Baaghi TV

Category: خواتین

  • عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ—از–ندا خان

    عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ—از–ندا خان

    لبرلزم کی دلدادہ اور مغربی نظام سے مغلوب خواتین 8 مارچ کو پاکستان میں عورت مارچ کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد اپنے حق کی آزادی ہے جس کے لیے وہ سڑکوںپر نکل کر اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں گی اور مردوں کو زلیل کیا جائے گا کیونکہان خواتین کے مطابق مردوں نے ہی ان کے حق سلب کیے ہوئے ہیں یہ خواتین کبھی

    لال لال کے نام پر اور کبھی سڑکوں پر پلے کارڈ اٹھائے نکلتی ہیں جن پر ” میرا جسم میری مرضی” کے نعرے درج ہوتے ہیں ان خواتین کو اس بات کا علم نہیں کہ جن حقوق کے لیے وہ سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر رہی ہیں وہ حقوق تو اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے نبی آخری الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچا دیے ہیں اگر یہ عورتیں قرآن پاک کا مطالعہ کر لیتی تو ان کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر بنا چادر کے بھٹکنا نہ پڑتا قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے پوری ایک سورت عورتوں کے حقوق کے لیے نازل فرمائی "سورت النساء ” قرآن پاک کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد میرا نہیں خیال کہ کوئی مسلمان عورت اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے

    قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور زمانہ جاہلیت کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو اور نماز کی ادائیگی کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو ” ( الاحزاب ٣٣)اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کی عزت اور وقار گھروں میں ہی ہے ناکہ سر بازاربےحجاب ہوکر اپنے حقوق کی بات کریں اسلام سے قبل تو عورت کو وارثت میںحصہ دینے کا تصور بھی نہ تھا اسلام کے آنے کے بعد عورت کو وارثت میں سے حصے دینے کا حق بھی حاصل ہوا

    جب عورت کی عزت اور اس کی حفاظت چادر اور چاردیواری میں ہے تو عورت مارچ کرنے والی خواتین کونسی عزت اور تحفظ کے حق کے لیے گھروں سے باہر نکلنا چاہتی ہے ،آج یہود و ہندو مختلف ذرائع سے اسلامی شعائر کو مسلنے اور بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ایک طرف ڈش اور انٹرنیٹ جیسے آلات کے ذریعے فحاشی اور بےحیائی کے پروگرام نشر کرکے نوجوانوں کے علاوہ مسلمان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے قلوب واذہان میں بےحجابی اور ذہنی آورگی پیوست کرکے اسلامی معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں

    دوسری طرف روشن خیال، پڑھے لکھے مغربی تہذیب و تمدن سے مرعوب و متاثرہوکر یہود وہنود کی ذبان بول کر مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیمات کی بجائے جدید فیشن اور بےحیائی کا ماحول نظر آتا ہےبالخصوص عورت کے حقوق کے نام پر قائم یہودی تنظیمیں، انجمنیں، وغیرہ مسلم بیٹی کی حیا کو اتارنے میں سرفہرست ہیں

    اسلام سے قبل بھی عورت کو بری نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اگر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوجانی تو وہ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا تھا عورت کی ادنی درجے کی حیثیت تھی، اگر کسی کا خاوند فوت ہوجاتا تو اس عورت کو ایک سال تک گندے بدبو دار جھونپڑے،میں پڑا رہنے دیتے آج کے دور میں بھی ہندوستان میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں،عورت کو پاؤں کی جوتی تصور کیا جاتا ہے اگر ہندو مذہب میں کوئی آدمی فوت ہوجاتا،تو اس کی بیوی کو بھی ستی کرکے جلا دیتے ہیں اسلام واحد مذہب ہے جس میں عورت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے،ہم سب کو مل کر عورت مارچ کے نام پر بے حیائی کو روکنا ہوگا، علماء کرام اس کے خلاف آواز اٹھائے اور حکمران وقت اور قاضی وقت تک اپنی آواز پہنچائےکہ وہ عورت مارچ کو روکنے پر اپنا کردار ادا کریں

    پاکستان جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اسلامی مملکت خداداد پاکستان میں آئے روز لبرل خواتین اسلام کا مذاق اڑاتی نظر آتیں ہیں حکومتی عہدیدران پر جوں تک نہیں رینگتی جو حکومت مدینے کی ریاست جیسا نظام رائج کرنے کا نعرہ لگا کر آئی تھی وہ اب تک خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟ حکومتی عہدیدران خدارا اس بے حیائی کو روکے اور ملک کو بے حیائی سے بچائے اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو باحیا اور باپردہ بنائے آمین یا ارحم الراحمين

    عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ
    بقلم :: ندا خان

  • کہیں ایسا نہ ہو”کواچلا ہنس کی چال "اپنی چال بھی بھول گیا” –از–فردوس جمال

    کہیں ایسا نہ ہو”کواچلا ہنس کی چال "اپنی چال بھی بھول گیا” –از–فردوس جمال

    میں اپنی سہیلی سے ملنے ان کے گھر گئی تھی میں ہمیشہ انکی ازدواجی زندگی پر رشک کرتی انہیں اپنے شوہر سے کوئی شکایت نہ تھی،ان کی تمام فرمائشیں شوہر پوری کرتا،حالانکہ گھر کے کاموں کے لئے ڈرائیور رکھا ہوا تھا لیکن پھر بھی گھر کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی شوہر خود خرید لاتا،اس دن انکے گھر پکا کھانا مجھے بہت لذیذ لگا میں اس ڈش بنانے کی ترکیب لکھنا چاہتی تھی،

    میں نے کچن میں چائے بناتی سہیلی کو آواز دی کہ کاغذ قلم چاہئے انہوں نے کہا کہ ٹیبل کے ساتھ والی دراز کھولیں کاغذ و قلم وہیں پڑے ہیں،دراز میں رکھی ہوئی ایک کاپی میں نے نکال لی تاکہ کوئی خالی ورقہ نکال سکوں میں صفحات پلٹاتے میری نظر ایک فہرست پر پڑی جس میں گھریلو ضرورت کی اشیاء کے نام درج تھے،یہ فہرست بہت دلچسپ تھی وہ ہر ہفتے ضروری ترمیم کے بعد شوہر کے ہاتھ تھماتی تھی،فہرست کچھ یوں تھی.

    جان…. !

    تیرے دل کی طرح سفید پنیر
    تیرے جذبات کی طرح گرم مرچیں
    تیرے بوسے کی طرح میٹھی شہد
    تیرے لمس کی طرح ملائم صابن
    تیرے قربت جیسی خوشبو
    تیرے رخساروں کی طرح لال ٹماٹر
    تیرے مونچھوں کی طرح زعفران
    تیرے لہجے کی طرح چاکلیٹ

    میں فہرست پڑھ کر لوٹ پھوٹ کر ہنسی جا رہی تھی کہ میرے سہیلی چائے کے دو کیپ لیکر پہنچ گئی،میں نے انہیں فہرست دکھا دی وہ بھی ہنس پڑی اور کہنے لگی کہ
    "تم شوہر کے لئے عورت بن جاؤ وہ تمہارے لیے مرد بنے گا ”

    میں گھر لوٹ گئی بڑی عید کے دن قریب تھے،شاپنگ کا موقع تھا اور یہ نسخہ اپنے شوہر پر آزمانے کے لئے میں نے ایک لسٹ تیار کرکے شوہر کو تھما دی.
    جو کچھ اس طرح تھی.

    لہسن تیری خوشبو جیسی
    پیاز تیری ڈھکار جیسی
    بینگن تیری رنگت جیسے
    ٹماٹر تیری آنکھوں جیسے
    گوبھی تیرے بالوں کی طرح
    آلو تیرے ناک کی طرح
    کالی مرچیں تیرے غصے کی طرح
    کوکنگ آئل تیری بہتی ناک کی طرح
    عید قربانی کے لیے بکرا تیری طرح

    شوہر عید کے تیسرے دن گھر لوٹے تو ان کے ساتھ دی گئی فہرست میں سے کوئی سامان نہیں تھا ہاں البتہ ان کے ساتھ
    ایک نئی نویلی دلہن ضرور ہمراہ تھی.😓

    سہیلیوں کی دیکھا دیکھی شوہروں سے نت نئی فرمائشیں کرنے والی بیگمات کے لئے.😎

    عربی سے ترجمہ

    کہیں ایسا نہ ہو”کواچلا ہنس کی چال "اپنی چال بھی بھول گیا” –از–فردوس جمال

    بقلم فردوس جمال!!!

  • نکاح اور عہد وفا ! تحریر: غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے اس کائنات کو بنایا اور اس کو اپنے بندوں سے سجایا بندوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے پیغمبر اور رسول بیجھے تاکہ ان کے بتلائے ہوئے طریقے پر چل کر عام انسان زندگی بسر کر سکیں روزی روٹی حاصل کرسکیں اور دیگر امور زندگی گزار سکیں
    یوں تو سارا سال ہی نکاح اور شادیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے مگر نومبر سے جنوری تک ملک پاکستان میں شادیوں کا خاص سیزن ہوتا ہے
    نکاح ایک مقدس فریضہ ہے اور تمام انبیاء کرام کی بھی سنت ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔ نکاح میری سنت ہے
    یعنی یہ ایک فرض عین ہے نکاح کیلئے ہم نے طرح طرح کی شرطیں اور رسمیں خود سے بنا ڈالیں ہیں کہ جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اس خوشی کے موقع پر دوستوں رشتے داروں کو اکھٹا کیا جاتا ہے لڑکے والے بارات کیساتھ لڑکی کے گھر جاتے ہیں جنہیں کھانا لڑکی والے اپنی خوشی سے کھلاتے ہیں جبکہ لڑکے والے بعد میں ولیمہ پر دوست احباب اور رشتہ داروں کو کھانا کھلاتے ہیں مگر اس عظیم خوشی اور پاکیزہ عمل پر بھی ہم عہد شکنی کرنے سے باز نہیں آتے اکثر اوقات اس موقع پر ہم کھانے میں اور بارات کے مقرر کردہ وقت میں عہد شکنی کرتے ہیں حالانکہ شادی کارڈ پر لکھواتے ہیں کہ ،پابندی وقت کو ملحوظ خاطر رکھیں مگر اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مترادف ہم بارات کے مقرر کردہ ٹائم پر بارات نہیں لیجاتے جس کی بدولت ساتھ جانے والے رشتہ داروں اور دوستوں کو کھانے میں دیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسا تقریبا ایک رواج بن چکا ہے خاص کر ہمارے گاؤں دیہات میں جہاں میرج ہال نہیں ہوتے وہاں ایسا زیادہ ہوتا ہے چونکہ شادیوں کا سیزن ہوتا ہے اور ایک دن میں ایک میرج ہال کو دو سے تین تک شادیوں کا آرڈر ملا ہوتا ہے تو اسی لئے میرج ہال والے وقت کی پابندی لازمی کرواتے ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے مگر ہمیں یہ بھی سوچنا چائیے کہ ایک ایسا عمل کہ جس کا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اگر اس کی شروعات میں ہی ہم فضول رسم و رواج کرنے کیساتھ لوگوں کو گھنٹوں بھوکا رکھ کر عہد شکنی کرینگے تو اس نکاح میں برکت کیسے ہوگی کیونکہ صحیح بخاری میں نبی رحمت کی حدیث ہے کہ جس میں تین باتیں پائی جائیں وہ منافق ہے
    1 جب بات کرے تو جھوٹ بولے
    2 وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے
    3 اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں سے خیانت کرے
    تو آپ خود سوچیں جب شادی کارڈ والے سے بات کرکے خود ہم نے نکاح و ولیمہ کا ٹائم مقرر کرکے لکھوایا پھر جب ہم نے ہی ٹائم کی پابندی نا کی تو گویا ہم جھوٹ بولا اور اسی طرح عہد شکنی بھی کی
    جہاں پابندی وقت کی عہد شکنی شادی والے گھر سے شروع ہوتی ہے وہاں شادی میں شرکت کرنے والے بھی لیٹ پہنچ کر اس عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں لہذہ اس مقدس فرض میں فضول رسم و رواج کی عہد شکنی کیجئے اور پابندی وقت کے عہد کو بھی پورا کریں تاکہ ہم ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دے سکیں اور زندہ قومیں اپنے اسلاف کی بتائی گئی باتوں سے عہد شکنی نہیں کرتیں

  • ہیومن رائٹس سنٹر فار ویمن ملتان میں 3 ماہ کے دوران 64کیس رپورٹ ہوئے

    ہیومن رائٹس سنٹر فار ویمن ملتان میں 3 ماہ کے دوران 64کیس رپورٹ ہوئے

    ملتان۔ (اے پی پی) شہید بے نظیر یھٹو ہیومن رائٹس سنٹر فار ویمن ملتان میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران مختلف نوعیت کے تشدد کے 64کیس رپورٹ ہوئے جن میں زیادہ تر نان نفقے اور جہیز ریکوری کے معاملات ہیں۔ منیجر ہیومن رائٹس فار ویمن سمارا شیریں نے اے پی پی کوبتایا کہ گھریلو تشدد ہمارے معاشرے کا شیوہ بن چکا ہے اور محدود اور جارحیت پسند ذہنیت رکھنے کے لوگ سرعام تشدد کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے، عورتوں پر ظلم وستم نہ صرف سماجی و قانونی لحاظ سے بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی ایک غیرمہذب روش ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہیومن رائٹس سنٹر خواتین پر تشدد کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

  • عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    آج پوری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جا رہا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کی عزت و عظمت کا حق اسے مکمل طور پر دیا جاٸے ۔ عورت کو محض ایک اشتہار نا سمجھا جاٸے بلکہ عورت جس کا نام ہی پردہ ہے اسے مکمل عزت س نوازا جاٸے اس کی آبرو کا خیال رکھا جاٸے ۔ عالمی یوم حجاب منانے کا مقصد یہی ہے کہ جن ممالک میں مسلمان عورتوں کے حجاب پر پابندی ہے وہاں عورت کو اس کے حجاب کا حق دیا جاٸے ۔ اور جو عورتیں پردے کو بوجھ سمجھتی ہیں ان میں یہ شعور اجاگر کیا جاٸے کہ حجاب ان پر کوٸی مصیبت نہیں بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

    پاکستانی خواتین نے یہ عالمی یوم حجاب کشمیری خواتین کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی توجہ اس طرف دلاٸی جاٸے کہ انڈین آرمی کشمیری نے مظلوم خواتین کی عصمت دھری بند کرے اور کشمیری خواتین کے پردے کا خیال رکھا جاٸے اور ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیا جاٸے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ایک کم ظرف اور گھٹیا قوم جب دوسری کسی قوم پر قبضہ کرتی ہے تو پھر وہ دیگر لوٹ مار کے ساتھ ساتھ اس مقبوضہ قوم کی خواتین کی عزتیں لوٹنا قابل فخر کام سمجھتی ہیں ۔ ایسی کم ظرف قوموں میں سے ایک قوم بھارت بھی ہے ۔ جس نے زبردستی مسلمان کشمیریوں پر قبضہ کر کے وہاں کی مجبور و بے بس خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا رکھا ہے ۔ عالمی یوم حجاب کو کشمیریوں کے نام کرنے کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کشمیری خواتین کو تحفظ دینے کی کوشش کرے اور بھارت پر دباٶ ڈالے کے وہ کشمیری خواتین کی عزت و آبرو کا خیال رکھیں ۔

    اس دن کامقصد یہ بھی ہے کہ کشمیر کی جو بہادر خواتین پردے میں رہتے ہوٸے اپنی آزادی کا حق لینے کے لیے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں انہیں ان کا حق دیا جاٸے ۔ کشمیر کی جو خواتین بھارتی کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش ہیں ان میں ایک اہم نام محترمہ آسیہ اندرابی ہیں ۔

    اس کے علاوہ کشمیری خواتین چاہے ان کا تعلق سٹوڈینٹس سے ہو یا عام گھریلو خواتین سے وہ اپنے پردے میں رہتے ہوٸے بھارتی ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ پردے میں رہتے ہوٸے انڈین فوج کی گولی کا جواب پتھر سے دے رہی ہیں ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ تمام مسلمان حکمرانوں کو جھنجھوڑا جا سکے کہ وہ اپنی مسلم بیٹیوں کے تحفظ کے لیے آگے بڑھیں اور ملی غیرت کا ثبوت دیں ۔
    اللہ پاک ہماری مسلمان بہنوں کے پردے سلامت رکھے ۔ آمین

  • ورلڈ پاپولیشن ڈے پر باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

    ورلڈ پاپولیشن ڈے پر باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

    آج لاہور میں ورلڈ پاپولیشن کے حوالے سے ایک تقریر کا انقاد کیا گیا جس میں معاشرے کے مختلف تبقات سے شرقت کی مزید جانیے اس ویڈیو میں

  • غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    مسجد میں قالین بچھانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، مسجد میں پتھر لگوانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، میلاد پر پیسہ لگانے سے بہتر ہے کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، حج پر اتنے پیسے لگانے سے بہتر ہے انسان غریب کی بیٹیوں کو چادر لے دے ، عمرہ پر جانے سے بہتر ہے کہ انسان غریب کی بیٹیوں کو کپڑے لے دے انہیں چادریں لے دے ۔

    یہ ہیں وہ چند جملے جو آٸے دن ہمیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ ہیں وہ چند جملے جن کا پرچار کچھ نام نہاد مسلمان کرتے نظر آتے ہیں ۔ میں ان لوگوں کو پوچھنا چاہوں گا کہ آخر تکلیف مسجد ، عمرہ ، میلاد اور حج کی ہے یا پھر واقعی غریب کی بیٹی کا درد ہے دل میں ۔ اگر تو درد ان لوگوں کو مسجد ، منبر ، محراب ، حج اور عمرے کا ہے تو میں ایسے لوگوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ کسی عالم دین کی صحبت میں بیٹھیں ، اللہ کے احکامات پڑھیں ، دین سیکھیں تاکہ ان لوگوں کو پتہ چلے کہ جب حکم خدا ماننا ہوتا ہے تو پھر آدم کو سجدہ بھی کرنا پڑتا ہے ورنہ انکار پر سب سے بڑا عبادت گزار بھی مردود کہلاتا ہے ۔ جہاں حکم ربی آجاتا ہے وہاں یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ اس کی بجاٸے یہ کر لیں یا اس کی بجاٸے وہ کر لیں ۔ پھر صرف اور صرف اللہ کا حکم ماننا ہوتا ہے ۔

    رہی بات غریب کی بیٹی کے دوپٹے اور چادر کی تو اللہ پاک ان غریبوں کی بیٹیوں کی عزتیں سلامت رکھے ۔ جو یہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ پھٹی ہوٸی چادر سے سر کیسے ڈھانپنا ہے اور یہ بھی جانتی ہے کہ اسے نامحرم مردوں سے اپنی عزت کو کیسے بچانا ہے ۔ یہ جو لوگ ایسی باتیں کر کے اپنی دانشوری کے جوہر دیکھاتے ہیں کہ غریب کی بیٹی کے سر پر چادر دو ، عمرہ چھوڑو ، حج چھوڑو ، میلاد چھوڑو ، مسجد چھوڑو ، مسجد کا خیال نہ کرو صرف اور صرف غریب کی بیٹی کی چادر کا سوچو تو میں ایسے دانشوروں سے کہنا چاہوں گا کہ اپنی آنکھوں اور عقل پر بندھی پٹی کو کھول کر دیکھو کسی غریب کی بیٹی بغیر چادر کے نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی پھٹی ہوٸی جینز میں نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی بغیر دوپٹے کے نظر آگٸی تو کہنا ، اگر غریب کی بیٹی اپنی عزت کا سودا کرتی نظر آگٸی تو کہنا ، غریب کی بیٹی اگر کسی سے محبت بھی کرے گی ، اسے ٹوٹ کر چاہے گی بھی تو بھی کبھی بھی اس کے سامنے بغیر دوپٹے پھٹی ہوٸی جینز اور عریاں لباس پہن کر نہیں جاٸے گی ۔ خدارا بند کرو یہ تماشا غریب کی بیٹی ، غریب کی بیٹی ، غیب کی بیٹی ، خدا کے لیے مت بناو تماشا غریب کی بیٹی کے دوپٹے کا کیونکہ غریب ہے تو کیا ہوا اس کے پاس غیرت مند باپ ، عزت دار بھاٸی ، عزت دار شوہر موجود ہے اس کی فکر کرنے کے لیے جو اس کےسر پر سے کبھی چادر اترنے نہیں دیتے ، غریب کی بیٹی کے پاس چار محافظ موجود ہیں جو اس کی عزت کے رکھوالے ہیں ۔

    غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے دانشوروں فکر کرنی ہے تو آٶ فکر کرتے ہیں ، اس بیچاری غریب لڑکی کا جس کے پاس نا تو غیرت مند باپ ہے نا عزت دار بھاٸی اور شوہر ، آٶ فکر کریں اس بیچاری عورت کی جسے روز نیم عریاں لباس پہن کر ، کبھی چند روپے کے شیمپو اور صابن کے لیے ٹی وی پر آ کر نہانا پڑتا ہے سب کے سامنے ، کبھی اسے چند منٹ کے ڈرامے کے لیے کسی نامحرم کے بستر پر اس کے ساتھ لیٹنا پڑتا ہے ، کبھی اسے عریاں لباس پہن کر ایوارڈ شو میں نامحرم کی بانہوں میں ناچنا پڑتا ہے ، تاکہ اس بیچاری کے باپ ، بھاٸی ، شوہر کو اس کا بوجھ نا اٹھانا پڑے بلکہ یہ خود کما کر انہیں کھلاٸیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والو ! ان امیروں کی بیٹیوں کے دکھ سمجھو ، انہیں اپنی زکوة ، خیرات اور صدقات میں سے حصہ دیں تاکہ یہ بیچاریاں پھٹی ہوٸی جینز ، عریاں لباس اور بغیر دوپٹے کے گھومنے کی بجاٸے با پردہ اور پورا لباس خرید کر پہن سکیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے مفکرو ! آٶ امیر کی بیٹی کا درد سمجھیں تاکہ اسے دو دو ٹکے کے نامحرم لوگوں کے ساتھ ناجاٸز ڈرامے اور اشتہار نا کرنے پڑیں ، آٶ بنو سہارا ان امیروں کی بیٹیوں کا جن کے تم دیوانے ہو ، جن کے تم فین ہو ، جن کی ذات سے تم متاثر ہو کر ان کی Ids کو فالو کرتے ہو ، ان کی فضول پوسٹس پر پاگلوں کی طرح کمنٹ کرتے ہو تاکہ وہ کسی طرح تم لوگوں کو رپلاٸے دیں ۔ پھر اگر کوٸی رپلاٸے دے دے تو کمنٹ کو سیو کر کے اسے پوسٹ کر کے اپنے چھوٹے پن کاثبوت دیتے ہو ، اور ایسا کرنے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہی ہیں وہ عورتیں جو تماری نسلوں میں بے حیاٸی پھیلا رہی ہیں ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کی زندگی عذاب ہورہی ہے ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کے باپ کو جہیز کے لیے لمبی لمبی لسٹیں ملتی ہیں ۔ خدارا غریب کی بیٹی کا تماشا نا بناٸیں ،
    ، غریب کی بیٹی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ وہ نا صرف اپنا سر ڈھانپنا جانتی ہے بلکہ اپنی ، اپنے باپ ، اپنے بھاٸی ، اپنے شوہر اور اپنے بیٹے کی عزت کی حفاظت کرنا بھی جانتی ہے ۔

    اللہ پاک نام نہاد امیروں کی بیٹیوں کو ہدایت عطا فرماٸے اور سب بیٹیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت فرماٸے ۔ آمین

  • سعودی خواتین کو ملی اب اور آزادی

    سعودی خواتین کو ملی اب اور آزادی

    سعودی عرب جدت پسندی کی طرف گامزن ،سعودی خواتین اب مرد سرپرستوں کی اجازت کے بغیر دنیا کی سیر کر سکتی ہیں اور انہیں اپنے نابالغ بچوں کا سرپرست بننے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق عربی اخبار ’عکاظ ‘ کے مطابق سعودی عرب جدت پسندی کی طرف گامزن ،سعودی خواتین اب مرد سرپرستوں کی اجازت کے بغیر دنیا کی سیر کر سکتی ہیں اور انہیں اپنے نابالغ بچوں کا سرپرست بننے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔
    ’’ملک میں نئے قانون کے تحت 21 سال کی عمر کے بعد خواتین کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے مرد سرپرست سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سے قبل بالغ خواتین کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے والد، بھائی یا شوہر سے اجازت لینی پڑتی تھی‘‘۔ خواتین پر اس طرح کی پابندی کی دیگر ممالک میں سخت تنقید ہو رہی تھی۔
    اخبار کے مطابق حالیہ قانون کے بعد خواتین، مردوں کی طرح اپنے بچے کی سرپرست ہونگی اور اب وہ اپنے نوزائیدہ بچوں کی پیدائش پر انتظامیہ کے متعلقہ دفتر میں رجسٹر کرا سکتی ہیں۔سرکاری اخبار کے حوالے سے فرانسیسی خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت جنس کی تفریق کے بغیر اب ہر اس شہری کو پاسپورٹ جاری کردے گی جو اس سلسلے میں درخواست دے گا۔

    واضح رہے اس سے پہلے سعودی قانون کے مطابق تمام عمر کی خواتین پر لازم تھا کہ پاسپورٹ بنوانے اور بیرون ملک سفر کے لیے اپنے خاندان کے کسی فرد یعنی نگراں جیسے والد، شوہر یا بھائی کو ضرور ساتھ لے کر جائیں یا پھر کم از کم ان کی اجازت کے ساتھ سفر کریں گی۔

  • چھوٹے اور باریک بالوں سے پریشان خواتین خوش ہوجائیں

    چھوٹے اور باریک بالوں سے پریشان خواتین خوش ہوجائیں

    خوبصورت اور گھنے بال کرنا اب بس ایک خواب ہی نہیں اگر آپ مندرجہ ذیل طریقے استعمال کرتی ہیں تو آپ کے بال بھی گھنے اور لمبے ہو سکتے ہیں.

    بالوں کا کاٹنا:
    اگر آپ اپنے بالوں کی بہتر نشوونما چاہتے ہیں تویہ اس کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر 4 سے 8 ہفتوں کے دوران بال کٹوانے سے ان کی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بالوں کو بڑھنے میں مدد ملتی ہے جب کہ اس طریقے سے بال مضبوط اور گھنے بھی ہوتے ہیں۔

    نیم گرم تیل سے مالش کرنا:
    کمزور بالوں سے نجات کے لیے سر پر نیم گرم تیل کی مالش بھی انتہائی مفید ہے اس سے نہ صرف نئے بال تیزی سے اگتے ہیں بلکہ انسان گنج پن سے بھی محفوظ رہتا ہے جب کہ بالوں کی خشکی سے محفوظ رہنے کے لئے بھی یہ طریقہ کارگر ہے۔ سر کی مالش کے لیے زیتون اور کھوپرے کا تیل زیادہ مفید ہوتا ہے۔

    بالوں میں انڈے کی زردی لگانا:
    سر میں انڈے کی زردی لگانے سے نہ صرف بال گھنے اور مضبوط ہوتے ہیں بلکہ اس سے بالوں کی چمک اور خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ بالوں کی جڑوں کو بھی مضبوط بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔

    دن میں 50 بار کنگھا کرنا:
    اگر آپ اپنے بالوں کے مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے دن میں کم از کم 50 بار کنگھا ضرور کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سر میں کنگھا کرنے سے نہ صرف بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں بلکہ بالوں کا گرنا بھی کم ہوجاتا ہے۔

    جسمانی صحت کے اثرات:
    خون کی کمی یا جسمانی طور پر کمزور شخص کے بال کبھی بھی صحت مند توانا اور گھنے و سیاہ نہیں ہوں گے اس لیے صحت کی طرف توجہ ضروری ہے جب کہ اس سلسلے میں غذا میں موسمی پھل، سبزیاں، دودھ اور دہی کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔

  • عورت، معاشرے کی اہم اکائی ۔۔۔ اشفاق طاہر

    عورت، معاشرے کی اہم اکائی ۔۔۔ اشفاق طاہر

    آج کل ’حقوقِ نسواں‘ کے تحفظ کے دعویدار گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتے ہوئے یہ دعوت دے رہے ہیں کہ عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ چلنا چاہیے اور کسی بھی میدان میں انھیں مردوں سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ حالانکہ یہ دعوت عورتوں کو بربادی کی طرف دھکیلنے کے برابر ہے،کیونکہ اس کے پیچھے دعویداروں کا مقصد عورتوں کی ترقی نہیں بلکہ ان کا اصل مقصد شرم وحیا کا خون کرنا ہے۔ تاکہ جو شخص جب چاہے، جہاں چاہے اور جسے چاہے اپنے دامِ فریب میں گرفتار کر کے اس کی عزت کو تار تار کر دے۔ جیسا کہ آج کل بصد افسوس ہو رہا ہے !

    ہماری بہنوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو مردوں کے لئے سب سے خطرناک فتنہ قرار دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:

    ’’ جب کوئی مردکسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘

    بنا بریں! عورتوں کا مردوں سے اختلاط مرد و زن دونوں کے لئے باعثِ فتنہ ہے اور اس سے دونوں کا دین وایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے تمام دروازوں کو بند کر دیا ہے جو مردو زن کے اختلاط کی طرف لے جاتے ہیں۔مثلاً :

    1۔ عورت کو اللہ تعالیٰ نے غیر محرم مرد کے ساتھ پست اور نرم آواز میں بات کرنے سے منع فرما دیا ہے تاکہ کوئی مریض دل والا اس کے متعلق شک و شبہ کا اظہار نہ کرے۔ ( سورۃ الأحزاب :آیت 32)

    لہذا جب نرم لب و لہجے میں بات تک کرنے کی اجازت نہیں ہے تو مردو زن کے اختلاط کو کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے ؟

    2۔ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں کو اجنبی عورتوں سے اپنی نظروں کو جھکانے کا اور اسی طرح مومنہ عورتوں کو بھی اجنبی مردوں سے اپنی نظروں کو جھکانے کا حکم دیا ہے۔ ( سورۃ النور : آیات 30، 31)

    اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر محرم عورتوں کو دیکھنا آنکھوں کا زنا قرار دیا ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

    ’’ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے۔اور زبان کا زنا بات چیت کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے۔‘‘ [ متفق علیہ ]

    لہذا جب غیر محرم مرد و عورت کا ایک دوسرے کو دیکھنا حرام ہے تو ان کی آپس میں میل ملاقات اور گھومنا پھرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے ؟

    3۔ جو خواتین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتیں اور وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹنے لگتیں تو انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیا کرتے تھے کہ :

    اِسْتَأْخِرْنَ فَإِنَّہُ لَیْسَ لَکُنَّ أَنْ تُحَقِّقْنَ الطَّرِیْقَ ( وَسَطَہَا )، عَلَیْکُنَّ بِحَافَاتِ الطَّرِیْقِ،فَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ تَلْصَقُ بِالْجِدَارِ حَتّٰی إِنَّ ثَوْبَہَا لَیَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ مِنْ لُصُوْقِہَا

    ’’ تم پیچھے ہٹ جاؤ، کیونکہ تمھارے لئے جائز نہیں کہ تم راستے کے عین درمیان میں چلو، تم پر لازم ہے کہ تم راستے کے کناروں پر چلو۔اس پر وہ خواتین دیوار کے ساتھ چمٹ کر چلتی تھیں حتیٰ کہ ان کی چادریں ( جن سے انھوں نے پردہ کیا ہوتا ) دیواروں سے اٹک جاتی تھیں۔‘‘ [ ابو داؤد:5272 وصححہ الشیخ الألبانی فی الصحیحۃ : 856 ]

    تو آپ اندازہ فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز کی ادائیگی کے بعد گھروں کو واپس لوٹنے والی عورتوں کو مردوں کے راستے سے دور رہنے کی تلقین فرمائی تو عام طور پر مردو عورت کا اختلاط کیسے درست ہوسکتا ہے؟

    4۔ حضرت عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    ’’ تم ( غیر محرم ) عورتوں کے پاس جانے سے پرہیز کرو۔تو ایک انصاری نے کہا : اے اللہ کے رسولؐ ! آپؐ اَلْحَمْو (یعنی خاوند کے بھائی ’دیور‘ ) کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’دیور‘ موت ہے۔ ‘‘ [ بخاری : النکاح باب لا یخلون رجل بامرأۃ، 5232، مسلم :الأدب، 2083]

    اس حدیث میں ذرا غور کریں کہ جب دیور ( خاوند کا بھائی ) اپنی بھابھی کے لئے موت ہے تو عام مرد و عورت کا آپس میں اختلاط کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

    5۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ إِلاَّ وَمَعَہَا ذُوْ مَحْرَمٍ، وَلاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ إِلاَّ مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ

    ’’ کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ ہرگز خلوت میں نہ جائے، ہاں اگر اس کے ساتھ کوئی محرم ہو تو ٹھیک ہے۔اور اسی طرح کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسولؐ ! میری بیوی حج کے لئے روانہ ہو گئی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوہ کے لئے لکھ لیا گیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ، اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔

    [ بخاری: الحج، باب حج النساء،2826، مسلم : الحج، 1341 ]

    مذکورہ بالا دلائل اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہیں کہ مردو زن کا اختلاط قطعاً جائز نہیں ہے۔ لہذا مسلمان خواتین کو مغرب زدہ لوگوں کے فریب میں نہیں آنا چاہیے اور قرآن و حدیث کے ان واضح دلائل کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دینا چاہیے۔