Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیر لہو کا دریا اور بھارتی پراپیگنڈے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر لہو کا دریا اور بھارتی پراپیگنڈے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    جنت ارضی کا ٹکڑا کشمیر جو پاکستان کی شہہ رگ ہے جس پر بھارتی فوج نے غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور کشمیر میں ہونے والا ظلم اور بربریت کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کے نت نئے حربے آزما رہا ہے اور مسلسل کشمیریوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔
    کشمیری بطور مسلمان اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے اسی وجہ سے کشمیری کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑا اور خون خرابہ نہیں چاہتے بلکہ کشمیری امن کے متلاشی ہیں اور امن کے لئے ہی وہ آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔
    بھارتی غاصب فوج کے کے مظالم سے رہائی چاہتے ہیں ایسا خطہ چاہتے ہیں جس میں وہ امن و امان سے اپنی زندگی بسر کریں ان کے بے گناہ پیاروں کو شہید کردیا جاتا ہے جو ان کے لئے قیامت خیز منظر ہوتا ہے۔
    بھارتی فوج کشمیریوں کا حق خودارادیت چھیننے اور آزادی کی تحریک کو دبانے کے لئے اس خوبصورت وادی کو لہو لہان کر رہا ہے کشمیر میں مظالم کی ایسی ایسی تاریخیں رقم کی گئی ہیں کہ انسانیت کانپ اٹھتی ہے جو چیخ چیخ کر بھارتی فوج کا اصل چہرہ دکھا رہی ہیں
    بھارتی فوج نے کشمیر میں لاتعداد کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
    لاکھوں عورتوں کی عصمت دری کی ان کو اپنی حوس اور درندگی کا نشانہ بنایا معصوم ننھے منے پھول سے بچوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے لیکن ان سے سوال کرنے والا کوئی نہیں….!!!!
    اگر بات کرنی ہو بھارتی فوج کے انسٹیٹیوشن ریپ کرائمز کی تو کنان پور اور شوپیاں کی مثالیں منہ بولتا ثبوت ہیں۔
    اگر بات کرنی ہو بھارتی فوج کی میس کلنگ کی تو یجپور ، ہندوارہ اور سوپور کی مثالیں بھارتی فوج کے مظالم کی منظر کشی کررہی ہیں۔
    کشمیریوں پر اس قدر مظالم ڈھانے کے باوجود بھارت کی نفرت کی آگ ٹھنڈی نہیں ہورہی اور کشمیریوں پر مزید مظالم ڈھانے کے لئے بھارت نے کشمیر میں دس ہزار بھارتی فوجیوں کی کمک جموں خطہ کے ضلع راجوری میں پہنچائی ہے۔
    راجوری میں حریت پسندوں کا مقامی نیٹ ورک نہ ہونے کے برابر ہے پھر اتنی بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کیوں کی گئی ہے….؟؟؟؟؟
    علاوہ ازیں…
    28000 بھارتی پیرا ملٹری کے دستے زبانی حکمنامے پر کشمیر میں پہنچاۓ جارہے ہیں سکولوں میں فوجی کیمپ بناۓ گئے ہیں جس سے کشمیری خوف و ہراس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    آج انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں کیوں خاموش ہیں…؟؟؟؟
    کیا انکو یہ مظالم نظر نہیں آرہے…؟؟؟؟
    پونچھ کے رہائشی علاقے میں جگہ جگہ فوجی بنکرز کی تعمیر کیوں کی گئی ہے…؟؟؟؟
    ساؤتھ کشمیر کے علاقے ترال میں پیرا ملٹری کی پچاس بڑی گاڑیاں کیوں پہنچائی گئی ہیں…؟؟؟؟

    اور اس کے ساتھ ساتھ پلگام امرناتھ یاترا میں کیمپ راتوں رات یہ کہہ کر خالی کروا لیا گیا ہے کہ ان پر حملہ ہونے والا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر میں آج تک غیر ریاستی باشندوں پر حملہ نہیں ہوا وہ کشمیر میں محفوظ تھے لیکن اچانک بھارتی فوج نے ان کو کشمیر چھوڑنے کا کیوں حکم دیا…؟؟؟
    آخر کون ان پر حملہ کرنا چاہتا ہے…؟؟؟
    آج سے پہلے کسی نے حملہ کیوں نہیں کیا…؟؟؟
    بھارتی فوج کی سازشوں سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں جو بھارتی فوج کی ناچاکیوں کا پردہ چاک کررہے ہیں ..

    حقیقت میں یہ سب بھارتی فوج کا اپنا رچایا کھیل اور پراپیگنڈا ہے بھارت کشمیر پر حملہ کرنا چاہتا ہے اسی لئے امرناتھ یاتراؤں کو ریاست سے نکلنے کا حکم دیا۔

    بھارت نے ایل او سی کے پاس بھی بہت بھاری تعداد میں فوج اور اسلحہ اکٹھا کرلیا ہے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر دونوں طرف مسلمان ہیں اور کسی قسم کے حملے اور اسکی جوابی کارروائی میں مسلمان ہی مارے جائیں گے جو کہ بھارت کا اصل مقصد ہے اور جب جب دنیا میں بے گناہ مسلمان مارا جاتا ہے تو پوری دنیا نیند کی گولیاں کھا کر سو جاتی یا پھر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیتی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی چپ سادھ لیتی ہیں …
    یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نزدیک مسلمان کی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے جو کہ جانوروں کے حقوق کے لئے چیخ اٹھتی ہے لیکن مسلمانوں کی خاطر سکتے میں آجاتی ہے..!!!

    افسوس صد افسوس….!!!!!

    *ذرا آپ ہی اپنی اداؤں پہ غور کریں*
    *ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی*

    کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک میں پختگی اور للکار سے بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار ہے جس کے نتیجے میں وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے کشمیری عوام آزادی کی خاطر بہت سی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی ہے اب بھارتی فوج کی اضافی تعیناتی ان کے ولولوں کو کم نہیں کرسکتی بھارت کشمیر میں اپنی ہی موت کا سامان اکٹھا کررہا ہے جو اس کے لئے بہت نقصان دہ ہوگا۔
    بطور پاکستانی ہم سب اپنی پاک فوج اور کشمیر کے ساتھ ہیں یہ ظلم کا اندھیرا چھٹ جاۓ گا اور روشن سویرا ضرور ہوگا جو کشمیر کی آزادی کی نوید سناۓ گا۔ ان شاءاللہ عزوجل

  • کشمیر میں ہوا  کیا ہے؟؟؟ حنظلہ عماد

    کشمیر میں ہوا کیا ہے؟؟؟ حنظلہ عماد

    چلیں آپ کو بتاتے ہیں کہ کشمیر میں ہوا کیا ہے اور بھارت کس طرح اس قابل ہوا کہ آج اتنا بڑا قدم اٹھا لیا۔ تھوڑا سا ماضی میں سفر کریں، پاکستان میں کشمیر کا نام لینے والوں کو مسلسل دہشت گردی کے زیر الزام رکھا گیا اور عالمی اداروں بشمول ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف پاکستان کو اس بات پر مجبور کیا گیا کہ ان کشمیر کے حمایتیوں کو کام کرنے سے روک دو۔ پاکستان پر معاشی قدغنیں اس قدر زیادہ تھیں کہ ماننا پڑا، جنہیں نظر بند کہا گیا یا گرفتار انہیں بھی یہی کہا گا کہ پاکستان کے لیے قربانی دے دیں، وہ بے چارے پاکستان کےلیے قربان ہوگئے اور جب بھارت نے دیکھا کہ اب راستہ کھلا ہے اور پاکستان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ کشمیر پر کوئی براہ راست قدم اٹھا سکے، اس نے کم و بیش ایک لاکھ اضافی فوج تعینات کی اور کشمیر کی خصوصی حییت ختم کردی۔ اب اس موقع پر پاکستان کے ہاتھ پیر فی الحال بندھے ہوئے ہیں۔ ہمارے حکمران ماضی کی طرح اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی طرف نظریں لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید وہ کوئی کردار ادا کریں گے لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آ رہا اور حسب سابق اب قدم اٹھا لیا گیا ہے اور اسکے بعد ہماری کل کور کمانڈر کانفرنس ہے۔ حکمت اورمصلحت کے نام پر ہم نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے اور وہ کشمیری جو تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے تھے ان کا حوصلہ نہیں بڑھایا کہ مبادا دنیا ہمیں کراس بارڈر دہشت گردی کامرتکب نا مان لے حالانکہ یہ بارڈر ہے ہی نہیں۔ اب ہماری حکومت اور فوج کیا کرے گی یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے لیکن فی الحال بھارت جارحانہ پوزیشن میں ہے اور ہم دفاعی انداز میں محض ممیا رہے ہیں۔ کوئی بتائے بھلا عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ نے پہلے مسلمانوں کو کوئی مسئلہ حل کیا ہے جو اب کریں گے۔ یہ جنگ ہمیں بزور قوت ہی جیتنا ہوگی بصورت دیگر جو ہورہا ہے اس کا خدشہ ہی نہیں بہت حد تک ممکن ہوجائے گا۔ پاکستان اگر یہ خطہ واپس چاہتا ہے تو فوری اور موثر قدم اٹھانا ہوگا ورنہ میرے منہ میں خاک پاکستان کے سانحات میں شاید ایک اور کا اضافہ نا ہوجائے۔ اللہ کشمیریوں کا حامی و ناصر ہو کیونکہ ہم نے تو بننا نہیں ہے فی الحال یہی آثار ہیں۔ لہذا دعا کریں اللہ ان کو جلد آزادی کی نعمت دے اور پاکستان میں ان کے حق میں بولنے والوں کو بھی آزادی نصیب کرے آمین۔

  • کیا ملا ہمیں؟؟؟ عشاء نعیم

    کیا ملا ہمیں؟؟؟ عشاء نعیم

    کشمیر میں بھارت نے عرصہ دراز سے ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا ہے ۔جو آہستہ آہستہ مزید تیز سے تیز تر ہوتا گیا ۔
    حال ہی میں بھارت نے پہلے اٹھائیس ہزار ‘پھر دس ہزار مزید فوج کو بھیج کر اور کشمیر میں انٹر نیٹ سروس بند کر کے گویا کشمیریوں کو قید کر کے ستم ڈھانے کی ٹھان لی ہے۔ کلسٹر بموں کا استعمال بھی کر رہا ہے ۔دوسری طرف بھارت نے مزید جرات دکھاتے ہوئے اپنے آئین سے آرٹیکل 37 نکال کی کشمیر کی آزادانہ ریاست کی حیثیت ختم کردی پے ۔بھارت اس وقت خوشی کے شادیانے بجا رہا ہے ۔
    یہ ہے بھارت کا سفر کشمیر پہ قبضہ کرنے کے لیے ۔
    دوسری طرف پاکستان کے سفر کا جائزہ لیتے ہیں ۔شروع میں سرکاری طور پہ کشمیر اپنا حصہ مانا گیا آدھا کشمیر آزاد بھی کروایا گیا ۔پھر پاکستان سے بھی فریڈم فائٹر جاتے رہے ۔
    لیکن پھر وطن غداروں بزدلوں کے ہاتھ آ گیا اور واپسی کا سفر شروع ہو گیا ۔
    پہلے پاکستان سے جانے والوں کو دراندازی کرنے والے مان کر ان کو جانے سے روکا گیا ۔
    کشمیر کے حل کے لیے الیکشن کو تسلیم کیا گیا ۔
    پھر پاکستان میں کشمیریوں کے لئے آواز اٹھانے کی آزادی تھی آہستہ آہستہ اسے دبانا شروع کیا اور پھر اس آواز کو ہی پابند کردیا گیا جس کے پیچھے اور آوازیں آتی تھیں ۔
    حافظ سعید جو کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی ایک مضبوط آواز اور جدوجہد تھی ان کی جماعت کو بین اور ان کو گرفتار کرلیا گیا ۔
    اس طرح محبان وطن کو پابند سلاسل کر دیا گیا ۔
    بہت سے ایسے فیصلے تسلیم کر لیے گئے جو کشمیر کے لیے انتہائی نقصان دہ تھے ۔
    یہی وجہ ہے کہ آج بھارت انتہا پہ جا چکا ہے اور پاکستان ابھی بھی شش و پنج میں دکھائی دیتا ہے ۔
    کیا اب پاکستان کشمیر کے لیے صرف قرارد ہی پاس کرے گا یا کوئی عملی قدم بھی اٹھائے گا ؟
    سمجھ نہیں آتا یہ ایٹم بم تو کفار کو ڈرانے کے لیے بنایا تھا مگر انھیں تو یہ ریلیکس رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں ہی اس سے ڈرایا جاتا ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ‘ دو ملکوں میں ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے وغیرہ ۔
    ارے ہونے دو ایٹمی جنگ ۔
    کیا یہ بم اپنی حفاظت کے لیے نہیں؟
    کیا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ نہیں؟
    کیا اس طرح پاکستان کے دیگر حصوں کو بھی جو مرضی اپنا حصہ بنا لے ہم یوں ہی ایٹمی جنگ سے ڈرتے رہیں گے ؟(اللہ نہ کرے)
    کیا ہمارے پاس ایٹم بم نہیں؟
    کیا بھارت کی آبادی اور علاقے بھی ویسے ہی متاثر نہ ہوں گے جیسے ہم ہوں گے ؟
    جب وہ ہندو ہو کر نہیں ڈرتے جو سیدھے جہنم جا ئیں گے تو ہم مسلمان ہو کر کیوں ڈرتے ہیں جو سیدھا جنت جائیں گے ان شا اللہ
    کشمیر ہمارے لیے ایک ضد نہیں ہے بلکہ کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے ۔
    پاکستان کے دریا کشمیر سے نکلتے ہیں ۔
    بھارت پاکستان کو خشک سالی سے مارنے کے لئے یہ سب کر رہا ہے۔
    جب بھارت بے خوف ہے تو ہمیں کس بات کا ڈر ہے ۔
    مارو یا مار دو
    کشمیر ہمارا ہے ۔
    گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی اچھی ہے ۔
    پوری قوم بھارت کے ساتھ لڑنےاور شہادت کے لئے بھی تیار ہے ۔ہم کشمیر کسی صورت بھارت کو نہیں دے سکتے ۔
    ہمیں کسی چیز سے ڈرا کر بےوقوف نہ بنایا جائے ۔ہمیں کشمیر کی آزادی چاہیے ہمیں آزاد کشمیر دلایا جائے ۔

  • انوپم کھیر ۔۔۔ فن کے بجائے جنگ کا حامی تحریر: محمد فہد شیروانی

    انوپم کھیر ۔۔۔ فن کے بجائے جنگ کا حامی تحریر: محمد فہد شیروانی

    شدت پسندانہ ہندو ذہنیت سے لبریز انوپم کھیر کی انتہا پسندی سے کون واقف نہیں۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں انوپم کھیر نے لکھا ہے کہ ” کشمیر کا مسئلہ حل کی جانب بڑھ رہا ہے”۔ صرف اسی ایک بیان سے آپ انوپم کھیر کی کھال میں چھپا خونخوار بھیڑیا دیکھ سکتے ہیں جو نہتے معصوم و مظلوم کشمیریوں کا خون پینے کو بیتاب ہے۔
    نسل کشی کے حوالے دینے والے آدمخور طبیعت انوپم کھیر کو انڈیا میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کیوں نہیں دکھائی دیتے۔ انوپم کھیر کی آنکھوں پر جمی انسانیت سے عاری ہندووانہ سیاہ پٹی اسے انسان اور انسانی ہمدردی سے دور کر چکی ہے۔
    کشمیر کا مسئلہ اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑی مسائل میں سے ایک ہے جس کے باعث اب تک تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ دنیا کی دو جوہری طاقتیں پاکستان اور انڈیا اس مسئلے کو لے کر ایک دوسرے کے سامنے ڈٹے رہتے ہیں اور ان کی عوام بھی دل جان سے اپنی افواج کا ساتھ دیتے ہیں بالخصوص پاکستانی۔ پاکستان کا ہر جوان، ہر بوڑھا، ہر بچہ ایسے موقع پر فوجی بن کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر پاکستانی خواتین بھی کسی طور مردوں سے پیچھے نہیں۔

    انڈیا کی جانب سے کشمیر میں پیدا کی گئی حالیہ کشیدگی اور ظلم کی ہر انٹرنیشنل فورم پر مذمت کی جا رہی ہے۔ اداکاروفنکار جنہں امن و آشتی کا پیامبر سمجھا جاتا ہے ان میں موجود چند شرپسند نہ امن چاہ رہے ہیں نہ آشتی۔ اپنی شہرت کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے شرپسندوں میں سب سے بڑا نام سطحی کردار ادا کرنے والے انڈین اداکار انوپم کھیر کا ہے۔ جب کبھی انڈیا پاکستان میں کشیدگی بڑھتی ہے انوپم کھیر فوراً شرپسندی شروع کرکے اپنی افواج اور قوم کو بھڑکانا شروع کر دیتا ہے جس سے کسی اور کا نقصان ہو یا نہ ہو انڈین فوج کا نقصان ضرور ہوجاتا ہے جس کی تازہ مثال پاکستانی فوج کی جانب سے گرائے گئے انڈین طیارے اور ابھی نندن ہے۔
    انوپم کھیر نے آرٹیکل 370 کے ختم ہونے پر کشمیریوں کے حق آزادی کے سلب ہونے کو خوش آئند قرار دیا۔ انڈین چینل کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ کشمیر میں ہندوؤں کو ایک الگ جگہ دینی چاہئیے تاکہ وہاں ہندو آبادکاری ہو سکے۔ فلمی سکرین پر بظاہر معصوم نظر آنے والا انوپم کھیر دراصل کتنے کٹھور و ظالم دل کا مالک ہے یہ حقیقت اب سب پر آشکارا ہو چکی ہے۔
    انوپم کھیر کے علاوہ بہت سے دیگر انڈین اداکار بھی کشمیریوں کا حق مارنے والے اس آرٹیکل کے ختم ہونے کے حق میں باتیں کر رہے ہیں اور کشمیر میں انڈین فوج کی پر تشدد کاروائیوں کی کھلم کھلا تائید کر رہے ہیں۔ جبکہ حیرت انگیز طور پر پاکستانی فنکار و اداکار اس حساس معاملے میں بالکل خاموش ہیں۔ اس ایشو کی جانب توجہ دلاتے ہوئے پاکستان کی مشہور بلاگر جویریہ صدیقی نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ "ہمارے بیشتر اداکار مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے کتراتے کیوں ہیں”؟
    انڈیا کو لے کر ہمارے فنکاروں کے منہ پر لگے تالے اچنبھے کی بات ہے۔ اس نازک موقع پر عام عوام کی طرح شوبز برادری کو بھی اپنے ملک اور افواج کا ساتھ دیتے ہوئے حب الوطنی کا ثبوت دینا چاہئیے۔ ہمیں انڈیا سے فلموں میں کام، ناچ، گانا یا لچر پن نہیں چاہئیے، ہمیں صرف اور صرف انڈیا اور کشمیر میں بسنے والے مسلمان بہن بھائیوں کا تحفظ چاہئیے۔ ہر معاملے میں بڑھ چڑھ کر بولنے والے فنکاروں، اداکاروں کو خاموشی توڑتے ہوئے انڈیا کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ مجھے لگتا ہے کہ اب فن کی سرحدوں کا تعین بھی ہو جانا چاہئیے۔
    بلاشبہ ہم لوگ امن کے داعی ہیں لیکن ہماری امن کی اس خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔
    انوپم کھیر ذہن نشین کر لو۔۔۔ “نہ کھیر دیں گے نہ کشمیر دیں گے، بس ہم چیر دیں گے”۔

  • کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر باغی ٹی وی 10 دن کا سوگ منائے گا

    کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر باغی ٹی وی 10 دن کا سوگ منائے گا

    کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر باغی ٹی وی کا 10 دن کا سوگ منانے کا اعلان

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور آرٹیکل 35 اے اور 370 میں ترمیم پر باغی ٹی وی نے 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے. اس سلسلے میں باغی ٹی وی کا لوگو سیاہ رنگ میں رہے گا. واضح‌رہے کہ باغی ٹی وی پچھلے تین دن سے کشمیر پر خصوصی نشریات اور رپورٹس پیش کر رہا ہے اور لمحہ بہ لمحہ ہر اپ ڈیٹس کو واضح‌ کرتاآیا ہے.باغی ٹی وی آگلے دس دن تک بھی کمشمیر اور کشمیریوں کی حمایت کےلیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا.
    واضح‌رہے کہ بھارتی صدرنےمقبوضہ کشمیر کی 4 نکاتی ترامیم پردستخط کردیئے جس کے بعد بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیرکی علیحدہ قانون سازاسمبلی ہوگی ، لداخ کومقبوضہ کشمیر سےالگ کردیا گیا بھارتی صدرنے گورنرکا عہدہ ختم کردیا اوراختیارات کونسل آف منسٹرزکوتفویض کر دیئے ،کالے قانون میں مقبوضہ جموں کشمیرآج سےبھارتی یونین کاعلاقہ تصورہوگا ،کالےقانون میں مقبوضہ جموں کشمیراب ریاست نہیں کہلائے گی.
    اس سلسلے میں باغی ٹی وی نے پہلے ہی ان رپورٹس کو بریک کر دیا تھا کہ بھارت کشمیر کے اندر کیا کرنے جا رہا ہے.اور آخر کار بھارت نے وہی کیا جس کا ڈر تھا.

  • فلم سٹار اورکھلاڑی بھی کھل کر کشمیریوں کے حق میں کھڑے ہوں

    فلم سٹار اورکھلاڑی بھی کھل کر کشمیریوں کے حق میں کھڑے ہوں

    پاکستان کی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد اور کھلاڑیوں کو بھارت کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں کھل بولنا ہوگا.بھارتی فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار انوپم کھیر نے کھل کر بھارتی موقف کی حمایت کر دی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو بھارت کی جانب سے اپنے ساتھ ملانے اور خصوصی حیثیت ختم کرنے پر ہمارے آرٹسٹ حضرات کو کشمیر عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بھارت کے اس فعل کی مذمت کرنی چاہیے اور بھارت کی انڈسٹری اور اس میں کام کرنے کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ،
    بھارتی فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار انوپم کھیر اور بی جے پی کے لیڈر نے بھارت کی طرف سے کشمیر کے متعلق آرٹیکل 35 اے میں ترمیم کے بعد کہا تھا کہ ہم نے مسئلہ کشمیر کا حل کر دیا ہے اس طرح کے جملوں کے ساتھ پاکستان اور کشمیری عوام کا مزاق اڑایا ہے .ہمارے شوبز اور کھلاڑی حضرات کو اس مسئلے کے بعد بھارت کا ہر طرح سے بائیکاٹ کرنا چاہیے ، ہمارے کھلاڑیوں اور شوبز انڈسٹری کو بھارت کے ان مذموم اقدام کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے، تاکہ پوری دنیا میں یہ پیغام جائے کہ پاکستان میں ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا شخص بھارت کے ان ہتھکنڈوں کی مزمت کرتا ہے.اس طرف بھارت کے فلم سٹارز مسئلہ کشمیر پر اپنے حکومتی موقف کی حمایت کرتےہیں. ہمیں بھی چاہیے کہ کشمیری عوام کے ساتھ اس وقت شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور کشمیری عوام کے ساتھ کھل کر سامنے آئیںِ.

  • بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی ماڈل نافذ کرنے جا رہا

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی ماڈل نافذ کرنے جا رہا

    مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کی ترمیم کے بعد بھارت کشمیر میں اسرائیلی ماڈل نافذ کرنے جارہا ہے ، اس لحاظ سے مقبوضہ کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل نہیں رہے گا بلکہ وہ بھارت کی یونین کاحصہ بن گیا ہے .

    باغی ٹی وی کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کی ترمیم کے بعد بھارت کشمیر میں اسرائیلی ماڈل نافذ کرنے جارہا ہے ، اس لحاظ سے اب مقبوضہ کشمیرکو ریاست کا درجہ نہیں رہےگی بلکہ وہ بھارت کی یونین کاحصہ بن گیا ہے ہے.جیسے اسرائیل میں وہاں کے فلسطینیون کو ان کی اپنی شناخت نہیں ہے اور اسرائیل وہاں اپنی دھونس سے ہر طرح کی تبدیلی کر رہا ہے ایسے ہی کشمیر کی وادی میں بھی بھارت اسرائیل ماڈل قائم کرنےجا رہا ہے .جس کے ذریعے وہ مرضی کے قوانین بنا کر کشمیر عوام کا ہر طرح‌ کا استحصال کر سکے گا.
    واضح‌رہے کہ بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی قرارداد پیش کی جس پر ایوان میں خوب ہنگامہ ہوا ، راجیہ سبھامیں اپوزیشن نے اسپیکرڈائس کے سامنے احتجاج کیا ، بھارتی وزیرداخلہ کی آرٹیکل 370 اور 35 اےمنسوخ کرنے کی تجویز دی.

  • بھارتی آئین میں  آرٹیکل35 اے اور آرٹیکل 370 کیاہے ، جانیے خصوصی رپورٹ

    بھارتی آئین میں آرٹیکل35 اے اور آرٹیکل 370 کیاہے ، جانیے خصوصی رپورٹ

    بھارت اپنے آئین میں تبدیلی کر کے آرٹیکل35 اے اور آرٹیکل 370 میں ترمیم کرنے جا رہاہے تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق بھارت کی اسمبلی راجھیہ سبھا میں وفاقی وزیر امت شاہ نے ان شکوں کی ترمیم کے لیے قرارداد جمع کرا دی ہے جس کو صدارتی آرڈینینس کے بعد منظور کر لیا گیا ہےاس ترمیم کے بعد کشمیریوں کی خصوصی شناخت ختم ہو جائے گی اور بھارت وادی کشمیر میں ڈیموگرافک تبدیلی کر کے مسلم اکثریت کو ہندو اکثریت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا. اس کے بعد کل اگر جموں کشمیر میں استصواب رائے کرایا بھی جائے تو اکثریت ہندوؤں کی ہوگی . آرٹیکل 25 اے اور آرٹیکل 370 کیا ہے اس بارے میں باغی ٹی کی خصوصی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں.

    وکی پیڈیا میں آرٹیکل 370 کی تشریح کچھ یوں ہے. بھارتی آئین کی دفعہ 370 ایک خصوصی دفعہ ہے جو ریاست ریاست جموں و کشمیر کو جداگانہ حیثیت دیتی ہے۔ یہ دفعہ ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتی ہے جبکہ زیادہ تر امور میں وفاقی آئین کے نفاذ کو جموں کشمیر میں ممنوع کرتی ہے۔ اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی امور، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں متحدہ مرکزی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی۔ دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

    اس دفعہ کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے بہت سے بنیادی امور جن میں شہریوں کے لیے جائداد، شہریت اور بنیادی انسانی حقوق شامل ہیں ان کے قوانین عام بھارتی قوانین سے مختلف ہیں۔ مہاراجا ہری سنگھ کے 1927ء کے باشندگان ریاست قانون کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے چنانچہ بھارت کا کوئی بھی عام شہری ریاست جموں و کشمیر کے اندر جائداد نہیں خرید سکتا، یہ امر صرف بھارت کے عام شہریوں کی حد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بھارتی کارپوریشنز اور دیگر نجی اور سرکاری کمپنیاں بھی ریاست کے اندر بلا قانونی جواز جائداد حاصل نہیں کر سکتی ہیں۔ اس قانون کے مطابق ریاست کے اندر رہائشی کالونیاں بنانے اور صنعتی کارخانے، ڈیم اور دیگر کارخانے لگانے کے لیے ریاستی اراضی پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی قسم کے تغیرات کے لیے ریاست کے نمائندگان کی مرضی حاصل کرنا ضروری ہے جو منتخب اسمبلی کی شکل میں موجود ہوتے ہیں۔
    آرٹیکل 35 اے ریاست جموں و کشمیر کے جداگانہ قومی و سیاسی تشخص کا مظہر اور ریاستی عوام کے معاشی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی مفادات کا محافظ ہے۔

    بھارتی آئین میں موجود ہونے کے باوجود، ریاست جموں و کشمیر میں نافذ کوئی بھی موجودہ قانون اور اس کے بعد کوئی بھی قانون جسے ریاستی قانون سازی کے عمل کے ذریعے نافذ کیا جائے:

    (a)ریاست کے مستقل شہریوں کی موجودہ یا مستقبل کی درجہ بندی، یا(b)ایسے مستقل شہریوں کو کوئی بھی ایسی مراعات یا حقوق ودیعت کرنے یا دوسرے لوگوں پر کوئی بھی ایسی حدود و قیود لگانے کے لئیے جن کا تعلق(1) ریاستی حکومت کے ماتحت ملازمت(2) ریاست کے اندر غیرمنقولہ جائیداد کے حصول(3) ریاست کے اندر سکونت اختیار کرنے(4) وظیفوں کے حق اور ریاست کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد کی دیگر اقسام اس بنیاد پر منسوخ نہیں ہوں گی کہ (آئین کے) اس حصے کے تحت حاصل امتیازی (حقوق و مراعات اور اختیارات) بھارت کے دیگر شہریوں کو حاصل (آئینی) حقوق سے متصادم ہیں۔

    آرٹیکل 35A کے اس متن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ آرٹیکل ریاست جموں و کشمیر کے قانون ساز اداروں کو اختیارات دیتا ہے کہ وہ ریاست میں مستقل سکونت کے ضوابط کا تعین کریں اور اس بنیاد پر لوگوں کو مراعات و فوائد دیں۔

    گویا دوسرے لفظوں میں بھارتی آئین کا آرٹیکل 35A ریاست جموں و کشمیر کے مستقل باشندوں کے حقوق کا تعین کرتا ہے اور غیر ریاستی باشندوں پر غیرمنقولہ جائیداد کی خرید پر پابندی عائد کرتا ہے۔

    یہ آرٹیکل درحقیقت مہاراجہ ہری سنگھ کے قانون باشندہ ریاست سے اخذ کیا گیا ہے اور ریاستی باشندوں کو وہی حقوق و مراعات دیتا ہے اور غیر ریاستی باشندوں پر اسی طرح کی پابندیاں عائد کرتا ہے جنہیں مہاراجہ ہری سنگھ کے قوانین باشندہ ریاست کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔

    اس آرٹیکل کو 14 مئی 1954 میں بھارتی آئین میں ایک صدارتی حکم کے ذریعے شامل کیا گیا تھا۔ اس صدارتی حکم کا عنوان تھا (آئینی (نفاذِ جموں و کشمیر) حکم 1954۔ اور تب سے یہ صدارتی حکم نامہ بھارتی آئین کا حصہ ہے۔

    صدارتی حکم نامے کے اس آرٹیکل 35A کے تحت ریاست جموں و کشمیر میں کوئی ایسا شخص جو ریاست کا مستقل باشندہ نہیں ہے وہ (1) ریاست میں کوئی غیرمنقولہ جائیداد حاصل نہیں کر سکتا، (2) ریاست میں کوئی سرکاری ملازمت اختیار نہیں کر سکتا اور (3) کسی ایسے پیشہ وارانہ ادارے میں داخلہ نہیں لے سکتا جسے ریاستی حکومت چلاتی ہے اور نہ ہی ریاست کی طرف سے فراہم کردہ کوئی امداد یا وظیفہ حاصل کر سکتا ہے۔یہ آرٹیکل نہ صرف ریاستی شہریوں کے لئے مخصوص حقوق و مراعات کا تعین کرتا ہے بلکہ اس اصول کا تعین بھی کرتا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے اندر ریاستی شہریوں کو حاصل ان حقوق و مراعات اور غیر ریاستی شہریوں کے مقابلے میں حاصل امتیازی درجے کو بھارتی آئین کی کسی اور شق کو بنیاد بنا کر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

  • مسئلہ کشمیر اور مہندر سنگھ دھونی ۔۔۔ محمد فہد شیروانی

    مسئلہ کشمیر اور مہندر سنگھ دھونی ۔۔۔ محمد فہد شیروانی

    ہاتھ میں موجود کرکٹ کے بلے کو گن سے تبدیل کرنے والے مہندر سنگھ دھونی نے جولائی 2019 میں انڈین آرمی کو بطور لیفٹیننٹ کرنل جوائن کیا۔ مہندر سنگھ دھونی کی بطور آرمی آفیسر پہلی ڈیوٹی کشمیر میں لگائی گئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب سے دھونی نے کشمیر میں انڈین آرمی کو جوائن کیا ہے تب سے خطہ کشمیر میں انڈین آرمی کی جارحانہ کاروائیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔
    مہندر سنگھ دھونی کے علاوہ انڈیا نے کشمیر کی وادی میں 28 ہزار مزید انڈین فوجی تعینات کر دئیے ہیں۔انڈیا نے ائر فورس کو الرٹ کردیا ہے۔ انڈین نیوی کی نقل و حرکت سمندروں میں بڑھا دی گئی ہے۔کشمیر میں لوکل پولیس سے انتظام لے کر انڈین آرمی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ہوٹلز، ریسٹورنٹس سمیت دیگر ایسی جگہوں پرانڈین فوج آکر بیٹھ گئی ہے۔ انڈین آرمی کو چار ماہ کا راشن جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کشمیر میں لوگوں نے خوراک سٹاک کرنی شروع کر دی ہے۔ان کے نیتجے میں آنے والے دنوں میں کشمیر میں خوفناک خونریزی کے امکانات ہیں جس کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔۔انڈین آرمی نے کشمیر میں جاری ظالمانہ کاروائیوں میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ حال میں انڈیا کی بزدل فوج نے نہتے کشمیری شہریوں پر خوفناک کلسٹر بموں سے حملہ کیا ہے جس سے شدید جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انڈین فوج نے کشمیر میں موجود تمام غیرملکی سیاحوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم بھی دے دیا ہے جس کے باعث جنت نظیر وادی کشمیر میں موجود سیاح تیزی سے اپنے ممالک واپسی کا رخ کر رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ انڈین فوج نے کشمیر میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو بھی نافذ کردیا ہے جس سے خطے میں اور بالخصوص کشمیری شہریوں میں تشویش کی شدید لہر دوڑ گئی ہے
    مہندر سنگھ دھونی کی کشمیر میں تعیناتی کئی سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔ ان کو تعینات کرنے کے بعد انڈین آرمی کی بزدلانہ کاروائیوں میں کیا گیا اضافہ کہیں کوئی پیغام تو نہیں ہے؟ ان کاروائیوں سے انڈیا کے مجرمانہ عزائم کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ مہندر سنگھ دھونی کی کشمیر جیسے متنازعہ علاقے میں تعیناتی کہیں اپنے کھلاڑیوں میں تشدد اور شدت پسندی کو اجاگر کرنا تو نہیں ہے؟ مہندر سنگھ دھونی نے اپنی تعیناتی کی بعد کشمیر یوں پر ڈھائے جانے مظالم کے بارے میں اب تک کوئی بیان نہیں دیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہندر سنگھ دھونی مظلوم و معصوم نہتے کشمیریوں پر کی جانے والی ان بزدلانہ ظالمانہ کاروائیوں میں اپنی آرمی کے ساتھ ہے۔
    عالمی سطح پر دنیا اس وقت جن خطرات کا سامنا کر رہی ہے ان میں سب سے بڑا خطرہ امن کو ہے اور بلاشبہ کشمیر کا امن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ تقسیم ہند کے وقت برطانوی سامراج کی جانب سے پیدا کئے گئے اس مسئلے پر انڈیا اور پاکستان کے مابین تین جنگیں ہو چکی ہیں اور موجودہ حالات کے پیش نظر اس وقت پھر جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایٹمی اور جوہری طاقت رکھنے والی دونوں قوتوں میں اگر خدانخواستہ جنگ ہوگئی تو یہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے امن کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ جنگی جنون میں مبتلا انڈیا حالات کی نزاکت کو نہ سمجھتے ہوئے نہ صرف کشمیر میں فوج اور مظالم بڑھا رہا ہے بلکہ کھلے عام پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب بھی ہورہا ہے۔ بارڈر لائن ہر بھارت کی اشتعال انگیز فائرنگ اور بمباری سے اب تک نہ صرف درجنوں پاکستانی شہری شہید ہو چکے ہیں بلکہ ہزاروں انڈین فوجی بھی جہنم کی راہ دیکھ چکے ہیں۔
    ایک کروڑ کی آبادی اور 84 ہزار مربع میل پر مشتمل کشمیر پاکستان کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر بہنے والے تمام دریا کشمیر کی وادی سے ہی نکل کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ کشمیر کے مسلمان پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں جس کا مطالبہ کشمیری عوام اور لیڈران بارہا کر چکے ہیں۔ جبکہ انڈیا اپنی اذلی بے حسی اور ڈھٹائی سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو نہ صرف تسلیم کرنے سے انکاری ہے بلکہ یہ مطالبہ کرنے والے کشمیری رہنماؤں کو وقتا فوقتا پابندی اور ظلم کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔
    پاکستان کے نام میں موجود "ک” کا حرف کشمیر سے منسوب کیا گیا تھا۔ مذہبی و خونی رشتوں، تجارتی تعلق، آبی و جغرافیائی حیثیت کی بناء پر ہر لحاظ سے کشمیر پاکستان کا حصہ بنتا ہے۔ بدقسمتی سے ریڈ کلف ایوارڈ کے وقت انگریزوں اور ہندوؤں کے باہم گٹھ جوڑ نے کشمیر کو پاکستان سے ملحق کرنے کے بجائے ایک سازش کے تحت اسے متنازعہ بنادیا۔ اقوام متحدہ کی بارہا کوششوں کے باوجود انڈیا کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کسی حد تک سیریس دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان نے امریکی صدر کے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی آفر کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ سراہا بھی ہے جبکہ انڈیا اس سے پیچھے ہٹتا دکھائی دے رہا ہے۔
    کشمیر میں اپنی تعیناتی پر خوش مہندر سنگھ دھونی کشمیریوں کے لئے دکھ اور تکلیف کا باعث بن چکے ہیں کیونکہ ان کی آمد کے بعد سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ انڈیا کے سابق کرکٹ کپتان سے امن اور محبت کے پیام و پیغام کی جو توقع کی جارہی تھی وہ اس کے بالکل برعکس ثابت ہوئے ہیں۔

  • نہ جرمِ ضعیفی اور کرو ۔۔۔ قرأة العين عینیہ شاہین

    نہ جرمِ ضعیفی اور کرو ۔۔۔ قرأة العين عینیہ شاہین

    کشمیر کرہ ارض کا وہ خطہ جو جنت ارضی کہلاتا ہے جو پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ شہہ رگ کے بغیر انسان نہیں تو کشمیر کے بغیر پاکستان کا وجود خطرے میں پڑسکتا ہے۔ کشمیری قوم ستر سالوں سے پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑ رہی ہے۔ کلمہ طیبہ اور دوقومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والے ملک کی شہہ رگ میں بسنے والوں کی تیسری نسل اس جنگ کا سامنا کر رہی ہے۔ انڈیا کے مظالم ساری دنیا پر عیاں ہیں۔ پاکستان کے پرچم کو جائے نماز اور کفن بنانے والی قوم پہ عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان سے اٹھنے والی کشمیریوں کی آواز پابند سلاسل کر دی گئی اور ادھر کشمیر میں تمام حریت قیادت پس زنداں۔۔۔۔
    اور اس وقت کشمیر میں انڈین فورسز کے مزید دستوں کی تعیناتی، تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں اضافہ کرنا، ایمرجنسی ہسپتالوں کا قیام، کلسٹر بموں کا استعمال، سیاحوں کو فورا کشمیر سے روانہ کرنا اور باقی سب اچانک اقدامات حالات کے کسی اور ہی رخ پہ مڑنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
    بزرگ کشمیری راہنما سید علی گیلانی کا یہ کہنا کہ اگر ہم مارے جائیں تو تمہیں روز قیامت جوابدہ ہونا پڑے گا۔ حریت راہنما یسین ملک کی جیل میں تشویشناک حالت۔۔۔۔ لائن آف کنٹرول پہ انڈین آرمی کی نقل و حرکت۔۔۔۔ یہ سب آخر کیا ہے؟؟
    شہہ رگ میں بسنے والوں کی نسل کشی کےمنصوبے اور ادھر وطن کے اندر سازشیں عروج پہ ہیں۔ کہیں سیاسی چپقلش اور کہیں مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دینے کی چالیں، کہیں "جمہوریت کے بھیس میں آمریت ہے” کا راگ الاپ کر اپنے دفاعی اداروں کے خلاف عوام کو بھڑکانے کی چالیں، کہیں حکومت اور عوام کو آمنے سامنے کر کے مہنگائی کا راگ اپنے مذموم مقاصد کے لیے الاپ کر خانہ جنگی کی چالیں، ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کےلیے دفاعی اداروں پہ حملے، فورسز کے جوانوں کی شہادتیں، اور یہ سب ایسے نازک حالات میں جب ملک کے اندر نیشنل ایکشن پلان کے تحت سچے محب الوطن پس زنداں، خادمین انسانیت فلاح و بہبود تک بین اور ملک قدرتی آفات کے گھیرے میں، ایک طرف مون سون بارشیں بے تحاشہ اور دوسری طرف سیلابی خطرات۔۔۔۔
    اے ملت پاکستان!!!!
    یاد رکھنا
    ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرفردا رہنے والی قوموں پہ کوئی سیف اللہ، کوئی ابن قاسم، کوئی غزنوی ، کوئی موسی بن نصیر، کوئی طارق بن زیاد نہیں اترا کرتا۔۔۔۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے قرطبہ و غرناطہ کی تباہی کی داستانیں پڑھیے۔۔۔۔
    اپنے حصے کی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے ان حالات میں ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    کچھ نہی ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے
    اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہو گا
    اس ففتھ جنریشن وار کا جو کہ سکستھ جنریشن میں داخل ہو چکی ہے بھرپور توڑ ہمیں مل کر کرنا ہوگا۔

    ہم کیا سمجھتے ہیں یہ آگ ایل او سی کے اس پار ہی رہے گی ۔ادھر نہیں آئے گی۔ بلی کو دیکھ کر اگر کبوتر آنکھیں موند بھی لے تو بھی کیا خطرہ تو بہرحال ہےاور سر پہ ہے۔
    یہ جنگ ایل او سی کے پار کی جنگ نہیں ہے۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال ستر سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ اک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انڈیا کے یہ اقدامات ان حالات میں جب امریکہ میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری دفعہ ثالثی کی پیشکش کر چکا ہے پاکستان امریکہ اور طالبان کے مذاکرات میں کامیابی کےلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سی پیک کی کامیابی سے پاکستان دنیا کو ایک نئی راہ پہ چلانے والا ہے لانگ ٹرم معاشی منصوبہ بندی سے دنیا کو لیڈ کرنے جارہا ہے
    تو یہ کشمیر کی صورتحال صرف وہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ کسی اور ہی بات کا عندیہ ہے۔
    بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے اور اپنی بزدلانہ حرکتوں سے انتہائی اقدامات کی طرف بڑھ رہا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ
    جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

    ان حالات کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا گورنمنٹ اور سکیورٹی اداروں کےساتھ ساتھ ہر شہری کو بھی اپنے طور پہ مکمل تیار رہنا ہوگا۔ پاکستان الحمد اللہ ہارپ ٹیکنالوجی جیسی جدید صلاحیتوں کا حامل ہے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بارشوں کو کنٹرول کیا جانا چاہیے اور جن علاقوں میں پانی کی کمی ہے وہاں استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ سیلاب جیسی صورتحال سے ایمرجنسی بچا جاسکے۔ عوام الناس کو کسی بھی سیاسی یا مذہبی تعصب سے باہر آکر یکجان ہوکر ملکی سالمیت کےلئیے ڈٹ جانا چاہیے مہنگائی اور ٹیکسز کا راگ الاپنے والی موم بتی مافیا کو اس وطن کا حق ادا کر کے دشمن کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔
    ثمرین اختر اصباح کس بہترین انداز میں نوائے امروز لکھتی ہیں اور اس ملت کو اس کی ذمہ داری ادا کرنے پہ ابھارتی ہیں۔ آئیے آپ بھی جس طرح بھی ممکن ہو سکے اپنی آواز کو اٹھائیے اس ملت کو یکجان کرنے میں اس وطن کے پاسبان بننے میں۔۔۔۔۔۔
    اک جسم کی مانند ہے امت یک قلب سبھی یکجان سبھی

    جب درد میں ہو اک حصہ تو بن جاتے ہیں درمان سبھی

    پر اب وہ اخوت کی باتیں ہیں مجھ کو لگیں انجان سبھی

    کیوں کوئی کسی کا غم بانٹے، ہیں اپنی جگہ شادان سبھی

    ممکن ہے کل یہ سب قصے تجھ پر دہرائے جائیں گے

    یہ چھریاں ، نیزے یہ بھالے، تجھ پر برسائے جائیں گے

    تُو آج نہ جن کے پاس گیا کل تیرے پاس نہ آئیں گے

    مت آنسو دیکھ کے یہ سمجھو تری آنکھ میں یہ نہ آئیں گے

    آ متحد ہوکے سب مسلم کچھ کام کریں کچھ کار کریں

    آ تھام کے تیغِ نبوی ہم پھر اس مرحب پہ وار کریں

    آ دہرائیں آباء کا عمل ، آؤ تو سہی اک بار کریں

    آ پھول بچائیں امت کے، آ کفر پہ ہم یلغار کریں

    آ تھام کے پھر سب تیر و تفنگ سب چلتے ہیں اس اور جہاں

    ناموس ہماری تن تنہا سولی پہ لٹکتی ہے بے جاں

    جلتے ہوئے جسموں کی تم کو رلاتی نہیں کیا آہ و فغاں

    ہم مسلم ہیں اور مسلم کو جچتی ہی نہیں خاموش زباں

    پھر یاد دلاؤ دشمن کو اس قوم میں غیرت باقی ہے

    جس دین کا موضوع انساں ہے اس دیں کی محبت باقی ہے

    خالد کی حمیت باقی ہے ، حیدر کی وہ جرأت باقی ہے

    ہاں بتلاؤ کہ تیرے لیے مومن کی عدالت باقی ہے

    سب باقی ہے ، تم باقی ہو ، گر اٹھ کے بڑھو، گر عمل کرو

    ہاں عمل کرو ، ہے وقت عمل ، مرنا ہے اٹل، کچھ کرکے مرو

    ہے وقت نشانے بازی کا ترکش کو نئے تیروں سے بھرو

    جو ہاتھ اٹھے مسلم پہ یہاں اس ہاتھ کو جڑ سے قلم کرو

    نہ جرمِ ضعیفی اور کرو ، جرات تو کرو ،رہے آں باقی

    جو آں باقی، تو جاں باقی ، گر جاں ہے تو یہ جہاں باقی

    اللہ کرے اس بہن کا ہو زور قلم اور زیادہ اور کاش اس ملت کے دل میں اتر جائے یہ بات۔۔۔۔