Baaghi TV

Category: مذہب

  • مشکل کشا صرف رب کی زات.تحریر: ارم رائے

    مشکل کشا صرف رب کی زات.تحریر: ارم رائے

    صرف عقل و شعور والوں کے لئے۔
    کیا اللہ کے سوا کوئی اور مشکل کشا حاجت روا یا مشکلات حل کرنے پر قادر ہے؟
    اکثر مذہبی حلقوں میں یہ بحث سر اٹھاتی ہے کہ کیا اللہ کے سوا کوئی غیر اللہ مشکل حل کرسکتا ہے؟ یا صرف اللہ ہی اس پر قادر ہے؟ دونوں فریقین میں سے کوئی بھی قائل نہیں ہوتا،جب ایک ذی شعور انسان کے ذہن میں یہ سوال اُبھرتا ہے تو وہ اس سوال کو مختلف پہلووں سے جانچتا اور پرکھتا ہے کہ کس طرح اللہ کے سوا کوئی اور ہستی مشکل کشا ہو سکتی ہے اس سوال کی مختلف صورتیں ہیں۔

    مثلا کسی انسان کو ایک مشکل کا سامنا ہے وہ چاہتا ہے کہ میری مشکل دور ہو، وہ اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو پکارنا چاہتا ہے جو اس کی مشکل دُور کر دے اب ۔۔
    1۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور ہستی مشکل حل کر سکتی ہے تو بتایئے کہ انسان اور مشکل کُشا کے درمیان ہزاروں میلوں کی دُوری پر وہ زندگی میں یا زندگی کے بعد قبر میں آواز سُن سکتا ہے؟
    2۔ بالفرض یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اتنے فاصلوں سے بھی آواز سُن سکتا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ دنیا کی ہر زبان سے واقف ہے یا نہیں مثلاً سرائیکی والا سرائیکی میں مشکل پیش کرے گا، جرمن جرمنی زبان میں، انگریز انگریزی میں اور پٹھان پشتو میں آواز دے گا
    3۔ اگر یہ بات بھی ثابت کر دی جائے کہ وہ ہستی ہر زبان سے واقف ہے تو پھر سوال پیدا ہو گا کہ اگر ایک لمحہ میں سینکڑوں یا ہزاروں لوگ اپنی مشکلیں اس کے سامنے پیش کریں تو کیا وہ ان سب کی مشکلات اسی لمحہ سُن اور سمجھ لے گا؟ یا اس کے لیے قطار بنانے کی ضرورت پیش آئے گی ؟
    4۔ کیا اس ہستی کو کبھی نیند بھی آتی ہے یا وہ ہمیشہ جاگتی رہتی ہے؟ اگر کبھی نیند آتی ہے تو ہمارے پاس ایک ٹائم ٹیبل ہونا چاہیئے کہ کب اس کو نیند آتی ہے اور کب وہ جاگ رہی ہوتی ہے تاکہ ہم اپنی مشکل صرف اسی وقت پیش کریں جب وہ ہستی جاگ رہی ہو ، یا وہ نیند میں بھی سنتی ہے؟
    5۔ ایک دوسرا انسان ہے جو بولنے سے قاصر ہے، وہ ایسی مشکل میں مبتلا ہے کہ اس کا گلا بند ہو چکا ہے، اگر وہ دل ہی دل میں اپنی مشکل پیش کرے تو کیا وہ ہستی اس کی دلی فریاد بھی سُن لے گی ؟
    6۔ انسان کو پیدائش سے لے کر موت تک چھوٹی بڑی تمام مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اگر اللہ تمام مشکلات حل کر سکتا ہے تو پھر غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر غیر اللہ ان تمام مشکلات کو حل کرنے پر قادر ہے تو پھر اللہ کی کیا حاجت ہے؟
    7۔ اگر غیر اللہ مشکل کُشا یا مشکلات حل کرنے پر قادر نہیں، تو ہو سکتا ہے کہ کچھ مشکلات حل کرنے کا بیڑا اللہ نے اُٹھایا ہوا ہو اور کچھ مشکلات حل کرنے کے اختیارات اس نے کسی غیر کو دے رکھے ہوں، ایسی صورت میں تو ہمارے پاس یہ فہرست ہونی چاہیئے کہ کون کون سی مشکلات اللہ تعالیٰ حل کرنے پر قادر ہے اور کون کون سی مشکلات غیر اللہ حل کرسکتا ہے تاکہ مسائل اور مشکلات اسی کے سامنے پیش کر سکیں جو اس کو حل کرنے پر قادر ہو
    8۔ کیا اللہ کے سوا جو ہستی مشکل سے نکال سکتی ہے وہ مشکل میں ڈال بھی سکتی ہے یا اس کی ڈیوٹی صرف حل کرنے پر ہے؟ اگر وہ مشکل حل کر سکتی ہے تو پھر مشکل میں ڈالنے والا کون ہے؟
    9۔ بالآخر نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ مشکلات میں ڈالنے والا ہے اور غیر اللہ مشکل حل کرنے والا ، بالفرض ایک ہستی مشکل میں ڈالنے والی ہو اور دوسری مشکل حل کرنے والی تو دونوں میں سے کونسی ہستی اپنا فیصلہ واپس لے لے گی؟
    10۔ کسی بھی برگزیدہ یا گناہ گار ہستی کا جنازہ پڑھنا ہو تو اس کی بخشش کے لئے اللہ کو آواز دی جائے گی یا مشکل کشا کو؟

    ساری دنیا کے انسان مل کر بھی آپ کو کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے، ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی آپ کو عزت یا ذلیل نہیں کر سکتے ، ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی آپ کے لئے مشکل یا آسانی پیدا نہیں کر سکتے مگر صرف اللہ ،بے شک وہ یکتا ہی مشکل کشا ہے۔اسکے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔کسی غیر الله کی گنجائش نہیں ہے اس لیے مانگنا صرف اللہ سے ہےلیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ جو لوگ صوفیاء کرام اور اولیاء کرام کے کمالات کی وجہ سے انکو نعوز باللہ مشکل کشا یا دینے والے کا درجہ دیتے ہیں تو یہ شرک اور گناہ عظیم ہے۔لیکن ان بزرگان دین کو گالی نہیں دی جا سکتی جو لوگ انکو گالی دیتے ہیں وہ بھی اتنے ہی گنہگار ہیں جتنے ان سے مانگنے والے۔ آپ غیر جانبداری سے ان تمام اولیاء کرام کو پڑھیں انکی تعلیمات کو پڑھیں تو آپ کو صرف واحدنیت ملےگی۔ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیمات ملیں گی۔ کس طرح اپنی زات کی نفی کر کے دوسروں کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے ملےگا۔ انکے قبروں کو جن لوگوں نے پیسہ بنانے کا زریعہ بنایا وہ انکی تعلیمات کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں اسلام پھیلا ہی ان بزرگان دین کی وجہ سے ہے۔ آئیں ان سے مانگنے کے بجائے انکی تعلیمات پر عمل کریں پھر ان شاء الله ہماری دنیوی زندگی بھی کامیاب ہوگی اور آخروی بھی۔

  • اسلام اور تصورِ علم .تحریر :شاہ زیب

    اسلام اور تصورِ علم .تحریر :شاہ زیب

    اسلام جس کی ابتداء ہی اقراء سے ہوئی دراصل بنیادی طور پر ایک تعلیمی تحریک ہے.
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ” انما بعثت معلما ” بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے, مزید فرمایا "علماء انبیاء کے وارث ہیں ",
    گویا نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد تعلیم دینا قیامت تک علماء کا فریضہ ٹھہرا ہے.

    اسلام واحد مذہب ہے جس نے تمام انسانوں کے لئے علم حاصل کرنا فرض قرار دیا اور اس فرض کی انجام دہی کو معاشرے کی ایک ذمہ داری بنایا.

    آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ علم کے مقام اور اسکی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے.
    اسلامی تعلیمات کی بنیادی خصوصیات ہیں کہ انکا محور روحانی, دنیاوی اور شعوری معراج ہے.

    اسلامی تعلیم کے مطابق علم کا سرچشمہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے.
    اشیاء و ہدایت سب اسی کی طرف سے ہے.
    علم کو مقصد حیات کا درجہ رکھتا ہے, دنیا میں انسان کی حیثیت توحید, رسالت, آخرت اور انفرادی و اجتماعی زندگی کی تربیت اور اخلاقیات کے آفاقی اصول اسلامی تعلیمات کا بنیادی جزو ہیں.
    اسلام تربیت کو تعلیم سے علیحدہ نہیں کرتا تربیت ہی انسان کو اللہ کا خاص بندہ بناتی ہے.

    اسلام فکر و تدبر کی دعوت دیتا ہے علم و بصیرت کی پذیرائی کرتا ہے.روحانیت اور سائنسی و معاشرتی قوانین فطرت کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے.

    اسلام میں تعلیم اور علم کسی ایک کے لئے یا مخصوص طبقے کے لئے نہیں جیسے برہمن اور پادری وغیرہ کے لئے ہوتا ہے بلکہ کل انسانیت کے لیے فرض ہے.
    اور علم کو بغیر عمل فتنہ قرار دیا گیا ہے
    اسلام کی نظر میں تعلیم تحریک ہے
    تعلیم تبلیغ ہے
    تعلیم دینے اور لینے میں بے ایمانی اور کنجوسی کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اسلام میں.
    اپنی اگلی نسلوں کے لئے خود بھی تعلیم حاصل کرنا چاہئے اور اسلامی خطوط پر بچوں کی پرورش کے لئے تگ و دو کرنی چاہئے.
    وما علینا الا البلاغ المبین.
    @shahzeb___

  • دورِ فِتن، ہم اور ہمارے علماء کی ذمہ داری۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

    دورِ فِتن، ہم اور ہمارے علماء کی ذمہ داری۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

    دورِ فِتن کی علامات جو احادیث میں بیان کی گئی ہیں وہ اب ظاہر ہوتی جارہی ہیں۔ اب آنے والا وقت سخت سے سخت تر ہوتا جائے گا ہر نئی آنے والی مصیبت کے مقابلے میں گزشتہ مصیبت ہلکی معلوم ہوگی۔ لہٰذا نجات اِسی میں ہے کہ دنیا کی محبت دل سے نکال کر آخرت کی تیاری کی جائے اللّه کے حضور صدقِ دل سے توبہ کی جائے اور رسول اللہ ﷺ کی سُنتوں کو اپنایا جائے ۔ آپ آج اپنئ اِردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو محسوس ہوگا کتنا مشکل ہے کہ میں اِن وجوہات سے بچ سکوں مگر مشکل نظر آئے گا ،کیونکہ سب سے بڑا فتنے باز ہمارا موبائل ہی ہے جو ہر چند سیکنڈ بعد ہمیں موصول ہونے والے میسیجز ہیں جو بنا تصدیق ہم تک پہنچ جاتے ہیں اور بنا تحقیق کئے وہی میسج یا تحریر ویسے ہی آپ آگے فارورڈ کرتے ہیں ، لیکن اِن گناہوں سے بچنے کا اور خُود کو اِن فتنوں سے بچانے کیلئے آسان سا حل ہے کے ہم دین کے اُن ارکان اُن باتوں کو اپنائیں جن اعمال کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ، اب یہاں بات آتی ہے کہ ہمارے علماء کا کردار کتنا ضروری ہے اور کیا وہ اپنا کردار ٹھیک سے ادا کر رہے ہیں ۔۔؟ اگر نہیں تو ہمیں خُود چاہئے کے اپنے محلے کی مسجد کے عالم یا مولوی سے سوال کریں کے کہ جناب اِس طرف بھی کچھ بیان کیا کریں ، ہمارے مُعاشرے میں بُرائی بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی رہی ہے کے ہم نے اپنے علماء سے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے ، اُس سے ہُوا کیا۔۔؟ اُس سے یہ ہُوا کے علماء بھی ڈھیلے پڑ گئے اپنی اصل ذمہ داری سے ، اب اگر اِن مسائل پر بات کی جائے تو مجھے ایک پوری کتاب لکھنا پڑ جائے گی ، اور ہم نے کتاب کو تو ہاتھ لگانا نہیں کیوں کے زمانہ بدلتا جا رہا ہے اور اِسی بدلتے زمانے میں فتنے بپا ہوتے جائیں گے اب چند احادیث کے حوالے اور قُرآن کریم سے آیات پیشِ خدمت ہیں ۔
    انِّی لَأَرَی مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُیُوتِکُمْ کَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ
    صحیح البخاری رقم الحدیث۵۳۱۵۔صحیح مسلم رقم الحدیث۵۸۸۲
    بے شک میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں کی جگہوں میں فتنے ایسے گر یں گے جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں
    عن کعب(رض) قال أظلمتکم فتنۃ کقطع اللیل المظلم لایبقی بیت من بیوت المسلمین بین المشرق والمغرب الادخلتہ
    الفتن لنعیم بن حماد:ج۱ص۴۵۲رقم الحدیث۴۱۷
    حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اندھیری رات کے مانند تم پر ایسا فتنہ آئے گا جو نہیں چھوڑے گا کوئی گھر مسلمانوں کے گھروں میں سے مشرق و مغرب کے درمیان مگر یہ کہ وہ ہو امیں داخل ہوجائے گا
    ہر صاحب بصیرت جس کو اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم اور اپنے دین کے صحیح فہم سے نوازا ہو ، وہ اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ایسے گونگے اور بہرے ،گھٹا ٹوپ اور تیرہ و تاریک فتنے ظہور پذیر ہوں گے جو ایسے رگڑا دیں گے جیسے چمڑے کو زمین پر پٹخااور رگڑا جاتا ہے، جو ایسے اُدھیڑ کر رکھ دیں گے جیسے بالوں کو اُدھیڑا اور رگڑا جاتا ہے، جو ایسے ریزہ ریزہ کردیں گے جیسے خشک اور سوکھی مینگنی کو ریزہ ریزہ کردیا جاتا ہے یا جیسے روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ثریدمیں ڈالا جاتا ہے ،جوایسی چوٹیں لگائیں گے جن کی تاب کوئی نہ لاسکے گا،اور ان فتنوں میں سب سے بد ترین فتنہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی اُمت کو ڈرایا اور فرمایا کے مجھ سے پہلے آنے والے ہر نبی اور پیغمبر نے اپنی قوم کو ڈرایا وہ ہے ’’دجال اکبر ‘‘کا فتنہ اور اس فتنے کو دنیا میں ہونے والے ہر فتنے کا موجب اور منبع قرار دیا

    وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَۃٌ مُنْذُ کَانَتْ الدُّنْیَا صَغِیرَۃٌ وَلَا کَبِیرَۃٌالَّا لِفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ
    مسنداحمد:ج۵ص۹۸۳رقم الحدیث:۲۵۳۳۲۔مجمع الزوائد:ج۷ص۵۳۳رجالہ رجال الصحیح
    اور آج تک دنیامیں جو کوئی چھوٹا بڑا فتنہ رونماہوتا ہے وہ دجال کے فتنے کی وجہ سے ہے
    فتنہ چھوٹا ہو یا بڑا وہ دجال کے فتنے پر ہی منتج ہوگا۔سو جو اس کے فتنے سے پہلے فتنوں سے بچ گیا وہ دجال کے فتنوں سے بھی بچ جائے گا
    احادیث فی الفتن والحوادث ج:۱ ص۶۵۲بحوالہ تیسری عالمی جنگ اور دجال

    اس افسوس ناک صورتحال سے زیادہ کرب کی بات یہ ہے کہ اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم جو دنیا کا واحد گروہ ہے جسے ماضی ،حال اور مستقبل کا قُرآن و سنت کی صورت میں کافی علم دیا گیا ہے ،آج حیران اور ناواقف راہ ہیں اور بھٹک رہی ہے اور دنیا کی تاریکیوں سے روشنی کی بھیک مانگ رہی ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعد اب ان فتنوں کے ظہور کی رفتار تیز ہوتی محسوس ہورہی ہے گویا ہمیں خُود محنت کرنا ہے اِن فِتنوں سے جتنا ہو سکے خُود کو اور اپنے اردگرد دوست احباب کو ہر چھوٹے چھوٹے برے عمل سے روکنا ہے اور مسلمان وہی ہے جو برائی کو روکے اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمیں ہر بات ہر آنے والے دور کے بارے میں کُھلے الفاظ میں بتایا گیا ہے کیا ہم اتنے قاہل ہو گئے ہیں کے اپنے ایمان کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے جبکہ قُرآن میں اللہ فرما رہا ہے۔ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ
    (سُورۃمحمد:۱۸)
    تو کیا یہ قیامت کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ اِن کے پاس اچانک آجائے ،یقیناً اس کی نشانیاں تو ظاہر ہوہی چکی ہیں۔پھر جب اُن کے پاس قیامت آجائے تو انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا ۔
    نشانیوں کا خروج یکے بعد دیگرے ہوگا ،اس طرح پے درپے آئیں گی جس طرح لڑی ٹوٹنے کے بعدپروئے ہوئے دانے آتے ہیں
    ان حالات کا تقاضا ہے کہ قُرآن و احادیث مبارکہ کی روشنی میں اس صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے ،موجودہ حالات کی تبدیلی کو صحیح زاویہ سے دیکھاجائے اور آئندہ کے لئے صحیح نشاندہی کی جائے تاکہ اُمت اپنے فرضِ منصبی کو پیش آنے والے عظیم معرکہء خیر وشر میں کماحقہ سرانجام دے کر پوری انسانیت کو کامیابی سے ہمکنار کرے ۔
    اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ میری اِس کوشش کو قبول فرمائے اور اللہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو سچی توبہ اور استقامت نصیب فرمائے ۔آمین
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

  • ‏اسوۂ رسول اور ہم.تحریر:۔محمد عادل حسین

    ‏اسوۂ رسول اور ہم.تحریر:۔محمد عادل حسین

    ہم مسلمان ہیں اورمسلمان کا مطلب فرمانبردار ہے
    اصطلاح میں اس سے مراد وہ شخص ہےجو اللہ کےاحکامات اور اس کے رسولؐ کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرے
    فرمان الہی ہے

    "لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡہِمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ ؕ”

    یقیناً تمہارے لئے رسولُ اللّٰهﷺ اچھا نمونہ ہیں ( اور عمدہ پیروی ہے خاص کر ) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو

    سورة الممتحنة – Ayat No 6

    یہ سیدھا سااصول بیان کردیا کہ ہم اپنے ہر قول وفعل ولادت سے وفات تک ہرکام میں رسولُ اللّٰهﷺ کی پیروی کریں
    اپنی عبادت اور نیکی کے بارے میں کہ اگر اس کا طریقۂ و ہئیت آپ طریقے کے مطابق نہ تو وہ قبول نہیں۔

    اسی طرح تجارت،سیاست،عدالت خلوت،جلوت،رشتہ داری،دوستی ،بیوی ،بچوں، والدین،اولاد کے حقوق الغرض زندگی کاکوئی معاملہ بھی ایسا نہیں کہ جس کی راہنمائی رسولُ اللّٰهﷺ نے نا کی ہو

    اصحابؐ محمدﷺ کاانداز کیاان کو مقام ومرتبہ کس وجہ سے ملا کہ اسؤہ رسول پہ اپنی زندگی بسرکرتے تھے جوبھی حکم ملتا ان کا کام "سمعناواطعنا” (سننااور فورا عمل کرنا) تھا شراب کی حرمت کامعاملہ دیکھ لیں حکم جاری ہوتے ہی ذخیرہ شدہ کو فورا بہادیا
    ایک دن آپؐ خطبہ ارشاد فرما رہے آپ نے کہا "اجلسوا”!
    بیٹھ جاؤ ایک صحابی کہ جو دروازے کی دہلیز پہ تھے وہی بیٹھ گۓایک قدم اٹھانا بھی گوارہ ناکیا
    اللہ تعالی نے پھر مقام کیا دیا
    انکو رضی اللہ عنہ کاسرٹیفیکٹ زندگی میں ہی عطاء کردیا

    ہم بھی نیک اعمال کس وجہ سے کرتے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجاۓ

    آج ہماری حالت کاایک سبب یہ کہ ہم نے اسؤہ رسولؐ سے روگردانی کی اور جن کی مخالفت کا حکم ملا تھا(یہود ونصری)ان کو اپنا آئیڈیل بنا لیا۔

    شاعر نے بھی کیاخوب عکاسی کی
    تمہاری تہذیب اپنےہی خنجر سے خود کشی کرے گی
    شاخ نازک یہ جو آشیانہ بنے گا ناپائدار ہوگا

    اللہ ہمیں اسؤہ رسول پہ زندگی بسر کرنے کی توفیق دے،آمین

  • حلیمہ سعدیہ ؓ کی گود میں. تحریر: فاطمہ بلوچ

    حلیمہ سعدیہ ؓ کی گود میں. تحریر: فاطمہ بلوچ

    اس زمانے میں عرب کا دستور یہ تھاکہ جب ان کے ہاں کوئی بچہ ہوتا تو وہ دیہات سے آنیوالی دائیوں کے حوالے کردیتے تھے تاکہ دیہات میں بچے کی نشوونمابہتر ہواوروہ خالص عربی زبان سیکھ سکے-
    دائیوں کا قافلہ مکہ میں داخل ہوا_انہوں نے ان گھروں کی تلاش شروع کی جن میں بچے پیدا ہوئے تھے-اس طرح بہت سی دائیاں جناب عبد المطلب کے گھر بھی آئیں-نبی کریمﷺکو دیکھالیکن جب انہیں معلوم ہواکہ یہ بچہ تو یتیم پیدا ہواہے تو اس خیال سے چھوڑکر آگے بڑھ گئیں کہ یتیم بچے کے گھرانے سے انہیں کیاملے گا-اس طرح دائیاں آتی رہیں، جاتی رہیں…کسی نے آپ کو دودھ پلانامنظور نہ کیااور کرتیں بھی کیسے؟ یہ سعادت تو حضرت حلیمہؓ کے حصے میں آناتھی-
    جب حلیمہ ؓ مکہ پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا، سب عورتوں کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیاہے اور اب صرف وہ بغیر بچے کے رہ گئیں ہیں اور اب کوئی بچہ باقی نہیں بچا، ہاں ایک یتیم بچہ ضرور باقی ہے جسے دوسری عورتیں چھوڑ گئیں ہیں-
    حلیمہ سعدیہؓ نے اپنے شوہر عبد اللہ ابن حارث سے کہا:
    خدا کی قسم! مجھے یہ بات بہت ناگوار گزر رہی ہے کہ میں بچے کے بغیر جاؤں دوسری سب عورتیں بچے لے کر جائیں، یہ مجھے طعنے دیں گے، اس لیے کیوں نہ ہم اسی یتیم بچے کو لے لیں۔”
    عبداللہ بن حارث بولے:
    "کوئی حرج نہیں! ہوسکتا ہے، اللہ اسی بچے کے ذریعے ہمیں خیروبرکت عطا فرمادیں۔”
    چنانچہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا عبدالمطلب کے گھر گئیں۔جناب عبدالمطلب اور حضرت آمنہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔پھر آمنہ انہیں بچے کے پاس لے آئیں۔آپ اس وقت ایک اونی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔وہ چادر سفید رنگ کی تھی۔آپ کے نیچے ایک سبز رنگ کا ریشمی کپڑا تھا۔آپ سیدھے لیٹے ہوئے تھے، آپ کے سانس کی آواز کے ساتھ مشک کی سی خوشبو نکل کر پھیل رہی تھی۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں۔آپ اس وقت سوئے ہوئے تھے، انہوں نے جگانا مناسب نہ سمجھا۔لیکن جونہی انہوں نے پیار سے اپنا ہاتھ آپ کے سینے پر رکھا، آپ مسکرادیے اور آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "میں نے دیکھا، آپ کی آنکھوں سے ایک نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا، میں نے آپ کو گود میں اٹھا کر آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیانی جگہ پر پیار کیا۔پھر میں نے آپ کی والدہ اور عبدالمطلب سے اجازت چاہی، بچے کے لیے قافلے میں آئی۔میں نے آپ کو دودھ پلانے کے لیے گود میں لٹایا تو آپ دائیں طرف سے دودھ پینے لگے، پہلے میں نے بائیں طرف سے دودھ پلانا چاہا، لیکن آپ نے اس طرف سے دودھ نہ پیا، دائیں طرف سے آپ فوراً دودھ پینے لگے۔بعد میں بھی آپ کی یہی عادت رہی، آپ صرف دائیں طرف سے دودھ پیتے رہے، بائیں طرف سے میرا بچہ دودھ پیتا رہا۔

    پھر قافلہ روانہ ہوا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "میں اپنے خچر پر سوار ہوئی۔آپ کو ساتھ لے لیا۔اب جو ہمارا خچر چلا تو اس قدر تیز چلا کہ اس نے پورے قافلے کی سواریوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔پہلے وہ مریل ہونے کی بنا پر سب سے پیچھے رہتا تھا۔میری خواتین ساتھی حیرانگی سے مخاطب ہوئیں:
    "اے حلیمہ! یہ آج کیا ہورہا ہے، تمہارا خچر اس قدر تیز کیسے چل رہا ہے، کیا یہ وہی خچر ہے، جس پر تم آئیں تھیں اور جس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل تھا؟ ”
    جواب میں میں ان سے کہا:
    "بےشک! یہ وہی خچر ہے، اللہ کی قسم! اس کا معاملہ عجیب ہے۔”

    پھر یہ لوگ بنو سعد کی بستی پہنچ گئے، ان دنوں یہ علاقہ خشک اور قحط زدہ تھا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "اس شام جب ہماری بکریاں چر کر واپس آئیں تو ان کے تھن دودھ سے بھرے تھے جب کہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا، ان میں سے دودھ بہت کم اور بہت مشکل سے نکلتا تھا۔ہم نے اس دن اپنی بکریوں کا دودھ دوہا تو ہمارے سارے برتن بھرگئے اور ہم نے جان لیا کہ یہ ساری برکت اس بچے کی وجہ سے ہے۔آس پاس کی عورتوں میں بھی یہ بات پھیل گئی، ان کی بکریوں بدستور بہت کم دودھ دے رہی تھیں۔
    غرض ہمارے گھر میں ہر طرف، ہر چیز میں برکت نظر آنے لگی۔دوسرے لوگ تعجب میں رہے۔اس طرح دو ماہ گزر گئے۔دو ماہ ہی میں آپ چلنے پھرنے لگے۔آپ آٹھ ماہ کے ہوئے تو باتیں کرنے لگے اور آپ کی باتیں سمجھ میں آتیں تھیں۔نو ماہ کی عمر میں تو آپ بہت صاف گفتگو کرنے لگے۔

    اس دوران آپ کی بہت سی برکات دیکھنے میں آئیں۔حلیمہ سعدیہ فرماتی ہیں:
    "جب میں آپ کو اپنے گھر لے آئی تو بنو سعد کا کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا۔جس سے مشک کی خوشبو نہ آتی ہو، اس طرح سب لوگ آپ سے محبت کرنے لگے ۔جب ہم نے آپ کا دودھ چھڑایا تو آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے:
    اللہ اکبرکبیراوالحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا
    یعنی اللہ تعالٰی بہت بڑاہے، اللہ تعالی کے لئے بے حد تعريف ہے، اور اس کےلئے صبح وشام پاکی ہے،، ۔
    پھر جب آپ ﷺدو سال کے ہو گئے تو ہم آپ کو لےکر آپ کی والدہ کے پاس آئے، اس عمر کو پہنچنے کے بعد بچوں کو ماں باپ کے حوالہ کردیا جاتاتھا ۔ادھر ہم آپکی برکات. دیکھ چکےتھے اور ہماری آرزو تھی کہ ابھی آپ کچھ اور مدت ہمارے پاس رہیں، چنانچہ ہم نے اس بارے میں آپ کی والدہ سے بات کی، ان سے یوں کہا ;
    ،، آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم بچےکو ایک سال اوراپنے پاس رکھیں، میں ڈرتی ہوں، کہیں اس پر مکہ کی بيماريوں اور آب و ہوا کااثر نہ ہوجائے،، ۔
    جب ہم نے ان سے باربار کہا تو حضرت آمنہ مان گئیں اورہم آپ کو پھر اپنے گھر لے آئے۔جب آپ کچھ بڑے ہو گئے تو باہر نکل کر بچو ں کو دیکھتے تھے ۔وہ آپ کو کھیلتے نظر آتے، آپ ان کے نزدیک نہ جاتے، ایک روز آپ نے مجھ سے پو چھا;
    ،، امی جان ” کیا بات ہے دن میں میرے بھائ بہن نظر نہیں آتے? آپ اپنے دودھ شریک بھائ عبداللہ اور بہنوں انیسہ اور شیما کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں; میں نے آپ کو بتایا، وہ صبح سویرے بکریاں چرانے جاتےہیں، شام کے بعد گھر آتے ہیں: یہ جان کر آپ نے فرمایا:
    "تب مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیا کریں”
    اسکے بعد آپ اپنے بھائ بہنوں کے ساتھ جانے لگے ۔آپ خوش خوش جاتے اور واپس آتے، ایسے میں ایک دن میرے بچے خوف زدہ انداز میں دوڑتے ہوئے آئے اور گھبرا کر بولے:
    "امی جان! جلدی چلئے… ورنہ بھائ محمدﷺ ختم ہو جائیں گے۔”
    یہ سن کر ہمارے تو ہوش اڑ گئے، دوڑ کر وہاں پہنچے، ہم نے آپ کو دیکھا، آپ کھڑے ہوئے تھے، رنگ اڑا ہوا تھا، چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی – اور یہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ کو سینہ چاک کئے جانے سے کوئی تکلیف ہوئی تھی بلکہ ان فرشتوں کو دیکھ کر آپ کی حالت ہوئی تھی -”
    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، ہم نے آپ سے پوچھا:
    "کیا ہوا تھا؟”
    آپ نے بتایا:
    "میرے پاس دو آدمی آئے تھے – وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے – (وہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تھے) ان دونوں میں سے ایک نے کہا:
    ” کیا یہ وہی ہیں؟”
    دوسرے نے جواب دیا:
    "ہاں یہ وہی ہیں -”
    پھر وہ دونوں میرے قریب آئے، مجھے پکڑا اور لٹادیا – اس کے بعد انہوں نے میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے کوئی چیز تلاش کرنے لگے – آخر انہیں وہ چیز مل گئی اور انہوں نے اسے باہر نکال کر پھینک دیا، میں نہیں جانتا، وہ کیا چیز تھی -”
    اس چیز کے بارے میں دوسری روایات میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا ایک دانہ سا تھا – یہ انسان کے جسم میں شیطان کا گھر ہوتا ہے اور شیطان انسان کے بدن میں یہیں سے اثرات ڈالتا ہے –
    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، پھر ہم آپ کو گھر لے آئے – اس وقت وہ میرے شوہر عبد اللہ بن حارث نے مجھے سے کہا:
    "حلیمہ! مجھے ڈر ہے، کہیں اس بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے، اس لیے اسے اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو

  • ماہِ نبوت طلوع ہوا .تحریر :فاطمہ بلوچ

    ماہِ نبوت طلوع ہوا .تحریر :فاطمہ بلوچ

    سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی
    سب سے بالا و وَالا ہمَارا نبی
    اپنے مولیٰ کا پیارا ہمَارا نبی
    دونوں عالَم کا دُولہا ہمَارا نبی
    بزمِ آخر کا شمع فَروزاں ہوا
    نُورِ اوّل کا جلوہ ہمَارا نبی

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ کی آنول نال کٹی ہوئی تھی۔{آنول نال کو بچے پیدا ہونے کے بعد دایہ کاٹتی ہے۔}
    آپ ختنہ شدہ پیدا ہوئے۔عبدالمطلب یہ دیکھ کر بےحد حیران ہوئے اور خوش بھی۔وہ کہا کرتے تھے، میرا بیٹا نرالی شان کا ہوگا۔{الہدایہ}
    آپ کی پیدائش سے پہلے مکّہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے۔لیکن جونہی آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا۔بارشیں شروع ہوگئیں، خشک سالی دور ہوگئی۔درخت ہرے بھرے ہوگئے اور پھلوں سے لد گئے۔زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔
    پیدائش کے وقت آپ اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے۔سر آسمان کی طرف تھا۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے۔مطلب یہ کہ سجدے کی سی حالت میں تھے۔{طبقات}
    آپ کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔جیسا کہ ہم نماز میں اٹھاتے ہیں۔
    حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    "جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا۔اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے۔” ( طبقات )
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں:
    "محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی میں مجھے بصری میں چلنے والے اونٹوں کی گردنیں تک نظر آئیں۔”
    علامہ سہلی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ نے اللہ کی تعریف کی۔ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں:
    "اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا ۔
    "اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالیٰ کی بےحد تعریف ہے اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں۔”
    آپ کی ولادت کس دن ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔آپ صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔
    تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بہت سے قول ہیں۔ایک روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ایک روایت 8 ربیع الاول کی ہے، ایک روایت 2 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔اس سلسلے میں اور بھی بہت سی روایات ہیں۔زیادہ تر مورخین کا خیال ہے کہ آپ 8 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔تقویم کے طریقہ کے حساب سے جب تاریخ نکالی گئی تو 9 ربیع الاول نکلی۔مطلب یہ کہ اس بارے میں بالکل صیح بات کسی کو معلوم نہیں۔اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مہینہ ربیع الاول کا تھا اور دن پیر کا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو پیر کے دن ہی نبوت ملی۔پیر کے روز ہی آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پیر کے روز ہی آپ کی وفات ہوئی۔
    آپ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔یعنی ہاتھیوں والے سال میں۔اس سال کو ہاتھیوں والا سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی۔
    آپ کی پیدائش اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ہوئی تھی –
    واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ
    ابرہہ یمن کا عیسائی حاکم تھا – حج کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں – اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا :
    ” یہ لوگ کہاں جاتے ہیں ”
    اسے جواب ملا:
    ” بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں ”
    اس نے پوچھا:
    ” بیت اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے”
    اسے بتایا گیا :
    ” پتھروں کا ہے ”
    اس نے پوچھا :
    ” اس کا لباس کیا ”
    بتایا گیا
    ” ہمارے ہاں سے جو دھاری دار کپڑا جاتا ہے اس سے اس کی پوشاک تیار ہوتی ہے ”
    ابرہہ عیسائی تھا – ساری بات سن کر اس نے کہا ":
    "مسیح کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے اس سے اچھا گھر تعمیر کروں گا ”
    اس طرح اس نے سرخ ” سفید ” زرد ” اور سیاہ پتھروں سے ایک گھر بنوایا – سونے اور چاندی سے اس کو سجایا اس میں کئی دروازے رکھوائے اس میں سونے کے پترے جڑوائے – اس کے درمیان میں جواہر لگوائے – اس مکان میں ایک بڑا سا یاقوت لگوایا – پردے لگوائے ” وہاں خوشبوئیں سلگانے کا انتظام کیا – اس کی دیواروں پر اس قدر مشک ملا جاتا تھا کہ وہ سیاہ رنگ کی ہوگئیں – یہاں تک کہ جواہر بھی نظر نہیں آتے تھے۔
    پھر لوگوں سے کہا:
    ” اب تمہیں بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جانے کی ضرورت نہیں رہی, میں نے یہیں تمہارے لیے بیت اللہ بنوادیا ہے لہٰذا اب تم اس کا طواف کرو ”
    اس طرح کچھ قبائل کئی سال تک اس کا حج کرتے رہے – اس میں اعتکاف کرتے رہے – حج والے مناسک بھی یہیں ادا کرتے رہے –
    عرب کے ایک شخص نفیل خشمی سے یہ بات برداشت نا ہوسکی – وہ اس مصنوعی خانۂ کعبہ کے خلاف دل ہی دل میں کڑھتا رہا -آخر اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ابرہہ کی اس عمارت کو گندہ کرکے چھوڑے گا -پھر ایک رات اس نے چوری چھپے بہت سی گندگی اس میں ڈال دی -ابرہہ کو معلوم ہوا تو سخت غضب ناک ہوا کہنے لگا :
    "یہ کاروائی کسی عرب نے اپنے کعبہ کے لیے کی ہے , میں اسے ڈھادوں گا اس کا ایک ایک پتھر توڑدوں گا ”
    اس نے شام و حبشہ کو یہ تفصیلات لکھ دیں , اس سے درخواست کی کہ وہ اپنا ہاتھی بھیج دے – اس ہاتھی کا نام محمود تھا – یہ اس قدر بڑا تھا کہ اتنا بڑا ہاتھی روئے زمین پر دیکھنے میں نہیں آیا تھا – جب ہاتھی اس کے پاس پہنچ گیا تو وہ اپنی فوج لیکر نکلا اور مکہ کا رخ کیا – یہ لشکر جب مکہ کے قرب و جوار میں پہنچا تو ابرہہ نے فوج کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے جانور لوٹ لیے جائیں – اس کے حکم پر فوجیوں نے جانور پکڑ لیے – ان میں عبدالمطلِّب کے اونٹ بھی تھے –
    نفیل بھی اس لشکر میں ابرہہ کے ساتھ موجود تھا اور یہ عبدالمطلِّب کا دوست تھا – عبدالمطلِّب اس سے ملے – اونٹوں کے سلسلے میں بات کی – نفیل نے ابرہہ سے کہا :
    ” قریش کا سردار عبدالمطلِّب ملنا چاہتا ہے یہ شخص تمام عرب کا سردار ہے ” شرف اور بزرگی اسے حاصل ہے – لوگوں میں اس کا بہت بڑا اثر ہے -لوگوں کو اچھے اچھے گھوڑے دیتا ہے, انہیں عطیات دیتا ہے, کھانا کھلاتا ہے- ”
    یہ گویا عبدالمطلِّب کا تعارف تھا – ابرہہ نے انہیں ملاقات کے لیے بلالیا – ابرہہ نے ان سے پوچھا
    ” بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں؟”
    انہوں نے جواب دیا :
    ” میں چاہتا ہوں میرے اونٹ مجھے واپس مل جائیں ”
    ان کی بات سن کر ابرہہ بہت حیران ہوا – اس نے کہا :
    ” مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ عرب کے سردار ہے ” بہت عِزّت اور بزرگی کے مالک ہیں ” لیکن لگتا ہے مجھ سے غلط بیانی کی گئی ہے- کیونکہ میرا خیال تھا آپ مجھ سے بیت اللہ کے بارے میں بات کریں گے جس کو میں گرانے آیا ہوں اور جس کے ساتھ آپ سب کی عِزّت وابستہ ہے – لیکن آپ نے تو سرے سے اس کی بات ہی نہیں کی اور اپنے اونٹوں کا رونا لیکر بیٹھ گئے – یہ کیا بات ہوئی ”
    اس کی بات سن کر عبدالمطلِّب بولے
    "آپ میرے اونٹ مجھے واپس دے دیں بیت اللہ کے ساتھ جو چاہیں کریں ” اس لیے کہ اس گھر کا ایک پروردگار ہے – وہ خود ہی اس کی حفاظت کرے گا – مجھے اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ”
    ان کی بات سن کر ابرہہ نے حکم دیا :
    "ان کے اونٹ واپس دے دیے جائیں ”
    جب انہیں ان کے اونٹ واپس مل گئے ” تو انھوں نے ان کے سموں پر چمڑے چڑھا دیے – ان پر نشان لگادیے – انہیں قربانی کے لیے وقف کرکے حرم میں چھوڑ دیا تاکہ پھر کوئی انہیں پکڑ لے تو حرم کا پروردگار اس پر غضب ناک ہو –
    پھر عبدالمطلِّب حِرا پہاڑ پر چڑھ گئے – ان کے ساتھ ان کے کچھ دوست تھے – انہوں نے اللہ سے درخواست کی :
    "اے اللہ! انسان اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے، تو اپنے سامان کی حفاظت کر۔”
    ادھر سے ابرہہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھا۔وہ خود ہاتھی پر سوار لشکر کے درمیان موجود تھا۔ایسے میں اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ہاتھی بانوں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ اٹھا۔انہوں نے اس کے سر پر ضربیں لگائیں۔آنکس چبھوئے مگر وہ کھڑا نہ ہوا۔کچھ سوچ کر انہوں نے اس کا رخ یمن کی طرف کیا تو وہ فوراً اس طرف چلنے لگا۔اس کا رخ پھر مکہ کی طرف کیا گیا تو پھر رک گیا۔ہاتھی بانوں نے یہ تجربہ بار بار کیا۔آخر ابرہہ نے حکم دیا، ہاتھی کو شراب پلائی جائے تاکہ نشے میں اسے کچھ ہوش نہ رہ جائے اور ہم اسے مکہ کی طرف آگے بڑھاسکیں۔چنانچہ اسے شراب پلائی گئی، لیکن اس پر اس کا بھی اثر نہ ہوا۔

  • خواتین کو وراثت میں حق دیا جائے صدر پاکستان

    خواتین کو وراثت میں حق دیا جائے صدر پاکستان

    صدر عارف علوی سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے وفد کی چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی قیادت میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی، زونل رویت ہلال کمیٹی کے ممبران اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی ہے.
    صدر پاکستان کا کہنا ہے کہ علماء مساجد کے ذریعے لوگوں میں اہم سماجی موضوعات پر اسلام کی تعلیمات واضح کریں، اسلام نے سب سے پہلے خواتین کو وراثت کا حق دیا ہے، علماء وراثت میں خواتین کے حقوق پر مساجد کے ذریعے لوگوں میں آگاہی پیدا کریں، علماء بڑھتی ہوئی آبادی اور صحت کے مسائل کے متعلق لوگوں کو تعلیم دیں، علماء معاشرتی اصلاح اور اخلاقی اقدار کے فروغ کیلئے کام کریں، علماء منبر و محراب کے ذریعے بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیں، علماء نےکورونا کے دوران لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے ،ایس او پیز پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کیا، تمام رویت ہلال کمیٹیوں کو فعال بنانے پر چیئرمین، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے کردار کو سراہا ہے.

  • مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کر لیں.‏تحریر: فاطمہ بلوچ

    مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کر لیں.‏تحریر: فاطمہ بلوچ

    دنیا میں آنے والی ہر ذی روح چیز کو واپس جانا ہے
    چاہے وہ انسان ہو
    چرند پرند ہو
    جانور ہو
    یا کچھ بھی
    سب کو واپس اپنے اللہ پاک کی طرھ لوٹ کر جانا ہے
    پھر وہاں جا کر انسان اور جنات نے اپنے اعمال کا سامنا کرنا ہے ہر ایک نے حساب دینا ہے
    دنیا میں کیا کر کے آئے اور کیا کچھ کمایا
    کمانے سے مراد پیسہ ہی نہیں بلکہ اپنے کمائے ہوئے عمل بھی ہیں
    ہر وہ عمل جو انسان اٹھتے، بیٹھے، چلتے، پھرتے ہر لمحے کرتا ہے اس کا حساب دینا ہو گا
    اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں بار ہا انسان کو اس کی تخلیق کے بارے میں بتایا

    ارشادِ ربانی ہے:
    اور میں نے جن اور انسان اسی لئے پیدا کیے ہیں کہ وہ میری عبادت کریں
    سورۃ الذاریات،آیت56

    ارشادِ الٰہی ہے:اے آدم کی اولاد! ہم نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا (اس کی عبادت نہ کرنا) وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے
    سورہ یٰسین (آیت60،61)

    قرآن مجید میں بہت سی آیات میں انسانوں اور جنوں کو ان کی تخلیق کا بتایا گیا ہے
    انسان کو اللہ پاک نے عبادت کرنے لے لیے بھیجا تو ساتھ مخن نفسانی خواہشات بھی رکھ دی
    جس سے انسانوں اور فرشتوں میں فرق پیدا ہوا
    انسان کو فرشتوں سے اعلی کہا گیا ہے کیونکہ فرشتے صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کوئی خواہش نہیں ہے ان کی جب کہ انسان کی خواہشات بھی ہیں ساتھ ان خواہشات کے باوجود وہ اگر اللہ پاک حکم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر اپنی زندگی گزارنے کی فکر کرتا ہے تو وہ فرشتوں سے اعلی ہو جاتا ہے
    انسان کی 24 گھنٹے کی زندگی عبادت ہے اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر گزارے تو
    مسلمان کا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا سونا جاگنا اگر سنت کے مطابق ہو جائے تو اس کی ساری زندگی عبادت میں گزر جاتی ہے
    آج کا انسان اتنا غافل ہو چکا ہے اس کو پرواہ نہیں عبادات کی
    فرائض کی
    سنتوں کی
    نوافل تو دور کی بات
    انسان اپنے کام کاروبار نوکری میں اتنا مصروف ہو چکا ہے اس کو پرواہ ہی نہیں وہ کیسے گزار رہا ہے زندگی
    انسان کو کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام کاروبار بھی ضروری ہے لیکن وہ ہی کام کاروبار اگر سنت کے مطابق ہو جائیں تو وہ بھی عبادت میں شامل ہو جائیں
    انسان کو مرنے کے بعد کی زندگی کی تیاری بلوغت کی عمر سے شروع کرنی پڑتی ہے
    لیکن اس سے پہلے والدین کی ذمہ داریوں میں شامل ہے وہ بچے کی تربیت ایسی کریں کہ وہ بلوغت کو پہنچنے تک ساری عبادات کا عادی ہو چکا ہو
    وہ اولاد اپنے اور اپنے والدین کے لیے بھی ذریعہ مغفرت بنے
    ہمیں اپنی باقی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنی عبادات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے
    دنیاوی کام کاج ضروریات تو یہاں ہی رہ جانی ہیں ہمیں اصل کام آنے والی جو چیز ہے وہ ہمارے اعمال ہیں جو ہمارے ساتھ قبر میں جائیں گے
    اس لیے ہمیں مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرنی چاہیے
    تاکہ ہم جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والے بن جائیں

  • انسان کیا ہے؟ :تحریر مبین خان

    انسان کیا ہے؟ :تحریر مبین خان

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​

    یاایہا الناس انتم الفقراءالی اللّٰہ واللّٰہ ھو الغنی الحمید (فاطر: ١٥)
    ”لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو، اللہ ہی ہے جو بے نیاز ہے اور آپ اپنی ذات میں حمد کے لائق“۔

    عزیز دوستوں!۔
    فقر بندگی کا ایک زبردست موضوع ہے۔ بلکہ فقر ہی بندگی ہے۔ انسان کیا ہے؟ محتاجیوں اور ضرورت مندیوں کا مجموعہ۔ اپنی یہ حقیقت پہچاننا، اس کا اعتراف اور احساس کرنا بندگی کا ایک زبردست عمل ہے۔ دوسری طرف اللہ کو ہر ضرورت سے بے نیاز اور ہر نقص سے مبرا جاننا اور یوں اللہ کو خود اس کی ذات میں قابل ستائش مان کر اس کی حمد کرنا عبادت کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔

    ان دونوں باتوں میں براہ راست تعلق ہے۔ جس قدر انسان اپنے فقر اور احتیاج کا احساس کرتا ہے اتنا ہی وہ اللہ کی بے نیازی کا معترف ہوتا اور اس کی مطلق حمد کا دم بھرتا ہے۔ جس قدر وہ اللہ کے غنی اور بے نیاز ہونے کی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے اتنا ہی وہ اپنی اور سب مخلوق کی اللہ کے آگے محتاجی اور ضرورت مندی کا معترف ہوتا ہے اور اسی قدر اس پر خالق اور مخلوق کی حقیقت کا یہ فرق واضح ہو جاتا ہے۔ نہ صرف خالق اور مخلوق کا یہ فرق ظاہر ہوتا ہے بلکہ خالق اور مخلوق کا یہ تعلق بھی واضح ہوتا ہے۔ ایک بے نیاز اور دوسرا اس کامحتاج۔ ایک غنی اور دوسرا اس کے در کا فقیر۔

    چنانچہ آدمی کا اپنے آپ کو فقیر اور محتاج جاننا اور اللہ کے غنی اور بے نیاز ہونے کا معترف ہونا ایک محنت طلب کام ہے اور دل کا ایک مسلسل عمل۔

    البتہ انسان بہت جلد بھول جانے والا ہے۔ اِس کی ضرورت پوری ہو تو یہ اپنا فقر بھول جاتا ہے۔ اس کی مراد برآئے تو یہ اپنی یہ حقیقت کہ یہ محتاجیوں کا مجموعہ ہے اس کی نگاہ سے ہی روپوش ہو جاتی ہے۔ ایک شکم سیر کو ’بھوک‘ کا تصور کرنا بہت ہی دشوار ہو جاتا ہے۔ پیٹ بھرا نہیں کہ ضرورت مندی کا تصور ہی چلا گیا! اب جب تک دوبارہ بھوک نہیں لگتی یہ بھلا چنگا ہے! یہ لمحہء حاضر کا اسیر جاہل محظ ہے ظلوم اور جہول۔ تب اس میں تونگری اور بے نیازی آتی ہے جو کہ دراصل اللہ کی صفت ہے اور صفتِ بندگی کے سراسر منافی۔ انسان کا بے نیاز ہونا اور اپنے آپ کو غیر ضرورت مند جاننا دراصل اپنی اوقات بھول جانا ہے۔ یہ دہری جہالت ہے۔ ایک اس کا اپنے آپ کو محتاج نہ جاننا او دوسرا کسی مہربان کے ہاتھوں اپنی ضرورت پوری ہو جانے کو بے نیازی کے مترادف جان لینا۔ جو اپنی صفت سے ناآشنا رہے وہ اللہ کی معرفت بھی کبھی نہیں پاتا۔ اپنی ’بندگی‘ اور ’عاجزی‘ سے ناواقف اللہ کی ’خدائی‘ اور ’بے نیازی‘ کا کیونکر معترف ہوگا! ایسے آدمی کی نگاہ میں ’بندگی‘ اور ’خدائی‘ کے مابین بہت ہی تھوڑا فرق رہ جائے گا جو ممکن ہے کہ پلک جھپکنے میں جاتا رہے۔ شرک کر لینا بھی لوگوں کیلئے تبھی آسان ہو جاتا ہے۔

    اسلامی عبادات ساری کی ساری دراصل اسی فقر کا اظہار ہیں۔ مخلوق کی اسی صفت کا اقرار ہیں۔ بندگی کا ہر عمل اللہ کے غنی مطلق اور لائق حمد ہونے کا اعتراف ہے۔ نماز ہے تو تب دُعا ہے تو تب۔ تسبیح ہے تو تب اور ذکر ہے تو تب۔ سب اسی حقیقت کا اعادہ ہے۔ البتہ روزہ اس حقیقت کا ایک بہت ہی منفرد اظہار ہے۔ روزہ ایک موحد کی زبان پر اس کے اس فقر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روزہ کی صورت میں ایک موحد کا رواں رواں یہ بولتا ہے کہ وہ مجسم احتیاج ہے اور اس ذات کا سدا محتاج جو ہر عیب سے پاک، ہر ضرورت سے بے نیاز، غنی مطلق، لائق حمد اور احد اور صمد ہے اور جس کے آگے ہر مخلوق اپنی ضرورت کیلئے دست سوال درازکرتی اور ایک اسی کے فضل کے سہارے جیتی ہے اور جس کے در کا یوں محتاج ہونا کہ اس کی محتاجی اس کے ماسوا ہر ہستی سے اس کو بے نیاز کردے نہ صرف فضیلت کی بات ہے بلکہ انسان کی اصل دولت اور سرمایہء افتخار ہے۔ پس روزہ ایک انداز کی تسبیح ہے۔ یہ اپنے فقر کا بیان ہے اور خداکے بے عیب اور بے نیاز ہونے کا اقرار اور اس کے فضل کا اعتراف اور اس کی احسان مندی کا اظہار اور اس کی دین پر قناعت اور اس سے مانگنے کا ایک اسلوب۔

    چنانچہ روزہ اس صفت بندگی کا اقرار ہے۔ یہ انسان کے فقر کا بیان ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ بندہ بھوکا ہے _ اور بھوک بندے کی صفت ہے _ جب تک کہ اللہ اس کو نہ کھلائے اور یہ کہ پاکی اور تعریف اس کی جو اس کی اس بھوک کا علاج اپنے پاکیزہ رزق سے کرتا ہے اور یہ کہ تعریف اس کی تب بھی جب بندہ بھوکا ہو اور تعریف اس کی تب بھی جب بندہ اس کا رزق کھائے اور اس رزق سے اپنی بھوک اور پیاس بجھائے۔ سو یہ ایک بے لوث تعلق ہے۔ گو یہ ایک محتاج اور ایک غنی کا تعلق ہے اور گو یہ اس کے فضل کا ہر دم سوالی ہے مگر اس کو یہ ظرف بھی نصیب ہوا ہے کہ اِس کیلئے اُس کی تعریف کرنا کچھ پیٹ بھرنے پر موقوف نہیں! سبحان اللہ روزہ کیسی خوبصورت عبادت ہے! اللہ کی تسبیح، اللہ کی بندگی، اللہ کی حمد اور اللہ کی فرمانبرداری کچھ اِس کی شکم سیری پر منحصرنہیں۔ یہ بھوکا رہ کر بھی اس کی ویسی ہی حمد اور تعریف کرے گا جیسی کہ شکم سیر ہو کر۔

  • نظام المدارس پاکستان نے دینی مدارس کے نصاب پر سوال اٹھا دئے؟

    نظام المدارس پاکستان نے دینی مدارس کے نصاب پر سوال اٹھا دئے؟

    نظام المدارس پاکستان کے زونل صدور اور ضلعی کوارڈینیٹرز کا اہم اجلاس نظام المدارس پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ میں صدر نظام المدارس پاکستان علامہ مفتی امداد اللہ قادری کی زیر صدارت منعقد ہوا ہے، اتفاق علماء نے مدارس کے ذمہ داران کی طرف سے رجسٹریشن اور نصاب پر نظرثانی پر متنازعہ وقف املاک ایکٹ پر نظر ثانی کا موقف منظور کروانے پر شکریہ ادا کیا ہے، مفتی امداد اللہ قادری، خرم نوازگنڈاپور،علامہ میر آصف اکبر،علامہ عین الحق بغدادی نے اجلاس سے خطاب کیا ہے، اس میں کہا فیا کہ مدارس دینیہ کے طلباء کو جدید سائنسی علوم بھی پڑھانا ہوں گی، مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صرف رجسٹرڈ مدارس اور بورڈز کو اسناد جاری کرنے کا اختیار ہونا چاہیے، اجلاس میں علمائے کرام نے متفقہ اعلامیہ منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ”مدارس دینیہ کی رجسٹریشن اور نصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے ریاستی سطح پر بروئے کار آنے والے اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ مدارس کی رجسٹریشن کو 100 فیصد یقینی بنایا جائے کسی کو ضوابط کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ سیاست اور فرقہ واریت میں ملوث مدارس کے حوالے سے ریاست زیروٹالرینس کی پالیسی اختیار کرے، حکومت رجسٹرڈ مدارس کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اساتذہ کی جدید تدریسی خطوط پر کورسز میں مدد دے، مدارس دینیہ کے مختلف سطح کے تعلیمی پروگرامز کی تکمیل پر اسناد کے اجراء کا اختیار صرف قانونی تقاضے پورے کرنے والے بورڈز کو ہونا چاہئے“۔
    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نظام المدارس پاکستان کے نائب صدر خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ مدارس دینیہ کے طلباء کو روایتی گردانیں رٹانے کی بجائے انہیں جدید سائنسی،معاشی، معاشرتی مسائل کا حل بھی دینا ہو گا تاکہ وہ اسلام اور پاکستان کے سفیر بن کر پوری دنیا میں اسلام کا پرامن اور علمی تشخص اجاگر کر سکیں۔ نیم خواندہ علماء اسلام کی غلط تعبیریں کر کے اسلام کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو دین سے دور کررہے ہیں۔ نظام المدارس پاکستان کے صدر علامہ مفتی امداد اللہ قادری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نصاب پر نظر ثانی کے تمام مراحل میں خصوصی سرپرستی کرنے پر ہم شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے مشکور ہیں۔مدارس دینیہ کا اڑھائی سو سالہ پرانا نظام ذہین طلباء کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کررہا ہے۔ نصاب پر نظر ثانی کے مخالفین نسلوں کے ساتھ ظلم کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں اور انہیں علم و ادب اور تعمیر و ترقی کے مرکزی دھارے سے کاٹ رہے ہیں۔ ایسے تمام علماء اپنے احوال پر نظر ثانی کریں اور امت پرترس کھائیں۔
    نظام المدارس پاکستان کے ناظم اعلیٰ علامہ میر آصف اکبر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نظام المدارس پاکستان نے حکومت کو متنازعہ وقف ایکٹ پر نظر ثانی پر آمادہ کر کے علماء و مشائخ کا ایک اہم مطالبہ منوایا۔ انہوں نے کہا کہ نظام المدارس مدارس دینیہ کی ایک مضبوط آواز بن چکا ہے۔
    نظام المدارس پاکستان کے کنٹرولر امتحانات علامہ عین الحق بغدادی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مدارس دینیہ کے نصاب پر نظر ثانی کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ان شاء اللہ اس میں کامیاب ہوں گے۔ نظام المدارس کی تعلیمی پالیسی مقابلہ نہیں موازنہ اور مکالمہ ہے۔ ہمارا مقصد ایک دین دار تعلیم یافتہ نسل پروان چڑھانا ہے۔ نظام المدارس کا نصاب عصری تقاضوں کے مطابق ہے۔ مدارس دینیہ کے ساتھ مشاورت کر کے آگے بڑھیں گے۔اجلاس میں علامہ محمد اشفاق علی چشتی، علامہ محمداسلم صابری، پروفیسر ثمر عباس، علامہ خلیل احمد قادری، مفتی غلام اصغر صدیقی، مفتی رفیق قادری رندھاوا، مفتی شہزاد احمد سجاد، علامہ پروفیسر آصف شہزاد جماعتی، علامہ محمد شہزاد تبسم، علامہ مفتی خلیل احمد حنفی، علامہ گل محمد چشتی، علامہ پروفیسر اشتیاق حبیب، قاری رحمت اللہ عصمت نے بھی اظہارخیال کیا ہے.