Baaghi TV

Category: مذہب

  • حسین رضی اللہ عنہ شجاعت کی مثال   تحریر : ماریہ بلوچ

    حسین رضی اللہ عنہ شجاعت کی مثال تحریر : ماریہ بلوچ

    حسین رضی اللہ عنہ کون تھے؟؟ حسین ابن علی ابن ابی طالب نواسہء رسول ﷺاور اس باپ کے بیٹے تھے جنکا لقب ہی "حیدر” ہے۔ بہادری و جرات حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کی گھٹی میں تھی۔
    ‏حسین ابن علی رضی اللہ عنہ اسلام کے ہیرو ہیں انکی بہادری و شجاعت نے جس طرح اسلام میں اک نئ روح پھونک کر اسلام کو تاقیامت قائم رہنے والا دیں بنانے کا حق ادا کیا تاقیامت اسکی مثال مل ہی نہیں سکتی حسین ابن علی رضی اللہ عنہ نے حق کے لیے آواز اس وقت بلند کی جب لوگ باطل کے ڈر سے اٹھنے کی ہمت نہ کر پا رہے تھے۔۔ میدان کربلا میں حق پر ثابت قدمی اس قدر کہ باطل کسی طرح بھی اپنے مذموم مقاصد‏حاصل نہ کر سکا۔
    دنیا میں کوئ بھی حق پر بہادر انسان اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے اپنی جان کی بازی تو لگا سکتا ہے مگر اپنا پورا کنبہ قربان نہیں کر سکتا ایسا حوصلہ ہمت اور بہادری حسین ابن علی رضی اللہ عنہ ہی کی تھی جن کے آگے اللہ کے دین کی حفاظت
    ‏سے بڑھ کر کچھ نہ تھا۔ اپنی جان مال اولاد سب اللہ کے لیے اسکے آخری نبی ﷺ کے دین کی حفاظت و سربلندی پر قربان کر دیا۔۔ لیکن صد افسوس ہم جیسی قوم پر ہم نے یہ بھلا دیا کہ حسین رضی اللہ عنہ کی اس عظیم قربانی کا عظیم مقصد کیا تھا؟ ہم مجرم بن گئے۔ ہم ‏نے انکی قربانی کو ضائع کیا۔ ہم نے اسی دین میں فرقے بنا لیے۔۔ اور ظلم عظیم یہ کہ حسین کے نام پر ہی فرقے بنا کر اسلام کی طاقت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔
    ہم نے اپنے ہیرو کی شجاعت کو اپنا کر دنیا میں اسلام کا بنانا تھا اور ہم نے اس اسلام کو ہی پارہ پارہ کر دیا….
    حسین رضی اللہ عنہ ہمارے محسن ہمارے ہیرو اور ہم نے دنیا کے آگے اپنے اس بہادر جری نڈر
    ‏حق پرست ہیرو کو مظلوم
    شخصیت بنا کر پیش کر دیا۔۔ہم نے کربلا کی شجاعت کی داستانوں کو بدل کر مظلومیت کی داستان بنا کر حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تاریخ میں بہت بڑا جرم کیا۔ وہ حسین ابن علی رضی اللہ عنہ جن کہ جنکی شہادت کی خبر اللہ نے ﷴﷺ کو اس وقت دے دی جب نواسہء رسولﷺ گود میں کھیل رہے تھے۔ ہم نے اپنی نسلوں کو شہادت حسین رضی اللہ عنہ تو بتائ شجاعت حسین رضی اللہ عنہ بتانا بھول گئے ہماری نسلوں نے شہادت حسین رضی اللہ عنہ کو ایک تہوار بنا کر منا تو لیا مگر ہماری نسلیں حسین رضی اللہ عنہ کو اپنا ہیرو‏ نہ بنا سکیں۔ جب ماوں نے نسلوں کو حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومیت ہی سنائ اور انکی شخصیت کا صرف ایک پہلو اپنی نسلوں کے سامنے رکھا ، جب انکو حسیںن رضی اللہ عنہ کی شجاعت بتائ ہی نہ گئ تو ہماری نسلوں میں حسینی پیدا ہونے سے رہ گئے ۔ہماری نسلوں نے ادھر ادھر کی دنیا سے ادھار ہیرو مانگ کر بنا لیے۔ ہائے افسوس ہم کیسی قوم ہیں ؟؟؟ہم احسان فراموش بزدل قوم ہیں، بزدل قومیں ہی اپنے ہیروز کی مظلومیت دنیا کے سامنے بیان کرتی ہیں۔ بہادر قومیں تو اپنے ہیروز کی بہادری کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق بھر دیا کرتی ہیں۔ اپنی نسلوں کو اسی بہادری کے قصے سنا کر جوان کرتی ہیں اور پھر ہی تو ان قوموں کے جوان سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
    ہم قصوروار ہیں مگر امید ابھی موجود ہے ہم نہ سہی ہماری آنے والی نسلوں میں ایسے جوان بنانے کی جن کی منزل وہی ہو جو حسین رضی اللہ عنہ کی تھی جن کی

    ‏زندگیوں کا مقصد حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چل کر باطل سے ٹکرا جانا ہو۔ جن کے خوف و ہیبت سے باطل لرزا جایئں۔ جنکی شجاعت اسلام کو تقویت بخشے۔
    مایئں بچوں کو گود میں حسین رضی اللہ عنہ کی شجاعت سنایئں گی جب ایسا ممکن بھی صرف ہو گا تب۔
    باپ اولاد کے دل و دماغ میں حسین رضی اللہ عنہ کا خاکہ بنایئں گے تب ہونگے اس ‏اس قوم میں حسینی پیدا۔ تب ہو گا اسلام کا ہر سو اجالا۔۔۔۔۔۔

    Twitter handle: @ShezM__

  • عہد نبوی میں نظامِ حکومت تحریر: محمد سمیع اللہ ملک

    عہد نبوی میں نظامِ حکومت تحریر: محمد سمیع اللہ ملک

    عام خیال یہ ہے کہ اسلام کو عرب میں ایک عادلانہ نظامِ حکومت میں قائم کرنے میں جو دشواریاں پیش آئیں وہ تمام تر اہل عرب کی وحشت، بداوت اور جہالت کا نتیجہ تھیں۔ لیکن در حقیقت اس سے زیادہ یا اسی کے برابر خود وقت کا تمدن بھی اسلام کے عادلانہ نظامِ حکومت کا دشمن تھا اور اسکی مخالفت وحشت سے زیادہ اور دیرپا تھی چنانچہ 8ھ میں فتح مکہ کے بعد اگرچہ وحشی عربوں نے اسلام کے سامنے اپنی گردنیں جھکا دیں، لیکن وقت کے تمدن کا سر پر غرور اب تک بلند تھا چنانچہ نامہ اقدس کے جواب میں شہنشاہ ایران کا جواب اور قیصر روم کے حامیوں کے مقابلے میں غزوہ موتہ وغیرہ واقعات جو 9ھ میں پیش آئے اور اسکے بعد خلافت راشدہ میں ایرانیوں اور رومیوں سے لڑائیاں اسی سرکشی کا نتیجہ تھیں۔
    اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ چھٹی عیسوی میں جو آپ ص کی بعثت اور اسلام کے ظہور کا زمانہ ہے، دنیا کی تمام سیاسی قوتیں مشرق و مغرب کی دو عظیم الشان طاقتوں کے زیر سایہ تھیں مشرق کی نمائندگی فارس کے کسری اور مغرب کی قسطنطنیہ کے قیصر کر رہے تھے اور ان دونوں کے ڈنڈے عرب کے عراقی و شامی حدود پر ا کر ملتے تھے عرب کے وہ قبائل جن میں زرا بھی تہذیب و تمدن کا نام تھا وہ انہی دونوں میں سے کسی کے زیر اثر اور تابع تھے یمن ، بحرین ، عمان ، اور عراق ایرانیوں کے اور وسط عرب اور حدود شام رومیوں کے ماتحت یا زیر اثر تھے۔
    چنانچہ نجمی خاندان نے مقام حیرہ میں ایرانیوں کی ماتحتی میں ایک وسیع سلطنت قائم کی تھی جس کے درماں روا نعمان بن منذر وغیرہ تھے غسانی خاندان جو آپ ص کے زمانے تک قائم رہا رومیوں کی سرپرستی میں حدود شام پر حکومت کرتا تھا یمن میں مدت تک خود عرب کی مستقل خاندانی ریاستیں قائم تھیں۔ لیکن آخر زمانہ میں یمن خود ایرانیوں کے علم کے نیچے آگیا تھا چنانچہ آپ ص کے زمانے میں یمن میں باذان نامی ایرانی حاکم موجود تھا، عرب پر ان سلطنتوں کا اس قدر اقتدار قائم ہو چکا تھا کہ خود عربوں کے ذہن میں جب کسی نظامِ حکومت کا خیال آتا تھا تو اسی ایرانی یا رومی نظامِ حکومت کا خیال آتا تھا، ان سے الگ ہو ان سے بالاتر کسی نظام زندگی کا تخیل ان کے ذہن کی گرفت سے بالاتر تھا۔
    اس بنا پر اسلام عرب میں جو نظامِ حکومت قائم کرنا چاہتا تھا اسکے لئے صرف یہی کافی نہ تھا کہ عرب کی قدیم وحشت کو مٹا کر اسلامی تہذیب و تمدن کی داغ بیل ڈالی جائے بلکہ سب سے مقدم کام یہ تھا کہ عرب کو غیر قوموں کے دماغی تسلط سیاسی مرعوبیت اور ان کے اخلاقی و تمدنی اثر سے آزاد کرایا جائے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر نہ صرف عربوں کو بلکہ سارے عالم کو انسانوں کے خود ساختہ قانون کی غلامی سے نکال کر قانون الٰہی کی اطاعت و فرمانبرداری میں دے دیا جائے اور بتایا جائے کہ قانون الٰہی کو چھوڑ کر دوسرے انسانی قوانین کی پابندی کرنا شرک کا دوسرا راستہ ہے لیکن جیسا کہ اسلام کے تمام فرائض و اعمال میں ترتیب و تدریج ملحوظ رہی ہے اس طرح اسلام کے نظام میں حکومت میں بھی بتدریج ترقی ہوتی گئی چنانچہ اگرچہ آپ ص ساری دنیا کی اصلاح کے لئے آئے تھے مگر آپ ص نے اپنا کام عرب سے شروع کیا تاکہ ایک ایسی صالح جماعت کا ظہور ہو جو آپ ص کے سامنے بھی اور آپ ص کے بعد بھی اس فرض کی تکمیل میں مصروف رہے۔
    لیکن یہی تدریجی ترتیب خود اہل عرب کی اصلاح میں بھی ملحوظ تھی چنانچہ سب سے پہلے آپ ص نے عرب کے اندرونی حصے یعنی تہامہ ، حجاز اور بخد کے لوگوں کے سامنے اسلام کو پیش کیا اور آپ ص کی 23 سالہ زندگی کے تقریبا سولہ سترہ سال انہی قبائل کی اصلاح و ہدایت میں نذر ہو گئے یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے نخلستان کی طرح اگرچہ ہجر ویمامہ کے سبزہ زار بھی اسلام کو اپنے دامن میں پناہ دینے کے لئے آمادہ تھے اور قبائل یمن کے ایک بڑے رئیس طفیل دوسی نے آپ ص کو قبیلہ دوسی کے ایک عظیم الشان قلعے کی حفاظت میں لینا چاہا تھا لیکن آپ ص نے ان متمدان مقامات کو چھوڑ کر مدینہ کی سنگلاخ زمین کو دارالہرہ بنایا وہ اگرچہ منافقین اور یہود کی وجہ سے مکہ سے زیادہ پر خطر تھا اور ابتدا میں مہاجرین رضی کے لئے اسکی آب و ہوا سازگار نہ تھی تاہم آپ نے اسی کی طرف ہجرت فرمائی لیکن جب رفتہ رفتہ عرب کے اس حصہ میں کافی طور پر نظام اسلام قائم ہو گیا اور صلح حدیبیہ نے عرب کے مرکز یعنی مکہ کا راستہ صاف کر دیا اور وہ فتح ہو گیا تو اب عرب کے دوسرے حصوں کی طرف توجہ کا وقت آ گیا اس بناپر اسلام کے دائرہ عمل کو وسعت دی گئی اور عرب کے ان حصوں کی طرف توجہ فرمائی گئی۔

  • کائنات کا مالک رب العالمین   تحریر  : راجہ ارشد

    کائنات کا مالک رب العالمین تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے ہاں لوگوں کو اس موضوع پر بلکل بھی آگاہی نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے بہت سادہ لوح بہن بھائی کھلی گمراہی کی طرف جلے جاتے ہیں۔
    اللہ تعالٰی ایک ہی ہے اور وہ اپنی صفات میں یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔وہی دینے والا ہے وہی ہے لینے والا ۔اس پوری کائنات کا مالک رب العالمین۔

    لیکن ہمارے معاشرے میں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہم نے اپنے حقیقی خالق و مالک کو چھوڑ کر ہندوٶں کا فرسودہ طریقہ اپنا لیا ہے ۔جسے وہ ہندو بتوں کی پوجا کرتے ہیں ویسے ہی ہمارے ہاں کے کچھ لوگ قبروں کی پوجا کرنے لگے ہیں۔کبھی یہ دیکھتے کو ملتا ہے کہ کچھ لوگ قبروں سے منتں مرادیں مانگ رہے ہوتے ہیں۔ بیٹا، نوکری، کاروبار میں ترقی مانگی جا رہی ہوتی ہے۔

    جو رب ہمارے دعا کرنے سے خوش ہوتا ہے جو ہماری شہرگ سے بھی قریب ہے جو ہماری دعاوں کو سننے والا ہے ہم سیدھا اس سے کیوں نہیں مانگتے ہیں۔وہ تو کہتا ہے ایک بار سچے دل سے مانگ کے تو دیکھ تیری چھولی نہ بھر دوں تو کہنا۔

    افسوس ہوتا ہے آج ہم اپنے حقیقی اللہ جو رب العالمین ہےکو چھوڑ کر شرک کی طرف جا رہے ہیں۔

    قارئین ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں اللہ تعالٰی سب گناہ معاف کردیں گے بھلے وہ پہاڑ کے برابر کیوں نہ ہوں مگر یہ گناہ کبھی معاف نہیں ہو گا۔
    زرہ سوچیئے اور سمجھیں کہ کون سی ایسی دعا ہے جو ہمارا رب نہیں سنتا ؟ وہ کون سی نعمت ہے جو نعوز باللہ ہمارا اللہ تعالٰی عطا نہیں سکتا جو ہم ان بت نما قبروں سے مانگتے ہیں؟

    قرآن مجید اور احادیث مبارکہ ہم انسانوں کی رہنمائی کےلیے بہترین نمونہ ہیں جن ہر عمل پیرا ہو کر ہر انسان اپنی زندگی سنوار سکتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ شرک و بدعات جیسی ایسی غلیظ رسم و رواج میں گر چکا ہے جو ہمارے ایمان کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں ۔

    آج کل قرآن مجید و احادیث مبارکہ پڑھانے کے بجائے فقہ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں کہ کہیں یہ بچہ یا بچی سہی معنوں میں قرآن مجید اور احادیث مبارکہ پر چل کر یہ شرک و بدعات چھوڑ ہی نہ دے۔فقہ کی کتابوں میں اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ بچہ قرآن مجید و احادیث مبارکہ کی بات کو ماننے سے کتراتے ہیں ۔

    اللہ پاک ہم سب کو قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کو پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
    اللہ پاک ہم سب کو سیدھا راستہ دکھائیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

    @RajaArshad56

  • ہمارئے نبی ﷺ کی خاص صفت حیا  تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارئے نبی ﷺ کی خاص صفت حیا تحریر : راجہ ارشد

    حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی خاص صفت حیا ہے۔
    کوئی گناہ یا نا پسندیدہ کام یا بات کرنے کے خیال سے دل میں جو شرم اور بے چینی پیدا ہو۔ اسے حیا کہتے ہیں۔اور حیا ہی گناہوں اور برائیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جس شخص میں جتنی زیادہ حیا ہوگی۔ اتنا ہی وہ گناہوں سے محفوظ رہے گا اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حیا سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے اتنے حساس اور غیرت مند تھے کہ انہوں نے اپنا بوجھ چچا ابو طالب پر ڈالنا پسند نہ کیا ۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ایک ملازمہ فرماتی ہیں کہ : آپ ﷺ کبھی گھر میں کھانا مانگ کر نہ کھاتے۔ جو بھی ملتا کھا لیتے اس پر اعتراض نہ کرتے نہ ہی کھانے میں نقص نکالتے۔
    بے حیائی کا تعلق گناہ کا زکر کرنے سے بھی ہے ہمارے پیارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی خطا کار اپنے گناہ بتا کر معافی بھی مانگتا تو آپ ﷺ شرم سے گردن جھکا لیتے تھے ۔

    اچھے اخلاق کی بنیاد ادب پر ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اعلی ترین اخلاق میں ادب نظر آتا ہے۔حالانکہ آپ ﷺ نے اپنے والد کو نہیں دیکھا تھا اور والدہ کے ساتھ بھی بچپن کا بہت کم حصہ گزارا مگر آپ ﷺ نے والدین کے آداب و احترام پر بڑا زور دیا ہے۔اپنی رضاعی والدہ حلیمہ سعدیہ کا بہت احترام فرماتے۔ میری ماں میری ماں کہہ کر کھڑے ہو جاتے اور چادر ان کے لیے بچھا دیتے ۔بوڑھوں بزرگوں بلکہ سب ہی کا احترام فرماتے ہمیں بھی اپنے نبیﷺ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔

    مشہور کہاوت ہے کہ بے ادب بے نصیب با ادب با نصیب۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی ادب کرے اس کے نصیب اچھے ہوں گے۔ادب ایک ایسی خوبی ہے جو خدمت جیسی اعلی عادت بھی سکھاتی ہے۔کیونکہ جو بے ادب ہو گا وہ کسی کی کیا خدمت کرئے گا؟؟
    خدمت خلق ہر ایک کی اور ہر قسم کی خدمت شامل ہے۔اللہ تعالٰی کی یہ پسندیدہ عادت ہے۔اور یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت زیادہ عطا کی گئی ۔ آپ ﷺ اپنے پرائے مسلم اور کافر غرض ہر کسی کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی بغیر کسی مقصد اور لالچ کے کر دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ محتاجوں بیواوں یتیموں اور مسکینوں کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہتے۔

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفائی کا ذکر بھی بہت بار فرماتے ہیں ہم یہاں چند ایک مثالیں دیکھتے ہیں۔ صفائی بھی ایک ایسی خوبی ہے جو اعلی اخلاق کو مکمل کرتی ہے ۔ آپﷺ نے خاص طور پر جگہ جگہ تھوکنے کو سخت نا پسند فرمایا ہے۔
    ایک بار دیوار پر تھوک کے دھبوں کو کھرج کھرج کر خود صاف فرمایا ۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نماز کی امامت کر رہے تھے ۔انہوں نے حالت نماز میں تھوک دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شخص نماز نہ پڑھائے۔پوچھنے پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی۔ دوسری جگہ فرمایا کہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچو کہ قبر میں عام طور پر اسی گناہ کے باعث عذاب ہوتا ہے۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • محرم الحرام…حرمت والا مہینہ…!!! تحریر:جویریہ بتول

    محرم الحرام…حرمت والا مہینہ…!!! تحریر:جویریہ بتول

    یہ دنیا تاریکی و اخلاقی پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گری ہوئی تھی،ظلم و ستم کی بھٹی پوری قوت سے گرم تھی…
    تقدس و حرمت کے مفہوم بدل چکے تھے…
    کہ غارِ حرا سے وہ سراج منیر طلوع ہوئے،جن کے حُسن خلق کی کرنوں نے دنیا کے کونے کونے کو منور کیا…
    اس چودھویں کے چاند سے زیادہ خوب صورت ختم الرسل صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گرد علم و عمل کے چمکتے تاروں نے جو ہالہ بنایا اور محبت و اطاعت کی جو انمٹ داستان عمل و خون سے لکھی وہ رہتی دنیا تک کے لیئے ایک انمٹ مثال بن چکی ہے…
    اس سے بڑا اعزاز ان کے لیئے اور کیا ہو سکتا ہے کہ خالقِ کائنات قرآن میں انہیں حزب اللّٰہ یعنی اپنی جماعت کہہ رہا ہے…
    دنیا میں ہی جن پر اپنی رضوان کے اعلانات فرما کر ان کے مقام و مرتبہ کو اس دنیا کے ہر خاص و عام کو بتا دیا ہے…
    وہ اپنا گھر بار خدمت نبوی میں پیش کرتے ابو بکر صدیق،وہ مسلمانوں کو شان و شوکت بخشتے عمر،
    اپنا سب کچھ ساعۃ العسرۃ میں فی سبیل اللہ لٹاتے عثمان…
    اور حسن و حسین کے والد شیرِ خدا،دامادِ مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنھم کی عظمت و کردار کس پر واضح نہیں ہے…؟؟
    وہ اصحابِ رسول جو پیارے رسول کے حکم کے مطابق جب ہجرت کی راہوں پر نکلے تو وہ مہینہ محرم الحرام کا تھا…
    محرم الحرام ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے،ارشادِ ربانی ہے:
    "مہینوں کی تعداد اللّٰہ کے نزدیک کتاب اللّٰہ میں بارہ ہے،اس دن سے جب سے اُس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا،ان میں چار مہینے ادب و احترام والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے…”
    (التوبہ:36)۔
    یہ چار حرمت والے مہینے کون سے ہیں؟
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "سال بارہ مہینوں کا ہے،جن میں سے چار حرمت والے ہیں،تین مسلسل ہیں،ذوالقعدہ،ذوالحجہ،محرم،
    جبکہ ایک مہینہ رجب ہے…”
    (صحیح بخاری_کتاب بدءالخلق)۔
    ان حرمت والے مہینوں سے مراد یہ ہے کہ ان میں جو چیز فتنہ و فساد،لڑائی جھگڑے اور امن عامہ کی خرابی ہو،اس سے منع کیا گیا ہے…!!!
    ماہ محرم اسلامی سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے،اور اس کی بنیاد مسلمانوں کی مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت پر ہے۔
    صحابہ کرام رضوان اللہ نے محرم میں اللّٰہ اور رسول اللہ کے حکم پر زور و شور سے مدینہ کی طرف ہجرت شروع کر دی تھی،اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سفرِ ہجرت صفر تا ربیع الاوّل ہے…
    حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے جب تمام حکومتی محکموں کو منظم فرمایا تو تاریخ جاری کرنے کا مسئلہ بھی زیرِ غور آیا،چنانچہ انہوں نے ہجرت کے عظیم عمل کا انتخاب فرمایا جو محرم میں شروع ہوا اور اسی مناسبت سے ہجری سن کا آغاز ہوا،
    اور یوں ہجری سن کا تقرر اور آغاز اٹھارہ ہجری میں دورِ خلافت عمر رضی اللّٰہ عنہ میں ہوا…!!!
    یہاں یہ بات بھی پتہ چلتی ہیں کہ اسلامی سال کا آغاز بھی امن کے پیغام کے ساتھ ہوتا ہے اور اختتام بھی حرمت اور محبتوں والے مہینہ ذوالحجہ پر ہوتا ہے جو اسلام کی اَمن پسندی کی بہت بڑی دلیل ہے…!!!
    اسلامی سن کے آغاز میں محبتوں کا وہ انمٹ سلسلہ بھی ذہن کے نقوش پر ابھرنے لگتا ہے کہ جب مہاجرین اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اللّٰہ کی رضا کی خاطر ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو انصارِ مدینہ نے محبتوں اور الفتوں کا جس شدت سے اظہار کیا اسے اللّٰہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کچھ یوں بیان کیا ہے:
    "اور جو لوگ ان(مہاجرین) کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے،یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ ان کو دیا گیا تھا اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے
    دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور انہیں اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ وہ خود کتنے ہی ضرورت مند کیوں نہ ہوں…”
    (الحشر:9)۔
    جب علاقائی اور خاندانی عصبیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے گھروں،زمینوں،باغات اور حتّٰی کہ دو بیویوں والوں نے ایک کو طلاق دے کر اپنے مہاجر بھائیوں کو نکاح کرنے تک کی پیشکش کر دی تھی۔
    پیار و محبت اور ایمانی رشتوں کی خوشبو سے مہکتی مواخات کا وہ خوب صورت منظر بھی نگاہوں میں جھلملانے لگتا ہے…!!!
    حالی نے اس کا نقشہ کیا خوب کھینچا ہے:
    جب امت کو مل چکی حق کی نعمت…
    ادا کر چکی فرض اپنا رسالت…
    رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی صحبت…
    نبی نے کیا خلق سے قصد رحلت…
    تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی…
    کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی…
    سب اسلام کے حکم بردار بندے…
    سب اسلامیوں کے مددگار بندے…
    اللّٰہ اور نبی کے وفادار بندے…
    یتیموں کے،رانڈوں کے غمخوار بندے…
    رہِ کفر و باطل سے بیزار بندے…
    نشہ میں مئے حق کے سرشار بندے…
    جہالت کی رسمیں مٹا دینے والے…
    کہانت کی بنیاد ڈھا دینے والے…
    سر احکامِ دین پر جھکا دینے والے…
    خدا کے لیئے گھر بار لٹا دینے والے…
    ہر آفت میں سینہ سپر کرنے والے…
    فقط ایک اللّٰہ سے ڈرنے والے…
    ان مہاجرین و انصار نے وفاؤں کا ثبوت بدر و احد میں پیش کیا…
    طائف و حنین میں پیش کیا…
    تبوک و موتہ میں پیش کیا…
    محرم کے مہینہ میں ہی یہ جاں نثار چھلنی اور پھٹے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹ کر غزوہ ذات الرقاع میں وفاؤں کا ثبوت پیش نظر آتے ہیں…!!!
    تاریخ کا سفر جاری رہتا ہے کہ خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ یکم محرم الحرام
    چوبیس ہجری میں ابو لؤلو فیروز نامی مجوسی غلام کے ہاتھوں شہادت کی موت سے ہمکنار ہوتے ہیں…
    وہ عمر جس نے اسلام کا پرچم چہار جانب لہرایا تھا.
    اور دنیا حکمرانی میں کامیابی کے لیئے آج بھی اس کی طرف دیکھتی ہے…!!!
    وہ عظیم لوگ جن پر رب نے اپنی رضا اتار دی ہمارا کام صرف ان نقوش کی پیروی کرنا ہے…
    ان سے محبت رکھنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو کوئی میرے صحابہ سے محبت رکھے،اللّٰہ بھی اس سے محبت رکھے گا،اور جو کوئی ان سے دشمنی رکھے گا تو اللّٰہ اس سے دشمنی رکھے گا…”(صحیح بخاری)۔
    اختلافات در اختلافات نے امت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا…
    ہمیں حقائق کی روشنی میں معاشرے میں برداشت اور اصلاح کی ترویج کرنی چاہیئے…!!!
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میرے صحابہ کو برا نہ کہو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر لے،تو میرے صحابہ کے مُد یا آدھے مُد کے ثواب کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا…”(صحیح بخاری)۔
    یہی وہ جماعت تھی جن کی دن رات کی محنت اور قربانیوں کی بدولت اللّٰہ کا دین دنیا کے کونے کونے میں پہنچا…!!!
    جنہوں نے ہر مصیبت کو محبتِ رسول میں قبول کیا
    61ہجری محرم الحرام میں تاریخ کے صفحات پر وہ دلدوز داستان رقم ہے جب نواسۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم جگر گوشۂ بتول حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سازشی اور فتنہ پرداز ٹولے کے ہاتھوں کربلا کے میدان میں شہادت کا عظیم رتبہ پاتے ہیں…
    کوفیوں کی بد عہدی اور بے وفائی کوفی لا یوفی کی مثال بن گئی۔
    وہ حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ جنہیں اللّٰہ کے رسول نے نوجوانانِ جنت کا سردار کہا…
    جن کے بارے میں فرمایا:
    حسین مجھ سے ہے اور میں حسین ہوں،جو حسین سے محبت کرے،اللہ اس سے محبت کرے…” (سنن الترمذی)۔
    قاتلوں کے تھے جو خنجر…
    وہ دل تھے کیسے بنجر…
    نبی کی گود میں پلے…
    جہاں نشانہ حسین ہیں…!!!
    *تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت و لکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانو یعملون¤*
    اسی طرح محرم الحرام میں نیک عمل بالخصوص روزوں کی بڑی فضیلت ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے بعد افضل ترین روزے محرم کے ہیں…(صحیح مسلم)۔
    یومِ عاشورہ کے روزے کے بارے میں فرمایا:
    یکفر السنہ الماضیۃ…(صحیح مسلم)۔
    یہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے…”
    ہمیں ہر ممکن نیک اعمال بجا لانے اور ان کی قبولیت کی دعا کرتے رہنا چاہیئے وہ اعمال جو خالص اللّٰہ تعالٰی کی رضا کے لیئے اور سنت کے مطابق ہوں…
    کسی بھی اچھے عمل کی قبولیت کی یہ دو بنیادی شرائط ہیں…!!!
    صِدقِ خلیل بھی ہےعشق صبرِحُسینؑ بھی ہے عشق
    معرکۂ وجود میں بدر و حُنَین بھی ہے عشق…!!!
    ================================

  • ‏ہم بطور نام کے مسلمان تحریر: فروا نذیر

    ‏ہم بطور نام کے مسلمان تحریر: فروا نذیر

    میری یہ تحریر ہمارے معاشرے کے برائے نام مسلمانوں کے لئے ہے۔ کیونکہ ہم صرف نام کے مسلمان ہو کر کردار کا کفر کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں 95% سے زیادہ لوگ مسلمان ہیں۔ صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں پر ہر مذہب ہر انسان کو کچھ بھی کرنے کی آزادی ہے اور یہ آزادی انسان کو اسلام سے ملی ہے۔

    میں آج آپ سب کے ساتھ کچھ تلخ حقائق پر بات چیت کرنا چاہوں گی جو کہ ہمارے معاشرے کا سیاہ چہرہ ہے اور ہم اپنی اگلی نسل کو ورثے میں ایسا معاشرہ دے رہے ہیں۔

    ہر انسان وہ کام کر رہا ہے جس کو اسلام میں منع فرمایا گیا ہے جیسا کہ:
    • اب ہر دوسرے دن قتل ہو رہا ہے کبھی بچوں کا، کبھی بڑوں کا اور کبھی عورتوں کا۔
    • لڑائی جھگڑے عام ہیں۔
    • • گانے بجانے اور رقص و سرور کی محفلیں غیر معیوب ہو چکی ہیں۔
    میڈیا کے ذریعے نازیبا اور فحش مواد گھر گھر تک پہنچ چکا ہے۔

    • عورت کا مطلب ہے پردہ میں مخفی چیز۔۔۔ مانا کہ اگر مجبوری ہو تو عورت کو ملازمت کرنی چاہیے جس کی اسلام میں اجازت ہے۔
    • لیکن جہاں اسلام نے عورت کو عزت دی ہے وہ سب اسلام کے نام نازیبا لباس پہن کر میڈیا پر آتی ہیں ناچ گانا کر رہی ہیں۔ مردوں کے ساتھ تعلقات عام ہیں۔ پردے کا نام و نشان نہیں ہے یہاں تک کہ کپڑے ہی مکمل نہیں ہوتے۔
    اور یہی حال مردوں کا بھی ہے وہ سب بھی اسی طرح عورت کے ساتھ مل کر میڈیا پر ناچ گانا کر رہے ہیں ہر وہ کام کر رہے ہیں جس سے منع فرمایا گیا ہے۔

    • ہم سب کو اسلام میں بیہودہ چیزیں دیکھنے سننے اور کرنے سے منع کیا گیا ہے لیکن ہم وہ سب دیکھتے سنتے اور کرتے ہیں۔
    • اسلام میں زنا شراب نوشی یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ لیکن یہ سب ہورہا ہے۔ اسلام میں سختی سے کہا گیا ہے کہ تم زنا کے قریب بھی نہ جاؤ لیکن انسان اتنے جاہل اور ان پڑھ ہو چکے ہیں کہ اسلام کو بھلا چکے ہیں۔
    • اگر تمہیں کوئی پسند ہے تو تم زنا کی بجائے اس سے نکاح کرو۔ پاکیزہ رشتہ اختیار کرو۔
    • لیکن انسان ہمیشہ برائی کا راستہ اپناتا ہے۔
    • اسلام میں یہ گالم گلوچ، جھوٹ بولنا، نا انصافی کرنا، گانے سننا، ایک دوسرے کے ساتھ برا سلوک کرنا، حسد کرنا، غریب لوگوں کا احساس نہ کرنا، بڑوں سے بدتمیزی کرنا، چھوٹوں کا خیال نہ رکھنا، بچوں کے ساتھ ریپ کرنا، دوسروں کی عزت کو داغدار کرنا، دوسروں کی بہنوں بیٹیوں کا خیال نہ کرنا، اور کچھ عورتوں کا کسی کے بھائی بیٹے کا خیال نہ کرنا۔
    یہ سب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہورہا ہے کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کام ہم مسلمان ہوتے ہوئے کر رہے ہیں۔ ہم بس نام کے ہی مسلمان رہ گئے ہیں۔

    اگر کوئی ناموس رسالت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) پر کچھ بول دیں تو اس وقت لوگوں کا ایمان جاگتا ہے۔
    نبی کیلیے سب لڑتے ہیں، جھگڑتے ہیں، مرتے ہیں۔ لیکن عمل نہیں کرتے تو کس حیثیت سے مسلمان کہلاتے ہیں سب جب کوئی عمل نہیں کچھ نہیں
    مجالس میں ہزاروں عاشقانِ رسول اور عزادارانِ حسین ہوتے ہیں لیکن نماز کے لئے ایک صف بھی مشکل سے مکمل ہوتی ہے۔ بچے 10 سال کے ہو جائیں پھر بھی نہ انہیں نماز آتی ہے اور نہ ہی پڑھتے ہیں۔ ان سب کو خیال ہی نہیں کہ نماز اسلام کا سب سے اہم رکن ہے۔ قبر میں نماز کے بارے میں سب سے پہلے سوال کیا جائے گا۔

    کیا یہ سب ہوتے ہوئے اسلامی نظام اور اسلامی معاشرہ کہنے کے قابل ہیں ؟ کیا ان سب کو انسان کہنے کے قابل ہیں۔

    میں یہ سب لوگوں کو نہیں کہہ رہی ہوں۔ یہ سب میں انکو کہہ رہی ہوں، ان کے بارے میں لکھ رہی جو یہ سب کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو بہت اچھے ہیں، نماز کے پابند ہیں اور اسلامی تعلیمات پر چلتے ہیں۔

    یہ میری تحریر صرف ان لوگوں کیلیے ہے جو اس معاشرے کو بگاڑ رہے ہیں۔ اور ان کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ ہر چیز کے بارے میں قانون رائج ہونا چاہیے اور بروقت سزا دینی چاہیے تاکہ برائیوں کا خاتمہ ہوسکے۔

    میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہ ہے ہم سب مسلمان اپنے آپ کو پرکھیں، اپنا جائزہ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ اور کس طرح سے کر رہے ہیں؟ کیونکہ ایک انسان اپنے آپ کو جانتا پہچانتا ہے اور اپنے آپ کو ٹھیک کر سکتا ہے۔

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو نیک سیرت والا بنائے، سیدھے راستے پر اور نبی کی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    آمین ثمہ امین

    Twitter id: ‎@InvisibleFari_

  • حضرت عمر فاروق کی عظمت

    حضرت عمر فاروق کی عظمت

    حضرت عمر فاروق ؓ عشرہ مبشرہ میں سے ایک صحابی رسولﷺ ہیں جو مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ ہیں آپ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں 583ہجری میں ہوئی۔
    نام۔ عمر
    والد کا نام۔ خطاب
    والدہ کا نام۔ خنتمہ
    جو ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں
    ابو بکر صدیق ؓ کی وفات کے بعد 22 جمادی الثانی سنہ 13ہجری کو مسند خلافت پر فائز ہوئے، آج بھی عمر بن خطاب ؓ ایک انصاف پسند عادل حکمران تسلیم کیے جاتے ہیں۔ سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ رض تاریخ اسلام کی وہ نامور شخصیت ہیں جو بہادری کی وجہ سے اسلام کے قبول کرنے سے پہلے ہی مشہور تھے۔ امام ترمذی رحمة اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کی اسی وجہ سے حضرت محمدﷺ نے بحضور الٰہی التجا کی کہ اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام میں سے اپنے پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔ اللہ رب العزت نے حضرت محمدﷺ کی دعا قبول کی اور سیدنا عمر بن خطاب ؓ کے ذریعے اسلام کو عزت دی۔ آپ ؓ کے قبول اسلام سے قبل مسلمان مشرکین قریش سے چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے لیکن جب آپ ؓ نے اسلام قبول کیا تو آپ نے اعلان کیا کہ آج سے مسلمان اپنی عبادات علی الاعلان کریں گے۔
    عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں کہ:”بے شک سیدنا عمر ؓ کا قبول اسلام ہمارے لئے فتح تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے مگر حضرت عمر ؓ کی وجہ سے ہم نے مشرکین کا مقابلہ کیا اور خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنا شروع کیں۔”
    اسی دن سے سیدنا عمر ؓ کا لقب فاروق رکھ دیا گیا یعنی حق وباطل میں فرق کرنے والا۔ آپ کو لقب فاروق اور کنیت ابو حفص دونوں حضورﷺ نے عطا کیے ہیں۔
    ہجرت کے وقت کا واقعہ:
    کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہ کی۔
    آپ نے تلوار ہاتھ میں لی اور کعبہ کا طواف کیا پھر کفار سے مخاطب ہو کر فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی بیوہ اور اس کے بچے یتیم ہو جائیں تو وہ مکہ سے باہر آ کر میرا راستہ روکے، مگر کسی کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ راستہ روک سکے۔
    قبول اسلام کے بعد آپ کا حضور ﷺ سے ایسی محبت تھی کہ جس کی مثال کہیں نہیں ملتی ہے ایک مرتبہ ایک مسلمان اور یہودی کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا اس تنازع کے حل کے لیے وہ دونوں حضور حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوئے حضور ﷺ نے دلیلوں کی بنیاد پر یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا مگر وہ مسلمان اس فیصلے پر مطمئن نہیں ہوا تو اس نے سوچا کہ یہ مقدمہ حضرت عمر فاروق کے پاس لے جاتا ہوں وہ اسلام کی وجہ سے ہمارے حق میں فیصلہ کر دیں گے مگر جب آپ کو معلوم ہوا کہ اس مقدمے کا فیصلہ پہلے سے حضور ﷺ کر چکے ہیں، تو فوراً تلوار اٹھائی اور اس مسلمان کا سر قلم کر دیا جس مسلمان نے حضور ﷺ کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا تھا
    رسول اللہﷺ نے حضرت عمر فاروق ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے آپ جس راستے پر چلتے ہیں شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے
    آپؓ کے دسترخوان پر کھبی دو سالن نظر نہیں آئے آپؓ سر کے نیچے اینٹ رکھ کر خالی زمین پر بھی سو جاتے تھے۔ آپ کے کپڑے میں چودہ پیوند لگے ہوئے تھے
    ایک مرتبہ عمر فاروقؓ مسجد میں منبر رسولﷺ پر کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک بندہ کھڑا ہوا اور کہنے لگا ” اے عمرؓ ہم تیرا خطبہ نہیں سنیں گے جب تک آپ ہمیں یہ نہ بتاؤ کہ یہ جو تم نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں یہ کپڑا آپ کے پاس زیادہ کہاں سے آیا حالانکہ جو بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہوا وہ تو کم تھا تو اس وقت حضرت عمر فاروقؓ نے کہا کہ مسجد میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے تو فوراً عبداللہ بن عمرؓ کھڑے ہو گئے تو اس وقت حضرت عمر فاروقؓ بولے بیٹا بتاؤ تیرے باپ نے یہ کپڑا کہاں سے لایا ہوں ورنہ میں کھبی بھی اس منبر رسولﷺ پر کھڑا نہیں ہوں گا پھر ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر فاروقؓ نے بتایا کہ بابا جان کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت کم تھا اس سے ان کے پورے کپڑے تیار نہیں ہو سکتے تھے اور ان کے پاس پہننے والا لباس بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد محترم کو دیا
    جن کے بارے میں کفار اعتراف کرتے ہیں کہ اسلام میں اگر ایک عمر اور آتا تو آج پوری دنیا میں صرف اسلام پھیلا ہوتا۔
    آپﷺ نے حضرت عمر فاروق کے بارے میں فرمایا تھا میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر فاروقؓ ہوتا
    27 ذی الحجہ کو
    خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق ؓ کو نماز فجر میں خنجر سے زخمی کیا گیا،
    جو 4 دن بعد یکم محرم کوجام شہادت نوش فرماگئے۔

  • زانی کی سزا تحریر:حناء سرور

    زانی کی سزا تحریر:حناء سرور

    ۔
    زانی کی سزا: سورۃ النور (آیت ۱ سے ۹ تک) میں زنا کرنے والوں کی سزا اور اس کے متعلق بعض احکام بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یہ ایک سورت ہے جو ہم نے نازل کی ہے۔ اور جس کے احکام کو ہم نے فرض کیا ہے۔ اور اس میں کھلی کھلی آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے لگاؤ۔ آگے آنے والی آیات کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص بدکاری کا عادی ہواور توبہ نہ کرتا ہو مگر کسی وجہ سے اُس پر حد جاری نہیں ہورہی ہے تو اس کا نکاح پاکدامن عورت کے ساتھ نہ کیا جائے۔ زنا کی حد جاری کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس جرم عظیم کا خود اعتراف کرے یا پھر چار گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے دونوں کو اس حالت میں پایا کہ ایک کی شرمگاہ دوسرے کی شرمگاہ میں موجود تھی۔ چونکہ کسی مرد یا عورت کو زنا جیسے بڑے گناہ کا مرتکب قرار دینے پر سخت سزا دی جاتی ہے۔ اس لیے صرف دو گواہ کافی نہیں ہیں بلکہ چار گواہوں کی گواہی کو لازم قرار دیا گیا، اور ان گواہوں کو بھی یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اگر چار گواہوں کی گواہی ثابت نہیں ہوسکی تو تہمت لگانے والوں پر ۸۰کوڑے مارے جائیں گے۔ قرآن کریم حضور اکرم ﷺ پر نازل فرماکر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہ ذمہ داری عطا کی کہ وہ قرآن کریم کے مسائل واحکام کو کھول کھول کر بیان فرمائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے قول وعمل کے ذریعہ بیان فرمایا کہ سورۃ النور میں وارد حدِّ زنا اُس مردو عورت کے لیے ہے جس نے ابھی شادی نہیں کی ہے اور زنا کا خود اعتراف کیا ہے یا چار گواہوں کی چند شرائط کے ساتھ گواہی سے یہ بات ثابت ہوئی ہے۔ یعنی اُس کو سو کوڑے ماریں جائیں۔ ’’فاجلدوا‘‘ لفظ جَلْد کوڑا مارنے کے معنی میں ہے، وہ جِلد سے مشتق ہے، کیونکہ کوڑا عموماً چمڑے سے بنایا جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ لفظ جَلْد سے تعبیر کرنے میں اس طرح اشارہ ہے کہ یہ کوڑوں کی سزا اس حد تک رہنی چاہئے کہ اس کا اثر انسان کی کھال تک رہے، گوشت تک نہ پہونچے۔ نبی اکرم ﷺ نے خود کوڑے کے متعلق عملاً یہ تلقین فرمائی کہ کوڑا نہ بہت سخت ہو جس سے گوشت تک ادھڑ جائے اور نہ بہت نرم ہو کہ اس کی کوئی تکلیف بھی نہ پہنچے۔ لیکن اگر زنا کرنے والا شادی شدہ ہے تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے قول وعمل سے بتایا کہ اُس کی سزا رجم (سنگساری) ہے۔یعنی شرعی ثبوت کے بعد شادی شدہ زانی کو زندہ زمین میں اس طرح گاڑا جائے کہ اس کا آدھا نچلا حصہ زمین میں ہو اور جسم کا اوپر والاآدھا حصہ باہر ہو۔ پھر چاروں اطراف سے اُس پر پتھر برسائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ صحابۂ کرام نے بھی شادی شدہ شخص کے زنا کرنے پر رجم (سنگساری) ہی کیا۔ حضور اکرم ﷺ کے قول وعمل اور صحابۂ کرام کے عمل پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ چار گواہوں کی شہادت کے ثبوت کے بعد شادی شدہ زانی کو رجم (سنگساری) ہی کیا جائے گا۔ اگر زنا ہوجائے تو ظاہر ہے کہ عمومی طور پر دنیا میں اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے حد جاری نہیں کی جاسکتی، لیکن پہلی فرصت میں توبہ کرنی چاہئے اور پوری زندگی اس جرم عظیم پر اللہ تعالیٰ کے سامنے رونا اور گڑگڑانا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ معاف فرمادے اور آئندہ زنا کے قریب بھی نہ جاناچاہئے کیونکہ زنا کرنے والے شخص سے اللہ تعالیٰ بات بھی نہیں فرمائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیں گے، اگر زنا سے سچی توبہ نہیں کی.

  • میاں بیوی جنت تک کا ساتھ تحریر ۔فرزانہ شریف

    دنیا کے خوبصورت ترین رشتوں میں سے ایک رشتہ میاں بیوی کا بھی ہے جب دو انسان نکاح جیسے مقدس بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو ایک قسم کا عہد ہوتا ہے ہردکھ درد ۔خوشی غم میں ایک دوسرے کا مضبوط سہارا بنیں گے نہ کہ کسی ایک پر آزمائش آنے پر بدنسلوں کی طرح دوسرے منڈھیروں کی تلاش میں نکل جائیں گے تو میں کہہ رہی تھی کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے سکھ چین کے ساتھ ہوتے ہیں میاں بیوی کو چاہئیے اگر ہوسکے تو آپس میں پیار محبت بڑھانے کے لیے اور ساتھ اپنی دلی خوشی کے لیے بھی ہر موقع پر ایک دوسرے کو مہنگے تحائف دینے کی بجائے ایک دوسرے کی خاطر چند سطریں لکھ دیا کریں یا پھرچوری کے کچھ اشعار کا سٹیٹس لگا کر اپنی اپنی زندگی میں ایک دوسرے کے کردار پر خوشی اور اعتماد کااظہار کردیا کریں چوری کے اشعار اس لیے کہہ رہی ہوں اب ہر کوئی شاعر یا شاعرہ تو ہو نہیں سکتے چوری چکاری سے ہی کام چلانا پڑے گا ناںْ۔رشتے بنانے آسان ہیں نہ نبھانے۔ عام طور پر زیادہ تر لوگ اپنے شریک حیات کی خامیاں بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ خوبصورت پاکیزہ رشتہ ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔
    ہمیشہ ایک دوسرے کی خامیوں کو نظرانداز کیا کریں اور خوبیوں کو سراہا کریں ہے بلکہ سرِ عام سراہا جایا جانا چاہئیےیہی ہمارے رشتے کی خوبصورتی ہے۔۔
    میرے نزدیک اس بات میں کوئی قباحت نہیں کہ آپ اپنے ساتھی کی تعریف کریں اسکے ساتھ کو اپنی خوش نصیبی سمجھیں اور برملا اس کا اظہار بھی کریں

    اکثر دیکھا جاتا ہے کچھ خواتیں جب گھر سے باہر جاتی ہیں خوب بن سنور کرواپس گھر آتے ساتھ سب سے پہلے وہ اپنا سارا بناو سنگار ختم کرتی ہیں حالانکہ یہ بہت غلط بات ہے اپنے شوہر کے لیے بننا سنورنا بھی عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔۔شوہر کے لئے بن سج کر رہیں۔ پرفیوم، ماؤتھ واش وغیرہ کا استعمال روٹین میں کریں۔ نیل پالش ریموور بھی پاس رکھیں تا کہ نماز سے پہلے نیل پالش اتار کر وضو کیا جا سکےاپنے شوہر اور سسرال کے سامنے اپنے میکے کا بھرم رکھیں۔ اگر میکے میں اپنی بھابیوں سے کچھ ان بن ہو، یا کسی اور کے ساتھ مسئلے مسائل ہوں، تو بھی شوہر کو ان سلسلوں میں مت ڈالیں۔ بالکل اسی طرح، میکے کے سامنے سسرال کا بھرم رکھیں۔ سسرال کو ٹاپک بنا کر غیبت میٹنگ کو عادت نہ بنائیں سسرال جو اپ کو اپنے گھر کی عزت بناکر لاتے ہیں ان کو کبھی اپنا دشمن نہ سمجھیں بلکہ ان میں گھل مل جائیں کہ یہ ہی اچھے خاندان کی بیٹی کی نشانی ہوتی ہے
    ہر رشتے کو مضبوط ہونے میں وقت کے ساتھ ساتھ کوشش بھی درکار ہوتی ہے۔ اس لیے اس رشتے میں بھی بہت سے اُتار چڑھاؤ آتے ہیں ۔ بہت دفعہ ان بن ہوجاتی ہے لیکن اس رشتے میں کبھی آنا کو آنے بلکہ اپنے پاس بھٹکنے بھی نہ دیا جائے
    کہتے ہیں میاں بیوی کی لڑائی ناراضگی کے بعد صلح اس رشتے کو مضبوط سے مضبوط ترکردیتی ہے لیکن کوشش یہ ہی کرنی چاہئیے اگر شوہر غصے میں ہو کسی وقت تو بجائے ٹر ٹر جواب دینے کے صبر سے خاموش ہو جائیں اگر خاموش رہنا مشکل تو وقتی طور پر آگے پیچھے ہوجائیں جب دونوں کا غصہ ختم ہوجائے تو پھر آرام سے اپنی بات کا نقطہ نظر سمجھائیں۔۔ کبھی کوئی ایسی ویسی بات اپنے بیڈروم سے باہر نہ نکلنے دیں ۔اسے چھوٹی سی ٹپ سمجھ لیں لیکن یہ چھوٹا سا عمل کبھی آپ کے رشتے کو کمزور نہیں ہونے دے گا۔مانیں یا نہ مانیں لیکن رشتوں کو کمزور ہمیشہ دوسروں کی مداخلت ہی کرتی ہے۔
    ہاں اگر آپ خود معاملات سلجھانے کی سکت نہیں رکھتے تو کسی اپنے سے مشورہ کر لیا کریں لیکن بلا ضرورت کسی کو ذاتی معاملات تک رسائی نہ دی جائے تو بہتر ہے۔
    اپنے شوہر کی تعریف کرنے میں کبھی کنجوسی نہ کریں جی بھر کر ان کی تعریف کریں لاڈ کریں انھیں اپنا اتنا عادی بنالیں کہ انھیں آپکے بنا ایک پل چین نہ ملے
    اگر اسے آپ میری بولڈنیس سمجھنا چاہیں تو سمجھ سکتے ہیں۔میرا تو یہی عقیدہ ہے کہ معشوق کی خاطر عشقیہ شاعری پوسٹ کر کر کے ہلکان ہونے والی قوم اگر اپنے اپنے حقیقی ساتھی کی شان میں بھی کچھ پوسٹ کر دیا کریں تو یہ بالکل شرمندہ ہونے والی بات نہیں۔بلکہ یہ چیز ایک مثبت کردار ہی ادا کرے گی۔
    ایک دوسرے کے والدین کی بہت عزت کریں ایک دوسرے کےرشتہ داروں کو مان دیں عزت دیں ۔یہاں ایک اور ٹپ دینا چاہوں گی کہ اگر کوئی اپنی بیوی کے دل میں جگہ بنانا چاہتا ہے تو وہ بیوی کے والدین کی بھی اتنی ہی عزت کرے جتنی وہ بیوی سے اپنے والدین کیلئے چاہتا ہے۔
    کہتے ہیں عورت کی وفاداری دیکھنی ہو تو شوہر کی تنگدستی میں دیکھو اور میں کہتی ہوں کہ اگر شوہر کے ساتھ نبھانے کے وعدے پرکھنے ہوں تو بچوں کی پیدائش اور پرورش کے دوران اس کا کردار دیکھ لو
    آخر میں ایک بات اور کہنا چاہتی ہوں کہ
    زندگی میں کچھ ایسے حالات و واقعات بھی ہو جاتے ہیں جن کا اثر آپ سے زائل نہیں ہوپاتا اور وہ آپکا ماضی نہیں بن پاتے۔ اور آپ کے دل پر بوجھ ہونے کے ساتھ آپ اپنی نئی زندگی شروع نہیں کر پاتے۔ اور پھر کوئی ایسی بات جو کسی اور کے منہ سے سن کے آپکے تعلق پر اثر پڑے آپ خود اعتماد میں لے کے بتا دیں تو بہتر ہے۔ اور پھر کسی بھی تعلق میں سچائی، اعتماد اور بھروسہ ہی اس کی بنیاد ہوتی ہے۔
    اللہ تعالی آپ کے حلال رشتوں میں برکت فرمائے ایک دوسرے کا سکون بن کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور جنت میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ نصیب ہو آمین ثمہ آمین

  • نماز، دین کا ستون  تحریر : اقصٰی صدیق

    نماز، دین کا ستون تحریر : اقصٰی صدیق


    عربی زبان میں لفظ "صلوٰۃ” (نماز) کے لیے استعمال ہوا ہے، جس کے لغوی معنی "دعا” کے ہیں۔
    نماز اسلام کے بنیادی ارکان میں سے دوسرا ایک اہم رکن ہے۔اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے، توحید (اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا، حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج۔

    قرآن کریم میں سات سو(٧٠٠) مقامات پر نماز (صلوٰۃ) کا ذکر ہوا ہے، جبکہ
    اسی (٨٠) مقامات پر اس کا صریح حکم دیا گیا ہے۔ اس امر سے دین اسلام میں عبادات کے لحاظ سے نماز کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
    نماز ہی توحید و رسالت کی گواہی اور اس کی عملی تصدیق کا پہلا قدم ہے۔ارکان اسلام میں سے یہ امتیاز صرف نماز کو ہی حاصل ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء کرام کے ادوار میں ہر امت پر نماز فرض رہی ہے۔
    نماز شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی۔
    معراج کا سفر گویا کہ ظلم و تشدد اور جہالت کے دور کے خاتمے کی نوید تھا۔
    حضرت انس بن مالکؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ،
    ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کردیں میں اس کے ساتھ واپس لوٹا تو جب میں راستے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا کہ،
    اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟میں نے کہا پچاس نمازیں کہنے لگے اپنے رب کے پاس واپس جائیں اس لئے کہ آپ کی امت ان کی ادائیگی نہیں کر پائے گی ۔ سو آپ ﷺ نے اللہ رب العزت سے التجا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کا ایک حصہ کم کردیا۔ میں حضرت موسیٰ کے پاس آیا اور کہا کہ پروردگار نے ان کا ایک حصہ کم کر دیا ہے۔ وہ کہنے لگے آپ اپنے رب کے ہاں پھر واپس جائیں کیوں کہ آپ کی امت اس کی طاقت بھی نہیں رکھتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اللّٰه تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دی تو اللہ نے ان کا ایک حصہ بھی معاف فرما دیا۔ لیکن جب پھر میں واپس حضرت موسیٰ کے پاس آیا تو انہوں نے پھر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جانے کا کہا۔ اب کی بار اللّٰہ رب العالمین نے فرمایا یہ پانچ نمازیں اصل میں پچاس نمازوں کا اجر اور ثواب رکھیں گی،
    میں پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ ایک بار اور اپنے رب کی طرف رجوع فرمائیں لیکن اس بار میں نے کہا اب مجھے اپنے رب سے حیاء آتی ہے۔ (صحیح بخاری)

    قرآن و سنت اور حدیث کی رو سے نماز کی ادائیگی کے پانچ اوقات ہیں۔
    فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء
    قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں جا بجا نماز کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔

    ارشاد باری تعالی ہےکہ ، نماز قائم کرو اور زکوہ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ (البقرہ ۴۳،)

    کائناتِ ارض و سماں کی ہر مخلوق اپنے اپنے تئیں بارگاہِ الٰہی میں صلوٰۃ اور تسبیح و تحمید کرتی نظر آتی ہے۔
    نماز کی تاریخ کی بات کریں تو نماز کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے، جتنی ہمارے مذہب اسلام کی۔
    اور یہ ہر دور میں فرض رہی ہے۔
    قرآن کریم میں ارشاد ہے ہوا ہے کہ نماز پڑھنا ہرگز مشکل نہیں ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالی اور روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
    ارشادہوا،
    ” بیشک نماز بھاری ضرور معلوم ہوتی ہے مگر ان لوگوں کے لیے نہیں جو خشوع و خضوع کے ساتھ میری طرف جھکتے ہیں، جنہیں اپنے رب کے ملنے پر یقین ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (البقرہ ۴۵،۴۶)

    بعض اصطلاحات میں نماز (صلاۃ) کے معنی دعاء، رحمت اور استغفار کے ہیں، اسلام نے نماز کو ایک اہم فریضہ کے طور پر مختص کیا ہے۔

    نماز انسان کی اپنے خالق کے ساتھ تعلق کا ایک مظہر ہے، اور اس کے مذہبی واجبات میں سے ایک واجب رکن ہے۔
    نماز میں دو عناصر پائے جاتے ہیں: اللہ رب العزت کی عظمت وتخلیق پر اس کا شکرگزار ہونا، اور دوسرا اللہ رب العزت سے طلب کا عنصر ہے، کہ جس سے جب سوال کیا جاتا ہے تو وہ اپنے بندے کو جواب دیتا ہے،۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ،

    ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد مانگو، بیشک اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘
    (البقرة، 2 : 153)

    سورۃ البقرۃ کی ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ،
    ’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، نماز کو قائم رکھا اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کے لیے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے، اور ان پر آخرت میں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمزدہ ہوں گے‘‘

    نماز جو کہ ایمان اور کفر کے درمیان امتیاز کرتی ہے۔ ابتدائے اسلام ہی سے مسلمانوں کا معمول رہی۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ہی سے نماز ادا فرماتے تھے۔
    جب کبھی آپﷺ صحن حرم میں نماز ادا فرماتے تو وہاں پر قریش آپ ﷺ کو ایزاء دینے کی کو شش کرتے ۔ کبھی آپ کا تمسخر اڑاتے،کبھی آپ ﷺ کی گردن مبارک میں رسی ڈال دیتے ۔تو کبھی تو سجدہ کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نجاست ڈال دیا کرتے تھے۔
    قریش کی ان حرکات کی وجہ سے عام مسلمان رات کی تاریکی میں نماز پڑھتے یا دن میں ادھر اُدھر چھپ کر نماز ادا کرتے۔

    اِس کے علاوہ بھی کثیر احادیث مبارکہ میں نماز کی فضیلتِ بیان کی گئی ہے، اور نماز ادا نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔اور نماز نہ ادا کرنے والوں کو منافقین سے تشبیع دی گئی ہے،
    نماز میں سستی کرنا منافقین کی نشانی ہے۔ (القرآن)

    حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ،

    ’’جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی تو گویا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہے اور جس شخص نے اﷲ تعالیٰ کی ذمہ داری میں مداخلت کی، اﷲ تعالیٰ اس کو منہ کے بل جہنم میں گرا دے گا۔‘‘

    قرآن و حدیث کی رو سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ہر مسلمان (مرد و عورت) پر پانچوں نمازیں پابندی سے ادا کرنا فرض ہے۔

    نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حدیث پاک میں بچپن ہی سے نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو۔

    دن اور رات یعنی چوبیس گھنٹوں میں اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں اور ان میں سے ہرنماز کی فرضیت کا تعلق اپنے وقت کے ساتھ منسلک ہے،چنانچہ مقررہ وقت پر ہی نماز کو ادا کرنا چاہیے، بے وقت نماز کی ادائیگی قضا کے زمرے میں آتی ہے۔
    قرآن مجید میں ک ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ’’بیشک ہم نے اسے (نماز) کو اس کے مقرر وقت میں مومنین پر فرض کیا ہے‘‘۔(سورہ نساء آیت ۱۰۳)
    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں وقت کی پابندی کرتے ہوئے اسے اپنے وقت پر پڑھنا ضروری ہے اور اس کو قضا کر دینا گناہ ہے۔
    ایک اور حدیث کے مطابق
    نماز کو وقت پر پڑھنا افضل ترین اعمال میں سے ہے۔(مسلم)
    نماز کو چھوڑ دینا بہت ہی سخت گناہ اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے. اس لئے ابھی بھی وقت ہے، توبہ کر لیں، اپنے رَبّ کو راضی کر لیں یہی دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

    نماز نہ پڑھنا کافروں کا طریقہ ہے، ایک حدیث کے مطابق
    "بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے”۔ (مسلم)
    اسلئیے بطور مسلمان ہمیں چاہیے کہ نماز مقرر وقت پر پابندی سے ادا کریں ،اور اپنے بچوں کو بھی اس کی عادت ڈالیں تاکہ دین و دنیا دونوں میں رب کائنات کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔

    ‎@_aqsasiddique