Baaghi TV

Category: مذہب

  • حضور  ﷺ  آپ سا کوئی نہیں — ابو بکر قدوسی

    حضور ﷺ آپ سا کوئی نہیں — ابو بکر قدوسی

    اس کو بہت دن سے تلاش تھی ، تلاش کہ ماہ کنعان کے بعد چاند کدھر کو نکلا ۔ تلاش ، کہ اس دور ابراہیم کس گھر میں اترے ، تلاش کہ اب کے سراج منیر کس بستی کے افق پر طلوع ہوتا ہے ……..سو تلاش میں وہ بارہا ہمارے حضور کے ہاں بھی چلا آتا …

    ہر دن اس کے اندر روشنیوں کا شہر آباد ہو رہا تھا ….. لیکن کچھ بے کلی کہ پرکھوں کے اور نسلوں کے عقاید آسانی سے بدلنا کہاں ممکن ہوتا ہے ؟

    سو تلاش مزید تلاش میں بدل رہی تھی ……

    ایک روز مجلس جمی تھی کہ دور دراز سے ایک آدمی ہمارے حضور کی مجلس میں آیا – اس نے آن کے اپنا بتایا اور قبیلے کے حالات سنائے ..اور عرض کی کہ :

    ” حضور ، ہمارے علاقے میں قحط سالی ہے ، میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اسلام قبول کر لو اللہ بہت رزق دے گا …مجھے ڈر ہے کہ پیٹ کی آگ ان کو مرتد نہ کر دے کہ ایمان ابھی کمزور ہے اور دل کچے ….سو حضور اگر کچھ عنایت ہو جاے تو بستی کا ایمان سلامت رہ جائے گا ”
    آپ صلی اللہ علیه وسلم نے پاس موجود سیدنا علی کی طرف نگاہ کی کہ نگاہوں میں سوال تھا کہ بیت المال میں کچھ ہے اور سیدنا علی کی خاموشی نے سب کچھ واضح کر دیا کہ گو دامن دل تو ایمان سے معمور ہے لیکن جیب خالی ہے ……

    ماحول میں خاموشی نے اس کی تلاش کو موقع دے دیا ..جی یہ زید بن سعنہ تھے ..کہ جن کو تلاش لیے لیے پھرتی تھی …جھٹ سے پیشکش کی کہ :

    "جناب فلاں باغ کی کھجوریں میرے نام کیجئے کہ پکنے پر میری ہوں گی اور قیمت مجھ سے ابھی لیجئے اور اپنی ضرورت پوری کیجئے ”

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا اور بس یہ تبدیلی کی کہ :

    ” کسی باغ کی مخصوص نھیں ہوں گی لیکن کھجوریں ، جہاں سے ممکن ہوا ، آپ کو مل جائیں گی ”

    سودا ہو گیا …لیکن یہ کھجوروں کا سودا نہیں تھا بلکہ کھجوروں سے بڑھ کے سودا ہوا تھا …..

    سونے کے اسی دینار زید نے نبی کریم صلی اللہ علیه وسلم کے ہاتھ رکھے ، معاہدہ کیا اور آپ نے سونے کے دینار ان صاحب کو دیئے کہ جلدی اپنی قوم کے پاس جائیں اور ان کی مدد کریں ……

    دن گزرتے گئے کہ دنوں نے تو گذرنا ہی ہوتا ہے …

    ایک روز صاحب وحی اپنے دونوں دوستوں کے ساتھ بقیع کے قبرستان کسی جنازے میں گئے ..تدفین ہو چکی کہ کسی نے آپ کے کندھے کو چھوا ..لیکن یہ محض چھونا نہ تھا ، قیامت ہو گئی کہ چھونا شدید جھٹکے میں بدل گیا …زید نے آپ کی کندھے کی چادر کو کھینچا اور اس قردر زور سے کھینچا کہ گردن کو رگڑتے ہوے اس کے ہاتھ میں ا گئی …مگر صاحب وحی اس افتاد پر گھبرائے نہ الجھے …حیرت ضرور رہی ہو گی کہ آخر مجلس میں موصوف کا آنا جانا تھا لیکن ابھی کچھ اور بھی باقی تھا –

    زید نے نے بہت تلخ رو ہو کے کہا :

    "اد ما علیک من حق و من دین یا محمد ! فواللہ ما علمتکم یا بنی عبد المطلب ، اعلی مطلا فی ادا الحقوق و سداد الدیون ”

    یہ لفظ نہ تھے گویا سیسہ تھا کہ پگھلا ہوا ہو اور کانوں میں اترا جا رہا ہو ….سچی بات ہے اگر کوئی مجھ سے ایسا کہے تو اگر میں بدزبانی نہ بھی کروں شائد کوئی شے ضرور اس کو دے ماروں ……لیکن آمنہ کے معصوم پر جانے کیا کیا مصیبتیں ٹوٹی تھیں کہ دل ٹہر چکا تھا ، ابھی کل کی ہی تو بات تھی کہ مکے میں لوگ ان کو مجنون تک کہہ چھوڑتے تھے ، تب کیسے نہ دل کٹ کٹ جاتا ہو گا ..آج ہم معمولی سی مصیبت کو لے کر کے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ، کبھی آنسو کبھی شکوہ ، کبھی زمانے کی شکایت …جی زید نے کہا :

    ” محمد میرا قرضہ واپس کر ، اللہ کی قسم تم جو عبد المطلب کی اولاد ہو نا ، جان بوجھ کے حقوق اور قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرتے ہو ”
    جن کندھے سیے چادر اتری ، وہ تو مسکراتے رہ گئے لیکن ساتھی غضب ناک ہو گیے ….سیدنا عمر طیش میں گئے ، بہت کچھ کہہ ڈالا ، قریب تھا کہ ہاتھ اٹھا لیتے کہ صاحب وحی نے روک دیا :

    "عمر دھیرج دھیرج …ایسی بات تو نہ کہو …. تمہیں تو مجھ سے کہنا چاہیے تھا کہ میں اس کا قرض ادا کرتا اور اس کو کہا ہوتا کہ عمدہ طور پر تقاضا کرتا ”

    پھر سیدنا عمر کو ہی حکم دیا کہ ان صاحب کو لے جا کے ان کا قرض ادا کیجئے اور ہاں یہ بھی حکم تھا کہ بیس صاع بڑھا کے دیجئے گا کہ :
    "یہ اس "زیادتی ” کا بدل ہے جو دھکمی کی صورت آپ نے کی ہے ”

    جی ہاں سیدنا عمر کی تلخ نوائی کا "قرض ” بھی ساتھ ہی ساتھ چکا دیا …کبھی آپ نے اس سنت پر عمل کیا ہے کہ کوئی آپ سے تلخ تر ہو کے بات کرے اور آپ اپنے الفاظ کا بھی جرمانہ ساتھ ہی ساتھ ادا کرتے جائیں …..؟

    سیدنا عمر ان صاحب کو ساتھ لے کے بیت المال کو چلے اور حسب حکم قرض سے پچاس کلو کھجور مزید ادا کر دیں ….

    پلٹ کے مگر زید نے جب کہا :

    "عمر آپ مجھے جانتے ہیں ؟”

    تو اجنبیت بھری نظروں نے آپ نے نفی میں سر ہلا دیا …

    "عمر میں زید بن سعنہ ہوں ”

    اب حیران ہونے کی باری سیدنا عمر کی تھی .

    ".ارے وہی زید کہ مشہور یہودی عالم …”

    "ہاں ہاں ، وہی ہوں نا میں ”

    "اچھے عالم ہو …صاحب علم ہو اور صاحب وحی سے یوں بدزبانی ”

    "اسی لیے تو کی نا کہ عالم ہوں ”

    سیدنا عمر کی حیرت دو چند .

    "بھلا یہ کیا بات کہ عالم ہوں اس لیے بدزبانی کی ”

    "سنیے جناب عمر ////// مدتوں سے تلاش میں تھا ، کھوج تھی کہ دل کو بے چین کیے دے رہی تھی ….آرزو کہ اس بار بھی چاند اسحاق کی بالیں پہ چمکے …. لیکن مقدر آل اسمٰعیل کے روشن تر تھے …خیر دل کو سمجھایا اور ہر طرح سے دیکھا ، پرکھا ، اور جانچا …یہی خبر ہوئی کہ یہی ہیں ہاں یہی آخری نبی ہیں …ایک آخری آزمائش کو مگر دل چاہا کہ ان کا حلم دیکھا جائے کہ آخری نبی کی نشانی ان کا صبر ، حلم بھی ہو گا …..آخری دو نشانیاں ہاں سیدنا عمر آخری دو نشانیوں کی تلاش تھی …کہ ان کا تحمل ان کے غصے پر غالب ہو گا اور یہ کہ جیسے ان کے ساتھ بدزبانی کی جائے گی تحمل کا سیلاب امڈتا چلا جایے گا …جی میرے دوست آج یہ بھی دیکھ لیا ….چلیے عمر آئیے حضور کی جانب چلتے ہیں کہ ہمارے حضور سا کوئی نہیں ”

    "اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمد رسول اللہ "

  • آیت نور — فرقان قریشی

    آیت نور — فرقان قریشی

    ابھی ہم لوگ ٹوئیٹر پر آیت نور کے حوالے سے ’’نور‘‘ کے متعلق ڈسکس کر رہے تھے کہ نور کیا ہے ، اور میں نے سوچا کہ اپنی کچھ ٹوئیٹس یہاں فیسبک پیج پر آپ کے ساتھ بھی شیئر کروں ۔

    قرآن پاک کی آیات کو سمجھنے کے لیے ، سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیئے کہ قرآن پاک کس کا کلام ہے ۔

    انسان تو صرف تین ڈائی مینشنز کے اندر قید ایک مخلوق ہے جب کہ قرآن پاک کلام ہے تمام ڈائی مینشنز سے اوپر ایک ذات کا … اس بات کا مطلب کیا ہے ؟

    اس کا مطلب یہ ہے کہ … قرآن کی آیات ایک ایسا کلام ہے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں اپنی ذہانت کو ملٹی پل لیولز اور ملٹی پل ڈائی مینشنز میں استعمال کرنا ہو گا ۔

    آپؐ نے چونکہ نماز کو بھی نور کہا تھا اس لیے ابن عباسؓ اور انس بن مالکؓ نور کو ہدایت اور رہنمائی بھی بتاتے ہیں اور یہ نور کو سمجھنے کا پہلا لیول اور پہلی ڈائی مینشن ہے ۔

    لیکن جب طائف والوں نے آپؐ کو تکلیف دی تو اس وقت آپؐ کی مانگی ہوئی دعا کو غور سے پڑھیں ، اس دعا میں ہے کہ

    ’’میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ میں آنا چاہتا ہوں جو اندھیروں کو روشن کر دے‘‘

    اور یہ نور کو سمجھنے کا دوسرا لیول اور دوسری ڈائی مینشن ہے کہ مایوسی اور تکلیف سے نکالنے والی ، سکون دینے والے کوئی چیز ۔

    لیکن کیا نور صرف کوئی میٹافوریکل یا تمثیلی چیز ہے ؟

    شاید نہیں کیوں کہ آپؐ نے اس کی تخلیق کے متعلق بھی بتایا تھا اور نور کا ذکر باقی مخلوقات کے ساتھ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مٹی ، پہاڑ ، درخت اور مکروہات کے بعد نور تخلیق ہوا تھا اور اسی نور سے پھر فرشتوں کو بنایا گیا تھا اور یہ نور کو کوئی سمجھنے کا تیسرا لیول اور تیسری ڈائی مینشن ہے ۔

    نور ایک فزیکل چیز لگتی ہے کیوں کہ آپؐ نے بتایا تھا کہ عدل کرنے والے ، اللہ تعالیٰ کے دائیں طرف نور سے بنے منبروں پر بیٹھے ہوں گے ۔

    بلکہ یہ بھی کہ نور سے بنے ان منبروں میں سے کچھ منبر تو ایسے بھی ہوں گے کہ انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے اور یہ نور کو سمجھنے کا چوتھا لیول اور چوتھی ڈائی مینشن ہے ۔

    لیکن کیا یہ وہی دائیں ہے جو ہماری زبان میں رائیٹ سائیڈ ہوتا ہے ؟

    بالکل نہیں کیوں کہ وہاں سمتیں معنے نہیں رکھتیں آپؐ نے اسی حدیث میں یہ بھی بتایا تھا کہ اللہ کے دونوں طرف دائیں ہے ۔

    اس کا کیا مطلب ہے ؟

    اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ڈائی مینشن اور اس لیول پر آ کر ہماری cardinal directions کوئی معنے نہیں رکھتیں ۔

    نور کسی طرح کا cover یا پردہ بھی لگتا ہے کیوں کہ جب عبداللہ بن شقیقؓ نے آپؐ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ؟

    تو آپ نے فرمایا کہ میں نے بس نور دیکھا ہے اور اس پر آپ نے چار باتوں کا خطبہ دیا کہ اللہ کے چہرے کا پردہ نور ہے اور اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو سب کچھ جل جائے ۔

    اور یہ نور کو سمجھنے کا پانچواں لیول اور پانچویں ڈائی مینشن ہے ۔

    لیکن کیا اس نور کی کچھ پراپرٹیز ہیں ؟

    ہاں اس نور کی کچھ پراپرٹیز ہماری سمجھ میں آتی ہیں مثلاً ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ اس مقام پر دن اور رات نہیں ہوتے ۔

    اور عرش پر روشنی اس نور کی وجہ سے ہی ہوتی ہے ، ایک طرح کی ٹھنڈی روشنی اور یہ نور کوسمجھنے کا چھٹا لیول اور چھٹی ڈائی مینشن ہے ۔

    اگر آپ قرآن کا علم رکھنے والے کسی شخص سے پوچھیں کہ قرآن کی سب سے mysterious آیت کونسی ہے تو زیادہ چانسز یہی ہیں کہ وہ آیت نور کا ہی نام لے گا ۔

    کیونکہ اس آیت کا آغاز ہی آپ سے ڈیمانڈ کرنا شروع کر دیتا ہے کہ آپ کا دماغ ذہانت کے ملٹی پل لیولز اور ملٹی پل ڈائی مینشنز میں سوچنا شروع کر دے ۔

  • جس میں نہ ہو انقلاب — عمر یوسف

    جس میں نہ ہو انقلاب — عمر یوسف

    ابتدائے آفرینش سے ہی خدائے لم یزل نے یہ اصول متعین کردیے ۔ جو بدلے گا نہیں ہلاکت اس کا مقدر بنے گی ۔ جو جینے کی جنگ نہیں لڑے گا وہ موت کے شکنجے میں آجائے گا ۔ جو حالات کو اپنے ڈھب پر نہیں لائے گا وہ حالات کی بھینٹ چڑھ جائے گا ۔ اسی حقیقت کو آشکار کرتے ہوئے اپنی آخری کتاب کے ذریعے قانون بنادیا ۔

    وان لیس للانسان الا ما سعی ۔

    انسان کے لیے تو وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ جد و جہد کرے ۔

    جب وہ جدو جہد کرتا ہے تو پہاڑوں کا سینہ چیر دیتا ہے ۔ پہاڑوں میں راستوں کا انقلاب اس مقدر بنتا ہے لیکن اگر یہ انقلاب کی تڑپ نہ ہو تو پہاڑوں راستوں کی رکاوٹ بنے موت کا پیغام دیتا ہے ۔

    جب وہ جدو جہد کرتا ہے تو سمندر کے پانی کو قابو میں لے آتا ہے ۔ جو پانی موت کا ضامن ہے وہ زندگی کا محافظ بن جاتا ہے ۔ لیکن اگر زندگی میں یہ انقلاب کی تڑپ نہ ہو تو یہی سمندر ہلاکت کا پیغام لیے سب کچھ تہہ تیغ کردیتے ہیں ۔

    جب وہ انقلاب کی جستجو لیے کوشش کرتا ہے تو ہوائیں تسخیر ہونے کے لیے قدم چومتی ہیں اور انسان دنوں کا سفر گھنٹوں میں کرنے کا انقلاب بپا کرتا ہے لیکن اگر یہ انقلاب کی لگن نہ ہو تو یہی ہوائیں مغلوب ہونے کی بجائے غالب آجاتی ہیں ۔۔۔۔۔

    زمین کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کرہ ارض پر لاکھوں جاندار آج ناپید ہوچکے ہیں جو کبھی اس کرہ ارض کا حصہ تھے ۔ ان کے وجود کا فنا ہونا ان کا مقدر بن گیا ۔ انہوں نے بقاء کی جنگ نہ لڑی ، حالات کا مقابلہ نہ کیا ، مشکلات کا سامنا نہ کیا ۔

    آج اس کرہ ارض پر موجود مخلوقات وہی ہیں جو انقلاب کے لیے میدان میں آئیں تو کاسے پلٹ گئے ۔

    جو آگ انسان کو جلا کر راکھ کرتی تھی ۔ زندگی میں انقلاب کے باعث انسان نے اسی آگ کو قابو کیا اور ہزاروں ضروریات کو پورا کیا ۔
    جو حیوانات انسان کو کچل دیتے تھے وہ انسانی انقلاب کے باعث انسان کے خادم بن گئے ۔
    انقلاب نے زندگی اور جمود نے موت کے گھاٹ اتارا ۔

    قوموں کی تاریخ بتاتی ہے جب قومیں انقلاب کی سعی چھوڑ دیتی ہیں تو لقمہ اجل بن جاتی ہیں ۔

    غلامی ان کا مقدر بنتی ہے ۔ محکومی سر کا تاج اور ذلت جھومر بن جاتی ہے ۔

    خدا بھی انہیں کا ساتھ دیتا ہے جو انقلاب کے لیے میدان میں آتے ہیں ۔

    جو حالات سے لڑ نہیں سکتے خدا سے لا تعلق ہوجاتے ہیں ۔

    خدا کے اس ابدی قانون کو دستور حیات قرآن واضح کرتا ہے ۔

    ان اللہ لایغیر مابقوم حتی یغیروا ما بانفسھم (الرعد : 11)
    اللہ تب تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک وہ قوم خود تبدیلی اور انقلاب کے لیے کوشاں نہیں ہوتی ۔

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں۔۔۔۔۔۔۔
    بدلی نہ ہو خیال جسے اپنی حالت بدلنے کا ۔۔۔۔۔۔۔
    جب انقلاب کی تڑپ لیے 313 میدان میں اترے تو ایک ہزار پر بھاری پڑ گئے ۔
    فتح کی صورت انقلاب آیا اور غزوہ بدر تاریخ میں امر ہوگیا ۔
    جب حالات کا مقابلہ کرنے خندق کا میدا سجا تو چشم زدن میں میدان کے گرد خندق کھود لی جاتی ہے اور دشمن کو ناکون چنے چبوائے جاتے ہیں ۔
    جب انقلاب کا علم لیے طارق بن زیاد اندلس اترتے ہیں تو بیڑے جلا دیتے ہیں ۔
    پھر حاکمیت کی صورت انقلاب آتا ہے ۔
    جب مظلوم عورت کی پکار پر محمد بن قاسم سندھ میں قدم رنجہ فرما ہوتے ہیں تو سندھ باب الاسلام بن جاتا ہے ۔

    انسانی تاریخ ہو یا قوموں کی تاریخ وقت نے یہ ثابت کردیا ۔

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی
    روحِ امم کی حیات کشمکشِ انقلاب!

    مسلمانوں کی تاریخ میں سانحہ بغداد ہو یا سقوط سلطنت عثمانیہ ، مغلوں کا زوال ہو یا سقوط ڈھاکہ ، تاریخ کی آواز یہی صدا بلند کررہی ہے ۔

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    تمام علوم و فنون میں یونانی فلسفے پر عبور حاصل کرنے والے اور جدید علوم وضع کرنے والے آج اگر جہالت و پسماندگی میں گھرے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہی تو ہے کہ

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    دنیا کے سارے براعظموں پر حکومت کرنے والے آج اگر تخت و تاراج ہیں تو اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہے کہ

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    وسائل کی دولت سے مالامال وطن عزیز پاکستان اگر ملکوں ملکوں کشکول لیے پھرے تو اس کی وجہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    ساری دنیا میں اکثریتی مذہب ہونے کے باجود اگر مسلم امہ فلسطین ، برما ، اور کشمیر کے حوالے سے بے بس ہو تو اس کہ وجہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ۔

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    انقلاب دستور حیات ہے ، انقلاب قانون فطرت ہے ، انقلاب خدائی سنت ہے ، انقلاب بہادروں کا شیوہ ہے ، انقلاب زندہ لوگوں کا خاصہ ہے ۔ انقلاب زندگی کا ترانہ ہے ۔

    اگر انقلاب نہیں تو حیات جیل خانہ ہے ، اگر انقلاب نہیں تو ذلت ، اگر انقلاب نہیں غلامی ہے ،اگر انقلاب نہیں خواری ہے، اگر انقلاب نہیں تو خدا کی طرف سے تعرض و اعراض ہے ۔

  • لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    سٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا، اس بارے میں سوچنا ہی بے معنی ہے، کیونکہ اس وقت نہ ٹائم کا کوئی وجود تھا اور نہ سپیس کا۔۔۔۔ اس پر ملحد واہ واہ کرتے ہیں۔

    یہی بات ہم جب خدا کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ عقل میں نہیں سما سکتا کیونکہ وہ ٹائم اور سپیس سے ماوراء ہے، بلکہ ان کا خالق ہے، تو ملحد مذاق اڑاتے ہیں۔

    ویسے ہاکنگ کی بات تو محض بہانہ ہے اس سوال سے جان چھڑانے کا کہ وہ سنگیولیرٹی، جس سے بگ بینگ ہوا، وہ کہاں سے آئی تھی؟
    اور کیا یہ بات عقل میں سماتی ہے کہ ایٹم سے بھی چھوٹے ذرے سے پوری کائنات وجود میں آ جائے؟ اور وہ بھی اتنے مربوط نظام کے ساتھ۔ اور پین روز نے تو اسکو بولٹز مین کے لاء آف اینٹروپی سے اخذ کر کے میتھمیٹکلی ثابت بھی کر دیا ہے کہ ایسے "اتفاق” کا امکان محض صفر ہے۔۔۔

    اللہ قرآن میں سورۃ فصلت میں فرماتا ہے کہ ہم انہیں آفاق اور انکے اپنے انفس میں ایسی نشانیاں دکھائیں گے کہ یہ انکار نہیں کر پائیں گے۔ اور واقعتاً یہ اپنے دلوں میں ضرور خدا پر ایمان رکھتے ہوں گے لیکن محض تکبر کی وجہ سے حق کو تسلیم نہیں کرتے۔۔۔۔
    (دلچسپ بات یہ ہے کہ "یلحدون” کا لفظ بھی اسی سورۃ کی آیت 40 میں موجود ہے)

    ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ کوانٹم مکینکس کے مطابق اب یہ متفقہ نظریہ ہے کہ صرف فوٹان، یعنی روشنی ہی نہیں ہے جو بیک وقت ذرے اور ویو کی خصوصیات رکھتی ہو، بلکہ ہر سب اٹامک ذرہ دہری خصوصیات رکھتا ہے، یعنی کبھی ذرے کے طور پر "بی ہیو” کرتا ہے، اور کبھی ویو کے طور پر ۔۔۔ یعنی مادی اور غیر مادی دونوں قسم کی خصوصیات رکھتا ہے۔ تو پھر روح کو ماننا کیا مشکل ہے؟

    لیکن خدا کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسکا منطقی تقاضہ ہے کہ پھر خدا کو واحد و یکتا مانا جائے اور اسکے دئیے گئے احکامات یعنی مذہب و شریعت کو بھی مانا جائے۔ اور خالص توحید پر مبنی واحد مذہب جو آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے، وہ صرف اسلام ہے۔۔۔ لیکن مادر پدر آزادی اور ہوس پرستی پر جو پابندیاں اسلام لگاتا ہے، وہ کسی نفس پرست متکبر کو کیونکر قبول ہو سکتی ہیں؟!!!

  • مبارکباد تو بنتی ہے!!! — عمر یوسف

    مبارکباد تو بنتی ہے!!! — عمر یوسف

    حدیث مبارکہ میں دو ایسے اشخاص کے لیے مبارکباد پیش کی گئی ہے جو اسلام کی نعمت سے فیض یاب ہوئے اور جنہیں قناعت کی صفت سے متصف ہونا نصیب ہوا ۔ اگر بنظر دقیق ان دونوں باتوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ دونوں چیزیں ہی اپنے اندر ایسی معنویت اور افادیت رکھتی ہیں ہیں کہ انسان بے ساختہ ان باتوں پر مبارکباد کا قائل ہوجاتا ہے ۔

    اسلام پانچ چیزوں کا نام ہے ۔ شہادتین ان میں اول نمبر پر ہے ۔ عقیدہ توحید ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو در بدر کا فقیر ہونے سے بچاتا ہے اور غیرت مند زندگی گزارنے کی راہ دیتا ہے ۔ انسان ہمیشہ کسی سہارے کو محسوس کرکے خود کی ڈھارس بندھاتا ہے اور ہمیشہ احساس تحفظ سے لبریز رہتا ہے ۔ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونا بلاشبہ ایسی نعمت ہے جس جیسی نعمت دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔
    انسانی زندگی کا ایسا ضابطہ حیات جو انسان کو دنیوی و اخروی طور پر کامیابی کی ضمانت دے یقینا وہ آپ علیہ السلام کی بدولت ہی میسر آسکتا ہے ۔

    اسلام میں دوسرے نمبر پر فرضیت نماز ہے جو مختلف اوقات میں انسانوں پر پانچ مرتبہ فرض ہے ۔ نمازوں کے اوقات ایک طرح سے انسانوں کے لیے بریک ٹائم ہیں دن بھر کام کے دوران انسان کچھ وقت کے لیے دنیا سے لاتعلق ہوکر بس یکسوئی سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس سے ذہنی و قلبی اطمینان سے مستفیض ہوتا ہے ۔ مزید برآں انسان نماز کی ادائیگی سے ایک طرح کی ورزش بھی کرلیتا ہے ۔

    گویا جہاں خدا راضی ہوتا ہے وہیں پر دنیاوی فوائد بھی حاصل ہوگئے ہیں ۔ تیسرے نمبر پر روزہ ہے جس سے انسان کو جسمانی و روحانی برکات کا حصول ممکن ہوتا ہے ۔ سارا سال کام کرنے والے معدے کو آرام ملتا ہے ۔ اور جدید تحقیق کے مطابق کینسر سمیت متعدد بیماریوں سے انسان محفوظ رہتا ہے ۔ غریبوں کی بھوک اور تنگیوں کا بھی احساس ہوتا ہے جس سے انسان کا دل نرم ہوکر بندوں اور بندوں کے خدا دونوں کے لیے نرم ہوجاتا ہے ۔

    چوتھے نمبر پر زکوہ ہے جس سے معاشرے میں موجود طبقاتی عدم مساوات کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ دولت ایک جگہ اکٹھی ہونے کی بجائے گردش میں آتی ہے اور غریب طبقہ بھی انسانی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجاتا ہے جس سے انفرادی و اجتماعی سطح پر استحکام کا حصول ممکن ہوتا ہے ۔

    پانچویں نمبر پر حج ہے جس میں سارے مسلمان بقدر استطاعت سال بعد بیت اللہ میں جمع ہوتے ہیں اپنی اجتماعیت پر ناز کرتے ہیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں میں ایک مضبوط رشتہ اخوت اسلام کی نسبت سے قائم ہوجاتا ہے ۔ جہاں ان کو قوت ایمانی و رشتہ انسانی میسر ہوتا ہے وہیں پر سیر و سیاحت کا بھی موقع مل جاتا ہے ۔

    اسی طرح قناعت پر مبارکباد دی گئی ہے ۔ اور قناعت بھی اپنے اندر لا محدود معنویت رکھتی ہے اور کثیر فوائد سے لبریز ہے ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ دل اور نفس کی تمام بیماریوں کا علاج قناعت میں ہے ۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان تسلیم و رضا کا مظاہرہ کرتے ہوئے خدا کی دی گئی نعمتوں اور عطاوں پر راضی ہوجائے ۔ اس کے بعد خواہشات ، لالچ ، حرص ، حسد ، بغض اور دیگر نفسانی آلائشوں سے انسان محفوظ ہوجاتا ہے ۔

    یوں حدیث کے پہلے اور دوسرے حصے کا جائزہ لینے سے انسان عش عش کر اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ واقعی جن کو یہ دونوں نعمتیں میسر ہیں ان کے لیے مبارکباد تو بنتی ہے ۔

  • ایران میں خواتین کا احتجاج!!! — ابو بکر قدوسی

    ایران میں خواتین کا احتجاج!!! — ابو بکر قدوسی

    دو ماہ سے ایران میں خواتین کا احتجاج بلکہ خونی احتجاج جاری ہے جس میں ابھی تک بیسیوں شہری جان ہار گئے ہیں۔۔۔۔

    نوجوان خاتون "مہسا امینی” کے مظلومانہ قتل سے شروع ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے ۔اور آج ایران کے مذہبی رہنما اور رہبر خمینی کی سابقہ رہائش گاہ پر مظاہرین چڑھ دوڑے اور وہاں کچھ حصے کو آگ لگا دی ،اگرچہ ایرانی حکومت نے کسی نقصان کی تردید کی ہے ۔۔۔۔۔

    دو ماہ سے جاری اس احتجاج کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا آغاز خواتین کے مظاہروں سے ہوا جو "زن ، زمین ، آزادی” کے نعرے کے ساتھ میدان میں ہیں ۔ یہ خواتین مظاہروں میں اپنے حجاب جلاتی ہیں اور بال کاٹتی ہیں ، اور یوں ایران میں عائد مذہبی پابندیوں کی خلاف ورزی کر کے حکومتی احکامات سے بغاوت کا اظہار کرتی ہیں ۔

    بظاہر یہ لبرل ایران اور سخت گیر مذہبی انتظامیہ کا مقابلہ ہے ، لیکن حقیقتاً یہ لوگوں کا غبار ہے کہ جو سخت پابندیوں کا ردعمل ہے ۔

    گو دو ماہ سے حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں ، لیکن نہتے مظاہرین کے مقابل حکومتی مشینری کی کامیابی کے امکانات ہمیشہ زیادہ ہوتے لیکن کبھی کبھی عوامی جدوجہد پچھاڑ بھی دیا کرتی ہیں جس کی موجودہ دور میں بیسیووں مثالیں موجود ہیں ۔۔۔ایرانی حکومت کے لیے اس میں ابھی تک طمانیت کا پہلو صرف یہ ہے کہ قلیل واقعات کے سوا مظاہرین کی طرف سے مسلح بغاوت کے انداز میں کوئی سرگرمی سامنے نہیں آئی اور نہ ہی ابھی تک اس احتجاج میں ایران مخالف طاقتوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے ۔۔

    بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آس پاس کی آمریتیں ساری ایران دشمنی کے باوجود چاہتی ہیں کہ عوامی بغاوت کی کامیابی کا پیغام ان کے ملکوں کے عوام کو نہ جائے ۔

    اگر ایران اس عوامی بغاوت پر قابو بھی پا لیتا ہے تو بھی اس کے لیے اس میں سبق ہے کہ اب اس کی قیادت انقلاب دوسرے ملکوں میں ایکسپورٹ کرنے کی بجائے اپنی جنگوں کو سمیٹنا شروع کرے۔ اور ملک میں موجود اپنے عوام کی اقتصادی اور معاشی حالت بہتر بنانے کی طرف توجہ دے ۔۔۔۔کہ ملکوں کی بقاء عوام کے اطمینان میں ہوتی ہے۔۔۔۔

  • خنثی لوگوں کو نارمل سمجھنے کا طریقہ!!! — عثمان ای ایم

    خنثی لوگوں کو نارمل سمجھنے کا طریقہ!!! — عثمان ای ایم

    بہت سال قبل ہمارے جاننے والوں کے گاؤں میں ایک “عورت” کے بارے میں پتا چلا جو رشتے کروانے یعنی میریج بیورو کا کام کرتی تھی۔ رشتے کروانے کے بدلے میں علاقے کے لوگ اس کو کچھ پیسے دیا کرتے تھے، کچھ رشتہ ریفر کرنے پر، اور مزید رشتہ ہو جانے پر۔

    گاؤں والوں کے بقول حقیقت میں وہ عورت خنثی پیدا ہوئی تھی (جس کو عرف عام میں کھسرا یا خواجہ سرار کہہ دیا جاتا ہے)، اور اس کا زنانہ نام تھا۔ ظاہری طور پر بھی وہ سادہ سا لباس پہنتی تھی، جبکہ خنثی ہونے کی بنا پر ساری عمر شادی نہیں کروائی۔

    البتہ مشاہدے میں جو بات آئی کہ وہ ایک عام لوگوں کی طرح نارمل شخصیت ہی سمجھی جاتی تھی۔ کوئی اس پر نہ تو طنز کرتا تھا اور نہ ہی مذاق بناتا تھا۔

    اس کی بڑی وجہ یہ عورت خود تھی۔ نہ اس کو لوگوں سےتکلیف، نہ لوگوں کو اس سے تکلیف، نہ ہی اس کو رب سے گلہ۔

    وہ "مظلوم” بنے پھرنے یا بیہودہ حرکات کرنے کی بجائے عزت کی روزی کماتی تھی۔ لیکن وہ خوبی ، اس کی وہ خصلت جو پوری دنیا کے بدکاروں اور بدکاروں کے حمایتیوں کے چہروں پر زناٹے دار تھپڑ تھی وہ تھی اس عورت کا ایمان۔

    اس عورت نے میریج بیورو کے کام کے لیے لوگوں کے گھروں میں چکر لگا لگا کر جو حلال کی روزی کمائی ، اس روزی کو جوڑ جوڑ کر اس نے جو پیسے اکٹھے کیے ان پیسوں سے مسجد تعمیر کروا کر وقف کی۔

    اندازہ کریں، کہ لوگوں کی نظر میں اس خنثی عورت کی کیا عزت تھی، اور اس خنثی عورت کی اپنے رب کے بارے میں کیا عقیدت تھی کہ اس نے اپنی کل متاع مسجد بنانے پر خرچ کی؟
    نہ کوئی بیہودگی، نہ مظلومیت کا رونا، نہ ہی لوگوں کی طرف سے طنز، نہ ہی "حقوق حقوق” کی چیخ و پکار۔ اور نہ ہی رب کی بنائی گئی تقسیم پر شکوہ شکایت۔ ارے اس نے شکایت کیا کرنی تھی۔وہ تو رب کی رضا میں نہ صرف راضی تھی بلکہ اس نے تو مسجد بنا کر رب کو قرض دے دیا۔

    اللہ سبحان و تعالٰی اس کی قبر کو منور فرمائے۔ اس کا چہرہ اس دن روشن رکھے جس دن بدکاروں کے چہرے کالے سیاہ ہوں گے۔

    ہمارا رب عادل ہے۔ عدل پسند فرماتا ہے۔ دنیا میں آزمائش پر جس نے صبر کیا، ہمارا رب اس کو آخرت میں ایسا اجر عطا فرمانے والا ہے کہ جس پر سب رشک کریں گے۔

    یہی ہماری روایت ہے، اور یہی ہمارا طریقِ معاشرت، اور یہی ہمارا ایمان۔

    قدرتی طور پر کسی کا خنثی پیدا ہو جانا ایک نہایت ہی شاذ و نادر واقعہ ہوتا ہے۔ یعنی ایسا لاکھوں بچوں میں کوئی ایک ہوتا ہے۔ جب کہ ننانوے فیصد سے بھی زیادہ "خواجہ سرا” کہلانے والے لوگ پیدائشی خنثی نہیں ہوتے ، بلکہ اصل میں جعلی ہوتے ہیں، یعنی ان کی جنس مکمل مرد ہوتی ہے۔ یہ سب خنثی نہیں بلکہ ٹرانس جینڈر ہوتے ہیں، یعنی اپنی پیدائشی جنس کے برخلاف روپ دھارے پھرتے ہیں۔

    کروڑوں کی آبادی میں چند درجن حقیقی خنثیوں سے ہمدردی کے بڑے بڑے دعوے، جبکہ حقیقت میں ان ہی خنثیوں کی شناخت کو ایکسپلائٹ کر کے بیچ کھانے والے ٹرانسجینڈرز اور پھر ان ٹرانسجینڈرز کے حمایتیوں کا مسلہ خنثیوں کے حقوق ہرگز نہیں ہے۔ ہرگز نہیں ۔

    یہ خنثیوں کا عام انسانوں کی طرح سمجھنے کے قائل نہیں ۔ بلکہ یہ ٹرانس جینڈرز یعنی جعلی جنس اپنانے والوں کو عوام کے گلوں میں زبردستی اتارنے اور ان کو مقدس بنا کر پیش کرنے کے درپے ہیں۔

    معاشرہ خنثیوں کو اپنی معاشرت میں نارمل انسانوں کی طرح سمونے کا قائل ہے۔ جبکہ آپ ٹرانسجینڈرز کی طرف دیکھیں تو کوئی ناچنے گانے، تھرکنے، موت کے کنویں میں نیم برہنہ چھاتیوں سے تماشبینوں کا دل لبھانے اور دعوتِ گناہ دینے والی مخلوق ہے، اور س کا اس بدکاری کے سوا زندگی میں کوئی کام نہیں ہوتا؟

    Sexual objectification

    یعنی ان انسانوں کو محض جنسی لذت اور بدکاری کی شناخت تک ہی محدود کرنے کا کام ایک روایتی معاشرہ نہیں ، بلکہ وہی بدکار لوگ کر رہے ہیں جو ان کے حقوق کے ٹھیکیدار بنے پھر رہے ہیں۔

    اگر واقعی کسی کو خنثیوں کے حقوق کا غم کھائے جا رہا تھا تو ان خنثیوں کو معاشرے میں نارمل افراد کے طور دکھانے کا طریقہ کیا ہوتا؟ وہ یہ ہوتا کہ
    مثلا:

    ۱۔ خنثی بزنس بھی کر سکتے ہیں
    ۲۔ خنثی نوکری پیشہ بھی ہو سکتے ہیں
    ۳۔ خنثی ڈاکٹر اور انجینیر بھی ہو سکتے ہیں۔
    وغیرہ۔۔۔

    لیکن اصل میں کیا ہو رہا ہے؟
    اصل میں یہ واردات ڈالی جا رہی ہے کہ:

    ۱۔ دھوکے سے مخالف جنس اپنانے والے افراد یعنی ٹرانس جینڈرز کے بارے میں یوں تاثر دینا کہ جیسے یہ قدرتی خنثی ہیں۔
    ۲۔ پھر ٹرانس جینڈرز کے حقوق کا رونا رونا۔
    ۳۔ٹرانس جینڈرز سے جنسی تعلق کا فروغ (یعنی ہم جنس پرستی)

    نتیجتاً ٹرانس جینڈرز کے شور میں حقیقی خنثی بیچارے کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ یہ بالکل وہی صورتِ حال ہے کہ جیسے کسی فائئو سٹار ہوٹل میں منرل واٹر پی پی اور پیزے کھا کھا کر غریبوں سے ہمدردی پر کانفرس منعقد کرنا، اور دروازے پر کوئی بھوکا غریب مدد طلب کر لے تو اس کو دھتکار کر “دفع” کر دینا۔

    یہ قدرتی خنثی بھی بیچارے وہی ہیں۔ ان کی شناخت کو بیچ کر کھا لیا گیا ہے۔

    مسلم معاشرے کی روایت خنثیوں کو نارمل انسان سمجھنا ہے۔

    جبکہ انسانیت کو مسخ کر کے رکھ دینے والی بدکاری کی منبع لبرل تہذیب خنثیوں کی شناخت کو ہائی جیک کر کے اس پر ان ٹرانس جینڈرز کا قبضہ کروا دیتی ہے جو خنثی ہوتے ہی نہیں، بلکہ پیدائشی مرد ہوتے ہیں۔

    اور پھر ان ٹرانس جینڈرز کو “پیار کی مستحق “ قرار دے کر مردوں کے ساتھ اس کے جنسی تعلق کی راہ ہموار کرنے پر زور لگایا جاتا ہے۔ (یعنی ہم جنس پرستی)

    اسی لیے ان کے میڈیا میں، ان کے احتجاجوں میں، ان کے ڈراموں اور فلموں میں سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کسی مرد کو کسی ٹرانس جینڈر عورت (جو کہ حقیقت میں ایک مرد ہی ہے) سے پیار ہو سکتا اور وہ اس سے جنسی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ اور یہ سب شیطانی کھیل پوری دنیا میں پائے جانے والے چند سو یا ہزار خنثیوں کے نام پر کھیلا جا رہا ہے۔

    وہی خنثی جو خود ایک جنسی پراڈکٹ کی بجائے عزت کی زندگی گزارنے کے خواہش مند ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی بھی عزت نفس رکھنے والا جسمانی معذور شخص یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کو معذور سمجھا جائے اور اس پر ترس کھایا جائے۔

  • غرور کا سر نیچا — ریاض علی خٹک

    غرور کا سر نیچا — ریاض علی خٹک

    قرآن شریف میں کچھ آیات بندے کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں. جیسے سورۃ القمر آیت نمبر 48 میں قرآن کہتا ہے.

    يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِى النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡؕ ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ ۞
    ترجمہ: جس دن ان کو منہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا (اس دن انہیں ہوش آئے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ) چکھو دوزخ کے چھونے کا مزہ۔

    کچھ باتیں ہمیں اپنی عادات کی وجہ سے سمجھ نہیں آتیں. جیسے اپنے قدموں پر کھڑے زمین کی کشش ثقل آپ کو کہاں محسوس ہوگی؟ لیکن آپ الٹے سر کے بل کھڑے ہوجائیں آپ کو کچھ ہی دیر میں ثقل یعنی gravity اپنی پوری تفصیل اور ترتیب سے سمجھ آجاتی ہے. بدن کا خون جب سر کی طرف آتا محسوس ہوتا ہے تب آپ حیرت سے سوچتے ہیں قدموں کی طرف بہتا تو یہ کبھی محسوس نہیں ہوا.؟

    پھر ہم سیدھے ہو جاتے ہیں اور اپنے قدموں پر واپس جب کھڑے ہوتے ہی جسم ایک سکون کی کیفیت میں جا کر بتاتا ہے اب تم انسان بن گئے ہو. اللہ رب العزت نے اس دنیا کو ہمارا امتحان بنایا ہے. اپنی روزمرہ زندگی میں مگن ہماری کچھ عادتیں ہمیں دھوکے میں رکھتی ہیں. جیسے غرور و تکبر ہو. یہ بندے کو سجتا ہی نہیں کیونکہ بندگی انکساری میں ہے یعنی زمین سے نظریں اور قدم جوڑ کر رکھنے میں ہے. جبکہ تکبر آپ کو سر کے بل کھڑا کرا دیتا ہے.

    اس لئے بڑے بزرگ کہتے ہیں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے. کامیاب پھر وہی ہے جو جانے سے پہلے جیتے جی بندگی کا راز جان لے. بندگی ان سجدوں میں ہے جو زمین پر چلنے کا سلیقہ اور انکساری دے کر جائے. سر کے بل کھڑے لوگ پھر منہ کے بل گھسیٹے جاتے ہیں.

  • کیا احادیث میں عریانیت پائی جاتی ہے ؟ — ابو بکر قدوسی

    کیا احادیث میں عریانیت پائی جاتی ہے ؟ — ابو بکر قدوسی

    آپ احباب نے بہت سے ناقدین کی زبان اور تحریر میں یہ اعتراض ضرور سنا یا پڑھا ہو گا ۔۔۔لیکن اس اعتراض میں وہی بودا پن پایا جاتا ہے کہ جو ان "کرم فرماؤں ” کے باقی اعتراضات میں موجود ہے ۔۔۔

    پہلی بات یہ ہے کہ احادیث میں جنسی مسائل کو ایک خاص حد سے زیادہ کھلے انداز میں بیان ہی نہیں کیا گیا ۔۔یہ جو شور کیا جاتا ہے کہ عریانیت ہے ، محض مبالغہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔۔۔

    دوسرا سوال ان احباب سے یہ ہے کہ جب جنسی مسائل ، سیکس کی حدود و قیود اور غسل جنابت کے فرض ہونے کی صورتیں بیان کرنا ہوں گی تو کون سی زبان لکھی جائے گی ؟

    اصل میں ہم سب کی نفسیات میں مقامی سوچ اتنی غالب ہے کہ شرم حقائق کو بھی چھپا لیتی ہے ۔۔جبکہ سیکس ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو کھانے کی بھوک کی طرح ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہے ۔۔لیکن جھوٹی شرم و حیا ہمیں مسلہ پوچھنے سے روک دیتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمام عمر غسل جنابت کا درست طریقہ بھی جان نہیں پاتے ۔۔۔سیکس کے بہت سے حرام و حلال سے نا آشنا رہتے ہیں ، بہت سے امور جو جائز ہیں ان سے مقامی بے کار شرم و حیا کے سبب لطف اندوز نہیں ہو پاتے ۔۔۔۔اور بہت سے حرام کام کرتے ہیں اور جانتے ہی نہیں کہ یہ درست نہیں ۔۔۔

    ایک اور عجیب بات ہے کہ یہ معترضین حضرات قران کی ان آیت پر خاموش رہتے ہیں کہ جن اسی اسلوب میں انسانی تخلیق اور بعض مسائل کا ذکر کیا گیا ہے ۔۔۔قران میں ہے :

    سورہ واقعہ میں ہے :

    فَرَاَيْتُـمْ مَّا تُمْنُـوْنَ (58)
    بھلا دیکھو (تو) (منی) جو تم ٹپکاتے ہو

    اَاَنْتُـمْ تَخْلُقُوْنَهٝٓ اَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ (59)
    کیا تم اسے پیدا کرتے ہو یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں۔

    سورہ الطارق میں ہے :

    فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (5)
    پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔

    خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ (6)
    ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔

    يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ (7)
    جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔

    اِنَّهٝ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ (8)

    سورہ التحریم میں ہے :

    وَمَرْيَـمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِىٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُـتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِيْنَ (12)
    اور مریم عمران کی بیٹی (کی مثال بیان کرتا ہے) جس نے اپنی شرم گاہ کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی
    سورہ القیامہ میں ہے

    اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْـرَكَ سُدًى (36)
    کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔

    اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰى (37)
    کیا وہ ٹپکتی منی کی ایک بوند نہ تھا۔

    دیکھئے کس بے تکلفانہ انداز میں تخلیق انسانی کے مراحل کا ذکر ہو رہا ہے اور انسان کو غور فکر کی دعوت دی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔اور جب ان مراحل کے نتیجے میں ضروریات طہارت کا ذکر آتا ہے تو احباب کو برہنگی کا دکھ ستانے لگتا ہے ۔۔۔سوال شروع ہو جاتے ہیں کہ

    ” جی مولوی صاحب اپنی چھوٹی بیٹی کو یہ احادیث سنا سکتے ہیں ”

    بھائی بچہ تو پھر یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ ” مَّآءٍ دَافِقٍ ” کیا ہے ؟

    یہ پانی کیوں کر اچھلتا ہے اور کہاں کے چشمے سے نکلتا ہے ؟

    اور ہاں قران میں عورتوں کو کھیتی بھی تو کہا گیا ہے ۔۔۔اب بچوں کے سامنے ذرا اس آیت کی شرح کر دیجئے ۔ ۔

    نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّـٰى شِئْتُـمْ (223)
    تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ۔۔۔۔

    کوئی صاحب اس آیت کی شرح نہیں صرف ترجمہ کریں اور پھر احادیث پر اعتراض کو انصاف کے میزان میں رکھ کر غور کریں تو یقینا درست فیصلے پر پہنچ جائیں گے ۔۔۔

    احباب ! وہ درست راہ یہی ہے کہ بے مقصد اور بے جا قسم کی حساسیت غیر متوازن رویہ ہے ۔۔۔

    عربوں کا معاشرہ ہماری نسبت کہیں زیادہ ان معاملات میں حقیقت پسند اور صاف گو ہے ۔۔۔۔اور انکی زبان کی فصاحت بھی انکو ایسے معاملات کو بیان کرنے کے لیے بہت آسانی مہیا کرتی ہے ۔۔

    آب آپ صحیح مسلم کی اس حدیث کو دیکھ لیجئے کہ جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وجوب غسل کی صورت پوچھی گئی ۔ کیسے خوبصورت کنائے اور اشارے میں جماع کی صورت بیان کی گئی اور مسلہ بھی بتا دیا گیا ۔۔حدیث کے الفاظ ہیں :

    اذا جلس بین شعبھا الاربع و مس الختان الختان فقد وجب الغسل
    یعنی جب مرد عورت کی چاروں شاخوں میں بیٹھ جائے ۔۔اور ختنے سے ختنہ مل جائے ۔ ۔ . تب غسل واجب ہو جائے گا ۔۔۔

    کیا اس سے زیادہ اور حیا دار الفاظ سے اس منظر کا بیان ممکن تھا ؟

    اسی طرح ایک جگہ زنا کے جرم کی تفتیش مقصود تھی تو حدیث میں انسانی آلات تناسل کا ذکر کرنے کی بجائے سرمہ دانی کو بطور مثال بیان کیا گیا ۔۔۔کہ جسے اس کا دخول ہوتا ہے کیا ویسے ہوا تو سزا دی جائے ۔۔۔

    اس کے بعد کون سی عریانیت کا شور کیا جاتا ہے ؟

    ایک اور اہم معامله یہ بھی ہے کہ ایسی احادیث بغرض تعلیم کتب میں بیان کی گئی ہیں نہ بطور افسانہ ۔۔۔۔

    کبھی آپ میڈیکل کالج جائیں ۔۔یا بایو لوجی کے طلبا کی کتب اٹھائیں جن میں انسانی آلات تناسل کی باقاعدہ تصاویر بنی ہوتی ہیں ۔۔۔۔اور استاد دوران لیکچر بورڈ پر بھی کبھی ایسی تصاویر بنا چھوڑتا ہے ۔۔۔وہاں بچے اور بچیاں سب باہم مل بیٹھ پڑھتے ہیں ۔۔۔۔اس پر کیا کہیں گے ؟

    چلتے ہوئے ایک سچا واقعہ سن لیجئے ۔۔حرم شریف کے صحن میں ایک حاملہ عرب عورت اپنے چھے سات برس کے بچے کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔میری اہلیہ اس کے بچے کی طرف متوجہ ہوئی اور معصوم سے بچے سے پیار بھرے سوال جواب شروع کر دیے ساتھ اسکی ماں بھی شریک گفتگو رہی ۔۔. . بچے سے پوچھا گیا کہ کتنے بہن بھائی ہو ۔۔۔تو اس نے تعداد بتائی اور ماں کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ایک آنے والا ہے اور یہاں ہے ۔۔۔۔سمجھانا یہ مقصود ہے کہ عربوں کا معاشرہ ہماری نسبت ان معاملات میں زیادہ حقیقت پسند اور فطری رجحانات کا حامل ہے ۔۔۔

    اور کہا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے میں آخری شریعت کے نزول کے مقاصد میں ایک یہ پہلو بھی رہا ہو گا کہ وہ ہر ہر پہلو پر سوال کرتے اور پھر جواب ہمارے لیے تعلیم کا سبب ہو گئے ۔۔۔۔ہمارے ہاں اسلام نازل ہوتا تو اس "شرما شرمی” میں کسی کو غسل کا طریقہ بھی شائد معلوم نہ ہوتا ۔۔۔۔

  • بھلا استاد ایسے  بھی  مہربان  ہوتے  ہیں؟ — ابوبکر قدوسی

    بھلا استاد ایسے بھی مہربان ہوتے ہیں؟ — ابوبکر قدوسی

    بہتے آنسو راستے بھر میں یاد آتے رہے ، سوچ اور حیرت ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھی – یہی حیرت کہ بھلا استاد ایسے مہربان بھی ہوتے ہیں اور یہی سوچ کہ ہاں استاد ایسے ہی مہربان ہوتے ہیں –

    برس گزرے تقی الدین وطن سے نکلے تھے ، سفر ایسے جیسے زندگی کا لازمہ ہو چکا ، حصول علم کا شوق سفر کی ہر منزل آسان کیے دیتا تھا ، نہ سفر ختم اور نہ علم کی کوئی حد – اسی شوق نے تقی الدین ہلالی کو مبارک پور آنے پر مجبور کر دیا – کیونکہ مبارک پور میں ان دنوں علم کا چاند نکلا تھا – جی ہاں مولانا عبد الرحمان مبارک پوری کا دیس مبارک پور تھا –

    مہمان پار پردیس سے علم م کی "اور” چلا آیا تو استاد کا بھی اس کی غریب الوطنی پر دل پسیج گیا – بہت محبت اور اصرار کے ساتھ گھر میں رکھا – شیخ تقی الدین ہلالی جتنا عرصہ مبارکپور رہے حضرت الاُستاد کے ہاں ہی رہے خود کہتے ہیں کہ :

    ” نہ مجھے کسی ہوٹل جانا پڑا نہ کبھی کھانا خریدنے کی نوبت آئی "-

    مہمان بہت دن رہا لیکن اک روز جانا تو تھا سو رخصتی کا وقت آ گیا – تقی الدین نے فیصلہ کیا کہ ٹرین سے اعظم گڑھ کو جایا جائے اور پھر آگے کی منزلیں – استاد محترم نے کہا کہ :

    ” ایسے نہیں ، رک جائیے کچھ روز میں ہمارے دو آدمی بیل گاڑی سے سفر پر جانے والے ہیں آپ ان کے ساتھ جائیے گا "-

    جانے والے دونوں افراد آدھی رات میں سفر کو نکلنے کا پروگرام بنائے بیٹھے تھے – شاگرد نے عشاء کی نماز پڑھی اور رخصت چاہی کہ رات گئے ملنا کیسے ہو گا ، اس لیے استاد محترم کو ابھی مل لیا جائے – دل میں اک کسک بھی تھی کہ جانے اب ملاقات ہو نا ہو –
    گزرے ایام ، علم کی مجلسیں ، استاد کی رفاقتیں ، شفقتیں سب اداس کیے دے رہی تھیں ، لیکن جانا تو تھا – استاد کہنے لگے
    "ایسے نہیں ، وقت رخصت میں خود آوں گا ” –

    شاگرد نے ہزار کہا "حضرت رہنے دیجئے آدھی رات کا وقت زحمت ہو گی نیند سے اٹھیں گے "- لیکن لاستاد نہ مانے –

    رات بھیگ رہی تھی ، چاندنی پھیل رہی تھی ، ستارے اس کی روشنی میں ماند ماند سے تھے – مسافر کی رخصتی کا وقت ہوا تو سامان اٹھائے مسجد کے حجرے سے باہر نکلا – کچھ ہی قدم آگے بڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے چاندنی ہر طرف محبت کی خوشبو پھیلا رہی ہو – مولانا مبارک پوری منتظر کھڑے تھے –

    مولانا شاگرد کو ساتھ لے کر گاڑی کی طرف چلے ، گاڑی والے دونوں صاحب منتظر تھے – وقت رخصت استاد نے تقی الدین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ، دعائیں تھی کہ ماحول کو معطر کیے جا رہی تھیں :

    "استودع اللہ دینک امانتک و خواتیم عملک ، زودک اللہ التقوی و یسرک الخیر اینما توجہت ”

    پھر ہولے سے شاگرد کے ہاتھ میں کچھ روپے تھما دئیے ، تقی الدین ہچکچا گئے ، اور کچھ شرما گئے کہ علم کا خزانہ تو دے دیا بھلا اس کی کیا حاجت – لیکن استاد محترم کا تقاضا آنسوں کی صورت آنکھوں سے نکل اٹھا ، مولانا مبارک پوری زار و قطار رو دئیے – بہتے آنسوں سے تکرار کہ

    ” رکھ لو ، رکھ لو ” – شیخ تقی الدین ہلالی لکھتے ہیں کہ :

    میں نے روپیہ لے لیا ، ان کا رونا دیکھ کر میں بدن پر کپکی طاری ہو گئی ، میں شرمندہ بھی تھا کہ روپے لوٹانے نے ان پر رقت طاری کر دی ” –

    لیکن شیخ تقی الدین کو نہیں معلوم تھا کہ روپے لوٹانا ان آنسوؤں کا سبب نہ تھا ، ہم ہندوستانی محبت میں ایسے ہی جذباتی ہوتے ہیں ، استاد اداس ہوے جا رہے تھے کہ ایسا لائق شاگرد جانے کب ملے –

    تقی الدین نے ان سے معافی چاہی ، لیکن یہ کوئی ناراضی کے آنسو تو نہ تھے یہ تو محبت کے آنسو تھے کہ جو خود سے چلے آتے ہیں اور اپنا وجود منواتے ہیں ، بہتے ہیں اور بہا لے جاتے ہیں –

    شگرد رخصت ہوا ، چاند بھی ڈوب چلا ، ستارے مدھم مدھم سا گیت گاتے اپنی منزلوں کی طرف نکل گئے – مسافر کا پہلا پڑاؤ آ گیا ، فجر کا وقت تھا ، مسافر نماز کے لیے رکا ، امامت کو کھڑا تھا ، دونوں ساتھی پیچھے تھے –

    لطف کرم کی برسات جو عرصہ برسی اور جس کی انتہا آج آخری رات مسافر نے دیکھی ، اس کو بے چین کیے دے رہی تھی –

    دل پر رقت تھی کہ جیسے باہر ہی نکل آئے گا – قرأت شروع کی اور پھر آنسوؤں کی برسات نے کچھ پڑھنے نہ دیا –