Baaghi TV

Category: مذہب

  • پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ بے نمازیوں کو نماز کی طرف راغب کیسے کر سکتے ہیں؟

    برصغیر کے علاوہ آپ کہیں بھی چلے جائیں ایک واضح فرق یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہاں مسلمان تعداد میں کم ہونے کے باوجود بھی مساجد بھری ہوئی ملتی ہیں۔ جبکہ یہاں پاکستان میں حال یہ ہے کہ جمعہ کی نماز پر کسی بھی مسجد میں جگہ نہیں ملتی جب کہ کسی بھی دوسری نماز پر ایک بھی صف پوری نہیں ہوتی۔ اس کی وجوہات اور ان کے حل پر لکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم زیادہ لوگوں کو نماز کی طرف راغب کر سکیں۔

    اس کی وجوہات جو مجھے سمجھ آتی ہیں ان میں یہ تین بہت اہم ہیں۔

    1۔ نماز کی قدرو منزلت واہمیت۔۔۔ نہ پڑھنے کی وعید

    کسی بھی کام کے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بندے کو اس کی قدرو منزلت واہمیت کا ادراک ہو۔ وہ کام دین سے متعلق ہو تو اس کے کرنے کی صورت میں اجروثواب اور نہ کرنے کا گناہ وعذاب کے بارے معلوم ہو۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب بہت کم لوگ دین سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگوں کے دین سیکھنے کا واحد ذریعہ یا تو عصری کتب میں موجود چند ایک اسلامی مضامین ہیں یا جمعہ کہ خطبات۔ عصری تعلیم میں چند ایک واجبی سی باتوں کے علاوہ کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو دین کی صحیح تعلیم دے سکے۔ جمعہ کے خطبات میں مولویوں کو مسلکی لڑائیوں سے ہی فرصت ہی نہیں ہے۔ قرآن مجید ہی کوئی نہیں کھولتا تو احادیث کی کتب کا مطالعہ کون کرے گا۔

    کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ قرآن پاک اور سنت میں سب سے زیادہ تاکید اور حکم نماز کے بارے ہی ہے اور اس کو کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑ سکتے۔ یہاں تک کہ بیمار ، معذور، لاغر حتیٰ کہ موت کے منہ میں پہنچے ہوئے کو بھی نماز معاف نہیں ہے۔ سب سے پہلے اسی کے بارے ہی سوال ہونا ہے۔ خدانخواستہ ہم پہلے ہی سوال میں فیل ہو گئے تو پھر کیسے کامیابی ملے گی؟

    2۔ فرض نماز کتنی ہے؟فرض نماز پر کتنا وقت لگتا ہے؟ کوئی سنت نماز نہ پڑھے تو گناہ ہو گا؟

    دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو فرض، سنت ، نفل کا فرق معلوم نہیں ہے اور اکثریت کے نزدیک عشاء کی سترہ اور ظہر کی بارہ رکعت پڑھنی لازم ہیں۔ فرانس میں عربیوں کا دیکھتا تھا کہ سخت سردی میں بھی جماعت کے لیے لازمی مسجد آتے تھے لیکن فرض پڑھتے ہی نکل کر کام میں لگ جاتے تھے۔ تب بڑا غصہ آتا تھا کہ سنت پڑھتے ہی نہیں۔ شروع میں مساجد سے آئمہ کرام سے اس بابت پوچھا تو جواب ملا کہ سنت چھوڑنے پر گناہ ہو گا۔ جب خود مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ سنت نماز دراصل نوافل ہیں ، کچھ وہ (سنت مؤکدہ )جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لازمی پڑھتے تھے اور کچھ وہ جو کبھی پڑھ لیتے تھے کبھی نہیں۔ ان سب کی تاکید تو کی ہے اور بہت زیادہ ثواب بھی بتایا ہے لیکن حکم نہیں ہے۔ یعنی پڑھیں تو بہت ہی زیادہ اجروثواب ہے لیکن کوئی نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہے۔ بعد میں علماء کرام سے پوچھا تو دیوبندی اور اہل حدیث علماء کرام نے اس کی تصدیق کی کہ کوئی سنت مؤکدہ بغیر کسی وجہ کے بھی نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہوگا۔ اور نوافل تو پتہ نہیں کس نے شامل کر دیے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اکثر دیکھتا ہوں کہ یہ فرق معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ جلدی جلدی پڑھنے لگے ہوتے ہیں حالانکہ وقت کی کمی ہے تو صرف فرض پڑھ لیں لیکن سکون سے پڑھیں۔ گھر میں اکثر خواتین کو خشوع وخضوع کی بجائے بس جلدی جلدی ختم کرتے دیکھتا ہوں۔

    بے نمازیوں کو اگر یہ بتا دیا جائے کہ صرف پانچوں فرض نمازوں کی سترہ فرض کی رکعتیں ہیں جن کی باز پرس ہونی ہے اور وہ لازمی پڑھنی ہیں اور باقی پڑھو یا نہ پڑھو تو ان کی اکثریت جماعت کے ساتھ نماز کا اہتمام کر لے گی۔ سنت ونوافل کی اہمیت بہت ہے اور اس کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ جو کمی کوتاہی ہماری نماز میں رہ گئی ہو اس کے لیے ہمارے سنت ونوافل کام آجائیں لیکن کبھی وقت کی کمی ہو یا جلدی ہو تو صرف فرض پڑھ لیں۔

    اور بے نمازی لوگ پہلے صرف فرضوں کا اہتمام کر لیں پھر جب نماز کی عادت پختہ ہو جائے تو سنت ونوافل کے اہتمام کی کوشش کر لیں۔ یاد رہے کہ فرض نماز کا جہاں بھی قرآن وسنت میں تذکرہ ملے گا تو واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پڑھنے پر کیا اجروثواب ہے اور نہ پڑھنے پر کیا عذاب و وعید۔ لیکن سنت ونوافل کی بات جہاں بھی کی گئی ہے صرف اور صرف اجروثواب کا ذکرہے، کہیں بھی اشارے کنایوں میں بھی گناہ یا وعید کا تذکرہ بھی نہیں ہے۔

    3۔شفاعت کا غلط تصور

    برصغیر کے لوگوں کا اپنا من پسند اسلام ہے۔اکثریت کی سوچ یہ ہے کہ ہم کچھ بھی کرتے رہیں، چاہے دین کے کسی بھی حکم پر عمل نہ کریں پھر بھی ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو جائے گی اور ہمیں تو جنت سب سے پہلے ملنی ہے۔ پھر اس پر مستہزاد یہ کہ پیروں فقیروں سے امیدیں کہ وہ بخشش کروا دیں گے۔ اس کے لیے یہ بھی نہیں سوچتے کہ جس رب کی وہ دن میں پانچ بار نافرمانی کررہے ہیں اور حکم عدولی کر رہے ہیں اس رب کے سامنے کوئی ان کی شفاعت کیونکر کر سکے گا؟

    شفاعت اس کی تو ہو سکتی ہے جس سےجانے انجانے یا بشری کمزوریوں کی وجہ سےگناہ ہو گئے ہوں لیکن ایک عادی نافرمان اور جانتے بوجھنے حکم عدولی کرنے والا خود کو اس کا مستحق کیسے سمجھ سکتا ہے۔

    اگر خدانخواستہ آپ نماز کی پابندی نہیں کرتے تو آج سے ہی اس کا اہتمام کیجیے۔ ابھی صرف فرض اور وترنماز پڑھنا شروع کردیں۔ پھر سنتوں کا اہتمام کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ضرور دے گا انشاءاللہ۔

  • گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ —  ڈاکٹرعدنان نیازی

    گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ یا پاکستان میں نمازی خواتین گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں ہے؟
    اگر یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں تو پھر خواتین کے لیے نماز کی جگہ کیوں نہیں بنائی جاتی؟

    یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر شاید ہی کسی نے بات کی ہو لیکن ہر روز لاکھوں خواتین کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موٹروے کے علاوہ آپ پاکستان کی کسی بھی سڑک پر کسی بھی علاقے میں سفر کر لیں یا پاکستان کے کسی بھی بازار میں چلے جائیں، یا کسی پارک یا ٹورسٹک پوائنٹ پر چلے جائیں، ہر جگہ آپ کو مردوں کے لیے جا بجا مساجد نظر آتی ہیں لیکن ان میں شاید ہی کوئی ایسی مسجد ملے جس میں خواتین کے لیے بھی مخصوص جگہ ہو جہاں وہ نماز پڑھ سکیں۔ ہاں جو غیر ملکیوں نے بنائی ہو گی جیسے موٹروے، کوئی ملٹی نیشنل پلازہ یا شاپنگ مال، یا غیر ملکی بڑا پٹرول پمپ، وہاں ایسی مساجد بھی مل جائیں گی۔

    حالانکہ نماز کے لیے جتنی فرضیت مسلمان مردوں پر ہے اتنی ہی خواتین پر ہے۔ خواتین کے لیے گھر میں پڑھنا افضل ہے لیکن یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ خواتین جہاں بھی ہوں ، نماز کا وقت ہوتے ہی فوراً سے گھر پہنچیں اور پھر نماز ادا کریں؟

    اگر کسی مسجد میں کچھ حصہ پردے وغیرہ لگا کر خواتین کے لیے مختص کر دیا جائے جیسا یورپ میں عام طور پر ہوتا ہے یا پھر مسجد کا ایک مکمل الگ حصہ بنا دیا جائے جیسا کہ موٹروے پر آپ دیکھ سکتے ہیں تو اس سے لاکھوں خواتین کی نماز قضاء ہونے سے رہ جائے گی۔ اور اکثر دیکھتا ہوں کہ جب اس طرح خواتین کی کچھ نمازیں قضاء ہونا شروع ہوتی ہیں تو رفتہ رفتہ وہ سستی کی وجہ سے وہ نمازیں بھی ترک کرنا شروع کر دیتی ہیں جو وہ پڑھ سکتی ہیں کیونکہ وہ جو نماز چھوڑنے پر گناہ کا اور ندامت کا احساس ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ کم ہو کر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ نمازیں ان کی نہیں بلکہ معاشرے کی غلطی کی وجہ سے قضاء ہو رہی ہوتی ہیں۔

    نمازی خواتین کی جو اس طرح نمازیں قضاء ہوتی ہیں اس پر انھیں تو شاید اللہ تعالیٰ معاف کر دے گالیکن ہم سب اس میں قصوروار ضرور ہونگے اور اس میں ہمارا دینی طبقہ اور علماء کرام خاص طور پر پکڑے جائیں گے جو ہر گلی میں ہر مسلک کی الگ الگ مسجد تو بنا دیتے ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں کرتے کہ ان میں سے کسی مسجد کا تھوڑا سا حصہ خواتین کے لیے مختص کر دیں۔

    احباب سے گزارش کروں گا کہ اس پر آواز بھی اٹھائیں، اور جب بھی کسی مسجد کو چندہ دیں تو وہاں بھی یہ بات ضرور کریں۔ یہ خواتین کا دینی حق ہے کہ وہ مجبوری کی حالت میں گھر سے باہر بآسانی نماز پڑھ سکیں۔ خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے اس پر کبھی بات نہیں کریں گے، ہمیں ہی اس پر بات کرنی ہے۔

  • مال خرچ کرنے کی توفیق!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مال خرچ کرنے کی توفیق!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مال وزر کمانے کی توفیق جیسے سب کو برابر نہیں ملتی ایسے ہی مال خرچ کرنے کی توفیق بھی ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ ہر کسی کو مال و زر کی محبت سے بچائے رکھے کیونکہ جو مال و زر کی محبت میں مبتلا ہو جائے اس کا دھیان ہر وقت مال کمانے میں لگا رہتا ہے اور مال خرچ کرتے ہوئے اسے موت پڑتی ہے۔

    آپ جو بھی کما رہے ہوں، اس کو ہمیشہ دو حصوں میں تقسیم کریں، ایک حصہ آج کے لیے اور دوسرا حصہ کل کے لیے۔ جو حصہ آج کے لیے ہے اس کے مزید دو حصے ہونگے، ایک حصہ اپنے اوپر خرچ کریں اور دوسرا حصہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں ۔ اسی طرح جو حصہ کل کے لیے ہے اس کے بھی مزید دو حصے ہونگے، ایک حصہ اس دنیا میں اپنے کل کے لیے بچائیں اور دوسرا حصہ آخرت میں اپنے کل کے لیے غریبوں مسکینوں پر خرچ کریں۔

    اگر آپ کی آمدن کم ہے تو جو حصہ غریبوں مسکینوں پر خرچ کرنا ہے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں تو اس کے ثواب کے بھی مستحق ٹھہریں گے اور جو حصہ اس دنیا میں اپنے لیے بچا رہے وہ بھی اسی لیے ہے کہ جب ضرورت ہو اس میں سے خرچ کر لیاجائے۔

    اکثر لوگ ان میں سے کوئی نہ کوئی بے اعتدالیاں کرتے ہیں۔ جیسے کچھ لوگ سب کچھ ہی اپنے اہل و عیال پر خرچ کر دیتے ہیں لیکن خود پر کچھ خرچ نہیں کرتے۔ یہ درست رویہ نہیں ہے، جو کما رہے ہیں اس میں سے خود پر بھی خرچ کرنا سیکھیں۔ ایسے ہی کچھ لوگ کل کے لیے ہی بچا کر رکھنا چاہتے ہیں اور حد درجہ کنجوسی کرتے ہیں۔ ایک چوتھائی سے زیادہ اگر آپ بچا رہے ہیں تو کنجوسی کے زمرے میں ہی آئے گا کیونکہ آپ کی آمدن کے لحاظ سے آپ کا آج بہتر ہونا ضروری ہے، پہلے آج ہے اور بعد میں کل۔

    ایسے ہی ضرورت کے تحت صدقہ والا حصہ بھی اہل و عیال پر خرچ کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ضرورت ہے یا فضول خرچی۔ ضرورت ہو تو یہ خرچ بھی باعث ثواب ہو گا اور فضول خرچی ہوئی تو وبال کا باعث۔

    صدقے والے حصہ میں یہ یاد رکھیں کہ سب سے زیادہ حق آپ کے غریب رشتہ داروں کا ہے، اس کے بعد محلے والوں کا اور اس کے بعد کسی اور کا۔

    اللہ ہمیں اپنے دیے ہوئے مال میں سے صحیح طریقے سے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • اللہ مسبب الاسباب ہے!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    اللہ مسبب الاسباب ہے!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    یہ تقریباً سولہ سال پہلے کا واقعہ ہے جب زرعی یونیورسٹی میں بی ایس سی میں پڑھتا تھا۔ مہینے میں ایک بار فیصل آباد سےاپنے گاؤں فتح پور لیہ جانا ہوتا تھا۔فیصل آباد سے فتح پور تب ایک ہی اے سی ٹائم جاتا تھا خواجہ ٹریولز سے ڈیڑھ بجے۔ اگر کبھی یہ مس ہو جاتا تھا تو بہت خوار ہو کر جانا پڑتا تھا۔ تب عید کا یا محرم کا موقع تھا۔ ایسے مواقع پر ہوسٹلز بند ہو جاتے تھے اس لیے لازمی جانا ہوتا تھا سب کو۔

    میں نے فون پر ہی سیٹ بک کروا لی تھی۔ کلاس لے کر آیا تو جلدی جلدی کھانا کھایا اور بیگ اٹھا کر زیرو پوائنٹ تک پہنچتے پہنچتے ایک بج چکا تھا۔ عام طور پر زیرو پوائنٹ سے یا تو رکشہ مل جاتا تھا یا پھر موٹرسائیکل پر مین گیٹ یا جی پی گیٹ تک لفٹ مل جاتی تھی اور وہاں سے رکشہ لے لیتے تھے۔ لیکن اس دن نہ کوئی رکشہ خالی ملا نہ ہی کوئی لفٹ۔ سوا ایک ہوا تو اب مجھے پریشانی ہونے لگی۔ مزید ایک دو منٹ گزرے تو اب مجھے لگا کہ اگر فوراً سے رکشہ نہ ملا تو نہیں پہنچ پاؤں گا۔

    یہ گاڑی مس ہو جاتی تو پھر کوئی اور نان اے سی بھی نہیں ملنی تھی کیوں کہ سب فل ہو نی تھیں۔ اس لیے صدقِ دل سے دعا کی کہ یا اللہ کوئی سبب بنا دے اور مجھے گاڑی تک پہنچا دے۔ اس قدر خشوع وخضوع سے شاید ہی میں نے کبھی دعا کی ہو۔ ابھی دعا کی ہی تھی کہ ایک گاڑی آئی ، میں نے لفٹ مانگی۔ وہ رک گئی۔میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گاڑی میں دو لوگ سوار تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ مجھ سے انھوں نے کچھ نہیں پوچھا کہ کہاں تک جانا۔ میں نے یہی سوچا کہ اگر تو نڑوالا روڈ کی طرف مڑے تو بیٹھا رہوں گا، اگر کسی اور طرف مڑے تو اتر جاؤں گا۔ مین گیٹ سے وہ نڑوالا کی طرف ہی مڑ گئے۔ آگے میں نے یہی سوچا کہ کوتوالی روڈ کی طرف مڑے تو بیٹھا رہوں گا ورنہ کہوں گا کہ اتار دیں۔ وہ عید گاہ روڈ سے ہوتے ہوئے کوتوالی روڈ پر آئے۔ اب مجھے یہی تھا کہ چناب چوک کے پاس اتر جاؤں گا۔ چناب چوک سے پہلے ایک چھوٹا سا روڈ خواجہ ٹریولز کی طرف جاتا ہے وہاں سے تو مڑے اور خواجہ ٹریولز کے سامنے رکے۔

    میری گاڑی بس تیار کھڑی تھی۔ میں جلدی سے کار سے نکلا اور گاڑی کی طرف بھاگا۔ کنڈیکٹر مجھے دیکھتے ہی بولا کہ فلاں سیٹ آپ نے بک کروائی تھی، میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے مجھے گاڑی میں چڑھنے کو کہا اور میرے بس میں داخل ہوتے ہی ڈرائیور نے بس چلا دی۔

    تب مجھے خیال آیا کہ یار کاروالوں کا تو شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ میں نے باہر دیکھا مگر وہ کار جا چکی تھی۔ بڑا افسوس ہوا کہ شکریہ ادا نہیں کر سکا۔مجھے نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ اس ساتھ والے کو اڈے پر چھوڑنے آئے تھے یا پھر کسی کو لینے آئے تھے۔ نہ انھوں نے مجھ سے کوئی بات کی نہ میں نے ان کی باتوں میں کوئی مداخلت کی۔ بس اللہ نے میری دعا کے نتیجے میں ایسا سبب بنایا کہ مجھے پورے وقت پر اڈے پر پہنچا دیا۔

    کیا آپ کےساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ صدقِ دل سے کوئی دعا مانگی ہو اور وہ یوں پوری ہوئی ہو۔ اب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کیسے اس نے میری دعا قبول کی تھی۔

    اس وقت میری پریشانی وہی تھی، چھوٹی تھی یا بڑی مگر یوں اس کا سبب بنے گا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ یقیناً اللہ مسبب الاسباب ہے۔ اگر کوئی بھی پریشانی، دکھ ہے تو اللہ سے سچے دل سے مانگیں۔ وہ ایسے پوری کرے گا کہ جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا۔

  • کیا ہم سب پر تبلیغ فرض ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    کیا ہم سب پر تبلیغ فرض ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ آیت 143 میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ”اُمّتِ وَسَط “بنایا ہے تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رُسول تم پر گواہ ہو۔

    ”اُمتِ وَسَط“ کا لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی دُوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسّط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہواور ناحق، ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔

    کسی شخص یا گروہ کا اس دُنیا میں خدا کی طرف سے گواہی کے منصب پر مامور ہونا ہی درحقیقت اس کا امامت اور پیشوائی کے مقام پر سرفراز کیا جانا ہے۔

    اس میں جہاں فضیلت اور سرفرازی ہے وہیں ذمّہ داری کا بہت بڑا بار بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح رسُول صلی اللہ علیہ وسلم اس اُمّت کے لیے خدا ترسی ، راست روی، عدالت اور حق پرستی کی زندہ شہادت بنے، اسی طرح اِس اُمّت کو بھی تمام دُنیا کے لیے زندہ شہادت بننا چاہیے، حتّٰی کہ اس کے قول اور عمل اور برتا ؤ ، ہر چیز کو دیکھ کر دُنیا کو معلوم ہو کہ خدا ترسی اس کا نام ہے، راست روی یہ ہے، عدالت اس کو کہتے ہیں اور حق پرستی ایسی ہوتی ہے۔

    پھر اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جس طرح خدا کی ہدایت ہم تک پہنچانے کے لیے رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمّہ داری بڑی سخت تھی، اُسی طرح دُنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے کی نہایت سخت ذمّہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم خدا کی عدالت میں واقعی اس بات کی شہادت نہ دے سکے کہ ہم نے تیری ہدایت ، جو تیرے رسُول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہمیں پہنچی تھی ، تیرے بندوں تک پہنچا دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے، تو ہم بہت بُری طرح پکڑے جائیں گے اور یہی امامت کا فخر ہمیں وہاں لے ڈوبے گا۔

    ہماری امامت کے دَور میں ہماری واقعی کوتاہیوں کے سبب سے خیال اور عمل کی جتنی گمراہیاں دُنیا میں پھیلی ہیں اور جتنے فساد اور فتنے خدا کی زمین میں برپا ہوئے ہیں، اُن سب کے لیے ائمہء شر اور شیاطینِ انس و جِنّ کے ساتھ ساتھ ہم بھی ماخوذ ہوں گے۔

    ہم سے پوچھا جائے گا کہ جب دُنیا میں معصیت ، ظلم اور گمراہی کا یہ طوفان برپا تھا، تو تم کہاں تھے۔
    (تفہیم القرآن)

  • یو ٹیوب چینل کی مونیٹائزیشن جائز ہے یا نہیں؟ —  پروفیسر ایچ ایم زبیر

    یو ٹیوب چینل کی مونیٹائزیشن جائز ہے یا نہیں؟ — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    مفتی تقی عثمانی صاحب نے یو ٹیوب کی مونیٹائزیشن کے ناجائز ہونے کے حوالے سے ایک فتوی دیا ہے جو سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ اس موضوع پر کافی عرصہ پہلے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی تھی جو بنیادی طور برادر مغیرہ لقمان کے ساتھ ایک ٹاک شو ہے۔ میرا ذاتی رجحان یہی ہے کہ مونیٹائزیشن سے بچنا چاہیے اگرچہ میں اب عام طور جدید مسائل میں حلال اور حرام کے الفاظ احتیاط کے پیش نظر استعمال نہیں کرتا ہوں کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ بس اتنا کہہ دیتا ہوں کہ یہ مناسب نہیں لگتا، یا یہ درست نہیں ہے، یا یہ جائز نہیں معلوم ہو رہا، یا بہتر ہے کہ یہ نہ کرے وغیرہ وغیرہ۔ ویڈیو کا لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے۔

    دوسرا اس مسئلے کو دیکھنے کا پہلو صرف حلال حرام کا نہیں ہے۔ آپ دیکھیں کہ انڈین موٹیویشنل اسپیکر سندیپ کا یو ٹیوب چینل 26 ملین سبسکرائبرز کے ساتھ مونیٹائز نہیں ہے حالانکہ حلال حرام اس کا مسئلہ بھی نہیں ہے کہ وہ تو ہندو ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ میری بات کے درمیان ایڈ چل جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ایڈ زیادہ اہم ہو گیا اور میری بات پیچھے رہ گئی۔ میں اپنی بات کی قدر کم نہیں کرنا چاہتا۔ یہی حال بہت سے اور بھی غیر مسلم مشاہیر کا ہے کہ انہوں نے چینل اسی بنیاد پر مونیٹائز نہیں کروایا ہوا۔

    اگرچہ اب یو ٹیوب نے کانٹینٹ کریئیٹرز سے معاہدہ بدل دیا ہے اور نئے معاہدے کے مطابق وہ آپ کے چینل پر ایڈ چلا سکتا ہے لیکن وہ چلاتا نہیں ہے۔اچھے چینل یعنی جس پر سبسکرائبر زیادہ ہو، تو اس پر وہ ہزار میں سے ایک کو ایڈ دکھاتا ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہاں البتہ جس کا چینل نیا ہے تو اس پر زیادہ ایڈز نظر آ سکتے ہیں بھلے وہ مونیٹائز نہ بھی ہو۔ یہ یو ٹیوب کی نئی پالیسی کے مطابق ہے۔ لیکن جیسے جیسے آپ کا سبسکرائبر بڑھے گا تو ایڈ کم ہو جائے گا۔ اگر یو ٹیوب آپ کے چینل پر پچاس فی صد بھی ایڈ چلانا شروع کر دے جبکہ وہ مونیٹائز نہ ہو تو پھر میرا مشورہ ہے کہ آپ اس کو مونیٹائز کروا لیں اور اس کا پیسہ اسی چینل کی مارکیٹنگ اور گروتھ میں لگا دیں۔ یہ درست معلوم ہوتا ہے۔

    فی الحال تو صورت یہ ہے کہ تلاوت قرآن کے چینلز پر واہیات اشتہارات چل رہے ہوتے ہیں۔ تلاوت سنتے سنتے اچانک کوئی بے ہودہ قسم کا اشتہار چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی درست نہیں ہے کہ یو ٹیوب آپ کو وہی اشتہار دکھاتا ہے، جو آپ دیکھتے ہیں۔ کچھ اشتہار تو ایسے ہیں جو ہم سب نے دیکھے ہوں گے اور ہر ویڈیو پر دیکھے ہوں گے جیسا کہ ان ڈرائیو، فوڈ پانڈا، گرلز گرامر وغیرہ وغیرہ کیونکہ اشتہار دکھانے والے نے بھی آئیڈیئنس سیٹ کی ہوتی ہے کہ کسے دکھانا ہے۔ اور عام طور اشتہارات میں میوزک اور عورت ہے۔ پھر آپ اس کو جائز بھی سمجھتے ہوں لیکن کسی درس قرآن یا درس حدیث کے دوران اس کا آ جانا کیسے مناسب ہو سکتا ہے جبکہ انسان یہ بھی پسند نہ کرتا ہو کہ اس کے درس کے دوران کوئی شاگرد یا سامنے بیٹھا ہوا بھی اس کی بات کاٹ دے۔ یہ اشتہارات آپ کی بات کی قدر کم کر دیتے ہیں اور دینی بات کی قدر کم کروانا مناسب امر نہیں ہے۔

    اور جو لوگ مونیٹائزیشن کے جواز کے بھی قائل ہیں، وہ بھی اسے فرض نہ بنا لیں۔ دیکھیں، آج کل کے زمانے میں روپیہ پیسہ کون چھوڑتا ہے، کسے برا لگتا ہے کہ گھر بیٹھے اس کے پاس پیسے آئیں۔ پس اگر کسی نے چینل مونیٹائز نہیں کروایا تو اسے تحسین کی نظر سے دیکھیں کہ کم از کم قیامت کے دن یہ تو کہہ سکتا ہے کہ یا اللہ، آپ کی خاطر یہ روپیہ پیسہ چھوڑ دیا تھا اگرچہ فتوی بھی تھا لیکن مجھے سمجھ ہی یہی آیا تھا کہ یہ پیسہ درست نہیں ہے۔ تو کیا اللہ عزوجل اسے اس تقوی پر آخرت میں کچھ اجر نہ دیں گے جبکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

    پھر جو ہم حدیثیں پڑھتے ہیں کہ حلال بھی واضح ہے، حرام بھی واضح ہے، اور اس کے مابین مشتبہ امور ہیں، جس نے ان سے اپنے آپ کو ان مشتبہ امور سے بچا لیا تو اس نے اپنا دین اور عزت دونوں بچا لیے۔ تو اب یہ کم از کم مشتبہ امور میں تو ہے اور علماء کو مشتبہات سے بھی بچنا چاہیے کہ ان کے مقام اور مرتبے کا تقاضا یہی ہے۔ واللہ اعلم

  • نیل پالش لگی ہو تو وضو کی کیا صورت ہوگی؟ — ابو بکر قدوسی

    نیل پالش لگی ہو تو وضو کی کیا صورت ہوگی؟ — ابو بکر قدوسی

    غامدی صاحب سے سوال پوچھا گیا،

    نیل پالش لگی ہو تو وضو کی کیا صورت ہو گی ۔۔۔۔ تو انہوں نے پہلے ایک اصول بیان کیا کہ

    "اس سے ملتا جلتا کوئی واقعہ ماضی میں گزرا ہو گا تو اس سے استدلال کیا جائے گا”

    اور اس کے بعد محترم نے جرابوں پر مسح کے حکم کو دلیل بناتے ہوئے ” اجتہاد” کیا کہ نیل پالش لگی ہو تو وضو نماز سب ہو جائے گا ۔۔یعنی جب نیل پالش لگے ناخنوں سے گزرے گا تو یہ ایک طرح کا مسح ہو جائے گا ۔

    ان کا مزید فرمانا تھا کہ عورت جب تک نیل پالش نہیں اتارتی تو ” مسحے ” کی یہ صورت یعنی اجازت قائم رہے گی ۔ یعنی سال بھر بھی اگر وہ نیل پالش نہیں اتارتی تو اس کے اوپر ہی اوپر وضو کرتی رہے ۔۔۔ان کا موقف آپ کمنٹس میں دیے گئے لنک پر براہ راست بھی سن سکتے ہیں

    ہمارا کہنا یہ ہے کہ اگر کسی جدید مسلے پر کسی قدیم واقعے سے استدلال کرنا یے تو موصوف نے ان واضح اور صحیح احادیث سے استدلال کیوں نہیں کیا کہ جو اس معاملے میں زیادہ قرین قیاس ہے کہ

    نبی ﷺ کا فرمان ہے :

    عن عبدِالله بنِ عَمرو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ مِنْ مَكَّةَ إِلَى المَدِينَةِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَاءٍ بِالطَّرِيقِ، تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ العَصْرِ، فَتَوَضَّؤُوا وَهُمْ عِجَالٌ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ، وَأعْقَابُهُمْ تَلُوحُ لَمْ يَمَسَّهَا المَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ: «وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أسْبِغُوا الوُضُوءَ. (مسلم :241)

    ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کو واپس لوٹے یہاں تک کہ جس وقت ہم پانی پر پہنچے جو راستہ میں تھا تو کچھ لوگوں نے نماز عصر کے لیے وضو کرنے میں جلدی کی اور وہ لوگ بہت جلدی کرنے والے تھے ، چنانچہ جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں (خشک رہ جانے کی وجہ سے) کیونکہ ان تک پانی نہیں پہنچا تھا (ان خشک ایڑیوں کو دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ کی صورت میں ہلاکت ہے، مکمل طور پر وضو کرو۔

    اس حدیث میں اعضائے وضو کے کسی حصے کے خشک رہ جانے کے سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تنبیہہ کی اور ظاہر سی بات یہ ہے کہ تنبیہ کا سبب لاپروائی کے سبب ایسا کرنا ہے ، اور نیل پالش کا لگا ہونا تو اس سے بھی آگے کی صورت ہے ۔یعنی خاتون کو باقاعدہ علم ہے کہ اس کے ہاتھ کے ناخن بسبب رکاوٹ کے خشک ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ یہ وضو ہو جائے ۔

    اسی طرح دوسری حدیث میں ہے کہ ایک صاحب کا ناخن جتنا حصہ خشک رہ گیا تو آپ نے انہیں دوبارہ وضو کرنے کا حکم دیا ۔۔۔۔
    رأى رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ رجلًا توضَّأَ فترَكَ موضعَ الظُّفرِ على قدمِهِ فأمرَهُ أن يعيدَ الوضوءَ والصَّلاةَ قالَ فرجعَ(صحيح ابن ماجه:546)
    رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اپنے پیر پہ ناخن کے برابر حصہ چھوڑ دیا ۔(یعنی ناخن کے برابر پیر پہ خشک رہ گیا)۔ آپ نے اسے وضو اورنماز لوٹانے کا حکم دیا۔

    یہ بھی یقیناً اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا اہتمام رہا ہو گا کہ حدیث میں ناخن بھر جگہ کا لفظ استعمال ہوا ، یقیناً اللہ سبحانہ وتعالی کو علم تھا کہ آنے والے زمانے میں لوگ آئیں گے اور ناخن بھر جگہ کی رعایت مانگیں گے اور دینے والے انہیں جواز عطا کریں گے ۔۔۔۔

    اب آتے ہیں غامدی صاحب کے مسح کے استدلال کی طرف کہ ان کا فرمانا ہے کہ وضو کر کے نیل پالش لگائی جائے تو مسح کیا جا سکتا ۔۔
    حقیقت یہ ہے کہ وضو کر کے مسح کرنا بالکل ایک الگ معاملہ ہے جس کے احکام واضح ہیں ، اور دل چسپ معاملہ یہ ہے کہ غامدی صاحب اس سے بھی غلط استنباط کر رہے کہ اس میں واضح حکم ہے کہ ایک روز کے لیے مسح کر سکتے ہیں یعنی پانچ نمازیں ۔۔

    جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلّى الله عليه وسلّم- ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ. يعني في المسح عَلَى الخُفَّيْن،،(مسلم برقم:۲۷۶)
    حدیث:رسول اللہﷺنے موزوں پر مسح کے لئے تین دن اور تین رات مسافر کے لئے اور ایک دن اور ایک رات مقیم کے لئے متعین فرمایا ۔
    ۔۔اور موصوف نیل پالش والی خواتین کو لامحدود وقت کے لیے رخصت دے رہے ہیں کہ جب کبھی زندگی میں نیل پالش اتاریں گی تب دوبارہ وضو کر کے لگا لیں ۔۔۔۔۔وگرنہ اس کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے ۔۔

    اب سوال یہ ہے کہ جرابوں کے مسح سے غامدی صاحب نے ناخنوں کا ” مسح ” کا جواز کشید کیا تو اس حدیث سے مدت کیوں نہ کشید کی اور یہاں ذاتی طور پر ” شریعت سازی” کرتے ہوئے نیل پالش لگا کر ” مسح ” کرنے کی مدت کو لامحدود کر دیا ، سوال یہ ہے کہ سوائے ذاتی رائے کو دین بنانے کے اس کی کیا دلیل ہے ؟

    آپ سن لیجیے کہ محترم فرماتے ہیں کہ جب تک نیل پالش نہ اتارے تب تک ناخنوں کا یہ مسح چلتا رہے گا ۔

  • میٹھا میٹھا زہر!!! — ابو بکر قدوسی

    میٹھا میٹھا زہر!!! — ابو بکر قدوسی

    ایک صاحب کی چند برس پہلے سوال جواب کی نشست تھی ، خاتون نے سوال پوچھا کہ کیا مسلمان عورت کسی غیر مسلم سے شادی کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔ تو آسان سا جواب تھا کہ جو شریعت محمد رسول اللہ پر نازل ہوئی ہے اس میں کوئی گنجائش نہیں۔۔۔۔ لیکن ایسے جواب سے موصوف مفتی کی روشن خیالی متاثر ہوتی تھی سو انہوں نے اس خاتون کو میٹھا زہر کھلا دیا ۔

    ان کا جواب یہ تھا کہ شریعت نے شرک سے شادی کو حرام قرار دیا ہے ۔ بظاہر یہ بڑا اچھا جواب ہے اور بہت سے لوگ لوگ اس جواب کے اندر چھپا زہر کھا جائیں اور ان کو معلوم بھی نہ ہو کہ انہوں نے کیا کھایا ہے ۔

    اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس میں زہر کیا ہے ۔ زہر اس میں یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو کہے کہ

    "وہ اللہ کے سوا سوا کسی کو خالق مانتا ہے نہ اس کے سوا کسی کی عبادت کو درست سمجھتا ہے ، لیکن (محمد) کو نبی نہیں مانتا , نہ وہ اللہ کے پیغمبر تھے اور نہ ہی وہ سچے تھے ”

    تو اوپر بیان کردہ اصول کے تحت ایسے شخص سے بھی مسلمان عورت شادی کر سکتی ہے ، کیونکہ یہ شخص مشرک نہیں ہے یا اس دعویٰ واحدانیت پر ایمان کا ہے۔۔۔۔

    یاد رہے کہ وہ سوال کرنے والی خاتون یورپ کے کسی ملک کی مقیم تھی اور اس نے اس سوال کا پس منظر بھی بتایا تھا ۔ اور اس جواب کے تحت خاتون کے لئے راستہ کافی آسان ہوگیا تھا ۔ یہ ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے کے اشارہ ابرو کو دیکھ کر ایسا جواب دے دیا جائے کہ جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔

    جبکہ دین نے اسلام عوام ایسی مداہنت کا ہرگز قائل نہیں نہیں ، وہ صاف سیدھی بات کرتا ہے اور سیدھی بات کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
    اسلام رویے میں نرمی کا قائل ہے نہ کہ لوگوں کے چہرے دیکھ کر اصولوں کو نرم کر لینے کا نام۔۔۔

  • مزاح کا اسلامی تصور — عمر یوسف

    مزاح کا اسلامی تصور — عمر یوسف

    انسان کو طبعی طور پر ایسی مشغولیت بھی درکار ہوتی ہے جس سے اس کو فرحت کا احساس ہو اور وہ ذہنی تھکن اور نفسانی بوجھل پن سے چھٹکارا حاصل کرسکے ۔ قدیم زمانے میں جب انسان ابھی تمدن کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اس وقت بھی انسان اپنے معاصرین کے ساتھ زیادہ وقت بات چیت اور گپ شپ میں گزارتا تھا ۔ آج کا انسان بھی گپ شپ کو کام پر ترجیح دیتا ہے ۔ اسی لیے سائنس انسان کے اس رویے کی وضاحت اسی انداز میں کرتی ہے کہ گپ شپ اور طنز و مزاح پسندی کا رویہ انسان کے آبا و اجداد سے genetically منتقل ہوا ہے ۔ خیر بات دوسری طرف چلی گئی اور اصل بات بیچ میں رہ گئی ۔ یعنی طنز و مزاح کرنا انسان کی فطرت ہے ۔ لیکن اسلامی نکتہ نظر سے مزاح کی حدود و قیود ہیں ۔ اسلام مزاح کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ نبی علیہ السلام اپنے صحابہ کے ساتھ مزاح پر مبنی گفتگو فرمایا کرتے تھے ۔ لیکن موجودہ مزاح کی طرح نہ تو اس میں جھوٹ شامل ہوتا نہ ہی مقابل کی تحقیر ہوتی تھی ۔

    نبی علیہ السلام نے جو مزاح فرمایا اس کی ایک مثال ذیل میں ہے ۔کہ آپ علیہ السلام اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے کھجوریں تناول فرما رہے تھے کہ کھجوروں کی گٹھلیاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھنا شروع کردیں ۔ دیکھا دیکھی صحابہ نے بھی تمام گٹھلیاں حضرت علی رض کے سامنے رکھنا شروع کردیں ۔ جب گٹھلیوں کا ڈھیر حضرت علی کے سامنے لگ گیا تو آپ علیہ السلام نے ہنستے ہوئے ہوچھا علی ساری کھجوریں تم ہی کھاگئے ہو ؟

    یہ بات علی رض نے سنی تو فورا جواب دیا یا رسول اللہ میں تو صرف کھجوریں کھاتا رہا ہوں باقی تو گٹھلیوں سمیت ہی کھا گئے ۔ یہ بات سنی تو رسول اللہ ص کھلکھلا کر ہنسنے لگے ۔

    اس طرح کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں ۔ جس میں خوش طبعی پر مبنی مزاق بھی ہے اور دوسروں کی تحقیر بھی نہیں ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں جو مزاق کی صورتیں ہیں ان میں یا تو جھوٹ ہے یا فحاشی و عریانی پرمبنی باتیں ہیں اور یا دوسروں کی تحقیر کی جاتی ہے ۔

    اور نبی علیہ السلام نے تو یہ واضح فرمادیا کہ جس نے لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولا اس کے لیے ہلاکت ہے ۔

    اسی طرح دوسروں کی تحقیر کے حوالے سے فرمایا کہ اگر تمہارا یہ تحقیر پر مبنی کلمہ سمندر میں ڈال دیا جائے تو سمندر کا پانی کڑوا ہوجائے ۔

    بحثیت مسلمان سوشل میڈیا کے توسط سے آج کا انسان بہت سارا مواد دیکھتا اور شیئر کرتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان دیکھے کہ وہ جو کررہا ہے وہ اس کے شایان شان بھی ہے یا نہیں ۔

  • کیا خدا موجود نہیں؟ — ابو الوفا محمد حماد اثری

    کیا خدا موجود نہیں؟ — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خدا انسانوں پر ہونے والے ظلم کو کیوں نہیں روکتا، لہذا خدا موجود ہی نہیں۔ میں نہیں سمجھا کہ آخر اس شکوے کو نام کیا دیا جاوے۔

    یا تو مانو کہ وہ نہیں ہے، اگر نہیں ہے تو ظلم نا روکنے کا شکوہ کس سے کیا جا رہا ہے، اسی خداوند قدوس سے، جس کا وجود ہی نہیں۔ اور یا مانو کہ وہ ہے، مگر ظلم کو روکتا نہیں ہے، پھر تمہارا سوال بجا ہوجائے گا کہ کیوں نہیں روکتا۔ لیکن اس سوال سے پہلے کا سوال یہ ہوئے گا کہ آخر ظلم نام کس بلا کا ہے، جس کو خدا روکتا نہیں ہے۔

    آپ کہتے ہیں کسی جان کو بے وجہ قت۔ل کرنا تو ظلم ہے۔ ہم کہتے ہیں بجا فرمایا، مگر کس کے لئے؟ مٹی کی ایک سرحد نامی لکیر پاس کرنے پر دوسرے ملک کا سولجر اسے گولی سے بھون دیتا ہے تو ظالم کون ہوا؟ ایک ملک والے جانے والے کو شہی۔د اور دوسرے ملک والے مارنے والے کو غازی بنا دیتے ہیں، اب جس کو ظلم کہنے پر تم متفق ہی نہیں، اسے خدا کیوں روکے؟

    بالفرض انڈیا اگر پاکستان پر حملہ کرتا ہے اور خدا ان کی بندوقوں میں کیڑے ڈال دیتا ہے، ان کے گھوڑے خراب کر دیتا ہے، اور تمہاری بندوقیں بمنزلہ ٹینک بنا دیتا ہے تو انڈیا والوں کے نزدیک تو خود خدا ظلم کی طرف کھڑا ہوگا اور تمہارے نزدیک وہ حق کے ساتھ کھڑا ہوگا، بعینہ یہی قصہ مخالف سمت میں ہوجاتا ہے، تمہاری بندوقوں میں کیڑے اور مخالفین کی بندوقوں میں گولے بھر دے تو پھر تم خدا کو کیا کہو گے؟ گویا جو چیز تمہارے ہاں ظلم ہے، تمہارے ہمسائے کے ہاں حق کی فتح ہے۔

    تم کہتے ہو کسی کے پیسے ہتھیا لینا ظلم ہے، لہذا خدا کو روکنا چاہئے، تو گویا خدا کو سود کے پیسوں کو آگ لگا دینی چاہئے، پھر تم سود پر لڑو گے کہ کون سے سود والے پیسوں کو آگ لگائے، غامدی صاحب کی تعریف سود کے مطابق یا روایتی مولوی کی تعریف کے مطابق؟

    ہمیں لگتا ہے کہ ٹیکس انسانیت پر ظلم ہے اور تم کہتے ہو کہ ملک کی معیشت چلانے کے لئے ٹیکس کا لینا فرض و واجب اور ٹیکس دینے والا تمہارا ہیرو ہے۔ اب بتاو وہ ٹیکس لینے والے کو روکے یا ٹیکس نا دینے والے کو روکے؟ کون سے والے ظلم کو روکے؟

    جانور کو ذبح کرنا ایک جیتی جان کو مار دینا ظلم ہے یا نہیں ہے؟
    انسانوں پر دواوں کے تجربات کرنا ظلم ہے یا نہیں ہے؟

    اللہ کی زمین ہر لکیریں کھینچ کر اسے اپنی ملکیت قرار دینا اور پھر اس پر اپنا حق یوں جتانا کہ وہاں قدم رکھ دینے والا غدار کہلایا جائے، جاسوس کہا جائے اور پھر اسے جان سے جانا پڑے ظلم ہے یا نہیں ہے؟

    سوال تو پھر سوال ہے، پیدا ہوگا تو جواب لے کر لوٹے گا کہ وہ کس ظلم کو روکے؟ کون سی چیز ہے جس کو ظلم کہنے پر تم انسانوں کا اتفاق ہوچکا ہے۔ اور اسے کس چیز کو روکنا ہوگا؟

    جان لو کہ پوری مخلوق اس کا کنبہ ہے، اور اس نے اپنی اس مخلوق کو بہ طور امتحان دنیا میں بھیجا ہے۔ اب یہاں جو جس پر ظلم کرتا ہے، خدا کی رضا سے نہیں کرتا، بلکہ اس کے روکنے کے باوجود کرتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ ہر ظلم کا بدلہ دیا جائے گا، کل اس کی عدالت میں کھلے گا کہ کیا چیز ظلم تھی اور کیا چیز جہ۔اد تھی، فساد کیا تھا مظلومیت کیا تھی، جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا۔ تب جب دلائل وافر ہوں گے تو ان تمام چیزوں کا بدلہ دے دیا جائے گا۔ یہی اس کا اصول ہے اور یہی اس کے اصولوں کے قرین قیاس ہے۔