Baaghi TV

Category: مذہب

  • اسلام دین انسانیت . تحریر :‌ زوہا علی

    اسلام دین انسانیت . تحریر :‌ زوہا علی

    انسان اسلام کا جتنے غور سے مطالعہ کرے تو یہ بات انسان پر واضح ہوتی ہے کہ اسلام صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے۔اگر ہم یوں کہ دیں تو غلط نہیں ہوگا کہ اسلام انسانیت کا مذہب ہے اور اسلام کے ہر حکم میں انسانیت کا ہی فائدہ ہے۔

    اسلام اور انسانیت لازم و ملزوم ہیں جہاں اسلام ہوگا وہاں انسانیت ہوگی اگر کوئی انسان مسلمان ہونے کے باوجود بھی انسانیت کے خلاف جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام میں خرابی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان اسلام کا مجرم ہے

    یوں تو اس کرہٗ ارض پر اللّہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ بے شمار مخلوقات ہیں اور اس زمین پر حاکم ومحکوم ہیں۔اگر انسانوں میں سے اخلاقیات کی بنیاد یعنی انسانیت کو نکال دیا جائے تو انسان کسی حیوان سے کم نہیں ہے۔

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو کہ زندگانی اور انسانیت کے تمام تر تقاضوں پر پورا اُترتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اللّہ اور اسکے رسول ﷺ نے جو بھی احکامات اور ہدایات دی وہ محض انسانیت سکھاتے ہیں اور انسانوں سے اچھے تعلقات رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے مجھے شوق ہوا کہ میں قرآن و حدیث کا مطالعه کروں جیسے جیسے میں پڑھتی گئی تو معلوم ہوتا گیا کہ بحیثیت سائنس کی طالبہ،جو چیز آج سائنس ثابت کر رہی ہے کہ اس چیز میں انسان کا نقصان ہے وہ اسلام ہمیں چودہ سو سال پہلے منع ہونے کا حکم دے کہ بتا چکا ہے۔دینِ اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں جس میں انسان کا نقصان ہو۔اسی طرح اسلام اپنے پیروکاروں کو بھی انسانیت کا ہی درس دیتاہے۔

    اسلام مىں کوئی بھی ایسی دلیل نہیں کی اسلام نے اپنے پیروکاروں کو دوسروں پر ظلم کرنے کا حکم دیا ہو،یا کسی مقام پر غیر انسانی فعل کرنے کا حکم دیا ہو۔حتیٰ کی اسلام انتقام لینے کا حکم بھی صرف اس وقت دیتا ہے جب ظلم حد سے بڑھ جائے۔بلکہ اسلام تو انتقام لینے کی بھی غیر محدود اجازت نہیں دیتا بلکہ یہ شرائط عائد کرتا ہے کہ انتقام ظلم کے مماثل ہو، اس سے متجاوز نا ہو۔

    ٓآج کل جن حقوق کو ہم نے عالمی انسانی حقوق تسلیم کیا ہے اس سے بہتر انداز میں ہمارے پاس وہ حقوق میثاقِ مدینہ، خطبہ حجۃ الوداع اور دیگر اسلامی تعلیمات میں ملتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم مسلمان ان تعلیمات کو نہیں پڑھتے اور اگر پڑھ بھی لیں تو عمل نہیں کرتے اور یوں ہم اپنی پسند کے راستے پر چل کر غلطی کرلیتے ہیں بووجہ یہ تمام اُمتِ مسلمہ پر انگلی اٹھانے کا موقع دوسرے مذاہب کو مل جاتا ہے اور نتیجتاً بے سکونی غالب آجاتی ہے۔

    اگر ہم مسلمان ہم خود اسلامی تعلیمات پر عمل شروع کریں اور اسلام کے امن پسند اور انسانیت دوست نظریے کو آگے بڑھائیں تو میرے نقطہء نظر سے یہ دنیا خوشحال ہوجائے گی۔

    @ZoHaAli_15

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتیں تحریر: روبینہ سرور

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتیں تحریر: روبینہ سرور

    1* اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
    *صحیح بخاری، ۸*
    2* ‏ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں مر گئی ہے، وہ حج نہیں کر سکی تھی، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟
    آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

    ”ہاں ، تو اس کی طرف سے حج کر لے“۔

    *جامع ترمذی، ۹۲۹*
    3* جب تم میں سے كوئی شخص قربانی كرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قربانی سے کھائے۔

    *مسند احمد،۸۷۱۷*
    4* اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔

    *جامع ترمذی، ۲۱۶۹*
    5* دو کلمے جو اللہ کومحبوب ہیں،زبان پر ہلکے ہیں، میزان پر بھاری ہیں –

    سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ،سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ

    *بخاری،٧٥٦٣*
    6* آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۔

    *سنن ابی داؤد، ۴۸۳۳*
    7* جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔

    *ابوداؤد ،۱۵۳۱*
    8* جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھتا ہے اس کے لئے دونوں جمعوں کے درمیان ایک نور
    روشن کر دیا جاتا ہے ۔

    *مستدرک حاکم، حدیث 3392*
    9* جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے ۔ اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے ۔ اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔

    *صحیح مسلم،۱۷۳*
    10* جو شخص مر گیا اور وہ (یقین کے ساتھ) جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ جنت میں داخل ہو گا

    *صحیح مسلم ،کتاب الایمان، ١٣٦*

  • ریاست مدینہ اور ہم . تحریر: معین وجاہت

    ریاست مدینہ اور ہم . تحریر: معین وجاہت

    پاکستان دنیا کی پہلی ریاست ہے جو ریاست مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی۔ پاکستان کے قیام کے بعد جب کسی نے بانی پاکستان سے سوال کیا کہ پاکستان کن قوانین کو فالو کرے گا تو قائد نے جواب دیا کہ پاکستان کی قانون سازی آج سے 14 سو سال قبل ہو چکی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ بانی پاکستان کی رحلت کے بعد ہم نے ریاست مدینہ کے تصور کو بھلا دیا، گزشتہ سات دھائیوں میں بہت دفعہ آئین کو تبدیل کیا گیا لیکن کسی نے بھی ریاست مدینہ کا ذکر نہیں کیا۔ اگست 2018 میں جب عمران خان وزیراعظم بنے تو انہوں نے پاکستان میں ریاست مدینہ کے اصولوں کو اپنانے کی بات کی لیکن ھمارے ملک میں ایک خاص طبقہ ایسا بھی ھے جسے یورپ کی برہنہ منڈیوں سے اتنی محبت ھے کہ انھیں خان صاحب پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں کو اپنانے پر شدید تکلیف ھوئی لیکن اس سب سے پہلے کیا ھم خود بطور پاکستانی اس قابل ھیں کہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنا سکیں۔۔۔

    ہمارے پیارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم دین اسلام میں انسانیت کا پیغام لے کر آئے اور ایک طویل و صبر آزماء جدوجھد کے بعد اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جس کا منشور محبت، اخوت، انصاف اور مساوات کے ان چار سنہری اصولوں پر منحصر تھا جس پر حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلفاء راشدین نے من و عن عمل کر کے ریاست مدینہ کو استحکام بخشا۔

    جب وزیراعظم پاکستان ریاست مدینہ کا نام لیتے ہیں تو سب سے پہلے ھمیں بطور معاشرہ سوچنا ہو گا کہ کیا ہمارے اعمال اس قابل ہیں کہ ہم خود کو ریاست مدینہ کا ذمہ دار بنا سکتے ہیں۔

    ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں، ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی تاریخ پیدائش کو چھپایا جاتا ہے اسکا اندراج کوئی 3 سے 5 سال بعد کروایا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں نوکری کے لیے عمر کا مسئلہ نا بنے لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ جب ہم بچے کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھ رہے ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم بہترین انداز میں انسان سازی کر رہے ہیں۔

    تاجر کو ملاوٹ سے پاک مناسب قیمت پر اشیاء فروخت کرنا ہوں گی, رشوت کا جو بازار گرم ہے اسکو بند کرنا پڑے گا، کفرانہ سودی نظام سے جان چھڑانا ہو گی، طاقتور اور کمزور دونوں طبقہ کیلئے یکسان نظام انصاف لاگو کرنا ہو گا، جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تو سب سے پہلے انصاف کا بول بالا ہوا۔ انصاف سب پر لاگو کیا گیا۔ انصار و مہاجرین، مسلمان و یہود سب کیلئے یکساں نظام انصاف اپنایا گیا، قاضی کو پابند کیا گیا کہ انصاف اس کا شیوہ ھو گا کیونکہ ریاست کے مکمل ڈھانچے کا سانچہ قاضی کے قلم سے ھو کر گزرے گا۔

    جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تو طاقتور نے طاقت کا غلط استعمال نھیں کیا، اقربہ پروری کو نھیں اپنایا، پسند و نہ پسند کو کوسوں دور چھوڑا گیا، غلطی مسلمان نے بھی کی تو سزا پائی اور انصاف کا دروازہ یہودی نے بھی کھٹکایا تو جزاء پائی۔ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں انصاف کے نظام کو یکساں کرنا ہو گا تاکہ کسی غریب کا حق نا کوئی مار سکے،

    اسلام سے پہلے بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا پھر ہمارے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں، ریاست مدینہ نے جو حقوق دیے وہی حقوق دینا ہوں گے جسکی وہ اپنی پیدائش سے حقدار ھے، بیٹی کو اپنی جائیداد میں حصہ دار بنانا ہو گا،

    ہمسایے کے حقوق، والدین و بزرگوں کے حقوق پر عمل کرنا ہو گا، اسی طرح ہمیں معاشرے میں ہزاروں ایسی برائیوں کا قلع قمع کرنا ھو گا جو کسی بھی معاشرے کو ناسور بنا دیتی ھیں اور یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہم خود کو ٹھیک کریں گے کیونکہ کسی بھی برائی یا خرابی کو ختم کرنے کے عمل کی ابتداء سب سے پہلے اپنی ذات سے کی جاتی ھے۔

    ہم سب کو ریاست مدینہ تو چاہیے لیکن ہم میں سے کوئی ایک فرد بھی اپنے آپکو تبدیل کرنے کو تیار نھیں۔ علامہ اقبال نے یہ الفاظ شاید ہماری ہی حالت زار پر لکھے تھے کہ۔۔۔۔۔

    خدا نے اج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا

  • خُدا کی نعمتیں چھپاؤ تحریر: عتیق الرحمن

    خُدا کی نعمتیں چھپاؤ تحریر: عتیق الرحمن

    اللّہ تعالٰی نے ہر انسان کو مختلف نعمتوں سے نوازا ہے
    جو چیز ایک انسان کے پاس ہے کافی حد تک ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے پاس نہ ہو اور اسی بات سے اللّہ آزماتا ہے کہ کیا میری عطا کی ہوئی نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں یا جو چیز نہیں ملی ابھی اس کی خواہش میں ملی ہوئی نعمتوں کی ناشکری
    ویسے ہم اپنے اعمال کا طخمینہ لگائیں تو ہماری نعمتیں اس سے کہیں بڑھ کر ہیں جنکے ہم قابل بھی نہیں تھے
    ایک بزرگ نے بہت گہری بات کی، کہتے ہیں کہ اگر اللّہ نے ہمیں کسی نعمت سے نوازہ ہے تو ضروری نہیں اسکا ذکر سب کے سامنے کرتے رہو۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ یہ ناشکری میں آئے گا بلکہ اسکہ شکر تنہائی میں اللّہ سے کرو کیونکہ اسکا صلہ بھی اسی نے دینا ہے
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں نعمت کو چھپایا جائے تو اس بات کو انہوں نے ایسے واضح کیا کہ فرض کرو جو نعمت تمہارے پاس ہے اور تم اسکا ذکر کسی ایسے انسان کے سامنے کرو جسکے پاس وہ نہ ہو اور اسے اسکی ضرورت بھی محسوس ہو رہی ہو تو اسکا دل دکھے گا اور ہوسکتا وہ اللّہ سے شکوہ بھی کر بیٹھے تو اللّہ اس کے بدلے تم سے وہ نعمت چھین لے
    اس لئے بہتر ہے نعمتوں کا ذکر یوں نہ کیا جائے کہ دوسرے انسان کو تکلیف ہو اس نعمت کے نہ ہونے سے کیونکہ بیشک یہ اللّہ کے بس میں ہے کس کو پہلے نوازنا ہے اور کس بعد میں۔

    Twitter id @AtiqPTI_1

  • حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام:-  تحریر:از عمرہ خان

    حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام:- تحریر:از عمرہ خان

    حضرت ابرہیم وہ نبی جو خود ایک بت فروش کے بیٹے تھے اور انسے نبیوں کی نسلیں چلیں ۔۔۔وہ نبی علیہ السلام جنکی نسل سے سرور کائنات رحمت دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھے ۔۔جنکی قربانیاں ابد تک کیلئے قرآن پاک میں رقم کردئیے گئے جو ہمیشہ آنے والی نسلوں کی زبانوں اور دلوں میں رہینگے ۔۔۔
    یہ وہ وقت تھا جب ایک بت فروش آذر کے بیٹے نے اس سے کہا کہ
    اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ‌ ۚ اِنِّىۡۤ اَرٰٮكَ وَقَوۡمَكَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ۞
    کیا آپ بتوں کو خدا بنائے بیٹھے ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔۔۔
    وہ بیٹا زمین و آسمان کا نظارہ کرتا اور اس رب کو ڈھونڈتا جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ۔۔۔۔
    فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ رَاٰ كَوۡكَبًا ‌ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّىۡ‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِيۡنَ ۞
    چنانچہ جب ان پر رات چھائی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا کہنے لگے کہ یہ میرا رب ہے ۔۔پھر جب وہ ستارہ ڈوبا تو فرمانے لگے نہیں یہ میرا رب نہیں میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔
    پھر انہوں نے چاند کو دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے۔۔۔
    جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا
    اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں یقیناً گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاتا

    پھر جب انہوں نے سورج کو چمکتا دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے یہ زیادہ بڑا ہے پھر جب وہ غروب ہوا تو کہا کہ
    اے میری قوم جن جن چیزوں کو تم الله کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہو میں ان سب سے بے زار ہوں ۔۔۔۔۔
    اور یوں اللّٰہ تعالٰی نے انہیں حق اور سچ کی طرف رہنمائی فرمائی اور انکا رخ دین حنیف کی طرف موڑ دیا ۔۔۔۔
    مگر صرف دین حق کو قبول کردینا ہی کافی نہ تھا انہیں
    انبیاء کا جد امجد بننے کیلئے امتحانات مقصود تھے جس میں پورا اترنا شرط تھا۔۔۔۔۔
    اور وہ پورا اترے یہاں تک کہ خلیل اللہ کا لقب پایا ۔۔۔۔
    وہایک تہوار کا دن تھا اور قوم تہوار منانے نکلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ اپنے دل کی اس بیماری( جو لوگوں کو گمراہی میں پڑا دیکھ کر آشکار ہوئی تھی ) کی وجہ سے آپ علیہ السلام وہیں ٹھیر گئے اور قوم کے پیچھے انکے بتوں کو توڑ ڈالا اور ہتھوڑا بڑے بت کی گردن میں لٹکا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ قوم آئی اور بت خانے میں توڑ پھوڑ دیکھی تو پہلا شک انکا آپ علیہ السلام پر گیا ۔۔۔۔انسے بت خانے کی بابت پوچھا تو فرمانے لگے کہ اس بڑے بت سے پوچھو۔۔۔۔ کہا کہ یہ تو بول نہیں سکتا یہ کیسے بتائے گا
    انکی عقلوں میں یہ نہ سمایا کہ جب یہ ان ساتھی چھوٹے بتوں کو بچا نہیں سکتا وہ کیسے رب ہوسکتا ہے ۔۔۔۔اور یوں وہ اس نوجوان پر آگ بگولا ہوگئے تو ایک بڑی آگ جلائی گئی جس میں اس سچے حق پرست اور نیک نوجوان ابرہیم علیہ السلام کو ڈالا گیا ۔۔۔۔۔ادھر انھیں آگ میں ڈالا گیا تو رب العالمین کا آگ کو حکم ہوا
    يٰنار كوني بردا وسلاما على ابراهيم
    اے آگ ٹھنڈک ہوجا اور ابرہیم علیہ السلام کیلئے سلامتی والی ہوجا
    اور یوں تین دن آگ میں رہنے کے باوجود صحیح سالم آگ سے نکلے اور اپنے اس امتحان میں آپ ثابت قدم رہے۔۔۔
    اپنی قوم اور باپ کو چھوڑ کر اپنی زوجہ کو لئے نکل کھڑے ہوئے
    اس امتحان کے بعد نمرود کے دربار سے بھی بھی سرفراز لوٹے ۔۔۔ جو ہر خوبصورت عورت کو بیوی بنا لیا کرتا تھا ۔۔۔۔ پھر لوٹے بھی تو ایسے کہ اس بادشاہ نے ان پر اکرام کیا اور انھیں باندی سے نوازا۔ ۔۔۔۔۔
    ابھی امتحان ختم نہ ہوئے تھے انکے ابھی بڑے بڑے کام باقی تھے !!! ۔۔۔۔۔ بڑھاپے میں اولاد کی خوشخبری ہوئی ۔۔۔۔اور وہ باندی جو آنھیں تحفے میں عطا ہوئی تھیں انھوں نے بھی ایک وارث جنا ۔۔۔۔۔۔ بڑھاپے میں ملی وہ اولاد جو اولاد نرینہ بھی تھی ۔۔۔اس ہی کہ ذریعے پروردگار نے انھیں آزمایا اور حکم ہوا کہ اسکے قربان کردیں بیٹا وہی تھا جسکی اولاد میں رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لانا تھی۔۔۔۔دونوں باپ بیٹا کچھ اس طرح ثابت قدم رہے کہ عرش لرز اٹھا اور دونوں سرخرو ہوئے ۔۔۔۔ اورآج تک انکی یہ قربانی یاد رکھی گئی ہے اور ابد تک رکھی جائے گی اس قربانی کی سنت کو ہر 10 تا 12 ذی الحجہ امت محمدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم زندہ کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی ۔۔۔۔۔ پھر اگلا امتحان کچھ یوں ہوا کہ اس جگر کے ٹکڑے کو ایسی سرزمین پر چھوڑنے کا حکم ہوا جہاں دور دور تک کسی نباتات کا نام و نشاں نہ تھا۔۔۔۔۔۔ اپنے رب کیلئے وہ اس امتحان سے بھی گزر گئے
    اور رب العالمین نے ان پر ان امتحانات میں کامیابی کا کچھ اس طرح انعام کیا کہ ’’مَیں آپ ؑ کو لوگوں کا امام (یعنی پیشوا) بنانے والا ہوں۔‘‘ (سورۃ البقرہ، آیت124)۔

    جب سالوں بعد اس مقام پر پہنچے جہاں بیوی بچے کو چھوڑا تھا تو وہ جگہ عجب منظر پیش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ ایک پورا شہر آباد تھا وہاں۔۔۔۔
    پھر بیت اللہ کی دوبارہ تعمیر کا حکم ہوا تو باپ بیٹا ایک بار پھر حکم خداوندی کو پورا کرنے کیلئے جت گئے باپ حضرت ابرہیم علیہ السلام کے لئے جنت سے پتھر آیا جو خود آونچا نیچا ہوجاتا تھا ۔۔۔۔ بیٹا باپ کو پتھر پکڑاتا جاتا اور والد دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کرتے جاتے ۔۔۔
    اور یہ تعمیر نو مکمل تو دعا فرمائی کہ
    ’’ الٰہی! مَیں نے اس لَق و دَق صحرا اور اس بے آب و گیاہ بیابان میں، تیرے گھر کے پڑوس میں اپنی اولاد کو اِس لیے بسایا ہے کہ وہ تیری عبادت کرتے رہیں۔الٰہی! لوگوں کے دِلوں میں ان کی محبّت اور لگن پیدا کر دے تاکہ وہ ان کے پاس کِھنچ کِھنچ کر چلے آئیں۔یہ وادی، جہاں سرسبزی و شادابی کا دُور دُور تک نشان نہیں، اِس میں رہنے والوں کو کھانے کے لیے تازہ پھل عطا فرما
    اور یوں مسلسل امتحانات کے بعد انکا اکرام کرنے میں بھی میرے رب ے کوئی کسر نہ چھوڑی اور وہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم جنکے لئے کائنات وجود میں آئی انکے ابرہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل کی نسل سے فرمادیا۔۔۔۔

    Twitter handle: @Amk_20k

  • سنت ابراہیمی.تحریر:  فروا منیر

    سنت ابراہیمی.تحریر: فروا منیر

    عیدالاضحیٰ پوری دنیا میں مسلمان ہر سال جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ ہر سال سنت ابراہیمی کی یاد کو تازہ کیا جاتا ہے ۔ دنیا بھر کے مسلمان مذہبی جوش و جذبے سے عید الاضحیٰ مناتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ منانے کا مقصد سنت ابراہیمی کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔

    یہ عشق کی انتہا یہ تھی کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا تو آپ نے خود کو عشقِ خداوندی کی سپرد کردیا یہ عشق کی انتہا کی تھی جب آپ کو حکم ملا کہ اپنی بیوی اور بیٹے کو ویران و بیابان علاقے میں چھوڑ آؤ تو  آپ ع نے اپنی بیوی اور بیٹے کو حکم الہی کی سپرد کردیا ۔ یہ عشق کی انتہا یہ تھی کہ جب آپ کو حکم ملا کے اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کر دو تو آپ نے یہ خواب اپنے بیٹے کو سنایا اور اپنے بیٹے کو حکم الٰہی کے سپرد کر دیا۔

    حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اصل مقصد نہیں تھا اصل مقصد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش اور  عشق کی انتہا کو دیکھنا تھا ۔ بے شک اللہ اپنے پیارے بندوں کو آزماتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی گئی ہر آزمائیش پر ثاںت قدم رہے اور کامیاب ہوئے۔
    اسی طرح ہر مسلمان کی زندگی میں آزمائش اور مشکلات آتی ہے آزمائشوں اور مشکلات میں پریشان ہونے اور حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں ۔ ہمیں بھی ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے

    سنت ابراہیمی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں اپنی جان مال قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے
    صرف جانور کو قربانی کرنا چاہیے کہ ہمیں اپنے نفس کی قربانی دینے کی ضرورت ہے ہر اس راستے سے ہمیں دور رہنا ہے جو راستہ اللہ سے دور کر رہا ہے سب سے بڑی قربانی اپنے نفس کی قربانی ہے اللٰہ تعالیٰ کی خاطر اپنے نفس کی قربانی کے لیے بھی ہر وقت تیار رہنا چاہیے

    ہمیں سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور  دین اسلام اور راہ خدا کے لیے کسی قربانی سے انکار نہیں کرنا ہے

    Email Address
    Farwawrites1214@gmail.com

    @Fatii_PTI

    Name
    Farwa Munir

  • کامیابی کا راز   تحریر: کاوش لطیف

    کامیابی کا راز تحریر: کاوش لطیف

    یہ کہانی ہے ایک نوجوان لڑکے کی جو زندگی میں کچھ کرنا چاہتا تھا وہ کامیابی کی تلاش میں تھا اور کامیابی کا راز جاننا چاہتا تھا ایک دن وہ اپنے گاؤں کے بوڑھے آدمی کے پاس آیا بوڑھا آدمی بڑا ہی عقلمند تھا اس نے دنیا دیکھی ہوئی تھی نوجوان لڑکے نے بوڑھے آدمی سے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتا ہے اور وہ جاننا چاہتا ہے کہ کامیاب ہونے کے لئے اس کو کیا کرنا پڑے گا کامیابی کا آخر کیا راز ہے بوڑھے آدمی نے اس کی بات کو غور سے سنیں اور کہا کہ تم کل صبح دریا کے کنارے آ جاؤ تمہارے سوال کا جواب تمہیں مل جائے گا اگلی صبح وہ لڑکا دریا کے کنارے پہنچا

    تو بوڑھا آدمی وہاں پہلے سے ہی موجود تھا بوڑھا آدمی اس لڑکے کو لے کر دریا میں اتر گیا اور گہرے پانی کی طرف چلنا شروع کر دیا جب وہ اتنی گہرائی تک پہنچ گئے کہ پانی لڑکے کی ناک تک آگیا تو بوڑھا آدمی رک گیا اور پھر اچانک ہی اس نے لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پانی کے اندر ڈبو دیا لڑکا بوڑھے آدمی کی اس حرکت پر حیران رہ گیا پانی کے اندر اس کا سانس روک کر رہا تھا اور اسے شدید تکلیف ہو رہی تھی تھوڑی دیر کے بعد جب تکلیف اس کے برداشت سے باہر ہو گئی تو اس نے باہر نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیا لیکن جیسے جیسے وہ باہر نکلنے کے لیے زور لگاتا بوڑھا آدمی اور زور سے پانی کے اندر دبا دیتا

    لڑکے کی تو جان پر بن گئی تھی وہ اپنی پوری قوت سے ذور لگا رہا تھا آخر لڑکے نے اپنی پوری طاقت سے بوڑھے آدمی کو دھکا دیا اور اپنا سر پانی سے باہر نکال لیا اسے خود بھی سمجھ نہیں آئی تھی کہ اچانک اتنی طاقت اس کے اندر کہاں سے آگئی سر باہر نکال تے ہی لڑکے نے تیز تیز سانس لینا شروع کر دیا بوڑھا آدمی اسے سہارا دے کر کنارے پر لے آیا جب تم پانی کے اندر تھے تو اتنا زور کیوں لگا رہے تھے

    لڑکے نے غصے سے بوڑھے آدمی کو دیکھا مجھے سانس نہیں آ رہی تھی اور میں سانس لینے کے لئے زور لگا رہا تھا آپ تو مجھے یہاں کامیابی کا راز بتانے لائے تھے اور آپ نے مجھے پانی کے اندر ڈبونا شروع کر دیا بوڑھے آدمی نے کہا کہ یہی کامیابی کا راز ہے کامیابی بھی پانی کے اندر سانس لینے کی طرح ہے جب پانی کے اندر تمہارا دم گھٹ رہا تھا تمہیں سانس نہیں آرہا تھا کہ تمہاری صرف ایک ھی خواھش تھی کہ کسی طریقے سے تم سانس لے سکوں باقی تم دنیا کی ہر چیز بھول چکے تھے اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو تو کامیابی کی بھی تمہیں ایسی ہی خواہش کرنی پڑے گی

    جب کامیابی کی تمہاری خواہش اتنی شدید ہوگئی جتنی ہوا ہے تمہاری پانی سے باہر نکلنے سانس لینے تک کی تھی تو کامیابی تمہیں ضرور ملے گی جب تم پانی کے اندر تھے تمہیں سانس نہیں آ رہی تھی تم تڑپ رہے تھے اپنا پورا زور لگا رہے تھے باہر نکلنے کی پوری کوشش کر رہے تھے میں تمہیں نیچے دبا رہا تھا لیکن تم ہار نہیں مان رہے تھے تم جنونی بنے ہوئے تھے تمہیں ہر صورت باہر نکلنا ہی نکلنا تھا تم اپنی پوری جان سے پوری طاقت سے زور لگا کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے جب تم کامیابی حاصل کرنے کے لیے اتنا ہی زور لگاو گے اتنے ہی جنون کا مظاہرہ کرو گے تو کامیابی تمہیں ضرور ملے گی

    چاہے دنیا تمہیں کتنا ہی دبائے تمہارے راستے میں کتنی ہی رکاوٹ ڈالیں تم ہار نہیں مانوں گے تم کوشش کرتے رہو گے تو کامیابی تمہیں ضرور ملے گی اور یہی کامیابی کا راز ہے

    @k__Latif

  • عید قرباں کا مقصد اور پیغام تحریر : فہد ملک

    عید قرباں کا مقصد اور پیغام تحریر : فہد ملک

    اپنے اردگرد رہنے والے مسلمانوں بھائیوں کا خیال رکھیں۔اپنے اندر خلوصِ محبت، ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔
    کیونکہ عید قرباں کا مقصد ہی یہی ہے۔جس طرح حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی سب سے قیمتی چیز کو اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنا کا فیصلہ کیا۔اور آزمائش پر پورا پورا اترے۔
    اس طرح ہم بھی اللّٰہ تعالٰی کے احکامات پر عمل کر کے اپنے رب تعالٰی کی رضاوقرب حاصل کر سکتے ہیں۔

    جس طرح حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے اللّٰہ تعالٰی کے حکم کے سامنے اپنا سر جھکا دیا۔
    اسی طرح ہمیں بھظ چاہیئے کہ اپنے بچوں کو بھی اللّٰہ تعالٰی کے احکامات کی پابندی کرنے کی تاکید کرتے رہے
    انہیں معاشرے میں بسنے والے دیگر افراد کے ساتھ حسن سلوک ہمدردی اور پیار سے پیش آنے کا درس دیں۔ ان کی خوشی غمی میں شریک ہونے اور ان کی خاطر اپنے جل کو قربان کرنے کا سبق دیاجائے
    ‏جانور کی قربانی تو محض ایک علامت ہے اصل قربانی تو یہ ہے کہ حکام الہی اور شرعیت کو پورا کیا جائے اپنی نفسانی اور دنیاوی خواہشات کو قربان کیا جائے اپنی سہولیات کو نظر انداز کر کے اپنے مسلمان بھائیوں کا خیال رکھا جائے۔ اپنی ذات کو تقوی اورایثار کا پیکر بنایا جائے۔
    قربانی کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جس مقصد کیلئے قربانی ہو رہی ہو وہ مقصد ضرور پورا ہو اس مینث کسی بھی قسم کا ریاکاری یا دکھاوا نہ خا لص اللہ تعالٰی کی رضا کیلئے قربانی کی جائے
    نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    ترجمہ: "جس نے خوش دلی کے ساتھ طالب ثواب ہو کر قربانی کی اس کیلئے وہ قربانی آتش جہنم کئیلے حجاب بن جائے گی”

    نماز عید کی دعا میں کفار کے ظلم وبربریت کا شکار فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آزادی کیلئے دعا کریں اللّٰہ تعالٰی ان کی عزت و ابرو کی حفاظت فرمائے اور ان کے مسائل کو خیر برکت کے ساتھ فرمائے آمین
    کیونکہ قربانی کا ایک اہم مقصد یہی ہے اور یہی اسکا تقاضا ہے

    ‎@Malik_Fahad333

  • تحریر: حبیب الرحمٰن خان  عنوان: اسلام اور عورت

    تحریر: حبیب الرحمٰن خان عنوان: اسلام اور عورت

    بلاشبہ حضرت انسان کی تخلیق اور اسے اشرف المخلوقات کا لقب عنایت کرنا رب العرش العظیم کی بے پناہ عنایت ہے
    اور اسے بھی دوسری دنیاوی مخلوقات کی طرح جوڑے کی شکل میں پیدا فرمایا
    لیکن ہر صنف کو الگ صفات سے نوازا
    اگر مرد کو طاقت و جرات عنایت فرمائی
    تو عورت کو مرد کے لیے بے مثال بنا کر دنیا میں رونمائی دی
    اگر مرد کو زیب وزینت کی کمی ملی تو
    عورت کو صنف نازک کہا گیا
    اسی صنف نازک کی کمی کا مرد نے ہر دور میں فاہدہ اٹھایا
    اسلام سے قبل عورت کو مرد کے مقابلے میں اشرف المخلوقات سے حصہ دینے سے ہی انکار کر دیا گیا
    جس کی مثال ایسے ہے کہ اسے پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتا
    میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کے نزول کے مقاصد میں عورت کو مقام دلانا بھی شامل تھا۔
    اسی لیے رب کائنات نے قرآن مجید فرقان حمید اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے عورت کی بقاء کے لیے مختلف مقامات پر مختلف انداز میں کبھی حکم فرمایا تو کبھی ترغیب دی
    جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

                    مَنْ عَالَ ثلاثَ بناتٍ فأدَّبَہُنَّ وَزَوَّجَہُنَّ وأحسنَ الیہِنَّ فلہ الجنة(۶)

                    جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔
    اور دین حق نے نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے عورت کو دنیا کے مختلف امور پر فائز کر کے عورت کی اہمیتِ کو اجاگر کیا
    صحابہ کے درمیان قرآن وحدیث میں علم رکھنے والی خواتین کافی مقدار میں ملتی ہیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط اور فتویٰ دینا بڑا ہی مشکل اور نازک کام ہے؛ لیکن پھر بھی اس میدان میں عورتیں پیچھے نہیں تھیں؛ بلکہ صحابہٴ کرام کے مدِمقابل تھیں، جن میں کچھ کا ذکر کیا جاتاہے۔ مثلاً:

    حضرت خدیجہ ،حضرت عائشہ، حضرت ام سلمہ، حضرت ام عطیہ، حضرت صفیہ، حضرت ام حبیبہ، فاطمہ بنت آقا دوجہاں، اسماء بنت ابوبکر، ام شریک، فاطمہ بنت قیس، وغیرہ نمایاں تھیں۔
    لیکن دور حاضر میں مرد نے دور جہالت کا وطیرہ اپناتے ہوئے ایک بار پھر عورت کو پردے سے نکال کر دنیاوی رونق اور مرد کے لیے عیش و عشرت کا سامان بنا کر پیش کیا۔
    بد قسمتی سے اس سارے معاملے میں عورت نے ہی عورت کے استحصال کے لیے
    اہم کردار ادا کیا
    اور دنیاوی خواہشات کے لیے اپنی ہی جنس کی عزت و آبرو کو پاؤں تلے روندنے کے لیے مواقع فراہم کیے
    میرے خیال سے جسے ہم دور جدید کا نام دیتے ہیں
    وہ دور جہالت کی ہی ایک قسم ہے
    دین سے دوری نے حضرت انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑا
    متفق ہونا ضروری نہیں
    @HabibAlRehmnkhn

  • تحریر: تصوّر جٹ  ‏جدیدیت اسلام سے دوری کا باعث

    تحریر: تصوّر جٹ ‏جدیدیت اسلام سے دوری کا باعث

    بے حیائی کیا ہے؟ گناہوں پر شرم نہ محسوس کرنا بلکہ ان کا کھلے عام اعتراف کرنا،  بے حیائی ہے۔

    ہمارا معاشرہ بے حیائی کے اس راستے پر چل پڑا ہے جہاں عروج نہیں بلکہ زوال ہے۔

    جدید دور کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور مسلمان اس گمراہی کو خوشی سے قبول کر رھے ھیں۔

    اگر آج کے دورِ جدید میں دیکھا جائے تو مختلف ایپس نے پوری دنیا میں فحاشی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جن کی مقبولیت ایسے شیطانی ذرائع ہیں جن کی وجہ سے بے حیائی مسلمانوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ جس کی زد میں آ کر مسلمان اپنی اسلامی اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    مسلمان عورتوں میں پردہ اور مردوں میں حیا کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس سے کسی بھی معاشرے کو زوال کا شکار ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔

    ایسے لوگ جو مسلمانوں کو دین اسلام سے دور اور ان میں بے حیائی و فحاشی کو پھیلاتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ

    “جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہیں، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔”
    مسلمان سمجھ رھے ھیں کہ ھم جدید دور کی طرف جا رہے ھیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھ رہے کہ وہ اسلام سے کتنا دُور ہو گئے ہیں

    کبھی کبھی میرے ذہین میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا ہمارے آباؤ اجداد نے بے شمار جانوں کے نذرانہ پیش کیے تھے۔

    ہم آج پاکستان کو بنانے کا مقصد بُھول گئے ہیں اور دین اسلام سے اتنا دُور چلے گئے ہیں یہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔

    ہمیں اپنے مقصد کی طرف واپس آنا ہو گا اور اللہ اور اس کے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرنی ہو گی۔

    اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین۔

    @T_jutt17