Baaghi TV

Category: مذہب

  • عقیدہ درست انسان چست شیطان سست،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    عقیدہ درست انسان چست شیطان سست،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    مسلمان ماؤں کا یہ اصول ہے کہ وہ سونے سے پہلے اپنے بچوں کو قرآن کی سورتیں سنایا کرتی ہیں والدین بچوں کو خدا کے متعلق تسکین بخش کلمات دہرایا کرتے وہ خدا کے افضل ترین جہانوں میں اپنی اولاد کے لیے جگہ بنایا کرتے ہیں۔خدا کے محبوب ترین بندوں کی محبت و عقیدت سے بچوں کے دل سجایا کرتے تاکہ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے جائیں ان کے اندررکھی مقدس عبادتیں محبتیں عقیدتیں بھی بڑی ہوتی جائیں والدین بچوں کو اس حقیقت سے آشنا کرواتے ہیں کہ دنیاوی پریشانیوں کا شاہی علاج حقیقی مذہبی عقیدہ ہے۔

    اس حقیقی مذہبی عقیدے کی تربیت میں ڈھلی رُوح پر دنیا کی ہر مصیبتیں تکلیفیں پریشانیاں امتحان غالب نہیں آتے اور بندہ خدا کے بارے میں صاحب یقین رہتا ہے۔میری امی جان گہرا،پائیداراور ابدی یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر ہم خدا سے محبت کریں اس کے اور اس کے پیغمبر ﷺ کے احکامات کی تعمیل کریں تو اول و آخر سب ٹھیک ٹھاک رہے گا انہوں نے اس عقیدے کے ساتھ حالات زندگی سازگار بنائے رکھے کشمکش اور دل برگشتگی کے تمام سالوں کے دروان کبھی پریشان و مایوس نہیں ہوئیں خدا کے حضور سجدہ شکراور دعائیں بجا لا کر مصائب کو اپنی ایمانی قوت سے کمزور کیا۔

    جو لوگ مذہب اسلام سے انسانی اہمیت کا باب تلاش کرکے نظریہ بنا تے ہیں وہ فرقوں گروہوں جماعتوں کے اختلافات میں دلچسپی لینے کی بجائے مذہب جو کچھ انسانیت کے لیے کرتا ہے اس میں گہری دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ یہ ناصرف حسین خوش باش عزت و کامیابی سے مکمل زندگی بسر کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ رُوحانی قدروں میں بھی اضافہ کرکے حسین تر اور مطمئن تر کیفیات سے مالا مال کرتا ہے۔ دین اسلام زمین پہ اترنے سے پہلے عالم ارواح میں پیغمبروں کے چشموں سے رضا الٰہی کا آب حیات پی کر آیا ہے جو مجھے زندگی بسر کرنے میں نیا ولولہ، نیا جوش، یقین،امید،جرت، دیتے ہوئے پریشانی خوف ڈر تناؤ اور تشویش دُور کرتا ہے اپنی راہنمائی میں میری زندگی کا مقصد اور راہیں متعین کرتے ہوئے خوشی،مسرت، صحت، تندرستی سے مالا مال کرتا ہے اور ہر قبول کرنے والے کو زندگی کے گرد باداورریتلے صحراؤں کے درمیان امن و تسکین کا نخلستان تخلیق کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    پہلے لوگ سائنس اور مذہب کی آویزش کے متعلق باتیں کیاکرتے تھے لیکن اب نہیں کرتے کیونکہ جدیدسائنسی تحقیقی ترقی اور ماہرین علم امراض النفس وہی سکھا رہے ہیں جو ہمارے نبی کریم ﷺ اپنی اُمت کو بتا چکے ہیں اب توعلمی وسائنسی ترقی پانے والے غیر مسلم بھی تصدیق کرنے لگے ہیں کہ نماز اور مستحکم دینی عقیدہ پریشانیوں،تشویشوں،ڈروں،سمیت اعصابی کشمکشوں کو دُور کرنے میں مدد دیتا ہے جو شخص حقیقی معنوں میں دین اسلام کا پابند ہوتا ہے وہ اعصابی اور زہنی امراض کا شکار نہیں ہوتا۔اگر مذہب سچا نہیں ہے تو دنیا بے معنی ہے اور اگر مذہب سچا ہے مگر ماننے والا سچا نہیں ہے تو آخرت بے معنی ہے۔ سچے دین کا سچاماننے والاہی دنیا و آخرت میں فائدہ اُٹھاتا ہے۔ نوے سالہ ایک خاموش متین اور مطمئن شخص سے پوچھا گیا کہ آپ کبھی پریشان نہیں ہوئے؟اس نے جواب دیا۔نہیں،میرا عقیدہ ہے کہ خدائے حقیقی قادر مطلق ہے جب خداہر چیز پرمختار ہے تو آخر میں ہر چیز کا نتیجہ بہترین ہی ظاہر ہوگا پھر مجھے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟

    زمانہ جہالت میں انسانی جانوں کو جھوٹے خداؤں پر وار دیا جاتا تھا پھر سچے خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں تک اُس حقیقی دین کی دعوت پہنچائی جو انسانوں کو نوازنے پر مبنی ہے جس نے فراوانی کے ساتھ خوشحال زندگی کی نوید سناتے ہوئے بتایا کہ مذہب انسانوں کے لیے ہوتا ہے ناکہ انسان مذہب کے لیے۔مذہب کے نا م پر انسانوں کو سولی پہ چڑھانے والوں کا راستہ روکا گیاجھوٹے خداؤں کے پیروکاروں نے گناہوں کی بجائے خوف کا زیادہ استعمال کیاجبکہ خوف کا غلط پہلو گناہ ہی ہے ان خوفزدہ گنہگاروں کوحسین تر،مکمل تر،خوش تر،بلند تر اسلامی زندگی کے علم سے آشنا کرکے زندگیاں بدل دی گئیں۔چند نظریات کو زہنی طور پر قبول کرکے کسی خاص اصول کو اختیار کرنے سے مذہبی پابندی نہیں ہوتی سچا مذہبی بننے کے لیے ایک مخصوص رُوح کا مالک ہونا اور ایک مخصوص زندگی اختیار کرنا ضروری ہے اسی خصوصیت کی بنا پر آدمی کی عمر کے ساتھ ساتھ اس کا خدا پر یقین بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔

    میں نے جب یقین کے پیالے کو دعا کے ہاتھوں سے خدا کی جانب کیا تو وہ مراد سے بھر گیا اور میں المناک گمراہی پر شرمندہ بھی ہوا کہ میں اپنی ساری کٹھن اور جگر گذار لڑائیاں تنہا ہی سر کرنے میں لگا رہا میں نے دُعا کے ذریعے ہر بات خدا تک کیوں نہیں پہنچائی۔ہماری زندگی کے تاریک لمحات صرف وقتی و عارضی ہوتے ہیں جنہیں دُعا کے ذریعے سہانے اور تابناک مستقبل میں بدلا جا سکتا ہے تلخ حالات کی ذر میں زندگی کے خاتمے تک پہنچنے والی سوچ کو دُعا جینے کی سمت پر ڈال دیتی ہے۔دنیا کے ہر مسلے کا حل مذہبی نقطہ نظرسے مل جاتا ہے۔لوگ اس لیے رُوحانی و جسمانی طور پر بیمار ہوئے کیونکہ وہ اس چیز سے محروم ہوچکے تھے جو ہر زمانے کے زندہ مذہب نے اپنے پیروکاروں کو دی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت تک کوئی بھی صحت یاب نہ ہوسکا جب تک اس نے دوبارہ مذہب سے رجوع نہ کیا۔ایمان خدائی قوتوں میں سے ایک قوت ہے جن کے سہارے انسان زندہ رہتا ہے اور اس کی عدم موجودگی کا نتیجہ شکست اور انحطاط ہوتا ہے۔

    ذکر و ازکار زندگی بخش قوت سے فیض یاب کرتے ہیں وہ ہزاروں مصیبت زدہ رُوحیں جو پاگل خانوں میں چلا رہی ہیں امن و سکون کی زندگی بسر کر سکتی تھیں اگر انہوں نے اپنی زہنی جنگیں تنہا لڑنے کی بجائے اعلیٰ،بلند و برتر خدائی طاقت سے مدد مانگی ہوتی۔ابدی و غیر فانی عظیم رُوحانی حقیقتوں اور سچائیوں کو یاد کرنے سے اعصاب کو سکون جسم کو آرام اور تناظر وسیع ہوتا ہے اپنی قوتوں کو نئی قدریں متعین کرنے میں مدد ملتی ہے

  • عالمی یومِ غذائی تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    عالمی یومِ غذائی تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 7 جون کو عالمی یومِ غذائی تحفظ منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں محفوظ خوراک کے حوالے سے شعور بیدار کرنا، بیماریوں سے بچاؤ کے طریقے اجاگر کرنا اور خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کی اہمیت کو نمایاں کرنا ہے۔ موجودہ دور میں غذائی تحفظ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے کیونکہ غیر معیاری اور آلودہ خوراک نہ صرف انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ قومی معیشت اور صحت کے نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

    عالمی یومِ غذائی تحفظ منانے کی ابتدا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ہوئی۔ دسمبر 2018 میں اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ 7 جون کو عالمی یومِ غذائی تحفظ کے طور پر منانے کا اعلان کیا جبکہ اس دن کو عملی طور پر پہلی بار 2019 میں منایا گیا۔ اس مہم کی قیادت عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ اس دن کے قیام کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں، ناقص غذائی نظام اور آلودہ خوراک کے خطرات کے بارے میں عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنا تھا۔

    تاریخ گواہ ہے کہ صنعتی ترقی، آبادی میں اضافہ اور خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ ملاوٹ اور غیر معیاری خوراک کے مسائل بھی بڑھتے گئے۔ مختلف ممالک میں آلودہ خوراک سے ہونے والی اموات اور وباؤں نے عالمی اداروں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو انسانی صحت، معیشت اور پائیدار ترقی سے جوڑا گیا۔

    عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا میں ہر سال کروڑوں افراد آلودہ خوراک کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے جہاں ملاوٹ شدہ دودھ، ناقص گھی، غیر معیاری مصالحہ جات، مضر صحت مشروبات اور کیمیکل ملے پھل و سبزیاں عوامی صحت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ بازاروں، ہوٹلوں اور کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے والے کئی مراکز پر صفائی کے ناقص انتظامات بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

    غذائی ماہرین کے مطابق غیر محفوظ خوراک ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، فوڈ پوائزننگ اور معدے کی متعدد بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں کیونکہ کم عمر بچوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں آگاہی کی کمی اور شہروں میں فاسٹ فوڈ کے بڑھتے رجحان نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
    پاکستان میں پنجاب فوڈ اتھارٹی، سندھ فوڈ اتھارٹی اور دیگر ادارے خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کارروائیاں کرتے رہتے ہیں، مگر صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں۔ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ گھروں میں صفائی، تازہ خوراک کا استعمال، صاف پانی، پھلوں اور سبزیوں کی اچھی طرح دھلائی، اور کھانے کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
    یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ دیہی علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے روایتی طریقے اکثر غیر سائنسی ہوتے ہیں۔ دودھ میں ملاوٹ، مضر صحت رنگوں کا استعمال اور ناقص تیل میں تیار شدہ اشیاء انسانی صحت کو خاموشی سے تباہ کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں میڈیا، تعلیمی اداروں، مذہبی و سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچائی جا سکیں۔بدقسمتی سے وطن عزیز میں اس صورتحال کا جائزہ لیا تو جاتا ہے مگر بنیادی وجوہات کو نہیں دیکھا جاتا کہ یہ کیوں اور کیسے ہورہا ہے سب اچھا ہے سرکاری اعداد وشمار میں وجہ کوئی بھی ہوسکتی ہے آپ سب جانتے ہیں ۔

    عالمی یومِ غذائی تحفظ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صحت مند معاشرے کی بنیاد محفوظ خوراک ہے۔ اگر ہم آج اپنی خوراک کے معیار پر توجہ نہیں دیں گے تو آنے والی نسلیں بیماریوں اور کمزور صحت کا شکار رہیں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سخت قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے، فوڈ انسپیکشن کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے مسلسل آگاہی مہم چلائی جائے۔جو عام آدمی تک پہچنے میں مددگار ثابت ہو ۔
    محفوظ خوراک صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ صحت مند پاکستان کے لیے ہمیں ملاوٹ، غیر معیاری خوراک اور صفائی کی ناقص صورتحال کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔جو ہم سب کی ذمہداری ہے امید کا دامن تھامے رکھیں مگر کب تک

  • رزق کی تقسیم،تحریر: بینا علی

    رزق کی تقسیم،تحریر: بینا علی

    "اور وہ سب سے بہترین رزق دینے والاہے۔”
    ہجرت کو مقدرِ زیست بنے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا۔ نئے شہر کی اجنبیت ابھی دل پر پوری طرح طاری تھی۔شہر اور لوگ نئے تھے اور زندگی ایک نئے انداز سے خود کو ترتیب دے رہی تھی۔ انہی دنوں ایک صبح میں کچن میں ناشتہ تیار کر رہی تھی کہ اچانک ایک چڑا اور چڑیا کھڑکی کے قریب آ بیٹھے۔ ان کی چہچہاہٹ میں جیسے رزق کی خاموش التجا شامل تھی۔کھڑکی پر مضبوط جالی لگی ہوئی تھی اور اسے کھولنے کا کوئی راستہ نہ تھا، اس لیے بظاہر انہیں کچھ دینا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ مگر جب اللہ کسی کے لیے رزق کا فیصلہ کر دے تو وہ اس کے لیے راستے بھی خود بنا دیتا ہے۔ اچانک میری نظر جالی کے ایک سوراخ پر پڑی۔ میں نے بریڈ کے چند چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے اور احتیاط سے اس سوراخ کے ذریعے باہر ڈال دیے۔ چند ہی لمحوں بعد وہ پھدکتے ہوئے آئے اور خوشی خوشی اپنا حصہ لے گئے۔ یہ ایک معمولی سا واقعہ تھا، مگر دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔اب یہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ وہ ہر صبح اور عصر کے بعد آتے ہیں اور اپنے ساتھ چند دوسری چڑیوں کو بھی لے آتے ہیں۔ جالی کا وہ چھوٹا سا سوراخ ان کے لیے رزق کا دروازہ بن گیا ہے،ایک ایسا دروازہ جسے میں نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے کھولا۔یہ منظر دیکھ کر میں اللہ تعالیٰ کے نظامِ رزق پر حیران رہ گئی۔ ہم خود بھی غمِ روزگار کے تحت ہجرت کرکے اس نئے شہر میں آ بسے ہیں۔ ہمارے لیے بھی رزق کے دروازے وہیں سے کھلتے ہیں جہاں تک ہماری سوچ نہیں پہنچتی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ ہمارے ہاتھوں انہی بے زبان پرندوں کا رزق بھی ان تک پہنچا دیتا ہے۔

    کتنی عظیم ہے وہ ذات جو آسمان کی وسعتوں میں اڑنے والے پرندوں کو بھی نہیں بھولتی اور پردیس میں بسنے والے انسانوں کو بھی اپنی رحمت سے محروم نہیں کرتی۔ وہی دل میں خیال ڈالتا ہے اور وہی اسباب مہیا کرتا ہے۔ کبھی جالی کا ایک چھوٹا سا سوراخ اللہ کی رحمت کا وسیلہ بن جاتا ہے، اور کبھی ایک انسان کے ہاتھ اس کی عطا بانٹنے کا ذریعہ۔واقعی، رزق کی تقسیم کا نظام عقل کو حیران اور دل کو مطمئن کر دیتا ہے۔ ہم صرف وسیلہ ہیں، دینے والا تو صرف اللہ ربّ العزت ہے۔ اس کے خزانے بے شمار ہیں وہ جسے دینا چاہے وہاں سے دیتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا اور جب اپنے بندوں کو نوازتا ہے تو ان کے ذریعے اپنی دوسری مخلوق کا رزق بھی پہنچا دیتا ہے۔ بے شک رازق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

  • قرآن: محض ثواب کا ذریعہ یا نصابِ زندگی؟تحریر: عمر افضل

    قرآن: محض ثواب کا ذریعہ یا نصابِ زندگی؟تحریر: عمر افضل

    رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ گلیوں اور بازاروں میں رونقیں بڑھ رہی ہیں، دسترخوانوں کی فکر کی جا رہی ہے اور عبادات کا ایک مخصوص شیڈول ترتیب دیا جا رہا ہے، لیکن اس تمام تر چہل پہل کے درمیان ایک سوال ہم سب کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے، کیا ہم اس مہینے کو صرف سحری و افطاری اور تراویح کی رسم تک محدود رکھیں گے، یا اس اصل مقصد کی طرف بھی لوٹیں گے جس کے لیے یہ مہینہ چنا گیا؟ یعنی "نزولِ قرآن”۔

    سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو ایک "مقدس تبرک” تو بنا لیا ہے، مگر اسے "نصابِ زندگی” تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں۔ ہم اسے چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہیں، خوبصورت ریشمی غلافوں میں لپیٹ کر گھر کے سب سے اونچے مقام پر رکھ دیتے ہیں، مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ قرآن ہمارے دلوں کے قریب نہیں آپاتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اللّٰہ کی اس کتاب کے ہم پر کچھ حقوق ہیں، جن میں سے پہلا اور بنیادی حق ‘ایمانِ صادق’ ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور ایمان ہمیں ورثے میں مل گیا، لیکن شاید اسی "مفت” ملنے والی نعمت نے ہمیں اس کی قدر سے محروم کر دیا۔ ہمارا ایمان اکثر محض ایک رسمی اقرار بن کر رہ گیا ہے۔ جب تک ہمارا یہ یقین پختہ نہیں ہوگا کہ یہ کتاب اللّٰہ کا ہم سے براہِ راست کلام ہے، تب تک ہدایت کے بند دروازے نہیں کھل سکتے۔ ایمان کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہماری زندگی کا ہر فیصلہ قرآن کے تابع ہوتا، مگر یہاں تو حال یہ ہے کہ ہم اپنی مرضی کی زندگی گزار کر قرآن سے صرف دعائیں مانگنے کا رشتہ رکھتے ہیں۔

    اسی تعلق کا دوسرا اہم پہلو ‘تلاوت’ ہے، مگر یہاں ہمارا رویہ دوہرا ہے۔ ہم دنیاوی تعلیم کے لیے تو مہنگے ٹیوٹرز اور بہترین اداروں کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن جب اللّٰہ کا کلام پڑھنے کی باری آتی ہے تو ہم اسے غلط لہجے اور ٹوٹے پھٹے لفظوں میں پڑھنے پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ کیا خالقِ کائنات کا کلام اس لائق نہیں کہ اسے بہترین انداز (تجوید) سے پڑھا جائے؟ ہم گھنٹوں سوشل میڈیا کی اسکرولنگ میں ضائع کر دیتے ہیں، مگر قرآن کے لیے ہمارے پاس چند منٹ نہیں ہوتے۔ اس رمضان ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم اپنی تلاوت کو درست کریں گے، کیونکہ یہ کلام جتنا عظیم ہے، اسے اتنے ہی احسن طریقے سے پڑھا جانا چاہیے۔

    تلاوت سے آگے بڑھیں تو سب سے بڑی محرومی ‘فہمِ قرآن’ ہے؛ ہم عربی پڑھ تو لیتے ہیں، مگر یہ نہیں جانتے کہ ہمارا رب ہم سے کہہ کیا رہا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی مریض ڈاکٹر کا نسخہ تو بار بار پڑھے، لیکن اس میں لکھی دوا استعمال نہ کرے۔ قرآن محض ثواب کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے کے لیے نازل ہوا تھا۔ جب ہم ترجمہ اور تفسیر پڑھتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ براہِ راست ہمارے دکھوں کا مداوا کر رہا ہے اور ہماری الجھنوں کے حل پیش کر رہا ہے۔ فہمِ قرآن کے بغیر گزرا ہوا رمضان ایک پیاسا رمضان ہے۔

    آج کا سب سے بڑا المیہ ‘عمل’ کا فقدان ہے۔ ہم مسجد میں قرآن سن کر روتے ہیں، لیکن مسجد سے باہر نکلتے ہی وہی جھوٹ، وہی ناپ تول میں کمی، وہی سود خور ذہنیت اور وہی بددیانتی ہمارے ساتھ ہوتی ہے۔ اگر ہم صرف سود اور جھوٹ سے رک جائیں تو ہمارے آدھے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ قرآن پر عمل ہی وہ واحد راستہ ہے جو کسی قوم کو ذلت کے گڑھے سے نکال کر عزت کے تخت پر بٹھاتا ہے۔

    قرآن کا آخری اور اہم ترین حق اس کے پیغام کی ‘تبلیغ’ یعنی اسے دوسروں تک پہنچانا ہے۔ یہ کتنی بڑی خود غرضی ہے کہ ہدایت کا جو نور ہمیں ملا، اسے ہم صرف اپنی ذات تک محدود رکھیں۔ اللّٰہ کے نبی ﷺ نے فرمایا تھا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے”۔ یہاں سکھانے سے مراد صرف قاعدہ پڑھانا نہیں، بلکہ قرآن کی آفاقی تعلیمات کو اپنے عمل اور زبان سے معاشرے میں عام کرنا ہے۔ اگر ہم خاموش بیٹھ گئے تو کل روزِ قیامت ہم سے سوال ہوگا کہ تم نے اللّٰہ کے بندوں کو اللّٰہ کے پیغام سے کیوں بے خبر رکھا؟ یہ پیغام صرف لفظوں سے نہیں، ہمارے کردار سے پھیلنا چاہیے۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے برسوں پہلے ہماری اسی حالتِ زار کا نقشہ کھینچا تھا:
    ؎ وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

    یہ رمضان ہمارے پاس ایک موقع ہے کہ ہم قرآن کے ان پانچوں حقوق کو کماحقہ ادا کرنے کی کوشش کریں۔ آئیے عزم کریں کہ اس بار قرآن صرف طاقوں کی زینت نہیں بنے گا، بلکہ ہمارے سینوں میں اترے گا اور ہمارے عمل سے جھلکے۔ خدارا! اس کتابِ ہدایت کو محض ثواب کا ذریعہ نہ سمجھیں، اسے جینے کا ڈھنگ سمجھ کر تھام لیں۔ اللّٰہ پاک ہمیں قرآن مجید کا صحیح فہم اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

  • فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ،تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ،تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ وہ نام ہے جو تاریخ کے صفحات پر نور کی مانند چمکتا ہے اور جس کی عظمت کا اعتراف وہی دل کرتا ہے جوایمان کی مٹھاس وحلاوت سے لبریز ، انصاف شناس اور علم دوست ہو۔ ان کے ذکر کے بغیر تاریخِ اسلام مکمل نہیں ہوتی اور ان کے بغیر صحابہ کا قافلہ ادھورا ہے۔ یہ وہ ہیں جن کے بارے میرے رب نے فرمایا کہ اللہ ان سے اور و ہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ صرف ایک صحابی نہ تھے، وہ ایک کاتبِ وحی، ایک مدبر حکمران، ایک بے مثال مفاہمت کرنے والے، ایک بے نظیر مصلح اور امت محمدیہ علی صاحبھاالصلاۃ والسلام کو اتحاد کی لڑی میں پرو دینے والے ایک باوقار قائد اور خلفاء اربعہ کے جانشین تھے۔

    جب مکہ فتح ہوا اور کفارِ قریش کے سرداروں کے دل جھکنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دل بھی نورِ ایمان سے روشن ہوا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بیعت کی اور دینِ حق میں داخل ہو کر اپنی زندگی کو اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ رسول مقبول ﷺ نے ان پر اعتماد کیا،اتنا اعتماد کیا کہ انہیں مقربین میں شامل کرلیا ، یہاں تک کہ انہیں کاتبِ وحی مقرر کردیا۔ یہ کوئی عام منصب نہ تھا، یہ وہ ذمہ داری تھی جو اللہ کے کلام کو زمین پر محفوظ کرنے کے لیے سونپی جاتی تھی۔ سوچنے کی بات ہے کہ وہ شخص جس کے ہاتھ سے وحیِ الٰہی لکھی جائے،سبحان اللہ اس کے دل کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کا ایمان کس اعلیٰ درجے کا ہوگا ،اس کی امانت، دیانت اور پاکیزگی کیسی ہوگی؟اور ان کے دل میں رسول اللہ اور اہل بیت اطہار کی کیا عظمت ومقام ہوگا۔؟

    رسول مقبول ﷺ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نہ صرف کاتب وحی مقرر فرمایا بلکہ انھیں اپنے مقرب ترین صحابہ میں شامل کیا اور ان کے لیے دعا بھی فرمائی۔ دعا کیا تھی؟ کوئی دعا نہ تھی بلکہ ایک عطا۔۔۔ ایک سند۔۔۔اورایک گواہی تھی : "اللھم الجعلہ ھادیا مھدیا واھد ب یعنی اے اللہ! اسے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ۔۔۔اللہ تعالیٰ اور پیغمبر آخر الزمان جناب محمد رسول ﷺ کے محبوب تھے اور امت کے لیے ذریعہ ہدایت تھے۔

    جب امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو آپ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا۔ وہ دن اور پھر ان کا 20 سالہ گورنری کا دور — سب تاریخ کا روشن باب بن گئے۔ جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو آپ نے بھی کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اسی منصب پر برقرار رکھا جس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فائز کیا تھا ۔جب انہیں خلافت کی خلعت پہنائی گئی اورامیر المومنین کے منصب پر فائز ہوئے تو امت میں مثالی امن، سکون اور ترقی لائے۔ شام، جو کبھی رومیوں کی سرزمین تھی، اسلامی تمدن، علم، طاقت، اور عدل کا مرکز بن گیا۔ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں صرف زمین ہی نہیں سنواری بلکہ امت کے دل بھی جوڑے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی امت کے لیے خدمات تاریخ کا ایک شاندار ، ایمان افروز اور سنہرا باب ہے۔یہ باب اپنے اندر فتوحات اور جرأت وبہادری کے اسباق لیے ہوئے ہے۔ ان کی عظیم ترین خدمات میں سے ایک عظیم خدمت یہ تھی کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کی پہلی بحری فوج بنائی۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان سمندروں میں جانے سے گھبراتے تھے، لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے دلوں سے یہ خوف نکالا اور انہیں یہ بتایا کہ اسلام نہ صرف خشکی پر بلکہ سمندر پر بھی غالب آ سکتا ہے۔ انہوں نے قبرص فتح کیا، بحری بیڑے کو مضبوط کیا اور دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلام ایک عالمی طاقت بن چکا ہے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی دانائی ، صلح جوئی اور فہم وفراست کا سب سے اہم باب اس وقت کھلا جب داماد رسول امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بحران پیدا ہوا۔ امت دو حصوں میں بٹنے کو تھی خونریزی جاری تھی ۔ ایسے نازک وقت میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی یوں امت ایک بار پھر متحد ہو گئی۔ یہ واقعہ ’’ عام الجماعۃ ‘‘ کہلاتا ہے۔۔۔۔یعنی وہ وقت جب امت میں ایک بار پھر اتحاد قائم ہوا۔ نواسہ رسول جگر گوشہ بتول سیدنا حسن رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے "سید” کہا ا ور فرمایا کہ اللہ ان کے ذریعے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔ یہ صلح۔۔۔۔۔۔سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ رعنہ کی عظمت، حلم اور حکمت کی علامت ہے۔
    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی حلم و بردباری تھی۔ ان کے دشمن گالی دیتے، مگر وہ خاموش رہتے۔ ایک بار کسی نے ان سے بد زبانی کی تو آپ نے فرمایا : اگر میں بدلہ لوں تو تم خوش ہو جاو گے، اگر میں معاف کر دوں تو میرا رب راضی ہو جائے گا اور میں اپنے رب کی رضا کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ وہ جواب تھا جو صرف وہی دے سکتا ہے جس کا دل معرفت ومحبت الٰہی اور تقویٰ سے لبریز ہو اور جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر امت کے نفع کے بارے میں سوچتا ہو۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کادور خلافت۔۔۔۔ تاریخ اسلام کا مستحکم، طاقتور اور پرامن دور مانا جاتا ہے۔ آپ کے دور خلافت میں اسلامی ریاست کی حدود مشرق و مغرب تک پھیل گئیں۔ رعایا مطمئن، عدالتیں فعال اور دشمن خاموش تھے۔ آپ نے شریعت کی روشنی میں نظام حکومت چلایا اور اہل علم کو عزت دی۔ ان کا طرزِ حکمرانی آج بھی حکمرانوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔

    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات 60 ہجری میں دمشق میں ہوئی۔ ان کی وفات صرف ایک فرد کی وفات نہ تھی بلکہ ایک دور کا اختتام تھا۔۔۔۔ایک ایسا دور جو عدل، حکمت، حلم، اور فہم سے مزین تھا۔ علماء کرام و محدثین عظام نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی تعریف کی ہے۔ امام احمد بن حنبل، امام ذہبی، امام ابن کثیر، امام ابن تیمیہ، امام غزالی سب نے ان کی مدح کی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے امت کو علم کے نور سے روشن کیا اور ان کی گواہی آج بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایمان پر ایمان رکھنا، ان سے محبت کرنا، ان کے مناقب بیان کرنا صرف محبت نہیں ایک مسلمان کے عقیدہ کا جزو لازم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے ا صحاب کو گالی نہ دو، کیونکہ اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرو، ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر نہیں ہو سکتا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اتحاد امت کے داعی ، کاتب وحی ، رسول اللہ کے مقرب ، اہل ایمان کے خال ( ماموں ) فتنوں کو دبانے والے ،آپ کی زندگی قرآن و سنت کی روشنی سے منور اور آپ کی حکمرانی امت کے لیے باعثِ رحمت تھی۔ آپ پر اعتراض تبصرے یا تجزیے کرنے والا عالم نہیں، جاہل اور متعصب ہے, اس کا ایمان مشکوک ہے۔ اور آپ سے محبت کرنے والا صاحب ایمان ہے،

    اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیت اطہار، تمام صحابہ کرام ، بالخصوص سیدنا علی ابی طالب ، سیدنا امیر معاویہ، سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنھم کی محبت عطا فرمائے اور ہمیں ان فتنہ انگیز زبانوں سے محفوظ رکھے جو صحابہ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ یہی عقیدہِ اہل سنت ہے، یہی راہِ اعتدال ہے، اور یہی راستہ ایمان کی خوشبو سے لبریز ہے۔

  • ہر عبادت میں سکون ہے، مگر کیسے؟تحریر: واجد علی تونسوی

    ہر عبادت میں سکون ہے، مگر کیسے؟تحریر: واجد علی تونسوی

    میں نے بہت سارے لوگوں کو دیکھا ہے اور یقیناً آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہوگا کہ ہر شخص سکون کو اپنی اپنی مختلف عبادت سے جوڑ کر بیان کرتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ نماز میں دل کو عجیب سا سکون ملتا ہے، کوئی روزے کو روح کی تازگی اور سکون کا ذریعہ قرار دیتا ہے، کوئی قرآن کی تلاوت میں دل کی روشنی اور اطمینان محسوس کرتا ہے اور کئی لوگ صدقہ و خیرات کے بعد دل کے اندر خوشی اور ہلکا پن پاتے ہیں۔ ان تمام تجربات میں فرق ہونے کے باوجود حقیقت ایک ہی ہے کہ سکون عبادت میں ہے، مگر یہ سکون ہر عبادت میں اسی وقت حاصل ہوتا ہے، جب عبادت سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہو اور دل کی پوری توجہ کے ساتھ کی جائے، ورنہ عبادت صرف ظاہری عمل بن کر رہ جاتی ہے اور دل سکون کی کیفیت محسوس نہیں کرتا۔

    نماز کے بارے میں یہ بات واضح ہے کہ بہت سے لوگ روزانہ نماز پڑھتے ہیں، مگر دل کہیں اور ہوتا ہے؛ کاروبار، مسائل یا ذہنی الجھنوں میں۔ ایسی نماز سکون نہیں دے سکتی، لیکن جو لوگ نماز سنت کے مطابق پڑھتے ہیں؛ وضو کی سنجیدگی، قیام کی ادب، رکوع اور سجدے میں عاجزی اور دل کی مکمل حاضری کے ساتھ، تو ان کے دل میں واقعی سکون اترتا ہے۔ ہر سجدہ روح کو تازگی دیتا ہے، ہر رکوع عاجزی سکھاتا ہے اور دعا دل میں امید پیدا کرتی ہے۔

    اسی طرح روزہ بھی تب روحانی سکون بن سکتا ہے جب صرف جسمانی بھوک اور پیاس نہیں، بلکہ زبان، نظریں، اخلاق اور دل کی نیت بھی اللہ کی رضا کے لیے صاف ہو۔ سنت کے مطابق روزہ رکھنے والا انسان دنیاوی مصیبتوں کے باوجود اندر سے مطمئن اور ہلکا محسوس کرتا ہے۔

    قرآن کی تلاوت بھی اسی اصول کی پیروی مانگتی ہے۔ صرف الفاظ کا بلند آواز سے پڑھنا ایک عام سا عمل ہے، لیکن اگر سنت کے مطابق دل کی توجہ اور سمجھ کے ساتھ تلاوت کی جائے تو ہر آیت دل کی گہرائیوں میں روشنی ڈالتی ہے، فکر کو سکون دیتی ہے اور دل کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔

    صدقہ و خیرات میں بھی سکون اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ عمل اخلاص اور دل کی حاضری کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ دکھاوے، شہرت یا نام کمانے کے لیے دی گئی رقم دل کو سکون نہیں دے سکتی، لیکن جب کوئی غریب یا محتاج اللہ کے لیے مدد پاتا ہے، تو دینے والے کے دل پر بوجھ ہلکا ہوتا ہے، دل مطمئن اور خوشی سے بھر جاتا ہے۔ یہی وہ راز ہے کہ عبادت میں سکون ہے، مگر دل، نیت اور سنت کے ساتھ۔

    آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم واقعی سکون چاہتے ہیں تو عبادت کو صرف رسم یا معمول نہ بنائیں، بلکہ دل سے، سنت کے مطابق اور مکمل توجہ کے ساتھ ادا کریں۔ نماز ہو، روزہ، قرآن کی تلاوت ہو یا صدقہ، ہر عبادت سکون کا ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ دل، نیت اور سنت کو ساتھ رکھا جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھ کر انسان اپنی زندگی میں حقیقی سکون حاصل کر سکتا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جو آج کے تیز رفتار اور پریشان حال معاشرے میں ہر مسلمان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔

  • "کیا آج بریرہ آزاد ہے؟”تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "کیا آج بریرہ آزاد ہے؟”تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "آج کے دن میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔”(سورہ المائدہ:3)
    دین مکمل، شریعت کا ہر حکم مکمل، قانونِ الٰہی مکمل، بنوت مکمل، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر آ کر ختم الانبیاء کی مہر لگ گئی تو نبوت بھی مکمل ہو گئی۔ اب جو دین اسلام میں نئی بات گھڑے گا نیا قانون لائے گا وہ جھنمی ہو گا۔
    سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ: رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:” سب سے بہترین بات اللّٰہ کی کتاب ہے، سب سے بہترین ہدایت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور سب سے بد ترین کام دین میں نئے امور (بدعت) ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے "(صحیح مسلم:867)
    اللّٰہ رب العزت نے ہم سب کو آزاد پیدا کیا ہے خواہ وہ مرد ہے یا عورت، ہم سب اللّٰہ کے غلام ہیں اس کے بندے ہیں۔ مرد عورت کا قوام ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے قوام ہوتا کیا ہے؟ قوام کا مطلب حاکم ہرگز نہیں ہے بلکہ قوام وہ ہوتا ہے جو خاندان کی ذمہ داریاں اٹھاتا ہے۔ جو معاشی طور پر گھر اور گھر والوں کا خیال رکھتا ہے۔ یہ ذمہ داری اللّٰہ نے مرد پر ڈالی ہے۔ وہ جذباتی طور پر مضبوط ہوتا ہے اس لیے عورت کا خیال رکھنے والا ہوتا ہے۔ اللہ نے اس کو ایک درجہ بلند رکھا اس لیے کہ وہ ہر اچھے برے حالات میں اپنے خاندان کا محافظ ہوتا ہے لیکن ہوا کیا؟ آج کے مرد نے قوام کا مطلب خود کو عورت کا مالک سمجھ لیا ہے جب کہ مالک تو اللّٰہ سبحان و تعالیٰ ہے کیونکہ جو خالق ہوتا ہے ملکیت بھی اسی کی ہوتی ہے۔ کوئی انسان کسی انسان کے اوپر اپنی ملکیت نہیں رکھتا۔ ہر انسان کی پیدائش اس دنیا میں انفرادی طور پر ہوئی اس کی خوبیاں اس کی خامیاں اسی انسان کی ذاتی ہوتی ہیں۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی پھر ہم ہر کسی کے اعمال کے ٹھیکدار کیوں بن جاتے ہیں؟ سوشل میڈیا کے دور میں کتنا آسان ہو گیا ہے نا کسی کو بھی جنتی یا جھنمی قرار دینا۔ ایسا لگتا ہے ہر شخص دوسرے کے اعمال کا ذمہ دار بن گیا ہے۔ شریعت کے قانون کے مطابق انسان کا اختیار نہیں کہ وہ کسی کو جنتی یا جھنمی کہے لیکن ہم سب تو اتنے دیندار بن گئے ہیں کہ باقی سب کو بے دین تصور کرنے لگے ہیں۔ کئی جگہوں پر دیکھا جا سکتا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں عورت اپنے گھر کے مردوں سے بھی محفوظ نہیں، اسے آزادی رائے نہیں وہ اپنا موقف کسی کے سامنے رکھنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ آئیے لمحے بھر کو اس ماضی میں چلتے ہیں۔

    جہاں درحقیقت عورت کو کوئی مقام حاصل نہ تھا۔
    جہاں اسے رائے کی آزادی نہ تھی۔
    جہاں شوہر اپنی بیوی کو نہ بساتے تھے نہ آزاد کرتے تھے۔
    جہاں بیٹی کی پیدائش پر والد منہ چھپاتا پھرتا تھا۔
    جہاں عورت کو صرف تفریح کا سامان سمجھا جاتا تھا۔
    جہاں عورت کے بیوہ ہونے پر اس کے لیے زندگی کے دروازے بند کر دیئے جاتے تھے۔
    جہاں بغیر نکاح کے ایک مرد کئی عورتوں کو اپنے ساتھ رکھنے کا اختیار رکھتا تھا۔
    جہاں عورت کی کوئی مرضی نہ تھی۔
    جہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ناجانے کیا کیا ظلم ہوتے تھے عورت پر۔۔

    پھر حرا سے ایک روشنی پھوٹتی ہے ایک پاکیزہ فرشتہ دنیا کے سب سے پاکیزہ انسان کے پاس آتا ہے اور اس کا سینہ بھینچتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ رب نے اسے اپنا رسول چن لیا ہے۔ اب دین اسلام کی برکات سے سب انسانوں کو ان کا حق ملے گا۔ اب کوئی کسی کا غلام نہ رہے گا سب انسان آزاد ہیں وہ صرف خالق و مالک کے غلام ہوں گے۔ آج کی ماڈرن عورت کیا جانے آزادی کیا ہوتی ہے؟ آزادی تو وہ تھی جو بریرہ کو ملی تھی۔ یہ اس دور کی بات ہے۔
    جہاں عورت کو تعلیم دینے کا حق نہیں تھا۔
    جہاں بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا۔
    جہاں اسے وراثت سے دستبردار کر دیا جاتا تھا۔
    جہاں اپنی پسند اور مرضی سے نکاح کرنے کا کوئی تصور نہ تھا۔
    لیکن دین اسلام نے آتے ہی عورت کو وہ سب حقوق دیے جس نے اسے معاشرے میں ایک الگ حیثیت سے روشناس کروایا۔

    صفحہ زیست میں ماضی کے دریچوں سے گزریں تو یہ کہانی یوں تو بہت پرانی لگتی ہے لیکن اپنے آپ میں ایک جدت لیے ہوئے ہے۔ یہ کہانی ہے ایک محبت کرنے والی خوشحال شادی شدہ جوڑے کی۔ یہ کہانی ہے ایک غلام اور ایک لونڈی کی۔ پتہ ہے غلام اور لونڈی کا کیا تصور ہے اسلام میں؟ جی ہاں! جن کی نہ کوئی مرضی ہوتی تھی نہ رائے نہ پسند یہاں تک کہ وہ سانس لینے میں بھی مالک کی اجازت کے مختاج ہوتے تھے۔ یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو ایک دن غلامی کی زندگی سے آزاد ہو گئی اسے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھا نے آزاد کر دیا۔ آزادی کا حمار کیا ہوتا ہے کوئی اس وقت بریرہ سے پوچھتا۔ آج کی ماڈرن عورت کیا جانے آزادی کیا ہوتی ہے؟

    آج کی ماڈرن عورت دوپٹے سے آزادی کو آزادی تصور کرتی ہے۔ کھلے بالوں کو آزادی تصور کرتی ہے۔ گھر کے باہر در در بھٹکنے کو آزادی تصور کرتی ہے لیکن حقیقی آزادی تو وہ تھی جو بریرہ کے پاس تھی۔اسلام کے مطابق ایک غلام اور ایک آزاد اگر چاہیں تو نکاح قائم رکھ سکتے ہیں ورنہ جو آزاد فریق کی مرضی ہو وہی ہو گا۔ بریرہ کو آزادی اتنی پسند آئی کہ وہ دل و جان سے محبت کرنے والے شوہر کی محبت کو فراموش کر گئی۔ وہ اپنی رائے میں، اپنے فیصلوں میں آزاد ہو گئی۔ محبت کرنے والا مغیث گلیوں، بازاروں میں روتا پھرتا تھا۔ وہ ہر ایک سے کہتا پھرتا تھا ایک بار بریرہ کو منا دو، وہ روتا تھا بریرہ ایک بار تو مجھ سے بات کر لے۔ سب سے سفارش کرتے کرتے وہ اپنی سفارش لے کر رحمت العالمین کے دربار میں پہنچ گیا وہ رسول جو دو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے مغیث کو یقین تھا وہ میرے لیے بھی رحمت والا فیصلہ کریں گے۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مغیث کی بات سنی اس کی تکلیف اور دکھ کو محسوس کرتے ہوئے بریرہ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ بریرہ دربار رسالت میں پیش ہوتی ہے۔ وہ اب ایک آزاد عورت تھی وہ جانتی تھی۔
    وہ صرف رب کی غلام ہے۔ رب کے احکامات کی غلام ہے۔
    وہ صرف خود آزاد نہیں تھی بلکہ اس کی سوچ بھی آزاد تھی۔
    وہ اپنے حقوق و فرائض کے بارے میں آگاہ تھی جو دین اسلام نے ایک آزاد عورت کو عطا کیے تھے۔
    وہ پہلے غلام تھی مگر اب نہیں تھی۔
    وہ اپنی رائے اپنے فیصلوں میں آزاد تھی۔
    وہ جانتی تھی اب وہ کسی انسان کی غلام نہیں صرف رب کی غلام تھی۔
    دربار رسالت لگا ہوا تھا۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بریرہ کاش تم مغیث کے پاس لوٹ جاتیں۔” مغیث اپنی محبت بھری خوبصورت زندگی کے بارے میں سوچتے ہوئے بریرہ کے جواب کا منتظر تھا۔ شاید اس وقت مغیث کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی ہو گی ضرور اس نے رب کی بارگاہ میں دعا کی ہو گی مگر بریرہ جو آزادی کا مزہ چکھ چکی تھی وہ ایک غلام شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ وہ دنیا جیت لینا چاہتی تھی وہ اپنے خوابوں کو پورا کرنا چاہتی تھی وہ جانتی تھی زندگی ایک بار ملی ہے اسے غلامی کی نظر نہیں کرنا۔ وہ آزادی کی نعمت کو سمجھ چکی تھی۔ روشن خیال اپنے حقوق کو پہچاننے والی بریرہ نے رسول اللّٰہ کی مجلس میں ان کی بات قبول نہیں کی بلکہ الٹا اپنا موقف رکھ ڈالا۔

    "اے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ آپ کا حکم ہے یا سفارش؟ اگر حکم ہے تو مان لوں گی کیونکہ بخثیت مسلمان مجھ پر آپ کی اطاعت فرض ہے لیکن اگر سفارش ہے تو نہیں مانوں گی کیونکہ میری زندگی کے بارے میں مجھے رب نے اختیار دیا ہے۔” کیسا مکالمہ چل رہا تھا سرور دو عالم اور ایک عام مسلمان خاتون کے درمیان۔ کیا آج کوئی بیٹی اپنے والد کے سامنے اپنی رائے دے سکتی ہے؟ جی ہاں! دے تو سکتی ہے مگر ایسی آزادی بہت کم بیٹیوں کو میسر ہے۔

    "رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:” میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔” بریرہ کا جواب آتا ہے۔ "پھر مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔”(صحیح بخارہ:5283)
    میں آزاد فضاؤں میں اڑنا چاہتی ہوں، اپنی مرضی سے سانس لینا چاہتی ہوں، اپنی اڑان بھرنا چاہتی ہوں۔ اللہ کی دی ہوئی آزاد زندگی کو صرف اللہ کی غلامی میں گزارنا چاہتی ہوں مجھے کسی انسان کی غلامی قبول نہیں اور مغیث غلام ہے میں اب اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔

    کیا آج کی لبرل عورت کبھی ایسا سوچ سکتی ہے؟ یہ وہی عورت سوچ سکتی ہے جس نے اپنی زندگی کو دین اسلام کے سانچے میں ڈھال لیا ہو۔ بریرہ کی اس بات نے کتنی خواتین کے لیے نئی سوچ کے در کھولے ہیں۔ عورت تب آزاد ہو گی جب وہ خود کو رب کے احکامات کی قید میں رکھے گی۔ بریرہ تو غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہو گئی۔ آج اس کہانی کو گزرے صدیاں بیت گئیں سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا آج کی عورت آزاد ہے؟ اپنی گفتار میں، اپنے فیصلوں میں، اپنی سوچ میں، اپنی رائے دینے میں، اپنی پسند سے نکاح کرنے میں؟؟؟ سوچتے رہیے۔۔۔۔۔۔۔مثبت رہیے دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹتے رہیے۔ اللہ پاک آپ کی زندگی کو آسانیوں سے بھر دے۔ آمین!

  • فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ .تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ .تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    جب مکہ فتح ہوا اور کفارِ قریش کے سرداروں کے دل جھکنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دل بھی نورِ ایمان سے روشن ہوا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بیعت کی اور دینِ حق میں داخل ہو کر اپنی زندگی کو اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ رسول مقبول ﷺ نے ان پر اعتماد کیا،اتنا اعتماد کیا کہ انہیں مقربین میں شامل کرلیا ، یہاں تک کہ انہیں کاتبِ وحی مقرر کردیا۔ یہ کوئی عام منصب نہ تھا، یہ وہ ذمہ داری تھی جو اللہ کے کلام کو زمین پر محفوظ کرنے کے لیے سونپی جاتی تھی۔ سوچنے کی بات ہے کہ وہ شخص جس کے ہاتھ سے وحیِ الٰہی لکھی جائے،سبحان اللہ اس کے دل کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کا ایمان کس اعلیٰ درجے کا ہوگا ،اس کی امانت، دیانت اور پاکیزگی کیسی ہوگی؟اور ان کے دل میں رسول اللہ اور اہل بیت اطہار کی کیا عظمت ومقام ہوگا۔؟
    رسول مقبول ﷺ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نہ صرف کاتب وحی مقرر فرمایا بلکہ انھیں اپنے مقرب ترین صحابہ میں شامل کیا اور ان کے لیے دعا بھی فرمائی۔ دعا کیا تھی؟ کوئی دعا نہ تھی بلکہ ایک عطا۔۔۔ ایک سند۔۔۔اورایک گواہی تھی : "اللھم الجعلہ ھادیا مھدیا واھد بہ یعنی اے اللہ! اسے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ۔۔۔اللہ تعالیٰ اور پیغمبر آخر الزمان جناب محمد رسول ﷺ کے محبوب تھے، اور امت کے لیے ذریعہ ہدایت تھے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی امت کے لیے خدمات تاریخ کا ایک شاندار ، ایمان افروز اور سنہرا باب ہے۔یہ باب اپنے اندر فتوحات اور جرات وبہادری کے اسباق لیے ہوئے ہے۔ ان کی عظیم ترین خدمات میں سے ایک عظیم خدمت یہ تھی کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کی پہلی بحری فوج بنائی۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان سمندروں میں جانے سے گھبراتے تھے، لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے دلوں سے یہ خوف نکالا اور انہیں یہ بتایا کہ اسلام نہ صرف خشکی پر بلکہ سمندر پر بھی غالب آ سکتا ہے۔ انہوں نے قبرص فتح کیا، بحری بیڑے کو مضبوط کیا، اور دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلام ایک عالمی طاقت بن چکا ہے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی حلم و بردباری تھی۔ ان کے دشمن گالی دیتے، مگر وہ خاموش رہتے۔ ایک بار کسی نے ان سے بد زبانی کی، تو آپ نے فرمایا : اگر میں بدلہ لوں تو تم خوش ہو جاو گے، اگر میں معاف کر دوں تو میرا رب راضی ہو جائے گا، اور میں اپنے رب کی رضا کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ وہ جواب تھا جو صرف وہی دے سکتا ہے جس کا دل معرفت ومحبت الٰہی اور تقویٰ سے لبریز ہو، اور جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر امت کے نفع کے بارے میں سوچتا ہو۔
    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کادور خلافت۔۔۔۔ تاریخ اسلام کا مستحکم، طاقتور اور پرامن دور مانا جاتا ہے۔ آپ کے دور خلافت میں اسلامی ریاست کی حدود مشرق و مغرب تک پھیل گئیں۔ رعایا مطمئن، عدالتیں فعال اور دشمن خاموش تھے۔ آپ نے شریعت کی روشنی میں نظام حکومت چلایا اور اہل علم کو عزت دی۔ ان کا طرزِ حکمرانی آج بھی حکمرانوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔

    دور حاضر میں کچھ ناعاقبت اندیش جن کے دل در حقیقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے بغض سے بھرے ہوئے ہیں وہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے یزید کو ولی عہد بنانے یا امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اختلاف و غیرہ کی آڑ میں سیدنا امیر معاویہ پر تبصرے اور تجزیہ کے نام پر زبان طعن دراز کرتے ہیں،کیا وہ اہل سنت والجماعہ کا موقف نہیں جانتے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم امجعین کے درمیان جو اختلافات ہوئے، وہ اجتہادی تھے، ذاتی مفاد پر مبنی نہ تھے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو بھی کیا وہ امت کے اتحاد، عدل اور فتنہ سے بچاو کی نیت سے کیا اور نیت پر اللہ گرفت نہیں کرتا، بلکہ عمل اور نتیجہ بھی نیت سے پرکھا جاتا ہے۔اور سب سے بڑھکر جب اللہ رب العزت والجلال نے انہیں قرآن کریم میں اپنی رضامندی کی سندیں عطا کردیں انہیں فائزون قرار دے دیا ، انہیں مفلحون کے لقب سے نواز دیا انہیں راشدون کا سرٹیفکیٹ عطا کردیا انہیں السابقون الاولون کے مقام پر فائز کردیا۔ ان کے دلوں کو کائنات کے بہترین دل قرار دے دیا۔پھر دور حاضر کے خود ساختہ تجزیہ نگاروں ، کی تبصروں اور تجزیہ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے وہ دراصل بغض صحابہ کی بدترین بیماری میں مبتلا ہیں ، اور اپنا خبث باطن چھپا نہیں پارہے اس لیے سیدنا امیر معاویہ کو نشانہ بنا کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر طعن و تشنیع کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں ، جس میں نہ آج تک کامیاب ہوئے ہیں کہ کبھی کامیاب ہونگے کیونکہ امام الانبیاءنے انکو خیر القرون کی سند جاری کردی ہے۔

    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات 60 ہجری میں دمشق میں ہوئی۔ ان کی وفات صرف ایک فرد کی وفات نہ تھی بلکہ ایک دور کا اختتام تھا۔۔۔۔ایک ایسا دور جو عدل، حکمت، حلم، اور فہم سے مزین تھا۔ علماءکرام و محدثین عظام نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی تعریف کی ہے۔ امام احمد بن حنبل، امام ذہبی، امام ابن کثیر، امام ابن تیمیہ، امام غزالی سب نے ان کی مدح کی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے امت کو علم کے نور سے روشن کیا اور ان کی گواہی آج بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایمان پر ایمان رکھنا، ان سے محبت کرنا، ان کے مناقب بیان کرنا صرف محبت نہیں ایک مسلمان کے عقیدہ کا جزو لازم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے ا صحاب کو گالی نہ دو، کیونکہ اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرو، ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر نہیں ہو سکتا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اتحاد امت کے داعی ، کاتب وحی ، رسول اللہ کے مقرب ، اہل ایمان کے خال ( ماموں ) فتنوں کو دبانے والے ،آپ کی زندگی قرآن و سنت کی روشنی سے منور اور آپ کی حکمرانی امت کے لیے باعثِ رحمت تھی۔ آپ پر اعتراض تبصرے یا تجزیے کرنے والا عالم نہیں، جاہل اور متعصب ہے, اس کا ایمان مشکوک ہے۔ اور آپ سے محبت کرنے والا صاحب ایمان ہے،
    اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیت اطہار، تمام صحابہ کرام ، بالخصوص سیدنا علی ابی طالب ، سیدنا امیر معاویہ، سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنھم کی محبت عطا فرمائے اور ہمیں ان فتنہ انگیز زبانوں سے محفوظ رکھے جو صحابہ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ یہی عقیدہِ اہل سنت ہے، یہی راہِ اعتدال ہے، اور یہی راستہ ایمان کی خوشبو سے لبریز ہے۔

  • قرآن سے دوری، امت مسلمہ کا زوال،تحریر: اقصیٰ جبار

    قرآن سے دوری، امت مسلمہ کا زوال،تحریر: اقصیٰ جبار

    اسلامی معاشرے کی بنیاد قرآن کریم پر رکھی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہے جس نے انسانیت کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف گامزن کیا۔ یہ کتاب صرف عبادات کا ضابطہ نہیں، بلکہ سیاسی، سماجی، اخلاقی، معاشی اور فکری زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کی امت مسلمہ اپنے ہی ضابطۂ حیات سے بے خبر ہو چکی ہے۔ ہم نے قرآن کو صرف ثواب، تعویذ، رسمِ قل، اور رمضان کی رسمی تلاوت تک محدود کر دیا ہے۔ جس کتاب نے غلاموں کو حکمران، جاہلوں کو معلم، اور بکھری قوم کو ایک قیادت عطا کی، آج ہم نے اُسی کتاب کو طاقچوں کی زینت اور دفتری فائلوں کا عنوان بنا کر رکھ دیا ہے۔ قرآن جسے اللہ نے "ھدیً للناس” قرار دیا، آج ہم نے اسے صرف "مردوں کی بخشش” کا ذریعہ بنا دیا۔

    اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "وقال الرسول يا رب إن قومي اتخذوا هذا القرآن مهجوراً” (اور رسول نے کہا: اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا — الفرقان: 30)۔ یہ شکایت آج کی امت مسلمہ پر پوری اترتی ہے۔ ہم نے قرآن کو صرف الفاظ کی سطح پر اپنایا، معنیٰ اور مقصد سے غفلت برتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج امت مسلمہ کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے۔ مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں، نوجوان نسل مغربی تہذیب کے فریب میں گم ہے، اسلامی تہذیب صرف ماضی کے صفحات تک محدود ہو گئی ہے، حلال و حرام کا شعور مدھم پڑ چکا ہے، قرآن کی زبان سے ناواقفیت عام ہو چکی ہے، اور فرقہ واریت نے ہمیں ایک جسم کے بجائے متصادم گروہوں میں بانٹ دیا ہے۔ سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ قیادت کے میدان میں ہم محروم ہو گئے ہیں، کیونکہ قیادت قرآن کے عدل، امانت، اور شوریٰ جیسے اصولوں پر استوار ہوتی ہے — جنہیں ہم نے فراموش کر دیا۔

    اس زوال سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے: قرآن کی طرف واپسی۔ لیکن یہ واپسی صرف زبانی یا رسم و رواج کی نہیں، بلکہ شعوری، فکری، عملی اور اجتماعی سطح پر ہونی چاہیے۔ ہمیں قرآن کو صرف تلاوت کی نہیں بلکہ فہم اور تدبر کی کتاب بنانا ہوگا۔ ہر فرد روزانہ ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھنے کی عادت اپنائے، اسے زندگی کے فیصلوں میں رہنمائی کا ذریعہ سمجھے۔ گھروں میں والدین قرآن فہمی کی مجلسیں منعقد کریں، بچوں کو محض قرأت نہیں، قرآن کی اخلاقیات بھی سکھائی جائیں۔ تعلیمی اداروں میں قرآن کا نصاب صرف ناظرہ کی حد تک نہ رہے، بلکہ تدبر، سیاق و سباق، اور عملی استنباط کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ ریاستی سطح پر عدل و انصاف کے وہی اصول لاگو کیے جائیں جو قرآن نے بیان کیے ہیں۔ قیادت، سیاست، معیشت، اور عدالتی نظام میں قرآن کی تعلیمات کو بنیاد بنایا جائے۔ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر قرآن سے ربط کو فروغ دینے والی مہمات چلائی جائیں تاکہ نوجوان نسل دوبارہ قرآن سے جڑ سکے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ خلافت راشدہ کا عدل، اندلس کا علم و حکمت کا دور، اور صلاح الدین ایوبی کی قیادت ایسے ادوار تھے جن کی بنیاد قرآن سے جڑے رہنے پر تھی۔ جن قوموں نے قرآن کو تھاما، وہ دنیا کی قیادت پر فائز ہوئیں، اور جنہوں نے اسے چھوڑا، وہ غلام بن کر رہ گئیں۔ آج کا اسلامی سال کا آغاز ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم رک کر سوچیں، اپنا جائزہ لیں، اپنی کوتاہیوں پر نادم ہوں، اور قرآن سے اپنا رشتہ پھر سے جوڑیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں "اقْرَأْ” — یعنی "پڑھ!” — کی صدا دوبارہ سننی چاہیے، کیونکہ یہی صدا انسانیت کے لیے بیداری کا پہلا اعلان تھی۔

    آج امت مسلمہ کو صرف جلسوں، جلوسوں، اور نعروں کی نہیں بلکہ عملی رجوع کی ضرورت ہے۔ ہمیں قرآن کو اپنے انفرادی اور اجتماعی فیصلوں میں شامل کرنا ہوگا، اسے صرف مدرسے اور مسجد کی دیواروں تک محدود نہیں رکھنا، بلکہ بازار، عدالت، میڈیا، اور سیاست تک پھیلانا ہوگا۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہم ایک ایسی منتشر قوم بنے رہیں گے جو ماضی پر فخر تو کرے گی، لیکن حال میں خوابِ غفلت میں مبتلا رہے گی۔ لیکن اگر ہم نے قرآن سے دوبارہ جڑنے کا عزم کر لیا، تو وہ رب جو رحمٰن اور رحیم ہے، ہمیں نہ صرف معاف کر دے گا، بلکہ دوبارہ عزت، قیادت، اور بیداری عطا فرما دے گا۔

  • میرا بادشاہ حسینؑ ہے.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی

    میرا بادشاہ حسینؑ ہے.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی

    گدائے درِ پنجتن پاک علیہم السلام
    sadiaambergilani@gmail.com

    غریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم
    نہایت اس کی حُسینؑ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑ

    روز ء اول سے حق کی سربلندی کے لئیے اللہ رب العزت کے فرمانبردار و برگزیدہ بندے اللہ رب العزت کے ہر حکم کی تعمیل کرتے رہے ہیں۔ ماہِ محرم الحرام نواسہِ رسول اللہﷺ، جگر گوشہ علیؑ و بتولؑ، برادرِحضرت حسن المجتبیؑ،رکنِ اصحابِ کساءؑ،سید الشہداءؑ، سردارؑ ِ جنت، ریحانۃ النّبیؐ، پیکر ِ صبر و رضا، مثلِ عشق و وفا، سفیر ِ حق، شہنشاہِؑ کربلا سیدنا حضرت حسین ابن علی ؑ سے منسوب ہے۔ اس ماہ کے اوائل ایام سے یومِ عاشور کی شام ڈھلنے تک نبیِ آخر الزمان رحمت اللعالمین ﷺ کے پیارے نواسے امام ء عالی مقام مولا حسین ابن علی علیہ السلام نے دین ء حق کی سر بلندی کے لئیے اپنے صبر و استقامت اور شجاعت سے وہ مثال قائم کی ۔ کہ جو تاقیامت انسانیت کے لئیے ایک مشعل ء راہ بن گئی۔

    امامِ عالی مقام حضرت حسینؑ ابن علیؑ کی ولادت باسعادت روایات کے مطابق 3 شعبان المعظم 4ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپؑ چمنِ زہراؑ و علیؑ کے دوسرے پھولؑ ہیں۔ آقا سرورِ کائنات ﷺ نے آپؑ کی ولادت باسعادت پہ تشریف لائے، خوشی کا اظہار فرمایا اور داھنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنیؐ زبان مبارک منہ میں دی۔اس طرح رسول اللہﷺ کا مقدس لعاب دھن حسین ؑ کی غذا بنا۔ رسول اللہﷺ بحکمِ ربی نام حسینؑ رکھا۔ اور ساتویں دن عقیقہ کیا گیا۔آپؑ کی کنیت ابا عبداللہ اور لقب سید الشہداءؑ ٹھہرا۔

    حضور سرور ء کائناتﷺ دونوں شہزادوں حسنین کریمیں علیھم السلام سے بے حد محبت فرماتے اور ان سے محبت رکھنے کا حکم رکھنے کا حکم بھی فرماتے۔
    رسول اللہﷺ نے فرمایا؛
    ’’جس نے حسنؑ اور حسینؑ سےمحبت کی ، اس نے مجھؐ سے محبت کی اور جس نے ان سے بعض رکھا اس نے مجھؐ سے بغض رکھا۔
    (سُنن ابن ماجہ :143)

    ترجمہ؛ ”حسنؑ اور حسینؑ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“۔( جامع الترمزی)

    حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حسنین کریمین ؑ کی طرف دیکھ کر فرمایا:”اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔“
    (ترمذی، الجامع الصحیح، 5: 661، ابواب المناقب، رقم: 3782)

    یہ حسنین کریمین علیھم السلام سے محبتِ آقاِ دو جہاں ﷺ ہے۔ کہ کہیں رسولِ خدا ﷺ سجدہ طویل فرماتے ہیں۔ کہیں اپنے کندھوں مبارک پہ سوار فرماتے ہیں۔ اور کہیں انؑ کے لیے خطبہ روک کے منبر سے تشریف لاتے ہیں۔اور آغوشِ نبوتﷺ میں لے لیتے ہیں۔
    سید الشہداء ؑمولا امام حسین علیہ السلام سے رسول اللہﷺ کی محبت اس فرمان ء عالیشان سے ظاہر ہے۔ فرمایا؛
    ترجمہ:”حسینؑ مجھؐ سے ہے اور میں ؐ حسینؑ سے ہوں، جو حسینؑ سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے، حسینؑ میری نسلوں میں سے ایک نسل ہے۔“(سنن الترمذی، ابواب المناقب، (5/ 658 و659) برقم (3775)، ط/ شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابی الحلبی مصر)

    روایات سے ثابت ہے کہ رسولِ خداﷺ نے سیدنا حضرت حسینؑ کی شہادت کی خبر آپؑ کے بچپن میں ہی سنا دی تھی۔ اور غم کا اظہار فرمایا۔ ایک روایت کے مطابق ہے ۔
    عبداللہ بن نجی کے والد ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے، ان کے ذمے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے وضو کی خدمت تھی، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی کے قریب پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ابوعبداللہ! فرات کے کنارے پر رک جاؤ، میں نے پوچھا کہ خیریت ہے؟ فرمایا: میں ایک دن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہو رہی تھی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیؐ! کیا کسی نے آپؐ کو غصہ دلایا، خیر تو ہے کہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں؟ فرمایا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے جبرئیلؑ اٹھ کر گئے ہیں، وہؑ کہہ رہے تھے کہ حسینؑ کو فرات کے کنارے شہید کر دیا جائے گا، پھر انہوںؑ نے مجھؐ سے کہا کہ اگر آپؐ چاہیں تو میں آپؐ کو اس مٹی کی خوشبو سونگھا سکتا ہوں؟ میںؐ نے انہیںؑ اثبات میں جواب دیا، تو انہوںؑ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور مجھؐے دے دی، بس اس وقت سے اپنے آنسؤوں پر مجھےؐ قابو نہیں ہے۔ 
    (مسند احمد: 648)

    امامِ عالی مقام حضرت حسینؑ ابن علی علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ پہ نظر ڈالیں۔تو آپؑ نے چھ سال چند ماہ کا عرصہ اپنے جد امجد رسول اللہﷺ کے زیر سایہ گزارا اور 29 سال و گیارہ ماہ اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین حضرت مولاعلیؑؑ اور دس سال کا عرصہ اپنے برادر بزرگوار حضرت امام حسن المجتبیؑ کے ساتھ گزارا۔ آپؑ اصحابِ کساء(ع) میں شامل ہیں۔ اور اپنے نانا جان رسول اللہﷺ کے ساتھ مباہلہ میں بھی حاضر تھے۔ جنگِ جمل، جنگِ صفین اور جنگِ نہروان میں شرکت فرمائی اور حق کا ساتھ دیا۔

    احادیث و روایات سے ثابت ہے ۔ کہ سید الشہداء سیدنا حسینؑ سیرت و صورت میں اپنے نانا جان سرور ء کائنات رسول خداﷺ سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔اور جو بھی آپؑ کو دیکھتا اسے رسول خداﷺ یاد آجاتے ۔
    امامِ عالی سیدنا حسینؑ حَلِیمُ الطَّبْع تھے۔ غلاموں سے درگز فرماتے۔ اور ان کو آزاد فرماتے۔ آپؑ ایک نہایت شجاع، عادل، بلند کردار اور پرہیزگار شخصیت کے مالک تھے۔
    سیدنا حضرت حسینؑ نے فرمایا؛
    "کوئی ایسی بات زبان پر مت لاؤ۔ جو تمہاری قدر و قیمت کو کم کر دے۔”
    (جلاء العیون جلد 2 صفحہ 205)

    امامِ شہداء سیدنا امام حسینؑ کی عظیم شخصیت کی مبارک خصوصیات میں سے ایک روشن خوبی ظلم کو قبول نہ کرنا تھی۔ اور یہی وجہ تھی کہ نواسہِ رسول اللہﷺ نے یزید(لعین) کے ظلم و ناانصافی کو تسلیم کرنے سے صاف انکار فرمایا اور علمِ حق بلند فرمایا۔ آپؑ نے راہِ خدا میں اپنی جان، اپنی اولاد اور اپنا گھر بار لٹا کے دین حق کی آبیاری فرمائی۔
    واقعہِ کربلا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا فلسفہ،ایک درس اور ایک عظیم مقصد کارفرما ہے۔ اور اس میں شخصیت و کردارِ سیدنا امام حسینؑ ایک مکمل درس گاہ نظر آتی ہے۔ واقعہِ کربلا کو سمجھنے کے لیے فلسفہِ حضرت حسینؑ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    مستند تاریخی روایات کے مطابق رجب 60ھ/ 680 ء میں یزید(لعین) نے اسلامی اقدار اور دین کے احکامات کے منافی ظلم، جبر و استبداد پر مبنی اپنی حکومت کا اعلان کیا اور بالجبر عام مسلمانوں کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کرنا شروع کر دیا۔ مدینہ میں بیعت کے لئے سیدنا حسینؑ ابن علی ؑ کو مجبور کیا۔ اور اس سلسلہ میں امامِ عالی مقامؑ پہ سختی کرنے کا حکم جاری کیا۔ سیدنا حسینؑ سے بیعت لینا یزید کی مجبوری تھی۔ کیونکہ امت کی نگاہوں کا مرکز نواسہِ رسول اللہﷺ تھے۔ ظلم و بربریت کے خوف سے اہلِ مدینہ تو خاموش ہو سکتے تھے۔ مگر نواسہ ِ رسول اللہﷺ، ابنِ فاتؑحِ خیبر، سیدنا حسینؑ ابنِ علیؑ کہ جو حق گوئی و حق پرستی کے سائے میں جوان ہوئے ہوں ، جنؑ کی پرورش ہی آغوشِ نبوتﷺ میں ہوئی ہو۔ جنؑ کے سامنے اپنے نانا جان ﷺ کا واضح حکم موجود ہو،
    ترجمہ:”سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہء حق کہنا ہے۔“ (ترمذی،أبو داود وابن ماجہٌ)
    جن پر اُس وقت دین خدا کو بچانے کی ذمہ داری عائد ہو رہی ہو، جن پر اُمت کی نگائیں ٹھہری ہوئی ہوں۔خاموش رہ کر ایک بے دین شخص کی بیعت کیسے فرما سکتے تھے۔
    سو سالار ِ شہداءؑ نے اپنے نانا جان رسول اللہﷺ کے حکم پہ عمل فرماتے ہوئے علمِ حق بلند فرمایا اور28 رجب 60ھ کو مدینہ سے مکہ اور پھر 8 ذوالحج 60ھ کو حالات کے تیور دیکھتے ہوئے حرمتِ کعبہ کو بچانے کی خاطر حج کو عمرے میں تبدیل کیا۔ اور مکہ سے کربلا کی طرف سفر فرمایا۔ کہ آپؑ احراموں میں تلواریں چھپائے یزید (لعین) کے بھیجے ہوئے قاتلوں اور ان کے ارادوں کو جان چکے تھے۔ خانوادہِ رسول اللہﷺ سمیت 72 نفوس اکرامؑ نے دینِ حق کی سر بلندی کے لئے قیام فرمایا۔
    شہنشاہِ کربلا سیدنا حسینؑ نے حر بن یزید ریاحی اور اس کے لشکر کے سامنے اپنے خطبے میں فرمایا۔
    "لوگ دنیا کے غلام ہیں ۔ اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے ۔ جب تک دین کے ساتھ ان کا مفاد وابستہ ہے۔ وہ اس کے گرد جمع رہتے ہیں۔ اور جب آزمائش کا وقت آتا ہے۔ تو دین دار تھوڑے رہ جاتے ہیں۔ ”
    (تحف العقول جلد 1 صفحہ 245, تاریخ الطبری جلد 4 صفحہ 300، بحار الأنوار جلد 78 صفحہ 117)

    2 محرم سنہ 61 ھ کو آپؑ اپنے اہل بیتؑ کیساتھ کربلا معلی تشریف فرما ہوئے۔معلوم فرمایا کہ اس جگہ کا کیا نام ہے۔ کربلا معلوم ہونے پر سید الشہداءؑ نے اس جگہ کو خریدا اور یہیں قیام کا فیصلہ فرمایا۔

    اللہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتے ہیں:
    ترجمہ: ”اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔“(153)
    واقعہِ کربلا میں یوم عاشور کی اذانِ شبیہ پیغمبرؑ علیؑ اکبر بن حسینؑ بتاتی ہے۔ کہ اہل بیتؑ اور قرآن ساتھ ساتھ تھے۔ چھ ماہ کے شیر خوار شہید شہزادہ علی اصغرؑ بن حسینؑ سے لے کر 85 سالہ ضعیف صحابیِ رسولؐ حضرت حبیب ابنِ مظاہر اسدیؓ تک،ہر ایک کی قربانی بے مثال و لازوال نظر آتی ہے۔ اگر اہلِ بیت اطہارؑ کی بیبیوں ؑ کا ذکر ہو۔ تو سیدہ زینبؑ بنت علیؑ سے لے معصوم بچی شہزادی سکینہ بنت حسینؑ تک ہر ایک صبر و ہمت کا پیکر تھیں۔

    کربلا دینِ حق کی سربلندی کے لئیے صبر و رضا اور ایثار و شجاعت کی ایک ایسی عظیم و لازوال داستان ہے۔ جہاں ہر کردار سخاوت و جرات میں ایک انمول مثال ہے۔ روایات کے مطابق واقعہِ کربلا میں سیدنا حسینؑ کے چار بھائی جناب حضرت عباسؓ بن علیؑ علمدار ِکربلا، حضرت جعفرؓ بن علیؑ، حضرت عبداللؓہ بن علیؑ اور حضرت عثمانؓ بن علیؑ جو کہ مولا علی المرتضی علیہ السلام اور بی بی جناب ام البنینؓ کے بیٹؓے تھے شہید ہوئے۔ شبیہ پیغمبر روایات کے مطابق مولا امام حسن علیہ السلام کے 4 شہزادےؑ اپنے چچا جان امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ کے ساتھ شریک ِجہاد تھے ۔ جن میں سے تین جناب سیدنا ابوبکرؑ بن حسنؑ، سیدنا قاسمؑ بن حسنؑ، سیدنا عبداللہؑ بن حسنؑ کربلا میں شہید ہوئے۔ اور ایک جناب سیدنا حسنؑ مثنی بن حسنؑ شیدید زخمی اور پھر قید ہوئے ۔

    10 محرم 61ھ/ 680ء یوم عاشور،وہ خون ریز و قیامت خیز دن جو اہل بیت رسول اللہﷺ پہ گزر گیا۔ وہی اہل بیتؑ کہ جوؑ شاملِ درود ہیں۔ جن کے بارے میں رسول اللہﷺ نے امت کو خدا کا خوف دلایا تھا۔ انؑہی کو پیاسا شہید کر دیا گیا۔ خُونِ عترتِ رحمۃ للعالمینﷺ تپتے ریگزار میں بہایا گیا۔ جنؑ کو رسول اللہﷺ چومتے، سونگھتے اور سینہِ اقدس سے لگاتے تھے۔ انہیںؑ سردارِؑ جنت ، نواسہ رسول اللہﷺ ، جگر گوشہِ بتولؑ سیدنا حسین ابن علی ؑ کے گلے پہ خنجر چلایا گیا۔ رسول اللہﷺ کے کندھوں کے سوارؑ کے لاشے پہ گھوڑے دوڑائے گئے۔باپردہ بییبوں ؑ پہ شام غریباں طاری کر دی گئی۔ انؑ کے خیمے جلائے گئے۔ اسیر بنایا گیا۔ بازاروں سے گزارا گیا۔ دربار میں کھڑا گیا کیا گیا۔ قید و بند کی ایذائیں پہنچائی گئیں۔۔۔ امت کے رونے کے لئیے تو یہی کافی ہے۔ کہ نواسہ رسول اللہﷺ جن کے گھر سے پردے کی ابتدا ہوئی تھی۔ انہیؑ کو ایک شرابی کے دربار میں بحیثیت قیدی کھڑا ہونا پڑا۔
    امت پہ رونا فرض ہے۔ کہ اس دن انؐ پیغمبر رحمت اللعالمینﷺکے گھرانے کو شہید کیا گیا۔ جنہوںؑ نے امت کو کلمہ پڑھنا اور امت بننا سیکھایا۔

    شہادتِ امامِ شہداءؑ پہ غم کرنا سنت رسول اللہﷺ ہے۔ جو واقعہ کربلا سے پہلے بھی ثابت ہے۔ اور بعد میں بھی۔ شہادتِ امامِ عالی مقام وہ غم ہے۔ کہ جس پہ کائنات کی ہر شے اور جن و انس نے اشک بہائے۔
    طبرانی میں درج ہے۔ کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں۔ کہ میں نے حضرت حسین بن علی علیہ السلام پر جنوں کو نوحہ کرتے ہوئے سنا۔

    واقعہِ کربلا انسانی تاریخ کا وہ خونی باب ہے۔ کہ جس پہ تاقیامت نسلِ انسانی آنسو بہاتی رہے گی۔

    حق و باطل کی جنگ شروع سے اور آخر تک رہے گی۔ مگر واقعہِ کربلا سے ہمیں حسینیت کا درس ملتا ہے۔ کہ "امر باالمعروف اور نہی المنکر” کے نفاذ کے لئیے ظالم کے لشکر کے سامنے 72 بھی نکلیں۔ تو کافی ثابت ہوتے ہیں۔

    امام حسینؑ نے انسان میں حق کے لئیے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کی سوچ کو بیدار فرمایا ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے۔ کہ امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ نے دامنِ رضائے خداوندی نہ چھوڑا اور نہ ہی ظالم و جابر کے ظلم و جبر کو تسلیم کیا۔ یہی وجہ ہے۔ کہ آج ہر باضمیر خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ سیدنا حسین ابنِ علیؑ کو اپنا رہنما مانتا ہے۔ حسنیت کل بھی ژندہ تھی۔ اور تاقیامت ژندہ رہے گی۔
    لاکھوں کروڑوں سلام ہو حق پرستوں کے بادشاہ سیدنا حسینؑ ابن علیؑ اور آپؑ کے جانثار ساتھیوںؓ پہ۔؎
    ہم کو حسینؑ ایسا بہادر بنا گئے
    سر کٹ گئے یزید کی بیعت مگر نہ کی