Baaghi TV

Category: خواتین

  • حجاب  ایک چادر جو صرف سر نہیں دل بھی ڈھانپتی ہے.تحریر:  آمنہ خواجہ

    حجاب ایک چادر جو صرف سر نہیں دل بھی ڈھانپتی ہے.تحریر: آمنہ خواجہ

    کبھی کبھی زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ صرف محسوس کی جاتی ہیں۔ حجاب بھی میرے لیے ایسی ہی ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں جو سر پر اوڑھ لیا جائے بلکہ یہ ایک احساس ہے، ایک ذمہ داری ہے، ایک پہچان ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے رب سے محبت کا ایک خاموش اظہار ہے۔

    چار ستمبر جب عالمی یوم حجاب آتا ہے تو مجھے جانے کیوں اپنی وہ بیٹیاں یاد آتی ہیں جو آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے سر پر دوپٹہ رکھتی ہیں اور پھر خود کو دیکھ کر مسکرا دیتی ہیں۔ شاید انہیں ابھی معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ صرف دوپٹہ نہیں اوڑھ رہیں بلکہ ایک ایسی روایت کو اپنے وجود کا حصہ بنا رہی ہیں جس کے پیچھے صدیوں کی حیا، قربانیاں، محبت اور ایمان کی داستانیں چھپی ہیں۔
    حجاب کو دیکھنے کے لیے صرف آنکھیں کافی نہیں ہوتیں، اسے سمجھنے کے لیے دل چاہیے۔
    آج کا زمانہ عجیب زمانہ ہے۔ یہاں انسان کی قدر اکثر اس کے کردار سے نہیں بلکہ اس کے لباس، چہرے اور ظاہری حسن سے کی جاتی ہے۔ لڑکی کو بتایا جاتا ہے کہ خوبصورت دکھو تاکہ دنیا تمہیں پسند کرے۔ اسے آئینے کے سامنے کھڑا کرکے اس کے چہرے کے نقائص گنوائے جاتے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ تمہاری کامیابی تمہاری خوبصورتی میں ہے۔
    مگر حجاب ایک خاموش آواز بن کر کہتا ہے
    نہیں
    تمہاری اصل پہچان تمہارا چہرہ نہیں
    تمہاری اصل پہچان تمہارا کردار ہے
    تمہارے وجود کی قیمت کسی کی نظریں طے نہیں کر سکتیں۔
    یہی وجہ ہے کہ میرے نزدیک حجاب کسی عورت کو چھوٹا نہیں کرتا بلکہ اسے اس شور سے نکال کر ایک ایسی خاموش طاقت عطا کرتا ہے جسے ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔

    میں نے ہمیشہ سوچا ہے کہ ایک چادر کتنی عجیب چیز ہے۔ وہ سر پر رکھی جاتی ہے مگر اثر دل تک اترتا ہے۔ وہ جسم کو ڈھانپتی ہے مگر انسان کے اندر احساس جگاتی ہے۔ وہ چہرے کو چھپا سکتی ہے مگر شخصیت کو نہیں چھپا سکتی۔
    ایک باحجاب عورت جب علم حاصل کرتی ہے تو اس کا علم چھپتا نہیں۔
    جب وہ قلم اٹھاتی ہے تو اس کے لفظ پردے میں نہیں جاتے۔
    جب وہ ڈاکٹر بن کر کسی مریض کی جان بچاتی ہے تو اس کی خدمت کا کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
    جب وہ استاد بن کر نسلیں سنوارتی ہے تو اس کی محنت چھپائی نہیں جا سکتی۔
    جب وہ ماں بن کر اپنی اولاد کی تربیت کرتی ہے تو اس کی گود میں مستقبل پل رہا ہوتا ہے۔
    تو پھر حجاب کو عورت کی رکاوٹ کیوں سمجھا جائے؟
    رکاوٹ تو وہ سوچ ہے جو عورت کی پوری شخصیت کو صرف اس کے چہرے اور جسم تک محدود کر دیتی ہے۔
    حجاب کہتا ہے مجھے میرے کردار سے پہچانو۔
    مجھے میرے علم سے پہچانو۔
    مجھے میری صلاحیت سے پہچانو۔
    مجھے میرے اخلاق سے پہچانو۔
    میرے لباس کو میری پوری شخصیت کا خلاصہ نہ بناؤ۔
    لیکن حجاب کی بات کرتے ہوئے ایک حقیقت ہمیں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ماننی ہوگی۔ حجاب صرف عورت کے سر پر نہیں ہوتا۔ اگر ایک عورت نے سر ڈھانپ لیا مگر اس کی زبان کسی کی عزت اچھالتی رہی تو حجاب کی روح کہاں رہی؟ اگر لباس میں پردہ تھا مگر دل میں تکبر تھا تو وہ حیا کہاں رہی؟ اگر دوپٹہ سر پر تھا مگر کسی مجبور کا حق چھین لیا گیا تو پھر اس پردے کا مقصد کیا رہ گیا؟
    حجاب باہر سے شروع ہو کر اندر تک پہنچنے کا نام ہے۔
    یہ نگاہ کو بھی پاکیزہ کرتا ہے اور نیت کو بھی۔
    یہ زبان کو بھی سنبھالتا ہے اور رویے کو بھی۔
    اور یہاں صرف عورت ہی مخاطب نہیں۔
    مرد بھی مخاطب ہے۔
    جس معاشرے میں عورت سے حیا کا مطالبہ کیا جاتا ہے وہاں مرد سے بھی نگاہ کی حیا کا مطالبہ ہونا چاہیے۔ عورت کو پردے کا حکم دے کر مرد کو اس کی نگاہ کی آزادی دینا انصاف نہیں۔ پاکیزگی ہمیشہ دونوں طرف سے آتی ہے۔
    ایک بیٹی کو جب حجاب کا مطلب سمجھایا جائے تو اسے خوف کے ساتھ نہیں بلکہ محبت کے ساتھ سمجھایا جائے۔ اسے یہ نہ کہا جائے کہ تمہیں دنیا سے چھپنا ہے بلکہ یہ بتایا جائے کہ تمہیں اپنی عزت کی حفاظت کرنی ہے۔ اسے یہ نہ سکھایا جائے کہ تم کمزور ہو اس لیے پردہ کرو بلکہ یہ احساس دیا جائے کہ تم باوقار ہو اور تمہارا وجود عزت کے قابل ہے۔
    ہم اپنی بیٹیوں کو اگر صرف حجاب دیں گے اور تعلیم نہیں دیں گے تو ہم ادھوری تربیت کریں گے۔
    اگر تعلیم دیں گے مگر حیا نہیں دیں گے تو تب بھی کچھ کمی رہ جائے گی۔
    انہیں حجاب کے ساتھ علم چاہیے۔
    حجاب کے ساتھ شعور چاہیے۔
    حجاب کے ساتھ خود اعتمادی چاہیے۔
    حجاب کے ساتھ کردار چاہیے۔
    کیونکہ اسلام نے عورت کو صرف پردے میں نہیں رکھا بلکہ اسے علم، عزت، وراثت، رائے اور شخصیت کا حق بھی دیا۔

    مجھے کبھی کبھی ایک ماں کا چہرہ یاد آتا ہے جو اپنی بیٹی کے سر پر دوپٹہ رکھتے ہوئے شاید دل ہی دل میں دعا کرتی ہوگی
    اے میرے رب
    میری بیٹی کو دنیا کی ہر بری نظر سے بچانا
    اس کے نصیب میں عزت لکھنا
    اس کے قدموں کو سیدھا رکھنا
    اس کے دل میں حیا رکھنا
    اور اسے اتنی طاقت دینا کہ وہ دنیا کے شور میں بھی اپنی پہچان نہ بھولے۔
    شاید یہی حجاب کی سب سے خوبصورت تصویر ہے۔
    ایک ماں کی دعا
    ایک بیٹی کا وقار
    اور رب کی رضا کی طرف اٹھتا ہوا ایک قدم۔
    آج ہمیں حجاب کو مذاق بنانے کے بجائے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی کے حجاب کا مذاق اڑانا صرف کپڑے کا مذاق نہیں ہوتا بلکہ کبھی کبھی کسی کے ایمان، احساس اور ذاتی انتخاب کو زخمی کر دیتا ہے۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ دین کی بات حکمت اور محبت سے کی جائے۔ کیونکہ دلوں کو فتح کرنے کا راستہ سخت الفاظ نہیں بلکہ اچھا کردار ہے۔
    حجاب کسی کے لیے محض لباس ہو سکتا ہے اور کسی کے لیے عبادت۔
    کسی کے لیے روایت ہو سکتا ہے اور کسی کے لیے شناخت۔
    کسی کے لیے ثقافت ہو سکتا ہے اور کسی کے لیے رب سے تعلق۔
    اس لیے ہمیں فیصلے سنانے سے پہلے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
    چار ستمبر صرف کیلنڈر پر لکھی ہوئی ایک تاریخ نہیں۔ یہ ہمیں اپنے معاشرے کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔
    ہم عورت کے لباس پر تو بہت بات کرتے ہیں
    مگر اپنی نگاہوں پر کب بات کریں گے؟
    ہم عورت کی حیا پر سوال تو اٹھاتے ہیں
    مگر اپنی زبان کی حیا کب دیکھیں گے؟
    ہم بیٹی کو پردے کا سبق تو دیتے ہیں
    مگر بیٹے کو عورت کی عزت کا سبق کب دیں گے؟
    یہ سوال صرف عورت سے نہیں
    پورے معاشرے سے ہے۔
    کیونکہ حیا صرف عورت کے لباس میں نہیں ہوتی۔
    حیا ایک مرد کی نگاہ میں بھی ہونی چاہیے۔
    حیا ایک باپ کے رویے میں بھی ہونی چاہیے۔
    حیا ایک بھائی کے لہجے میں بھی ہونی چاہیے۔
    حیا ایک شوہر کے برتاؤ میں بھی ہونی چاہیے۔
    حیا ایک بیٹی کے لباس میں بھی ہو سکتی ہے اور ایک بیٹے کے کردار میں بھی۔
    اور جب حیا دونوں طرف آ جائے تو معاشرہ خوبصورت ہو جاتا ہے۔

    میرے نزدیک حجاب ایک خاموش احتجاج بھی ہے۔ اس دنیا کے خلاف جہاں عورت کو کبھی نمائش بنا کر بیچا جاتا ہے اور کبھی اس کے جسم کو کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ حجاب کہتا ہے کہ میں کسی کی نظروں کی تسکین کے لیے نہیں جیتی۔ میری زندگی کی اپنی حرمت ہے۔ میرے جسم کی اپنی عزت ہے۔ میری شخصیت کسی بازار کی قیمت نہیں۔
    یہ ایک چادر ہے مگر اس کے اندر ایک پوری سوچ سانس لیتی ہے۔
    یہ ایک پردہ ہے مگر اس کے پیچھے ایک مکمل شخصیت موجود ہے۔
    یہ خاموش ہے مگر اس کا پیغام بہت بلند ہے۔
    اور شاید اسی لیے مجھے حجاب ہمیشہ ایک خوبصورت دعا کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
    ایسی دعا جو سر سے شروع ہوتی ہے اور دل تک اتر جاتی ہے۔
    آئیے اس عالمی یوم حجاب پر صرف حجاب کی تصویریں نہ لگائیں اور چند خوبصورت جملے لکھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔
    آئیے اپنے گھروں میں حیا واپس لائیں۔
    اپنی گفتگو میں شائستگی واپس لائیں۔
    اپنی نگاہوں میں پاکیزگی واپس لائیں۔
    اپنی بیٹیوں میں اعتماد پیدا کریں۔
    اپنے بیٹوں کو عورت کا احترام سکھائیں۔
    اور اپنی زندگی میں یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ انسان کا اصل حسن اس کے چہرے پر نہیں بلکہ اس کے کردار میں ہوتا ہے۔
    کیونکہ چہرے وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں
    لباس وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں
    فیشن وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے
    مگر کردار
    کردار انسان کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔
    اور شاید یہی حجاب کا اصل حسن ہے۔
    یہ صرف جسم کو نہیں ڈھانپتا
    یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کے اندر بھی ایک دنیا ہے
    ایک ضمیر ہے
    ایک کردار ہے
    ایک عزت ہے
    اور ایک رب ہے
    جس کے سامنے ایک دن ہر پردہ اٹھ جانا ہے۔

  • بھروسے کا قاتل ،تحریر: عائش احمد

    بھروسے کا قاتل ،تحریر: عائش احمد

    "آپ نے آج بھی باہر ہی کھانا کھا لیا، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کا انتظار کرتی ہوں اور آپ کے بغیر کھانا نہیں کھاتی۔”

    حنین جب رات گئے گھر واپس آیا تو نمرہ اسے راہداری میں بےچینی سے ٹہلتی ہوئی نظر آئی۔

    حنین نے سرسری سی نظر اس پر ڈالی اور بولا: "میں نے تم سے کتنی بار کہا ہے کہ میرا انتظار مت کیا کرو۔ وقت پر کھانا کھا لیا کرو۔ آفس کا کام اتنا بڑھ گیا ہے کہ واپسی میں دیر سویر ہو ہی جاتی ہے۔”

    یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

    نمرہ نے اپنی پلکوں پر ٹھہرے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش نہ کی۔ وہ خاموشی سے بہہ نکلے، رخساروں کو بھگوتے ہوئے گردن تک اتر آئے۔ پچھلے چند دنوں سے حنین کے بدلتے ہوئے رویے نے اس کے دل میں بےشمار سوال جگا دیے تھے۔ کبھی وہ خود کو سمجھا کر آنسو روک لیتی، اور کبھی یہ بے بس آنسو اس کے اختیار سے نکل کر اس کی خاموش اذیت کا اظہار بن جاتے۔
    اس نے گہرا سانس لیا، صبر کا گھونٹ پیا اور خود کو سنبھالتے ہوئے حمام کا رخ کیا۔ واپس آئی تو حنین گہری نیند سو چکا تھا۔ یہ اب روز کا معمول بن چکا تھا۔

  • ایننسیفلی، ایک آزمائش،تحریر: ایس اے شازِم

    ایننسیفلی، ایک آزمائش،تحریر: ایس اے شازِم

    اولاد انسان کے لیے قدرت کی عطا کردہ ایک عظیم اور لازوال نعمت ہے۔ جب ہمیں گھر میں بچے کی آمد کی خبر ملتی ہے تو پورا گھر خوشیوں سے بھر جاتا ہے۔ ماں اپنے آنے والے بچے کے لیے خواب دیکھتی ہے، اس کے ننھے ہاتھوں کا تصور کرتی ہے، اس کے نام کے بارے میں سوچتی ہے اور اس دن کا انتظار کرتی ہے۔ جب وہ اپنی اولاد کو پہلی بار گود میں اٹھائے گی لیکن کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسی آزمائش سے دوچار کر دیتی ہے جس کا تصور بھی اس نے نہیں کیا ہوتا۔

    ایننسیفلی(Anencephaly) بھی ایک ایسی ہی سنگین پیدائشی کیفیت ہے جو والدین کے لیے گہرے دکھ اور پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔طبی سائنس کی دنیا میں ایننسیفلی (Anencephaly) ایک انتہائی نایاب اور جان لیوا پیدائشی نقص (Birth Defect) ہے۔ اردو میں اسے عام طور پر "عدمِ دماغی” یا "لا دماغی” کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری اعصابی نالی کے نقائص (Neural Tube Defects) کے زمرے میں آتی ہے۔ اس حالت میں مبتلا بچہ کھوپڑی، سر کی جلد اور دماغ کے اہم حصوں (خاص طور پر فوربرین اور سیریبرم، جو سوچنے، سمجھنے اور دیکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں) کے بغیر پیدا ہوتا ہے۔

    ایننسیفلی (Anencephaly) میں حمل کے ابتدائی 21 سے 28 دنوں کے دوران، جنین (Embryo) میں ایک خاص نالی بنتی ہے جسے "نیورل ٹیوب” (Neural Tube) کہا جاتا ہے۔ یہ نالی آگے چل کر بچے کا دماغ اور ریڑھ کی ہڈی بناتی ہے۔ اگر یہ نالی اپنے اوپری حصے سے مکمل طور پر بند نہ ہو سکے، تو دماغ کا اگلا حصہ تیار نہیں ہو پاتا اور وہ ایمنیوٹک سیال (Amniotic Fluid) میں کھلا رہ جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ حصہ آہستہ آہستہ گل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حمل کے دوران باقاعدہ طبی معائنہ نہایت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ بعض پیچیدگیوں کی بروقت تشخیص والدین کو صورتِ حال کو سمجھنے اور ماہرین سے مناسب رہنمائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔موجودہ دور میں جدید طبی ٹیکنالوجی کی بدولت ایننسیفلی(Anencephaly) کی تشخیص حمل کے دوران ہی ہو جاتی ہے۔الٹراساؤنڈ (Ultrasound) کے ذریعے حمل کے دوسرے سہ ماہی (سیکنڈ ٹرائمسٹر) یا بعض اوقات پہلے سہ ماہی کے آخر میں بچے کی کھوپڑی اور دماغ کی غیر موجودگی کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    بدقسمتی سے، ایننسیفلی کا کوئی علاج یا جراحی (سرجری) ممکن نہیں ہے۔ اس حالت کے ساتھ پیدا ہونے والے زیادہ تر بچے دنیا میں آنے سے پہلے ہی رحمِ مادر (Uterus)میں دم توڑ دیتے ہیں (Stillbirth)۔ جو بچے زندہ پیدا ہوتے ہیں، وہ دماغ کے بنیادی حصے (Brainstem) کی بدولت چند گھنٹے یا چند دن تک سانس لینے اور دل دھڑکنے کے قابل ہوتے ہیں لیکن جلد ہی وہ وفات پا جاتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کو شدید ذہنی اور جذباتی صدمے سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے لیے انہیں نفسیاتی مدد اور کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ایننسیفلی (Anencephaly) کی کوئی ایک مخصوص وجہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ مختلف جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں جبکہ فولک ایسڈ کی کمی بھی نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس کے خطرے سے وابستہ ہے۔ اسی لیے طبی ماہرین حمل سے پہلے اور حمل کے ابتدائی عرصے میں فولک ایسڈ کے مناسب استعمال کی اہمیت بیان کرتے ہیں۔ تاہم اگر کسی بچے میں یہ کیفیت تشخیص ہو جائے تو والدین، خصوصاً ماں کو خود کو قصوروار نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ایک طبی پیچیدگی ہے اور کسی فرد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا نہ درست ہے اور نہ ہی انسانی رویے کے شایانِ شان۔

    اس کیفیت کی تشخیص والدین کے لیے یقیناً ایک مشکل لمحہ ہو سکتی ہے۔ جنہوں نے اپنے بچے کے حوالے سے بے شمار خواب دیکھے ہوں، ان کے لیے ایسی خبر قبول کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے وقت میں خاندان کے افراد اور معاشرے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ والدین کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں۔ غیر ضروری سوالات، طعنے اور قیاس آرائیاں ان کے دکھ کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ انہیں الزام نہیں بلکہ سہارا، افواہوں کے بجائے درست معلومات اور تنقید کے بجائے ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ایننسیفلی میں دماغ اور کھوپڑی کے جو حصے معمول کے مطابق تشکیل نہیں پاتے، انہیں بحال کرنے کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں۔ اس لیے ایسی تشخیص کی صورت میں والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماہرِ امراضِ نسواں، بچوں کے ماہرین اور متعلقہ طبی ماہرین سے تفصیلی مشورہ کریں۔ ڈاکٹر بچے کی حالت کے مطابق دستیاب طبی نگہداشت اور آئندہ کے معاملات کے بارے میں رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر والدین کو جذباتی دباؤ میں آنے کے بجائے مستند طبی معلومات حاصل کرنی چاہییں اور اپنے معالج کی رہنمائی کو اہمیت دینی چاہیے۔

    ایننسیفلی (Anencephaly) ہمیں ایک اور اہم حقیقت کا احساس دلاتی ہے کہ صحت کے مسائل کے بارے میں شعور کتنا ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سے لوگ حمل کے ابتدائی طبی معائنے، غذائی ضروریات اور فولک ایسڈ کی اہمیت سے پوری طرح واقف نہیں۔ بعض اوقات معاشرتی جھجک یا غلط تصورات کے باعث خواتین بروقت طبی مشورہ حاصل نہیں کر پاتیں۔ ہمیں اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ حمل کوئی معمولی مرحلہ نہیں بلکہ ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے خصوصی توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔

    حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی خواتین کے لیے ڈاکٹر سے پہلے ہی مشورہ کرنا، فولک ایسڈ کے مناسب استعمال کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنا اور حمل کے دوران باقاعدگی سے طبی معائنہ کروانا مفید اقدامات ہیں۔ البتہ فولک ایسڈ کی مقدار ہر شخص کے لیے یکساں نہیں ہوتی، اس لیے اسے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔

    زندگی ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں چلتی۔ کچھ آزمائشیں ایسی ہوتی ہیں جن کا جواب ہمارے پاس نہیں ہوتا، مگر ان آزمائشوں کے دوران ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہمارے اختیار میں ضرور ہوتا ہے۔ ایننسیفلی کے بارے میں آگاہی، بروقت طبی مشورہ، فولک ایسڈ کی اہمیت کو سمجھنا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا ہی وہ رویہ ہے جو ایک باشعور اور انسان دوست معاشرے کی پہچان بن سکتا ہے۔

    آخرکار ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر پیدا ہونے والی زندگی اپنے ساتھ ایک انسانی کہانی لے کر آتی ہے۔ بعض کہانیاں خوشیوں سے بھری ہوتی ہیں اور بعض ہمیں صبر، محبت اور انسانیت کا سبق دے جاتی ہیں۔ ایننسیفلی (Anencephaly) بھی ایسی ہی ایک خاموش آزمائش ہے، جس کے سامنے ہمیں بے بسی کے بجائے شعور، الزام کے بجائے ہمدردی اور خاموشی کے بجائے درست آگاہی کو اپنا راستہ بنانا چاہیے تاکہ ایک ماں کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے

  • فکر انسان کا سب سے بڑا سرما یہ ،تحریر: شمسہ رانی

    فکر انسان کا سب سے بڑا سرما یہ ،تحریر: شمسہ رانی

    تاریخ کے ہر روشن باب کی ابتدا کسی تلوار سے نہیں بلکہ ایک بیدار فکر سے ہوئی ہے۔ یہی فکر انسان کو زمانے کا مسافر نہیں بلکہ زمانہ ساز بناتی ہے۔انسان کو عطا کی گئی تمام نعمتوں میں فکر وہ انمول عطیہ ہے۔ جو محض زندگی نہیں بلکہ زندگی کا شعور مقصد اور سمت عطا کرتا ہے ۔

    تاریخ شاید ہے کہ عظیم تہذیبوں کی بنیاد اینٹ اور پتھر سے پہلےافکار پر رکھی گئی۔ ہر انقلاب ہر علمی بیداری اور ہر مثبت تبدیلی کے پس منظر میں ایک زندہ فکر کار فرما رہی ہے۔ طاقت وقتی غلبہ تو حاصل کر سکتی ہے۔ مگر دل اور ذہنوں پر حکمرانی ہمیشہ نظریات ہی کرتے ہیں۔ جو قومیں اپنی فکری شناخت کو زندہ رکھتی ہیں ۔ وہ زمانے کی رہنما بنتی ہیں جبکہ سوچ کی غلامی قوموں کو زوال کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ آج کل المیہ یہ نہیں کہ معلومات کم ہیں ۔بلکہ یہ ہے کہ فکر کم ہوتی جا رہی ہے ۔ہم نے علم کو محض معلومات تک محدود کر دیا ہے حالانکہ حقیقی علم وہ ہے۔ جو انسان کے اندر سوال پیدا کرے۔ بصیرت عطا کرے اور حق و باطل میں تمیز کا شعور بخشے۔ اختلاف رائے کو برداشت کرنا تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا اور نئی سوچ کو قبول کرنا ہی زندہ معاشروں کی پہچان ہے۔

    اگر ہم ایک باوقار باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں۔ تو ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف تعلیم نہیں بلکہ سوچنے سمجھنے اور دلیل کے ساتھ فیصلہ کرنے کا ہنر بھی سکھانا ہوگا ۔کیونکہ قوموں کی اصل طاقت ان کے وسائل میں نہیں بلکہ ان کے افکار میں پوشیدہ ہوتی ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ تہذیب پتھروں سے نہیں افکار سے تعمیر ہوتی ہے ۔اور تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کا نام روشن حروف میں لکھتی ہے جن کی فکر زندہ ازاد اور بیدار ہوتی ہے۔

  • رفاقت اور ملال ،تحریر: عَائِشَہ گُل

    رفاقت اور ملال ،تحریر: عَائِشَہ گُل

    "تمہیں یاد ہے نا نوری”
    20 سال بعد آج وہ لان میں بیٹھی تھی۔ سامنے نوری تھی۔ نوری انگلینڈ سے پاکستان آئی تھی، یہ سنتے ہی زری نے سارے کام چھوڑے اور دوڑی دوڑی اس سے ملنے آئی تھی۔دونوں باغیچے میں بیٹھ گئیں۔ ہاتھ میں گرم گرم چائے تھی اور باتیں کالج کے زمانے کی۔ کالج کی وہ پرانی کلاس، وہ ٹیچر کی ڈانٹ، وہ لنچ ایک دوسرے سے چھپ کر کھانا… سب کچھ پلک جھپکتے سامنے آ گیا۔”میں کیسے بھول سکتی ہوں”
    "کون سا زمانہ؟” نوری نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا۔زری نے ہاتھ آگے بڑھایا اور نوری کا ہاتھ تھام لیا۔ "وہی زمانہ… جس میں ہمیں بہت ملال ہے۔ تم ہمیشہ کہتی تھیں کہ زندگی بدل جاتی ہے، لوگ بدل جاتے ہیں۔ لیکن میں سوچتی تھی نہ زندگی بدلتی ہے نہ لوگ۔”
    وہ رک گئی۔ آنکھیں نم ہو گئیں۔ "لیکن حالات بدل جاتے ہیں ذری۔ اور مجھے اس بات کا ملال ہمیشہ رہے گا کہ اگر تم اس دن میرا ساتھ دیتیں، تو شاید آج ہماری زندگی اس مقام پر نہ ہوتی۔ جہاں رفاقت تو ہے… لیکن ملال بھی ساتھ ہے۔
    کالج کا آخری دن آج بھی دل پر نقش ہے۔ دھوپ تیز تھی۔ گیٹ کے پاس وہی پرانا برگد کا درخت اور اس کے نیچے عمار کھڑا تھا۔ وہ اکثر نوری کو کالج کے گیٹ تک چھوڑنے آتا تھا۔اس دن بھی وہ دونوں کالج سے ساتھ نکلیں۔ عبایا اور نقاب میں تھیں، اس لیے چہرے نظر نہیں آ رہے تھے۔ عمار نے دور سے آواز دی: "نوری!”
    نوری ایک لمحے کو ٹھٹھکی، گھبرا گئی اور خاموشی سے کالج کے اندر واپس مڑ گئی۔ زری وہیں کھڑی رہ گئی۔عمار قریب آیا اور اسی کو نوری سمجھ کر بولا: "آج بہت دیر کر دی تم نے۔” زری نے گھبرا کر بس سر ہلا دیا۔ نقاب کی وجہ سے وہ کچھ بول بھی نہیں سکی۔ اس ایک لمحے کی خاموشی نے سب کچھ بدل دیا۔
    اس دن کے بعد نوری نے کبھی پوچھا نہیں "کیا ہوا تھا؟” زری نے کبھی بتایا نہیں "میں تم نہیں تھی۔” اور یوں 20 سال کی رفاقت… ایک غلط فہمی کی نظر ہو گئی۔میں اس دن کے بعد بہت روئی نوری۔ میں سوچتی تھی تم مجھ سے ناراض ہو۔ پر واپس آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
    شام ڈھل گئی۔ چائے ختم ہو گئی۔ دونوں اٹھیں۔ گلے ملیں۔ اس بار گلے میں شکوہ نہیں تھا۔آج دونوں اپنی زندگی میں بہت خوش ہیں۔نوری کا شوہر انگلینڈ میں اس کا بہت خیال رکھتا ہے۔ زری کا شوہر بھی اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ دونوں کے گھر بچوں کی ہنسی سے گونجتے ہیں۔
    وہ دونوں اس سوچ کے ساتھ ٹھنڈی ہوا پر سکون سانس لینے لگیں۔ کہ آخر ایک دن ماضی کا ملال ختم ہو جائے گا
    اور ہمیشہ کے لیے صرف رفاقت باقی رہ جائے گی۔
    وہ دونوں پھر سے اپنی باتوں میں مگن ہو گئیں۔
    فرق صرف اتنا تھا کہ اب فاصلہ مٹ چکا تھا۔

    رفاقت باقی رہی۔اور ملال… آہستہ آہستہ اپنی جگہ چھوڑتا گیا۔

  • اذیت سے راحت تک،تحریر:عائشہ گُل

    اذیت سے راحت تک،تحریر:عائشہ گُل

    کانٹوں پر چلتے چلتے اس کے پاؤں زخمی ہو گئے وہ ایک جگہ بیٹھ گئی اور اپنے پاؤں سے کانٹے نکالنے لگے آتے جاتے لوگ اس کی طرف حقارت سے دیکھ رہے تھے، کسی نے بھی اس کے دکھ کا مداوا نہ کیا وہ آنکھوں میں آنسو لیے پھر سے وہ لمحہ یاد کرنے لگی ۔۔کاش وہ ایک بار میری بات کا یقین کر لیتے۔۔مجھے معاف کر دیں معاذ میں آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گی آپ کے ساتھ پوری وفاداری کے ساتھ رشتہ نبھا رہی ہوں میں وہ میرا ماضی تھا، جس دن سے آپ کے ساتھ شادی ہوئی ہے اس دن کے بعد میں نے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا اس نے میرے لیے رشتہ بھیجا تھا میرے والدین نہیں مانے اس کے آگے اور کچھ بھی نہیں جس نے بھی آپ کو یہ سب بتایا ہے وہ غلط ہے۔۔میرے اور آپ کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا سبب ہے میں دروازہ کھولنے گئی تو وہ سامنے کھڑا تھا سلام دعا ہو گئی بس اس سے آگے کچھ بھی نہیں، میں آئندہ یہ بھی نہیں کروں گی اگر آپ کو برا لگا ہے۔

    حلیمہ معاذ کے قدموں سے لپٹ کر اپنی پارسائی کا ثبوت دے رہی تھی لیکن معاذ کے دل میں شک کا بیج اس کی پارسائی سے بہت بڑا تھا وہ اپنی ماں، بہن کی باتوں میں آ کر سب کچھ بھول گیا تھا۔۔۔

    حلیمہ اور معاذ کی شادی ہوئے تقریبا پانچ سال ہو گئے تھے ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی جس کے طعنے حلیمہ کو صبح شام سننے پڑتے حلیمہ ہر روز اللہ تعالی کے آگے روتی فریاد کرتی گڑگڑاتی کہ یا اللہ مجھے اولاد سے نواز دیں، میرے دامن سے یہ بانجھ پن کا داغ دھل جائے گا ،اللہ تعالی آپ رحیم ہے آپ کریم ہے، اپنے فضل سے میری خالی جھولی بھر دیجئے۔۔۔کل شب دروازے پر دستک ہوئی تو حلیمہ دروازہ کھولنے گئی_حلیمہ آپ یہاں سامنے کھڑے اسد نے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔حلیمہ نے بھی خوش روی سے جواب دیا اس کو کیا خبر یہ اخلاق دکھنا اس کا سب سے بڑا گناہ بن جائے گا۔ حلیمہ کی ساس اور نند کو موقع مل گیا حلیمہ پر بہتان لگانے کا انہوں نے معاذ کو دو کی تین لگا کر بتائی اور معاذ کان کا کچا بغیر تصدیق کیے حلیمہ پرطانوں کے تیر بر سانے لگا اور بنا کچھ سوچے، سمجھے بد کردار کا الزام لگا کر تین الفاظ کے قید سے رشتے کو آزاد کیا اور گھر سے دھکے دے کر باہر نکال دیا یہاں تک کہ جوتا پہننے کی بھی مہلت نہ دی۔۔

    2سال بعد:-چلو باہر کھانا کھانے چلتے ہیں رہنے دیں اسامہ آپ تھک گئے ہوں گے نہیں میں ٹھیک ہوں اور جس کی اتنی خوبصورت بیوی ہو اسے تھکاوٹ کا احساس کہاں؟

    حلیمہ کی دو بیٹیاں ہیں ہالے اور حور جو اپنی شرارت سے سارا دن ماں کو تنگ کیے رکھتی ہیں ان کو دیکھ کر حلیمہ کو اپنی قسمت پر رشک آتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اس کی پکار سن لی اللہ تعالی نے اس کے دامن پر لگے ہوئے داغ کو دھو ڈالا اللہ تعالی نے حلیمہ کو مایوس نہیں لوٹایا۔۔۔اسامہ حلیمہ سے بہت محبت کرتا ہے اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے نیک بیوی کے ملنے پر حلیمہ تو زندگی میں خوش ہے۔لیکن معاذ آج بھی تنہا ہے اس کے پاس سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں حقیقت عیاں ہونے کے بعد اس نے ماں، بہن کو چھوڑ دیا اور الگ سے کرائے کا گھر لے کر رہنے لگا اس حقیقت کے بعد معاذ کا ضمیر ہر وقت اسے ملامت کرتا، جھنجوڑتا رہتا اس نے ارادہ کیا جب بھی کہیں حلیمہ ملی تو میں ضرور اس سے معافی مانگ لوں گا تب ہی میرے دل کو سکون آئے گا۔۔۔شک کا بیج بہت سے گھروں کو برباد کر دیتا ہے اپنے رشتے پر پورا اعتماد رکھیں تب تک کوئی بات نہ کریں جب تک تحقیق نہ کرلی جائے۔میاں بیوی کا رشتہ بھروسے پر ہی قائم ہوتا ہے اگر بھروسہ ہی نہ رہے تو رشتہ بھی نہیں رہتا اور انسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے جیسے معاذ خالی ہاتھ رہ گیا۔۔۔

  • عورت کی جیت مظلوم بننے میں ہے،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

    عورت کی جیت مظلوم بننے میں ہے،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

    یہ بات بہت سی عورتوں کو پسند نہیں آئے گی، شاید کچھ عورتیں اسے پڑھ کر غصے میں بھی آ جائیں، مگر بعض اوقات سچ کی سب سے بڑی علامت یہی ہوتی ہے کہ وہ سننے میں اچھا نہیں لگتا۔

    عورت کو ہمیشہ اچھا مرد نہیں چاہیے ہوتا، بعض اوقات اسے ایسا مرد چاہیے ہوتا ہے جسے وہ غلط ثابت کر سکے۔
    ہم نے عورت کو صدیوں سے مظلوم دیکھا ہے، اس لیے جب بھی کوئی عورت شکایت کرتی ہے تو ہمارا ذہن فوراً اس کے حق میں فیصلہ دے دیتا ہے۔ مرد نے کیا کیا، کیوں کیا، اس سے پہلے ہی ہم یہ مان لیتے ہیں کہ قصور مرد کا ہوگا۔شاید یہی وہ مقام ہے جہاں کچھ عورتوں نے مظلومیت کو کمزوری کے بجائے طاقت سمجھنا شروع کیا۔

    سوشل میڈیا کھولیں تو Couple Videos کی بھرمار ہے۔ لڑکی ہنستے ہوئے کہتی ہے:
    ’’میں ہر چیز کے بغیر رہ سکتی ہوں، لڑائی کے بغیر نہیں۔‘‘لوگ ہنستے ہیں، کمنٹس کرتے ہیں، کہتے ہیں یہی تو اصل محبت ہے۔مگر کبھی کسی نے سوچا کہ ایک انسان کو ہر وقت لڑائی کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟کیا محبت کا مطلب یہ ہے کہ سامنے والے کو مسلسل چھیڑا جائے، اسے اشتعال دلایا جائے، اس کے صبر کا امتحان لیا جائے، پھر جب وہ پھٹ پڑے تو اس کے غصے کو اس کے خلاف استعمال کیا جائے؟یہ کھیل بہت پرانا ہے۔مرد خاموش رہے تو کہا جاتا ہے کہ اسے پروا نہیں۔مرد سوال کرے تو کہا جاتا ہے کہ شک کرتا ہے۔رد اپنی بات منوانے کی کوشش کرے تو کہا جاتا ہے کہ کنٹرول کرتا ہے۔مرد تھک کر غصہ کرے تو کہا جاتا ہے، ’’دیکھا! میں کہتی تھی نا، مرد ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘اور بس، کہانی ختم۔

    کسی کو یہ یاد نہیں رہتا کہ لڑائی شروع کہاں سے ہوئی تھی۔سب کو صرف وہ آخری منظر یاد رہتا ہے جب مرد غصے میں تھا اور عورت رو رہی تھی۔یہاں عورت جیت جاتی ہے۔کیونکہ معاشرہ صرف آنسو دیکھتا ہے۔مرد کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے غصے کو کنٹرول نہیں کر پاتا۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر سامنے والا اسے بار بار غصہ دلانے کی کوشش بھی کرے تو آخری ذمہ داری اسی کی ہے کہ وہ اپنا ردعمل قابو میں رکھے۔لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر غصے کے پیچھے موجود کہانی کو دفن کر دیا جائے۔کچھ عورتیں جانتی ہیں کہ مرد کو کون سی بات تکلیف دیتی ہے۔کون سا جملہ اسے بھڑکائے گا۔کون سی خاموشی اسے بے چین کرے گی۔اور کون سا رویہ اسے آخرکار چیخنے پر مجبور کر دے گا۔پھر وہی عورت چند منٹ بعد آنکھوں میں آنسو لیے کہتی ہے،’میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں تھا۔

    یہ ’’میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں‘‘ شاید رشتوں کا سب سے خطرناک جملہ ہے۔

    کیونکہ بعض اوقات کچھ نہ کرنا بھی ایک عمل ہوتا ہے، اگر آپ جانتے ہوں کہ آپ کی خاموشی، طنز یا رویہ دوسرے انسان کو کہاں لے جائے گا۔اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے مرد رشتوں میں آہستہ آہستہ اندر سے کمزور ہوتے جاتے ہیں۔وہ پہلے سمجھاتے ہیں۔پھر بحث کرتے ہیں۔پھر غصہ کرتے ہیں۔پھر معافی مانگتے ہیں۔پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔اور آخرکار ایک دن انہیں لڑائی سے نہیں، رشتے سے ہی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔عورت سمجھتی رہتی ہے کہ وہ جیت گئی۔مرد ہار گیا۔مگر حقیقت میں دونوں ہار چکے ہوتے ہیں۔کیونکہ کسی رشتے میں اگر ایک شخص ہر بحث جیتنے کے لیے دوسرے کو توڑ دے تو آخر میں اس کے پاس جیتنے کے لیے بھی کچھ نہیں بچتا۔

    یہ تحریر ہر عورت کو قصوروار قرار دینے کے لیے نہیں ہے۔

    لیکن اگر مرد کے غصے کو اس کی فطرت، عورت کے آنسو کو اس کی معصومیت اور ہر جھگڑے کو مرد کی غلطی سمجھ لیا جائے تو ہم رشتوں کی حقیقت کو کبھی نہیں سمجھ سکیں گے۔عورت مظلوم ہو سکتی ہے، بالکل۔لیکن ہر عورت مظلوم نہیں ہوتی۔مرد ظالم ہو سکتا ہے، بالکل۔لیکن ہر مرد ظالم نہیں ہوتا۔اور کبھی کبھی سب سے خطرناک رشتہ وہ نہیں ہوتا جس میں ایک شخص چیختا ہے۔سب سے خطرناک رشتہ وہ ہوتا ہے جس میں ایک شخص دوسرے کو چیخنے تک لے جاتا ہے، پھر اسی چیخ کو اپنی معصومیت کا ثبوت بنا لیتا ہے۔اسی لیے شاید یہ جملہ اتنا تلخ ہے کہ لوگ اسے برداشت نہیں کر پاتے،عورت کی جیت ہمیشہ مرد کو ہرانے میں نہیں ہوتی، بعض اوقات اس کی جیت مظلوم بننے میں ہوتی ہے۔اور جس دن مرد نے یہ کھیل سمجھ لیا، شاید اسی دن اس نے غصے سے نہیں، خاموشی سے جیتنا سیکھ لیا۔

  • زندگی آخر ہے کیا؟تحریر: عائشہ گُل

    زندگی آخر ہے کیا؟تحریر: عائشہ گُل

    زندگی! وقت سبک رفتاری سے گزر رہا ہے۔جہاں خبر پڑھتے ہی دل بیٹھ جاتا۔ جہاں ماں بچے کو اسکول بھیج کر سو بار دعا کرے، اور پھر بھی واپسی کی کوئی گارنٹی نہ ہو۔ یہ سوال آج ہر گھر کی دیواروں سے ٹکراتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پمز ہسپتال کا سانحہ ہوا۔ وہ جگہ جہاں زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے وہاں موت نے ڈیرے ڈال لیے۔جہاں زندگی کی آخری سانس تک انسان کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔وہاں پر معصوم بچوں کے جنازے اٹھے۔۔ہم کس نظام میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہسپتال بھی محفوظ نہیں رہے؟

    پھر چار سالہ آیت نور کا واقعہ سامنے آیا۔ ایک نام جو اب صرف خبر نہیں رہا۔ ایک سوال بن گیا ہے۔ اس معصوم کلی کے ساتھ جو درندگی ہوئی اس نے ہر باضمیر انسان کا سر شرم سے جھکا دیا۔ اس کے بعد ڈیڑھ سالہ ایزل۔ جس نے دنیا ابھی دیکھی بھی نہ تھی۔ جس کی زبان سے ابھی ماں کا لفظ بھی پورا نہ نکلا تھا۔ اسے بھی وحشت نے نہ بخشا۔ کبھی ڈیڑھ سالہ کبھی چار سالہ۔ کبھی جوان کبھی بوڑھی۔ بنت حوا آج ہر عمر میں غیر محفوظ ہے۔ ہر خبر کے ساتھ دل پر ایک اور بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

    جب ہر طرف خوف حراس اور وحشت ہو تو انسان خود سے پوچھتا ہے کیا یہی زندگی ہے؟ کیا ہم نے اسی معاشرے میں جینا ہے؟ کل کی گارنٹی نہیں ۔ لیکن جتنے دن ملے ہیں کیا وہ بھی کانپتے ہاتھوں اور سہمی نظروں کے ساتھ گزاریں؟ کیا ہر گلی ،ہر ہسپتال، ہر گھر، اب خطرے کی زد میں ہے؟ اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے۔ اپنے پیٹ کی فکر ہر کوئی کرتا ہے۔ اصل زندگی تو وہ ہے جو دوسروں کے لیے جی جائے۔ جب اپنا دکھ بھلا کر دوسرے کا زخم سیا جائے۔ جب کسی کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھ کر اس کی حفاظت کی جائے۔ یہی زندگی کا اصل معیار ہے۔

    زندگی لفظ بظاہر بہت چھوٹا ہے ۔مگر زخم گہرے ہیں۔ انسان گرتا ہے ،ٹوٹتا ہے، پھر خود کو سمیٹ کر اٹھتا ہے۔ لیکن ایک دن ایسا آتا ہے جب سانسوں کی مالا ٹوٹ جاتی ہے۔ اس دن کے بعد نہ گرنا باقی رہتا ہے، نہ اٹھنا۔ نہ معافی نہ مرہم نہ واپسی۔ یہ سوچ ہی روح کو ہلا دیتی ہے۔

    لیکن اس اندھیرے میں بھی چراغ جل رہے ہیں۔ اسی معاشرے میں وہ لوگ موجود ہیں جو لاشوں پر سیاست نہیں کرتے بلکہ زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔ وہ وکیل ہیں جو آیت نور اور ایزل کے لیے عدالتوں میں آواز بنتے ہیں۔ وہ ڈاکٹر ہیں جو پمز جیسے سانحے کے بعد بھی مریض کا ہاتھ نہیں چھوڑتے۔ وہ اساتذہ ہیں جو بچوں کو صرف پڑھاتے نہیں بلکہ حوصلہ بھی دیتے ہیں۔ وہ عام شہری ہیں جو سوشل میڈیا پر صرف افسوس نہیں کرتے سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ اگر سب ختم ہو جاتا تو یہ درد بھی نہ ہوتا۔ درد اس لیے ہے کہ ابھی ضمیر زندہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی کچھ انسانیت باقی ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ ہم آگے کیا کریں؟ خاموشی سب سے بڑا ظلم ہے۔ ہمیں بچوں کو صرف ڈرانا نہیں حوصلہ بھی دینا ہے۔ انہیں بتانا ہے کہ دنیا میں برے لوگ ہیں لیکن اچھے لوگ بھی ہیں۔ ہمیں نظام سے سوال کرنا ہے اور خود سے عہد بھی۔ کہ ہم اپنی گلی اپنا محلہ اپنا ادارہ محفوظ بنائیں گے۔ کہ ہم ہر آیت نور اور ایزل کے لیے ڈھال بنیں گے۔ کہ ہم سکول میں ٹیچر سے پوچھیں گے سیکیورٹی کا کیا پلان ہے۔ کہ ہم ہسپتال میں انتظامیہ سے مطالبہ کریں گے مریضوں کی حفاظت کی کیا گارنٹی ہے۔ کہ ہم پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں سے کہیں گے انصاف فوری ہو۔ تاخیر کا مطلب ایک اور سانحہ ہے۔

    ہمیں نفرت کے جواب میں محبت سے لڑنا ہوگا۔ وحشت کے جواب میں انسانیت سے لڑنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو سکھانا ہوگا کہ طاقت کا مطلب دوسروں کو دبانا نہیں دوسروں کو سہارا دینا ہے۔ ہمیں میڈیا پر صرف ویڈیو شیئر نہیں کرنی۔ ہمیں زمین پر اتر کر کام کرنا ہے۔ کسی یتیم کی فیس دینی ہے۔ کسی زخمی کے گھر کھانا پہنچانا ہے۔ کسی گواہ کو حوصلہ دینا ہے کہ وہ سچ بولے۔ چھوٹے چھوٹے قدم ہی بڑی تبدیلی لاتے ہیں۔

    یاد رکھیں! جب تک ایک شخص بھی دوسروں کے لیے جینے کو تیار ہے تب تک زندگی باقی ہے۔ جب تک کوئی ماں اپنے بچے کے لیے دعا کرتی ہے تب تک امید باقی ہے۔ جب تک کوئی نوجوان یہ کہتا ہے کہ میں فرق لاؤں گا تب تک مستقبل باقی ہے۔ ہمیں ٹوٹنا نہیں ہے۔ ہمیں بکھرنا نہیں ہے۔ ہمیں جڑنا ہے۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہے۔

    آخر میں صرف اتنا کہوں گی۔ زندگی آزمائش کا نام ہے۔ یہ ہمیں توڑنے آتی ہے تاکہ ہم پہلے سے مضبوط بن کر اٹھیں۔ پمز کے بچے آیت نور ایزل ہمیں معاف نہیں کریں گے اگر ہم بھول گئے۔ لیکن وہ ہمیں دعا دیں گے اگر ہم نے ان کے نام پر نظام بدلا۔ اگر ہم نے ایک اور بچے کو محفوظ کیا۔ آئیے عہد کریں۔ کہ ہم ڈریں گے نہیں۔ کہ ہم چپ نہیں رہیں گے۔ کہ ہم اپنے حصے کی روشنی ضرور جلائیں گے۔ کیونکہ جب تک امید کا دیا جلتا رہے گا تب تک زندگی باقی رہے گی۔

  • عورت  خاموش طاقت کی بلند آواز،تحریر:سیدہ الماس فاطمہ

    عورت خاموش طاقت کی بلند آواز،تحریر:سیدہ الماس فاطمہ

    زمانۂ جاہلیت کے دور میں بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ عرب کے معاشرے میں بیٹی کی پیدائش کو بہت زیادہ برا سمجھا جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دور کو ختم کیا۔ بیٹی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے۔ بیٹی پر ظلم کیا جاتا تھا۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیٹی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ عورتوں کو چھپی ہوئی چیز کہا گیا ہے۔ گھر کی چار دیواری میں رہنے والی ہستی ہے۔ بہت ضرورت کے تحت باہر نکل سکتی ہے۔ مردوں کے لیے حکم ہے کہ عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کریں۔
    مغربی ممالک میں عورتوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور ظلم کیا جاتا ہے، اور انہیں کمتر سمجھا جاتا رہا ہے۔ ہمارے مشرقی معاشروں میں اسلام کے مطابق عورتوں کی بے حرمتی منع ہے۔ عورت تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر نکل سکتی ہے۔ ہر مسلمان مرد و عورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ عورت مجبوری کے تحت باہر نکل کر اسکول میں پڑھا بھی سکتی ہے۔

    عورت خاموش طاقت کی بلند آواز ہے۔ عورت جب بولنے پر مجبور ہو جائے تو اس کا انتقام شدید ہو جاتا ہے، اور اگر عورت صبر کرتی ہے تو اس کا صبر بے مثال ہوتا ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی ازواج، امہات المؤمنین کا صبر بے مثال تھا۔ ہر حال میں شکر گزاری کرنے والی امہات المؤمنین، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بے مثال ہیں۔ ہر امتحان میں کامیابی حاصل کی۔
    اللہ تعالیٰ نے ایک عورت کو کتنے سارے ناموں سے نوازا اور کتنے سارے رشتوں میں باندھا:

    زندگی کی تلخ حقیقت ہے کہ معاشرے میں عورت کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے۔ عورت کے ساتھ ہمیشہ ظلم و زیادتی کی جاتی ہے۔ ایک لڑکی کے کتنے نام ہوتے ہیں: لڑکی، بہن، بیٹی، بہو، ماں، ساس، دادی، نانی، بیوی، بھابھی، چاچی وغیرہ۔ ہر لڑکی کی بچپن میں والدین کے گھر میں پرورش ہوتی ہے۔ کچھ والدین اپنی بیٹیوں کو نازوں سے پالتے ہیں اور کچھ سختی سے، جس کی وجہ سے وہ بڑی ہو کر اپنے معاملات کے بارے میں بتا نہیں سکتی، اپنی پسند کا کھل کر اظہار نہیں کر سکتی۔
    مظلوم لڑکی کے بھائیوں کی کیسی غیرت تھی کہ اپنی بہن کو اتنے سارے نامحرم مردوں کے سامنے گولی ماری۔ مظلوم لڑکی، زرک، سینے سے قرآنِ مجید چادر میں لپٹی ہوئی، دو گولیاں کھانے کے بعد بھی کھڑی رہی تھی۔ صرف اس کے چار بول: "شرعی حق نکاح کیا، زنا نہیں”۔ اس کے باوجود ظالم قاتل کو رحم نہ آیا۔ کیسے والدین شادی کے ڈیڑھ سال بعد بھی قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ کتنے خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے وہ امر ہو گئی تھی۔

    معاشرہ فرد سے بنتا ہے، اور جب معاشرے کا اخلاقی نظام درست ہوتا ہے تو معاشرہ کامیاب ہوتا ہے۔ معاشرے میں ہر فرد کا اخلاق اچھا ہونا چاہیے تاکہ بداخلاقی سے بچا جا سکے۔ ہمارے معاشرے میں بداخلاقی عام ہو چکی ہے۔
    کسی بھی معاشرے میں اچھی تعلیم و تربیت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان نامکمل ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔
    معاشرے میں انسان کی شخصیت کی پہچان اس کے اچھے اخلاق سے نمایاں ہوتی ہے۔ انسان کی شخصیت ہی اس کے کردار کا آئینہ ہوتی ہے۔

    ایک خوبصورت اور کامیاب معاشرہ بنانے کے لیے ہمیں اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ گھر کے ماحول میں آپس کے تعلقات کو نرم لہجے، صبر و تحمل کے ساتھ نبھانے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    عرب میں جہالت عام تھی۔ لڑکی کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے۔ امن کا نام و نشان نہ تھا۔ جہالت کے اندھیروں میں ڈوب کر لوگ زندگی سے کھیلتے تھے۔ عرب کے زمانے میں لڑکی کی پیدائش کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اسے ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔کچھ قبائل کے لوگ آج بھی معاشرے میں لڑکی کی پسند کی شادی کرنے کی وجہ سے اسے گولی کا نشانہ بناتے ہیں۔ عورتیں تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری بھی کرتی ہیں۔ امیر گھرانے کے لوگ دولت ہونے کے باوجود بے سکون رہتے ہیں، حالانکہ اسلام میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فضول خرچی کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ فضول خرچی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔

  • بچپن کے دروازے پر دستک دیتی درندگی ،تحریر:شمسہ رانی

    بچپن کے دروازے پر دستک دیتی درندگی ،تحریر:شمسہ رانی

    جب ایک ننی کلی بھی محفوظ نہ رہے تو سوال صرف قانون سے نہیں پورے معاشرے سے ہوتا ہے۔
    کبھی بچپن کو زندگی کا سب سے محفوظ موسم سمجھا جاتا تھا۔ وہ عمر جس میں دنیا کی تلخیوں کا شعور نہیں ہوتا۔ جہاں انکھیں خواب دیکھتی ہیں اور ہاتھ کھلونوں کی طرف بڑھتے ہیں ۔مگر اج ڈیڑھ سالہ ایزل کے ساتھ پیش انے والا دل دہلادینے والے واقعے نے ایک بار پھر ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔

    ڈیڑھ سال یہ عمر سوال پوچھنے کی نہیں ۔گود میں سمٹ جانے کی ہوتی ہے۔ یہ عمر دنیا کو سمجھنے کی نہیں دنیا سے محبت پانے کی ہوتی ہے ۔مگر جب ایسی معصوم جان بھی درندگی سے محفوظ نہ رہے تو پھر مسئلہ صرف ایک مجرم کا نہیں رہتا پورا معاشرہ سوال بن جاتا ہے۔ہم کب تک اپنی بیٹیوں کو احتیاط کے سبق پڑھاتے رہیں گے؟ کب ہم اپنی بیٹوں کو حرمت احترام اور انسانیت کا درس دیں گے؟ کب ہم یہ سمجھیں گے کہ عورت کی حفاظت صرف اس کے گھر والوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کا اخلاقی فرض ہے؟

    آج خوف کی عمر مقرر نہیں ننھی بچی ہو یا نوجوان لڑکی عورت ہو یا ماں عدم تحفظ کا احساس ہمارے معاشرتی وجود میں سرایت کرتا جا رہا ہے ۔یہ صورتحال صرف تشویش ناک نہیں۔ ہماری اجتماعی تربیت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ہم ہر واقعے کے بعد چند دن غم مناتے ہیں ۔مذمت کرتے ہیں سوشل میڈیا پر اواز اٹھاتے ہیں۔ پھر زندگی معمول پر ا جاتی ہے۔ مگر کسی ماں کے دل میں پیدا ہونے والا خوف معمول پر نہیں اتا ۔کسی گھر کی خاموشی معمول پر نہیں اتی کسی معصوم کے چھینے گئے اعتماد کو چند بیانات واپس نہیں لا سکتے۔

    ضرورت صرف سخت قانون کی نہیں، سخت اجتماعی شعور کی بھی ہے۔ بچوں کو محفوظ ماحول دینا ان کی بات سننا مشکوک رویوں کو نظر انداز نہ کرنا تعلیمی اداروں اور گھروں میں حفاظتی اگاہی پیدا کرنا اور مجرموں کو قانون کے مطابق جواب دہ بنانا یہ سب ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
    یاد رکھیے کسی بچے کے ساتھ ہونے والے جرم کا الزام کبھی بچے پر نہیں آتا۔ معصومیت کبھی جرم نہیں ہوتی جرم ہمیشہ مجرم کا ہوتا ہے۔ایزل کا واقعہ ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر ایک ننھی سی جان بھی ہماری حفاظت کے حصار میں محفوظ نہیں تو پھر ہماری ترقی، ہماری تہذیب اور ہماری اخلاقی اقدار کے دعوے کس کام کے؟اب وقت ہے کہ ہم صرف آنسو نہ بہائیں اپنے معاشرے کے ضمیر کو بیدار کریں۔ کیونکہ جس معاشرے میں بچپن محفوظ نہیں رہتا وہاں صرف بچے نہیں ڈرتے مستقبل ڈرنے لگتا ہے۔اور شاید آج سب سے بڑا سوال یہی ہے ہم اپنی بچیوں کو کب تک صرف یہ بتاتے رہیں گے کہ دنیا سے بچ کر رہو؟
    کم ہم دنیا کو یہ سکھائیں گے کہ ہماری بچیوں کی حرمت کا خیال رکھو۔