Baaghi TV

Category: خواتین

  • ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    یہ تصویر کسی ایک انسان کی نہیں ایک پوری نسل کی کہانی سناتی ہے۔ جھکی ہوئی پیشانی آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ اور سامنے پھیلی ہوئی ہتھیلیاں جیسے زندگی نے بہت کچھ کہہ دیا ہو اور اب الفاظ ختم ہو گئے ہوں۔
    یہ وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے کبھی بچوں کو تھام کر چلنا سکھایا کبھی مزدوری کی سختی جھیلی کبھی خالی جیب کے ساتھ بھی گھر کی دہلیز پر مسکراہٹ رکھ دی۔ مگر آج یہی ہاتھ سوال بن گئے ہیں۔ سوال لوگوں سے نہیں وقت سے تقدیر سے، اور شاید اپنے ہی دل سے۔
    چہرے کی جھریاں صرف عمر کی نشانیاں نہیں ہوتیں یہ ان راتوں کا حساب بھی ہوتی ہیں جو فکر میں کٹ گئیں ان دنوں کی گنتی بھی جن میں اپنی خواہشیں بچوں کی ضرورتوں پر قربان ہو گئیں یہ آنکھیں اگر بند ہیں تو نیند کے لیے نہیں شاید اس لیے کہ آنسو اب دکھائے نہیں جاتے۔

    اخبار کے صفحے پر چھپنے والی یہ تصویر ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارے اردگرد کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو مانگتے نہیں بس خاموشی سے دعا کے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔ جن کا دکھ شور نہیں کرتا مگر دل ہلا دیتا ہے۔
    یہ تصویر ہم سب سے ایک سوال پوچھتی ہے:
    کیا ہم نے ان ہاتھوں کو وقت پر تھاما؟
    یا پھر ہم بھی گزر گئے یہ کہہ کر کہ یہ تو کسی اور کی ذمہ داری ہے؟
    شاید انسان کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ جھکے ہوئے سروں کو سہارا دے اور ان خاموش دعاؤں کا جواب بن جائے جو لفظوں کے بغیر بھی آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔

  • زن چه نیست ۔۔۔؟تحریر: پارس کیانی

    زن چه نیست ۔۔۔؟تحریر: پارس کیانی

    انسانی تہذیب کی پوری داستان میں اگر کسی ایک ہستی کو مرکزیت حاصل ہے تو وہ عورت ہے۔ کائنات کا سماجی توازن عورت کے بغیر نامکمل ہے۔ انسانیت کی بنیاد، تعلقات کا رچاؤ، محبت کی نزاکت، خاندان کی تشکیل، سب عورت کے وجود سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے کردار میں کبھی ماں ہے، کبھی بہن ہے، کبھی دوست، کبھی ساتھی، اور کبھی ایک ایسے جذبے کی علامت جس سے زندگی کو معنی ملتے ہیں۔

    عورت کی عظمت کسی ایک مذہب، قوم یا تہذیب تک محدود نہیں۔ قدیم مصر سے لے کر جدید دنیا تک، ہر دور نے اسے کسی نہ کسی صورت میں مرکزی مقام دیا۔ ہندو مت میں لکشمی اور سرسوتی کو علم اور خوش حالی کی علامت سمجھا گیا۔ یونانی روایات میں دیوی ایتھینا دانائی و حکمت کا استعارہ رہی۔ بدھ مت، عیسائیت اور یہودیت سب کی کہانیوں میں خواتین شفقت، قوت اور استقامت کی علامت ہیں۔ یہ حقیقت انسانیت کے اجتماعی شعور میں گندھی ہوئی ہے کہ عورت دنیا کی سماجی تعمیر میں بنیادی اکائی ہے۔

    سماجیات کے مطابق معاشرے کی تشکیل کا پہلا ادارہ خاندان ہوتا ہے اور خاندان کی اساس عورت ہے۔ زبان، رویّے، اقدار، روایات اور احساسات،all transmission،عورت کے ذریعے نسل در نسل آگے بڑھتے ہیں۔ وہ نرمی بھی ہے اور استقامت بھی۔ اپنے وجود سے ماحول میں توازن پیدا کرتی ہے، افراد کو جذباتی ہم آہنگی دیتی ہے اور معاشرے میں رشتوں کے مابین ربط قائم رکھتی ہے۔دنیا کی تاریخ میں ایسی بے شمار خواتین ملتی ہیں جنہوں نے تہذیبوں کے رخ بدل دیے۔ قدیم مصر کی حکمران حتشپسوت، چین کی وو زیٹیان، برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اوّل، یونان کی فلسفی ہائپیشیا، فرانس کی جوآن آف آرک، ہندوستان کی رانی لکشمی بائی، مغل دور کی مشہور فرمانروا رضیہ سلطانہ، اوّلین طبی محقق الفیہ بنتِ موسیٰ، اور برصغیر کی بہادر عورت دادی جانکی جیسے نام اس بات کی دلیل ہیں کہ عورت تاریخ کے دھارے میں کسی موڑ پر پیچھے نہیں رہی۔ جدید دور میں انجیلا میرکل، کملا ہیرس، کرسٹینا فرنانڈز، اور بینظیر بھٹو کی قیادت اس سلسلے کی تسلسل ہے۔

    سائنس اور علم میں بھی عورت نے وہ نقش چھوڑے جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔ میری کیوری نے ریڈیو ایکٹیویٹی کی دریافت سے جدید سائنس کا دروازہ کھولا۔ ایڈا لوویلیس نے کمپیوٹر پروگرامنگ کے تصورات دیے۔ جوسیلین بیل برنیل نے نیوٹرون ستاروں کی دریافت کی۔ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کی بنیاد فاطمہ الفہری نے رکھی۔ ادب میں ورجینیا وولف، ٹونی موریسن، قرۃالعین حیدر اور عصمت چغتائی نے انسانی نفسیات اور سماج کو نئے زاویے دیے۔
    عورت کی سماجی و انسانی خدمات بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ مدر ٹریسا کی انسانیت نوازی، وانگاری ماتھائی کی ماحولیاتی جدوجہد، روزا پارکس کی نسلی امتیاز کے خلاف مزاحمت، ملالہ یوسفزئی کی تعلیم کے لیے آواز، ہیرئیٹ ٹبمین کی غلامی کے خلاف لڑائی—یہ سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ عورت ہر زمانے میں تبدیلی کی سب سے مضبوط قوت رہی ہے۔ برطانیہ کی لیڈی ڈیانا نے فلاحی خدمات اور عالمی انسانیت کے لیے وہ نقوش چھوڑے جو دلوں پر آج بھی نقش ہیں۔

    وہ عورت جو کبھی جھولا جھلاتی ہے، کبھی کتاب تھامتی ہے، کبھی نظریہ وجود بخشتی ہے، کبھی تلوار بلند کرتی ہے، کبھی قلم اٹھاتی ہے، اور کبھی ایک گھرانے میں محبت کی بنیاد رکھتی ہے،وہی عورت اصل میں دنیا کی تشکیل کرنے والی ہستی ہے۔ اگر مرد تعمیر ہے تو عورت تزئین، مرد بنیاد ہے تو عورت عمارت، مرد سمت ہے تو عورت معنی۔

    دنیا کی ہر تہذیب اور ہر دور ایک ہی حقیقت دہراتا ہے کہ عورت محض جنس نہیں، انسانیت کا سب سے اہم محور ہے۔اور کائنات عورت کے وجود کے بغیر ہمیشہ ادھوری رہے گی۔

  • حقیقی شعور، انسانیت کا نجات دہندہ،تحریر:پارس کیانی

    حقیقی شعور، انسانیت کا نجات دہندہ،تحریر:پارس کیانی

    یہ سوال کہ انسانیت کا حقیقی نجات دہندہ کون ہے ،کیا ہے ؟، بظاہر سادہ مگر درحقیقت تہہ در تہہ پیچیدگی رکھتا ہے۔ کیا انسانیت کو مذہب بچاتا ہے؟ کیا انسان کی نت نئی اختراعات و ایجادات ؟ یا پھر کوئی ایسی فکر، کوئی ایسی شعوری بیداری ہے جو انسان کو اس کے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیے گئے اندھیروں سے نکال سکتی ہے؟ تاریخ، فلسفہ، مذہب اور موجودہ عالمی حالات،سب اس سوال کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں، مگر حتمی جواب کہیں ایک لفظ میں قید نہیں ہوتا۔

    انسان نے جب شعور پایا تو سب سے پہلے خوف کو جانا۔ اسی خوف سے مذہب نے جنم لیا، یا یوں کہیے مذہب نے اس خوف کو معنی دیے۔ مذہب نے انسان کو بتایا کہ وہ اکیلا نہیں، اس کا ایک خالق ہے، ایک جواب دہی ہے، ایک اخلاقی دائرہ ہے۔ مذہب نے قتل کو گناہ کہا، ظلم کو حرام ٹھہرایا، کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے کو نیکی قرار دیا۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو مذہب انسانیت کا سب سے مضبوط محافظ معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہی مذہب جب انسان کے ہاتھ میں اقتدار کا ہتھیار بن گیا تو انسانیت کا سب سے بڑا قاتل بھی یہی بنا۔ تاریخ صلیبی جنگوں، مذہبی فسادات، فرقہ واریت اور تکفیر سے بھری پڑی ہے۔ یہاں سوال مذہب کا نہیں، مذہب کے نام پر انسان کے رویے کا بنتا ہے۔

    اگر ہم کہیں کہ انسان ہی انسانیت کا نجات دہندہ ہے تو یہ بات بھی ادھوری رہتی ہے۔ انسان وہی ہے جس نے قانون بنائے، انسانی حقوق کی بات کی، غلامی کے خلاف آواز اٹھائی، عورت، بچے اور اقلیت کے لیے آواز بلند کی۔ لیکن یہی انسان وہ بھی ہے جس نے ایٹم بم بنایا، نسل کشی کی، جنگیں مسلط کیں، سرمایہ کو خدا بنا کر کروڑوں انسانوں کو فاقہ کشی میں دھکیل دیا۔ انسان اگر محض اپنی جبلّت کے حوالے کر دیا جائے تو وہ درندہ بن جاتا ہے، اور اگر اس کی عقل و اخلاق کو بیدار کیا جائے تو وہ فرشتہ صفت بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے انسان بذاتِ خود نجات دہندہ نہیں، بلکہ ایک امکان ہے،خیر اور شر دونوں کا۔

    انسانیت بطورِ تصور بظاہر سب سے خوبصورت حل لگتی ہے۔ نہ کوئی مذہبی حد بندی، نہ نسلی امتیاز، نہ جغرافیائی تقسیم۔ صرف انسان اور اس کا درد۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ انسانیت ایک جذبہ تو ہے، مگر ضابطہ نہیں۔ یہ احساس دلاتی ہے، مگر پابند نہیں کرتی۔ جب مفاد، طاقت اور خوف سامنے آتے ہیں تو انسانیت سب سے پہلے قربان ہوتی ہے۔ عالمی سیاست اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں انسانی حقوق صرف وہاں یاد آتے ہیں جہاں مفاد ہو، اور جہاں مفاد نہ ہو وہاں لاشیں بھی اعداد و شمار بن جاتی ہیں۔

    یہیں سے اصل سوال جنم لیتا ہے کہ اگر نہ مذہب اپنی بگڑی ہوئی صورت میں کافی ہے، نہ انسان اپنی جبلّت کے ساتھ، اور نہ انسانیت محض نعرے کی حد تک،تو پھر نجات کہاں ہے؟ جواب آہستہ آہستہ ایک ہی سمت اشارہ کرتا ہے، اور وہ ہے شعور۔مگر شعور سے مراد صرف یہ نہیں کہ ہمیں اپنے حقوق کا شعور حاصل ہو جائے۔ حقیقی شعور یہ بھی ہے کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہو کہ دوسروں کے حقوق کیا ہیں، اور ان حقوق کے مقابلے میں ہماری ذمہ داریاں اور فرائض کیا بنتے ہیں۔ شعور محض آگاہی نہیں، بلکہ ایک زندہ احساس ہے۔ وہ احساس جو ہمیں اپنی ذات کے شور سے باہر نکال کر دوسروں کی ضروریات، ان کی تکلیفوں، ان کے دکھوں اور محرومیوں سے جوڑ دے۔

    حقیقی شعور وہ اعلیٰ علم اور اوصاف کا مجموعہ ہے جس میں انسان کو اپنی ذات کا ادراک بھی حاصل ہو، دوسروں کے درد کا احساس بھی، اپنے خالق کے حضور جواب دہی کا شعور بھی، اور اپنے سے کمزور انسانوں کے لیے دل کی نرمی بھی۔ یہ وہ شعور ہے جس میں انسان کی آنکھ صرف اپنے فائدے پر نہیں، بلکہ اپنے اردگرد کی دنیا پر کھل جاتی ہے، اور آنکھ کے ساتھ بصیرت بھی جاگ اٹھتی ہے۔جب یہ شعور بیدار ہوتا ہے تو مذہب رسم نہیں رہتا، اخلاق بن جاتا ہے۔ انسان محض وجود نہیں رہتا، ذمہ داری بن جاتا ہے۔ اور انسانیت نعرہ نہیں رہتی، عمل میں ڈھل جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسانیت کا نجات دہندہ باہر سے نہیں آئے گا۔ نہ کوئی مسیحا، نہ کوئی نظام، نہ کوئی طاقتور نظریہ۔ انسانیت کا نجات دہندہ ہر انسان کے اندر
    شعور انسان کے حقوق اور فرائض دونوں کا ادراک دیتا ہے، جو ذات، سماج اور خدا،تینوں کے درمیان رشتہ جوڑ دیتا ہے کے دور میں انسانیت کا سب سے بڑا دشمن جہالت نہیں، بلکہ بے حسی ہے۔ وہ بے حسی جو مذہب کو رسم بنا دے، انسان کو عدد، اور انسانیت کو محض تقریر۔ نجات وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان سوچنا شروع کرے، سوال اٹھائے، اور خود کو مرکزِ کائنات سمجھنے کے بجائے کائنات کا ذمہ دار فرد سمجھے۔
    یوں کہا جا سکتا ہے کہ انسانیت کا حقیقی نجات دہندہ باہر نہیں ہر انسان کے اندر موجود ہے۔

  • تشکیلِ فکر کا بحران،تحریر: اقصیٰ جبار

    تشکیلِ فکر کا بحران،تحریر: اقصیٰ جبار

    انسان کی اصل پہچان اس کی سوچ سے بنتی ہے۔
    نہ عمر اس کا تعارف ہے، نہ لباس، نہ ڈگری اور نہ ہی ظاہری کامیابیاں۔ اصل پہچان وہ زاویۂ نظر ہے جس سے وہ زندگی، انسان اور مسائل کو دیکھتا ہے۔ یہ زاویہ یکایک پیدا نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ تشکیل پاتا ہے، اور اس کی بنیاد عموماً نوجوانی میں رکھی جاتی ہے۔ اگر یہی بنیاد کمزور ہو تو بعد کی ساری عمارت بھی غیر متوازن ہو جاتی ہے۔
    آج ہم جس عہد میں جی رہے ہیں، اس کا سب سے بڑا بحران نہ تو معاشی ہے، نہ سیاسی اور نہ ہی محض اخلاقی۔ یہ بحران دراصل فکری ہے۔ ہم ایک ایسے زمانے میں سانس لے رہے ہیں جہاں جاننے کے ذرائع بے شمار ہیں، معلومات ہر لمحہ ہماری دسترس میں ہے، مگر اس کے باوجود سوچنے، ٹھہرنے اور غور کرنے کے مواقع مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو سب کچھ سکھایا جا رہا ہے، سوائے سوچنے کے۔

    تشکیلِ فکر کوئی فوری عمل نہیں۔ یہ نہ کسی نصاب کے ایک باب سے مکمل ہوتی ہے اور نہ کسی تقریر کے اختتام پر۔ یہ مطالعے، مشاہدے، سوال، تنقیدی نظر اور مسلسل غور و فکر کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا موجودہ تعلیمی اور سماجی نظام انسان کو معلومات تو فراہم کرتا ہے، مگر فکر پیدا نہیں کرتا۔ ہم پڑھتے ہیں مگر سمجھنے کے لیے نہیں، بلکہ آگے بڑھنے کے لیے۔ ہم سیکھتے ہیں مگر جانچنے کے لیے نہیں، بلکہ دہرانے کے لیے۔

    اسی مرحلے پر انسانی ذہن ایک خطرناک عادت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ سوچنے کے بجائے ردِعمل دینا سیکھ لیتا ہے۔ نتیجتاً آج کا انسان، خاص طور پر نوجوان ذہن، رائے تو رکھتا ہے مگر بنیاد کے بغیر۔ وہ فیصلے تو کرتا ہے مگر سوال کے بغیر۔ یہ فکری سطحیت محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ رویہ ہے۔ ہمیں شروع سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جلدی بولو، واضح مؤقف رکھو اور کسی قسم کے ابہام کو کمزوری نہ بننے دو، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فکر کی اصل بنیاد ابہام ہی سے جنم لیتی ہے۔ سوچ وہیں پروان چڑھتی ہے جہاں انسان کو مکمل یقین حاصل نہ ہو۔

    یہاں ادب کا کردار غیر معمولی ہو جاتا ہے۔ ادب انسان کو ٹھہراؤ عطا کرتا ہے۔ وہ ذہن کو یہ سکھاتا ہے کہ ہر سوال کا فوری جواب ضروری نہیں اور ہر مسئلے کا حل ایک جملے میں ممکن نہیں۔ ادب ذہن کو وسعت دیتا ہے، برداشت سکھاتا ہے اور مختلف زاویوں سے سوچنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ مگر جب ادب کو محض نصابی ضرورت بنا دیا جائے یا صرف ذوقی مشغلہ سمجھ لیا جائے تو وہ اپنی فکری تاثیر کھو دیتا ہے۔

    آج کا انسانی ذہن رفتار کا اسیر بن چکا ہے۔ وہ گہرائی کے بجائے خلاصہ چاہتا ہے، فلسفے کے بجائے اقتباس اور استدلال کے بجائے نعرہ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے فیصلے تیز تو ہوتے ہیں، مگر پختہ نہیں۔ ہم جلد مان لیتے ہیں اور جلد رد بھی کر دیتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ ہم نے جو قبول کیا یا جسے مسترد کیا، اس کی فکری بنیاد کیا تھی۔
    تشکیلِ فکر کا بحران دراصل اسی عدم توازن کا نام ہے۔ یعنی ذہن میں مواد تو بہت ہو، مگر ترتیب نہ ہو۔ الفاظ ہوں، مگر مفہوم نہ ہو۔ علم ہو، مگر حکمت نہ ہو۔ یہ بحران فرد کی ذات سے شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ پورے سماج میں سرایت کر جاتا ہے۔ جب ذہن تربیت یافتہ نہ ہو تو اختلاف بدتمیزی بن جاتا ہے، تنقید نفرت میں بدل جاتی ہے اور مکالمہ شور کا روپ دھار لیتا ہے۔
    ہم اختلاف اس لیے برداشت نہیں کر پاتے کہ ہم نے سوچ کو وسعت دینا نہیں سیکھا۔ ہم سوال سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ ہمیں سوال کرنا سکھایا ہی نہیں گیا۔ حالانکہ سوال ذہن کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔ جو ذہن سوال کرنا چھوڑ دے، وہ یا تو مطمئن نہیں بلکہ مقلد بن جاتا ہے۔

    یہاں ادب ایک مرتبہ پھر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ادب انسان کو دوسرا زاویہ دکھاتا ہے۔ وہ اسے اپنے سچ کے ساتھ دوسروں کے سچ کو بھی سننے کی تربیت دیتا ہے۔ تشکیلِ فکر کا مطلب کسی خاص نظریے کو اپنانا نہیں بلکہ ذہن کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ نظریات کو پرکھ سکے، تول سکے اور پھر شعوری طور پر کسی نتیجے تک پہنچے۔آج ہمیں ایسے انسان درکار ہیں جو صرف بولنا نہ جانتے ہوں بلکہ سوچنا بھی جانتے ہوں۔ جو اختلاف کریں تو فہم کے ساتھ، اور مانیں یا رد کریں تو دلیل کے ساتھ۔ یہ صلاحیتیں اچانک پیدا نہیں ہوتیں۔ یہ مطالعے، ادب سے رشتے، سوال سے دوستی اور خاموش غور و فکر کے نتیجے میں جنم لیتی ہیں۔

    اگر نوجوانی میں ذہن کی تشکیل نہ ہو تو انسان عمر بھر دوسروں کی سوچ کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے۔ وہ خود فیصلے کرنے کے بجائے مستعار خیالات پر زندگی گزارتا ہے۔ اور یہی اصل غلامی ہے۔ یہ غلامی زبان کی نہیں بلکہ ذہن کی ہوتی ہے۔تشکیلِ فکر کا بحران درحقیقت انسان کے آزاد ہونے کا بحران ہے۔ آزاد بولنے کا نہیں، آزاد سوچنے کا۔ اگر ہم نے اپنے ذہن کو سوچنے کی تربیت نہ دی تو باقی ساری ترقی محض ظاہری ہوگی۔ کیونکہ قومیں عمارتوں سے نہیں، ذہنوں سے بنتی ہیں۔ اور ذہن تب بنتا ہے، جب اسے سوچنے دیا جائے

  • مکافات عمل ، کائنات کا اٹل انصاف ،تحریر:پارس کیانی

    مکافات عمل ، کائنات کا اٹل انصاف ،تحریر:پارس کیانی

    انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے، اسے ایک سوال ہمیشہ بے چین کرتا رہا ہے کہ اس کے کیے ہوئے اچھے یا برے کام کا نتیجہ آخر اسے کیوں اور کیسے ملتا ہے۔ اور وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ کہیں یہ اس کی اپنے دماغ کی اختراع تو نہیں یا اس کی کوئی شخصی کمزوری تو نہیں جو اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ مکافات عمل (karma) جیسی بھی کوئی چیز ہے جس کے خوف کے تحت وہ زندگی گزارتا ہے۔

    مختلف تہذیبوں، مذاہب اور فلسفوں میں اس سوال کا جواب مختلف ناموں سے دیا گیاہے، کسی نے اسے "کرم” کہا، کسی نے "مکافاتِ عمل”، کسی نے "اخلاقی قانون”، کسی نے "فطری ردّعمل”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مگر ایک بات سب میں مشترک ہے: انسان جو کچھ کرتا ہے، وہی کسی نہ کسی صورت میں اس کے سامنے آ جاتا ہے۔ زندگی کے چلتے، وہ کائنات کے حوالے جو بھی قوتیں کرتا ہے کائنات پوری قوت سے اسے واپس کرتی ہے۔اگر کوئی مذہب یا خدا کو نہ بھی مانے، تب بھی کائنات کا نظام ایک سادہ اصول پر استوار ہے کہ ہر عمل ایک ردّعمل کو جنم دیتا ہے۔”اگر کوئی خدا کا انکار بھی کر دے تو کائنات کی توانائیوں کا انکار نہیں کر سکتا۔”

    ہر سوچ، ہر جذبہ، ہر عمل اپنے اندر ایک لہر رکھتا ہے۔ یہ لہر فضا میں چھوڑتے ہی اپنا سفر شروع کر دیتی ہے، اور سائنس کے مطابق electro magnetic field اور انسانی bio-field کی صورت میں گھوم کر واپس اسی انسان کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے۔اسی ردّ عمل کو مذہبی زبان میں مکافاتِ عمل کہا جاتا ہے، اور سائنسی زبان میں resonance vibration اور bio-energy کا اصول۔یہ صرف سائنسی حقیقت نہیں بلکہ زندگی کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔ جدید دماغی علوم ( مجموعی طور پر )( cognetive and behaveroul sciences esp.) کے مطابق جب انسان کوئی نیکی کرتا ہے، کسی کی مدد کرتا ہے، نرم رویہ اختیار کرتا ہے یا سچائی پر قائم رہتا ہے تو انسان کے دماغ میں ایسے کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں جو اس کے اندر اعتماد، سکون اور خوشی کی لہریں بیدار کرتے ہیں۔ یوں اس کے رویّے، فیصلے اور سوچ مثبت ہو جاتی ہے اور وہ بہتر حالات اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس بددیانتی، نفرت، دھوکا اور ظلم وہ کیمیکلز بڑھاتے ہیں جو بے چینی، اضطراب اور بوجھل ذہنی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ یعنی چاہے کوئی مانے یا نہ مانے، کائنات انسان کے ہر عمل کو ایک مخصوص توانائی کے طور پر قبول کرتی ہے اور اسی نوعیت کی لہریں کئی گنا اضافہ کے ساتھ واپس لوٹا دیتی ہے۔
    انسانی ذہن کے ماہرین کا موقف یہ ہے کہ برائی کا سب سے پہلا عذاب انسان کے اپنے اندر پنپتا ہے۔ جو شخص ظلم کرتا ہے، دھوکا دیتا ہے یا کسی کا حق مارتا ہے، اس کے شعور کے کسی کونے میں خوف، بداعتمادی اور گناہ کا احساس جڑ پکڑ لیتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ احساس اس کے کردار کو کھوکھلا کرتا ہے، اس کے رشتوں میں دراڑیں ڈالتا ہے اور زندگی میں مسلسل بے سکونی پھیلا دیتا ہے۔ نیکی کا اثر بالکل اُلٹ ہوتا ہے۔ اچھا کرنے والا فرد سب سے پہلے اپنے اندر ہلکا پن اور اعتماد محسوس کرتا ہے، اس کی سوچ میں وسعت آتی ہے اور اس کے رویے میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔ یوں وہ خود کو بھی سنوارتا ہے اور ماحول کو بھی بہتر بناتا ہے۔

    سماجی علوم کی رو سے معاشرہ بھی انسان کے عمل کو دیر تک نظرانداز نہیں کرتا۔ جو شخص لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، انصاف کا خیال رکھتا ہے یا دوسروں کے ساتھ سچائی کا رویہ اختیار کرتا ہے، سماج اسے عزت دیتا ہے۔ لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں، اسے پذیرائی ملتی ہے اور اس کا دائرۂ اثر وسیع ہوتا ہے۔ مگر جو فرد دھوکا دینے والا، موقع پرست یا نقصان پہنچانے والا ہو، معاشرہ اسے کسی نہ کسی مرحلے پر ردّ بھی کر دیتا ہے اور اس رویے کا منفی انجام اس کی زندگی میں ضرور سامنے آتا ہے۔ دنیا کی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے کہ ظلم اور ناانصافی کی بنیاد پر کھڑی ہوئی کوئی طاقت دیرپا نہیں رہی، جبکہ انصاف، انسانی وقار اور خیرخواہی پر مبنی رویے ہمیشہ دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔

    زمانہ گواہ ہے کہ بڑے بڑے ظالم وقت کے ایک موڑ پر شکست سے دوچار ہوئے۔ طاقت، دولت اور اختیار سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ داخلی خوف اور عدم تحفظ سے نہیں بچ سکے۔ اس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے انسانیت، انصاف اور سچائی کو اختیار کیا، چاہے عارضی مشکلات کا شکار ہوئے، مگر وقت نے ان کا ساتھ دیا۔ یہ محض اخلاقی یا مذہبی بیانیہ نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہے۔ مکافات عمل یا عمل کی واپسی یا فطری رد عمل ایک ایسا اصول ہے جسے ماننے کے لیے مذہب ضروری نہیں۔

    یہ بالکل ایسے ہے جیسے کششِ ثقل کو ماننے سے انکار کر دیں، چاہے مانیں یا نہ مانیں، وہ پھر بھی اثر کرتی ہے۔
    انسان کا ہر لفظ، ہر خیال، ہر ارادہ، ہر عمل ایک توانائی ہے جو کائنات میں گشت کرتی ہے اور اپنے جیسی توانائیوں کو کھینچ کر واپس لاتی ہے۔
    Karma ( بدلے کا عمل )
    آخر کیسے چلتا ہے؟
    آپ محبت دیتے ہیں، محبت ملتی ہے
    آپ دوسروں کے لیے راستے آسان کرتے ہیں، آپ کے راستے کھلتے ہیں
    آپ حسد، بغض، نفرت پھیلاتے ہیں، یہی چیزیں کئی گنا ہو کر آپ تک پہنچتی ہیں
    آپ رزق روکتے ہیں، رزق آپ سے روٹھ جاتا ہے
    یہ کوئی روحانی نعرہ نہیں، یہ انسانی تعلقات، نفسیات، معاشرت اور فطرت کا جامع قانون ہے۔
    اور کائنات کے فیصلے کبھی غلط نہیں ہوتے
    مکافاتِ عمل کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ اندھا انصاف کرتا ہے۔
    یہ ذات، مذہب، مقام، طاقت، دولت، ،شہرت کسی چیز کی رعایت نہیں کرتا۔
    اسی لیے دانا کہتے ہیں:
    "کائنات خاموش ہے، مگر حساب بہت باریک رکھتی ہے۔ انسان کا ہر لفظ، ہر ارادہ اور ہر عمل ایک توانائی بن کر فضا میں جاتا ہے اور پھر ایسا نہیں ہوتا کہ وہ کہیں گم ہو جائے۔ یہ واپس آتا ہے، مگر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ۔ یہی زندگی کا سب سے غیرجانبدار اصول ہے۔

    انسان جب محبت، خیرخواہی، آسانی یا نیکی بانٹتا ہے تو انہی خوبیوں کے دروازے اس کی اپنی زندگی میں کھلنے لگتے ہیں۔ اور جب وہ نفرت، حسد، بغض یا نقصان پھیلاتا ہے تو انہی چیزوں کا بوجھ اس کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔ رزق، عزت، سکون اور کامیابی بھی اسی اصول کے تابع چلتے ہیں۔ آسانیاں بانٹنے والا شخص آسانیوں کا مالک بنتا ہے، مگر دوسروں کے لیے مشکل پیدا کرنے والا فرد خود بھی مشکلات کے بھنور میں آ جاتا ہے۔
    تاریخ کے صفحات بھی مکافاتِ عمل کی سب سے بڑی شہادت ہیں۔ روم کی عظیم سلطنت ہو یا یونان کی فکری حکومت، عرب کی وسعتیں ہوں یا منگولوں اور عثمانیوں کی شہرت، جب تک یہ انصاف، نظم اور اعتدال پر قائم رہیں، دنیا نے ان کے سامنے سر جھکایا۔ اور جب ظلم، تکبر، بددیانتی اور انسانیت سے انحراف بڑھا تو انہی سلطنتوں کے ستون زمین بوس ہو گئے۔ فرعون کے پاس طاقت بےپناہ تھی مگر تکبر نے اسے ڈبو دیا۔ ہٹلر کے پاس لشکر تھے مگر نفرت نے اسے تباہ کر دیا۔ اس کے برعکس نیلسن منڈیلا جیسے لوگ جن کے پاس طاقت نہیں تھی، صرف سچائی اور انصاف کا اصول تھا، وقت نے انہیں عزت، وقار اور عظمت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا۔ یہ کوئی مذہبی یا روحانی دعویٰ نہیں بلکہ تاریخ کا فیصلہ ہے۔

    مکافاتِ عمل کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ کسی طاقت، دولت یا رتبے سے متاثر نہیں ہوتا۔ یہ کسی ذات، مذہب، علاقے یا حیثیت کے لحاظ سے فیصلہ نہیں کرتا۔ یہ صرف عمل کو دیکھتا ہے، نیت کو جانچتا ہے اور پھر وقت آنے پر اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے۔ انسان چاہے جتنا بڑا منصوبہ ساز بن جائے، کائنات کے باریک حساب سے نہیں بچ سکتا۔ انسان جو کچھ دیتا ہے، وہی ایک دن مجبوراً اس کے دروازے پر لوٹ کر کھڑا ہو جاتا ہےکبھی روشنی بن کر، کبھی اندھیرا بن کر.

  • تبدیلی ، تحلل ، انقلاب،تحریر:پارس کیانی

    تبدیلی ، تحلل ، انقلاب،تحریر:پارس کیانی

    زندگی میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ انسان کی سوچ کی بنیادیں بدل دیتے ہیں۔ میرے ساتھ ایسا ہی ایک واقعہ دورانِ ملازمت پیش آیا۔ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر میں گھر جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھی۔ راستے میں گاڑی ایک جگہ رکی اور سامنے ایک پرانی، عام سی ویگن کھڑی تھی۔ اس کے پیچھے لکھا ہوا جملہ میرے اندر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا "میں بڑی ہو کر ڈیؤ (DAEWOO) بنوں گی!”

    اس وقت میں بے اختیار ہنس پڑی۔ برسوں گزر گئے، مگر اب میں سمجھتی ہوں کہ وہ محض مذاق نہیں تھا, یہ ایک علامت تھی۔ وہ ویگن اپنی موجودہ حالت میں "بڑی” نہیں ہو رہی تھی، بلکہ وہ بدلنے کا اعلان کر رہی تھی۔ وہ اپنی شکل، اپنی ساخت، اپنے معیار، اور اپنے اندر کی توانائی کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھتی تھی۔ اسی طرح انسان بھی کسی پیشہ، عمر یا مرتبے سے نہیں بڑھتا، وہ اپنے آپ کو بدل کر ہی کچھ بنتا ہے۔
    اور یہی وہ لمحہ ہے جب میں نے پہلی بار یہ سمجھا کہ انسان کے اندر کا پرانا وجود مکمل طور پر ختم ہوتا ہے، تب ہی وہ نئی شکل اختیار کر پاتا ہے۔ اس مرحلے میں وہ جو پہلے تھا، وہ اپنے اندر مار دیا جاتا ہے، اور جو نیا جنم لیتا ہے، وہی اصل ٹرانسفارمیشن ہے۔
    تبدیلی صرف ظاہری تبدیلی نہیں، بلکہ اندرونی انقلاب ہے۔ انسان کی شخصیت، اس کے رویے، اس کے خوف، اور اس کے ضمیر کی ساخت یہ سب ٹوٹ کر دوبارہ بناتے ہیں۔
    کائنات کی ہر حرکت اسی قانون کے تابع ہے: ستارے ٹوٹتے ہیں، پہاڑ بلند ہوتے ہیں، دریا رخ بدل لیتے ہیں۔ ہر شے مستقل حرکت میں ہے۔ انسان بھی اسی نظام کی کڑی ہے۔ اگر وہ ساکن رہے تو جمود میں رک جاتا ہے، مگر اگر وہ بدل جائے تو نئی تخلیق پیدا کرتا ہے۔

    یہ داخلی انقلاب وہ لمحہ ہے جب انسان کے اندر کا پرانا انسان مر جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان اپنے پچھلے خوف، پرانی عادتوں، محدود سوچ، اور پرانے تصورِ خود کو مکمل طور پر چھوڑ دیتا ہے۔ یہ مکمل موت ہے تاکہ ایک نیا وجود جنم لے۔
    یہی وہ لمحہ ہے جو فلسفیانہ اعتبار سے سب سے اہم ہے:
    جیسے خزاں میں خشک پتّا درخت سے الگ ہو کر مٹی میں مل جاتا ہے، مگر اسی مٹی سے نئی کونپل جنم لیتی ہے؛
    جیسے لوہار پُرانے لوہے کو بھٹی میں پگھلا کر نئی شکل دیتا ہے، مگر پہلے لوہے کی موت لازمی ہے؛
    اور جیسے کیڑا اپنے خول کو توڑ کر تتلی بنتا ہے۔
    یہ داخلی موت ہی انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے نئے آپ میں پیدا ہونے کے بعد واقعی کچھ بن سکے۔ یہی اصلی ٹرانسفارمیشن ہے۔

    تبدیلی نہ صرف نفسیاتی بلکہ ادبی اور علامتی سطح پر بھی واضح ہے۔
    ویگن کا جملہ، "میں بڑی ہو کر ڈیؤ بنوں گی”، ادبی طور پر ایک علامت ہے۔ ویگن کا یہ دعویٰ، اس کی موجودہ حالت پر مبنی نہیں، بلکہ اس کی تخلیقی صلاحیت اور اندرونی ارتقا پر مبنی ہے۔ انسان بھی ایسا ہی ہے:
    وہ اپنی موجودہ حالت کو بدل کر بڑا انسان بنتا ہے۔
    نفسیاتی مطالعے بھی یہی بات ثابت کرتے ہیں کہ انسان کی اصل تبدیلی اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنی پرانے انا کو فنا کر دیتا ہے۔ یونگ کے مطابق، "اندرونی خود کی موت” کے بغیر کوئی بھی شخص اپنی مکمل شخصیت کے بلند درجات تک نہیں پہنچ سکتا۔ "راجرز اور فرائیڈ” بھی یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی تبدیلی تب ہوتی ہے جب انسان اپنے اندر کے پرانے تصورات اور محدود یقینوں کو تحلیل کر دیتا ہے۔
    علامتی سطح پر بھی ہم زندگی میں کئی مثالیں دیکھتے ہیں جیسے
    بیج درخت بنتا ہے، مگر پہلے بیج کو مٹی میں تحلیل ہونا پڑتا ہے۔
    دریا اپنی راکھ اور ریت کو توڑ کر نیا رخ اختیار کرتا ہے۔
    ستارہ اپنی توانائی جلانے کے بعد روشنی میں بدل جاتا ہے۔
    یہ سب مشاہدات انسان کی انقلاب ذات کے فلسفے کو ظاہر کرتے ہیں: انسان بھی اگر بدل جائے تو نئے وجود میں پیدا ہوتا ہے، اور اپنے پچھلے خود کو مکمل طور پر ختم کر کے نئی شکل اختیار کرتا ہے۔

    انقلاب ذات انسان کی زندگی کا سب سے گہرا راز ہے۔ وہ بڑے ہونے سے نہیں بنتا، بلکہ بدلنے سے بنتا ہے۔ اس بدلاؤ میں انسان کے اندر کا پرانا وجود ختم ہوتا ہے اور نئی شخصیت، نئی سوچ اور نئی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان واقعی زندگی کے اصولوں کو سمجھ پاتا ہے اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔
    ویگن پر لکھا جملہ، "میں بڑی ہو کر ڈیؤ بنوں گی”، آج صرف مذاق یا سادگی نہیں لگتا۔ یہ علامتی اعلان ہے ہر انسان کے اندر چھپی ٹرانسفارمیشن کا۔ وہ “بڑی” نہیں ہونی تھی، وہ نئی ہونی تھی۔ اور نئی ہونے کے لیے ضروری تھا: اپنے پچھلے وجود کو دفن کرنا، اپنے اندر کے پرانے انسان کو مار دینا، اور اس جگہ ایک نیا وجود پیدا کرنا
    یہی انسانی ترقی، ارتقا اور اصلی تبدیلی transformation ہے۔ اور یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے:
    انسان سماجی طور پر بتدریج بڑا نہیں ہوتا
    نہ موجودہ حقیقت سے بڑا بنتا ہے بلکہ اپنے اندر کے "ممکنہ خود” سے بڑا بنتا ہے۔

  • صحت، رب کی سب سے بڑی نعمت،تحریر:نور فاطمہ

    صحت، رب کی سب سے بڑی نعمت،تحریر:نور فاطمہ

    انسان کو عطا ہونے والی بے شمار نعمتوں میں اگر کوئی نعمت خاموشی سے انسان کی زندگی کو سہارا دیتی ہے تو وہ صحت ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو نظر نہیں آتی، مگر اس کی موجودگی میں زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ جب جسم تندرست ہو تو دن مختصر اور راتیں پرسکون لگتی ہیں، لیکن جونہی بخار، درد یا کمزوری دستک دیتی ہے، انسان کو اپنی حیثیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔بخار، بلڈ پریشر کا اتار چڑھاؤ، جسم میں درد، کمزوری، بے چینی، ڈاکٹر کے چکر اور دواؤں کا بوجھ،یہ سب تکلیفیں بظاہر بیماری لگتی ہیں، مگر درحقیقت یہ اللہ کی طرف سے ایک پیغام ہوتی ہیں۔ کبھی یہ آزمائش ہوتی ہیں، کبھی تنبیہ، اور کبھی انسان کو اس کی غفلت کا احساس دلانے کا ذریعہ۔اللہ تعالیٰ بندے کو فوراً نہیں پکڑتا، پہلے اشاروں میں سمجھاتا ہے۔ جسم کی تکلیف دراصل روح کو جھنجھوڑنے کا نام ہے کہ “اپنے آپ کو پہچانو، اپنی نعمتوں کی قدر کرو، اور اپنی زندگی کو سنوارو۔”

    بیماری میں ڈاکٹر کی دوائیں ضروری ہیں، مگر یہ یاد رکھنا بھی لازم ہے کہ شفا دوا میں نہیں، اللہ کے حکم میں ہے۔ دوا تو صرف ایک وسیلہ ہے۔ کتنے ہی مریض ایک ہی دوا کھاتے ہیں، مگر شفا کسی کو ملتی ہے اور کسی کو نہیں،کیونکہ شفا دینے والا صرف رب ہے۔اسی لیے دوا کے ساتھ دعا اور شکر کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ بیماری انسان کو عاجزی سکھاتی ہے، اور عاجزی بندے کو رب کے قریب لے جاتی ہے۔صحت ہو تو عبادت میں دل لگتا ہے،محنت آسان لگتی ہے،رزق کے دروازے کھلتے ہیں،رشتے نبھانا سہل ہو جاتا ہے،چھوٹی چھوٹی خوشیاں بڑی لگتی ہیں،لیکن جب صحت نہ ہو تو دولت بے معنی لگتی ہے،کامیابی بوجھ بن جاتی ہے،ہنسی تکلیف دیتی ہے،اور زندگی رک سی جاتی ہے،اسی لیے کہا گیا ہے کہ “صحت مند انسان ہزار خواہشیں رکھتا ہے، بیمار انسان صرف ایک۔”

    بدقسمتی سے ہم صحت کو ہمیشہ موجود رہنے والی چیز سمجھ لیتے ہیں۔ نہ کھانے پینے کا خیال، نہ آرام کی پرواہ، نہ ذہنی سکون اور جب جسم جواب دینے لگتا ہے تو شکوہ شروع ہو جاتا ہے۔حالانکہ اصل شکر یہ ہے کہ متوازن غذا اختیار کی جائے،وقت پر آرام کیا جائے،ذہنی دباؤ کم رکھا جائے،اللہ کی یاد کو زندگی کا حصہ بنایا جائے،کیونکہ جو انسان اپنی صحت کی حفاظت کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کی نعمت کی حفاظت کرتا ہے۔یہ ایک سادہ مگر گہرا سچ ہے کہ صحت ہوگی تو زندگی آسانی سے چلے گی۔ مشکلات آئیں گی، مگر ان کا سامنا کرنے کی طاقت ہوگی۔ آزمائشیں ہوں گی، مگر حوصلہ باقی رہے گا۔صحت انسان کو یہ ہمت دیتی ہے کہ وہ گرے تو اٹھ سکے، روئے تو سنبھل سکے، اور ہارے تو پھر کوشش کر سکے۔

    صحت اللہ کی وہ نعمت ہے جو ہر سانس کے ساتھ ہمیں عطا ہو رہی ہے۔ بیماری آئے تو شکوہ نہیں، سوچ میں تبدیلی آنی چاہیے۔ یہ وقت خود کو پہچاننے، سنورنے اور رب کی طرف لوٹنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔آئیے صحت کو معمولی نہ سمجھیں،اس کی قدر کریں،اور ہر دن یہ دعا کریں “یا اللہ! ہمیں صحتِ کاملہ عطا فرما، اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے والا بنا دے۔ آمین”

  • دماغ کی خاموش چیخ،تحریر:صدف ابرار

    دماغ کی خاموش چیخ،تحریر:صدف ابرار

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں جسمانی تکلیف کو فوراً بیماری مان لیا جاتا ہے مگر ذہنی اذیت کو آج بھی کمزوری، وہم یا ڈرامہ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دماغ بھی جسم کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا دل، گردے یا پھیپھڑے، بلکہ اگر سچ کہا جائے تو پوری باڈی کا کنٹرول ہی دماغ کے ہاتھ میں ہے، ہماری نیند، ہماری سوچ، ہمارے فیصلے، ہمارے جذبات، سب کچھ وہیں سے جڑا ہوا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ جب یہی دماغ تھک جائے، الجھ جائے یا دباؤ میں آ جائے تو ہم اسے ماننے کے بجائے چھپانے کو ترجیح دیتے ہیں، پاکستان جیسے معاشرے میں ذہنی بیماری کو آج بھی ایمان کی کمی، کمزور اعصاب یا زیادہ سوچنے کا نتیجہ قرار دے دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ شخص مزید تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

    یہ مسئلہ صرف رویوں تک محدود نہیں بلکہ سہولیات کی کمی اسے اور سنگین بنا دیتی ہے، پاکستان کی آبادی تقریباً چوبیس کروڑ ہے مگر اس پوری آبادی کے لیے صرف پانچ سو کے قریب سائیکاٹرسٹ دستیاب ہیں، یعنی ہر ایک لاکھ افراد کے لیے صرف صفر اعشاریہ دو سے صفر اعشاریہ پچیس ماہرِ نفسیات، سادہ الفاظ میں ایک ڈاکٹر لاکھوں لوگوں کے مسائل سننے کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ ہر مریض کو بروقت اور معیاری علاج مل جائے، خود ایک خام خیالی ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں تو ذہنی صحت کی سہولت کا تصور ہی موجود نہیں۔

    جو چند ماہرین دستیاب ہیں، ان کی فیس اتنی زیادہ ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے علاج کروانا آسان نہیں، ایک ایسا شخص جو پہلے ہی ذہنی دباؤ، بے چینی یا ڈپریشن کا شکار ہو، وہ مہنگے سیشنز اور مسلسل علاج کا خرچ کیسے برداشت کرے؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ یا تو خود ہی خاموشی سے لڑتے رہتے ہیں یا پھر ایسے مشوروں کا سہارا لیتے ہیں جو بظاہر ہمدردی لگتے ہیں مگر حقیقت میں زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوتے ہیں۔ان تمام وجوہات کی بنا پر پاکستان میں ذہنی بیماریوں میں مبتلا 80 فیصد سے زیادہ افراد کسی بھی قسم کے پیشہ ورانہ علاج تک پہنچ ہی نہیں پاتے، اور یہی وہ خاموش المیہ ہے جس پر ہم بات کرنے سے گھبراتے ہیں، حالانکہ ذہنی صحت کوئی لگژری نہیں، یہ بھی اتنی ہی بنیادی ضرورت ہے جتنی جسمانی صحت، جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ دماغ بھی بیمار ہو سکتا ہے، جب تک ہم علاج کو شرمندگی کے بجائے حق نہیں سمجھیں گے، اور جب تک ہم انسان کو پاگل کا لیبل لگانے کے بجائے سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے، تب تک یہ مسئلہ ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا رہے گا۔وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں، کیونکہ دماغ بھی بیمار ہوتا ہے، اور اس کا علاج بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی اور بیماری کا۔

  • خاموش آنکھیں، بولتا ہوا کرب،تحریر:اقصیٰ جبار

    خاموش آنکھیں، بولتا ہوا کرب،تحریر:اقصیٰ جبار

    آنکھیں کبھی جھوٹ نہیں بولتیں، چاہے زبان خاموش رہ جائے۔
    معاشرتی زندگی کی سب سے بڑی سچائی شاید آنکھوں میں چھپی ہوتی ہے۔ زبان کبھی مصلحت کی قید میں آ جاتی ہے، مگر آنکھیں چھپائی نہیں جا سکتیں۔ وہ ہر درد، ہر کرب اور ہر خاموشی کو ظاہر کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی خبر صرف سرخیوں یا خبروں میں نہیں، بلکہ انسانی آنکھوں میں چھپی ہوتی ہے۔

    آج ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں ہر طرف بولی اور شور ہے، مگر سچائی سننے والا کم ہے۔ ہنسی مذاق، مصروفیت اور سوشل میڈیا کے ہنگامے کے بیچ، وہ آنکھیں جو دن بھر کے دکھ کو سہہ کر بھی خاموش رہتی ہیں، سب کچھ کہہ جاتی ہیں۔ ایک طالب علم کی آنکھ میں خوف، والدین کی نگاہ میں فکر، مزدور کی تھکن اور بزرگ کی تنہائی،یہ سب خبریں ہیں جو کسی اخبار کے صفحے پر نہیں آتیں، مگر معاشرت کی اصل تصویر یہی ہیں۔

    دکھ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ خوشی ہمیں غافل رکھتی ہے، لیکن کرب ہمارے وجود کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ صوفیانہ روایت میں دکھ عبادت اور بیداری کا ذریعہ ہے، سزا یا مایوسی نہیں۔ جو انسان دکھ کے باوجود خاموش رہتا ہے، وہ سب سے مضبوط اور باشعور ہوتا ہے۔ہمارا سماج اکثر آنکھوں کے غم کو کمزوری سمجھتا ہے اور اسے چھپانے کا مشورہ دیتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خاموش آنکھیں سب کچھ کہہ دیتی ہیں۔ والدین جو دن بھر محنت کرتے ہیں، اکثر اپنی تھکن چھپاتے ہیں۔ بزرگ جو تنہائی میں بیٹھ کر زندگی کے لمحے یاد کرتے ہیں، ان کی آنکھیں ہر کہانی سناتی ہیں۔

    یہ آنکھیں کبھی شکایت نہیں کرتیں، نہ کوئی رونا دھونا کرتی ہیں، مگر ہر سچائی کا آئینہ ہوتی ہیں۔ شاید یہی خاموشی کا جادو ہے، جو لفظوں سے کہیں زیادہ اثر کرتی ہے۔قاری سے سوال یہ ہے کہ اگر خاموش آنکھیں اتنا کچھ کہہ سکتی ہیں، تو کیا ہم واقعی سننے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ سوال معاشرت کے لیے نہیں، بلکہ ہر فرد کے لیے ہے۔ جو آنکھیں بول سکتی ہیں اور ہم نہیں سنتے، وہ سچائی کبھی چھپ نہیں سکتی۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنے اندر سننے کی طاقت کو جگانا ہوگا، تاکہ یہ خاموش کرب، خاموش محبت، اور خاموش حقیقت ہمیں صرف دیکھنے والے نہیں، بلکہ سمجھنے والے بھی بنا سکے۔

  • شیشہ گر،تحریر:پارس کیانی

    شیشہ گر،تحریر:پارس کیانی

    الیگزے شیشہ بنانے والا تھا، مگر یہ پیشہ اس کی پہلی پسند نہیں تھا۔ حالات نے اسے "شیشہ گر” بنا دیا تھا۔ شہر کے پرانے حصے میں تنگ گلیوں والے بازار میں اس کی دکان تھی، ایک عام سی دکان جسے لوگ "شیشہ گھر” کہتے تھے۔ شفاف دیواریں، قطار اندر قطار آئینے، اور ان کے بیچوں بیچ ایک خاموش آدمی جو برسوں سے دوسروں کو خود سے ملواتا آ رہا تھا۔
    صبح سے شام تک لوگ آتے۔ کوئی اپنے چہرے کی جھریاں دیکھتا، کوئی اپنی آنکھوں میں جھانک کر چونکتا، کوئی شیشے پر انگلی رکھ کر مسکرا دیتا جیسے اسے اپنا آپ مل گیا ہو۔ شیشہ گر سب کو دیکھتا، سب کی بات سنتا، مگر خود بولتا کم تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شیشہ بولتا ہے، آدمی نہیں۔ آدمی اگر بولنے لگے تو شیشہ ٹوٹ جاتا ہے۔

    اس کی زندگی اسی ترتیب سے گزرتی رہی۔ دن، مہینے، ،سال سب ایک جیسے۔ اس نے بڑے بڑے لوگوں کے لیے آئینے بنائے تھے۔ ایسے آئینے جن میں سچ چھپ نہیں سکتا تھا۔ کئی بار لوگ ناراض ہو کر لوٹے، کئی بار تعریف کر کے۔ مگر کسی نے کبھی اس سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ خود کیا دیکھتا ہے، یا دیکھتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔؟

    رات کو جب دکان بند ہو جاتی تو الیگزے دیر تک وہیں بیٹھا رہتا۔ شیشوں کے درمیان۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ ایک ہجوم میں اکیلا بیٹھا ہو۔ ہر طرف عکس تھے، مگر ان عکسوں میں اس کی اپنی صورت کہیں گم ہو گئی تھی۔ کبھی کبھی وہ سوچتا کہ شاید اس نے خود کو دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ شاید اسے ڈر تھا، اس بات کا کہ اگر اس نے خود کو دیکھا تو سوال اٹھیں گے، اور سوال زندگی کا سکون چھین لیتے ہیں۔

    وہ یاد کرنے لگا کہ کبھی اس نے بھی کچھ اور بننے کا خواب دیکھا تھا۔ شاید کسی اور ہنر کی خواہش تھی، یا محض یہ آرزو کہ وہ بھی کسی دن بے فکر ہو کر اپنے آپ سے بات کر سکے۔ مگر یہ سب خیال ذمہ داریوں کے شور میں دب گئے تھے۔ گھر، وقت، ضرورت، سب نے مل کر اسے ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا جہاں وہ انسان کم اور مشین زیادہ بن گیا تھا۔

    ایک دن ایک لڑکا دکان میں داخل ہوا۔ اس کی آنکھوں میں تجسس تھا، انے والی زندگی کے خواب تھے، اس نے بے دھڑک شیشے میں خود کو دیکھنا شروع کیا۔ اس کم سن لڑکے نے خود کو سر سے پاؤں تک دیکھا اسے اپنے جسم میں جو نقص نظر آیا اس نے فوری طور پر اس کو درست کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔ "الیگزے” اس کی جرأت پر حیران تھا لڑکا شیشوں میں اپنا بغور جائزہ لینے کے بعد اس سے گویا ہوا؛

    کیا آپ نے کبھی خود کو ان شیشوں میں دیکھا ہے؟
    یہ سوال غیر متوقع تھا الیگزے چونکا۔ برسوں میں پہلی بار کسی نے آئینے کے پار نہیں، آئینہ بنانے والے کی طرف دیکھا تھا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر سچ بول دیا:
    “نہیں۔”
    لڑکا مسکرایا، جیسے اسے یہی جواب درکار تھا۔ اس نے کہا:
    "پھر شاید یہ شیشے ابھی مکمل نہیں ہوئے۔”
    وہ لڑکا چلا گیا، مگر اس کا جملہ دکان میں رہ گیا۔ اس رات الیگزے حسبِ معمول بیٹھا رہا، مگر اس بار خاموشی مختلف تھی۔ اس نے ایک شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھا۔ پہلی بار۔ کوئی وہم نہیں، کوئی خوف نہیں، بس ایک تھکا ہوا انسان، جس کی آنکھوں میں سوال تھے، مگر جواب کی خواہش بھی تھی۔
    اگلے دن اس نے دکان کی ترتیب بدل دی۔ ایک آئینے کا رخ اس نے اپنی طرف رکھ لیا، ایسا نہیں کہ لوگ اسے نہ دیکھ سکیں، بلکہ ایسا کہ وہ خود ہر دن اس کے سامنے سے گزرے۔ وہ جان گیا تھا کہ شیشہ گر ہونا برا نہیں، برا یہ ہے کہ آدمی خود کی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔

    اب بھی لوگ آتے ہیں، شیشے دیکھتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔ دکان اب بھی شیشہ گر کی ہی کہلاتی ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ اب وہاں ایک انسان بھی رہتا ہے،جو دوسروں کو سچ دکھاتے ہوئے، خود کو دیکھنا نہیں بھولتا۔
    اور یہی شاید کسی بھی شیشہ گر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔اس کی سوچ کی سوئی ایک جگہ اٹک گئی ۔۔۔۔

    میں نے شیشہ گر ہوتے ہوئے صرف دوسروں کو شیشہ دکھایا میں عیب جو بن گیا لوگوں کے عیب لوگوں کو دکھانے لگا اور لوگوں نے میرے آئینے میں خود کو دیکھا، میرے بنائے گئے شیشوں کی زبانی سن سن کر اپنے نقص دور کرنے شروع کر دئیے۔ اب میرے سامنے شفاف چہرے، شفاف جسم تھے لیکن آج جب وہی شیشہ میرے سامنے آیا تو مجھے اپنے چہرے پہ داغ دھبے، جھریاں، زخم خوردہ جلد، تھکی خشک آنکھیں اترا ہوا چہرہ نظر ا رہا ہے۔ میں نے اتنے سال تک خود کو کیوں نہ دیکھا۔ اپنی تھکن اپنے بدنمائی دور کیوں نہیں کی ۔۔۔۔؟
    شیشہ گر ہوں ۔۔۔جب میں نے اپنے لیے کوئی شیشہ نہیں بنایا تو میں
    "شیشہ گر” کیسے تھا ۔۔۔۔۔۔؟
    میں صرف عیب جو تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ سوچتے ہوئے اس نے سامنے شیشے میں دیکھا۔
    الیگزے خود سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا ۔