Baaghi TV

Category: خواتین

  • جب محافظ ہی نقب لگا لے،تحریر:قرۃالعین خالد

    جب محافظ ہی نقب لگا لے،تحریر:قرۃالعین خالد

    پیدائش کے اعتبار سے مرد و زن برابر پیدا کیے گئے ہیں۔ بس فرق صرف معاشی زمہ داریوں کا ہے۔ ہر انسان آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ ہم سب بس رب کے بندے ہیں، اسی ذات کے غلام ہیں۔ آزادی! دیکھا جائے تو کیا ہے یہ آزادی؟ آج ہر طرف ایک ہی نعرہ گونجتا ہے کہ "میں آزاد ہوں” اور یہی حقیقت بھی ہے۔ آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے، بس اپنی بندگی کا حکم دیا ہے۔ معاشرے میں بگاڑ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم قدرت کے بنائے قانون کی حدود کو پامال کرتے ہیں۔ حکمرانی، اقتدار، داتا، ملکیت، بڑائی، کبریائی، سب اللّٰہ ربّ العزت کی صفات ہیں۔ جب بھی کسی انسان نے یا کسی قوم نے ان صفات کی حدود کو توڑنے کی کوشش کی تو وہ قوم صفحہ ہستی سے ہی مٹا دی گئی ہے۔ فرمان نبوی کے مطابق اگر آپ کوئی برائی دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو، اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو زبان سے منع کرو اور اگر ایسا بھی نہیں کر سکتے تو اسے دل سے برا جانو، اگرچہ یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا کہ "مسلمان تو ایک جسم کی مانند ہیں اگر اس کے کسی ایک حصے میں درد ہو گی تو دوسرا حصہ خود بخود تکلیف میں ہو گا۔” مگر جب میں اپنے اردگرد نفسا نفسی کا دور دیکھتی ہوں تو یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہوں کہ ہم ایمان کے کون سے درجے پر ہیں؟ نہ ہم غلط بات کو ہاتھ سے روکنے کی استطاعت رکھتے ہیں نہ ہماری زبان حق کے لیے بولتی ہے، تو کیا ہم ایمان کے سب سے نچلے درجے سے بھی گر گئے ہیں؟ مسلمان جو ایک جسم کی مانند ہیں پھر ہمارا جسم، ہمارا دل، ہماری روح اپنوں کی تکلیف کو کیوں نہیں محسوس کرتی؟ کیا ہم مسلمان ہی نہیں رہے؟ کیا ہم انسان ہی نہیں رہے؟ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر۔

    میں سمجھتی ہوں کہ جس کا جتنا برتن ہوتا ہے اس میں وہ اتنی اشیاء بھر لیتا ہے۔ ظرف برتن کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ مرد، عورت کا دشمن نہیں بلکہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ میں نے معاشرے میں نکل کر دیکھا ہے کہ کام کی جگہوں پر جتنی ٹانگ خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کھینچتی ہیں وہ اور کوئی نہیں کرتا۔ اس کے برعکس مردوں میں حسد جلن اور نفرت کے جذبات بہت کم ہوتے ہیں۔ اکثر خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کامیابی برداشت نہیں کرتیں بلکہ ان کو سیدھے راستے کی بجائے غلط راستہ دکھاتی ہیں جو ان کے پاس ہوتا ہے وہ چاہتی ہیں کسی دوسری کے پاس نہ ہو۔ میری نظر میں خواتین کے حقوق کی جنگ مردوں سے ذیادہ اپنی ہی ہم جنس خواتین سے ہے۔ مقابلہ تو برابر والے سے ہوتا ہے۔ جنگ کے اصولوں میں بھی برابری شامل ہے۔ آج کی عورت اپنے حقوق کی جنگ کرنے پلے کارڈ اٹھا کر جو گھر سے نکلی ہے وہ کس سے حقوق مانگنے نکلی ہے؟ پہلے تو آج معاشرے کی ہر عورت کو اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب کوئی عورت گھر سے کام کے لیے نکلے تو ہمیشہ دوسری عورت کی مدد کرنا چاہیے۔ اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ اسے سپورٹ کرنا چاہیے۔ اس کے لیے آسانیاں فراہم کرنی چاہیے، تو ہمیں کسی مرد سے اپنے حق مانگنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ آگے بڑھ کر اپنی خواتین ساتھیوں کی مدد کریں ان کا ساتھ دیں کیونکہ جو کسی کا مقدر ہے وہ آپ چھین نہیں سکتیں اور جو آپ کا مقدر ہے وہ کوئی آپ سے لے نہیں سکتا تو پھر ڈر کس بات کا ہے؟ یہ دنیا فانی ہے اس کی ہر شے کو فنا ہے۔ یہ دولت، یہ شہرت، یہ عزت، یہ مقام سب منوں مٹی تلے دب جانے ہیں باقی رہ جانی ہیں صرف اور صرف نیکیاں ہیں۔ دوپٹہ یا چادر اتار کر ہم نہ مرد بن سکتیں ہیں نہ ان کے برابر ہو سکتی ہیں۔ جس کو اللہ نے قوام بنایا ہم اس کے برابر کیسے ہو سکتی ہیں؟ آدم کے لیے حوا لازم تھی اور حوا کے لیے آدم۔ ہم بھی اپنے ساتھی اور ہمارا ساتھی ہمارے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ سب باتیں لکھنا کہنا برتنا آسان نہیں ہیں۔ مجھے اٹھارہ سال لگے یہ سب لکھنے میں مگر دلیل کے ساتھ اپنی بات کہنی سیکھیں۔ لڑائی جھگڑے اور پلے کارڈز اٹھا کر سڑکوں پر نکلنے کا کوئی فایدہ نہیں، کیونکہ جس کے ساتھ حقوق مانگنے کی جنگ ہے وہ کسی سڑک پر نہیں رہتا وہ ہمارے گھر پر رہتا ہے اور یہ جنگ لڑائی جھگڑے سے نہیں دلیل کے ساتھ جیتنی ہے ان شاءاللہ! اور جو مرد احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں وہی عورت کے ترقی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم برداشت نہیں کرتے۔ میرے تجربے کے مطابق باہر کی دنیا، معاشرہ، لوگ عورت کو کچھ نہیں کہتے، اگر کوئی عورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو وہ اس کے اپنے ہوتے ہیں، جو اس کے پیروں کے نیچے کانٹے بچھاتے ہیں، اس کو لہولہان کرتے ہیں۔ اس کی روح کو تار تار کرتے ہیں۔ اس کی ہمت کو چکنا چور کرتے ہیں۔

    وہ جو گھر کا محافظ ہوتا ہے نا وہی جب نقب لگاتا ہے تو پھر عورت سنھبل نہیں پاتی۔ ہر مرد ایک جیسا نہیں ویسے ہی ہر عورت بھی ایک جیسی نہیں لیکن یہاں بات کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ عورت اگر ناکام ہے، ہاری ہوئی ہے تو اس کا ذمہ دار وہ انسان ہے جو اسی گھر میں نقب لگائے بیٹھا ہے۔ مجھے ایک ادبی تقریب میں جانے کا موقع ملا وہاں سو خواتین میں سے ننانوے خواتین کے ساتھ بھائی یا والد آئے تھے صرف ایک خاتون کے ساتھ اس کا شوہر آیا تھا۔ یہ چند احساس کمتری کے شکار مردوں کی وجہ سے عورت اپنے اصل حق سے محروم ہے۔ میں یہ کہنا چاہوں گی اے بنت حوا! باہر حقوق کی جنگ لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جب دشمن تمھارے اپنے گھر میں موجود ہے۔ کامیاب عورتوں کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جن کے پیچھے ان کے محرم رشتوں کی طاقت موجود ہے اور ایک وہ جو اس دنیا کی بھیڑ میں تنہا ہیں اور کامیاب ہیں۔ سلیوٹ ہے اس عورت کو جو تنہائی کے عذاب سے گزر کر کامیابی کی منازل طے کر گئی۔ کب یہ چند ذہنی مریض آدمی، عورت کی کامیابی سے حسد کرنا چھوڑیں گے؟ کب یہ اپنے گھر کی عورت پر فخر کرنا سیکھیں گے؟ کب تک یہ عورت کو طلاق کی دھمکی دے کر جھکنے پر مجبور کرتے رہیں گے؟ کب وہ وقت آئے گا جب شوہر اپنی محبت کی طاقت سے عورت کو جیتیں گے؟ کب۔۔۔۔؟کب۔۔۔۔؟ میرا سوال ہے کب۔۔۔۔؟ اب وقت آ گیا ہے کہ غلامی کی زنجیریں توڑ دی جائیں۔ جو رشتہ شرائط اور دھمکیوں پر چلے اس کو فراموش کر دیا جائے۔ جہاں محبت نہیں، عزت نہیں وہ در چھوڑ دیا جائے۔ اللہ رب العزت نے آپ کو اپنی ایک الگ شناخت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہاں روز محشر رب کے دربار میں جا کر یہ کہیں گی کہ میرا شوہر ظالم تھا تو فرعون سے ذیادہ ظالم تو نہ تھا۔ جب آسیہ حق کے لیے ڈٹ گئی تو ہم کیوں نہیں اپنے حق کے لیے کھڑے ہو سکتے؟ یہ زندگی مردوں کو بھی ایک بار ملی ہے اور عورتوں کو بھی۔ میری نظر میں ہر عورت خاص ہے چاہے وہ باہر کام کرنے والی خاتون ہے یا گھر سنھبالنے والی۔ عورت اللہ کی مخلوق ہے اس کے خاص ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ نے اس کو تخلیق کیا۔ خدود اللّٰہ میں رہتے ہوئے جو عورت بھی معاشرے کے لیے نفع مند رہے گی وہ کبھی ناکام نہیں رہے گی۔ آؤ!۔۔۔۔ایک دوسرے کا ہاتھ تھامو اور قدم سے قدم ملاؤ اور اس معاشرے کو بتا دو کہ جب نقب گھر پر لگی ہو تو نقب کو توڑنا ہے، کہہ دو جو دل میں ہے بول کہ لب آزاد ہیں تیرے اور سوچو جو صلاحیت میرے رب نے مجھے دی ہے اس کے ذریعے نفع مند بننا ہے۔ دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کریں رب العالمین آپ کی زندگی کو آسان بنا دے گا۔ مثبت طرز عمل و فکر ہی کامیابی اور آگے بڑھنے کی ضمانت ہے۔

  • ممنوعہ درخت، ازل سے ابد تک کا سفر،تحریر:ماریہ بتول

    ممنوعہ درخت، ازل سے ابد تک کا سفر،تحریر:ماریہ بتول

    انسان کی کہانی جتنی پرانی ہے، ‘ممنوعہ درخت’ کا تصور بھی اتنا ہی قدیم ہے۔ یہ صرف ایک درخت یا پھل کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی جبلت، آزمائش اور انتخاب کی وہ داستان ہے جو روزِ اول سے چلی آ رہی ہے اور تا قیامت جاری رہے گی۔

    جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا کیا، تو انہیں جنت کی تمام نعمتوں سے نوازا۔ ہر شے کی اجازت تھی، سوائے ایک درخت کے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوا: "اور اس درخت کے قریب مت جانا”۔یہ پابندی کسی بھوک یا پیاس کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ یہ اطاعت اور نافرمانی کا پہلا امتحان تھا۔ لیکن شیطان نے انسان کی سب سے بڑی کمزوری یعنی ‘ہمیشہ کی زندگی اور طاقت پانے کی خواہش’ کو ڈھال بنایا۔ انسان بہک گیا، خطاکار ہوا، اور پھر توبہ کے آنسوؤں سے دھل کر زمین پر اتار دیا گیا۔ یہیں سے ممنوعہ درخت کی کہانی آسمان سے زمین پر منتقل ہو گئی۔

    آج کی دنیا میں بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ممنوعہ درخت کا قصہ ماضی کا حصہ تھا، لیکن سچ یہ ہے کہ آج ہماری دنیا ایسے ہزاروں ممنوعہ درختوں سے بھری پڑی ہے۔ آج کا انسان روزانہ کسی نہ کسی ایسے پھل کو چکھنے کی کوشش کرتا ہے جس سے اسے روکا گیا ہے۔جیسے کہ ناجائز منافع اور کرپشن کے دور کا سب سے بڑا ممنوعہ درخت ‘حرام مال’ ہے۔ جب انسان چند پیسوں کی خاطر رشوت، ملاوٹ یا دھوکہ دہی کا راستہ چنتا ہے، تو وہ اسی ممنوعہ پھل کو توڑ رہا ہوتا ہے۔

    عصر حاضر میں حد سے بڑھتی ہوئی ہوس اور طاقت کے لیے اقتدار کی بھوک، دوسروں کو کچل کر آگے بڑھنے کی خواہش اور کمزوروں کا استحصال کرنا آج کا ممنوعہ پھل ہے۔
    تاہم ڈیجیٹل گمراہی اور بے راہ روی کے نشے میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی اخلاقی حدود کو پار کرنا، کسی کی عزت اچھالنا، اور فحاشی کی طرف راغب ہونا جدید دور کا ممنوعہ درخت بن چکا ہے۔
    مزید برآں انا اور تکبرمیں خود کو سب سے برتر سمجھنا اور دوسروں کو حقیر جاننا وہ شجرِ ممنوعہ ہے جو انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا دیتا ہے۔
    نتیجتاً ممنوعہ درخت دراصل ایک سرحد کا نام ہے۔ یہ وہ لکیر ہے جو انسان کو جانور سے الگ کرتی ہے۔ جنت کا درخت ایک آزمائش تھا، اور دنیا کے یہ ممنوعہ درخت بھی آزمائش ہیں۔ سچا انسان وہی ہے جو اس پھل کی چمک دمک دیکھ کر بھی اپنے قدم روک لے، کیونکہ ممنوعہ پھل کا ذائقہ چند سیکنڈ کا ہوتا ہے، لیکن اس کا پچھتاوا اورگناہ نسلوں تک چلتا ہے۔اللہ تعالٰی ہم سب کو تمام ممنوعہ درخت اور پھل کی آزمائش سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

  • عورتیں اب روئیے پڑھتی ہیں ،تحریر: فاطمہ زہراء

    عورتیں اب روئیے پڑھتی ہیں ،تحریر: فاطمہ زہراء

    اس رات اسے پہلی بار یقین ہوا کہ شیطان ہمیشہ سینگوں کے ساتھ نہیں آتا۔
    کبھی وہ سفید لباس پہنتا ہے لہجے میں شرافت گھولتا ہے، عورت کی عزت کے قصے سناتا ہے، اپنی ماں، بہن اور بیٹی کی قسمیں کھاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اُس عورت کی زندگی میں داخل ہوجاتا ہے جو اسے ایک شریف انسان سمجھ کر اپنے دل کے دروازے کھول دیتی ہے۔
    وہ بھی اُسے ایسا ہی سمجھ بیٹھی تھی۔
    اُسے کیا معلوم تھا کہ جس شخص کی باتوں میں اُسے تحفظ محسوس ہوتا ہے، اُسی کے اندر ایک ایسا درندہ پل رہا ہے جو موقع ملتے ہی اس کی عزت، اعتماد اور سکون سب کچھ نوچ ڈالے گا
    وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔
    ’’میں نے تمہیں پہچاننے میں اتنی دیر کیوں کردی؟‘‘
    آئینہ خاموش تھا۔
    شاید اسے بھی معلوم تھا کہ کچھ چہرے پہچانے نہیں جاتے، وقت اُنہیں بے نقاب کرتا ہے۔

    اس شخص سے اس کی پہلی ملاقات ایک عام سی ملاقات تھی۔ گفتگو میں شائستگی، باتوں میں وقار اور چہرے پر عجیب سی سنجیدگی۔
    وہ عورتوں کی عزت کی بات کرتا تھا۔
    کہتا تھا
    ’’عورت کو عزت دینا مرد کی تربیت کی پہچان ہے۔‘‘
    وہ اس کی بات سن کر متاثر ہوئی تھی۔
    اس نے سوچا تھا، شاید یہی وہ مرد ہے جس کے بارے میں مائیں اپنی بیٹیوں کو کہتی ہیں کہ ’’بیٹا، اچھے مرد اب بھی دنیا میں موجود ہیں۔‘‘
    وہ اپنی ماں کا بہت ذکر کرتا تھا۔
    اپنی بہنوں کا بھی
    وقت گزرتا گیا
    باتوں کا تعلق اعتماد میں بدل گیا۔
    اعتماد امید میں
    اور امید ایک ایسے رشتے میں، جس کا نام وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
    وہ شخص اسے یقین دلاتا رہا
    ’’تم باقی عورتوں جیسی نہیں ہو۔‘‘
    ’’میں باقی مردوں جیسا نہیں ہوں۔‘‘
    ’’میں تمہیں کبھی تکلیف نہیں دوں گا
    یہ جملے اس کے دل میں اترتے گئے۔

    پھر ایک دن لہجہ بدل گیا۔
    پہلے جواب دیر سے آنے لگے۔
    پھر باتوں میں بے اعتنائی آئی۔
    پھر الزام۔
    پھر خاموشی۔
    اور آخرکار وہ دن بھی آیا جب وہی شخص، جو کبھی عورت کی عزت کو مقدس کہا کرتا تھا، اس کی عزت کو اپنے الفاظ سے زخمی کرنے لگا۔
    وہ حیران تھی
    ’’تم بدل گئے ہو۔‘‘
    وہ ہنسا۔
    ’’میں نہیں بدلا، تم نے مجھے اب دیکھا ہے۔‘‘
    وہ جملہ اس کے دل میں تیر کی طرح لگا۔
    کیونکہ وہ درست کہہ رہا تھا۔
    وہ بدلا نہیں تھا۔
    بس نقاب اتر گیا تھا۔
    اس رات وہ دیر تک سوچتی رہی کہ آخر عورت کسی مرد کے اصل چہرے کو پہچان کیوں نہیں پاتی؟
    شاید اس لیے کہ عورت الفاظ پر یقین کرلیتی ہے اور مرد اکثر الفاظ کو ہتھیار بنا لیتا ہے۔
    وہ وعدے سنتی ہے تو مستقبل دیکھنے لگتی ہے۔
    وہ عزت کی بات سنتی ہے تو اپنا وقار محفوظ سمجھتی ہے۔
    وہ محبت سنتی ہے تو اپنا دل اس کے حوالے کردیتی ہے۔

    اور پھر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جسے اپنا محافظ سمجھ رہی تھی، وہ تو اس کے اعتماد کا قاتل تھا۔
    مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔
    اس شخص نے ایک دن غصے میں کہا
    ’’تمہیں معلوم بھی ہے میں اپنی بہن کے لیے کیا کرسکتا ہوں؟ کوئی اسے بری نظر سے دیکھے تو میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔‘‘
    وہ عورت خاموش رہی۔
    پھر بہت آہستہ سے بولی
    ’’اور اگر کسی کی بہن کو تمہاری بری نظر کا سامنا ہو تو؟‘‘
    وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
    ’’تم مجھے کیا سمجھتی ہو؟‘‘
    وہ مسکرائی۔
    ایسی مسکراہٹ جس میں برسوں کا دکھ تھا۔
    ’’میں تمہیں وہی سمجھتی ہوں جو تم ہو۔‘‘
    ’’اور وہ کیا ہے؟‘‘
    اس نے جواب دیا
    ’’ایک ایسا مرد جو عورت کی عزت کو صرف اس وقت عزت سمجھتا ہے جب عورت اس کے اپنے گھر سے تعلق رکھتی ہو۔‘‘
    اور اپنی بیٹی کا تو ایسے ذکر کرتا جیسے دنیا میں اس سے زیادہ قیمتی چیز کوئی نہ ہو۔
    اس دن احساس ہوا بعض لوگ اپنی بیٹی کے لیے اصول بناتے ہیں اور دوسروں کی بیٹی کے لیے صرف خواہشیں۔
    وہ اٹھ کر چلی گئی۔
    اس دن پہلی مرتبہ اسے اپنے ٹوٹنے کا دکھ نہیں تھا۔
    اسے خوشی تھی کہ اس نے خود کو وقت پر بچا لیا۔
    وہ جان چکی تھی کہ ہر خوب صورت لفظ سچا نہیں ہوتا، ہر نرم لہجہ مخلص نہیں ہوتا اور ہر وہ شخص جو عورت کی حفاظت کی بات کرے، ضروری نہیں کہ عورت کے احترام کا اہل بھی ہو۔
    اس نے اپنی زندگی سے ایک شخص نکالا تھا، مگر اس کے ساتھ ایک بہت بڑا سبق حاصل کیا تھا

    مرد کی پہچان اس بات سے نہیں ہوتی کہ وہ اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ کیسا ہے؟مرد کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہ اُن عورتوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے جن پر اس کا کوئی اختیار نہیں۔
    جو عورت کو کمزور سمجھ کر فائدہ اٹھائے وہ طاقتور نہیں کم ظرف ہے۔
    جو کسی کے اعتماد کو اپنی خواہش کی سیڑھی بنائے وہ مرد نہیں اپنے نفس کا غلام ہے۔
    جو کسی کی بیٹی کے آنسو دیکھ کر بھی بے حس رہے اور گھر جا کر اپنی بیٹی کے لیے دنیا سے لڑنے کی بات کرے، وہ غیرت مند نہیں، منافقت کا پیکر ہے۔
    لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ سب مردوں کو ایک ترازو میں نہ تولا جائے۔
    دنیا میں ایسے مرد بھی ہیں جن کے وجود سے عورت کو خوف نہیں، اطمینان ملتا ہے۔
    جو عورت کو ملکیت نہیں، انسان سمجھتے ہیں۔
    جو اپنی بیٹی کی عزت کی طرح دوسری کی بیٹی کی عزت بھی کرتے ہیں۔
    جو کسی عورت کے انکار کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بناتے۔
    جو محبت کے نام پر قبضہ نہیں کرتے۔
    جو طاقت کے نام پر ظلم نہیں کرتے۔
    اور جو جانتے ہیں کہ مردانگی عورت کو زیر کرنا نہیں اپنے نفس کو زیر کرنا ہے۔
    وہ عورت آج بھی آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
    فرق صرف اتنا ہے کہ اب وہ اپنے چہرے پر کسی اور کے دیے ہوئے زخم تلاش نہیں کرتی۔
    اب وہ خود کو دیکھتی ہے اور مسکرا دیتی ہے۔
    کیونکہ اسے معلوم ہوچکا ہے کہ کچھ رشتوں کا ختم ہونا شکست نہیں ہوتا۔
    کبھی کبھی کسی درندے سے بچ نکلنا ہی زندگی کی سب سے بڑی فتح ہوتی ہے۔
    اور وہ شخص؟
    وہ شاید آج بھی کسی نئی عورت کے سامنے بیٹھا ہو۔
    وہی شرافت۔
    وہی نرم لہجہ۔
    وہی ماں، بہن اور بیٹی کے قصے۔
    وہی جملہ
    ’’میں باقی مردوں جیسا نہیں ہوں۔‘‘
    مگر اب اسے کون بتائے کہ دنیا بدل گئی ہے؟
    ’’اب عورتیں چہروں کے سحر میں گرفتار نہیں ہوتیں وہ رویوں کی تحریر پڑھنا سیکھ چکی ہیں اور رویے وہ آئینہ ہیں جس میں ہر نقاب آخرکار اتر جاتا ہے

  • میرا خواب،تحریر: نیہا علی

    میرا خواب،تحریر: نیہا علی

    حرا کمرے کے سامنے والی کھڑکی میں بیٹھی تھی۔ کتابیں اس کی گود میں تھیں اور وہ پچھلے تین گھنٹے سے وہیں بیٹھ کر پڑھائی کر رہی تھی۔ وہ سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کر رہی تھی۔ اس کا خواب کمشنر بننے کا تھا، کیونکہ اسے اپنے ملک کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوتا تھا۔وہ اپنے خاندان کی واحد لاڈلی بیٹی تھی، جو اتنی محنت سے پڑھتی تھی۔ ان کے خاندان میں لڑکیوں کو زیادہ پڑھایا نہیں جاتا تھا، مگر حرا نے اپنے بابا سے منتیں کرکے اپنی تعلیم جاری رکھی تھی۔ اس کا داخلہ اس کے والد خود کرواتے تھے اور وہ صرف پیپرز دینے جاتی تھی۔سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری وہ موبائل سے کر رہی تھی۔ وہ ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتی تھی۔ جس علاقے کا نام ولی والا تھا، اس کا باپ کھیتی باڑی کرکے اپنی بیٹی کو پڑھا رہا تھا۔ حرا جانتی تھی کہ اس کے بابا کی محنت صرف اس کی تعلیم کے لیے نہیں، بلکہ اس کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے بھی تھی۔
    دن گزرتے گئے اور حرا کی محنت رنگ لاتی گئی۔ آخرکار وہ دن بھی آ گیا جب سی ایس ایس کا نتیجہ سامنے آیا۔ حرا نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پر اپنا رول نمبر درج کیا۔ نتیجہ دیکھتے ہی اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔
    وہ کامیاب ہو چکی تھی!

    حرا نے سب سے پہلے اپنے بابا کو آواز دی۔ بابا دوڑتے ہوئے آئے تو حرا نے موبائل ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔ نتیجہ دیکھ کر ان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ انہوں نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا
    "بیٹی! آج تم نے صرف اپنا خواب پورا نہیں کیا، تم نے اپنے بابا کی محنت کو بھی کامیاب کر دیا ہے۔”
    حرا مسکرائی۔ اس کی آنکھوں میں اب ایک نیا خواب تھا- اپنے علاقے کی ان تمام بیٹیوں کے لیے راستہ بنانا، جن کے خواب صرف اس لیے ادھورے رہ جاتے ہیں کہ انہیں پڑھنے کا موقع نہیں ملتا۔اس دن حرا نے ثابت کر دیا کہ اگر حوصلہ بلند ہو، محنت سچی ہو اور والدین کا ساتھ ہو تو پسماندہ علاقے کی ایک کسان کی بیٹی بھی اپنے خوابوں کی تعبیر لکھ سکتی ہے۔

  • شریکِ سفر ،تحریر: ایس اے شازِم

    شریکِ سفر ،تحریر: ایس اے شازِم

    زندگی کے سفر میں ہر انسان کو ایک ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا ساتھی جو صرف خوشیوں میں شریک نہ ہو بلکہ ان راتوں کا بھی گواہ بنے، جب نیند فکر کی وجہ سے آنکھوں سے دور ہو، جب دل کسی انجانے خوف کے تلے دبا ہو اور جب انسان اپنے ہی سوالوں کے جواب دینے کے لیے بے بسی کے کٹہرے میں کھڑا ہو۔
    ہماری زندگی کی راہیں ہمیشہ ہموار نہیں ہوتیں بلکہ یہ تو کسی پہاڑی سلسلے کی مانند اوپر نیچے ہمارے ساتھ چلتی ہے۔ کہیں دھوپ بہت تیز ہوتی ہے، کہیں راستے پتھریلے ہو جاتے ہیں، کہیں منزل قریب دکھائی دے کر اچانک دور ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ایک شخص خاموشی سے ہمارے ساتھ چلتا رہے تو سفرِ زیست کی تھکن کم ہونے لگتی ہے۔ ساتھی وہ نہیں جو صرف ہمارا ہاتھ تھام کر چلتا رہے بلکہ وہ ہے جو ہمارے لڑکھڑاتے، ڈگمگاتے قدموں کو سہارا دے مگر ہمیں کمزور محسوس نہ ہونے دے۔

    کبھی کبھی انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سامنے وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکے۔ جس کے سامنے آنسو چھپانے کی ضرورت نہ ہو۔ جسے یہ بتانے کی ضرورت نہ پڑے کہ "میں ٹھیک ہوں” کیونکہ وہ چہرہ دیکھ کر ہی جان لیتا ہے کہ سب ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔!

    دنیا میں سب سے مشکل کام شاید یہی ہے کہ انسان اپنے دل کی بات کسی کے سامنے مکمل سچائی سے بیان کر سکے۔ ہم لوگوں سے ملتے ہیں، مسکراتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، اپنی کامیابیاں بیان کرتے ہیں مگر اپنے اندر کے خوف، دکھ اور ٹوٹ پھوٹ کو اکثر چھپا لیتے ہیں۔ ایک سچا شریکِ سفر وہ ہوتا ہے جس کے سامنے یہ پردے اٹھ جاتے ہیں۔ وہ ہمسفر ہماری کمزوری دیکھ کر ہمیں چھوڑتا نہیں بلکہ ہمیں سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔

    کبھی کبھی ہم کسی شخص کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھ لیتے ہیں۔ اس کی عادت ہو جاتی ہے، اس کی باتوں کی عادت، اس کے انتظار کی عادت، اس کے ساتھ خاموش بیٹھنے کی عادت۔ پھر ایک دن وہ شخص ہماری زندگی سے دور ہو جاتا ہے اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ بعض لوگ ہمارے ساتھ رہتے ہوئے بھی ہمارے اندر ایسی جگہ بنا لیتے ہیں جسے ان کے جانے کے بعد خالی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

    وقت گزرتا رہتا ہے مگر کچھ خلا وقت بھی نہیں بھر پاتا۔ ہم سفر کا امتحان بھی شاید یہی ہے کہ خوشی میں ساتھ دینا آسان ہے، کامیابی پر مبارک باد دینا بھی آسان ہے، اچھے دنوں میں محبت کا اظہار کرنا تو بلکل آسان ہے۔ مشکل تو تب ہوتی ہے جب دوسرا شخص شکست خوردہ ہو، پریشان حال ہو، خاموش ہو، چڑچڑا ہو یا زندگی سے تھکا ہوا ہو۔ ایسے وقت میں اگر ہم اس کا ہاتھ تھام لیں تو شاید یہی محبت کی سب سے سچی شبیہہ ہے۔
    محبت صرف خوبصورت الفاظ نہیں ہے بلکہ:
    محبت کبھی کسی کے لیے خاموشی سے دعا کرنا ہے۔
    کبھی اپنی ناراضگی کو پس پشت ڈال کر اس کا حال پوچھ لینا ہے۔
    کبھی اس کی غلطی کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔

    کبھی اپنے مصروف دن میں سے چند لمحے اس کے نام کر دینا ہے یا پھر کبھی صرف اتنا کہنا ہے کہ؛ "میں ہوں تمہارے ساتھ، خود کو اکیلا مت سمجھو۔” بظاہر تو یہ چھوٹا سا جملہ ہے لیکن کسی تھکے ہوئے دل کے لیے پوری دنیا سے زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے۔

    مگر افسوس اس بات کا ہے کہ آج کے اس مصروف دور میں ہمسفر کا تصور بھی بدلتا جا رہا ہے۔ لوگ رشتوں میں محبت سے زیادہ سہولت تلاش کرنے لگے ہیں۔ جب تک دوسرا شخص ہماری خواہشات پوری کرتا رہے، تعلق قائم رہتا ہے۔ جیسے ہی اختلاف، مشکلات یا پھر قربانی کا مرحلہ آتا ہے تو رشتے کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ رشتہ دو کامل انسانوں کا نہیں بلکہ دو نامکمل انسانوں کا ساتھ ہے۔ دونوں سے غلطیاں ہوں گی، دونوں کبھی ناراض ہوں گے تو کبھی خاموش رہیں گے۔ کبھی ایک تھکے گا تو دوسرا سنبھالے گا، کبھی دوسرا ٹوٹے گا تو پہلا سہارا بنے گا۔ بس یہی تو بہترین ساتھی کی نشانی ہے۔

    ہمیں ایک دوسرے کو بدلنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کرنا، شکست دینے کی بجائے ساتھ جیتنے کی خواہش کرنا، ایک دوسرے کی خامیوں کو دنیا کے سامنے اچھالنے کے بجائے انہیں پردے میں رکھنے کا ظرف رکھنا اور سب سے بڑھ کر تو یہ ہے کہ ایک دوسرے کی عزت کرنا کیونکہ محبت وہاں زیادہ دیر قائم رہتی ہے، جہاں عزت زندہ رہتی ہے۔

    ہمارے اس سفرِ زیست میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جو ہمارے ساتھ چلنے کا وعدہ تو کرتے ہیں مگر پہلی آزمائش پر راستہ بدل لیتے ہیں۔ جب حالات اچھے ہوں تو سب اپنے لگتے ہیں لیکن جب وقت مشکل ہو جائے تو رشتوں کی حقیقت سامنے آتی ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ کون ہمارے ساتھ تھا اور کون صرف ہماری خوشیوں کے ساتھ تھا۔ تکلیف اس بات کی نہیں ہوتی کہ کوئی چلا گیا بلکہ اس بات کی ہوتی ہے کہ جسے ہم نے اپنا سمجھا، وہ ہمیں کبھی اپنا سمجھتا ہی نہیں تھا۔ ایسے لوگوں کی جدائی تکلیف دیتی ہے مگر ان کی یاد ہمیشہ ایک خاموش سبق بن کر ہمارے ساتھ رہتی ہے۔ ایسے لوگ بھی ہمارے طویل سفر کے مختصر ہمسفر ہوتے ہیں۔
    زندگی کا ہر رشتہ دائمی نہیں ہوتا مگر ہر رشتہ بے معنی بھی نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ہمیں منزل تک پہنچانے نہیں، بلکہ راستہ سمجھانے آتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم نے پوری زندگی تلاش کرتے رہتے ہیں۔
    ایک ایسا ساتھی جو ہماری خاموشی کو سمجھ سکے، ہماری خوشی میں دل سے خوش ہو، ہمارے دکھ میں ہمارے قریب رہے، ہماری کامیابی سے حسد نہ کرے، ہماری ناکامی پر ہمیں طعنہ نہ دے اور ہماری غیر موجودگی میں بھی ہماری عزت کی حفاظت کرے۔ ایسا شخص مل جائے تو اسے معمولی نہ سمجھیں۔ اس کی دل و جان سے قدر کریں۔ کیونکہ دنیا میں خوبصورت چہرے بہت ہیں، ذہین لوگ بہت ہیں، کامیاب لوگ بہت ہیں مگر مخلص دل بہت کم ہیں اور مخلص ہمسفر تو اس سے بھی کم۔

    خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں ایسا ساتھی مل جائے جو راستے کی دھوپ میں سایہ بنے، اندھیری رات میں چراغ بنے، شکست کے لمحے میں حوصلہ بنے اور خوشی کے لمحے میں مسکراہٹ بن کر ساتھ رہے۔ ایسے لوگوں کی خدارا دل سے قدر کریں۔ انہیں بار بار یہ ثابت کرنے پر مجبور نہ کیجیے کہ وہ آپ کے ساتھ ہے۔
    ان کے احساسات کو معمولی نہ سمجھیے۔
    ان کی خاموشی کو انا نہ سمجھیے۔

    ان کی محبت کو کمزوری نہ سمجھیں کیونکہ بعض لوگ بہت کچھ کہہ کر نہیں، بہت کچھ برداشت کرکے محبت کرتے ہیں اور جب ایسے لوگ خاموشی سے دور ہو جائیں تو ان کی جگہ کوئی دوسرا شخص آسانی سے نہیں لے پاتا۔
    شاید زندگی کی سب سے بڑی خوش نصیبی بھی یہی ہے کہ جب دنیا ہمیں سمجھنے سے انکار کر دے، تب بھی کوئی ایک شخص ایسا موجود ہو جو ہمیں دیکھ کر کہے؛
    "میں تمہیں سمجھتا ہوں اور میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔”
    احمد فراز کا ایک شعر جو میرے دل کے بہت قریب محسوس ہوتا ہے کہ:
    ہم سفر چاہیے ہجوم نہیں
    اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

  • بیٹی کو حق دو، خیرات نہیں،تحریر: طاہر محمود

    بیٹی کو حق دو، خیرات نہیں،تحریر: طاہر محمود

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بیٹی کی پیدائش پر اسے رحمت کہا جاتا ہے، اس کی تعلیم، تربیت اور شادی پر خاندان اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرتا ہے، مگر جب والدین کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور جائیداد تقسیم ہونے کا وقت آتا ہے تو بعض اوقات یہی بیٹی اپنے ہی گھر میں اپنے حق کے لیے اجنبی بنا دی جاتی ہے۔

    یہ صرف ایک خاندانی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی شعور کا امتحان ہے۔

    سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ عورت کو اس کے حق سے محروم کرنے کے لیے ہمیشہ طاقت یا قانون کا سہارا نہیں لیا جاتا؛ کبھی جذبات استعمال ہوتے ہیں، کبھی رشتوں کا واسطہ دیا جاتا ہے، کبھی بھائیوں کی محبت سامنے رکھی جاتی ہے اور کبھی یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ "تمہیں تو جہیز دے دیا تھا۔”

    مگر سوال یہ ہے کہ کیا جہیز وراثت کا متبادل ہے؟

    ہرگز نہیں۔

    جہیز ایک خاندانی روایت ہو سکتی ہے، مگر وراثت ایک مقرر حق ہے۔ کسی بیٹی کو شادی کے وقت دی گئی اشیاء اس کے وراثتی حصے کو ختم نہیں کرتیں۔ اسی طرح بہن کا اپنے بھائی سے محبت کرنا اس بات کا جواز نہیں کہ وہ اپنے حق سے محروم کر دی جائے۔

    المیہ صرف یہ نہیں کہ بعض خاندان عورت کا حصہ روک لیتے ہیں؛ المیہ یہ بھی ہے کہ بعض خواتین معاشرتی دباؤ کے باعث اپنا حق مانگنے سے گھبراتی ہیں۔ انہیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں بھائی ناراض نہ ہو جائیں، خاندان میں اختلاف نہ پیدا ہو جائے یا لوگ انہیں خودغرض قرار نہ دیں۔

    یہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ وہ رشتہ کیسا ہے جسے قائم رکھنے کے لیے ایک بہن کو اپنا حق قربان کرنا پڑے؟

    حقیقت یہ ہے کہ وراثت میں عورت کا حق اسے معاشی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ زندگی ہمیشہ ایک جیسے حالات میں نہیں رہتی۔ شوہر کی وفات، طلاق، کاروباری مشکلات، بڑھاپا یا دیگر حالات میں وہی جائیداد عورت کے لیے سہارا بن سکتی ہے جسے کبھی "خاندانی محبت” کے نام پر اس سے چھوڑوا لیا گیا تھا۔

    اس لیے معاشرے کو یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ بہن کو اس کا حصہ دینا بھائی کی مہربانی ہے۔ نہیں! یہ مہربانی نہیں، ذمہ داری ہے؛ احسان نہیں، انصاف ہے۔

    ہمیں اپنے گھروں سے تبدیلی شروع کرنا ہوگی۔ والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد میں انصاف کریں، بیٹوں کو چاہیے کہ بہنوں کے حق کو اپنا نقصان نہ سمجھیں، اور بیٹیوں کو اپنے شرعی و قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے۔

    میڈیا، علماء، وکلا، اساتذہ اور سماجی اداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلے کو محض خواتین کے حقوق کا نعرہ بنا کر نہ چھوڑیں بلکہ عوام کو عملی قانونی اور شرعی رہنمائی فراہم کریں۔

    کیونکہ معاشرے اس وقت ترقی کرتے ہیں جب طاقتور کمزور کا حق نہیں کھاتا، بلکہ اس کا حق خود اس تک پہنچاتا ہے۔

    آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا:

    بیٹی کو اس کا حصہ دیتے ہوئے ہاتھ نہ روکیں؛
    کیونکہ بیٹی کا حق روک کر آپ صرف زمین نہیں روکتے،
    آپ ایک انسان کا مستقبل روکتے ہیں۔

    اور یاد رکھیے—

    بیٹی کو وراثت دینا احسان نہیں، حق دینا ہے؛
    اور حق ادا کرنا ہی اصل انسانیت ہے۔ا

  • محبت کا آخری خط ،تحریر:شمسہ رانی

    محبت کا آخری خط ،تحریر:شمسہ رانی

    کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کر تی ہے۔ جہاں محبت کو تھامے رکھنا نہیں بلکہ محبت کو ازاد کر دینا سب سے بڑا امتحان بن جاتا ہے ۔کچھ جدائیاں فاصلے سے نہیں حالات کی بے بسی سے جنم لیتی ہیں۔ یاسین ملک اور مشعال ملک کی داستاں بھی شاید اسی بے بسی کی ایک دردناک تصویر ہے۔

    2005 میں پاکستان آمد کے دوران یاسین ملک کی ملاقات مشعال ملک سے ہوئی۔ دونوں کا تعلق کشمیر سے تھا ۔ایک ہی سرزمین کی نسبت نے دو دلوں کو قریب کیا اور یہ قربت بالاآخر نکاح کے رشتے میں بدل گئی۔ 2012 میں ان کے گھر بیٹی رضیہ نے جنم لیا ۔پھر حالات نے ایسا رخ بدلا کہ یاسین ملک طویل قید کی زندگی میں چلے گئےاور ایک شوہر ،ایک باپ اور ایک خاندان کے درمیان جیل کی دیوار حائل ہو گییں۔مشعال ملک نے برسوں اپنے شوہر کی اواز بن کر دنیا کے سامنے ان کی رہائی اور ملاقات کی کوششیں جاری رکھیں مگر کچھ فاصلے ایسے ہوتے ہیں۔ جنہیں نہ دعائیں مٹا پاتی ہیں نہ انتظار

    حالیہ عدالتی کاروائی کے دوران یاسین ملک کی طرف سے پیش کیے گئے 25 صفحات کے حلف نامے نے اس داستان کو ایک اور اذیت ناک موڑ دے دیا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے لیے خواہش ظاہر کی کہ وہ ان کی زندگی کے انتظار میں اپنی زندگی برباد نہ کرے بلکہ ایک نئی زندگی شروع کریں یہ الفاظ پڑ ھتےہوئے دل نے ایک سوال کیا۔اخر انسان کو کتنی بے بسی گھیر لیتی ہے کہ وہ جسے عمر بھر اپنے ساتھ دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو اس کو اپنے ہاتھوں ازاد کرنے لگے؟یہ فیصلہ درست ہے یا غلط اس کا فیصلہ متعلقہ فریق اور تاریخ کریں گے۔ مگر ایک شوہر کے دل میں اپنی بیوی کے مستقبل کی فکر اور اپنی بیٹی سے دوری کا قرب انسانی سطح پر ایک الگ ہی داستان سناتا ہے۔ اور پھر اس کہانی میں ایک بیٹی بھی ہے رضیہ سلطانہ
    باپ نے شاید اسے آنے والے دکھوں سے بچانے کے لیے رشتہ آزاد کرنا چاہا۔ مگر بیٹی نے اپنے باپ کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا۔ شاید اولاد کے لیے باپ صرف ایک شخص نہیں ہوتا ۔وہ بچپن کی وہ چھاؤں ہوتا ہے ۔جسے فاصلے بھی دل سے جدا نہیں کر سکتے۔۔

    میں نے جب یہ خبر سوشل میڈیا پر دیکھی تو کچھ لمحوں کے لیے نظریں وہیں ٹھہر گئیں ، آنکھ نم ہو گئی ۔سوچا محبت آخر کون سی شے ہے ۔؟کیا صرف ساتھ رہنے کا نام ہے ۔نہیں شاید محبت کبھی کبھی کسی کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا دینے کا نام بھی ہے تاکہ وہ زندگی کے کسی اور راستے پر چل سکے۔

    قید صرف جیل کی چار دیواری نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ سلاخوں کے پیچھے قید ہوتے ہیں اور کچھ انتظار میں
    یاسین ملک شاہد اپنی قسمت کی قید سے نکلنے کی امید کھو چکے ہوں مگر انہوں نے اپنی محبت کے لیے ایک دروازہ کھولنے کی کوشش کی ہے۔
    شاید محبت کی سب سے دردناک تعریف یہی ہے کہ انسان اپنے محبوب کو اپنے پاس رکھنے کی خواہش کے باوجود اس کے مستقبل کے لیے اسے ازاد کر دے۔
    اور بعض اوقات محبت کا اخری خط یہی ہوتا ہے
    میں تمہیں چھوڑ نہیں رہا
    میں صرف اپنی قید سے تمہیں ازاد کر رہا ہوں

  • باورچی خانہ اور میں،تحریر :نیہا علی

    باورچی خانہ اور میں،تحریر :نیہا علی

    باورچی خانہ اور میرا رشتہ جیسے سوتن کا ہوتا ہے۔ مجھے اس کا سارا کام آتا ہے، مگر پھر بھی جب کچن میں داخل ہوتی ہوں تو لگتا ہے جیسے کسی دفتر میں حاضری لگانے آئی ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں تنخواہ کے بجائے تعریف ملتی ہے، وہ بھی کبھی کبھار!
    صبح کچن میں قدم رکھتے ہی چولہا، برتن، ایسے مجھے گھورنے لگتے ہیں جیسے رات بھر میٹنگ کر کے میرا انتظار کر رہے ہوں۔
    میں چائے بناتی ہوں تو سب سے پہلے سوال آتا ہے، اچھی بنانا، مطلب میں ایک کلو دودھ کی دو کپ کیسے بناؤں، جیسے میری بہن ایک کلو کی چائے صرف اور صرف تین کپ بناتی ہے-
    چائے بن جائے تو، پھر یہ آواز آتی ہے ناشتہ کب بنے گا؟
    ناشتہ بنا کر ابھی فارغ ہوتی ہوں تو ادھر اماں بیگم کہتی ہیں دوپہر کے کھانے میں کیا بنے گا؟
    میں سوچتی ہوں؟
    یہ گھر ہے یا چوبیس گھنٹے کھلا ہوا ہوٹل؟
    روٹی بناتے ہوئے میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر روٹی گول ہو، مگر کبھی کبھی ایک آدھ روٹی نقشہ پاکستان بن جاتی ہے، پتا ہے کبھی کبھی کبھار میری روٹی کا رخ مشرق ،کبھی مغرب تو کبھی کراچی تو کبھی لاہور کی جانب ہوتا ہے-
    میں اسے دیکھ کر کہتی ہوں چلو آج محب وطنی روٹی کھائیں گے سب، ہاہاہا
    اصل امتحان تب ہوتا ہے جب میرا چھوٹا بھائی مطلب مجھ سے بڑے ہیں پوچھے
    آج کھانے میں کیا ہے
    میں کہتی ہوں
    آپ کی ناپسندیدہ کھانا کہیں۔
    مطلب برتھا جو ان کو بے حد پسند ہے
    یہ کچھ بھی سن کر میرا دماغ ایسے گھومتا ہے جیسے بلینڈر میں چٹنی بن رہی ہو۔
    آخر میں میں وہی بناتی ہوں جو مجھے پسند ہو۔
    اور کھانے کے بعد سب کہتے ہیں-واہ! بہت مزے کا بنا ہے۔
    سوائے میرے والد محترم کے علاوہ سب تعریف کی پل باندھ دیتے ہیں –
    میں مسکرا کر کہتی ہوں کل بھی یہی بنے گا۔
    اچانک سب کے چہرے ایسے اتر جاتے ہیں جیسے کسی نے خوشی کی خبر واپس لے لی ہو۔تب مجھے سمجھ آتا ہے کہ باورچی خانہ چلانا آسان ہے، مگر گھر والوں کی پسند چلانا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے!
    اور میرا کچن سے آخری سوال ہمیشہ یہی ہوتا ہے
    کیا آج برتن خود دھو لو گے؟
    کچن خاموش رہتا ہے…
    کیونکہ اسے بھی پتا ہے کہ کل پھر میں ہی آنے والی ہوں-برتنوں کو مجھ سے ایسی محبت ہے ،میں رات کو دھو کر تقریباً ١٢بجےتک فارغ ہوتی ہوں، پھر صبح فجر سے پہلے سینک ماشاء اللہ سے بھرا ہوتا ہے مطلب ،رات کو جن جنات اور چریلیں آتی ہیں- میرے سارے ارمان دھرے کے دھرے کے رہے جاتے ہیں جو میں سوچتی ہوں صبح کام کم ہوگا، میں موبائل استعمال کروں گی، میرے سارے ارمان آنسو بھی بہے گئے،

  • 6ستمبر،  سفید چادر ،تحریر:سیدہ شبانہ رضوی

    6ستمبر، سفید چادر ،تحریر:سیدہ شبانہ رضوی

    ​مہرین نے ایک بار پھر الماری سے وہ سبز فلائنگ سسٹ نکالا اور اسے اپنے چہرے سے لگا کر گہرا سانس لیا۔ کپڑے میں اب بھی شاہ میر کے پرفیوم اور بارود کی مدہم سی بو بسی ہوئی تھی۔ ابھی تو صرف تین ماہ ہوئے تھے اس کی شادی کو… ابھی تو اس کے ہاتھوں پر لگی حنا کا رنگ بھی پوری طرح نہیں اترا تھا، لیکن اس کی زندگی کا ہر رنگ سفید چادر کی نذر ہو چکا تھا۔

    ​اکیس سال کی عمر، جو خواب دیکھنے اور زندگی جی لینے کی ہوتی ہے، اس عمر میں مہرین ایک ویران کمرے میں بیٹھی اپنی حسرتوں کا ماتم کر رہی تھی۔ وہ روز صبح اٹھتی، عادت کے مجبور ہاتھ شاہ میر کی وردی استری کرنے کے لیے استری بورڈ کی طرف بڑھتے، اور پھر دم بخود رہ جاتے۔ باورچی خانے میں چائے کا دوسرا کپ بناتے ہوئے اچانک یاد آتا کہ اب چائے کی پیالی سنبھالنے والا وہ شخص اس دنیا میں نہیں رہا جو پیالی تھامتے ہی اس کی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کیا کرتا تھا۔

    ​”تم نے تو کہا تھا 6 ستمبر کو میں تمہارے سر کے اوپر سے طیارہ اڑا کر تمہیں سلامی دوں گا…” مہرین نے ہچکیوں کے درمیان فلائنگ سوٹ کو اپنے سینے سے بھیچتے ہوئے کہا، "تم نے سلامی تو دی شاہ میر، لیکن پرچم میں لپٹ کر… مجھے یوں زندہ درگور کر کے؟”

    ​شادی کے فوراً بعد جب سرحدوں پر کشیدگی بڑھی اور شاہ میر کو بلاوا آیا، تو مہرین نے روتے ہوئے اس کا پلّو پکڑا تھا: "مجھے ڈر لگتا ہے شاہ میر…”
    شاہ میر نے اس کی کلائیوں میں چھنکتی چوڑیوں کو چوم کر مسکراتے ہوئے کہا تھا: "ایک پائلٹ کی بیوی کو بزدل نہیں ہونا چاہیے۔ میں واپس آؤں گا، تم سے کیے ہر وعدے کو پورا کرنے۔”

    ​لیکن 6ستمبر کی اس شومئی قسمت صبح، دشمن کی گولی نے شاہ میر کے طیارے کو ہٹ کیا۔ شاہ میر چاہتا تو بقیہ آبادی سے دور کود سکتا تھا، لیکن اس بہادر نو بہاتے جوان نے بستی کو بچانے کی دھن میں اپنے جہاز کو صحرا کی طرف موڑ دیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ شاہ میر کا جسدِ خاکی تو ملا، مگر مہرین کی پوری کائنات خاک میں مل گئی۔
    ​کمرے کے باہر سے لکڑی کی لاٹھی کی ‘ٹک ٹک’ کی آواز آئی۔ شاہ میر کے بوڑھے بابا، بادل خان، دھیرے دھیرے چلتے ہوئے کمرے کے دالان میں آ کر رک گئے۔ ان کے پیچھے ان کی بوڑھی بیوی فاطمہ کھڑی تھیں۔ ان دونوں بوڑھے ماں باپ کے لیے شاہ میر صرف ان کا اکلوتا بیٹا اور بڑھاپے کی واحد لاٹھی نہیں تھا، بلکہ ان کی عمر بھر کی تپسیا کا پھل تھا۔

    ​بادل خان نے جب مہرین کو فرش پر پڑے شاہمیر کے ہیلمٹ اور سسٹ سے لپٹ کر روتے دیکھا، تو ان کی اپنی ضبط کی دیواریں ڈھے گئیں۔ وہ شخص جو بیٹا دفناتے وقت بھی نہیں رویا تھا، آج اپنی جوان بیوہ بہو کی حسرتوں کو دیکھ کر گھٹنوں کے بل گر پڑے۔
    ​”بیٹی…” بادل خان کی لرزتی ہوئی آواز آئی، "ہمیں معاف کر دو مہرین… ہم تمہارے مجرم ہیں…”
    ​مہرین نے چونک کر سر اٹھایا۔ بوڑھے باپ کی آنکھوں سے بہتے آنسو ان کی سفید داڑھی کو بھگو رہے تھے۔
    ​”بابا! آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟” مہرین نے تڑپ کر انہیں سنبھالا۔

    ​”نہیں بیٹی!” بادل خان نے مہرین کے سر پر اپنے کانپتے ہاتھ رکھے، "تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ تم نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے؟ ہمارے اکلوتے بیٹے کی قربانی نے تو ہمیں شہید کا باپ بنا دیا، لیکن تمہیں اس عمر میں بیوہ بنا دیا۔ تمہاری ان اجڑی ہوئی چوڑیوں اور اس سفید چادر کا بوجھ ہمارے بوڑھے کاندھوں سے اٹھایا نہیں جاتا۔ ہماری زندگی تو ختم ہو چکی، مگر تمہاری حسرتیں، تمہارے ارمان… ان کا کیا حساب دیں ہم رب کو؟”
    ​فاطمہ نے بھی آگے بڑھ کر مہرین کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ دونوں بوڑھی ہستیاں اور وہ جوان بیوہ ایک دوسرے کو تھامے یوں بلک بلک کر روئیں کہ کمرے کی بے زبان دیواریں بھی کانپ اٹھیں۔

    ​باہر گلی میں 6 ستمبر کا جشن جاری تھا۔ سپیکر پر ملی نغمے گونج رہے تھے: "اے وطن کے سجیلے جوانو…”
    لوگ شہیدوں کی شجاعت پر نعرے لگا رہے تھے، مگر اس چھوٹے سے گھر کے اندر، اکلوتے بیٹے کے بوڑھے ماں باپ اور ایک تین ماہ کی دلہن اپنی اجڑی ہوئی دنیائے حسرت کا ماتم کر رہے تھے۔ مہرین نے کھڑکی سے اوپر دیکھا، چودھویں کا چاند بادلوں کے پیچھے چھپ رہا تھا—بالکل اسی طرح جیسے اس کی زندگی کی تمام خوشیاں اور حسرتیں ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں روپوش ہو چکی تھیں۔…..

  • عہد وفا کی تجدید،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    عہد وفا کی تجدید،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    انسانی زندگی صرف سانسوں کے تسلسل کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ وعدوں، تعلقات، ذمہ داریوں اور اعتماد کی ایک خوبصورت زنجیر ہے۔ انہی وعدوں میں ایک ایسا عہد بھی شامل ہے جو انسان کو اعلیٰ کردار، خلوص، محبت اور ایثار کا پیکر بناتا ہے، اور وہ ہے عہدِ وفا۔ وفا کا مطلب صرف کسی ایک انسان سے محبت یا تعلق نبھانا نہیں ہے بلکہ اپنے رب، اپنے دین، اپنے والدین، اپنے وطن، اپنے خاندان، اپنے پیشے اور اپنے اصولوں کے ساتھ سچی وابستگی کا اظہار بھی وفا ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ جب معاشرے میں وفاداری کمزور پڑنے لگتی ہے تو اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ رشتوں میں دراڑیں آجاتی ہیں، اور اجتماعی زندگی انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں عہدِ وفا کی تجدید محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت بن جاتی ہے۔

    آج ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں ترقی، سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو بے شمار آسانیاں فراہم کی ہیں۔ مگر افسوس کہ اسی ترقی کے ساتھ خلوص، ایثار، سچائی اور وفاداری جیسی اقدار کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ ذاتی مفاد نے اجتماعی سوچ کو محدود کر دیا ہے۔ اور وقتی فائدے کی خاطر مستقل رشتوں کو قربان کرنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ دوستی ہو یا رشتہ داری، ملازمت ہو یا کاروبار، سیاست ہو یا سماجی تعلقات، ہر جگہ وفاداری کا بحران دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں ہر شخص کو اپنے دل میں جھانک کر یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا میں اپنے وعدوں کا سچا امین ہوں؟

    عہدِ وفا کی پہلی بنیاد اللہ تعالیٰ سے کیا گیا وہ وعدہ ہے کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں گے۔ اس کے احکام پر عمل کریں گے، اور اس کی مخلوق کے ساتھ عدل، رحم اور حسنِ سلوک کا برتاؤ کریں گے۔ جب انسان اپنے رب سے کیے گئے عہد کو نبھاتا ہے تو اس کے کردار میں دیانت، تقویٰ، صبر اور شکر جیسی خوبیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہی صفات اسے دوسروں کے لیے باعثِ اعتماد بناتی ہیں۔ اور معاشرے میں خیر و بھلائی کو فروغ دیتی ہیں۔
    والدین کے ساتھ حسنِ سلوک بھی عہدِ وفا کی روشن مثال ہے۔ وہ ہستیاں جنہوں نے اپنی خواہشات قربان کرکے ہماری پرورش کی، ان کی خدمت، عزت اور اطاعت ہماری ذمہ داری ہے۔ اسی طرح شریکِ حیات کے ساتھ اعتماد، اولاد کی درست تربیت، بہن بھائیوں سے محبت، دوستوں کے ساتھ اخلاص اور پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی وفا کا عملی اظہار ہے۔ رشتے صرف خون سے نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور قربانی سے مضبوط ہوتے ہیں۔ اور انہی اوصاف سے ایک خوشحال معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

    وطن سے وفاداری بھی عہدِ وفا کا ایک اہم تقاضا ہے۔ اپنے ملک کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے اپنی ذمہ داری کو ایمانداری سے ادا کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔ قانون کی پاسداری، قومی املاک کی حفاظت، دیانت داری سے ٹیکس ادا کرنا، ماحول کو صاف رکھنا اور اپنے فرائض کو احسن انداز میں انجام دینا بھی وطن سے وفاداری کی علامت ہے۔ قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے کردار، نظم و ضبط اور اخلاص سے مضبوط بنتی ہیں۔

    تعلیمی اداروں میں ایک استاد کا اپنے علم سے وفادار ہونا، طلبہ کی بہترین تربیت کرنا اور ایک طالب علم کا دیانت داری سے علم حاصل کرنا بھی عہدِ وفا کا حصہ ہے۔ اسی طرح ایک ڈاکٹر کا مریض کے ساتھ مخلص ہونا، ایک وکیل کا انصاف کا ساتھ دینا، ایک صحافی کا سچ بولنا اور ایک تاجر کا ایمانداری سے کاروبار کرنا معاشرے میں اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔ جب ہر شخص اپنے پیشے کو امانت سمجھ کر انجام دیتا ہے تو بدعنوانی، دھوکا دہی اور ناانصافی خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔

    سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی عہدِ وفا کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج ایک جھوٹی خبر، ایک بے بنیاد الزام یا ایک غیر ذمہ دارانہ تبصرہ سیکڑوں لوگوں کی زندگی متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی تحریروں، گفتگو اور رویوں میں سچائی، شائستگی اور ذمہ داری کو اپنائیں۔ اختلافِ رائے ضرور ہو، مگر تہذیب اور احترام کے دائرے میں رہ کر۔ یہی حقیقی وفاداری ہے کہ ہم اپنی آزادیِ اظہار کو دوسروں کی عزت مجروح کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں۔

    عہدِ وفا کی تجدید صرف زبان سے کیے گئے دعووں کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مسلسل عملی جدوجہد ہے۔ ہر دن، ہر لمحہ انسان کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے کردار کا جائزہ لے، اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے اور اپنے وعدوں کو تازہ کرے۔ معاشرے کی تعمیر صرف حکومتوں یا اداروں کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ ہر فرد اپنے حصے کا چراغ روشن کرے تو اندھیرے خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

    اگر ہم ایک پُرامن، بااعتماد اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے عہدِ وفا کو محض الفاظ تک محدود نہیں رکھنا ہوگا۔ بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے رب، اپنے والدین، اپنے خاندان، اپنے وطن، اپنے پیشے اور اپنی اخلاقی اقدار سے وفاداری کا نیا عزم کرنا ہوگا۔ یہی عزم ہماری شخصیت کو وقار عطا کرے گا، ہمارے معاشرے کو مضبوط بنائے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال قائم کرے گا۔
    آخر میں، میں یہی کہوں گی کہ عہدِ وفا کی تجدید دراصل انسان کے ضمیر کی بیداری کا نام ہے۔ جب انسان اپنے وعدوں کی حفاظت کرنا سیکھ لیتا ہے، تو وہ صرف دوسروں کا اعتماد ہی حاصل نہیں کرتا ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا بھی مستحق بنتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنے دلوں میں یہ عہد تازہ کریں کہ وفا، دیانت، سچائی اور اخلاص کو اپنی زندگی کا مستقل شعار بنائیں گے۔ کیونکہ مضبوط کردار ہی مضبوط قوموں اور روشن مستقبل کی حقیقی بنیاد ہوتا ہے۔