Baaghi TV

Category: خواتین

  • قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    کسی بھی قوم کی پہچان اس کی زبان، ثقافت اور لباس سے ہوتی ہے۔ یہی عناصر اس کے تشخص کو زندہ رکھتے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ بطور بانیٔ تحریک میرا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنی قوم کو اس کی اصل شناخت سے جوڑیں اور زبان و قومی لباس کے فروغ کو اپنی اجتماعی ذمہ داری بنائیں۔
    زبان صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب و تاریخ کی امین ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان سے دور ہوتی ہے تو وہ اپنی جڑوں سے کٹنے لگتی ہے۔ ہماری تحریک اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ قومی زبان کو تعلیم، ابلاغ اور روزمرہ زندگی میں نمایاں مقام دیا جائے تاکہ نوجوان نسل اپنی ثقافت پر فخر محسوس کرے۔ ہمیں چاہیے کہ گھروں، تعلیمی اداروں اور سماجی تقریبات میں اپنی زبان کو ترجیح دیں اور اسے ترقی کے سفر میں ساتھ لے کر چلیں۔

    اسی طرح قومی لباس ہماری روایت، سادگی اور اقدار کی علامت ہے۔ بدلتے ہوئے رحجانات کے دور میں اپنی روایتی پوشاک کو نظرانداز کرنا دراصل اپنی پہچان کو کمزور کرنا ہے۔ ہمارا پیغام یہ نہیں کہ ہم جدیدیت سے منہ موڑ لیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی روایات کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ قومی لباس کو فخر اور وقار کے ساتھ اپنانا ہماری ثقافتی بقا کی ضمانت ہے۔
    ہماری تحریک کا عزم ہے کہ تقریبات ،سماجی ذرائع ابلاغ ،ثقافتی میلوں اور آگاہی مہمات کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ ہم نوجوانوں کو اس کارِ خیر میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ زبان و ثقافت کا چراغ روشن رہے۔
    آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی قوم کی زبان اور قومی لباس کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ جو قوم اپنی پہچان کو سنبھال کر رکھتی ہے، وہی دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔
    تحریک صرف قومی زبان کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ عملی طور پر فروغِ اردو کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس کے تحت تحریک کے زیر اہتمام تربیتی نشستوں اور کارگاہوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لکھاریوں کے لیے ایک روزہ تربیتی نشست ( رموزِ اوقاف) دس روزہ ( اصنافِ ادب )تیس روزہ ، شاعرات کے لیے ( علمِ عروض) خواتین اہلِ قلم کے لیے چالیس روزہ (تزئین کارگاہ) اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ اردو زبان کو فروغ دیا جائے۔

    تحریک میں موجود طالبات کی مدد اور آسانی کے لیے تعلیمی، علمی ،ادبی مواد کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے اور رومن رسم الخط کے متعلق آگاہی دی جاتی ہے کیونکہ قومی زبان دنیا بھر میں ہماری شناخت ہے، اور جو قومیں اپنی زبان کو عزت دیتی ہیں، دُنیا ان کو عِزت دیتی ہے۔

  • محبت سے عدالت تک،تحریر:صدف ابرار

    محبت سے عدالت تک،تحریر:صدف ابرار

    کبھی گھر محض اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ محبت، اعتماد، تحفظ اور وابستگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں زندگی کی تلخیاں بانٹی جاتی تھیں اور خوشیاں کئی گنا بڑھ جاتی تھیں۔ مگر آج اسی گھر کی دیواریں تو قائم ہیں، لیکن ان کے اندر بسنے والے رشتے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ نازک اور غیر محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔

    اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں دائر ہونے والے ہزاروں طلاق، خلع اور نان نفقہ کے مقدمات محض قانونی کارروائیاں نہیں، بلکہ ایسے رشتوں کی خاموش داستانیں ہیں جو کبھی محبت، اعتماد اور مشترکہ خوابوں کی بنیاد پر قائم ہوئے تھے۔ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں 45 ہزار سے زائد فیملی مقدمات کا عدالتوں تک پہنچ جانا ایک ایسا اشارہ ہے جسے صرف اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ہر فائل کے پیچھے ایک الگ دنیا آباد ہوتی ہے۔ کہیں ایک عورت برسوں کی خاموش اذیت کے بعد انصاف کی تلاش میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، کہیں ایک مرد ناکام ازدواجی زندگی کے بوجھ تلے دب کر کسی حل کی امید لیے کھڑا ہوتا ہے، اور کہیں معصوم بچے ایسے فیصلوں کے اثرات سمیٹ رہے ہوتے ہیں جن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ عدالت کے ریکارڈ میں یہ صرف ایک مقدمہ ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ کئی زندگیوں کی کہانی ہوتی ہے۔

    یہ سوچنا آسان ہے کہ طلاقوں میں اضافہ صرف معاشی مشکلات یا سوشل میڈیا کا نتیجہ ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ معاشی دباؤ یقیناً ایک اہم وجہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ برداشت کی کمی، بڑھتی ہوئی انا، غیر حقیقی توقعات، ذہنی دباؤ، جذباتی فاصلے اور مؤثر مکالمے کا فقدان بھی رشتوں کو کمزور کر رہا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے سے زیادہ بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جب یہ کوشش ناکام ہو جاتی ہے تو رشتے بھی کمزور پڑنے لگتے ہیں۔

    سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اکثر اوقات رشتے اچانک نہیں ٹوٹتے۔ ان کے درمیان دراڑیں بہت پہلے پڑ چکی ہوتی ہیں۔ ایک نہ سنی جانے والی بات، ایک ادھورا احساس، ایک ٹوٹا ہوا وعدہ اور ایک غیر محسوس بے اعتنائی وقت کے ساتھ اتنی بڑی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ دو لوگ، جو کبھی ایک دوسرے کی دنیا ہوا کرتے تھے، اجنبی بن جاتے ہیں۔ عدالت میں جمع ہونے والی درخواست دراصل اس طویل سفر کا آخری مرحلہ ہوتی ہے۔

    ان مقدمات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اکثر بچے ہوتے ہیں۔ وہ بچے جو والدین کے اختلافات کو سمجھنے کی عمر نہیں رکھتے، مگر ان کے اثرات زندگی بھر اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ٹوٹتے ہوئے خاندان صرف دو افراد کو الگ نہیں کرتے، بلکہ بعض اوقات ایک پوری نسل کے جذباتی اور نفسیاتی مستقبل کو متاثر کر دیتے ہیں۔

    اسلام آباد کی عدالتوں میں جمع ہونے والی یہ فائلیں دراصل ہمارے معاشرے کے سامنے ایک آئینہ رکھتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ترقی صرف بلند عمارتوں، جدید سہولیات اور معاشی اشاریوں کا نام نہیں۔ ایک معاشرے کی اصل طاقت اس کے مضبوط خاندان، صحت مند تعلقات اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
    اگر ہم اس بڑھتے ہوئے رجحان کو صرف عدالتی اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے تو شاید ہم اصل مسئلے کو کبھی سمجھ ہی نہ سکیں۔ کیونکہ یہ صرف طلاقوں میں اضافے کی کہانی نہیں، بلکہ ان انسانی رشتوں کی داستان ہے جو کہیں راستے میں کمزور پڑ گئے۔ سوال یہ نہیں کہ عدالتوں میں کتنے مقدمات دائر ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے گھروں کے اندر ایسا کیا بدل رہا ہے جو محبت کو فاصلے میں، گفتگو کو خاموشی میں اور ساتھ کو علیحدگی میں تبدیل کر رہا ہے۔

    شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اعداد و شمار گننے کے بجائے ان وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کریں جو ان اعداد و شمار کو جنم دے رہی ہیں۔ کیونکہ جب خاندان کمزور ہوتے ہیں تو اس کی قیمت صرف میاں بیوی نہیں، پورا معاشرہ ادا کرتا ہے۔

  • بہروپیا(افسانہ) :میمونہ فرحت

    بہروپیا(افسانہ) :میمونہ فرحت

    صبح کا وقت تھا اور موسم بڑا خوشگوار تھا لیکن کمرے میں سگنلز کی عدم موجودگی نے خوشگواری کا تسلسل توڑنا چاہا سگنلز ضروری تھے کیونکہ آج میری پسندیدہ انفلوئنسر نے لائیو آنا تھا میں چائے کا کپ اٹھائے بالکونی میں جا کھڑا ہوا کیونکہ وہاں نیٹ بہتر چلتا تھا ۔۔۔میرے فون پہ نوٹیفیکیشن آیا ۔۔۔۔۔” دی سوپر اسٹار اسمارا اپلوڈڈ آ سٹوری ” میں نے جلدی سے کھولی تو اس میں درج تھا کہ ابھی کسی تکنیکی مسئلے کی وجہ سے وہ لائیو نہیں آسکتیں شاہد شام میں آئیں بحرحال آپکو آگاہ کردیا جائیگا مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن کیا کیا جا سکتا تھا۔ میں نے موبائل سائڈ پہ رکھتے ہوئے چائے کی ایک اور چسکی لی تو میری نظر برابر والے گھر سے نکلتی ہوئی اسما پر پڑی جو نہایت عام سی شکل وصورت ،قمیص شلوار میں ملبوس سفید چادر اوڑھتی ہوئی موٹر سائیکل پر سوار ہوئی ،وہ بہت اکڑو تھی کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی ۔۔اور پھر مجھ سے مزاج کا انسان تو اس سے بلکل بات کرنا بھی پسند نہ کرے ۔مجھے تو اسمارا جیسی لڑکیاں بھاتیں۔۔۔میں کچھ دیر وہاں ٹہلتا رہا پھر دفتر جانے کی تیاری میں مشغول ہو گیا ۔شام کے قریباً چار بج رہے تھے میں دفتر سے واپس آرہا تھا کہ مجھے رستے میں اسما نظر آئی اسکی موٹر سائیکل غالباً چوری ہوچکی تھی اور اب ٹیکسی کے انتظار میں تھی ،جتنی وہ عجیب اور نخرے باز تھی میرا دل تو نہیں تھا مدد کا مگر میرے اندر موجود انسانیت کی دکان اسے قرض دیے بغیر رہ نہ سکی میں نے بریک لگائی اور کہا : اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں آپ کو گھر چھوڑ سکتا ہوں میرا گھر آپکے گھر کے برابر میں ہی ہے ۔پہلی دفعہ تو اس نے بات سنی ان سنی کر دی میں نے دو تین مرتبہ اصرار کیا پھر جا کر وہ پچھلی سیٹ پر آ کر براجمان ہوئی،اور بیٹھتے اپنے موبائل میں لگ گئی۔میں نے گاڑی سٹارٹ کی تو میرے فون پہ نوٹیفکیشن آیا۔دی اسمارا اپلوڈڈ سٹوری میں نے دیکھا تو اس میں درج تھا فکس آدھے گھنٹے کے بعد وہ لائیو آئیں گی میں نے غصے سے اسما کی طرف دیکھا جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی اگر وہ میرا وقت ضائع نہ کراتی تو میں اب تک گھر ہوتا۔جیسے تیسے میں نے بیس منٹ میں اسما کو گھر چھوڑا اپنی گاڑی پارک کی اور سیدھا بالکنی کی طرف روانہ ہوا موبائل وہاں سیٹ کیا چائے منگوا لی ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ لائیو آگئی ۔۔ سو سوری گائز میں نے صبح لائیو آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کچھ مسائل کی وجوہات پر میں نہ سکی تو کیسے ہیں آپ سب ؟

    سیاہ بال جو کبھی لمبے ہو جاتے تو کبھی چھوٹے کبھی سیدھے اور کبھی گھنگریالے ہر روز فیشن کے نام پر نیا تجربہ اور ہر بار تجربہ ثمر پار ثابت ہوتا وہ ہر طرح کے حلیے میں حسین ترین لگتی تھی۔کبھی کبھار ہی لائیو آتی لوگ اس سے سوال پوچھتے ہیں جواب دیتی اس سے جواب پا لینا بھی کسی کی خوش قسمتی ہی ہوتی تھی میں نے بھی کئی دفعہ پیغام چھوڑا لیکن مجھ پہ قسمت کبھی اتنی مہربان نہیں ہوئی۔اچھا تو اگلا سوال ہے اسماء کا انہوں نے کہا ہے کہ آپ بہت پیاری ہیں تھینک یو سو مچ اسما آپ بھی بہت پیاری ہیں ہم سب ہی پیارے ہوتے ہیں۔یہ بات اس نے کہہ تو دی تھی لیکن شاید اس نے اسماء کو حقیقت میں نہیں دیکھا تھا اگر وہ دیکھتی تو کبھی یہ نہ کہتی کہ سب حسین ہوتے ہیں

    اچھا گائز پھر کبھی لائیو آؤں گی اور ڈھیر ساری باتیں کریں گے اللہ حافظ۔ابھی وہ گئی تھی کہ امی آ گئی تم ہر وقت اس موبائل میں گھسے رہتے ہو مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔کیا بات کرنی ہے اماں ؟دیکھو لمبی چوڑی باتیں کرنا مجھے پسند نہیں سیدھا کہتی ہوں۔۔۔۔دروازے کی گھنٹی بجے میں دروازہ کھولنے گیا تو دروازے پہ موجود موٹر سائیکل پر سوار دو لڑکیاں تھی جو غالباً پولیو کے قطرے پلانے آئیں تھیں موٹر سائیکل کچھ دیکھا دیکھا لگ رہا تھا اور ان میں سے ایک لڑکی کی آواز بھی جانی پہچانی تھی لیکن میں نے غور نہیں کیا اور انہیں یہ بتا کر دروازہ بند کر دیا کہ یہاں میں سب سے چھوٹا بچہ ہوں۔

    واپس آیا ہاں تو اماں اپ کچھ کہہ رہی تھی۔۔اب میں نے کیا کہنا ہے ساری بات کا تسلسل خراب کر دیا صبح بات کریں گے۔۔
    صبح ناشتے کی میز پر ہی میں نے اماں سے پوچھا۔
    اماں آپ نے کچھ کہنا تھا شام میں، کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے نا, بات تو میں بتاتی ہوں پر پہلے تو مجھ سے وعدہ کر کہ تو میری بات مانے گا۔۔ اماں شادی کے علاوہ جو بات منوانی ہے منوا لو۔۔
    نہیں نہیں اس دفعہ بس تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے۔بس دس منٹ کے لیے ،وعدہ شادی کی بات نہیں کروں گی ۔۔لیکن اماں جانا کہاں ہے؟ زیادہ سوال نہیں کرو میرے ساتھ چلو۔

    اچھا اماں آپ چلیں میں کپڑے بدل کر آتا ہوں۔ میں اماں کے بتائے ہوئے رستے پر ان کے ہمراہ چل پڑا کچھ دیر کے بعد ہم ایک آستانے پر پہنچے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ گھنگریالے بال، بڑی بڑی آنکھوں میں بہت زیادہ سرمہ پیلے دانت ،سیاہ رنگ کا کرتا گلے میں رنگ برنگی تسبیحات ڈالے ایک عورت نما کوئی جاندار چیز بیٹھی دم درود پڑھ رہی تھی۔ خوف اور مسکراہٹ کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ میں نے اماں کی طرف دیکھا۔۔تو اماں نے اسکے جواب مجھے ڈانٹنے والی نظروں سے دیکھا۔۔اور چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ہمارا نمبر آیا اماں نے اسے بتایا کہ میں شادی نہ کرنے پر بضد تو اس نے اماں کو کوئی کاغذ پکڑایا جس پر نہ جانے کیا لکھا تھا اور ان کے کان میں کوئی بات کی جو بہر حال مجھے سنائی نہیں دے سکی۔۔۔اماں نے ان سے اجازت چاہی ۔۔ویسے میرا دل تو معذرت چاہنے کا تھا۔۔۔۔وہاں سے ہم گھر کے لیے روانہ ہوئے اور اسمارہ نے دوبارہ لائیو آنا تھا گھر پہنچے موسم کچھ خراب ہو گیا ، ایک دم آندھی آگئی جو کپڑے چھت پر پھیلائے تھے وہ پڑوسیوں کے گھر جاگرے تو میں نے اماں کو بتایا کیونکہ اسما کے گھر جانا مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا گھر میں بس وہ ماں بیٹی ہی رہتی ہیں تو یوں مناسب نہیں لگتا اماں نے مجھے مجبور کیا کہ جاگ کر میں کپڑے لے آؤں تجھے کیا کہنا ہے ان لوگوں نے اتنی دیر میں نوٹیفیکیشن آیا پندرہ منٹ بعد لائیو آؤں گی ۔ ۔۔میں نے جلدی جلدی پڑوسیوں کا دروازہ بچایا تو اس کی اماں نے دروازہ کھولا میں نے بتایا کہ ہوا کی وجہ سے کپڑے گر گئے تھے وہ پکڑا دیں انہوں نے مجھے اندر بلا لیا بیٹھنے کو کہا میں نے منع کیا اور کہا کہ مجھے کپڑے دے دے اب کیونکہ میں ان کے گھر پہلی دفعہ گیا تھا تو وہ کپڑے لینے کے بجائے کچن میں چلی گئی مجھے جلدی تھی اور ان کے منصوبے لمبے نظر آرہے تھے لیکن میں مجبور تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ کپڑے گندی جگہ پر گر گئے تھے تو اسمإ نے دوبارہ دھو کر چھت پر پھیلا دیے ہیں اب بیٹا میری ٹانگوں میں تو اتنی جان نہیں کہ میں چھت پر جاؤں اور اسما کسی کام میں مصروف ہے اپنا ہی گھر ہے چھت سے میرا بیٹا جا کر کپڑے لے آؤ۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں ان کو کیا کہوں ؟ مجھے دیر ہو رہی تھی اور وہ میری امی کی طرح بات نہیں سمجھ رہی تھیں میں بھاگتا بھاگتا چھت پر جا رہا تھا برآمدے میں کمرے کے آگے سے گزرا اس کا دروازہ آد کھلا تھا سامنے دیوار پہ مجھے ایک لڑکی کی تصویر نظر آئی جو آدھی دکھ رہی تھی اور تصویر لگ بھی دیکھی دیکھی رہی تھی تو میں نے لاشعوری طور پر کمرے کا دروازہ کھول دیا اس وقت مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کہاں جاؤں ،پیروں تلے زمین نکلنا اس سے پہلے تک میرے لیے صرف ایک محاورہ تھا۔۔اس دن میرے لیے ایک عجیب قسم کا تجربہ تھا وہ تصویر وہی تصویر تھی جو اسمارا کے سٹوڈیو میں لگی نظر آتی تھی جب بھی وہ لائیو آتی تھی،اور وہاں شیشے کے سامنے ایک لڑکی جو میرا خواب تھی کائنات کی حسین ترین لڑکی اپنے حسن کو مزید سنوار رہی تھی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی موٹر سائیکل کی چابی، سفید چادر ،پولیو کے قطرے پلانے والا نیلے رنگ کا ڈبہ سیاہ رنگ کا کرتا ایک طرف لٹکا تھا اور اسی کے ساتھ رنگ برنگی تسبیحات پڑی تھیں ،ایک جانب لینز کی ڈبی پڑی تھی جو اکثر اسمارہ لگایا کرتی تھی اور دوسری جانب ایک ڈبیا میں پیلے دانت یہ سارا منظر کچھ لمحوں کا بھی نہیں تھا میں کیسے وہاں سے گھر پہنچا نہیں معلوم کپڑے لائے نہیں لائے لیکن سوال بہت سارے لے آیا تھا۔
    مجھے نہیں معلوم تھا کہ قسمت نے مجھ پر اس طرح مہربان ہونا تھا۔

  • تعاقب کرتی سبز آنکھیں،تحریر: بینا علی

    تعاقب کرتی سبز آنکھیں،تحریر: بینا علی

    آج فیس بک اسکرول کرتے ہوئے ایک پوسٹ اچانک نگاہوں کے سامنے آ گئی۔ اُس بچے کی سبز آنکھوں کے سحر نے جیسے مجھے جکڑ لیا۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے سامنے عمر راٹھور شہید کھڑا ہو۔ انگلیوں کی جنبش تھم گئی، سانس بوجھل ہو گئی اور سوچیں بہت دور تک پھیلتی چلی گئیں۔جب زینب قتل کیس رونما ہوا، اُس وقت میری بیٹی بھی تقریباً چار سال کی تھی۔ عجیب اتفاق یہ تھا کہ زینب نے جس رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا، ویسا ہی کوٹ میری بیٹی کے پاس بھی تھا۔ اُس سانحے کے بعد نہ جانے کتنی راتیں عدمِ تحفظ، خوف اور بے خوابی میں گزریں۔ اکثر اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو سینے سے لگا کر دیر تک روتی رہتی تھی۔ ہر ماں اُس وقت زینب میں اپنی بیٹی دیکھ رہی تھی۔

    زینب کی خاموش آواز آپ سب بنے… آپ کی چیخ، آپ کا احتجاج اور آپ کی بے چینی ہی تھی جس نے قاتل کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ آج پھر ایک عمر ہم سے انصاف مانگ رہا ہے۔ خدارا! عمر کی مدفون سسکیوں کی آواز بن جائیں۔ وہ معصوم جنت کا شہزادہ بن کر اپنے رب کے پاس چلا گیا، مگر اب زمین پر انصاف مانگنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ظلم پر خاموشی درحقیقت ظالم کا ساتھ ہوتی ہے۔ عمر کی قبر میں دفن سسکیوں کو اپنے لفظوں سے زندہ کر دیجیے۔ یہ صرف ایک بچے کی جنگ نہیں یہ ہم سب کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے۔ اگر آج بھی ہم خاموش رہے تو قاتل دندناتے پھریں گے اور یہ قیامت کبھی نہیں رکے گی۔
    خدارا اپنی آواز بلند کیجیے۔ #JusticeForUmer لکھ کر یہ پیغام آگے پہنچائیے۔

  • واپسی اُن آنکھوں کی طرف جو آج بھی منتظر رہتی ہیں،تحریر:بینا علی

    واپسی اُن آنکھوں کی طرف جو آج بھی منتظر رہتی ہیں،تحریر:بینا علی

    کل تقریباً سوا مہینے بعد، شہرِ اقتدار سے "شہرِ محبتاں” واپسی ہوئی۔ قادری ٹریولز اور سانگو اڈے پر بے انتہا رش تھا؛ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہجرت زدہ پرندے اپنے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہے ہوں۔ ہر چہرے پر تھکن بھی تھی بے قراری بھی اور اپنوں تک پہنچ جانے کی عجیب سی جلدی بھی۔ خیر تین گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد گاڑی ملی اور رات نو بجے سفر شروع ہوا۔ شوہرِ محترم اور بیٹابائیک پر تھے۔ راستے میں کہیں نہیں رکےاور مجھ سے پہلے پہنچ گئے۔ شاید محبت ہمیشہ منزل تک پہلے پہنچ جایا کرتی ہے۔

    جیسے ہی گاڑی مظفرآباد شہر میں داخل ہوئی ٹھنڈی ہواؤں اور موسلا دھار بارش نے استقبال کیا۔ گیلی مٹی کی سحر انگیز خوشبو فضا میں یوں بکھر رہی تھی جیسے شہر نے مجھے پہچان لیا ہو جیسے وہ خاموشی سے کہہ رہا ہو: "تم واپس آ گئی ہو!”
    یہی بائیک پر مجھے اڈے سے لینے آئے تھے۔ اُس وقت بھی ہلکی پھوار برس رہی تھی اور نہ جانے کیوں اُس لمحے دل عجیب سی طمانیت سے بھر گیا۔ کچھ شہر صرف جگہیں نہیں ہوتے وہ انسان کے اندر بس جاتے ہیں۔ شوہرِ محترم کی والدہ جو بقول اِن کے میری والدہ زیادہ اور ان کی والدہ کم لگتی ہیں اور جن کا آشیانہ میرے لیے میکے کا درجہ رکھتا ہے ۔ان کو ہم سرپرائز دے رہے تھے۔ ہم نے اُنہیں پیر کا بتایا تھا حالانکہ ہم ایک دو دن پہلے بنا اطلاع پہنچ گئے۔دروازہ کھلا تو اُن کی آنکھوں میں اُتر آنے والی خوشی نے ساری تھکن اتار دی۔ تب شدت سے احساس ہوا کہ زندگی میں سب سے بڑی نعمت وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں آپ کے آنے سے خوشی ملتی ہے جو آپ کی راہ تکتے ہیں جنہیں آپ کے ہونے سے،نہ ہونے سے فرق پڑتا ہے۔ یہ جان کر دل کو عجیب سا سکون ملا کہ آج بھی دو آنکھیں میری منتظر رہتی ہیں؛ ایسی آنکھیں، جنہیں میرے آنے، جانے، ہنسنے، بولنے، حتیٰ کہ خاموش رہنے تک سے فرق پڑتا ہے۔بیٹی حنانہ نے دسترخوان سجایا۔ مونگ کی دال، گوشتابے اور کریلے چکن۔ مجھے لگا تھا کہ شاید تھکن کے باعث کچھ نہ کھا سکوں،مگر پہلا لقمہ لیتے ہی جیسے مدتوں کی محرومی ٹوٹ گئی۔ ہاتھ رکتے ہی نہیں تھے۔مینیو میں تو صرف مونگ کی دال تھی مگر امی نے کریلے چکن اور گوشتابوں میں سے میرا حصہ الگ نکال کر فریزر میں سنبھال رکھا تھا۔ اُس لمحے دل بھر آیا کیونکہ مائیں صرف کھانا نہیں سنبھالتیں، وہ اپنے بچوں کی پسند، اُن کی عادتیں، اُن کی کمی، اور اُن کی واپسی کی امید بھی سنبھال کر رکھتی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ سوا مہینے میں نے صرف "پیٹ بھرا” تھا، مگر گزشتہ شب میں نے "دل بھر کر” کھانا کھایا۔
    اللہ کرے، سب کی منتظر آنکھیں سلامت رہیں… آمین!

  • ماں کبھی بچھڑتی نہیں،تحریر:  بینا علی

    ماں کبھی بچھڑتی نہیں،تحریر: بینا علی

    شہرِ اقتدار میں آئے ہوئے ایک مہینہ ہونے کو ہے، مگر میرا دل آج بھی وہیں ٹھہرا ہوا ہےاُس شہرِ رونقاں میں جسے میں آنکھوں میں نمی اور دل پر بوجھ لیے پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ شہر بدل لینے سے شاید یادوں کا تعاقب بھی چھوٹ جائے گا مگر یادیں تو سایوں کی مانند ہوتی ہیں؛ انسان جہاں بھی جائے وہ خاموشی سے اس کے تعاقب میں رہتی ہیں۔ رات کی تنہائی میں جاگتی ہیں۔ میں اپنے ماضی کی کچھ اذیت ناک یادوں سے بچنے، خود کو گمنام کرنے اور ہجوم میں کھو جانے کی تمنا لیے اس اجنبی شہر میں آئی تھی۔ سوچا تھا کہ فاصلے شاید دل کے زخموں پر وقت کا مرہم رکھ دیں گے کہ نئی گلیاں، نئے چہرے، نئی خاموشیاں میرے اندر کے طوفان کو تھما دیں گی۔

    مگر قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔یہاں آ کر احساس ہوا کہ بعض رشتے زمین کے فاصلے نہیں مانتے وہ روح کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں اور روح کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جس گھر میں نے خود کو گوشہ نشین کیا، اس کی مالکِ مکان سے پہلی ہی ملاقات میرے لیے غیر متوقع اور بے حد جذباتی ثابت ہوئی۔

    انہیں دیکھتے ہی دل جیسے ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔ سانس اٹک گئی، آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وقت نے اچانک پردہ ہٹایا ہو اور میری مرحوم والدہ میرے سامنے آ کھڑی ہوئی ہوں وہی نرمی، وہی اپنائیت، وہی بے لوث محبت ۔ان کا آہستہ آہستہ چلنا، بات کرتے ہوئے چہرے کے بدلتے تاثرات، بیٹھنے کا وہی سلیقہ سب کچھ امی جیسا۔

    حتیٰ کہ وہی بیماریاں، وہی احتیاطیں، وہی جسمانی کمزوری، اور اس کے باوجود دوسروں کے لیے وہی بےچین فکر مندی۔ گویا اللہ نے ایک بار پھر میری ماں کا سایہ کسی اور روپ میں میرے سر پر رکھ دیا ہو۔اور پھر ان کی محبت ،میں دروازے تک چھوڑنے جاتی وہ چند قدم واپس جاتیں، مگر دل نہ مانتا تو دوبارہ پلٹ آتیں۔

    پیشانی پر شفقت بھرا بوسہ دیتیں، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر وہی سوال کرتیں جو میری ماں کی زبان سے بارہا سنا تھا:
    "بیٹی کچھ کھا لیا کرو،اپنا خیال رکھا کرو۔یہ چند سادہ سے الفاظ سنتے ہی دل کے بند ٹوٹنے لگتے ہیں۔ آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں اور ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں پھر سے اپنی ماں کے آغوشِ محبت میں لوٹ آئی ہوں ۔وہی تحفظ، وہی دعا، وہی بے لوث اپنائیت جس میں دنیا کے سارے غم پگھل جاتے ہیں۔تب مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سب سے خوبصورت، سب سے نرم مظہر ہے۔

    ماں کی محبت نہ فاصلوں کی محتاج ہوتی ہے۔ وہ محبت کا کوئی نہ کوئی روپ دھارے سامنے ہوتی ہے۔ مائیں جغرافیے کی پابند نہیں ہوتیں۔ نہ شہر ان کی محبت کو قید کر سکتے ہیں، نہ سمندر ان کی شفقت کو دور کر سکتے ہیں۔ انسان چاہے اجنبی دیس میں ہو یا اپنے ہی وطن میں، ماں کی محبت کسی نہ کسی صورت، کسی نہ کسی چہرے میں، اسے ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔شاید کائنات نے مجھے یہ احساس دلانے کے لیے اس خاتون سے ملوایا کہ:
    "بیٹی ماں کبھی بچھڑتی نہیں۔

    وہ اگر اس دنیا سے رخصت بھی ہو جائے، تو اپنی دعا، اپنی محبت اور اپنی شفقت کسی نہ کسی چہرے میں، کسی نہ کسی لمس میں تمہارے پاس بھیج دیتی ہے۔”آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ماں کو کھونا دراصل اسے مکمل طور پر کھونا نہیں ہوتا۔ وہ دل کی دھڑکنوں میں زندہ رہتی ہے، سجدوں کی دعاؤں میں بولتی ہے، اور بعض مہربان چہروں کے روپ میں ہمارے ساتھ چلتی ہے۔ ماں واقعی ایک ایسی ہستی ہے جو مر کر بھی نہیں مرتی۔وہ زندگی کے ہر موڑ پر کسی دعا کی گونج، کسی ہاتھ کے لمس، کسی آواز کی نرمی، یا کسی شفقت بھرے سوال کی صورت میں اچانک سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور دل کو یہ یقین دلا جاتی ہے کہ:
    "میں کہیں نہیں گئی، بیٹی میں آج بھی تمہارے ساتھ ہوں۔ میرے دعا کے ہاتھ ہمیشہ تمہارے سر پر ہیں۔”

  • دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی

    دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی

    میں بینا علی ہوں۔ میرا دل ایک ایسا آشیانہ ہے جسے اندر ہی اندر دیمک چاٹ رہی ہے۔ باہر سے دیکھو تو سب نارمل لگتا ہے۔ چہرے پر معمول کی مسکراہٹ، روزمرہ کے کام، لوگوں سے ملنا جلنا۔ لیکن اندر ہر دیوار پر ہجر کا سایہ لکھا ہے، ہر کونے میں ایک خاموش چیخ دبی ہوئی ہے۔ درد ٹھہر گیا ہے، آنسو بہنا چھوڑ گئے ہیں اور دل نے رونا بھی سیکھ لیا ہے خاموشی سے۔
    میں نے حقیقت میں جا کر سمجھا کہ شاعر نے کیوں کہا تھا:
    "ادھیڑ ڈالے ہیں بخیے میرے جدائی نے!
    کہ کھا گیا ہے تیرا غم کتر کتر کر مجھ کو!”

    موت تو ارواح کا وصل ہے، ایک سفر کا اختتام اور دوسرے کا آغاز۔ اصل قیامت تو جدائی ہے۔ عرب کہتے ہیں: "الفراق أشد من الموت”۔ ہجر موت سے زیادہ بے رحم ہے۔ کیونکہ موت ایک بار مارتی ہے، جبکہ جدائی روز مارتی ہے۔ میں نے یہ بے رحمی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور اپنے سینے میں محسوس کی ہے۔ یوسفؑ کے ہجر میں یعقوب علیہ السّلام کی آنکھوں کا نور چھن گیا تھا۔ کربلا کے بعد امام زین العابدین کی پلکیں تا عمر بھیگی رہیں۔ سوگ کی میعاد چند دن ہوتی ہے، مگر غم کی میعاد پوری عمر ہوتی ہے۔ یہ غم ایک بار وار کر کے نہیں جاتا۔ یہ روز تھوڑا تھوڑا مار کر زندہ رکھتا ہے، کتر کتر کر، لمحہ لمحہ، سانس سانس۔

    دنیا کہتی ہے کہ وقت مرہم ہے، زخم بھر جاتے ہیں۔ کاش یہ سچ ہوتا۔ میرے لیے وقت مرہم نہیں بنا، وہ صرف عادت بنا گیا ہے۔ ہم سانس لیتے ہیں، جیتے نہیں۔ ہم مسکراتے ہیں، خوش نہیں ہوتے۔ ہر عید، ہر تہوار، ہر شادی، ہر جنازہ، ہر موقع ان کی کمی کا نوحہ بن جاتا ہے۔ ہم یادوں سے بھاگتے ہیں، اور بھاگتے بھاگتے خود کو کھو دیتے ہیں۔ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر لگتا ہے جیسے کوئی اجنبی کھڑا ہو۔

    والدہ محترمہ کو دیکھے بنا تین سال چھے مہینے ہو گئے۔ تین سال چھے مہینے سے گھر کی دیواریں بھی خاموش ہیں۔ ان کی دعاؤں کی چادر سر سے سرک گئی ہے اور اب دھوپ بھی کاٹتی ہے۔ جس گھر میں کبھی ان کی آواز گونجتی تھی وہاں اب سناٹا ہے۔ ہر کونا ان کی خوشبو مانگتا ہے، ہر کمرہ ان کے قدموں کا منتظر ہے، مگر جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے۔ اسی دن آج سے پانچ سال پہلے، میرے چچا محترم اور میرے جواں سال کزن بھی چپکے سے اس دنیا سے چلے گئے۔ ایک ہی دن دو جنازے اٹھے، اور گھر کے آنگن میں ایک ساتھ دو قبریں بنیں۔ اس دن سے یتیمی کا سفر شروع ہوا۔ یتیمی صرف والدین کا سایہ اٹھنا نہیں، یہ اس کربناک آزمائش کا نام ہے جس میں انسان خود کو بے سہارا، بے آسرا محسوس کرتا ہے۔ دنیا بڑی لگتی ہے، اور دل بہت چھوٹا۔ پانچ سال ہو گئے۔ پانچ سال سے میں باپ کی شفقت اور ماں کی مامتا، دونوں کو ترس رہی ہوں۔ اپریل اور مئی میرے لیے "شھر الحزن” بن گئے ہیں۔ یہ کیلنڈر کے مہینے آتے ہیں تو دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ ہوا بھی بھاری لگتی ہے، سانس سینے میں اٹکتی ہے، اور نیند آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے۔ راتیں کروٹیں بدلتے گزرتی ہیں، اور صبح ایسے ہوتی ہے جیسے دل پہ مزید بوجھ بڑھ گیا ہو ۔ وقت گزرتا ہے، مگر درد نہیں گزرتا۔ درد ٹھہر جاتا ہے۔

    لوگ کہتے ہیں صبر کرو مگر صبر کرنا سیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ صبر وہ سبق ہے جو کتابوں سے نہیں، ٹوٹے ہوئے دل سے پڑھا جاتا ہے۔ میں نے سیکھا ہے، آہستہ آہستہ، ٹوٹ کر اور جڑ کر۔ ربِ کریم کا شکر ہے جس نے ہمت دی۔ شکر ہے کہ یہ جدائی دائمی نہیں۔ یہ فراق عارضی ہے۔ یہی امیدِ واثق، یہی یقینِ کامل میرے ٹوٹے دل کو جوڑے ہوئے ہے کہ ہم پھر ملیں گے۔ جنت کے کسی ایسے باغ میں ملیں گے جہاں وہ پھر سے سر پر ہاتھ رکھیں گے، مسکرا کر گلے لگائیں گے، اور قہقہے گونجیں گے۔ جہاں نہ کوئی مئی ہو گا نہ اپریل، نہ فراق ہو گا نہ اشک۔ صرف وصل ہو گا، ابدی وصل۔

    میں وہ بدنصیب ہوں جس نے ایک ہی سال میں ماں اور باپ دونوں کا سایہ کھو دیا۔

    کتابِ زیست کا سب سے اداس اور اذیتوں سے بھرا صفحہ وہی ہوتا ہے جب ماں اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ دعاؤں کا آنچل سرک جاتا ہے، اور ماں کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے۔ اس کے بعد دنیا کی گرمی براہِ راست لگتی ہے۔

    آپ اداس ہوں، تنہائی محسوس کر رہے ہوں، ذہنی طور پر منتشر ہوں، دل بے نام دکھوں سے بوجھل ہو، اور ایسے میں آپ کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لینے والی، ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دینے والی، اور اپنے لمس سے روح تک کو سکون پہنچانے والی ماں موجود نہ ہو تو یہ اذیت لفظوں کے دائرہ بیان سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ درد ہے جو لکھا نہیں جاتا، صرف جیا جاتا ہے۔ ماں آپ کی پہلی محبت ہے، پہلا لمس ہے، پہلا شفقت بھرا بوسہ ہے۔ وہ ہستی ہے جس کی گود میں دنیا کے تمام غم سمٹ کر سکون میں بدل جاتے ہیں۔ میری بدقسمتی ہے کہ ماں کے بچھڑ جانے کے بعد میں اس کے عشق میں اس شدت سے مبتلا ہوں کہ ماں کی کمی ایک مستقل کسک بن گئی ہے۔ یہ کسک نہ بڑھتی ہے نہ کم ہوتی ہے، بس ساتھ رہتی ہے۔

    اب اس شعر کی گہرائی سمجھ آتی ہے:
    "وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا
    اب اس کا حال سنائیں کیا!
    اک آگ غمِ تنہائی کی
    جو سارے بدن میں پھیل گئی
    جب جسم ہی سارا جلتا ہو
    پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
    اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے
    تادیر اسے دہرائیں کیا!
    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا…”

    میرے انتظار میں مضمر، میرا راستہ تکنے والی آنکھیں نہ رہیں۔ بائیک کی آواز سنتے ہی پردہ ہٹا کر مسکرانے والے ہونٹ نہ رہے۔ تمام عمر باپ کو پہلا عشق بنائے رکھا، مگر یہ احساس ہی نہ ہوا کہ ماں کے جانے کے بعد اس کی محبت کا خلا دل کو اس طرح جکڑ لے گا کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جائے گا۔ اب اس احساس کے ساتھ کہ ماں نہیں ہے، سانسیں جیسے رکنے لگتی ہیں۔ الفاظ لبوں پر آ کر دم توڑ دیتے ہیں، اور اظہارِ محبت بھی خاموش ہو جاتا ہے۔ بانو قدسیہ لکھتی ہیں: "ماں نہ ہو تو کوئی خواہ مخواہ بلانے والا نہیں رہتا۔”

    مجھے اس خواہ مخواہ کی سمجھ اب آئی ہے۔ واقعی ماں کے بعد انسان کو اس ایک جملے کی معنویت پوری شدت سے سمجھ آتی ہے۔ دنیا میں سب کچھ مل سکتا ہے، مگر ماں جیسی بے غرض محبت دوبارہ نہیں ملتی۔ آج میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جن کے اضطراب ماں کے لمس اور شفقت بھرے بوسوں سے دور ہوتے ہیں، ان کے سروں پر دعاؤں کا یہ آنچل ہمیشہ سلامت رہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی ماؤں کو صحت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھیں اور جو مائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین۔

    میں آج بھی سیکھ رہی ہوں کہ غم کے ساتھ جینا کیسے ہوتا ہے۔ یہ کوئی آسان فن نہیں۔ کبھی دل ماننے کو تیار نہیں ہوتا، کبھی عقل سمجھا دیتی ہے۔ مگر میں نے مان لیا ہے کہ یہ غم میری کمزوری نہیں، میری محبت کی گہرائی ہے۔ جس سے جتنی محبت ہو، اس کا غم بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔

    جب تک دل دھڑکتا ہے، ماں کی یاد زندہ ہے۔ اور جب تک یاد ہے جدائی کا زخم بھی ہے۔ یہ زخم مجھے یاد دلاتا ہے کہ میں کتنی محبت کی گئی ہوں، اور میں نے کتنی محبت کی ہے۔

    بس ایک یقین ہے جو مجھے تھامے ہوئے ہے ہم پھر ملیں گے۔ ان شاء اللہ۔ اس یقین پر ہی دل کا آشیانہ کھڑا ہے، ورنہ دیمک تو اسے کب کا کھا چکی ہوتی۔

  • آن لائن دباؤ ، لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں،انکشاف

    آن لائن دباؤ ، لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں،انکشاف

    جدید ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا، فلٹرز اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثرات نے نوجوان لڑکیوں کی زندگی کو جس طرح بدل دیا ہے، اس پر ایک نئی کتاب نے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    برطانوی مصنفہ فرییا انڈیا (Freya India) نے اپنی پہلی کتاب “Girls®” میں دعویٰ کیا ہے کہ آج کی نوجوان خواتین خود کو انسان کے بجائے ایک “پروڈکٹ” کی طرح دیکھنے لگی ہیں، جسے مارکیٹ کے مطابق بہتر، پیک اور ریٹنگ کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔“لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں”فرییا انڈیا، جو 26 سالہ مصنفہ ہیں، نے امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ “نوجوان خواتین اب اپنے آپ کو ایک ایسی چیز کے طور پر دیکھ رہی ہیں جسے مارکیٹ کے مطابق بہتر بنایا جائے۔ وہ اپنی زندگی کے تجربات کو پیک کرتی ہیں اور پھر آن لائن لوگوں کی رائے اور ریٹنگ کا انتظار کرتی ہیں۔”ان کے مطابق یہ رجحان صرف ذاتی احساسات تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی اور معاشی نظام کا حصہ ہے، جہاں انسانیت کی جگہ “ڈیجیٹل پریزنٹیشن” نے لے لی ہے۔

    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح نوجوان لڑکیاں اپنی خود اعتمادی کے مسائل کے دوران ایسے ڈیجیٹل ماحول میں گھری ہوئی ہیں جہاں چہرے بدلنے والے فلٹرز ،مصنوعی ذہانت پر مبنی ایڈیٹنگ ٹولز،انسٹاگرام انفلوئنسرز کے مکمل طور پر ایڈٹ شدہ لائف اسٹائل شامل ہیں،ان کے مطابق یہ سب چیزیں حقیقی زندگی کے احساسات کو مزید پیچیدہ اور غیر حقیقی بنا رہی ہیں۔فرییا انڈیا لکھتی ہیں کہ جب نوجوان ذہنی دباؤ یا جذباتی مسائل کا شکار ہوتی ہیں تو انہیں ٹک ٹاک تھراپی ویڈیوز، یوٹیوب مشورے، اور آن لائن میڈیکل اشتہارات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اصل علاج کے بجائے “فوری حل” پیش کرتے ہیں۔

    کتاب میں ڈیٹنگ ایپس اور پورن انڈسٹری کے اثرات پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ مصنفہ کے مطابق آج کی نوجوان نسل کو محبت اور رشتوں کے حوالے سے بھی ایک مصنوعی دنیا میں رکھا جا رہا ہے، جہاں ٹنڈر جیسے ایپس انسانی تعلقات کو “سوائپ کلچر” میں بدل دیتے ہیں،انفلوئنسرز خوف اور کنفیوژن کو منافع میں تبدیل کرتے ہیں،نوجوان لڑکیوں کو اپنی فطری خواہشات پر بھی شرمندہ کیا جاتا ہے،فرییا انڈیا کے مطابق موجودہ بحران صرف ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سماجی تبدیلیاں بھی ہیں، جیسے مذہبی اور اخلاقی نظام کا کمزور ہونا،خاندانی ڈھانچے میں بگاڑ،کمیونٹی اور اجتماعی زندگی کا خاتمہ ہے،ان کے مطابق یہی خلا سوشل میڈیا نے پر کیا، مگر اس نے “حقیقی تعلق” کے بجائے “ڈیجیٹل متبادل” فراہم کیے۔ مصنفہ کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نئی نسل یہ بھی نہیں جانتی کہ وہ کس چیز کو نقل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے “ہم صرف اسکرول کر رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، خرید رہے ہیں اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن تنہائی کے ساتھ۔”

    فرییا انڈیا نے بتایا کہ انہوں نے یہ خیال 2021 میں اس وقت محسوس کیا جب وہ ایک کیفے میں کام کر رہی تھیں اور نوجوان لڑکیوں کے رویوں کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔ یہی مشاہدات بعد میں ان کی کتاب کی بنیاد بنے۔

  • خوف سے سکون تک،تحریر: اقصیٰ جبار

    خوف سے سکون تک،تحریر: اقصیٰ جبار

    انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ حال کے خیمے میں بیٹھ کر مستقبل کے سرابوں کا پیچھا کرتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک ایسا معمار ہے جو اپنی زندگی کی عمارت کو مستقبل کے نامعلوم گوشوں میں محفوظ کرنا چاہتا ہے۔ اس عمل میں ہم اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ اس ’لمحے‘ کی مٹھاس سے محروم ہو جاتے ہیں، جو حقیقت میں ہماری زندگی کا واحد حقیقی اثاثہ ہے۔ ہم سب ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جس کا اختتام کہیں نہیں ہے، اور اس دوڑ میں ہم اپنی خوشیوں، اپنے سکون، اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو دھیرے دھیرے قربان کرتے جا رہے ہیں۔
    آج کے تیز رفتار دور میں، ہم نے ’منصوبہ بندی‘ اور ’اضطراب‘ کے درمیان فرق مٹا دیا ہے۔ مستقبل کا خوف، دراصل ان واقعات کا خوف ہے جو ابھی وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے۔ ہم ان اندیشوں میں گھلے جاتے ہیں جو شاید کبھی حقیقت کا روپ دھاریں ہی نہیں۔ ہم اپنی توانائی کا ایک بڑا حصہ ان خدشات پر صرف کر دیتے ہیں جو ہمارے کل کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ہم اپنی پڑھائی، اپنے کیریئر، اپنے امتحانات، اور اپنی سماجی حیثیت کو لے کر اس قدر فکرمند رہتے ہیں کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم ’زندہ‘ بھی ہیں۔ یہ فکر، جو ایک حد تک تو اصلاحی ہو سکتی ہے، جب حد سے بڑھ جائے تو ایک بیماری بن جاتی ہے جسے ہم ’مستقبل کا خوف‘ کہتے ہیں۔

    ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کو ’مستقبل کا ایک جزیرہ‘ بنا دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سکون تب ملے گا جب ہم ڈگری مکمل کر لیں گے، جب ہمیں ملازمت مل جائے گی، جب ہم کسی بڑے عہدے تک پہنچ جائیں گے۔ اس سوچ کے تحت ہم اپنی موجودہ زمین پر قدم جمانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم ایک ایسی انتظار گاہ میں بیٹھے ہیں جہاں ہم زندگی شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ زندگی کوئی منزل نہیں، یہ تو وہ راستہ ہے جس پر ہم اس وقت چل رہے ہیں۔ اگر ہم راستے کے مناظر سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے، تو منزل پر پہنچ کر بھی ہمیں وہ سکون نہیں ملے گا جس کی ہمیں تلاش ہے۔

    ہم اکثر سوچتے ہیں کہ کیا ہم کل کے امتحان میں کامیاب ہو پائیں گے؟ کیا ہم اپنی ذمہ داریاں نبھا پائیں گے؟ کیا ہمارا مستقبل محفوظ ہے؟ یہ سوالات فطری ہیں، مگر جب یہ سوالات ہمارے دماغ پر سوار ہو جائیں، تو یہ حال کی کارکردگی کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ ایک طالب علم جو سی ایس ایس (CSS) یا کسی بھی مشکل امتحان کی تیاری کر رہا ہو، وہ اگر ہر وقت ناکامی کے خوف میں مبتلا رہے گا، تو وہ اپنی تیاری پر پوری توجہ نہیں دے پائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مستقبل کا حد سے زیادہ خوف، ہمارے حال کو بھی برباد کر رہا ہے۔

    حال میں جینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم مستقبل کی منصوبہ بندی نہ کریں یا اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کریں۔ منصوبہ بندی کرنا دانشمندی ہے، مگر اس میں ڈوب جانا حماقت ہے۔ حال میں جینے کا مطلب ہے کہ ہم اپنی پوری توجہ، اپنی پوری توانائی اور اپنے تمام تر حواس کو اپنے موجودہ کام پر مرکوز کریں۔ جب ہم فکرِ فردا سے آزاد ہو کر اپنے کام میں ڈوب جاتے ہیں، تو ہمارا کام نہ صرف زیادہ معیاری ہوتا ہے بلکہ ہمارا ذہنی سکون بھی برقرار رہتا ہے۔
    ایک مشہور قول ہے کہ ’’جو گزر گیا وہ خواب تھا، جو آنے والا ہے وہ خیال ہے، اصل میں وہی ہے جو تیرے سامنے، تیرے حال میں ہے۔‘‘

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارا دماغ ایک وقت میں ایک ہی چیز پر توجہ دے سکتا ہے۔ اگر ہمارا دماغ کل کی فکروں میں الجھا ہوا ہے، تو ہم آج کے کام کو کیسے مکمل کر سکتے ہیں؟ یہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی تضاد ہے۔ ہم آج کو کل کے لیے قربان کر رہے ہیں، اور پھر کل جب آئے گا تو وہ بھی تو ’آج‘ ہی بن جائے گا۔ تب ہم پھر کسی اور ’کل‘ کی فکر میں مبتلا ہوں گے۔ اس طرح ہماری پوری زندگی ایک ایسی لکیر بن کر رہ جاتی ہے جس میں صرف بھاگ دوڑ ہے اور ٹھہر کر سانس لینے کا کوئی وقفہ نہیں۔

    حال کے سکون کو پانے کے لیے ہمیں ’شکر گزاری‘ (Gratitude) کے فلسفے کو اپنانا ہوگا۔ جب ہم ان چیزوں پر غور کرتے ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں، تو ہمارا ذہن خود بخود سکون کی حالت میں آ جاتا ہے۔ ہم اکثر ان چیزوں کے بارے میں سوچ کر دکھی ہوتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں یا جن کے چھن جانے کا ہمیں ڈر ہے۔ یہ فکر ہمیں ناشکرا بناتی ہے۔ حال میں جینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحات کی قدر کریں۔ ایک کپ چائے کی چسکی، کسی عزیز سے کی گئی گفتگو، یا کوئی کتاب پڑھتے ہوئے ملنے والی خوشی—یہ وہ چھوٹے چھوٹے لمحات ہیں جو ہماری زندگی کو روشن بناتے ہیں۔

    نفسیاتی طور پر دیکھیں تو مستقبل کا خوف انسان کو ’مستقبل بین‘ (Visionary) نہیں، بلکہ ’مستقبل زدہ‘ (Future-Anxious) بنا دیتا ہے۔ ایک صاحبِ قلم کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جو وقت آپ کے ہاتھ میں ہے، وہ ایک امانت ہے۔ اسے مستقبل کے غیر یقینی خدوخال کو سنوارنے کی فکر میں ضائع کرنا، وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے گراف کو دیکھیں۔ کیا ہم صرف پریشانیوں کا گراف بنا رہے ہیں یا ہم سکون اور اطمینان کے پل بھی تعمیر کر رہے ہیں؟
    توازن کا فلسفہ ہی زندگی کا حسن ہے۔ ہمیں ایک ویژن تو رکھنا چاہیے، مستقبل کے خواب بھی دیکھنے چاہئیں، لیکن ان خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے جو محنت درکار ہے، اسے موجودہ لمحے میں ادا کرنا چاہیے۔ جب آپ آج کا کام خلوص اور ایمانداری سے کرتے ہیں، تو آپ کا کل خود بخود سنور جاتا ہے۔ آپ کا آج، آپ کے کل کی بنیاد ہے۔ اگر آپ کی آج کی اینٹیں مضبوط ہوں گی، تو کل کی دیواریں خود بخود مستحکم ہوں گی۔

    آئیے، آج سے ایک عہد کریں۔ ہم کل کے اندیشوں کو اللہ پر چھوڑ دیں گے۔ ہم منصوبہ بندی کریں گے، ہم محنت کریں گے، لیکن نتائج کے خوف کو اپنی ذات پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ جب ہم کسی کام کو عبادت کی طرح کرتے ہیں، تو نتیجہ خود بخود بہتری کی صورت میں نکلتا ہے۔ اور اگر نتیجہ ہماری توقع کے مطابق نہ بھی ہو، تو بھی ہم اس اطمینان کے ساتھ جی سکتے ہیں کہ ہم نے اپنا آج پوری دیانتداری سے گزارا ہے۔
    یاد رکھیے، زندگی گزر جانے کا نام نہیں، بلکہ پھلنے پھولنے کا نام ہے۔ مستقبل کا خوف ایک سراب ہے، اور اس سراب سے بچنے کا واحد راستہ، حال میں اپنے قدموں کو مضبوطی سے جمانا ہے۔ آیئے، کل کے نامعلوم اندیشوں کو ایک طرف رکھ کر آج کے سورج کو خوش آمدید کہیں۔ اپنی محنت کو اپنا مقصد بنائیں، مگر نتائج کی فکر کو اپنی ذات کا حصہ نہ بنائیں۔ کیونکہ جب آپ کا ’حال‘ پرسکون اور مستحکم ہوتا ہے، تو آپ کا ’مستقبل‘ خود بخود ایک محفوظ سمت کا تعین کر لیتا ہے۔

    اب ہمیں فردا کے خواب دیکھنے سے زیادہ حال کے چراغ جلانے کی ضرورت ہے۔ زندگی کے ہر لمحے میں ایک ایسی روشنی پوشیدہ ہے جسے ہم کل کی فکر میں دھندلا دیتے ہیں۔ اپنے ذہن کو اس غیر ضروری بوجھ سے آزاد کریں، گہری سانس لیں اور ارد گرد کی دنیا کو دیکھیں، جہاں ہزاروں امکانات آپ کے منتظر ہیں۔ یاد رکھیں، آپ کی زندگی کا اصل رقبہ وہی ہے جو اس وقت آپ کے قدموں تلے ہے۔ اسے خوف کی دھول سے نہیں، اطمینان کے پھولوں سے مہکائیں۔ کیونکہ یہی آج ہے، جو کل کی تاریخ بنے گا۔

  • طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔

    طلاق ایک تلخ حقیقت ہے لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہےکہ اس فیصلے کا سارا بوجھ صرف عورت کے حصے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔اور تو اور ستم ظریفی دیکھیں کہ طلاق کی وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں، انگلیاں ہمیشہ عورت پر ہی اٹھتی ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے مرد نے کیا کیا؟ یا مرد کے وہ کیا رویے تھے جنھوں نے بات یہاں تک پہنچائی؟

    مرد سے سوال کرنا جیسے معاشرے میں منع ہے۔

    طلاق کے بعد مرد کے لیے نئی زندگی شروع کرنا آسان بنا دیا جاتا ہے، جبکہ عورت کو قدم قدم پر یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ ناکام ہوگئی ہے۔ اسے ایک اچھی بیوی، ایک اچھی ساتھی نہ بن پانے کے طعنے دیے جاتے ہیں، گویا رشتہ نبھانے کی ساری ذمہ داری صرف اسی کی تھی۔

    یہ رویہ نہ صرف عورت کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اسے سماجی طور پر بھی تنہا کردیتا ہے۔

    ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ طلاق کسی کے لیے، کسی بھی طرح خوشی کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے جس کے بعد ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ مزید اس انسان کو ملامت کیا جائے۔۔۔ جب اسے بار بار ملامت کیا جائے تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوکر خود کو ایک ناکام انسان ہی سمجھنے لگتا ہے اور کئی زندگیاں اس ڈپریشن کی نذر ہوگئی ۔۔

    ہمارے معاشرے کا یہ ایک تلخ پہلو ہے کہ طلاق کا سارا ملبہ اور سماجی بدنامی صرف عورت کے حصے میں آتی
    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ رشتہ دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اسکے ختم ہونے کی ذمہ داری بھی کسی ایک پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ عورت کو اس کے ماضی کے بجائے اس کی ہمت اور شخصیت سے پہچانیں، نہ کہ کسی ایک لفظ سے جو اس کی زندگی کا کل اثاثہ نہیں۔