Baaghi TV

Category: خواتین

  • ایک بار پھر معاشرہ سوالوں میں ،تحریر: ریحانہ جدون

    ایک بار پھر معاشرہ سوالوں میں ،تحریر: ریحانہ جدون

    مگر اب کی بار کٹہرے میں کوئی ایک فرد کھڑا نہیں ہے۔ آج ہم سب مجرم کی حیثیت سے آمنے سامنے کھڑے ہیں

    یہ سوالات نئے نہیں، مگر ان کی گونج اب پہلے سے زیادہ ہولناک ہے۔جب بھی کوئی حادثہ یا واقعہ ہوتا ہے، ہم بیدار ہو جاتے ہیں۔
    قانون اور اخلاقیات پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ پھر ہم کچھ دنوں میں سب کچھ بھول کر سو جاتے ہیں۔
    کیا ہم واقعی ایک زندہ اور سوچنے والا معاشرہ ہیں؟
    یا صرف ایسے واقعات پر ماتم کرنا ہماری عادت بن چکا ہے؟
    مگر اب کی بار کٹہرے میں کوئی ایک فرد کھڑا نہیں ہے۔آج ہم سب مجرم کی حیثیت سے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔
    ہم ہر المیے کو ایک سیاسی یا سماجی تماشا بنا دیتے ہیں۔
    یہ تحریر اسی آئینے کو صاف کرنے کی ایک کوشش ہے۔
    لیکن اب کی بار ان سوالوں کا بوجھ سرگودھا کی اس معصوم بچی کے جنازے سے بھی بھاری ہے۔
    وہ معصوم، جو اپنے ننھے ہاتھوں میں کچھ پیسے لیے کسی دکان پر سودا لینے گئی تھی۔اسے کیا معلوم تھا کہ گلی کا وہی راستہ اس کی زندگی کا آخری سفر بن جائے گا۔
    ہم کیسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بچے چیز لینے نکلیں تو لاشیں بن کر لوٹتے ہیں؟
    زینب سے لے کر منتہا تک یہ خونی سلسلہ آخر کب تھمے گا؟
    میرا یہ یہ کالم صرف ایک حادثے کا ماتم نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ماتم ہے
    سرگودھا کے بلاک نمبر 8 میں جو ہوا، وہ کسی ایک درندے کی وحشت نہیں ہے وہ اس گلے سڑے نظام اور بیمار ذہنیت کا کڑوا پھل ہے جسے ہم روز پالتے ہیں۔
    ںسرگودھا میں 8 سالہ معصوم بچی منتہا کے ساتھ پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ نہ صرف ایک جرم بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔
    ایک معصوم بچی گھر کے قریب دکان پر گئی اور واپس نہیں آئی
    CCTV
    کی مدد سے
    اور پولیس بروقت ایکشن سے دو ملزمان گرفتار ہوئے اگر پولیس نے بروقت رسپانس نہیں کیا ہوتا تو ملزم منتہا کی لاش ٹھکانے لگا چکے ہوتے۔۔
    یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ زینب، نور اور اب منتہا ۔۔۔
    ہر بار ہم احتجاج کرتے ہیں، مگر نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی۔
    ایک معصوم بچی کا اس طرح کا انجام پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔
    معصوم منتہا جیسے بچے ہمارے مستقبل ہیں
    ہم اپنے بچوں کو محفوظ ماحول بھی نہیں دے پا رہے
    یہ واقعہ صرف ایک مجرم کا جرم نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی ہے
    جہاں قانون سست، معاشرہ بے حس اور نظام جواب دہ نہیں۔

    کیا ہمارا قانون ایسے درندوں کو سرے عام سزا دے سکتا ہے؟
    کیا ہماری بچیاں گھر کے قریب بھی محفوظ ہیں؟

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات کے ساتھ ساتھ اس کا حل بھی تلاش کریں۔
    بچوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین، فوری انصاف اور والدین کی ذمہ داری ۔۔۔
    یہ سب مل کر ہی کام کر سکتے ہیں۔
    اللہ ہم سب کے بچوں کو اس طرح کے سانحات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

  • معاشرتی رویے اور ہماری ذمہ داری ،تحریر :نور فاطمہ

    معاشرتی رویے اور ہماری ذمہ داری ،تحریر :نور فاطمہ

    معاشرہ افراد کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی ترقی یا زوال کا دارومدار لوگوں کے رویوں پر ہے۔ رویہ انسان کی تربیت، اخلاق اور سوچ کا عکس ہوتا ہے۔ مثبت رویے معاشرے کو جوڑتے ہیں جبکہ منفی رویے اسے توڑ دیتے ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں آج دو طرح کے رویے عام ہیں۔ ایک وہ لوگ جو محبت، برداشت، تعاون اور عزت کو اپناتے ہیں۔ وہ دوسروں کی بات سنتے ہیں، کمزور کا سہارا بنتے ہیں اور چھوٹی بات پر جھگڑا نہیں کرتے۔ یہی لوگ معاشرے کی اصل بنیاد ہیں۔ دوسری طرف وہ رویے ہیں جو عدم برداشت، حسد، بدتمیزی اور خود غرضی پر مبنی ہیں۔ ٹریفک میں گالی گلوچ، قطار توڑنا، سوشل میڈیا پر کسی کی تضحیک کرنا اور اختلاف رائے کو دشمنی سمجھنا اب عام ہو چکا ہے۔ ایسے رویے معاشرے کے امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    انسان کا رویہ یکدم نہیں بنتا۔ اس کی تشکیل میں گھر، اسکول اور میڈیا تینوں کا کردار ہے۔ بچہ سب سے پہلے گھر سے سیکھتا ہے۔ اگر والدین ایک دوسرے سے عزت سے پیش آئیں، سچ بولیں اور مہمان نوازی کریں تو بچہ بھی وہی اپنائے گا۔ اسکول میں استاد کا کام صرف کتاب پڑھانا نہیں بلکہ کردار بنانا بھی ہے۔ افسوس کہ آج تعلیم صرف ڈگری تک محدود رہ گئی ہے۔ اخلاق اور تہذیب پیچھے رہ گئے ہیں۔ تیسرا استاد میڈیا ہے۔ جو مواد ہم روز دیکھتے ہیں وہی ہمارے لاشعور میں بیٹھ جاتا ہے۔ نفرت، طنز اور فیک نیوز نے ہمارے صبر کو کم کر دیا ہے۔

    رویوں کی خرابی کی بڑی وجہ "میں” کا بڑھ جانا ہے۔ ہم دوسروں کو نیچا دکھا کر خود کو اونچا سمجھتے ہیں۔ برداشت ختم ہو گئی ہے۔ تھوڑی سی مخالفت پر ہم لڑنے مرنے پر آ جاتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی نے لوگوں کو چڑچڑا کر دیا ہے، مگر یاد رکھیں کہ رویہ حالات سے زیادہ ہمارے انتخاب سے بنتا ہے۔

    اصلاح کی شروعات خود سے کرنی ہوگی۔ مسکرا کر بات کرنا، شکریہ اور معذرت کہنا، بزرگوں کا احترام کرنا، چھوٹوں سے شفقت کرنا اور دوسرے کے احساس کو سمجھنا – یہ چھوٹے عمل ہی بڑی تبدیلی لاتے ہیں۔ جب ہر شخص دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے گا تو معاشرہ خود بخود بہتر ہو جائے گا۔

    قومیں اینٹ پتھر سے نہیں بنتیں، رویوں سے بنتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان پرامن، ترقی یافتہ اور عزت دار ملک بنے تو ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ کیونکہ دنیا ہمیشہ ویسی ہی بنتی ہے جیسے ہم ہوتے ہیں۔

  • یتیمی کا نوحہ اور آج کا دن،تحریر: بینا علی

    یتیمی کا نوحہ اور آج کا دن،تحریر: بینا علی

    آج فادرز ڈے ہے ابو…
    وہ دن جب ساری دنیا کے باپ اپنی بیٹیوں کی ہنسی میں جیتے ہیں۔ اور میں؟ میں آپ کی یادوں سے لپٹ کر رو رہی ہوں۔ "کتابِ زندگی کا وہ اداس ترین صفحہ جسے پلٹتے ہوئے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور دل اتنا بوجھل ہو جاتا ہے کہ سانس لینا بھی اذیت لگتا ہے۔ ابو شہرِ محبتاں سے ہجرت اور یتیمی کے 5 سال یہ دو سانحے ایک ہی دن میرے مقدر میں لکھ دیے گئے۔بچھڑ جانے والوں پر صبر کرنایہ صبر نہیں بلکہ پل پل مرنا ہے۔ آپ کے بنا 5 سال نہیں گزرے 5 صدیاں بیت گئیں ہیں۔ ہر دن ایک صدی جیسا بھاری، ہر رات قیامت جیسی لمبی۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں نے دکھوں کے ساتھ ایک نہیں کئی عمریں گزار دی ہوں۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی جیسے کچھ بھی نہیں ہے۔
    "ماں کی جمع مائیں ہوتی ہے، مگر باپ کی جمع نہیں ہوتی۔”

    میں نے باپ کے سارے نام سوچے والد، ابا، باپ، ابو لیکن کسی ایک لفظ کی بھی جمع نہیں مل سکی! کیونکہ زندگی میں ماں کے رشتے پر بہت سے رشتے جڑے ہوتے ہیں خالہ، پھوپھو، ساس سب ماں جیسی ہو سکتی ہیں۔

    لیکن باپ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔اسی لیے اس کی کمی کا خلاء کبھی پر نہیں ہوتا۔ آج شبِ غم نے دکھوں کی سیاہ چادر اوڑھ رکھی ہے۔ ہر طرف نوحہ ہے، بین ہے، ماتم ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کربلا کا کوئی منظر میرے سینے میں دہرایا جا رہا ہو۔ زخم ہیں کہ بھرنے کا نام نہیں لیتے۔ زندگی کی رونقیں آپ کے ساتھ ہی دفن ہو گئیں ابو اب تو سانسیں بھی اداس ہیں اور میں بھی۔ لمحے، پل، منٹ، گھنٹے، دن، مہینے اور یتیمی کے یہ 5 سال اللہ! کیسی کٹھن مسافت تھی۔ کانٹوں پر ننگے پاؤں چلنے جیسی۔ 5 برس سے میرا وجود زمین و آسمان کے درمیان معلق ہے۔ نہ جینے میں ہوں نہ مرنے میں۔ قدموں کے نیچے سے زمین آپ کے ساتھ ہی کھسک گئی تھی۔ دل شکستہ ہے روح زخمی ہے یوں لگتا ہے جیسے میں خود اپنے آپ پر بوجھ ہوں۔
    ابو 5 سال پہلے تک ہنسی کا مطلب ہنسی تھا، عید کا مطلب عید تھا۔ کیوں؟ کیونکہ "باپ” کا سایۂ شفقت سر پر تاج کی طرح سجا تھا۔ "باپ” لفظ نہیں، ایک پوری کائنات ہے۔ اس میں محبت کی گرمی ہے، شفقت کی ٹھنڈک ہے، لاڈ کی نرمی ہے، ایثار کا سمندر ہے اور بے لوث حفاظت کا آہنی حصار ہے۔ آپ میرا مان تھے، میرا غرور تھے۔ میرا پہلا لفظ، میرا پہلا ہیرو، میری پہلی محبت، میری دھڑکن۔ وہ مضبوط دیوار تھے جو زمانے کے ہر طوفان کے آگے ڈھال بن جاتی تھی۔
    مگر جب بیٹی کا باپ چلا جاتا ہے نا ابوتو دنیا کی ساری روشنیاں بجھ جاتی ہیں۔ رنگوں سے خوشبو اڑ جاتی ہے۔ ہونٹ ہنستے ہیں تو آنکھیں رو پڑتی ہیں۔ ہر خوشی کے پیچھے ایک گہری اداسی چھپی ہوتی ہے۔ ابو! کاش آپ نہ جاتے کاش یہ سب ایک بھیانک خواب ہوتا اور میں چیخ مار کر جاگ جاتی۔ مگر یہ خواب نہیں یہ تلخ حقیقت ہر روز میرا دم گھونٹ دیتی ہے۔
    فادرز ڈے پر سب اپنے ابو کو تحفہ دیتے ہیں۔ میرا تحفہ کہاں جائے ابو؟

    اے میرے رب! میرے والدِ محترم اور والدہ محترمہ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔ وہاں نور ہی نور کر دے۔ ان کی روحوں کو ٹھنڈک عطا فرما۔ انہیں جنت الفردوس کے اعلیٰ ترین محلوں میں جگہ دے۔ آمین۔
    اے اللہ! جس جس کا باپ زندہ ہے، اس کا سایہ سلامت رکھنا۔ اسے کبھی یتیمی کے اس عذاب سے نہ گزارنا۔ حتیٰ کہ دشمن کو بھی نہیں کیونکہ قسم ہے اس رب کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اتنی اذیت میں دشمن کے لیے بھی نہیں برداشت کر سکتی ۔تمام پڑھنے والوں کے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے ایک بار سورۃ فاتحہ اور 3 بار درودِ پاک پڑھ کر میرے امی ابو کو بخش دیں۔ شاید آپ کی دعا سے ان کی قبر روشن ہو جائے۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

  • ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    ہر سال 14 جون کو ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے منایا جاتا ہے اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب Red crecent( انجمن ہلال احمر ) کے لاہور آفس یعنی ایک بہت خوبصورت اور قدیم عمارت میں منعقد کی گئی اس کامیاب تقریب کا سہرا ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر فوزیہ سعید کے سر ہے جو بہت مخلص اور فرض شناس آفیسر ہیں مختلف کالجز اور اداروں میں جاکر بلڈ کیمپ لگانا خون اکھٹا کرنا پھر تمام انتظامات دیکھنا کوئی آسان کام نہیں وہ اپنی ٹیم کے ساتھ یہ کام بخوبی انجام دے رہی ہیں تھلیسمیا میں مبتلا بچوں کی اور ان کے والدین کی دعائیں سمیٹتی ہیں اس تقریب کی کامیابی کے لئے انہوں نے بہت محنت کی تھی

    یہ بھر پور تقریب تھی مہمان خصوصی ڈاکٹر شبنم بشیر صاحبہ وائس پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج تھیں گیسٹ سپیکرز میں ڈاکٹر ماریہ خان ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی، شعیب مرزا صاحب ایڈیٹر پھول، ڈاکٹر نورالدین چیف ایگزیکٹو فینکس فاونڈیشن شامل تھے ،تقریب میں باقاعدہ خون کا عطیہ دینے والے ڈونررز جن میں کالجز اور کمپنیز کے نمائندگان شامل تھے انہیں گولڈ میڈلز دئیے گئے کچھ رائٹرز جنہوں نے کسی نہ کسی حوالے سے تھلیسمیا کے مسائل اپنی تحریروں اور انٹرویوز وغیرہ کے ذریعے اجاگر کئے انہیں بھی گولڈ میڈل دیئے گئے جن میں ہم بھی شامل تھے ۔طالبات اور والنٹیر ز کو سرٹیفیکیٹس دے کر حوصلہ افزائی کی گئی، تقریب میں تھلیسمیا میں مبتلا بچے بھی شامل تھے ایک بچے علی سفیان نے سورہ رحمان کی تلاوت سے تقریب کا آغاز کیا تھا اور اس کے بعد ایک بچی مریم حنیف نے ہدیہ نعت پیش کیا ایک اور بچہ عبداللہ بھی شامل تھا تقریب کے بعد ہم نے اس وارڈ کا وزٹ کیا جہاں انہیں خون لگایا جا رہا تھا دل افسردہ ہوگیا لیکن بظاہر ان بچوں کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ یہ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں لگتا تھا کہ ان کی اچھی دیکھ بھال ہو رہی ہے اس کا کریڈٹ انجمن ہلال احمر کے آفس میں موجود تمام ڈاکٹرز اور عملے کو جاتا ہے اس پروگرام میں شرکت سے یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹرز اس بات پر متفق ہیں کہ خون کا عطیہ دینے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا خون دوبارہ جلد ہی بن جاتا ہے اس لیے صحت مند افراد کو خون کا عطیہ دینا چاہیے تاکہ ان بچوں کو آسا نی ہو جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ فوزیہ سعید صاحبہ ہر چار مہینے بعد خون کا عطیہ دیتی ہیں وہ 54 بار خون دے چکی ہیں
    خون دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب

    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

    تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

  • قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    کسی بھی قوم کی پہچان اس کی زبان، ثقافت اور لباس سے ہوتی ہے۔ یہی عناصر اس کے تشخص کو زندہ رکھتے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ بطور بانیٔ تحریک میرا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنی قوم کو اس کی اصل شناخت سے جوڑیں اور زبان و قومی لباس کے فروغ کو اپنی اجتماعی ذمہ داری بنائیں۔
    زبان صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب و تاریخ کی امین ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان سے دور ہوتی ہے تو وہ اپنی جڑوں سے کٹنے لگتی ہے۔ ہماری تحریک اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ قومی زبان کو تعلیم، ابلاغ اور روزمرہ زندگی میں نمایاں مقام دیا جائے تاکہ نوجوان نسل اپنی ثقافت پر فخر محسوس کرے۔ ہمیں چاہیے کہ گھروں، تعلیمی اداروں اور سماجی تقریبات میں اپنی زبان کو ترجیح دیں اور اسے ترقی کے سفر میں ساتھ لے کر چلیں۔

    اسی طرح قومی لباس ہماری روایت، سادگی اور اقدار کی علامت ہے۔ بدلتے ہوئے رحجانات کے دور میں اپنی روایتی پوشاک کو نظرانداز کرنا دراصل اپنی پہچان کو کمزور کرنا ہے۔ ہمارا پیغام یہ نہیں کہ ہم جدیدیت سے منہ موڑ لیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی روایات کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ قومی لباس کو فخر اور وقار کے ساتھ اپنانا ہماری ثقافتی بقا کی ضمانت ہے۔
    ہماری تحریک کا عزم ہے کہ تقریبات ،سماجی ذرائع ابلاغ ،ثقافتی میلوں اور آگاہی مہمات کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ ہم نوجوانوں کو اس کارِ خیر میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ زبان و ثقافت کا چراغ روشن رہے۔
    آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی قوم کی زبان اور قومی لباس کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ جو قوم اپنی پہچان کو سنبھال کر رکھتی ہے، وہی دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔
    تحریک صرف قومی زبان کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ عملی طور پر فروغِ اردو کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس کے تحت تحریک کے زیر اہتمام تربیتی نشستوں اور کارگاہوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لکھاریوں کے لیے ایک روزہ تربیتی نشست ( رموزِ اوقاف) دس روزہ ( اصنافِ ادب )تیس روزہ ، شاعرات کے لیے ( علمِ عروض) خواتین اہلِ قلم کے لیے چالیس روزہ (تزئین کارگاہ) اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ اردو زبان کو فروغ دیا جائے۔

    تحریک میں موجود طالبات کی مدد اور آسانی کے لیے تعلیمی، علمی ،ادبی مواد کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے اور رومن رسم الخط کے متعلق آگاہی دی جاتی ہے کیونکہ قومی زبان دنیا بھر میں ہماری شناخت ہے، اور جو قومیں اپنی زبان کو عزت دیتی ہیں، دُنیا ان کو عِزت دیتی ہے۔

  • محبت سے عدالت تک،تحریر:صدف ابرار

    محبت سے عدالت تک،تحریر:صدف ابرار

    کبھی گھر محض اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ محبت، اعتماد، تحفظ اور وابستگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں زندگی کی تلخیاں بانٹی جاتی تھیں اور خوشیاں کئی گنا بڑھ جاتی تھیں۔ مگر آج اسی گھر کی دیواریں تو قائم ہیں، لیکن ان کے اندر بسنے والے رشتے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ نازک اور غیر محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔

    اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں دائر ہونے والے ہزاروں طلاق، خلع اور نان نفقہ کے مقدمات محض قانونی کارروائیاں نہیں، بلکہ ایسے رشتوں کی خاموش داستانیں ہیں جو کبھی محبت، اعتماد اور مشترکہ خوابوں کی بنیاد پر قائم ہوئے تھے۔ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں 45 ہزار سے زائد فیملی مقدمات کا عدالتوں تک پہنچ جانا ایک ایسا اشارہ ہے جسے صرف اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ہر فائل کے پیچھے ایک الگ دنیا آباد ہوتی ہے۔ کہیں ایک عورت برسوں کی خاموش اذیت کے بعد انصاف کی تلاش میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، کہیں ایک مرد ناکام ازدواجی زندگی کے بوجھ تلے دب کر کسی حل کی امید لیے کھڑا ہوتا ہے، اور کہیں معصوم بچے ایسے فیصلوں کے اثرات سمیٹ رہے ہوتے ہیں جن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ عدالت کے ریکارڈ میں یہ صرف ایک مقدمہ ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ کئی زندگیوں کی کہانی ہوتی ہے۔

    یہ سوچنا آسان ہے کہ طلاقوں میں اضافہ صرف معاشی مشکلات یا سوشل میڈیا کا نتیجہ ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ معاشی دباؤ یقیناً ایک اہم وجہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ برداشت کی کمی، بڑھتی ہوئی انا، غیر حقیقی توقعات، ذہنی دباؤ، جذباتی فاصلے اور مؤثر مکالمے کا فقدان بھی رشتوں کو کمزور کر رہا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے سے زیادہ بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جب یہ کوشش ناکام ہو جاتی ہے تو رشتے بھی کمزور پڑنے لگتے ہیں۔

    سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اکثر اوقات رشتے اچانک نہیں ٹوٹتے۔ ان کے درمیان دراڑیں بہت پہلے پڑ چکی ہوتی ہیں۔ ایک نہ سنی جانے والی بات، ایک ادھورا احساس، ایک ٹوٹا ہوا وعدہ اور ایک غیر محسوس بے اعتنائی وقت کے ساتھ اتنی بڑی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ دو لوگ، جو کبھی ایک دوسرے کی دنیا ہوا کرتے تھے، اجنبی بن جاتے ہیں۔ عدالت میں جمع ہونے والی درخواست دراصل اس طویل سفر کا آخری مرحلہ ہوتی ہے۔

    ان مقدمات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اکثر بچے ہوتے ہیں۔ وہ بچے جو والدین کے اختلافات کو سمجھنے کی عمر نہیں رکھتے، مگر ان کے اثرات زندگی بھر اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ٹوٹتے ہوئے خاندان صرف دو افراد کو الگ نہیں کرتے، بلکہ بعض اوقات ایک پوری نسل کے جذباتی اور نفسیاتی مستقبل کو متاثر کر دیتے ہیں۔

    اسلام آباد کی عدالتوں میں جمع ہونے والی یہ فائلیں دراصل ہمارے معاشرے کے سامنے ایک آئینہ رکھتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ترقی صرف بلند عمارتوں، جدید سہولیات اور معاشی اشاریوں کا نام نہیں۔ ایک معاشرے کی اصل طاقت اس کے مضبوط خاندان، صحت مند تعلقات اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
    اگر ہم اس بڑھتے ہوئے رجحان کو صرف عدالتی اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے تو شاید ہم اصل مسئلے کو کبھی سمجھ ہی نہ سکیں۔ کیونکہ یہ صرف طلاقوں میں اضافے کی کہانی نہیں، بلکہ ان انسانی رشتوں کی داستان ہے جو کہیں راستے میں کمزور پڑ گئے۔ سوال یہ نہیں کہ عدالتوں میں کتنے مقدمات دائر ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے گھروں کے اندر ایسا کیا بدل رہا ہے جو محبت کو فاصلے میں، گفتگو کو خاموشی میں اور ساتھ کو علیحدگی میں تبدیل کر رہا ہے۔

    شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اعداد و شمار گننے کے بجائے ان وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کریں جو ان اعداد و شمار کو جنم دے رہی ہیں۔ کیونکہ جب خاندان کمزور ہوتے ہیں تو اس کی قیمت صرف میاں بیوی نہیں، پورا معاشرہ ادا کرتا ہے۔

  • بہروپیا(افسانہ) :میمونہ فرحت

    بہروپیا(افسانہ) :میمونہ فرحت

    صبح کا وقت تھا اور موسم بڑا خوشگوار تھا لیکن کمرے میں سگنلز کی عدم موجودگی نے خوشگواری کا تسلسل توڑنا چاہا سگنلز ضروری تھے کیونکہ آج میری پسندیدہ انفلوئنسر نے لائیو آنا تھا میں چائے کا کپ اٹھائے بالکونی میں جا کھڑا ہوا کیونکہ وہاں نیٹ بہتر چلتا تھا ۔۔۔میرے فون پہ نوٹیفیکیشن آیا ۔۔۔۔۔” دی سوپر اسٹار اسمارا اپلوڈڈ آ سٹوری ” میں نے جلدی سے کھولی تو اس میں درج تھا کہ ابھی کسی تکنیکی مسئلے کی وجہ سے وہ لائیو نہیں آسکتیں شاہد شام میں آئیں بحرحال آپکو آگاہ کردیا جائیگا مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن کیا کیا جا سکتا تھا۔ میں نے موبائل سائڈ پہ رکھتے ہوئے چائے کی ایک اور چسکی لی تو میری نظر برابر والے گھر سے نکلتی ہوئی اسما پر پڑی جو نہایت عام سی شکل وصورت ،قمیص شلوار میں ملبوس سفید چادر اوڑھتی ہوئی موٹر سائیکل پر سوار ہوئی ،وہ بہت اکڑو تھی کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی ۔۔اور پھر مجھ سے مزاج کا انسان تو اس سے بلکل بات کرنا بھی پسند نہ کرے ۔مجھے تو اسمارا جیسی لڑکیاں بھاتیں۔۔۔میں کچھ دیر وہاں ٹہلتا رہا پھر دفتر جانے کی تیاری میں مشغول ہو گیا ۔شام کے قریباً چار بج رہے تھے میں دفتر سے واپس آرہا تھا کہ مجھے رستے میں اسما نظر آئی اسکی موٹر سائیکل غالباً چوری ہوچکی تھی اور اب ٹیکسی کے انتظار میں تھی ،جتنی وہ عجیب اور نخرے باز تھی میرا دل تو نہیں تھا مدد کا مگر میرے اندر موجود انسانیت کی دکان اسے قرض دیے بغیر رہ نہ سکی میں نے بریک لگائی اور کہا : اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں آپ کو گھر چھوڑ سکتا ہوں میرا گھر آپکے گھر کے برابر میں ہی ہے ۔پہلی دفعہ تو اس نے بات سنی ان سنی کر دی میں نے دو تین مرتبہ اصرار کیا پھر جا کر وہ پچھلی سیٹ پر آ کر براجمان ہوئی،اور بیٹھتے اپنے موبائل میں لگ گئی۔میں نے گاڑی سٹارٹ کی تو میرے فون پہ نوٹیفکیشن آیا۔دی اسمارا اپلوڈڈ سٹوری میں نے دیکھا تو اس میں درج تھا فکس آدھے گھنٹے کے بعد وہ لائیو آئیں گی میں نے غصے سے اسما کی طرف دیکھا جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی اگر وہ میرا وقت ضائع نہ کراتی تو میں اب تک گھر ہوتا۔جیسے تیسے میں نے بیس منٹ میں اسما کو گھر چھوڑا اپنی گاڑی پارک کی اور سیدھا بالکنی کی طرف روانہ ہوا موبائل وہاں سیٹ کیا چائے منگوا لی ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ لائیو آگئی ۔۔ سو سوری گائز میں نے صبح لائیو آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کچھ مسائل کی وجوہات پر میں نہ سکی تو کیسے ہیں آپ سب ؟

    سیاہ بال جو کبھی لمبے ہو جاتے تو کبھی چھوٹے کبھی سیدھے اور کبھی گھنگریالے ہر روز فیشن کے نام پر نیا تجربہ اور ہر بار تجربہ ثمر پار ثابت ہوتا وہ ہر طرح کے حلیے میں حسین ترین لگتی تھی۔کبھی کبھار ہی لائیو آتی لوگ اس سے سوال پوچھتے ہیں جواب دیتی اس سے جواب پا لینا بھی کسی کی خوش قسمتی ہی ہوتی تھی میں نے بھی کئی دفعہ پیغام چھوڑا لیکن مجھ پہ قسمت کبھی اتنی مہربان نہیں ہوئی۔اچھا تو اگلا سوال ہے اسماء کا انہوں نے کہا ہے کہ آپ بہت پیاری ہیں تھینک یو سو مچ اسما آپ بھی بہت پیاری ہیں ہم سب ہی پیارے ہوتے ہیں۔یہ بات اس نے کہہ تو دی تھی لیکن شاید اس نے اسماء کو حقیقت میں نہیں دیکھا تھا اگر وہ دیکھتی تو کبھی یہ نہ کہتی کہ سب حسین ہوتے ہیں

    اچھا گائز پھر کبھی لائیو آؤں گی اور ڈھیر ساری باتیں کریں گے اللہ حافظ۔ابھی وہ گئی تھی کہ امی آ گئی تم ہر وقت اس موبائل میں گھسے رہتے ہو مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔کیا بات کرنی ہے اماں ؟دیکھو لمبی چوڑی باتیں کرنا مجھے پسند نہیں سیدھا کہتی ہوں۔۔۔۔دروازے کی گھنٹی بجے میں دروازہ کھولنے گیا تو دروازے پہ موجود موٹر سائیکل پر سوار دو لڑکیاں تھی جو غالباً پولیو کے قطرے پلانے آئیں تھیں موٹر سائیکل کچھ دیکھا دیکھا لگ رہا تھا اور ان میں سے ایک لڑکی کی آواز بھی جانی پہچانی تھی لیکن میں نے غور نہیں کیا اور انہیں یہ بتا کر دروازہ بند کر دیا کہ یہاں میں سب سے چھوٹا بچہ ہوں۔

    واپس آیا ہاں تو اماں اپ کچھ کہہ رہی تھی۔۔اب میں نے کیا کہنا ہے ساری بات کا تسلسل خراب کر دیا صبح بات کریں گے۔۔
    صبح ناشتے کی میز پر ہی میں نے اماں سے پوچھا۔
    اماں آپ نے کچھ کہنا تھا شام میں، کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے نا, بات تو میں بتاتی ہوں پر پہلے تو مجھ سے وعدہ کر کہ تو میری بات مانے گا۔۔ اماں شادی کے علاوہ جو بات منوانی ہے منوا لو۔۔
    نہیں نہیں اس دفعہ بس تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے۔بس دس منٹ کے لیے ،وعدہ شادی کی بات نہیں کروں گی ۔۔لیکن اماں جانا کہاں ہے؟ زیادہ سوال نہیں کرو میرے ساتھ چلو۔

    اچھا اماں آپ چلیں میں کپڑے بدل کر آتا ہوں۔ میں اماں کے بتائے ہوئے رستے پر ان کے ہمراہ چل پڑا کچھ دیر کے بعد ہم ایک آستانے پر پہنچے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ گھنگریالے بال، بڑی بڑی آنکھوں میں بہت زیادہ سرمہ پیلے دانت ،سیاہ رنگ کا کرتا گلے میں رنگ برنگی تسبیحات ڈالے ایک عورت نما کوئی جاندار چیز بیٹھی دم درود پڑھ رہی تھی۔ خوف اور مسکراہٹ کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ میں نے اماں کی طرف دیکھا۔۔تو اماں نے اسکے جواب مجھے ڈانٹنے والی نظروں سے دیکھا۔۔اور چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ہمارا نمبر آیا اماں نے اسے بتایا کہ میں شادی نہ کرنے پر بضد تو اس نے اماں کو کوئی کاغذ پکڑایا جس پر نہ جانے کیا لکھا تھا اور ان کے کان میں کوئی بات کی جو بہر حال مجھے سنائی نہیں دے سکی۔۔۔اماں نے ان سے اجازت چاہی ۔۔ویسے میرا دل تو معذرت چاہنے کا تھا۔۔۔۔وہاں سے ہم گھر کے لیے روانہ ہوئے اور اسمارہ نے دوبارہ لائیو آنا تھا گھر پہنچے موسم کچھ خراب ہو گیا ، ایک دم آندھی آگئی جو کپڑے چھت پر پھیلائے تھے وہ پڑوسیوں کے گھر جاگرے تو میں نے اماں کو بتایا کیونکہ اسما کے گھر جانا مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا گھر میں بس وہ ماں بیٹی ہی رہتی ہیں تو یوں مناسب نہیں لگتا اماں نے مجھے مجبور کیا کہ جاگ کر میں کپڑے لے آؤں تجھے کیا کہنا ہے ان لوگوں نے اتنی دیر میں نوٹیفیکیشن آیا پندرہ منٹ بعد لائیو آؤں گی ۔ ۔۔میں نے جلدی جلدی پڑوسیوں کا دروازہ بچایا تو اس کی اماں نے دروازہ کھولا میں نے بتایا کہ ہوا کی وجہ سے کپڑے گر گئے تھے وہ پکڑا دیں انہوں نے مجھے اندر بلا لیا بیٹھنے کو کہا میں نے منع کیا اور کہا کہ مجھے کپڑے دے دے اب کیونکہ میں ان کے گھر پہلی دفعہ گیا تھا تو وہ کپڑے لینے کے بجائے کچن میں چلی گئی مجھے جلدی تھی اور ان کے منصوبے لمبے نظر آرہے تھے لیکن میں مجبور تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ کپڑے گندی جگہ پر گر گئے تھے تو اسمإ نے دوبارہ دھو کر چھت پر پھیلا دیے ہیں اب بیٹا میری ٹانگوں میں تو اتنی جان نہیں کہ میں چھت پر جاؤں اور اسما کسی کام میں مصروف ہے اپنا ہی گھر ہے چھت سے میرا بیٹا جا کر کپڑے لے آؤ۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں ان کو کیا کہوں ؟ مجھے دیر ہو رہی تھی اور وہ میری امی کی طرح بات نہیں سمجھ رہی تھیں میں بھاگتا بھاگتا چھت پر جا رہا تھا برآمدے میں کمرے کے آگے سے گزرا اس کا دروازہ آد کھلا تھا سامنے دیوار پہ مجھے ایک لڑکی کی تصویر نظر آئی جو آدھی دکھ رہی تھی اور تصویر لگ بھی دیکھی دیکھی رہی تھی تو میں نے لاشعوری طور پر کمرے کا دروازہ کھول دیا اس وقت مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کہاں جاؤں ،پیروں تلے زمین نکلنا اس سے پہلے تک میرے لیے صرف ایک محاورہ تھا۔۔اس دن میرے لیے ایک عجیب قسم کا تجربہ تھا وہ تصویر وہی تصویر تھی جو اسمارا کے سٹوڈیو میں لگی نظر آتی تھی جب بھی وہ لائیو آتی تھی،اور وہاں شیشے کے سامنے ایک لڑکی جو میرا خواب تھی کائنات کی حسین ترین لڑکی اپنے حسن کو مزید سنوار رہی تھی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی موٹر سائیکل کی چابی، سفید چادر ،پولیو کے قطرے پلانے والا نیلے رنگ کا ڈبہ سیاہ رنگ کا کرتا ایک طرف لٹکا تھا اور اسی کے ساتھ رنگ برنگی تسبیحات پڑی تھیں ،ایک جانب لینز کی ڈبی پڑی تھی جو اکثر اسمارہ لگایا کرتی تھی اور دوسری جانب ایک ڈبیا میں پیلے دانت یہ سارا منظر کچھ لمحوں کا بھی نہیں تھا میں کیسے وہاں سے گھر پہنچا نہیں معلوم کپڑے لائے نہیں لائے لیکن سوال بہت سارے لے آیا تھا۔
    مجھے نہیں معلوم تھا کہ قسمت نے مجھ پر اس طرح مہربان ہونا تھا۔

  • تعاقب کرتی سبز آنکھیں،تحریر: بینا علی

    تعاقب کرتی سبز آنکھیں،تحریر: بینا علی

    آج فیس بک اسکرول کرتے ہوئے ایک پوسٹ اچانک نگاہوں کے سامنے آ گئی۔ اُس بچے کی سبز آنکھوں کے سحر نے جیسے مجھے جکڑ لیا۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے سامنے عمر راٹھور شہید کھڑا ہو۔ انگلیوں کی جنبش تھم گئی، سانس بوجھل ہو گئی اور سوچیں بہت دور تک پھیلتی چلی گئیں۔جب زینب قتل کیس رونما ہوا، اُس وقت میری بیٹی بھی تقریباً چار سال کی تھی۔ عجیب اتفاق یہ تھا کہ زینب نے جس رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا، ویسا ہی کوٹ میری بیٹی کے پاس بھی تھا۔ اُس سانحے کے بعد نہ جانے کتنی راتیں عدمِ تحفظ، خوف اور بے خوابی میں گزریں۔ اکثر اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو سینے سے لگا کر دیر تک روتی رہتی تھی۔ ہر ماں اُس وقت زینب میں اپنی بیٹی دیکھ رہی تھی۔

    زینب کی خاموش آواز آپ سب بنے… آپ کی چیخ، آپ کا احتجاج اور آپ کی بے چینی ہی تھی جس نے قاتل کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ آج پھر ایک عمر ہم سے انصاف مانگ رہا ہے۔ خدارا! عمر کی مدفون سسکیوں کی آواز بن جائیں۔ وہ معصوم جنت کا شہزادہ بن کر اپنے رب کے پاس چلا گیا، مگر اب زمین پر انصاف مانگنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ظلم پر خاموشی درحقیقت ظالم کا ساتھ ہوتی ہے۔ عمر کی قبر میں دفن سسکیوں کو اپنے لفظوں سے زندہ کر دیجیے۔ یہ صرف ایک بچے کی جنگ نہیں یہ ہم سب کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے۔ اگر آج بھی ہم خاموش رہے تو قاتل دندناتے پھریں گے اور یہ قیامت کبھی نہیں رکے گی۔
    خدارا اپنی آواز بلند کیجیے۔ #JusticeForUmer لکھ کر یہ پیغام آگے پہنچائیے۔

  • واپسی اُن آنکھوں کی طرف جو آج بھی منتظر رہتی ہیں،تحریر:بینا علی

    واپسی اُن آنکھوں کی طرف جو آج بھی منتظر رہتی ہیں،تحریر:بینا علی

    کل تقریباً سوا مہینے بعد، شہرِ اقتدار سے "شہرِ محبتاں” واپسی ہوئی۔ قادری ٹریولز اور سانگو اڈے پر بے انتہا رش تھا؛ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہجرت زدہ پرندے اپنے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہے ہوں۔ ہر چہرے پر تھکن بھی تھی بے قراری بھی اور اپنوں تک پہنچ جانے کی عجیب سی جلدی بھی۔ خیر تین گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد گاڑی ملی اور رات نو بجے سفر شروع ہوا۔ شوہرِ محترم اور بیٹابائیک پر تھے۔ راستے میں کہیں نہیں رکےاور مجھ سے پہلے پہنچ گئے۔ شاید محبت ہمیشہ منزل تک پہلے پہنچ جایا کرتی ہے۔

    جیسے ہی گاڑی مظفرآباد شہر میں داخل ہوئی ٹھنڈی ہواؤں اور موسلا دھار بارش نے استقبال کیا۔ گیلی مٹی کی سحر انگیز خوشبو فضا میں یوں بکھر رہی تھی جیسے شہر نے مجھے پہچان لیا ہو جیسے وہ خاموشی سے کہہ رہا ہو: "تم واپس آ گئی ہو!”
    یہی بائیک پر مجھے اڈے سے لینے آئے تھے۔ اُس وقت بھی ہلکی پھوار برس رہی تھی اور نہ جانے کیوں اُس لمحے دل عجیب سی طمانیت سے بھر گیا۔ کچھ شہر صرف جگہیں نہیں ہوتے وہ انسان کے اندر بس جاتے ہیں۔ شوہرِ محترم کی والدہ جو بقول اِن کے میری والدہ زیادہ اور ان کی والدہ کم لگتی ہیں اور جن کا آشیانہ میرے لیے میکے کا درجہ رکھتا ہے ۔ان کو ہم سرپرائز دے رہے تھے۔ ہم نے اُنہیں پیر کا بتایا تھا حالانکہ ہم ایک دو دن پہلے بنا اطلاع پہنچ گئے۔دروازہ کھلا تو اُن کی آنکھوں میں اُتر آنے والی خوشی نے ساری تھکن اتار دی۔ تب شدت سے احساس ہوا کہ زندگی میں سب سے بڑی نعمت وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں آپ کے آنے سے خوشی ملتی ہے جو آپ کی راہ تکتے ہیں جنہیں آپ کے ہونے سے،نہ ہونے سے فرق پڑتا ہے۔ یہ جان کر دل کو عجیب سا سکون ملا کہ آج بھی دو آنکھیں میری منتظر رہتی ہیں؛ ایسی آنکھیں، جنہیں میرے آنے، جانے، ہنسنے، بولنے، حتیٰ کہ خاموش رہنے تک سے فرق پڑتا ہے۔بیٹی حنانہ نے دسترخوان سجایا۔ مونگ کی دال، گوشتابے اور کریلے چکن۔ مجھے لگا تھا کہ شاید تھکن کے باعث کچھ نہ کھا سکوں،مگر پہلا لقمہ لیتے ہی جیسے مدتوں کی محرومی ٹوٹ گئی۔ ہاتھ رکتے ہی نہیں تھے۔مینیو میں تو صرف مونگ کی دال تھی مگر امی نے کریلے چکن اور گوشتابوں میں سے میرا حصہ الگ نکال کر فریزر میں سنبھال رکھا تھا۔ اُس لمحے دل بھر آیا کیونکہ مائیں صرف کھانا نہیں سنبھالتیں، وہ اپنے بچوں کی پسند، اُن کی عادتیں، اُن کی کمی، اور اُن کی واپسی کی امید بھی سنبھال کر رکھتی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ سوا مہینے میں نے صرف "پیٹ بھرا” تھا، مگر گزشتہ شب میں نے "دل بھر کر” کھانا کھایا۔
    اللہ کرے، سب کی منتظر آنکھیں سلامت رہیں… آمین!

  • ماں کبھی بچھڑتی نہیں،تحریر:  بینا علی

    ماں کبھی بچھڑتی نہیں،تحریر: بینا علی

    شہرِ اقتدار میں آئے ہوئے ایک مہینہ ہونے کو ہے، مگر میرا دل آج بھی وہیں ٹھہرا ہوا ہےاُس شہرِ رونقاں میں جسے میں آنکھوں میں نمی اور دل پر بوجھ لیے پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ شہر بدل لینے سے شاید یادوں کا تعاقب بھی چھوٹ جائے گا مگر یادیں تو سایوں کی مانند ہوتی ہیں؛ انسان جہاں بھی جائے وہ خاموشی سے اس کے تعاقب میں رہتی ہیں۔ رات کی تنہائی میں جاگتی ہیں۔ میں اپنے ماضی کی کچھ اذیت ناک یادوں سے بچنے، خود کو گمنام کرنے اور ہجوم میں کھو جانے کی تمنا لیے اس اجنبی شہر میں آئی تھی۔ سوچا تھا کہ فاصلے شاید دل کے زخموں پر وقت کا مرہم رکھ دیں گے کہ نئی گلیاں، نئے چہرے، نئی خاموشیاں میرے اندر کے طوفان کو تھما دیں گی۔

    مگر قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔یہاں آ کر احساس ہوا کہ بعض رشتے زمین کے فاصلے نہیں مانتے وہ روح کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں اور روح کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جس گھر میں نے خود کو گوشہ نشین کیا، اس کی مالکِ مکان سے پہلی ہی ملاقات میرے لیے غیر متوقع اور بے حد جذباتی ثابت ہوئی۔

    انہیں دیکھتے ہی دل جیسے ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔ سانس اٹک گئی، آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وقت نے اچانک پردہ ہٹایا ہو اور میری مرحوم والدہ میرے سامنے آ کھڑی ہوئی ہوں وہی نرمی، وہی اپنائیت، وہی بے لوث محبت ۔ان کا آہستہ آہستہ چلنا، بات کرتے ہوئے چہرے کے بدلتے تاثرات، بیٹھنے کا وہی سلیقہ سب کچھ امی جیسا۔

    حتیٰ کہ وہی بیماریاں، وہی احتیاطیں، وہی جسمانی کمزوری، اور اس کے باوجود دوسروں کے لیے وہی بےچین فکر مندی۔ گویا اللہ نے ایک بار پھر میری ماں کا سایہ کسی اور روپ میں میرے سر پر رکھ دیا ہو۔اور پھر ان کی محبت ،میں دروازے تک چھوڑنے جاتی وہ چند قدم واپس جاتیں، مگر دل نہ مانتا تو دوبارہ پلٹ آتیں۔

    پیشانی پر شفقت بھرا بوسہ دیتیں، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر وہی سوال کرتیں جو میری ماں کی زبان سے بارہا سنا تھا:
    "بیٹی کچھ کھا لیا کرو،اپنا خیال رکھا کرو۔یہ چند سادہ سے الفاظ سنتے ہی دل کے بند ٹوٹنے لگتے ہیں۔ آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں اور ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں پھر سے اپنی ماں کے آغوشِ محبت میں لوٹ آئی ہوں ۔وہی تحفظ، وہی دعا، وہی بے لوث اپنائیت جس میں دنیا کے سارے غم پگھل جاتے ہیں۔تب مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سب سے خوبصورت، سب سے نرم مظہر ہے۔

    ماں کی محبت نہ فاصلوں کی محتاج ہوتی ہے۔ وہ محبت کا کوئی نہ کوئی روپ دھارے سامنے ہوتی ہے۔ مائیں جغرافیے کی پابند نہیں ہوتیں۔ نہ شہر ان کی محبت کو قید کر سکتے ہیں، نہ سمندر ان کی شفقت کو دور کر سکتے ہیں۔ انسان چاہے اجنبی دیس میں ہو یا اپنے ہی وطن میں، ماں کی محبت کسی نہ کسی صورت، کسی نہ کسی چہرے میں، اسے ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔شاید کائنات نے مجھے یہ احساس دلانے کے لیے اس خاتون سے ملوایا کہ:
    "بیٹی ماں کبھی بچھڑتی نہیں۔

    وہ اگر اس دنیا سے رخصت بھی ہو جائے، تو اپنی دعا، اپنی محبت اور اپنی شفقت کسی نہ کسی چہرے میں، کسی نہ کسی لمس میں تمہارے پاس بھیج دیتی ہے۔”آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ماں کو کھونا دراصل اسے مکمل طور پر کھونا نہیں ہوتا۔ وہ دل کی دھڑکنوں میں زندہ رہتی ہے، سجدوں کی دعاؤں میں بولتی ہے، اور بعض مہربان چہروں کے روپ میں ہمارے ساتھ چلتی ہے۔ ماں واقعی ایک ایسی ہستی ہے جو مر کر بھی نہیں مرتی۔وہ زندگی کے ہر موڑ پر کسی دعا کی گونج، کسی ہاتھ کے لمس، کسی آواز کی نرمی، یا کسی شفقت بھرے سوال کی صورت میں اچانک سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور دل کو یہ یقین دلا جاتی ہے کہ:
    "میں کہیں نہیں گئی، بیٹی میں آج بھی تمہارے ساتھ ہوں۔ میرے دعا کے ہاتھ ہمیشہ تمہارے سر پر ہیں۔”