Baaghi TV

Category: مذہب

  • مومن کی سزا . تحریر : محمد خبیب حسن

    مومن کی سزا . تحریر : محمد خبیب حسن

    اللّٰه نے فرمایا ، "اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں زیادہ دوں گا ، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا”
    عذاب سخت ہے۔”

    اللہ نے جزا اور سزا کی حدود طے کردی ہیں اور اللہ اپنے بندوں کو بلاوجہ کبھی سزا نہیں دیتا ہے

    فرعون اللہ کا دشمن تھا اور بنی اسرائیل مومن تھا لیکن اللہ نے فرعون کو طاقت دی اور بنی اسرائیل کو مغلوب کردیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی نافرمانی شروع کردی تھی اور پھر اللہ نے انہیں فرعون سے سزا دی۔ اور جب انہوں نے حضرت موسیؑ کی پیروی کرنا شروع کی تو اللہ ان پر رحم فرمایا

    اللہ اپنے دشمن کو بااختیار بناتا ہے جب اس کے ماننے والے اس کی نافرمانی کرنا شروع کرتے ہیں اور اپنے مومنین کو اس کے دشمنوں سے سزا دیتا ہے

    اب ہم کیوں رو رہے ہیں؟ جب ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ اللہ نے امت کی قرآن ، حدیث اور تاریخ میں مثالوں کا ذکر کیا ہے تو ہمیں لازمی طور پر رونا چھوڑنا چاہئے ،اور ہمیں اپنے آپ کو درست کرنا ہوگا ، ورنہ اللہ کفر کو زیادہ سے زیادہ طاقت بخشے گا اور پھر کفار ہم پر (مسلم) مزید ظلم کریں گے اور یہ ہماری نافرمانی کی سزا ہے

    اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

    آئیے توحید کے ساتھ آغاز کریں ، ختم نبوت پر پختہ یقین کریں ، قرآن ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سنت خلفائے راشدین ، ​​صحابہ کے اعمال و اجماع امت اور ریاست میں خلفائے راشدین کا نظام قائم کریں

    اللّٰه اپنے بندوں کو اسی وقت سزا سے دوچار کرتا ہے جب وہ راہ سے بھٹک جائیں اس لیے اج بلکہ ابھی خود کو بدلیں آپ پر آئی ہر مصیبت ٹل جائے گی

    @undefined0d0

  • ‏ہو دین جدا سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‏ . .تحریر: محمّد وقاص

    ‏ہو دین جدا سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‏ . .تحریر: محمّد وقاص

    غریدہ فاروقی کو عیدِ قربان پہ جانوروں سے پیار جاگا ہے اور جانوروں کی قربانی سے انہیں تکلیف ہو رہی یے حالانکہ مرغی کا کاروبار انکے خاصم خاص شہباز شریف کے بیٹے حمزہ کا تھا اس وقت مرغی پہ ظلم نظر نہیں تھا آتا آپکو؟ تب تو چکن بریانی کے اسٹیٹس لگائے جاتے تھے۔

    خیر غریدہ صاحبہ آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات اور بھی آپکو بتاتا چلوں کہ جانوروں سے محبت اور انکا احساس قابلِ تعریف عمل ہے لیکن جو آپ نے اپنی ایک مظلوم اور معصوم ملازمہ بچی کے ساتھ کیا تھا وہ ظلم نہیں تھا؟ خیر بات کرتے جانوروں کی میں آج آپکو کچھ حیرت انگیز حقائق بتاوں گا، مجھے یقین ہے کہ قربانی کے علاوہ آپ نے کبھی کسی لبرل کو ان جانوروں کی محبت میں ہلکان ہوتے نہیں دیکھا ہوگا، نہ ہی کبھی انہوں نے جانوروں کے حوالے سے کبھی بات کی ہوگی۔

    گوشت کے حصول کے لیے پوری دنیا میں کل ملا کر ہر روز 200 ملین سے ذیادہ جانور ذبح کیے جاتے ہیں جن میں گائے، چکن، بطخ، بیل، بھیڑ، غیرمسلم ممالک میں خنزیر وغیرہ شامل ہیں، اگر ان میں جنگلی جانوروں، پرندوں اور سمندری مخلوق جیسا کہ مچھلی، جھینگے وغیرہ بھی شامل کر لیے جائیں تو انکی تعداد قریباً 3 ارب ایک دن کی بنتی ہے سالانہ کا حساب خود کر لیں۔

    میں باقی دنیا کی بات نہیں کرتا، صرف لبرل بریگیڈ،امریکہ کی بات کرتا ہوں کہ امریکہ میں ہر دو منٹ میں قریب ایک لاکھ جانور ذبح ہوتے ہیں،اس وقت جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں اس وقت یکم جنوری 2021 سے 21 جولائی 2021 شام 6:30 تک صرف امریکہ میں ہر قسم کے 30,647,010,072 جاندار ذبح ہوچکے ہیں اور یہ تعداد ہر دو منٹ میں ایک لاکھ کے حساب سے بڑھ رہی ہے جبکہ یہاں لبرل ٹولے کو بقرہ عید پہ قربانی پہ اعتراض ہے، وہ قربانی جس کا بہت بڑا حصہ غرباء و فقراء کو جاتا ہے۔
    گزشتہ سال 2020 امریکہ میں ہر قسم کے تقریباً 55 ارب سے زائد جاندار خوراک کی نذر ہو گئے تھے، ان جانوروں کے گوشت کو خود امریکیوں نے مختلف مصنوعات اور خوراکوں کا حصہ بنا کر کھایا جبکہ بڑی مقدار میں دوسرے ممالک کو ایکسپورٹ کیا گیا اور بھاری زرِمبادلہ کمایا گیا اور یہی گوشت لبرل بریگیڈ مہنگے داموں میں کے ایف سی جیسے مقامات پر جا کر کھاتے ہیں۔

    سال 2020 میں امریکہ میں خوراک کی نذر ہونے والے کل جاندار:

    پورا سال: 55,429,141,000
    ہر روز: 151,888,000
    ہر گھنٹہ: 6,328,000
    ہر منٹ: 105,480
    ہر سکینڈ: 1,758

    چلیں اب بات کرتے ہیں گائے، بیل کی قربانی کی میں نے بہت کوشش کی موجودہ کوئی روپوٹ ملے لیکن سال 2020 میں شائع ہونے والی 2018 کی ایک رپورٹ ہے کہ دنیا بھر میں ایک سال میں سب سے ذیادہ گائے یا بیل ذبح کرنے والے پہلے پانچ ممالک میں باوجود عیدِ قربان پہ لاکھوں جانور ذبح کرنے کے ایک بھی مسلمان ملک شامل نہیں ہے۔
    سرفہرست ممالک میں:

    برازیل میں: 39,602,000
    چین میں: 39,577,320
    امریکہ: 33,703,400
    ارجنٹائن: 13,452,831
    انڈیا: 9,202,631

    برازیل پہلے، چین دوسرے، امریکہ تیسرے، ارجنٹائن چوتھے اور بھارت پانچویں نمبر پہ براجمان ہے یعنی 2018 میں ان 5 ممالک میں مذکورہ تعداد میں گائے اور بیل ذبح ہوئے اور اب 2021 میں یہ تعداد اس سے کہیں ذیادہ ہوچکی ہے۔اس گوشت کو نہ صرف یہ ممالک خود کھاتے ہیں بلکہ دوسرے ملکوں کو بیچ کر کثیر زرمبادلہ بھی کماتے ہیں، اگر ان میں دیگر جانوروں اور سمندری مخلوق کی تعداد بھی شامل کر لی جائے تو پوری دنیا میں خوراک کے لیے مارے جانے والے جانداروں کی تعداد کھربوں تک جا پہنچتی ہے.

    دل تو میرا بڑا چاہ رہا ہے کہ انہیں ساری دنیا کا حساب نکال کے دوں لیکن تحریر سے کتاب بن جائے گی۔ بھارت اور امریکہ میں سب سے ذیادہ جانور ذبح ہونے کے باوجود بھی لبرلز کو اس بات کی تکلیف ہے کہ عید قربان پہ جانوروں کی ذبح کیوں کیا جاتا ہے، اسکے علاوہ کبھی پڑھا کسی لبرل کا ٹویٹ؟

    ان لبرلز کو لگتا ہے کہ شاید اس طرح یہ خود کو ذیادہ مغرب زدہ ظاہر کر پائیں گے لیکن درحقیقت اللّه انکی بدنیتی پر مبنی قربانی چاہتا ہی نہیں، سنتِ ابراہیمی سے انکار کے سبب اللّه پاک نے ان مردودوں سے قربانی کی توفیق ہی چھین لی ہے اور اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ اللہ پاک ایک اہم فریضے کو سرانجام دینے کی توفیق ہی چھین لے.
    اللّه پاک انکو ہدایت دے اور مسلمانوں کو سنت ابراہیمی پر عمل کرنے پر دین اور دنیا میں آسانیاں پیدا فرمائے آمین.

    @M_Waqas_786

  • ‏حالات حاضرہ میں مسلمانوں کی پستی کا واحد علاج . تحریر : محمد صابر مسعود

    ‏حالات حاضرہ میں مسلمانوں کی پستی کا واحد علاج . تحریر : محمد صابر مسعود

    ایک وقت تھا کہ چہار دانگ عالم میں اسلام کی گونج تھی، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواؤں کا ڈنکا تھا، یہود و ہنود انکے سامنے بندر، بندریوں کی طرح ایک ہی حکم کے منتظر ہوتے تھے لیکن آج وہی مسلمان سوائے معدود چند کے ہر طرف ظلم و ستم کی چکی میں پستا ہوا نظر آ رہا ہے خواہ وہ ہندوستان کے مظلوم مسلمان ہوں یا فلسطین و شام و سیریا کے بے کس و بے بس مسلمان، کبھی تو انکو سرپسند تنظیموں کے ہاتھوں مآب لنچنگ کے ذریعہ شہید کیا جا رہا ہے تو کبھی ان پر بمباری کرکے ملبے کے ڈھیروں تلے دفن کیا جا رہا ہے۔ الغرض آج مسلمان ہرطرف ظلم و زیادتی اور نفرت بھری نگاہوں کا شکار ہیں تو اسکی کیا وجہ ہے؟ اور ہمیں اسکے لئے کیا لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے ؟

    اسکا سادا سا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم ناسور میں حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرما کر خلافت ارضی انکو عطا فرمائ اور انکی ذریت میں کم و بیش سوا لاکھ انبیاء کرام مبعوث فرمائے جن سے اس عالم فانی میں خیر کے سلسلے مسلسل جاری و ساری ہیں لیکن اسکے برخلاف لعین و مردود شیطان کو پیدا فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا ہے کہ میں تیرے بندوں کو جہنم کا ایندھن بناؤنگا اور اسکی ذریت میں بہت سے خلفاء فرعون، ہامان، شداد، نمرود، بخت نصر، بلعم باعورا، مسیلمہ کذاب، ابو جہل، عبداللہ بن ابی اور غلام قادیانی جیسے بے شمار جن و انس ہیں خصوصاً یہود و ہنود جو ہمہ وقت اسلام کو نقصان پہنچانے کی تاک میں ہیں اور شیطان مردود کے اللہ تعالیٰ سے کئے گئے وعدے کو پورا کرنے کے لئے رات دن ایک کئے ہوئے ہیں کہ کیسے امت مسلمہ کو دوزخ کی طرف دھکیل کر، شیطان لعین کے کئے گئے وعدے کو پورا کرکے اپنے جھوٹے معبودوں کی خوشی تلاش کی جائے تو ایسے وقت میں ہمیں یہود و ہنود کے شرور و فتن سے اور آپسی اختلافات سے بچنے کے لئے قرآن و سنت پر کاربند ہونا ہوگا اور اپنے ان اکابرین کی قیادت کرنا ہوگی جنکا ایک بھی عمل قرآن و سنت کے خلاف نہیں جاتا کیونکہ قرآن کریم کا ارشاد پاک ہے ” وَلَا تَهِنُوا۟ وَلَا تَحۡزَنُوا۟ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِینَ ” تمھیں غمگین و افسردہ ہونے کی ضرورت ہے اور نا ہی مایوس ہونے کی اگر تم ایمان پر مکمل طور پر کار بند رہو۔ لہذا معلوم ہوا کہ ہمارے اوپر جو مصائب و پریشانیاں آ رہی ہیں انکی اصل وجہ ہماری بزدلی، کمزوری، رات دن کے گناہ اور یہود و ہنود کی پیروی ہے اسلئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس مسلم نسل نو کو ایمانی حلاوت سے محظوظ فرمائے آمین یا ربّ العالمین.

    رہی بات یہ کہ ہم مختلف فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کو کچوکے لگانے میں مصروف ہیں اور ابھی تک اس بات کو نہیں سمجھ پائے کہ کونسا مسلک و مشرب راہ راست پر ہے تو ایسے وقت میں ہم کس مسلک و مشرب کو اختیار کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہوں تو اسکا صاف جواب یہ ہے کہ جو بھی مسلک آپ کو ” ما انا علیه و اصحابی ” کی روشنی میں چلتا ہوا نظر آئے اندھ بھکتی سے بچتے ہوئے اسی کو اختیار کرلیں ان شاءاللہ کامیابی و کامرانی ہمارے قدم چومے گی۔۔۔ اللہ تعالیٰ مجھے لکھنے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین.

    ‎@sabirmasood_

  • اسلام دین انسانیت . تحریر :‌ زوہا علی

    اسلام دین انسانیت . تحریر :‌ زوہا علی

    انسان اسلام کا جتنے غور سے مطالعہ کرے تو یہ بات انسان پر واضح ہوتی ہے کہ اسلام صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے۔اگر ہم یوں کہ دیں تو غلط نہیں ہوگا کہ اسلام انسانیت کا مذہب ہے اور اسلام کے ہر حکم میں انسانیت کا ہی فائدہ ہے۔

    اسلام اور انسانیت لازم و ملزوم ہیں جہاں اسلام ہوگا وہاں انسانیت ہوگی اگر کوئی انسان مسلمان ہونے کے باوجود بھی انسانیت کے خلاف جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام میں خرابی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان اسلام کا مجرم ہے

    یوں تو اس کرہٗ ارض پر اللّہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ بے شمار مخلوقات ہیں اور اس زمین پر حاکم ومحکوم ہیں۔اگر انسانوں میں سے اخلاقیات کی بنیاد یعنی انسانیت کو نکال دیا جائے تو انسان کسی حیوان سے کم نہیں ہے۔

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو کہ زندگانی اور انسانیت کے تمام تر تقاضوں پر پورا اُترتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اللّہ اور اسکے رسول ﷺ نے جو بھی احکامات اور ہدایات دی وہ محض انسانیت سکھاتے ہیں اور انسانوں سے اچھے تعلقات رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے مجھے شوق ہوا کہ میں قرآن و حدیث کا مطالعه کروں جیسے جیسے میں پڑھتی گئی تو معلوم ہوتا گیا کہ بحیثیت سائنس کی طالبہ،جو چیز آج سائنس ثابت کر رہی ہے کہ اس چیز میں انسان کا نقصان ہے وہ اسلام ہمیں چودہ سو سال پہلے منع ہونے کا حکم دے کہ بتا چکا ہے۔دینِ اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں جس میں انسان کا نقصان ہو۔اسی طرح اسلام اپنے پیروکاروں کو بھی انسانیت کا ہی درس دیتاہے۔

    اسلام مىں کوئی بھی ایسی دلیل نہیں کی اسلام نے اپنے پیروکاروں کو دوسروں پر ظلم کرنے کا حکم دیا ہو،یا کسی مقام پر غیر انسانی فعل کرنے کا حکم دیا ہو۔حتیٰ کی اسلام انتقام لینے کا حکم بھی صرف اس وقت دیتا ہے جب ظلم حد سے بڑھ جائے۔بلکہ اسلام تو انتقام لینے کی بھی غیر محدود اجازت نہیں دیتا بلکہ یہ شرائط عائد کرتا ہے کہ انتقام ظلم کے مماثل ہو، اس سے متجاوز نا ہو۔

    ٓآج کل جن حقوق کو ہم نے عالمی انسانی حقوق تسلیم کیا ہے اس سے بہتر انداز میں ہمارے پاس وہ حقوق میثاقِ مدینہ، خطبہ حجۃ الوداع اور دیگر اسلامی تعلیمات میں ملتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم مسلمان ان تعلیمات کو نہیں پڑھتے اور اگر پڑھ بھی لیں تو عمل نہیں کرتے اور یوں ہم اپنی پسند کے راستے پر چل کر غلطی کرلیتے ہیں بووجہ یہ تمام اُمتِ مسلمہ پر انگلی اٹھانے کا موقع دوسرے مذاہب کو مل جاتا ہے اور نتیجتاً بے سکونی غالب آجاتی ہے۔

    اگر ہم مسلمان ہم خود اسلامی تعلیمات پر عمل شروع کریں اور اسلام کے امن پسند اور انسانیت دوست نظریے کو آگے بڑھائیں تو میرے نقطہء نظر سے یہ دنیا خوشحال ہوجائے گی۔

    @ZoHaAli_15

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتیں تحریر: روبینہ سرور

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتیں تحریر: روبینہ سرور

    1* اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
    *صحیح بخاری، ۸*
    2* ‏ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں مر گئی ہے، وہ حج نہیں کر سکی تھی، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟
    آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

    ”ہاں ، تو اس کی طرف سے حج کر لے“۔

    *جامع ترمذی، ۹۲۹*
    3* جب تم میں سے كوئی شخص قربانی كرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قربانی سے کھائے۔

    *مسند احمد،۸۷۱۷*
    4* اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔

    *جامع ترمذی، ۲۱۶۹*
    5* دو کلمے جو اللہ کومحبوب ہیں،زبان پر ہلکے ہیں، میزان پر بھاری ہیں –

    سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ،سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ

    *بخاری،٧٥٦٣*
    6* آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۔

    *سنن ابی داؤد، ۴۸۳۳*
    7* جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔

    *ابوداؤد ،۱۵۳۱*
    8* جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھتا ہے اس کے لئے دونوں جمعوں کے درمیان ایک نور
    روشن کر دیا جاتا ہے ۔

    *مستدرک حاکم، حدیث 3392*
    9* جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے ۔ اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے ۔ اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔

    *صحیح مسلم،۱۷۳*
    10* جو شخص مر گیا اور وہ (یقین کے ساتھ) جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ جنت میں داخل ہو گا

    *صحیح مسلم ،کتاب الایمان، ١٣٦*

  • ریاست مدینہ اور ہم . تحریر: معین وجاہت

    ریاست مدینہ اور ہم . تحریر: معین وجاہت

    پاکستان دنیا کی پہلی ریاست ہے جو ریاست مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی۔ پاکستان کے قیام کے بعد جب کسی نے بانی پاکستان سے سوال کیا کہ پاکستان کن قوانین کو فالو کرے گا تو قائد نے جواب دیا کہ پاکستان کی قانون سازی آج سے 14 سو سال قبل ہو چکی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ بانی پاکستان کی رحلت کے بعد ہم نے ریاست مدینہ کے تصور کو بھلا دیا، گزشتہ سات دھائیوں میں بہت دفعہ آئین کو تبدیل کیا گیا لیکن کسی نے بھی ریاست مدینہ کا ذکر نہیں کیا۔ اگست 2018 میں جب عمران خان وزیراعظم بنے تو انہوں نے پاکستان میں ریاست مدینہ کے اصولوں کو اپنانے کی بات کی لیکن ھمارے ملک میں ایک خاص طبقہ ایسا بھی ھے جسے یورپ کی برہنہ منڈیوں سے اتنی محبت ھے کہ انھیں خان صاحب پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں کو اپنانے پر شدید تکلیف ھوئی لیکن اس سب سے پہلے کیا ھم خود بطور پاکستانی اس قابل ھیں کہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنا سکیں۔۔۔

    ہمارے پیارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم دین اسلام میں انسانیت کا پیغام لے کر آئے اور ایک طویل و صبر آزماء جدوجھد کے بعد اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جس کا منشور محبت، اخوت، انصاف اور مساوات کے ان چار سنہری اصولوں پر منحصر تھا جس پر حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلفاء راشدین نے من و عن عمل کر کے ریاست مدینہ کو استحکام بخشا۔

    جب وزیراعظم پاکستان ریاست مدینہ کا نام لیتے ہیں تو سب سے پہلے ھمیں بطور معاشرہ سوچنا ہو گا کہ کیا ہمارے اعمال اس قابل ہیں کہ ہم خود کو ریاست مدینہ کا ذمہ دار بنا سکتے ہیں۔

    ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں، ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی تاریخ پیدائش کو چھپایا جاتا ہے اسکا اندراج کوئی 3 سے 5 سال بعد کروایا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں نوکری کے لیے عمر کا مسئلہ نا بنے لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ جب ہم بچے کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھ رہے ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم بہترین انداز میں انسان سازی کر رہے ہیں۔

    تاجر کو ملاوٹ سے پاک مناسب قیمت پر اشیاء فروخت کرنا ہوں گی, رشوت کا جو بازار گرم ہے اسکو بند کرنا پڑے گا، کفرانہ سودی نظام سے جان چھڑانا ہو گی، طاقتور اور کمزور دونوں طبقہ کیلئے یکسان نظام انصاف لاگو کرنا ہو گا، جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تو سب سے پہلے انصاف کا بول بالا ہوا۔ انصاف سب پر لاگو کیا گیا۔ انصار و مہاجرین، مسلمان و یہود سب کیلئے یکساں نظام انصاف اپنایا گیا، قاضی کو پابند کیا گیا کہ انصاف اس کا شیوہ ھو گا کیونکہ ریاست کے مکمل ڈھانچے کا سانچہ قاضی کے قلم سے ھو کر گزرے گا۔

    جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تو طاقتور نے طاقت کا غلط استعمال نھیں کیا، اقربہ پروری کو نھیں اپنایا، پسند و نہ پسند کو کوسوں دور چھوڑا گیا، غلطی مسلمان نے بھی کی تو سزا پائی اور انصاف کا دروازہ یہودی نے بھی کھٹکایا تو جزاء پائی۔ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں انصاف کے نظام کو یکساں کرنا ہو گا تاکہ کسی غریب کا حق نا کوئی مار سکے،

    اسلام سے پہلے بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا پھر ہمارے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں، ریاست مدینہ نے جو حقوق دیے وہی حقوق دینا ہوں گے جسکی وہ اپنی پیدائش سے حقدار ھے، بیٹی کو اپنی جائیداد میں حصہ دار بنانا ہو گا،

    ہمسایے کے حقوق، والدین و بزرگوں کے حقوق پر عمل کرنا ہو گا، اسی طرح ہمیں معاشرے میں ہزاروں ایسی برائیوں کا قلع قمع کرنا ھو گا جو کسی بھی معاشرے کو ناسور بنا دیتی ھیں اور یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہم خود کو ٹھیک کریں گے کیونکہ کسی بھی برائی یا خرابی کو ختم کرنے کے عمل کی ابتداء سب سے پہلے اپنی ذات سے کی جاتی ھے۔

    ہم سب کو ریاست مدینہ تو چاہیے لیکن ہم میں سے کوئی ایک فرد بھی اپنے آپکو تبدیل کرنے کو تیار نھیں۔ علامہ اقبال نے یہ الفاظ شاید ہماری ہی حالت زار پر لکھے تھے کہ۔۔۔۔۔

    خدا نے اج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا

  • خُدا کی نعمتیں چھپاؤ تحریر: عتیق الرحمن

    خُدا کی نعمتیں چھپاؤ تحریر: عتیق الرحمن

    اللّہ تعالٰی نے ہر انسان کو مختلف نعمتوں سے نوازا ہے
    جو چیز ایک انسان کے پاس ہے کافی حد تک ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے پاس نہ ہو اور اسی بات سے اللّہ آزماتا ہے کہ کیا میری عطا کی ہوئی نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں یا جو چیز نہیں ملی ابھی اس کی خواہش میں ملی ہوئی نعمتوں کی ناشکری
    ویسے ہم اپنے اعمال کا طخمینہ لگائیں تو ہماری نعمتیں اس سے کہیں بڑھ کر ہیں جنکے ہم قابل بھی نہیں تھے
    ایک بزرگ نے بہت گہری بات کی، کہتے ہیں کہ اگر اللّہ نے ہمیں کسی نعمت سے نوازہ ہے تو ضروری نہیں اسکا ذکر سب کے سامنے کرتے رہو۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ یہ ناشکری میں آئے گا بلکہ اسکہ شکر تنہائی میں اللّہ سے کرو کیونکہ اسکا صلہ بھی اسی نے دینا ہے
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں نعمت کو چھپایا جائے تو اس بات کو انہوں نے ایسے واضح کیا کہ فرض کرو جو نعمت تمہارے پاس ہے اور تم اسکا ذکر کسی ایسے انسان کے سامنے کرو جسکے پاس وہ نہ ہو اور اسے اسکی ضرورت بھی محسوس ہو رہی ہو تو اسکا دل دکھے گا اور ہوسکتا وہ اللّہ سے شکوہ بھی کر بیٹھے تو اللّہ اس کے بدلے تم سے وہ نعمت چھین لے
    اس لئے بہتر ہے نعمتوں کا ذکر یوں نہ کیا جائے کہ دوسرے انسان کو تکلیف ہو اس نعمت کے نہ ہونے سے کیونکہ بیشک یہ اللّہ کے بس میں ہے کس کو پہلے نوازنا ہے اور کس بعد میں۔

    Twitter id @AtiqPTI_1

  • حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام:-  تحریر:از عمرہ خان

    حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام:- تحریر:از عمرہ خان

    حضرت ابرہیم وہ نبی جو خود ایک بت فروش کے بیٹے تھے اور انسے نبیوں کی نسلیں چلیں ۔۔۔وہ نبی علیہ السلام جنکی نسل سے سرور کائنات رحمت دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھے ۔۔جنکی قربانیاں ابد تک کیلئے قرآن پاک میں رقم کردئیے گئے جو ہمیشہ آنے والی نسلوں کی زبانوں اور دلوں میں رہینگے ۔۔۔
    یہ وہ وقت تھا جب ایک بت فروش آذر کے بیٹے نے اس سے کہا کہ
    اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ‌ ۚ اِنِّىۡۤ اَرٰٮكَ وَقَوۡمَكَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ۞
    کیا آپ بتوں کو خدا بنائے بیٹھے ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔۔۔
    وہ بیٹا زمین و آسمان کا نظارہ کرتا اور اس رب کو ڈھونڈتا جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ۔۔۔۔
    فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ رَاٰ كَوۡكَبًا ‌ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّىۡ‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِيۡنَ ۞
    چنانچہ جب ان پر رات چھائی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا کہنے لگے کہ یہ میرا رب ہے ۔۔پھر جب وہ ستارہ ڈوبا تو فرمانے لگے نہیں یہ میرا رب نہیں میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔
    پھر انہوں نے چاند کو دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے۔۔۔
    جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا
    اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں یقیناً گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاتا

    پھر جب انہوں نے سورج کو چمکتا دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے یہ زیادہ بڑا ہے پھر جب وہ غروب ہوا تو کہا کہ
    اے میری قوم جن جن چیزوں کو تم الله کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہو میں ان سب سے بے زار ہوں ۔۔۔۔۔
    اور یوں اللّٰہ تعالٰی نے انہیں حق اور سچ کی طرف رہنمائی فرمائی اور انکا رخ دین حنیف کی طرف موڑ دیا ۔۔۔۔
    مگر صرف دین حق کو قبول کردینا ہی کافی نہ تھا انہیں
    انبیاء کا جد امجد بننے کیلئے امتحانات مقصود تھے جس میں پورا اترنا شرط تھا۔۔۔۔۔
    اور وہ پورا اترے یہاں تک کہ خلیل اللہ کا لقب پایا ۔۔۔۔
    وہایک تہوار کا دن تھا اور قوم تہوار منانے نکلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ اپنے دل کی اس بیماری( جو لوگوں کو گمراہی میں پڑا دیکھ کر آشکار ہوئی تھی ) کی وجہ سے آپ علیہ السلام وہیں ٹھیر گئے اور قوم کے پیچھے انکے بتوں کو توڑ ڈالا اور ہتھوڑا بڑے بت کی گردن میں لٹکا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ قوم آئی اور بت خانے میں توڑ پھوڑ دیکھی تو پہلا شک انکا آپ علیہ السلام پر گیا ۔۔۔۔انسے بت خانے کی بابت پوچھا تو فرمانے لگے کہ اس بڑے بت سے پوچھو۔۔۔۔ کہا کہ یہ تو بول نہیں سکتا یہ کیسے بتائے گا
    انکی عقلوں میں یہ نہ سمایا کہ جب یہ ان ساتھی چھوٹے بتوں کو بچا نہیں سکتا وہ کیسے رب ہوسکتا ہے ۔۔۔۔اور یوں وہ اس نوجوان پر آگ بگولا ہوگئے تو ایک بڑی آگ جلائی گئی جس میں اس سچے حق پرست اور نیک نوجوان ابرہیم علیہ السلام کو ڈالا گیا ۔۔۔۔۔ادھر انھیں آگ میں ڈالا گیا تو رب العالمین کا آگ کو حکم ہوا
    يٰنار كوني بردا وسلاما على ابراهيم
    اے آگ ٹھنڈک ہوجا اور ابرہیم علیہ السلام کیلئے سلامتی والی ہوجا
    اور یوں تین دن آگ میں رہنے کے باوجود صحیح سالم آگ سے نکلے اور اپنے اس امتحان میں آپ ثابت قدم رہے۔۔۔
    اپنی قوم اور باپ کو چھوڑ کر اپنی زوجہ کو لئے نکل کھڑے ہوئے
    اس امتحان کے بعد نمرود کے دربار سے بھی بھی سرفراز لوٹے ۔۔۔ جو ہر خوبصورت عورت کو بیوی بنا لیا کرتا تھا ۔۔۔۔ پھر لوٹے بھی تو ایسے کہ اس بادشاہ نے ان پر اکرام کیا اور انھیں باندی سے نوازا۔ ۔۔۔۔۔
    ابھی امتحان ختم نہ ہوئے تھے انکے ابھی بڑے بڑے کام باقی تھے !!! ۔۔۔۔۔ بڑھاپے میں اولاد کی خوشخبری ہوئی ۔۔۔۔اور وہ باندی جو آنھیں تحفے میں عطا ہوئی تھیں انھوں نے بھی ایک وارث جنا ۔۔۔۔۔۔ بڑھاپے میں ملی وہ اولاد جو اولاد نرینہ بھی تھی ۔۔۔اس ہی کہ ذریعے پروردگار نے انھیں آزمایا اور حکم ہوا کہ اسکے قربان کردیں بیٹا وہی تھا جسکی اولاد میں رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لانا تھی۔۔۔۔دونوں باپ بیٹا کچھ اس طرح ثابت قدم رہے کہ عرش لرز اٹھا اور دونوں سرخرو ہوئے ۔۔۔۔ اورآج تک انکی یہ قربانی یاد رکھی گئی ہے اور ابد تک رکھی جائے گی اس قربانی کی سنت کو ہر 10 تا 12 ذی الحجہ امت محمدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم زندہ کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی ۔۔۔۔۔ پھر اگلا امتحان کچھ یوں ہوا کہ اس جگر کے ٹکڑے کو ایسی سرزمین پر چھوڑنے کا حکم ہوا جہاں دور دور تک کسی نباتات کا نام و نشاں نہ تھا۔۔۔۔۔۔ اپنے رب کیلئے وہ اس امتحان سے بھی گزر گئے
    اور رب العالمین نے ان پر ان امتحانات میں کامیابی کا کچھ اس طرح انعام کیا کہ ’’مَیں آپ ؑ کو لوگوں کا امام (یعنی پیشوا) بنانے والا ہوں۔‘‘ (سورۃ البقرہ، آیت124)۔

    جب سالوں بعد اس مقام پر پہنچے جہاں بیوی بچے کو چھوڑا تھا تو وہ جگہ عجب منظر پیش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ ایک پورا شہر آباد تھا وہاں۔۔۔۔
    پھر بیت اللہ کی دوبارہ تعمیر کا حکم ہوا تو باپ بیٹا ایک بار پھر حکم خداوندی کو پورا کرنے کیلئے جت گئے باپ حضرت ابرہیم علیہ السلام کے لئے جنت سے پتھر آیا جو خود آونچا نیچا ہوجاتا تھا ۔۔۔۔ بیٹا باپ کو پتھر پکڑاتا جاتا اور والد دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کرتے جاتے ۔۔۔
    اور یہ تعمیر نو مکمل تو دعا فرمائی کہ
    ’’ الٰہی! مَیں نے اس لَق و دَق صحرا اور اس بے آب و گیاہ بیابان میں، تیرے گھر کے پڑوس میں اپنی اولاد کو اِس لیے بسایا ہے کہ وہ تیری عبادت کرتے رہیں۔الٰہی! لوگوں کے دِلوں میں ان کی محبّت اور لگن پیدا کر دے تاکہ وہ ان کے پاس کِھنچ کِھنچ کر چلے آئیں۔یہ وادی، جہاں سرسبزی و شادابی کا دُور دُور تک نشان نہیں، اِس میں رہنے والوں کو کھانے کے لیے تازہ پھل عطا فرما
    اور یوں مسلسل امتحانات کے بعد انکا اکرام کرنے میں بھی میرے رب ے کوئی کسر نہ چھوڑی اور وہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم جنکے لئے کائنات وجود میں آئی انکے ابرہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل کی نسل سے فرمادیا۔۔۔۔

    Twitter handle: @Amk_20k

  • سنت ابراہیمی.تحریر:  فروا منیر

    سنت ابراہیمی.تحریر: فروا منیر

    عیدالاضحیٰ پوری دنیا میں مسلمان ہر سال جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ ہر سال سنت ابراہیمی کی یاد کو تازہ کیا جاتا ہے ۔ دنیا بھر کے مسلمان مذہبی جوش و جذبے سے عید الاضحیٰ مناتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ منانے کا مقصد سنت ابراہیمی کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔

    یہ عشق کی انتہا یہ تھی کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا تو آپ نے خود کو عشقِ خداوندی کی سپرد کردیا یہ عشق کی انتہا کی تھی جب آپ کو حکم ملا کہ اپنی بیوی اور بیٹے کو ویران و بیابان علاقے میں چھوڑ آؤ تو  آپ ع نے اپنی بیوی اور بیٹے کو حکم الہی کی سپرد کردیا ۔ یہ عشق کی انتہا یہ تھی کہ جب آپ کو حکم ملا کے اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کر دو تو آپ نے یہ خواب اپنے بیٹے کو سنایا اور اپنے بیٹے کو حکم الٰہی کے سپرد کر دیا۔

    حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اصل مقصد نہیں تھا اصل مقصد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش اور  عشق کی انتہا کو دیکھنا تھا ۔ بے شک اللہ اپنے پیارے بندوں کو آزماتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی گئی ہر آزمائیش پر ثاںت قدم رہے اور کامیاب ہوئے۔
    اسی طرح ہر مسلمان کی زندگی میں آزمائش اور مشکلات آتی ہے آزمائشوں اور مشکلات میں پریشان ہونے اور حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں ۔ ہمیں بھی ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے

    سنت ابراہیمی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں اپنی جان مال قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے
    صرف جانور کو قربانی کرنا چاہیے کہ ہمیں اپنے نفس کی قربانی دینے کی ضرورت ہے ہر اس راستے سے ہمیں دور رہنا ہے جو راستہ اللہ سے دور کر رہا ہے سب سے بڑی قربانی اپنے نفس کی قربانی ہے اللٰہ تعالیٰ کی خاطر اپنے نفس کی قربانی کے لیے بھی ہر وقت تیار رہنا چاہیے

    ہمیں سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور  دین اسلام اور راہ خدا کے لیے کسی قربانی سے انکار نہیں کرنا ہے

    Email Address
    Farwawrites1214@gmail.com

    @Fatii_PTI

    Name
    Farwa Munir

  • کامیابی کا راز   تحریر: کاوش لطیف

    کامیابی کا راز تحریر: کاوش لطیف

    یہ کہانی ہے ایک نوجوان لڑکے کی جو زندگی میں کچھ کرنا چاہتا تھا وہ کامیابی کی تلاش میں تھا اور کامیابی کا راز جاننا چاہتا تھا ایک دن وہ اپنے گاؤں کے بوڑھے آدمی کے پاس آیا بوڑھا آدمی بڑا ہی عقلمند تھا اس نے دنیا دیکھی ہوئی تھی نوجوان لڑکے نے بوڑھے آدمی سے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتا ہے اور وہ جاننا چاہتا ہے کہ کامیاب ہونے کے لئے اس کو کیا کرنا پڑے گا کامیابی کا آخر کیا راز ہے بوڑھے آدمی نے اس کی بات کو غور سے سنیں اور کہا کہ تم کل صبح دریا کے کنارے آ جاؤ تمہارے سوال کا جواب تمہیں مل جائے گا اگلی صبح وہ لڑکا دریا کے کنارے پہنچا

    تو بوڑھا آدمی وہاں پہلے سے ہی موجود تھا بوڑھا آدمی اس لڑکے کو لے کر دریا میں اتر گیا اور گہرے پانی کی طرف چلنا شروع کر دیا جب وہ اتنی گہرائی تک پہنچ گئے کہ پانی لڑکے کی ناک تک آگیا تو بوڑھا آدمی رک گیا اور پھر اچانک ہی اس نے لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پانی کے اندر ڈبو دیا لڑکا بوڑھے آدمی کی اس حرکت پر حیران رہ گیا پانی کے اندر اس کا سانس روک کر رہا تھا اور اسے شدید تکلیف ہو رہی تھی تھوڑی دیر کے بعد جب تکلیف اس کے برداشت سے باہر ہو گئی تو اس نے باہر نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیا لیکن جیسے جیسے وہ باہر نکلنے کے لیے زور لگاتا بوڑھا آدمی اور زور سے پانی کے اندر دبا دیتا

    لڑکے کی تو جان پر بن گئی تھی وہ اپنی پوری قوت سے ذور لگا رہا تھا آخر لڑکے نے اپنی پوری طاقت سے بوڑھے آدمی کو دھکا دیا اور اپنا سر پانی سے باہر نکال لیا اسے خود بھی سمجھ نہیں آئی تھی کہ اچانک اتنی طاقت اس کے اندر کہاں سے آگئی سر باہر نکال تے ہی لڑکے نے تیز تیز سانس لینا شروع کر دیا بوڑھا آدمی اسے سہارا دے کر کنارے پر لے آیا جب تم پانی کے اندر تھے تو اتنا زور کیوں لگا رہے تھے

    لڑکے نے غصے سے بوڑھے آدمی کو دیکھا مجھے سانس نہیں آ رہی تھی اور میں سانس لینے کے لئے زور لگا رہا تھا آپ تو مجھے یہاں کامیابی کا راز بتانے لائے تھے اور آپ نے مجھے پانی کے اندر ڈبونا شروع کر دیا بوڑھے آدمی نے کہا کہ یہی کامیابی کا راز ہے کامیابی بھی پانی کے اندر سانس لینے کی طرح ہے جب پانی کے اندر تمہارا دم گھٹ رہا تھا تمہیں سانس نہیں آرہا تھا کہ تمہاری صرف ایک ھی خواھش تھی کہ کسی طریقے سے تم سانس لے سکوں باقی تم دنیا کی ہر چیز بھول چکے تھے اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو تو کامیابی کی بھی تمہیں ایسی ہی خواہش کرنی پڑے گی

    جب کامیابی کی تمہاری خواہش اتنی شدید ہوگئی جتنی ہوا ہے تمہاری پانی سے باہر نکلنے سانس لینے تک کی تھی تو کامیابی تمہیں ضرور ملے گی جب تم پانی کے اندر تھے تمہیں سانس نہیں آ رہی تھی تم تڑپ رہے تھے اپنا پورا زور لگا رہے تھے باہر نکلنے کی پوری کوشش کر رہے تھے میں تمہیں نیچے دبا رہا تھا لیکن تم ہار نہیں مان رہے تھے تم جنونی بنے ہوئے تھے تمہیں ہر صورت باہر نکلنا ہی نکلنا تھا تم اپنی پوری جان سے پوری طاقت سے زور لگا کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے جب تم کامیابی حاصل کرنے کے لیے اتنا ہی زور لگاو گے اتنے ہی جنون کا مظاہرہ کرو گے تو کامیابی تمہیں ضرور ملے گی

    چاہے دنیا تمہیں کتنا ہی دبائے تمہارے راستے میں کتنی ہی رکاوٹ ڈالیں تم ہار نہیں مانوں گے تم کوشش کرتے رہو گے تو کامیابی تمہیں ضرور ملے گی اور یہی کامیابی کا راز ہے

    @k__Latif