پر پابندی ہے” اسی طرح آسیہ اندرابی ہی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کا کہنا تھا "کہ پہلے تو ہماری خالہ کی خیریت دریافت ہوجاتی تھی مگر اب کرفیو اور مواصلات پر پابندی کی بدولت ہم کچھ بھی جاننے سے قاصر ہیں”. پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز میں پڑھنے والے بے شمار کشمیری طلباء نے اپنی یہی کیفیت بتائی کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کو بے تاب ہیں مگر کوئی ذریعہ نہیں ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے گھر والوں نے اخراجات کے لیے کرفیو سے قبل جو رقم بھجوائی تھی وہ ختم ہوچکی ہے اور اب ہم فاقوں پر مجبور ہیں. ہزاروں کشمیری طلباء دنیا کے مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہیں ان سب کی کیفیت یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث شدید قسم کی ذہنی اور قلبی اذیت کا شکار ہیں. کچھ دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے سعودیہ میں مقیم ایک کشمیری نوجوان نے فریاد کی تھی کہ میرا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور میں ان کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہوں. یہ ایک مثال تھی مگر کتنے ہی ہزاروں کشمیری طلباء اور مزدور جو بیرون ملک مقیم ہیں ایسے بھی ہیں جو اس ڈر سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر آکر اپنی پریشانی اور کیفیت بیان نہیں کررہے کہ کہیں ان کے اس عمل کی وجہ سے ان کے گھر والوں پر کوئی آفت نہ آن پڑے. بھارت کی جانب سے باون دنوں کا مسلسل کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندی وہ شدید قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کا شکار بےچارے کشمیری ہو رہے ہیں ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیر میں کرفیو کو ختم کرے اور ذرائع مواصلات پر عائد پابندیاں ہٹائے تاکہ بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے پیاروں سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کرسکیں.

    مصنف کے بارے مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان  :علی چاند

    مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان :علی چاند

    امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں امریکیوں اور ہندوستانیوں سے بھرے سٹیڈیم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک دوسرے کو تھپکی دیتے ہوٸے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ دونوں مل کر دنیا سے اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ۔ یہ بات امریکی صدر نے کہی ہے کہ
    ” ہم بےقصور شہریوں کی انتہا پسند اسلامی دہشت گردی کے خطرہ سے حفاظت کے لئے پرعزم ہیں ”

    کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنا عقل و شعور اور سمجھ ہوتی کہ کافر ، عیساٸی اور یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنی غیرت ہوتی کہ وہ اپنے مظلوم مسلمان بہن بھاٸیوں کی جہاد کے ساتھ مدد کرتے ہمارے حکمرانوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ صرف معیشیت کا ہی رونا روتے رہتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ جنگیں ہار جیت اور معشیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑی جاتی ہیں ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت بہتر بنانے کے چکروں اپنا وقار مٹی میں ملا دیا ہے ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت کی خاطر ان ہندوٶں کو اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف مندر تعمیر کر کے دٸیے ہیں بلکہ ان مندروں کا افتتاح بھی اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں ۔ یہی مسلمان حکمران ان یہود و ہنود کو نہ صرف مندر تعمیر کر کے دے رہے ہیں بلکہ انہیں اپنے اعلی سول اعزازات سے بھی نواز رہے ہیں ۔ کسی کو پچاس لاکھ ڈالر مالیت کا سونے کا ہار پہنایا جارہا ہے اور کسی کو سول اعزاز دیا جارہا ہے ۔ اور بدلے میں کیا مل رہا ہے ان مسلمان حکمرانوں کو ۔ خود ہم پاکستانی حکمران اپنی نمک جیسی نعمت کو انہی یہود و ہنود کو کوڑیوں کے دام دے رہے ہیں ۔ بدلے میں مسلمانوں کو کیا مل رہا ہے سود در سود قرض تلے ساری قوم جھکڑی جارہی ہے ۔

    کشمیر ، فلسطین ، عراق ، برما ، وہ کون سا علاقہ ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں ۔ ؟ امریکہ ہو یا بھارت جیسا ملک مسلمانوں کو کہاں سکون لینے دے رہے ہیں ۔ اور مسلمان شہید ہورہے ہیں ، بچے یتیم ہورہے ہیں ، بہنوں بیٹیوں کے ساتھ جو ہو رہا اس پر تو اب تک شاید آسمان بھی پھٹ جاتا لیکن ان مسلمان بزدل حکمرانوں نے غیرت مند مسلمانوں کی بھی غیرت ڈالر اور معیشیت کے بدلے گروی رکھ دی ۔ ہر جگہ مسلمان اپنی عزتیں لٹا رہے ہیں ، جانیں دے رہے ہیں پھر بھی ملا کیا اسلامی دہشت گردی کا طعنہ ؟ بزدل حکمرانوں نے جتنا امن امن کا راگ الاپا اتنا ہی ہم دہشت گرد ٹھہرے ۔ وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمرانوں کی بزدلی اور پھر اس بزدلی کو امن کا نام دینا ۔ محمد بن قاسم صرف ایک مسلمان بچی کی فریاد پر پورا سندھ ہلا گے ۔ نا معیشیت کا سوچا نہ امن کا سوچا ۔ ہے کسی کی جرأت کے محمد بن قاسم کو دہشت گرد لکھے ؟ محمود غزنوی جس نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے سو منات کا مندر توڑا ، سترہ حملے کرتے وقت محمود غزنوی نے معیشیت کا سوچا ؟ سو منات کا مندر توڑتے وقت محمود غزنوی نے سوچا کہ دنیا مجھے دہشت گردکہے گی ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان بزدلی کو امن کا نام نہیں دیتے بلکہ غیرت مند ہوتے ہیں ۔ہے کسی کی جرأت کے محمود غزنوی کو دہشت گرد لکھے ؟ ٹیپو سلطان نے جنگ کی جنگ ہار گے لیکن کسی بزدل یہود وہنود کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے ۔ ہے کسی کی جرأت کہ ٹیپو سلطان کو ہارا ہوا لکھے ۔ تاریخ ہارا ہوا اور دہشت گرد صرف اسی کو لکھتی ہے جو بزدلی کو امن کا نام دے کر گھٹنے ٹیک لے ۔

    غیرت مندوں کو ہارا ہوا اور دہشت گرد لکھنے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی ۔ طارق بن زیاد ، صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، ٹیپو سلطان ان سب کو کیا اسلام امن کا درس نہیں دیتا تھا ؟ کیا اسلام امن کا درس صرف آج کے ڈرپوک بزدل اور ڈالر کے غلام مسلمان حکمرانوں کو دیتا ہے ؟ مسلمان دہشت گرد نہیں ۔ نہ ہی بزدل ہوتا ہے ۔ مسلمان صرف اور صرف غیرت مند ہوتا ہے ۔

    مودی اور ٹرمپ کے بیان کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حکمران غیرت کی گولی کھاٸیں اور ایسے غیرت اور جرأت مندانہ خطاب کریں کہ ان نمک حرام یہود و ہنود کی نیندیں حرام ہو جاٸیں ۔ اور انہیں نہ صرف مسلم مقبوضہ علاقے خالی کرنے پڑیں بلکہ اپنی معیشیت کی بھی فکر لاحق ہوجاٸے ۔ لیکن ایسا صرف تبھی ممکن ہوگا جب مسلمان حکمران غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ ابھی ساری دنیا کی نظریں وزیر اعظم عمران خاں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پر لگی ہوٸی ہیں ۔ عرب حکمران تو ان یہود و ہنود کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بن کر انہیں اعلی اعزازات سے نواز رہے ہیں وہ کیا جواب دیں گے اور کیا غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ یہ ہی وقت ہے جب عمران خان پوری امت کا دل جیت بھی سکتے ہیں اور پوری امت کے دل سے اتر بھی سکتے ہیں ۔ یہی وہ وقت ہے جب عمران خاں یا تو ہیرو بن جاٸے گا یا پھر زیرو ۔

    اللہ پاک مسلمان حکمرانوں کے دل سے یہود و ہنود اور ڈالر کی محبت نکال کر انہیں جرأت مندی اور غیرت کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • مسجد نبوی میں شاہ محمود قریشی کی کشمیری نوجوان سے گفتگو ، تسلی دیتے ہوئے کہا کہ  کشمیر جلد آزاد ہوگا

    مسجد نبوی میں شاہ محمود قریشی کی کشمیری نوجوان سے گفتگو ، تسلی دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر جلد آزاد ہوگا

    مدینہ منورہ: پاکستان کی موجودہ حکومت مقبوضہ کشمیرکے باسیوں کے دل آواز بن گئی ، اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دیکھ کر کشمیر مسلمان اُن کے پاس آیا اور اپنی پریشانی بیان کی کہ پلوامہ میں والدین سے کوئی رابطہ نہیں ہورہا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے، کشمیر جلد آزاد ہوگا‘۔

    مقبوضہ کشمیر میں‌ہونے والے مظالم سے پردہ اٹھاتے ہوئے مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں کشمیری مسلمان نے بتایا کہ کشمیر میں ہمارے بہن بھائیوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی نے نوجوان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ جارہے ہیں جہاں کشمیریوں اور کشمیر کا مقدمہ نہ صرف عالمی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا بلکہ ہم اس مقدمے کو اچھے سے لڑیں گے، دعا ہے کہ کشمیریوں کو جلد آزادی ملے، پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔

    وزیراعظم پاکستان دو روزہ دورے پر اپنی اہلیہ اور پاکستانی وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں نے عمرہ ادائیگی، روضہ رسول پر حاضری دی اور سعودی حکمرانوں سے بھی خصوصی ملاقاتیں کیں، سعودی عرب سے عمران خان امریکا روانہ ہوگئے ہیں‌۔

  • کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    اکثر و بیشتر ہم ایسی باتیں پڑھتے اور سنتے ہیں کہ تم لوگ جو آئے روز کشمیر ایشو پر ٹرینڈنگ کرتے ہو، شور مچاتے ہو اس سے مسئلہ کشمیر اور اہل کشمیر کو کیا فائدہ ملتا ہے یا بھارت کا اس سے کیا نقصان ہوتا ہے ، جہاں امت مسلمہ کچھ نہیں کر رہی تو تمہارے ان ٹویٹر ٹرینڈز سے کیا ہوجائے گا. تو عرض ہے کہ بات کوشش یا جدو جہد کے چھوٹے یا بڑے ہونے یا اس سے دشمن کو پہنچنے والے نقصان کی نہیں ہوتی بلکہ سائیڈ کی ہوتی ہے کہ آپ کس کی سائیڈ پر کھڑے ہیں اگر تو آپ ابراہیم علیہ السلام پھر آپ کا جتن آگ کو بجھانے کے لیے ہوتا ہے اور اگر آپ صف نمرود میں ہیں تو پھر آپ کی فکر آگ کو بڑھاوا دینے کی ہوتی ہے چاہے وہ چھپکلی کی طرح اپنی پھونکوں سے ہو یعنی آپ نے اپنی ان چھوٹی بڑی کاوشوں سے باور یہ کروانا ہوتا ہے کہ آپ کس طرف کھڑے ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ ریاست پاکستان اس وقت جنگ نہ کرنا چاہتی ہے نہ ہونے دینا چاہتی ہے، گزشتہ روز بھی عمران خان نے دو ٹوک کہا کہ پاکستان سے جو مسلح مدد کرنے گیا وہ کشمیریوں پر ظلم کرے گا بلکہ ریاست پاکستان اس ایشو کو انٹرنیشنل کمیونٹی اور فورمز میں اجاگر کرکے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر ایک دہشت گرد اور ظالم ملک ڈکلیئر کروانا چاہتی ہے (جیسے اس نے مسلسل پراپیگنڈے کے ساتھ پاکستان اور پاکستان میں موجود شخصیات کے ساتھ کیا) تو اس عمل میں جب آپ چاروں طرف سے بے بس ہوں تو صف ابراہیم میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جو آپ کر سکتے ہیں کم از کم وہ تو کریں.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ

    ٹویٹر ٹرینڈز کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے نشریاتی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں، ملکوں اور انفرادی شخصیات کی توجہ کشمیر پر مبذول کروانا مقصود ہے اور الحمدللہ پاکستانی سوشل ایکٹوسٹس یہ مقصد حاصل کررہے ہیں مسلسل ٹرینڈنگ سے کشمیر ایشو بین الاقوامی ایشو بنتا جا رہا ہے ہے اور ہر طرف کشمیر پر بات ہونا شروع ہوچکی ہے کہ آخر مسئلہ کیا ہے کیوں اتنے لوگ روز شور مچاتے ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں، بین الاقوامی نشریاتی ادارے اور دنیا بھر کے صحافتی اور دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کشمیر پر بولنا شروع ہوچکے ہیں. مسلسل 46 دن کے کرفیو پر سوالات اٹھ رہے ہیں، یورپی یونین میں مسئلہ کشمیر پر بحث شروع ہوچکی ہے. دوسری بات کہ یہ موجودہ جنگ صرف نام کی ففتھ جنریشن وار نہیں ہے بلکہ حقیقت میں ہے جس کی مختلف صورتیں اور جہتیں ہیں جہاں آپ کو کوئی بھی میدان خالی نہیں چھوڑنا ہوتا.

    مزید پڑھیں سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    تیسری بات جو دوسری کے ساتھ ملتی ہے کہ قران کی آیت ہے جس کا ترجمہ اکثر ہم جیسے کم علم لوگ یہ کردیتے ہیں کہ کافر اسلام کو اپنی پھونکوں سے بجھان چاہتے ہیں تو اس میں پھونک کا نہیں منہ کا ذکر ہے مطلب میڈیم اور آج کا منہ یہ میڈیا ہی ہے اور آپ میڈیا پر اسلام و مسلمانوں کے خلاف یلغاریں دیکھ لیں تو اس بات کی بخوبی سمجھ آتی ہے اسلام.کے چراغ کو گل کرنے کے لیے اس میڈیا کا کیسے کیسے استعمال کیا جا رہا ہے. پھر اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں دنیا بھر کے پالیسی ساز ادارے اور تنظیمیں میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کو مانیٹر کرتے ہیں اور اپنی پالیسیز کو مرتب کرتے وقت عوامی رائے کو نظر انداز نہیں کرتے. عرب اسپرنگ کے نام پر عالم عرب کی تباہی کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے جس میں بنیادی کردار اسی سوشل میڈیا ہی کا تھا، ان ٹویٹر ٹرینڈز کا ہی تھا لہذا اس میدان میں لڑنے والوں کی اگرچہ کوئی حیثیت اور ویلیو نہ ہو لیکن ان پر ہنسنے کی بجائے اگر ساتھ شامل ہوجایا جائے تو کم از کم اپنا تو پتا چل جائے کہ ہم کس صف میں شامل ہیں.

    مصنف کے بارے میں مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • بھارت کی نیت خراب ؛ 2 لاکھ مزید فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دئیے گئے ، پاکستان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے ، سیکرٹری خارجہ

    بھارت کی نیت خراب ؛ 2 لاکھ مزید فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دئیے گئے ، پاکستان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے ، سیکرٹری خارجہ

    اسلام آباد: بھارت کی مکاری عیاں ہونے لگی ، اطلاعات کے مطابق بھارت نے پچھلے 3 دن میں مقبوضہ کشمیر میں مزید 2 لاکھ کے قریب فوجی تعینات کردئیے ہیں ، دفاعی حکام کے مطابق ایک لاکھ 80 ہزار فوجی، کچھ نیم فوجی دستے اور دیگر اہلکار تعینات کردیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق رات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتا یا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پیدا ہونے والی انسانی حقوق، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔

    ٹیکس ایپلیکیشن ، ایف بی آر کی کامیاب حکمت عملی

    پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں سیکرٹری خاجہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ بھارتی جارحیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور وہ کوئی بھی شر انگیزی کر کے اس کا الزام پاکستان پر دھرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔کسی بھی وقت کوئی نہ کوئی شرارت ہوسکتی ہے ، لیکن پاکستان بھی تیار بیٹھا ہے

    بین الاقوامی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے 6 ہزار افراد کو گرفتار کر کے بھارت کی مختلف جیلوں میں بھیجا جاچکا ہے جہاں انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔عوام خوراک اور ادویات کی قلت کا شکار ہیں مقبوضہ وادی میں مواصلاتی رابطے منقطع ہونے پر وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنماؤں سے رابطہ کر کے وادی کشمیر میں بھارتی فورسز کی سفاکیت سے آگاہ کیا۔

  • ”کشمیر!زبانی کلامی مذمت،مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں“   تحریر: محمد عبداللہ گل

    ”کشمیر!زبانی کلامی مذمت،مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں“ تحریر: محمد عبداللہ گل

    ہمارے وزیراعظم صاحب نے مصالحت کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ابھی کنٹرول لائن کی طرف مارچ نہ کریں۔ مجھے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جانے دیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ایٹمی طاقت ضرور ہیں لیکن کشمیر پر بھارت کو ظلم ڈھانے سے نہیں روک سکتے۔ ہم مذمت کر رہے ہیں لیکن دشمن کی مرمت سے ڈرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلسل کشمیری بھارتی درندہ صفت افواج کے پہرے میں ہیں۔ ڈیڈ لاک، کرفیو نے کشمیریوں کا جینا ہی نہیں مرنا بھی دشوار کر دیا ہے۔ بچے دودھ کے لئے بلک رہے ہیں، جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت ہے، بھارت کی بربریت و سفاکیت کی یہ انتہا ہے کہ ہسپتال پر بھی پہرے بٹھا رکھے ہیں۔ بیماروں کو علاج کروانے کے لئے ڈاکٹرتک نہیں جانے دیا جا رہا۔ پیلٹ گن سے زخمی ہونے والوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بھارت گاجر مولی کی طرح ہمارے کشمیری بھائیوں کو کاٹ رہا ہے ادھر ہمارے وزیراعظم صبر کی تلقین کر رہے ہیں انہیں جنرل اسمبلی میں خطا ب کرنے کا انتظار ہے اُن سے ہم یہ پوچھتے ہیں حق بجانب ہیں کہ تب تک کشمیریوں کو قصائی مودی کے ہاتھوں ذبح ہونے کے لئے چھوڑ دیا جائے اور ہندوستان کو بربریت و سفاکیت کی کھلی چھٹی دی جائے۔ جنت نظیر پر کافر قبضہ کرنے کی سازش میں مصروف ہے اور اسے اسلام دشمن طاقتوں بالخصوص امریکہ و اسرائیل کی آشیرباد حاصل ہے۔ اسرائیلی طرز پر کشمیر میں ہندو بستیاں بسانے اور کشمیریوں کو یہاں سے نکالنے کے دشمن کے مذموم عزائم کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ وادی کا مسلم تشخص ختم کیا جا رہا ہے۔ 72 سال بعد پہلی بار سری نگر کے لال چوک میں کشمیر کا جھنڈا اتار کر بھارت کا ترنگا لگا یاگیا۔ اصل میں بھارت نے ہماری معذرت خواہانہ پالیسی کے جواب میں پیغام دیا ہے کہ دیکھو تم امن کی بھاشا بولتے رہو اورہم جنگ کی بھاشا کو نہیں چھوڑیں گے۔ آج کشمیر کو ہتھیا لیاہے کل تم نے اسی طرح کمزوری دکھائی تو ہم آزاد کشمیر کو بھی تم سے چھین لیں گے بلکہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ دھمکی دے چکا ہے کہ اب پاکستان سے آزاد کشمیر چھیننے کی باری ہے ایسے میں وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ہم امن کی داعی ہیں جنگ نہیں چاہتے مذاکرات سے حل چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ امریکہ سمیت یورپی ممالک ہماری مدد کو آئیں گے اور بھارت کو سبق سکھائیں گے۔ سبق انہوں نے نہیں ہم نے سکھانا ہے۔ خلیجی ریاستوں نے تومودی کو مندر کا تحفہ دیکر اپنی پالیسی ہم پر واضح کردی ہے اب وزیراعظم اپنی کشمیر پالیسی پر ابہام دور کرتے ہوئے اس کی وضاحت فرمائیں قوم آپ کی مرہون منت ہوگی۔ادھر تو یہ عالم ہے کہ چالیس روز سے زیادہ ہو گئے ہیں اور ہم ایک دن کا بھی کرفیو نہ اٹھا سکے نہ ہی بھارت کے لئے فضائی حدود بند کی اور نہ اس سے تجارتی بائیکاٹ کیا اور نہ ہی افغان ٹریڈ بند کی۔ ہم کس معجزے کے انتظار میں ہیں آسمان سے ابابیلیں نہیں اتریں گیں کہ جو کفار کو عبرت ناک شکست دیں۔ ہمیں کشمیر کی آواز کے لئے اعلان جنگ کرنا ہوگا۔ ہماری شیر صفت بہادر افواج ان پرایسے ٹوٹے گی کہ نیست و نابود کر دے گی۔وزیراعظم عمران خان سن لیں! اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی عوام کی امنگوں کے مطابق نہ اپنائی تو قوم ان پالیسی سازوں کا دھماکہ کر دیگی۔ پاکستان کو قدرت نے طالبان امن مذاکرات کی صورت میں ایک سنہری موقع دیا تھا کہ ہم امریکہ سے اپنی شرائط پر دونوں کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوتے مگر حکومت تو امریکہ کی اس پیشکش پر پھولی نہیں سما رہی تھی کہ طالبان مذاکرات کی مزید پر لانے کے لئے امریکہ نے ہم سے مدد طلب کی ہے اور وہ پکے ہوئے پھل کی طرح امریکہ کی جھولی میں جاگرے۔ ہائر کوالیفائیڈ، فارن ریٹرن وزیراعظم کی کابینہ و پالیسی سازوں کو یہ سوچنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی کہ کم از کم امریکہ سے طالبان سے ثالثی کے عوض ہی منوا لیا جاتا کہ پہلے بھارت کشمیر سے اپنی فوج نکال لیں۔ مگر یہاں تو امریکہ یاترا کی واپسی پر پاکستان کی شہ رگ ہی کاٹ دی گئی۔ اگر شہ رگ کٹ جائے تو جسم زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہتا۔ اس کی زندگی کا واویلا شہ رگ پر ہی ہوتا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے 5 اگست 2019ء کو پاکستان کوایک دفعہ پھر دولخت کر دیا گیا۔ اب غیرت مند لوگوں کو چاہئے کہ وہ علم جہاد بلند کریں ہماری افواج کا نعرہ ہے ایمان تقویٰ فی سبیل اللہ کس کا نعرہ ہے۔ افواج پاکستان نے بتا دیا ہے کہ ہم ہر سطح تک جانے کئے تیار ہیں اب یہ فیصلہ سول حکومت نے کرنا ہے۔ خدارا ٹیپو سلطان بنیں۔ ”ٹویٹ سلطان“ نہ بنے۔ ٹویٹر اور فیس بکوں پر جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں۔ وزیراعظم صاحب کمزوری مت دکھائیں خوف کی بنیاد پر پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔ کشمیر تکمیل پاکستان کا ادھورا ایجنڈا ہے۔ کشمیریوں کے اوپر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں آپ سلامتی کونسل میں اجلاس کے انعقاد، رپی یونین کے اجلاس میں کشمیر کے ذکر کو ہی سفارتی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ مان لیا جائے کہ سفارتی محاذ پر ہمارے حصے میں صرف ناکامی آئی ہے جبکہ عسکری محاذ پر ابھی تک کوئی واضح حکمت عملی ترتیب نہیں دی جا سکی۔ الحمد للہ! ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں اور یہ ایٹم بم ہم نے ہندوستان اور اسرائیل کے لئے ہی بنایا ہے۔ کشمیر کی خاطر جس حد تک جانا پڑا ہم جائیں گے۔ مشکل کی اس گھڑی میں ان کو اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یہ گزشتہ 72 سالوں سے آزادی کی راہ میں خون بہانے والے کشمیریوں کے لہو سے غداری ہوگی اگر اسرائیل کو تسلیم کیا آخر اتنی جلد بازی کیوں ہے؟ کیا اسرائیل کے بغیر زندہ نہیں رہا جا سکتا؟؟؟
    حالات تیزی سے پاکستان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔ مودی کی سازش کو ناکام بنانے اور کشمیر سے نکالنے کا ایک ہی واحد آپشن ہے وہ ہے جہاد اور اگر حکومت نے یہی بزدلانہ روش اختیار کئے رکھی تو قیامت کا دن ہوگا کشمیریوں کے ہاتھ ہونگے اور ہمارا گریبان ہوگا اس لئے ہمیں کچھ کرنا چاہئے اس وقت کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم ایک پیج پر ہے لیکن حکومت اور ادارے ہوش کے ناخن لے رہے یہ تشویشناک صورتحال ہے قوم میں مایوسی کو ختم کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے غفلت دکھائی تو یاد رکھیں ہندوستان کا بارڈر اسلام سے صرف 22 کلومیٹر دور رہ جائے گا۔ دراصل بھارت کو اندازہ ہو گیا تھا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک لوکل موومنٹ ہے اسی لئے حالیہ اقدامات اٹھا کر مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا۔ انڈیا کے فوجی دستے کشمیریوں کے گھر گھر میں گھس کر قتل عام کررہے ہیں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ فوجی اقدامات بروئے کار لائیں جائیں صرف سفیر کی طلبی یا اُسے نکالنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ ہمیں آگے جانا ہوگا۔ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے خطرناک عزائم میں کامیاب ہو گیا تو وہ یقیناً آزاد کشمیر پر حملہ کرے گا اس حملے کی صورت میں وہ ثالثی کی کوششیں سامنے آئیں گی جن کا ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے سامنے اظہار کیا تھا ہمیں مصلحت کی پالیسی مسترد کر کے سخت ردعمل اختیار کرنا ہوگا۔بابائے قوم قائداعظم نے فوج کو کشمیر کی طرف جانے کا حکم دیا تھا جسے جنرل ڈگلس گریسی نے ماننے سے انکار کردیا تھا آج پھر اسی حکم پر عمل درآمد ضروری ہو گیا ہے۔

  • مودی کی تقریب سے اہم شخصیات کا بائیکاٹ ، "سٹینڈ ود کشمیر” کا خیر مقدم

    مودی کی تقریب سے اہم شخصیات کا بائیکاٹ ، "سٹینڈ ود کشمیر” کا خیر مقدم

    اہل کشمیر پر بھارتی مظالم پر احتجاج کرتےہوئے مودی کی ایوارڈ تقریب سے اداکار اور اہم شخصیات کا انخلاء .کشمیریوں میں خوشی کی لہر

    تفصیلات کشمیریوں کی جدجہد آزادی کے سرگرم تحریک اسٹینڈ ود کشمیر نے اداکاروں رض احمد اور جمیلہ جمیل کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے اعلی سطح کے کمشنر اور ایس ڈی جی ایڈووکیٹ اعلیٰ مرابیت کو دی بل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے گول کیپرز ایوارڈ تقریب سے دستبرداری کا خیرمقدم کیا ہے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔

    رواں ماہ کے آخر میں منعقدہ بل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے گول کیپرز ایوارڈ تقریب سے رض احمد ، جمیلہ جمیل ، اور الہ مربیٹ کا انخلا ، کشمیریوں ، ہندوستانیوں اور ضمیر کے لوگوں کے لئے ایک زبردست فتح ہے

    کشمیریوں نے احمد ، جمیل ، اور مربیٹ کے جرات مندانہ مؤقف کی تعریف کی اور دیگر پانچ مقررین سے مطالبہ کیا ، جن میں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم جیکنڈا آرڈرن ، یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنریٹا فور ، ، میوزک ، سونا جوبارٹھیہ ، آمینہ جے محمد ، اقوام متحدہ کے ڈپٹی سکریٹری جنرل اور میڈیا کے ایک کاروباری شخصیت ، ٹومیلو میتھوتین ، کشمیری عوام اور نریندر مودی کی دائیں بازو کی ہندو قوم پرست حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے والے تمام افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ایوارڈ کی تقریب سے دستبردار ہوں گے۔

    احمد ، جمیل ، اور مربیٹ نوبل امن انعام یافتہ مائراد مگویئر (1976) تواککول عبد السلام سلام کرمین (2011) ، اور شیریں عبادی ، (2003) میں شامل ہوئے جنہوں نے فاؤنڈیشن کو ایوارڈ واپس لینے کے لئے اجتماعی مطالبہ کیا ہے۔ وہ گیٹس فاؤنڈیشن کے ایوارڈ کو منسوخ کرنے کے لئے مخیر حضرات میں جنوبی ایشین امریکیوں اور اتحادیوں کی کال میں بھی شامل ہیں۔

    گیٹس فاؤنڈیشن نے 3 ستمبر کو یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ہندوستان میں وزیر اعظم نریندر مودی کو بیت الخلا تعمیر کرنے اور بھارت میں کھلی شوچ ختم کرنے کی کوششوں پر ایوارڈ دے گی۔

    گذشتہ ماہ کے دوران کشمیر اور آسام میں ہونے والے واقعات کے پیش نظر ، بھارت میں آزادی اظہار ، میڈیا اور اختلاف رائے کے خاتمے کے بارے میں ، یہ ناقابل فہم ہے کہ گیٹس فاؤنڈیشن اس لمحے کسی ایسے رہنما کی پوجا کرنے کے لئے انتخاب کرے گی جو ہندوستان کو اپنی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ آمریت۔ ایسا کرنا مودی کے جرائم کو وائٹ واش کرتا ہے اور پوری دنیا میں آمرانہ حکمرانوں کو ایک خطرناک پیغام بھیجتا ہے۔

    کشمیر کے ساتھ کھڑے ہو کر اس بات کا اعادہ کیا کہ گیٹس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صحیح کام کریں ، اور ایوارڈ واپس کردیں۔

    کشمیر سے جاری خبروں اور معلومات کو دبانے کی کوششوں کے باوجود ، بھارت کے وحشیانہ قبضے کی حقیقت امریکہ کے سیاست دانوں میں غم و غصہ اور تشویش پائی جاتی ہے۔

    برنی سینڈرز ، بیٹو او ’روڑک ، ریپلیمنٹ الہان ​​عمر ، ریپریٹی اینڈی لیون ، ریپٹیڈ ٹیڈ لیئو ، ریپریٹ رشید طلاب اور ریپ ڈان بیئر سمیت امریکی سیاستدانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بیانات جاری کیے۔ ایشیاء سے متعلق ہاؤس سب کمیٹی کے چیئرمین ، بریڈ شرمن نے بھی حال ہی میں کانگریس کی ایک آئندہ سماعت کا اعلان کیا ہے جس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔

    45 دن سے زیادہ عرصہ سے کشمیر میں 70 لاکھ سے زیادہ افراد محاصرے میں ہیں۔

    4 اگست 2019 کی شام کو ، ہندوستانی حکومت نے ٹیلیفون اور انٹرنیٹ خدمات منقطع کیں ، مقامی میڈیا کو بند کردیا ، مکینوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی ، کم از کم 3،000 افراد کو حراست میں لیا اور حراست میں لیا اور پورے محلوں کو عسکریت پسند بنا دیا۔

    سٹینڈ ود کشمیر کشمیریوں کی رہائش پذیر بین الاقوامی یکجہتی تحریک ہے جو بھارتی قبضے کو ختم کرنے اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔