Baaghi TV

Category: خواتین

  • کسی کام میں تسلسل قائم رکھنا ہی اصل کامیابی  ـتحریر نور فاطمہ

    کسی کام میں تسلسل قائم رکھنا ہی اصل کامیابی ـتحریر نور فاطمہ

    کامیابی کا راستہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں، منصوبے بناتے ہیں اور بڑے جوش کے ساتھ آغاز بھی کرتے ہیں۔ لیکن کچھ ہی دنوں یا ہفتوں بعد وہ جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اور کام ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ چھوٹے قدم روز اٹھاتے ہیں، رکاوٹوں کے باوجود نہیں رکتے، وہی آخر میں منزل تک پہنچتے ہیں۔ اسی کا نام تسلسل ہے۔

    تسلسل کا مطلب ہے کسی ایک کام کو وقفے وقفے سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ کرتے رہنا۔ یہ کوئی بہت بڑا قدم نہیں مانگتا۔ یہ روزانہ کا تھوڑا سا عمل مانگتا ہے۔ ایک مصنف روز ایک صفحہ لکھے تو ایک سال میں 365 صفحے کی کتاب بن جاتی ہے۔ ایک طالبعلم روز 30 منٹ پڑھے تو سال کے آخر میں وہ سب سے آگے ہوتا ہے۔ ایک کاروباری شخص روز ایک نیا گاہک سے بات کرے تو سال بھر میں اس کا نیٹ ورک بہت بڑا بن جاتا ہے۔ بڑی کامیابیاں دراصل چھوٹے تسلسلوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی وہ ذہین ترین نہیں تھے، بلکہ سب سے زیادہ مستقل مزاج تھے۔ تھامس ایڈیسن نے بلب بنانے کے لیے ہزاروں بار ناکامی کے بعد بھی تجربہ کرنا نہیں چھوڑا۔ وہ کہتے تھے "میں ناکام نہیں ہوا، میں نے صرف 10 ہزار طریقے دریافت کیے ہیں جو کام نہیں کرتے۔” یہ تسلسل ہی تھا جس نے انہیں کامیاب بنایا۔ اسی طرح کوئی کھلاڑی ایک دن میں چیمپئن نہیں بنتا۔ وہ روز گر کر اٹھتا ہے، روز پریکٹس کرتا ہے، تب جا کر اس کے ہاتھ میں میڈل آتا ہے۔

    تسلسل کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہ عادت بن جاتا ہے۔ جب آپ کوئی کام روز کرتے ہیں تو دماغ اسے معمول سمجھنے لگتا ہے۔ پھر اس کے لیے اضافی محنت یا حوصلے کی ضرورت نہیں رہتی۔ جیسے دانت صاف کرنا، نماز پڑھنا۔ شروع میں مشکل لگتا ہے، پھر یہ خودکار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ 21 سے 66 دن تک کسی کام کو مسلسل کریں تو وہ آپ کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔

    لیکن تسلسل قائم رکھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ "کامل بننے کا انتظار” ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ جب وقت ملے گا، جب موڈ ہوگا، جب سب بہتر ہوگا تب شروع کریں گے۔ اور یہ "تب” کبھی نہیں آتا۔ کامیاب لوگ کامل حالات کا انتظار نہیں کرتے۔ وہ کم وسائل، کم وقت اور کم موڈ کے ساتھ بھی شروع کر دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ 50 فیصد محنت روزانہ، 100 فیصد محنت کبھی کبھار سے بہتر ہے۔

    یاد رکھیں، دریا بھی ایک ایک قطرے سے بنتا ہے۔ پہاڑ بھی ایک ایک پتھر سے اونچا ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی چاہتے ہیں تو بڑی چھلانگ لگانے کے بجائے روز کا ایک چھوٹا قدم منتخب کریں اور اسے کبھی مت چھوڑیں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ٹیلنٹ، موقع اور قسمت سب اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن ان سب پر بھاری تسلسل ہے۔ کیونکہ تسلسل رکھنے والا شخص ہار ماننا سیکھتا ہی نہیں۔ اور جو ہار ماننا نہیں جانتا، ایک دن دنیا اسے کامیاب مان لیتی ہے۔

  • "پائیدار ترقی میں خواتین کا کردار”.تحریر:قرۃالعین خالد

    "پائیدار ترقی میں خواتین کا کردار”.تحریر:قرۃالعین خالد

    پائیدار ترقی کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم ایک ایسا مستقبل بنائیں جو معاشی اور معاشرتی طور پر مضبوط اور دیر پا ہو۔ معاشرے میں خواتین کل آبادی کا پچاس فیصد حصہ ہیں اگر ہم اپنی آدھی آبادی کے ہنر، ان سوچ اور ان کی کاروباری صلاحیتوں کو نظر انداز کر دیں گے تو ہم کبھی بھی اپنی پوری معاشی صلاحیت حاصل نہیں کر سکتے۔ جب خواتین کو کاروبار کرنے، تعلیم اور فیصلہ سازی میں برابری کے مواقع ملتے ہیں تو اس کا سیدھا سیدھا فائدہ خاندان، معاشرے اور ملکی معیشت کو ہی جاتا ہے۔ جب کوئی خاتون تاجر ہو یا ملازمت پیشہ ہو تو وہ معاشی طور پر خود کفیل ہوتی ہے۔ اس کی یہ ترقی صرف اپنے گھر تک محدود نہیں رہتی بلکہ معاشرے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ لہذا پائیدار ترقی کے لیے خواتین کا کردار صرف اہم نہیں بلکہ بے حد ضروری ہے۔

    خواتین پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔خواتین گھر کی مینجر ہوتی ہیں۔ گھر کا بجڈ بنانا، کچن کے انتظامات کو دیکھنا، روزمرہ کے مسائل کے انتظامات کی بھاگ دوڑ زیادہ تر انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس لیے وہ روز مرہ زندگی میں بڑی بڑی تبدیلیاں بھی لا سکتی ہیں اگر ہم گھریلو سطح پر دیکھیں تو محدود وسائل میں بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور یہ سب کام خواتین ہی کر سکتی ہیں۔ ہم اکثر خواتین کو فور گرانٹڈ لیتے ہیں جبکہ خواتین اگر کسی کام کا ارادہ کر لیں تو اسے پورا کر کے رہتی ہیں۔ گھر کی مینجر ہونے کی حیثیت سے وہ پانی کی بچت کرنے میں اپنا کردار ادا سکتی ہیں جیسے کچن میں برتن دھوتے وقت، کپڑے دھوتے وقت، صفائی کے دوران پانی کو ضائع ہونے سے بچا سکتی ہیں۔ جیسے سبزی دھوتے وقت وہی پانی بعد میں پودوں میں ڈال کر پانی کے ضیاء کو روکا جا سکتا ہے۔ ایک بہت اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گی خواتین کچرے کا بہترین استعمال کر سکتی ہیں۔ جیسے کہ ویسٹج مٹیریل جو گیلا کچرا ہوتا ہے پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں کی صورت میں ان کو الگ ٹوکری میں رکھیں اور جو سوکھا کچرا ہے جیسے پلاسٹک باٹلز، کاغذ وغیرہ اس کو الگ ٹوکری میں رکھیں۔ پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے پودوں کے لیے بہترین اور قدرتی کھاد کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ خواتین پلاسٹک کا بائیکاٹ کرتے ہوئے خریداری کے لیے پلاسٹک کی تھیلیوں کی جگہ کپڑوں کے تھیلے استعمال کرنا شروع کر دیں تو ماحول بہت بہتر ہو سکتا ہے۔ وہ بجلی کی بچت پر توجہ دے سکتی ہیں۔ دن کے وقت مصنوعی روشنی کی بجائے قدرتی روشنی یعنی سورج کی روشنی پر کام چلایا جا سکتا ہے۔ ضرورت نہ ہونے پر پنکھے، بلب اور استری کو فورا بند کر دیا جائے۔ ایک بہت اہم نقطہ خواتین کے کردار کے حوالے سے کہ جو نئی نسل کی تربیت اور سماجی شعور ایک ماں اپنی اولاد میں پیدا کر سکتی ہے یہ کام کوئی اور اتنے احسن طریقے سے نہیں کر سکتا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے تو مائیں اپنے بچوں میں بچپن سے ہی یہ شعور ڈال سکتی ہیں کہ وہ بجلی اور پانی کو ضائع نہ کریں۔ کوڑا باہر نہ پھینکیں، درختوں سے محبت کرنا پودوں سے محبت کرنا سکھا سکتی ہیں۔ پھر ایک خاتون کا کردار اپنے گھر تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول اور اپنی کمیونٹی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خواتین اپنے محلے سہیلیوں اور فیملی سرکل میں ماحول دوست عادتوں پر بات چیت کر سکتی ہیں۔ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلا سکتی ہیں۔ جیسے ہم محتلف محفلوں میں بیٹھتے ہیں ہم بس ادھر اُدھر کی باتوں میں وقت کو ضائع کرتے ہیں تو اس سے بہتر ہے کہ ہم کسی ایسے موضوع پہ بات کریں جو کہ نفع مند ہو پھر پائیدار ترقی میں خواتین کا کردار اس حوالے سے بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پائیدار فیشن اور دستکاریوں کے لحاظ سے کپڑوں کی پائیداری کا استعمال کر سکتی ہیں اور فیشن انڈسٹری جو کہ آلودگی پھیلانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اس سے بچا جا سکتا ہے۔ خواتین کپڑوں کو ضائع کرنے کی بجائے اسے ری سائیکل کر سکتی ہیں۔ پرانے کپڑوں سے نئی اشیاء تخلیق کر سکتی ہیں۔ جسے کشن کور، بیڈ شیٹس یا تھیلے وغیرہ بنا کر ان کو جدت دی جا سکتی کے۔ اگر کوئی خاتون اپنا چھوٹا کاروبار یا ہینڈ میڈ کام کرتی ہیں تو وہ کیمیکلز اور پلاسٹک کی بجائے ماحول دوست اور آرگینک مواد استعمال کر کے آلودگی کو کم کر سکتی ہے۔ پائیدار ترقی کے حوالے سے خواتین ایک اور جگہ اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں گھروں میں کچن گارڈن اور شجرکاری کو فروغ دے سکتی ہیں۔ خواتین اپنے گھر کے صحن، بالکنی یا چھت پر چھوٹے پیمانے پر پودے اور سبزیاں اگا سکتی ہیں۔ چھوٹے گملوں میں ٹماٹر، مرچیں، دھنیا وغیرہ، جنہیں ہم کچن گارڈن کہتے ہیں یہ نہ صرف گھر کے ماحول کو خوشگوار بناتا ہے بلکہ ہوا کو صاف رکھنے اور درجہ حرارت کو کم کرنے میں بھی بہت زیادہ مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

    خواتین ہمارے معاشرے کا ایسا حصہ ہیں جو صرف ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا طبقہ نہیں بلکہ وہ اس مسئلے کا سب سے بڑا حال بھی ہیں۔ اگر ہم اپنی خواتین کو ماحولیاتی مسائل کی درست تربیت اور شعور دیں گے تو وہ پورے خاندان اور آنے والی نسلوں کو ماحول دوست بنا دیتی بنا دے گی۔ ان شاءاللہ! ایک خاتون جب اپنے گھر کی اشیاء کو زیرو ویسٹ یعنی کم سے کم کچڑا اور ذیادہ بچت کی طرف لے جاتی ہے تو وہ براہ راست پائیدار ترقی کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں گھریلو خاتون کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی خواتین کو آگہی نہیں دی تو کل بہترین معاشرہ کیسے بنے گا؟ ایک عورت کے علم و شعور سے صرف ایک گھرانہ نہیں بلکہ پورا معاشرہ مستفیض ہوتا ہے۔ پڑھی لکھی باشعور ماں ایک بہترین معاشرہ تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن بخثیت معاشرہ ہم عورت کی صلاحیتوں کو صرف چند لوگوں تک محدود کر دیتے ہیں۔ جبکہ رب العزت نے جب انسان کی صلاحیتوں تخلیق کی تھیں تو اس نے مرد اور عورت کو الگ الگ نہیں رکھا تھا۔ صنفی فرق سے الگ ہو کر سوچیں کہ جس کے پاس جو صلاحیت ہے اس کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے معاشرے کے لیے نفع مند بننا ہے تو ہم اپنی آبادی کے پچاس فیصد حصے کو نہ فراموش کر سکتے ہیں نہ پس پشت ڈال سکتے ہیں۔ لہذا اپنی سوچ کو مثبت رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور جیو اور جینے دو کے فارمولے کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔

  • "سوزشِ زمین اور ہمارا مستقبل”،تحریر:قرۃالعین خالد

    "سوزشِ زمین اور ہمارا مستقبل”،تحریر:قرۃالعین خالد

    دور حاضر میں پاکستان جن بڑے بڑے چیلنجز کی زد میں ہے، ان میں سے سب سے خاموش لیکن سب سے زیادہ تباہ کن چیلنج موسمیاتی تبدیلی ہے۔ کبھی بن موسم کے شدید بارشیں اور بادل پھٹنے کے واقعات، کبھی خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں، گلیشیرز کا تیزی سے پگھلنا اور موسمِ سرما میں شہروں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی بدترین سموگ۔ یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ ہمارا ماحول اب معمول کے مطابق نہیں رہا۔ پاکستان کا عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
    اکثر و بیشتر ہمارے ملک میں شدید سیلاب یا قحط کو صرف ایک آسمانی آفت کہہ کر ساری ذمہ داری قدرت پر ڈال دینے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ حقیقتاً قدرتی عوامل سے انکار ممکن نہیں، لیکن سائنسی اور حقیقی نقطہ نظر سے اس تباہی میں بڑا قصور خود ہمارا ہے۔ دن بدن جنگل کٹتے جا رہے ہیں۔ عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ درختوں کا قتل عام جاری ہے اور درختوں کے قبرستانوں پر انسان اپنے خوابوں کے محل تعمیر کر رہے ہیں۔درخت! جو ہماری زمین کے پھیپھڑے ہیں اور سیلابی بہاؤ کو روکنے کی سب سے پہلی ڈھال ہیں۔ ہم نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور لکڑی کی ہوس میں جنگلات کا بے دردی سے صفایا کر دیا۔ ندی نالوں کے قدرتی راستوں پر تعمیرات اور نکاسیِ آب کے ناقص نظام نے معمولی بارش کو بھی تباہ کن سیلاب میں بدل دیا ہے۔ شہروں میں نالوں کو ڈھکا نہیں گیا اور ذرا سی بارش سے وہ نالے اپنے فضلے کے ساتھ سڑک پر ابل پڑتے ہیں۔ پلاسٹک کا بے دریغ استعمال، گاڑیوں اور فیکٹریوں کا زہریلا دھواں، اور پانی کے ضیاء نے ماحول کے توازن کو بری طرح بگاڑ دیا ہے۔ یہ تمام عوامل بتاتے ہیں کہ آفت اگر آسمان سے نازک صورت میں آتی ہے تو ہم اپنے ہاتھوں سے اسے ایک ہولناک تباہی کا روپ دے دیتے ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہم کیا کریں؟ کیا کوئی خدائی فوج ہماری مدد کو آئے گی؟ یا ہم کسی معجزے کے انتظار میں ہیں؟ یاد رکھیے اس دنیا میں ہم اکیلے ہی آئے تھے اور اکیلے ہی جائیں گے تو یہاں جو کرنا ہے بغیر کسی مدد کے اکیلے ہی کرنا ہے۔ بحثیت ذمہ دار شہری ہمارا فرض ہے کہ ہم حکومت یا امدادی اداروں کا انتظار کیے بغیر اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔ ہر شخص سالانہ کم از کم دو درخت لگائے اور ان کی پرورش کرے۔ اپنے گھروں اور گلیوں میں سبزے کو فروغ دیں۔ پانی کے بے جا ضیاع کو روکیں۔ نلکے کھلے نہ چھوڑیں اور بجلی کی بچت کے لیے توانائی بچانے والے آلات استعمال کریں۔ پلاسٹک جو کہ ایک خاموش قاتل کی طرح ہماری زندگیوں میں موجود ہے اس سے بچیں اور کپڑے یا جوٹ کے تھیلے استعمال کریں۔ کچرا گلیوں یا ندی نالوں میں پھینکنے کے بجائے متعین جگہوں پر ڈالیں اور فضلہ جلانے سے پرہیز کریں تاکہ سموگ میں اضافہ نہ ہو۔ حکومتی طور پر دیکھا جائے تو وہ رعایا کی جان و مال کی محافظ ہوتی ہے لہذاموسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر ہنگامی اور جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

    تمام حساس علاقوں میں جدید ترین سنسرز اور الرٹ سسٹم نصب کیے جائیں تاکہ سیلاب یا گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے پہلے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی لگانی چاہیے اور مؤثر قوانین نافذ کیے جانے چاہیے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینی چاہیے۔ قومی سطح پر جنگلات کی بحالی کی مہمات کو صرف کاغذوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عمل میں لایا جائے۔ کوئلے اور تیل پر انحصار کم کر کے شمسی، ہوائی اور پن بجلی جیسے ماحول دوست ذرائع پر منتقل ہوا جائے۔ اس کے علاؤہ غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کیا جائے اور شہروں میں پانی کی نکاسی کے نظام کو جديد خطوط پر استوار کیا جائے۔ عالمی فورمز پر پاکستان کی مؤثر نمائندگی کی جائے تاکہ آلودگی پھیلانے والے بڑے صنعتی ممالک سے کلائمیٹ فنڈ اور نقصان و تلافی فنڈ حاصل کیے جا سکیں۔

    یاد رکھیے ۔۔۔۔۔یہ لمحہ فکریہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب آنے والے وقتوں کے لیے نا صرف خطرہ ہے بلکہ آج کا تلخ سچ بھی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی روایتی غفلت کا مظاہرہ کیا تو ہماری آنے والی نسلوں کو ایک بنجر اور غیر محفوظ زمین ملے گی۔ یہ وقت الزامات تراشی کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی، ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اور ٹھوس حکومتی اقدامات کرنے کا ہے۔ زمین ہمارا واحد گھر ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اب اس طرز عمل سے نکلنے کا وقت ہے کہ کوئی کیا کر رہا ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ یاد رکھیے جو دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں تقسیم کرتے ہیں رب العزت ان کی زندگی کو آسان کر دیتے ہیں۔ درخت لگائیے اپنے جینے کے لیے اور اپنوں کی زندگی کے لیے۔

  • پسند کا نکاح میرا حق ہے،تحریر:قرۃالعین خالد

    پسند کا نکاح میرا حق ہے،تحریر:قرۃالعین خالد

    "یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَحِلُّ لَكُمُ النِّسَاءَ كَرْهًا”
    "اے ایمان والو! تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو۔”(سورۃ النساء: 19) اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عورت کی رضا مندی کے بغیر اس پر کسی قسم کا جبری فیصلہ مسلط کرنا اسلام میں بالکل بھی جائز نہیں ہے۔ اسی طرح حدیث نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطابق کنواری، بیوہ یا مطلقہ سے ان کی مرضی پوچھے بغیر نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بیوہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس کی رضا مندی کے بغیر نہ کیا جائے۔ صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کنواری لڑکی کیسے اجازت دے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اس کا خاموش رہ جانا ہی اس کی اجازت ہے۔”(صحیح بخاری: 5136، صحیح مسلم: 1419)

    دور نبوی میں اگر والدین یا ولی لڑکی کی مرضی کے خلاف زبردستی نکاح کروا دیتے تو اسلام عورت کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اس نکاح کو ختم (منسوخ) کروا دے۔ خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح ان کی مرضی کے خلاف کر دیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی، تو آپ ﷺ نے اس نکاح کو رد (منسوخ) فرما دیا۔ (صحیح بخاری: 5138) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دوشیزہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی ناگواری کے باوجود کر دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہے تو اس نکاح کو برقرار رکھے یا ختم کر دے۔(سنن ابوداؤد: 2096، سنن ابن ماجہ: 1875) جب اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ اس نے آپ ﷺ کے پاس جا کر یہ قدم کیوں اٹھایا؟ تو اس نے تاریخی جواب دیا: "میں اپنے والد کے فیصلے کو نافذ رکھنا چاہتی تھی، لیکن میں عورتوں کو یہ بتانا چاہتی تھی کہ نکاح کے معاملے میں ان کے باپ دادا کو (زبردستی کا) کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 1874)

    دین اسلام کے مطابق ایک عاقل اور بالغ لڑکی کو اپنی مرضی سے جیون ساتھی چننے اور نکاح کا مکمل حق حاصل ہے۔ اگر کوئی معاشرتی یا خاندانی رسم و رواج عورت کو اس کے شرعی حق اور پسند سے محروم کرتا ہے، تو وہ اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔ شریعت کے مطابق والدین، سرپرست یا ولی کو نصیحت اور مشورے کا حق تو حاصل ہے لیکن اپنی مرضی ٹھونسنے یا زبردستی نکاح کروانے کا بالکل بھی حق حاصل نہیں ہے۔ قرآن و حدیث میں عورت کی رضامندی اور مرضی کو نکاح کے لیے بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے اور زبردستی کی شادی کو باطل اور قابل منسوخ ٹھہرایا گیا ہے۔ اپنی پسند کا نکاح کرنے کا اختیار ہمیں ہمارے دین نے دیا ہے تو پھر آج معاشرے کو کیا مسلہ ہے کہ لڑکی سے یہ حق چھیننے میں سب اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ شادی ایک ذمہ داری ہے ایک ایسا بندھن جو نا صرف ایک خاندان بلکہ ایک معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جن دو افراد کا ساتھ زندگی بھر کا ہوتا ہے ان کے علاؤہ باقی سارا خاندان ایک دوسرے کو ملتا ہے اور دعوتیں بھی اڑاتا ہے بس پردہ ہوتا تو ان دونوں فریقوں کے درمیان۔ سب خاندان والے ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے ہیں ماسوائے ان دو افراد کے کہ جنہوں نے ساری زندگی اکھٹے گزارنی ہوتی ہے۔ سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں سوائے دلھا دلھن کے بس وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے شادی ٹوٹنے سے بہتر منگنی اور رشتے کا ٹوٹ جانا ہے۔ خدارا اب تو زمانہ جاہلیت سے باہر آ جائیں اور جو حق عورت کو رب نے دیا ہے وہ اسے چیخ چیخ کر اس معاشرے سے کیوں مانگنا پڑ رہا ہے۔ جو حق رب العزت نے دیا ہے اس حق کو عورت کو استعمال کرنے دیں۔ وہ گرے گی، سنبھلے گی، ہمت کرے گی اور پھر اٹھے گی۔ اسے خود تجربے کی بھٹی میں جلنے دیں۔ اسے اپنی مرضی سے جینے دیں۔ وہ بھی انسان ہے اسے بھی انسان سمجھیں۔
    جیو اور جینے دو اپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔

  • آبادی، پاکستان کا بڑا چیلنج،تحریر:صدف ابرار

    آبادی، پاکستان کا بڑا چیلنج،تحریر:صدف ابرار

    پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے ایک اہم قوت بھی بن سکتی ہے اور ایک سنگین بحران بھی۔ اگر اس آبادی کو معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہی نوجوان نسل پاکستان کی ترقی کا انجن ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر منصوبہ بندی نہ کی جائے تو یہی آبادی معیشت، قدرتی وسائل اور سماجی ڈھانچے پر ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے تازہ ترین تخمینوں کے مطابق 2026 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 93 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے کی یہی رفتار اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ پاکستان آنے والے برسوں میں آبادی کے حوالے سے دنیا کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوگا۔

    سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 69 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، یعنی اوسطاً روزانہ 19 ہزار سے زائد بچے اس دنیا میں آتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہر گھنٹے تقریباً 790 اور ہر منٹ 13 سے زیادہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کا مطلب صرف آبادی میں اضافہ نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہر روز ہزاروں نئے شہریوں کے لیے خوراک، صاف پانی، رہائش، تعلیم، صحت اور روزگار کا بندوبست کرنا ریاست کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔

    بدقسمتی سے پاکستان کی معیشت اس رفتار سے ترقی نہیں کر رہی جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، کمزور صنعتی ترقی، قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اور محدود مالی وسائل پہلے ہی ملکی معیشت کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں جب ہر سال لاکھوں نئے افراد روزگار کی منڈی میں شامل ہوتے ہیں تو معیشت کے لیے اتنی بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ ملک میں بے روزگاری، غربت اور معاشی عدم مساوات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دوسری جانب تعلیمی اور طبی سہولیات بھی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔ لاکھوں بچے آج بھی معیاری تعلیم سے محروم ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں پر مریضوں کا غیر معمولی دباؤ صحت کے نظام کی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے۔

    اگرچہ پاکستان کی نوجوان آبادی کو اکثر ایک "ڈیموگرافک ڈویڈنڈ” قرار دیا جاتا ہے، لیکن یہ فائدہ اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب حکومت تعلیم، ہنر مندی، صحت اور روزگار میں مؤثر سرمایہ کاری کرے۔ بصورتِ دیگر یہی نوجوان آبادی بے روزگاری، غربت اور سماجی بے چینی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

    پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی محض ایک عددی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ملک کی معیشت، ماحول، وسائل اور مستقبل سے جڑا ہوا ایک قومی چیلنج ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں خوراک، پانی، توانائی، رہائش اور روزگار کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس لیے آبادی میں توازن پیدا کرنا، انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرنا اور پائیدار ترقی کو قومی ترجیح بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

  • طلاق یافتہ عورت کے مسائل ،تحریر:  آمنہ خواجہ

    طلاق یافتہ عورت کے مسائل ،تحریر: آمنہ خواجہ

    طلاق یافتہ عورت صرف ایک رشتہ ختم ہونے کا نام نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں اکثر ایک ایسی آزمائش کا آغاز بن جاتی ہے جہاں اسے ہر قدم پر سوالوں، طعنوں، بے اعتنائی اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ طلاق یافتہ عورت کی زندگی کو صرف ایک واقعے کی بنیاد پر پرکھتے ہیں لیکن اس کے حالات مجبوریوں ذہنی اذیت اور معاشرتی دباؤ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

    ہمارے معاشرے میں جب کسی عورت کی طلاق ہوتی ہے تو اکثر انگلیاں سب سے پہلے اسی کی طرف اٹھتی ہیں۔ لوگ بغیر حقیقت جانے فیصلہ سنا دیتے ہیں کہ یقیناً غلطی عورت ہی کی ہوگی حالانکہ ہر ازدواجی تنازعے کی اپنی الگ وجوہات ہوتی ہیں اور کسی بھی رشتے کی ناکامی کا ذمہ دار صرف ایک فریق نہیں ہوتا۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے حقیقت کو جانا جائے نہ کہ افواہوں اور قیاس آرائیوں پر فیصلے صادر کیے جائیں۔

    طلاق یافتہ عورت اگر ملازمت علاج تعلیم یا کسی ضروری کام کے لیے اکیلی گھر سے نکلے تو اس کی عزت اور کردار پر سوالات اٹھا دیے جاتے ہیں۔ لیکن یہی لوگ اس سے یہ نہیں پوچھتے کہ اگر اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں، تو وہ اپنی ضروریات کیسے پوری کرے؟ ایک خوددار عورت اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتی ہے مگر اسے سہارا دینے کے بجائے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    بدقسمتی سے بعض خاندانوں میں طلاق یافتہ بیٹی یا بہن کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ بھی اسی گھر کی اولاد ہوتی ہے جس گھر میں کبھی اس کی ہنسی گونجتی تھی۔ والدین کے بعد بعض اوقات اسے احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں پر بوجھ بن چکی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عزت محبت اور اپنائیت ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
    دوسری شادی کے معاملے میں بھی معاشرے کا رویہ متضاد نظر آتا ہے۔ اگر ایک مرد دوسری شادی کرے تو اسے معمول کی بات سمجھا جاتا ہے لیکن اگر ایک طلاق یافتہ عورت دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو اسے تنقید، طعنوں اور بے جا سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ اسلام نے بیوہ اور طلاق یافتہ عورت دونوں کو دوبارہ نکاح کا مکمل حق دیا ہے۔ اس حق کو معیوب سمجھنا نہ صرف سماجی ناانصافی ہے بلکہ دینی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

    کئی طلاق یافتہ خواتین کو یہ سننے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ مفت کی روٹیاں توڑ رہی ہیں یا گھر پر بوجھ ہیں یہ الفاظ کسی بھی خوددار انسان کی عزتِ نفس کو شدید مجروح کرتے ہیں۔ اگر ایک عورت معاشی طور پر کمزور ہے تو اسے سہارا دینا، روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے، نہ کہ اسے ذلیل کرنا۔گھر کے کاموں میں بھی اکثر اس کی ہر کوشش میں نقص نکالا جاتا ہے۔ اگر وہ خاموش رہے تو مغرور کہلاتی ہے، اگر بولے تو بدتمیز قرار دی جاتی ہے۔ اگر بیمار ہو جائے تو بیماری کے بھی طعنے دیے جاتے ہیں مگر اس کے علاج دواؤں یا دیکھ بھال کی ذمہ داری لینے کے لیے بہت کم لوگ آگے آتے ہیں۔ یہ رویہ صرف ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی اخلاقی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے۔

    معاشرتی اور نفسیاتی ماہرین بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طلاق کے بعد خواتین کو شدید ذہنی دباؤ اضطراب مالی مشکلات اور سماجی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں خاندان، رشتہ داروں اور معاشرے کی اخلاقی حمایت ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ تحقیقی مطالعات بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ سماجی تعاون انسان کو ذہنی دباؤ سے نکلنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اسلامی تعلیمات بھی یہی سبق دیتی ہیں کہ کسی انسان کو اس کے حالات کی وجہ سے ذلیل نہ کیا جائے۔ قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں حسنِ سلوک عدل رحم دلی اور ضرورت مندوں کی مدد پر زور دیا گیا ہے۔ طلاق ایک جائز مگر ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے، لیکن طلاق یافتہ عورت کی تذلیل یا اس کے حقوق سلب کرنے کی کوئی اجازت نہیں دی گئی۔
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم طلاق یافتہ عورت کو ترس کی نہیں بلکہ عزت، انصاف اور برابری کی نگاہ سے دیکھیں۔ اسے بوجھ نہیں بلکہ ایک باوقار انسان سمجھیں اس کے کردار پر بلاوجہ فیصلے نہ سنائیں، اس کے لیے روزگار، تعلیم اور نئی زندگی کے مواقع پیدا کریں، اور اگر وہ دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو اس کے اس حق کا احترام کریں۔

    کسی عورت کی پہچان اس کی ازدواجی حیثیت نہیں بلکہ اس کا کردار، محنت، انسانیت اور عزتِ نفس ہونی چاہیے۔ معاشرہ اس وقت حقیقی معنوں میں مہذب کہلائے گا جب طلاق یافتہ عورت کو طعنوں کے بجائے سہارا، نفرت کے بجائے احترام، اور تنہائی کے بجائے اپنائیت ملے گی۔ کیونکہ ایک معاشرے کی اصل عظمت اس بات سے پہچانی جاتی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور آزمائش میں مبتلا افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔

  • گیس لائٹنگ: جب آپ کو اپنی ہی حقیقت پر شک ہونے لگے،تحریر:صدف ابرار

    گیس لائٹنگ: جب آپ کو اپنی ہی حقیقت پر شک ہونے لگے،تحریر:صدف ابرار

    عورت صرف اُس دن نہیں ٹوٹتی جب اس پر ہاتھ اٹھایا جائے، وہ اُس دن بھی ٹوٹنا شروع ہو جاتی ہے جب اسے بار بار یہ یقین دلایا جائے کہ اس کے احساسات کی کوئی اہمیت نہیں، اس کی یادداشت غلط ہے، اور شاید مسئلہ ہمیشہ اسی میں ہے۔

    نفسیاتی تشدد کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس کے زخم نظر نہیں آتے۔ جسم پر نیل پڑ جائیں تو لوگ پوچھ لیتے ہیں، "یہ کیسے ہوا؟” مگر جب کسی کی خود اعتمادی، اس کی شناخت، اس کی خوشی اور اس کے وجود کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہو تو معاشرہ اکثر خاموش رہتا ہے۔ شاید اس لیے کہ ایسے زخموں کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، کوئی خون نہیں بہتا، کوئی پٹی نہیں باندھی جاتی، مگر انسان اندر ہی اندر بکھرنا شروع ہو جاتا ہے۔

    وہ کبھی ایک پُراعتماد عورت تھی۔ اپنے فیصلے خود کرتی تھی، اپنی رائے رکھتی تھی، اپنے خوابوں پر یقین کرتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ وہ کون ہے اور کیا بننا چاہتی ہے۔ لیکن شادی کے بعد زندگی نے ایک نیا رخ لیا۔ ابتدا میں سب کچھ معمول کے مطابق لگا۔ ہر رشتے کی طرح یہاں بھی اختلاف تھے، مزاج مختلف تھے، عادتیں الگ تھیں۔ اسے لگا کہ شاید وقت کے ساتھ سب بہتر ہو جائے گا۔
    لیکن وقت بہتر نہیں ہوا، بلکہ اس نے ایک ایسی خاموش تبدیلی کو جنم دیا جسے وہ برسوں تک سمجھ نہ سکی۔
    جب بھی وہ کسی بات پر اپنے دل کی کیفیت بیان کرتی، اسے جواب ملتا، "تم ہر بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہو۔”
    اگر وہ کسی تلخ رویے کا ذکر کرتی تو کہا جاتا، "ایسا تو کبھی ہوا ہی نہیں، تمہیں غلط یاد ہے۔”
    اگر وہ محبت مانگتی تو جواب آتا، "تمہاری توقعات بہت زیادہ ہیں۔”
    اگر وہ عزت چاہتی تو اسے سمجھایا جاتا، "تم خود کو بہت خاص سمجھتی ہو۔”
    شروع میں اسے لگا شاید واقعی مسئلہ اسی میں ہے۔ شاید وہ بہت حساس ہے۔ شاید وہ زندگی کو ضرورت سے زیادہ سنجیدگی سے لیتی ہے۔ مگر پھر ایک وقت ایسا آیا جب اس نے محسوس کیا کہ اب وہ دوسروں سے پہلے خود پر شک کرنے لگی ہے۔
    وہ ہر بات کے بعد خود سے پوچھتی، "کیا واقعی میری یادداشت غلط ہے؟ کیا میں واقعی اتنی مشکل انسان ہوں؟ کیا میری تکلیف صرف میرا وہم ہے؟”
    یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں گیس لائٹنگ شروع ہوتی ہے۔
    گیس لائٹنگ دراصل نفسیاتی استحصال کی ایک ایسی شکل ہے جس میں ایک شخص مسلسل دوسرے کے احساسات، یادداشت، مشاہدے اور حقیقت کو جھٹلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ متاثرہ فرد اپنی ہی سوچ، اپنے فیصلوں اور اپنی عقل پر اعتماد کھونے لگتا ہے۔ یہ ایک دن میں نہیں ہوتا۔ یہ برسوں پر محیط ایک خاموش عمل ہے جس میں انسان کی شخصیت آہستہ آہستہ اپنی بنیادیں کھونے لگتی ہے۔
    ازدواجی تعلق میں گیس لائٹنگ ہمیشہ چیخ و پکار کی صورت میں نہیں ہوتی۔ اکثر یہ نرم لہجے، عام جملوں اور روزمرہ کی گفتگو میں چھپی ہوتی ہے۔
    "میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔”
    "تمہیں ہر بات غلط لگتی ہے۔”
    "تم بہت زیادہ سوچتی ہو۔”
    "تمہارا مسئلہ تمہارا بچپن ہے، میری ذمہ داری نہیں۔”
    "اگر تم یہاں خوش نہیں ہو تو دروازہ کھلا ہے، جا سکتی ہو۔”

    یہ جملے بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں، لیکن جب یہی رویہ بار بار دہرایا جائے تو انسان اپنی ہی حقیقت سے دور ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنے جذبات کو چھپانے لگتا ہے، اپنی ضرورتوں کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے، اور ایک دن اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف دوسروں کو ناراض ہونے سے بچانے کے لیے زندہ ہے۔
    گیس لائٹنگ کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ ایک وقت کے بعد ظالم کو آپ کو قائل کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ آپ خود ہی اپنے خلاف دلائل دینا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ معافی زیادہ مانگتے ہیں، بولنا کم کر دیتے ہیں، اپنی خواہشات کو دبانا سیکھ لیتے ہیں، اور اپنی خاموشی کو صبر کا نام دے دیتے ہیں۔
    مگر حقیقت یہ ہے کہ صبر اور خاموشی ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بعض اوقات صبر انسان کو مضبوط بناتا ہے، لیکن بعض اوقات خاموشی انسان کو اندر سے ختم کر دیتی ہے۔

    بہت سی عورتیں یہ سمجھ ہی نہیں پاتیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ انہیں صرف اتنا محسوس ہوتا ہے کہ وہ پہلے جیسی نہیں رہیں۔ ان کی ہنسی کم ہو گئی ہے، ان کے خواب چھوٹے ہو گئے ہیں، وہ ہر بات پر خود کو قصوروار سمجھنے لگی ہیں، اور انہیں ہر فیصلے سے پہلے کسی دوسرے کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
    یہی گیس لائٹنگ کی کامیابی ہے۔
    سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ جب وہ اپنے دل کی بات کسی سے کرتی ہیں تو اکثر انہیں یہی جواب ملتا ہے:
    "ہر گھر میں ایسا ہوتا ہے۔”
    "تمہیں ایڈجسٹ کرنا چاہیے۔”
    "رشتے ایسے ہی چلتے ہیں۔”
    "اتنی سی بات پر زندگی خراب نہیں کرتے۔”
    شاید یہ مشورے دینے والے غلط نیت نہیں رکھتے، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر رشتہ ایک جیسا نہیں ہوتا، اور ہر خاموشی برداشت نہیں ہوتی۔

    ایک صحت مند ازدواجی تعلق میں اختلاف ضرور ہوتا ہے، مگر اختلاف کبھی بھی کسی ایک انسان کی شناخت ختم کرنے کا نام نہیں ہوتا۔ محبت کبھی یہ تقاضا نہیں کرتی کہ آپ اپنی آواز کھو دیں۔ احترام کبھی یہ نہیں کہتا کہ آپ ہر بار خود کو غلط ثابت کریں۔ اور اعتماد کبھی خوف کے سائے میں پروان نہیں چڑھتا۔
    اگر کوئی انسان ہر روز یہ محسوس کرے کہ اسے اپنی بات کہنے سے پہلے ڈر لگتا ہے، اگر اسے ہر شکایت کے بعد رشتہ ٹوٹنے کی دھمکی ملے، اگر اسے مسلسل یہ یقین دلایا جائے کہ اس کے احساسات بے معنی ہیں، تو مسئلہ صرف اختلاف کا نہیں رہتا، بلکہ رشتے کے بنیادی توازن کا بن جاتا ہے۔
    اس مضمون کا مقصد کسی کو رشتہ ختم کرنے یا ہر قیمت پر نبھانے کا مشورہ دینا نہیں۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ ہم ان زخموں کو پہچانیں جنہیں معاشرہ اکثر زخم مانتا ہی نہیں۔
    کیونکہ بعض اوقات انسان کو کسی فیصلے سے پہلے صرف ایک چیز کی ضرورت ہوتی ہے… یہ یقین کہ وہ پاگل نہیں ہے، اس کے احساسات حقیقی ہیں، اس کی تکلیف سچی ہے، اور اس کی عزتِ نفس بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی اس کے رشتے کی بقا۔
    شاید زندگی کا سب سے مشکل سوال یہ نہیں ہوتا کہ رشتہ بچایا جائے یا چھوڑ دیا جائے۔
    سب سے مشکل سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا اس رشتے کو بچاتے بچاتے کہیں ہم خود تو ختم نہیں ہو رہے؟

  • بدلتا موسم سلگتا پاکستان،تحریر:قرۃالعین خالد

    بدلتا موسم سلگتا پاکستان،تحریر:قرۃالعین خالد

    پانچ دریاؤں کے جھرمٹ میں چار موسموں کے سنگ سجا میرا پیارا پاکستان، دنیا کے نقشے میں چار چاند لگائے ہوئے موجود ہے۔ جیسے سہیلیوں، سکھوں کے جھڑمٹ میں سجی نئی نویلی کوئی دلہن ہو جو اپنے سولہ سنگھاروں کے ساتھ سامنے والے کی نظروں کو حیران کر دے، ایسا ہے میرا پاکستان۔ دنیا کے نقشے میں خوش قسمت ترین ملک جہاں پانچ دریاؤں کے سنگم میں چاروں موسموں کا سکون بستا ہے۔ وطن عزیز عطائے قدرت ہے، جس کی ہم نے قدر نہ کی۔ یہ ہمارے لیے ڈرنے کا مقام ہے کہ جب قدرت کی دی گئی نعمتوں کی قدر نہ کی جائے تو قدرت نعمتوں کو چھین لینے پر بھی قادر ہوتی ہے۔ آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہم قدرت کے اس انعام کی قدر کھو چکے ہیں۔ چاروں موسم ہم سے روٹھ چکے ہیں سردیاں تو بس چند دنوں، چند ہفتوں کی مہمان بن کر آتی ہیں اور پلک جھپکتے ہی ہمیں اداس کر کے چلی جاتی ہیں۔ موسم بہار تو جیسے ہم سے روٹھ ہی گیا ہو۔ موسموں کا روٹھ جانا بھی کہیں قدرت کی ناراضی تو نہیں؟ یہ درخت، یہ پیڑ پودے، یہ سب دھرتی کا حسن ہی تو ہیں۔ ہم نے ان کو جب سے کاٹنا شروع کیا ہے تب سے ہم نے آفات کو اپنے گھر کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اب تو سال کے بارہ مہینوں میں سے زیادہ تر حصہ تپتی ہوئی دھوپ، شدید ہیٹ ویوز اور جھلسا دینے والی گرمی کی نظر ہو جاتا ہے۔ موسموں کا بدلتا ہوا یہ گرم مزاج کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ آگ برساتا آسمان، یہ تپتی ہوئی زمین، یہ لو کے تھپیڑے کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ قدرت کی طرف سے وہ خاموش دستک ہے جو ہمارے لیے ایک وارننگ ہے۔ جسے ہم نے اگر نہ سمجھا تو آنے والا وقت ہمارے لیے بڑے تباہ کن ماحولیاتی بحران کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ تیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز، غیر متوقع بارشیں، شہروں میں سیلابی صورتحال اور ہڈیوں کو پگھلا دینے والی شدید گرمی کی لہریں یہ سب کوئی کتابی باتیں نہیں بلکہ وطن عزیز کی موجودہ موسمی صورتحال کا نقشہ ہے جو کہ بہت تلخ مگر حقیقت ہے۔ عالمی سطح پر کاربن گیسوں کے اخراج میں وطن عزیز ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کا سامنا کرنے والے ممالک میں وطن عزیز صف اول میں کھڑا ہے۔ ماحولیات کا یہ بحران اب صرف کتابی موضوع نہیں رہا بلکہ ہمارے موجودہ حالات اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر براہ راست حملہ آور ہو چکا ہے۔ ہم تو اپنی زندگی گزار چکے ہیں مگر آنے والی نسلوں کے لیے ہم نے ڈھیروں مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ یہ واقعی تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز ایک ایسے ماحولیاتی بحران کا شکار ہے جہاں موسموں کا کوئی قابل بھروسہ شیڈیول نہیں ہے۔ شمالی علاقہ جات کے گلیشیئرز جو ہمارے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہیں وہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کبھی تو ندی نالوں میں اتنا پانی آ جاتا ہے کہ سیلابی ریلوں کو روکنا ناممکن نظر آتا ہے اور یہ بے رحم سیلابی ریلے دیہاتوں کے دیہات اپنے ساتھ بہا کر لے جاتے ہیں۔ پانی بی بھلا کبھی کسی پر رحم کھاتا ہے۔ یہ نا صرف گھروں کو بہا کر اپنے ساتھ لے جاتا ہے بلکہ وہاں موجود مکینوں کی امنگوں، خوشیوں، خوابوں اور زندگی کے رنگوں کو بھی ملیامیٹ کر دیتا ہے۔ موسموں کی تبدیلیوں کی وجہ سے ہماری زراعت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ وطن عزیز جو دنیا کے نقشے پر ایک ذرعی ملک کی حیثیت سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔ مستقبل قریب میں شاید موسموں کی بے رحمی کا شکار ہو جائے۔ ابھی تو ہم نے اپنے ہم وطنو کو رہائشی اور چند سہولیات زندگی کے بحران کا شکار ہوتے دیکھا ہے لیکن اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو موسموں کا تغیر مستقبل میں ہمارے لیے خوراک کا ایک نیا بحران کھڑا کر سکتا ہے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ اس تباہی کا قصوروار کون ہے؟ کیا یہ قدرتی آفات ہیں؟ یا یہ سب ہماری اپنی لاپرواہیوں کا نتیجہ ہے۔
    سوچیے۔۔۔۔۔ لمحہ بھر کو سوچیے ۔۔۔۔۔ کہ موسمی بحران کی ذمہ داری صرف عالمی حالات ہیں یا قدرت کا بدلتا مزاج؟ اگر ہم ایمانداری سے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس ماحولیاتی تباہی میں بڑا ہاتھ ہماری اپنی غفلت کا ہی ہے۔ ہم نے ماڈرن طرز زندگی، مادی ترقی اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پر قدرتی شاہکاروں کا، ہرے بھرے درختوں کا، زرخیز زمینوں کا بے دریغ قتل عام کر دیا ہے۔
    جہاں کبھی درختوں کی چھاؤں میں ہمارے اپنے سکون لیتے تھے۔
    جہاں گھنے درختوں کی ٹہنیوں پر جھولے سجتے تھے۔
    جہاں گھنے درخت گرمی کی شدت کو کم کرتے تھے۔
    جہاں درختوں کے سائے کے نیچے سنگی ساتھی آپس میں مل بیٹھتے تھے۔
    جہاں پودوں پر لگے پھولوں سے فضائیں معطر ہو جاتی تھیں۔
    جہاں پھولوں پر سے تتلیاں رس چوستی تھیں۔
    جہاں شہد کی طرح رشتے خالص اور میٹھے ہوا کرتے تھے۔
    جہاں سب کے دکھ سب کے سکھ سانجھے ہوا کرتے تھے۔
    جہاں گھنے درختوں کے سائے تلے محبتیں پروان چڑھتی تھیں۔
    وہاں اب پتھروں اور کنکریٹ کے مکان تعمیر ہو چکے ہیں۔ پتھروں کے نہ جذبات ہوتے ہیں اور نہ احساسات ہوتے ہیں۔
    شاعر نے کیا خوب کہا ہے اس بارے میں

    کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کر گرا ہے۔
    چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے۔
    اور باقی رہی سہی کسر پلاسٹک کے بے تحاشہ استعمال نے پوری کر دی ہے۔ پلاسٹک کے شاپرز کے بے دریغ استعمال نے ندی نالوں کے پانی کو روک رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے معمولی بارش بھی سیلاب کا روپ دھاڑ لیتی ہے۔ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نعمتوں کی ناقدری کرنے والے لوگ ہیں۔ روزانہ پینے کا پانی ہم بڑی بے دردی سے ضائع کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم جانتے بوجھتے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں۔ اس بات سے باہر نکل آئیں کہ موسمی تبدیلیوں اور سیلاب کے ریلوں کا قصوروار کون ہے بلکہ اس بات پر توجہ دیں کہ ہم اس بحران سے باہر کیسے آ سکتے ہیں؟ ہم نے ایک ہی کام پکڑ لیا ہے کہ اپنی ہر کمزوری کے لیے ہم قصور وار حکومت کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ اگر حکومتی سطح پر کام کیے جائیں تو نتائج زیادہ اچھے مرتب ہوتے ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ قطرہ قطرہ ہی دریا بنتا ہے۔ ہمیں تو اپنے حصے کی شمع جلانی ہے۔ آگے بڑھیے۔۔۔۔ آج ہم اکیلے کھڑے ہوں گے تو کل ہمارے ساتھ معاون کھڑے ہوں گے۔ رب العزت کسی کی محنت کبھی ضائع نہیں کرتے اب وہ وقت آ گیا ہے کہ دوسروں کی غلطیاں گنوانے کی بجائے خود میدان عمل میں اترا جائے اور حکومتی پالیسیوں اور سیمینارز پر انحصار کرنے کی بجائے اب ہمیں بطور زندہ قوم، بطور فرد خود قدم اٹھانا ہے کیونکہ ہم نے کسی کے اعمال کا حساب نہیں دینا صرف اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ درختوں کا قتل عام کرنے کی بجائے ان کو زندگی دینی ہے۔ درخت لگانے ہیں۔ اگر ہم میں سے ہر انسان اپنے اپ سے ایک وعدہ کرے کہ ہر سال میں ایک درخت لگانا ہے۔ اس کا خیال رکھنا ہے۔ اس کی دیکھ بھال ایک ننھے بچے کی طرح کرنی ہے۔ پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنا ہے۔ پانی کی ہر بوند کو نعمت سمجھ کر اس کی قدر کرنی ہے۔ اس کو سنبھال کر رکھنا ہے۔ یاد رکھیے! زمین رب کی عطا کردہ نعمت ہے۔ جب نعمتوں اور ان سے وابستہ اشیاء کا خیال نہ رکھا جائے تو نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ اگر ہم قدرت کی طرف سے آئے اشاروں کو نہ سمجھیں گے اور اپنے رویوں کو نہ بدلیں گے تو آنے والی نسلوں کے مجرم ہوں گے اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ نعمتوں کی قدر کیجیے نعمتوں کا حساب ہونا ہے۔

  • اولاد میں فرق رکھنے والے والدین،تحریر :نور فاطمہ

    اولاد میں فرق رکھنے والے والدین،تحریر :نور فاطمہ

    اللہ کی سب سے بڑی نعمت اولاد ہے۔ ہر بچہ والدین کے لیے ایک امانت ہے۔ مگر افسوس کہ بہت سے گھروں میں "سب برابر ہیں” کہنے کے باوجود عمل میں فرق صاف نظر آتا ہے۔ کوئی بیٹا ہے تو لاڈلا، کوئی بیٹی ہے تو خاموش۔ کوئی بڑا ہے تو سمجھدار، کوئی چھوٹا ہے تو "ابھی بچہ ہے”۔ یہ فرق رشتوں کی بنیاد کو ہلا دیتا ہے۔

    فرق کیوں پڑتا ہے؟
    بیٹا بیٹی کا فرق*: ہمارے معاشرے میں ابھی بھی بہت سے والدین بیٹے کو "گھر کا وارث” اور بیٹی کو "بوجھ” سمجھتے ہیں۔ بیٹے کی تعلیم، موبائل، آزادی سب کچھ۔ بیٹی پر پہرے۔ نتیجہ یہ کہ بیٹی دل میں ایک خلا لے کر بڑی ہوتی ہے۔
    ہونہار اور کمزور بچہ جو بچہ پڑھائی میں تیز ہو اس کی تعریفیں، تحفے، توجہ۔ جو تھوڑا کمزور ہو اسے "ناکام” کا ٹائٹل۔ والدین بھول جاتے ہیں کہ ہر بچے کا دماغ، صلاحیت اور رفتار الگ ہے۔
    بڑا اور چھوٹا بڑے بچے سے توقع ہوتی ہے کہ وہ "سمجھوتہ” کرے۔ چھوٹے کو ہر چیز معاف۔ بڑا بچہ اندر ہی اندر جلتا رہتا ہے کہ مجھ سے ہی سب قربانی کیوں؟
    شکل و صورت اور مزاج جو بچہ زیادہ میٹھا بولے یا خوبصورت ہو اسے زیادہ توجہ۔ شرمیلا یا سنجیدہ بچہ نظر انداز ہو جاتا ہے۔

    فرق کے نقصانات کیا ہیں؟
    فرق رکھنے سے بچے کے اندر حسد، نفرت اور عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ بہن بھائی ایک دوسرے کے حریف بن جاتے ہیں، دوست نہیں رہتے۔ جس بچے کو کم اہمیت ملے وہ یا تو باغی ہو جاتا ہے یا خود اعتمادی کھو دیتا ہے۔ بڑے ہو کر یہی بچے والدین سے بھی بدظن ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں "آپ نے کبھی ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا”۔

    گھر کا ماحول ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک گھر میں کئی "خیمے” بن جاتے ہیں۔ والدین بڑھاپے میں روتے ہیں کہ اولاد متحد نہیں، مگر بیج انہوں نے خود بوئے ہوتے ہیں۔

    اسلام اور انصاف کا حکم
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو”۔ تحفہ ہو یا محبت، ڈانٹ ہو یا شاباش، پیمانہ سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ اللہ نے ہر بچے کو الگ فطرت دی ہے۔ ہمارا کام موازنہ کرنا نہیں، ہر ایک کی صلاحیت کو پروان چڑھانا ہے۔

    حل کیا ہے؟
    ہر بچے کو الگ پہچان دیں کسی سے دوسرے کا موازنہ نہ کریں۔ "دیکھو تمہارا بھائی کتنا اچھا ہے” جیسے جملے زہر ہیں۔
    وقت بانٹیں ہر بچے کے ساتھ روز 10 منٹ اکیلے بیٹھیں۔ اس کی بات سنیں۔ اسے "خاص” محسوس کروائیں۔
    ضرورت کے مطابق دیں، محبت برابر رکھیں ہو سکتا ہے ایک کو ٹیوشن کی ضرورت ہو، دوسرے کو کھیل کے جوتے۔ خرچہ الگ، مگر عزت اور توجہ برابر۔
    اپنی سوچ بدلیں بیٹا بیٹی، بڑا چھوٹا، گورا کالا سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ فرق صرف ہمارے دل میں ہوتا ہے۔

    نتیجہ
    والدین کا انصاف ہی اولاد کی تربیت کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر گھر میں عدل ہوگا تو باہر معاشرہ بھی سنور جائے گا۔ اولاد کو وراثت میں جائیداد نہیں، ایک دوسرے کا بھروسہ دے کر جائیں۔ کیونکہ جس گھر میں فرق ہوتا ہے وہاں برکت نہیں رہتی۔

  • بیٹی اور بہو میں فرق،تحریر:نور فاطمہ

    بیٹی اور بہو میں فرق،تحریر:نور فاطمہ

    رشتے خون سے نہیں، رویے سے بنتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں "بیٹی” اور "بہو” دو ایسے رشتے ہیں جنہیں اکثر ایک پلڑے میں تولا جاتا ہے، مگر دونوں کی جگہ، ذمہ داری اور احساس الگ ہے۔ فرق برا نہیں، بس سمجھنے کا ہے۔

    بیٹی گھر کی جان ہوتی ہے۔ وہ اس گھر میں پیدا ہوتی ہے، پلتی ہے، اس کی ہنسی سے دیواریں گونجتی ہیں۔ ماں باپ کے لیے وہ امانت ہے۔ بیٹی سے توقع صرف محبت اور مان کی ہوتی ہے۔ غلطی کرے تو ماں سمجھاتی ہے، باپ ڈانٹ کر بھول جاتا ہے۔ اسے کھانا بنانا نہ آئے تو بھی "سیکھ جائے گی” کہا جاتا ہے۔ اس کی تعلیم، شوق، مرضی سب کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بیٹی گھر چھوڑ کر جاتی ہے تو پورا گھر خالی لگتا ہے، مگر اس کی واپسی پر دروازے کھول دیے جاتے ہیں، حساب نہیں مانگا جاتا۔

    بہو دوسرے گھر سے آتی ہے۔ وہ اپنی ماں، اپنی عادتیں، اپنا بچپن چھوڑ کر ایک اجنبی گھر، اجنبی لوگوں کے ساتھ نئی زندگی شروع کرتی ہے۔ اس سے توقع ذمہ داری کی ہوتی ہے۔ کھانا، صفائی، ساس سسر کی خدمت – سب اس کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ غلطی ہو جائے تو "پرائے گھر کی ہے” کہہ کر یاد دلا دیا جاتا ہے۔ اسے اپنا بننے کے لیے خود کوثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس کی محبت کو بھی "فرض” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ بہو جب ماں بنتی ہے تو بھی اسے "دوسروں کی امانت” سمجھا جاتا ہے۔

    فرق کی جڑ سوچ میں ہے۔ بیٹی کو ہم "اپنا” سمجھ کر پالتے ہیں، بہو کو "اپنانا” پڑتا ہے۔ بیٹی کی آزادی کو مان دیتے ہیں، بہو کی آزادی کو "بدتمیزی” سمجھ لیتے ہیں۔ بیٹی روٹھے تو مناتے ہیں، بہو روٹھے تو "نخرے” کہہ دیتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ بہو بھی کسی کی بیٹی ہوتی ہے۔ جس محبت، برداشت اور موقع کی توقع ہم اپنی بیٹی کے لیے رکھتے ہیں، وہی بہو کو دیں تو فرق خود بخود مٹ جائے گا۔ اور جس عزت، قربانی اور ذمہ داری کی امید ہم بہو سے رکھتے ہیں، وہی سلوک اگر ہم اپنی بیٹی کے سسرال والوں سے کریں تو رشتے مضبوط ہو جائیں۔

    نہ بیٹی کم ہے نہ بہو زیادہ۔ دونوں عورت ہیں، دونوں بیٹیاں ہیں۔ ایک نے گھر دیا، دوسری نے گھر سنبھالا۔ اگر ساس بہو کو بیٹی سمجھ لے اور بہو ساس کو ماں، تو "فرق” لفظ ہی ڈکشنری سے نکل جائے گا۔ رشتے تب ہی خوبصورت ہیں جب برابری ہو۔