Baaghi TV

Category: خواتین

  • عورت کمزور نہیں،تحریر: شازیہ حنیف

    عورت کمزور نہیں،تحریر: شازیہ حنیف

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    آج میں جس موضوع پہ تبصرہ کرنے لگی ہوں اسکا عنوان کچھ یوں ہے "عورت کمزور نہیں” عورت کو صدیوں سے کمزور سمجھنے کی روایت آج بھی ہمارے معاشرے میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ کبھی اسے فیصلہ کرنے کے قابل نہیں سمجھا جاتا، کبھی اس کی رائے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور کبھی اس کی خاموشی کو اس کی کمزوری تصور کر لیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر عورت کو کب تک کمزور سمجھا جاتا رہے گا؟یہ سوال اس وقت اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب ہم محکمہ تعلیم کی طرف دیکھتے ہیں۔ تعلیم کا محکمہ وہ ادارہ ہے جو معاشرے کی سوچ بدلنے، نئی نسل کی تربیت کرنے اور انسان کو اس کے حقوق و فرائض سے آگاہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ لیکن اگر اسی شعبے میں کام کرنے والی عورت کو کمزور، کم تر یا حقیر سمجھا جائے تو پھر سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ہم نئی نسل کو مساوات اور احترام کا درس کیسے دیں گے؟محکمہ تعلیم میں خواتین کی تعداد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اساتذہ کی بڑی تعداد خواتین پر مشتمل ہے۔ وہ صبح سویرے گھروں سے نکلتی ہیں، تعلیمی اداروں میں پہنچتی ہیں، بچوں کو پڑھاتی ہیں، ان کی تربیت کرتی ہیں، دفتری ذمہ داریاں نبھاتی ہیں اور پھر گھر واپس جا کر خاندان کی ذمہ داریاں بھی پوری کرتی ہیں ـپھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک عورت ایک ہی وقت میں استاد، منتظم، ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے کردار نبھا سکتی ہے تو اسے کمزور کس بنیاد پر سمجھا جاتا ہے؟کیا صرف اس لیے کہ وہ عورت ہے؟اگر کسی دفتر، کسی ادارے یا کسی محکمے میں کسی خاتون کی بات کو صرف اس کی جنس کی بنیاد پر کم اہم سمجھا جائے تو یہ صرف ایک فرد کی توہین نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے ـخواتین افسران اور خواتین اساتذہ کو بھی وہی عزت، اعتماد اور پیشہ ورانہ مقام ملنا چاہیے جو کسی مرد کو حاصل ہے۔ کسی خاتون کی صلاحیت کا فیصلہ اس کے کام سے ہونا چاہیے اس کی جنس سے نہیں۔یہ بھی درست ہے کہ ہر جگہ عورت کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوتی اور ہر مرد عورت کو کمزور نہیں سمجھتا۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسے مرد موجود ہیں جو خواتین کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہیں، ان کا احترام کرتے ہیں اور ان کی ترقی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن جہاں کہیں عورت کو محض عورت ہونے کی وجہ سے دبایا، نظر انداز یا حقیر سمجھا جائے، وہاں آواز اٹھانا ضروری ہے ـآخر جس محکمے کا بنیادی مقصد تعلیم اور شعور پھیلانا ہے، وہاں عورت کو ہی کمزور کیوں سمجھا جائے؟ہمیں یہ سوال صرف محکمہ تعلیم سے نہیں بلکہ پورے معاشرے سے کرنا ہوگا۔عورت کو رعایت نہیں چاہیے اسے برابری کا حق چاہیے۔اسے خصوصی سلوک نہیں چاہیے اسے منصفانہ سلوک چاہیے۔اسے کسی عہدے کا تحفہ نہیں چاہیے اسے اپنی قابلیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع چاہیے اور سب سے بڑھ کر اسے یہ احساس چاہیے کہ اس کی محنت، رائے اور صلاحیت کی قدر کی جاتی ہے۔عورت کمزور نہیں۔ وہ اس نظام کا فعال حصہ ہے۔ وہ استاد ہے تو قوم کے معمار تیار کرتی ہے، افسر ہے تو انتظامی معاملات سنبھالتی ہے، منتظم ہے تو ادارے کو نظم و ضبط دیتی ہے اور ماں ہے تو ایک پوری نسل کی پہلی درسگاہ بنتی ہے۔ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔عورت کی خاموشی کو اس کی کمزوری نہ سمجھیں۔ ممکن ہے وہ خاموش اس لیے ہو کہ اسے اپنے وقار کا خیال ہو۔ اس کے صبر کو اس کی بے بسی نہ سمجھیں۔ ممکن ہے وہ صرف اس لیے برداشت کر رہی ہو کہ وہ اپنے ادارے اور اپنے فرض سے مخلص ہے۔لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور عزت ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔محکمہ تعلیم ہو، صحت ہو، انتظامیہ ہو یا کوئی اور شعبہ؛ کسی بھی ادارے کی ترقی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک وہاں کام کرنے والی خواتین کو برابر کا احترام، محفوظ ماحول اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مواقع نہ ملیں۔ہمیں ایسی سوچ پیدا کرنی ہوگی جہاں عورت کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہ پڑے کہ وہ کمزور نہیں۔ اس کی قابلیت ہی اس کا تعارف ہو، اس کی محنت ہی اس کی پہچان ہو اور اس کا کردار ہی اس کی قدر و منزلت کا پیمانہ ہو ـکیونکہ عورت کو کمزور سمجھنا دراصل معاشرے کی اپنی سوچ کی کمزوری ہے۔عورت کمزور نہیں ہے اسے کمزور سمجھنے والی سوچ کمزور ہے اور اگر ہم واقعی تعلیم کے ذریعے معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں تو تبدیلی کا آغاز ہمیں اپنے اداروں سے ہی کرنا ہوگا۔عورت کو حقیر نہ سمجھیں، اسے برابر سمجھیں ـاسے دبائیں نہیں اس کی صلاحیت کو راستہ دیں ـاسے خاموش نہ کریں، اس کی بات سنیں کیونکہ جس معاشرے میں عورت کو عزت ملتی ہے، وہاں صرف عورت نہیں، پورا معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔

  • مہندی اور انسان،تحریر:عَائِشَہ گُل

    مہندی اور انسان،تحریر:عَائِشَہ گُل

    مہندی لگنا سب لڑکیوں کو اچھا لگتا ہے۔ ہر لڑکی چاہتی ہے کے میرے ہاتھ خوب صورت لگے اچھے لگے!مجھے بھی مہندی بہت اچھی لگتی ہے۔ یہ تو ہو گئی آپ کی اور میری پسند کی بات! آپ سوچ رہے ہوگے کہ آج کی تحریر میں کچھ پسند کی باتیں ہونگی۔ لیکن ایسا بلکل نہیں ہے۔ میں کچھ اور بات کرنے والی ہوں۔ اور وہ بات یہ ہے!

    مہندی اور انسان ملی جلی کیفیت کے حامل ہوتے ہیں’ سوال یہ پیدا ہوتا ہے وہ کیسے؟ کہاں مہندی،اور کہاں انسان دونوں کا ذکر ایک ساتھ کیسے؟وہ ایسے کے جب ہم کسی بھی شخص سے ملتے ہیں،یا کوئی ہم سے ملتا ہے۔تو بہت تکلف ہوتا ہے کے سامنے والے کو کوئی بات بری نہ لگ جائے،اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں،اچھے طریقے سے ملتے ہیں۔یہ ہوئی پہلی ملاقات! اب جیسے جیسے کچھ لوگوں کی اصلیت ہمارے سامنے آتی جائے گی ہم بیزار ہونے لگتے ہیں۔ہمارا دل نہیں کرتا ملنے کو،بات کرنے کو! وجہ کیا ہوتی ہے؟ کہ شروع میں تو کافی اچھے بنتے تھے۔ اصل بات تو ملنے،اور جاننے کے بعد پتا چلتی ہے۔

    "اسطرح جب نئی نئی مہندی لگتی ہے تو اس کا رنگ کتنا خوبصورت لگتا ہے”۔ جس کی وجہ سے ہاتھوں کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور جیسے جیسے اس کا رنگ پھیکا پڑنے لگتا ہے تو یہ بد صورت ہو جا تی ہے۔ بس یہی فکر لاحق ہوتی ہے کہ جلدی سے یہ اتر جائے اس کی وجہ سے ہاتھ برے لگتے ہیں۔۔۔۔ ایسا ہی ہے ناں؟؟؟
    اب آپ بتایئں ہوئے نہ انسان اور مہندی ایک ہی کیفیت کے مالک؟

  • جوجی کی واپسی اور تین سال کا سفر،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    جوجی کی واپسی اور تین سال کا سفر،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    وہ کوئی عام بلی نہیں، بلکہ ہمارے گھر کا سب سے لاڈلا، سفید و براؤن فر والا شاہی پرشین نژاد "بِلو جوجی” ہے۔ وہ جو اگلے چند دنوں میں اپنی زندگی کے تین سال مکمل کرنے والا ہے، یعنی تین سال سے ہماری خوشیوں اور مسکراہٹوں کا مرکز! پرشین بلیاں اپنی معصومیت اور گھر کے اندر رہنے کی عادت کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، شاید اسی لیے آج کا دن ہمارے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھا۔

    صبح نہ جانے کب وہ چپکے سے گھر کا کھلا دروازہ دیکھ کر باہر نکل گیا۔ دن ڈھلا، دوپہر گزری اور پھر شام کے سائے گہرے ہونے لگے، لیکن جوجی کا کہیں پتہ نہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دل میں عجیب عجیب سے وسوسے اور خوفناک خیالات پنپنے لگے تھے۔ "وہ تو باہر کی دنیا سے واقف ہی نہیں، کسی دوسری گلی کے کتے یا بلی نے اسے نقصان نہ پہنچایا ہو؟” ان سوالوں نے جیسے سانسیں روک دی تھیں۔

    آخر کار، ہم سب اسے ڈھونڈنے باہر نکلے۔ محلے کا کونا کونا چھان مارا، اور پھر قدم ایک سنسان گلی کی جھاڑیوں کے پاس جا کر رک گئے۔ دل کی دھڑکنیں تیز تھیں۔ میں نے دھیمی اور پیار بھری آواز میں پکارا: "جوجی۔۔۔ جوجی۔۔۔”
    میری آواز سنتے ہی جھاڑیوں کے بیچ سے ایک ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی اور جوجی کی ایک جھلک نظر آئی۔ وہ ایک ڈرا ہوا، سہما ہوا بچہ بن کر وہاں چھپا بیٹھا تھا، باہر کے ماحول نے اس نازک پرشین بچے کو بری طرح ڈرا دیا تھا۔ وہ خوف کے مارے باہر ہی نہیں نکل رہا تھا۔ آخر کار، ایک ڈنڈے کی مدد سے جھاڑیوں کو ہٹا کر اسے پیار سے باہر نکالا اور گود میں اٹھا کر گھر لے آئے۔

    گھر آتے ہی جوجی سیدھا پانی کے پیالے کی طرف لپکا، جیسے صدیوں کا پیاسا ہو۔ پانی پی کر جب اس نے چکن کھایا، تو اس کی جان میں جان آئی۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ وہ اپنی مخصوص آواز میں "میاؤں میاؤں” کرتا ہوا دوبارہ کھانے کے برتن کے پاس آ کھڑا ہوا، جیسے کہہ رہا ہو کہ پورے دن کا کوٹہ تو اب پورا کرنا ہے۔ پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد، وہ اپنی تمام تھکن اور خوف بھلا کر گہری اور پرسکون نیند سو گیا، اور ہم نے بھی سکھ کا سانس لیا کہ ہمارا تین سال کا ساتھی ہمارے پاس محفوظ ہے۔

  • دوہرا معیار،تحریر : محمد سبحان شوق

    دوہرا معیار،تحریر : محمد سبحان شوق

    ہمارے معاشرے میں دو جملے بڑے کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، عورت کی عزت اور مرد کی غیرت۔

    عجیب بات یہ ہے کہ دونوں الفاظ جتنے بلند اور مقدس دکھائی دیتے ہیں، عملی زندگی میں اتنے ہی اکثر ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ عورت سے کہا جاتا ہے کہ خاندان کی عزت تمہارے ہاتھ میں ہے، اور مرد سے کہا جاتا ہے کہ گھر کی عزت کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ عزت آخر ہے کیا؟ ایک انسان کا کردار، یا دوسرے انسان کے اختیار پر پہرا؟ ہم نے عورت کی عزت کو اس کے لباس، آواز، آمدورفت، دوستوں، ملازمت اور حتیٰ کہ اس کی مسکراہٹ تک سے جوڑ دیا ہے۔ دوسری طرف مرد کی غلطی کو اکثر یہ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ "لڑکے تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔” یہی وہ مقام ہے جہاں غیرت، اصول نہیں رہتی بلکہ دوہرے معیار کا نام بن جاتی ہے۔

    اگر ایک لڑکی رات کو دیر سے گھر آئے تو سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے؛ لیکن اگر گھر کا بیٹا اسی وقت واپس آئے تو پوچھنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ لڑکی کسی مرد سے بات کرے تو کردار زیرِ بحث آجاتا ہے، مگر لڑکا کئی لڑکیوں سے تعلق رکھے تو دوستوں کی محفل میں اسے کامیاب عاشق سمجھا جاتا ہے۔ یہ کیسا اخلاقی نظام ہے جس میں گناہ کا معیار جنس کے ساتھ بدل جاتا ہے؟ ہم عورت کو عزت دینے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر اکثر اسے انسان سمجھ کر نہیں بلکہ خاندان کی ملکیت سمجھ کر عزت دیتے ہیں۔ اس کے فیصلے پر اعتراض، اس کی پسند پر پہرا، اس کے خوابوں پر پابندی اور اس کی زندگی کے فیصلے خاندان کی اجتماعی ملکیت بنا دیے جاتے ہیں۔ پھر اسے بتایا جاتا ہے کہ یہ سب محبت ہے، حفاظت ہے اور غیرت ہے۔

    غیرت اگر واقعی غیرت ہے تو اس کا پہلا تقاضا انصاف ہونا چاہیے جس مرد کو اپنی بہن کے لیے آزادی کا انتخاب خطرناک لگتا ہے، اسے اپنے بیٹے کے لیے بھی وہی اصول مقرر کرنا چاہیے۔ جس باپ کو بیٹی کی دوستی پر تشویش ہوتی ہے، اسے بیٹے کی دوستی پر بھی اتنی ہی تشویش ہونی چاہیے۔ جس شوہر کو بیوی کے لباس پر اعتراض ہے، اسے اپنے کردار اور نگاہ کا حساب بھی دینا چاہیے۔

    مسئلہ عورت کے آزاد ہونے سے زیادہ ہمارے اس خوف کا ہے کہ اگر عورت کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق مل گیا تو مرد کی صدیوں پرانی حاکمیت کہاں جائے گی؟ لیکن یہاں ایک دوسرا سوال بھی ضروری ہے۔ کیا آزادی کا مطلب ہر حد سے آزادی ہے؟ ہرگز نہیں۔

    عورت ہو یا مرد، آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ اخلاق، وفا، حیا اور کردار کسی ایک جنس کی میراث نہیں۔ اگر مرد کو اپنی خواہشات کے نام پر ہر آزادی حاصل ہے تو عورت بھی انسان ہے، اور اگر عورت کے لیے اخلاقی حدود ضروری ہیں تو مرد ان حدود سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔

    اصل مسئلہ عورت یا مرد نہیں، اصولوں کا غیر مساوی اطلاق ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف یہ سکھانے کے بجائے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟” یہ بھی سکھانا ہوگا کہ "صحیح کیا ہے؟” اور اپنے بیٹوں کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ "مرد بنو”، بلکہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ مردانگی غصے، اختیار اور جبر کا نام نہیں؛ ذمہ داری، ضبطِ نفس اور احترام کا نام بھی ہے۔

    عورت کی عزت اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک مرد کی تربیت نہیں ہوگی، اور مرد کی عزت بھی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک عورت کو محض خاندان کی عزت کا بوجھ سمجھا جاتا رہے۔ شاید ہمیں غیرت کی تعریف دوبارہ لکھنے کی ضرورت ہے۔ غیرت یہ نہیں کہ آپ کسی عورت کو گھر سے باہر نکلنے نہ دیں۔ غیرت یہ ہے کہ آپ کسی پر ظلم نہ ہونے دیں۔ غیرت یہ نہیں کہ آپ کسی کی آواز دبا دیں۔ غیرت یہ ہے کہ آپ اپنی زبان کو ظلم کا ہتھیار نہ بنائیں۔ اور غیرت یہ بھی نہیں کہ آپ عورت کے کردار کا حساب لیتے پھریں۔ اصل غیرت یہ ہے کہ انسان اپنے کردار کا حساب خود دے۔

    جس دن ہم نے یہ فرق سمجھ لیا، شاید اس دن عورت کو عزت دینے کے لیے اس کی آزادی چھیننے کی ضرورت نہیں پڑے گی، اور مرد کو غیرت مند ثابت کرنے کے لیے کسی دوسرے انسان پر اختیار جتانے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔

  • ماں محبت و وفا کا پیکر،تحریر:  ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    ماں محبت و وفا کا پیکر،تحریر: ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    دنیا کی پہلی ماں حوا جب کہ پہلا باپ حضرت آدم ہے۔ نسل انسانی کی تاریخ میں یہ پہلا جوڑا ہے جنہیں والدین بننے کا شرف حاصل ہوا۔ بعد ازاں اسی جوڑے کی مرہون منت نسلی انسانی معرض وجود میں آئی اور تا حال یہ سلسلہ تواتر و تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے اور جب تک دنیا قائم و دائم ہے۔ یہ سلسلہ اپنی تاریخ دہراتا رہے گا۔

    عالم کائنات میں قدرت نے انسانوں کو رشتوں کی ڈوری میں موتیوں کی طرح باندھ رکھا ہے۔ سبھی رشتوں کا تقدس اپنی اپنی جگہ سہی لیکن جو عزت و توقیر خدائے ذوالجلال نے ماں کی جھولی میں ڈال دی ہے۔ وہ سب رشتوں پر سبقت لے جاتی ہے۔ کیونکہ خدا نے ایک ماں کو جو وصف اور اولاد سے محبت کا جذبہ عطا کیا ہے۔ اس میں اپنائیت کے چشمے، تربیت کے چراغ، محبت کی فراوانی اور اپنی خوشیوں کو دوسروں پر نچھاور کرنے کی جو جواں مردی ہے۔

    اس کا نعم البدل کسی دوسرے رشتے میں سمو نہیں سکتا۔ چونکہ ماں کے نام کی عرفانیت اور معنویت حقیقی جذبوں کی ترجمان و سرشار ہے۔ کیونکہ اس نام میں نہ کھوٹ ہے۔ نہ بغاوت ہے۔ نہ ملاوٹ ہے۔ بلکہ اس کے قلب و ذہن سے ہر وقت محبت کے چشمے پھوٹتے رہتے ہیں۔ اس کی کوکھ سے رحم، ہمدردی، ایثار، وفا، ایمانداری اور خلوص جیسی صفات کا جنم ہوتا ہے۔ ان سب صفات کا بہاؤ قدرتی چشمے کی مانند ہے۔ خدا ماں کی فطرت سے ان صفات کا کنواں کھلا رکھتا ہے تاکہ ہر ایک کی ضرورت اور طلب کے مطابق اس کی ضرورت پوری ہو سکے۔

    قدرت نے اولاد کے لیے ایک ماں کو جو تڑپ، محبت اور وفا کا بوجھ دیا ہے۔ وہ اسے بخوشی اٹھاتی اور برداشت کرتی ہے۔ بلکہ وہ محسوسات اور اپنائیت کے ذریعے اپنی وفاداری کا ثبوت عمل و کردار کے ذریعے فراہم کرتی ہے۔وہ شب و روز کی پرواہ کیے بغیر اپنی ذمہ داریوں کا قرض اتارنے میں مگن رہتی ہے۔ حالات چاہے کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی محبت اور وفا میں کمی نہیں آتی۔ کیونکہ قدرت نے ایک ماں کے اندر وفاداری اور ایمانداری جیسی صفات کو اس کے لہو میں شامل کر دیا ہے۔ وہ ہر وقت اپنی زبان پر دعاؤں کا بخور جلاتی ہے۔ شمع بن کر جلتی ہے۔ دوسروں کو روشنی مہیا کرتی ہے۔ اپنے اندر توانائی کے ذخائر رکھتی ہے۔ اپنی فطرت سے وفا کے شعلے بجھنے نہیں دیتی۔موسموں کی پرواہ کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ اپنے اندر پھولوں جیسی خوشبو کا احساس رکھتی ہے۔ جہاں سے بھی گزرتی ہے۔ دلوں کو موہ لیتی ہے۔ ہر وقت زبان پر محبت کے نغمات گنگناتی ہے۔ سب فکروں کے بوجھ اٹھا کر صبح سے شام تک کم کرتی رہتی ہے۔ ہر دن کے نئے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ چپکے چپکے اپنے آنچل سے ٹھنڈی ہوا کے جھو نکے دیتی ہے۔ اس کے دم سے ہر موسم بہار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ نئے رنگ، نئی کلیاں، نئی کونپلیں، نئے شگوفے، نئی سوچ، نئی فطرت اور نئی حکمت سے معمور ہو کر زندگی کا ہر دن آسان تر بناتی جاتی ہے۔
    حیرت ہے ماں کے ماتھے پر کبھی شکنیں نہیں پڑتیں۔ اپنی ذات پر ہر دکھ سہ کر بھی شکوؤں کی رال نہیں ٹپکاتی۔ بلکہ ہر ناحق بات کو بھی ہضم کر جاتی ہے۔ ہر وقت اپنے ہاتھ میں محنت کا ہل اور تربیت کے اجزائے ترکیبی رکھتی ہے۔ اپنے سب رشتے ناتے بھول کر اولاد کی پرورش میں گم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ قدرت نے اس کے اندر ممتا کا ایسا چراغ جلا رکھا ہے جس پر خواہ آندھیاں چلیں، زلزلے آئیں یا طوفان آئیں یہ ژالہ باری ہو۔ وہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے۔اپنی محبت میں کمی نہیں آنے دیتی۔ بلکہ جرات و بہادری کے جوہر دکھا کر اپنی شان و عقیدت میں وقفے وقفے سے اضافہ کرتی رہتی ہے۔ قدرتی طور پر اس کے خون میں محبت کی تپش، چہرے پہ مسکراہٹ، اعصاب میں وفا کی سلوٹیں، آنکھوں میں خوشی کے آنسو، لبوں پہ تر و تازگی کے پھول رکھ کر اپنی زندگی کا سفر جاری و ساری رکھتی ہے۔ اپنے جذبات کی بدولت تمام رکاوٹیں عبور کر لیتی ہے۔ اپنی خوشیوں کی پرواہ کیے بغیر محبت کے جذبات کو اولاد پر نچھاور کر دیتی ہے۔

    اس کے دل کا موسم کبھی نہیں بدلتا۔ بلکہ سدا بہار رہتا ہے۔ گرمی ہو یا سردی، بہار ہو یا خزاں۔ وہ موسموں کی پرواہ کیے بغیر اپنے آنچل سے ٹھنڈی ہوا دیتی ہے۔ موسم تو آتے جاتے اور اپنا رنگ بکھیرتے ہیں۔ مگر اس کے دل کا موسم کبھی نہیں بدلتا۔ ایسے ماحول اور معاشرے میں جذبات کی آب و ہوا صرف ماں کے پاس ہوتی ہے۔ وہ ہمارے غموں کو دیکھنے کے لیے شاہین جیسی آنکھیں رکھتی ہے۔
    وہ اولاد کے بن کہے سب کچھ محسوس کر لیتی ہے۔ کیونکہ اس کے اندر احساس کے چشمے اور محسوسات کے نمکیات ہوتے ہیں۔ اس کی زبان ہر وقت محبت کی جگالی کرتی ہے۔
    دوسروں کو کچھ کہنے کے لیے اس کے پاس سلیقے اور قرینے کے ان گنت انداز و جملے ہوتے ہیں۔ وہ اظہار سے زیادہ فکر و عمل کے نظریات سے خدمت کرتی ہے۔ اپنی زبان کو برے منصوبے، جھوٹ، فریب، مکر، ناچاقی اور ناپاکی جیسی گندگی سے پاک رکھتی ہے۔ اندر باہر جاتے وقت ہمیشہ لبوں پہ دعاؤں کا بخور جلاتی ہے۔ احساسی ذمہ داری کا چراغ جلا کر کھوئی ہوئی چیزوں کو تلاش کرتی ہے۔ خاندان کے سب افراد کے لیے خدمت کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ سب کی خدمت اپنے منشور میں شامل کر لیتی ہے۔
    اگر ماں کی حقیقی خدمت اور احسانات کا جائزہ لیا جائے تو وہ بارش کے پانی کی طرح ٹپکتے رہتے ہیں۔ ہماری آنکھیں ان کا شمار نہیں کر سکتیں۔ وہ اولاد کی خوشی کے لیے ہر لمحہ قربان کر دیتی ہے۔ اپنے کردار کی بدولت عزت و وقار پاتی ہے۔ اپنی فطرت میں تعلقات و روابط کا چراغ جلاتی ہے۔ اپنے اپ کو ملنساری کی روح سے معمور کر لیتی ہے۔
    اپنی فطرت کے باعث دوسروں کو دعوت فکر دیتی ہے کہ میرے جیسے ہو جاؤ۔ وفا کرو گے تو وفا ملے گی۔ محبت کرو گے تو محبت ملے گی۔ خوشی دو گے تو خوشی ملے گی۔ آئیں اس دن کے موقع پر اپنی ماں کی گود میں عقیدت و محبت کے پھول ڈال دیں۔ کھل کر اس کی قربانیوں کا اعتراف کریں۔ ہر روز دل و جان سے اس کی عزت کریں۔ خدا عمر درازی کا تحفہ عطا کر دے گا۔ کیونکہ سرفرازی اور کامیابی ماں کی دعاؤں کے بخور سے ہی ممکن ہے۔

  • عورت کی تعلیم ،تحریر : شگفتہ خان

    عورت کی تعلیم ،تحریر : شگفتہ خان

    کوئی بھی معاشرہ ترقی کی شاہراہ پر اس وقت تک گامزن نہیں ہو سکتا جب تک مرد و عورت دونوں کو یکساں طور پر خود مختار نہیں مانتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کائنات کے سب رنگ عورت کی وجہ سے ہیں۔ عورت ہر روپ، ہر رشتے میں محبت اور عاجزی کے ساتھ رب کی بہترین تخلیق ہے۔ عورت معاشرے کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بے شک کما کر مرد ہی لاتا ہے مگر گھر ایک جنت تب بنتا ہے۔ جب عورت اسے سجاتی، سنوارتی اور اپنا سمجھتی ہے۔ کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ ” ایک مرد کی تعلیم، ایک فرد کی تعلیم ہے اور ایک عورت کی تعلیم سمجھو ایک نسل کی تعلیم ہے۔” ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کہا جاتا ہے۔ اس نے جو بھی سیکھنا ہے ماں سے سیکھنا ہے اگر ماں اچھی تربیت کر رہی ہے تو مطلب وہ معاشرے کو ایک اچھی نسل دے رہی ہے۔ گھر کا ماحول بچے کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جو اپنے گھر میں والدین کو دوسروں کی عزت واحترام کرتا ہوا دیکھتا وہ خود بخود ویسا ہی کرتا ہے۔ بیٹا ہو یا بیٹی دونوں کی تربیت اچھی ہو تو وہ جہاں بھی جائیں گے۔ ایک واضح شناخت رکھیں گے لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ عورت تعلیم یافتہ ہو۔ تعلیم کا حصول بھی صرف ڈگری کا حصول یعنی کاغذی کاروائی نہ ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ عورت کی تعلیم پوری نسل کی تعلیم ہو تی ہے۔

    عورت چاہے تو نسلیں سنوار دے اور چاہے تو نسلیں اجاڑ دے۔ تعلیم شعور دیتی ہے۔ اچھے برے کی پہچان کرنا سکھاتی ہے۔ پڑھی لکھی با شعور ماں کو پتہ ہوگا کہ وہ زمانے کے لحاظ سے بچوں کی تربیت اچھے طریقے سے کیسے کر سکتی ہے۔ بدلتے زمانے کا ساتھ دینے کےلئے ضروری ہے کہ وہ پہلے خود کو وقت کے سانچے میں ڈھالے اور اس کےلئے لازمی ہے کہ عورت تعلیم یافتہ ہو۔ وہ زمانے کے بدلتے اطوار سیکھے گی تو اپنے بچوں کو سکھائے گی۔ بچوں میں ایمانداری، صداقت، ہمدردی، احترام، پاسداری عہد، صبر و تحمل، برداشت، درگزر، مذہبی اقدار، خود اعتمادی، رکھ رکھاو، سلیقہ، شائستگی، کفایت شعاری اور احساس کے جذبے کو پروان چڑھا کر معاشرے کو ایک ذمہ دار شہری دیتی ہے۔ جس عورت کو ان جذبات و احساسات کا خود کچھ علم نہ ہو اس نے دوسروں کو کیا سکھانا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تعلیم یافتہ عورت اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرکے ایک ذمہ دار شہری بنا کر معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

  • واپسی کا راستہ،تحریر: اقصیٰ وحید

    واپسی کا راستہ،تحریر: اقصیٰ وحید

    آج کافی عرصے بعد قلم اٹھایا ہے۔ کچھ دن پہلے ایکسیڈنٹ پیش آیا، پھر تقریبات کی مصروفیت اور پیپرز کی بھاگ دوڑ نے لکھنے کی مہلت ہی نہ دی۔ آج تھوڑا سا وقت ملا تو دل نے کہا کہ کچھ لکھا جائے، اس لیے لکھنے بیٹھ گئی۔

    آج جس موضوع پر بات کرنی ہے، وہ دل کو بہت مضطرب کرتا ہے۔ یہ بات ان تمام معصوم بچیوں کے لیے نہیں جو اپنی زندگی سلیقے اور سمجھ داری سے گزار رہی ہیں، بلکہ ان چند بھٹکی ہوئی روحوں کے لیے ہے جو موبائل کے غلط استعمال کی نذر ہو جاتی ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ یہ بھٹکنا ان کا اپنا قصور نہیں ہوتا۔ یہ شیطان کا کام ہے، جو نہایت مہارت سے دلوں میں غلط سوچیں بو دیتا ہے اور انہیں ایسے سجا کر پیش کرتا ہے کہ وقتی طور پر دل کو سکون سا محسوس ہونے لگتا ہے۔

    مگر یہ سکون عارضی ہوتا ہے، جھوٹا ہوتا ہے۔ کچھ عرصے بعد یہی بچیاں اندر ہی اندر بے چین رہنے لگتی ہیں اور رفتہ رفتہ نامحرم کی محبتوں میں ایسی گرفتار ہو جاتی ہیں کہ عقل و شعور دونوں ماند پڑ جاتے ہیں۔ اور پھر وہ سب سے بڑا ظلم کر بیٹھتی ہیں: اپنے والدین کو ٹھکرا دیتی ہیں۔ وہی والدین، جنہوں نے راتوں کو جاگ کر انہیں پالا، جنہوں نے اپنی خواہشات قربان کر کے انہیں پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں۔ ایک موبائل اسکرین اور ایک ایسے انسان کے لیے، جسے کچھ ہفتوں یا مہینوں کی دوستی سے جانا ہوتا ہے، وہ ماں باپ کے برسوں کے احسانات کو بھلا بیٹھتی ہیں اور اس مختصر سی وابستگی کو "سب کچھ” سمجھ لیتی ہیں، جیسے اس کے سوا دنیا میں کچھ باقی ہی نہیں بچا۔

    یہاں ایک سادہ سی بات سمجھنے کی ہے۔ جو والدین بلا کسی غرض، بلا کسی لالچ کے، محض محبت کی بنیاد پر آپ کے تمام اخراجات اٹھاتے ہیں، آپ کو تعلیم دلواتے ہیں، آپ کے ہر خواب کو اپنا خواب بنا لیتے ہیں، کیا یہ ممکن ہے کہ وہی لوگ آپ کے مستقبل کے فیصلے میں آپ کا برا چاہیں؟ جو رشتہ برسوں کی بے لوث قربانی پر قائم ہو، اس پر شک کرنا اور ایک اجنبی کی باتوں پر اعتماد کر لینا، سراسر ناانصافی ہے۔ اسی بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو بچیاں اس دلدل میں پھنس چکی ہیں، کیا ان کے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں؟ الحمدللہ، ایسا ہرگز نہیں۔ یہ سوچ کہ "اب مجھ سے نہیں ہو سکتا” دراصل شیطان کا ایک اور دھوکہ ہے، تاکہ انسان امید ہی چھوڑ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو دل سے نکلنا چاہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے۔ جب انسان کا ایمان پختہ ہو جائے، جب وہ اس حقیقت کو دل سے تسلیم کر لے کہ والدین کی محبت میں کوئی ملاوٹ نہیں، کہ اللہ تعالیٰ کی محبت سب سے بڑھ کر مخلص ہے اور یہ کہ گھر والے ہمیشہ ہمارے حقیقی بھلے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو پھر دل خود بخود ان جھوٹے رشتوں اور جھوٹی تسلیوں سے بیزار ہو جاتا ہے۔
    بس ایک قدم اٹھانے کی دیر ہے۔ اللہ سے سچی توبہ، والدین کی طرف واپسی اور اس یقین کے ساتھ آگے بڑھنا کہ جو راستہ اللہ اور ماں باپ نے دکھایا ہے، وہی سب سے محفوظ اور سب سے روشن راستہ ہے۔

  • غربت کیا ہے،غربت کیوں ہوتی ہے؟تحریر: مبراء عبدالقیوم

    غربت کیا ہے،غربت کیوں ہوتی ہے؟تحریر: مبراء عبدالقیوم

    بعض لفظ روز مرہ کا حصہ اس طرح بن جاتے ہیں کہ ہم اُن کی گہرائی کا احساس تک کھو دیتے ہیں۔ غربت بھی انہی لفظوں میں سے ایک لفظ ہے۔ ہم اسے صرف خالی جیب، خالی برتن، یا پھٹے ہوئے کپڑوں میں تلاش کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ غربت محض روپے پیسے کی کمی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک سوچ ہےاور ایک معاشرتی ڈھانچے کی ناکامی ہے۔ غربت اُس وقت پیدا نہیں ہوتی جب کسی کے پاس پیسے کم ہوں، بلکہ اس لمحے جنم لیتی ہے جب کسی معاشرے میں انصاف کم ہو جاتا ہے۔

    میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جن کے پاس صرف دو وقت کی روٹی تھی، مگر ان کے چہرے پر کبھی محرومی کی لکیر تک نہیں دکھائی دی۔ اور ایسے بھی دیکھے ہیں جن کے بینک بیلنس بھاری، مگر دل چھوٹے تھے۔ اس لیے مجھے ہمیشہ یہی لگا ہےکہ غربت کا اصل تعلق جیب سے پہلے دل اور سوچ سے ہوتا ہے۔ جس دل میں اللہ کا شکر، رزق کی قدر اور محنت کا یقین ہو، وہاں غربت رہ نہیں سکتی۔ لیکن جس معاشرے میں انسان کا حق دبا دیا جائے، وسائل چند ہاتھوں میں قید ہو جائیں، اور محنت کرنے والا اپنی محنت کا پھل نہ پا سکے،وہاں غربت پورا نظام بن کر پھیل جاتی ہے۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں غربت صرف روزی روٹی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک تاریخی اور اجتماعی بیماری بھی ہے۔ اس کی سب سے پہلی جڑ تقسیم میں ناانصافی ہے۔ جب وسائل چند خاندانوں کے پاس ہوں، جب تعلیم صرف امیروں کا زیور بن جائے، جب اچھے ہسپتال صرف طاقتوروں کو میسر ہوں اور جب کمزور کا حق صرف سفارش کی میز پر ہی طے ہوتو پھر غربت محض اتفاق نہیں رہتی، مقدر بن جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں لوگ غریب پیدا نہیں ہوتے، اُنہیں غریب بنا دیا جاتا ہے۔

    دوسری بڑی وجہ تعلیم کا بحران ہے۔ ایک بچہ اگر اچھے اسکول تک نہ پہنچ سکے، اس کے پاس مہارت نہ ہو، اس کے سامنے مواقع نہ ہوں، تو وہ بجائے ترقی کے، غربت کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ علم وہ چراغ ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکالتا ہے، مگر جب معاشرہ یہ چراغ چند گھروں تک محدود کر دے تو باقی لوگ ہمیشہ اندھیروں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔

    تیسری وجہ بے روزگاری اور غیر منصفانہ روزگار کا نظام ہے۔ نوکریاں سفارش کی بنیاد پر ملتی ہیں، نوجوان ڈگریاں لیے سڑکوں پر گھومتے ہیں، اور محنت کا معاوضہ محض زندہ رہنے کے لائق ہوتا ہے۔ ایسا معاشرہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا۔ جب تک مزدور کی مزدوری عزت کے ساتھ نہ دی جاۓ، جب تک نوجوان کو ان کے ہنر کے مطابق سہارا نہ دیا جائے، تب تک غربت کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔
    چوتھی وجہ آبادی کا بڑھنا بھی ہے۔ وسائل محدود ہیں مگر ضرورتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ہمارے ہاں منصوبہ بندی کم ہے اور ہماری امیدیں زیادہ ہیں۔ جب خاندان وسائل کے بغیر پھیلتے جاتے ہیں تو ان کے بچوں کے خواب بھی چھوٹے ہوتے جاتے ہیں، پھر نسل در نسل غربت منتقل ہوتی رہتی ہے۔

    پانچویں اور سب سے اہم وجہ سوچ کی غربت ہے۔ کئی گھروں میں غربت اس لیے نہیں ہوتی کہ اللہ نے رزق کم دیا ہے، بلکہ اس لیے کہ ہم میں سے کچھ لوگ رزق کو اپنامقدر سمجھ کر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھ جاتے ہیں اور رزق کی تلاش میں کوئی کوشش نہیں کرتے۔اور پھر خود اعتمادی کھو دیتے ہیں اور دوسروں سے حسد کرنے لگتے ہیں۔ یوں ہمارے اندر کی غربت باہر کی غربت سے بھی زیادہ گہری ہو جاتی ہے۔ اصل غربت وہ ہے جو انسان کے حوصلے پست کر دے، اس کے یقین کو کم کر دے اور کوشش کی روشنی کو بجھا دے۔

    ان تمام وجوہات کے باوجود ایک حقیقت سب سے بڑھ کر دکھ دیتی ہے۔ غربت اکثر غریب کی نہیں، معاشرے کی بے حسی کی ہوتی ہے۔ جب ہم کسی بھوکے کو نظرانداز کر کے گزر جاتے ہیں، جب ہم ایک مجبور ماں کے ہاتھ کانپتے دیکھتے ہیں مگر آنکھیں پھیر لیتے ہیں، جب ہم روز سڑک پر کسی مزدور کی تھکن محسوس کرتے ہیں، مگر اس کی مزدوری کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں—تو ہم خود غربت کو بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ غریب وہ نہیں جس کے پاس کھانے کو کم ہے، غریب وہ ہے جس کے ساتھ معاشرہ کھڑا نہیں ہوتا۔
    غربت تب کم ہوگی جب معاشرے کا ہر شخص اپنا کردار پہچانے گا۔ حکومت کے کرنے کے کام اپنی جگہ، مگر ہر فرد کی ذمہ داری اس سے زیادہ ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں میں فضول خرچیاں کم کر دیں، اگر ہم کسی ایک خاندان کی تعلیم کا ذمہ لے لیں، اگر ہم اپنے ملازم کے بچے کو ایک کتاب خرید دیں، اگر ہم کسی یتیم کے لیے اسکول کی فیس جمع کروا دیں، تو شاید ہم ایک نسل بدل سکتے ہیں۔ اور جب ایک نسل بدلتی ہے، تو اس کے ساتھ پورا معاشرہ بدل جاتا ہے۔
    آخر میں۔۔۔میں صرف اتنی سی بات کہنا چاہتی ہوں کہ غربت کبھی انسان کو نہیں ہراتی، انسان کی بے حسی اسے بڑھاتی ہے۔ غربت تب ختم ہوتی ہے جب ہم سب اپنے رویّے بدلتے ہیں، انصاف قائم کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔

  • المیہ یہ کہ لوگ بدل رہے ہیں؟تحریر: آمنہ وحید

    المیہ یہ کہ لوگ بدل رہے ہیں؟تحریر: آمنہ وحید

    اس جہاں میں شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو گا جو خود کو خود بدل دینا چاہتا ہو،اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو مجبور کر دیئے جاتے ہیں،کبھی حالات کے سانچے میں خود کو ڈھال لیتے ہیں تو کبھی وقت کا ہیر پھیر انہیں بدل ڈالتا ہے۔
    ہم ہمیشہ وہ نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں،اگر کبھی ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کسی وقت میں ہم بھی بہت حساس ہوتے تھے،لوگوں کے دکھ کو بھی اپنا دکھ سمجھتے تھے۔لیکن ہماری اس حساس طبیعت کا غلط استعمال کیا جاتا رہا اور اسی غلط استعمال نے بالآخر ہمیں ایک سنگدل انسان بنا دیا،ایک ایسا انسان جو لوگوں کی باتوں کو اہمیت دیتے دیتے خود اپنی زات کو کہیں دور چھوڑ گیا،اسے بدلے میں جب کچھ ملا تو فقط دکھ،تکلیف،اذیت،اور پتھر دل لوگوں کی یادیں۔
    میں نے زندگی کے گزرے ماہ و سال سے سیکھا ہے کہ اگر ہم اپنی حساسی طبیعت کے باعث کسی سے مخلص بھی ہوتے ہیں تو وہ مخلصی بھی ہمارے منہ پر پٹخ دی جاتی ہے۔

    حساس طبیعت کے مالک لوگ تو فقط اتنا ہی جانتے ہیں کہ ہر ایک ان کی طرح دل کا صاف،نیت کا خالص،اور وفاداری میں بےلوث ہے،مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے۔اور پھر یہ نازک مزاج لوگ جب اہل جہاں سے روشناس ہوتے ہیں تو انہیں یہ دنیا ایک آنکھ نہیں بھاتی،پھر وہ ٹوٹ جاتے ہیں،بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پھر وہ توڑ دیئےجاتے ہیں،ان کے اعتبار کو ایسی ٹھیس پہنچتی ہے کہ وہ کسی کو بھی قابل اعتبار نہیں سمجھ سکتے۔
    وہ زندگی میں آگے بڑھنے سے خوف محسوس کرتے ہیں،
    انہیں انسانوں سے ڈر لگتا ہے۔
    وہ بے بس ہو جاتے ہیں زندگی کو جینے کے لئے،مجبوری سے دن گزارتے ہیں،کیونکہ وہ بکھر جاتے ہیں اور بکھرے ہوئے ان موتیوں کو جوڑنے والا اول تو کوئی نہیں ہوتا،اگر کوئی کوشش بھی کرے انھیں جوڑنے کی، تو وہ اسے بھی نگاہ شک سے دیکھتے ہیں۔

    "تم کیا جانو قابل ترس ہوتے ہیں یہ لوگ
    حالات کے بدلے ہوئے سادہ لوح لوگ ”
    اس سب کے باوجود بھی ہم ان بدلے ہوئے لوگوں سے جب بھی کہتے ہیں تو فقط یہ کہ "آپ بدل گئے ہیں،آپ وہ نہیں رہے جس سے ہم نے تعلق بنایا تھا”۔تو یہ جملے کہتے وقت اتنا ضرور سوچئے گا کہ یہ مجبور کر کے بدل جانے والے لوگ ہیں۔۔
    خدارا ان حساس اور نازک مزاج لوگوں کا خیال کیجئے کیونکہ یہی تو وہ لوگ ہیں جن سے انسانیت کا وجود قائم ہے۔انسانیت نام ہے دوسرے انسانوں کے درد کو محسوس کرنے کا،اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو دنیا میں انسان تو باقی رہ جائیں گے لیکن انسانیت ختم ہو جائے گی۔

  • انسان بنے خدا  ،تحریر: ایس اے شازِم

    انسان بنے خدا ،تحریر: ایس اے شازِم

    انسان نے صدیوں کی محنت سے پہاڑ کاٹ دیے، سمندروں پر پل بنا دیے، چاند تک رسائی حاصل کر لی اور مشینوں کو سوچنا سکھا دیا۔ ترقی کی ہر منزل اس کے قدموں میں ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ اتنی بلندیوں کے باوجود "انسان بننے” کا سفر ابھی تک نامکمل ہے۔ ہم نے فطرت کو مسخر کر لیا مگر اپنے نفس کو نہیں، ہم نے آسمانوں کی وسعتوں کو ناپ لیا مگر اپنے دل کی تنگی کو کم نہ کر سکے اور شاید اسی تضاد کا نتیجہ ہے کہ آج کا سب سے بھیانک منظر یہ ہے کہ انسان نے دوسرے انسان پر "خدا” بننے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

    یہ خدائی کسی تخت پر بیٹھ کر اعلان کرنے کا نام نہیں۔ یہ ایک خاموش رویہ ہے، ایک زہر ہے جو آہستہ آہستہ رشتوں، اداروں اور سماج میں سرایت کر جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ایک شخص اپنے عہدے، دولت، علم یا طاقت کو دوسرے کی عزت اور حقوق سے بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ جب اسے لگتا ہے کہ "میں جو کہوں وہی قانون ہے۔”
    تصور کیجیے؛
    سرکاری دفتر کی گرمی میں ایک ستر سالہ بوڑھی عورت پینشن کی فائل ہاتھ میں دبائے کھڑی ہے۔ اس کے پاؤں کانپ رہے ہیں۔ اہلکار کرسی پر ٹیک لگا کر بے نیازی سے کہتا ہے "بی بی کل آنا”۔ اس ایک جملے میں اس عورت کی ایک ماہ کی روٹی، دوائی اور عزت سب معطل ہو جاتی ہے۔ اہلکار کے لیے یہ معمول ہے مگر عورت کے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔ خدائی ہر جگہ موجود ہے۔

    یہ خدائی صرف دفتر تک محدود نہیں، یہ ہمارے گھروں میں پلتی ہے۔ ایک باپ جب طیش میں بیٹے سے کہتا ہے "میری مرضی کے بغیر تم سانس بھی نہیں لے سکتے” تو وہ باپ نہیں رہتا، وہ آمر بن جاتا ہے۔
    شوہر جب بیوی کی رائے کو "عورتوں کو کیا پتہ” کہہ کر اڑا دیتا ہے تو وہ شریکِ حیات نہیں رہتا، وہ قاضی کے منصب پر براجمان ہو جاتا ہے۔
    یاد رکھیے، رشتے ہمیں دوسروں پر حکومت کرنے کے لیے نہیں ملے۔ یہ ہمیں دوسروں کی زمہ داری اٹھانے کے لیے ملے ہیں۔ اختیار امانت ہے، کھلونا نہیں!

    مسئلہ یہ نہیں کہ کسی کے پاس اختیار ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اختیار کے ساتھ رحم کتنا ہے؟
    وہ افسر سب سے بڑا ہے جو فائل پر دستخط کرتے وقت سوچے کہ "اس دستخط سے کسی کا چولہا جلے گا”۔
    وہ استاد سب سے بڑا ہے جو غریب بچے کی پھٹی کتاب دیکھ کر اسے نئی کتاب دے دے۔
    وہ دکاندار سب سے بڑا ہے جو مزدور کی دیہاڑی ایک دن بھی لیٹ نہ کرے۔
    وہ والد سب سے بڑا ہے جو بچے کی "فضول” بات بھی توجہ اور اطمینان سے سنے۔
    یہی چھوٹے چھوٹے فیصلے قوموں کا مزاج بناتے ہیں۔ ہمیں اس تلخ حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا کہ یہ کرسی، یہ دولت، یہ جوانی، یہ شہرت کچھ بھی مستقل نہیں ہے۔

    آج آپ کسی کے سامنے اپنی طاقت کا ڈنکا بجا رہے ہیں، کل آپ خود کسی کے محتاج ہو سکتے ہیں۔
    زندگی بہت تیزی سے پلٹا کھاتی ہے۔ آج جو دستخط کر رہا ہے، کل وہ خود دستخط کے لیے ترلے کر رہا ہوگا۔ اس لیے کسی کی مجبوری کو اپنی طاقت کی سیڑھی نہ بنائیں۔
    کسی کی خاموشی کو اپنی جیت کا میڈل نہ پہنیں اور کسی کو اس لیے حقیر نہ سمجھیں کہ آج وہ آپ سے کمزور ہے۔
    بڑا انسان وہ نہیں جو دوسروں کو جھکا کر اپنی اونچائی ثابت کرے بلکہ بڑا انسان وہ ہے جس کے ہاتھ میں کسی کو توڑنے کی پوری طاقت ہو مگر وہ اسے جوڑنے کا انتخاب کرے۔ یاد رکھیں! ایک دن ہم سب کو مٹی میں جانا ہے۔ وہاں نہ تو وی آئی پی پروٹوکول ہوگا، نہ بینک بیلنس، نہ ہی کوئی منصب۔ وہاں صرف ایک چیز جائے گی۔ ہمارا کردار اور وہ لوگ جن کے ساتھ ہم نے حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا۔

    اس لیے خدا بننے کی دوڑ چھوڑ دیجیے۔
    دنیا کو انسانی خدا نہیں چاہیے۔ دنیا کو ایسے انسان چاہیے جو دوسروں کے لیے آسانی، سہارا اور رحمت بن جائیں۔
    بےشک انسانیت ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔