Baaghi TV

Category: مذہب

  • عید الاضحی کی روایتیں : تحریر عینی سحر

    عید الاضحی کی روایتیں : تحریر عینی سحر

    اللہ تعالیٰ نے سورہ حج کی آیت ٣٧ میں فرمایا
    لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوْمُهَا وَلَا دِمَاۤؤُهَا وَلٰـكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْۗ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَـكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمْۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ

    ‘نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اُس نے ان کو تمہارے لیے اِس طرح مسخّر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو اور اے نبیؐ، بشارت دے دے نیکو کار لوگوں کو’

    یہی عید الاضحی کی اساس ہے کے نہ نمود و نمائش نہ ہی فخر و غرور اور نہ ہی مہنگے جانور خرید کر اترانے کا نام عید الاضحی ہے _ مسلمانوں کا یہ مذہبی تہوار حضرت ابراہیم علیہ سلام کی اس عظیم قربانی کی یادگار میں ہے جب انہوں نے خواب میں ملنے والے حکم الہی پر عمل کرتے ہوۓ اپنے جگر گوشے حضرت اسماعیل علیہ سلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کی حکم بجالانے کی کوشش کی _ اللہ پاک نے انکی بندگی اور فرمانبرداری کو قبول فرماتے ہوۓ حضرت اسماعیل علیہ سلام کو بچا لیا اور انکی جگہ ایک دنبے کو قربان کیا
    یہ بندگی یہ عاجزی یہ خالق و ارض و عرش کا حکم بجا لانا ایک مثال ہے تمام جہان والوں کیلئے اللہ کی راہ میں اپنی سب سے عزیز شے کو قربان کرنے کا جذبہ پیدا کیا جاۓ ہر عید الاضحی پر سنت ابراہمی پر عمل پیرا ہوتے ہوۓ اپنی استعاعت کےمطابق جانور خرید کر اللہ کی راہ میں قربان کئے جائیں

    اسمیں نہ تو نمود ونمائش کا عنصر ہو نہ ہی معاشرے میں اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش ہو بلکے اپنے عمل کو اللہ کی رضا کیلئے خالص کرلینے کا نام ہی بندگی ہے جسکا حکم اللہ نے سورہ حج میں ہمیں دیا کے قربانی کے جانور کا گوشت اور اسکا خون اللہ تک نہیں پہنچتا بلکے مسلمان کا تقویٰ اللہ تک پہنچتا ہے _ وہ خلوص نیت پر مبنی ہے کے ہم اپنی دی ہوئی قربانی کو صرف ثواب نیت سے اللہ کی راہ میں قربان کریں

    عید الاضحی کی بنیاد میں یہ عنصر پنہاں ہے کے ہم معاشرے کے محروم طبقے کو نظر انداز نہ کریں اور قربانی کا گوشت انھیں پہنچائیں تاکے انکی تنگدستی میں انکی مدد ہو سکے یہی وجہ ہے کے قربانی کے گوشت میں غربا کا ایک حصہ مقرر ہے . اسکے ساتھ رشتہ داروں اور قربت داروں کا خیال رکھنے کا بھی حکم ہے تاکے صلہ رحمی میں کوئی کمی نہ ہو
    عید الاضحی اس روایت کا نام ہے کے اپنے عزیز رشتہ دار پڑوسیوں اور دوست احباب کی بھی مدد کریں والدین اور رشتہ داروں کےحقوق پورے کئے جائیں تبھی رب کائنات کی خوشنودی حاصل ہو سکتی ہے

    عالم اسلام عید الاضحی پر قربانی کا فریضہ ادا کرکے سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ہے
    بحیثیت پاکستانی ہمارا فریضہ محض قربانی کر کے اور اسکا گوشت بانٹ کر ہی پورا نہیں ہوتا بلکے لازم ہے کے ہم اپنے گردو نواح کا بھی خیال رکھیں اور حکومتی ہدایت کے مطابق قربانی کی آلائشوں کو ٹھکانے لگائیں ، گلی محلے اور سڑکوں پر الاینشیں پھینکنے کی بجاۓ مقامی حکومت کی ہدایت کے مطابق مطلوبہ مقام پر ہی الائشیں پہنچائیں تاکے گلی محلوں اور سڑکوں میں تعفن پیدا نہ ہو اور بیماریاں نہ پھیلیں

    مسلمان کا فریضہ صرف جانور کی قربانی سے ہی پورا نہیں ہوتا بلکے ضروری ہے کے نیت کو صرف رب کی رضا کیلئے خالص رکھتے ہوۓ اسکی پیدا کردہ مخلوق اور بناۓ گۓ رشتوں کے حقوق پورے کریں اور عید الاضحی کی اس اصل روح پر عمل کریں کے انسان کی اپنی کوئی انا نہیں بلکے اسکے پاس جو کچھ ہے وہ رب العزت کا ہے اور وہ اسکی راہ میں سنت ابراہیمی کو پورا کرتے ہوۓ اپنے اندر تقویٰ پیدا کرے کیوں کے وہی ایک تقویٰ ہے جو اللہ کے ہاں پہنچتا ہے

  • جمعہ کی فضلیت   تحریر: فہد ملک

    جمعہ کی فضلیت تحریر: فہد ملک

    جمعہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اجتماع سے مشابہہ ہے، جمعہ (جمع ہونے کا دن)
    ہم (امت محمدیہ) بہت خوش نصیب ہیں کہ اللہ تَعَالٰی نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے ہمیں جُمُعۃُ الْمبارَک جیسی بہت بڑی نعمت سے نوازا ہے۔ مگر افسوس! ہم نا قدرے لوگ جُمُعہ مبارک کوبھی عام دنوں کی طرح غفلت میں گزار دیتے ہیں حالانکہ جُمُعہ کا دن تو عید کا دن ہے، جُمُعہ کا دن ہفتے کے دنوں کا سردار ہے، جُمُعہ مبارک کے روز جہنَّم کی آگ نہیں سُلگائی جائے گی، جُمُعہ کی رات دوزخ کے دروازے بند رہتے ہیں، جُمُعہ کے دن کو قِیامت کے دن دلہن کی طرح اُٹھایا جائیگا، جُمُعہ کے روز مرنے والا شخص خوش نصیب مسلمان شہید کا رُتبہ پاتا ہے۔ اور قبر کے عذاب سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے۔ حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کے فرمان کے مطابق، جُمُعہ مبارک کو حج ہو تو اس کا ثواب ستَّر حج کے برابر ہوتا ہے ، جُمُعہ کی ایک نیکی کا ثواب ستّرگنا ہوتا یے۔ (چونکہ جمعہ کا شرف بہت زیادہ ہے لہٰذا ) جُمُعہ کے روز گناہ کاعذاب بھی ستّرگنا ہی ہے۔ (مُلَخَّص از مِراٰۃ ج۲ص ۳۲۳، ۳۲۵ ، ۶ ۳ ۳)

    جمعہ المبارک کے فضائل کے تو کیا کہنے ۔ اللّٰہ تعالٰی نے جُمُعہ مبارک کئ فضلیت بیان فرماتے ہوئے ایک پوری سورت ’’ سُوْرَۃُ الْجُمُعَہ’’ نازل فرمائی جو کہ قرآن پاک کے 28 پارے میں جگمگا رہی ہے۔

    ارشاد ہے۔

    ذیٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۹)

    ترجمہ: ا ے ایمان والو ! جب نَماز کی اذان ہوجُمُعہ کے دن تواللہ کے ذِکر کی طرف دوڑواور خریدوفروخت چھوڑدو،   یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم جمعہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام اس دن پیدا کئے گئے تھے۔ اور اس دن میں جنت میں داخل کئے گئے تھے۔ اور اس دن کو ہی جنت سے نکالے گئے اور قیامت بھی اسی دن آئے گی

    ‎@Malik_Fahad333

  • پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم   تحریر : اقصیٰ صدیق

    پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تحریر : اقصیٰ صدیق

    حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 12 ربیع الاول عام الفیل بمطابق 570ء یا 571ء کو دنیا میں رہ تشریف لائے ۔
    آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ کا نام محمد رکھا، عربی زبان میں لفظ “محمد” کے معنی تعریف کے ہیں، یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔

    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی طرف سے انسانیت کی جانب طرف بھیجے جانے والے انبیاء اکرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی تکمیل کے لیے بھیجا.
    پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور حیات طیبہ ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی قرآن کریم کا عملی نمونہ ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی سے ہدایت میسر آسکتی ہے، اللّٰہ پاک ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔
    رسولؐ اللہ سے محبت ایک مسلمان کے ایمان کا عملی تقاضا ہے حضور ؐ نے فرمایا:” کوئی شخص اس وقت تک ایمان والا نہیں ہے ہو سکتا جب تک میں اس کو اسکے ماں باپ اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاٶں“۔

    سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرنا ہر اس شخص کے لیےضروری ہے، جو دین اسلام کو جاننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا خواہش مند ہے۔ اور خود کو سیرت طیبہ کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے،

    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو،
    لہٰذا سیرت نبوی کو جانے بغیر یہ ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اتباع رسول کو لازم اور فرض قرار دیا ہے۔
    صحابہٴ کرام سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس تھے ان کی عبادات میں ہی نہیں بلکہ چال ڈھال میں بھی سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور جھلکتا تھا۔
    اگر کسی کو عہدِ رسالت نہ مل سکا تو پھر ان کے لیے عہدِ صحابہ معیارِ عمل ہے۔

    اللہ رب العزت نے دین اسلام کو نظامِ حیات اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کو دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے مکمل نمونہ حیات بنایا ہے یہی طریقہ اسلامی طریقہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ سنت کہلاتا ہے اور آپ نے فرمایا ہے من رغب عن سنتی فلیس منی جس نے میرے طریقے سے اعراض کیاوہ مجھ سے نہیں ہے۔
    انسائیکلوپیڈیا کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب ترین شخصیت قرار پائے ہیں ۔
    دنیا وآخرت میں کامیابی وسرفرازی کا عنوان اتباع سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا زیادہ تر وقت مکہ سے باہر واقع ایک غار میں جا کر عبادت میں صرف کرتے تھے اس غار کو غار حرا کہا جاتا ہے۔ یہاں پر 610ء میں ایک روز حضرت جبرائیل علیہ السلام (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کا پیغام دیا۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن کی پہلی آیت ( پہلی وحی) چالیس برس کی عمرمیں نازل ہوئی۔
    اس کے بعد سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رسول کی حیثیت سے تبلیغ اسلام کی ابتداء کی اور لوگوں کو توحید کی دعوت دینا شروع کی۔
    اس سے پہلے ہر طرف درندگی اور حیوانیت کا راج تھا ہر طاقتور فرعون بنا ہوا تھا۔ قتل وغارت عام تھی نہ عزت و عصمت محفوظ، نہ عورتوں کا کوئی مقام، نہ غریبوں کے لیے کوئی پناہ،
    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا۔

    @_aqsasiddique

  • جب چشمِ فلک اشکبار ہوئی . تحریر ‌:  ایم ایم صدیقی صاحب

    جب چشمِ فلک اشکبار ہوئی . تحریر ‌: ایم ایم صدیقی صاحب

    ہ فاراں کی نورانی چوٹی پر کھڑے ہوئے ، قل ھواللہ احد کا سب سے پہلا باطل شکن نقارہ ، بجا کر نوع انسانی خواب کفر و ضلالت سے بیدار کیا ، اور سلسلۂ دعوت و تبلیغ میں مہر و الفت محبت ولطافت، کی گل افشانیاں کرتے ھوئے ، صرف 23 سالہ عرصۂ مختصر میں باطل خداؤں کے چراغوں کو بجھا کر توحید کا جہاں تاب دیا جلا یا، سابقہ ملل و شرائع کو منسوخ کر کے ،،،، الیوم اکملت لکم دینکم ———- کا سرمدی دستور حیات پیش کیا ،،، ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کے ہاتھوں قصرِ دین کی تکمیل ہو چکی، اور بالآخر، —— کل نفسٍ ذائقۃ الموت——— کے سرمدی اصول کےطابق ؛ محبوب یزداں ، فخرِ رسولاں ، پیغمبرِ آخر الزماں ، ملک الموت کے ذریعہ دارِ فانی سے عالم جاودانی کا سفر طے فرماکر واصلِ بحق ہوئے،،،

    تو اس وقت کے تصور سے روح کانپ جاتی ھے رگ و پے کی حرکت سلب ہوجاتی ھے، پلکوں پر آنسوں کے موتی بکھر جاتے ھیں ، عقل و خرد کے لطیف محل پر اداسیوں کے گھنے بادل سایہ فگن ہوجاتے ھیں ، غم فراق کے فرشِ حزیں پر تصورات کے تلوے زخمی ہونے لگتے ھیں ،، آرزووں کے شاداب پودوں کو سمومِ فراق کی تیزابیاں جھلسا دیتی ہیں ، ذہنی عشرت کدے کی بنیادیں متزلزل ہونے لگتی ہیں ،،،، زبانِ کائنات واحسرتا واحسرتا کا ورد کرنے لگتی ھے ،
    الحاصل،،، مرگ رسول کی منظر کشی سے زبان تھر تھراتی ہے ، قلم لڑ کھڑاتا ھے ، دامنِ صفحات سمٹتا نظر آتا ھے ،جملے مہمل ہو جانا چاہتےھے ، حروف تہجی خبر غم کی ہئیتِ ترکیبی اختیار کرنے سے گریز کرتے ھیں ، ذخیرۂ الفاظ داستان رحلت کی تعبیر سے قاصر ھے،

    الغرض ،،، نوشتۂ ازلی کے مطابق حادثۂ جانکاہ وجود پذیر ہو ہی چکا ،،،، تو بتکلف تمام دلِ احساس پر صبر و تحمل کا پتھر ور کی کشید کی ہوئی لکیر پر دست نگارش ، جبراً و کراہاً، بایں طور خامہ فرسائی ہوا،،،،،،،،،، کہ ماہ ربیع الاول ، کی بارہویں شب بدرِ منیر کی خنک شعاوں سے آنکھ مچولیاں کرتی ھوئی گیسوئے سیاہ فام کی گرہوں میں ستاروں کی ضوفگن کرنوں کو باندھتی ھوئی ، گلشنِ وجود کے پودوں کی آبیاری اور نازک گلوں کی لطیف پنکھڑیوں میں موسم بہار کی مٹھاس گھولتی ہوئی ،، صبح نو کے ساحل کی طرف آہستہ آہستہ چل رہی تھی ، چاند —— قدّرنٰاہٗ منازلَ —— کے محور پر تیز گام تھا ، تاروں کی شب تاب شمعیں مندمل ہونے لگی تھیں ، گلشنِ دنیا میں چہل پہل شروع ہوچکی تھی ، رات کی مسافت تمام ہورہی تھی ، غرض یہ کہ،،،،،،، قیامتِ کبریٰ کا منظر لئے ہوئے لرزتی کانپتی سحر طلوع ہوئی ، گھنے بادلوں کے اوٹ سے سورج رونما ہوا ، اور آناً فاناً صفحۂ دہر پر روشنی پھیل گئی ،، سورج کی جبینِ جہاں تاب پر رنج و غم کی تصویر کشید کی ہوئی تھی ، اس کی خو بار شعاؤں سے کسی سب سے بڑے المیہ کا سراغ مل رہا تھا ، اور جب وہ اپنے مقررہ مدار پر رقص کرتا ھوا وقت موعود پر ڈیرا ڈال چکا ، تو نوشتۂ ازلی کی فائل کھولی گئی ،،،،،، قضا و قدر کے قلم نے عالمِ برزخ میں داخلے کا اجازت نامہ لکھا ،——— کل من علیھا فان———– کی عدالت نے آخری فیصلہ سنایا ، اور یک لخت گردش دوراں نے انگڑائیاں لیں نظمِ کونین میں انتشار بپا ہوا، چمن مسرت پر اداسی کا بادل منڈلایا ، —–احسن تقویم —- کے نوری قالب میں دست اجل نے ڈاکہ زنی کی،،، روح پر فتوح کو قفس عنسری سے نکال کر نہایت اعزازو احترام کے ساتھ جنتی ملبوسات میں لپیٹا، اور —— الموت جسرٌ ——– کے حدِ فاصل کو پار کرکے ، —– یوصل الحبیب الی الحبیب———- کی منصبی خدمت بجا لانے کے بعد ،—— ثم دنیٰ فتدلّیٰ ——— کا قابلِ دید منظر پیش کر کے اشتیاقِ مشیت کا دیرینہ تقاضہ پورا کیا ، !!

    پھر کیا تھا افرا تفری کا عالم بپا ہوا، چشم فلک اشک بار ہوگئی ، سینۂ گیتی کا دل دہل گیا ، عرش اعظم کے ستون ہل گئے، قصر نیلگوں کی جبینِ پُر شکوہ پَر شکن ابھر آئی، انسانیت یتیم ہوگئی،، روحیں غمگساری کے لئے زمین پر اتر نے لگیں ، روئے ایام نے تابِ ضبط نہ لاکر شب تاریک کا لبادہ اوڑھ لیا،،،،،،،،
    اور ادھر رفیق اعلی کاشوق —- اُدُنُ مِنیّ —— لبریز ہورہا تھا ، بامِ عرش سے ——– اِ ئتُونی بہ استخلصہُ لنفسی——— کی صدائیں باز گشت گونج رہی تھی،، خالق سلسبیل ، —- شراباً طہورا——– کا دور چلانے والا تھا ، ، روح الامین کو ثرو تسنیم کے ساغر ومینا لئے کھڑے تھے،، حوریں جنتی بالاخانوں میں ——- الانتظار اشد من الموت ——— کا وظیفہ دہرا رہی تھی ،،،، رضوانِ جنت نوری تنوں کے ہمراہ نوشہِ جنت کے استقبال کے لئے فرش راہ بنے ہوئے تھے ، فردوس اعلی کی ثمر افشاں ڈالیاں شیریں مزاج و خوشگوار تحفے لئے بوجھل ہورھی تھیں،،،، عروس جنت شبِ کن فکاں کے دولھا کو اپنی باہوں میں لے کر خفیف لوریاں دینا چاہتی تھیں ،،،،
    حجرۂ عائشہ تماشہ گہِ عالم بنا ہو اتھا،، در یثرب پر فرشتوں کا ازدحام تھا،، خاکِ لحد کے زرات جلوۂ کہکشاں کا منظر پیش کررھے تھے ، جسد رسول کے انعکاسی شرارے سورج کی شعاعوں کو شرمارہے تھے،، کفن کے زر نگار ٹکڑے ردائے کبریائی سے اقتباسِ فیض کررھے تھے ،،،، مہاجرین و انصار نے —– رحماء بینھم ——– کا عملی نمونہ پیش کردکھا یا تھا ، تاآنکہ،،،،،، الائمۃ من القریش—— کے بمصداق؛؛؛؛ ثانی اثنین اذھما فی الغار ——– خلیفہ اول منتخب ہوچکے تھے ،،،

    آخراً،،، جب جاں نثار صحابہ لرزتے کانپتے ہونٹوں سے نعشِ مبارک کو غسل دے کر ، زر نگارملبوسات میں بصد اعزاز و احترام مستور کرکے اشکبار آنکھوں سے جمال انوری کا آخری دیدار کرچکے،، تو یکا یک ، مشیت کانپی،، بجلی کڑکی، دھرتی کا

    اپنے پرائے کے لئے یکساں تھا مہرباں
    افسوس ایسا رہبرِ فرزانہ کھو گیا

    @soxcn

  • دین اسلام ، پاکستان اور ہم لوگ تحریر : سیف اللہ عمران

    دین اسلام ، پاکستان اور ہم لوگ تحریر : سیف اللہ عمران

    پاکستان بننے کا مقصد مسلمانوں کے لئے الگ ریاست قائم کرنا تھا جہاں مسلمان اپنے رب سے رشتہ قائم کرسکتے ہیں اور ملک میں اسلامی قوانین نافذ کرسکتے ہیں اور ہم ایک ایسا اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جو دنیا کے لئے ایک مثال ہو۔

    بانی پاکستان کو آزادی کے بعد اس ضمن میں کچھ قانون سازی کرنے کے لئے اتنا وقت نہیں ملا۔ ابتدائی طور پر ، اس ملک کا قانون انگریزوں سے لیا گیا ایک قانون تھا۔ انگریزوں نے اس میں بہت سی تبدیلیاں کیں ، لیکن ہمارے پاس یہ اثاثہ ویسے ہی اب بھی موجود ہے مجھے اب بھی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ ہمیں انگریزوں سے آزادی ملی ہے یا انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہے۔

    تاہم، فرض کریں کہ ابتدائی چند برسوں میں ، ملک کی سالمیت کے ساتھ بہت سے دوسرے معاملات تھے جن پر توجہ نہیں دی گئی ہو گی ۔ لیکن پھر سال گزر گئے اور ہم اس ملک میں اسلامی قانون یا شریعت نافذ نہیں کرسکے۔ لیکن ہم نے اسلام کو تنہا نہیں چھوڑا ، بلکہ اسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنے کا فن سیکھا.
    جی ہاں! آج ، لوگوں کو ہمارے ساتھ کھڑا کرنے اور ہماری مقبولیت حاصل کرنے کے لئے ، اسلام ہمارے لئے سب سے بڑا ہتھیار ہے۔اس ملک کے فراموش لوگوں کے لئے اسلام کی محبت اس قدر شدید ہے کہ اسلامی نعرہ انہیں سڑکوں پر لے جاسکتا ہے اور آواز بلند کرسکتا ہے۔
    لیکن عملی طور پر ہم سب انگریزوں کے بنائے ہوئے قواعد کو دھیان میں رکھتے ہیں ، چاہے ہم ان کو دس لاکھ برے الفاظ بھی کہتے رہیں , اس کا مطلب یہ ہے کہ انگریزوں کی مکمل پیروی کرنے کے بعد بھی ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں۔

    ہماری قومی زبان اردو ہے لیکن سرکاری زبان انگریزی ہے۔ ہم مسلمان ہیں لیکن ہم انگریزوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ ہمارا قومی ترانہ فارسی میں ہے اور مذہب عربی میں ہے ، لیکن ہم دونوں زبانوں سے لاعلم ہیں اور ان کو سیکھنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رہے ہیں، ہاں، انگریزی سیکھتے ہیں کہ دنیا جو کمانی ہے۔ اس کے لیے انگریزی زبان بہت ضروری ہے.

    عالمی سطح پر، کسی بھی ملک کی ترقی و خوش حالی کا انحصار اس ملک کی اسٹیبلشمن- پر ہوتا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے چار جزو سیاست، فوج، بیورو کریسی اورعدلیہ ہیں ۔ جو صرف اس صورت میں ترقی کر سکتے ہیں جب وہ مل کر کام کریں۔ اور اگر ان میں سے ہر ایک صرف اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر ملک کا نظام انتشار کا شکار ہوجائے گا / جاتا ہے اور یہ ہمارے ملک پاکستان کی صورتحال ہے۔ ہمارے سیاستدان چاہتے ہیں کہ وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنیں اور ان کے پاس جوابدہ رہنے کے لئے کوئی نہ ہو۔ اسی طرح باقی ادارے بھی اپنی خودمختاری اور آزادی کے نعرے کے ساتھ منظرعام پر آتے ہیں اور پھر معاملہ اور بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ مالک اور خود مختار وہی ہے جس نے اس مقدس سرزمین کی برکتوں کو ہم جیسے بیکار کے حوالے کردیا۔ تو پھر کیوں اس کے قانون کو نافذ نہیں کیا جا رہا ہے؟

    ایسی بات کہنے یا نعرہ لگانے کی حد تک تو ٹھیک ہے ، لیکن عملی طور پر یہ بہت مشکل ہے۔
    کیونکہ اگر اسلامی نظام نافذ کیا گیا تو بدعنوانی ختم ہوجائے گی۔ پھر ہم کیسے اپنے پیٹ کو جہنم کی آگ سے بھر سکیں گے ؟
    اگر اسلامی نظام نافذ کیا گیا تو سودی نظام کو روکنا پڑے گا۔ پھر ہمارے بینک کیسے چلیں گے؟ اور ہم ان کے ذریعہ کس طرح قرض لیں گے؟
    اگر اسلامی نظام نافذ کیا جاتا ہے تو ، ہماری سیاست کیسے چلے گی ، جو جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے۔ ہم نے اسے ایک نیا نام دیا ہوا کیونکہ یہ ایک "سیاسی بیان” تھا
    اگر اسلامی نظام نافذ کیا گیا تو مولوی مسجد سے باہر آجائیں گے ، پھر اس پر قابو کیسے رکھیں گے؟ مساجد پر پابندی عائد ، وہ خود اپنے فتوے کیسے حاصل کریں گے؟
    اگر اسلامی قانون نافذ کیا جاتا ہے تو پھر عورت کو عزت اور وقار کا اعلٰی مقام ملے گا ، پھر ہم ان آدھ خواتین کی لاش کو کیسے دیکھ سکتے ہیں جو ہر سال سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔

    ان جیسے اور بھی بہت سارے سوالات ہیں اور جب تک ان کا جواب نہیں مل جاتا ہم مسلمان ہی رہیں گے لیکن ہم اسلام کو ہماری زندگیوں میں مداخلت نہیں کرنے دیں گے۔ بلکہ ہم خود اسلام میں مداخلت کریں گے اور اسے اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارا بھلا ہے اور ہمیں ملک کی بھلائی یا اسلام کی بھلائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

    ہم دوسروں کو کافر ثابت کرنے کے لئے اسلام کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہے ، جس پر ہم غداری کا فتویٰ جاری کرتے ہے اور خود کو اسلام کا ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ہم مسلمان بننا پسند نہیں کرتے ، ہمیں مسلمان دیکھنا پسند ہے اور وہ بھی عملی طور پر نہیں بلکہ زبانی

    Twitter @Patriot_Mani

  • حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر :‌ روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر :‌ روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی ولی رح (1703 میں پیدا ہوے اور 1763 میں وفات پاگے ہیں ۔اج ہم شاہ صاحب کے ایک مختصر سا تعارف اپ کو کرواتے ہیں جو شاہ صاحب کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں بہت کم سننے کو ملتا ہے۔ شاہ صاحب نے اپنا فلسفہ تب دیا جب یورپ اپنے جدید دور سے ابھی کئی دہائیاں دور تھا اور مارکس کے فلسفے سے تقریبا ایک صدی پہلے۔ ، شاہ ولی اللہ ہندوستانی معاشرے ، اس کی سیاست اور معیشت کے حوالے سے پیشن گوئی کے نظریات پیش کررہے تھے۔ اس کے خیالات بڑے پیمانے پر انسانیت کے لئے امید کی کرن ہیں۔

    دورحاضر کے ذہنوں کو اسلام کے بنیادی خطوط بیان کرنے کے لئے شاہ ولی اللہ نے اپنی شاہکار کتاب حجت اللہ البلغا لکھا جس میں شاہ صاحب نے اسلامی نظام کے حوالے سے ایک بہترین نظریہ دیا۔ انہوں نے اپنے قلم کی طاقت کو مذہبی ، سیاسی اور معاشی امور کے بارے میں لکھنے کے لئے استعمال کیا۔ ایک طرف انہوں نے نظام حکومت کو صیح طور پہ نہ چلانے پر ہندوستانی حکمران کو تنقید کا نشانہ بنایا تو دوسری طرف انہوں نے تعلیم یافتہ طبقہ کو سیاسی اور معاشی میدان میں اصلاح کے مطالبے پر دھیان دینے پر راضی کیا۔ انہوں نے بادشاہت کے خاتمے کی حمایت کی اور اس کی جگہ ایک نئے سیاسی نظام لانے کی بات کی۔ جس کو ٹیکنوکریسی یا اداراجاتی نظام کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ مطلب اب جو دور دور اے گا اس میں شخصی ویلو نہی بلکہ ادارے فیصلہ کرینگے۔ ہر فیلڈ کا ماہرین کا ایک گروپ ہوگا کو مشاورت سے کام کرینگے۔

    شاہ ولی اللہ کے معاشی خیالات انسانیت پسند تھے۔ اپ نے کام کاج کے اوقات کار چھے گھنٹے مختص کے تھے تاکہ انسان اپنے اولاد کو تربیت بھی دے سکے۔
    فلسفیانہ دائرے میں شاہ ولی اللہ نے ایک ایسا نظریہ پیش کیے جو دنیا کے تمام مذاہب کو قریب لاسکتے ہیں۔ انہوں نے چار بنیادی خصوصیات پر روشنی ڈالی جو تمام مذاہب میں موجود تھیں: آخبات طہارت ، ، سماحت اور عدالت۔ مختلف مذاہب کی پیروی کرنے والے معاشروں کو شاہ ولی اللہ کے افکار پر مبنی نظام کے ضریعے آج بھی قریب لایا جاسکتا ہے۔شاہ صاحب اسلام معاشی سیاسی اور عدلتی نظام پہ مکل بحث کرتے ہیں ۔معاشی نظام کے حوالے سے وہ فرماتے ہیں ۔کسی معاشرے میں دولت چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں نہی بلکہ معاشرے میں سرکولیٹ ہونا چاے۔ تاکہ ہر انسان کے مسلہ حل ہوجاے۔ دولت کی تقسیم جو محاذ محنت کے بنیار پر یا پیسوں کے بنیاد پہ تقسیم نا کی جاے بلکہ ضرورت کو مد نظر رکھا جاے۔ انشااللہ ہم شاہ صاحب کو جو معاشی فلسفہ ہے اس پے اگے لکھتا رہونگا۔

    @rohshan_din

  • اسلام اورعقل . تحریر: فرید خان

    اسلام اورعقل . تحریر: فرید خان

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام میں موجودایک ایک حرف پتھر کی لکیر ہے۔ رسول اللہ ص کی زندگی ایک نمونہ ہے۔ اسلام کی ظہور اس وقت ہوا جب دنیا زمانہ جہالت میں تھا۔ اسلام کی ظہور اس وقت ہوا جب دنیا جہالت دیکھ چکی تھی ہر قسم کے رسم و رواج سے گزر چکی تھی۔ اللہ ج نے تمام انسانوں کو ایک راہ دیکھائی جسے صراط مستقیم کہتے ہیں۔ فرمایا جو لوگ اس پہ چلیں گے وہ فلاح پائیں گے۔ یہ وہ راستہ ہے جو اللہ نے منتخب کیا ہمارے لیے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کو سمجھنے کے لیے عقل قاصر ہے یہ دین نقل کی گئی ہے اور اس پر یقین ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ اوپر ذکر شدہ باتیں وہ باتیں ہیں جو ہم بار بار سن چکے ہیں اور سنتے رہیں گے۔ یہ باتیں میں نے اپ کی نظر اس لیے کی کیونکہ میں دوبارہ یقین دہانی کی کوشش کررہا کہ ہم اس راستے سے انحراف کررہے ہیں جو اللہ نے ہمارے لیے منتخب کیا ہے۔ اس سے انحراف کا نقصان واضح ہے قومیں پستی کی طرف جا رہے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے بائیں بازو کی سیاست ان اصولوں کے انحراف کی وجہ سے مسلسل ناکامی کا شکار ہیں۔ ہمارے سیاسی تربیت میں اب باقائدہ طور پر ان اصولوں سے انحراف کا درس دیا جاتا ہے ۔ ہماری سیاسی تربیت میں اب مذہب اور دین اسلام پر تنقید سکھاتا ہے، ہماری سیاسی تربیت میں اب ایسے اصول بتایا جاتا جو محض عقل پر مبنی ہے ۔ جب سوال کیا جاتا کہ اپ اسلام کی بنیادی اصولوں سے انحراف کررہے تو کہتے ہیں اب وقت بدل چکازمانہ بدل چکا اب لوگوں میں عقل ایا ہے شعور ایا ہے ۔ جبکہ اللہ نے چودہ سو سال پہلے قران میں فرمایا ہے سورہ رحمن انسان اور اس دنیا کی تخلیق کے ورد سے بھرا ہے۔ اللہ نے انسان کو عقل پہلے سے دی ہے اور اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے لیکن اس کا مطلب تو یہ تھوڑی ہوا کہ اپ اس رب کے بتائے گئے اصولوں سے منکر ہو جاو جس نے اپ کو عقل دی ہیں ۔

    بے شک اپ عقل سے کام لے لیکن اسلام کے اصول اس کے تعلیمات اور مسائل پر عقلی بنیاد پر دلائل دینا ہماری پستی کا سبب ہے ۔ ہم مانتے ہیں کہ دنیا جدید ہوگئی اس وقت سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے لیکن یہ دور کبھی اپ کو اتنا عقل نہیں دے سکتا کہ اپ خود سے دلائل بنائے اور لوگوں کو اپنی عقلی دلائل پر راغب کریں جو اسلامی تعلیمات کے حولے سے ہو ۔ ایسی سوچ و فکر جسے ہم جدید دور کہتے یہ کوئی جدید سوچ نہیں پرانے زمانے میں بھی ایسی سوچ والے طبقے گزرے ہیں تابعین کے دور میں بھی ایسا ایک فرقہ گزرا تھا جسے مقتدلہ کہا جاتا تھا ۔ یہ لوگ عقل سے کام لیتے تھیں۔ یہ اللہ کے معجزوں سے انکاری تھے۔ یہ عیب سے انکاری تھے یہ صرف ان چیزوں پر یقین رکھتے تھے جو ان کے سامنے ہو اور کوئی ثبوت موجود ہو ۔ جسے اج کل کے دور میں سائنسی تحقیق کہتے کہ اگر کوئی بات سائنسی طور پر ثابت نہ ہو جائے تو اس پہ یقین نہیں کیا جاتا جبکہ اسلام یقین پر مشتمل ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول کے بتاے ہوئے تعلیمات پر یقین ایمان کا حصہ ہے ۔ اللہ تعالی سورہ بقرہ کے شروع میں فرماتا ہے "وہ لوگ جو غیب پر ایمان لائے”  وہ متقین ہے اب غیب کیا ہے؟ جس پر یقین ایمان ہے، غیب وہ چیز ہے جسے نہ انسان سن سکتا نہ دیکھ سکتا نہ محسوس کرسکتا حتی کہ غیب عقل سے بھی اوپر کی چیز ہے جسے صرف اور صرف اللہ سمجھ سکتا ہے اور ہمیں اس پر یقین کی تلقین کی گئیں ہیں ۔ غیب انسان کی عقل سے کیوں اوپر ہے اس پر کئی مثالیں لکھی گئیں ہیں۔ حضرت موسی ع کے وقعے میں جس میں جادوگروں کا ذکر ہے لکھا جاتا کہ جب جادوگروں نے سانپ پینکے ہر طرف تو موسی ع کے ساتھ ایک لاٹھی تھی ۔ اب انسان کا عقل کیا کہتا کہ جب سانپ ہو ہر طرف اپ کے ہاتھ میں لاٹھی ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ انسان اپنے عقل کے مطابق اس لاٹھی سے ان سانپوں پر حملہ اور ہوگا لیکن غیب نے کیا کہا کہ اے موسی ع اپ یہ لاٹھی ذمین پر پینکے اور جب موسی ع نے وہ لاٹھی پینکی تو وہ ہوا جو انسان کی عقل سے دور ہے اود ایک بڑا ازدہا بنا جو ان سانپوں پے حملہ اور ہوا ۔ انسان کے عقل کے مطابق ہاتھ کی انگلیاں وہ تخلیق ہے جس سے اپ کھانا کھا سکتے کوئی کام کر سکتے اور کسی چیز کو پکر سکتے لیکن اس کے برعکس نبی ع اور صحابہ  جب کسی سفر میں تھے تو پانی کی ضرورت ائی پیاس کی وجہ سے لیکن پانی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا پھر نبی ع کے انگلیوں سے غیب نے پانی بہائے تھےجو کہ انسان کی عقل سے بہت دور ہے ۔ ان دو مثالوں کو بیان کرنے کا مقصد عیب اور اللہ کے بتائے گئے اصول کو عقل سے نہ پرکھا جائے ۔ ‏اللہ تعالی سورت اعراف کے ایت نمبر تین میں فرماتے ہیں.          

     (اے لوگو!) تم صرف اُس (وحی) کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی جانب سے تمہاری طرف اتاری گئی ہے اور اس کے سوا (اپنے بنائے ہوئے) دوستوں کے پیچھے مت چلو۔ تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو”  اللہ فرماتا ہے اپ صرف میرے بتائے گئے اصولوں کی پیروی کریں اور ان لوگوں کے پیچے نہ چلو جو اپنی پیٹ سے باتیں بناتے اور ان لوگوں کے پیچھے بھی نہ چلو جنہوں نے عقل کی بنیاد پر خود اپنی طرف سے راستے بنائے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں اپنی راہ پر چلنے کی توفیق دیں اور ان لوگوں سے دور رکھیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ امین ۔

    twitter @Faridkhhn

  • سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی  تحریر : زوہیب زاہد خان

    سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی تحریر : زوہیب زاہد خان

    آج کے دور میں ہم مسلمان دنیا کی رنگینیوں میں کھوگئے ہیں۔ آج ہم دین اسلام کی تعلیمات سے دور ہوچکے ہیں جسکی وجہ سے ہماری زندگیوں سے برکت اٹھی چکی ہے۔ ہمیں کہیں طرح کے مسائل نے گھیر لیا ہے۔ ہم الجھنوں کے دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ہمارے دل مردہ اور بے ضمیر ہوچکے ہیں. مجموعی طور پر ہمیں زوال کا سامنا ہے۔

    ناکامی کی بنیادی وجہ :
    مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ الله پاک اور الله کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق زندگی نہ گرازنا ہے۔ کیونکہ اصل کامیابی الله اور رسول الله کی اطاعت اور فرماں برداری میں ہے۔ یہ ہی مسلمانوں کی دنیا و آخرت میں کامیابی کا اصل ذریعہ ہے۔

    سنت نبویؐ :
    ہر وہ ایسا عمل جو ہمارے پیارے رسولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملی طور پر کرکے دکھایا ہو اور امت کو اسکا حکم دیا ہو اس عمل کو ہم سنت کہتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی کریم کی پوری زندگی ہمارے لیئے عملی نمونہ ہے. پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے محبت ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ پیارے نبی کی سنت سے محبت نبی سے محبت کی عظیم ترین مثال ہے۔

    الله رب العالمین نے ہمارے نبی کریم کی سیرت طیبہ کو قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بنادیا ہے۔ مسلمان زندگی کے ہر امور میں آپ کی سیاست طیبہ کو پڑھ کر رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ نبی کریم کی زندگی ہر مسلمان کیلئے بہترین اسوہ حسنہ ہے۔

    قران و سنت :
    آج کے مشکل ترین دور میں الله اور رسول اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنا ہماری دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی ہے۔

    قران مجید میں الله نے مسلمانوں کیلئے واضح احکامات بیان فرما دیئے ہیں۔اسکے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی احادیث مبارکہ کے مطابق زندگی گزارنا ہماری حقیقی کامیابی ہوگی۔

    الله پاک مجھ سمیت ہر مسلمان کو الله اور الله کے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت طیبہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

    @ZohIbZahidKhan

  • جنّت کو جنّت کیوں کہتے ہیں   تحریر: محمد وقاص عمر

    جنّت کو جنّت کیوں کہتے ہیں تحریر: محمد وقاص عمر

    جنت ایک مقام ہے جس کو اللہ تعالی ٰ نے ایمان پر قائم رہنے والے لوگوں کے لیے بنایا۔رب لعالمین نے اس میں بے شمار رحمتیں رکھ دیں جس کھبی کسی آنکھ نے نہ دیکھا اور نہ کسی کان نے اس کے بارے میں آج تک سنا۔جو لوگ صراط مسقیم یعنی کے ایمان کی راہ پر چلے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک ٹھکانہ بنایا جس کو جنت کہتے ہیں۔اس عارضی دنیا کی کسی بھی چیز کا موازنہ ہم کسی بھی جنت کی چیز سے نہیں کر سکتے۔

    جنت ایک عربی کا لفظ ہے۔عربی میں جنت کا معنی گھنے باغ کے ہیں جس میں درختوں نے زمین کو چھپایا ہوا ہو۔مسلمانوں کو بروزِآخرت ملنے والے گھر کو جنّت کہتے ہیں جس کے مختلف پہلو ہیں۔

    1۔یہ دنیا کی نگاہوں سے چھپی ہوئی ہے۔
    2۔جنت میں باغات ہیں۔
    3۔عالم غیب میں ہے۔

    جنت ایک حقیقت ہے جس کا زکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں بار بار کیا ہے۔جنت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کر دیا ہے۔یہ نہیں کہ جنت کو آخرت کے دن پیدا کیا جائے گا۔ (منح الروض الازہر، ص284 ماخوذاً)۔
    جنتیوں کو سب سے بڑی نعمت دیدارِ خداوندی حاصل ہوگی حدیثِ پاک میں ہے: اللہ کریم اپنا پرد اُٹھا دے گا اور انہیں کوئی چیز دیدارِ خداوندی سے زیادہ محبوب نہ دی گئی ہوگی۔ (ترمذی،ج4،ص248،حدیث:2561)اللہ پاک کے نزدیک عزت و اکرام والا وہ ہوگا جو صبح و شام زیارتِ خداوندی سے مشرف ہوگا۔(ترمذی،ج 4،ص249، حدیث:2562) ۔

    جنت کے سردار محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا جنت کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی۔اس کی مٹی میں خالص مشک شامل ہے۔اس کی مٹی زعفران ہے۔ایک بار جو جنت میں داخل ہو جائے گا وہ ہمشہ خوش رہے گا غم اس کے پاس سے بھی نہ گزرے گا۔ہمشہ رہے گا موت کو اس پر حرام کر دیا جائے گا۔ہمشہ جوان رہے گا بڑھاپے اس پر طاری نہ ہوگا۔(ترمذی،ج 4،ص236، حدیث: 2534)۔جنت کی چوڑائی ایسی ہے کہ ساتوں زمین اور ساتوں آسمان کو اگر باہم ملا دیا جائے تو جتنے وہ ہوں گے جنت کی چوڑائی اتنی ہے۔(تفسیر خزائن العرفان، پ 27، الحدید، تحت الآیۃ:21، ص 997 ملخصاً) ۔جنتی دروازوں میں سے دو دروازوں کا درمیانی فاصلہ چالیس سال کی راہ ہے۔(مسلم، ص1213، حدیث:7435)۔

    نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا نیند موت کی ایک قسم ہے لہذا جب جنت میں موت نہ ہو گی تو نیند بھی نہ ہو گی۔جنت میں عربی زبان بولی جائے گی۔جنت میں ریشم کا درخت ہو گا جس سے تمام جنتیوں کے لباس تیار کیے جائیں گے۔جب انسان کسی کھانے کی دل میں خواہش کرے گا اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ چیز انسان کے سامنے حاضر ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہم سب کو نیک کام کرنے اور ایمان پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما ۔(آمین)۔
    witter Id :- @WaqasUmerPk

  • ہمارا دین اسلام . تحریر: عامر سہیل

    ہمارا دین اسلام . تحریر: عامر سہیل

    ہمارے دین اسلام نے ہمیں بہت کچھ سکھایا اور اس کے ساتھ اسلام نے کچھ حدود لگائی ہیں جن کو ہم بالکل بھی عبور نہیں کر سکتے۔ اسلام ہمیں صحیح اور غلط کی تمیز سکھاتا ہے دورِ جاہلیت میں انسان کی اہمیت جانوروں سے بھی بدتر تھی۔ اس کے ساتھ ہم پر بہت سے فرض ہیں جو ہم نے ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ سنتیں بھی ہوتی ہیں ان سنتوں میں سے ایک سنت یے سنتِ ابراہیمی جس میں جانور ذبح کرتے ہیں جو کہ حکم ہے کہ جو صاحبِ حیثیت ہو وہ لازمی قربانی کرے۔

    اس کے مطلق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے
    آپ نے فرمایا :
    (جس کے پاس استطاعت بھی ہو اور پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے)
    ابن ماجہ (3123)
    عید الاضحٰی پر لوگ قربانی کرتے ہیں اور گوشت کو غریب غربا، عزیزو اقارب میں تقسیم کرتے ہیں

    میں آج دیکھ رہا تھا سوشل میڈیا پر  کچھ لوگ جو اپنے آپ کو سول سوسائٹی یا لبرلز کا نام دیتے ہیں اس طرح کی مہم چلا رہے ہیں کہ جانوروں کے حقوق کا تحفظ نہیں ہو رہا  اور جانوروں کو ضرورت سے زیادہ ذبح کیا جاتا ہے یہی لبرلز میکڈونلڈ، کے-ایف-سی میں جا کر برگر، پیزا وغیرہ کھا رہے ہوتے ہیں تو تب بھی تو جانور ذبح کئیے جاتے ہیں۔ غرباءمسکین کی مالی امداد کے لئے اسلام میں تو معاشرتی توازن کے لیے زکوۃ ایک بنیادی جزو کے طور پر شامل ہے۔  اور قربانی وہی لوگ دیتے ہیں جو استطاعت رکھتے ہیں۔ لبرل کو جانوروں کے حقوق یاد آجاتے ہیں یہ سارا سال کہاں ہوتے ہیں؟ دنیا میں بہت سی جگہ پر انسانوں کو ضروریات زندگی میسر نہیں تب یہ کہاں ہوتے؟
      جموں کشمیر میں مہینوں کے حساب سے لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں تب ان کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ اسرائیل میں نہتے فلسطینیوں پر ظلم ڈھایا جاتا تب کہاں ہوتے؟
    قربانی کا حکم اللہ پاک اور اُسے کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جو ہم ادا کرتے رہے گے اگر کسی کو زیادہ تکلیف ہے چلا جائے اپنے آقاؤں کے پاس۔پاکستان ایک اسلامی ریاست رہے اور یہاں پر مسلمان آزادی سے اپنی عبادت کرنے کے لئے بنایا گیا ہے
    @iAmir29