Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر:آزادی صحافت کی بین الاقوامی تنظیموں اورصحافیوں کی رعناایوب سے اظہار یکجہتی

    مقبوضہ کشمیر:آزادی صحافت کی بین الاقوامی تنظیموں اورصحافیوں کی رعناایوب سے اظہار یکجہتی

    نئی دلی:آزادی صحافت کی بین الاقوامی تنظیموں اور ممتاز صحافیوں نے ایوارڈ یافتہ بھارتی صحافی رعنا ایوب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے جنہیں گزشتہ روز بھارتی حکام نے ممبئی ائیر پورٹ پرصحافیوں کو ڈرانے اوردھمکانے کے موضوع پر انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس (آئی سی ایف جے) میں خطاب کیلئے لندن جانے سے روک دیا تھا ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رعنا ایوب کو ممبئی ایئرپورٹ پر حکام نے گزشتہ روز تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے ان کے خلاف جاری نوٹس کی وجہ سے لندن جانے والی پرواز میں سوار ہونے سے روک دیاتھا۔ رعنا ایوب نے لندن میں یکم اپریل کو صحافیوں کو خوف و دہشت کا نشانہ بنائے جانے اور دھمکانے کے موضوع پر آئی سی ایف جے میں خطاب کرنا تھا ۔ اسی دن انہیں دی گارڈین اخبار کی ایڈیٹر کیتھرین وینر کی دعوت پر اخبار کے دفتر بھی جانا تھا۔6 اور 7اپریل کو انہیں اٹلی میں انٹرنیشنل جرنلزم فیسٹیول میں شرکت کرنے تھی ۔

    انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس نے بھارتی حکام کی طرف سے رعنا ایوب کو کھلے عام ہراساں کیے جانے پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔عالمی ادارے نے بھارتی حکومت سے رعنا ایوب کے خلاف الزامات واپس لینے اور ان پر جاری حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ نے بھی رعنا ایوب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔انسٹیٹیوٹ نے بھارتی حکومت پر زوردیا کہ وہ رعنا ایوب کو یورپ کا دورہ کرنے کی اجازت دے جہاں انہوں نے متعد د بین الاقوامی ایونٹس میں آن لائن ہراسگی کے پر بات کرنی تھی ۔ممبئی پریس کلب نے رعنا ایوب کو بھارت میں صحافیوں کوہراساں کئے جانے کے بارے میں خطاب کیلئے لندن جانے سے روکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام صحافیوںکو ہراساں کرنے کے مترادف ہے ۔

    دی بیورو کے گلوبل ایڈیٹر اور مصنف جیمز بال ،دی سٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکولس ڈیوس ،ممتاز بھارتی صحافی اور دی وائر کے ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن نے اپنے ٹویٹس میں رعنا ایوب سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ رعنا ایوب کے پیغام کو سرحد پر روکا نہیں جا سکتا اور بھارت میں آزادی صحافت کے بارے میں ان کے انتباہات کو پابندی لگانے کی کوششوں سے روکا نہیں جاسکتا ۔ٹویٹس میں مزید کہاگیا کہ اس ہراسگی سے بھار تی جمہوریت کی حالت ظاہر ہوتی ہے اور پتہ چلتاہے کہ دنیا آہستہ آہستہ جاگ رہی ہے۔رعنا ایوب نے اپنے خلاف ای ڈی کے تمام الزامات کومضحکہ خیزاور جھوٹ پر مبنی قراردیا ہے ۔

  • سرینگر:آگ لگنےسے22مکان جل کرخاکستر ہو گئے:امریکہ نے اپنے شہریوں کوخبردارکردیا

    سرینگر:آگ لگنےسے22مکان جل کرخاکستر ہو گئے:امریکہ نے اپنے شہریوں کوخبردارکردیا

    سرینگر:سرینگر:آگ لگنےسے22مکان جل کر خاکستر ہو گئے:امریکہ نے اپنے شہریوں کوخبردارکردیا،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ شب سرینگر شہر میں آتشزدگی کے بھیانک واقعے میں 22مکان جل کر خاکستر ہو گئے۔
    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق شہر کے علاقے گتاکالونی نور باغ میں بڑے پیمانے پر آگ لگنے سے املاک کو بھاری نقصان پہنچا اور فائر بریگیڈ کے رکن سمیت چار افراد جھلس گئے۔فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار نے میڈیا کو بتایاہے کہ 22مکانات جن میں 33خاندان رہائش پذیر تھے آگ لگنے سے جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں ایک فائر فائٹر اور تین شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ایک مقامی شخص شکیل احمد نے بتایاہے کہ آگ لگنے سے کروڑوں روپے مالیت کی املاک تباہ ہو گئی ہے ۔

    ادھر سرینگر کے علاقے راجوری کدل میں بھی آگ لگنے سے ایک مکان کو نقصان پہنچاہے۔

    ادھرامریکہ نے حملوں اور عوامی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی تازہ ترین ٹریول ایڈوائزری میں امریکی شہریوں کومقبوضہ کشمیر کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں حملوں اور عوامی احتجاجی مظاہروں کا خدشہ ہے ۔

    تاہم سفری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری مشرقی لداخ کا دورہ کرسکتے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہاہے کہ کنٹرول لائن کے ساتھ واقع علاقوں اور سرینگر ، گلمرگ اورپہلگام کے سیاحتی مقامات سمیت وادی کشمیر میں تشدد کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر:ٹرانسپورٹروں کا بدھ سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان: فوجی اپنی رائفل سے گولی چلنے سے زخمی

    مقبوضہ کشمیر:ٹرانسپورٹروں کا بدھ سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان: فوجی اپنی رائفل سے گولی چلنے سے زخمی

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:ٹرانسپورٹروں کا بدھ سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا اور ادھر گولگام میں‌ فوجی اپنی رائفل سے گولی چلنے سے زخمی غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ٹرانسپورٹروں نے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف کل بدھ سے پورے مقبوضہ علاقے میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشمیر ٹرانسپورٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن نے ایک بیان میںپہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے جو کہ مختلف ٹرانسپورٹ تنظیموں کا اتحاد ہے ۔ ایسوسی ایشن اور دیگر فریقوں نے 7فروری کے قابض انتظامیہ کے ظالمانہ احکامات کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے جن کے تحت کمرشل گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ مدت استعمال مقررکی گئی ہے ۔

    انہوں نے کمرشل گاڑیوں کی 25برس تک استعمال کی مدت برقراررکھنے کا مطالبہ کیاتھا ۔تا ہم نئے حکم کے تحت جموں اور سرینگر میں 20برس کے بعد کمرشل گاڑیاں قابل استعمال نہیں رہیں گی۔ کشمیر ٹرانسپورٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن نے اس حکمنامے کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے مسافر گاڑیوں میں ٹریکنگ کا نظام نصب کرنے پر زوردیاہے۔

    ایسوسی ایشن نے مسافر ٹیکس کی وصولی کے حکم کی بھی منسوخی کا مطالبہ کیا جو کہ روٹ پرمٹ کی تجدید سے وابستہ ہے ۔

    واضح رہے کہ کشمیر ی ٹرانسپورٹروں نے اس سے قبل قابض انتظامیہ کے متعددظالمانہ احکامات کا متنازعہ زرعی قوانین سے موازنہ کرتے ہوئے ان کے خلاف بدھ سے بھوک ہڑتال اور9 اپریل سے عام ہڑتال کا اعلان کیا تھا ۔

    غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کولگام میں ایک بھارتی فوجی اپنی رائفل گولی چلنے سے زخمی ہو گیا ہے۔ضلع کے علاقے بہی میں واقع بھارتی فوج کی 34راشٹریہ رائفلز کے کیمپ میں اپنی سروس رائفل سے گولی چلنے سے زخمی ہو گیا ۔

    تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ فوجی نے دانستہ طورپر خود کو گولی مارکر زخمی کیا یا بندوق سے حادثاتی طورپر گولی چلنے سے وہ زخمی ہوا ہے کیونکہ بھارتی فوجیوں خاص طورپر مقبوضہ کشمیرمیں تعینات فوجیوں میں اعصابی تنائو کی وجہ سے خودکشی کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے بارہمولہ میں ایک صوفی بزرگ کا مزارجلا کر خاکسترکردیا

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے بارہمولہ میں ایک صوفی بزرگ کا مزارجلا کر خاکسترکردیا

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے بارہمولہ میں ایک صوفی بزرگ کا مزارجلا کر خاکسترکردیا،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ضلع بارہمولہ کے علاقے نوشہرہ میں ایک صوفی بزرگ کا مزار جل کر خاکستر ہوگیا۔

    ایک سرکاری عہدیدارنے بتایا کہ آگ نے سید سخی رحم اللہ علیہ کے مزار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کچھ ہی عرصے میں یہ عمارت جو بنیادی طور پر لکڑی کی بنی ہوئی تھی، جل کرخاکستر ہوگئی۔مقامی لوگوں کی کوششوں کے باوجود جنہیں بعد میں آگ بجھانے والے عملے نے مدد فراہم کی، ڈھانچے کو نہیں بچایا جاسکا۔

    سرکاری عہدیدار نے بتایا تاہم مشترکہ کوششوں سے آگ کو قریبی عمارتوں تک پھیلنے سے روکا گیا۔ آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے اتوار کو جیل میں نظربند انسانی حقوق کے معروف کارکن خرم پرویز کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خرم پرویزکوجو سرینگر میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے کوآرڈینیٹر ہیں، بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے گزشتہ سال 22نومبر کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یواے پی اے کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا۔

    قابض حکام نے بتایا کہ این آئی اے کے اہلکاروں نے پہلے سے درج ایک کیس کے سلسلے میں سرینگر کے علاقے سوناوار میں انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔تحقیقاتی ادارے کو بھارتی پولیس اور پیراملٹری فورسزکی مدد حاصل تھی۔

    اس سے قبل نئی دہلی میںاین آئی اے کی خصوصی عدالت کے جج پروین سنگھ نے خرم پرویز کو ایک جھوٹے مقدمے میں عدالتی تحویل میں دیکر جیل بھیج دیاتھا۔

  • عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استعماری ایجنڈے کا نوٹس لے:ورلڈمسلم کانگریس

    عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استعماری ایجنڈے کا نوٹس لے:ورلڈمسلم کانگریس

    اسلام آباد: عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استعماری ایجنڈے کا نوٹس لے:ورلڈمسلم کانگریس نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی برادری سے اپیل کردی ،اطلاعات کے مطابق کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور ورلڈ مسلم کانگریس کے زیر اہتمام ایک ویبینار میں مقررین نے عالمی برادری پر زور دیاہے کہ وہ مقبوضہ جموںو کشمیر میں بھارت کے استعماری ایجنڈے کا سنجیدگی سے نوٹس لے جو ہر طرح سے کشمیریوں اور انکے وسائل کو کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

    این ایچ سی آر کے49ویں اجلاس کے موقع پرمنعقد کیے جانے والے ویبنار میں مصنف اور صحافی رابرٹ فاتینا ، ڈائریکٹر سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیزسید محمد علی، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قائم مقام ڈین ڈاکٹر اویس بن وصی ، یوتھ فار کشمیر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد قریشی سمیت انسانی حقوق کے ممتاز کارکنوں، بین الاقوامی قانون کے ماہرین، ماہرین تعلیم اور دیگر نے شرکت کی ۔تقریب کی نظامت کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے کی۔

    مقررین نے اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ متنازعہ خطے جموں و کشمیر میں آبادی کاری کے نوآبادیاتی بھارتی ایجنڈے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تعمیر و ترقی کے نام پر علاقے کو مزید نوآبادیاتی بنایا گیا۔انہوں نے5 اگست 2019 کے اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیریوں کے سیاسی، ثقافتی اور قومی تشخص کو مٹانے کے لیے پارلیمنٹ اور عدلیہ سمیت ریاستی آلات کو بے شرمی سے استعمال کر رہا۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا بھارت کی مقبوضہ علاقے کو نوآبادیاتی بنانے کی طویل تاریخ کا ایک اور قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آباد کاری کے بھارتی استعماری ایجنڈے کا مقصد نام نہاد ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نام پر کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنا ہے۔ویبنار کے مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارتی سازشوں اورچالوں کا موثر نوٹس لے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اپناکردار ادا کرے۔

     

  • دلت شخص مندر میں ناگ رگڑنے پر مجبور:احمد آباد میں مسلمان نوجوان پرظلم کی انتہا

    دلت شخص مندر میں ناگ رگڑنے پر مجبور:احمد آباد میں مسلمان نوجوان پرظلم کی انتہا

    بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع الور میںہندو انتہا پسندوں نے ایک دلت شخص راجیش کمار میگھوال کو اپنی فیس بک پوسٹ میں فلم ”دی کشمیر فائلز”پر تنقیدی تبصرہ کرنے کی پاداش میںمندر کے اندر ایک چبوترے پر ناک رگڑنے پر مجبور کیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس حوالے سے ایک ویڈیو وائرل ہواہے جس میں راجیش کمار کو مندر میں اپنی ناک رگڑتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ایک نجی بینک میں کام کرنے والے راجیش کمار میگھوال نے چند راز قبل فیس بک پر دی کشمیر فائلز فلم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    ادھر کل ایک ایسے ہی واقعہ میں ریاست گجرات کے دارلحکومت احمد آباد میں ہندوتوادہشت گردوں نے ایک مسلم نوجوان کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اوروہ متنازعہ فلم کے مناظر دکھا دکھا کر اس پر تشدد کرتے رہے ۔

     

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق احمدآباد کے علاقے بحرام پورا کے رہائشی عدنان رنگریز کو 15ہندوتوا دہشت گردوں نے اس کا نام پوچھنے کے بعد وحشیانہ تشددکا نشانہ بنایا اور وہ بار بار متنازعہ فلم کشمیر فائلز کا نام لے رہے تھے. عدنان پر تشدد کرتے ہوئے انہوں نے کشمیر فائلز کی ویڈیو بھی دکھائی اور کہا کہ جو کشمیر فائلز میں ہوا اس کاجواب تم لوگوں کو دینا پڑے گا۔

    عدنان نے میڈیا کو بتایا کہ بعض راہگیروں نے اسے ہندوتوادہشت گردوں سے بچایا اورعلاج معالجے کیلئے قریبی ہسپتال لے گئے ۔ عدنان نے مزید بتایا کہ ہسپتال میں بھی اس کا ڈھائی گھنٹے تک کوئی علاج نہیں کیا گیا، مجبورا اس کے اہلخانہ نے اسے دوسرے ہسپتال لیکر گئے ۔

    عدنان کے چچا اشفاق نے بتایا کہ متنازعہ فلم کشمیر فائلز دیکھنے والے ہندوتوا دہشت گرد عدنان پر تشدد میں ملوث ہیں۔ انہوں نے عدنان پر تشدد میں ملوث تمام دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

  • اوآئی سی کانفرنس:کشمیریوں کیلیےآوازاٹھانےکیخلاف بھارتی پراپیگنڈہ مستردکرتےہیں:دفترخارجہ

    اوآئی سی کانفرنس:کشمیریوں کیلیےآوازاٹھانےکیخلاف بھارتی پراپیگنڈہ مستردکرتےہیں:دفترخارجہ

    اسلام آباد:اوآئی سی کا انعقاداورکشمیریوں کےلیےآوازاٹھانے پربھارت کی طرف سے پراپیگنڈہ مہم نہ صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ بھارت کو باورکراناچاہتے ہیں کہ پاکستان اپنے مقصد میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹےگا،ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ او آئی سی کانفرنس پر بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مکمل طور پر ناقابل قبول اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔

     

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی امت مسلمہ کی اجتماعی آواز ہے اور اقوام متحدہ کے بعد دوسری بڑی بین الاقوامی تنظیم ہے۔

     

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی کے 57 ارکان اور 6 مبصر ممالک ہیں، بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برخلاف کشمیر پر غیرقانونی قبضہ جمائے بیٹھا ہے، بھارت نے کئی دہائیوں سے طاقت کے وحشیانہ اور اندھا دھند استعمال کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔

    ترجمان نے کہا کہ بھارت نےغیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں کیں، اس کے علاوہ، بی جے پی، آر ایس ایس سے متاثر “ہندوتوا” نظریہ نے اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے جگہ کو محدود کر دیا ہے۔

     

    دفتر خارجہ نے کہا کہ ریاستی سرپرستی میں ظلم و ستم آج کے ہندوستان میں ایک معمول بن گیا ہے، اس کے مطابق او آئی سی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے اور ایک بار پھر مضبوطی سے بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اور اس کے بعد کے اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔

     

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف صریح اور وسیع امتیازی سلوک، عدم برداشت اور تشدد کی بھی مذمت کی، او آئی سی نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذہبی آزادی سمیت ان کے حقوق کو یقینی بنائے، او آئی سی نے 9 مارچ کو بھارت کی جانب سے پاکستان کی سرزمین پر داغے گئے سپرسونک میزائل پر تشویش اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

  • مقبوضہ کشمیر:مجاہدین کو پناہ دینے والوں کی جائیدادیں ضبط کر لی جائیں گی:مسلمانوں کو دھمکیاں

    مقبوضہ کشمیر:مجاہدین کو پناہ دینے والوں کی جائیدادیں ضبط کر لی جائیں گی:مسلمانوں کو دھمکیاں

    سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میںقابض بھارتی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ مجاہدین کو پناہ دینے اور تحریک آزادی کی حمایت کرنے والے لوگوں کی املاک غیر قانونی سرگرمیوں کے کالے قانون ”یو اے پی اے“کے تحت ضبط کر لی جائیں گی۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق انتظامیہ نے مجاہدین کو پناہ دینے اور جاری تحریک آزادی کے حوالے سے اجلاسوں کے انعقاد کیلئے استعمال ہونے والے مکانات کو ضبط کرنے کا عمل سرینگر میں شروع کر دیا ہے۔

    سری نگر کے ایس ایس پی راکیش بلوال نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ جن مکانات میں فورسز اور مجاہدین کے درمیان تصادم ہو اور وہ مکانات جہاں عسکریت پسند پناہ لیں ضبط کرلیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ2020-2021 کے دوران سرینگر کے صورہ، پانتھ چوک، بٹ مالو، نوگام اورہروان اس طرح کے ایک درجن سے زیادہ مکانات کی نشاندہی کی گئی ۔

    یہا ں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارتی فوجی پہلے ہی مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی نام نہاد کارروائیوں کے دوران گولہ باری اور بارودی مواد کے ذریعے مکانات اور دیگر املاک کو تباہ کررہے ہیں۔

    ادھر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جموں خطے میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) اور جموںوکشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس) کے کئی حاضر اور سابق افسروں کے گھروں سمیت 11 مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

    تین حاضر سروس اور متعددریٹائرڈ افسروں کے علاوہ کئی تاجروں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔حکام نے بتایا کہ نئی دہلی، چندی گڑھ اور جموں و کشمیر سے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی 11 ٹیموں نے بیک وقت چھاپے مارے۔چھاپوں کے دوران کئی دستاویزات اور دیگر اشیاءضبط کر لی گئیں۔

  • آپ واقعی سفیرکشمیرثابت ہوئے:وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں پرکشمیری قوم کا خراج تحسین

    آپ واقعی سفیرکشمیرثابت ہوئے:وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں پرکشمیری قوم کا خراج تحسین

    سری نگر:آپ واقعی سفیرکشمیرثابت ہوئے:وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں پرکشمیری قوم کا خراج تحسین ،اطلاعات کے مطابق کل پاکستان میں 48 ویں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان نے جس طرح‌ مسئلہ کشمیر کے حل پرزور دیا کشمیری قوم کا کہنا ہے کہ آج تک پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کشمیر کے لیے اس سے پہلے کسی نے آواز نہ اٹھائی

    اس حوالے سے مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت سمیت کشمیریوں کی نمائندہ تنظیموں کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے عزم کو خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ مسئلہ کشمیر حل کے بہت قریب ہے ، ادھر پاکستان میں موجود کشمیری قیادت نے بھی وزیراعظم عمران خان کوخراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ جس طرح وزیراعظم نے کشمیری قوم کاکیس لڑا ہے اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی

    تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے اسلام آباد میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے 48ویں اجلاس کی شاندار میزبانی پر پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے مسلم بلاک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے متحد ہو کر کام کرے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راجہ فہیم کیانی نے لندن میں جاری ایک بیان میں کہا کہ سربراہی اجلاس کی میزبانی پاکستان پر مسلم دنیا کی قیادت اور عوام کے اعتماد کا ووٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں مسلم بلاک کو آئینہ دکھایا ہے کہ وہ کشمیر اور فلسطین کے تنازعات حل کرانے میں ناکام رہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ہر برس خلیجی ممالک سے صرف ترسیلات زر کی مد میں تقریباً 34 بلین ڈالر کماتا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ یہ ممالک بھارت پر بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں لیکن ان خلیجی مسلمان ملکوں کو بہت کم معلوم ہے کہ بھارت ان کی سرزمین پر کمائی گئی رقم کو بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتا ہے جسکا او آئی سی کو اسکا نوٹس لینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی اقوام متحدہ میں بھارت کے خلاف تحریک پیش کرنے اور اسے نسل کشی اور جنگی جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اچھی پوزیشن میں ہے کیونکہ اب بیانات اور مذمت سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف

    پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف

    اسلام آباد:پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف،اطلاعات کے مطابق بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ہندوتوا طاقتوں کی طرف سے ہمسایہ ملک پاکستان میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کے لیے پانی کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبی وسائل کو کنٹرول کر کے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے اور پاکستان کے لیے دانستہ طورپر پانی کی قلت پیدا کرنے کی مذموم سازشوں میں ملوث ہے۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اوراس سے پیچھے ہٹنے اور بین الاقوامی معاہدوں کو توڑنے کی کوششیں بھارت کی قومی پالیسی کاحصہ ہیں۔

    سندھ طاس معاہدے پر 1960میں دستخط کئے گئے تھے جس کے تحت تین مغربی دریائوں ، سندھ ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان اور تین مشرقی دریائوں ، راوی ، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔بھارت کے آبی وسائل کے وزیر نے کہا تھا کہ مودی حکومت نے پاکستان کے حصے میں آنے والے ان تینوں دریائوں کے پانی کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    بھارت پہلے ہی ان دریائوں کا تقریبا 94 فیصد پانی استعمال کر رہا ہے اور ان دریائوںکاباقی ماندہ پانی بھی پاکستان کی طرف جانے سے روکنے کیلئے کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت اس سلسلے میں مزید کام کرنے کی واضح خواہش رکھتی ہے۔ ماضی میں،

    بھارت کے آبی وسائل کے وزیر نتن گڈکری بھی کہہ چکے ہیں کہ ہندوانتہاپسندوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ بھارت پانی کاایک قطرہ بھی پاکستان نہ جانے دے اوریہ فیصلے حکومت کواعلی سطح پر لینے ہوں گے۔پانی روکنے کی دھمکیاں کسی بھی ملک خاص طورپر پاکستان کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہیں ۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حصے میں آنے والے دریائوں پر بھارت کی طرف سے متعددڈیم بنائے جانے کی وجہ سے آبی قلت کے دہانے پر کھڑا ہے ۔یہ ڈیم دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔