Baaghi TV

Category: خواتین

  • طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔

    طلاق ایک تلخ حقیقت ہے لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہےکہ اس فیصلے کا سارا بوجھ صرف عورت کے حصے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔اور تو اور ستم ظریفی دیکھیں کہ طلاق کی وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں، انگلیاں ہمیشہ عورت پر ہی اٹھتی ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے مرد نے کیا کیا؟ یا مرد کے وہ کیا رویے تھے جنھوں نے بات یہاں تک پہنچائی؟

    مرد سے سوال کرنا جیسے معاشرے میں منع ہے۔

    طلاق کے بعد مرد کے لیے نئی زندگی شروع کرنا آسان بنا دیا جاتا ہے، جبکہ عورت کو قدم قدم پر یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ ناکام ہوگئی ہے۔ اسے ایک اچھی بیوی، ایک اچھی ساتھی نہ بن پانے کے طعنے دیے جاتے ہیں، گویا رشتہ نبھانے کی ساری ذمہ داری صرف اسی کی تھی۔

    یہ رویہ نہ صرف عورت کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اسے سماجی طور پر بھی تنہا کردیتا ہے۔

    ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ طلاق کسی کے لیے، کسی بھی طرح خوشی کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے جس کے بعد ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ مزید اس انسان کو ملامت کیا جائے۔۔۔ جب اسے بار بار ملامت کیا جائے تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوکر خود کو ایک ناکام انسان ہی سمجھنے لگتا ہے اور کئی زندگیاں اس ڈپریشن کی نذر ہوگئی ۔۔

    ہمارے معاشرے کا یہ ایک تلخ پہلو ہے کہ طلاق کا سارا ملبہ اور سماجی بدنامی صرف عورت کے حصے میں آتی
    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ رشتہ دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اسکے ختم ہونے کی ذمہ داری بھی کسی ایک پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ عورت کو اس کے ماضی کے بجائے اس کی ہمت اور شخصیت سے پہچانیں، نہ کہ کسی ایک لفظ سے جو اس کی زندگی کا کل اثاثہ نہیں۔

  • نوحہِ عصر، مادی اتصال، روحانی انفصال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    نوحہِ عصر، مادی اتصال، روحانی انفصال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    عصرِ حاضر کی بساط پر بچھا ہوا انسانی معاشرہ ایک ایسے تضاد کا شکار ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی کے کسی بھی ورق میں نہیں ملتی۔ یہ صدی اپنے جلو میں ترقی کے جو چراغ لے کر آئی تھی، ان کی چکا چوند نے انسانی بصیرت کو اس حد تک خیرہ کر دیا ہے کہ اب ہمیں روشنی تو دکھائی دیتی ہے مگر راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ ہم ایک ایسے ہجومِ ناآشنائی کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ہر شخص دوسرے سے جڑا ہوا (Connected) ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر حقیقت میں ہر فرد تنہائی کے ایک ایسے جزیرے پر مقیم ہے جس کے چاروں طرف خاموشی کا سمندر موجزن ہے۔

    قدیم یونانی فلسفہ ہو یا مشرقی تصوف، انسان کو ہمیشہ "حیوانِ ناطق” یا "اشرف المخلوقات” کے طور پر اس کے سماجی اور روحانی رشتوں سے پہچانا گیا، مگر آج کا انسان "حیوانِ مشینی” کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہماری زندگیوں میں رفتار کا وہ تلاطم ہے جس نے سکونِ قلب کی متاع چھین لی ہے۔ ہم وقت کی دھول اڑاتے ہوئے اس منزل کی طرف گامزن ہیں جس کا کوئی نشان نہیں، اور اس بھاگ دوڑ میں ہم وہ لمحہ کھو بیٹھے ہیں جسے "ادراکِ ذات” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ان کہی اور ان دیکھی تھکن ہے جو ہڈیوں میں نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں میں سرایت کر چکی ہے۔

    ٹیکنالوجی کے اس عہدِ غلبہ میں انسانی جذبات کو "مصنوعی بصارت” (Artificial Vision) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ وہ احساسات جن کے اظہار کے لیے کبھی غزل کے قافیے اور نظموں کے استعارے بھی کم پڑ جایا کرتے تھے، اب محض ایک "ایموجی” یا "ری ایکشن” کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ لفظوں کی حرمت پامال ہو چکی ہے کیونکہ اب وہ دل سے نہیں بلکہ مصلحتوں کی اسکرین سے جنم لیتے ہیں۔ ہم نے رفاقتوں کو "ڈیجیٹل سگنلز” میں مقید کر دیا ہے؛ ملاقاتیں اب باہمی لمس اور آنکھوں کی گفتگو سے عاری ہو کر بے جان پکسلز (Pixels) میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

    ادب ہمیشہ سے انسانی ضمیر کا آئینہ دار رہا ہے، مگر آج کا انسان خارجی دنیا کے مصنوعی شور میں اتنا محو ہے کہ اسے اپنے اندر سے اٹھنے والی کراہیں سنائی نہیں دیتیں۔ ہم دوسروں کے "ڈیجیٹل اسٹیٹس” کو دیکھ کر اپنی زندگی کے معیار مقرر کرتے ہیں، مگر اپنی روح کے اس بوجھ کو بانٹنے کے لیے کوئی کندھا میسر نہیں پاتے جو اسے روز بروز کچل رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب آنسو بھی اسٹوریز میں "نمائش” کے لیے رکھے جاتے ہیں اور دکھ کو بھی "پبلک ڈسپلے” کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ کرب جو کبھی صیغہِ راز میں رہ کر انسان کو کندن بناتا تھا، اب محض سستی شہرت کا ذریعہ بن گیا ہے۔

    یہ دورِ ترقی دراصل "اجتماعی بیگانگی” کا عہد ہے۔ ہم ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے کئی افراد کے درمیان رہ کر بھی ان سے میلوں دور ہوتے ہیں۔ قربت کا مفہوم اب جسمانی موجودگی نہیں بلکہ "آن لائن” ہونا رہ گیا ہے۔ یہ ایک ایسی تنہائی ہے جو صحراؤں میں نہیں بلکہ بھرے مجمعوں میں پیدا ہوتی ہے—ایسی تنہائی جہاں آپ کے پاس "فرینڈ لسٹ” میں تو ہزاروں لوگ ہوں، مگر دستک دینے کے لیے کوئی ایک بھی دروازہ حقیقی نہ ہو۔
    شاید مستقبل کا مورخ ہماری اس تہذیب پر نوحہ لکھتے ہوئے کہے گا کہ وہ لوگ کائنات کی تسخیر کے خواب دیکھتے تھے مگر اپنے وجود کی سرحدوں سے ناواقف تھے۔ انہوں نے جینے کے تمام اسباب تو فراہم کر لیے تھے، مگر "جینے کے ڈھنگ” سے محروم رہے۔ ہم نے سب کچھ پا لیا، مگر افسوس کہ اس سارے عمل میں ہم نے ایک دوسرے کو کھو دیا۔ یہ عہد دراصل اس حقیقت کا شاہد ہے کہ اگر احساس مر جائے تو انسان محض ایک گوشت پوست کا مشینی پرزہ بن کر رہ جاتا ہے

  • میرےقلم کی دھنک  ،تحریر: ماریہ خان

    میرےقلم کی دھنک ،تحریر: ماریہ خان

    ایک طاقت، ایک مضبوط بنیاد، ایک رشتہ جو ہمارا قلم کے ساتھ ہے، ایک ایسی آواز جس کی طاقت کو آج تک دبایا نہیں جا سکا، وہ ہے قلم۔ قلم کی آواز میں ایسی طاقت ہے، جس کا شور سماعتوں تک اپنی گونج سے راستے بناتا ہوا خود پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ واحد راستہ ہے، جس کی مدد سے کوئی بھی فرد جو صرف قلم پکڑنا جانتا ہو، وہ اپنے جذبات کو کاغذ پر اتار دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ،یہ بات اہم نہیں کہ جذبات منفی ہیں یا مثبت، ایک کالم نگار جب قلم اٹھاتا ہے تو معاشرے میں چھپی برائی کو بنا کسی ڈر، خوف اور مصلحت کے تنقید برائے اصلاح کی شکل میں قرطاس پر اتار دیتا ہے، ایک شاعر قلم اٹھاتا ہے تو زمانے کی دھوپ چھاؤں، محب کے ملن اور وصل، محبت و عداوت کو اپنے اشعار میں پرونے لگتا ہے، ایک افسانہ نگار، کہانی کار سمیت کوئی بھی لکھاری جب قلم تک رسائی لیتا ہے تو اپنے جذبوں اور ارد گرد کے حالات کو کہانیوں، افسانوں میں بہت خوبصورتی سے ڈھالنے کی طاقت رکھتا ہے، اگر دیکھا جائے تو لکھا تو ایک ہی قلم سے جاتا ہے یا یوں کہئے کہ جیسے ایک گاڑی ہے اور ڈرائیور اسے اپنے حساب اور ضرورت سے چلاتا ہے، اسی طرح قلم کی بھی یہی کیفیت ہے، اس کے بھی کئی رنگ ہیں، جیسے قوس قزاح کے سات رنگ بارش کے بعد قوس و قزاح آسمان پر اپنے خوبصورت رنگ بکھیرتی نظر آتی ہے، اسی طرح قلم کے بھی الگ الگ رنگ یا انہیں قلم کی دھنک کہہ سکتے ہیں۔

    بے شمار مصنف تو ایسے بھی گزرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں،جن کا دوست اور کل اثاثہ صرف قلم رہا۔ قلم کی دھنک ایک سمندر کی مانند ہے، اس کی دنیا بہت وسیع ہے، قلم سے زندگیاں سنورتی دیکھیں، مگر یہی قلم جب کسی جاہل کے ہاتھ آتا ہے تو وہ انسانیت کے تقاضوں کو خاک میں ملانے میں لمحہ بھر نہیں لگاتا، ایسے بے شمار قلم کاروں کو لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے دیکھا۔ یہ ان لوگوں کی بد قسمتی ہے، جو قلم کی طاقت اور اس کے فیض سے محروم ہیں۔ ان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جو جان بوجھ کر محروم رہنا چاہتا ہے، قلم صرف یہ نہیں کہ ایک فرد واحد نے قلم اٹھایا اور اپنا حال کاغذ کی نذر کر دیا، قلم کا مقصد تو انسانیت کی اصلاح ہے، قوم کی بیداری ہے، لوگوں کے سوئے ہوئے ناقص ذہنوں کی آبیاری ہے، جو درسگاہوں سے اپنی نسلوں کو دور رکھتے ہیں، ان کے ذہنوں میں نفرتوں کے بیج بوتے چلے آ رہے ہیں اور یہ کام نسل در نسل چل رہا ہے، اسے روکنا تو درکنار ہے، مگر ایک کوشش ضرور کی جاسکتی ہے، قلم کار ہر قدم صرف ایک کوشش کا محتاج ہے۔ ہماری ترقی، ہماری آسائشیں، ہماری نوجواں نسل کے خواب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں قلم کے سات رنگوں میں سے کسی نہ کسی رنگ سے جا کے جڑتے ہیں۔ اس دھنک رنگ میں ایسی طاقت ہے کہ اگر کوئی فرد اس کا صحیح استعمال جانتا ہے تو وہ ایک پورے خطے کی سوچ بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ہماری زندگیاں قلم اور قلم کی آواز کے گرد گردش کرتی ہیں اور اگر کوئی اس حقیقت کو جھٹلاتا ہے تو یہ اس کی گمراہی اور ناسمجھی ہے، کیونکہ قلم کا کارواں تو ایک سیلاب کی مانند اپنے راستے بناتا چلتا جا رہا ہے اور اس کارواں میں مسافر شامل ہوتے جا رہے ہیں، جب مختلف ہاتھ اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو وہی ایک قلم اور اس کی سیاہی مختلف رنگوں، سوچوں، ثقافتوں کی گہرائیوں میں رنگ جاتی ہے۔ قلم کے فروغ کے لئے ادبی بیٹھک کا اہتمام مدارس سے ہی شروع کیا جائے، تاکہ ہماری نسلوں میں تحریک اور شوق بچپن اور بلوغت میں ہی بنیاد پکڑ لے، کیوں کہ مضبوط بنیادیں ہی خوبصورت عمارتوں کا بوجھ سنبھال سکتی ہیں۔

  • لباسوں پر نظر رکھے ہوئے گدھ،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    لباسوں پر نظر رکھے ہوئے گدھ،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    سن اسی کی دہائی میں پاکستان عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز تھا،دنیا بھر کے صحافی اسلام آباد میں موجود رہتے تھے۔ آج برسوں بعد ایک مرتبہ پھر اسلام آباد عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ اسی کی دہائی میں پاکستان کا منفی چہرہ سامنے آرہا تھا، مگر بطور پاکستانی خوش آئند بات یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں ہمیں مثبت اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا پاکستان کی سفارتی کوششوں کا سراہا رہا ہے۔اور پاکستان پورے خطے میں ایک مضبوط سفارت کار کے طور پر سامنے آرہا ہے۔

    بلاشبہ حالیہ آباد ٹاکس نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سفارتی نقشے پر نمایاں مقام دلا دیا۔گزشتہ ہفتے دنیا بھر کے صحافی، تجزیہ نگار اور سفارت کار پاکستان کی طرف متوجہ تھے۔ بین الاقوامی میڈیا پاکستان کی سفارتی پختگی اور خطے میں اس کے کردار کو سراہ رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بطور قوم ہمیں اپنے ملک پر فخر کرنا چاہیے تھا۔ مگر ہمارے ہاں سوشل میڈیا کے ایک بڑے طبقے نے اس تاریخی موقع پر جو کام اپنے ذمے لیا، وہ یہ تھا کہ ایک سینئر صحافی غریدہ فاروقی کے لباس کی تصویریں شیئر کی جائیں، ان کا مذاق اڑایا جائے اور انہیں ذلیل کیا جائے۔ اس موقع پر بھی امن کےلیے کوشاں پاکستان کے ایک طبقے نے ثابت کر دیا کہ چاہے یہاں امن کےلیے مذاکرات ہوں یا دنیا کے لیے فیصلے مگر ان کا ذہن ابھی بھی کسی عورت کی قمیض کی لمبائی سے آگے نہیں بڑھا۔

    یہ کوئی نئی بیماری نہیں ہے، نہ ہی یہ کسی ایک واقعے تک محدود ہے۔ پاکستان میں عورت کو کمزور کرنے کا سب سے آسان اور آزمودہ ہتھیار ہمیشہ اس کا کردار، اس کا جسم اور اس کا لباس رہا ہے۔ یہ ہتھیار سیاست میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے، میڈیا میں بھی اور سوشل میڈیا کے میدان میں بھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اس ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ انہوں نے ایک مردانہ دنیا میں اپنا راستہ خود بنایا، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی اور اسلامی دنیا میں پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بنیں۔ مگر ان کی کردار کشی کرنے کے لیے ہیلی کاپٹروں سے پمفلٹ گرائے گئے ۔

    ثمینہ پاشا کے معاملے میں جب طلعت حسین جیسے سینئر صحافی اور شیر افضل مروت جیسے سیاست دان بیٹھ کر ان کے جسم پر تبصرے کرتے ہیں تو یہ محض بدتمیزی نہیں ہوتی، یہ ایک منظم رویے کا حصہ ہوتا ہے۔ اسے نفسیات کی زبان میں Dehumanization کہا جاتا ہے، یعنی کسی انسان کو اس کی صلاحیتوں اور کردار سے ہٹا کر محض ایک جسم تک محدود کر دینا۔ جب آپ کسی پیشہ ور عورت کی گفتگو، اس کے دلائل اور اس کی محنت کو نظرانداز کر کے اس کے وزن، رنگ یا لباس پر آ جاتے ہیں تو آپ یہ بتاتے دیتے ہیں کہ ہم ذہنی مریضوں کے لیے اصل اہمیت اس کی ذہانت نہیں، بلکہ ظاہری ہیئت ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو خاموشی سے معاشرے کی رگوں میں اترا گیا ہے۔

    بشری بی بی کے حوالے سے جو کردار کشی کی گئی، اس کی نوعیت اور بھی زیادہ گھناؤنی تھی کیونکہ اس میں نہ صرف ذاتی زندگی کو نشانہ بنایا گیا بلکہ مذہبی حوالوں کو بھی استعمال کیا گیا۔ ایک عورت خود کو اس وقت سب سے زیادہ کمزور سمجھتی ہے۔جب اس پر مذہبی یا اسکے کردار پرالزام لگایا جائے۔ خاص طور پر اس معاشرے میں جہاں ہم رہتے ہیں۔ وہاں عزت کا تصور فقط عورت سے جوڑا گیا ہے۔ مریم نواز کے بارے میں بھی یہی ہتھیار آزمایا گیا۔ ان کی سیاست سے اختلاف کرنا بالکل جائز ہے، ان کی پالیسیوں پر تنقید ایک ہر پاکستانی ہے جمہوری حق ہے۔مگر کردار کشی اور تنقید میں فرق ہوتا ہے۔ جب تنقید کسی عورت کی ذاتی زندگی، اس کے لباس یا اس کے جسم پر آ جائے تو وہ تنقید نہیں رہتی، وہ ہراسانی بن جاتی ہے۔

    نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ عورتوں کو ان کی ظاہری ہیئت کی بنیاد پر جج کرنا ایک مخصوص ایک بیمار ذہنی کیفیت کی علامت ہے جسے Objectification Theory کہا جاتا ہے۔جب کوئی معاشرہ عورت کو انسان کے بجائے ایک شے سمجھنے لگتا ہے تو وہ اس کی صلاحیتوں کو نظرانداز کر کے اس کے جسم کو جانچنے لگتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اس عورت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے ذہنی ارتقاء کو روک دیتا ہے۔ وہ معاشرے جہاں عورتوں کو ان کی اہلیت سے زیادہ ان کی ظاہری ہیئت سے پہچانا جاتا ہے، وہ معاشرے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ وہ اپنی نصف آبادی کی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔

    غریدہ فاروقی ہوں، ثمینہ پاشا ہوں، بشری بی بی ہوں، مریم نواز ہوں یا بے نظیر بھٹو یا کوئی اور عورت جسے صرف لباس اور جسمانی ہیت پر جج کیا جائے، ہمیشہ قابل مذمت ہے۔پاکستان آج عالمی سطح پر اپنا مقام بنا رہا ہے۔ اسلام آباد ٹاکس نے دنیا کو دکھایا کہ اس ملک کے پاس سفارتی بصیرت ہے، ذمہ داری کا احساس ہے اور خطے میں امن کی خواہش ہے۔ مگر جب تک ہمارے اندر بیٹھا وہ گدھ موجود ہے جو کامیاب عورت کو دیکھ کر اس کے لباس پر ٹوٹ پڑتا ہے، ہماری یہ عالمی و اخلاقی ساکھ ادھوری رہے گی۔

  • قابل فخر بیٹیاں (بیگم رعنا لیاقت علی)،تحریر  : ماریہ خان

    قابل فخر بیٹیاں (بیگم رعنا لیاقت علی)،تحریر : ماریہ خان

    ‎ ‎بیگم رعنا لیاقت علی صاحبہ 13فروری 1905ء میں پیدا ہوئیں ، 1947 سے 1951ء تک پاکستان کی خاتون اول اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بیگم تھیں ،تحریک پاکستان کی رکن اور سندھ کی پہلی گورنر خاتون تھیں۔وہ اپنے شوہر کے ہمراہ تحریک پاکستان کی صف اول کی خواتین میں شامل تھیں۔بیگم رعنا ان خواتین سیاستدانوں اور ملک گیر معزز خواتین شخصیات میں شامل تھیں،جنھوں نے 1940ء میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور پاکستان میں اہم واقعات کا مشاہدہ کیا،وہ تحریک پاکستان کی اہم اور سرکردہ خاتون شخصیت میں سے ایک تھیں،اور انھوں نے محمد علی جناح کے ساتھ کام کیا ،اور پاکستان موومنٹ کمپنی کی ذمدار رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔انھوں نے جناح کی پاکستان موومنٹ کمپنی میں معاشی مشیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور بعد جب ان کے شوہر لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے تو پاکستان کی خاتون اول بھی بنئیں۔اس حیثیت سے انھوں نے نئے قائم ملک پاکستان میں خواتین کی ترقی کے لئیے پروگرام شروع کئیے ۔خاتون اول کی حیثیت سے انھوں نے 14اگست 1949ء سے 29اکتوبر1951ء انکی مدت منصب رہا ۔انکا پیدائشی نام شیلا تھا،انکی تعلیم لکھنوء یونیورسٹی سے ہوئی۔مذہب اسلام تھا اور شہرئیت برطانوی ہند اور پھر پاکستان کے قیام کے بعد یہاں مقیم ہوئیں۔لکھنوء یونیورسٹی سے انھوں نے ماسٹر آف سائنس کیا ۔اور پیشہ کے لیحاظ سے ماہر معشیات،سفارت کار،استاد جامعہ،سیاستدان اور فوجی افسر  پاکستان میڈیکل کور میں تھیں ۔انکی مادری زبان اردو تھی۔بیگم رعنا لیاقت صاحبہ کے حالات زندگی کچھ یوں تھے ،کہ لکھنوء برطانوی ہندوستان میں 1905ء کو کمونی عیسائی خاندان میں پیدا ہوئیں،آپکا پیدائیشی نام شیلا آئرین پنت تھا۔آپ کو الموڑا کی بیٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ان کے والد ڈینیل پنت متحدہ صوبوں کے سیکٹریٹ میں خدمات انجام دیتے تھے۔کمونی برہمن پنت خاندان نے تقریبا 1871ء میں عیسائیت مزہیب قبول کیا تھا ۔بیگم رعنا نے ابتدائی تعلیم نینی تال کے ایک زنانہ ہائی سکول میں حاصل کی ۔لکھنوء یونیورسٹی سے ایم اے معاشیات اور عمرانیات کیا ۔کچھ عرصہ استاد رہئیں۔1933ء میں لیاقت علی خان سے شادی ہوئی ۔

    پاکستان بننے سے قبل آپ نے عورتوں کی ایک تنظیم ” آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن ” قائم کی ۔پاکستان کے بعد ایمپلائمنٹ ایکسچینج اور اغوا شدہ لڑکیوں کی تلاش اور شادی بیاہ کے محکمے ان کے حوالے کئیے ۔ اقوام متحدہ کے اجلاس منعقدہ 1952ء میں پاکستان کے مندوب کی حیثیت سے شریک ہوئیں ،1954ء میں ہالینڈ اور بعد ازاں اٹلی میں سفیر اور سندھ کی گورنر بھی رہیں ۔انکی سوانح عمری پر کچھ روشنی ڈالتے چلیں تو رعنا لیاقت علی خان "دی بیگم ” کی شریک مصنفہ دیپا اگروال بتاتی ہیں۔کہ وہ ایک آزاد خیال خاتون تھیں اور ان میں زبردست اعتماد تھا ۔86 سال کی اپنی زندگی میں انھون نے 43سال انڈیا میں جبکہ اتنا ہی عرصہ پاکستان میں گزارا ۔انھوں نے نہ صرف آپنی آنکھوں کے سامنے تاریخ رقم ہوتے دیکھی بلکہ اسکا حصہ بھی بنئیں ۔قائد اعظم سے لے کر جنرل ضیاء الحق تک سبھی کے سامنے وہ اپنی بات کہنے سے کبھی نہ ہچکچائیں ۔ ایم اے کی اپنی کلاس میں وہ اکیلی لڑکی تھیں ۔اور لڑکے انھیں تنگ کرنے کے لیے انکی سائیکل کی ہوا نکال دیتے تھے ۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر پشپیش  پنت کا ننیھال بھی اسی جگہ تھا ۔جہاں آیرین  روتھ پنت کا خاندان رہا کرتا تھا ۔پروفیسر پشپیش پنت بتاتے ہیں  کہ میں تقریبا 60 سال پہلے آٹھ یا دس برس کی عمر میں اپنی ننھیال والے مکان میں رہا کرتا تھا ۔لوگ ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کیا کرتے تھے کہ انکی بہن پاکستان کے پہلے وزیر اعظم سے بیاہی گئی تھیں اور ان لوگوں نے اپنا مزہب تبدیل کر لیا ۔انکا کہنا تھا کہ رعنا کے دادا ایک اعلی ذات کے برہمن تھے اور وہاں کے مشہور وید یعنی حکیم تھے اور جب انھوں نے عیسائی مذہب قبول کیا تو پورے علاقے میں ہلچل مچ گئی تھی کیونکہ اکثر نیچی ذات کہے جانے والے لوگ ہی مذہب تبدیل کیا کرتے تھے ۔ اس کے بعد جب رعنا نے ایک مسلمان سے شادی کر لی تو لوگ اور باتیں کرنے لگے ۔اس دور میں الموڑے کے دقیانوسی معاشرے میں ماڈرن کہی جانے والی پنت بہنیں نہ صرف پورے شہر میں موضوع بحث ہوا کرتی تھیں بلکہ کچھ لوگ انھیں رشک کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتے تھے ۔مشہور ناول نگار کی بیٹی ایرا پانڈے لکھتی ہیں میرے نانا کے برابر والا گھر ڈینیل پنت کا تھا جن کا خاندان مسیحی مذہب قبول کر چکا تھا ۔ لیکن ایک زمانے میں وہ ہماری ماں کے رشتہ دار ہوا کرتے تھے ۔ ہمارے نانا نے ان کی دنیا کو ہماری دنیا سے الگ کرنے کے لئیے ہمارے گھروں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی اور ہمیں سخت ہدائیت تھی کہ ہم دوسری جانب دیکھنے کی بھی کوشش نہ کریں ۔میری ماں شوانی نے لکھا تھا ۔۔
    ‎” ان کے گھر کے باورچی خانے میں پکنے والے ذائقے دار گوشت کی پاگل کر دینے والی مہک ہماری بے رونق برہمن رسوئی میں پہنچ کر ہماری دال اور آلو کی سبزی اور چاول کو شرمندہ کر دیتی تھی ”

    ‎”برلن وال ” کے اس پار کے بچوں میں ہینری پنت میرے خاص دوست تھے اور انکی بہنیں اولگا اور موریل جب اپنی جارجیٹ کی ساڑھی میں الموڑہ کے بازار میں چہل قدمی کرتی تھیں تو ہم لوگ رشک سے مر ہی جاتے تھے ۔ آئرین پنت یعنی رعنا کی تعلیم لکھنوء کے لال باغ سکول اور پھر وہیں کے مشہور آئی ٹی کالج میں ہوئی۔ متعدد اہم مصنف جیسے قرۃالعین حیدر ، عصمت چغتائی ،عطیہ حسین اس کالج سے تعلیم حاصل کر کے نکلی ہیں ۔آئرین کی بچپن کی دوست مائلز اپنی کتاب ” اے ڈائنو مو ان سلک” میں لکھتی ہیں وہ جہاں بھی ہوتی تھیں کالج میں لڑکے بلیک بورڈ پر انکی تصویر بنایا کرتے تھے ۔ لیکن ان پر اسکا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا ۔ لیاقت علی خان صاحب سے ملاقت کے بارے میں دیپا اگروال بتاتی ہیں  کہ ان دنوں ریاست بہار میں سیلاب آیا ہوا تھا اور لکھنوء یونیورسٹی کے طالب علموں نے فیصلہ کیا وہ ایک پروگرام کر کے وہاں کے لیے فنڈ جمع کریں گے ۔آئرین پنت جو لکھنوء یونیورسٹی سے ایم اے کر رہی تھیں شو کے ٹکٹ فروخت کرنے پارلیمنٹ پہنچیں اور وہاں انھوں نے پہلا دروازہ کھٹکھٹایا وہ لیاقت علی خان صاحب نے کھولا ۔لیاقت ٹکٹ خریدنے میں جھجک رہے تھے ۔اور بڑی مشکل سے انھوں نے ایک ٹکٹ خریدا ۔دیپا اگروال بتاتی ہیں کہ آئرین نے کہا کہ کم از کم دو ٹکٹ تو خریدیں اور شو دیکھنے کے لیے کسی کو آپنے ساتھ لے کر آئیں ۔جواب میں لیاقت علی خان نے کہا ۔۔کہ میں کسی کو نہیں جانتا جسکو اپنے ساتھ لاؤں اس پر آئرین بولیں میں آپکے لیے ساتھی کا انتظام کرتی ہوں اور اگر کوئی نہیں ملا تو میں ہی آپکے ساتھ بیٹھ کر شو دیکھ لوں گی اور لیاقت انکی یہ درخواست رد نہیں کر پاۓ ۔ لیاقت علی اپنے دوست مرتضی رضا کے ساتھ شو دیکھنے پہنچے لیکن کافی تاخیر کے ساتھ ،بعد میں آئرین اندر پرستھ کالج میں لیکچرار ہو گئیں جب انھیں خبر ملی کہ لیاقت علی کو لیجیسولیٹیو اسمبلی کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے تو انھوں نے اسے خط لکھ کر مبارکباد دی ۔جواب میں لیاقت علی خان نے لکھا کہ جان کر خوشی ہوئی ،آپ دلی میں ہیں جو میرے شہر کرنال کے بلکل قریب ہے ۔اس بار جب میں لکھنوء جاتے ہوۓ دلی سے گزروں گا تو کیا آپ میرے ساتھ چاۓ پینا پسند کریں گی ! آئرین نے انکی دعوت قبول کی اور یہیں سے انکی ملاقاتوں کو سلسلہ شروع ہوا ۔اور 16 اپریل 1933ء کو بات شادی تک پہنچ گئی ۔

    ‎لیاقت علی ان سے دس سال بڑے تھے ۔اور پہلے سے شادی شدہ اور ایک بچے کے باپ تھے ۔لیاقت علی کی شادی انکی کزن جہاں آرا سے ہو چکی تھی ۔اور انکے بیٹے کا نام ولایت علی خان تھا ۔بہر حال انکی شادی ہوئی اور جامعہ مسجد کے امام نے انکا نکاح پڑھا ۔آئرین نے اسلام قبول کیا اور انکا نام گل رعنا رکھا گیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لیاقت علی اس وقت سیاسی افق کے ابھرتے ستارے تھے ۔اور محمد علی جناح کے بہت نزدیک بھی تھے ۔لیاقت علی کو فوٹو گرافی کا شوق تھا انھوں نے موسیقی بھی سیکھی تھی پیانو اور طبلہ بجاتے تھے ۔اور گاتے بھی اچھا تھے ۔انکی پارٹیوں میں نہ صرف غزلوں کا دور چلتا تھا بلکہ انگریزی گانے بھی سننے کو ملتے تھے ۔دونوں میاں بیوی برج کھیلنے کے شوقین تھے پانچ فٹ لمبی رعنا کو نہ تو زیور پہننے کا شوق تھاگ اور نہ کپڑوں کا ۔انھیں ایک پرفیوم پسند تھا "جواۓ” جبکہ لیاقت علی کو امرود بہت پسند تھے ۔اور وہ کہا کرتے تھے کہ اس سے خون صاف ہوتا ہے ۔جانے سے پہلے جہاں جناح نے اورنگزیب والا بنگلہ رام کرشن ڈالمیہ کو فروخت کیا تھا ۔وہیں لیاقت علی نے اپنا بنگلہ پاکستان کو عطیہ کر دیا تھا اسے آج بھی پاکستان ہاؤس کہا جاتا ہے اور وہاں آج بھی انڈیا میں تعینات پاکستان کے سفیر رہتے ہیں ۔ دیپ اگروال بتاتی ہیں کہ ۔لیاقت علی نے اپنے گھر کی ایک ایک چیز پاکستان کو دے دی ۔اور وہ صرف ذاتی استعمال کی چیزیں لے کر پاکستان آۓ تھے ۔اس سامان میں ایک سوٹ کیس ،سیگریٹ لائٹروں سے بھرا ہوا تھا ۔اور وجہ یہ تھی کہ انھیں سیگرٹ لائیٹر جمع کرنے کا شوق تھا ۔اگست 1947ء میں لیاقت علی اور انکی بیگم رعنا لیاقت علی اور دو بیٹوں اشرف اور اکبر نے دلی کے ہوائی اڈے سے کراچی پرواز کی ۔لیاقت علی پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے اور رعنا پہلی خاتون اول قرار پائیں۔لیاقت نے انھیں اپنی کابینہ میں اقلیتوں اور خواتین کی بہبود سے متعلق وزارت دی۔ابھی چار سال ہی گزرے تھے کہ راولپنڈی کے ایک جلسے میں خطاب کے دوران لیاقت علی کو قتل کر دیا گیا ۔انکی موت کے بعد بہت سے لوگوں کا خیال تھا ،کہ رعنا اب واپس انڈیا چلی جائیں گی ۔لیکن انھوں نے پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ۔کتاب "دی بیگم ” کی مشترک مصنفہ تہمینہ عزیز ایوب بتاتی ہیں کہ ابتدا میں وہ بہت پریشان تھیں اور گھبرائی بھی ، کہ اب میں کیا کروں گی ! کیونکہ لیاقت انکےلئیے کوئی پیسہ یا جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے تھے ۔ان کی اکاؤنٹ میں محض 300 رپے تھے ۔اور انکا بڑا مسلہ بچوں کی پرورش اور تعلیم تھا ،کچھ لوگوں نے انکی مدد بھی کی ۔بیگم رعنا لیاقت علی خان بطور پاکستان کی سفیر :حکومت پاکستان نے انھیں دو ہزار ماہانہ وظیفہ دینا شروع کر دیا ۔تین سال بعد انھیں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھیج دیا گیا ۔جس سے انھیں کچھ آسرا ہوا ۔1949ء میں ہی آل پاکستان وومن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھ دی گئی تھی ۔اور بیرون ملک ہوتے ہوۓ بھی وہ اس تنظیم سے وابستہ رہیں ۔ہالینڈ کے بعد انھیں اٹلی میں پاکستان کا سفیر مقرر کر دیا گیا ۔تہمینہ ایوب بتاتی ہیں کہ :وہ بہت تعلیم یافتہ تھیں اور مختلف موضوعات پر انکی اچھی گرفت تھی ۔رعنا لیاقت علی نے اپنے سفارت کاری کے فرائض بخوبی انجام دئیے ۔ہالینڈ نے انھیں اپنے سب سے بڑے اعزاز ” اورینج ایوارڈ ” سے بھی نوازا ۔اسوقت ہالینڈ کی رانی سے انکی اچھی دوستی ہو گئی اور رانی نے انھیں ایک عالیشان گھر کی پیش کش کرتے ہوۓ کہا تم انتہائی سستے دام میں اپنی ایمبیسی کے لئیے اسے خرید لو۔یہ گھر شہر کے درمیان میں اور شاہی محل سے صرف ایک کلو میٹر دور تھا ۔وہ بلڈنگ آج بھی پاکستان کے پاس ہے ۔جہاں ہالیند میں پاکستان کا سفارتی عملہ رہتا ہے ۔بیگم رعنا سوئزرلینڈ کی سفیر بھی بنیں ۔اور انڈیا کی سابق خارجہ سیکٹری جگت مہتہ کے فلیٹ میں ٹھہریں ۔جو اس وقت سوئزر لینڈ میں انڈیا کے جونئیر سفیر ہوا کرتے تھے ۔بعد میں جگت مہتہ نے اپنی کتاب ” نیگوشی ایٹنگ فار انڈیا ” ریزالونگ پرابلم تھرو ڈپلو میسی ” میں لکھا کہ وہ ہمارے چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہیں ۔حالانکہ وہاں برطانوی سفیر نے جو پاکستان کے سفیر کی ذمداری بھی سنبھالتے تھے انھیں اپنے گھر رہنے کی دعوت بھی دی تھی ۔انھوں نے لکھا کہ وہ آتے ہیں بغیر تکلف کے میرے باورچی خانے میں گئیں اور تو اور ایک دفعہ میرے دو چھوٹے بچوں کو نہلایا بھی تھا ۔ ڈپلومیسی کی تاریخ میں انڈیا اور پاکستان کے سفیروں کے درمیان اس طرح کی دوستی کی شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو ۔

    ‎” امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جمشید مارکر کہتے ہیں کہ رعنا لیاقت علی جب کسی کمرے میں داخل ہوتی تھیں تو وہ کمرہ خود ہی روشن ہو اٹھتا تھا ”
    ‎سن 1947ء کے پاکستان کو اپنا گھر بنانے والی رعنا لیاقت علی خان تین بار انڈیا آئیں لیکن ایک بار بھی الموڑہ واپس نہیں گئیں ۔لیکن الموڑہ کو بھلا بھی نہیں پائیں ۔دیپا اگروال کہتی ہیں کہ وہ الموڑہ کے روائیتی کھانے بہت پسند کرتی تھیں اور ایک بار اپنے بھائی نارمن کو انکی سالگرہ پر خط میں لکھا تھا ” آئی مس الموڑہ ”

    ‎رعنا کا ایوب جنرل سے ٹکراؤ :
    ‎ڈپلو میسی کے شعبے میں کافی کامیاب ہونے کے بوجود پاکستان کے صدر ایوب خان کے ساتھ انکے تعلقات کبھی بہتر نہیں ہوۓ ۔اور ایوب خان نے انھیں تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔تہمینہ عزیزلکھتی ہیں کہ ایوب خان چاہتے تھے کہ وہ فاطمہ جناح کے خلاف انتخابی مہم میں حصہ لیں لیکن رعنا نے صاف انکار کر دیا انکا کہنا تھا کہ پاکستانی سفیر ہیں ۔جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کوپھانسی پر لٹکایا تو انھوں نے فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کی قیادت کی جنرل ضیاء الحق کے اسلامی قوانین کی پرزور مخالفت کی ۔بیگم رعنا لیاقت علی 13جون 1990ء کو حرکت قلب بند ہونے کے سبب کراچی میں انتقال کر گئیں اور مزار قائد کے احاطے لیاقت علی خان کے پہلو میں مدفون ہیں ۔ بیگم رعنا لیاقت علی کو سب سے بڑے شہری اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا ۔ انھیں مادر پاکستان کا خطاب بھی ملا ۔

  • اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    فرمانِ آقاِ دو جہاں حضرت رسول اللہﷺ ہے؛

    "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد(وعورت) پر فرض ہے۔”
    (سنن ابن ماجہ)

    اسلام وہ دینِ برحق ہے جس نے عورت کو معاشرے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے تمام بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ عورت اور مرد معاشرے کے دو اہم ارکان ہیں جن کے بنا معاشرہ ارتقاء کی منازل طے نہیں کر سکتا ۔ اسی لئیے اسلام نے عورت کے بنیادی حقوق کا خصوصی خیال رکھا ہے۔

    ہر قیمتی شے چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر چھپی ہوئی شے نایاب ہوتی ہے۔ پردہ اور حیا عورت کے زیور ہیں۔ پردہ عورت پہ ناصرف واجب ہے۔ بلکہ اخلاقی و روحانی و معاشرتی تقاضا بھی ہے ۔ یہ اس کے تقدس کی علامت ہے۔

    ہر سال 8 مارچ خواتین کے عالمی دن پر ان کے حقوق کے حوالے سے بات کی جاتی ہے۔ میں اکثر کہتی ہوں کہ سب سے پہلے تو عورت کو خود اپنے مقام ،اپنے مرتبے کا شعور ہونا چاہئیے ۔آپ کسی سے اپنے حقوق کی بات تبی کر سکتے ہیں۔ جب آپ کو خود اپنے مقام کا علم ہو گا۔ خود تعلیم حاصل کریں۔ اور کسی مغربی گروہ کا شکار ہونے کی بجائے اپنے مذہب اسلام میں عورت کے حقوق کو جانیں۔

    مغرب جس کی ہمارے معاشرے کے نام نہاد لبرلز تقلید کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں ، میں عورتوں کے قانونی طور پہ برابری کے حقوق کے حصول کی پہلی آواز 1848ء میں اٹھائی گئی۔ جسے فیمی نزم کا نام دیا گیا۔ امریکہ جیسے آزاد خیال ملک میں عورت کو ووٹ ڈالنے تک کا حق حاصل نہ تھا۔ نہ وارثت میں کوئی حصہ۔ یعنی مغرب میں قانونی و معاشرتی طور پہ عورت کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اس تحریک میں ان حقوق کے حصول کے لئیے آواز اٹھائی گئی۔ جو کہ اسلام نے 1400 سال پہلے ہی عورت کو فراہم کر دیئے تھے۔ شاید مغرب والوں نے بھی اس تحریک کی شروعات سے پہلے اسلام میں عورت کے ان حقوق کا مطالعہ کیا ہو گا۔ عورت جسے قبل اسلام زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ اسلام نے اسے وارثت کا حق دیا، تعلیم کے حصول میں برابری کے حقوق عطا کئیے۔عبادت میں مساوی حقوق دئیے۔ حتی کہ نکاح میں اپنی مرضی کا حق دیا۔

    مغرب میں فیمی نزم تحریک ان کے معاشرے کی ضرورت تھی۔ مگر اسلام نے تو یہ ضرورت 1400 سال قبل ہی پوری کر دی۔ آج کل کا خود کو لبرلز کہنے والا سڑکوں پہ اوٹ پٹنگی حرکات کرنے والا مخصوص گروہ فیمی نزم تحریک کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط عزائم کو پروان چڑھانے کی کوشش میں ہے۔ دراصل یہ عورت کے اصل حقوق سے توجہ ہٹانے کا باعث ہے۔ عورت کے آج کل کے اصل حقوق تو یہ ہیں۔ کہ اسے تعلیم سے لے کر جاب تک برابری کے امواقع حاصل ہوں، وہ اگر باپردہ کسی جاب کی اہل ہے۔ تو پردے کو وجہ ِ رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ وہ اگر حالتِ سفر میں ہو۔ تو اسے احساس ِتحفظ رہے۔ اسے کسی فحش نظر یا جملے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور وہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

    اسلام سے بڑھ کر عورت کو مقام اور حقوق کسی اور نظام نے نہیں دیئے۔ ہمارے مذہب نے عورت کو جو مقام دیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی آئین یا قانون میں اور کہیں بھی نہیں۔ اسلام نے عورت کو عورت سے عظیم عورت بنایا ہے۔ اسلام نے بتایا کہ جنت ایک عورت یعنی ماں کے قدموں تلے ہے۔ اسلام نے ہمیں عورت کے مثالی کردار دیئے ہیں ۔ ایک شریک حیات کے روپ میں بی بی سیدہ خدیجؑہ ،ایک بیٹی کی روپ میں بنتؑ محمد ﷺ جناب بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا ، ایک بہن کے روپ میں جناب بی بی سیدہ زینبؑ، اور ایک ماں کے روپ میں مادرؑ ِ حسنین کریمیںنؑ ہمارے لئیے موجبِ رہنمائی ہیں۔ عورت تو وہ ہے۔ جو نہتی بھی ہو تب بھی اپنی فکر و ہمت سےقصرِ یزید (لعین) کے در و دیوار ہلا دے ۔ عورت کو کمزور کوئی کیونکر کہے ۔ اگر وہ اپنا مقام خود جان لے۔ جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ عورت کا مقام یہ ہے۔ کہ قرآن کریم میں سورہ نساء موجود ہے۔

    عورت بہت عظیم جذبات کی مالک ہے۔وہ سفید رنگ ہے۔ جو ہر رنگ اپنے اندر سمو سکتی ہے۔اپنے عورت ہونے پہ فخر محسوس کریں۔مگر اپنے فرائض کو بھی ساتھ لے کے چلیں۔ فخر محسوس کریں۔ کہ آپ کینزِ زہرا ع اور کینزِ زینبؑ ہیں۔ آپ کے سامنے کوئی فحش گروہ نہیں بلکہ یہ عظیم ہستیاںؑ رہنمائی کے لئیے ہونے چاہئیں۔۔

    عورت کا دن تو ہر نیاء دن ہے۔ پھر صرف ایک دن ہی کیوں۔۔۔۔ میرا سلام ہے ۔ان تمام خواتین کو جو کھیتوں میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ محنت کرتی ہیں۔ اور ناصرف ان کا بازو بنتی ہیں۔ بلکہ ملکی معشیت کی مظبوطی میں بھی اپنا کردار اہم ادا کر رہی ہیں۔ ان تمام خواتین اساتذہ کو جو روز سینکڑوں اذہان کو شعور بخشنے کا سبب ہیں۔ ان تمام گھریلو خواتین کو جو گھر میں رہ کر گھر کو بخوبی چلا رہی ہیں۔ اور اپنے گھر کے ارکان کے لئیے باعث ِسکون ہیں۔ ان تمام ماؤں کو جو اپنے اولادوں کی بہترین تربیت کر رہی ہیں۔میرا سلام ہے۔ اسلام کی ہر باحیا و باپردہ بیٹی کو، جو اپنے مقام و تقدس سے آگاہ ہے۔

    آخر میں میرا خواتین کا عالمی دن میری رہنما ہستیوںؑ ، حضرت بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور سیدہ زینب الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے نام ہے۔ اللہ رحمن الرحیم سے دعا ہے۔ کہ وہ تمام بیٹیوں کو ہماری ان عظیم رہنماؤں سلام اللہ علیھا کی پیروی کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین

    میں بیٹی، میں ماں، بہن ، ہم سفر میں
    سبھی کا سکوں میں سدا چاہتی ہوں

    عطاۓ خدا ہیں مرے حوصلے بھی
    میں عنبرؔ ہمیشہ نبھا چاہتی ہوں

  • قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

    قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

    معاشرے میں صحافت کو ہمیشہ سچ کی آواز اور مظلوم کی ڈھال سمجھا گیا ہے۔ اخبار کے صفحات کو وہ مقدس جگہ مانا جاتا ہے جہاں حقائق بولتے ہیں اور انصاف کی امید جاگتی ہے۔ مگر جب یہی صفحات کچھ لوگوں کے لیے ذاتی مفادات اور ناجائز تقاضوں کا ذریعہ بن جائیں تو نہ صرف صحافت کی روح مجروح ہوتی ہے بلکہ انسانیت بھی شرمندہ ہو جاتی ہے۔
    آج بھی ہمارے معاشرے میں کئی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں خبریں شائع کروانے کے خواہشمند افراد خصوصاً خواتین کو غیر اخلاقی تعلقات یا ناجائز مطالبات ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا المیہ ہے۔ خبر شائع کروانا ایک حق ہے کوئی سودا نہیں۔ مگر جب اس حق کو بلیک میلنگ کا ہتھیار بنا دیا جائے تو متاثرہ شخص کی عزت خودداری اور اعتماد سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

    سوچیے، ایک بیوہ ماں اپنے بیٹے کے قاتلوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے اخبار کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، ایک طالبہ ہراسانی کے خلاف ثبوت لے کر آتی ہے یا ایک غریب مزدور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی داستان سنانا چاہتا ہے۔ایک قلم کار اپنے قلم سے عوام میں شعور اجاگر کرنا چاہتی ہے اسکو اپنی حوس مٹانے پر مجبور کرنے کی آبیتی بیان کرنا چاہتی ہے یہ لوگ انصاف کی امید لے کر آتے ہیں مگر اگر ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کی مجبوریوں کا سودا کیا جائے تو یہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہے۔

    یہ مسئلہ صرف اخلاقی گراوٹ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی جرم ہے۔ ایسے رویے متاثرہ افراد کو خاموشی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر انصاف مانگنے کی قیمت عزت ہو تو پھر خاموشی ہی بہتر ہے۔ یوں ظلم بڑھتا جاتا ہے اور سچ دب کر رہ جاتا ہے۔

    صحافت کا اصل مقصد طاقتور کو جوابدہ بنانا اور کمزور کو آواز دینا ہے۔ ایک سچا صحافی اپنے قلم کو امانت سمجھتا ہے نہ کہ ذاتی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ۔ جو لوگ اس مقدس پیشے کو بدنام کرتے ہیں، وہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے شعبے کا اعتماد کھو دیتے ہیں۔ ان کے سبب وہ بے شمار دیانتدار صحافی بھی مشکوک نگاہوں سے دیکھے جانے لگتے ہیں جو واقعی حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ادارے اپنے اندر سخت احتسابی نظام قائم کریں۔ شکایات کے لیے محفوظ اور خفیہ راستے فراہم کیے جائیں تاکہ متاثرہ افراد بلا خوف اپنی بات رکھ سکیں۔ ساتھ ہی عوام کو بھی یہ شعور دیا جائے کہ وہ اپنے حقوق سے آگاہ رہیں اور کسی بھی ناجائز مطالبے کے سامنے جھکنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔
    یہ وقت ہے کہ ہم قلم کی حرمت کو بچائیں سچ کی آواز کو مضبوط کریں اور ان مجبور خاموشیوں کو زبان دیں جو خوف اور بلیک میلنگ کے سبب دب جاتی ہیں۔ کیونکہ جب خبر چھپتی نہیں بلکہ بیچی جانے لگے تو صرف صحافت نہیں مرتی، معاشرہ بھی اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔
    آخر میں ایک سوال ہم سب کے لیے:
    کیا ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں انصاف کی قیمت عزت ہو؟
    جہاں عورت کو حوس بجھانے کا نا سمجھا جائے ؟
    یا ایسا جہاں سچ بولنا جرم نہ ہو اور خبر شائع کروانا کسی کی خودداری کا سودا نہ بنے؟
    فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

  • 14 فروری یومِ حیا، ردِ ویلنٹائن،تحریر: سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    14 فروری یومِ حیا، ردِ ویلنٹائن،تحریر: سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
    ”اور بے حیائیوں کے قریب نہ جاؤ’ جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں۔“
    ( القرآن الکریم؛ سورة الانعام آیت151)

    14 فروری کو جہاں ایک مخصوص طبقہ سرخ پھولوں کا تبادلہ کرے گا۔تو وہیں پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا بڑا طبقہ اس کو یومِ حیا کے طور پر منائے گا، اس دن یومِ حیا منانے کا مقصد محبت کا نام پر ہونے والی فحاشی و عریانی کے خلاف حجاب، شرم و حیا اور اور اسلامی اقدار کو پروان چڑھانا ہے۔ جس کے لئیے مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

    اگر ہم تاریخ کے زاویہ سے دیکھیں تو ”ویلنٹائن ڈے“ اصلاً رومیوں کا تہوار ہے ۔ جس کی ابتدا تقریباً 17 سو سال قبل ہوئی تھی۔ اس کا مسلم تہذیب و ثقافت سے ہرگز کوئی واسطہ نہیں۔ جبکہ مسیحی مذہب میں بھی مذہبی نکتہء نگاہ سے اس دن کی مذمت کی گئی ہے۔ اور چرچ کی جانب سے ویلنٹائن ڈے کو جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا جاتا ہے۔ 2016ء میں مسیحی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں بیانات جاری کئیے۔ بلکہ بنکاک میں ایک پادری نے اس دن کے رد کے طور پہ اپنے ہم خیال افراد کے ہمراہ ویلنٹائن ڈے کا سامان فروخت کرنے والی دکان کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔

    پاکستان میں جب ویلنٹائن ڈے کی روایت عروج پر تھی۔ تو جماعتِ اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمیعتِ طلبہ نے اسے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یومِ حیا کے طور پر منانا شروع کیا۔ تاکہ اس فحاشی کے خلاف مہذب انداز میں احتجاج کر کے اسے رد کیا جا سکے۔ یومِ حیا منانے کی روایت زیادہ پرانی نہیں۔ مگر اپنی فکر و نظریہ کے سبب انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جس کا سہرا بلاشبہ اسلامی جمیعت طلبہ کے سر جاتا ہے۔
    پاکستان میں 2012ء سے ویلنٹائن ڈے کے روز ہی یومِ حیا منایا جاتا ہے۔ اپنی مذہبی و اخلاقی اقدار کے مطابق بے حیائی کی مذمت میں اب تمام اہلِ علم و فکر شامل ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ یومِ حیا منانے والوں کی بڑی کامیابی میں عدلیہ کا کردار بھی اہم ہے۔ گزشتہ سالوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری سطح پہ ویلنٹائن ڈے منانے اور میڈیا پہ اس کی تشہیر سے روک دیا تھا۔ اور اسلام آباد انتظامیہ کو بھی حکم جاری کیا تھا ۔ کہ وہ عوامی مقامات پہ یہ بیہودگی نہ منانے دے۔ عدلیہ نے وزارت اطلاعات اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پمرا) کے حکام سے کہا تھا۔ کہ میڈیا کو ایسے پروگرام کی کوریج سے روکا جائے ۔ اور جو کرے اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

    اس وقت بھی ضرورت ہے۔ کہ حکومتی و قانونی سطح پہ اس دن کی مذمت کی جائے۔ اور ٹک ٹاک و دیگر ایپس پہ فحاشی و وقت کے ضیاع کے اسباب کو کنٹرول کیا جائے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب اور مکتبِ فکر محبت کے نام پہ فحاشی و بے حیائی کی بلکل بھی اجازت نہیں دیتا۔ حیا عورت کا اصل زیور و پہچان ہے۔ پردہ اور شرم و حیا ہی عورت کے تقدس کی علامت ہیں۔

    فرمانِ آقا دو جہاں رحمت اللعالمین ﷺ ہے:
    ”بہترین اولاد باپردہ بیٹیاں ہیں۔“
    (بحار انوار جلد 104)
    اللہ رب العزت سے دعا ہے۔ کہ وہ ہر بیٹی کے پردے سلامت رکھے ۔ اور اس کی حفاظت فرمائے۔
    آمین

  • "انا اور عزتِ نفس: فرق کیا ہے؟”تحریر:پارس کیانی

    "انا اور عزتِ نفس: فرق کیا ہے؟”تحریر:پارس کیانی

    انسانی شخصیت کے باطن میں کچھ جذبات ایسے ہیں جو بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کی سمت، اثر اور انجام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ انا اور عزتِ نفس بھی انہی میں سے ہیں۔ عام گفتگو میں ان دونوں کو خلط ملط کر دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات انا کو عزتِ نفس کا نام دے کر اس کی توجیہ پیش کی جاتی ہے۔ حالانکہ انا اور عزتِ نفس نہ صرف جدا مفاہیم رکھتے ہیں بلکہ اخلاقی اور نفسیاتی اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد بھی ہیں۔

    عزتِ نفس انسان کی وہ مثبت داخلی قوت ہے جو اسے اپنی قدر پہچاننے، اپنے وجود کا احترام کرنے اور خود کو بے جا ذلت سے محفوظ رکھنے کا شعور دیتی ہے۔ عزتِ نفس کا تعلق خود آگاہی، خود احتسابی اور خود اعتمادی سے ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان نہ خود کو کمتر سمجھتا ہے اور نہ ہی دوسروں سے برتر۔ وہ اپنی حدود کو جانتا ہے، اپنی خامیوں کا اعتراف کرتا ہے اور اپنی خوبیوں پر شکر گزار رہتا ہے۔ عزتِ نفس انسان کو خاموش وقار عطا کرتی ہے، چیخنے چلانے، ثابت کرنے یا دوسروں کو نیچا دکھانے کی حاجت نہیں پڑتی۔

    اس کے برعکس انا ایک منفی، دفاعی اور جارحانہ جذبہ ہے جو عدمِ تحفظ سے جنم لیتا ہے۔ انا دراصل خود کو بچانے کا نہیں بلکہ خود کو ثابت کرنے کا اضطراب ہے۔ انا کا شکار انسان ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں اس کی برتری، حیثیت یا اختیار پر حرف نہ آ جائے۔ اسی خوف کے زیرِ اثر وہ اختلاف کو توہین سمجھتا ہے، سوال کو گستاخی اور تنقید کو دشمنی قرار دیتا ہے۔ انا کا مقصد خود کو محفوظ رکھنا نہیں بلکہ دوسروں کو زیر کرنا ہوتا ہے۔
    عزتِ نفس انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے پُرسکون انداز میں کھڑا ہو، جبکہ انا اسے یہ سکھاتی ہے کہ وہ ہر حال میں جیتے، چاہے اس کے لیے کسی کی تذلیل ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ عزتِ نفس خاموش ہوتی ہے، انا شور مچاتی ہے۔ عزتِ نفس دلیل پر یقین رکھتی ہے، انا طاقت پر۔ عزتِ نفس برداشت سکھاتی ہے، انا انتقام پر منتج ہوتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ عزتِ نفس رکھنے والا انسان معذرت کر لینے میں عار محسوس نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ معافی اس کی قدر کم نہیں کرتی۔ جبکہ انا پرست شخص معذرت کو شکست سمجھتا ہے، اس کے نزدیک جھکنا مٹ جانے کے مترادف ہے۔ عزتِ نفس انسان کو خود سے مضبوط تعلق دیتی ہے، انا اسے مسلسل دوسروں سے مقابلے میں الجھائے رکھتی ہے۔

    فلسفیانہ اعتبار سے دیکھا جائے تو عزتِ نفس وجودی توازن کی علامت ہے۔ یہ انسان کو اپنی ذات کے مرکز میں رکھتی ہے، جہاں وہ اپنی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے اور اپنی حدود بھی پہچانتا ہے۔ انا اس توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ انا انسان کو اپنے مرکز سے ہٹا کر دوسروں کی نگاہوں، آراء اور ردِعمل کا غلام بنا دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے جھکنے میں اپنی بقا تلاش کرنے لگتا ہے۔

    سماجی سطح پر انا فساد کو جنم دیتی ہے، جبکہ عزتِ نفس ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ انا رشتوں کو توڑتی ہے، کیونکہ اس میں جیت صرف ایک کی ہوتی ہے۔ عزتِ نفس رشتوں کو نبھاتی ہے، کیونکہ اس میں احترام باہمی ہوتا ہے۔ انا اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتی ہے، عزتِ نفس اختلاف کے باوجود وقار برقرار رکھتی ہے۔
    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عزتِ نفس انسان کو بلند کرتی ہے اور انا اسے تنہا کر دیتی ہے۔ تاریخ، ادب اور عمرانی تجربہ اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ انا پرست افراد بظاہر طاقتور دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر سے کھوکھلے اور بے چین ہوتے ہیں۔ جبکہ عزتِ نفس رکھنے والے افراد خاموشی سے اپنا مقام بنا لیتے ہیں، بغیر کسی کو کچلے، بغیر کسی کو ذلیل کیے۔

    اصل امتحان یہ نہیں کہ انسان خود کو کب بچاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کو بچاتے ہوئے دوسروں کو کتنا محفوظ رکھتا ہے۔ عزتِ نفس یہی توازن سکھاتی ہے، جبکہ انا اس توازن کو پامال کر دیتی ہے۔ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عزتِ نفس خودی کی حفاظت ہے اور انا خودی کی بیماری۔ عزتِ نفس انسان کو انسان بناتی ہے، انا اسے اپنی ہی ذات کا قیدی۔ جو شخص عزتِ نفس کے ساتھ جیتا ہے وہ دوسروں کو جینے دیتا ہے، اور جو انا کے ساتھ جیتا ہے وہ دوسروں کے وقار پر زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی دونوں کے درمیان اصل اور فیصلہ کن فرق ہے۔

  • ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

    ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

    بچپن ہمیشہ عجیب ہوتا ہے۔ یہ ہمیں ہنس کر وہ سچ دکھا دیتا ہے جسے بڑے ہو کر بھی ہم نہیں سمجھ پاتے۔ مجھے آج بھی اپنا وہ بچپن یاد ہے جب ہمارے ایک چچا ہر محفل میں ایک عجیب شدت کے ساتھ ایک ہی بات دہراتے تھے۔ وہ علامہ اقبال رح کے شیدائی تھے، اور ان کے ایک مصرع نے تو جیسے ان پر جادو کر دیا تھا۔ جب بھی کہیں بیٹھتے، گفتگو ذرا سی رکتی تو وہ بڑے یقین سے کہتے:

    "پھول کی پتی ہیرے کا جگر کاٹ سکتی ہے… علامہ صاحب نے فرمایا ہے!”

    محفل میں لوگ چونک جاتے۔ کوئی ہنستا، کوئی بحث چھیڑ دیتا، مگر چچا جان اپنی جگہ اٹل رہتے۔
    "بھئی، اقبال نے کہا ہے تو سچ ہی کہا ہوگا۔”
    اور بس، بات وہیں ٹھہر جاتی۔
    ایک دن کسی نے ہمت کر کے ان کو دوسرا مصرع سنا دیا:
    "مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر”

    مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے۔ چچا جان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو عجیب سی خاموشی اُتری، جیسے پوری زندگی ایک لمحے میں الٹ گئی ہو۔ انہوں نے پہلی بار جانا کہ وہ برسوں سے جس بات پر بضد تھے، وہ پوری تھی ہی نہیں۔ وہ صرف آدھا شعر تھا، اور آدھا سچ لے کر چلتے رہے ۔کبھی دوسرے مصرع کو غور سے پڑھنے کی اور سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔۔۔۔
    اس دن پہلی بار سمجھ آیا کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اسی چچا جان کی طرح ہی ہیں، ادھوری بات سنتے ہیں، ادھوری سمجھتے ہیں، ادھورا علم لے کر پوری زندگی چل پڑتے ہیں۔
    ہمارے گرد موجود اکثر گمراہیاں پوری غلط فہمی نہیں ہوتیں، صرف ادھی معلومات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
    ہم لفظوں کے پہلے حصے سے فیصلے کرتے ہیں، جذبات کے پہلے جھٹکے سے رشتے توڑ دیتے ہیں، ایک سن کر دس کہہ دیتے ہیں، کوئی افواہ پوری سنی نہیں ہوتی اور ہم اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اکثر ماں باپ بچوں سے ادھی بات کرتے ہیں، استاد ادھی وضاحت پر اکتفا کرتے ہیں، بچے اسکول سے ادھی حقیقت اٹھا لاتے ہیں، اور ہم ساری زندگی ادھورے خیالات کے بوجھ تلے چلتے رہتے ہیں۔
    سوال یہ نہیں کہ ہم ادھی بات لے کر چلتے ہیں،
    سوال یہ ہے کہ ہم پوری بات سننے میں ناکام کیوں ہیں؟
    سماجیات کہتی ہے کہ انسان جلد نتیجہ نکالنے کی جبلّت رکھتا ہے۔
    نفسیات بتاتی ہے کہ ذہن آدھی بات کو مکمل کہانی بنا لیتا ہے۔
    تاریخ گواہ ہے کہ بڑی غلطیاں، بڑی جنگیں، بڑے فتنہ و فساد… اکثر ایک ادھوری بات سے پھوٹے۔

    اور روزمرّہ کی زندگی میں؟
    ہم اپنے غلط مفروضے سنبھال کر رکھتے ہیں، انہیں عقیدے کی طرح برتتے ہیں، اور پھر کبھی پلٹ کر یہ نہیں دیکھتے کہ حقیقت کیا تھی۔ علم کی دنیا میں تو یہ بات اور بھی خطرناک ہے۔ آدھی کتاب، آدھا حوالہ، آدھا فہم، یہ سب انسان کو یقین کا ہتھیار دیتے ہیں، مگر حقیقت کا چراغ بجھا دیتے ہیں۔
    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم ادھوری بات سن کر چل پڑتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ادھوری بات آگے بھی منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ہم ایسے ہی جملے، ایسے ہی غلط مفروضے اور ایسے ہی ادھورے حوالوں کو نسل در نسل پہنچاتے رہتے ہیں۔ کیا پتہ جو ہمارے سامنے غلط بول رہا ہے، کسی بات کو آدھا سن کر پورا سمجھ بیٹھا ہے، وہ خود بھی کسی ایسے ہی شخص کا شکار ہو جس نے اسے ادھوری بات کا تحفہ دیا تھا۔
    یہ ذمہ داری ہم سب پر ہے کہ جب ہم پہلی بار کسی کو کوئی علم دیں، کوئی حوالہ بتائیں، کوئی بات سمجھائیں، تو یہ یقین کر لیں کہ بات پوری پہنچی بھی ہے یا نہیں۔ علم چراغ کی طرح ہے؛ اگر ہم اسے آدھا ہی تھما دیں تو وہ روشنی نہیں دیتا، صرف دھند پیدا کرتا ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ سننے والا بات کو کتنا سمجھ پایا ہے، کہاں خلا رہ گیا ہے، اور کہاں وضاحت کی ضرورت ہے۔
    دنیا کو ادھورے فہم نہیں، مکمل اور سچّی باتوں کی ضرورت ہے، اور یہ ذمہ داری ہم سے شروع ہوتی ہے کہ ہم جو منتقل کریں، وہ پورا ہو، درست ہو، روشن ہو، اور آنے والے ذہنوں کو بھٹکائے نہیں بلکہ سمت دے۔
    جب بھی ہم علم یا کوئی سوچ منتقل کریں، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اکثر جو ہمارے سامنے بات کر رہا ہے، اس کے پاس بھی علم ادھورا ہو سکتا ہے، کسی نے اسے بھی ادھوری بات ہی دی ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اپنی بات پوری کریں بلکہ سننے والے کی سمجھ بھی پرکھیں۔ پلٹ کر دیکھیں، جانچیں، اور اس بات کا یقین کر لیں کہ علم صحیح اور مکمل پہنچا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو ادھورے فہم کو ختم کرتا ہے اور زندگی کو روشن کرتا ہے۔