Baaghi TV

Category: خواتین

  • دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی

    دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی

    میں بینا علی ہوں۔ میرا دل ایک ایسا آشیانہ ہے جسے اندر ہی اندر دیمک چاٹ رہی ہے۔ باہر سے دیکھو تو سب نارمل لگتا ہے۔ چہرے پر معمول کی مسکراہٹ، روزمرہ کے کام، لوگوں سے ملنا جلنا۔ لیکن اندر ہر دیوار پر ہجر کا سایہ لکھا ہے، ہر کونے میں ایک خاموش چیخ دبی ہوئی ہے۔ درد ٹھہر گیا ہے، آنسو بہنا چھوڑ گئے ہیں اور دل نے رونا بھی سیکھ لیا ہے خاموشی سے۔
    میں نے حقیقت میں جا کر سمجھا کہ شاعر نے کیوں کہا تھا:
    "ادھیڑ ڈالے ہیں بخیے میرے جدائی نے!
    کہ کھا گیا ہے تیرا غم کتر کتر کر مجھ کو!”

    موت تو ارواح کا وصل ہے، ایک سفر کا اختتام اور دوسرے کا آغاز۔ اصل قیامت تو جدائی ہے۔ عرب کہتے ہیں: "الفراق أشد من الموت”۔ ہجر موت سے زیادہ بے رحم ہے۔ کیونکہ موت ایک بار مارتی ہے، جبکہ جدائی روز مارتی ہے۔ میں نے یہ بے رحمی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور اپنے سینے میں محسوس کی ہے۔ یوسفؑ کے ہجر میں یعقوب علیہ السّلام کی آنکھوں کا نور چھن گیا تھا۔ کربلا کے بعد امام زین العابدین کی پلکیں تا عمر بھیگی رہیں۔ سوگ کی میعاد چند دن ہوتی ہے، مگر غم کی میعاد پوری عمر ہوتی ہے۔ یہ غم ایک بار وار کر کے نہیں جاتا۔ یہ روز تھوڑا تھوڑا مار کر زندہ رکھتا ہے، کتر کتر کر، لمحہ لمحہ، سانس سانس۔

    دنیا کہتی ہے کہ وقت مرہم ہے، زخم بھر جاتے ہیں۔ کاش یہ سچ ہوتا۔ میرے لیے وقت مرہم نہیں بنا، وہ صرف عادت بنا گیا ہے۔ ہم سانس لیتے ہیں، جیتے نہیں۔ ہم مسکراتے ہیں، خوش نہیں ہوتے۔ ہر عید، ہر تہوار، ہر شادی، ہر جنازہ، ہر موقع ان کی کمی کا نوحہ بن جاتا ہے۔ ہم یادوں سے بھاگتے ہیں، اور بھاگتے بھاگتے خود کو کھو دیتے ہیں۔ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر لگتا ہے جیسے کوئی اجنبی کھڑا ہو۔

    والدہ محترمہ کو دیکھے بنا تین سال چھے مہینے ہو گئے۔ تین سال چھے مہینے سے گھر کی دیواریں بھی خاموش ہیں۔ ان کی دعاؤں کی چادر سر سے سرک گئی ہے اور اب دھوپ بھی کاٹتی ہے۔ جس گھر میں کبھی ان کی آواز گونجتی تھی وہاں اب سناٹا ہے۔ ہر کونا ان کی خوشبو مانگتا ہے، ہر کمرہ ان کے قدموں کا منتظر ہے، مگر جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے۔ اسی دن آج سے پانچ سال پہلے، میرے چچا محترم اور میرے جواں سال کزن بھی چپکے سے اس دنیا سے چلے گئے۔ ایک ہی دن دو جنازے اٹھے، اور گھر کے آنگن میں ایک ساتھ دو قبریں بنیں۔ اس دن سے یتیمی کا سفر شروع ہوا۔ یتیمی صرف والدین کا سایہ اٹھنا نہیں، یہ اس کربناک آزمائش کا نام ہے جس میں انسان خود کو بے سہارا، بے آسرا محسوس کرتا ہے۔ دنیا بڑی لگتی ہے، اور دل بہت چھوٹا۔ پانچ سال ہو گئے۔ پانچ سال سے میں باپ کی شفقت اور ماں کی مامتا، دونوں کو ترس رہی ہوں۔ اپریل اور مئی میرے لیے "شھر الحزن” بن گئے ہیں۔ یہ کیلنڈر کے مہینے آتے ہیں تو دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ ہوا بھی بھاری لگتی ہے، سانس سینے میں اٹکتی ہے، اور نیند آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے۔ راتیں کروٹیں بدلتے گزرتی ہیں، اور صبح ایسے ہوتی ہے جیسے دل پہ مزید بوجھ بڑھ گیا ہو ۔ وقت گزرتا ہے، مگر درد نہیں گزرتا۔ درد ٹھہر جاتا ہے۔

    لوگ کہتے ہیں صبر کرو مگر صبر کرنا سیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ صبر وہ سبق ہے جو کتابوں سے نہیں، ٹوٹے ہوئے دل سے پڑھا جاتا ہے۔ میں نے سیکھا ہے، آہستہ آہستہ، ٹوٹ کر اور جڑ کر۔ ربِ کریم کا شکر ہے جس نے ہمت دی۔ شکر ہے کہ یہ جدائی دائمی نہیں۔ یہ فراق عارضی ہے۔ یہی امیدِ واثق، یہی یقینِ کامل میرے ٹوٹے دل کو جوڑے ہوئے ہے کہ ہم پھر ملیں گے۔ جنت کے کسی ایسے باغ میں ملیں گے جہاں وہ پھر سے سر پر ہاتھ رکھیں گے، مسکرا کر گلے لگائیں گے، اور قہقہے گونجیں گے۔ جہاں نہ کوئی مئی ہو گا نہ اپریل، نہ فراق ہو گا نہ اشک۔ صرف وصل ہو گا، ابدی وصل۔

    میں وہ بدنصیب ہوں جس نے ایک ہی سال میں ماں اور باپ دونوں کا سایہ کھو دیا۔

    کتابِ زیست کا سب سے اداس اور اذیتوں سے بھرا صفحہ وہی ہوتا ہے جب ماں اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ دعاؤں کا آنچل سرک جاتا ہے، اور ماں کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے۔ اس کے بعد دنیا کی گرمی براہِ راست لگتی ہے۔

    آپ اداس ہوں، تنہائی محسوس کر رہے ہوں، ذہنی طور پر منتشر ہوں، دل بے نام دکھوں سے بوجھل ہو، اور ایسے میں آپ کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لینے والی، ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دینے والی، اور اپنے لمس سے روح تک کو سکون پہنچانے والی ماں موجود نہ ہو تو یہ اذیت لفظوں کے دائرہ بیان سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ درد ہے جو لکھا نہیں جاتا، صرف جیا جاتا ہے۔ ماں آپ کی پہلی محبت ہے، پہلا لمس ہے، پہلا شفقت بھرا بوسہ ہے۔ وہ ہستی ہے جس کی گود میں دنیا کے تمام غم سمٹ کر سکون میں بدل جاتے ہیں۔ میری بدقسمتی ہے کہ ماں کے بچھڑ جانے کے بعد میں اس کے عشق میں اس شدت سے مبتلا ہوں کہ ماں کی کمی ایک مستقل کسک بن گئی ہے۔ یہ کسک نہ بڑھتی ہے نہ کم ہوتی ہے، بس ساتھ رہتی ہے۔

    اب اس شعر کی گہرائی سمجھ آتی ہے:
    "وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا
    اب اس کا حال سنائیں کیا!
    اک آگ غمِ تنہائی کی
    جو سارے بدن میں پھیل گئی
    جب جسم ہی سارا جلتا ہو
    پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
    اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے
    تادیر اسے دہرائیں کیا!
    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا…”

    میرے انتظار میں مضمر، میرا راستہ تکنے والی آنکھیں نہ رہیں۔ بائیک کی آواز سنتے ہی پردہ ہٹا کر مسکرانے والے ہونٹ نہ رہے۔ تمام عمر باپ کو پہلا عشق بنائے رکھا، مگر یہ احساس ہی نہ ہوا کہ ماں کے جانے کے بعد اس کی محبت کا خلا دل کو اس طرح جکڑ لے گا کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جائے گا۔ اب اس احساس کے ساتھ کہ ماں نہیں ہے، سانسیں جیسے رکنے لگتی ہیں۔ الفاظ لبوں پر آ کر دم توڑ دیتے ہیں، اور اظہارِ محبت بھی خاموش ہو جاتا ہے۔ بانو قدسیہ لکھتی ہیں: "ماں نہ ہو تو کوئی خواہ مخواہ بلانے والا نہیں رہتا۔”

    مجھے اس خواہ مخواہ کی سمجھ اب آئی ہے۔ واقعی ماں کے بعد انسان کو اس ایک جملے کی معنویت پوری شدت سے سمجھ آتی ہے۔ دنیا میں سب کچھ مل سکتا ہے، مگر ماں جیسی بے غرض محبت دوبارہ نہیں ملتی۔ آج میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جن کے اضطراب ماں کے لمس اور شفقت بھرے بوسوں سے دور ہوتے ہیں، ان کے سروں پر دعاؤں کا یہ آنچل ہمیشہ سلامت رہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی ماؤں کو صحت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھیں اور جو مائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین۔

    میں آج بھی سیکھ رہی ہوں کہ غم کے ساتھ جینا کیسے ہوتا ہے۔ یہ کوئی آسان فن نہیں۔ کبھی دل ماننے کو تیار نہیں ہوتا، کبھی عقل سمجھا دیتی ہے۔ مگر میں نے مان لیا ہے کہ یہ غم میری کمزوری نہیں، میری محبت کی گہرائی ہے۔ جس سے جتنی محبت ہو، اس کا غم بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔

    جب تک دل دھڑکتا ہے، ماں کی یاد زندہ ہے۔ اور جب تک یاد ہے جدائی کا زخم بھی ہے۔ یہ زخم مجھے یاد دلاتا ہے کہ میں کتنی محبت کی گئی ہوں، اور میں نے کتنی محبت کی ہے۔

    بس ایک یقین ہے جو مجھے تھامے ہوئے ہے ہم پھر ملیں گے۔ ان شاء اللہ۔ اس یقین پر ہی دل کا آشیانہ کھڑا ہے، ورنہ دیمک تو اسے کب کا کھا چکی ہوتی۔

  • آن لائن دباؤ ، لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں،انکشاف

    آن لائن دباؤ ، لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں،انکشاف

    جدید ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا، فلٹرز اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثرات نے نوجوان لڑکیوں کی زندگی کو جس طرح بدل دیا ہے، اس پر ایک نئی کتاب نے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    برطانوی مصنفہ فرییا انڈیا (Freya India) نے اپنی پہلی کتاب “Girls®” میں دعویٰ کیا ہے کہ آج کی نوجوان خواتین خود کو انسان کے بجائے ایک “پروڈکٹ” کی طرح دیکھنے لگی ہیں، جسے مارکیٹ کے مطابق بہتر، پیک اور ریٹنگ کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔“لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں”فرییا انڈیا، جو 26 سالہ مصنفہ ہیں، نے امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ “نوجوان خواتین اب اپنے آپ کو ایک ایسی چیز کے طور پر دیکھ رہی ہیں جسے مارکیٹ کے مطابق بہتر بنایا جائے۔ وہ اپنی زندگی کے تجربات کو پیک کرتی ہیں اور پھر آن لائن لوگوں کی رائے اور ریٹنگ کا انتظار کرتی ہیں۔”ان کے مطابق یہ رجحان صرف ذاتی احساسات تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی اور معاشی نظام کا حصہ ہے، جہاں انسانیت کی جگہ “ڈیجیٹل پریزنٹیشن” نے لے لی ہے۔

    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح نوجوان لڑکیاں اپنی خود اعتمادی کے مسائل کے دوران ایسے ڈیجیٹل ماحول میں گھری ہوئی ہیں جہاں چہرے بدلنے والے فلٹرز ،مصنوعی ذہانت پر مبنی ایڈیٹنگ ٹولز،انسٹاگرام انفلوئنسرز کے مکمل طور پر ایڈٹ شدہ لائف اسٹائل شامل ہیں،ان کے مطابق یہ سب چیزیں حقیقی زندگی کے احساسات کو مزید پیچیدہ اور غیر حقیقی بنا رہی ہیں۔فرییا انڈیا لکھتی ہیں کہ جب نوجوان ذہنی دباؤ یا جذباتی مسائل کا شکار ہوتی ہیں تو انہیں ٹک ٹاک تھراپی ویڈیوز، یوٹیوب مشورے، اور آن لائن میڈیکل اشتہارات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اصل علاج کے بجائے “فوری حل” پیش کرتے ہیں۔

    کتاب میں ڈیٹنگ ایپس اور پورن انڈسٹری کے اثرات پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ مصنفہ کے مطابق آج کی نوجوان نسل کو محبت اور رشتوں کے حوالے سے بھی ایک مصنوعی دنیا میں رکھا جا رہا ہے، جہاں ٹنڈر جیسے ایپس انسانی تعلقات کو “سوائپ کلچر” میں بدل دیتے ہیں،انفلوئنسرز خوف اور کنفیوژن کو منافع میں تبدیل کرتے ہیں،نوجوان لڑکیوں کو اپنی فطری خواہشات پر بھی شرمندہ کیا جاتا ہے،فرییا انڈیا کے مطابق موجودہ بحران صرف ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سماجی تبدیلیاں بھی ہیں، جیسے مذہبی اور اخلاقی نظام کا کمزور ہونا،خاندانی ڈھانچے میں بگاڑ،کمیونٹی اور اجتماعی زندگی کا خاتمہ ہے،ان کے مطابق یہی خلا سوشل میڈیا نے پر کیا، مگر اس نے “حقیقی تعلق” کے بجائے “ڈیجیٹل متبادل” فراہم کیے۔ مصنفہ کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نئی نسل یہ بھی نہیں جانتی کہ وہ کس چیز کو نقل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے “ہم صرف اسکرول کر رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، خرید رہے ہیں اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن تنہائی کے ساتھ۔”

    فرییا انڈیا نے بتایا کہ انہوں نے یہ خیال 2021 میں اس وقت محسوس کیا جب وہ ایک کیفے میں کام کر رہی تھیں اور نوجوان لڑکیوں کے رویوں کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔ یہی مشاہدات بعد میں ان کی کتاب کی بنیاد بنے۔

  • خوف سے سکون تک،تحریر: اقصیٰ جبار

    خوف سے سکون تک،تحریر: اقصیٰ جبار

    انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ حال کے خیمے میں بیٹھ کر مستقبل کے سرابوں کا پیچھا کرتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک ایسا معمار ہے جو اپنی زندگی کی عمارت کو مستقبل کے نامعلوم گوشوں میں محفوظ کرنا چاہتا ہے۔ اس عمل میں ہم اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ اس ’لمحے‘ کی مٹھاس سے محروم ہو جاتے ہیں، جو حقیقت میں ہماری زندگی کا واحد حقیقی اثاثہ ہے۔ ہم سب ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جس کا اختتام کہیں نہیں ہے، اور اس دوڑ میں ہم اپنی خوشیوں، اپنے سکون، اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو دھیرے دھیرے قربان کرتے جا رہے ہیں۔
    آج کے تیز رفتار دور میں، ہم نے ’منصوبہ بندی‘ اور ’اضطراب‘ کے درمیان فرق مٹا دیا ہے۔ مستقبل کا خوف، دراصل ان واقعات کا خوف ہے جو ابھی وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے۔ ہم ان اندیشوں میں گھلے جاتے ہیں جو شاید کبھی حقیقت کا روپ دھاریں ہی نہیں۔ ہم اپنی توانائی کا ایک بڑا حصہ ان خدشات پر صرف کر دیتے ہیں جو ہمارے کل کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ہم اپنی پڑھائی، اپنے کیریئر، اپنے امتحانات، اور اپنی سماجی حیثیت کو لے کر اس قدر فکرمند رہتے ہیں کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم ’زندہ‘ بھی ہیں۔ یہ فکر، جو ایک حد تک تو اصلاحی ہو سکتی ہے، جب حد سے بڑھ جائے تو ایک بیماری بن جاتی ہے جسے ہم ’مستقبل کا خوف‘ کہتے ہیں۔

    ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کو ’مستقبل کا ایک جزیرہ‘ بنا دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سکون تب ملے گا جب ہم ڈگری مکمل کر لیں گے، جب ہمیں ملازمت مل جائے گی، جب ہم کسی بڑے عہدے تک پہنچ جائیں گے۔ اس سوچ کے تحت ہم اپنی موجودہ زمین پر قدم جمانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم ایک ایسی انتظار گاہ میں بیٹھے ہیں جہاں ہم زندگی شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ زندگی کوئی منزل نہیں، یہ تو وہ راستہ ہے جس پر ہم اس وقت چل رہے ہیں۔ اگر ہم راستے کے مناظر سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے، تو منزل پر پہنچ کر بھی ہمیں وہ سکون نہیں ملے گا جس کی ہمیں تلاش ہے۔

    ہم اکثر سوچتے ہیں کہ کیا ہم کل کے امتحان میں کامیاب ہو پائیں گے؟ کیا ہم اپنی ذمہ داریاں نبھا پائیں گے؟ کیا ہمارا مستقبل محفوظ ہے؟ یہ سوالات فطری ہیں، مگر جب یہ سوالات ہمارے دماغ پر سوار ہو جائیں، تو یہ حال کی کارکردگی کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ ایک طالب علم جو سی ایس ایس (CSS) یا کسی بھی مشکل امتحان کی تیاری کر رہا ہو، وہ اگر ہر وقت ناکامی کے خوف میں مبتلا رہے گا، تو وہ اپنی تیاری پر پوری توجہ نہیں دے پائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مستقبل کا حد سے زیادہ خوف، ہمارے حال کو بھی برباد کر رہا ہے۔

    حال میں جینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم مستقبل کی منصوبہ بندی نہ کریں یا اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کریں۔ منصوبہ بندی کرنا دانشمندی ہے، مگر اس میں ڈوب جانا حماقت ہے۔ حال میں جینے کا مطلب ہے کہ ہم اپنی پوری توجہ، اپنی پوری توانائی اور اپنے تمام تر حواس کو اپنے موجودہ کام پر مرکوز کریں۔ جب ہم فکرِ فردا سے آزاد ہو کر اپنے کام میں ڈوب جاتے ہیں، تو ہمارا کام نہ صرف زیادہ معیاری ہوتا ہے بلکہ ہمارا ذہنی سکون بھی برقرار رہتا ہے۔
    ایک مشہور قول ہے کہ ’’جو گزر گیا وہ خواب تھا، جو آنے والا ہے وہ خیال ہے، اصل میں وہی ہے جو تیرے سامنے، تیرے حال میں ہے۔‘‘

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارا دماغ ایک وقت میں ایک ہی چیز پر توجہ دے سکتا ہے۔ اگر ہمارا دماغ کل کی فکروں میں الجھا ہوا ہے، تو ہم آج کے کام کو کیسے مکمل کر سکتے ہیں؟ یہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی تضاد ہے۔ ہم آج کو کل کے لیے قربان کر رہے ہیں، اور پھر کل جب آئے گا تو وہ بھی تو ’آج‘ ہی بن جائے گا۔ تب ہم پھر کسی اور ’کل‘ کی فکر میں مبتلا ہوں گے۔ اس طرح ہماری پوری زندگی ایک ایسی لکیر بن کر رہ جاتی ہے جس میں صرف بھاگ دوڑ ہے اور ٹھہر کر سانس لینے کا کوئی وقفہ نہیں۔

    حال کے سکون کو پانے کے لیے ہمیں ’شکر گزاری‘ (Gratitude) کے فلسفے کو اپنانا ہوگا۔ جب ہم ان چیزوں پر غور کرتے ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں، تو ہمارا ذہن خود بخود سکون کی حالت میں آ جاتا ہے۔ ہم اکثر ان چیزوں کے بارے میں سوچ کر دکھی ہوتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں یا جن کے چھن جانے کا ہمیں ڈر ہے۔ یہ فکر ہمیں ناشکرا بناتی ہے۔ حال میں جینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحات کی قدر کریں۔ ایک کپ چائے کی چسکی، کسی عزیز سے کی گئی گفتگو، یا کوئی کتاب پڑھتے ہوئے ملنے والی خوشی—یہ وہ چھوٹے چھوٹے لمحات ہیں جو ہماری زندگی کو روشن بناتے ہیں۔

    نفسیاتی طور پر دیکھیں تو مستقبل کا خوف انسان کو ’مستقبل بین‘ (Visionary) نہیں، بلکہ ’مستقبل زدہ‘ (Future-Anxious) بنا دیتا ہے۔ ایک صاحبِ قلم کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جو وقت آپ کے ہاتھ میں ہے، وہ ایک امانت ہے۔ اسے مستقبل کے غیر یقینی خدوخال کو سنوارنے کی فکر میں ضائع کرنا، وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے گراف کو دیکھیں۔ کیا ہم صرف پریشانیوں کا گراف بنا رہے ہیں یا ہم سکون اور اطمینان کے پل بھی تعمیر کر رہے ہیں؟
    توازن کا فلسفہ ہی زندگی کا حسن ہے۔ ہمیں ایک ویژن تو رکھنا چاہیے، مستقبل کے خواب بھی دیکھنے چاہئیں، لیکن ان خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے جو محنت درکار ہے، اسے موجودہ لمحے میں ادا کرنا چاہیے۔ جب آپ آج کا کام خلوص اور ایمانداری سے کرتے ہیں، تو آپ کا کل خود بخود سنور جاتا ہے۔ آپ کا آج، آپ کے کل کی بنیاد ہے۔ اگر آپ کی آج کی اینٹیں مضبوط ہوں گی، تو کل کی دیواریں خود بخود مستحکم ہوں گی۔

    آئیے، آج سے ایک عہد کریں۔ ہم کل کے اندیشوں کو اللہ پر چھوڑ دیں گے۔ ہم منصوبہ بندی کریں گے، ہم محنت کریں گے، لیکن نتائج کے خوف کو اپنی ذات پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ جب ہم کسی کام کو عبادت کی طرح کرتے ہیں، تو نتیجہ خود بخود بہتری کی صورت میں نکلتا ہے۔ اور اگر نتیجہ ہماری توقع کے مطابق نہ بھی ہو، تو بھی ہم اس اطمینان کے ساتھ جی سکتے ہیں کہ ہم نے اپنا آج پوری دیانتداری سے گزارا ہے۔
    یاد رکھیے، زندگی گزر جانے کا نام نہیں، بلکہ پھلنے پھولنے کا نام ہے۔ مستقبل کا خوف ایک سراب ہے، اور اس سراب سے بچنے کا واحد راستہ، حال میں اپنے قدموں کو مضبوطی سے جمانا ہے۔ آیئے، کل کے نامعلوم اندیشوں کو ایک طرف رکھ کر آج کے سورج کو خوش آمدید کہیں۔ اپنی محنت کو اپنا مقصد بنائیں، مگر نتائج کی فکر کو اپنی ذات کا حصہ نہ بنائیں۔ کیونکہ جب آپ کا ’حال‘ پرسکون اور مستحکم ہوتا ہے، تو آپ کا ’مستقبل‘ خود بخود ایک محفوظ سمت کا تعین کر لیتا ہے۔

    اب ہمیں فردا کے خواب دیکھنے سے زیادہ حال کے چراغ جلانے کی ضرورت ہے۔ زندگی کے ہر لمحے میں ایک ایسی روشنی پوشیدہ ہے جسے ہم کل کی فکر میں دھندلا دیتے ہیں۔ اپنے ذہن کو اس غیر ضروری بوجھ سے آزاد کریں، گہری سانس لیں اور ارد گرد کی دنیا کو دیکھیں، جہاں ہزاروں امکانات آپ کے منتظر ہیں۔ یاد رکھیں، آپ کی زندگی کا اصل رقبہ وہی ہے جو اس وقت آپ کے قدموں تلے ہے۔ اسے خوف کی دھول سے نہیں، اطمینان کے پھولوں سے مہکائیں۔ کیونکہ یہی آج ہے، جو کل کی تاریخ بنے گا۔

  • طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔

    طلاق ایک تلخ حقیقت ہے لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہےکہ اس فیصلے کا سارا بوجھ صرف عورت کے حصے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔اور تو اور ستم ظریفی دیکھیں کہ طلاق کی وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں، انگلیاں ہمیشہ عورت پر ہی اٹھتی ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے مرد نے کیا کیا؟ یا مرد کے وہ کیا رویے تھے جنھوں نے بات یہاں تک پہنچائی؟

    مرد سے سوال کرنا جیسے معاشرے میں منع ہے۔

    طلاق کے بعد مرد کے لیے نئی زندگی شروع کرنا آسان بنا دیا جاتا ہے، جبکہ عورت کو قدم قدم پر یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ ناکام ہوگئی ہے۔ اسے ایک اچھی بیوی، ایک اچھی ساتھی نہ بن پانے کے طعنے دیے جاتے ہیں، گویا رشتہ نبھانے کی ساری ذمہ داری صرف اسی کی تھی۔

    یہ رویہ نہ صرف عورت کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اسے سماجی طور پر بھی تنہا کردیتا ہے۔

    ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ طلاق کسی کے لیے، کسی بھی طرح خوشی کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے جس کے بعد ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ مزید اس انسان کو ملامت کیا جائے۔۔۔ جب اسے بار بار ملامت کیا جائے تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوکر خود کو ایک ناکام انسان ہی سمجھنے لگتا ہے اور کئی زندگیاں اس ڈپریشن کی نذر ہوگئی ۔۔

    ہمارے معاشرے کا یہ ایک تلخ پہلو ہے کہ طلاق کا سارا ملبہ اور سماجی بدنامی صرف عورت کے حصے میں آتی
    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ رشتہ دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اسکے ختم ہونے کی ذمہ داری بھی کسی ایک پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ عورت کو اس کے ماضی کے بجائے اس کی ہمت اور شخصیت سے پہچانیں، نہ کہ کسی ایک لفظ سے جو اس کی زندگی کا کل اثاثہ نہیں۔

  • نوحہِ عصر، مادی اتصال، روحانی انفصال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    نوحہِ عصر، مادی اتصال، روحانی انفصال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    عصرِ حاضر کی بساط پر بچھا ہوا انسانی معاشرہ ایک ایسے تضاد کا شکار ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی کے کسی بھی ورق میں نہیں ملتی۔ یہ صدی اپنے جلو میں ترقی کے جو چراغ لے کر آئی تھی، ان کی چکا چوند نے انسانی بصیرت کو اس حد تک خیرہ کر دیا ہے کہ اب ہمیں روشنی تو دکھائی دیتی ہے مگر راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ ہم ایک ایسے ہجومِ ناآشنائی کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ہر شخص دوسرے سے جڑا ہوا (Connected) ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر حقیقت میں ہر فرد تنہائی کے ایک ایسے جزیرے پر مقیم ہے جس کے چاروں طرف خاموشی کا سمندر موجزن ہے۔

    قدیم یونانی فلسفہ ہو یا مشرقی تصوف، انسان کو ہمیشہ "حیوانِ ناطق” یا "اشرف المخلوقات” کے طور پر اس کے سماجی اور روحانی رشتوں سے پہچانا گیا، مگر آج کا انسان "حیوانِ مشینی” کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہماری زندگیوں میں رفتار کا وہ تلاطم ہے جس نے سکونِ قلب کی متاع چھین لی ہے۔ ہم وقت کی دھول اڑاتے ہوئے اس منزل کی طرف گامزن ہیں جس کا کوئی نشان نہیں، اور اس بھاگ دوڑ میں ہم وہ لمحہ کھو بیٹھے ہیں جسے "ادراکِ ذات” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ان کہی اور ان دیکھی تھکن ہے جو ہڈیوں میں نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں میں سرایت کر چکی ہے۔

    ٹیکنالوجی کے اس عہدِ غلبہ میں انسانی جذبات کو "مصنوعی بصارت” (Artificial Vision) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ وہ احساسات جن کے اظہار کے لیے کبھی غزل کے قافیے اور نظموں کے استعارے بھی کم پڑ جایا کرتے تھے، اب محض ایک "ایموجی” یا "ری ایکشن” کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ لفظوں کی حرمت پامال ہو چکی ہے کیونکہ اب وہ دل سے نہیں بلکہ مصلحتوں کی اسکرین سے جنم لیتے ہیں۔ ہم نے رفاقتوں کو "ڈیجیٹل سگنلز” میں مقید کر دیا ہے؛ ملاقاتیں اب باہمی لمس اور آنکھوں کی گفتگو سے عاری ہو کر بے جان پکسلز (Pixels) میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

    ادب ہمیشہ سے انسانی ضمیر کا آئینہ دار رہا ہے، مگر آج کا انسان خارجی دنیا کے مصنوعی شور میں اتنا محو ہے کہ اسے اپنے اندر سے اٹھنے والی کراہیں سنائی نہیں دیتیں۔ ہم دوسروں کے "ڈیجیٹل اسٹیٹس” کو دیکھ کر اپنی زندگی کے معیار مقرر کرتے ہیں، مگر اپنی روح کے اس بوجھ کو بانٹنے کے لیے کوئی کندھا میسر نہیں پاتے جو اسے روز بروز کچل رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب آنسو بھی اسٹوریز میں "نمائش” کے لیے رکھے جاتے ہیں اور دکھ کو بھی "پبلک ڈسپلے” کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ کرب جو کبھی صیغہِ راز میں رہ کر انسان کو کندن بناتا تھا، اب محض سستی شہرت کا ذریعہ بن گیا ہے۔

    یہ دورِ ترقی دراصل "اجتماعی بیگانگی” کا عہد ہے۔ ہم ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے کئی افراد کے درمیان رہ کر بھی ان سے میلوں دور ہوتے ہیں۔ قربت کا مفہوم اب جسمانی موجودگی نہیں بلکہ "آن لائن” ہونا رہ گیا ہے۔ یہ ایک ایسی تنہائی ہے جو صحراؤں میں نہیں بلکہ بھرے مجمعوں میں پیدا ہوتی ہے—ایسی تنہائی جہاں آپ کے پاس "فرینڈ لسٹ” میں تو ہزاروں لوگ ہوں، مگر دستک دینے کے لیے کوئی ایک بھی دروازہ حقیقی نہ ہو۔
    شاید مستقبل کا مورخ ہماری اس تہذیب پر نوحہ لکھتے ہوئے کہے گا کہ وہ لوگ کائنات کی تسخیر کے خواب دیکھتے تھے مگر اپنے وجود کی سرحدوں سے ناواقف تھے۔ انہوں نے جینے کے تمام اسباب تو فراہم کر لیے تھے، مگر "جینے کے ڈھنگ” سے محروم رہے۔ ہم نے سب کچھ پا لیا، مگر افسوس کہ اس سارے عمل میں ہم نے ایک دوسرے کو کھو دیا۔ یہ عہد دراصل اس حقیقت کا شاہد ہے کہ اگر احساس مر جائے تو انسان محض ایک گوشت پوست کا مشینی پرزہ بن کر رہ جاتا ہے

  • میرےقلم کی دھنک  ،تحریر: ماریہ خان

    میرےقلم کی دھنک ،تحریر: ماریہ خان

    ایک طاقت، ایک مضبوط بنیاد، ایک رشتہ جو ہمارا قلم کے ساتھ ہے، ایک ایسی آواز جس کی طاقت کو آج تک دبایا نہیں جا سکا، وہ ہے قلم۔ قلم کی آواز میں ایسی طاقت ہے، جس کا شور سماعتوں تک اپنی گونج سے راستے بناتا ہوا خود پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ واحد راستہ ہے، جس کی مدد سے کوئی بھی فرد جو صرف قلم پکڑنا جانتا ہو، وہ اپنے جذبات کو کاغذ پر اتار دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ،یہ بات اہم نہیں کہ جذبات منفی ہیں یا مثبت، ایک کالم نگار جب قلم اٹھاتا ہے تو معاشرے میں چھپی برائی کو بنا کسی ڈر، خوف اور مصلحت کے تنقید برائے اصلاح کی شکل میں قرطاس پر اتار دیتا ہے، ایک شاعر قلم اٹھاتا ہے تو زمانے کی دھوپ چھاؤں، محب کے ملن اور وصل، محبت و عداوت کو اپنے اشعار میں پرونے لگتا ہے، ایک افسانہ نگار، کہانی کار سمیت کوئی بھی لکھاری جب قلم تک رسائی لیتا ہے تو اپنے جذبوں اور ارد گرد کے حالات کو کہانیوں، افسانوں میں بہت خوبصورتی سے ڈھالنے کی طاقت رکھتا ہے، اگر دیکھا جائے تو لکھا تو ایک ہی قلم سے جاتا ہے یا یوں کہئے کہ جیسے ایک گاڑی ہے اور ڈرائیور اسے اپنے حساب اور ضرورت سے چلاتا ہے، اسی طرح قلم کی بھی یہی کیفیت ہے، اس کے بھی کئی رنگ ہیں، جیسے قوس قزاح کے سات رنگ بارش کے بعد قوس و قزاح آسمان پر اپنے خوبصورت رنگ بکھیرتی نظر آتی ہے، اسی طرح قلم کے بھی الگ الگ رنگ یا انہیں قلم کی دھنک کہہ سکتے ہیں۔

    بے شمار مصنف تو ایسے بھی گزرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں،جن کا دوست اور کل اثاثہ صرف قلم رہا۔ قلم کی دھنک ایک سمندر کی مانند ہے، اس کی دنیا بہت وسیع ہے، قلم سے زندگیاں سنورتی دیکھیں، مگر یہی قلم جب کسی جاہل کے ہاتھ آتا ہے تو وہ انسانیت کے تقاضوں کو خاک میں ملانے میں لمحہ بھر نہیں لگاتا، ایسے بے شمار قلم کاروں کو لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے دیکھا۔ یہ ان لوگوں کی بد قسمتی ہے، جو قلم کی طاقت اور اس کے فیض سے محروم ہیں۔ ان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جو جان بوجھ کر محروم رہنا چاہتا ہے، قلم صرف یہ نہیں کہ ایک فرد واحد نے قلم اٹھایا اور اپنا حال کاغذ کی نذر کر دیا، قلم کا مقصد تو انسانیت کی اصلاح ہے، قوم کی بیداری ہے، لوگوں کے سوئے ہوئے ناقص ذہنوں کی آبیاری ہے، جو درسگاہوں سے اپنی نسلوں کو دور رکھتے ہیں، ان کے ذہنوں میں نفرتوں کے بیج بوتے چلے آ رہے ہیں اور یہ کام نسل در نسل چل رہا ہے، اسے روکنا تو درکنار ہے، مگر ایک کوشش ضرور کی جاسکتی ہے، قلم کار ہر قدم صرف ایک کوشش کا محتاج ہے۔ ہماری ترقی، ہماری آسائشیں، ہماری نوجواں نسل کے خواب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں قلم کے سات رنگوں میں سے کسی نہ کسی رنگ سے جا کے جڑتے ہیں۔ اس دھنک رنگ میں ایسی طاقت ہے کہ اگر کوئی فرد اس کا صحیح استعمال جانتا ہے تو وہ ایک پورے خطے کی سوچ بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ہماری زندگیاں قلم اور قلم کی آواز کے گرد گردش کرتی ہیں اور اگر کوئی اس حقیقت کو جھٹلاتا ہے تو یہ اس کی گمراہی اور ناسمجھی ہے، کیونکہ قلم کا کارواں تو ایک سیلاب کی مانند اپنے راستے بناتا چلتا جا رہا ہے اور اس کارواں میں مسافر شامل ہوتے جا رہے ہیں، جب مختلف ہاتھ اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو وہی ایک قلم اور اس کی سیاہی مختلف رنگوں، سوچوں، ثقافتوں کی گہرائیوں میں رنگ جاتی ہے۔ قلم کے فروغ کے لئے ادبی بیٹھک کا اہتمام مدارس سے ہی شروع کیا جائے، تاکہ ہماری نسلوں میں تحریک اور شوق بچپن اور بلوغت میں ہی بنیاد پکڑ لے، کیوں کہ مضبوط بنیادیں ہی خوبصورت عمارتوں کا بوجھ سنبھال سکتی ہیں۔

  • لباسوں پر نظر رکھے ہوئے گدھ،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    لباسوں پر نظر رکھے ہوئے گدھ،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    سن اسی کی دہائی میں پاکستان عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز تھا،دنیا بھر کے صحافی اسلام آباد میں موجود رہتے تھے۔ آج برسوں بعد ایک مرتبہ پھر اسلام آباد عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ اسی کی دہائی میں پاکستان کا منفی چہرہ سامنے آرہا تھا، مگر بطور پاکستانی خوش آئند بات یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں ہمیں مثبت اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا پاکستان کی سفارتی کوششوں کا سراہا رہا ہے۔اور پاکستان پورے خطے میں ایک مضبوط سفارت کار کے طور پر سامنے آرہا ہے۔

    بلاشبہ حالیہ آباد ٹاکس نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سفارتی نقشے پر نمایاں مقام دلا دیا۔گزشتہ ہفتے دنیا بھر کے صحافی، تجزیہ نگار اور سفارت کار پاکستان کی طرف متوجہ تھے۔ بین الاقوامی میڈیا پاکستان کی سفارتی پختگی اور خطے میں اس کے کردار کو سراہ رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بطور قوم ہمیں اپنے ملک پر فخر کرنا چاہیے تھا۔ مگر ہمارے ہاں سوشل میڈیا کے ایک بڑے طبقے نے اس تاریخی موقع پر جو کام اپنے ذمے لیا، وہ یہ تھا کہ ایک سینئر صحافی غریدہ فاروقی کے لباس کی تصویریں شیئر کی جائیں، ان کا مذاق اڑایا جائے اور انہیں ذلیل کیا جائے۔ اس موقع پر بھی امن کےلیے کوشاں پاکستان کے ایک طبقے نے ثابت کر دیا کہ چاہے یہاں امن کےلیے مذاکرات ہوں یا دنیا کے لیے فیصلے مگر ان کا ذہن ابھی بھی کسی عورت کی قمیض کی لمبائی سے آگے نہیں بڑھا۔

    یہ کوئی نئی بیماری نہیں ہے، نہ ہی یہ کسی ایک واقعے تک محدود ہے۔ پاکستان میں عورت کو کمزور کرنے کا سب سے آسان اور آزمودہ ہتھیار ہمیشہ اس کا کردار، اس کا جسم اور اس کا لباس رہا ہے۔ یہ ہتھیار سیاست میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے، میڈیا میں بھی اور سوشل میڈیا کے میدان میں بھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اس ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ انہوں نے ایک مردانہ دنیا میں اپنا راستہ خود بنایا، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی اور اسلامی دنیا میں پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بنیں۔ مگر ان کی کردار کشی کرنے کے لیے ہیلی کاپٹروں سے پمفلٹ گرائے گئے ۔

    ثمینہ پاشا کے معاملے میں جب طلعت حسین جیسے سینئر صحافی اور شیر افضل مروت جیسے سیاست دان بیٹھ کر ان کے جسم پر تبصرے کرتے ہیں تو یہ محض بدتمیزی نہیں ہوتی، یہ ایک منظم رویے کا حصہ ہوتا ہے۔ اسے نفسیات کی زبان میں Dehumanization کہا جاتا ہے، یعنی کسی انسان کو اس کی صلاحیتوں اور کردار سے ہٹا کر محض ایک جسم تک محدود کر دینا۔ جب آپ کسی پیشہ ور عورت کی گفتگو، اس کے دلائل اور اس کی محنت کو نظرانداز کر کے اس کے وزن، رنگ یا لباس پر آ جاتے ہیں تو آپ یہ بتاتے دیتے ہیں کہ ہم ذہنی مریضوں کے لیے اصل اہمیت اس کی ذہانت نہیں، بلکہ ظاہری ہیئت ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو خاموشی سے معاشرے کی رگوں میں اترا گیا ہے۔

    بشری بی بی کے حوالے سے جو کردار کشی کی گئی، اس کی نوعیت اور بھی زیادہ گھناؤنی تھی کیونکہ اس میں نہ صرف ذاتی زندگی کو نشانہ بنایا گیا بلکہ مذہبی حوالوں کو بھی استعمال کیا گیا۔ ایک عورت خود کو اس وقت سب سے زیادہ کمزور سمجھتی ہے۔جب اس پر مذہبی یا اسکے کردار پرالزام لگایا جائے۔ خاص طور پر اس معاشرے میں جہاں ہم رہتے ہیں۔ وہاں عزت کا تصور فقط عورت سے جوڑا گیا ہے۔ مریم نواز کے بارے میں بھی یہی ہتھیار آزمایا گیا۔ ان کی سیاست سے اختلاف کرنا بالکل جائز ہے، ان کی پالیسیوں پر تنقید ایک ہر پاکستانی ہے جمہوری حق ہے۔مگر کردار کشی اور تنقید میں فرق ہوتا ہے۔ جب تنقید کسی عورت کی ذاتی زندگی، اس کے لباس یا اس کے جسم پر آ جائے تو وہ تنقید نہیں رہتی، وہ ہراسانی بن جاتی ہے۔

    نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ عورتوں کو ان کی ظاہری ہیئت کی بنیاد پر جج کرنا ایک مخصوص ایک بیمار ذہنی کیفیت کی علامت ہے جسے Objectification Theory کہا جاتا ہے۔جب کوئی معاشرہ عورت کو انسان کے بجائے ایک شے سمجھنے لگتا ہے تو وہ اس کی صلاحیتوں کو نظرانداز کر کے اس کے جسم کو جانچنے لگتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اس عورت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے ذہنی ارتقاء کو روک دیتا ہے۔ وہ معاشرے جہاں عورتوں کو ان کی اہلیت سے زیادہ ان کی ظاہری ہیئت سے پہچانا جاتا ہے، وہ معاشرے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ وہ اپنی نصف آبادی کی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔

    غریدہ فاروقی ہوں، ثمینہ پاشا ہوں، بشری بی بی ہوں، مریم نواز ہوں یا بے نظیر بھٹو یا کوئی اور عورت جسے صرف لباس اور جسمانی ہیت پر جج کیا جائے، ہمیشہ قابل مذمت ہے۔پاکستان آج عالمی سطح پر اپنا مقام بنا رہا ہے۔ اسلام آباد ٹاکس نے دنیا کو دکھایا کہ اس ملک کے پاس سفارتی بصیرت ہے، ذمہ داری کا احساس ہے اور خطے میں امن کی خواہش ہے۔ مگر جب تک ہمارے اندر بیٹھا وہ گدھ موجود ہے جو کامیاب عورت کو دیکھ کر اس کے لباس پر ٹوٹ پڑتا ہے، ہماری یہ عالمی و اخلاقی ساکھ ادھوری رہے گی۔

  • قابل فخر بیٹیاں (بیگم رعنا لیاقت علی)،تحریر  : ماریہ خان

    قابل فخر بیٹیاں (بیگم رعنا لیاقت علی)،تحریر : ماریہ خان

    ‎ ‎بیگم رعنا لیاقت علی صاحبہ 13فروری 1905ء میں پیدا ہوئیں ، 1947 سے 1951ء تک پاکستان کی خاتون اول اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بیگم تھیں ،تحریک پاکستان کی رکن اور سندھ کی پہلی گورنر خاتون تھیں۔وہ اپنے شوہر کے ہمراہ تحریک پاکستان کی صف اول کی خواتین میں شامل تھیں۔بیگم رعنا ان خواتین سیاستدانوں اور ملک گیر معزز خواتین شخصیات میں شامل تھیں،جنھوں نے 1940ء میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور پاکستان میں اہم واقعات کا مشاہدہ کیا،وہ تحریک پاکستان کی اہم اور سرکردہ خاتون شخصیت میں سے ایک تھیں،اور انھوں نے محمد علی جناح کے ساتھ کام کیا ،اور پاکستان موومنٹ کمپنی کی ذمدار رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔انھوں نے جناح کی پاکستان موومنٹ کمپنی میں معاشی مشیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور بعد جب ان کے شوہر لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے تو پاکستان کی خاتون اول بھی بنئیں۔اس حیثیت سے انھوں نے نئے قائم ملک پاکستان میں خواتین کی ترقی کے لئیے پروگرام شروع کئیے ۔خاتون اول کی حیثیت سے انھوں نے 14اگست 1949ء سے 29اکتوبر1951ء انکی مدت منصب رہا ۔انکا پیدائشی نام شیلا تھا،انکی تعلیم لکھنوء یونیورسٹی سے ہوئی۔مذہب اسلام تھا اور شہرئیت برطانوی ہند اور پھر پاکستان کے قیام کے بعد یہاں مقیم ہوئیں۔لکھنوء یونیورسٹی سے انھوں نے ماسٹر آف سائنس کیا ۔اور پیشہ کے لیحاظ سے ماہر معشیات،سفارت کار،استاد جامعہ،سیاستدان اور فوجی افسر  پاکستان میڈیکل کور میں تھیں ۔انکی مادری زبان اردو تھی۔بیگم رعنا لیاقت صاحبہ کے حالات زندگی کچھ یوں تھے ،کہ لکھنوء برطانوی ہندوستان میں 1905ء کو کمونی عیسائی خاندان میں پیدا ہوئیں،آپکا پیدائیشی نام شیلا آئرین پنت تھا۔آپ کو الموڑا کی بیٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ان کے والد ڈینیل پنت متحدہ صوبوں کے سیکٹریٹ میں خدمات انجام دیتے تھے۔کمونی برہمن پنت خاندان نے تقریبا 1871ء میں عیسائیت مزہیب قبول کیا تھا ۔بیگم رعنا نے ابتدائی تعلیم نینی تال کے ایک زنانہ ہائی سکول میں حاصل کی ۔لکھنوء یونیورسٹی سے ایم اے معاشیات اور عمرانیات کیا ۔کچھ عرصہ استاد رہئیں۔1933ء میں لیاقت علی خان سے شادی ہوئی ۔

    پاکستان بننے سے قبل آپ نے عورتوں کی ایک تنظیم ” آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن ” قائم کی ۔پاکستان کے بعد ایمپلائمنٹ ایکسچینج اور اغوا شدہ لڑکیوں کی تلاش اور شادی بیاہ کے محکمے ان کے حوالے کئیے ۔ اقوام متحدہ کے اجلاس منعقدہ 1952ء میں پاکستان کے مندوب کی حیثیت سے شریک ہوئیں ،1954ء میں ہالینڈ اور بعد ازاں اٹلی میں سفیر اور سندھ کی گورنر بھی رہیں ۔انکی سوانح عمری پر کچھ روشنی ڈالتے چلیں تو رعنا لیاقت علی خان "دی بیگم ” کی شریک مصنفہ دیپا اگروال بتاتی ہیں۔کہ وہ ایک آزاد خیال خاتون تھیں اور ان میں زبردست اعتماد تھا ۔86 سال کی اپنی زندگی میں انھون نے 43سال انڈیا میں جبکہ اتنا ہی عرصہ پاکستان میں گزارا ۔انھوں نے نہ صرف آپنی آنکھوں کے سامنے تاریخ رقم ہوتے دیکھی بلکہ اسکا حصہ بھی بنئیں ۔قائد اعظم سے لے کر جنرل ضیاء الحق تک سبھی کے سامنے وہ اپنی بات کہنے سے کبھی نہ ہچکچائیں ۔ ایم اے کی اپنی کلاس میں وہ اکیلی لڑکی تھیں ۔اور لڑکے انھیں تنگ کرنے کے لیے انکی سائیکل کی ہوا نکال دیتے تھے ۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر پشپیش  پنت کا ننیھال بھی اسی جگہ تھا ۔جہاں آیرین  روتھ پنت کا خاندان رہا کرتا تھا ۔پروفیسر پشپیش پنت بتاتے ہیں  کہ میں تقریبا 60 سال پہلے آٹھ یا دس برس کی عمر میں اپنی ننھیال والے مکان میں رہا کرتا تھا ۔لوگ ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کیا کرتے تھے کہ انکی بہن پاکستان کے پہلے وزیر اعظم سے بیاہی گئی تھیں اور ان لوگوں نے اپنا مزہب تبدیل کر لیا ۔انکا کہنا تھا کہ رعنا کے دادا ایک اعلی ذات کے برہمن تھے اور وہاں کے مشہور وید یعنی حکیم تھے اور جب انھوں نے عیسائی مذہب قبول کیا تو پورے علاقے میں ہلچل مچ گئی تھی کیونکہ اکثر نیچی ذات کہے جانے والے لوگ ہی مذہب تبدیل کیا کرتے تھے ۔ اس کے بعد جب رعنا نے ایک مسلمان سے شادی کر لی تو لوگ اور باتیں کرنے لگے ۔اس دور میں الموڑے کے دقیانوسی معاشرے میں ماڈرن کہی جانے والی پنت بہنیں نہ صرف پورے شہر میں موضوع بحث ہوا کرتی تھیں بلکہ کچھ لوگ انھیں رشک کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتے تھے ۔مشہور ناول نگار کی بیٹی ایرا پانڈے لکھتی ہیں میرے نانا کے برابر والا گھر ڈینیل پنت کا تھا جن کا خاندان مسیحی مذہب قبول کر چکا تھا ۔ لیکن ایک زمانے میں وہ ہماری ماں کے رشتہ دار ہوا کرتے تھے ۔ ہمارے نانا نے ان کی دنیا کو ہماری دنیا سے الگ کرنے کے لئیے ہمارے گھروں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی اور ہمیں سخت ہدائیت تھی کہ ہم دوسری جانب دیکھنے کی بھی کوشش نہ کریں ۔میری ماں شوانی نے لکھا تھا ۔۔
    ‎” ان کے گھر کے باورچی خانے میں پکنے والے ذائقے دار گوشت کی پاگل کر دینے والی مہک ہماری بے رونق برہمن رسوئی میں پہنچ کر ہماری دال اور آلو کی سبزی اور چاول کو شرمندہ کر دیتی تھی ”

    ‎”برلن وال ” کے اس پار کے بچوں میں ہینری پنت میرے خاص دوست تھے اور انکی بہنیں اولگا اور موریل جب اپنی جارجیٹ کی ساڑھی میں الموڑہ کے بازار میں چہل قدمی کرتی تھیں تو ہم لوگ رشک سے مر ہی جاتے تھے ۔ آئرین پنت یعنی رعنا کی تعلیم لکھنوء کے لال باغ سکول اور پھر وہیں کے مشہور آئی ٹی کالج میں ہوئی۔ متعدد اہم مصنف جیسے قرۃالعین حیدر ، عصمت چغتائی ،عطیہ حسین اس کالج سے تعلیم حاصل کر کے نکلی ہیں ۔آئرین کی بچپن کی دوست مائلز اپنی کتاب ” اے ڈائنو مو ان سلک” میں لکھتی ہیں وہ جہاں بھی ہوتی تھیں کالج میں لڑکے بلیک بورڈ پر انکی تصویر بنایا کرتے تھے ۔ لیکن ان پر اسکا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا ۔ لیاقت علی خان صاحب سے ملاقت کے بارے میں دیپا اگروال بتاتی ہیں  کہ ان دنوں ریاست بہار میں سیلاب آیا ہوا تھا اور لکھنوء یونیورسٹی کے طالب علموں نے فیصلہ کیا وہ ایک پروگرام کر کے وہاں کے لیے فنڈ جمع کریں گے ۔آئرین پنت جو لکھنوء یونیورسٹی سے ایم اے کر رہی تھیں شو کے ٹکٹ فروخت کرنے پارلیمنٹ پہنچیں اور وہاں انھوں نے پہلا دروازہ کھٹکھٹایا وہ لیاقت علی خان صاحب نے کھولا ۔لیاقت ٹکٹ خریدنے میں جھجک رہے تھے ۔اور بڑی مشکل سے انھوں نے ایک ٹکٹ خریدا ۔دیپا اگروال بتاتی ہیں کہ آئرین نے کہا کہ کم از کم دو ٹکٹ تو خریدیں اور شو دیکھنے کے لیے کسی کو آپنے ساتھ لے کر آئیں ۔جواب میں لیاقت علی خان نے کہا ۔۔کہ میں کسی کو نہیں جانتا جسکو اپنے ساتھ لاؤں اس پر آئرین بولیں میں آپکے لیے ساتھی کا انتظام کرتی ہوں اور اگر کوئی نہیں ملا تو میں ہی آپکے ساتھ بیٹھ کر شو دیکھ لوں گی اور لیاقت انکی یہ درخواست رد نہیں کر پاۓ ۔ لیاقت علی اپنے دوست مرتضی رضا کے ساتھ شو دیکھنے پہنچے لیکن کافی تاخیر کے ساتھ ،بعد میں آئرین اندر پرستھ کالج میں لیکچرار ہو گئیں جب انھیں خبر ملی کہ لیاقت علی کو لیجیسولیٹیو اسمبلی کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے تو انھوں نے اسے خط لکھ کر مبارکباد دی ۔جواب میں لیاقت علی خان نے لکھا کہ جان کر خوشی ہوئی ،آپ دلی میں ہیں جو میرے شہر کرنال کے بلکل قریب ہے ۔اس بار جب میں لکھنوء جاتے ہوۓ دلی سے گزروں گا تو کیا آپ میرے ساتھ چاۓ پینا پسند کریں گی ! آئرین نے انکی دعوت قبول کی اور یہیں سے انکی ملاقاتوں کو سلسلہ شروع ہوا ۔اور 16 اپریل 1933ء کو بات شادی تک پہنچ گئی ۔

    ‎لیاقت علی ان سے دس سال بڑے تھے ۔اور پہلے سے شادی شدہ اور ایک بچے کے باپ تھے ۔لیاقت علی کی شادی انکی کزن جہاں آرا سے ہو چکی تھی ۔اور انکے بیٹے کا نام ولایت علی خان تھا ۔بہر حال انکی شادی ہوئی اور جامعہ مسجد کے امام نے انکا نکاح پڑھا ۔آئرین نے اسلام قبول کیا اور انکا نام گل رعنا رکھا گیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لیاقت علی اس وقت سیاسی افق کے ابھرتے ستارے تھے ۔اور محمد علی جناح کے بہت نزدیک بھی تھے ۔لیاقت علی کو فوٹو گرافی کا شوق تھا انھوں نے موسیقی بھی سیکھی تھی پیانو اور طبلہ بجاتے تھے ۔اور گاتے بھی اچھا تھے ۔انکی پارٹیوں میں نہ صرف غزلوں کا دور چلتا تھا بلکہ انگریزی گانے بھی سننے کو ملتے تھے ۔دونوں میاں بیوی برج کھیلنے کے شوقین تھے پانچ فٹ لمبی رعنا کو نہ تو زیور پہننے کا شوق تھاگ اور نہ کپڑوں کا ۔انھیں ایک پرفیوم پسند تھا "جواۓ” جبکہ لیاقت علی کو امرود بہت پسند تھے ۔اور وہ کہا کرتے تھے کہ اس سے خون صاف ہوتا ہے ۔جانے سے پہلے جہاں جناح نے اورنگزیب والا بنگلہ رام کرشن ڈالمیہ کو فروخت کیا تھا ۔وہیں لیاقت علی نے اپنا بنگلہ پاکستان کو عطیہ کر دیا تھا اسے آج بھی پاکستان ہاؤس کہا جاتا ہے اور وہاں آج بھی انڈیا میں تعینات پاکستان کے سفیر رہتے ہیں ۔ دیپ اگروال بتاتی ہیں کہ ۔لیاقت علی نے اپنے گھر کی ایک ایک چیز پاکستان کو دے دی ۔اور وہ صرف ذاتی استعمال کی چیزیں لے کر پاکستان آۓ تھے ۔اس سامان میں ایک سوٹ کیس ،سیگریٹ لائٹروں سے بھرا ہوا تھا ۔اور وجہ یہ تھی کہ انھیں سیگرٹ لائیٹر جمع کرنے کا شوق تھا ۔اگست 1947ء میں لیاقت علی اور انکی بیگم رعنا لیاقت علی اور دو بیٹوں اشرف اور اکبر نے دلی کے ہوائی اڈے سے کراچی پرواز کی ۔لیاقت علی پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے اور رعنا پہلی خاتون اول قرار پائیں۔لیاقت نے انھیں اپنی کابینہ میں اقلیتوں اور خواتین کی بہبود سے متعلق وزارت دی۔ابھی چار سال ہی گزرے تھے کہ راولپنڈی کے ایک جلسے میں خطاب کے دوران لیاقت علی کو قتل کر دیا گیا ۔انکی موت کے بعد بہت سے لوگوں کا خیال تھا ،کہ رعنا اب واپس انڈیا چلی جائیں گی ۔لیکن انھوں نے پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ۔کتاب "دی بیگم ” کی مشترک مصنفہ تہمینہ عزیز ایوب بتاتی ہیں کہ ابتدا میں وہ بہت پریشان تھیں اور گھبرائی بھی ، کہ اب میں کیا کروں گی ! کیونکہ لیاقت انکےلئیے کوئی پیسہ یا جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے تھے ۔ان کی اکاؤنٹ میں محض 300 رپے تھے ۔اور انکا بڑا مسلہ بچوں کی پرورش اور تعلیم تھا ،کچھ لوگوں نے انکی مدد بھی کی ۔بیگم رعنا لیاقت علی خان بطور پاکستان کی سفیر :حکومت پاکستان نے انھیں دو ہزار ماہانہ وظیفہ دینا شروع کر دیا ۔تین سال بعد انھیں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھیج دیا گیا ۔جس سے انھیں کچھ آسرا ہوا ۔1949ء میں ہی آل پاکستان وومن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھ دی گئی تھی ۔اور بیرون ملک ہوتے ہوۓ بھی وہ اس تنظیم سے وابستہ رہیں ۔ہالینڈ کے بعد انھیں اٹلی میں پاکستان کا سفیر مقرر کر دیا گیا ۔تہمینہ ایوب بتاتی ہیں کہ :وہ بہت تعلیم یافتہ تھیں اور مختلف موضوعات پر انکی اچھی گرفت تھی ۔رعنا لیاقت علی نے اپنے سفارت کاری کے فرائض بخوبی انجام دئیے ۔ہالینڈ نے انھیں اپنے سب سے بڑے اعزاز ” اورینج ایوارڈ ” سے بھی نوازا ۔اسوقت ہالینڈ کی رانی سے انکی اچھی دوستی ہو گئی اور رانی نے انھیں ایک عالیشان گھر کی پیش کش کرتے ہوۓ کہا تم انتہائی سستے دام میں اپنی ایمبیسی کے لئیے اسے خرید لو۔یہ گھر شہر کے درمیان میں اور شاہی محل سے صرف ایک کلو میٹر دور تھا ۔وہ بلڈنگ آج بھی پاکستان کے پاس ہے ۔جہاں ہالیند میں پاکستان کا سفارتی عملہ رہتا ہے ۔بیگم رعنا سوئزرلینڈ کی سفیر بھی بنیں ۔اور انڈیا کی سابق خارجہ سیکٹری جگت مہتہ کے فلیٹ میں ٹھہریں ۔جو اس وقت سوئزر لینڈ میں انڈیا کے جونئیر سفیر ہوا کرتے تھے ۔بعد میں جگت مہتہ نے اپنی کتاب ” نیگوشی ایٹنگ فار انڈیا ” ریزالونگ پرابلم تھرو ڈپلو میسی ” میں لکھا کہ وہ ہمارے چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہیں ۔حالانکہ وہاں برطانوی سفیر نے جو پاکستان کے سفیر کی ذمداری بھی سنبھالتے تھے انھیں اپنے گھر رہنے کی دعوت بھی دی تھی ۔انھوں نے لکھا کہ وہ آتے ہیں بغیر تکلف کے میرے باورچی خانے میں گئیں اور تو اور ایک دفعہ میرے دو چھوٹے بچوں کو نہلایا بھی تھا ۔ ڈپلومیسی کی تاریخ میں انڈیا اور پاکستان کے سفیروں کے درمیان اس طرح کی دوستی کی شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو ۔

    ‎” امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جمشید مارکر کہتے ہیں کہ رعنا لیاقت علی جب کسی کمرے میں داخل ہوتی تھیں تو وہ کمرہ خود ہی روشن ہو اٹھتا تھا ”
    ‎سن 1947ء کے پاکستان کو اپنا گھر بنانے والی رعنا لیاقت علی خان تین بار انڈیا آئیں لیکن ایک بار بھی الموڑہ واپس نہیں گئیں ۔لیکن الموڑہ کو بھلا بھی نہیں پائیں ۔دیپا اگروال کہتی ہیں کہ وہ الموڑہ کے روائیتی کھانے بہت پسند کرتی تھیں اور ایک بار اپنے بھائی نارمن کو انکی سالگرہ پر خط میں لکھا تھا ” آئی مس الموڑہ ”

    ‎رعنا کا ایوب جنرل سے ٹکراؤ :
    ‎ڈپلو میسی کے شعبے میں کافی کامیاب ہونے کے بوجود پاکستان کے صدر ایوب خان کے ساتھ انکے تعلقات کبھی بہتر نہیں ہوۓ ۔اور ایوب خان نے انھیں تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔تہمینہ عزیزلکھتی ہیں کہ ایوب خان چاہتے تھے کہ وہ فاطمہ جناح کے خلاف انتخابی مہم میں حصہ لیں لیکن رعنا نے صاف انکار کر دیا انکا کہنا تھا کہ پاکستانی سفیر ہیں ۔جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کوپھانسی پر لٹکایا تو انھوں نے فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کی قیادت کی جنرل ضیاء الحق کے اسلامی قوانین کی پرزور مخالفت کی ۔بیگم رعنا لیاقت علی 13جون 1990ء کو حرکت قلب بند ہونے کے سبب کراچی میں انتقال کر گئیں اور مزار قائد کے احاطے لیاقت علی خان کے پہلو میں مدفون ہیں ۔ بیگم رعنا لیاقت علی کو سب سے بڑے شہری اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا ۔ انھیں مادر پاکستان کا خطاب بھی ملا ۔

  • اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    فرمانِ آقاِ دو جہاں حضرت رسول اللہﷺ ہے؛

    "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد(وعورت) پر فرض ہے۔”
    (سنن ابن ماجہ)

    اسلام وہ دینِ برحق ہے جس نے عورت کو معاشرے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے تمام بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ عورت اور مرد معاشرے کے دو اہم ارکان ہیں جن کے بنا معاشرہ ارتقاء کی منازل طے نہیں کر سکتا ۔ اسی لئیے اسلام نے عورت کے بنیادی حقوق کا خصوصی خیال رکھا ہے۔

    ہر قیمتی شے چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر چھپی ہوئی شے نایاب ہوتی ہے۔ پردہ اور حیا عورت کے زیور ہیں۔ پردہ عورت پہ ناصرف واجب ہے۔ بلکہ اخلاقی و روحانی و معاشرتی تقاضا بھی ہے ۔ یہ اس کے تقدس کی علامت ہے۔

    ہر سال 8 مارچ خواتین کے عالمی دن پر ان کے حقوق کے حوالے سے بات کی جاتی ہے۔ میں اکثر کہتی ہوں کہ سب سے پہلے تو عورت کو خود اپنے مقام ،اپنے مرتبے کا شعور ہونا چاہئیے ۔آپ کسی سے اپنے حقوق کی بات تبی کر سکتے ہیں۔ جب آپ کو خود اپنے مقام کا علم ہو گا۔ خود تعلیم حاصل کریں۔ اور کسی مغربی گروہ کا شکار ہونے کی بجائے اپنے مذہب اسلام میں عورت کے حقوق کو جانیں۔

    مغرب جس کی ہمارے معاشرے کے نام نہاد لبرلز تقلید کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں ، میں عورتوں کے قانونی طور پہ برابری کے حقوق کے حصول کی پہلی آواز 1848ء میں اٹھائی گئی۔ جسے فیمی نزم کا نام دیا گیا۔ امریکہ جیسے آزاد خیال ملک میں عورت کو ووٹ ڈالنے تک کا حق حاصل نہ تھا۔ نہ وارثت میں کوئی حصہ۔ یعنی مغرب میں قانونی و معاشرتی طور پہ عورت کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اس تحریک میں ان حقوق کے حصول کے لئیے آواز اٹھائی گئی۔ جو کہ اسلام نے 1400 سال پہلے ہی عورت کو فراہم کر دیئے تھے۔ شاید مغرب والوں نے بھی اس تحریک کی شروعات سے پہلے اسلام میں عورت کے ان حقوق کا مطالعہ کیا ہو گا۔ عورت جسے قبل اسلام زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ اسلام نے اسے وارثت کا حق دیا، تعلیم کے حصول میں برابری کے حقوق عطا کئیے۔عبادت میں مساوی حقوق دئیے۔ حتی کہ نکاح میں اپنی مرضی کا حق دیا۔

    مغرب میں فیمی نزم تحریک ان کے معاشرے کی ضرورت تھی۔ مگر اسلام نے تو یہ ضرورت 1400 سال قبل ہی پوری کر دی۔ آج کل کا خود کو لبرلز کہنے والا سڑکوں پہ اوٹ پٹنگی حرکات کرنے والا مخصوص گروہ فیمی نزم تحریک کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط عزائم کو پروان چڑھانے کی کوشش میں ہے۔ دراصل یہ عورت کے اصل حقوق سے توجہ ہٹانے کا باعث ہے۔ عورت کے آج کل کے اصل حقوق تو یہ ہیں۔ کہ اسے تعلیم سے لے کر جاب تک برابری کے امواقع حاصل ہوں، وہ اگر باپردہ کسی جاب کی اہل ہے۔ تو پردے کو وجہ ِ رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ وہ اگر حالتِ سفر میں ہو۔ تو اسے احساس ِتحفظ رہے۔ اسے کسی فحش نظر یا جملے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور وہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

    اسلام سے بڑھ کر عورت کو مقام اور حقوق کسی اور نظام نے نہیں دیئے۔ ہمارے مذہب نے عورت کو جو مقام دیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی آئین یا قانون میں اور کہیں بھی نہیں۔ اسلام نے عورت کو عورت سے عظیم عورت بنایا ہے۔ اسلام نے بتایا کہ جنت ایک عورت یعنی ماں کے قدموں تلے ہے۔ اسلام نے ہمیں عورت کے مثالی کردار دیئے ہیں ۔ ایک شریک حیات کے روپ میں بی بی سیدہ خدیجؑہ ،ایک بیٹی کی روپ میں بنتؑ محمد ﷺ جناب بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا ، ایک بہن کے روپ میں جناب بی بی سیدہ زینبؑ، اور ایک ماں کے روپ میں مادرؑ ِ حسنین کریمیںنؑ ہمارے لئیے موجبِ رہنمائی ہیں۔ عورت تو وہ ہے۔ جو نہتی بھی ہو تب بھی اپنی فکر و ہمت سےقصرِ یزید (لعین) کے در و دیوار ہلا دے ۔ عورت کو کمزور کوئی کیونکر کہے ۔ اگر وہ اپنا مقام خود جان لے۔ جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ عورت کا مقام یہ ہے۔ کہ قرآن کریم میں سورہ نساء موجود ہے۔

    عورت بہت عظیم جذبات کی مالک ہے۔وہ سفید رنگ ہے۔ جو ہر رنگ اپنے اندر سمو سکتی ہے۔اپنے عورت ہونے پہ فخر محسوس کریں۔مگر اپنے فرائض کو بھی ساتھ لے کے چلیں۔ فخر محسوس کریں۔ کہ آپ کینزِ زہرا ع اور کینزِ زینبؑ ہیں۔ آپ کے سامنے کوئی فحش گروہ نہیں بلکہ یہ عظیم ہستیاںؑ رہنمائی کے لئیے ہونے چاہئیں۔۔

    عورت کا دن تو ہر نیاء دن ہے۔ پھر صرف ایک دن ہی کیوں۔۔۔۔ میرا سلام ہے ۔ان تمام خواتین کو جو کھیتوں میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ محنت کرتی ہیں۔ اور ناصرف ان کا بازو بنتی ہیں۔ بلکہ ملکی معشیت کی مظبوطی میں بھی اپنا کردار اہم ادا کر رہی ہیں۔ ان تمام خواتین اساتذہ کو جو روز سینکڑوں اذہان کو شعور بخشنے کا سبب ہیں۔ ان تمام گھریلو خواتین کو جو گھر میں رہ کر گھر کو بخوبی چلا رہی ہیں۔ اور اپنے گھر کے ارکان کے لئیے باعث ِسکون ہیں۔ ان تمام ماؤں کو جو اپنے اولادوں کی بہترین تربیت کر رہی ہیں۔میرا سلام ہے۔ اسلام کی ہر باحیا و باپردہ بیٹی کو، جو اپنے مقام و تقدس سے آگاہ ہے۔

    آخر میں میرا خواتین کا عالمی دن میری رہنما ہستیوںؑ ، حضرت بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور سیدہ زینب الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے نام ہے۔ اللہ رحمن الرحیم سے دعا ہے۔ کہ وہ تمام بیٹیوں کو ہماری ان عظیم رہنماؤں سلام اللہ علیھا کی پیروی کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین

    میں بیٹی، میں ماں، بہن ، ہم سفر میں
    سبھی کا سکوں میں سدا چاہتی ہوں

    عطاۓ خدا ہیں مرے حوصلے بھی
    میں عنبرؔ ہمیشہ نبھا چاہتی ہوں

  • قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

    قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

    معاشرے میں صحافت کو ہمیشہ سچ کی آواز اور مظلوم کی ڈھال سمجھا گیا ہے۔ اخبار کے صفحات کو وہ مقدس جگہ مانا جاتا ہے جہاں حقائق بولتے ہیں اور انصاف کی امید جاگتی ہے۔ مگر جب یہی صفحات کچھ لوگوں کے لیے ذاتی مفادات اور ناجائز تقاضوں کا ذریعہ بن جائیں تو نہ صرف صحافت کی روح مجروح ہوتی ہے بلکہ انسانیت بھی شرمندہ ہو جاتی ہے۔
    آج بھی ہمارے معاشرے میں کئی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں خبریں شائع کروانے کے خواہشمند افراد خصوصاً خواتین کو غیر اخلاقی تعلقات یا ناجائز مطالبات ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا المیہ ہے۔ خبر شائع کروانا ایک حق ہے کوئی سودا نہیں۔ مگر جب اس حق کو بلیک میلنگ کا ہتھیار بنا دیا جائے تو متاثرہ شخص کی عزت خودداری اور اعتماد سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

    سوچیے، ایک بیوہ ماں اپنے بیٹے کے قاتلوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے اخبار کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، ایک طالبہ ہراسانی کے خلاف ثبوت لے کر آتی ہے یا ایک غریب مزدور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی داستان سنانا چاہتا ہے۔ایک قلم کار اپنے قلم سے عوام میں شعور اجاگر کرنا چاہتی ہے اسکو اپنی حوس مٹانے پر مجبور کرنے کی آبیتی بیان کرنا چاہتی ہے یہ لوگ انصاف کی امید لے کر آتے ہیں مگر اگر ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کی مجبوریوں کا سودا کیا جائے تو یہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہے۔

    یہ مسئلہ صرف اخلاقی گراوٹ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی جرم ہے۔ ایسے رویے متاثرہ افراد کو خاموشی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر انصاف مانگنے کی قیمت عزت ہو تو پھر خاموشی ہی بہتر ہے۔ یوں ظلم بڑھتا جاتا ہے اور سچ دب کر رہ جاتا ہے۔

    صحافت کا اصل مقصد طاقتور کو جوابدہ بنانا اور کمزور کو آواز دینا ہے۔ ایک سچا صحافی اپنے قلم کو امانت سمجھتا ہے نہ کہ ذاتی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ۔ جو لوگ اس مقدس پیشے کو بدنام کرتے ہیں، وہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے شعبے کا اعتماد کھو دیتے ہیں۔ ان کے سبب وہ بے شمار دیانتدار صحافی بھی مشکوک نگاہوں سے دیکھے جانے لگتے ہیں جو واقعی حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ادارے اپنے اندر سخت احتسابی نظام قائم کریں۔ شکایات کے لیے محفوظ اور خفیہ راستے فراہم کیے جائیں تاکہ متاثرہ افراد بلا خوف اپنی بات رکھ سکیں۔ ساتھ ہی عوام کو بھی یہ شعور دیا جائے کہ وہ اپنے حقوق سے آگاہ رہیں اور کسی بھی ناجائز مطالبے کے سامنے جھکنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔
    یہ وقت ہے کہ ہم قلم کی حرمت کو بچائیں سچ کی آواز کو مضبوط کریں اور ان مجبور خاموشیوں کو زبان دیں جو خوف اور بلیک میلنگ کے سبب دب جاتی ہیں۔ کیونکہ جب خبر چھپتی نہیں بلکہ بیچی جانے لگے تو صرف صحافت نہیں مرتی، معاشرہ بھی اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔
    آخر میں ایک سوال ہم سب کے لیے:
    کیا ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں انصاف کی قیمت عزت ہو؟
    جہاں عورت کو حوس بجھانے کا نا سمجھا جائے ؟
    یا ایسا جہاں سچ بولنا جرم نہ ہو اور خبر شائع کروانا کسی کی خودداری کا سودا نہ بنے؟
    فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔