Baaghi TV

Category: کشمیر

  • عمران خان کامیاب دورہ امریکہ اور بھارت کا ردعمل — تبریز احمد ممریز ایڈووکیٹ

    قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کے سربراہان کی طرف سے امریکہ کے درجنوں دورے کیے جاچکے ہیں. جن سے امریکہ پاکستان تعلقات میں اتارچڑھاؤ کی صورت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے.
    کبھی پاکستانی وزیر اعظم کو واشنگٹن لانے کے لیے ذاتی طیارے بھیجے جاتے. کبھی افغانستان میں Do More کی پالیسی پر زور دیا جاتا، کبھی ایڈ نہ دینے کی دھمکی دی جاتی. اور آج یہ حالت کہ عمران خان کا واشنگٹن میں تاریخی اور غیر معمولی جلسے کا انعقاد اور امریکی صدر کی عمران خان کی تعریف کرنا، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے سراہنا اور کشمیر کے ایشو پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرنا شامل ہیں.
    مگر اصل بات یہ ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ کامیاب رہا یا پھر گزشتہ ادوار کی طرح قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گا. ویسے تو اس دورے کی کامیابی، ناکامی یا ردعمل کا آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا.
    مگر میرے نزدیک پاکستان کے کسی بھی قومی یا عالمی رویئے یا واقعہ کے بارے میں اندازہ لگانے کے لئے بھارت اور بھارتی میڈیا کا اہم کردار رہا ہے. میں سمجھتا ہوں کہ دور امریکہ کی کامیابی کا اندازہ لگانے والا صحیح پیمانہ بھارتی میڈیا ہے کیونکہ بھارتی میڈیا بھارتی سرکار کی زبان طوطے کی طرح بولتا ہے
    وزیر اعظم عمران خان کے وائٹ ہاؤس کے دورے اور صدر ٹرمپ سے ملاقات میں سب سے بڑی پیش رفت جو رہی ہے وہ مسئلہ کشمیر میں امریکہ کا ثالث کا کردار ہے. جو میرے نزدیک ایک اچھی پیش رفت ہو گی. قیام پاکستان سے لے کر اب تک ان 72 سالوں میں بھارت اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جو رہا ہے وہ مسئلہ کشمیر ہے. جس پر بھارت نے ہمیشہ ڈبل پالیسی کا سہارا لیا ہے.
    وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کی ملاقات میں بڑا انکشاف جو صدر ٹرمپ نے کیا وہ بھارت کی دوغلی پالیسی کا پردہ چاک کر دیا. بھارت نے ہمیشہ عالمی سطح پر یہ ہی واویلا مچایا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے کشمیر کے مسئلہ پر کسی ثالث یا تیسرے ملک کا کردار نہیں چاہتا جبکہ کل صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب سے چند روز قبل G20 کے سالانہ اجلاس میں مودی نے صدر ٹرمپ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ہماری مصلحت اور کشمیر میں ثالث کا کردار ادا کریں.
    مگر دوسری طرف آج بھارتی میڈیا ہے جو نہ صرف مسئلہ کشمیر پر امریکہ کا ثالث کے کردار پر رو رہے ہیں بلکہ اک عالمی طاقت امریکہ کے اس عمل کو جھوٹا اور غلط بول رہے ہیں.
    جس پر نہ صرف بھارتی میڈیا بلکہ بھارتی پارلیمنٹ میں بھی واویلا مچا ہوا ہے.
    جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کرانے کی پیشکش کی تو بھارتی ذرائع ابلاغ میں کہرام مچ گیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بھارتی ٹی وی چینل نے تو سرخی لگا دی کہ (امریکہ نے بھارت پر کشمیر بم گرادیا ہے۔) بھارتی سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے ڈالے جانے والے بے سر و پا شور شرابے سے مجبور ہوکر بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی بھی امریکی صدر سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست نہیں کی ہے۔انہوں نے گھسا پٹا روایتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تمام درپیش مسائل پر صرف دو طرفہ بات چیت ہوسکتی ہے.
    مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ مودی جن کا شمار دنیا کے سوشل میڈیا کے فعال ترین صارفین میں ہوتا ہے وہ اب تک اپنے یا امریکی صدر کے بیان پر چپ کا سہارا لیے بیٹھے ہیں. جس سے بہت زیادہ نئے سوالات جنم لے رہے ہیں.دلچسپ امر ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی رواں سال ستمبر میں امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں۔

    دوسری جانب کشمیر میں پاکستان کے امریکہ میں ایسے عمل کو ایک مثبت قدم جانا گیا ہے. بزرگ کشمیری رہنما اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اپنی زندگی میں پہلا لیڈر دیکھ رہا ہوں جس نے ہم نہتے کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی ہے۔سید علی گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکہ کو کشمیر کی آزادی کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا اور ہم امریکہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا کی ہرزہ سرائی کے سوال و جواب اور مودی کی خاموشی کیا رنگ لاتی ہے. اور ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کی کوشش کیا اثر دکھاتی ہیں.
    میری تو دعا ہے کہ کشمیریوں کے لئے یہ دورہ امریکہ اور پاکستانی کوشش رنگ لائیں. اور کشمیریوں کے لیے ایک روشن اور آزاد صبح کی نوید ثابت ہو.

    خدا کرے میرے ارض پاک پر اترے

    وہ فصل گل جسے اندیشہ۶ زوال نہ ہو

    ایڈووکیٹ تبریز احمد ممریز

  • ٹرمپ نے مودی کو سیاسی ڈنڈا دکھایا ہے … احمد قریشی

    ٹرمپ نے مودی کو سیاسی ڈنڈا دکھایا ہے … احمد قریشی

    کشمیر پر سرکاری طور پر بات کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے. یہ صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر مودی کو سفارتی اور سیاسی ڈنڈا دکھایا ہے. امریکی وزارت خارجہ شاید اس پات پر کبھی متفق نہ ہو لیکن ٹرمپ نے یہ کام کر دکھایا. اچھی بات ہے. کشمیر پر اتنی بات آج تک کسی امریکی صدر نے نہیں کی. اس بات سے مجھے امریکی انتخابات میں میرا اپنا موقف یاد آتا ہے جو میں نے اپنے ٹی وی پروگرامز میں بار بار دہرایا تھا کہ أوباما پاکستان کیلیے بد ترین امریکی صدر ثابت ہوا ہے، لیکن ایک سیدھی بات کرنے والا ٹرمپ جیسا بزنس مین پاکستان کیلیے بہتر ہو سکتا ہے اور ہمیں ان سے روابط بنانے چاہیں.

    کشمیر پر اب ہمارے پاس یہ مثال بھی آ گئے کہ امریکی صدر نے کشمیر کو متنازع علاقہ مانا اور علانیہ کہا کہ اس خوبصورت جگہ میں دھماکے ہو رہے ہیں. بڑی پسپائی ہے کشمیر پر بھارتی موقف کی.

    کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو علانیہ یہ بات نہیں بتانی چاہیے تھی کہ مودی کشمیر پر انکی مدد مانگ رہا ہے کیونکہ اب بھارت میں پریشر پیدا ہوگیا ہے جو ممکنہ ثالثی کو مشکل بنا دے گا.

    لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے. بھارت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایسا ہی کرنے جا رہا تھا. لیکن صدر ٹرمپ نے دنیا کو بتا دیا کہ بھارت روایتی سخت موقف سے پیچھے ہٹنے کیلیے تیار ہوسکتا ہے، اور یہ بات پاکستان اور کشمیریوں کے ہاتھوں ایک نیا سفارتی ہتھیار بن گئی ہے.

    احمد قریشی

  • سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    گزشتہ روز ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل اور چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام کا کہنا تھا نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کریں اور کشمیری عوام پر ہونے والے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا جائے. سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کیا جائے یا افسوس کہ بالآخر پاکستان کے آفیشلز کو مسئلہ کشمیر میں سوشل میڈیا کے کردار کی اہمیت کا اندازہ ہی ہوگیا اگرچہ بہت تاخیر کے ساتھ ہی ہوا.
    جناب عزت مآب ڈاکٹر محمد فیصل صاحب ترجمان دفتر خارجہ پاکستان!
    بڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے کشمیر میں انڈین مظالم اور کشمیر کی آزادی کے حوالے سے نوجوانوں سے مدد مانگی کہ سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو اجاگر کرے. آپ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں تو ہمیں اس ایشو کو اجاگر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو استعمال کریں.

    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    جناب عالی! آپ کے اس بیان کو سن کر ہمیں خوشی بھی ہوئی اور آپ کی سادگی پر ہنسی بھی آئی کہ گزشتہ دس بارہ سالوں سے پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کشمیر کا مقدمہ سوشل میڈیا پر لڑتے رہے. ان دس بارہ سالوں میں کشمیر ایشو، نظریہ پاکستان یا بھارت کے ہندو توا پر کام کرنے والے پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس میں شاید ہی کوئی ہو جس کے بیسیوں، سینکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان سوشل میڈیا سائٹس کی انتظامیہ کی طرف انڈین دباؤ میں آکر بلاک نہ کیے گئے ہوں. ہم تب سے چیخ چلا رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت اس میں اپنا کردار ادا کرے اگر بھارت دھونس اور دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات منظور کروا سکتا تو پاکستان کیوں نہیں؟ میں کتنے ہی فعال ترین ایکٹوسٹس کو جانتا ہوں جو کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر زندہ رکھے ہوئے تھے مگر اکاؤنٹس کی مسلسل بندش کے سلسلوں اور پاکستانی انتظامیہ کی بے حسی سے تنگ آکر کچھ تو سوشل میڈیا کا استعمال ہی چھوڑ گئے اور کچھ نے دیگر مصروفیات ڈھونڈ لیں. تب پاکستان کی انتظامیہ میں سے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہم بہت بڑا نقصان کر رہے ہیں ان ایکٹوسٹس کی مدد نہ کرکے، رہی سہی کسر کشمیر ایشو کے لیے اپنی ساری زندگی تیاگ دینے والے رہنماؤں اور جماعتوں پر لگنے والی پابندیوں اور ان پر لگنے والے دہشت گردی کی دفعات نے پوری کردی اب کوئی کشمیر کا نام سنتے ہی ہاتھ کانوں پر لگاتا ہے کہ نہ بابا میں دہشت گردی کا پرچہ نہیں کٹوانا ، کشمیر کا نام لینا ہی دہشت گردی بنا دی گئی ہے. کسی سے کہہ دو کہ آؤ کشمیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ بات کرلیں تو وہ صاف انکار کرتا کہ بڑی مشکل سے میرے اکاؤنٹ کی کچھ "ریچ” بنی ہے آپ کیوں بلاک کروانا چاہتے ہیں. ہمارے کتنے ہی بڑے بڑے پیجز اور اکاؤنٹس کہ جن کی رسائی لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں تھی وہ پاکستان انتظامیہ کی بے حسی اور بھارتی غنڈہ کردی کی نذر ہوکر بلاک کردیئے گئے. اب جب آپ لوگوں کو نظر آیا کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے موبائلوں اور سستے پیکجز سے کشمیر پر کام کرنے والے غائب ہوگئے اور کشمیر کا نام بھی سوشل میڈیا سے ختم ہوتا جا رہا ہے تو آپ نے نوجوانوں سے مدد مانگنا شروع کردی کہ آئیں اس فیلڈ میں کام کریں تو عالی جناب نوجوان تو برسوں سے اس فیلڈ میں موجود تھے مگر ان کو اس فیلڈ میں کس نے بے یارو مددگار چھوڑ کر ان کو اس میدان سے منہ پھیرلینے پر مجبور کیا؟؟؟

    مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل

    جناب عالی ڈاکٹر فیصل صاحب! اب آپ ہی ہمیں بتائیے کہ ہم سوشل میڈیا پر کشمیر ایشو کو کیسے اجاگر کریں، کیسے سوشل میڈیا پر بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کریں کہ بھارت پوری طرح سے اس فیلڈ میں چھایا ہوا ہے اور کسی بھی پاکستانی اکاؤنٹ یا پیج کو کشمیر پر بات کرنے کے جرم میں بلاک کردیا جاتا ہے تو ایسے میں تھوڑی سی مزید رہنمائی کردیں کہ کیسے اجاگر ہوگا یہ مسئلہ کشمیر؟ ؟؟

    Muhammad Abdullah
  • بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا

    بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا

    سرینگر: بھارت نے کشمیر پراپنا قبضہ مضبوط کرنے کے لیے منصوبے کر کام شروع کردیا .بھارت کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا، مقبوضہ کشمیر کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش شروع کردی۔بھارت نے وادی کشمیر میں مہاجر ہندو پنڈتوں کیلئے علیحدہ کالونیاں قائم کرنے کے ذریعے جموں وکشمیر کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کے اپنے منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق اسی سلسلے میں‌آج ہفتہ کی شب سری نگر میں‌ایک اہم اجلاس ہورہا ہے جس میں اس منصوبے کے پہلووں کا جائزہ بھی لیاجائے گا.

    معتبر ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ گورنر ستیا پال ملک کی سربراہی میں اسٹیٹ ایڈمینسٹریٹو کونسل نے وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں 1680فلیٹوں پر مشتمل ٹرانزٹ کیمپوں کی تعمیر شروع کرنے کے عمل کا آغاز کردیا ہے۔قابض انتظامیہ نے ریلیف اینڈ ری ہیب لیٹیشن آرگنائزیشن اور جموں وکشمیر پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن کو منصوبہ بندی، ترقی اور نگرانی کے محکمے سے ضروری فنڈز کی منصوری اور تاخیر کے شکار منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے ایک پریزنٹیشن پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ان رپورٹس میں بارہمولہ کے علاقے خواجہ باغ میں 336فلیٹ، کپواڑہ کے علاقے مغل پورہ میں 288، شوپیاں کے علاقے پنڈوان میں 192، بانڈی پورہ کے علاقے اوڈینہ سنبل میں480، گاندربل کے علاقے وند ہامہ میں 192 اور اسلام آباد کے علاقے مرہامہ میں 192فلیٹوں کی تعمیر شامل ہے۔سرکاری ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے انجینئروں کی طرف سے تیار کی گئی منصوبے کی چھ تفصیلی رپورٹوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

  • گلوکار راجہ رپسٹارنے "غزوہ ہند” کا گانا گا کرجزبے گرما دئیے ،

    گلوکار راجہ رپسٹارنے "غزوہ ہند” کا گانا گا کرجزبے گرما دئیے ،

    لاہور:پاکستان کے معروف گلوکار راجہ رپسٹار نے ایک نیا گانا گاکر پاکستانیوں کے خون گرما دیئے،راجہ رپسٹآر نے اپنا یہ گانا غزوہ ہند کے نام سے متعارف کروایا ہے. اپنے اس نیشنل گانے میں بھارت میں‌ اس غزوہ کی یادیں تازہ کردی ہیں جس کا ذکر احادیث میں بھی آیا ہے.

    راجہ رپسٹار نے اپنے اس گانے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میں ہونے والی ممکنہ جنگ کا منظر بھی پیش کیا ہے جس میں پاکستان افواج بھارتی پر ٹوٹ کر حملے کررہی ہوتی ہیں، اس میں پاک فضائیہ ،پاک بحریہ اور پاک آرمی کی جہادی کارروائیوں‌ کی عکس بندی کی ہے.

    یاد رہے کہ غزوہ ہند کے برپا ہونے کے حوالے سے علما کا کہنا ہے کہ نبی رحمت نے بھارت میں اس غزوہ کی پشین گوئی کی تھی اور مسلمانوں پر بھارت میں‌ہونے والے مظالم کے بعد اب اس حدیث کی صداقت کے آثار نظر آنا ہونے شروع ہوگئے ہیں.ان حالات میں‌راجہ رپسٹار کا یہ گانا بڑا معروف ہورہا ہے.

  • 19 جولائی  1947 : دنیا بھر کے کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منارہے ہیں

    19 جولائی 1947 : دنیا بھر کے کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منارہے ہیں

    اسلام آباد: پاکستان سے کشمیریوں کی لازوال محبت کا ہر وقت اظہار ہوتا ہی رہتا ہے. کشمیریوں کو پاکستان سے بچھڑ جانے کی یاد بہت ستاتی ہے. اسی وجہ سے دنیا بھر میں کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منارہے ہیں، اس اہم دن کے موقع پر پوری دنیا میں مقیم کشمیری ریلیاں نکالیں گے اور بھارتی جارحیت کے خلاف آواز بلند کریں گے۔

    آج کے دن 19 جولائی 1947 کے دن کو کشمیریوں نے نظریاتی طور پر پاکستان سے رشتہ جوڑ لیا تھا، جسے بھارتی تسلط نے کچلنے کی کوشش کی لیکن انہتر سال بعد بھی وہ اس مضبوط ڈوری کو توڑ نہ سکا۔19 جولائی 1947 پاکستان کے قیام سے ایک ماہ پہلے کشمیریوں نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا جس پر وہ انہتر سال بعد بھی قائم ہیں کشمیر پر بھارتی قبضے کو انہتر سال گزر گئے ۔

    بھارت نے کشمیریوں کا پاکستان سے رشتہ توڑنے کے لیے تمام تر مظالم بھی آزما لیے .یہی وجہ ہے کہ بھارت نے نصف صدی میں نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے لاکھوں کشمیری آزادی کا نعرہ لگاتے جام شہادت نوش کر گئے۔لیکن آج بھی کشمیری عوام ہر سال کی طرح یوم الحاق پاکستان منارہی ہے، قیام پاکستان کے بعد بھارت نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے محروم کردیا ۔

    بھارت نے کشمیریوں کے نعرہ آزادی بارود کی گونج میں دبانے کی کوشش کی لیکن جذبہ آزادی سے سرشار کشمیریوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان ۔کشمیری ہر احتجاج میں پاکستانی پرچم لہرا دُنیا بھر کو ثبوت پیش کرتے ہیں کہ کشمیر کل بھی پاکستان تھا ۔ آج بھی ہے اور رہے گا۔

  • کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کا تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا کلبھوشن یادیو کو قانون نافذکرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا تھا اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات لگے ۔ کلبھوشن یادو عرف مبارک حسین پٹیل نے ان تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا۔ جس پر کلبھوشن کوفوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ شروع میں تو بھارت کلبوشن کی گرفتاری پر لاتعلقی کا ظاہر کرتا رہا۔ اور اسے اپنا شہری تک تسلیم کرنے سے انکاری رہا۔ پھر جب پاکستان نے ٹھوس ثبوت پیش کیے ۔ کلبوشن کا ویڈو پیغام سامنے آیا کہ وہ بھارتی نیوی کا سرونگ افسر ہے اور را کے خفیہ مشن پر پاکستان کا امن و امان برباد کرنے کیلئے خفیہ طور پر جعلی نام سے پاکستان میں سرگرم ہے تو بھارت کو کوئلوں کی دلالی میں اپنا منہ کالا ہوتا نظر آیا ۔ پھر بھارت نے تسلیم کیا کہ ۔ کلبوشن بھارتی شہری اور بھارتی نیوی کا سابق کارندہ ہے۔ اس کے بعد بھارت بھاگا بھاگا عالمی عدالت جا پہنچا ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی مانگی ۔ پاکستان نے بھارتی موقف کے خلاف تین اعتراضات پیش کیے پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن جعلی نام پر پاسپورٹ کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو تا رہا ۔ بھارت کلبھوشن کی شہریت کا ثبوت دینے میں بھی ناکام رہا ۔ جبکہ کلبوشن پاکستان میں جاسوسی اور دہشتگردی کی کاروائیوں میں بھی ملوث رہا۔ اور ان واقعات میں کئی پاکستانی خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ کیونکہ پاکستان کا موقف انتہائی مضبوط تھا۔ کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان کو 3/1 سے فتح حاصل ہوئی ہے۔ بھارت نے عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کیلئے مندرجہ ذیل چار چیزیں مانگی تھیں۔
    قونصلر رسائی
    جاسوسی اور دہشتگردی کے الزامات سے بریت
    سول کورٹ میں ٹرائل
    کلبھوشن کی بھارت کو حوالگی
    عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں بھارت کو چار میں سے صرف ایک چیز دی ہے۔ عدالت نے کلبھوشن تک بھارت کو قونصلر رسائی کا حق دیا ہے۔عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد بھارتی جاسوس پاکستان کے پاس ہی رہے گا اور یہیں اس کے کیس پر نظر ثانی کی جائے گی جو کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار ہے۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر نظر ثانی کا کہا ہے لیکن یہ حکم نہیں دیا کہ اس کا ٹرائل بھی دوبارہ ہوگا اور نہ ہی ری ٹرائل کیلئے سول کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ صرف اس کی سزائے موت پر نظر ثانی کا کہا ہے۔ آج عالمی عدالت کے فیصلے کے پوری دنیا کو پتہ چل چکا ہے کہ کلبوشن یادو ہندوستان کا جاسوس بیٹا ہے۔ جو امن پسند ملک پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہو ئے پکڑا گیا ہے ۔ کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑ ہے مانگا انھوں نے کچھ تھا اور ملا کچھ ہے ؟ آج ریاست پاکستان ۔ اداروں اور پاکستانی قوم کی فتح کا دن ہے۔

    ویسے تو بھارت کی مکاری کی مثالیں تاریخ کے صفحات پہ درج ہیں۔ بھارت ہمیشہ دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کی کوششیں کرتا رہا ہے مگر اس بار اس کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں ۔ بھارتی حکومت اپنے ہی عوام کو بھی الو بنا رہی ہے ۔۔ کہ ہم کیس جیت گئے۔ جیت کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    بھارتی میڈیا بھی فیصلے کو بھارت کی فتح قرار دیتے ہوئے بغلیں بجانے میں مصروف ہے ۔ جیسا پہلے وہ جھوٹی سرجیکل سٹرائکس میں خوشی سے پاگل ہو گئے تھے۔ پھر جب ہم نے ان کا ابھی نندن پکڑا تو عقل ٹھکانے آئی۔ اور بھارتی میڈیا نے رنگ بدلتے ہوئے انسانی ہمدردی کا راگ الاپنا شروع کیا۔ اب ایک بار پھر بھارتی میڈیا نے مودی کو سر پر بیٹھا لیا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اب سب پر عیاں ہوچکا ہے کہ بھارت ۔ اسکی ایجنسیاں اور ادارے دوسرے ملکوں میں دہشتگردی اور جاسوسی کاروائیوں میں ملوث ہیں ۔ بھارت پورے خطے اور ہمسائے ممالک کوdestablize کررہا ہے ۔
    We exposed india internationally & caught their monkey red handed
    آج پاکستان کو عالمی عدالت۔ اقوام عالم اور سفارتی سطح پر ایک بڑی فتح حاصل ہوئی ہے۔ انشااللہ وہ دن دور نہیں جب بھارت کو کشمیر کے مقدمہ میں بھی شکت فاش ہو گی ۔
    پاک فوج زندہ باد ۔۔۔
    پاکستان زندہ باد ۔۔۔
    دشمنان وطن مردہ باد ۔۔۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

    ‎@naveedsheikh123

     

     

     

     

     

  • سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص فیس بک اور ٹوئیٹر مقبول ترین پلیٹ فارمز ہیں. سال دو ہزار انیس کے اوائل میں دنیا بھر سے 2.7 بلین لوگ فیس بک استعمال کر رہے ہیں. اسی طرح سماجی رابطوں کی دوسری بڑی سائٹ ٹویٹر کے صارفین کی تعداد 261 ملین ہیں.واضح رہے کہ یہ کوئی ختمی تعداد نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا صارفین کی تعداد ہر دن بڑھتی چلی جا رہی ہے.

    ترقی پزیر اور معاشی و سیاسی حوالے سے کمزور ممالک میں سوشل میڈیا کا استعمال اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے کہ بے روزگار لوگوں کے پاس سوشل میڈیا استعمال کرنے کا کھلا وقت ہوتا ہے.
    ان سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال بڑھنے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ سائٹس آپ کو اپنے نظریات و افکار کے اظہار کی آزادی دیتے ہیں. ان سماجی رابطوں کی سائٹس کا بنیادی نعرہ ہی اظہار رائے کی آزادی ہے کہ آپ اپنے انفرادی، سیاسی، مذہبی اور معاشرتی نظریات کا کھلم کھلا اظہار کر سکتے ہیں لیکن پچھلے چند سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ان سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی بزور سلب کی جا رہی ہے. بالخصوص جب سے بھارت ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھا ہے اور فیس بک کا جنوبی ایشیائی علاقائی ہیڈ کوارٹر بھارت کے شہر دکن میں قائم ہوا ہے تب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگنا شروع ہوچکی ہے.


    بھارت کی ایماء پر فیس بک اور ٹویٹر پر سے لاکھوں اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اکاؤنٹس وہ ہیں جو کشمیر اور خالصتان کے حوالے سے سرگرم تھے. بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس تک کے ہزاروں اکاؤنٹس بلاک ہوچکے ہی‍ں اور ان کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سیاسی معاملات اور انتخابات میں اثر انداز ہو رہے تھے. کچھ ہی عرصہ قبل فیس بک نے 24 پیجز، 57 اکاؤنٹس، 7 گروپس اور 15 انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کیے تھے جن کے بارے میں فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان اکاؤنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے ادارے آئی ایس پی آر کے ملازمین کے ساتھ ہے اور یہ اکاؤنٹس اور پیجز کشمیر پر مواد اپلوڈ کرتے تھے.

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان کے معروف اداکار اور اینکر پرسن حمزہ علی عباسی کے اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل بھی کشمیر کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے بلاک کیے جا چکے ہیں. اسی طرح کشمیریوں پر ظلم اور کلبوشن یادیو پر ٹویٹس کرنے کی وجہ سے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا گیا.
    ان کے علاوہ عام پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس اور پیجز لاکھوں کی تعداد میں بلاک کیے جا چکے ہیں.
    حالیہ دنوں میں کشمیر میں برہان وانی کی تیسری برسی کی وجہ سے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس کو دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر پزیرائی ملی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے بھی اس ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیا لیکن بھارت کی ایماء پر ہزاروں پاکستانی صارفین اپنے اکاؤنٹس سے ہاتھ دھو بیٹھے.
    سوشل میڈیا صارف عمران اشرف کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر بھارتی افواج پیلٹس فائر کرتی ہیں ان کی بینائی چھینی جا رہی ہے اور اس پر آواز اٹھانے کی وجہ سے ہمارے اکاؤنٹس بلاک کیے جا رہے ہیں.

    ایک سوشل میڈیا صارف بنت مہر کا کہنا تھا کہ فقط برہان مظفر کی تصویر لگانے سے ہمارے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے جا رہے ہیں یہ کیسی اظہار رائے کی آزادی ہے.
    سوشل میڈیا کے فعال صارف انوار الحق کا کہنا تھا کہ میرے دو سو سے زائد اکاؤنٹس پاکستانیت اور کشمیر ایشو کی وجہ سے بلاک ہوچکے ہیں.
    ایک اور سوشل میڈیا صارف کومل باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کی اجارہ داری اور ہٹ دھرمی ہے جو ہمارے اکاؤنٹس بلاک کردیئے جاتے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی انتظامیہ کو لازمی طور پر ان سماجی رابطوں کی سائٹس سے معاہدے کرنے چاہیں تاکہ بھارت کی اجارہ داری سے چھٹکارہ پایا جاسکے.


    انتہائی فعال سوشل میڈیا صارف وقاص احمد کا کہنا تھا برہان وانی اور کشمیر ایشو پر بات کرنے کی وجہ سے پیجز اور اکاؤنٹس بلاک کردیئے گئے ہیں جن پر پاکستانی ایکٹوسٹس اور حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے حالانکہ یہ سائٹس پاکستان سے ملین ڈالرز کے اشتہارات کی کمائی کرلیتی ہیں لیکن اکاؤنٹس کی بندش کے سلسلے میں پاکستان حکومت اور آئی ٹی منسٹری کی ان سائٹس کے ساتھ کوئی واضح پالیسی نہیں ہے.
    واضح رہے کہ ماضی اور حال میں بھی پاکستان کے بڑے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں جس پر احتجاج کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے. حکومت پاکستان کو چاہیے کہ لازمی طور پر اس معاملے کی حساسیت کو دیکھیں اور سوشل میڈیا پر بھارت کی اجارہ داری کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تاکہ پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں.

    Muhammad Abdullah
  • غیرت کی طغیانی ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    غیرت کی طغیانی ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    رات کی سیاہ تاریکی ہر اک جانب گھور اندھیرے گاڑے ہوئے تھی۔افق پر چاند اپنی روشنی کی وجہ سے خود کو سود مند ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر غلامی کی تاریکیوں کے سامنے چاند کی مرضی نہیں چلا کرتی۔غلامی کے اندھیروں کو صرف وہ چراغ ہی مٹا سکتے ہیں جو اپنے خون کو ایندھن بنا کر جلایا کرتے ہیں!

    رات کی تاریکی چھٹنے لگی۔سورج کی حسین کرنیں مشرق سے نمودار تو ہوئیں مگر چاند ہی کی طرح سورج بھی غلامی کے اندھیروں کو نہ بھگا سکا۔نجانے ان اندھیروں کو ختم کرنے کیلیے کتنے چاند نمودار ہوئے اور ناکام روپوش ہوگئے۔نجانے کتنی بار سورج نے کاوشیں کیں مگر نامراد لوٹا۔مگر اس صبح والا سورج کچھ الگ ہی اہمیت رکھتا تھا۔اس جبر و استبداد سے محو جنگ وادی میں مائیں اپنے جگر گوشوں کو جہاں ایک طرف آہنی زرہ پہنایا کرتیں اور سعد و خالد اور ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنھم کے قصے سنایا کرتیں وہیں وہ اپنے بیٹوں کو بستہ تھما کر قلم جیسی عظیم تلوار پکڑنے کو سکول بھیجا کرتیں۔اس صبح بھی ایک جگر گوشہ اپنا بستہ تھامے سکول کی جانب رواں دواں تھا۔وہ تتلیوں کو دیکھتا اور انہیں پکڑنے کی آرزو کرتا۔وہ بلند و بالا پہاڑ دیکھتا اور ان میں کھو جانا چاہتا۔اس عالم میں اس کے سامنے کچھ ڈراؤنی شکلوں والے لوگ نمودار ہوئے جنہوں نے ہاتھوں میں بندوقیں پکڑی ہوئی تھیں۔لڑکا ان سب کو دیکھتا جا رہا تھا اور آگے بڑھتا جا رہا تھا۔دیکھتے دیکھتے اس کے سامنے ان لوگوں نے بندوقیں تان لیں اور اس سے اسکا بستہ چھین لیا۔لڑکا محو حیرت تھا۔وہ سمجھ نہ پا رہا تھا کہ ابھی تو وہ تتلیاں پکڑنے کی آرزو کر رہا تھا اور یکایک اس سے اسکا بستہ چھین لیا گیا۔لڑکا ان لوگوں سے مخاطب ہوا:

    "انکل مجھے سکول جانا ہے میرا بستہ لوٹا دیجیے۔”

    ان الفاظ میں وہی بچوں جیسی معصومیت تھی۔
    جواب میں ان میں سے ایک آدمی نے بڑے طنزیہ انداز میں کہا

    "مسلمان اب یہاں پڑھیں گے؟جا نکل جا یہاں سے۔۔۔تجھے ہم نے سکول نہیں جانے دینا۔”

    لڑکا دوبارہ حیرت کی کیفیت میں لوٹ گیا کیونکہ ابھی تک اس سے کسی نے اتنے سخت لہجے میں بات نہیں کی تھی۔ وہ رونا چاہتا تھا مگر غیرت نے یہ گوارا نہ کیا۔

    وہ واپس پلٹا۔ یہ سوچ کر کہ ابا سے انکی شکایت کروں گا۔ وہ راستے میں تھا کہ اسی جگہ پر جہاں اس نے ابھی تتلیاں دیکھی تھی، آگ بھڑک رہی تھی۔ وہ حیرت کے مارے وہاں کھڑا ہوگیا اور یہ سوچنے لگا کہ ابھی تو یہاں دلفریب مناظر تھے مگر اب_______ وہ دیکھ رہا تھا کہ ہر سو بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔اسی بھگدڑ میں ایک آدمی سے لڑکے نے پوچھا”چچا یہ کیا ہوا ہے”۔آدمی نے جواب دیا "بیٹا یہاں سے انڈین آرمی کا گزر ہوا تھا۔انہوں نے ہم سے پیسوں کی طلب ذلت آمیز انداز میں کی۔ہم نے انکار کردیا کہ خود ہم معاشی پریشانیوں سے دو چار ہیں،ہم پیسے نہیں لاکر دے سکتے۔جواب میں انہوں نے ایک ضعیف شخص کو پیٹا جس کا قصور یہ تھا کہ اس نے ہی ہماری نمائندگی کی تھی،اس شخص کے دو بیٹوں کو اٹھا کر لے گئے اور جاتے جاتے ہمارے مکانوں اور کھیتوں کو آگ لگا گئے۔”
    یہ سن کر لڑکے کو شدید جھٹکا لگا۔اس سے اس کے دل نے رونے کی اجازت مانگی مگر غیرت نے انکار کردیا کہ آنسو انسانوں کے سامنے نہیں بہائے گا۔

    لڑکا فوراََ تیز رفتار میں گھر کی سمت بھاگا۔اب اب کی بار بھی اسکا سامنا دل دہلا دینے والے مناظر سے ہوا۔سڑک پر ایک ادھیڑ عمر کا شخص سر پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہوا تھا۔اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ چچا کیا ہوا ہے؟
    آدمی نے جواب دیا "بیٹا کچھ بھارتی فوجی آئے تھے۔میرے بیوی اور بیٹے کو مار کر چلے گئے” اور______”میری دو بیٹیوں کو اپنے ساتھ اٹھا کر لے گئے۔”یہ کہتے ہی وہ پھر دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔لڑکے نے اس کاروائی کی وجہ پوچھی تو آدمی نے جواب دیا کہ "وہ دیکھو ہمارے گھر کی چھت پر پاکستان کا خوبصورت سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔انہوں نے ہم سے کہا کہ اس ہرچم کو اتارو اور ہمارے قدموں میں لاکر رکھو۔مگر یہ پرچم ہمیں جان سے زیادہ پیارا ہے۔ہم نے فوراََ انکار کردیا۔اس پر انہوں نے مجھے پیٹنا شروع کیا۔میرا بیٹا اور بیوی آگے بڑھے۔اسی اثنا میں دو فائر ہوئے اور میری بیوی اور بیٹے کی لاشیں زمین پر گریں اور پھر وہ______”
    لڑکا افسوس و انتقام کے جذبات سے بھر چکا تھا۔اسے اذان کی آواز سنائی دی اور وہ مسجد کی جانب روانہ ہوا۔نماز کے بعد اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو نہ اسکے دل نے اجازت لی نہ غیرت نے انکار کیا۔اسکے آنسو بہہ نکلے اور ایسے بہے کہ اسکا چہرا تر ہوگیا۔
    وہ گھر پہنچا۔ماں کو سارا واقعہ سنایا اور ماں کے سامنے اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ ”مجھے اب ان ظالموں کے خلاف لڑنا ہے۔مجھے انکے تعاقب میں تب تک بندوق تھامے رکھنی یے جب تک میں اپنی آخری سانس کو پورا نہ کر لوں۔”
    ماں نے مسرت آمیز مسکراہٹ چہرے پر سجائی اور اپنے جگر گوشے کی طرف دیکھا۔آج اس کے بیٹے کے چہرے پر اسے محمد بن قاسم اور سلطان ٹیپو کی جھلک دکھائی دی۔ماں کو اب معلوم ہوا کہ آج کے سورج میں خاص بات کیا تھی۔اس نے خوشی کے ساتھ بیٹے کو اجازت دی اور اس کے لیے بندوق کا بندوبست کیا۔
    اگلے روز لڑکا گھر سے نکلا اور آذادی کے راہیوں کے کیمپ میں انہیں پہاڑوں کی آغوش میں پہنچ گیا جہاں اس نے گزشتہ دن جانے کی خواہش کی تھی۔وہاں سے تربیت پائی اور پھر دشمنوں کے سامنے صف آرا ہوا۔اب وہ جان گیا تھا کہ اسے تتلیوں کو نہیں درندوں کو پکڑنا ہے!

    دن ہفتے اور ہفتے مہینوں میں تبدیل ہوتے گئے۔مگر اب اس وادی کے حالات علحیدہ تھے۔وہ درندے جو کھلم کھلا پھرا کرتے تھے اب اپنی پناہ گاہوں سے نکلنے کو ڈرتے تھے۔آزادی کی کوششیشیں اب تیز ہوچکی تھیں ۔انڈین فوج نے اس لڑکے پر بھاری انعام مقرر کیا اور اسے پکڑنے کی کاوشیں تیز کردیں جس سے انہیں اب ڈر لگنے لگا تھا۔مگر وہ لڑکا بھی ڈٹا رہا۔اور اپنی غیرت کی طغیانی سے ظلم کو ڈبوتا رہا۔اب وہ ہر بہن کا بھائی،ہر بھائی کا ہمدم، ہر ماں کا لال اور ہر باپ کا سہارا بن چکا تھا۔

    پھر ایک روز ۸ جولائی کو وہ لڑکا بھارتی فوجوں سے لڑتا ہوا شہادت نوش کرگیا۔مگر یہ چراغ بجھ کے بھی نہ بجھا کہ وہ اک عجب نور کا حامل تھا۔اس کی شہادت نے بھارتی فوج پر ایسا طوفان برپا کیا کہ جس کی تیز ہوائیں ابھی بھی چل رہی ہیں اور عدو پر اپنی تباہ کاریاں مچا رہی ہیں۔اسی حوالے سے شاعر سلیم اللہ صفدر نے کیا خوب کہا ہے:

    وہ چراغ بجھ کہ بھی کیا بھجا
    کہ وہ نور اتنا عجیب تھا
    سر عرش سے تہہ خاک تک
    سبھی روشنی میں نہا گئے

    قارئیں کرام! جس لڑکے کا ہم نے ذکر کیا وہ بلاشبہ برہان مظفر وانی ہے۔اس سے کچھ واقعات منسوب کرکے ہم نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ایک کشمیری کے مجاہد بننے میں کیا کیا اسباب چھپے ہوتے ہیں۔ یہ ہلکہانی وادئ جنت نظیر کے عالم شباب میں داخل ہونے والے ہر جوان کی ہے۔ اب ذمہ داری ہماری بھی ہے کہ ہر محاذ پر کشمیریوں کی آواز بنے رہیں۔اور کم از کم انہیں اپنی دعاؤں میں لازمی یاد رکھیں۔
    اللہ پاکستان اور کشمیر کا حامی و ناصر۔
    کشمیر بنے گا پاکستان ان شاء اللہ

  • شہادتِ برہان مظفر وانی، ایک سبق ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل

    شہادتِ برہان مظفر وانی، ایک سبق ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل

    برہان مظفر وانی کشمیر کا وہ نوجوان بیٹا تھا جس نے آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔برہان وانی نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ آزادی پسند نوجوان ہے۔کشمیر میں انڈین آرمی کے مظالم انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔دن بدن کسی نہ کسی مسلمان کو شہید کر دیا جاتا، انڈین آرمی والی مسلمان بیٹیوں کی عزتیں لوٹتے۔ ظالم بچوں کو بھی نہ بخشتے۔ بچوں کی آنکھوں میں پیلٹ گن کے چھٹرے مار مار کر ان کی بینائی چھین لی جاتی ہے۔انہیں مظالم کی دوران ایک بچے نے وادی کشمیر میں جنم لیا۔انہیں مظالم میں پرورش پائی کبھی وہ دیکھتا کہ کشمیر کی کسی بیٹی کی عزت لوٹ لی غاصبوں نے ،کبھی وہ سنتا فلاں بھا ئی کو شہید کر دیا گیا۔کبھی وہ سنتا کہ امام مسجد کو روڈ پر شہید کر دیا گیا ۔کبھی وہ سنتا کہ نماز جمعہ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔کبھی وہ دیکھتا کہ قربانی کا موقع ہے اور گائیں ذبح کرنے پر پابندی ہے۔کبھی نماز پر پابندی ہے ۔کبھی وہ سنتا کہ 22 کشمیری مسلمان اذان دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔ان سب مظالم کو دیکھ کر اس کا دل بیزار ہوتا تھا۔اللہ نے ہمت دی کہ آزادی پسند مجاہدین کشمیر میں شامل ہوا۔اپنی گن کے ذریعے انڈین آرمی کی نیندیں حرام کر دیں ۔ وہ ڈرنے لگے۔
    شاعر مشرق یوں کہتے ہیں

    کافر ہے تو شمیشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    اقبال کی شاعری نےاس پر اثر کیا اور وہ جہاد کی راہ پر نکلا ۔جہاد کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔آزادی حاصل کرنے کے لیے کشمیری قوم قربانیاں دے رہی ہے ۔

    ہے کس کی یہ جُرأت کہ مسلمان کو ٹوکے
     حُریّتِ افکار کی نعمت ہے خدا داد

    انڈین میڈیا بھلے انھیں آتنک وادی کہتا ہوں لیکن عظیم مجاہد برہان مظفر وانی شہید رحمتہ اللہ ہمارے تو ہیرو ہیں کیونکہ انہوں نے آزادی کی خاطر جدوجہد کی۔ ہمارے لیے تو Freedom Fighter ہے ۔وہ مسلمان جو آزادی حاصل کرنے کے لیے اٹھا ہو۔ پہلے مسلمانوں نے بھی پر امن طریقہ اپنایا۔ قرار دادیں منظور ہوئیں لیکن بھارت نے آج تک ان قرار دادوں کو نہیں اپنایا تھا۔پھر مسلمانوں نے وہ طریقہ اپنایا جہاد فی سبیل اللہ کا۔جو بندے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اللہ کے ہاں وہ بڑے مقام و مرتبہ والے ہیں
    اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ۙ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۲۰﴾
    ترجمہ :-
    جو لوگ ایمان لائے ہجرت کی اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا وہ اللہ کے ہاں بہت بڑے مرتبہ والے ہیں اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں ۔
    بھلے یہ کفار ان مجاہدین کو صحیح نہ سمجھیں لیکن اللہ کے ہاں وہ بڑے مقام و مرتبہ والے ہیں۔کشمیری قوم محکوم و مجبور ہیں۔برہان وانی کی شہادت نے انھیں ایک نظریہ دیا کہ یہ ہے آزادی حاصل کرنے کا طریقہ۔برہان وانی کہ شہادت تمام مسلمانوں کو ایک درس دیتی ہے:-
    شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
    نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
    اس لیے ہمیں اپنے ہیروز کو بھولنا نہی چاہیے جو قومیں اپنے ہیروز کو بھول جاتی ہے وہ غرق ہو جاتی ہے
    اقبال کشمیریوں کی صورتحال کو یوں بیان کرتے ہیں:-
     آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
     کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
    کشمیر ہماری شہ رگ ہے اسے آزاد کروانا ہمارا اولین فرض ہے۔حکمرانو کو بھی جاگ جانا چاہیے اور عہد کرنا چاہیے کہ اپنا مکمل کردار ادا کریں گئے۔اقوام متحدہ کو کشمیر کی آزادی اور ان پر مظالم کی یاد دہانی کروانی چاہیے اور عوام کو اپنے بھائیوں کا پشتیبان بننا چاہیے اور اللہ کے حضور ان کے لیے دعا مانگنی چاہیے۔