Baaghi TV

Category: خواتین

  • اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    فرمانِ آقاِ دو جہاں حضرت رسول اللہﷺ ہے؛

    "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد(وعورت) پر فرض ہے۔”
    (سنن ابن ماجہ)

    اسلام وہ دینِ برحق ہے جس نے عورت کو معاشرے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے تمام بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ عورت اور مرد معاشرے کے دو اہم ارکان ہیں جن کے بنا معاشرہ ارتقاء کی منازل طے نہیں کر سکتا ۔ اسی لئیے اسلام نے عورت کے بنیادی حقوق کا خصوصی خیال رکھا ہے۔

    ہر قیمتی شے چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر چھپی ہوئی شے نایاب ہوتی ہے۔ پردہ اور حیا عورت کے زیور ہیں۔ پردہ عورت پہ ناصرف واجب ہے۔ بلکہ اخلاقی و روحانی و معاشرتی تقاضا بھی ہے ۔ یہ اس کے تقدس کی علامت ہے۔

    ہر سال 8 مارچ خواتین کے عالمی دن پر ان کے حقوق کے حوالے سے بات کی جاتی ہے۔ میں اکثر کہتی ہوں کہ سب سے پہلے تو عورت کو خود اپنے مقام ،اپنے مرتبے کا شعور ہونا چاہئیے ۔آپ کسی سے اپنے حقوق کی بات تبی کر سکتے ہیں۔ جب آپ کو خود اپنے مقام کا علم ہو گا۔ خود تعلیم حاصل کریں۔ اور کسی مغربی گروہ کا شکار ہونے کی بجائے اپنے مذہب اسلام میں عورت کے حقوق کو جانیں۔

    مغرب جس کی ہمارے معاشرے کے نام نہاد لبرلز تقلید کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں ، میں عورتوں کے قانونی طور پہ برابری کے حقوق کے حصول کی پہلی آواز 1848ء میں اٹھائی گئی۔ جسے فیمی نزم کا نام دیا گیا۔ امریکہ جیسے آزاد خیال ملک میں عورت کو ووٹ ڈالنے تک کا حق حاصل نہ تھا۔ نہ وارثت میں کوئی حصہ۔ یعنی مغرب میں قانونی و معاشرتی طور پہ عورت کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اس تحریک میں ان حقوق کے حصول کے لئیے آواز اٹھائی گئی۔ جو کہ اسلام نے 1400 سال پہلے ہی عورت کو فراہم کر دیئے تھے۔ شاید مغرب والوں نے بھی اس تحریک کی شروعات سے پہلے اسلام میں عورت کے ان حقوق کا مطالعہ کیا ہو گا۔ عورت جسے قبل اسلام زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ اسلام نے اسے وارثت کا حق دیا، تعلیم کے حصول میں برابری کے حقوق عطا کئیے۔عبادت میں مساوی حقوق دئیے۔ حتی کہ نکاح میں اپنی مرضی کا حق دیا۔

    مغرب میں فیمی نزم تحریک ان کے معاشرے کی ضرورت تھی۔ مگر اسلام نے تو یہ ضرورت 1400 سال قبل ہی پوری کر دی۔ آج کل کا خود کو لبرلز کہنے والا سڑکوں پہ اوٹ پٹنگی حرکات کرنے والا مخصوص گروہ فیمی نزم تحریک کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط عزائم کو پروان چڑھانے کی کوشش میں ہے۔ دراصل یہ عورت کے اصل حقوق سے توجہ ہٹانے کا باعث ہے۔ عورت کے آج کل کے اصل حقوق تو یہ ہیں۔ کہ اسے تعلیم سے لے کر جاب تک برابری کے امواقع حاصل ہوں، وہ اگر باپردہ کسی جاب کی اہل ہے۔ تو پردے کو وجہ ِ رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ وہ اگر حالتِ سفر میں ہو۔ تو اسے احساس ِتحفظ رہے۔ اسے کسی فحش نظر یا جملے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور وہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

    اسلام سے بڑھ کر عورت کو مقام اور حقوق کسی اور نظام نے نہیں دیئے۔ ہمارے مذہب نے عورت کو جو مقام دیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی آئین یا قانون میں اور کہیں بھی نہیں۔ اسلام نے عورت کو عورت سے عظیم عورت بنایا ہے۔ اسلام نے بتایا کہ جنت ایک عورت یعنی ماں کے قدموں تلے ہے۔ اسلام نے ہمیں عورت کے مثالی کردار دیئے ہیں ۔ ایک شریک حیات کے روپ میں بی بی سیدہ خدیجؑہ ،ایک بیٹی کی روپ میں بنتؑ محمد ﷺ جناب بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا ، ایک بہن کے روپ میں جناب بی بی سیدہ زینبؑ، اور ایک ماں کے روپ میں مادرؑ ِ حسنین کریمیںنؑ ہمارے لئیے موجبِ رہنمائی ہیں۔ عورت تو وہ ہے۔ جو نہتی بھی ہو تب بھی اپنی فکر و ہمت سےقصرِ یزید (لعین) کے در و دیوار ہلا دے ۔ عورت کو کمزور کوئی کیونکر کہے ۔ اگر وہ اپنا مقام خود جان لے۔ جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ عورت کا مقام یہ ہے۔ کہ قرآن کریم میں سورہ نساء موجود ہے۔

    عورت بہت عظیم جذبات کی مالک ہے۔وہ سفید رنگ ہے۔ جو ہر رنگ اپنے اندر سمو سکتی ہے۔اپنے عورت ہونے پہ فخر محسوس کریں۔مگر اپنے فرائض کو بھی ساتھ لے کے چلیں۔ فخر محسوس کریں۔ کہ آپ کینزِ زہرا ع اور کینزِ زینبؑ ہیں۔ آپ کے سامنے کوئی فحش گروہ نہیں بلکہ یہ عظیم ہستیاںؑ رہنمائی کے لئیے ہونے چاہئیں۔۔

    عورت کا دن تو ہر نیاء دن ہے۔ پھر صرف ایک دن ہی کیوں۔۔۔۔ میرا سلام ہے ۔ان تمام خواتین کو جو کھیتوں میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ محنت کرتی ہیں۔ اور ناصرف ان کا بازو بنتی ہیں۔ بلکہ ملکی معشیت کی مظبوطی میں بھی اپنا کردار اہم ادا کر رہی ہیں۔ ان تمام خواتین اساتذہ کو جو روز سینکڑوں اذہان کو شعور بخشنے کا سبب ہیں۔ ان تمام گھریلو خواتین کو جو گھر میں رہ کر گھر کو بخوبی چلا رہی ہیں۔ اور اپنے گھر کے ارکان کے لئیے باعث ِسکون ہیں۔ ان تمام ماؤں کو جو اپنے اولادوں کی بہترین تربیت کر رہی ہیں۔میرا سلام ہے۔ اسلام کی ہر باحیا و باپردہ بیٹی کو، جو اپنے مقام و تقدس سے آگاہ ہے۔

    آخر میں میرا خواتین کا عالمی دن میری رہنما ہستیوںؑ ، حضرت بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور سیدہ زینب الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے نام ہے۔ اللہ رحمن الرحیم سے دعا ہے۔ کہ وہ تمام بیٹیوں کو ہماری ان عظیم رہنماؤں سلام اللہ علیھا کی پیروی کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین

    میں بیٹی، میں ماں، بہن ، ہم سفر میں
    سبھی کا سکوں میں سدا چاہتی ہوں

    عطاۓ خدا ہیں مرے حوصلے بھی
    میں عنبرؔ ہمیشہ نبھا چاہتی ہوں

  • قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

    قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

    معاشرے میں صحافت کو ہمیشہ سچ کی آواز اور مظلوم کی ڈھال سمجھا گیا ہے۔ اخبار کے صفحات کو وہ مقدس جگہ مانا جاتا ہے جہاں حقائق بولتے ہیں اور انصاف کی امید جاگتی ہے۔ مگر جب یہی صفحات کچھ لوگوں کے لیے ذاتی مفادات اور ناجائز تقاضوں کا ذریعہ بن جائیں تو نہ صرف صحافت کی روح مجروح ہوتی ہے بلکہ انسانیت بھی شرمندہ ہو جاتی ہے۔
    آج بھی ہمارے معاشرے میں کئی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں خبریں شائع کروانے کے خواہشمند افراد خصوصاً خواتین کو غیر اخلاقی تعلقات یا ناجائز مطالبات ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا المیہ ہے۔ خبر شائع کروانا ایک حق ہے کوئی سودا نہیں۔ مگر جب اس حق کو بلیک میلنگ کا ہتھیار بنا دیا جائے تو متاثرہ شخص کی عزت خودداری اور اعتماد سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

    سوچیے، ایک بیوہ ماں اپنے بیٹے کے قاتلوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے اخبار کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، ایک طالبہ ہراسانی کے خلاف ثبوت لے کر آتی ہے یا ایک غریب مزدور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی داستان سنانا چاہتا ہے۔ایک قلم کار اپنے قلم سے عوام میں شعور اجاگر کرنا چاہتی ہے اسکو اپنی حوس مٹانے پر مجبور کرنے کی آبیتی بیان کرنا چاہتی ہے یہ لوگ انصاف کی امید لے کر آتے ہیں مگر اگر ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کی مجبوریوں کا سودا کیا جائے تو یہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہے۔

    یہ مسئلہ صرف اخلاقی گراوٹ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی جرم ہے۔ ایسے رویے متاثرہ افراد کو خاموشی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر انصاف مانگنے کی قیمت عزت ہو تو پھر خاموشی ہی بہتر ہے۔ یوں ظلم بڑھتا جاتا ہے اور سچ دب کر رہ جاتا ہے۔

    صحافت کا اصل مقصد طاقتور کو جوابدہ بنانا اور کمزور کو آواز دینا ہے۔ ایک سچا صحافی اپنے قلم کو امانت سمجھتا ہے نہ کہ ذاتی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ۔ جو لوگ اس مقدس پیشے کو بدنام کرتے ہیں، وہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے شعبے کا اعتماد کھو دیتے ہیں۔ ان کے سبب وہ بے شمار دیانتدار صحافی بھی مشکوک نگاہوں سے دیکھے جانے لگتے ہیں جو واقعی حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ادارے اپنے اندر سخت احتسابی نظام قائم کریں۔ شکایات کے لیے محفوظ اور خفیہ راستے فراہم کیے جائیں تاکہ متاثرہ افراد بلا خوف اپنی بات رکھ سکیں۔ ساتھ ہی عوام کو بھی یہ شعور دیا جائے کہ وہ اپنے حقوق سے آگاہ رہیں اور کسی بھی ناجائز مطالبے کے سامنے جھکنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔
    یہ وقت ہے کہ ہم قلم کی حرمت کو بچائیں سچ کی آواز کو مضبوط کریں اور ان مجبور خاموشیوں کو زبان دیں جو خوف اور بلیک میلنگ کے سبب دب جاتی ہیں۔ کیونکہ جب خبر چھپتی نہیں بلکہ بیچی جانے لگے تو صرف صحافت نہیں مرتی، معاشرہ بھی اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔
    آخر میں ایک سوال ہم سب کے لیے:
    کیا ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں انصاف کی قیمت عزت ہو؟
    جہاں عورت کو حوس بجھانے کا نا سمجھا جائے ؟
    یا ایسا جہاں سچ بولنا جرم نہ ہو اور خبر شائع کروانا کسی کی خودداری کا سودا نہ بنے؟
    فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

  • 14 فروری یومِ حیا، ردِ ویلنٹائن،تحریر: سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    14 فروری یومِ حیا، ردِ ویلنٹائن،تحریر: سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
    ”اور بے حیائیوں کے قریب نہ جاؤ’ جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں۔“
    ( القرآن الکریم؛ سورة الانعام آیت151)

    14 فروری کو جہاں ایک مخصوص طبقہ سرخ پھولوں کا تبادلہ کرے گا۔تو وہیں پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا بڑا طبقہ اس کو یومِ حیا کے طور پر منائے گا، اس دن یومِ حیا منانے کا مقصد محبت کا نام پر ہونے والی فحاشی و عریانی کے خلاف حجاب، شرم و حیا اور اور اسلامی اقدار کو پروان چڑھانا ہے۔ جس کے لئیے مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

    اگر ہم تاریخ کے زاویہ سے دیکھیں تو ”ویلنٹائن ڈے“ اصلاً رومیوں کا تہوار ہے ۔ جس کی ابتدا تقریباً 17 سو سال قبل ہوئی تھی۔ اس کا مسلم تہذیب و ثقافت سے ہرگز کوئی واسطہ نہیں۔ جبکہ مسیحی مذہب میں بھی مذہبی نکتہء نگاہ سے اس دن کی مذمت کی گئی ہے۔ اور چرچ کی جانب سے ویلنٹائن ڈے کو جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا جاتا ہے۔ 2016ء میں مسیحی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں بیانات جاری کئیے۔ بلکہ بنکاک میں ایک پادری نے اس دن کے رد کے طور پہ اپنے ہم خیال افراد کے ہمراہ ویلنٹائن ڈے کا سامان فروخت کرنے والی دکان کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔

    پاکستان میں جب ویلنٹائن ڈے کی روایت عروج پر تھی۔ تو جماعتِ اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمیعتِ طلبہ نے اسے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یومِ حیا کے طور پر منانا شروع کیا۔ تاکہ اس فحاشی کے خلاف مہذب انداز میں احتجاج کر کے اسے رد کیا جا سکے۔ یومِ حیا منانے کی روایت زیادہ پرانی نہیں۔ مگر اپنی فکر و نظریہ کے سبب انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جس کا سہرا بلاشبہ اسلامی جمیعت طلبہ کے سر جاتا ہے۔
    پاکستان میں 2012ء سے ویلنٹائن ڈے کے روز ہی یومِ حیا منایا جاتا ہے۔ اپنی مذہبی و اخلاقی اقدار کے مطابق بے حیائی کی مذمت میں اب تمام اہلِ علم و فکر شامل ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ یومِ حیا منانے والوں کی بڑی کامیابی میں عدلیہ کا کردار بھی اہم ہے۔ گزشتہ سالوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری سطح پہ ویلنٹائن ڈے منانے اور میڈیا پہ اس کی تشہیر سے روک دیا تھا۔ اور اسلام آباد انتظامیہ کو بھی حکم جاری کیا تھا ۔ کہ وہ عوامی مقامات پہ یہ بیہودگی نہ منانے دے۔ عدلیہ نے وزارت اطلاعات اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پمرا) کے حکام سے کہا تھا۔ کہ میڈیا کو ایسے پروگرام کی کوریج سے روکا جائے ۔ اور جو کرے اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

    اس وقت بھی ضرورت ہے۔ کہ حکومتی و قانونی سطح پہ اس دن کی مذمت کی جائے۔ اور ٹک ٹاک و دیگر ایپس پہ فحاشی و وقت کے ضیاع کے اسباب کو کنٹرول کیا جائے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب اور مکتبِ فکر محبت کے نام پہ فحاشی و بے حیائی کی بلکل بھی اجازت نہیں دیتا۔ حیا عورت کا اصل زیور و پہچان ہے۔ پردہ اور شرم و حیا ہی عورت کے تقدس کی علامت ہیں۔

    فرمانِ آقا دو جہاں رحمت اللعالمین ﷺ ہے:
    ”بہترین اولاد باپردہ بیٹیاں ہیں۔“
    (بحار انوار جلد 104)
    اللہ رب العزت سے دعا ہے۔ کہ وہ ہر بیٹی کے پردے سلامت رکھے ۔ اور اس کی حفاظت فرمائے۔
    آمین

  • "انا اور عزتِ نفس: فرق کیا ہے؟”تحریر:پارس کیانی

    "انا اور عزتِ نفس: فرق کیا ہے؟”تحریر:پارس کیانی

    انسانی شخصیت کے باطن میں کچھ جذبات ایسے ہیں جو بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کی سمت، اثر اور انجام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ انا اور عزتِ نفس بھی انہی میں سے ہیں۔ عام گفتگو میں ان دونوں کو خلط ملط کر دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات انا کو عزتِ نفس کا نام دے کر اس کی توجیہ پیش کی جاتی ہے۔ حالانکہ انا اور عزتِ نفس نہ صرف جدا مفاہیم رکھتے ہیں بلکہ اخلاقی اور نفسیاتی اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد بھی ہیں۔

    عزتِ نفس انسان کی وہ مثبت داخلی قوت ہے جو اسے اپنی قدر پہچاننے، اپنے وجود کا احترام کرنے اور خود کو بے جا ذلت سے محفوظ رکھنے کا شعور دیتی ہے۔ عزتِ نفس کا تعلق خود آگاہی، خود احتسابی اور خود اعتمادی سے ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان نہ خود کو کمتر سمجھتا ہے اور نہ ہی دوسروں سے برتر۔ وہ اپنی حدود کو جانتا ہے، اپنی خامیوں کا اعتراف کرتا ہے اور اپنی خوبیوں پر شکر گزار رہتا ہے۔ عزتِ نفس انسان کو خاموش وقار عطا کرتی ہے، چیخنے چلانے، ثابت کرنے یا دوسروں کو نیچا دکھانے کی حاجت نہیں پڑتی۔

    اس کے برعکس انا ایک منفی، دفاعی اور جارحانہ جذبہ ہے جو عدمِ تحفظ سے جنم لیتا ہے۔ انا دراصل خود کو بچانے کا نہیں بلکہ خود کو ثابت کرنے کا اضطراب ہے۔ انا کا شکار انسان ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں اس کی برتری، حیثیت یا اختیار پر حرف نہ آ جائے۔ اسی خوف کے زیرِ اثر وہ اختلاف کو توہین سمجھتا ہے، سوال کو گستاخی اور تنقید کو دشمنی قرار دیتا ہے۔ انا کا مقصد خود کو محفوظ رکھنا نہیں بلکہ دوسروں کو زیر کرنا ہوتا ہے۔
    عزتِ نفس انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے پُرسکون انداز میں کھڑا ہو، جبکہ انا اسے یہ سکھاتی ہے کہ وہ ہر حال میں جیتے، چاہے اس کے لیے کسی کی تذلیل ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ عزتِ نفس خاموش ہوتی ہے، انا شور مچاتی ہے۔ عزتِ نفس دلیل پر یقین رکھتی ہے، انا طاقت پر۔ عزتِ نفس برداشت سکھاتی ہے، انا انتقام پر منتج ہوتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ عزتِ نفس رکھنے والا انسان معذرت کر لینے میں عار محسوس نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ معافی اس کی قدر کم نہیں کرتی۔ جبکہ انا پرست شخص معذرت کو شکست سمجھتا ہے، اس کے نزدیک جھکنا مٹ جانے کے مترادف ہے۔ عزتِ نفس انسان کو خود سے مضبوط تعلق دیتی ہے، انا اسے مسلسل دوسروں سے مقابلے میں الجھائے رکھتی ہے۔

    فلسفیانہ اعتبار سے دیکھا جائے تو عزتِ نفس وجودی توازن کی علامت ہے۔ یہ انسان کو اپنی ذات کے مرکز میں رکھتی ہے، جہاں وہ اپنی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے اور اپنی حدود بھی پہچانتا ہے۔ انا اس توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ انا انسان کو اپنے مرکز سے ہٹا کر دوسروں کی نگاہوں، آراء اور ردِعمل کا غلام بنا دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے جھکنے میں اپنی بقا تلاش کرنے لگتا ہے۔

    سماجی سطح پر انا فساد کو جنم دیتی ہے، جبکہ عزتِ نفس ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ انا رشتوں کو توڑتی ہے، کیونکہ اس میں جیت صرف ایک کی ہوتی ہے۔ عزتِ نفس رشتوں کو نبھاتی ہے، کیونکہ اس میں احترام باہمی ہوتا ہے۔ انا اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتی ہے، عزتِ نفس اختلاف کے باوجود وقار برقرار رکھتی ہے۔
    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عزتِ نفس انسان کو بلند کرتی ہے اور انا اسے تنہا کر دیتی ہے۔ تاریخ، ادب اور عمرانی تجربہ اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ انا پرست افراد بظاہر طاقتور دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر سے کھوکھلے اور بے چین ہوتے ہیں۔ جبکہ عزتِ نفس رکھنے والے افراد خاموشی سے اپنا مقام بنا لیتے ہیں، بغیر کسی کو کچلے، بغیر کسی کو ذلیل کیے۔

    اصل امتحان یہ نہیں کہ انسان خود کو کب بچاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کو بچاتے ہوئے دوسروں کو کتنا محفوظ رکھتا ہے۔ عزتِ نفس یہی توازن سکھاتی ہے، جبکہ انا اس توازن کو پامال کر دیتی ہے۔ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عزتِ نفس خودی کی حفاظت ہے اور انا خودی کی بیماری۔ عزتِ نفس انسان کو انسان بناتی ہے، انا اسے اپنی ہی ذات کا قیدی۔ جو شخص عزتِ نفس کے ساتھ جیتا ہے وہ دوسروں کو جینے دیتا ہے، اور جو انا کے ساتھ جیتا ہے وہ دوسروں کے وقار پر زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی دونوں کے درمیان اصل اور فیصلہ کن فرق ہے۔

  • ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

    ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

    بچپن ہمیشہ عجیب ہوتا ہے۔ یہ ہمیں ہنس کر وہ سچ دکھا دیتا ہے جسے بڑے ہو کر بھی ہم نہیں سمجھ پاتے۔ مجھے آج بھی اپنا وہ بچپن یاد ہے جب ہمارے ایک چچا ہر محفل میں ایک عجیب شدت کے ساتھ ایک ہی بات دہراتے تھے۔ وہ علامہ اقبال رح کے شیدائی تھے، اور ان کے ایک مصرع نے تو جیسے ان پر جادو کر دیا تھا۔ جب بھی کہیں بیٹھتے، گفتگو ذرا سی رکتی تو وہ بڑے یقین سے کہتے:

    "پھول کی پتی ہیرے کا جگر کاٹ سکتی ہے… علامہ صاحب نے فرمایا ہے!”

    محفل میں لوگ چونک جاتے۔ کوئی ہنستا، کوئی بحث چھیڑ دیتا، مگر چچا جان اپنی جگہ اٹل رہتے۔
    "بھئی، اقبال نے کہا ہے تو سچ ہی کہا ہوگا۔”
    اور بس، بات وہیں ٹھہر جاتی۔
    ایک دن کسی نے ہمت کر کے ان کو دوسرا مصرع سنا دیا:
    "مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر”

    مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے۔ چچا جان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو عجیب سی خاموشی اُتری، جیسے پوری زندگی ایک لمحے میں الٹ گئی ہو۔ انہوں نے پہلی بار جانا کہ وہ برسوں سے جس بات پر بضد تھے، وہ پوری تھی ہی نہیں۔ وہ صرف آدھا شعر تھا، اور آدھا سچ لے کر چلتے رہے ۔کبھی دوسرے مصرع کو غور سے پڑھنے کی اور سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔۔۔۔
    اس دن پہلی بار سمجھ آیا کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اسی چچا جان کی طرح ہی ہیں، ادھوری بات سنتے ہیں، ادھوری سمجھتے ہیں، ادھورا علم لے کر پوری زندگی چل پڑتے ہیں۔
    ہمارے گرد موجود اکثر گمراہیاں پوری غلط فہمی نہیں ہوتیں، صرف ادھی معلومات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
    ہم لفظوں کے پہلے حصے سے فیصلے کرتے ہیں، جذبات کے پہلے جھٹکے سے رشتے توڑ دیتے ہیں، ایک سن کر دس کہہ دیتے ہیں، کوئی افواہ پوری سنی نہیں ہوتی اور ہم اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اکثر ماں باپ بچوں سے ادھی بات کرتے ہیں، استاد ادھی وضاحت پر اکتفا کرتے ہیں، بچے اسکول سے ادھی حقیقت اٹھا لاتے ہیں، اور ہم ساری زندگی ادھورے خیالات کے بوجھ تلے چلتے رہتے ہیں۔
    سوال یہ نہیں کہ ہم ادھی بات لے کر چلتے ہیں،
    سوال یہ ہے کہ ہم پوری بات سننے میں ناکام کیوں ہیں؟
    سماجیات کہتی ہے کہ انسان جلد نتیجہ نکالنے کی جبلّت رکھتا ہے۔
    نفسیات بتاتی ہے کہ ذہن آدھی بات کو مکمل کہانی بنا لیتا ہے۔
    تاریخ گواہ ہے کہ بڑی غلطیاں، بڑی جنگیں، بڑے فتنہ و فساد… اکثر ایک ادھوری بات سے پھوٹے۔

    اور روزمرّہ کی زندگی میں؟
    ہم اپنے غلط مفروضے سنبھال کر رکھتے ہیں، انہیں عقیدے کی طرح برتتے ہیں، اور پھر کبھی پلٹ کر یہ نہیں دیکھتے کہ حقیقت کیا تھی۔ علم کی دنیا میں تو یہ بات اور بھی خطرناک ہے۔ آدھی کتاب، آدھا حوالہ، آدھا فہم، یہ سب انسان کو یقین کا ہتھیار دیتے ہیں، مگر حقیقت کا چراغ بجھا دیتے ہیں۔
    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم ادھوری بات سن کر چل پڑتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ادھوری بات آگے بھی منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ہم ایسے ہی جملے، ایسے ہی غلط مفروضے اور ایسے ہی ادھورے حوالوں کو نسل در نسل پہنچاتے رہتے ہیں۔ کیا پتہ جو ہمارے سامنے غلط بول رہا ہے، کسی بات کو آدھا سن کر پورا سمجھ بیٹھا ہے، وہ خود بھی کسی ایسے ہی شخص کا شکار ہو جس نے اسے ادھوری بات کا تحفہ دیا تھا۔
    یہ ذمہ داری ہم سب پر ہے کہ جب ہم پہلی بار کسی کو کوئی علم دیں، کوئی حوالہ بتائیں، کوئی بات سمجھائیں، تو یہ یقین کر لیں کہ بات پوری پہنچی بھی ہے یا نہیں۔ علم چراغ کی طرح ہے؛ اگر ہم اسے آدھا ہی تھما دیں تو وہ روشنی نہیں دیتا، صرف دھند پیدا کرتا ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ سننے والا بات کو کتنا سمجھ پایا ہے، کہاں خلا رہ گیا ہے، اور کہاں وضاحت کی ضرورت ہے۔
    دنیا کو ادھورے فہم نہیں، مکمل اور سچّی باتوں کی ضرورت ہے، اور یہ ذمہ داری ہم سے شروع ہوتی ہے کہ ہم جو منتقل کریں، وہ پورا ہو، درست ہو، روشن ہو، اور آنے والے ذہنوں کو بھٹکائے نہیں بلکہ سمت دے۔
    جب بھی ہم علم یا کوئی سوچ منتقل کریں، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اکثر جو ہمارے سامنے بات کر رہا ہے، اس کے پاس بھی علم ادھورا ہو سکتا ہے، کسی نے اسے بھی ادھوری بات ہی دی ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اپنی بات پوری کریں بلکہ سننے والے کی سمجھ بھی پرکھیں۔ پلٹ کر دیکھیں، جانچیں، اور اس بات کا یقین کر لیں کہ علم صحیح اور مکمل پہنچا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو ادھورے فہم کو ختم کرتا ہے اور زندگی کو روشن کرتا ہے۔

  • ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    یہ تصویر کسی ایک انسان کی نہیں ایک پوری نسل کی کہانی سناتی ہے۔ جھکی ہوئی پیشانی آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ اور سامنے پھیلی ہوئی ہتھیلیاں جیسے زندگی نے بہت کچھ کہہ دیا ہو اور اب الفاظ ختم ہو گئے ہوں۔
    یہ وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے کبھی بچوں کو تھام کر چلنا سکھایا کبھی مزدوری کی سختی جھیلی کبھی خالی جیب کے ساتھ بھی گھر کی دہلیز پر مسکراہٹ رکھ دی۔ مگر آج یہی ہاتھ سوال بن گئے ہیں۔ سوال لوگوں سے نہیں وقت سے تقدیر سے، اور شاید اپنے ہی دل سے۔
    چہرے کی جھریاں صرف عمر کی نشانیاں نہیں ہوتیں یہ ان راتوں کا حساب بھی ہوتی ہیں جو فکر میں کٹ گئیں ان دنوں کی گنتی بھی جن میں اپنی خواہشیں بچوں کی ضرورتوں پر قربان ہو گئیں یہ آنکھیں اگر بند ہیں تو نیند کے لیے نہیں شاید اس لیے کہ آنسو اب دکھائے نہیں جاتے۔

    اخبار کے صفحے پر چھپنے والی یہ تصویر ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارے اردگرد کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو مانگتے نہیں بس خاموشی سے دعا کے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔ جن کا دکھ شور نہیں کرتا مگر دل ہلا دیتا ہے۔
    یہ تصویر ہم سب سے ایک سوال پوچھتی ہے:
    کیا ہم نے ان ہاتھوں کو وقت پر تھاما؟
    یا پھر ہم بھی گزر گئے یہ کہہ کر کہ یہ تو کسی اور کی ذمہ داری ہے؟
    شاید انسان کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ جھکے ہوئے سروں کو سہارا دے اور ان خاموش دعاؤں کا جواب بن جائے جو لفظوں کے بغیر بھی آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔

  • زن چه نیست ۔۔۔؟تحریر: پارس کیانی

    زن چه نیست ۔۔۔؟تحریر: پارس کیانی

    انسانی تہذیب کی پوری داستان میں اگر کسی ایک ہستی کو مرکزیت حاصل ہے تو وہ عورت ہے۔ کائنات کا سماجی توازن عورت کے بغیر نامکمل ہے۔ انسانیت کی بنیاد، تعلقات کا رچاؤ، محبت کی نزاکت، خاندان کی تشکیل، سب عورت کے وجود سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے کردار میں کبھی ماں ہے، کبھی بہن ہے، کبھی دوست، کبھی ساتھی، اور کبھی ایک ایسے جذبے کی علامت جس سے زندگی کو معنی ملتے ہیں۔

    عورت کی عظمت کسی ایک مذہب، قوم یا تہذیب تک محدود نہیں۔ قدیم مصر سے لے کر جدید دنیا تک، ہر دور نے اسے کسی نہ کسی صورت میں مرکزی مقام دیا۔ ہندو مت میں لکشمی اور سرسوتی کو علم اور خوش حالی کی علامت سمجھا گیا۔ یونانی روایات میں دیوی ایتھینا دانائی و حکمت کا استعارہ رہی۔ بدھ مت، عیسائیت اور یہودیت سب کی کہانیوں میں خواتین شفقت، قوت اور استقامت کی علامت ہیں۔ یہ حقیقت انسانیت کے اجتماعی شعور میں گندھی ہوئی ہے کہ عورت دنیا کی سماجی تعمیر میں بنیادی اکائی ہے۔

    سماجیات کے مطابق معاشرے کی تشکیل کا پہلا ادارہ خاندان ہوتا ہے اور خاندان کی اساس عورت ہے۔ زبان، رویّے، اقدار، روایات اور احساسات،all transmission،عورت کے ذریعے نسل در نسل آگے بڑھتے ہیں۔ وہ نرمی بھی ہے اور استقامت بھی۔ اپنے وجود سے ماحول میں توازن پیدا کرتی ہے، افراد کو جذباتی ہم آہنگی دیتی ہے اور معاشرے میں رشتوں کے مابین ربط قائم رکھتی ہے۔دنیا کی تاریخ میں ایسی بے شمار خواتین ملتی ہیں جنہوں نے تہذیبوں کے رخ بدل دیے۔ قدیم مصر کی حکمران حتشپسوت، چین کی وو زیٹیان، برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اوّل، یونان کی فلسفی ہائپیشیا، فرانس کی جوآن آف آرک، ہندوستان کی رانی لکشمی بائی، مغل دور کی مشہور فرمانروا رضیہ سلطانہ، اوّلین طبی محقق الفیہ بنتِ موسیٰ، اور برصغیر کی بہادر عورت دادی جانکی جیسے نام اس بات کی دلیل ہیں کہ عورت تاریخ کے دھارے میں کسی موڑ پر پیچھے نہیں رہی۔ جدید دور میں انجیلا میرکل، کملا ہیرس، کرسٹینا فرنانڈز، اور بینظیر بھٹو کی قیادت اس سلسلے کی تسلسل ہے۔

    سائنس اور علم میں بھی عورت نے وہ نقش چھوڑے جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔ میری کیوری نے ریڈیو ایکٹیویٹی کی دریافت سے جدید سائنس کا دروازہ کھولا۔ ایڈا لوویلیس نے کمپیوٹر پروگرامنگ کے تصورات دیے۔ جوسیلین بیل برنیل نے نیوٹرون ستاروں کی دریافت کی۔ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کی بنیاد فاطمہ الفہری نے رکھی۔ ادب میں ورجینیا وولف، ٹونی موریسن، قرۃالعین حیدر اور عصمت چغتائی نے انسانی نفسیات اور سماج کو نئے زاویے دیے۔
    عورت کی سماجی و انسانی خدمات بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ مدر ٹریسا کی انسانیت نوازی، وانگاری ماتھائی کی ماحولیاتی جدوجہد، روزا پارکس کی نسلی امتیاز کے خلاف مزاحمت، ملالہ یوسفزئی کی تعلیم کے لیے آواز، ہیرئیٹ ٹبمین کی غلامی کے خلاف لڑائی—یہ سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ عورت ہر زمانے میں تبدیلی کی سب سے مضبوط قوت رہی ہے۔ برطانیہ کی لیڈی ڈیانا نے فلاحی خدمات اور عالمی انسانیت کے لیے وہ نقوش چھوڑے جو دلوں پر آج بھی نقش ہیں۔

    وہ عورت جو کبھی جھولا جھلاتی ہے، کبھی کتاب تھامتی ہے، کبھی نظریہ وجود بخشتی ہے، کبھی تلوار بلند کرتی ہے، کبھی قلم اٹھاتی ہے، اور کبھی ایک گھرانے میں محبت کی بنیاد رکھتی ہے،وہی عورت اصل میں دنیا کی تشکیل کرنے والی ہستی ہے۔ اگر مرد تعمیر ہے تو عورت تزئین، مرد بنیاد ہے تو عورت عمارت، مرد سمت ہے تو عورت معنی۔

    دنیا کی ہر تہذیب اور ہر دور ایک ہی حقیقت دہراتا ہے کہ عورت محض جنس نہیں، انسانیت کا سب سے اہم محور ہے۔اور کائنات عورت کے وجود کے بغیر ہمیشہ ادھوری رہے گی۔

  • حقیقی شعور، انسانیت کا نجات دہندہ،تحریر:پارس کیانی

    حقیقی شعور، انسانیت کا نجات دہندہ،تحریر:پارس کیانی

    یہ سوال کہ انسانیت کا حقیقی نجات دہندہ کون ہے ،کیا ہے ؟، بظاہر سادہ مگر درحقیقت تہہ در تہہ پیچیدگی رکھتا ہے۔ کیا انسانیت کو مذہب بچاتا ہے؟ کیا انسان کی نت نئی اختراعات و ایجادات ؟ یا پھر کوئی ایسی فکر، کوئی ایسی شعوری بیداری ہے جو انسان کو اس کے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیے گئے اندھیروں سے نکال سکتی ہے؟ تاریخ، فلسفہ، مذہب اور موجودہ عالمی حالات،سب اس سوال کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں، مگر حتمی جواب کہیں ایک لفظ میں قید نہیں ہوتا۔

    انسان نے جب شعور پایا تو سب سے پہلے خوف کو جانا۔ اسی خوف سے مذہب نے جنم لیا، یا یوں کہیے مذہب نے اس خوف کو معنی دیے۔ مذہب نے انسان کو بتایا کہ وہ اکیلا نہیں، اس کا ایک خالق ہے، ایک جواب دہی ہے، ایک اخلاقی دائرہ ہے۔ مذہب نے قتل کو گناہ کہا، ظلم کو حرام ٹھہرایا، کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے کو نیکی قرار دیا۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو مذہب انسانیت کا سب سے مضبوط محافظ معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہی مذہب جب انسان کے ہاتھ میں اقتدار کا ہتھیار بن گیا تو انسانیت کا سب سے بڑا قاتل بھی یہی بنا۔ تاریخ صلیبی جنگوں، مذہبی فسادات، فرقہ واریت اور تکفیر سے بھری پڑی ہے۔ یہاں سوال مذہب کا نہیں، مذہب کے نام پر انسان کے رویے کا بنتا ہے۔

    اگر ہم کہیں کہ انسان ہی انسانیت کا نجات دہندہ ہے تو یہ بات بھی ادھوری رہتی ہے۔ انسان وہی ہے جس نے قانون بنائے، انسانی حقوق کی بات کی، غلامی کے خلاف آواز اٹھائی، عورت، بچے اور اقلیت کے لیے آواز بلند کی۔ لیکن یہی انسان وہ بھی ہے جس نے ایٹم بم بنایا، نسل کشی کی، جنگیں مسلط کیں، سرمایہ کو خدا بنا کر کروڑوں انسانوں کو فاقہ کشی میں دھکیل دیا۔ انسان اگر محض اپنی جبلّت کے حوالے کر دیا جائے تو وہ درندہ بن جاتا ہے، اور اگر اس کی عقل و اخلاق کو بیدار کیا جائے تو وہ فرشتہ صفت بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے انسان بذاتِ خود نجات دہندہ نہیں، بلکہ ایک امکان ہے،خیر اور شر دونوں کا۔

    انسانیت بطورِ تصور بظاہر سب سے خوبصورت حل لگتی ہے۔ نہ کوئی مذہبی حد بندی، نہ نسلی امتیاز، نہ جغرافیائی تقسیم۔ صرف انسان اور اس کا درد۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ انسانیت ایک جذبہ تو ہے، مگر ضابطہ نہیں۔ یہ احساس دلاتی ہے، مگر پابند نہیں کرتی۔ جب مفاد، طاقت اور خوف سامنے آتے ہیں تو انسانیت سب سے پہلے قربان ہوتی ہے۔ عالمی سیاست اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں انسانی حقوق صرف وہاں یاد آتے ہیں جہاں مفاد ہو، اور جہاں مفاد نہ ہو وہاں لاشیں بھی اعداد و شمار بن جاتی ہیں۔

    یہیں سے اصل سوال جنم لیتا ہے کہ اگر نہ مذہب اپنی بگڑی ہوئی صورت میں کافی ہے، نہ انسان اپنی جبلّت کے ساتھ، اور نہ انسانیت محض نعرے کی حد تک،تو پھر نجات کہاں ہے؟ جواب آہستہ آہستہ ایک ہی سمت اشارہ کرتا ہے، اور وہ ہے شعور۔مگر شعور سے مراد صرف یہ نہیں کہ ہمیں اپنے حقوق کا شعور حاصل ہو جائے۔ حقیقی شعور یہ بھی ہے کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہو کہ دوسروں کے حقوق کیا ہیں، اور ان حقوق کے مقابلے میں ہماری ذمہ داریاں اور فرائض کیا بنتے ہیں۔ شعور محض آگاہی نہیں، بلکہ ایک زندہ احساس ہے۔ وہ احساس جو ہمیں اپنی ذات کے شور سے باہر نکال کر دوسروں کی ضروریات، ان کی تکلیفوں، ان کے دکھوں اور محرومیوں سے جوڑ دے۔

    حقیقی شعور وہ اعلیٰ علم اور اوصاف کا مجموعہ ہے جس میں انسان کو اپنی ذات کا ادراک بھی حاصل ہو، دوسروں کے درد کا احساس بھی، اپنے خالق کے حضور جواب دہی کا شعور بھی، اور اپنے سے کمزور انسانوں کے لیے دل کی نرمی بھی۔ یہ وہ شعور ہے جس میں انسان کی آنکھ صرف اپنے فائدے پر نہیں، بلکہ اپنے اردگرد کی دنیا پر کھل جاتی ہے، اور آنکھ کے ساتھ بصیرت بھی جاگ اٹھتی ہے۔جب یہ شعور بیدار ہوتا ہے تو مذہب رسم نہیں رہتا، اخلاق بن جاتا ہے۔ انسان محض وجود نہیں رہتا، ذمہ داری بن جاتا ہے۔ اور انسانیت نعرہ نہیں رہتی، عمل میں ڈھل جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسانیت کا نجات دہندہ باہر سے نہیں آئے گا۔ نہ کوئی مسیحا، نہ کوئی نظام، نہ کوئی طاقتور نظریہ۔ انسانیت کا نجات دہندہ ہر انسان کے اندر
    شعور انسان کے حقوق اور فرائض دونوں کا ادراک دیتا ہے، جو ذات، سماج اور خدا،تینوں کے درمیان رشتہ جوڑ دیتا ہے کے دور میں انسانیت کا سب سے بڑا دشمن جہالت نہیں، بلکہ بے حسی ہے۔ وہ بے حسی جو مذہب کو رسم بنا دے، انسان کو عدد، اور انسانیت کو محض تقریر۔ نجات وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان سوچنا شروع کرے، سوال اٹھائے، اور خود کو مرکزِ کائنات سمجھنے کے بجائے کائنات کا ذمہ دار فرد سمجھے۔
    یوں کہا جا سکتا ہے کہ انسانیت کا حقیقی نجات دہندہ باہر نہیں ہر انسان کے اندر موجود ہے۔

  • تشکیلِ فکر کا بحران،تحریر: اقصیٰ جبار

    تشکیلِ فکر کا بحران،تحریر: اقصیٰ جبار

    انسان کی اصل پہچان اس کی سوچ سے بنتی ہے۔
    نہ عمر اس کا تعارف ہے، نہ لباس، نہ ڈگری اور نہ ہی ظاہری کامیابیاں۔ اصل پہچان وہ زاویۂ نظر ہے جس سے وہ زندگی، انسان اور مسائل کو دیکھتا ہے۔ یہ زاویہ یکایک پیدا نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ تشکیل پاتا ہے، اور اس کی بنیاد عموماً نوجوانی میں رکھی جاتی ہے۔ اگر یہی بنیاد کمزور ہو تو بعد کی ساری عمارت بھی غیر متوازن ہو جاتی ہے۔
    آج ہم جس عہد میں جی رہے ہیں، اس کا سب سے بڑا بحران نہ تو معاشی ہے، نہ سیاسی اور نہ ہی محض اخلاقی۔ یہ بحران دراصل فکری ہے۔ ہم ایک ایسے زمانے میں سانس لے رہے ہیں جہاں جاننے کے ذرائع بے شمار ہیں، معلومات ہر لمحہ ہماری دسترس میں ہے، مگر اس کے باوجود سوچنے، ٹھہرنے اور غور کرنے کے مواقع مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو سب کچھ سکھایا جا رہا ہے، سوائے سوچنے کے۔

    تشکیلِ فکر کوئی فوری عمل نہیں۔ یہ نہ کسی نصاب کے ایک باب سے مکمل ہوتی ہے اور نہ کسی تقریر کے اختتام پر۔ یہ مطالعے، مشاہدے، سوال، تنقیدی نظر اور مسلسل غور و فکر کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا موجودہ تعلیمی اور سماجی نظام انسان کو معلومات تو فراہم کرتا ہے، مگر فکر پیدا نہیں کرتا۔ ہم پڑھتے ہیں مگر سمجھنے کے لیے نہیں، بلکہ آگے بڑھنے کے لیے۔ ہم سیکھتے ہیں مگر جانچنے کے لیے نہیں، بلکہ دہرانے کے لیے۔

    اسی مرحلے پر انسانی ذہن ایک خطرناک عادت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ سوچنے کے بجائے ردِعمل دینا سیکھ لیتا ہے۔ نتیجتاً آج کا انسان، خاص طور پر نوجوان ذہن، رائے تو رکھتا ہے مگر بنیاد کے بغیر۔ وہ فیصلے تو کرتا ہے مگر سوال کے بغیر۔ یہ فکری سطحیت محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ رویہ ہے۔ ہمیں شروع سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جلدی بولو، واضح مؤقف رکھو اور کسی قسم کے ابہام کو کمزوری نہ بننے دو، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فکر کی اصل بنیاد ابہام ہی سے جنم لیتی ہے۔ سوچ وہیں پروان چڑھتی ہے جہاں انسان کو مکمل یقین حاصل نہ ہو۔

    یہاں ادب کا کردار غیر معمولی ہو جاتا ہے۔ ادب انسان کو ٹھہراؤ عطا کرتا ہے۔ وہ ذہن کو یہ سکھاتا ہے کہ ہر سوال کا فوری جواب ضروری نہیں اور ہر مسئلے کا حل ایک جملے میں ممکن نہیں۔ ادب ذہن کو وسعت دیتا ہے، برداشت سکھاتا ہے اور مختلف زاویوں سے سوچنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ مگر جب ادب کو محض نصابی ضرورت بنا دیا جائے یا صرف ذوقی مشغلہ سمجھ لیا جائے تو وہ اپنی فکری تاثیر کھو دیتا ہے۔

    آج کا انسانی ذہن رفتار کا اسیر بن چکا ہے۔ وہ گہرائی کے بجائے خلاصہ چاہتا ہے، فلسفے کے بجائے اقتباس اور استدلال کے بجائے نعرہ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے فیصلے تیز تو ہوتے ہیں، مگر پختہ نہیں۔ ہم جلد مان لیتے ہیں اور جلد رد بھی کر دیتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ ہم نے جو قبول کیا یا جسے مسترد کیا، اس کی فکری بنیاد کیا تھی۔
    تشکیلِ فکر کا بحران دراصل اسی عدم توازن کا نام ہے۔ یعنی ذہن میں مواد تو بہت ہو، مگر ترتیب نہ ہو۔ الفاظ ہوں، مگر مفہوم نہ ہو۔ علم ہو، مگر حکمت نہ ہو۔ یہ بحران فرد کی ذات سے شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ پورے سماج میں سرایت کر جاتا ہے۔ جب ذہن تربیت یافتہ نہ ہو تو اختلاف بدتمیزی بن جاتا ہے، تنقید نفرت میں بدل جاتی ہے اور مکالمہ شور کا روپ دھار لیتا ہے۔
    ہم اختلاف اس لیے برداشت نہیں کر پاتے کہ ہم نے سوچ کو وسعت دینا نہیں سیکھا۔ ہم سوال سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ ہمیں سوال کرنا سکھایا ہی نہیں گیا۔ حالانکہ سوال ذہن کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔ جو ذہن سوال کرنا چھوڑ دے، وہ یا تو مطمئن نہیں بلکہ مقلد بن جاتا ہے۔

    یہاں ادب ایک مرتبہ پھر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ادب انسان کو دوسرا زاویہ دکھاتا ہے۔ وہ اسے اپنے سچ کے ساتھ دوسروں کے سچ کو بھی سننے کی تربیت دیتا ہے۔ تشکیلِ فکر کا مطلب کسی خاص نظریے کو اپنانا نہیں بلکہ ذہن کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ نظریات کو پرکھ سکے، تول سکے اور پھر شعوری طور پر کسی نتیجے تک پہنچے۔آج ہمیں ایسے انسان درکار ہیں جو صرف بولنا نہ جانتے ہوں بلکہ سوچنا بھی جانتے ہوں۔ جو اختلاف کریں تو فہم کے ساتھ، اور مانیں یا رد کریں تو دلیل کے ساتھ۔ یہ صلاحیتیں اچانک پیدا نہیں ہوتیں۔ یہ مطالعے، ادب سے رشتے، سوال سے دوستی اور خاموش غور و فکر کے نتیجے میں جنم لیتی ہیں۔

    اگر نوجوانی میں ذہن کی تشکیل نہ ہو تو انسان عمر بھر دوسروں کی سوچ کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے۔ وہ خود فیصلے کرنے کے بجائے مستعار خیالات پر زندگی گزارتا ہے۔ اور یہی اصل غلامی ہے۔ یہ غلامی زبان کی نہیں بلکہ ذہن کی ہوتی ہے۔تشکیلِ فکر کا بحران درحقیقت انسان کے آزاد ہونے کا بحران ہے۔ آزاد بولنے کا نہیں، آزاد سوچنے کا۔ اگر ہم نے اپنے ذہن کو سوچنے کی تربیت نہ دی تو باقی ساری ترقی محض ظاہری ہوگی۔ کیونکہ قومیں عمارتوں سے نہیں، ذہنوں سے بنتی ہیں۔ اور ذہن تب بنتا ہے، جب اسے سوچنے دیا جائے

  • مکافات عمل ، کائنات کا اٹل انصاف ،تحریر:پارس کیانی

    مکافات عمل ، کائنات کا اٹل انصاف ،تحریر:پارس کیانی

    انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے، اسے ایک سوال ہمیشہ بے چین کرتا رہا ہے کہ اس کے کیے ہوئے اچھے یا برے کام کا نتیجہ آخر اسے کیوں اور کیسے ملتا ہے۔ اور وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ کہیں یہ اس کی اپنے دماغ کی اختراع تو نہیں یا اس کی کوئی شخصی کمزوری تو نہیں جو اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ مکافات عمل (karma) جیسی بھی کوئی چیز ہے جس کے خوف کے تحت وہ زندگی گزارتا ہے۔

    مختلف تہذیبوں، مذاہب اور فلسفوں میں اس سوال کا جواب مختلف ناموں سے دیا گیاہے، کسی نے اسے "کرم” کہا، کسی نے "مکافاتِ عمل”، کسی نے "اخلاقی قانون”، کسی نے "فطری ردّعمل”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مگر ایک بات سب میں مشترک ہے: انسان جو کچھ کرتا ہے، وہی کسی نہ کسی صورت میں اس کے سامنے آ جاتا ہے۔ زندگی کے چلتے، وہ کائنات کے حوالے جو بھی قوتیں کرتا ہے کائنات پوری قوت سے اسے واپس کرتی ہے۔اگر کوئی مذہب یا خدا کو نہ بھی مانے، تب بھی کائنات کا نظام ایک سادہ اصول پر استوار ہے کہ ہر عمل ایک ردّعمل کو جنم دیتا ہے۔”اگر کوئی خدا کا انکار بھی کر دے تو کائنات کی توانائیوں کا انکار نہیں کر سکتا۔”

    ہر سوچ، ہر جذبہ، ہر عمل اپنے اندر ایک لہر رکھتا ہے۔ یہ لہر فضا میں چھوڑتے ہی اپنا سفر شروع کر دیتی ہے، اور سائنس کے مطابق electro magnetic field اور انسانی bio-field کی صورت میں گھوم کر واپس اسی انسان کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے۔اسی ردّ عمل کو مذہبی زبان میں مکافاتِ عمل کہا جاتا ہے، اور سائنسی زبان میں resonance vibration اور bio-energy کا اصول۔یہ صرف سائنسی حقیقت نہیں بلکہ زندگی کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔ جدید دماغی علوم ( مجموعی طور پر )( cognetive and behaveroul sciences esp.) کے مطابق جب انسان کوئی نیکی کرتا ہے، کسی کی مدد کرتا ہے، نرم رویہ اختیار کرتا ہے یا سچائی پر قائم رہتا ہے تو انسان کے دماغ میں ایسے کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں جو اس کے اندر اعتماد، سکون اور خوشی کی لہریں بیدار کرتے ہیں۔ یوں اس کے رویّے، فیصلے اور سوچ مثبت ہو جاتی ہے اور وہ بہتر حالات اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس بددیانتی، نفرت، دھوکا اور ظلم وہ کیمیکلز بڑھاتے ہیں جو بے چینی، اضطراب اور بوجھل ذہنی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ یعنی چاہے کوئی مانے یا نہ مانے، کائنات انسان کے ہر عمل کو ایک مخصوص توانائی کے طور پر قبول کرتی ہے اور اسی نوعیت کی لہریں کئی گنا اضافہ کے ساتھ واپس لوٹا دیتی ہے۔
    انسانی ذہن کے ماہرین کا موقف یہ ہے کہ برائی کا سب سے پہلا عذاب انسان کے اپنے اندر پنپتا ہے۔ جو شخص ظلم کرتا ہے، دھوکا دیتا ہے یا کسی کا حق مارتا ہے، اس کے شعور کے کسی کونے میں خوف، بداعتمادی اور گناہ کا احساس جڑ پکڑ لیتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ احساس اس کے کردار کو کھوکھلا کرتا ہے، اس کے رشتوں میں دراڑیں ڈالتا ہے اور زندگی میں مسلسل بے سکونی پھیلا دیتا ہے۔ نیکی کا اثر بالکل اُلٹ ہوتا ہے۔ اچھا کرنے والا فرد سب سے پہلے اپنے اندر ہلکا پن اور اعتماد محسوس کرتا ہے، اس کی سوچ میں وسعت آتی ہے اور اس کے رویے میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔ یوں وہ خود کو بھی سنوارتا ہے اور ماحول کو بھی بہتر بناتا ہے۔

    سماجی علوم کی رو سے معاشرہ بھی انسان کے عمل کو دیر تک نظرانداز نہیں کرتا۔ جو شخص لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، انصاف کا خیال رکھتا ہے یا دوسروں کے ساتھ سچائی کا رویہ اختیار کرتا ہے، سماج اسے عزت دیتا ہے۔ لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں، اسے پذیرائی ملتی ہے اور اس کا دائرۂ اثر وسیع ہوتا ہے۔ مگر جو فرد دھوکا دینے والا، موقع پرست یا نقصان پہنچانے والا ہو، معاشرہ اسے کسی نہ کسی مرحلے پر ردّ بھی کر دیتا ہے اور اس رویے کا منفی انجام اس کی زندگی میں ضرور سامنے آتا ہے۔ دنیا کی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے کہ ظلم اور ناانصافی کی بنیاد پر کھڑی ہوئی کوئی طاقت دیرپا نہیں رہی، جبکہ انصاف، انسانی وقار اور خیرخواہی پر مبنی رویے ہمیشہ دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔

    زمانہ گواہ ہے کہ بڑے بڑے ظالم وقت کے ایک موڑ پر شکست سے دوچار ہوئے۔ طاقت، دولت اور اختیار سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ داخلی خوف اور عدم تحفظ سے نہیں بچ سکے۔ اس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے انسانیت، انصاف اور سچائی کو اختیار کیا، چاہے عارضی مشکلات کا شکار ہوئے، مگر وقت نے ان کا ساتھ دیا۔ یہ محض اخلاقی یا مذہبی بیانیہ نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہے۔ مکافات عمل یا عمل کی واپسی یا فطری رد عمل ایک ایسا اصول ہے جسے ماننے کے لیے مذہب ضروری نہیں۔

    یہ بالکل ایسے ہے جیسے کششِ ثقل کو ماننے سے انکار کر دیں، چاہے مانیں یا نہ مانیں، وہ پھر بھی اثر کرتی ہے۔
    انسان کا ہر لفظ، ہر خیال، ہر ارادہ، ہر عمل ایک توانائی ہے جو کائنات میں گشت کرتی ہے اور اپنے جیسی توانائیوں کو کھینچ کر واپس لاتی ہے۔
    Karma ( بدلے کا عمل )
    آخر کیسے چلتا ہے؟
    آپ محبت دیتے ہیں، محبت ملتی ہے
    آپ دوسروں کے لیے راستے آسان کرتے ہیں، آپ کے راستے کھلتے ہیں
    آپ حسد، بغض، نفرت پھیلاتے ہیں، یہی چیزیں کئی گنا ہو کر آپ تک پہنچتی ہیں
    آپ رزق روکتے ہیں، رزق آپ سے روٹھ جاتا ہے
    یہ کوئی روحانی نعرہ نہیں، یہ انسانی تعلقات، نفسیات، معاشرت اور فطرت کا جامع قانون ہے۔
    اور کائنات کے فیصلے کبھی غلط نہیں ہوتے
    مکافاتِ عمل کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ اندھا انصاف کرتا ہے۔
    یہ ذات، مذہب، مقام، طاقت، دولت، ،شہرت کسی چیز کی رعایت نہیں کرتا۔
    اسی لیے دانا کہتے ہیں:
    "کائنات خاموش ہے، مگر حساب بہت باریک رکھتی ہے۔ انسان کا ہر لفظ، ہر ارادہ اور ہر عمل ایک توانائی بن کر فضا میں جاتا ہے اور پھر ایسا نہیں ہوتا کہ وہ کہیں گم ہو جائے۔ یہ واپس آتا ہے، مگر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ۔ یہی زندگی کا سب سے غیرجانبدار اصول ہے۔

    انسان جب محبت، خیرخواہی، آسانی یا نیکی بانٹتا ہے تو انہی خوبیوں کے دروازے اس کی اپنی زندگی میں کھلنے لگتے ہیں۔ اور جب وہ نفرت، حسد، بغض یا نقصان پھیلاتا ہے تو انہی چیزوں کا بوجھ اس کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔ رزق، عزت، سکون اور کامیابی بھی اسی اصول کے تابع چلتے ہیں۔ آسانیاں بانٹنے والا شخص آسانیوں کا مالک بنتا ہے، مگر دوسروں کے لیے مشکل پیدا کرنے والا فرد خود بھی مشکلات کے بھنور میں آ جاتا ہے۔
    تاریخ کے صفحات بھی مکافاتِ عمل کی سب سے بڑی شہادت ہیں۔ روم کی عظیم سلطنت ہو یا یونان کی فکری حکومت، عرب کی وسعتیں ہوں یا منگولوں اور عثمانیوں کی شہرت، جب تک یہ انصاف، نظم اور اعتدال پر قائم رہیں، دنیا نے ان کے سامنے سر جھکایا۔ اور جب ظلم، تکبر، بددیانتی اور انسانیت سے انحراف بڑھا تو انہی سلطنتوں کے ستون زمین بوس ہو گئے۔ فرعون کے پاس طاقت بےپناہ تھی مگر تکبر نے اسے ڈبو دیا۔ ہٹلر کے پاس لشکر تھے مگر نفرت نے اسے تباہ کر دیا۔ اس کے برعکس نیلسن منڈیلا جیسے لوگ جن کے پاس طاقت نہیں تھی، صرف سچائی اور انصاف کا اصول تھا، وقت نے انہیں عزت، وقار اور عظمت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا۔ یہ کوئی مذہبی یا روحانی دعویٰ نہیں بلکہ تاریخ کا فیصلہ ہے۔

    مکافاتِ عمل کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ کسی طاقت، دولت یا رتبے سے متاثر نہیں ہوتا۔ یہ کسی ذات، مذہب، علاقے یا حیثیت کے لحاظ سے فیصلہ نہیں کرتا۔ یہ صرف عمل کو دیکھتا ہے، نیت کو جانچتا ہے اور پھر وقت آنے پر اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے۔ انسان چاہے جتنا بڑا منصوبہ ساز بن جائے، کائنات کے باریک حساب سے نہیں بچ سکتا۔ انسان جو کچھ دیتا ہے، وہی ایک دن مجبوراً اس کے دروازے پر لوٹ کر کھڑا ہو جاتا ہےکبھی روشنی بن کر، کبھی اندھیرا بن کر.