پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021 کا اعلان کردیا گیا ہے، سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں 12 خواتین کرکٹرزکو شامل کیا گیا ہے، تمام کٹیگریز کے ماہوار وظیفے میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جویریہ خان اور بسمہ معروف اے کٹیگری میں برقرار ہیں، ندا ڈار کی بی کٹیگری میں ترقی کی گئ ہے، پی سی بی ویمنز کرکٹر آف دی ایئر 2020 فاطمہ ثناء کو کٹیگری سی میں جگہ مل گئی ہے، کائنات امتیاز نشرہ سندھو، انعم امین، فاطمہ ثنا، کائنات امتیاز، ناہیدہ خان، عمیمہ سہیل اور سدرہ نوازبھی کٹیگری سی کا حصہ بن گئی ہے، فاطمہ ثناء کے علاوہ گزشتہ سال ایمرجنگ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی تمام کرکٹرز رواں سال بھی ایمرجنگ کٹیگری میں شامل ہیں، رواں سال 12 خواتین کرکٹرز کو کنٹریکٹ سے نوازا گیا ہے، گزشتہ سال یہ تعداد 9 تھی، ان تمام کھلاڑیوں کے لیے اعلان کردہ کنٹریکٹ یکم جولائی سے لاگو ہوں گے، ان 12 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ کی اے، بی اور سی کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ایمرجنگ کنٹریکٹ کی لسٹ میں بھی 8 کھلاڑی شامل ہیں،ایمرجنگ ویمنز کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021 میں عائشہ نسیم، کائنات حفیظ، منیبہ علی صدیقی، نجیہہ علوی،رامین شمیم، صباء نذیر ،سعدیہ اقبال اور سیدہ عروب شاہ شامل ہیں، انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ میں گزشتہ ایک سالہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دئیے گئے ہیں، اس سلسلے میں آئندہ ڈومیسٹک کرکٹ اور مستقبل میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی مصروفیات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے، قومی خواتین کرکٹ کودورہ ویسٹ انڈیز کے بعد اب 2 ٹی ٹونٹی اور 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے لیے اکتوبر میں انگلینڈ کی میزبانی کرنی ہے، قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو دسمبر میں آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ کوالیفائر میں شرکت کرنی ہے، آئندہ سال پاکستان کو آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈکپ اور کامن ویلتھ گیمز میں بھی شرکت کرنی ہے، قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے جنوری 2021 میں جنوبی افریقہ کا دورہ کیا تھا، جہاں سےاسکواڈ زمبابوے روانہ ہوا تھا تاہم کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث وہ دورہ مکمل نہ کیا جاسکا تھا،علاوہ ازیں، سیزن 21-2020 میں پی سی بی نے قومی سہ فریقی ٹی ٹونٹی ویمنز چیمپئن شپ کا بھی انعقاد کیا تھا، جنوبی افریقہ کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز میں دو نصف سنچریاں اسکور کرنے والی واحد کرکٹر ندا ڈار کو سینٹرل کنٹریکٹ کی کٹیگری سی سے بی میں ترقی دی گئی ہے، وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی دوسری کھلاڑی تھیں،
گذشتہ سال پی سی بی ویمنز ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتنے والی فاطمہ ثنا ءکو سی کٹیگری میں ترقی مل گئی ہے، وہ اس سے قبل ایمرجنگ کٹیگری کا حصہ تھیں، 19 سالہ کرکٹر نے ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتےہوئے تین میچوں میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں، اس دوران انہوں نے تین اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 95 رنز بھی بنائے تھے، اس ٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی قرار پانے والی کائنات امتیاز کو بھی موجودہ کنٹریکٹ کی سی کٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کی چار اننگز میں 111 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ تین کھلاڑیوں کو بھی پویلین کی راہ دکھائی تھی، نشرہ سندھو کو بھی کٹیگری سی کا کنٹریکٹ پیش کیا گیا ہے، انہوں نےڈیانا بیگ (9 وکٹیں ) کے بعد گزشتہ سیزن میں پاکستان کی جانب سے ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ (6 وکٹیں) حاصل کی تھیں، جنوبی افریقہ میں پاکستان کی قیادت کرنے والی جویریہ خان ویسٹ انڈیز کے خلاف 30 جون سے شروع ہونے والی سیریز میں بھی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کریں گی، تین ٹی ٹونٹی اور پانچ ون ڈےانٹرنیشنل میچز میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والی جویریہ خان کو سینٹرل کنٹریکٹ کی ٹاپ(اے) کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے، ان کے ساتھ بسمہ معروف بھی اسی کٹیگری کا حصہ ہیں، فاطمہ ثناء کے علاوہ گزشتہ سال ایمرجنگ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی تمام کھلاڑیوں کو اس کٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے، اُدھر وکٹ کیپر سدرہ نواز کی کٹیگری بی سے سی میں تنزلی ہوگئی ہے.
چیئرآف نیشنل ویمنز سلیکشن کمیٹی عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ وہ سیزن 22-2021 کے لیے ویمنز کنٹریکٹ پانے والی تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں، رواں سال 12 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا ہے، گزشتہ سال یہ تعداد 9 تھی، عمدہ کارکردگی کی بدولت فاطمہ ثناء کو ایمرجنگ سے ترقی دے کر سی کٹیگری میں شامل کرلیا گیا ہے، تاہم ایمرجنگ کٹیگری میں شامل باقی آٹھوں کھلاڑیوں کو رواں سال بھی ایمرجنگ کنٹریکٹ دیا گیا ہے، وہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہیں۔ عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے گزشتہ سال دنیا کے لیے ایک چیلنج تھا مگر پی سی بی نےاس دوران بھی خواتین کرکٹرز کے لیے انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کا اہتمام کیے رکھا ہے، ندا ڈار نے جنوبی افریقہ میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث انہیں سی سے بی کٹیگری میں ترقی دی گئی ہے، وہ پرامید ہیں کہ ندا ڈار ایک سینئر ممبر کی حیثیت سے یہ ذمہ داری نبھاتی رہیں گی اور اپنی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کو میچز جتوانے کی کوشش کرتی رہیں گی، وہ کائنات امتیاز اور نشرہ سندھو کو بھی مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں کہ جو بین الاقوامی اور ڈومیسٹک دونوں طرز کی کرکٹ میں اپنی کارکردگی سے سلیکٹرز کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی ہیں، جہاں ہم نے چند کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں سینٹرل کنٹریکٹ میں ترقی دی ہے تو وہیں ہم نے غیرتسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر سدرہ نوازکی کٹیگری بی سے سی میں تنزلی کردی ہے،
سلیکشن کمیٹی چھ ماہ بعد کنٹریکٹ کی اس فہرست کا دوبارہ جائزہ لے گی اور اگر ضرورت پڑی تو اس پر نظرثانی بھی کی جائے گی تاہم ہمیں یقین ہے کہ یہ تمام کھلاڑی ہمارے اعتماد پر پورا اتریں گی.
Category: خواتین
-

کنٹریکٹ خواتین کھلاڑیوں کا اعلان کردیا گیا
-

خواتین۔۔۔ ذہنی اور جذباتی زیادتی، تحریر: طلعت کاشف سلام
اکثر دیکھا گیا ہے کے جب کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کے ان کے ساتھ زیادتی ہوئی یے۔
کیونکہ وہ سمجھ ہی نہیں پاتی کے دوسرے آپ کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ ذیادتی کس کس طرح کی ہوتی ہے اس پر ان کا دماغ جاتا ہی نہیں۔
ذیادتی کا مطلب یہ نہیں کے کسی کی عزت ہی لوٹی جائے تو وہ ذیادتی کہلاتی ہے۔زیادتی بہت طرح سے ہوتی ہے۔ اور یہ ھماری زمداری ہے کے ھم اپنے بچوں کو سمجھائیں کے ذیادتی کے اصل معنی کیا ہیں۔
بہت سے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کے کونسا سلوک یا انداز اچھا ہے اور کون سا انداز غنڈاگردی یا نامناسب ہے اور تہذیب کے دائرے میں نہیں آتا۔
کیونکہ ہمارا معاشرہ ایسا ہے کے اپنے ہی گھر میں بعض لڑکیوں کو کھل کے سانس تک لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اگر وہ کسی رشتہ دار کی شکایت کرتی ہے، کے اس نے مجھے غلط انداز میں چھوا، تو بجائے اس پر یقین کرنے کے یا تو ھم اسے چپ کروا دیتے ہیں یا ڈانٹ دیتے ہیں۔ یاد رکھیں ھماری آج کی خاموشی ھمارے بچوں کو ساری زندگی کے لیے احساس محرومی میں ڈال سکتی ہے۔
ایسی بچی کل جب شادی ھو کے خاوند کے گھر جائے گی تو اسے خود کے ساتھ ہونے والی ذیادتی کا اندازہ ہی نہیں ھو پائے گا۔ کیونکہ وہ اپنے ہی گھر سے ایک ذھنی تناو والے انداز میں پروان چڑھی۔
کیا ایسی عورت جو خود اپنے گھر میں جہاں اسے ذرا ذرا سی بات پر لڑکی ھونے کا طعنہ دیا گیا ھو۔ یا جس پر ھم نے کبھی یقین نہ کیا ھو یا اسکی شکایت پر کان نہ دھرا ھو، وہ اپنے بچوں کی صحیح انداز میں پرورش کر پائے گی؟؟؟
نہیں کبھی نہیں۔۔۔
کیونکہ اس کا ذہن اب ایک ہی انداز پر چلنے کا عادی ھو چکا ہے۔
نہ وہ ایک اچھی ماں ثابت ھو گی اور نہ اچھی بیوی، کیونکہ اس کی خود کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ وہ عادی ہو چکی ہے کے دوسرے اس کو انگلی پکڑ کر چلائیں۔ وہ عادی ہو چکی ہے کے لوگ اس پر اعتماد نہیں کرتے۔۔۔
کبھی سوچا ہے کے کس قسم کے لڑکے ایسی لڑکی کی گود سے نکل کر مرد بنیں گے؟ وہ اپنے بچوں کو بھی اپنے جیسا ایک کمزور اور بزدل انداز میں پروان چڑھائے گی۔ اسی طرح بیٹی بھی ماں کی طرح اپنے سسرال میں سب زیادتیاں برداشت کرتی رہے گی۔جب ھم اپنے بچوں کو اپنے گھر میں ایک بھرپور زندگی جینے نہیں دے سکتے تو سمجھ لیں ھم نے اپنی آنے والی کئی نسلوں کا اعتماد ختم کردیا، انہیں اچھے برے کی تمیز نہیں دی۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا نہیں سکھائی۔
ماں باپ کا فرض ہے کے اپنے بچوں سے کھل کے بات کی جائے انہیں زمانے میں چلنا، اٹھنا بیٹھا، اچھے برے، صحیح غلط اور ذہنی اور جسمانی زیادتی کے بارے میں سیکھایا جائے۔
پرورش گھر سے شروع ھوتی ہے۔ بچوں میں اتنا شعور ھونا چاہیے کے غلط انداز اور اچھے انداز سے ہاتھ لگانے کا فرق سمجھ سکیں۔
بچوں کو اتنا اعتماد دیں کے اگر کبھی انکے ساتھ گھر سے باہر کوئی زیادتی ہوئی ہے، تو اسے سمجھ سکیں اور اس پر آواز بلند کر سکیں، نہ کے شرما کے چپ ہوجائیں۔ خاموشی ہر بات کا علاج نہیں ہوتی۔ خاموش رہنے سے ھم معاشرے میں مزید غنڈاگردی کو عام کریں۔ھمارے بچے ھمارا سرمایہ ہیں۔ آئیں عہد کریں کے اپنے گھر سے شروعات کرتے ہیں۔ اپنی بچوں کو اتنا مظبوط بناتے ہیں کے وہ اپنے بچوں کی سہی پرورش کر سکیں، انہیں اعتماد دے سکے۔
تحریر۔
طلعت کاشف سلام
@AlwaysTalat -

حضرت محمدﷺ کا تجویز کردہ عمل حجامہ ، متعدد خطرناک بیماریوں کا علاج
بیماریاں پہلےقدیم زمانے میں بھی ہوا کرتی تھیں مگر اُس وقت اُن کی سمجھ بوجھ اور علاج کا شعور نہیں تھا، آ ج کل جہاں سائنس نے بے حد ترقی کر لی ہے وہیں صدیوں سے استعمال کیے جانے والا طریقہ حجامہ ’ کپنگ تھیراپی‘ نہ صرف آج بھی اپنی اہمیت اور افادیت رکھتا ہے بلکہ اب حجامہ بھی نئی جدت کے ساتھ کیا جاتا ہے حجامہ صدیوں سے استعمال کیے جانے والا سستا اور اسلامی تعلیمات سے تصدیق شدہ علاج ہے-
حجامہ کیا ہے؟
حجامہ دنیا میں تیزی سے مقبول ہوتا ہوا اسلامی طریقہ علاج ہے جسے مغربی ممالک اور غیر اسلامی ممالک میں cupping therapyکے نام سے جانا جاتا ہے دراصل حجامہ عربی زبان کے لفظ حجم سے نکلا ہے‘‘ جس کے معنی کھینچنا/چوسنا ہے۔
اِس عمل میں مختلف حصوں کی کھال سے تھوڑا سا خون نکالا جاتا ہے۔ انسانی صحت کا دار و مدار جسمانی خون پر ہے اگر خون صحیح ہے تو انسان صحت مند ہے ورنہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ بیماریاں اس فاسد خون کے ساتھ نکل جاتی ہیں۔
حجامہ اسلامی تعلیمات سے تصدیق شدہ:
حجامہ ایک قدیم علاج ہے اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ اور ملائکہ کا تجویز کردہ ہے اِس قدیم طریقہ علاج میں جسم کے 143 مقامات سے فاسد خون نکال کر مختلف بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔حضرت محمدﷺ نے حجامہ لگانے کو افضل عمل قرار دیا ہے۔
حجامہ اور جدید میڈیکل سائنس:
جدید میڈیکل سائنس اب تیزی سے حجامہ کی جانب متوجہ ہو رہی ہے۔ مغربی سائنس دان اور تحقیقاتی ادارے حجامہ پر مسلسل تحقیق میں مصروف ہیں،حجامہ سے علاج کا طریقہ 3000 سال قبل مسیح سے بھی پرانا ہےاس طریقہ علاج کا ذکر Ebers Papyrus(ریبس پائرس) نامی طبی کتاب میں بھی ہےجو 1550 قبل مسیح کی مشہور طبی کتاب ہے۔
سائنس دان اس امر پر بھی حیران ہیں کہ ہزاروں سال قبل انسان نے میڈیکل کی اِس قدر پیچیدہ گتھی کس طرح سلجھائی تھی۔ اس کتاب کے علاوہ ماہرین آثار قدیمہ نے چائنیز تہذیب کی ایک قدیم کتاب بھی دریافت کر لی ہے۔
اس کتاب کے مطابق چین میں حجامہ طریقہ علاج تین ہزار سال قبل مسیح سے رائج ہے۔ گریس کے مطابق تہذیب میں ہیپوکریٹس کے دریافت شدہ آثار میں ایسے کاغذات بھی دریافت ہوئے ہیں جو چار سو سال قبل مسیح میں تحریر کیے گئے تھے اور ان میں حجامہ طریقہ کار چار بنیادی نکات پیش کیے گئے تھے ان ہی چار نکات کو حضرت محمدﷺنے بہتر قرار دیا تھا۔ مشہور سائنس دان نے بھی اسی وجہ سے حجامہ کے بیان کردہ چار نکاتی فارمولے پر تحقیق کو آگے بڑھایا۔
جدید سائنس میں حجامہ پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق حجامہ کروانے سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، جمنے والا فاسد خون خارج ہو جاتا ہے، جسم سے زہریلا مواد نکل جاتا ہے-
نہ صرف جدید سائنس بھی اس کی افادیت کی ناصرف قائل ہو گئی ہے بلکہ اب تو مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد اور معروف شخصیات بھی جسم کو ڈیٹاکس کرنے کے لیے حجامہ کرواتے ہیں۔
حجامہ متعدد بیماریوں کا علاج:
حجامہ سے بلڈ پریشر، ٹینشن، جوڑوں کا درد، پٹھوں کا درد، کمر کا درد، ہڈیوں کا درد، سر کا درد (درد شقیقہ) مائیگرین، یرقان، دمہ، قبض، بواسیر، فالج، موٹاپا، کولیسٹرول، مرگی، گنجاپن، الرجی، عرق النساء وغیرہ اور اس کے علاوہ 70 سے زائد روحانی وجسمانی دونوں بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
یہ خون صاف کرتاہے اور حرام مغز کو فعال کرتا ہے، شریانوں پر اچھا اثر ہوتا ہے، پٹھوں کا اکڑاؤ ختم کرتا ہے، دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض اور انجائنا کے لیے مفید ہے، آنکھوں کی بیماریوں کو بھی ختم کرتاہے، رحم کی بیماری ماہواری کے بند ہو جانے کی تکالیف اور ترتیب سے آنے کے لیے مفید ہے، گٹھیا عرق النساء اور نقرس کے درد کو ختم کرتا ہے، فشار خون میں آرام دیتا ہے، زہر خورانی میں مفید ہے، مواد بھرے زخموں کے لیے فائدہ مند ہےالرجی جسم کے کسی حصے میں درد کو فوری ختم کرتا ہے۔
کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح انسان جادو کے اثر سے بھی نکل جاتا ہے۔سب سے بڑھ کر مسنون طریقہ علاج ہونے کی وجہ سے اہل ایمان کو ایک روحانی سکون ملتا ہے۔
حجامہ کیسے کیا جاتا ہے؟
حجامہ سے قبل مطلوبہ جسم کے حصے پر زیتون یا کلونجی کا تیل لگا دیا جاتا ہے جس سے جلد پرسکون رہتی ہے پھر جسم کے مختلف مقامات پر ہلکی ہلکی خراشیں لگا کر مخصوص قسم کے ٹرانسپیرنٹ کپ لگا دئیے جاتے ہیں۔
خراش لگی ہوئی جگہوں سے خون کی بوندیں نکل کر کپ میں جمع ہوتی ہیں جنہیں پھینک دیا جاتا ہے۔ اور مریض خود کو ہلکا پھلکا اور تر و تازہ محسوس کرنے لگتا ہے ساتھ ہی اس کا مرض بھی دور ہوجاتا ہے۔
بہت سے افراد جو کہ کسی مرض کا شکار نہیں ہیں محض جسم کو ہلکا پھلکا بنانے اور تر و تازگی حاصل کرنے کے لئے بھی ہر ماہ حجامہ کرواتے ہیں ۔ویسے بھی مہینے میں ایک دفعہ حجامہ کروانا عین سنت ہے۔یہ سارا عمل دس سے پندرہ منٹ میں مکمل ہوجاتا ہے اور خراشیں لگانے کے دوران کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی ایسے میں جسم گندے خون سے پاک ہو جاتا ہے اور انسان موجودہ شکایت سمیت متعدد بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔
عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہوگا جبکہ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے حجامہ عام طور پر پشت پر کیا جاتا ہے اور مریض کو اس وقت حیرت ہوتی ہے جب اسے پتا چلتا ہے کہ یہ عمل مکمل ہو چکا ہے اور اسے کوئی تکلیف بھی نہیں ہوئی ۔
چونکہ حجامہ ایک مکمل طریقہ علاج ہے اس لئے اس میں کسی طرح کی سخت پرہیز نہیں کرنی پڑتی جو کہ عام طور پر ایلو پیتھک ، ہومیو پیتھک ،یونانی یا دیگر علاج کے طریقوں میں کی جاتی ہیں۔ تاہم مکمل علاج کے لئے مریض کو سختی سے طب نبوی ﷺ میں دی گئی ہدایت کی پابندی کرنی چائیے۔
حجامہ کے نتائج فوراً ہی ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔عام طور پر اگر کسی کو کوئی بیماری نہیں ہے اور وہ سنت نبوی ﷺ کے طور پر حجامہ کرواتا ہے تو حجامہ چند منٹوں میں ہی وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتا ہے۔
ہر صحت مند انسان کو مہینے میں ایک بار سنت کے طور پر گدی پر حجامہ ضرور کروانا چاہئیے جس سے 72 ایسی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے جن کا عام طور پر انسان کو خود بھی علم نہیں ہوتا۔
خیال رہے کہ نیم حکیموں کی طرح حجامہ کے بھی جگہ جگہ کلینک کھولے گئے ہیں، حجامہ لگوانے کے لیے مستند اور تجربہ کارتھراپسٹ کا انتخاب ضروری ہے کیوں کہ ناتجربہ کار شخص صحیح حجامہ نہیں لگا سکتا جس وجہ سے علاج نہیں ہو پاتا اور مریض مایوس ہو جاتا ہے۔
حجامہ کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں بلکہ کسی ایک مقام پر حجامہ کرنے سے دیگر بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں حتیٰ کہ شوگر کے مریضوں کے زخم بھی 24 گھنٹوں میں بھر جاتے ہیں-
-

رمضان میں پانی کی کمی سے بچنے کے لئے گھر میں تیار کئے جانے والے فرحت بخش مشروبات
رمضان میں روزہ رکھنے اور گرمی کی شدت کے سبب ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جسے روزہ افطار کے بعد پانی کی مطلوبہ یا زیادہ مقدار استعمال کر کے بچایا جا سکتا ہے۔
باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق گرمیوں کے موسم میں عام روٹین سے ہٹ کر پانی پینے کا استعمال بڑھا دینا چاہیے تاکہ براہ راست دماغ پر اثر انداز ہونے والی شکایت ڈی ہائیڈریشن سے بچا جا سکے جبکہ رمضان کے دوران دن میں ایسا ممکن نہیں ہو پاتا۔
تاہم افطار کے دوران یا بعد میں اگر سادہ پانی کے علاوہ گھر میں ہی تیار کیے جانے والے صحت اور فرحت بخش مشروبات کا استعمال کر لیا جائے تو پانی کی کمی دور ہونے کے ساتھ صحت پر بھی متعدد فوائد مرتب ہوتے ہیں اور افطار کے دوران تلی ہوئی مضر صحت غذاؤں کے استعمال کے اثرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
رمضان کے دوران روزہ ہونے کے سبب دن میں پانی کا استعمال نہیں کیا جا سکتا مگر روزہ افطار کرنے کے بعد پانی کے زیادہ استعمال اور مختلف اقسام کے خوش ذائقہ، فرحت بخش مشروبات کے استعمال سے روزہ دار کی فوراً توانائی بحال ہو جاتی ہے، بھوک کا احسا س بھی کم ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وزن میں صحت مندانہ طریقے سے کمی بھی آتی ہے ۔
مندرجہ ذیل مشروبا ت کا استعمال رمضان کے دوران نہات مفید ثابت ہو سکتے ہیں:
گنے کا رس:
گنے کا جوس فوراً توانائی بحال کر کے تروتازہ اور فرحت بخش محسوس کرواتا ہے، تھکاوٹ دور کرتا ہے اور گردوں کی صحت کے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے۔لیموں پانی:
لیموں پانی طبی ماہرین کی جانب سے ہر موسم میں تجویز کیا جاتا ہے، لیموں صحت، قوت مدافعت بہتر بنانے اور وٹامن سی کی بھر پور مقدار حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہےلیموں پانی ناصرف ایک سستا ترین ڈیٹاکس واٹر ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ گردوں کی صفائی کے لیے بھی بہترین مشروب قرار دیا جاتا ہے لیموں پانی کے استعمال سے وزن میں کمی آتی ہے، طبیعت کا بھاری پن دور ہوتا ہے اور غذا جَلد ہضم ہوتی ہے ۔گل قند کا استعمال:
لال گلاب کے پھولوں سے تیار گل قند نا صرف گرمی کی شدت کم کرتی ہے بلکہ فرحت بخش احساس بھی جگاتی ہے، روزہ افطار کرنے کے بعد اگر میٹھے کے طو ر پر گل قند کا استعمال کر لیا جائے یا پھر اسے پانی یا دودھ میں شامل کر کے پی لیا جائے تو غذا جَلد ہضم ہو جاتی ہے اور بھاری پن بھی محسوس نہیں ہوتا ہے۔کھیرے کا ڈیٹاکس واٹر:
رمضان ہر انسان کو جسم سے مضر صحت مادوں کو ڈیٹاکس کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، اس دوران جسم ’انٹرمٹینٹ فاسٹنگ‘ کی حالت میں ہوتا ہے، روزہ افطار کے بعد اگر غذا کے ساتھ کھیرے سے بنا ڈیٹاکس واٹر یا اسموتھی کا استعمال کر لیا جائے تو نظام ہاضمہ سمیت قوت مدافعت بھی بہتر کام کرنے لگتا ہے اور انسانی جسم سے مضر صحت مادوں کا صفایا ہو جاتا ہے ۔ناریل کا پانی:
ناریل کا پانی صحت بخش مائع ہے، ناریل کا پانی بد ہضمی اور تیزابیت کا بہترین علاج ہے اور اس کے استعمال سے انسان خود کو ہلکا اور توانا محسوس کرتا ہے، ناریل کے پانی میں تخم بالنگا ملا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، ناریل کا پانی پیٹ پھولنے کی شکایت سے بھی بچاتا ہے۔ -

آرپی او ڈی جی خان کا مظفرگڑھ کا دورہ
مظفرگڑھ۔آر پی او ڈی جی خان فیصل رانا نے مظفرگڑھ کا دورہ کیا ڈی پی او آفس میں پولیس کی چوق و چوبند دستے نے آر پی او کو سلامی دی آر پی او نے پولیس لائن میں آن لائن ڈرائیونگ سسٹم کا افتتاح کیا ڈی پی او مظفرگڑھ حسن اقبال آر پی او کے ہمرا تھے
مظفرگڑھ۔ریجنل پولیس آفسیر فیصل رانا کے مظفرگڑھ ڈی پی او آفس پہنچنے پر ا حسن اقبال نے استقبال کیا ڈی پی او آفس میں پولیس کے چوق چوبند دستے نے آر پی او کو سلامی دی۔آر پی او نے ڈی پی او آفس میں شہدا کی فیملز سے ملاقات کی۔ڈی پی او آفس سے ریجنل پولیس آفیسر فیصل رانا پولیس لائن پہنچے جہاں پر آر پی او نے آن لائن ڈرائیونگ سسٹم کا افتتاح کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مظفرگڑھ میں ڈی پی او حسن اقبال کی قیادت میں پولیس مثالی پولیس بننے جارہی ہیں
-

شامی کباب بنانے کی ترکیب
شامی کباب
وقت : 50سے 60منٹ
تعداد: 18سے 20اجزائے ترکیبی(الف) مقدار
بیف یا مٹن قیمہ ½کلو
دال چنا (بھگوئی ہوئی) آدھا کپ
پیاز (موٹا کٹا ہوا) آدھا کپ
ادرک (موٹا کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ
لہسن (موٹا کٹا ہو) 1کھانے کا چمچ
نمک حسب ذائقہ
ثابت لال مرچ 4سے 5عدد
سوکھا دھنیا پاؤڈر آدھا کھانے کا چمچاجزائے ترکیبی(ب) :
آلو (ابلے اور پسے ہوئے) آدھا کپ
تیل (تلنے کیلئے) آدھا کپ
ادرک (باریک کٹا ہوا) 1چائے کا چمچ
سبز مرچ (باریک کٹی ہوئی) 1چائے کا چمچ
ہرا دھنیا (باریک کٹا ہوا) 2چائے کا چمچ
SNP گرم مصالحہ پاؤڈر 1چائے کا چمچسجاوٹ کے لئے :
ٹماٹر (سلائس میں کٹے ہوئے) 8سے 10عدد
تازہ سرخ اور سبز مرچیں 6سے 8ٹکڑے
ہرا دھنیا ایک چھوٹ گٹھیطریقہ کار :
ایک برتن میں حصہ الف کے اجزائے ترکیبی ڈال دیں تین کپ پانی ڈال کر اس وقت تک پکائیں جب تک قیمہ نرم ہو جائے پانی خشک ہوجائے اور مکسچر بالکل خشک کرلیں۔ اب اس آمیزے کو ٹھنڈا کرکے فوڈ پروسیسر میں پیس لیں۔ ایک بڑے پیالے میں یہ آمیزہ ڈالیں اور حصہ ب کے اجزائے ترکیبی ڈال دیں (تیل نہ ڈالیں) اچھی طرح مکس کرلیں۔ اب 30سے 40گرام کے کباب تیار کرلیں۔ اب آدھے گھنٹے کے لئے کبابوں کو فریج میں رکھ دیں۔ اب گولڈن براؤن ہونے تک تیل میں فرائی کریں۔ سجاوٹ کے لئے کبابوں کے ایک طرف کٹے ہوئے ٹماٹر، لال اور ہری کٹی ہوئی مرچیں اورکٹا ہوا دھنیا چھڑک دیں۔ اب پودینے اور دہی کی چٹنی کے ساتھ پیش کریں۔ آپ بیف کی جگہ مٹن اور چکن کا قیمہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ -

کمسن طالبات سے جنسی سوالات جیسا اہم مسئلہ اجاگر کرنے پرہم باغی ٹی وی کے مشکور ہیں ڈاکٹر مصباح احمد
سینیٹر حافظ عبدالکریم کی بہو ڈاکٹر مصباح احمد نے سرکاری و غیر سرکاری سکولوں کے نصاب کا مسئلہ اجاگر کرنے پر باغی ٹی وی شکریہ ادا کیا ہے-
باغی ٹی وی :سینیٹر حافظ عبدالکریم کی بہو ڈاکٹر مصباح احمد کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ سکولز نے ایک بار پھر بہت مایوس کیا پہلے جہاد کی آیات نصاب سے نکالیں پھر ختم نبوت کے معاملے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کیا پھر قادیانیوں کو نوازا جہلاء کو منصب تعلیم پر بٹھایا اسلامی ہیروز کے ہوتے ہوئے مسٹر چپس کا رٹا لگوایا شروع سے لے آخر تک مسلمان بچوں کی زبان پر اللہ اور اس کے رسول کا نام نہ آنے دیا الف انار تو پڑھایا الف اللہ یا اذان نہ دماغ میں بٹھایا-
@PTIofficial @ImranKhanPTI @UsmanAKBuzdar @fawadchaudhry @PTIPunjabPK #pakistan @SchoolEduPunjab @EduMinistryPK pic.twitter.com/hQEiskRuj5
— Ayesha (@Ayesha701900053) March 18, 2021
انہوں نے برہمی کاظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیکن اب تو حد ہو گئی ہے آٹھ سالہ بچی کے سیکسوئل ریلیشن کا پوچھ کر کیا دماغ میں بٹھانا چاہتے ہیں اس کے دماغ میں کیا ڈالنا چاہتے ہیں دیکھ نہیں رہے آج کل ہمارے اسکولز کالجزیونیورسٹیز میں کیا کچھ ہو رہا ہےڈرگزرومان خودکشی بس تعلیم نہیں باقی سب کچھ ہے پرائیویٹ سکولز مافیا کے ڈسے لوگوں کی آخری امید سرکاری سکول ہی ہوتے ہیں ،مگر جب وہاں بھی گوروں کے سکولز کا نظام چلے تو بتائیے کہ مسلمان کہاں جائیں-ڈاکٹر مصباح احمد نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہو بے حیائی طوفان بدتمیزی اور طلباء کی ناکامی کی اصل وجہ سرکاری نظام اور نا اہل انتظامیہ ہے علم کے نام پر سوائے علم کے باقی سب کچھ سکھایا جاتا ہے میوزک پیریڈ کے نام پر بچوں کو ڈسکو سکھایاس کے نام پر ننگا کر کے اوچھی حرکات سکھائی جاتیں ہیں کرایٹیویٹی کے نام پر کری یٹر سے ہی دور کیا جاتا ہے اسلام کا کون سوچے کا دین کا درد کون سمجھے گا ہم اپنے گھریلو مسائل ذاتی کاروبار جاب کی فکر سے ہی نکلتے جو دین اور تعلیم کا کچھ سوچیں –
انہوں نے کہا کہ باقی بکاؤ میڈیا کا بھی کردار آپ کے سامنے ہے بھلا ہو باغی ٹی وی کا جس نے اس معاملے کو اجاگر کر کے ہمیں خبردار کیا-
واضح رہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری سکولوں کے بچوں اور بچیوں میں ایک پرفارما تقسیم کیا جارہا ہے جس میں کئی سوالات پوچھے جا رہے ہیں. جس میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا آپ کبھی جنسی سرگرمی میں ملوث رہے ہیں.اگرچہ اس پرفارما کی ہیڈنگ میں لکھا ہے کہ یہ طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے ہے تاہم معصوم طلبہ جو کہ دس گیارہ سال کی بچے ہیں ان سے یہ سوال کیا جائے تو کیا اثرات مرتب ہوں .
اس پرفارما میں بچوں کے متعلق کافی سوالات پوچھے جاتے ہیں جن میں بچوں کی صحت کے متعلق عنوان کے تحت میڈیکل ہسٹری کے سوالات ہیں. جس میں والدین کی سرجیکل ہسٹری ، میڈیکل ہسٹری ، بچے کا وزن کم ہونا یا زیادہ ہونے کے بارے میں سوالات ہیں.
اسی طرح جنرل اوور آل فزیکل ایگزائمن کے تحت بچے کا قد ، وزن ، بلڈ پریشر اور دیگر سوالات ہیں. جنرل زہنی صحت کے بارے میں کئی سوالات ہیں جس میں سیلف کیئر یعنی خود اپنا کتنا خیال رکھتا ہے ، رپورٹ بلڈنگ ، صورت حال کو سمجھنا اور اپنے نگران کو اس بارے بتانے کی صلاحیت بارے سوالات ہیں.
نفسیاتی ہسٹری کے تحت بھی کافی سوالات ہیں جس میں ، سگرٹ نوشی ، کسی طرف سے ہراساں کیے جانے کا واقعہ. چوری کی عادت ، سکول لیٹ آنا، بری صحبت، منشیات کا استعمال جنسی سرگرمی وغیر ہ شامل ہے .
ریاست مدینہ کا نام اور کمسن طالبات سے جنسی سوالات، فرید پراچہ، ناصر اقبال پھٹ پڑے
کیا آپکی آٹھ سالہ بیٹی جنسی تعلقات قائم کرتی ہے؟ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں والدین سے سوال
-

میری مرضی ؟ تحریر :سفیر اقبال
میری_مرضی ؟
جب دوائی پینے سے جسم پر نکلا ہوا پیپ دار پھوڑا ختم نہ ہو تو ڈاکٹر انجیکشن تجویز کرتے ہیں جو مریض کے لیے وقتی طور پر تکلیف دہ ہوتا ہے…لیکن ڈاکٹر مریض کے ری ایکشن سے ڈرے بغیر انجیکشن لگا ہی دیتا ہے. انجیکشن سے بھی پیپ ختم نہ ہو تو ڈاکٹر سرجری کر کے پھوڑا جسم سے نکال دیتا ہے…. ورنہ ہسپتال سے ڈسچارج کر کے اسے بڑے شہر کے بڑے ہسپتال میں لے جانے کا آرڈر جاری کرتا ہے…! یہ سارا کچھ ڈاکٹر کی قابلیت اور اس کے اختیارات پر انحصار کرتا ہے
بس اتنی سی کہانی ہے جس کی بنیاد پر تین دن سے سوشل میڈیا پر کہرام مچا ہوا ہے…! خلیل الرحمٰن کے الفاظ…. لہجہ….. انداز… کوئی درست کہہ رہا ہے اور کوئی غلط. ان سب لوگوں کی اپنی اپنی سوچ اور فکر ہے جو جہاں بیٹھا ہے اسی انداز میں سوچ رہا ہے کہ نہیں ڈاکٹر کو انجیکشن نہیں لگانا چاہیے تھا پہلے میٹھی دوائی پلا کر دیکھ لیتا… ڈبل ڈوز دے دیتا غیرہ وغیرہ. اسے بڑے ہسپتال منتقل کر کے اسے کوریج نہ دیتا وغیرہ وغیرہ.
سب جانتے ہیں کہ اسلام نے دعوت کے سارے طریقے بتائے ہیں… اخلاق کی حقیقت بھی سمجھائی ہے اور صحابہ کرام نے گالی کا جواب گالی میں بھی دیا ہے.(جس پر اللہ کے نبی نے خاموشی اختیار کی یا اس پر کسی قسم کے گناہ کا ذکر نہیں کیا . اور وہ واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں )… لیکن اس کے باوجود کچھ احباب کا خیال ہے کہ یہ طریقہ مناسب نہیں تھا تو اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ جس کا جتنا ایمان ہے وہ اپنے اسی لیول سے ری ایکشن دے گا. اور صحابہ کرام نے بھی مختلف مواقع پر مختلف صورتوں میں مختلف ری ایکشن دئیے-
لیکن یہ سوچنا کہ نہیں بھائی اس طرح کرنے سے ان کی جارحیت یا مظلومیت میں اضافہ ہوتا ہے… ان کی کوریج بڑھتی ہے….. تو کتنا اچھا ہوتا اللہ کے نبی یا صحابہ کرام بھی ایسا کچھ سوچ لیتے. لیکن نہیں….! انہوں نے تو مسلم ریاستوں میں رہنے والوں سے جزیہ لے کر اور ذلیل انداز میں رہنے پر آمادہ کرنے کا حکم دیا… اللہ کے نبی نے بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قنوت میں بددعائیں بھی کی… کچھ بدبختوں کو صحابہ کرام نے منہ پر… گالیوں کے جواب میں گالیاں بھی دیں اور کبھی نہیں سوچا کہ یہ مکہ مدینہ چھوڑ کر مظلوم بن کر ہمارے درد سر میں اضافہ کریں گے…. یا ہمارے ان اقدامات سے اس واقعہ کو کوریج ملے گی. اس لیے چپ رہنا یا ہر لمحہ پیار سے سمجھانا ہی بہتر ہے.
یہ تو وہ باتیں تھی جب مسلم ریاست نہیں تھی.. جب مسلم ریاست بنی تو معاملہ اور شدت اختیار کر گیا. شرعی سزائیں قائم کر کے چوروں کے ہاتھ کاٹے گئے…. زانیوں کو سنگسار کیا گیا اور ایسے فتنوں کو کچلنے کے لیے وہ سب کیا گیا جو کرنا ضروری تھا… ان کی جارحیت مظلومیت کی کوریج کے بارے میں سوچے بغیر…. اور یہی طریقہ ہی عین اسلامی تھا الحمدللہ.
اگر ذاتی حد تک بات کریں تو پاکستان میں رہنے والے ہر شہری کا اپنا اپنا ایمانی لیول ہے.. فرشتہ کوئی بھی نہیں….! ہم میں سے کچھ افراد اپنی بیٹیوں یا بہنوں کے ہاتھوں میں فور جی نیٹ ورک سے لیس موبائل پکڑا کر یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنی بیٹی یا بہن کو شریعت کے مطابق گھر کی چاردیواری میں رکھا ہوا ہے الحمد للہ… کچھ نوجوان اپنی بہنوں کو خود موٹر سائیکل پر بیٹھا کر کالج چھوڑنے جاتے ہیں اور اس کے بعد گھنٹوں گھنٹوں اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ میری بہن چونکہ میرے ساتھ آتی جاتی ہے اس لیے محفوط ہے.
میں خود بچپن میں اپنی بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر اس وقت کے "میرے پاس تم ہو” جیسے ڈرامے دیکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا کہ الحمدللہ ہمارے گھر میں ڈش یا انڈین فلمیں نہیں چلتیں. (صرف بچپن نہیں ابھی بھی میں اتنا پارسا یا دودھ کا دھلا نہیں.) خلیل الرحمٰن صاحب انہی اسلام پسندوں کے ہاتھوں جو آج ان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں "میرے پاس تم ہو ” جیسا ڈرامہ بنانے کی وجہ سے تنقید کا شکار ہوتے رہے .
ساری صورتحال آپ کے سامنے ہے… اگر ہمت ہو تو اپنے گریبان میں جھانک کر خود بھی دیکھ لیں کہ آپ کون کون سی برائی کو وقت کی ضرورت یعنی اسلامی سمجھتے ہیں اور کون کون سے گناہ کو آپ غیر اسلامی یا غیر اخلاقی گردانتے ہیں . اندازہ ہوتا جائے گا کہ جس کو اللہ رب العزت نے جتنا ایمان، جتنا علم اور جتنا اختیار دے رکھا ہے وہ اس بے حیائی اور غیر اخلاقی اقدار پر اتنا ہی ری ایکٹ کر رہا ہے…. فرشتہ کوئی بھی نہیں…!
اگر آج ہم خلیل صاحب کے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ وہ اس واقعے کو کوریج دے کر یا ان کے الفاظ سے ہونے والی "متاثرہ” کو مظلوم بنا کر ناچاہتے ہوئے بھی اس ایجنڈے کا شکار ہو رہے ہیں تو ہم اپنے بارے میں بھی سوچ لیں کہ ہم کہاں کہاں غیر اسلامی اقدار کا شکار ہیں اور اس کو کوریج دے رہے ہیں . خلیل صاحب کی ہمت ہے کہ وہ جس یقین پر جس مقام پر کھڑے ہیں اپنے طور پر برائی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بیشک ان کا مقام یا آن کا نظریہ مکمل طور پر اسلامی نہ ہو لیکن کوشش تو وہ اسلام کے لیے…. غیر اسلامی تہذیب کو مٹانے کی ہی کر رہے ہیں….!
اگر آپ پاکستانی عدالتوں سے مایوس ہیں. اسلام کے لیے ریاستی اقدامات ناکافی لگتے ہیں تو کم از کم یہ تو سوچیں کہ کون کیا کر رہا ہے اور کس لیے کر رہا ہے تا کہ اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں میں… سوشل میڈیا پر…. ہم اسلام کے لیے کام کرنے والے کے دست و بازو بن سکیں…! نا کہ اتنے بڑے طوفان بدتمیزی میں اٹھتی ہوئی ایک احتجاجی آواز کو بھی چپ کروانے میں لگ جائیں کہ کوریج بڑھنے کا خدشہ ہے…!
تحریر :سفیر اقبال
رنگِ سفیر
-

مرد اک جابر یا محافظ تحریر :شاہ بانو
مرد اک جابر یا محافظ
تحریر شاہ بانواس وقت یوں لگتا ہے دنیا میں عورتوں کو بڑا مقام دیا جا رہا ہے اور ہر طرف بس عورت کی چلتی ہے جہاں بھی عورت پہ ظلم ہو وہاں عورت کے حامی لوگ پہنچ جاتے ہیں اور پوری دنیا اس عورت کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے ۔اب مرد کے لیے عورت پہ ظلم کرنا آسان نہیں رہا ۔
اس سلسلے میں باقاعدہ women Day بھی منائا جاتا ہے اس دن عورت "کے لیے” بہت کچھ بولا جاتا یے اور اس کے لیے مزید کچھ کرنے کا عزم بھی کیا جاتا ہے مرد کی پابندیوں میں جکڑی عورت کو اس پنجرے سے نکلنے کی راہیں بتائی جاتی ہیں سلوگن دئیے جاتے ہیں۔ مثلا "اپنی روٹی خود پکا لو” "نوکری کرنا میرا حق ہے ” وغیرہ۔
اب میں سوچ رہی تھی چلو عورت کو بھی سکون کا سانس نصیب ہوگا جب وہ مرد کے بچھائے گئے جال سے نکلے گی نورالعین کی شادی کو ابھی چار پانچ سال ہوئے تھے وہ شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی تھی ۔لیکن اس کی دوست اسی نعرے کی دلدادہ ہو کر اسے بھی سمجھانے لگی اور سہانے خواب دکھانے لگی ۔
پھر ایک دن اس نے سوچا میں بھی اس شکنجے سے نکلوں گی اور اپنے شوہر کا کام ،اس کے کپڑے دھونا ،اس کی روٹی بنانا ،اس کے چھوٹے موٹے سب کاموں سے جان چھڑوا کر آزاد زندگی بسر کروں گی اپنی خوشی سے زندگی بسر کرنے کے لیے جاب کروں گی ۔
بالآخر اس نے ایک دن اپنا حق حاصل کر لیا اور شوہر کے کاموں سے ہاتھ اٹھا کر برقعے کو پٹخ مارا ،ماڈرن طرز کا لباس زیب تن کیا دوپٹے کو بس کندھے پہ لٹکائے خود بازار کے لیے نکلی ۔
جونہی باہر نکلی چند لڑکے دیکھ کر مسکرانے لگے اور کوشش کرنے لگے کہ قریب سے چھو کر گزرنے کی ۔لیکن وہ پہلی بار نکلی تھی سو پریشان ہو گئی ادھر ادھر دیکھا کہ کسی کی اوٹ میں ہو جائے لیکن کس کی اوٹ میں ہوتی وہاں تو سب غیر تھے اور ہر کوئی اپنی مستی میں تھا ۔ اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے ساتھ ہوتی تھی تو کوئی نہیں دیکھتا تھا اگر کوئی دیکھتا تھا تو وہ شوہر کی اوٹ میں ہو جاتی اور آوارہ لڑکے بھی شوہر کو دیکھ کر نو دو گیارہ ہو جاتے تھے ۔
یہی نہیں جہاں رش ہوتا لوگ دیکھتے برقعہ والی عورت یے تو ہٹ کر راستہ دیتے بلکہ کہیں مثلا پٹرول ڈلوانے جاتے یا شاپ پہ تو لوگ اسے دیکھ کر ان کا کام پہلے کر دیتے اور آنکھوں میں عزت ہوتی تھی لیکن اب کیا کر سکتی تھی سووہ تیز تیز چلتی رکشے والے کو روک کر اس میں بیٹھ گئی ۔
رکشے والا بھی جان بوجھ کر ذومعنی باتیں کرنے لگا وہ پریشان سی ہو گئی اب اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے ساتھ ہوتی تھی تو
یہ رکشے والے تو بات بھی نہیں کرتے تھے لیکن کیا کرتی ۔رکشے والا خوامخواہ گھماتا رہا اور وہ بڑی مشکل سے جان چھڑوا کر بازار
گئی وہاں مزے سے شاپنگ کرنے کے تصور سے آئی تھی لیکن لیکن وہاں بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا تھا ۔بالآخر وہ گھر آ گئی ۔ اس نے دوست کو کال کر کے سب بتایا لیکن اس نے ہمت بندھائی کہ حقوق حاصل کرنے ہیں تو سب برداشت کرو۔
سو شوہر کو میسج کیا کہ اب میں کوئی کام نہیں کروں گی کھانے کا بندوبست کرتے آنا رات کو وہ پریشان تھا لیکن مرتا کیا نہ کرتا آتے ہوئے کھانا کھا کر آیا تھا۔سارے کاموں سے جواب دے کر زارا دہی بھلے کھا کر سو گئی ۔اگلی صبح شوہر اٹھا چینج کیے اور بغیر ناشتے کے گھر سے نکل گیا۔
وہ خوش تھی کہ اب تو سکون ہے کچن میں مسکراتے ہوئے ناشتہ کرنے گئی تو مسکراہٹ ایک دم غائب ہو گئی کیونکہ کچن میں کھانے کو کچھ نہ تھا حتی کہ راشن بھی ایک دم غائب ہو گیا ۔اس نے شوہر کو کال کی "راشن کہاں ہے ” جواب ملا جب تم میرے کر کام سے ہاتھ اٹھا چکی تو میری ذمہ داری بھی ختم مغرب میں مرد عورت کے نان نفقہ کا پابند نہیں بلکہ عورت اپنے روٹی پانی کا خود انتظام کرتی ہے اب وہ پریشانی میں نوکری ڈھونڈنے نکلی۔ لیکن ایک دم کہاں سے ملتی ۔دوست کو کال کی اس نے کہا میں بات کرتی ہوں حقوق نسواں والوں سے بس تم آ جاؤ میرے پاس ہی ۔وہ بوریا بستر سمیٹ کر اسی کے پاس چلی گئی ۔
عورت کے حقوق کے علمبرداروں فوری طور پہ ایک جگہ سٹور میں اسے سیلز گرل کی جاب دلوادی ۔(ہاں بھئی کیوں پکائے وہ روٹی )۔
وہاں پہ ہر آنے والے کو مسکرا کر دیکھنے اور کسٹمر کی ہر ڈیمانڈ کو پورا کرنے کی ہدایت ملی اس کی عجیب لگا لیکن پھر اسے لگا وہ آزاد ہونے جا رہی ہے کچھ تو مشکلات ہوں گی لیکن آزادی تو مل جائے گی ۔اب ہر آنے والے کسٹمر کو مسکرا کر دیکھتی چاہے کسی دن دل اداس اور پریشان ہی ہوتا ، مسکرانا فرض تھا اس نے محسوس کیا اکثر کسٹمر سودا پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھ کو بھی جان بوجھ کر ٹچ کرتے ہیں۔اس کی اس نے شکایت کی تو ہدایت ملی کسٹمر کو ناراض نہیں کرنا یہ سب برداشت کریں۔
اس سب کے ساتھ جب وہ رات کو تھکی ہاری گھر آتی تو اسے رات کو کھانا بنانا پڑتا ،صبح بھی اپنے لیے ناشتہ بنا کر جاب پہ جانا پڑتا تو اسے یاد آتا جب وہ شوہر کے شکنجے میں تھی تو ناشتہ بنا کر جب شوہر چلا جاتا تو وہ لیٹ جاتی تھی ۔
گھر ہفتے بعد بیٹھنا نصیب ہوا تو خیال آیا کپڑے بھی دھونے ہیں چاہے اپنے ہی سہی ۔کپڑے دھوئے۔گھر کا کھانا کھائے کتنے دن گزر گئے وہ بھی بنایا۔ہفتے بھر کے لیے دیگر کام بھی نمٹائے۔اپنے کمرے کی صفائی بھی کی اسے یاد آیا کہ شوہر کے شکنجے میں تھی تو صفائی اور کپڑے تو کام والی ماسی سے کرواتی تھی ۔
لیکن آج وہ تھک کر چکنا چور ہو کر لیٹ گئی اور ایسی نیند آئی اگلے دن لیٹ آنکھ کھلی اسے بخار تھا لیکن چھٹی نہیں کر سکتی تھی ، وہ بغیر ناشتہ کیے سٹور پہ پہنچی لیکن وہاں پہ بھی اسے سخت سننی پڑی لیکن اسی حالت میں مسکرا مسکرا کر کسٹمرز کو ویلکم کیا اور سب برداشت بھی کیا۔
اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے شکنجے میں بخار میں سارا دن بھی لیٹ کر گزار دیتی اور رات کو شوہر کو پتہ چلتا بخار کی وجہ سے اتھ نہیں پائی تو وہ الٹا پریشان ہو جاتا بغیر کھانا کھائے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ،واپسی میں جوس، فروٹ اور کھانا بازار سے پیک کروا کر لے آتا۔گھر آتے ہی کھانا خود ڈال کر دیتا، میڈیسن کھلا کر سونے کا کہتا ۔
صبح ناشتہ بھی بازار سے آتا اور جاب پہ جاتے ہوئے ہدایت ملتی کہ کام نہیں کرنا ۔آتے ہوئے کھانا لے آؤں گا ۔ خیر حقوق حاصل کرنے ہیں تو قربانی تو دینی ہی پڑے گی کچھ دن بعد اس کا پھر جاب پہ جانے کو دل نہ کیا اس نے چھٹی کر لی ۔لیکن اگلے دن جاب پہ گئی تو پتہ چلا کہ بلاوجہ چھٹی کرنے پہ اس کی آدھی تنخواہ کاٹ لی جائے گی ۔اس کی تو جان پہ بن گئی کیونکہ وہ تو قرض اٹھا کر مہینہ گزار رہی تھی
اب کیا کرے گی ؟اسے مشورہ ملا پارٹ ٹائم جاب کر لو اچانک اس کا دماغ جیسے روشن ہو گیا اس کے ذہن میں آیا جب وہ مرد کے شکنجے میں تھی تو صرف شوہر کو مسکرا کر دیکھنے اور اس کی ہر ڈیمانڈ پوری کرنے کی پابند تھی ۔
وہ صرف اسی کی روٹی بناتی تھی اور اسی کی خوشی درکار تھی اب کتنے مردوں کی خوشی درکار ہے دو ٹکوں کے لیے جو اس کا شوہر اسے گھر پہ لاکر دیتا تھا جن کے بدلے وہ دل کی خوشی سے سارا کام کرتی تھی اسے کہا گیا تمہارا مرد تمہاری مرضی سے تمہیں چھو سکتا ہے ،لیکن کسٹمر کے چھونے کو مائنڈ نہیں کرنا ۔
شوہر کو جی چاہے تو مسکرا کر دیکھو جبکہ کسٹمر کو لازمی مسکرا کر دیکھوبرقعے میں تو کسی مرد کو نظر نہ پڑتی تھی لیکن اب سارا دن میک اپ کیے کھلے منہ پہ مردوں کی چبھتی ہوئی نظریں برداشت کرنی پڑتی تھیں ۔
راستے میں آنے والے مردوں کے جملے ،چھونے کی کوشش، مسکراتے لبوں کے خاموش پیغام سب برداشت کرو بس شوہر کے شکنجے سے نکلویعنی اسے ایک محافظ چھت سے نکل کر ایک ایسے میدان میں پھینک دیا گیا تھا جہاں وہ ہر طرف مردوں کی ہوس بھری نظروں کی تسکین تھی۔
یعنی شوہر کی تسکین بننا غلامی ہے اور کئی مردوں کی بننا آزادی؟یہ کیسی آزادی ہے یہ تو مردوں کی آزادی ہے اسے مردوں کے آگے چارہ بنا کر پھینکا گیا تو دوسری طرف اسے کولہو کا بیل بنا دیا گیا تھا شوہر کو جو ادائیں اور ناز دکھاتی تھی وہ کون دیکھتا؟اب تو بس رپورٹ کی سی زندگی تھی ۔
اسے سمجھ آ گئی تھی یہ سب بہت بڑا دھوکہ ہے اس اسے حقوق کے نام پہ اس کے حقوق چھینے جاریے تھے اس کی چھت چھینی جارہی تھی۔اس کے سکون کے لمحات چھینے جاری تھے اسے پرانی زندگی یاد آئی تو کے بھائی ،اس کا باپ سب ہی لئے اپنے محافظ نظر آئے۔۔اسے کہیں کوئی رشتہ نہ لگا کہ اس کے لیے عذاب ہے جو وہ پابندیاں لگاتے تھے وہ دراصل اس کی حفاظت کے لئے تھیں۔
اس کی آنکھیں کھل چکی تھیں وہ لوٹ آئی تھی اپنے گھر کے دروازے پہ پہنچی تو شوہر کو کھڑے پایا جو فون پہ ہنستے ہوئے بات کر رہا تھا اس پہ نظر پڑی تو سرسری دیکھ کر پھر بات کرنے لگا، وہ شرمندہ سی کھڑی تھی اس نے غور کیا تو پتہ چلا کوئی لڑکی یے ۔اسے جھٹکا سا لگا اس نے بے اختیار بڑھ کر سیل چھین لیا شوہر نے حیرت سے دیکھا اور پوچھا کیا مسئلہ ہے ؟
کہنے لگی لڑکی سے بات کیوں کر رہے ہو ؟ شوہر نے مسکرا کر کہا کیا تمہیں عورت کے حقوق کا نہیں پتہ وہ جس مرد سے چاہے دل لگی کرے تو مرد بھی جو چاہے مرضی ہو وہ میں بھی ہو سکتا ہوں اور مغرب میں گرل فرینڈ کوئی ایشو نہیں تمہیں کیا مسئلہ ہے؟
وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔اور معافی مانگنے لگی اس کا شوہر سمجھ گیا کہ اس کی عقل ٹھکانے آ گئی ہے وہ اسے گھر کے اندر لے گیا وہاں اس نے اسے ساری داستان سنائی اور بتایا کہ اسے اصل کہانی سمجھ آ گئی ہے کہ یہ سب عورت کو عزت کے نام پہ ذلت اور حقوق کے نام پہ اسے سب کا چارہ بنانے کی سازش ہے ۔جبکہ اس کا شوہر بھائی ،باپ تو اس کے محافظ ہیں اور اسلام اسے چھپا کر اسے گندی اور غلیظ نظروں سے محفوظ کرتا ہے نہ کہ قید۔
اس نے پھر سے برقعہ پہنا ،شوہر کا ہاتھ تھاما اور باہر نکلی ۔اس نے ادھر ادھر دیکھا ،کچھ لڑکے سامنے سے آ رہے تھے لیکن وہ اس کے پاس سے گزرے تو نہ کسی نے آنکھ اٹھا کر دیکھا نہ کسی نے ٹچ کی کوشش کی ،نہ جملہ کسا وہ مسکرادی اور اپنے ر ب کا شکر ادا کرنے لگی کہ وہ اپنے سائبان میں لوٹ آئی تھی جہاں وہ بےفکری کی نیند سوتی تھی ۔
-

10 شادیاں کرنے والی خاتون گیارہویں دولہے کی تلاش میں
56 سالہ امریکی خاتون نے بہترین اور پرفیکٹ لائف پارٹنر کی تلاش میں 10 شادیاں کیں مگر زندگی کا ہم خیال اور لائف پارٹنر اب تک نہیں ملا جس پر خاتون گیارہویں دولہے کی تلاش میں ہیں اوراس کے لئے اپنے دسویں شوہر سے طلاق لینے کا سوچ رہی ہیں-
باغی ٹی وی :بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 56 سالہ کیسسی نامی خاتون نے پرفیکٹ لائف پارٹنر پانے کی کوشش میں 10 شادیاں کی ہیں تاہم اب تک انہیں ایسا شریک حیات نہیں مل سکا ہے جس کے بعد وہ گیارہویں شادی کی تیاری کر رہی ہیں کیونکہ دسویں شادی جس شخص سے کی وہ ان بھی خاتون کے خیالات اور مزاج سے مختلف ہے اب اپنے دسویں شوہر سے بھی طلاق لینے کے بارے میں سوچ رہی ہیں-

شو کے میزبان نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اپنا پرفیکٹ پارٹنر تلاش کرنے کے لیے کتنی شادیاں کریں گی؟ اس کے جواب میں کیسسی کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ تلاش کہاں جا کر ختم ہوگئی لیکن وہ تب تک شادیاں کرتی رہیں گی جب تک انہیں ان کے معیار کا پرفیکٹ لائف پارٹنر نہیں مل جاتا۔کیسسی نے انکشاف کیا کہ دوسری شادی جو صرف 7 سال چل سکی تھی وہ اس لیے ختم کی کیوں کہ شوہر نے ’ آئی لو یو‘ کہنا چھوڑ دیا تھا جب کہ اُن سے میرا ایک بیٹا بھی ہے۔ اسی طرح پہلی شادی بھی باہمی رضامندی سے 8 سال بعد ختم ہوگئی تھی۔خاتون کا مزید کہناتھا کہ انھوں نے ہر طرح کے مرد سے شادی کی۔