Baaghi TV

Category: خواتین

  • عورت اور اسلامی معاشرہ  ….. محمد عبداللہ

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ

    کسی بھی معاشرے اور ثقافت کی خوبصورتی اور پائیداری اس کی روایات ہوتی ہیں جبکہ ان روایات سے انحراف نہ صرف معاشرے کی بربادی کا باعث بنتا ہے جبکہ اس معاشرے میں بسنے والے انسانوں پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے جس کی وجہ سے انفرادی زندگیوں سے لے کر خاندانی اور اجتماعی نظام زندگی تک تباہ ہوکر رہ جاتے ہیں.

    ایک اسلامی معاشرے کی یہ احسن ترین روایت اور ثقافت ہے کہ اسلامی معاشرہ مرد سے زیادہ عورت کو تحفظ دیتا ہے کیونکہ عورت جسمانی اور عقلی طور پر مرد سے قدرے ناقص ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اور سوسائٹی عورت کی اس کمزوری کو دیکھتے ہوئے اس کو ہر ممکنہ تحفظ دیتے ہیں اور یہ تحفظ عورت کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کا اہم ترین فرد اور حصہ عورت ہے.
    عورت کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسلام بطور مذہب اور اسلامی معاشرہ اس پر نہایت اہم ذمہ داری ڈالتے ہیں اور وہ ہے نسل نو کی تربیت اور یہ بات نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ نسل انسانی کے مستقبل کا دارومدار عورت کے اپنے کردار و افکار پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نپولین بونا پارٹ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا”.

    اس نہایت اہم اور مشکل ذمہ داری کے باعث ایک اسلامی معاشرہ عورت کے لیے یہ آسانی پیدا کرتا ہے کہ اس کو دنیاوی امور مثلاً تجاورت و کاروبار، محنت و مزدوری وغیرہ سے استثنیٰ دیتا ہے مزید اس کو تحفظ دیتے ہوئے اس کے اور اسکے بچوں کے نان و نفقہ کا ذمہ دار مرد کو ٹھہراتا ہے.

    ان سب کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرہ عورت کو کمال تحفظ دینے کے لیے اس کو پردے اور چار دیواری میں ٹھہرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ کسی کی گندی نگاہوں کا مرکز بن کر کہیں اس کی عزت و حرمت کو تار تار نہ کیا جائے. اسلامی معاشرہ قطعاً بھی عورت پر پابندیاں نہیں لگاتا بلکہ اس کو کھلا اختیار دیتا ہے کہ وہ سجے سنورے، وہ کھیلے کودے مگر اپنے مرد کے لیے اور اسی کے سامنے ناکہ اغیار کی شمع محفل بنے. یہ فطرتی عمل ہے کہ عورت صرف اپنے ہی مرد کے لیے سجے سنورے اسی کے ساتھ کھیلے اور اٹھکلیاں کرے. اس کی مثال ہمیں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کے کردار میں واضح طور پر ملتی ہے کہ وہ کھیلتے بھی تھے، دوڑ بھی لگاتے تھے، مقابلے بھی کرتے تھے.

    یہ وہ کمال کا تحفظ اور توجہ ہے جو اسلامی معاشرہ ہی ایک عورت کو فراہم کرتا ہے اور یہ صرف ایک اسلامی معاشرے کا ہی حسن ہے جو کہیں اور نظر نہیں آتا. دنیا بھر کے معاشرے وہ چاہے مذہبی ہوں یا سیکولر، وہ متشدد ہوں یا لادین سبھی معاشرے عورت کے استحصال میں مصروف ہیں اور عورت کو اس کی حقیقی اور فطرتی ذمہ داری سے ہٹا کر اس کو ایک شو پیس، جنسی تسکین کا ذریعہ، چیزوں کی خرید و فروخت کا ذریعہ، ایک اشتہار اور رونق محفل بنائے ہوئے اور اس رویہ نے معاشروں سے اخلاقی اقدار کو تہس نہس کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں بہن، بیوی اور بیٹی کا فرق مٹ چکا ہے وہاں عورت بس عورت ہے جو مرد کی جنسی ضرویات پوری کرنے کی پراڈکٹ ہے اور اس وجہ سے ان معاشروں میں جہاں اخلاقی اقدار رخصت ہوئیں وہاں سکون قلب، ذہنی تسکین اور مذہب تک تباہ و برباد ہوکر رہ گئے.

    بعینہ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ جنسی گدھ عورت کو چادر اور چار دیواری کے تحفظ سے نکال کر آزادی کے نام ان کو ایک اندھے غار میں دھکیلنا چاہتے ہیں جہاں عورت کے لیے بربادی تو ہے، تذلیل تو ہے، عفت و عصمت کا تار تار تو ہونا ہے لیکن عزت نہیں ہے، حرمت نہیں ہے، احترام نہیں ہے.

    یہی عورت جب ان جنسی گدھوں کے دلفریب نعروں اور نظریات سے متاثر ہوکر اپنی اسلامی روایات اور اپنے آپ کو ملنے والی خصوصی توجہ اور تحفظ کو ٹھکرا کر چادر اور چار دیواری کو بوجھ سمجھتے ہوئے گھر سے قدم نکالتی ہے تو معاشرے کی تباہی اور بے سکونی کا باعث بنتی ہے. آئے روز ملنے والی خبریں کہ جن میں عورتوں کے ساتھ زیادتی و ظلم کے کیس سامنے آتے ہیں وہ انہی دلفریب نعروں پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے.

    لہذا اگر عورت اپنا تحفظ چاہتی ہے اور جو ذمہ داری اس کو اسلامی معاشرہ تفویظ کرتا ہے اس کو احسن انداز میں پورا کرکے ایک بہترین نسل تیار کرتی ہے تو وہ معاشرے کی بہترین عورت ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے اور خاندانوں کی محسنہ ہوتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • وہ کیسی عورتیں تھیں

    ایک زمانہ تھا کہ عورت ان پڑھ تھی، بچوں کی کثیر تعداد ساس، سسر کے ساتھ، ساتھ نندوں اور دیوروں کی کفالت اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا.
    اوپر سے ایک عجیب الفطرت مرد بطور مجازی خدا اسے برداشت کرنا پڑتا تھا، مگر اس سب کے باوجود وہ محفوظ تھی، پرسکون تھی اور ڈھلتی عمر کے ساتھ وہ ایک رہنما اور سرپنچ کے عہدے تک پہنچ جاتی تھی بچوں پر حکم، فیصلے سنانے کے علاوہ سارا دن گھر داری میں گزارنے والی کو محلے کی عورتوں کے علاوہ کسی سے تعلق نہ ہوتا تھا.
    پھر زمانہ جدید ہوا عورت کا اپنے مقام کا احساس ہوا اور وہ آزاد ہونے لگی…
    سسرال تو بہت بعید اسے خاوند کی خدمت بھی ایک بوجھ لگنے لگی، اور پرائیویسی کے نام پر علیحدہ گھر کے مطالبات ہونے لگے،
    پھر زمانے نے مزید ترقی کر لی اور اس سے بھی چند قدم آگے جا کر اب عورت مکمل آزاد ہے تعلیم یافتہ ہے اور اپنی زندگی جی رہی ہے، خیر عورت کو ترقی کرنی چاہیے ضرور کرنی چاہیے میں اس کے بلکل خلاف نہیں،
    مگر……. !!
    عورت جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی جا رہی ہے اس کے رشتے کا مقابل مرد تلاش کرنا اتنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ مردوں کی اکثریت حد ماسٹر ڈگری وہ بھی فارمل ایجوکیشن کے ساتھ کرنے کے بعد ملازمت ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتی ہے، اب اس کا اگلا قدم یہ ہو گا کہ عورت ہی ملازمت کر کے گھر کی کفیل ہوا کرے گی، جبکہ مرد مکمل فارغ یا پھر کسی چھوٹی موٹی ملازمت سے بس زندگی کو دھکا دینے کی ناکام کوشش کرتا ہوا نظر آئے گا…
    یہ تو بھلا ہو میڈیا کا جس نے ابھی سے مستقبل کی تیاری شروع کرا دی، ایک اشتہار میں ایک عورت اپنے دفتر سے ویڈیو کال میں گھر بیٹھے بچے کو آ آ آ آں ں ں ں کی آواز نکال کر بچے کو منہ کھولنے کو کہتی ہے اور بچہ منہ کھولتا ہے تو اس بچے کا باپ اس کے منہ میں نوالہ ڈالتا ہے….
    ایک اشتہار میں گھر بیٹھی ماں اپنی جوان بیٹی کا انتظار کر رہی ہوتی ہے جو رات کے دس بج کر دس منٹ پر گھر پہچتی ہے اور ماں کو چائے بنا کر دیتی ہے،
    عورت کی اس طرح کی آزادی ہمارے خاندانی نظام کے لیے بڑی خطرناک ہے،
    بچے_کے_گرنے_پر_ماں_کا_میں_صدقے_کہہ_کر_لپکنا،
    بچے_کے_ہر_آہٹ_پر_بے_چین_ہو_جانے_والی_ماں،
    بڑھتی_عمر_کے_بچوں_کے_لئے_فکر_مند_ماں،
    وہ_سب_کی_پسند_نا_پسند_کا_خیال_کر_کے_ہانڈی_پکانے_والی_ماں،
    #قصے_کہانیاں_اور_لوری_سنا_کر_سلانے_والی_ماں،
    غلط__کاموں_پر_ڈانٹنے_اور_چپلیں_پھینک_کر_ڈرانے_والی_ماں،
    اپنی_اولاد_کی_پرورش_میں_گم_صم_رہنے_والی_اور_اپنی_اولاد_میں_کیڑے_نکالنے
    اور_نکتہ_چینیاں_کر_کے_دل_ہی_دل_میں_خوش_ہونے_والی_ماں،

    اب_اگلی_نسل_کو_شاید_نصیب_ہی_نہ_ہو…

    کیونکہ سارا دن کی تھکی ہاری عورت رات کو کیا، کیا کرے گی؟؟
    بچے سنبھالے گی، گھر سنبھالے گی، شوہر سنبھالے گی، یا رات کو آرام کرے گی، تاکہ صبح تازہ دم ہو کے ملازمت کی ذمہ داری سنبھال سکے….؟
    میری تحریر کئی لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہے مگر میں نے حقیقت لکھنے کی کوشش کی ہے، کچھ سمجھانے کی کوشش کی ہے، امید ہے کہیں بھی ضرب لگ گئی تو میری تحریر رائیگاں نہیں جائے گی۔

  • جہیز ایک لعنت ہے۔۔۔۔ سائرہ اشرف

    جہیز ایک لعنت ہے۔۔۔۔ سائرہ اشرف

    ” Dowry is a curs”

    Dower stands for :
    D: Donkeys
    O: Of the first order
    W: Who can’t stands on their feet
    R: Rely on their wives’ riches
    Y: Yet shameless

    ہم سب میں سے کوئی بھی فرد
    ایسا نہ ہو گا جس نے یہ جملہ سماعت نہ فرمایا ہو حتی کہ ہمار ے ہاں بچے بڑے ہر کوئی یہ بات طوطے کی طرح رٹے ہوئے ہیں کہ:

    "جہیز ایک لعنت ہے ”

    تو اس صورتحال کے باعث میں اپنے ذہن میں مچلنے والے سوالات کو الفاظ کی صورت میں پیش کر رہی ہوں۔

    1:جب ہم سب کو معلوم ہے کے جہیز ایک لعنت ہے تو کیوں ہم زمانہ قدیم سے اس لعنت کو سینے سے لگائے بخوبی سر انجام دئیے چلے آ رہے ہیں؟

    2:اس لعنت کے خلاف زبان سے دعوےکرتے ہیں اس کاعملی ثبوت اپنے گھر سے کیوں نہیں پیش کرتے ؟

    3:اگر جہیز لعنت ہی ہے تو کیوں ہم اپنی بیٹیوں کو اس لعنت کے ساتھ رخصت کرتےہیں ؟

    نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی جہیز کے بلند و بالا مطالبات کی وجہ سے پیدا شدہ مسائل کی شرح میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔
    کئی ایسی خبریں اخباروں کی زینت بنتی جن میں اکثر تذکرہ ہوتاہےکہ:
    باپ یا بھائی نے لڑکے والوں کی طرف سے کیا جانےوالا معیاری جہیز کا مطالبہ پورا نہ کر سکنے کی وجہ سے خود کشی کر لی
    یا
    اکثر بچیاں اپنے جہیز کے لئے پیسے کماتے کماتے بوڑھی ہو گئیں تو کہیں بچیاں کم جہیز لانے کی وجہ سے سسرال میں طعنوں اور ظلم و تشدد کاشکار ہیں اس کے علاوہ اور بہت سے دلخراش واقعات پیش آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    Refuse dowry
    Defuse dowry deaths

    ایک طرف ایسا طبقہ جو اس بڑھتے ہوئے فتنے کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہے جو کہ غرباء کاطبقہ ہے۔
    جبکہ اس کے بالکل برعکس ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس فتنے کو دلی آمادگی سے سر انجام دیتا ہے۔
    اور یہ ہے ہمارا دولت مند یعنی امراء کا طبقہ یہ طبقہ ایسے معاملات میں اپنی دولت کی نمائش کے لئے پیسے کو پانی کی طرح بہاتا ہے۔
    اور جانے انجانے میں کسی غریب کی بیٹی کے دل میں موجود حسرتوں کو مزید ہوا دے رہا ہے۔
    یاد رکھیں ایسا کرنے سے دلی سکون کا حصول نا ممکن ہے یہ اسراف اور تبزیر کے زمرے میں آتا ہے۔
    جس کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔
    اگر اللّه رب ا لعزت نے آپ کو مال و اسباب سے نوازا ہے تو اسے خرچ بھی اس کی مرضی کے مطابق کریں۔

    اس کی مخلوق کی بھلائی کے لئے کریں
    جس میں دنیا و آخرت دونوں جہانوں کی بھلائی ہے۔
    اور اس لعنت کا مطالبہ کرنے والوں سے گزارش کے دنیا مکافات عمل ہے اگر آپ کسی سے ایسامطالبہ کریں گے تو آئندہ آپ کو بھی ایسی صورتحال در پیش ہو سکتی ہے!!!

    ہم کسی سے کیوں کہیں؟؟؟؟
    کیوں نہ اس لعنت سے چھٹکارا پانے کے لئے عملی اقدام کا آغاز ہم اپنے گھر سے کریں!!!
    ہم عہد کریں کہ ہم اپنی بیٹیوں کو اس لعنت کے ساتھ نہیں بلکہ ان کا جائز حق یعنی وراثت میں اسلام کا متعین کردہ حصہ دے کر رخصت کریں گے۔
    ہم نہ یہ لعنت لینے والوں میں سے بنیں گے اور نہ دینے والوں میں سے

    ( ان شاءاللہ تعالی )

    (تحریر کے لئے اس موضوع کا انتخاب کرنے کی وجہ میری ایک دوست ہے
    جسے یہی مسئلہ درپیش ہے اور نکاح جیسی سنت کی ادائیگی میں تاخیر ہوتی چلی جا رہی ہے ۔)

    Be a man say no to dowry!!!

  • موبائل کمپنیوں کے خلاف کس نے آواز اٹھائی خبر آ گئ

    موبائل کمپنیوں کے خلاف کس نے آواز اٹھائی خبر آ گئ

    بائیس کروڑ عوام اور لاکھوں کی تعداد میں موجود وکیلوں میں ایک لڑکی ھی جی دار نکلی۔
    محترمہ کلثوم خالق ایڈوکیٹ نے موبائل کمپیوں کی ٹیکس بحالی کے نام پر لوٹ مار کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا فیصلہ برقرار رکھنے کی استدعا کی.موبائل کمپنیوں نے نہ صرف ری چارج پر کٹوتی کرنی شروع کر دی ہے بلکہ ہر طرح کے پیکج پر دگنا ٹیکس بھی لگا دیا ہے.اس صوتحال میں خاتون وکیل کا آواز اٹھاناخوش آئند ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خواتین بھی ملکی مسائل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں