Baaghi TV

Category: مذہب

  • ہمارے پیارے نبی ﷺ کا بچپن اور حسنہ سلوک   تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارے پیارے نبی ﷺ کا بچپن اور حسنہ سلوک تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت اور والدین کے بارے میں تو آپ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ پیدائشی یتیم تھے۔ حضرت بی بی آمنہ کی وفات کی بعد آپ ﷺ کی پرورش آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے بڑی محبت اور دل داری سے کی ۔اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے پوتے تھے مگر وہ خصوصا

    حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق و عادت کی وجہ سے ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ بیت اللہ کی مسند پر ان کے علاوہ کوئی اور نہیں بیٹھ سکتا تھا مگر انہوں نے آپﷺ کو اس پر بیٹھنے سے کبھی منع نہیں کیا بلکہ ایک موقع پر فرمایا: میرے اس بیٹے کو چھوڑ دو۔ خدا کی قسم اس کی شان کچھ اور ہی ہے۔ وہ آپﷺ کو کندھے پر بٹھا کر بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے۔

    حضرت عبدالمطلب نے اپنی بیماری کے دوران ہی حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو پرورش کے لیے اپنے باقی بیٹوں کے بجائے حضرت ابو طالب کے حوالے کر دیا جو خود بھی اپنی عظمت اور سخاوت کی وجہ سے قوم کے سردار مانے جاتے تھے۔وہی آپﷺ کی صحیح طور پر حمایت اور نگرانی کر سکتے تھے۔

    اس وقت مکہ کے اجڈ اور غیرمہزب ماحول میں خود کو برائیوں سے بچا کر پاک صاف زندگی گزارنا صرف نبی ہی کا کام ہو سکتا تھا کیونکہ نبی کی حفاظت اور تربیت اللّٰہ تعالٰی خود فرماتا ہے۔اس لیے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے شریف، سنجیدہ، فرماں بردار، حیادار، راست گو،بلندہمت اور باادب تھے۔

    بچپن کی عمر کھیل کود اور بے فکری کی ہوتی ہے۔ مگر آپ ﷺ کا بچپن بالکل محنتلف اور مثالی ہے۔آپ ﷺ ہمیشہ مناظر قدرت پر غور و فکر کرنے ، خالق کائنات کی عظمت اور اس کے عجائبات پر سوچ بچار کرنے میں سکون محسوس کرتے۔ حضرت ابو طالب آپ ﷺ کے بچپن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بچپن میں آپ ﷺ کو جھوٹ بولتے ، ہنسی مذاق کرتے ،نہ ہی کبھی کوئی جاہلانہ بات کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ کی کبھی بازاری اور آوارہ لڑکوں سے دوستی نہ رہی

    قارئین ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ حسنہ سلوک میں بھی اپنی مثال آپ ہیں
    ایک مشہور وقع ہے کہ ایک بوڑھی عورت مکہ میں رہتی تھی ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی اس کے گھر کے سامنے سے گزرتے وہ آپ ﷺ پر کوڈا پھینک دیتی۔ کبھی پتھر اور کبھی کانٹے آپ ﷺ کے راستے میں بچھاتی۔آپ ﷺ کو بہت تکلیف ہوتی لیکن آپﷺ اسے کچھ نہ کہتے تھے۔

    ای دن ہمارے پیارے نبی ﷺ اسی راستے سے گزرے تو کسی نے ان کے اوپر کوڈا نہیں پھینکا۔ دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔ آپ ﷺ اس عورت کے گھر گئے ۔ وہ بہت بیمار تھی ۔ آپ ﷺ نے اسے کھانا کھلایا۔ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوئی اس کا خیال رکھا ۔ رسول اللہ ﷺ کے اس سلوک کی وجہ سے وہ عورت مسلمان ہو گئی۔

    اللہ پاک ہمیں بھی اپنے پیارے نبیﷺ کی طرح سب سے آچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • ‏فرقہ ورایت کی وجہ  تحریر: صالح ساحل

    ‏فرقہ ورایت کی وجہ تحریر: صالح ساحل

    ہمارے ہاں آپ نے اکثر سنا ہو گا کے اتحاد امت کانفرنس اور فرقہ ورایت سے پاک پاکستان کے نعرے لگائے جاتے ہیں مگر آج ہم کوشش کرتے ہیں کے فرقہ ورایت کی اصل وجہ کیا ہے جس نے مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کر دیا تو میں دین کا ایک ادنی سا طالب ہونے کی حیثیت سے جب اس پر غور کرتا ہوں تو مجھے پتہ چلتا ہے کے فراہ ورایت کی یہ لعنت صرف مسلمانوں کے ہاں نہیں بلکہ اس سے پہلے عیسائیوں اور دیگر مذہب کے درمیان بھی موجود تھی اور میری علمی تحقیق اور سوچ کے مطابق اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے جہالت کیونکہ کے جب کسی معاشرے میں علمی روایت برقرار رہے گی تو وہاں فرقہ واریت جنم نہیں لے گی ان کے ہاں علمی بحثیں ہوں گی علمی اختلاف ہو گا کئی بار یہ اختلاف بڑھ جائے گا مگر یہ شدت پسندی نہیں ہو گی وہ اس اختلاف پر اپنا اپنا نقط نظر بیان کریں گے لیکن اگر آپ کسی معاشرے میں علم کی روایت کو بند کر دیں اور جہاں خدا کی کتاب کو صرف ثواب کی حیثیت سے پڑھا جائے پڑھنے والے کو اس سے غرض نہ ہو کے میرا رب کیا کہہ رہا بلکہ کے وہ صرف مولوی کی بات کو خدا کی بات سمجھ لے تو جب اس سے کوئ اختلاف کرے گا تو علمی جواب نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدت پسندی کا راستہ اختیار کرے گا اگر ہم آج پوری امانت داری کے ساتھ یہ تحریک شروع کر دیں کے ہر آدمی کو سادہ ترجمہ کے ساتھ زندگی میں اللہ کی کتاب قرآن مجید ایک دفعہ سمجھ کر پڑھنی ہے تو بہت سے فرقے خود بخود ختم ہو جائے گے مگر ہم صرف قرآن کو ثواب کی کتاب سمجھ کر پڑھتے ہیں حالانکہ کے جگہ جگہ اللہ یہ کہتا ہے کے یہ ہدایت کی کتاب ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اقبال نے بھی کہا تھا اے مسلمان تم نے جس کتاب کو مردے بخشوانے کے لیے اور جب روح اٹک جائے تو سورہ یسین کی تلاوت کے لیے رکھا ہے اگر تم سمجھ کے زندگی میں پڑھ لے تو تمہارا مردہ وجود اور ضیمر زندہ ہو جائے اس لیے ہم کو چاہیے قرآن سے تعلق کو جوڑئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر اسرار صاحب جب یہ آیات پڑھتے تھے
    Surat No 3 : سورة آل عمران – Ayat No 67 68

    مَا کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾

    ابراہیم تو نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ تو یک طرفہ ( خالص ) مسلمان تھے وہ مشرک نہ تھے ۔

    تو کہہ کرتے تھے کے اس آیات کو اپنے اوپر فٹ کر لو کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ شیعہ تھے نہ سنی نہ بریلوی نہ دیوبندی بلکہ کے وہ صرف مسلم تھے
    ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

    ہو تو سبھی کچھ بتاؤ کے مسلمان بھی ہو
    ‎@painandsmile334

  • اولیاء کی شان (تیسری قسط) تحریر یاسمین ارشد

    اولیاء کی شان (تیسری قسط) تحریر یاسمین ارشد

    جن کے اندر اللہ پاک نے ولیوں کا تذکرہ فرمایا مالک کائنات نے ولیوں کی صفتیں بیان کی مالک کائنات نے فرمایا وَاللّهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِيْنَ (آیات نمبر 68 ) سورہ آل عمران )
    جن کے اندر ایمان ہے وہ اللہ کے ولی ہیں دوسرے مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے (قد افلح المؤمنون)تیسرے مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے (سورہ الجاثیہ میں ) آیات نمبر 19) وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ صاحب تقوی بندے جو صاحب تقوی بندے ہیں جن کے دل کے اندر اللہ کا ڈر ہے وہ اللہ کے ولی ہیں اور مقام پر اللہ پاک نے فرمایا:( اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَآئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِىْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ  ( آیت نمبر 30 سورہ حم)
    نَحْنُ اَوْلِيَآؤُكُمْ فِى الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِىٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ (آیات نمبر 31 )سورہ حم)
    اللہ پاک نے فرمایا میرے جو ولی ہوتے ہیں صرف دنیا کے ولی نہیں بلکہ آخرت میں بھی میرے ولی ہوں گے جس ٹائم آخرت کے اندر آئے ہوئے ہوں گے یہ دنیا کے اندر زندگی کیسے گزار کے آئے جیسے میں اللہ کریم کہتا رہا یہ ویسے کرتے رہے اپنی منشا اور چاہت قربان کر دی ہے میں اللہ کریم کی چاہت کے سامنے جس ٹائم میرے پاس آئے ہوئے ہوں گے۔ میں کہوں گا (وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِىٓ) اے میرے ولیوں جیسے میں کہتا تھا ویسے کرتے تھے آج میں جلال کی قسم ہے جیسے تم چاہو گے میں اللہ ویسے ہی کروں گا (،،وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ) جس چیز کا کہو گے میں اللہ اس کو پورا کروں گا (نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ (سورہ فصلت آیات نمبر 32)یہ میرے اللہ کی طرف سے مہمان نوازی ہے اے لوگو دوسرا مقام قرآن کا اللہ پاک فرماتا ہے وَعِبَادُ الرَّحْـمٰنِ الَّـذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَاِذَا خَاطَبَهُـمُ الْجَاهِلُوْنَ قَالُوْا سَلَامًا (آیات نمبر 62 سورہ الفرقان) میں اللہ رحمنٰ کے بندے وہ ہیں جو زمین پردبے پاؤں چلتے ہیں اورجب ان سے بے سمجھ لوگ بات کریں تو کہتے ہیں سلام ہے(سورہ المائدہ آیا نمبر 55 اور 56) میں اللہ پاک نے فرمایا جو ولی ہیں وہ ایسے سمجھو اللہ کی جماعت ہے جو اللہ والے ہیں۔ اے لوگو جیسے تمہارے بڑے سردار لوگ تم کو منع نہیں کر سکتے تو میں اللہ پاک اپنی جماعت کے لوگوں کو کیسے رسوا کر سکتا ہے اللہ ولیوں کی ولایت برحق۔ اللہ پاک نے (سورۃ انفال آیات نمبر 2 ) میں فرمایا جو ایمان دار ہیں وہ ولی ہیں ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو وہ ڈر جاتے ہیں اگر ان لوگوں کے سامنے قرآن پڑھا جائے تو ان لوگوں کے دل کے اندر ایمان ہوتا ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے اللہ فرماتا ہے ولی اللہ کی ذات پر بھروسا کرتے ہیں لوگوں کے پیسوں پر بھروسہ نہیں کرتے لوگوں کے تبصروں پر بھروسہ نہیں کرتے لوگوں کی عقیدت پر بھروسا نہیں کرتے دوکانداریاں کھول کے لوگوں کے رزق پر بھروسہ نہیں کرتے اے میرے رب کریم پھر تیرے ولی کہاں بھروسہ کرتے ہیں اللہ پاک فرماتا ہے میں رازق ہوں رزق والی نعمت پر بھروسا کرتے ہیں میں پالنے والا ہوں میرے رب ہونے پر بھروسا کرتے ہیں میں مشکل کشا ہوں میں اللہ کی ذات پر بھروسا کرتے ہیں جو اللہ پر بھروسہ کرے وہ اللہ کا ولی ہے اللہ پاک نے (سورہ یونس آیات نمبر 62) میں ولیوں کی عظمت بیان فرمائیں اللہ پاک نے فرمایا خبردار جو اللہ کا ولی ہے ان لوگوں کو کوئی ڈر نہیں ہوتا اور اللہ کے ولیوں کو کوئی غم نہیں ہوتا کوئی پریشان نہیں ہوتے اللہ پاک کی ان لوگوں پر کرم نوازی ہوتی ہے اللہ پاک کا ان کے ساتھ پیار ہوتا ہے یہ وہ ولی ہیں جن کے دل میں ایمان ہے۔ داڑھی کو کاٹ کے نالیوں میں ڈالنے والا وہ ولی کبھی نہیں ہو سکتا جس کے دل میں ایمان ہے وہ ہمارے پیغمبر کی سنت کا قاتل کبھی نہیں بن سکتا جو سنت کا قاتل ہے وہ اللہ کا ولی کبھی نہیں بن سکتا ولی وہ ہوتا ہے جن کی دل میں جن کی آنکھ میں جن کے کان میں جن کی زبان میں ایمان موجود ہو سچا ولی ہوتا ہے سچا ولی کہتا ہے میں قرآن پاک کی سورتیں تمہارے اوپر دم کیا ایسا نہ سمجھنا کہ یہ میرے الفاظ ہیں شفا اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے یہ میرا عقیدہ ہے ولی کی کرامت بر حق ہے جس ولی کے ہاتھ میں کوئی انوکھا ایسا واقعہ پیش آیا ہو جس کی عقل نہ مانے جن کو کرامت کہتے ہیں یہ قرآن کہتا ہے ولی کا کمال نہیں ہوتا میں اللہ پاک کی شان کا کمال ہوتا ہے اللہ پاک کہتا ہے کسی ولی کے ہاتھ پر کوئی کرامت پیش کروں یہ میری مرضی ہے اگر یہ کسی بندے کی مرضی ہوتی تو کسی ٹائم بھی وہ اپنی مرضی کرلیتے سورۃ انعام آیات نمبر 109 میں اللہ پاک نے ایک ولیت کا ذکر کیا جس کا نام ہے بی بی سیدہ مریم معصوم مریم ہے اللہ پاک فرماتا ہے معصوم مریم میری ولیا ہے ایک کمرے میں بند ہے اس کمرے کو کوئی روشندان نہیں تھا اللہ کے نبی حضرت زکریا علیہ السلام نے جس ٹائم اللہ کی سچی ولیا مریم بی بی کے بند کمرے کا دروازہ کھولا تو اندر وہ کیا دیکھتا ہے معصوم مریم اللہ کی سچی ولیا بیٹھی ہے اس کے چاروں طرف میواجات موجود ہیں موسمیات بھی اور غیر موسمیات بھی ایسے بیٹھی ہے جیسے تاروں کے درمیان چاند چمکتا ہو معصوم مریم کے دائیں بائیں کڑا بنا ہوا ہے چاروں طرف پھل ہیں اللہ کے نبی حضرت زکریا علیہ السلام نے بی بی معصوم مریم سے سوال کیا اے مریم یہ پھل میوہ جات کون دے کے گیا ہے تم کو، تمہاری کفالت تو میرے ذمے ہے تمہاری تو سرپرستی میرے ذمے ہے میں نے تمہارے کھانے کی خبر کرنی ہے یہ تم کو کس نے دیا مریم بی بی نے جواب دیا اے بابا زکریا بند کمرے کہ اندر مجھے وہ روزی دینے والا ہے جو ماں کے بند پیٹ میں روزی دیتا ہے جو پتھر کے اندر کیڑے کو روزی دیتا ہے جو بند زمین کے اندر ہر مخلوق کو روزی دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے نیکسٹ قسط پبلش کی جائے گی ان شاءاللہ

    @IamYasminArshad
    twitter.com/IamYasminArshad

  • رب اشرح لی   تحریر: محمد شفیق

    رب اشرح لی تحریر: محمد شفیق

    چھوٹی بہن کی ایم ایس کی پریزنٹیشن تھی۔رات بھر جاگتی رہی ۔آنکھیں سوجی تھیں ۔پوچھا کیا ہوا۔کہنے لگی ۔کوئ دعا بتا دیں۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
    میں نے کہا پڑھو تب۔
    رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي * وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي * وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي * يَفْقَهُوا قَوْلِي *

    کہنے لگی اس کا مطلب بھی بتا دیں۔ میں نے مطلب بتایا۔
    ” اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرا کام آسان کراور میری زبان کی گرہ کھول دے کہ وہ میری بات سمجھیں”
    وہ حیرت سے گنگ میری طرف دیکھ رہی تھی۔میں نے پوچھا کیا ہوا۔ کہنے لگی۔
    بھائ اس میں تو میرے ہر مسئلہ کا ذکر ہے۔جس کے لیے مجھے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔اب حیران ہونے کی میری باری تھی ۔وہ گویا ہوئ۔
    رات بھر پڑھنے کے بعد مجھے لگ رہا تھا۔ جیسے میرا سینہ بند ہوگیا ہو۔اور مجھے لگتا ہے۔کہ مجھے کچھ بھی یاد نہیں ۔ذہن جیسے منتشر ہے۔خدشہ ہےمیں کچھ بول نہیں پاؤں گی۔جیسے زبان پر گرہ لگی ہو ۔اور میرے لئے کچھ کہنا مشکل ہو۔اور ایسے میں جو کہوں گی۔وہ کسی کو کہاں سمجھ آۓ گا۔
    اللہ نے یہ سورت شاید میرے لۓ ہی اتاری ہے۔میری ساری کیفیت کہ کر مجھے مانگنا سکھایا ہے۔کتنا مہربان ہے نا وہ رب۔
    اب یہ بتائیں۔یہ آیت کب اور کس پس منظر میں اتری۔ وہ اپنی ٹینشن بھول کر اس دعا کو سمجھنا چاہتی تھی ۔
    میں نےاسے بتایا۔ان الفاظ میں موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی ۔جب انھیں فرعون کی طرف بھیجا گیا۔ وہ سبق کی دہرائی بھول چکی تھی۔
    اس کا اگلا سوال تھا۔موسی علیہ السلام نے اللہ سے دعا میں یہ سب کیوں مانگا ۔وہ فوج طاقت اور دیگر وسائل بھی تو مانگ سکتے تھے۔ اگر میں ہوتی تو میں شاید یہ سب مانگتی۔
    میں نے اس دعا کو بارہا پڑھا تھا اور دل کی گہرائی سے۔اور اس کے اثرات بھی ہمیشہ کئی لحاظ سے محسوس کیے تھے۔ایسے وقت جبکہ کوئی حل سمجھ نہ آتا۔یہ دعا میری ڈھارس بندھاتی۔مگر اس انداز سے کبھی نہ سوچا تھا۔لہذا کچھ د ن کے غوروفکرسے چند پہلو سمجھ آۓ۔
    سوچا آپ سے بھی شئیر کرو ں۔

    ۔پغمبر کے الفاظ اللہ کی کتاب میں ۔یقینا اس میں خزانے کی کنجیاں چھپی ہیں۔اسکی کھوج لگانی پڑے گی۔

    ۔پتہ چلاکسی کام کی سب سے پہلی رکاوٹ اندر سےہوتی ہے۔آپکے اندر اعتماداور خلوص پیدا ہوجاۓ۔کسی بھی چیز کے درست ہونے کا یقین ہو جائے۔ابہام نہ رہے۔تو دلیری پیدا ہوتی ہے۔انسان بےخوف ہو جاتا ہے۔بات میں وزن پیدا ہو جاتا ہے۔بہترین مشاہدہ سوچ وفکر کے نۓ زاوۓ سجھاتا ہے۔دل میں کشادگی پیدا ہوتی ہے۔انسان کنواں کا مینڈک نہیں بنتا ۔دوسروں کے نکتہ نظر جاننا چاہتا ہے۔یہی سینے کا کھلنا ہے۔ یہ تو کامیابی کا بنیادی نکتہ ہوا یقیناً۔
    ۔مانگنے والا کسی بڑے مقصد کو پانے کے لیے اپنی طاقت اور کمزوری کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگاۓ۔اور رب سے متعین کر کے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگے۔ کہ بڑے مقاصد چھوٹے چھوٹے پہلوؤں پر توجہ دینے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

    موسیٰ علیہ السلام نے سافٹ اسکلز مانگیں۔معلوم ہوا سافٹ اسکلز کسی بڑے مقصد تک پہنچنے کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
    اللہ سے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگیں۔اسے پسند ہے۔کہ جوتی کا تسمہ تک اس سے مانگیں۔اس کے لیۓ کچھ مشکل نہیں ۔
    بے دھڑک مانگیں۔
    ہمیشہ اللہ سے آسانی مانگیں۔آپ بس مانگنے والے ہوں۔دینے والا دینے کو تیار ہے۔

    انھوں نے زبان کی روانگی مانگی۔اس سے زبان و بیان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اور یہ کہ یہ صلاحیت اللہ کی بہترین عطا ہے۔
    اس دعا کے ساتھ انھوں نے مددگار کے طور پر اپنے بھائی کو مانگا۔معلوم ہوا کامیابی اور ترقی کے لئےمادی وسائل سے زیادہ انسانی وسائل کی اہمیت ہے۔ انسانی وسائل اعلیٰ درجے کے ہوں تو مادی وسائل خودبخود حاصل ہو جاتے ہیں۔

    انھوں نے بدلہ نہیں مانگا اللہ سے۔یعنی بے غرض ہونا دنیا کے عظیم انسانوں کا شیوہ ہے۔

    ۔کسی بھی فرعون سے مقابلہ کرنے کے لیے سینہ کا کھلنا ،بیان اور اظہار کا ملکہ ہونا ،مخلص ساتھیوں کا میسر ہونا بہت بڑی نعمت خداوندی ہے۔

    سافٹ اسکلز کا ہونا کسی بھی فوج اور مادی وسائل سے ذیادہ اہم ہے۔
    ایک ساتھی سے بات ہوئی کہنے لگا۔
    بعض اوقات اچھا بولنے اور قاٸل کرنے کے لۓ الفاظ اور دلاٸل کا انبار ہوتا ہے لیکن سامنے والا سمجھنے کے لۓ تیار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہ دعا الفاظ میں وہ تاثیر عطا کرتی ہے کہ سامنے والا آپ کا مطمع نظر سمجھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
    ایک اور پہلو ۔۔۔۔۔۔
    اس دعا کو ہم درس یا Presentation دینے سے پہلے تو پڑھتے ہی ہیں لیکن اپنی عام گھریلو روٹین میں بھول جاتے ہیں ۔
    تو اپنے روز مرہ کے معمولات میں شامل کرلیں تو اللہ جی ہمارے کام میں آسانیاں پیدا فرما دیںتے ہیں ۔۔۔۔جیسے کسی کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کرتے وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی بڑے کو کسی بات کا اچھا پہلو بتاتے ہوۓ ۔۔۔۔۔۔اپنی کسی ساتھی ۔والدہ۔ساس۔بہو۔۔ شوہر کسی بھی تعلق میں اپنا مسٸلہ اپنی کیفیت سمجھانے کے لۓ ۔۔۔۔۔یا گھر کے کسی معاملے کسی شادی بیاہ کی رسم کے خاتمے کے لۓ ۔۔۔اپنے کسی بچے یا چھوٹے بہن بھاٸیوں کو کوٸ بات سمجھانے سے پہلے اس دعا کو اس پیراۓ میں رکھ کر رب سے مانگیں تو ان شاء اللہ اللہ ہمارے کاموں کو آسان فرما دیتے ہیں ۔
    @IK_fan01

  • عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟  تحریر:  سیرت فاطمہ

    عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟ تحریر: سیرت فاطمہ

    اسلام نے عورتوں کو حصولِ تعلیم سے لے کر پسند کی شادی تک ہر حق سے نوازہ ہے۔ عورت جب چھوٹی ہوتی ہے تو اُسے باپ کی صورت میں ایک محافظ اور ماں کی صورت میں ایک مخلص سہیلی ملتی ہے جن کی اولاد ہونے کے ناطے وہ اولاد کے حقوق کی حقدار ٹھہرتی ہے۔ جب تک باپ کے گھر میں رہتی ہے باپ اور بھائی اپنے فرائض نبھاتے ہیں۔ جب عورت بیاہ دی جاتی ہے تو وہی ذمہ داریاں شوہر کے کندھوں پر آجاتی ہیں اب شوہر کا فرض ہے کہ اپنی بیوی کی تمام ضروریات پوری کرے۔ جب عورت ماں کے درجے پر فائز ہوتی ہے تو پاؤں تلے جنت رکھ دی جاتی ہے۔ اسلام نے عورت کو مالی طور پر اتنا مستحکم کیا کہ شوہر کو حق مہر اور نان و نفقہ کا پابند بنا دیا ساتھ ہی عورت کو والدین اور شوہر کی جائیداد میں حصہ دار بھی بنا دیا گیا۔ غرض اسلام تو وہ مذہب ہے جس نے عورت کو نا صرف جینے کا حق دیا بلکہ ایک شہزادی بنا کر باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کی صورت میں اتنے محافظ بھی عطاء کر دیے۔
    اور یہ تمام حقوق عورتوں کو پاکستان کا آئین بھی دیتا ہے۔ مگر اُسی کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی ہے کہ آج بھی بہت سی جگہوں پر خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل نہیں ہیں جنکی وہ حقدار ہیں۔ اور اُن خواتین کو اُن کے حقوق ملنے چاہیے۔
    سوشل میڈیا سے لے کر زمینی حقائق تک یہ سوال مختلف طریقوں سے ہوتا رہا ہے کہ کیا عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ اُن عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے جنہیں واقعی حقوق نہیں ملتے؟
    اور اکثریتِ رائے کے ساتھ اِس کا جواب ہمیشہ ایک ہی رہا کہ۔۔۔ نہیں!
    عورت مارچ بہت سالوں سے منعقد ہو رہا ہے مگر ہر بار وہاں متنازع بینرز، متنازع نعروں اور ڈانس کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ عورت مارچ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مارچ بیرون ملک سے لی گئی فنڈنگز پر چلتی ہے اور ہم جنس پرستی کو پروموٹ کرنے کے مشن پر گامزن ہے ایسا تب کہا گیا جب سوشل میڈیا پر عورت آزادی مارچ کی ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں کچھ لوگ ہم جنس پرستی کو کھلم کھلا سپورٹ کرتے پائے گئے۔ اِس کے علاوہ ایسی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جن میں اخلاقی دائرے سے یکسر باہر نکل کر نعرے بازی کی گئی مثلاً چیخ چیخ کر "والد سے لیں گے آزادی” جیسے نعرے لگائے گئے۔ "میرا جسم میری مرضی” اور اِس جیسے دوسرے متنازع بینرز تو خیر ہمیشہ سے ہی عورت آزادی مارچ کی ذینت ہیں اور اِس موضوع پر میڈیا میں آواز بھی بلند ہوتی رہی ہے۔
    عام مشاہدہ یہ بھی ہے کہ عورت مارچ میں کبھی وزیرستان، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور اندونِ سندھ جیسے پسماندہ ترین علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مسائل کی نا تو کبھی بات ہوئی اور نا نشاندھی۔ وہ مزدور خواتین جن کی دیہاڑی اتنی بھی نہیں کہ وہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں، وہ خواتین جو تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر مختلف معاشی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہیں، وہ خواتیں جنہیں فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، وہ خواتین جن پر واقعی ظلم ہوتا ہے اور وراثت کے حصے سے محروم رکھا جاتا ہے اُن کے حقوق کے لیے آواز تو عورت آزادی مارچ میں کہیں دور دور تک سنائی نہیں دیتی۔
    اب سوال یہ ہے کہ جب عورت آزادی مارچ میں پاکستانی عورتوں کے مسائل پر بات نہیں ہوتی، وہاں آنے والوں کا لباس، گفتگو، نعرے اور بینرز بھی اسلام اور پاکستانی ثقافت سے کوسوں دور ہوتے ہیں تو یہ مارچ بھلا کس طرح پاکستانی خواتین کی نمائندگی کر سکتی ہے؟
    کیا پاکستانی خواتین والد سے آزادی مانگ رہیں ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین مغربی لباس پہنے کی آزادی مانگ رہی ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین کو گھریلو کام کاج سے مسئلہ ہے؟
    کیا عوت آزادی مارچ نے اُن خواتین کو اُنکے حقوق دلوانے میں کوئی کردار ادا کیا جنہیں واقعی حقوق کی ضرورت ہے؟
    کیا مسائل کا حل مردوں کو برا بھلا کہنے سے ممکن ہے؟
    ان تمام سوالات کا ہمیشہ "نہیں” میں رہا۔
    عورت آزادی مارچ میں آنے والی خواتین کے پاس تو ہر حق، ہر آسائش اور ہر آزادی موجود ہے جن کے پاس کھلم کھلا ڈانس کرنے کی آزادی ہے، جینر اور سلیو لیس شرٹس پہن کر گھومنے کی آزادی ہے، چیخ چیخ کر متنازع نعرے لگانے کی آزادی ہے، ڈیفینس، اسلام آباد، کلفٹن، لاہور کی سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے اُنھیں مذید کس چیز کی آزادی چاہیے؟
    جس آزادی کی بات عورت آزادی مارچ میں کی جاتی ہے ایسی آزادی مغربی معاشرے کی زینت ہے۔ اسلامی و پاکستانی معاشرہ بلکل الگ طرز پر قائم ہے یہاں عورت خود کو اپنے خاندان کی عزت سمجھتی ہے۔ باپ، بھائی، شوہر، بیٹے اُس کا فخر ہوتے ہیں۔ عام پاکستانی خواتین تو عورت مارچ میں پیش کردہ لبرل خیالات رکھتی بھی نہیں۔
    اگر واقعی پاکستانی خواتین کی نمائندگی کرنی ہو تو اُن کے حقوق کی بات ہونی چاہیے، جن معاشی مسائل کا خواتین کو سامنا ہے اُن مسائل کی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے، خواتین کو اُن کے حقوق کی اگاہی ملنی چاہیے، ڈومیسٹک وائلنس اور زیادتی کے خلاف مضبوط قوانین اور اُن کی بالادستی کا مطالبہ ہونا چاہیے، خواتین کے لیے تعلیمی اداروں کی تعمیر پر زور دیا جانا چاہیے، خواتین کے لیے فلاحی ادارے اور صحت کے مراکز بنانے چاہیے۔
    یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشروں میں فرق ہوتا ہے۔ اسلامی یا پاکستانی معاشرے کے مسائل کا حل اسلامی حدود و دائرہ کار میں رہ کر ممکن ہے کیونکہ ایسے حل کو لوگ قبول اور سپورٹ بھی کرتے ہیں مگر اگر ایک مسلم معاشرے میں موجود مسائل کا حل مغربی معاشرے کے طرز پر نکالنے کی کوشش کی جائے تو حل تو دور کی بات ہے اُلٹا لوگ مخالفت کرتے ہیں اور یوں نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔

    تحریر سیرت فاطمہ
    @FatimaSPak

  • اسلام اور لبرلزم تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    اسلام اور لبرلزم تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    ہم ایک ایسے معاشرے میں پلے بڑھے کے آجکل کے جو نئے مسلمان متعارف کروائے جارہے ہمیں لگتا جیسے ہم تو اسلام ہی نہیں جب کے حیرت کی بات یہ ہے کبھی کبھی مجھے خود پر شک ہونے لگتا کے کیا میں ایک سچا مسلمان ہوں جب جب ان نئے متعارف ہونے والے مسلمانوں کو دیکھتا ہوں تو اپنی پانچ وقت کی ادا کی گئی نمازوں پر شک ہونے لگتا کہ کیا میں نے جو نمازیں پڑھی میں نے ادا کی وہ غلط تھیں یا صحیح ۔
    ہمارے ماں باپ نے ہماری تربیت کچھ ایسے انداز میں کی کہ ہمیں اللہ کے بعد اپنے ماں باپ کا پھر انکے بعد اپنے مسلمان بھائی کا پھر اپنے ملک کا درد محسوس کرنا سیکھایا ۔
    یہ ہمارا کلچر کہیں یا ہمارا رہن سہن کہیں ہم تو بھئی اسی میں خوش رہنے والی قوم ہیں ۔
    ماں باپ سے سیکھا کے عورت کے ساتھ حس سلوک سے رہنا چاہیے ماں ہے تو احترام کی ہر حدیں پار کردو بیوی ہے تو "عزت ‘ محبت ” میں کوئی نہیں رہنی چاہیے اور بہن ہے تو اسکی حفاظت میں چاہیے جان بھی گنوانا پڑے تو ایک پل میں سوچے سمجھے بغیر گنوا دو ۔
    یہ سب ہمارے کلچر ہماری تہذیب اور ہماری روایات میں شامل کردیا جاتا ہے ۔
    یہ جو نیا اسلام ہمیں اور ہمارے معاشرے کو سیکھانے کی کوشش کی جا رہی وہ اسلام نہیں اسے ہم لبرلزم کہیں گے تو برا نہ ہوگا ۔عورت کو معاشرے میں کونسے ایسے حقوق دلوانے کے لئے یہ خواتین سڑکوں پر اپنے جسموں کی نمائش کرتے ہوئے یہ کہتی پھرتی کہ "میرا جسم میری مرضی” نظریں تیری گندی پردہ میں کروں ” لو بیٹھ گئی ” لو بتاو کہاں بیٹھ گئیں یہ محترمہ ؟ اور جب تنگ لباس پہنے دوپٹے بنا چھوٹی شرٹیں پہنے یہ سب نعرے لگاو گی تو ہر دیکھنے والے نے تم سب کو دیکھنا بھی ہے اور باتیں بھی کرنی ہے ۔اسلام ایسا تو نہیں اسلام میں عورت کا مقام ہی بہت اونچا ہے
    اللہ "سورہ نور ” کی آیت نمبر 31 مین اللہ تعالی فرماتا ہے ” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں کو کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں ۔سوائے اس کے جو ظاہر ہے ۔اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں "۔
    جب اللہ نے یہ فرمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا تو یہ سب کون ہیں جو ہمارے اسلام کو غلط رنگ میں ڈھال رہے ۔
    ہم ایسے معاشرے میں بڑھے اور جوان ہوئے اور آنے والی اپنی نسلوں کو بھی یہی نصیحت کریں گے کے اپنی بیوی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا اگر وہ کام کرکے تھک جائے تو میں کام کرلوں تو اس سے کیا میں اپنی بیوی کا نوکر ہوگیا؟ نہیں اس رشتے کو پیار احساس اور عزت کا نام دیتے ہیں ۔
    یہ ہے میرا اسلام میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ سنت اور ہم ان کی سنت پر عمل کرکے چلتے ہیں ۔اسلام میں عورت کا مقام اللہ نے بہت اونچا رکھا ۔ یہ لوگ خالی اپنی آزادی چاہتیں ہیں اور ان جیسی عورتوں کا ٹھکانہ جہنم ہے

    تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    ‎@Aahadpirzada

  • ہوس کے بارے اللہ رب العزت کے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات  تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ہوس کے بارے اللہ رب العزت کے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ہر وہ چیز جو انسان کی طلب سے بڑھ جاے اور اچھائی اور برائی کا فرق ختم کر ڈالے ہوس کہلاتی ہے. خواہ دولت کی ہو، شہرت کی ہو، عزت کی یا سٹیٹس کی.
    اللہ کریم نے خود بھی قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱)حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲)
    ترجمہ: زیادہ مال زخیرہ کرنے کی طلب نے تمہیں غافل کردیا ۔ یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے۔
    اس سے علم ہوا کہ کثرتِ مال کی حرص، اور فخر کا اظہار کرنا مذموم ہے اور اس میں مبتلا ہو کر آدمی اُخروی سعادتوں سے محروم کو کر رہ جاتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورہ الحدید کی آیت نمبر 20 میں ارشاد فرماتا ہے.
    ترجمۂ : جان لو کہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل کود، زینت اور آپس میں فخر اور غرور کرنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر برتری چاہنا ہے ۔ دنیا کی زندگی بلکل ایسے ہی ہے جیسے وہ بارش جس کا اُگایا ہوا سبزہ کسانوں کواچھا لگے پھر وہ سبزہ سوکھ جاتے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا (جیسے بے کار) ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللّٰہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا( بھی ہے ) اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کاسامان ہے۔
    اور قرآن کریم لیں ارشاد فرمایا
    ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ سورۃ منافقون کی آیت نمبر 9 میں ارشاد فرمایا.
    ترجمۂ : اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللّٰہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
    اور پھر سورۃ التغابن کی آہت نمبر ۱۴-۱۶ میں ارشاد فرمایا

    ترجمۂ : اے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھو اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کر دو اور بخش دو تو بیشک اللّٰہ بڑا بخشنے والا، بہت مہربان ہے ۔تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک (تمہارے لیے) آزمائش ہی ہیں اور اللّٰہ کے پاس بہت بڑا ثواب ہے۔ تو جہاں تک تم سے ہوسکے اللّٰہ سے ڈرو اور سنو اور حکم مانو اور راہِ خدا میں خرچ کرو یہ تمہاری جانوں کے لیے بہتر ہوگا اور جسے اس کے نفس کے لالچی پن سے بچا لیا گیا تو وہی فلاح پانے والے ہیں۔
    احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کو مزید واضح کر دیا گیا.
    حضرت مُطْرَف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا،اس وقت آپ سورہ التَّكَاثُرُ‘‘ کی تلاوت فرما رہے تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا: ’’ابنِ آدم کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال،اے ابنِ آدم:تیرا مال وہی ہے جو تو نے کھا کر فنا کر دیا، یا پہن کر بوسیدہ کر دیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔
    ایک اور روایت جو حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، اس میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بندہ کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال، ا س کے لئے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں ایک جو ا س نے کھا کر فنا کر دیا۔دوسری جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا۔تیسری جو کسی کو دے کر(آخرت کے لئے) ذخیرہ کر لیا۔اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ جانے والا ہے اور وہ اس کو لوگوں کے لئے چھوڑنے والا ہے

    مزید حضرت عمرو بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم !مجھے تمہارے غریب ہو جانے کا ڈر نہیں ہے، مجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ دنیا تم پر کشادہ نہ ہو جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر ہوئی تھی،پھر تم اس میں رغبت کر جاؤ جیسے وہ لوگ رغبت کر گئے اور یہ تمہیں ہلاک کر دے جیسے انہیں ہلاک کر دیا۔
    مزید حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے، سرکارِ دو عالَم محمدمصطفیٰ رہبردوجہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: مال و اَسباب کی کثرت سے مالداری نہیں ہوتی بلکہ اصل مالداری تو دل کا غنی ہونا ہے، خدا کی قسم!مجھے تمہارے بارے میں محتاجی کا خوف نہیں ہے لیکن مجھے تمہارے بارے اس بات کا خوف ہے کہ تم کثرت ِمال کی ہوس میں مبتلا ہو جاؤ گے

    ایک روایت حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا دو بھوکے بھیڑیئے جو بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں وہ ان بکریوں کو اس سے زیادہ خراب نہیں کرتے جتنا مال اور عزت کی حرص انسان کے دین کو خراب کر دیتی ہے۔
    ان ارشادات و فرامین سے بھرپور آگہی ملتی ہے کہ اپنی طلب کو کنٹرول کرنا کتنا ضروری ہے۔
    نفس اور شیطان کے خلاف علم جہاد بلند کیجئیے۔ زندگی کے اصل مقصد کو سمجھئے. ہوس سے بچییے اور اللاہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں حتی الامکان کوشش کریں کی شیطان کی چالوں سے اپنے نفس کی حفاظت کی جاے اور اپنی طلب کو طلب کے درجے سے بڑھنے سے بچایا جائے
    تا کہ جب رب العالمین کی رحمت اپنے بندے کو پکارے تو بندے کو اس کی پکار سنائی دے۔ جب رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی صدا بلند ہو تو بندے کا نفس اسے سن کر اپنا قبلہ درست کر سکے۔ اپنے آپ کو رحمان کے اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر قائم رکھنے اور اپنے اندر کے منصف کو زندہ رکھنے کے لیے
    نفس کے خلاف جہاد اتنا ہی ضروری ہے جتنا شیطان کے خلاف ضروری ہے۔ یاد رکھیں جس طرح شیطان سے جہاد، رحمن کا راستہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے اسی طرح نفس سے جہاد، رحمن کے راستے پر قائم رہنے کے لیے ضروری ہے محفوظ رہیں ہر طلب کو ہوس میں بدلنے سے۔ فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • عظمتِ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ تحریر: عقیلہ رضا

    عظمتِ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ تحریر: عقیلہ رضا

    وزیرِ رسالت ِ مآبﷺ ،جانشینِ مصطفیﷺ ، نظامِ عدل کے آفتاب، دُعاۓ مصطفیﷺ ، عاشقِ مصطفیﷺ، آسمانِ رفعت کے دَرَخشاں ماہتاب، خلیفہ دوئم امیر المؤمنین حضرتِ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ وہ ہستی جن کی تعریف و کمالات کا احاطہ کسی طور ممکن ہی نہیں۔
    آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام: عمر
    کنیت: ابو حفص
    لقب: فاروقِ اعظم
    39 مَردوں کے بعد رسولِ کریمﷺ کی دعا سے اعلانِ نبوت کے چھٹے سال 27 برس کی عمر میں ایمان لاۓ۔
    حضرتِ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
    "حضرتِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا مسلمان ہونا اسلام کی فتح تھی ، اُن کی ہجرت نصرِ الہی تھی اور اُن کی خلافت رحمتِ خداوندی تھی، ہم میں سے کسی کی یہ ہمت و طاقت نہیں تھی کہ ہم بیتُ اللہ شریف کے پاس نماز پڑھ سکیں مگر حضرتِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام لانے کے بعد مشرکین سے اس قدر جنگ و جدال کیا کہ انھوں نے عاجز آکر مسلمانوں کا پیچھا چھوڑ دیا تو ہم بیتُ اللہ شریف کے پاس اطمينان سے اعلانیہ نماز پڑھنے لگے۔
    حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اپنا اسلام علی الاعلان ظاہر کیا وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی ہیں۔
    حضرتِ علی کرم اللہ وجھہُ الکریم فرماتے ہیں کہ:
    "عمر(رضی اللہ تعالی عنہ) کے علاوہ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اعلانیہ ہجرت کی ہو۔
    امیر المؤمنین حضرتِ فاروقِ اعظم کی شان و فضيلت کا اندازہ رسولِ کریمﷺ کے اس فرمان سے لگا سکتے ہیں کہ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ:
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    لَو کَانَ بَعدِی نَبِیُّ لَکَانَ عُمَرَ بنَ الخَطَّابِِ۔
    یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔
    حضرتِ ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:
    اللہﷻ نے عمر کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرما دیا ہے۔
    طبرانی اوسط میں حضرتِ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے فرمایا:
    مَن اَبغَضَ عُمَرَ فَقَد اَبغَضَنِی
    یعنی جس نے عمر سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی۔
    اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔
    حضرتِ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ زہد و ورع اور تواضع و حلم کی بہترین مثال تھے۔
    حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ روزانہ گیارہ لقمے سے زیادہ طعام ملاحظہ نہ فرماتے۔
    جمادی الاخریٰ 13 ھجری کو آپ رضی اللہ تعالی عنہ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوۓ، آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا دورِ خلافت 10 سال اور چند ماہ پر محیط رہا۔ آپ نے اپنے دس سالہ دورِ خلافت میں بے شمار کارنامے سر انجام دیے، زمین عدل و داد سے بھر گئی، دنیا میں راستی و دیانت داری کا سکہ رائج ہوا، مخلوقِ خدا کے دلوں میں حق پرستی و پاکبازی کا جذبہ پیدا ہوا، فتوحات اس کثرت سے ہوئیں کہ آج تک ملک و سلطنت کے والی و سپاہ و لشکر کے مالک ورطہ حیرت میں ہیں۔
    ابنِ عساکر نے اسماعیل بن زیاد سے روایت کی کہ حضرتِ علی کرم اللہ وجھہُ الکریم کا گزر مسجدوں کے پاس سے ہوا جن میں قندیلیں روشن تھیں ، انھیں دیکھ کر فرمایا کہ اللہﷻ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کو روشن فرماۓ جنہوں نے ہماری مسجدوں کو منور کردیا۔
    آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکمل فضائل بیان کرنا ناممکن ہے۔
    نمازِ فجر میں ایک بد بخت ابولولو فیروز نامی(مجوسی یعنی آگ پوجنے والے) کافر نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر خنجر سے وار کیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓ تیسرے دن شرفِ شہادت سے مشرف ہوگۓ۔ بوقتِ شہادت عمر شریف 63 برس تھی۔
    حضرتِ سیدنا صھیب رضی اللہ تعالی عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور روضہ مبارکہ کے اندر حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پہلوۓ انور میں مدفون ہوۓ۔
    اللہﷻ کی ان پر بے شمار رحمتیں نازل ہوں اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
    آمین۔

    اسلام آباد
    @aqeela_raza

  • بھیک مانگنا ایک گناہ ہے  تحریر: اعجاز احمد پاکستانی

    بھیک مانگنا ایک گناہ ہے تحریر: اعجاز احمد پاکستانی

    ایک دفعہ ایک غریب و مفلس شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے مدد طلب کی. حضور اکرم ﷺ اگر چاہتے تو اسکی مدد کرسکتے تھے خود یا پھر کسی صحابیؓ سے کہہ دیتے مدد کرنے کو. اگر پیغمبرِ اسلام ﷺ ایسا کرتے تو انکی وقتی مدد تو ہوجاتی لیکن دوسرے دن پھر اسکو ضرورت ہوتی اور انکو مانگنے کی عادت پڑ جاتی اس لئے ایسا کرنے کے بجائے پیغمبرِ اقدس ﷺ نے اس کے جسم پر لپٹے کمبل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ تمہارا اپنا ہے؟ اس نے جواب ہاں میں دیا. حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس سے وہ کمبل لیا اور بازار جا کر وہ بیچ دیا. اس سے جو رقم حاصل ہوا اس سے ایک کلہاڑی اور رسی خریدی اور جو تھوڑے بہت پیسے بچے وہ اس کے ہاتھ میں دئے اور فرمایا یہ کلہاڑی اور رسی لو اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لایا کرو اور وہ لکڑیاں بیچ کر اپنا کام چلایا کرو اللہ تعالیٰ اس میں برکت دیگا.
    اسی طرح کی ایک مثال چینی زبان کا بھی ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی آئے اور ایک وقت کا کھانا مانگے تو اس کو ایک وقت کھانے کیلئے ایک مچھلی نہ دے بلکہ اسے ایک جال دو مچھلیاں پکڑنے کیلئے تا کہ وہ مچھلیاں پکڑے اور اپنی روزی روٹی کا بندوبست خود کرے.
    کتنی تعجب کی بات ہے چینیوں نے تو اس کہاوت پر عمل درآمد کرکے خود کو بامِ عروج پر پہنچا دیا اور دوسری طرف ہم اپنے پیغمبرِ اکرم ﷺ کی منشاء کے خلاف چندوں، بھیک اور مانگنے کے خوگر ہوگئے. بھیک مانگنا باقاعدہ ایک کاروبار بن گیا ہے نہ کہ ایک مجبوری اور اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جو کہ انتہائی تشویش کی بات ہے. لیکن کیا کرے ہم تو 10، 20، 50، 100 پکڑا کر جان چھڑا لیتے ہیں جو کہ دراصل یہ ہماری طرف سے اس کو پروان چڑھانے میں ہمارا کردار ہوتا ہے لیکن ہم اس پہلو کو سوچتے ہی نہیں.
    اور یہ کوئی شاذ و نادر نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ صرف عوامی سطح سے ممکن ہوتا ہے بلکہ ہماری حکومتیں بھی لوگوں کو عارضی امداد دے کر بھکاری بنا دیتی ہیں. ہماری پچھلی سے پچھلی حکومت نے تو اس کام کو اتنا بامِ عروج پر پہنچادیا تھا کہ سیدھے سیدھے اپنے کام کرنے والے اپنے ہاتھوں سے رزق حلال کمانے کا تصور ہی ختم ہوگیا تھا. اس حکومت نے اس رقم میں اور بھی اضافہ کر دیا. یہ اچھا اقدام بھی ہے کہ یتیموں اور بیواؤں کی مدد ہوگی اور وہ رزق کی تنگی سے بچینگے اس حد تک تو یہ درست ہے لیکن اس آڑ میں یہ پیسے 40 فیصد غیر مستحق لوگوں کی جیبوں میں جاتے ہیں جبکہ بعض جگہوں میں تو ایک ہی گھر کے دو دو، تین تین بندوں کو ملتے ہیں جو درحقیقت مستحقین کی حق تلفی کا باعث بنتا ہیں.
    اس سے اگر ایک طرف بے روزگاری، بے ہنری اور مانگنے کا رجحان بڑھا ہے تو دوسری جانب ایک اور خطرناک صورتحال بھی پیدا ہوئی ہے. کچھ عرصے تک مفت کی کھانے والوں کو اس کی عادت پڑ جاتی ہے. پھر وہ کام کرنے کے بجائے تاک میں رہتے ہیں کہ کہاں سے کچھ ہاتھ آسکتا ہے اور جب ہاتھ کچھ نہیں آتا تو ہیرا پھیری، چوری چکاری اور جرائم کی راہ پر نکل جاتے ہیں اور پورا معاشرہ اس کے جرائم کا شکار بن جاتا ہے.
    لیکن کیا کیجئے کہ ہمارے معاشرے میں مفت کھانے اور مفت کھلانے کا یہ رجحان اتنا گہرا ہوگیا ہے کہ اس کو عیب کی بجائے ایک ہنر کا درجہ حاصل ہوگیا ہے. ہماری تباہی اور زوال کا باعث ہی یہ رجحان ہے.
    ہمیں اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا تا کہ آگے بڑھ کر اس کا سدباب کیا جاسکے. . ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو اس لت سے بچانا ہوگا تب ہی ہمارا معاشرہ اور ملک ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہوگا. وگرنہ ہم ایسے ہی بھکاری رہینگے اور یہ لت نسل در نسل، پشت در پشت ہم میں منتقل ہوتی رہیگی. اور اقوام عالم میں ہماری کوئی عزت نہیں ہوگی. بلکہ ہماری پہچان ایک بھکاری قوم سے ہوگی.
    اللہ تعالیٰ پاکستان پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے کہ پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور دنیا میں ایک ممتاز مقام حاصل کرے.
    آمین
    *پاکستان زندہ باد*

    Twitter ID:
    @IjazPakistani

  • شیطان کے بہکاوے رمضان میں بھی کیوں  تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    شیطان کے بہکاوے رمضان میں بھی کیوں تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    یہ سوال ہر سمجھدار شخص کے گمان کو متاثر کرتا ہو گا. احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور رب العالمین کے قرآن سے جو اسباق اور رمضان کی برکتیں اور انعامات کا جہاں زکر کیا گیا وہیں یہ انعام بھی دیا گیا کہ انسان کو برائی میں مبتلا کرنے والا اس کا سب سے بڑا دشمن جو کہ شیطان ہے کو رمضان جکڑ دیا جاتا ہے اس کے باوجود انسان گناہ سے کیوں بچ نہیں پاتا؟
    دراصل وجہ یہ ہے کہ جب انسان طلب جنون کے درجے کو عبور کرتے اور بڑھتے بڑھتے ہوس کے درجے پر پہنچ جاتی ہے تو اس کی نظر میں حال و حرام کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اور یہ کام انسان کے اندر موجود اسکا نفس کرتا ہے وہ شیطان کی ہدایات پر عمل کر کے اس کام کو بخوبی انجام دیتا ہے
    طریقہ واردات یہ ہے کہ جب
    انسان کسی چیز کو حاصل کرنے کی طلب رکھتا ہے اور وہ طلب کی حد اور طلب کے درجے تک رہتی ہے تب تک معاملات ٹھیک رہتے ہیں۔ پھر شیطان اپنا کام دکھاتا ہے اور انسان کے نفس کو بہکاتا ہے جس سے اس کی سوچ میں حسد کی فضا قائم ہونے لگتی ہے اور وہ اس کی طلب کی اس حد کو نیا رنگ دینے لگتی ہے۔ بربادی کا سفر تب شروع ہو جاتا ہے اور انسان اچھائی کا راستہ بھولنے لگتا ہے اور طلب کے ہر ممکن حصول کے لیے شیطانی سمجھاے گئے راستوں سے اپنےحسد کی آگ بجھانے میں لگ جاتا ہے اور طلب کی تکمیل کے لئے ہر اچھا برا عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ جب حسد کی آگ مزید عروج پکڑتی ہے تو نفس اسی طلب کو ہوس میں بدل دیتا ہے اور اسطرح انسان الله کی رحمت سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔اور شیطان کی مسلسل دی جانے والی وسوسوں پر عمل کرتے کرتے جھوٹ، دھوکہ دہی، حق تلفی، ظلم، زیادتی، ملاوٹ جیسی بے پناہ لعنتوں کو اپناتے ہوئے خون ریزی تک کرنے سے گریز نہیں کرتا. اس وجہ سے رمضان میں شیطان تو جکڑا ہوتا ہے لیکن انسان کے اندر موجود شیطان کا تربیت کردہ نفس انسان کے اندر رہتے ہوئے شیطان کے بتائے ہوئے طریقوں وسوسوں اور تدبیروں پر عمل احسن طریقے سے جاری رکھتا ہے۔ زرہ سوچئے غلطی کس جگہ ہوئی؟ انسان اللہ کہ رحمت سے دور کب اور کیسے ہو گیا؟
    جب شیطان نے انسان کی جائز خواہش اور ضرورت کی طلب میں اضافہ کیا۔ نتیجتاً اب شیطان کی غیر موجودگی میں بھی انسان گناہ میں مبتلا ہے۔ شیطان انسان کی طلب بڑھاتے بڑھاتے اسے ہوس کے درجے تک لے آیا اور انسان نے اپنے نفس کو شیطان کے رحم کرم پر چھوڑے رکھا. خدارا شیطان کی پہلی چال کو سمجھیں اور اسے ناکام بنائیں اپنے نفس کو شیطان کے چنگل میں پھنسنے سے بچائیں.
    اس کے بہت سے طریقے اور بھی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں جن میں الله کی راہ میں خرچ کرنا اول درجہ کی نیکیوں میں سے نیکی ہے۔ جب انسان اپنی طلب پر کسی کی ضرورت کو فوقیت دیتا ہے تو انسان کی طلب میں کمی آتی ہے اور سخاوت کا پہلو عروج پر آتا ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جو انسان کو بخیل اور کنجوس ہونے سے روکے رکھتا ہے۔ دولت طاقت شہرت اور ہوس جیسے نشے کو حاوی ہونے سے روکے رکھتا ہے۔ اور یہ اعمال الله کریم کے پسندیدہ کاموں میں سے ہیں۔ اللہ کی زات بہت کریم ہے اور اپنی مخلوق کے ساتھ احساس والا معاملہ کرنے والے کو پسند فرماتا ہے۔ دوسروں کے احساس کرنے والا یہ عمل شیطان اور نفس کے خلاف بھرپور جہاد کا کام کرتا ہے۔ جس سے انسان اللہ کی رحمت کے حصار میں رہتا ہے۔
    خدارا شیطانی کاموں اور تدبیروں سے اجتناب کریں اپنی طلب کو ہوس بننے سے بچائیں یہی کامیابی کی کنجی ہے

    @EngrMuddsairH