Baaghi TV

Category: مذہب

  • قرآن ایک مکمل شفا،تحریر: محمد عثمان

    قرآن ایک مکمل شفا،تحریر: محمد عثمان

    آج کا انسان مسائل اور آزمائشوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس کی زندگی پریشانیوں اور الجھنوں کا مجموعہ ہے۔ کبھی دل بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے تو کبھی ذہن اضطراب کی گرفت میں آ جاتا ہے۔ کبھی مایوسی اس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور کبھی گناہوں کا بوجھ اس کی روح کو زخمی کر دیتا ہے۔ آج کے جدید دور میں سائنسی ترقی، مادی آسائشوں اور ٹیکنالوجی کے حیرت انگیز عروج کے باوجود انسان کے دل کی ویرانی کم نہیں ہو سکی۔ سکون کی تلاش میں وہ دنیا بھر میں مارا مارا پھرتا ہے، مگر حقیقی اطمینان کی دولت پھر بھی اس کی دسترس سے باہر ہے۔ ایسے میں جب چہار جانب سے مایوسی اور نا امیدی کے اندھیرے ہمیں اپنی شناخت بھلا رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہمارے پاس موجود ہے جو ہر ظاہری و باطنی بیماری کا علاج اور ہر پریشانی کا مداوا ہے۔ وہ بے مثل و لازوال نعمت قرآنِ مجید ہے۔
    قرآن حکیم کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا سر چشمہ، رحمت و سکینت، مکمل ضابطہِ حیات، تکمیلِ انسانیت کا ذریعہ اور کامل شفا بنا کر اتارا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    ترجمہ: ”اور اتارتے ہیں ہم قرآن میں (وہ چیز) جو ہے شفا اور رحمت مؤمنین کے لیے۔“

    قارئین کرام!
    سورۃ بنی اسرائیل کی آیت مبارکہ کا یہ حصہ اس حقیقت کو آشکار کر رہا ہے کہ، قرآن کریم انسان کے روحانی امراض، اخلاقی گراوٹوں، ذہنی پسماندگی کے لیے شفا کا سامان فراہم کرتا ہے اور نفسیاتی الجھنوں اور جذباتی کمزوریوں کے لیے صحت بخش ہے۔ قرآن کریم میں معیشتی و معاشرتی مسائل کا حل اور اکمل تربیتی نظام موجود ہے۔ یہ انسان کو مایوسی سے امید، گم راہی سے ہدایت، بے چینی سے سکون اور تاریکی سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف فرد کی تربیت کرتی ہے بل کہ معاشرے کی اصلاح اور تشکیل کے لیے بھی جامع اصول عطا کرتی ہے۔
    مگر یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ، قرآن مجید شفا کیسے ہے؟ کیسے یہ کتاب رحمت کا خزینہ ہے؟ اس کی تعلیمات کیسے انسان کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتی ہیں؟ کیسے یہ کتاب ہر دور کے لیے رحمت اور راہنمائی کا سرچشمہ بن جاتی ہے؟ ان تمام سوالات کے جواب جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن پاک کے معانی میں غور و خوض اور فکر و تدبر کریں۔ اس کی تعلیمات پر عمل کریں اور اس کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنائیں۔
    آئیے چند حوالوں سے قرآنِ مقدس کی شفا بخش تاثیر کو دیکھتے ہیں!
    جب انسان شکوک و شبہات کا شکار ہو کر توحیدِ باری تعالیٰ سے انکار کی کوشش کرتا ہے تو سورۃ اخلاص اس کے یقین کو پختگی اور ایمان کو تقویت بخشتی ہے۔ جب انسان اپنی تخلیق اور خالق کے متعلق ہیجان کا شکار ہوا تو سورۃ العلق اس کی ہدایت کا سامان بن گئی۔ جب انسان ما فوق الفطرت واقعات اور معجزات کے متعلق بدگمان ہونے لگتا ہے تو سورۃ مریم اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے۔ جب انسان مادی ترقی اور سائنس کی حیرت انگیز ایجادات سے متاثر ہو کر پھسلنے لگا تو سورۃ بنی اسرائیل اس کا سہارا بن گئی۔ جب انسان اجتماعی طور پر معاشرتی برائیوں میں مبتلا ہوئے تو سورۃ ھود نے انھیں غفلت سے بیدار کیا۔ جب انسان اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوا تو سورۃ الحجرات نے اسے انسانیت کا درس دیا۔ اگر اسے ذہنی پسماندگی کا سامنا ہوا تو سورۃ العصر نے اسے وقت کی قدر، عمل کی اہمیت اور کامیابی کا حقیقی راستہ دکھایا۔ جب انسان ظلم و ناانصافی اور طاقت کے نشے میں مبتلا ہوا تو سورۃ القصص اور سورۃ الفجر نے اسے فرعون اور سرکش اقوام کے انجام سے خبردار کرتے ہوئے اس کی تربیت کی۔ جب خوف و ہراس اور بھوک نے اسے نڈھال کیا تو سورۃ القریش اس کی ڈھارس بندھانے لگی۔ جب معصیت و سرکشی نے اسے پریشان کیا تو سورۃ الزمر نے رحمتِ الہی کی نوید سنا کر اسے اطمینان بخشا۔

    معزز قارئین!
    قرآن حکیم کی ہر سورۃ اپنے اندر رحمت و برکت، ہدایت، نصیحت اور شفا کا ”بحرِ بے کراں“ سموئے ہوئے ہے۔ سورۃ یسین دلوں کو فرحت و تازگی بخشتی ہے اور سورۃ الرحمٰن اپنے رب کی نعمتوں کا شعور دیتی ہے۔ بہیقی کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ، سورۃ الواقعہ فاقوں سے بچاتی ہے جب کہ ترمذی کی روایت کے تحت سورۃ الملک بخشش و مغفرت اور عذابِ قبر سے حفاظت کی بشارت سناتی ہے۔ دارمی کی روایت یہ بتاتی ہے کہ، سورۃ الکہف فتنوں کے دور میں انسان کے ایمان و یقین کی روشنی اور حفاظت کا ذریعہ ہے۔ بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ، قرآن کریم کی ایک آیت… آیت الکرسی اپنے پڑھنے والے کے لیے شیاطین و جنات اور نظرِ بد سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔ مرقاۃ میں ہے کہ، سورۃ البقرہ کی تلاوت سے جادو ٹونے کا اثر نہیں ہوتا۔ صحیح بخاری کی روایت میں معلمِ اعظم اور مفسرِ اولی صلی اللہ علیہ و اٰلہ وسلم نے سورۃ الفاتحہ کو ہر مرض سے شفا یابی کا نسخہ بتایا ہے۔ الغرض یہ کہ، قرآن مجید کی تلاوت باعثِ اجر و ثواب ہے اور اس پر عمل وسیلہِ نجات۔ اس کی آیات میں تدبر ایمان کی مضبوطی اور اس پر تفکر کرنا یقین کے استحکام کی ضمانت ہے۔ قرآن مجید کو سننا انسان کو ڈپریشن اور انگزائٹی سے بچاتا ہے اور اس کے پہلوؤں پر غور کرنا قربِ الہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اس ذی احتشام کتاب کے آفاقی منشور، انقلابی پیغام، تحریکی نصب العین اور اس کے عالم گیر و دیر پا اثرات کو دیکھتے ہوئے اور اسلاف کے عمل و کردار کے پیشِ نظر ہی علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے یہ فرمایا تھا:

    ”وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر“

    لیکن یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ، اگر کتاب اللہ کی منفرد آیات اور سورتوں میں اس قدر تاثیر ہے تو پھر پوری کتاب… جو اللہ کا کلام اور اس کی صفت ہے اس میں کیا قوت اور طاقت پوشیدہ ہو گی؟ اگر چہ ہم زبان سے جتنا مرضی چاہیں تلاوت کرتے رہیں اور ورد کرتے جائیں جب تک دل سے عمل نہیں ہو گا تب تک ہماری تلاوت صرف رسمی ہی رہے گی کوئی خاطر خواہ اثر ظاہر نہیں ہو گا۔ فارسی کا ایک شعر ہے:

    ”تسبیح بر زباں، بر دل گاؤ و خر
    ایں چنیں تسبیح کہ، وارد اثر“

    ترجمہ: ”تیری زبان پر تو تسبیح ہے مگر دل میں گائے اور گدھے کا خیال ہے تو کیا اس تسبیح کا کوئی اثر ہو گا؟“
    تاہم یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قرآن مجید کی شفا صرف الفاظ کی تلاوت تک محدود نہیں بل کہ اس کے حقیقی اثرات اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب انسان اسے سمجھنے، غور کرنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جو شخص قرآنِ پاک کو اپنا رہبر بناتا ہے اس کے دل میں یقین کی روشنی، کردار میں پاکیزگی، سوچ میں اعتدال اور زندگی میں مقصدیت جنم لیتی ہے۔ قرآن کریم انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اس کائنات میں بے مقصد نہیں بل کہ ایک عظیم ذمہ داری کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔

    محترم قارئین!
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن مجید کے ساتھ اپنا تعلق محض الفاظ تک محدود نہ رکھیں بل کہ اسے اپنی زندگی کا عملی دستور بنائیں۔ اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی نظام میں اس کی تعلیمات کو فروغ دیں۔ جب قرآن ہمارے افکار، اعمال اور معاملات کی بنیاد بن جائے گا تو فرد بھی سنورے گا، معاشرہ بھی نکھرے گا اور امتِ مسلمہ بھی اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کر سکے گی۔
    بلاشبہ قرآن مجید ایک مکمل شفا ہے؛ دلوں کی شفا، روحوں کی شفا، فکر و نظر کی شفا اور زندگی کے ہر شعبے کی شفا۔ جو شخص اس چشمہِ ہدایت سے وابستہ ہو جاتا ہے، وہ دنیا میں سکونِ قلب اور آخرت میں کامیابی کی نعمت سے سرفراز ہو جاتا ہے۔ یہی قرآن کا پیغام ہے، یہی اس کی رحمت ہے اور یہی اس کی ابدی ”شفا بخشی“ کا راز ہے۔

    ختم شد!

  • ظاہر پیر کا آج اور کل، امکانات، مسائل اور چیلنجز،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

    ظاہر پیر کا آج اور کل، امکانات، مسائل اور چیلنجز،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

    ظاہر پیر ایک ایسا شہر ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت، تجارتی سرگرمیوں اور مصروف شاہراہوں کے باعث دن بدن وسعت اختیار کر رہا ہے، مگر آبادی اور ٹریفک میں اضافے کے مقابلے میں شہری سہولیات اور ٹریفک کا بنیادی ڈھانچہ ابھی بھی توجہ کا منتظر ہے۔ شہر کی مرکزی شاہراہ پر مناسب چوراہوں اور منظم ٹریفک نظام کا فقدان شہریوں کے لیے ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر معروف چاچڑاں روڈ پر جب بڑے ٹرالر، ٹرک اور دیگر بھاری گاڑیاں داخل ہوتی ہیں تو اکثر ٹریفک کی روانی متاثر ہو کر طویل انتظار اور مشکلات کا سبب بنتی ہے۔ بینظیر روڈ بھی ظاہر پیر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ سڑک کے ایل پی ظاہر پیر انٹرچینج، سی پیک اور مٹھن کوٹ و راجن پور کی جانب آمدورفت کا اہم ذریعہ ہے، مگر سنگل سڑک ہونے کے باعث اس پر ٹریفک کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور حادثات بھی معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اگر بینظیر روڈ کو جدید تقاضوں کے مطابق ون وے یا مناسب ڈوئل کیرج وے کی صورت میں ترقی دی جائے تو نہ صرف حادثات میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ شہری و تجارتی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار مل سکتی ہے۔

    ظاہر پیر کا معروف چوک، جو ملک بھر میں ’’چوک ظاہر پیر‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے، آج بھی ایک باقاعدہ ٹرانسپورٹ اڈے کا منتظر ہے۔ بسوں، ویگنوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے مخصوص اڈا نہ ہونے کے باعث ٹریفک پورے چوک میں بے ترتیب انداز میں گردش کرتی رہتی ہے۔ مناسب ٹرانسپورٹ ٹرمینل کا قیام اس بدنظمی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح برسوں قبل ظاہر پیر کے وسط میں غلہ منڈی کے قیام کے لیے جگہ مختص کی گئی، مگر یہ منصوبہ تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ اگر اس منصوبے کو ازسرنو فعال کیا جائے تو زرعی اجناس کی خرید و فروخت کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی تجارت اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں بھی ظاہر پیر کو ایک اہم ضرورت درپیش ہے۔ سرکاری سطح پر بوائز ڈگری کالج کا قیام وقت کی اشد ضرورت بن چکا ہے تاکہ مقامی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح ظاہر پیر سے خانپور جانے والی مصروف ترین شاہراہ کو بھی جدید ٹریفک تقاضوں کے مطابق بہتر اور ون وے کرنے کی ضرورت ہے۔

    ظاہر پیر کے مسائل بہت ہیں، مگر امکانات بھی کم نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ مسائل کی نشاندہی کے بعد انہیں ترجیحات میں شامل کیا جائے اور منصوبوں کو فائلوں سے نکال کر عملی میدان میں لایا جائے۔ اگر ٹریفک، سڑکوں، ٹرانسپورٹ، تجارت اور تعلیم کے شعبوں پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے تو ظاہر پیر کا آج یقیناً بہتر اور اس کا کل کہیں زیادہ روشن ہو سکتا ہے۔

  • 7 ستمبر: عقیدۂ ختمِ نبوت اور پاکستان کی آئینی تاریخ،تحریر:  پروفیسر حافظ سعیداحمد

    7 ستمبر: عقیدۂ ختمِ نبوت اور پاکستان کی آئینی تاریخ،تحریر: پروفیسر حافظ سعیداحمد

    قرآن و سنت کی روشنی میں ایک بنیادی اسلامی عقیدہ اور تاریخ ساز آئینی فیصلہ۔

    کسی بھی قوم کی تاریخ میں بعض دن محض تاریخ کے صفحات کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے اندر ایک پوری فکری، مذہبی اور قومی جدوجہد کی داستان سموئے ہوتے ہیں۔ 7 ستمبر بھی پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی ایک اہم دن ہے، جسے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے حوالے سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
    عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔ قرآنِ مجید نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو "خاتم النبیین” قرار دے کر اس عقیدے کو واضح کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
    ﴿وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾
    ترجمہ۔
    یعنی: "لیکن وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔”
    (سورۃ الاحزاب: 40)

    قرآنِ مجید کی اس صریح ہدایت کی مزید وضاحت خود نبی کریم ﷺ نے فرمائی۔ صحیح بخاری میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
    "وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي”
    ترجمہ۔
    یعنی: "بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”
    یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال سے امتِ مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کو منصبِ نبوت پر فائز ہونے کا دعویٰ اسلامی عقیدے کے منافی ہے۔

    7 ستمبر 1974ء — پارلیمانی تاریخ کا اہم باب
    پاکستان میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے حوالے سے 1974ء کا سال ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد معاملہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے سامنے آیا۔ طویل بحث، غور و خوض اور پارلیمانی کارروائی کے بعد 7 ستمبر 1974ء کو دوسری آئینی ترمیم منظور کی گئی، جس کے نتیجے میں قادیانی اور لاہوری گروپ کو آئینِ پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا گیا۔ بعد ازاں اس آئینی ترمیم کو صدرِ پاکستان کی منظوری حاصل ہوئی۔
    یہ فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی تعلق ریاستی قانون میں مسلمان کی آئینی تعریف اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے حوالے سے تھا۔
    1974ء اور 1984ء کے اقدامات میں فرق۔
    اس موقع پر ایک تاریخی حقیقت کو درست طور پر سمجھنا بھی ضروری ہے۔ عام طور پر 7 ستمبر کے حوالے سے جن قانونی پابندیوں کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ سب 1974ء کی آئینی ترمیم کا حصہ نہیں تھیں۔
    1974ء میں آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانی اور لاہوری گروپ کی آئینی حیثیت غیر مسلم قرار دی گئی، جبکہ 1984ء میں مخصوص مذہبی اصطلاحات اور شعائر کے استعمال کے حوالے سے مزید قانونی پابندیاں عائد کی گئیں۔
    1984ء کے آرڈیننس کے بعد پاکستان پینل کوڈ میں دفعات 298-B اور 298-C شامل ہوئیں، جن کے تحت قادیانی/لاہوری گروپ سے متعلق بعض مخصوص افعال کو قابلِ تعزیر قرار دیا گیا۔
    ان قانونی دفعات میں بالخصوص:
    1- اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا؛
    -2اپنے مذہب کو اسلام کہنا یا اسلامی شناخت اختیار کرنا؛
    -3اپنے مذہب کی تبلیغ یا لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا؛
    -4مسلمانوں کے طریقے پر اذان دینا؛
    -5اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنا؛
    اور بعض اسلامی مذہبی اصطلاحات و القابات کے استعمال سے متعلق پابندیاں شامل ہیں۔
    یہاں یہ فرق واضح کرنا اس لیے ضروری ہے کہ تاریخ کو جذبات کے بجائے حقائق اور مستند قانونی حوالوں کے ساتھ بیان کیا جائے۔
    ختمِ نبوت کا تحفظ صرف نعرہ نہیں، ذمہ داری ہے
    آج 7 ستمبر کے موقع پر ہمیں صرف ماضی کے واقعات یاد کرنے کے بجائے اپنے حال اور مستقبل پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ختمِ نبوت کا عقیدہ ہماری ایمانی شناخت کا حصہ ہے، لیکن اس عقیدے کا تحفظ صرف جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، دلیل اور حسنِ کردار سے ہونا چاہیے۔
    ہماری نئی نسل کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ ختمِ نبوت کا عقیدہ قرآن و حدیث سے کس طرح ثابت ہے، امتِ مسلمہ نے اس عقیدے کو کس طرح سمجھا اور پاکستان کی آئینی تاریخ میں اس کی کیا حیثیت ہے۔
    ساتھ ہی یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اختلافِ عقیدہ اپنی جگہ، لیکن معاشرے میں امن، قانون کی پاسداری اور انسانی جان و مال کا احترام بھی اسلامی تعلیمات کا بنیادی تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
    ﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾
    ترجمہ۔
    "بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔”
    (النحل: 90)
    لہٰذا عقیدۂ ختمِ نبوت پر کامل ایمان رکھتے ہوئے ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی فرد کے خلاف قانون ہاتھ میں لینا، تشدد کرنا یا بدامنی پیدا کرنا اسلامی تعلیمات نہیں۔ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے عقیدے کا اظہار ہی ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے کی علامت ہے۔
    محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا
    7 ستمبر ہمیں صرف ایک آئینی فیصلے کی یاد نہیں دلاتا بلکہ یہ دن ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ اگر ہم واقعی خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کی سیرت، سنت، اخلاق، عدل، رحمت اور انسانیت کے احترام کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نئی نسل کو نفرت نہیں بلکہ عقیدہ، دلیل اور شعور دیں؛ جذبات کے ساتھ علم دیں؛ اور ختمِ نبوت کے عقیدے کے ساتھ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے اخلاق و کردار کو بھی عام کریں۔

    7 ستمبر کا اصل پیغام یہی ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت پر ہمارا ایمان غیر متزلزل ہے، اس عقیدے کا تحفظ ہمارا دینی فریضہ ہے، اور اس کے اظہار کا بہترین راستہ علم، دلیل، قانون اور کردار ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدۂ ختمِ نبوت پر ہمیشہ ثابت قدم رکھے، حضور نبی کریم ﷺ کی سچی محبت و اطاعت نصیب فرمائے اور پاکستان کو امن، اتحاد اور خوشحالی عطا فرمائے۔

  • ختمِ نبوت ﷺ  ایمان کی سرخ لکیر،تحریر: فاطمہ زہراء

    ختمِ نبوت ﷺ ایمان کی سرخ لکیر،تحریر: فاطمہ زہراء

    چودہ صدیاں بیت گئیں زمانے بدل گئے، سلطنتیں آئیں اور مٹ گئیں، تہذیبوں نے کروٹیں لیں، مگر ایک حقیقت ایسی ہے جس پر امتِ مسلمہ کا اجماع اور ایمان آج بھی اسی طرح قائم ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ نہ کوئی تشریعی نبی آسکتا ہے، نہ غیر تشریعی، نہ ظلی اور نہ بروزی۔ نبوت کا وہ دروازہ جو تاجدارِ ختمِ نبوت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بند ہوا، قیامت تک بند ہی رہے گا۔

    قرآنِ مجید نے اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان فرمایا:
    مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا‏ ٤٠
    (دیکھو !) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور سب نبیوں پر مہر ہیں۔ } اور یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔

    یعنی محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آخری نبی ہیں کہ اب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعدکوئی نبی نہیں آئے گا اورنبوت آپ پر ختم ہوگئی ہے اور آپ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی حتّٰی کہ جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نازل ہو ں گے تو اگرچہ نبوت پہلے پاچکے ہیں مگر نزول کے بعد نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی قبلہ یعنی کعبہ معظمہ کی طرف نماز پڑھیں گے۔
    ختمِ نبوت ﷺ کوئی معمولی یا عام مذہبی مسئلہ نہیں یہ ہر مسلمان کے ایمان سے جڑا ہوا ایک نہایت حساس اور بنیادی عقیدہ ہے۔ اس عقیدے پر معمولی سی آنچ بھی اہلِ ایمان کے دلوں میں اضطراب پیدا کر دیتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اس عقیدے کے تحفظ کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں یہاں تک کہ کئی جانیں بھی اس راہ میں نچھاور ہوئیں۔
    یوں کہیے کہ ختمِ نبوت ﷺ ہر کلمہ گو مسلمان کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔
    مسلمان زندگی کے بہت سے معاملات میں اختلاف برداشت کرسکتا ہے اپنے ذاتی مفادات سے دست بردار ہوسکتا ہے مگر اپنے نبی کریم ﷺ کی ختمِ نبوت کے عقیدے پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔
    یہ عقیدہ ہمارے ایمان کی شناخت ہے ہماری محبتِ رسول ﷺ کا حصہ ہے اور ہماری دینی غیرت کا مرکز ہے تاہم اس عقیدے کے تحفظ کا راستہ بھی وہی ہونا چاہیے جو اسلام ہمیں سکھاتا ہے علم، حکمت، دلیل، صبر اور قانون کی پاسداری۔

    تحفظ ختم نبوت ایک مذہبی تصور نہیں بلکہ مسلمان کے ایمان کی بنیادوں میں شامل عقیدہ ہے۔ جب نبوت کا دروازہ بند ہوچکا تو کسی فرد، جماعت یا مرزائی قادیانی نظریے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس بند دروازے کو اپنی خواہش تاویل یا دعوے کے ذریعے دوبارہ کھولنے کی کوشش کرے۔
    اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کی حفاظت کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی ایک طویل داستان سامنے آتی ہے۔ عہدِ نبوی ﷺ میں پیش آنے والی جنگوں میں شہید ہونے والے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعداد کے بارے میں مختلف تاریخی روایات ملتی ہیں، مگر جنگِ یمامہ کا معرکہ اپنی شدت اور شہادتوں کی کثرت کے اعتبار سے تاریخِ اسلام کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس معرکے میں متعدد جلیل القدر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں بڑی تعداد حفاظِ قرآن کی بھی بیان کی جاتی ہے۔
    یمامہ کا معرکہ محض ایک جنگ نہ تھا؛ یہ اس دور کے ان فتنوں کے خلاف ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا جنہوں نے نبوت کے جھوٹے دعووں کے ذریعے مسلمانوں کے عقیدے اور اجتماعی وحدت کو چیلنج کیا تھا۔ مسیلمہ کذاب کے فتنے کے مقابلے میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جس استقامت کا مظاہرہ کیاوہ تاریخِ اسلام میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔

    اسی سلسلے میں حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کا واقعہ نہایت دل سوز اور ایمان افروز ہے۔ انہیں مسیلمہ کذاب کے سامنے لایا گیا اور شدید اذیتیں دی گئیں، مگر ان کے ایمان کی آواز کو خاموش نہ کیا جاسکا۔ جسم پر مصیبتیں نازل ہوتی رہیں لیکن زبان پر رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار قائم رہا۔ ان کی استقامت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ سچا ایمان آزمائش کی شدت سے کمزور نہیں ہوتا۔
    اسی طرح حضرت عبداللہ بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی ان جاں نثاروں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے دین کے لیے اپنی جان پیش کی۔ ان کی خواہش تھی کہ شہادت سے پہلے ان کے جسم پر اتنے زخم آئیں کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنی قربانی کی گواہی دے سکیں۔ پھر لوگوں نے دیکھا کہ ان کا جسم زخموں سے چور تھا۔
    یہ وہ قربانیاں ہیں جنہیں تاریخ محض واقعات کے طور پر محفوظ نہیں کرتی یہ ایمان، وفا اور استقامت کی علامتیں ہیں۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ رسولِ اکرم ﷺ کی رسالت اور ختمِ نبوت پر ایمان ان کے لیے محض زبان کا اقرار نہیں بلکہ زندگی اور موت کا فیصلہ تھا۔
    رسولِ اکرم ﷺ کی تربیت یافتہ جماعت، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے عہد میں جھوٹے مدعیانِ نبوت کے فتنوں کا مقابلہ کیا۔ اسود عنسی، طلیحہ اسدی اور مسیلمہ کذاب جیسے مدعیانِ نبوت نے مسلمانوں کے درمیان انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی، مگر اہلِ ایمان نے ان فتنوں کے سامنے مزاحمت کی۔ خلیفۂ اول، امیرالمؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتنۂ ارتداد اور مسیلمہ کذاب کے خلاف فیصلہ کن اقدام کیا اور یوں عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کی ایک روشن تاریخی مثال قائم ہوئی۔

    بعد کے ادوار میں بھی وقتاً فوقتاً ایسے افراد سامنے آتے رہے جنہوں نے نبوت کے دعوے کیے اور مسلمانوں کے عقائد میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اہلِ علم نے ہمیشہ قرآن و سنت کی روشنی میں ان دعووں کا علمی رد کیا اور امت کو گمراہی سے بچانے کی جدوجہد جاری رکھی۔
    برصغیر میں جب فرنگی اقتدار قائم ہوا تو مسلمانوں کی سیاسی، معاشی اور دینی حالت شدید متاثر ہوئی۔ آزادی کی جدوجہد میں برصغیر کے مسلمانوں نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ علما نے اپنے قلم، خطابت اور عملی جدوجہد کے ذریعے مسلمانوں میں آزادی اور دینی شعور کی روح بیدار رکھی۔
    اسی تاریخی ماحول میں قادیان سے مرزا غلام احمد کا دعویٰ سامنے آیا۔ اس دعوے نے برصغیر کے مسلمانوں میں شدید مذہبی ردِعمل پیدا کیا۔ علما اور اہلِ علم نے اس دعوے کا علمی محاسبہ کیا اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی وضاحت کے لیے کتابیں لکھیں مناظرے کیے اور عوامی سطح پر آگاہی پیدا کی جن میں

    حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور دیگر علما نے اس سلسلے میں نمایاں علمی کردار ادا کیا۔ انفرادی علمی کوششیں وقت کے ساتھ اجتماعی جدوجہد میں تبدیل ہوئیں۔ مجلس احرارِ اسلام نے بھی اس مسئلے کو اپنی سیاسی اور عوامی جدوجہد کا اہم حصہ بنایا۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اپنی خطابت اور عوامی بیداری کے حوالے سے اس تحریک میں نمایاں شخصیت بن کر سامنے آئے۔
    1930ء کی دہائی میں قادیان کے حوالے سے تبلیغی سرگرمیوں اور عوامی اجتماعات کا سلسلہ بڑھا۔ مسلمانوں میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کا شعور پیدا کرنے کے لیے مختلف علما اور مذہبی رہنماؤں نے اپنی توانائیاں صرف کیں۔ مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے بھی قادیانی فرقے کے بارے میں اپنے قلم کو جنبش دی
    آپکا کا یہ معروف قول ہے ” قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں ”
    صرف یہیں نہیں "ضرب کلیم” میں مکمل وضاحت کی گئی
    قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ مسئلہ ختم نہ ہوا۔ 1953ء میں قادیانی مسئلے پر ایک بڑی تحریک اٹھی مختلف مکاتبِ فکر کے علما اور مذہبی رہنماؤں نے اپنے اپنے انداز میں اس تحریک میں کردار ادا کیا۔ حالات انتہائی کشیدہ ہوئے، بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور بالآخر ریاست نے سخت اقدامات کے ذریعے حالات کو قابو میں کیا۔
    مگر یہ مسئلہ اپنی جگہ موجود رہا۔

    پھر 1974ء میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر طلبہ کے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے نے ملک بھر میں شدید احتجاج کو جنم دیا۔ تحریک نے زور پکڑا اور معاملہ بالآخر پاکستان کی قومی اسمبلی کے سامنے پہنچا۔
    اسمبلی کے اندر مختلف مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے اس مسئلے پر اپنا مقدمہ پیش کیا۔ مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر عبدالغفور احمد اور دیگر ارکان نے اس پارلیمانی عمل میں کردار ادا کیا، جبکہ اسمبلی کے باہر بھی مختلف مذہبی رہنما اور جماعتیں متحرک تھیں۔
    بالآخر 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم اور متنازع مذہبی و سیاسی باب ہےجس کے اثرات آج تک ملک کے قانونی اور سماجی منظرنامے میں موجود ہیں۔
    مگر تاریخ کا ایک اور سبق بھی ہے۔
    عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کی حفاظت صرف نعروں سے نہیں ہوتی اس کے لیے قرآن و سنت کا علم، سیرتِ رسول ﷺ سے محبت، مضبوط کردار، علمی بصیرت اور دلیل کی ضرورت ہے۔ اختلافِ عقیدہ اپنی جگہ، لیکن کسی بھی فرد یا گروہ کے خلاف تشدد، نفرت یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا کسی طور درست راستہ نہیں۔ ریاستی اور آئینی معاملات کا فیصلہ قانون کے دائرے میں ہی ہونا چاہیے۔
    یہ یقین ہمارے ایمان کی اساس ہے ہماری شناخت ہے اور ہر کلمہ گو مسلمان کے لیے وہ سرخ لکیر ہے جس کی حرمت دل کی گہرائیوں میں تاقیامت جاری رہے گی۔

  • ختم نبوت اور ہماری ذمے داریاں ،تحریر:سیدہ الماس فاطمہ

    ختم نبوت اور ہماری ذمے داریاں ،تحریر:سیدہ الماس فاطمہ

    عقیدہ ختم نبوت ہمارا ایمان ہے۔جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے بارے میں غلط عقائد رکھتے ہیں جیسے کہ قادیانی زندیق کافر ہیں۔ قادیانی مسلمان بن کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
    ایمان لوٹتے ہیں، نوکری اور لڑکی کا لالچ دے کر ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ معاذ اللہ، اللّٰہ تعالیٰ کی توہین کرتے ہیں اور معاذ اللہ نبی محمد ﷺ کی بھی توہین کرتے ہیں اور قرآن مجید کی توہین کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ، ہم بھی نماز پڑھتے ہیں ، ہم بھی قرآن پڑھتے ہیں ۔ ہم بھی روزہ رکھتے ہیں ، زندیق کافر کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ ایسے لوگوں سے خود بھی بچنا چاہیے اور ان کے خلاف جدوجہد ہمارے ایمان کا حصہ ہونی چاہیے۔!

    سیرت النبی محمد ﷺ کی اہمیت وافادیت اسلامی عقیدہ کے مطابق عمارت کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے پہلے کم وبیش سوا لاکھ انبیاء کرام علیہم السلام دنیا میں تشریف لائے ۔ دائرہ اسلام میں رہنے کے لیے ان تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا ضروری ہے اور

    اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کی رہنمائی و فلاح کے لیے قرآنِ مجید نازل فرمایا۔ قرآن مجید سراپا ہدایت، رحمت اور نصیحت ہے جو کائنات کی سب سے مقتدر اور معزز ہستی، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہوا۔ آپ ﷺ کی زندگی صرف ایک پیغام نہیں، بلکہ قرآنِ پاک کا عملی اور جیتا جاگتا نمونہ ہے۔
    ہمارے پیارے نبی ﷺ نے جب مکہ کی سرزمین پر تبلیغِ اسلام کا آغاز کیا، تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اپنے بدترین دشمنوں کو بھی کسی تلوار یا طاقت سے نہیں، بلکہ اپنے بے مثال عمل اور اعلیٰ اخلاق سے مات دی۔ آپ ﷺ نے زندگی بھر کبھی کسی سے تلخ کلامی نہیں کی، بلکہ ہمیشہ نرم مزاجی، صبر اور محبت کا مظاہرہ فرمایا۔ آپ ﷺ بچوں سے بے پناہ محبت، شفقت اور نرمی سے پیش آتے تھے اور دشمنوں کی تہمتوں اور ظلم و ستم کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اپنے عمل سے انہیں انسانیت کا سبق سکھاتے تھے۔
    تاریخ کے اوراق آپ ﷺ کے حسنِ سلوک کی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ سیرتِ پاک ﷺ کا ایک خوبصورت واقعہ ہے کہ ایک سفر کے دوران ایک بوڑھی عورت اپنے سامان کی بھاری گٹھری اٹھائے چل رہی تھی۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے آگے بڑھ کر اس بزرگ خاتون کی مدد کی اور پورے راستے اس کا بوجھ اپنے مبارک کندھوں پر اٹھائے سفر طے کیا۔ وہ بڑھیا راستے بھر آپ ﷺ کو (نعوذ باللہ) جادوگر اور ساحر کہتی رہی اور طرح طرح کی تہمتیں لگاتی رہی، لیکن رحمتِ عالم ﷺ خاموشی سے سنتے رہے اور مسکراتے رہے۔ جب منزل پر پہنچ کر اس نے آپ ﷺ کا نام پوچھا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ "میں ہی محمد ہوں”، تو وہ بڑھیا شرمندگی کے سمندر میں ڈوب گئی اور کہنے لگی کہ "جو انسان راستے بھر میرا بوجھ اٹھاتا رہا، وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا”۔ آپ ﷺ کے اسی اخلاق نے اس کے دل کی کایا پلٹ دی اور وہ فوراً دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی۔
    اسی طرح مکہ ہی کی ایک اور عورت روزانہ آپ ﷺ کے اوپر کچرا پھینکا کرتی تھی، لیکن جب ایک دن اس نے کچرا نہیں پھینکا تو آپ ﷺ نے کسی سے اس کی خیریت دریافت فرمائی۔ پتہ چلا کہ وہ سخت بیمار ہے، تو آپ ﷺ فوراً اس کے گھر عیادت اور تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے۔ مکہ کا کوئی کافر اس کا حال پوچھنے نہ آیا، مگر وہ ذاتِ اقدس آگئی جسے وہ ستایا کرتی تھی۔ وہ عورت اس اعلیٰ ظرفی پر تڑپ اٹھی اور شرمندہ ہو کر مسلمان ہو گئی۔

    دشمنوں کے ظلم کا یہ عالم تھا کہ جب آپ ﷺ صحنِ کعبہ میں حالتِ نماز میں ہوتے، تو سجدے کے دوران آپ ﷺ کی پشتِ مبارک پر اونٹ کی تعفن زدہ اور بھاری اوجھڑی رکھ دی جاتی۔ کافروں نے نماز پڑھتے وقت آپ ﷺ کے گلے مبارک میں چادر کا پھندا ڈال کر اس بے دردی سے کھینچا کہ آپ ﷺ کا دم گھٹنے لگا۔ لیکن قربان جائیں اس رحمتِ مجسم ﷺ پر، جنہوں نے ان بدبخت دشمنوں کے لیے بھی ہمیشہ ہدایت کی دعا کی اور کبھی بددعا نہیں دی۔ وہ شفیق نبی ﷺ جو اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی، جب وفات کا وقت قریب تھا، سسکیاں لیتے ہوئے "امتی، امتی” (میری امت، میری امت) پکارتے رہے اور دنیا سے جاتے جاتے بھی اپنی امت کی نجات کی فکر کرتے رہے۔

    آج اگر ہم اپنے مسلم معاشرے کا جائزہ لیں، تو ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کے ان خوبصورت اسباق کو صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود کر دیا ہے۔ ہمارے دعوے تو محبتِ رسول ﷺ کے ہیں، لیکن ہماری عملی زندگی، ہماری تجارت، ہمارا اکلِ حلال اور ہمارے اخلاق آپ ﷺ کی تعلیمات کا عکس پیش نہیں کرتے۔ ہم فرقوں، زبانوں اور ذاتی مفادات میں بٹ کر آپ ﷺ کے دیے ہوئے اخوت کے درس کو بھول چکے ہیں۔
    آج دنیا اور آخرت میں کامیابی کا واحد طریقہ اور نجات کا ذریعہ نبی کریم ﷺ کی سنتوں کی کامل پیروی میں ہے۔ لیکن آج ہمیں دیانت داری سے اپنے گریبانوں میں جھانک کر یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ: "کیا ہم نبی کریم محمد ﷺ کے امتی ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں؟”
    اگر ہم واقعی آپ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، تو ہمیں زبانی دعووں سے نکل کر آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے، سچائی، امانت داری، عفو و درگزر اور نرم مزاجی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، کیونکہ اسی میں امت کی بقا اور کامیابی پوشیدہ ہے۔

    انبیاء علیہ السلام کی تعظیم وتکریم ضرور ی ہے۔
    قرآن مجید نے جہاں اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت
    فرشتوں پر ایمان ، قیامت پر ایمان کو جزو قرار دیا ہے۔وہاں سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت ورسالت پر ایمان جزو قرار دیا ہے ، لیکن پورے قرآن مجید میں ایک جگہ بھی یہ نہیں فرمایا کہ حضور ﷺ کے بعد کسی نئے نبی وحی یا نبوت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ نبوت ورسالت حضور محمد ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد منقطع ہو چکی ہے۔
    اللّٰہ تعالیٰ نے اس کا تذکرہ عالم ارواح، عالم دنیا، عالم برزخ ،عالم آخرت میں کیا ہے ۔
    جب قبر میں فرشتہ مردے سے سوال کرے گا ۔
    پہلا سوال ہے کہ تیرا رب کون ہے؟
    جواب میں مردہ کہے گا میرا رب اللہ ہے۔
    دوسرا سوال تمہارا دین کیا ہے ؟
    جواب میرا دین اسلام ہے۔
    تیسرا سوال تمہارا نبی کون ہے ؟
    جواب میرا نبی محمد ﷺ ہے۔
    فرشتہ مردے سے کہے گا ۔ تو نے سچ کہا۔

  • ختمِ نبوت ﷺ اور ہماری ذمہ داریاں ،تحریر: عائشہ گل

    ختمِ نبوت ﷺ اور ہماری ذمہ داریاں ،تحریر: عائشہ گل

    عقیدہ ختمِ نبوت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے، قرآنِ مجید میں سورۃ الاحزاب آیت 40 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ یعنی محمد ﷺ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے بھی واضح فرمایا: "میرے بعد کوئی نبی نہیں”، اور فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ آپ ﷺ خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین، صادق و امین، سید المرسلین اور شفیعِ محشر ہیں، آپ ﷺ کی ذات پر نبوت کی عمارت مکمل ہوگئی اور اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔

    7 ستمبر کا دن ہمیں اسی عظیم عقیدے کے تحفظ کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جب آئینِ پاکستان میں اس عقیدے کو قانونی تحفظ ملا۔
    ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ بتانا ہے کہ ہم آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی آخری امت ہیں اور ہمارے نبی جیسا نہ کوئی آیا نہ آئے گا، یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی قربِ قیامت میں جب تشریف لائیں گے تو نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ حضور ﷺ کے امتی کی حیثیت سے آئیں گے کیونکہ نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عقیدہ ختمِ نبوت کے محافظ بنیں، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنائیں اور اپنی اولاد کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ پیدا کریں۔

    اب سوال یہ ہے کہ اس عقیدے کے حوالے سے ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ صرف ایمان لانا کافی نہیں بلکہ اس کا تحفظ اور اس کی تبلیغ بھی ہم پر فرض ہے۔ سب سے پہلی ذمہ داری علم حاصل کرنا اور پھیلانا ہے، ہم خود قرآن و حدیث سے "لا نبی بعدی” کو سمجھیں اور اپنے گھروں اور بچوں میں عام کریں۔ دوسری ذمہ داری نئی نسل کی تربیت ہے، انہیں سیرتِ نبوی ﷺ پڑھائیں تاکہ وہ کسی جھوٹے مدعیِ نبوت کے فریب میں نہ آئیں۔ تیسری ذمہ داری عمل سے تبلیغ ہے، جب ہمارا کردار صادق و امین ہوگا تو یہی ختمِ نبوت کی سب سے بڑی خدمت ہوگی۔ اور چوتھی ذمہ داری اتحاد و بیداری ہے، ہر اس فتنے کے خلاف متحد رہنا جو اس عقیدے کو نقصان پہنچائے اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والے شکوک کا علم کے ساتھ جواب دینا۔

    آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ عقیدہ ختمِ نبوت صرف ایک ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اہم فرض ہے جس کو ہر امتی کو بخوبی نبھانا ہے۔ ہمیں اپنے امتی ہونے کا فرض پورا کرنا ہے، یہی ہمارے ایمان کا تقاضا اور ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔

  • رودادِ محفلِ سیرتِ مصطفیٰ ،تحریر: عنبرین فاطمہ

    رودادِ محفلِ سیرتِ مصطفیٰ ،تحریر: عنبرین فاطمہ

    رب العزت کا بے شمار احسان ہے کہ اس نے ہمیں خاتم النبیین، سرورِ کائنات، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا اور ان کی محبت و ذکر سے ہمارے قلوب کو جلا بخشی۔ اسی نسبتِ پاک کو استوار رکھنے اور بادیِ برحق ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو مشعلِ راہ بنانے کے لیے "تحریک دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام” 22 ربیع الأول بمطابق 5 ستمبر 2026 بروز ہفتہ ایک انتہائی روحانی، بابرکت اور نورانی "محفلِ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ” کا انعقاد بذریعۂ مواصلات کیا گیا۔ اس روح پرور نشست کی صدارت اور سرپرستی تحریک کی بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری صاحبہ نے کی، جبکہ محترمہ سمعیہ فرید صاحبہ نے بحیثیت منتظمہ و ناظمہ محفل کے تمام امور کو نہایت حسنِ اسلوب اور نظم و ضبط کے ساتھ سرانجام دیا۔

    محفل کا باقاعدہ آغاز مقررہ وقت پر ہوا، جہاں ناظمہِ محفل محترمہ سمعیہ فرید صاحبہ نے شائستہ اور دلکش انداز میں تمام حاضرین کو خوش آمدید کہا اور محفل کے اهداف و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے محفل کا آغاز کیا ۔ محفل کی شروعات معبودِ حقیقی کے پاک کلام سے ہوئی۔ ناظمہ کی دعوت پر محترمہ مقدس حماد صاحبہ نے اپنی خوش الحانی اور دلنشین لحن سے تلاوتِ قرآنِ مجید کی سعادت حاصل کی، جس سےایک سکون بخش اور روحانی فضا چھا گئی۔
    کلامِ الٰہی کی تلاوت کے بعد باری تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزانہ نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کے لیے محترمہ حرا نور صاحبہ کو دعوتِ کلام دی گئی، جنہوں نے نہایت سوز و گداز سے حمدِ باری تعالیٰ پڑھ کر سامعین کے قلوب کو منور کیا۔ حمدِ خداوندی کے بعد سرورِ کائنات، فخرِ موجودات ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں نعتِ پاک کے گلدستے پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ناظمہِ محفل محترمہ سمعیہ فرید صاحبہ نے ترتیب وار ثنا خواں خواتین کو مدعو کیا، جن میں محترمہ فرحت رشید صاحبہ،محترمہ حمادیہ صفدر ،محترمہ سیماب گل صاحبہ،غزالہ سلطانہ، اور محترمہ حمادیہ صفدر صاحبہ شامل تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حرا نور اور جویریہ صاحبہ دو بہنوں نے اپنے منفرد اور پر سوز لہجے میں نعتِ پاک کے اشعار پڑھ کر بارگاہِ رسالت میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔

    محفل کو مزید وقار اور جلا اس وقت ملی جب بانیِ تحریک محترمہ عمارہ کنول چودھری صاحبہ اور ناظمہِ محفل کی درخواست پر تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی مرکزی صدر محترمہ عائشہ راجپوت صاحبہ نے اپنے مخصوص اور پرتاثیر اسلوب میں یونس تحسین کا مشہور نعتیہ کلام پیش کیا:
    در بدر مدحتِ سرکار سناتا ہوا میں
    اپنی بخشش کا ہوں ساماں بناتا ہوا میں

    دم بدم لفظ عطا کرتا ہوا ربِ کریم
    شعر در شعر انہیں نعت بناتا ہوا میں

    آپ ہیں مسندِ محمود پہ جلوہ افروز
    اور غلاموں میں کھڑا نام لکھاتا ہوا میں

    آپ فرماتے ہوئے کون سنائے گا مجھے نعت
    دور جوتوں میں کھڑا ہاتھ ہلاتا ہوا میں

    عقیدت و محبت سے لبریز اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے دیگر شرکاء نے بھی اپنی خوش الحانی کا جادو جگایا، جن میں محترمہ علشبہ شہباز صاحبہ، محترمہ تنزیلہ افضل شیرصاحبہ، محترمہ نمرہ امین صاحبہ اور محترمہ انیلہ صاحبہ شامل تھیں۔ اس محفل کی خاص بات دیارِ غیر (UK) سے سات سمندر پار محترمہ ندا عباس صاحبہ کی شرکت تھی، جنہوں نے اپنی خوبصورت اور پرکشش آواز میں درج ذیل کلام پڑھ کر محفل کو معطر کر دیا:
    میرے دل میں ہے یادِ محمد ﷺ
    میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ
    تاجدارِ حرم کے کرم سے
    آ گیا زندگی کا قرینہ

    پروگرام کے آخری اور اختتامی مرحلے میں تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری صاحبہ نے اپنے صدارتی کلمات پیش کیے۔ انہوں نے تمام شرکت کرنے والی خواتین، قاریہ، ثنا خواں خواتین اور بالخصوص بیرونِ ملک سے جڑنے والے تمام شرکاء کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے محترمہ سمعیہ فرید صاحبہ کی بے مثال اور پرتاثیر نظامت و انتظام کو خوب سراہا اور اپنےعزم کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان شاء اللہ مستقبل میں تحریک کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی سطح پر اس سے بھی بڑی اور وسیع محافلِ سیرت النبی ﷺ کا انعقاد کیا جائے گا۔

    آخرمیں، امتِ مسلمہ کی اتحاد و یکجہتی، ملکی سلامتی، خواتینِ اسلام کی اخلاقی و دینی استقامت اور تمام شرکاء کی کامیابی کے لیے دعا کی گئی، جس کے ساتھ ہی یہ یادگار اور بابرکت نشست خیر و عافیت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔

  • شکر گزاری ،تحریر:صغیرجعفری

    شکر گزاری ،تحریر:صغیرجعفری

    اللہ تعالٰی نے ہمیں بےشمار، قیمتی نعمتوں برکتوں اور رحمتوں سے نوازا ہے کہ ہم ان کا شمار بھی نہیں کر پاتے اللہ تعالٰی ان عنایات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
    و ان تعدو نعمت الله لا تحسو ها
    اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار نہیں کر سکو گے
    پھر ارشاد فرمایا
    فاباي الاء ر بكما تكذبان
    تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے۔
    ایک لمحے کے لئے غور فرمائیں کہ اللہ تعالٰی کی بےشمار ایسی نعمتیں ہیں جو ہمیں مفت ملی ہیں۔ سورج کی روشنی اور حرارت جس سے ہمارا سارا نظام حیات چلتا ہے وہ اللہ تعالٰی ہمیں مفت عنایت فرماتے ہیں سب سے اہم پہلو سانس لینے کے لئے ہوا آکسیجن جس کے بغیر کوئی بھی ذی روح زندہ نہیں رہ سکتا۔ذرا تصور فرمائیں کہ اگر یہ آکسیجن ہمیں خریدنا پڑتی تو ہمارا کیا حال ہوتا۔ہسپتالوں میں جو مریض پھیپھڑے کمزور ہونے کی وجہ سے سانس نہیں لے سکتے انہیں سانس لینے کے لئے آکسیجن کے سلنڈر خریدنے پڑتے ہیں تو ان کا بل کس قدر زیادہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ہوا کے بعد زندگی کے لئے اہم ضرورت پانی کی ہوتی ہے۔انسان حیوانات چرند پرند غرضیکہ ہر جاندار کی زندگی کے لئے پانی بنیادی ضرورت ہے۔ نباتات پانی کے بغیر نشوونما پا ہی نہیں سکتے۔پانی جیسی نعمت عظمی’ بھی اللہ تعالٰی نے مفت عنایت فرمائی ہے۔دریائوں قدرتی چشموں کا پانی بھی بالکل مفت میں ملتا ہے۔اس بات پر بھی غور فرمائیں کہ اگر سمندر کے پانی پر نقل و حمل کے لئے چلنے والے بحری جہازوں کو بھی سمندری پانی پر چلنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی تو ہمیں کتنا بھاری معاوضہ ادا کرنا پڑتا۔
    اللہ تعالٰی کی جس قدر نعمتیں زیادہ اور قیمتی ہیں تو ہمیں اسی حساب سے اللہ تعالٰی کا شکر بھی بجا لانا چاہئے

    حضرت موسی’ علیہ السلام کے ایک صحابی نے عرض کی کہ آپ کلیم اللہ ہیں اللہ تعالٰی سے میری یہ گزارش کیجئے گا کہ اللہ تعالٰی کی عطا کردہ دولت میرے پاس اس قدر زیادہ ہے کہ میں اسے صحیح طرح سنبھال نہیں پاتا بس مجھے اتنا ہی عطا فرمائیں جسے میں آسانی سے سنبھال سکوں ۔حضرت موسی’ علیہ السلام آگے بڑھے تو ایک نحیف بڑھیا نے کہا کہ میری ایک عرض اللہ تعالٰی کے حضور پیش کرنا کہ میں اکیلی ضعیف و ناتواں ہوں میرا کوئی سہارا نہیں ہے فاقوں میں زندگی گزار رہی ہوں کبھی میرے بھی اچھے دن آئیں گے۔ حضرت موسی’ علیہ السلام اللہ تعالٰی سے ان دونوں کی گزارشات پیش کرنے کے بعد اس شخص سے ملے جس سے دولت سنبھالی نہیں جا رہی تھی اسے اللہ تعالٰی کا یہ فرمان سنایا کہ تم اللہ تعالٰی کی ناشکری کرنا شروع کر دو تمہاری دولت خود بخود تمہارے کنٹرول میں آ جائے گی۔تو اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول میری دولت اللہ تعالٰی نے ہی عطا کی ہے بیشک آئندہ مجھے کوئی دولت نہ دے تو میں پھر بھی ہر حال میں اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالٰی اس کی نیت دیکھتے ہی اس کی دولت میں مزید اضافہ فرما دیا۔ بڑھیا کے لیے اللہ کا فرمان اسے سنایا کہ ہر حال میں اللہ کا شکر کرنا چاہیے۔وہ بڑھیا غصے کی تیز تھی دو بدو ہو کر کہنے لگی کہ
    * لاین شکر تم لا غنيمة لا مقصورة * میں کس چیز کا شکر کروں۔میرے پاس نہ تو بھیڑ بکریاں ہیں (کیونکہ اس وقت جس کے پاس مال مویشی زیادہ ہوتےچل تھے اسے ہی مالدار سمجھا جاتا تھا )
    نہ ہی میرے پاس محل ماڑیاں ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیز آندھی چلی تو بڑھیا کی کٹیا اڑ کر بکھر گئی۔ اس پر
    مجھے قرآن مجید کی وہ آیت کریمہ یاد آگئی جس میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ۔** اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اضافے کے ساتھ مزید عطا کروں گا اور اگر تم میری عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرو گے تو تمہارے لئے میرا شدید عذاب ہو گا

    وہ بڑھیا اسی عذاب کا شکار بنی تھی۔ آئیں ہم دیکھتے ہیں شکرگزاری ہے کیا اور ہمیں اللہ تعالٰی کا شکر کیسے ادا کرنا چاہئے شکر گزار ہونے کا عملی نمونہ ہمارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ والسلم ہیں۔ مال غنیمت اور صدقات کی مد میں جو اشیاء آپ کی خدمت میں آتیں جب تک وہ تمام مال غنیمت مستحق لوگوں میں تقسیم نہ کر دیتے وہاں سے اٹھتے نہیں تھے خالی ہاتھ گھر تشریف لاتے اور فرماتے ** یا اللہ تیرا شکر ہے آپ نے جو مال مجھے عطا کیا آپ کی مخلوق میں تقسیم کر دیا اور اپنے اہل کے لئے کچھ نہیں بچایا۔
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ والسلم رات کو کھڑے ہو کر عبادت فرماتے تو پائوں سوج جاتے۔ آم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا عرض کرتیں کہ تھوڑا آرام فرما کر لیا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ والہ والسلم فرماتے
    * افا لا عبدا” شکورا *
    کیا میں اللہ تعالٰی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شکرگزاری (Gratitude) سے مراد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان گنت نعمتوں کا دلی اعتراف کرنا اور زبان و عمل سے اس کا شکر ادا کرنا ہے。 یہ ایک ایسا مثبت جذبہ ہے جو انسان کی ذہنی صحت کو بہتر بناتا ہے، خوشی کے احساس میں اضافہ کرتا ہے اور قرآنی تعلیمات کے مطابق مزید نعمتوں کے حصول کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔

    شکرگزاری کے درجے اور اظہار کے طریقے:
    دل سے شکر: نعمتوں کی قدر کرنا اور انہیں ہمیشہ اللہ کی طرف سے عطا سمجھنا。
    زبان سے شکر: کثرت سے اللہ کی حمد و ثناء کرنا اور "الحمد للہ” کہنا。
    عمل سے شکر: اللہ کی دی ہوئی نعمتوں صحت، مال و دولت، اور صلاحیت کو اس کی رضا اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا。 اللہ تعالٰی کی مخلوق کی خدمت بھی عین شکر گزاری ہے
    شکرگزاری کے فوائد:
    شکرگزار انسان ہمیشہ ذہنی سکون میں رہتا ہے۔ اسلام میں اس کی بہت اہمیت ہے، اور حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کے مطابق جو شخص لوگوں کے احسانات کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کر سکتا۔

    قرآنِ پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾
    (ترجمہ: "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ نوازوں گا یعنی اورزیادہ عطا کروں گا”)۔
    مذہبی و روحانی پہلوؤں کے علاوہ جدید سائنسی تحقیق سے بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ شکرگزاری کرنے والے افراد زیادہ پر خلوص پرامید، زیادہ مطمئن پرسکون اور بہتر سماجی تعلقات نبھانے والے ہوتے ہیں معاشرے میں ان کا کردار ہمیشہ مثبت ہوتا ہے
    ۔اللہ تعالٰی کی بیش بہا اور بیش قیمت نعمتوں کے حصول اور ان نعمتوں کو مزید بڑھانے کے لئے ہمیں ہر صورت، ہر حال میں اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے اور شکر گزاری کا بہترین طریقہ اللہ تعالٰی کی عطا کردہ نعمتوں کو اللہ تعالٰی کے احکامات کے مطابق اللہ تعالٰی کی مخلوق کی ضروریات کا احساس و خیال رکھتے ہوئے مستحق و نادار لوگوں میں انصاف کے ساتھ تقسیم ہے۔ یہی مثبت جذبہ خدمت خلق اللہ تعالٰی کی عطا کردہ نعمتوں کا بہترین ذریعہ شکر ہے

  • خود احتسابی، معاشرے کی اصلاح کا پہلا زینہ،تحریر: عائش احمد

    خود احتسابی، معاشرے کی اصلاح کا پہلا زینہ،تحریر: عائش احمد

    انسان اس وقت تک اپنی اصلاح نہیں کر سکتا جب تک کہ اس کے اندر خود احتسابی کی صفت پیدا نہ ہو۔ خود احتسابی کا مطلب اپنی ذات کا محاسبہ کرنا، اپنے اعمال، اطوار، خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لینا ہے۔ یہ ایک ایسی عظیم صفت ہے کہ اگر ہر انسان اس سے متصف ہو جائے، یعنی دوسروں کے عیوب پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے عیوب کو دیکھے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرے، تو معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جائے اور ہر فرد کی کافی حد تک اصلاح ہو جائے۔

    لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں اپنی اصلاح کی فکر کرنے کے بجائے انسان دوسروں کے عیوب اور خامیوں پر نظر رکھتا ہے، انہیں تلاش کرتا ہے اور پھر ان کے بارے میں دوسروں سے گفتگو اور چہ مگوئیاں کر کے حرام فعل، یعنی غیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے؛ جب کہ اپنے مسلمان بھائی کے عیوب پر پردہ ڈالنے کی حدیثِ شریف میں تاکید کی گئی ہے اور اس کا اجر بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

    "مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ”

    ترجمہ: "جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے۔”

    یہ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے کہ انسان کو دوسرے کے سر پر بیٹھی ہوئی مکھی تو نظر آتی ہے، مگر خود پر لگی ہوئی کیچڑ نظر نہیں آتی۔ بھلا جو خود پانی میں ڈوب رہا ہو، اسے کسی دوسرے کے ڈوبنے کی فکر کیسے ستا سکتی ہے؟ اور جو خود کسی مہلک مرض میں مبتلا ہو، اسے دوسرے کے زکام جیسی معمولی بیماری کی فکر کیوں ہونے لگے؟

    لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان دوسروں کی اصلاح کی فکر سے پہلے اپنی اصلاح اور اپنے عیوب کو دور کرنے کی کوشش کرے؛ کیوں کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک مصلح نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ خود صالح نہ بنے اور اپنی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب انسان خود احتسابی سے کام لے۔ وہ اپنے ہر عمل، دوسروں کے ساتھ اپنے رویّے، معاشرت و معاملات اور لوگوں کے ساتھ اپنی نشست و برخاست پر خصوصی نظر رکھے۔ پھر روزانہ ایک وقت مقرر کر لے مثلا: شب میں سونے سے پہلے اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لے اور یہ سوچے کہ دن بھر میں اس سے کن کن مواقع پر غلطیاں سرزد ہوئیں، اور پھر ان غلطیوں کو دور کرنے کا پختہ عزم اور ہمت کرے؛ کیوں کہ بعض اوقات ہم انجانے میں اور غیر شعوری طور پر کسی کے ساتھ غلط رویّہ اختیار کر لیتے ہیں، پھر ہم تو اپنی اس غلطی کو بھلا بیٹھتے ہیں، مگر وہ کسی کے دل پر گہرا نقش چھوڑ جاتی ہے اور وہ شخص ہماری وجہ سے رنج و غم کا شکار رہتا ہے۔ ایسے میں خود احتسابی ہمیں اس بات کا احساس دلائے گی کہ ہم نے آج اپنے رویّے یا الفاظ سے کس کے دل کو ٹھیس پہنچائی ہے، تاکہ ہم اپنی غلطی کی اصلاح کر سکیں۔
    نیز اپنی خوبیوں کا بھی جائزہ لے پھر اگر اسے اپنے اعمال میں کوئی خوبی نظر آئے تو اسے چاہیے کہ ہر اس خوبی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے جس سے اللہ تعالیٰ نے اسے نوازا ہے، تاکہ شکر کے ذریعے اس نعمت میں مزید اضافہ ہو۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے: "لئن شکرتم لأزیدنکم” (ترجمہ: اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور بہ ضرور تمہاری (نعمت میں) اضافہ کروں گا)۔ ہر دن کے محاسبے کی برکت سے وہ اصلاح کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا ایک دن نیک اعمال کے بلند مرتبے پر فائز ہو جائے گا۔
    لہذا اسے چاہیے کہ ہمت اور اخلاص کے ساتھ اپنی اصلاح میں جت جائے، تاکہ اس کی ذات نہ صرف اس کے اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مؤثر اور مفید ثابت ہو، نہ کہ تکلیف اور اذیت کا باعث بنے۔ کیوں کہ حقیقی دانش مندی دوسروں کے عیوب تلاش کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے عیوب پہچان کر انہیں دور کرنے میں ہے۔

  • نعمتوں کا شکر کیا ہے؟،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    نعمتوں کا شکر کیا ہے؟،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ زندگی، صحت، عقل، ایمان، والدین، اولاد، رزق، امن، محبت، علم اور ہدایت یہ سب اللہ تعالی کی بہترین عظیم نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں کی اتنی کثرت ہے کہ انسان چاہے بھی تو ان کا مکمل شمار نہیں کر سکتا ہے۔ قران مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
    "اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو انہیں شمار نہیں کر سکتے” (سورۃابراہیم-34)

    یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارا ہر لمحہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
    شکر کا مطلب صرف زبان سے "الحمدللہ” ہی کہنا نہیں ہے، بلکہ دل سے یہ یقین رکھنا ہے کہ تمام نعمتیں اللہ ہی کی عطا کردہ ہیں۔ زبان سے اس کی تعریف کرنا اور ان نعمتوں کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرنا بھی شکر ہے۔ اگر اللہ نے ہمیں علم دیا ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے علم کو دوسروں کے لیے استعمال کریں۔ اگر مال دیا ہے تو اس میں ضرورت مندوں اور غریبوں کا بھی حق ادا کریں۔ اگر صحت دی ہے تو عبادت، محنت اور خدمت خلق میں استعمال کریں۔ یہی حقیقی شکر گزاری ہے۔

    شکر گزار بندہ ہر وقت پرسکون اور مطمئن رہتا ہے، کیونکہ وہ دوسروں کی نعمتوں پر حسد کرنے کی بجائے اپنی نعمتوں پر نظر رکھتا ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ کی حکمت پر راضی اور مشکلات میں صبر کے ساتھ اللہ ہی پر یقین اور توکل رکھتا ہے۔ جو شخص نعمتوں کی قدر نہیں کرتا، وہ اکثر ان کے چھن جانے کے بعد ان کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ اللہ تعالی نے شکر گزار بندوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے۔ قران پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    ” اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا” (سورۃابراہیم-7)

    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر صرف ایک اخلاقی خوبی ہی نہیں ہے، بلکہ نعمتوں میں اضافے، رزق میں برکت اور دل کے سکون کا ذریعہ بھی ہے۔ اسی لیے مسلمان کو خوشی اور غم، آسانی اور تنگی ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی عملی زندگی سے شکر کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ رات کو اتنا قیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا:
    "یا رسول اللہ ﷺ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام ذنوب کی مغفرت فرما دی ہے؟”
    آپ ﷺ نے فرمایا:
    "يَا عَائِشَةُ، أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا”
    "اے عائشہ! کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟”
    صحیح البخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الفتح، حدیث نمبر 4837
    اور ایک دوسری روایت میں صحیح البخاری، کتاب التہجد، حدیث نمبر 1130۔
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت، اطاعت اور نیکی کے کام شکر کی بہترین صورتیں ہیں۔

    ہمیں چاہیے کہ ہم روزانہ اپنی زندگی میں موجود نعمتوں پر غور کریں۔ پانچ وقت نماز ادا کریں، سچ بولیں، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اور ہر نعمت کو اللہ کی امانت سمجھ کر استعمال کریں۔ زبان سے "الحمدللہ” کہنا، دل میں عاجزی پیدا کرنا اور عملی طور پر نیکی اختیار کرنا شکر کے اہم تقاضے ہیں۔ شکر ایک عظیم عبادت اور بہترین اخلاقی صفت اور کامیاب زندگی کا راز ہے۔ جو شخص اللہ کی نعمتوں کو پہچان کر ان کی قدر کرتا ہے، اور انہیں اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرتا ہے، اللہ تعالی اس کو مزید رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ شکر گزار بندے کے دل کو سکون عطا کرتا ہے، اور دنیا و آخرت کی بھلائی اور کامیابی عطا فرماتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کی وہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنے اور اپنے کردار و اعمال سے حقیقی شکر گزاری، نیکی اور خدمت خلق کا نمونہ بنے۔