Baaghi TV

Category: مذہب

  • امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    اللہ تعالیٰ نے کرۂ ارض کی اس وسیع وعریض، خوبصورت اور ہر طرح کی نعمت سے مالا مال ہستی کو انسانیت کے لئے بنایا ہے، اس کائنات اور اس سے متعلق تمام چیز میں ہمہ وقت انسانیت کی خدمت میں مشغول ہیں، سورج اس کے لئے ہر دن روشنی کا انتظام کرتا ہے، زمین اس کے قدموں میں بچھی ہوئی ہے اور اس کی غذائی ضرورت کے لئے بار بار اپنے سینے کا چاک ہونا اور پامال کیا جانا قبول کرتی ہے۔ درختوں کا کام یہ ہے کہ مزے دار پھل اور عطر بار پھول مہیا کرنے کے علاوہ آلودہ ہواؤں کو اس کے لئے صاف کریں، تا کہ اسے آکسیجن کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے، بادل سمندر سے کھارے پانی کا ڈول بھربھر کر اسے صاف اور شیریں بناتا ہے اور کھیتوں اور آبادیوں تک باران رحمت پہنچاتا ہے، سمندر کی متلاطم موجیں نہ جانے کتنی ساری آلودگیوں کو ختم کرتی ہیں اور ان کی زہرا کی سے انسان کو خوظ رکھتی ہیں، ہوا میں ہر وقت اس کے مفاد کے لئے دوڑ بھاگ میں لگی ہوئی ہے اور دنیا میں جتنے جاندار ہیں، وہ سب کسی نہ کسی پہلو سے اس کی خدمت میں مصروف ہیں، یہاں تک کہ جن جانوروں کی درندگی انسان کولرزاں وترساں رکھتی ہیں، ان کا وجود بھی کسی نہ کسی پہلو سے انسان کے لئے فائدہ مند نفع بخش ہی ہے۔
    غرض کہ پوری کائنات انسان کی خدمت اور اس کے لئے عیش وراحت کی فراہمی میں مشغول ہے۔ اسی لئے قرآن کا تصور یہ ہے کہ کائنات انسان کا معبودنہیں ہے ، بلکہ اس کی خادم ہے : ( الجاثية : ۳ ) لیکن دو چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے لئے بے حد ضروری ہیں عیش وعشرت کے جتنے بھی وسائل حاصل ہو جائیں، اگر یہ دو چیزیں اسے میسر نہ ہوں تو اس کی زندگی بے سکون اور اس کی آرزوئیں ناتمام رہتی ہیں۔
    امن اور ترقی اسی لئے اللہ تعالی نے اہل مکہ پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تمہیں اس لئے بھی رب کعبہ کی عبادت کرنی چاہئے کہ اس نے عرب کے صحرا میں غذائی ضرورت اور کسی حکومت اور لا اینڈ آرڈر کا انتظام نہ ہونے کے باوجود ان کا انتظام فرمایا ہے۔ خوف و دہشت سے حفاظت کا تعلق امن سے اور غذائی اشیاء کی فراہمی کا تعلق ترقی سے ہے، زندگی کے لئے مطلوب ساری سہولتیں اللہ تعالی کا خصوصی عطیہ ہیں مگر یہ دونوں نعمتیں وہ ہیں، جن کو اللہ تعالی نے انسان کے ارادہ اور کوششوں سے تعلق رکھا ہے اور انسان کو اسی بصیرت اور صلاحیت عطا کی گئی ہے کہ اگر اس کی کوشش صحیح سمت میں ہو تو ان کو حاصل کر سکتا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ ان کے قائم ہونے کا تعلق قیام عدل سے ہے، عدل کی تفصیل یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے تین طریقے ہو سکتے ہیں ، جن کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے۔ عدل، احسان اورظلم، عدل کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کو اس کا پورا پورا دے دیا جائے اور خود اپنے حق سے زیادہ ن لیا جائے ، احسان یہ ہے کہ دوسرے کو اس کا حق اس کے حصہ سے بڑھ کر دیا جائے اور خود اپنے حصہ سے کم کیا جائے یا اپنا حصہ نہیں لیا جائے قرآن مجید نے ان ہی دونوں طریقہ کار کو درست اور قابل قبول قرار دیا ہے لیکن آئیڈ یل طریقہ یہ ہے کہ انسان ’احسان‘ سے کام لے، جس کو بندے کے حقوق کے معاملہ میں ایثار کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں جگہ جگہ احسان کی تعریف کی گئی ہے، فرمایا گیا : اللہ احسان کرنے والے لوگوں کو پسند فرماتے ہیں۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ جولوگ احسان کا رویہ اختیارکریں۔ اللہ تعالی ان کو بہتر بدلہ اور انعام سے محروم نہیں کریں گے۔ اس کے بالمقابل ظلم اسلام کی نظر میں بدترین گناہ اور اللہ تعالی کی نافرمانی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوسکتا، ناکامی و نامرادی ہی اس کا حصہ ہے۔ ظالموں کا انجام ہلاکت و بربادی ہے اور اللہ تعالی ظالموں کو پسند نہیں فرماتے۔ قرآن پاک میں دو سو سے زائد مقامات پر تلف جہتوں سے ظلم کی اور ظالموں کی مذمت فرمائی گئی ہے اور بہت زیادہ مقامات پر عدل کا اور احسان کا حکم دیا گیا ہے یا اس کی تحسین کی گئی ہے۔ جب معاشرہ میں عدل قائم ہوگا ، لوگوں میں احسان کا جذبہ پیدا ہوگا اور ظلم کرنے والے ہاتھ تھام لئے جائیں گے تو یقینا وہ معاشرہ ان کی دولت سے بہرہ ور ہوگا۔
    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • فضیلت رکھنے والی کتاب قرآن مجید تحریر  : راجہ ارشد

    فضیلت رکھنے والی کتاب قرآن مجید تحریر : راجہ ارشد

    استاد کا ادب و احترام بھی اس طرح لازم ہے جس طرح بزرگوں اور والدین کا ادب کرنا فرض ہے۔ معلم استاد کو کہتے ہیں۔ اور ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو معلم انسانیت بنا کر بھیجا گیا تھا اور علماء آپ ﷺ کے وارث ہیں یعنی علم کو آئندہ آنے والی نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ استاد روحانی باپ ہوتا ہے جو بچے کی ایسی تربیت کرتا ہے ۔ جو والدین اپنی مصروفیت اور بچے سے لاڈ پیار کی وجہ سے نہیں کر سکتے۔

    آپ اکثر اپنے سکول یا گھر کے مالی کو پودوں کی دیکھ بھال اور کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ پودوں کو کتنی مہارت سے تراشتا ہے۔ارد گرد سے گھاس پھونس اور کانٹے دار کانٹے دار جھاڑیوں کو صاف کرتا ہے۔جس سے ایک تو پودوں کی نشوونما بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔دوسرے وہ اپنی ترتیب کی وجہ سے خوبصورت اور نمایاں نظر آتے ہیں۔بالکل اسی طرح استاد بھی بچے کو اپنی محبت، شفقت، علم اور اعلی کردار جیسی خوبیاں منتقل کرتا ہے۔دنیا میں جتنے بھی بڑے لوگ گزرے ہیں اپنے اساتذہ کا عکس ہوتے ہیں۔استاد ہی نیکی بدی کی پہچان سکھا کر آدمی کو آچھا انسان بناتا ہے۔

    استاد ہمیں دنیاوی علم دیتا ۔علم کے معنی ہیں چیزوں کی حقیقت کو جاننا۔علم ایک ایسا راستہ ہے ۔ جس کے ذریعے آدمی انسانیت کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔ یعنی اس میں آچھائی اور برائی میں فرق کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے ۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے جو پہلی وحی آئی وہ بھی علم کے بارے میں تھی ۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر مسلمان پر طلب علم فرض ہے۔

    علم کیا ہے ؟ اس کی اہمیت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے انسان کو تمام مخلوقات فرشتوں ، جنات وغیرہ پر فضیلت اس علم کی وجہ سے دی ہے ۔ ورنہ کھانے پینے سونے جاگنے میں تو جانور اور انسان سب برابر ہیں۔ آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق جو شخص علم کے راستے پر چلتا ہے ۔تو فرشتے اس کے راستے میں اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے۔ اللہ نے ہمیں علم عطا کیا اور دنیاداروں کو دولت کہ علم آدمی کی حفاظت کرتا ہے۔ اور آدمی دولت کی علم کا ذکر کتابوں کے ذکر کے بغیر ناممکن ہے۔کیونکہ حکمت و دانائی کی تمام باتیں کتابوں میں محفوظ ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے بینکوں میں دولت۔ کتابیں علم کا خزانہ ہیں اور خزانوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔مگر کتابوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کا احترام کرنا بھی ضروری ہے ۔اب آپ سوچیں گے کہ کتابوں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے۔وہ ہے ان کا مطالعہ اور عمل ۔ عالم کی فضیلت تمام لوگ پر ایسی ہے جیسی تمام راتوں میں چودھویں کے چاند کی اسی طرح تمام کتابوں پر فضیلت رکھنے والی کتاب قران مجید ہے۔

    @RajaArshad56

  • "کوئی ہے جو محرم الحرام میں یہ کام کرے” تحریر: محمد عبداللہ

    "کوئی ہے جو محرم الحرام میں یہ کام کرے” تحریر: محمد عبداللہ

    حسن و حسین رضی اللہ عنھما کی سیرت اور شب و روز پر اردو میں کوئی مستند کتاب جس کو پڑھا جا سکے یا پھر ہم نے فقط شہداء کی شہادتوں کے دنوں پر قصے کہانیوں سے سے ہی عوام کو بےوقوف بنا کر لڑوانا ہے؟
    شہداء کی شہادتوں پر ماتم نہیں کیے جاتے ان کی سیرت کو اپنایا جاتا ہے، ان کے چنے ہوئے راستے پر چلا جاتا ہے.اسلام کے عظیم شہداء کے نام پر اسپیکرز پھاڑ کر دیہاڑی لگا انہی کے محبوب لوگوں پر طعنہ زنی کرکے لوگوں کو باہم دست و گریبان کروا کر آرام سے اپنے عشرت کدوں کی طرف چل دینا اسلام اور اہل بیت کی کوئی خدمت نہیں ہے.
    دوسری طرف محرم الحرام کے مقدس اور شہادتوں کے مہینے میں کہ جس کی ابتداء ہی عمر ابن الخطاب کی شہادت سے ہوتی ہے اس مقدس مہینے میں اسپیکرز پر للکارے مارنے اور کتے و کافر کے نعرے مارنے سے بھی کوئی اسلام و صحابہ کرام کی خدمت نہیں ہوتی ہے.
    اگر اسلام اور اسکو ہم تک پہنچانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے کی واقعی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان سب کی سیرت پر کام کیجیئے. عوام کو بتائیے کہ ابوبکر و عمر کا اخلاق و کردار کیسا تھا. عثمان و علی کا سخاوت و انصاف کیسا تھا. نبی کے گھرانے سے صحابہ کرام کا تعلق کیسا تھا. حسن و حسین سرداران نوجوانان جنت کے شب و روز کیسے اور کہاں گزرتے تھے. ان کا بچپن و جوانی کیسی تھی، کردار کیسا تھا، لوگوں کے ساتھ معاملات کیسے تھے.
    کوئی ہے جو ان سادہ لوح مسلمانوں کو بےوقوف بنانے سے باز آئے اور من گھڑت قصے کہانیوں سے نکل کر اہل بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سیرت کی سچے اور سچے واقعات لوگوں کو پڑھائے اور پھر ان پر عمل پیرا ہوا جائے…..
    "اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ ”
    Muhammad Abdullah

  • حسین رضی اللہ عنہ شجاعت کی مثال   تحریر : ماریہ بلوچ

    حسین رضی اللہ عنہ شجاعت کی مثال تحریر : ماریہ بلوچ

    حسین رضی اللہ عنہ کون تھے؟؟ حسین ابن علی ابن ابی طالب نواسہء رسول ﷺاور اس باپ کے بیٹے تھے جنکا لقب ہی "حیدر” ہے۔ بہادری و جرات حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کی گھٹی میں تھی۔
    ‏حسین ابن علی رضی اللہ عنہ اسلام کے ہیرو ہیں انکی بہادری و شجاعت نے جس طرح اسلام میں اک نئ روح پھونک کر اسلام کو تاقیامت قائم رہنے والا دیں بنانے کا حق ادا کیا تاقیامت اسکی مثال مل ہی نہیں سکتی حسین ابن علی رضی اللہ عنہ نے حق کے لیے آواز اس وقت بلند کی جب لوگ باطل کے ڈر سے اٹھنے کی ہمت نہ کر پا رہے تھے۔۔ میدان کربلا میں حق پر ثابت قدمی اس قدر کہ باطل کسی طرح بھی اپنے مذموم مقاصد‏حاصل نہ کر سکا۔
    دنیا میں کوئ بھی حق پر بہادر انسان اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے اپنی جان کی بازی تو لگا سکتا ہے مگر اپنا پورا کنبہ قربان نہیں کر سکتا ایسا حوصلہ ہمت اور بہادری حسین ابن علی رضی اللہ عنہ ہی کی تھی جن کے آگے اللہ کے دین کی حفاظت
    ‏سے بڑھ کر کچھ نہ تھا۔ اپنی جان مال اولاد سب اللہ کے لیے اسکے آخری نبی ﷺ کے دین کی حفاظت و سربلندی پر قربان کر دیا۔۔ لیکن صد افسوس ہم جیسی قوم پر ہم نے یہ بھلا دیا کہ حسین رضی اللہ عنہ کی اس عظیم قربانی کا عظیم مقصد کیا تھا؟ ہم مجرم بن گئے۔ ہم ‏نے انکی قربانی کو ضائع کیا۔ ہم نے اسی دین میں فرقے بنا لیے۔۔ اور ظلم عظیم یہ کہ حسین کے نام پر ہی فرقے بنا کر اسلام کی طاقت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔
    ہم نے اپنے ہیرو کی شجاعت کو اپنا کر دنیا میں اسلام کا بنانا تھا اور ہم نے اس اسلام کو ہی پارہ پارہ کر دیا….
    حسین رضی اللہ عنہ ہمارے محسن ہمارے ہیرو اور ہم نے دنیا کے آگے اپنے اس بہادر جری نڈر
    ‏حق پرست ہیرو کو مظلوم
    شخصیت بنا کر پیش کر دیا۔۔ہم نے کربلا کی شجاعت کی داستانوں کو بدل کر مظلومیت کی داستان بنا کر حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تاریخ میں بہت بڑا جرم کیا۔ وہ حسین ابن علی رضی اللہ عنہ جن کہ جنکی شہادت کی خبر اللہ نے ﷴﷺ کو اس وقت دے دی جب نواسہء رسولﷺ گود میں کھیل رہے تھے۔ ہم نے اپنی نسلوں کو شہادت حسین رضی اللہ عنہ تو بتائ شجاعت حسین رضی اللہ عنہ بتانا بھول گئے ہماری نسلوں نے شہادت حسین رضی اللہ عنہ کو ایک تہوار بنا کر منا تو لیا مگر ہماری نسلیں حسین رضی اللہ عنہ کو اپنا ہیرو‏ نہ بنا سکیں۔ جب ماوں نے نسلوں کو حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومیت ہی سنائ اور انکی شخصیت کا صرف ایک پہلو اپنی نسلوں کے سامنے رکھا ، جب انکو حسیںن رضی اللہ عنہ کی شجاعت بتائ ہی نہ گئ تو ہماری نسلوں میں حسینی پیدا ہونے سے رہ گئے ۔ہماری نسلوں نے ادھر ادھر کی دنیا سے ادھار ہیرو مانگ کر بنا لیے۔ ہائے افسوس ہم کیسی قوم ہیں ؟؟؟ہم احسان فراموش بزدل قوم ہیں، بزدل قومیں ہی اپنے ہیروز کی مظلومیت دنیا کے سامنے بیان کرتی ہیں۔ بہادر قومیں تو اپنے ہیروز کی بہادری کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق بھر دیا کرتی ہیں۔ اپنی نسلوں کو اسی بہادری کے قصے سنا کر جوان کرتی ہیں اور پھر ہی تو ان قوموں کے جوان سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
    ہم قصوروار ہیں مگر امید ابھی موجود ہے ہم نہ سہی ہماری آنے والی نسلوں میں ایسے جوان بنانے کی جن کی منزل وہی ہو جو حسین رضی اللہ عنہ کی تھی جن کی

    ‏زندگیوں کا مقصد حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چل کر باطل سے ٹکرا جانا ہو۔ جن کے خوف و ہیبت سے باطل لرزا جایئں۔ جنکی شجاعت اسلام کو تقویت بخشے۔
    مایئں بچوں کو گود میں حسین رضی اللہ عنہ کی شجاعت سنایئں گی جب ایسا ممکن بھی صرف ہو گا تب۔
    باپ اولاد کے دل و دماغ میں حسین رضی اللہ عنہ کا خاکہ بنایئں گے تب ہونگے اس ‏اس قوم میں حسینی پیدا۔ تب ہو گا اسلام کا ہر سو اجالا۔۔۔۔۔۔

    Twitter handle: @ShezM__

  • عہد نبوی میں نظامِ حکومت تحریر: محمد سمیع اللہ ملک

    عہد نبوی میں نظامِ حکومت تحریر: محمد سمیع اللہ ملک

    عام خیال یہ ہے کہ اسلام کو عرب میں ایک عادلانہ نظامِ حکومت میں قائم کرنے میں جو دشواریاں پیش آئیں وہ تمام تر اہل عرب کی وحشت، بداوت اور جہالت کا نتیجہ تھیں۔ لیکن در حقیقت اس سے زیادہ یا اسی کے برابر خود وقت کا تمدن بھی اسلام کے عادلانہ نظامِ حکومت کا دشمن تھا اور اسکی مخالفت وحشت سے زیادہ اور دیرپا تھی چنانچہ 8ھ میں فتح مکہ کے بعد اگرچہ وحشی عربوں نے اسلام کے سامنے اپنی گردنیں جھکا دیں، لیکن وقت کے تمدن کا سر پر غرور اب تک بلند تھا چنانچہ نامہ اقدس کے جواب میں شہنشاہ ایران کا جواب اور قیصر روم کے حامیوں کے مقابلے میں غزوہ موتہ وغیرہ واقعات جو 9ھ میں پیش آئے اور اسکے بعد خلافت راشدہ میں ایرانیوں اور رومیوں سے لڑائیاں اسی سرکشی کا نتیجہ تھیں۔
    اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ چھٹی عیسوی میں جو آپ ص کی بعثت اور اسلام کے ظہور کا زمانہ ہے، دنیا کی تمام سیاسی قوتیں مشرق و مغرب کی دو عظیم الشان طاقتوں کے زیر سایہ تھیں مشرق کی نمائندگی فارس کے کسری اور مغرب کی قسطنطنیہ کے قیصر کر رہے تھے اور ان دونوں کے ڈنڈے عرب کے عراقی و شامی حدود پر ا کر ملتے تھے عرب کے وہ قبائل جن میں زرا بھی تہذیب و تمدن کا نام تھا وہ انہی دونوں میں سے کسی کے زیر اثر اور تابع تھے یمن ، بحرین ، عمان ، اور عراق ایرانیوں کے اور وسط عرب اور حدود شام رومیوں کے ماتحت یا زیر اثر تھے۔
    چنانچہ نجمی خاندان نے مقام حیرہ میں ایرانیوں کی ماتحتی میں ایک وسیع سلطنت قائم کی تھی جس کے درماں روا نعمان بن منذر وغیرہ تھے غسانی خاندان جو آپ ص کے زمانے تک قائم رہا رومیوں کی سرپرستی میں حدود شام پر حکومت کرتا تھا یمن میں مدت تک خود عرب کی مستقل خاندانی ریاستیں قائم تھیں۔ لیکن آخر زمانہ میں یمن خود ایرانیوں کے علم کے نیچے آگیا تھا چنانچہ آپ ص کے زمانے میں یمن میں باذان نامی ایرانی حاکم موجود تھا، عرب پر ان سلطنتوں کا اس قدر اقتدار قائم ہو چکا تھا کہ خود عربوں کے ذہن میں جب کسی نظامِ حکومت کا خیال آتا تھا تو اسی ایرانی یا رومی نظامِ حکومت کا خیال آتا تھا، ان سے الگ ہو ان سے بالاتر کسی نظام زندگی کا تخیل ان کے ذہن کی گرفت سے بالاتر تھا۔
    اس بنا پر اسلام عرب میں جو نظامِ حکومت قائم کرنا چاہتا تھا اسکے لئے صرف یہی کافی نہ تھا کہ عرب کی قدیم وحشت کو مٹا کر اسلامی تہذیب و تمدن کی داغ بیل ڈالی جائے بلکہ سب سے مقدم کام یہ تھا کہ عرب کو غیر قوموں کے دماغی تسلط سیاسی مرعوبیت اور ان کے اخلاقی و تمدنی اثر سے آزاد کرایا جائے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر نہ صرف عربوں کو بلکہ سارے عالم کو انسانوں کے خود ساختہ قانون کی غلامی سے نکال کر قانون الٰہی کی اطاعت و فرمانبرداری میں دے دیا جائے اور بتایا جائے کہ قانون الٰہی کو چھوڑ کر دوسرے انسانی قوانین کی پابندی کرنا شرک کا دوسرا راستہ ہے لیکن جیسا کہ اسلام کے تمام فرائض و اعمال میں ترتیب و تدریج ملحوظ رہی ہے اس طرح اسلام کے نظام میں حکومت میں بھی بتدریج ترقی ہوتی گئی چنانچہ اگرچہ آپ ص ساری دنیا کی اصلاح کے لئے آئے تھے مگر آپ ص نے اپنا کام عرب سے شروع کیا تاکہ ایک ایسی صالح جماعت کا ظہور ہو جو آپ ص کے سامنے بھی اور آپ ص کے بعد بھی اس فرض کی تکمیل میں مصروف رہے۔
    لیکن یہی تدریجی ترتیب خود اہل عرب کی اصلاح میں بھی ملحوظ تھی چنانچہ سب سے پہلے آپ ص نے عرب کے اندرونی حصے یعنی تہامہ ، حجاز اور بخد کے لوگوں کے سامنے اسلام کو پیش کیا اور آپ ص کی 23 سالہ زندگی کے تقریبا سولہ سترہ سال انہی قبائل کی اصلاح و ہدایت میں نذر ہو گئے یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے نخلستان کی طرح اگرچہ ہجر ویمامہ کے سبزہ زار بھی اسلام کو اپنے دامن میں پناہ دینے کے لئے آمادہ تھے اور قبائل یمن کے ایک بڑے رئیس طفیل دوسی نے آپ ص کو قبیلہ دوسی کے ایک عظیم الشان قلعے کی حفاظت میں لینا چاہا تھا لیکن آپ ص نے ان متمدان مقامات کو چھوڑ کر مدینہ کی سنگلاخ زمین کو دارالہرہ بنایا وہ اگرچہ منافقین اور یہود کی وجہ سے مکہ سے زیادہ پر خطر تھا اور ابتدا میں مہاجرین رضی کے لئے اسکی آب و ہوا سازگار نہ تھی تاہم آپ نے اسی کی طرف ہجرت فرمائی لیکن جب رفتہ رفتہ عرب کے اس حصہ میں کافی طور پر نظام اسلام قائم ہو گیا اور صلح حدیبیہ نے عرب کے مرکز یعنی مکہ کا راستہ صاف کر دیا اور وہ فتح ہو گیا تو اب عرب کے دوسرے حصوں کی طرف توجہ کا وقت آ گیا اس بناپر اسلام کے دائرہ عمل کو وسعت دی گئی اور عرب کے ان حصوں کی طرف توجہ فرمائی گئی۔

  • کائنات کا مالک رب العالمین   تحریر  : راجہ ارشد

    کائنات کا مالک رب العالمین تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے ہاں لوگوں کو اس موضوع پر بلکل بھی آگاہی نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے بہت سادہ لوح بہن بھائی کھلی گمراہی کی طرف جلے جاتے ہیں۔
    اللہ تعالٰی ایک ہی ہے اور وہ اپنی صفات میں یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔وہی دینے والا ہے وہی ہے لینے والا ۔اس پوری کائنات کا مالک رب العالمین۔

    لیکن ہمارے معاشرے میں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہم نے اپنے حقیقی خالق و مالک کو چھوڑ کر ہندوٶں کا فرسودہ طریقہ اپنا لیا ہے ۔جسے وہ ہندو بتوں کی پوجا کرتے ہیں ویسے ہی ہمارے ہاں کے کچھ لوگ قبروں کی پوجا کرنے لگے ہیں۔کبھی یہ دیکھتے کو ملتا ہے کہ کچھ لوگ قبروں سے منتں مرادیں مانگ رہے ہوتے ہیں۔ بیٹا، نوکری، کاروبار میں ترقی مانگی جا رہی ہوتی ہے۔

    جو رب ہمارے دعا کرنے سے خوش ہوتا ہے جو ہماری شہرگ سے بھی قریب ہے جو ہماری دعاوں کو سننے والا ہے ہم سیدھا اس سے کیوں نہیں مانگتے ہیں۔وہ تو کہتا ہے ایک بار سچے دل سے مانگ کے تو دیکھ تیری چھولی نہ بھر دوں تو کہنا۔

    افسوس ہوتا ہے آج ہم اپنے حقیقی اللہ جو رب العالمین ہےکو چھوڑ کر شرک کی طرف جا رہے ہیں۔

    قارئین ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں اللہ تعالٰی سب گناہ معاف کردیں گے بھلے وہ پہاڑ کے برابر کیوں نہ ہوں مگر یہ گناہ کبھی معاف نہیں ہو گا۔
    زرہ سوچیئے اور سمجھیں کہ کون سی ایسی دعا ہے جو ہمارا رب نہیں سنتا ؟ وہ کون سی نعمت ہے جو نعوز باللہ ہمارا اللہ تعالٰی عطا نہیں سکتا جو ہم ان بت نما قبروں سے مانگتے ہیں؟

    قرآن مجید اور احادیث مبارکہ ہم انسانوں کی رہنمائی کےلیے بہترین نمونہ ہیں جن ہر عمل پیرا ہو کر ہر انسان اپنی زندگی سنوار سکتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ شرک و بدعات جیسی ایسی غلیظ رسم و رواج میں گر چکا ہے جو ہمارے ایمان کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں ۔

    آج کل قرآن مجید و احادیث مبارکہ پڑھانے کے بجائے فقہ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں کہ کہیں یہ بچہ یا بچی سہی معنوں میں قرآن مجید اور احادیث مبارکہ پر چل کر یہ شرک و بدعات چھوڑ ہی نہ دے۔فقہ کی کتابوں میں اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ بچہ قرآن مجید و احادیث مبارکہ کی بات کو ماننے سے کتراتے ہیں ۔

    اللہ پاک ہم سب کو قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کو پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
    اللہ پاک ہم سب کو سیدھا راستہ دکھائیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

    @RajaArshad56

  • ہمارئے نبی ﷺ کی خاص صفت حیا  تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارئے نبی ﷺ کی خاص صفت حیا تحریر : راجہ ارشد

    حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی خاص صفت حیا ہے۔
    کوئی گناہ یا نا پسندیدہ کام یا بات کرنے کے خیال سے دل میں جو شرم اور بے چینی پیدا ہو۔ اسے حیا کہتے ہیں۔اور حیا ہی گناہوں اور برائیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جس شخص میں جتنی زیادہ حیا ہوگی۔ اتنا ہی وہ گناہوں سے محفوظ رہے گا اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حیا سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے اتنے حساس اور غیرت مند تھے کہ انہوں نے اپنا بوجھ چچا ابو طالب پر ڈالنا پسند نہ کیا ۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ایک ملازمہ فرماتی ہیں کہ : آپ ﷺ کبھی گھر میں کھانا مانگ کر نہ کھاتے۔ جو بھی ملتا کھا لیتے اس پر اعتراض نہ کرتے نہ ہی کھانے میں نقص نکالتے۔
    بے حیائی کا تعلق گناہ کا زکر کرنے سے بھی ہے ہمارے پیارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی خطا کار اپنے گناہ بتا کر معافی بھی مانگتا تو آپ ﷺ شرم سے گردن جھکا لیتے تھے ۔

    اچھے اخلاق کی بنیاد ادب پر ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اعلی ترین اخلاق میں ادب نظر آتا ہے۔حالانکہ آپ ﷺ نے اپنے والد کو نہیں دیکھا تھا اور والدہ کے ساتھ بھی بچپن کا بہت کم حصہ گزارا مگر آپ ﷺ نے والدین کے آداب و احترام پر بڑا زور دیا ہے۔اپنی رضاعی والدہ حلیمہ سعدیہ کا بہت احترام فرماتے۔ میری ماں میری ماں کہہ کر کھڑے ہو جاتے اور چادر ان کے لیے بچھا دیتے ۔بوڑھوں بزرگوں بلکہ سب ہی کا احترام فرماتے ہمیں بھی اپنے نبیﷺ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔

    مشہور کہاوت ہے کہ بے ادب بے نصیب با ادب با نصیب۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی ادب کرے اس کے نصیب اچھے ہوں گے۔ادب ایک ایسی خوبی ہے جو خدمت جیسی اعلی عادت بھی سکھاتی ہے۔کیونکہ جو بے ادب ہو گا وہ کسی کی کیا خدمت کرئے گا؟؟
    خدمت خلق ہر ایک کی اور ہر قسم کی خدمت شامل ہے۔اللہ تعالٰی کی یہ پسندیدہ عادت ہے۔اور یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت زیادہ عطا کی گئی ۔ آپ ﷺ اپنے پرائے مسلم اور کافر غرض ہر کسی کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی بغیر کسی مقصد اور لالچ کے کر دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ محتاجوں بیواوں یتیموں اور مسکینوں کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہتے۔

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفائی کا ذکر بھی بہت بار فرماتے ہیں ہم یہاں چند ایک مثالیں دیکھتے ہیں۔ صفائی بھی ایک ایسی خوبی ہے جو اعلی اخلاق کو مکمل کرتی ہے ۔ آپﷺ نے خاص طور پر جگہ جگہ تھوکنے کو سخت نا پسند فرمایا ہے۔
    ایک بار دیوار پر تھوک کے دھبوں کو کھرج کھرج کر خود صاف فرمایا ۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نماز کی امامت کر رہے تھے ۔انہوں نے حالت نماز میں تھوک دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شخص نماز نہ پڑھائے۔پوچھنے پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی۔ دوسری جگہ فرمایا کہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچو کہ قبر میں عام طور پر اسی گناہ کے باعث عذاب ہوتا ہے۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • محرم الحرام…حرمت والا مہینہ…!!! تحریر:جویریہ بتول

    محرم الحرام…حرمت والا مہینہ…!!! تحریر:جویریہ بتول

    یہ دنیا تاریکی و اخلاقی پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گری ہوئی تھی،ظلم و ستم کی بھٹی پوری قوت سے گرم تھی…
    تقدس و حرمت کے مفہوم بدل چکے تھے…
    کہ غارِ حرا سے وہ سراج منیر طلوع ہوئے،جن کے حُسن خلق کی کرنوں نے دنیا کے کونے کونے کو منور کیا…
    اس چودھویں کے چاند سے زیادہ خوب صورت ختم الرسل صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گرد علم و عمل کے چمکتے تاروں نے جو ہالہ بنایا اور محبت و اطاعت کی جو انمٹ داستان عمل و خون سے لکھی وہ رہتی دنیا تک کے لیئے ایک انمٹ مثال بن چکی ہے…
    اس سے بڑا اعزاز ان کے لیئے اور کیا ہو سکتا ہے کہ خالقِ کائنات قرآن میں انہیں حزب اللّٰہ یعنی اپنی جماعت کہہ رہا ہے…
    دنیا میں ہی جن پر اپنی رضوان کے اعلانات فرما کر ان کے مقام و مرتبہ کو اس دنیا کے ہر خاص و عام کو بتا دیا ہے…
    وہ اپنا گھر بار خدمت نبوی میں پیش کرتے ابو بکر صدیق،وہ مسلمانوں کو شان و شوکت بخشتے عمر،
    اپنا سب کچھ ساعۃ العسرۃ میں فی سبیل اللہ لٹاتے عثمان…
    اور حسن و حسین کے والد شیرِ خدا،دامادِ مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنھم کی عظمت و کردار کس پر واضح نہیں ہے…؟؟
    وہ اصحابِ رسول جو پیارے رسول کے حکم کے مطابق جب ہجرت کی راہوں پر نکلے تو وہ مہینہ محرم الحرام کا تھا…
    محرم الحرام ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے،ارشادِ ربانی ہے:
    "مہینوں کی تعداد اللّٰہ کے نزدیک کتاب اللّٰہ میں بارہ ہے،اس دن سے جب سے اُس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا،ان میں چار مہینے ادب و احترام والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے…”
    (التوبہ:36)۔
    یہ چار حرمت والے مہینے کون سے ہیں؟
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "سال بارہ مہینوں کا ہے،جن میں سے چار حرمت والے ہیں،تین مسلسل ہیں،ذوالقعدہ،ذوالحجہ،محرم،
    جبکہ ایک مہینہ رجب ہے…”
    (صحیح بخاری_کتاب بدءالخلق)۔
    ان حرمت والے مہینوں سے مراد یہ ہے کہ ان میں جو چیز فتنہ و فساد،لڑائی جھگڑے اور امن عامہ کی خرابی ہو،اس سے منع کیا گیا ہے…!!!
    ماہ محرم اسلامی سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے،اور اس کی بنیاد مسلمانوں کی مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت پر ہے۔
    صحابہ کرام رضوان اللہ نے محرم میں اللّٰہ اور رسول اللہ کے حکم پر زور و شور سے مدینہ کی طرف ہجرت شروع کر دی تھی،اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سفرِ ہجرت صفر تا ربیع الاوّل ہے…
    حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے جب تمام حکومتی محکموں کو منظم فرمایا تو تاریخ جاری کرنے کا مسئلہ بھی زیرِ غور آیا،چنانچہ انہوں نے ہجرت کے عظیم عمل کا انتخاب فرمایا جو محرم میں شروع ہوا اور اسی مناسبت سے ہجری سن کا آغاز ہوا،
    اور یوں ہجری سن کا تقرر اور آغاز اٹھارہ ہجری میں دورِ خلافت عمر رضی اللّٰہ عنہ میں ہوا…!!!
    یہاں یہ بات بھی پتہ چلتی ہیں کہ اسلامی سال کا آغاز بھی امن کے پیغام کے ساتھ ہوتا ہے اور اختتام بھی حرمت اور محبتوں والے مہینہ ذوالحجہ پر ہوتا ہے جو اسلام کی اَمن پسندی کی بہت بڑی دلیل ہے…!!!
    اسلامی سن کے آغاز میں محبتوں کا وہ انمٹ سلسلہ بھی ذہن کے نقوش پر ابھرنے لگتا ہے کہ جب مہاجرین اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اللّٰہ کی رضا کی خاطر ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو انصارِ مدینہ نے محبتوں اور الفتوں کا جس شدت سے اظہار کیا اسے اللّٰہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کچھ یوں بیان کیا ہے:
    "اور جو لوگ ان(مہاجرین) کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے،یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ ان کو دیا گیا تھا اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے
    دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور انہیں اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ وہ خود کتنے ہی ضرورت مند کیوں نہ ہوں…”
    (الحشر:9)۔
    جب علاقائی اور خاندانی عصبیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے گھروں،زمینوں،باغات اور حتّٰی کہ دو بیویوں والوں نے ایک کو طلاق دے کر اپنے مہاجر بھائیوں کو نکاح کرنے تک کی پیشکش کر دی تھی۔
    پیار و محبت اور ایمانی رشتوں کی خوشبو سے مہکتی مواخات کا وہ خوب صورت منظر بھی نگاہوں میں جھلملانے لگتا ہے…!!!
    حالی نے اس کا نقشہ کیا خوب کھینچا ہے:
    جب امت کو مل چکی حق کی نعمت…
    ادا کر چکی فرض اپنا رسالت…
    رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی صحبت…
    نبی نے کیا خلق سے قصد رحلت…
    تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی…
    کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی…
    سب اسلام کے حکم بردار بندے…
    سب اسلامیوں کے مددگار بندے…
    اللّٰہ اور نبی کے وفادار بندے…
    یتیموں کے،رانڈوں کے غمخوار بندے…
    رہِ کفر و باطل سے بیزار بندے…
    نشہ میں مئے حق کے سرشار بندے…
    جہالت کی رسمیں مٹا دینے والے…
    کہانت کی بنیاد ڈھا دینے والے…
    سر احکامِ دین پر جھکا دینے والے…
    خدا کے لیئے گھر بار لٹا دینے والے…
    ہر آفت میں سینہ سپر کرنے والے…
    فقط ایک اللّٰہ سے ڈرنے والے…
    ان مہاجرین و انصار نے وفاؤں کا ثبوت بدر و احد میں پیش کیا…
    طائف و حنین میں پیش کیا…
    تبوک و موتہ میں پیش کیا…
    محرم کے مہینہ میں ہی یہ جاں نثار چھلنی اور پھٹے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹ کر غزوہ ذات الرقاع میں وفاؤں کا ثبوت پیش نظر آتے ہیں…!!!
    تاریخ کا سفر جاری رہتا ہے کہ خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ یکم محرم الحرام
    چوبیس ہجری میں ابو لؤلو فیروز نامی مجوسی غلام کے ہاتھوں شہادت کی موت سے ہمکنار ہوتے ہیں…
    وہ عمر جس نے اسلام کا پرچم چہار جانب لہرایا تھا.
    اور دنیا حکمرانی میں کامیابی کے لیئے آج بھی اس کی طرف دیکھتی ہے…!!!
    وہ عظیم لوگ جن پر رب نے اپنی رضا اتار دی ہمارا کام صرف ان نقوش کی پیروی کرنا ہے…
    ان سے محبت رکھنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو کوئی میرے صحابہ سے محبت رکھے،اللّٰہ بھی اس سے محبت رکھے گا،اور جو کوئی ان سے دشمنی رکھے گا تو اللّٰہ اس سے دشمنی رکھے گا…”(صحیح بخاری)۔
    اختلافات در اختلافات نے امت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا…
    ہمیں حقائق کی روشنی میں معاشرے میں برداشت اور اصلاح کی ترویج کرنی چاہیئے…!!!
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میرے صحابہ کو برا نہ کہو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر لے،تو میرے صحابہ کے مُد یا آدھے مُد کے ثواب کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا…”(صحیح بخاری)۔
    یہی وہ جماعت تھی جن کی دن رات کی محنت اور قربانیوں کی بدولت اللّٰہ کا دین دنیا کے کونے کونے میں پہنچا…!!!
    جنہوں نے ہر مصیبت کو محبتِ رسول میں قبول کیا
    61ہجری محرم الحرام میں تاریخ کے صفحات پر وہ دلدوز داستان رقم ہے جب نواسۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم جگر گوشۂ بتول حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سازشی اور فتنہ پرداز ٹولے کے ہاتھوں کربلا کے میدان میں شہادت کا عظیم رتبہ پاتے ہیں…
    کوفیوں کی بد عہدی اور بے وفائی کوفی لا یوفی کی مثال بن گئی۔
    وہ حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ جنہیں اللّٰہ کے رسول نے نوجوانانِ جنت کا سردار کہا…
    جن کے بارے میں فرمایا:
    حسین مجھ سے ہے اور میں حسین ہوں،جو حسین سے محبت کرے،اللہ اس سے محبت کرے…” (سنن الترمذی)۔
    قاتلوں کے تھے جو خنجر…
    وہ دل تھے کیسے بنجر…
    نبی کی گود میں پلے…
    جہاں نشانہ حسین ہیں…!!!
    *تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت و لکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانو یعملون¤*
    اسی طرح محرم الحرام میں نیک عمل بالخصوص روزوں کی بڑی فضیلت ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے بعد افضل ترین روزے محرم کے ہیں…(صحیح مسلم)۔
    یومِ عاشورہ کے روزے کے بارے میں فرمایا:
    یکفر السنہ الماضیۃ…(صحیح مسلم)۔
    یہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے…”
    ہمیں ہر ممکن نیک اعمال بجا لانے اور ان کی قبولیت کی دعا کرتے رہنا چاہیئے وہ اعمال جو خالص اللّٰہ تعالٰی کی رضا کے لیئے اور سنت کے مطابق ہوں…
    کسی بھی اچھے عمل کی قبولیت کی یہ دو بنیادی شرائط ہیں…!!!
    صِدقِ خلیل بھی ہےعشق صبرِحُسینؑ بھی ہے عشق
    معرکۂ وجود میں بدر و حُنَین بھی ہے عشق…!!!
    ================================

  • ‏ہم بطور نام کے مسلمان تحریر: فروا نذیر

    ‏ہم بطور نام کے مسلمان تحریر: فروا نذیر

    میری یہ تحریر ہمارے معاشرے کے برائے نام مسلمانوں کے لئے ہے۔ کیونکہ ہم صرف نام کے مسلمان ہو کر کردار کا کفر کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں 95% سے زیادہ لوگ مسلمان ہیں۔ صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں پر ہر مذہب ہر انسان کو کچھ بھی کرنے کی آزادی ہے اور یہ آزادی انسان کو اسلام سے ملی ہے۔

    میں آج آپ سب کے ساتھ کچھ تلخ حقائق پر بات چیت کرنا چاہوں گی جو کہ ہمارے معاشرے کا سیاہ چہرہ ہے اور ہم اپنی اگلی نسل کو ورثے میں ایسا معاشرہ دے رہے ہیں۔

    ہر انسان وہ کام کر رہا ہے جس کو اسلام میں منع فرمایا گیا ہے جیسا کہ:
    • اب ہر دوسرے دن قتل ہو رہا ہے کبھی بچوں کا، کبھی بڑوں کا اور کبھی عورتوں کا۔
    • لڑائی جھگڑے عام ہیں۔
    • • گانے بجانے اور رقص و سرور کی محفلیں غیر معیوب ہو چکی ہیں۔
    میڈیا کے ذریعے نازیبا اور فحش مواد گھر گھر تک پہنچ چکا ہے۔

    • عورت کا مطلب ہے پردہ میں مخفی چیز۔۔۔ مانا کہ اگر مجبوری ہو تو عورت کو ملازمت کرنی چاہیے جس کی اسلام میں اجازت ہے۔
    • لیکن جہاں اسلام نے عورت کو عزت دی ہے وہ سب اسلام کے نام نازیبا لباس پہن کر میڈیا پر آتی ہیں ناچ گانا کر رہی ہیں۔ مردوں کے ساتھ تعلقات عام ہیں۔ پردے کا نام و نشان نہیں ہے یہاں تک کہ کپڑے ہی مکمل نہیں ہوتے۔
    اور یہی حال مردوں کا بھی ہے وہ سب بھی اسی طرح عورت کے ساتھ مل کر میڈیا پر ناچ گانا کر رہے ہیں ہر وہ کام کر رہے ہیں جس سے منع فرمایا گیا ہے۔

    • ہم سب کو اسلام میں بیہودہ چیزیں دیکھنے سننے اور کرنے سے منع کیا گیا ہے لیکن ہم وہ سب دیکھتے سنتے اور کرتے ہیں۔
    • اسلام میں زنا شراب نوشی یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ لیکن یہ سب ہورہا ہے۔ اسلام میں سختی سے کہا گیا ہے کہ تم زنا کے قریب بھی نہ جاؤ لیکن انسان اتنے جاہل اور ان پڑھ ہو چکے ہیں کہ اسلام کو بھلا چکے ہیں۔
    • اگر تمہیں کوئی پسند ہے تو تم زنا کی بجائے اس سے نکاح کرو۔ پاکیزہ رشتہ اختیار کرو۔
    • لیکن انسان ہمیشہ برائی کا راستہ اپناتا ہے۔
    • اسلام میں یہ گالم گلوچ، جھوٹ بولنا، نا انصافی کرنا، گانے سننا، ایک دوسرے کے ساتھ برا سلوک کرنا، حسد کرنا، غریب لوگوں کا احساس نہ کرنا، بڑوں سے بدتمیزی کرنا، چھوٹوں کا خیال نہ رکھنا، بچوں کے ساتھ ریپ کرنا، دوسروں کی عزت کو داغدار کرنا، دوسروں کی بہنوں بیٹیوں کا خیال نہ کرنا، اور کچھ عورتوں کا کسی کے بھائی بیٹے کا خیال نہ کرنا۔
    یہ سب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہورہا ہے کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کام ہم مسلمان ہوتے ہوئے کر رہے ہیں۔ ہم بس نام کے ہی مسلمان رہ گئے ہیں۔

    اگر کوئی ناموس رسالت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) پر کچھ بول دیں تو اس وقت لوگوں کا ایمان جاگتا ہے۔
    نبی کیلیے سب لڑتے ہیں، جھگڑتے ہیں، مرتے ہیں۔ لیکن عمل نہیں کرتے تو کس حیثیت سے مسلمان کہلاتے ہیں سب جب کوئی عمل نہیں کچھ نہیں
    مجالس میں ہزاروں عاشقانِ رسول اور عزادارانِ حسین ہوتے ہیں لیکن نماز کے لئے ایک صف بھی مشکل سے مکمل ہوتی ہے۔ بچے 10 سال کے ہو جائیں پھر بھی نہ انہیں نماز آتی ہے اور نہ ہی پڑھتے ہیں۔ ان سب کو خیال ہی نہیں کہ نماز اسلام کا سب سے اہم رکن ہے۔ قبر میں نماز کے بارے میں سب سے پہلے سوال کیا جائے گا۔

    کیا یہ سب ہوتے ہوئے اسلامی نظام اور اسلامی معاشرہ کہنے کے قابل ہیں ؟ کیا ان سب کو انسان کہنے کے قابل ہیں۔

    میں یہ سب لوگوں کو نہیں کہہ رہی ہوں۔ یہ سب میں انکو کہہ رہی ہوں، ان کے بارے میں لکھ رہی جو یہ سب کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو بہت اچھے ہیں، نماز کے پابند ہیں اور اسلامی تعلیمات پر چلتے ہیں۔

    یہ میری تحریر صرف ان لوگوں کیلیے ہے جو اس معاشرے کو بگاڑ رہے ہیں۔ اور ان کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ ہر چیز کے بارے میں قانون رائج ہونا چاہیے اور بروقت سزا دینی چاہیے تاکہ برائیوں کا خاتمہ ہوسکے۔

    میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہ ہے ہم سب مسلمان اپنے آپ کو پرکھیں، اپنا جائزہ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ اور کس طرح سے کر رہے ہیں؟ کیونکہ ایک انسان اپنے آپ کو جانتا پہچانتا ہے اور اپنے آپ کو ٹھیک کر سکتا ہے۔

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو نیک سیرت والا بنائے، سیدھے راستے پر اور نبی کی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    آمین ثمہ امین

    Twitter id: ‎@InvisibleFari_

  • حضرت عمر فاروق کی عظمت

    حضرت عمر فاروق کی عظمت

    حضرت عمر فاروق ؓ عشرہ مبشرہ میں سے ایک صحابی رسولﷺ ہیں جو مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ ہیں آپ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں 583ہجری میں ہوئی۔
    نام۔ عمر
    والد کا نام۔ خطاب
    والدہ کا نام۔ خنتمہ
    جو ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں
    ابو بکر صدیق ؓ کی وفات کے بعد 22 جمادی الثانی سنہ 13ہجری کو مسند خلافت پر فائز ہوئے، آج بھی عمر بن خطاب ؓ ایک انصاف پسند عادل حکمران تسلیم کیے جاتے ہیں۔ سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ رض تاریخ اسلام کی وہ نامور شخصیت ہیں جو بہادری کی وجہ سے اسلام کے قبول کرنے سے پہلے ہی مشہور تھے۔ امام ترمذی رحمة اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کی اسی وجہ سے حضرت محمدﷺ نے بحضور الٰہی التجا کی کہ اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام میں سے اپنے پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔ اللہ رب العزت نے حضرت محمدﷺ کی دعا قبول کی اور سیدنا عمر بن خطاب ؓ کے ذریعے اسلام کو عزت دی۔ آپ ؓ کے قبول اسلام سے قبل مسلمان مشرکین قریش سے چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے لیکن جب آپ ؓ نے اسلام قبول کیا تو آپ نے اعلان کیا کہ آج سے مسلمان اپنی عبادات علی الاعلان کریں گے۔
    عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں کہ:”بے شک سیدنا عمر ؓ کا قبول اسلام ہمارے لئے فتح تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے مگر حضرت عمر ؓ کی وجہ سے ہم نے مشرکین کا مقابلہ کیا اور خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنا شروع کیں۔”
    اسی دن سے سیدنا عمر ؓ کا لقب فاروق رکھ دیا گیا یعنی حق وباطل میں فرق کرنے والا۔ آپ کو لقب فاروق اور کنیت ابو حفص دونوں حضورﷺ نے عطا کیے ہیں۔
    ہجرت کے وقت کا واقعہ:
    کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہ کی۔
    آپ نے تلوار ہاتھ میں لی اور کعبہ کا طواف کیا پھر کفار سے مخاطب ہو کر فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی بیوہ اور اس کے بچے یتیم ہو جائیں تو وہ مکہ سے باہر آ کر میرا راستہ روکے، مگر کسی کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ راستہ روک سکے۔
    قبول اسلام کے بعد آپ کا حضور ﷺ سے ایسی محبت تھی کہ جس کی مثال کہیں نہیں ملتی ہے ایک مرتبہ ایک مسلمان اور یہودی کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا اس تنازع کے حل کے لیے وہ دونوں حضور حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوئے حضور ﷺ نے دلیلوں کی بنیاد پر یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا مگر وہ مسلمان اس فیصلے پر مطمئن نہیں ہوا تو اس نے سوچا کہ یہ مقدمہ حضرت عمر فاروق کے پاس لے جاتا ہوں وہ اسلام کی وجہ سے ہمارے حق میں فیصلہ کر دیں گے مگر جب آپ کو معلوم ہوا کہ اس مقدمے کا فیصلہ پہلے سے حضور ﷺ کر چکے ہیں، تو فوراً تلوار اٹھائی اور اس مسلمان کا سر قلم کر دیا جس مسلمان نے حضور ﷺ کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا تھا
    رسول اللہﷺ نے حضرت عمر فاروق ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے آپ جس راستے پر چلتے ہیں شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے
    آپؓ کے دسترخوان پر کھبی دو سالن نظر نہیں آئے آپؓ سر کے نیچے اینٹ رکھ کر خالی زمین پر بھی سو جاتے تھے۔ آپ کے کپڑے میں چودہ پیوند لگے ہوئے تھے
    ایک مرتبہ عمر فاروقؓ مسجد میں منبر رسولﷺ پر کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک بندہ کھڑا ہوا اور کہنے لگا ” اے عمرؓ ہم تیرا خطبہ نہیں سنیں گے جب تک آپ ہمیں یہ نہ بتاؤ کہ یہ جو تم نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں یہ کپڑا آپ کے پاس زیادہ کہاں سے آیا حالانکہ جو بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہوا وہ تو کم تھا تو اس وقت حضرت عمر فاروقؓ نے کہا کہ مسجد میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے تو فوراً عبداللہ بن عمرؓ کھڑے ہو گئے تو اس وقت حضرت عمر فاروقؓ بولے بیٹا بتاؤ تیرے باپ نے یہ کپڑا کہاں سے لایا ہوں ورنہ میں کھبی بھی اس منبر رسولﷺ پر کھڑا نہیں ہوں گا پھر ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر فاروقؓ نے بتایا کہ بابا جان کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت کم تھا اس سے ان کے پورے کپڑے تیار نہیں ہو سکتے تھے اور ان کے پاس پہننے والا لباس بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد محترم کو دیا
    جن کے بارے میں کفار اعتراف کرتے ہیں کہ اسلام میں اگر ایک عمر اور آتا تو آج پوری دنیا میں صرف اسلام پھیلا ہوتا۔
    آپﷺ نے حضرت عمر فاروق کے بارے میں فرمایا تھا میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر فاروقؓ ہوتا
    27 ذی الحجہ کو
    خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق ؓ کو نماز فجر میں خنجر سے زخمی کیا گیا،
    جو 4 دن بعد یکم محرم کوجام شہادت نوش فرماگئے۔