Baaghi TV

Category: مذہب

  • گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کیسے ممکن ہے   بقلم  عبدالرحمان محمدی

    گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کیسے ممکن ہے بقلم عبدالرحمان محمدی

    گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کیسے ممکن ہے

    بقلم
    عبدالرحمان محمدی

    اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا
    بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا۔
    الأحزاب – آیت 57

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات مبارکہ امت مسلمہ کے دلوں کی دھڑکن ہے اور آپ سے محبت رکھنا ایمان کا جزو لازم ہے آپ کی ذات مبارکہ پر ہونے والے ہر حملہ کو روکنا امت مسلمہ کے ایک ایک فرد کی اہم ترین ذمہ داری ہے خواہ اس کے لیے تن من دھن کی بازی لگانا پڑے

    نہ جب تک کٹ مروں رسول اللہ کی حرمت پر
    خدا شاہد ہے ،کامل مرا ایماں ہو نہیں سکتا

    حرمت رسول کی پہرے داری کے لیے چند اھم امور مد نظر رکھنا ضروری ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دنیا کی ہر چیز سے عزیز سمجھا جائے حتی کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر آپ سے محبت کی جائے

    حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں
    آپ نے فرمایا
    لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
    (بخاري ،كِتَابُ الإِيمَانِ،بَابٌ: حُبُّ الرَّسُولِ ﷺ مِنَ الإِيمَانِ15)
    کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والدین اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں…

    محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
    جو ہو اس میں خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات مبارکہ کا ہر فورم پر دفاع کیا جائے

    جب کبھی اور جہاں کہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حرمت و ناموس پر کیچڑ اچھالنے یا حملہ کرنے کی کوشش ہو فی الفور ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اسی جگہ آپ کا دفاع کیا جائے

    ایک مثال

    صلح حدیبیہ کے موقع پر عروہ رضی اللہ عنہ نے (اس وقت تک وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کے نمائندے بن کر آئے تھے) کہا ۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !

    اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب ہوئے تو میں خدا کی قسم تمہارے ساتھیوں کا منہ دیکھتا ہوں اس وقت یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور آپ کو تنہا چھوڑ دیں گے ۔
    تو اسی لمحے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا
    امْصُصْ بِبَظْرِ اللَّاتِ أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ
    (بخاري ،كِتَابُ الشُّرُوطِ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الجِهَادِ وَالمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الحَرْبِ وَكِتَابَةِ الشُّرُوطِ،2732)

    جاؤ جا کر لات کی شرمگاہ چوسو کیا ہم اپنے نبی کو یونہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے

    عروہ نے پوچھا کون صاحب ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ عروہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تمھارا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتاجس کا اب تک میں بدلہ نہیں دے سکا ہوں تو تمہیں ضرور جواب دیتا ۔

    دوسری مثال

    وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگوکرنے لگے اور گفتگو کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک پکڑ لیا کرتے تھے ۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے‘ تلوارلٹکائے ہوئے اور سر پر خود پہنے ۔
    فَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ وَقَالَ لَهُ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ… (بخاری كِتَابُ الشُّرُوطِ، بَابُ الشُّرُوطِ فِي الجِهَادِ وَالمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الحَرْبِ وَكِتَابَةِ الشُّرُوطِ،2732)
    عروہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی طرف اپنا ہاتھ لے جاتے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ تلوار کی نوک کو ان کے ہاتھ پر مارتے اور ان سے کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ الگ رکھ ۔

    کفار کے سامنے محبت رسول کا خوب اظہار کیجئے

    کفار کے سامنے محبت رسول اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے معاملے میں ذرہ برابر بھی لچک اور کمپرومائز کا رویہ مت اپنایا جائے تاکہ انہیں یہ میسج پہنچے کہ مسلمان قوم کسی بھی چیز پر سمجھوتہ کر سکتی ہے مگر حرمت رسول پر بلکل کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

    اس کی ایک مثال صلح حدیبیہ کے اسی واقعہ میں موجود ہے جب قریش کے نمائندے عروہ رضی اللہ عنہ گھور گھور کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی نقل و حرکت دیکھتے رہے ۔
    اس نے دیکھا کہ اگر کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اپنے ہاتھوں پر اسے لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا ۔ کسی کام کا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کی بجا آوری میں ایک دوسرے پر لوگ سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے لگے تو ایسا معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر لڑائی ہوجائے گی ( یعنی ہر شخص اس پانی کو لینے کی کوشش کرتا تھا ) جب آپ گفتگو کرنے لگے تو سب پر خاموشی چھاجاتی ۔ آپ کی تعظیم کا یہ حال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی نظر بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے ۔

    عروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے صحابہ کی یوں والہانہ محبت دیکھی تو بہت مرعوب ہو کر واپس پلٹا اور اپنی قوم کے حوصلے پست کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایسی محبت کہیں نہیں دیکھی
    أَيْ قَوْمِ وَاللَّهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ وَكِسْرَىوَالنَّجَاشِيِّ وَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدًا
    (بخاری كِتَابُ الشُّرُوطِ
    بَابُ الشُّرُوطِ فِي الجِهَادِ وَالمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الحَرْبِ وَكِتَابَةِ الشُّرُوط،2732)
    اے میری قوم کے لوگو ! قسم اللہ کی ‘ میں بادشاہوں کے دربار میں بھی وفد لے کر گیاہوں‘ قیصروکسریٰ اور نجاشی سب کے دربار میں لیکن اللہ کی قسم میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے ساتھ اس کی اس درجہ تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کی تعظیم کرتے ہیں ۔ قسم اللہ کی اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوک دیا تو ان کے اصحاب نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اگر کوئی حکم دیا تو ہر شخص نے اسے بجا لانے میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر وضو کیا تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو پر لڑائی ہوجائے گی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب گفتگو شروع کی تو ہر طرف خاموشی چھا گئی ۔ ان کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے ۔

    دوسری مثال
    خبیب رضی اللہ عنہ کو جب سولی چڑھاتے وقت ابو سفیان نے کہا کہ اگر آج آپ کی جگہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو سولی دی جائے اور آپ بچ جائیں تو آپ کو کیسا لگے گا تو انہوں نے فوراً اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ میں تو یہ بھی نہیں پسند کرتا کہ میری جان کے بدلے ان کے پاؤں میں کانٹا چھبے اور انہیں تکلیف ہو
    الرحیق المختوم 397

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی عادات وسنن سے محبت کی جائے

    جس سے کفار کو یہ میسج جائے گا کہ جانثاران محمد حرمت رسول کی پامالی کبھی برداشت نہیں کر سکتے

    اگر ہم خود آپ کی سنتوں کو تضحیک کا نشانہ بنائیں گے تو غیروں سے شکوہ کس بات کا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی جن سنتوں سے کفار کو چڑ یا خوف ہو وہ بڑھ چڑھ کر اپنائی جائیں
    مثال کے طور پر
    داڑھی سے کفار چڑتے ہیں
    برقعہ اور پردہ سے سیخ پا ہوتے ہیں
    زنا سے خوش اور شادیوں سے غصہ میں آتے ہیں
    لہذا
    داڑھی رکھی جائے، اپنی عورتوں کو پردہ کروایا جائے، ایک سے زائد شادیوں کا کلچر اپنایا جائے

    جیسا کہ مدینہ کے یہود آمین بالجہر اور سلام سے چڑتے تھے تو آپ نے ان پر خصوصی توجہ مرکوز کی

    جب امت سنت رسول ﷺ کو اپنائے گی تب ہی امت رسول اللہ ﷺ کی محبت کا حق ادا کرے گی ۔ یہی امت کی قوت ہے اور اسی سے دشمن کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے

    لیکن افسوس ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت کو خود ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا (داڑھی والا) چہرہ پسند نہیں ہے تو پھر کفار سے نالاں ہونے کی کیا ضرورت ہے

    سیرت النبی کا پیغام دنیا میں ہر طرح کے وسائل سے پھیلایا جائے

    اہانت کرنے والوں کا مقصد ذاتِ نبوی سے لوگوں کو بیزار کرنا ہے تاکہ اسلام کی بڑھتی مقبولیت کے آگے بند باندھا جاسکے، لیکن آپ کی سیرت اورپیغام کی اشاعت ان کے مذموم ارادوں کو خاک میں ملادے گی۔

    قلم وقرطاس کے ذریعے سرور کونین کی سیرت کے سنہرے نقوش دور دور تک پہنچائے جائیں مثلاً بینرز ، سٹیکرز، پوسٹر، مضامین، خطوط، ای میل، میڈیا کو فون وغیرہ، غرض ہر ذریعہ کو استعمال میں لایا جائے۔ اس ابلاغی مہم کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ عالم کفر کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے اور وہ جارحانہ انداز کی بجائے دفاعی پوزیشن میں چلے جائیں گے

    حافظ قمر حسن حفظہ اللہ تعالی لکھتے ہیں
    "اس سلسلے میں اہم ترین اقدام یہ ہے کہ تراجم کے ذریعے سے فرانسیسی زبان میں زیادہ سے زیادہ اسلامی لٹریچر فراہم کیا جائے۔ حکومتوں اور اداروں کی سطح پر مترجمین کی ٹیمیں تیار کی جائیں جو بالخصوص ان مغربی زبانوں میں حدیث و سیرت کی کتابوں کا ترجمہ کریں جن میں اسلامی لٹریچر نہ ہونے کے برابر ہے۔
    ان میں فرانسیسی،جرمن،اطالوی،روسی اور ہسپانوی زبانیں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان زبانوں میں کم سے کم قرآن مجید، صحاح ستہ،تفسیر ابن کثیر اور سیرت ابن ہشام وغیرہ کا ترجمہ کیا جانا ضروری ہے۔
    تراجم کا یہ سلسلہ اہل مغرب کے لیے پیغمبر اسلام کے مقام و مرتبہ سے آگاہی کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو گا”۔

    گستاخانہ خاکوں کے مد مقابل، سیرت النبی کے موضوع پر انٹرنیشنل سطح پر تحریری و تقریری مقابلہ جات رکھے جائیں

    ان مقابلہ جات میں غیر مسلم سکالرز کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے اول نمبروں پر آنے والے پوزیشن ہولڈرز کو قیمتی ورلڈ کپ سے نوازا جائے اور اس کے لیے نوبل پرائز کی بجائے محمدی یا اسلامک پرائز کی اصطلاح متعارف کروائی جائے اور یہ مقابلے اتنے زور و شور اور دھوم دھام سے ہوں کہ گستاخانہ خاکوں کی آواز ان کے نیچے ہی دب کر رہ جائے

    اور پھر پہلے نمبروں پر آنے والی کتب کا خوب چرچا کیا جائے
    جیسا کہ( الرحیق المختوم )اشاعتِ سیرت النبی کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے

    علماء کرام اپنے خطبات، مواعظ اور دروس وغیرہ میں حرمت رسول سے متعلق آگاہی مہم جاری کریں

    علماء ورثۃ الأنبياء ہیں اور وارث کی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنےمورث کا دفاع کرے علماء کرام ہی اس وراثت کے داعی، امین اور محافظ ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دین میں فقاہت کی بصیرت سے نوازکر اُمت کے منتخب شدہ افراد ہونے کی سند ِتصدیق عطا کی ہے، انہیں پر بطورِ خاص اُمت ِمسلمہ کے نمائندے اور وراثت ِ رسول کے امین ہونے کے ناطے یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ایسے المناک مراحل پر ملت ِاسلامیہ میں احساس وشعور بیدار کرنے میں کوئی کمی نہ روا رکھیں تاکہ اُمت من حیث المجموع اپنے فرائض کو بجا لانے پر کمربستہ ہوجائے

    جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالٰی نے اپنے دور کے عوام الناس کو اپنی مایہ ناز کتاب( الصارم المسلول علی شاتم الرسول )کے ذریعے اس مہم سے آگاہ کیا تھا

    ایسے مواقع پر خطابات و مواعظ سے کچھ نہ بھی بن پڑا تو دین سے دور ہوتی نسل تک اپ کا پیغام ہی پہنچ جائے گا۔ کچھ بعید نہیں کہ اللہ پاک ان مواعظ ہی کو خیر کا دروازہ بنا دیں

    سوشل میڈیا پر مہم

    سوشل میڈیا پر حرمت رسول اور دفاع ناموس رسالت کی زبردست مہم جاری کی جائے سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے موضوع پر تحاریر، تقاریر، پوسٹس اور اپنے جذبات کا اظہار اس قدر شدت سے کیا جائے کہ گستاخانہ خاکے نیچے ہی دب جائیں

    سوشل میڈیا ہم میں سے اکثریت کی رسائی میں ہے تو کیا ہم ایک طاقت بن کر ان گستاخانہ خاکوں کے چھپنے سے پہلے کچھ ایسا نہیں کر سکتے کہ جس سے یہ شیطانی حرکت روکی جا سکے؟ ۔

    اگر قیامت کے روز سوال ہوا کہ ’’جب سوشل میڈیا پر اللہ کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کھُلے عام انتہائی غلیظ باتیں ہو رہی تھیں تو تم نے اس معاملے میں کیا کردار ادا کیا‘‘؟۔ تب جواب کیا یہ ہوگا کہ ’’اُس وقت فیس بک پر سو لفظی کہانیاں لکھی جا رہی تھیں ، اشعار پوسٹ کیے جا رہے تھے سیاست پر بات ہو رہی تھی ، الیکشن زیرِ بحث تھے یا یہ کہ اس معاملے میں صرف حکومت ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو کردار ادا کرنا چاہیے تھا جو انہوں نے نہیں کیا‘‘۔

    جہاد بالقلم کا حصہ بنیں، اس شیطانی مہم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ یہ ہی وقت ہے کہ جب سوشل میڈیا کو صرف تفریح اور وقت گزاری کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنی آخرت سنواری کے لیے استعمال کیا جائے کیونکہ ہم تو آج ہیں کل شاید نہ بھی رہیں لیکن کسے معلوم کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کو رکوانے کی ہماری یہ چھوٹی سی کوشش ، ہمارے یہ چند الفاظ ہی ہمارے لیے توشہ آخرت بن جائیں

    اپنے جماعتی امراء، قائدین اور محبوب لیڈرز سے بڑھ کر رسول اللہ کا درد محسوس کیا جائے

    حرمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا درد ایسے محسوس کیا جائے جیسے اپنی جماعت کے امیر کا درد محسوس کیا جاتا ہے

    اگر ہمارے جماعتی اکابرین پر کوئی حرف گیری کرے تو ہم مناظرے مباہلے اور دست و پا ہونے تک کے تمام مراحل اتفاقی مشاورت کے ساتھ خوش اسلوبی سے طے کر لیتے ہیں۔عزیزان گرامی یہ تو ایمان کا حصہ ہے۔ اگر یہ امر اس سے اہم نہ ہوا تو ہم کل رب کو کیا جواب دیں گے جو حجرے سے باہر پکارنے کی بھی ممانعت نازل کرنے والا ہے

    جس طرح ن لیگ والے نواز شریف کے خلاف
    پی ٹی آئی والے عمران خان کے خلاف
    جے یو آئی والے مولانا فضل الرحمن کے خلاف
    اور ہر جماعت کے کارکنان اپنے اپنے امراء کے خلاف
    کوئی بات سننے کو تیار نہیں اور کبھی سن لیں تو فوراً سیخ پا ہو جاتے ہیں
    لیکن
    آخر کیا وجہ ہے کہ اسی طرح کے جذبات ساری کائنات سے زیادہ عزیز ذات گرامی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق نہیں ہوتے❓

    امت مسلمہ متحد و یک جان ہو

    گستاخانہ خاکے روکنے اور ان کے خلاف مؤثر آواز پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امت مسلمہ باہمی اتفاق و اتحاد پیدا کرے جب تک ہم اندرونی اختلافات و انتشارات کا شکار رہیں گے تب تک ہم کفار کو ان حرکتوں سے باز نہیں رکھ سکتے

    جب عبداللہ بن ابی رئیس المنافقين نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں
    ( ليخرجن الأعز منها الأذل )کہہ کر گستاخی کی اور انصار و مہاجرین کو باہم دست و گریباں کرنے کی کوشش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کو متحد رکھنے کے لیے کہا اس( باہم لڑائی )کو چھوڑ دو یہ بدبودار ہے

    پھر آپ نے خلاف معمول وقت میں کوچ کا حکم دیا، صبح سے شام، شام سے صبح اور صبح سے دوپہر تک مسلسل چلتے رہے، جب لوگوں کو خوب تکلیف ہونے لگی تو آپ نے پڑاؤ ڈالا، لوگ زمین پر جسم رکھتے ہی سو گئے، آپ کا مقصد بھی یہی تھا کہ اگر انہیں سکون سے بیٹھ کر گپ لڑانے کا موقع مل گیا تو باہمی جھگڑے کی آگ پھر سے بھڑک اٹھے گی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گستاخ رسول عبداللہ بن ابی اپنے ناپاک منصوبے میں خوب ناکام رہا

    اتحاد کے بغیر اسلام کا رعب غیرمسلموں پر طاری نہیں ہوسکتا۔ جس طرح غیر مسلم، پورا یورپ اور مغربی میڈیا یک جہتی سے گستاخوں کی حمایت پر کمربستہ ہیں اس مسئلہ کا مداوا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک مسلمانوں میں باہمی مؤاخات کو پروان نہ چڑھایا جائے۔

    اسی سلسلے میں او آئی سی، اسلامی سربراہی کانفرنس کے فوری ہنگامی اجلاس منعقد کیے جائیں اور متحد ہو کر گستاخوں پر پریشر ڈالا جائے

    گستاخوں کی سرکوبی کے لیے حکومت وقت سے مطالبہ کیا جائے

    ملک بھر میں پرزور مگر پرامن تحریک چلا کر اپنی حکومت کو اپنے درد اور جذبات سے آگاہ کریں، علماء و مشائخ اور سرکردہ لوگوں کے وفود بنا کر وزیراعظم سے ملاقات کی جائے اور انہیں اس معاملے میں ٹھوس اقدامات کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے

    جیسا کہ صحابی رسول سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے جب عبداللہ بن ابی کی زبان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی گستاخی کے جملے سنے تو فوراً اپنے چچا کو پوری بات کہہ سنائی اور ان کے چچا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اطلاع دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ عباد بن بشر سے کہیے کہ عبداللہ بن ابی کو قتل کردیں پھر اللہ تعالٰی نے زید کی تصدیق میں قرآن کی آیات نازل کیں…
    بخاری

    تاریخ اسلام میں ایسے دسیوں واقعات موجود ہیں کہ جب لوگوں نے آ آ کر حاکم وقت کو مختلف گستاخوں سے متعلق آگاہ کیا اور پھر ان گستاخوں کو لگام ڈالی گئی

    مسلم حکمران دفاع حرمت رسول کو اپنے بنیادی فرائض اور اولین ترجیحات میں شامل کریں

    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبارک میں جب آپ کی اہانت کی جاتی تو آپ اپنے صحابہؓ سے بذات خود یہ مطالبہ کیا کرتے کہ ’’کون ہے جو میرے اس دشمن کا جواب دے…؟

    یہ مطالبہ ایک بار آپﷺنے کعب بن اشرف کے بارے میں کیا کہ کون ہے جو کعب کو قتل کرے کیونکہ وہ اللہ اور اسکے رسول کو تکلیف پہنچاتا ہے
    مَنْ لِکَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّہُ قَدْ آذٰی اﷲَ وَرَسُولَہُ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بن مسلمة فقال: یا رسول اﷲ أتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَہٗ۔ قَالَ: نَعَمْ
    (صحیح مسلم:۴۶۴۰)
    آپ نے فرمایا کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا گا کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے
    محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اللہ کے رسول کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کروں
    تو آپ نے فرمایا(ہاں)

    ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جنگ خیبر میں ایک دشمن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی
    تو آپ نے فرمایا کہ میرے دشمن سے کون نمٹے گا؟
    اس پر زبیر آگے بڑھے، اسے للکارا اور پھر اسے قتل کر دیا۔
    (مصنف عبد الرزاق، ۹۷۰۴)

    الغرض دورِ نبویؐ میں نبی اکرمﷺ خود صحابہ کرام کو متوجہ کیا کرتے اور صحابہؓ نے آپ کی پکار کے نتیجے میں ان گستاخانِ رسالت کو کیفر کردار تک پہنچایا

    آج بھی عمران خان، شاہ سلمان اور طیب اردگان کی طرف اعلان ہونا چاہئے کہ( کون ہے جو ان گستاخانہ کارٹونز کے ذمہ داران) کو قتل کرے کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے

    مسلم نوجوان گستاخوں کی سرکوبی کے لیے اپنے آپ کو مسلم حکمران کے سامنے پیش کریں

    جیسا کہ عبداللہ بن ابی کے بیٹے سیدنا عبداللہ نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے پیش کیا تھا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اپنے باپ کو قتل کرنے کے لیے تیار ہوں کیونکہ اس نے آپ کی گستاخی کی ہے
    رحیق 451

    اسی طرح زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا
    فَقَالَ: مَنْ یَّکْفِینِي عَدُوِّي؟
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے دشمن کے مقابلے میں کون کافی ہوگا
    فَقَالَ الزُّبَیرُ: أَنَا
    زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا (میں)
    (مصنف عبد الرزاق : رقم۹۴۷۷)

    اسی طرح خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ یَّکْفِینِي عَدُوِّي؟
    فَخَرَجَ إِلَیْہَا خالد بن الولید فَقَتَلَہا (ایضاً: رقم۹۷۰۵)

    جب بھی کفار کی طرف سے توہین رسالت اور گستاخانہ خاکوں کا اعلان ہو تو مصلحت اور بزدلی کی چادر اوڑھنے کی بجائے اعلان کا جواب بھرپور اعلان سے دیا جائے

    ایک موقع پر آپ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے آپ کی ہجو کرنے والوں کو جواب دو
    یا حَسَّان أجِبْ عن رَّسُوْل اﷲ،اللّٰہم أیِّدْہ بروح القدس
    (صحیح مسلم:۴۵۳)
    احسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دے (اور پھر دعا کی) اے اللہ روح القدس کے ذریعے حسان کی مدد فرما

    اسی طرح غزوہ احد کے موقع پر ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے جب( یہ گمان کرتے ہوئے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم قتل کر دیے گئے ہیں)کہا تھا کہ محمد سے جان چھوٹ گئی تو فوراً عمر رضی اللہ عنہ نے کرارا جواب دے کر انہیں خاموش کروایا تھا
    رحیق 378

    آج بھی مسلم حکمرانوں اور عہدیداروں کی طرف سے بھرپور جوابی بیانات ریکارڈ ہونے چاہئیں

    جہاد فی سبیل اللہ، گستاخوں کو نکیل ڈالنے کے لئے بہترین اور بہت زیادہ کارگر نسخہ جہاد فی سبیل اللہ ہے جس سے آئمۃ الکفر کی گردنوں سے سریا نکلتا اور ان کا پتہ پانی ہوتا ہے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَاِنۡ نَّكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ وَطَعَنُوۡا فِىۡ دِيۡـنِكُمۡ فَقَاتِلُوۡۤا اَٮِٕمَّةَ الۡـكُفۡرِ‌ۙ اِنَّهُمۡ لَاۤ اَيۡمَانَ لَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَنۡتَهُوۡنَ
    اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ بیشک یہ لوگ، ان کی کوئی قسمیں نہیں ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں۔التوبة – آیت 12

    اور فرمایا
    اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ وَهَمُّوۡا بِاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ وَهُمۡ بَدَءُوۡكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ‌ ؕ اَتَخۡشَوۡنَهُمۡ‌ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ
    کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انھوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔ التوبة – آیت

    معاذ اور معوذ رضی اللہ عنہ نے جہاد کے میدان میں گستاخ رسول ابوجہل کو قتل کیا تھا

    گستاخوں کی سرکوبی کے لیے مجاہدین کے دستے تشکیل دیے جائیں

    گستاخوں کی نازک رگ اور کمزورپوائنٹس کو استعمال کیا جائے

    پاکستان حکومت اعلان کرے کہ پاکستان سے افغانستان جانے والی نیٹو سپلائی بند کر دی جائے گی

    افغانستان میں حرمت رسول آپریشن کے نام پر امریکیوں اور یورپین فوجیوں کے خلاف کاروائیاں تیز تر کردی جائیں

    پھر دیکھنا ان شاء اللہ أن لوگوں کو جلد نانی یاد آجائے گی اور کبھی بھی ایسی حرکتیں کرنے کا نہیں سوچیں گے

    مصنوعات اور معاشی بائیکاٹ کیا جائے

    یورپی ممالک بالخصوص فرانس کی مصنوعات کاکلی بائیکاٹ کرنا۔ ایسی چیزوں کی فہرستیں تلاشِ بسیار کے بعد شائع کی جائیں اور اقتصادی میدان میں بھی اپنا شدید احتجاج سامنے لایا جائے

    جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بنو نضیر کے درخت کاٹ کر انہیں معاشی طور پر ذلیل و خوار کیا تھا
    مَا قَطَعۡتُمۡ مِّنۡ لِّيۡنَةٍ اَوۡ تَرَكۡتُمُوۡهَا قَآٮِٕمَةً عَلٰٓى اُصُوۡلِهَا فَبِاِذۡنِ اللّٰهِ وَلِيُخۡزِىَ الۡفٰسِقِيۡنَ
    جو بھی کھجور کا درخت تم نے کاٹا، یا اسے اس کی جڑوں پر کھڑا چھوڑا تو وہ اللہ کی اجازت سے تھا اور تاکہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے۔
    الحشر – آیت 5

    رسول اکرمؐ نے ہجرت کے بعد قریش کے تجارتی قافلہ کو روکنے کا فیصلہ کیا تھا

    اسی طرح آپ نے خیبر اور طائف کے قلعوں کا محاصرہ کیا تھا

    انصار کے سردار حضرت سعد بن معاذ نے مکہ والوں سے کہا تھا کہ اگر تم نے مجھ سے تعرض کیا تو میرا قبیلہ تمہارے تجارتی قافلوں کا شام کی طرف آنا جانا بند کر دے گا۔

    بنو حنیفہ قبیلے کے سردار ثمامہ بن اثالؓ نے اپنے علاقہ کے لوگوں کو مکہ مکرمہ پر گندم فروخت کرنے سے روک دیا تو قریش کے بعض سرداروں نے آنحضرتؐ کو ’’صلہ رحمی‘‘ کا واسطہ دے کر یہ پابندیاں ختم کرانے کے لیے کہا چنانچہ حضورؐ کی ہدایت پر یہ پابندیاں ختم کر دی گئیں۔

    حضرت ابوبصیرؓ اور ان کے ساتھیوں نے قریش کا تجارتی راستہ غیر محفوظ کر دیا، جس سے مجبور ہو کر قریش نے معاہدہ حدیبیہ واپس لے کر یہ ’’ناکہ‘‘ ختم کروایا۔

    ’’معاشی جنگ‘‘ کے یہ مختلف پہلو بھی جہاد کا حصہ ہیں اور سنت نبویؐ ہیں، اس لیے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اسی جذبہ کے ساتھ فرانس بلکہ پورے یورپ کا معاشی بائیکاٹ کریں

    پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں موجود عیسائی کمیونٹی کو استعمال کیا جائے

    اس کی ایک صورت تو یہ ہو سکتی ہے کہ ان لوگوں کے ذریعے یورپی و امریکی حکمرانوں تک پیغام ارسال کیے جائیں کہ ہم لوگ جب مسلم ممالک میں بلا خوف و خطر رہ رہے ہیں تو تمہیں بھی مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے ایسی حرکات سے باز رہنا چاہئے

    دوسری صورت یہ کہ مسلم حکمران ان لوگوں کو بطور ہتھیار استعمال کریں
    جیسا کہ قسطنطنیہ کی دیوار کے قریب مدفون صحابی رسول سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر اور نعش کی بے حرمتی کے متعلق جب عیسائیوں نے پروگرام بنایا تو مسلمانوں کے امیر یزید رحمہ اللہ نے عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ( اگر کوئی گستاخی تمہاری طرف سے روا رکھی گئی تویادرکھو اسلام کی وسیع الحدود حکومت میں کہیں ناقوس نہ بچ سکے گا)

    عیسائی ملکوں میں موجود أحبار و رھبان، قسیسین و عوام کو استعمال کیا جائے

    سب عیسائی متشدد اور اسلام سے سخت متنفر نہیں ہیں، عیسائیوں میں اچھی اور سلجھی طبیعت کے بہت سے احبار و رھبان اور عوام پائے جاتے ہیں

    جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے
    وَلَـتَجِدَنَّ اَ قۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى‌ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ‏
    اور یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، ان میں سے دوستی میں سب سے قریب ان کو پائے گا جنھوں نے کہا بیشک ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ بیشک ان میں علماء اور راہب ہیں اور اس لیے کہ بیشک وہ تکبر نہیں کرتے۔
    المائدة – آیت 82

    لہذا اس طرح کے عیسائی عوام و علماء کی خدمات لیتے ہوئے ان کے ذریعے ایسے عناصر کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جا سکتے ہیں

    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ والوں کے خلاف مکہ کے اندر سے ہی مطعم بن عدی سے تعاون لیا تھا

    اسی طرح آپ نے حبشہ کے عیسائی بادشاہ نجاشی سے تعاون لیا تھا

  • فرانس کی گستاخیوں کی وجوہات کیا ہیں؟؟؟  از قلم غنی محمود قصوری

    فرانس کی گستاخیوں کی وجوہات کیا ہیں؟؟؟ از قلم غنی محمود قصوری

    کفار ازل سے ہی مسلمانوں کے دشمن ہیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اسی لئے نبی کریم نے فرما دیا کہ
    الکفر ملت واحدہ
    یعنی کفر ایک جماعت ہے
    مذہب اسلام اس وقت دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور اس کی موجودہ آبادی دنیا کی کل آبادی کا 23 فیصد ہے اور کرہ ارض پر اس وقت 57 اسلامی ممالک ہیں جن کے پاس اپنی فوجیں،معدنی ذخائر اور بیش بہاء نعمتیں ہیں مگر پھر بھی آج مسلمان ہی پستی کی جانب جا رہے ہیں
    کافر جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی کام کرتے ہیں یک جان اور اپنے اپنے مذاہب سے بالاتر ہو کر کرتے ہیں
    نائن الیون کی بعد اور خصوصی اس وقت دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہی ہے جس سے کافر کافی پریشان ہیں اور آئے روز مذہب اسلام کے خلاف غلیظ حرکتیں کرتے رہتے ہیں
    دین اسلام میں اللہ کے بعد مقام پیغمبر امن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور ہر ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کو بھی پیغمبر امن محمد کریم کی ناموس اپنی جان سے زیادہ قیمتی ہے مسلمان اپنا جانی مالی نقصان تو برداشت کر لیتا ہے مگر توہین رسالت کبھی برداشت نہیں کرتا کیونکہ شان رسالت کی خاطر جان دینا اور جان لینا مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے
    کافی عرصے سے عالم کفر اور خصوصی فرانس پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا چلا آ رہا ہے جس میں فرانس کا رسالہ چارلی ہیبڈو پیش پیش ہے اس رسالے کے دفتر پر کئی بار مسلمانوں نے حملہ کیا ایک بار ایک ایسے ہی حملے میں درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے
    فرانس نے ایک بار پھر سرکاری طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے جس کا سارا ذمہ دار فرانسیسی صدر کیمرون ہے جس نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ میں چارلی ایبڈو کو آزادی اظہار رائے سے نہیں روک سکتا اب اسی فرانسیسی صدر کی شہہ پر پہلے گستاخانہ خاکے شائع کئے گئے پھر ان کو سرعام عمارتوں پر لگایا گیا حالانکہ یہ بدبخت کافر یہ بات بھول گئے کہ جس طرح سے جنگوں میں محمد کریم اور ان کے اصحاب و تابعین و تبع تابعین نے فتوحات کیں اگر وہ بھی کفار کے ساتھ انہی کے جیسا سلوک کرتے تو آج روء زمین پر ایک بھی کافر زندہ نا ہوتا مگر یہ مشرک احسان فراموش لوگ بھول گئے کس طرح ان کو دوران جنگ عام معافیاں ملیں حالانکہ اس سے قبل جنگی قیدیوں،عورتوں،بچوں اور بوڑھوں کو مار دیا جاتا تھا مگر میرے شفیق نبی نے ایسا کرنا ممنوع قرار دیا ان کفار کو بھی پوری آزادی سے جینے کا موقع دیا
    کافر بار بار توہین رسالت کرکے آج کے مسلمانوں کے ایمان کی حرارت جانچتا ہے کیونکہ وہ شان مصطفیٰ کا مقام جانتا ہے مگر یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کو ایسے جرآت ہو کیسے رہی ہے؟ تو اس کے لئے میں قرآن کی ایک آیت رقم کرتا ہوں
    اے نبی ۔کفار و منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔۔ التوبہ 83
    دیکھا جائے تو آج ہم عام مسلمان اور مسلمان حکمران اس فرمان باری تعالیٰ کے منکر ہو کر ذلیل و رسواء ہو رہے ہیں کیونکہ ان کفار کو اللہ ہم سے زیادہ جانتا ہے اسی لئے اللہ نے ان کفار کے خلاف جہاد کرکے ان کو مغلوب رکھنے کا حکم دیا تھا تاکہ ناموس رسالت کیساتھ عام مسلمان کی عزت بھی محفوظ رہے سو اس شاطر ظالم کافر دشمن نے ناموس رسالت پر حملہ کرنے کیلئے ہمارے دلوں سے سب سے پہلے جہاد کی رغبت نکالی اور اس جہاد کو بدنام کرنے کیلئے ہم میں سے ہی کچھ فسادیوں کو کھڑا کرکے جہاد جیسے مقدس فریضے کو بدنام کروانے کی کوشش کی جس سے وہ ہمارے اندر ہی فساد کروانے میں کامیاب بھی ہو چکے ہیں
    مذید ہمارے حکمرانوں کو دباؤ میں لا کر ان منہج نبوی والی جہادی جماعتوں کو ختم کروایا جن سے کفار کی جان جاتی اور ان کی جگہ انہی خارجیوں فسادیوں کو فنڈنگ کی تاکہ جہاد رکا رہے مسلمان آپس میں ہی دست و گریباں رہے اور یہ بدبخت حکمرانوں کو دباؤ میں رکھ کر گستاخیاں کرتے رہے ان کے منصوبے کی واضع مثال وہ خارجی جماعتی ہیں جو اپنے مسلمانوں پر تو ہتھیار اٹھاتی ہیں مگر ان کفار کو بعد میں دیکھنے کا بہانہ بنا کر نظر انداز کرتی ہیں اور دوسری جانب ہمارے غلام ذہن حکمران ہیں جن کو ڈالر و پاؤنڈ کے نشے میں مبتلا کرکے ان کفار نے قابو کیا ہوا ہے جو اپنی عزت نفس کی خاطر تو اپنے مخالفین سے جنگ تک کر لیتے ہیں مگر ناموس رسالت کیلئے سرکاری طور پر شاتم رسول شحض کے قتل کرنے کا اعلان تک کرنے سے گھبراتے ہیں اب تو یہ صورتحال ہے کہ ہمارے حکمران اس ناپاک جسارت کہ جس کی سزا شرع اللہ میں قتل ہے ، پر محض معافی پر ہی اکتفاء کرتے نظر آ رہے ہیں اور کافر معافی مانگنے سے بھی انکاری ہے
    آج دنیا کی بہترین افواج میں سے بہترین فوجیں مسلمانوں کے پاس ہیں نیز ایٹم بم تک ہمارے پاس ہے مگر وہن میں مبتلا عوام و حکمران حکمت کا راگ الپا کر خود کو اور عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں
    یقین کیجئے جس دن ہم نے سیرت نبوی کے مطابق زندگیاں بسر کرنا شروع کر دیں ہمارا کھانا ،پینا ،اٹھنا ،بیٹھنا اور ہتھیار اٹھانا سنت محمدی کے تابع ہو گیا اسی دن کافر ڈر کے مارے ہمارے غلام ہو جائینگے مگر اس کے لئے ہمیں خود کو سنت رسول اور حکم ربی کے تابع کرنے کی ضرورت ہے
    آج فرانس کی گستاخیوں پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے مگر کیا مجال کہ کسی مسلمان حکمران نے سرکاری طور پر زبانی کلامی ہی اسے مذہب کے خلاف جنگ کا نام دیا ہو یقین کریں جس دن کسی ایک بھی مسلمان حکمران نے توہین رسالت کو دنیا اور اسلام کے لئے خطرہ قرار دے کر فوجوں کو صرف حکم دے دیا کہ شاتم رسول سے جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ اسی دن کافر توہین رسالت چھوڑ دے گا اور ناموس رسالت مذید بلند ہو جائے گی مگر آج ہم دنیاوی زندگی میں رنگے زبانی کلامی باتیں بھی کرنے سے گئے ان سے جنگ تو دور کی بات ہم ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے گھبرا رہے ہیں حالانکہ ان کے برانڈز کے متبادل ہمارے اپنے ذاتی برانڈز موجود ہیں مگر ہمیں چسکا لگ چکا ہے کفار کی اشیاء کھانے پینے اور پہننے کا
    حکمران تو پتہ نہیں کب جاگے گے ہمارا تو فوری فرض ہے کہ ہم فرانس کی تمام اشیاء کا بائیکاٹ کریں ہماری زبانیں ہماری قلمیں فرانس کے خلاف علم بغاوت بلند کریں تاکہ حکمران جاگ جائیں اور آقا نامدار پیغمبر اسلام پیغمبر امن جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس رسالت پر آنچ نا آنے پائے سو قارئین آج سے تہیہ کر لیں ہم اپنے حصے کا کام آج سے ہی شروع کرتے ہیں ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے اپنا قلم اپنی زبان اپنی تقریر اپنی تحریر ان کی مخالفت میں کرکے باقی ان شاءاللہ کل بھی عشق رسول کے داعیوں نے ان کی گردنیں کاٹیں تھیں اور آج بھی کاٹیں گے ان شاءاللہ
    تو جلدی کیجئے تاکہ کل روز محشر جام کوثر پینے کے لئے بتلا سکیں کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کی ناموس کی خاطر ان لعنتی کفار سے نفرت کی تھی
    باقی ان حکمرانوں میں میرا رب غیرت عطا فرمائے تاکہ اسلام کا بول بالا رہے اور یہ کفار کی غلامی کی بجائے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آ کر اسلام کو دوام بخشیں

  • نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ

    نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہر سال پاکستان میں ذی الحجہ کے آخری دن، محرم مکمل اور صفر کے کچھ دن کچھ لوگوں کو بالکل آزادی دی جاتی ہے کہ وہ صحابہ کرام اور امہات المومنین رضی اللہ عنھم اجمعین کے بارے میں زبانیں دراز کریں اور وطن عزیز میں امن و سکون کو تہہ و بالا کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں. عام دنوں میں چھوٹی چھوٹی بات پر مذہبی جماعتوں اور ان کے ذمہ داران پر عرصہ حیات تنگ کرنے والا "نیشنل ایکشن پلان” ان دنوں میں بھنگ پی کر سو جاتا ہے. اہل تشیع علماء کے مطابق جس کا اظہار انہوں نے کھلے عام کیا کہ اہل تشیع جماعتوں کی طرف سے اسلام آباد میں بکواس کرنے والے ذاکر "آصف” پابندی تھی تو اس کو کس نے آزادی دی بولنے کی، کس نے اس کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اس کو جرات دی کہ وہ انبیاء کرام کے بعد کائنات کی مقدس ترین ہستیوں پر زبان طعن دراز کرے. کیا نیشنل ایکشن پلان اس کے سہولت کاروں کا تعین کرکے ان کو ویسے ہی نشان عبرت بنائے گا ؟ جیسے مذہبی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کا نشان عبرت بنایا گیا.
    اس کے بعد کراچی میں ایک جلوس کے دوران پھر سے یہی عمل دہرایا گیا جس کو ایک نجی ٹی وی چینل نے براہ راست دکھایا لیکن "نیشنل ایکشن پلان” اسلام آباد کے کسی کلب میں سویا رہا. ان واقعات پر اہل السنہ والجماعة کی جماعتیں سیخ پا ہوئیں اور ردعمل کے طور پر کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا دفاع کیا جائے اور ان پر تبراء پر قانونی پابندی ہونی چاہیے لیکن تاحال کوئی ایکشن یا قانون سازی کا دور دور تک امکان نہیں ہے. جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مظاہرے سے واپس لوٹنے والوں پر مری کے مقام پر شرپسند عناصر جو مبینہ طور پر صحابہ کرام کی گستاخیوں پر آمادہ رہتے ہیں کی طرف سے حملہ کیا گیا جس پر "نیشنل ایکشن پلان” تاحال گہری نیند میں ہے.
    میں سمجھتا ہوں اس میں جہاں ملکی ادارے ذمہ دار ہیں وہیں پر اہل السنہ والجماعة کی تمام جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں جو سواد اعظم ہونے کے باجود ملکی کی اسمبلیوں سے صحابہ کرام کی ناموس کے تحفظ کے بل پاس کروا سکیں.
    ملکی اداروں اور ذمہ داران کو بھی سوچنا چاہیے کہ صحابہ کرام کی ناموس پر حملے یہ وہ دروازہ ہے جو اگر بند نہ کیا گیا تو ملک میں امن و امان اک خواب بن جائے گا جس کا متحمل ہمارا ملک نہیں ہوسکتا کہ بڑے قربانیوں کے بعد ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ہمارے شہروں میں سکون ہے معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں ایسے میں اسلام ہم تک پہنچانے والوں صحابہ کرام پر ہی سوالات اٹھا دینا ملک کو فرقہ واریت کی شدید آگ میں دھکیلے گا.
    محمد عبداللہ

  • مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ  کی اسلام کے لئے خدمات  بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ کی اسلام کے لئے خدمات بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کتاب ” #حجیت_حدیث”

    بقلم:- #عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلی بعد ازاں امیر منتخب ہوئے۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو بڑی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ آپ بیک وقت منتظم، مدرس، کہنہ مشق صحافی، بےمثال ادیب، مناظر، مصنف اور بلند پایہ خطیب اور عظیم قائد تھے۔
    آپ نے مدرسہ نذیریہ میں شیخ الحدیث مولانا عبد الجبار عمر پوری،مدرسہ غزنویہ امرتسر میں مولانا عبد الغفار غزنوی، مولانا عبد الرحیم غزنوی، قیام امرتسر میں ہی مولانا مفتی محمد حسن ( دیوبندی) بانی جامعہ اشرفیہ لاہور اور سیالکوٹ میں مولائے میر مفسر قرآن علامہ محمد ابرہیم میرسیالکوٹی سے علمی اکتساب کیا۔ فراغت کے بعد آپ نے گوجرانولہ کو اپنا مرکز بنایا اور گوجرانولہ کی جامع مسجد اہل حدیث میں مدرسہ محمدیہ کی بنیاد رکھی۔
    آپ کی علمی شخصیت کو دیکھتے ہوئے مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے آپ کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پڑھانے کے لیے بلوا بھیجا لیکن آپ نے گوجرانولہ میں رہ کر پاکستان میں خدمت دین کو ترجیح دی۔
    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ پانچ وقت نمازیں بھی پڑھاتے، تدریس بھی کرتے، تبلیغی و تنظیمی اسفار بھی جاری رہتے، آپ نے کثیرالاشتغال زندگی گذاری۔ سب کاموں کے باوجود قلم و قرطاس سے ناطہ جوڑے رکھا۔ آپ نے بہت زیادہ تو نہیں لکھا لیکن جو لکھا وہ خوب لکھا۔ آپ کی تحریر میں روانی، سلاست بیانی، الفاظ کا چناؤ اور ان کا برمحل استعمال اور شیفتگی بدرجہ اتم موجود ہوتی تھی۔ آپ کو اردو زبان وادب، اور انشا پردازی کے ساتھ ساتھ عربی زبان اور اس کے لب و لہجہ کے اس کی لطافتوں اور نزاکتوں پر بھی عبور کامل حاصل تھا۔
    مولانا سلفی صاحب کا قرآن مجید کے بعد پسندیدہ موضوع حدیث،حجیت حدیث، تدوین حدیث اور محدثین کے کارنامے تھا۔ال پاکستان اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر آپ کی عموماً گفتگو حجیت حدیث، مقام حدیث، مسلک اہل حدیث، تاریخ اہل حدیث اور خدمات اہل حدیث کے موضوع پر ہوا کرتی تھی۔
    برصغیر میں فتنہ انکار حدیث نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مقام رسالت اور احادیث مبارکہ سے راج فرار کی کوشش کی۔ انہیں دراصل دشمنان اسلام مستشرقین کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ یہ گروہ تحقیق و جستجو کے نام پر مقام رسالت، حفاظت حدیث، تدوین حدیث اور محدثین عظام کی کوششوں کے بارے شکوک وشبہات پیدا کرکے اسلام کا تشخص ختم کرنے پر درپے ہے۔ عبداللہ چکڑالوی سے لےکر جاوید غامدی تک کی یہی کوشش اور چاہت رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا جائے۔لیکن عاملین بالحدیث کی جماعت نے ہمیشہ سے ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اور عملی میدان میں تحریری و تقریری ان کا علمی محاسبہ کیا اور جواب دیاہے۔ اس میں بہت سے علماء اہل حدیث کی کوششیں شامل ہیں۔
    زیرنظر کتاب ” حجیت حدیث” مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب کی ہے جس میں چار رسائل موجود ہیں۔ جس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و اہمیت، تشریعی حیثیت، حدیث کی حجت، درایت حدیث کے ساتھ ساتھ منکرین حدیث، مولانا مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی وغیرہ کے شبہات اور اعتراضات کا بڑے عمدہ اور دلنشین انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ اپنے موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے جو طنز و تشنیع سے ہٹ کر خالص علمی انداز میں لکھی ہے۔ مولانا سلفی صاحب کی کتب فرقہ واریت کے حبس میں ہوا کا تازہ جھونکا کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جن میں آپ کا محدثانہ رنگ نظر آتا ہے۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شغف رکھنے والے اور جس کے دل میں حدیث کے بارے معمولی سا بھی شائبہ ہو وہ ضرور اس کا مطالعہ کرے۔ مبتدی طلباء سے لے کر علماء کرام اور عام بندوں کے لیے یکساں مفید ہے۔
    اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے محترم جناب حافظ شاہد محمود صاحب حفظہ اللہ کو جنہوں نے مولانا اسماعیل سلفی صاحب کے علاوہ نواب جاہ والا حضرت نواب صدیق حسن خان قنوجی رحمت اللہ علیہ و دیگر علماء کی کتابوں کو پردہ عدم سے نکال کر ایک نئے انداز اور جدید تقاضوں کے مطابق منظر عام پر لائے ہیں اور ہم جیسے طلبہ ان سے مستفید ہورہے ہیں۔

  • کیا حقوق اللہ اور حقوقِ العباد کے علاوہ بھی حساب ہو گا   از قلم : غنی محمود قصوری

    کیا حقوق اللہ اور حقوقِ العباد کے علاوہ بھی حساب ہو گا از قلم : غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے یہ دنیا بنائی اور اس دنیا میں مختلف مذاہب، مکتبہ فکر،رنگ،نسل اور عقائد کے لوگ بسائے
    ہر کسی کا طرز زندگی اس کے عقائد کے مطابق ہے
    ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور ہمارا ایک اللہ اور ایک آخری نبی محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے اسی لئے ہم زندگی گزارنے کیلئے قدم قدم پر قرآن وسنت کے محتاج ہیں اور اسی میں ہماری نجات بھی ہے
    یقیناً ہمیں علم ہے کہ اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں اور اس کی طرف سے جاری کردہ احکامات کا حساب قیامت کے دن دینا ہوگا جن میں حقوق اللہ میں نماز،روزہ،جہاد،اولاد،حج اور حقوق العباد میں صدقہ خیرات،صلح رحمی، بول چال میں عاجزی اور مخلوق الہیٰ سے پیار کرنا وغیرہ شامل ہیں مگر اس کے علاوہ بھی ایک ایسی بھی چیز ہے جس کا حساب اللہ نے لینا ہے اور ہم اسے برباد کئے جا رہے ہیں وہ ہے ہماری صحت و جوانی کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں فرماتے ہیں
    اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔ البقرہ 155
    اس سورہ میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو آزمانے کا وعدہ کیا ہے اور جہاں مال سے آزمانے کا بتایا گیا ہے وہیں جان سے بھی آزمانے کا بتایا گیا ہے مال سے آزمانا راہ خدا میں خرچ کرنا،غریبوں یتیموں کی مدد وغیرہ جبکہ جان سے آزمانے کا مطلب رب کے دین کی خاطر راہ جہاد پر نکلنا اپنی جان پر شرع اللہ نافذ کرکے لوگوں کو اس پر عمل پیرا کروانا ہے اور دین کی خاطر دیگر تکالیف اپنی جان پر جھیلنا بھی جان سے آزمانے کا نام ہے اور صبر کرنے والوں کیلئے خوشخبری سے مراد جنت ہے
    یعنی جہاں اللہ تعالی نے بندے کے مال کا حساب لینا ہے وہاں اس کی جان کا بھی حساب ہوگا اور جان ہوتی ہی تندرستی سے ہے اسی لئے تندرستی کے متعلق بھی جواب دہ ہونا پڑے گا اس جوانی اور تندرستی کا اللہ تعالی حساب بھی لے گا
    ہماری اسی جان و جوانی کا خیال رکھتے ہوئے اللہ تعالی نے شراب حرام کی تاکہ ہماری صحت اچھی رہے اور جب صحت اچھی ہو گی تب ہی ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کر سکینگے ورنہ بستر پر لیٹ کر حقوق العباد تو بہت کم ادا ہو سکینگے مگر حقوق العباد کا ادا ہونا ناممکن سا ہو جاتا ہے
    اسی لئے جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز خمر (شراب کی قسم) ہے اور خمر حرام ہے اب آپ جدید میڈیکل سائنس کا مطالعہ کریں وہ بھی بتائے گی کہ شراب کا نشہ انسان کو ذہنی و جسمانی بیمار کرتا ہے اور جوان بندے کو بہت جلد موت کے قریب لیجاتا ہے اور ہر نشہ آور چیز کو خمر اس لئے کہا گیا ہے کہ ایسی چیزیں شراب سے ملتی جلتی ہیں جیسے گھٹکا،پان،سپاری وغیرہ یہ سب چیزیں آج بطور فیشن استعمال ہو رہی ہیں جس سے جگر کا کینسر،امراض معدہ،دل کی بیماریاں اور ذہنی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جس کے مریض حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں
    تو جو بندہ ان چیزوں کا عادی ہو چکا ہے اسے چاہئیے اوپر بیان کئے گئے فرمان رب تعالی فرمان محمد کریم کا مطالعہ کرے اور سمجھ جائے کہ ہم سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی طرح ہماری جوانی و صحت کا بھی اللہ تعالی خوب حساب لے گا لہذہ اپنی صحت کا خیال رکھیں چاہیے وہ نشہ آور چیزوں کے استعمال کے علاوہ چیزوں جیسے کولڈ ڈرنکس،بازاری کھانوں کی بکثرت عادت سے ہماری صحت بگڑ رہی ہو تو ہمیں فوری ان کو ترک کرکے اپنی صحت کا لیول اپ کرنا ہوگا کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی گئی ہر نعمت کا حساب لینا ہے اور وہ اللہ ہمیں آزمائے گا صحت دے کر اور بیماری دے کر وہ ہمیں آزمائے گا دولت دے کر اور دولت لے کر بھی کیونکہ وہ ہمارا صبر کا لیول چیک کرے گا جو صبر کرکے ناجائز خواہشات کے پیچھے نا چلا وہ کامیاب ہوگا اور جو ناجائز خواہشات کے تابع ہو گیا وہ ناکام ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اللہ رب العزت ہم سب کو فرمان مصطفیٰ اور فرمان الہٰی کے تابع رہ کر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین

  • کرونا وائرس آخر ہمیں کیا سمجھانے آیا؟  تحریر:غنی محمود قصوری

    کرونا وائرس آخر ہمیں کیا سمجھانے آیا؟ تحریر:غنی محمود قصوری

    اللہ تعالی نے انسان کو اپنی عبادت کیلئے بنایا اور اس کیساتھ دوسروں کی مدد اور دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا بھی بڑی سختی سے حکم دیا ہے
    اس دور میں ہر انسان ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور یہ دنیا ایک گلوبل ویلج بنی ہوئی ہے
    اللہ تعالی نے قرآن مجید کو پچھلی قوموں کی مثالیں دے کر ہمارے لئے سمجھنے کو آسان بنایا ہے
    پچھلی قومیں جب اپنے انبیاء کی بتائی گئی باتوں پر سر کشی کرتیں تو فوری ان پر کوئی نا کوئی عذاب نازل ہو جاتا اور وہ قومیں تباہ و برباد ہو جاتی تھیں ہر پچھلی قوم کے اندر کوئی ایک آدھ جرم ہوتا تھا جس کی بدولت ان پر کبھی پتھروں کی برسات،کبھی آسمان سے آگ،کبھی سیلاب کبھی قحط سالی اور کبھی وبائی امراض کی شکل میں عذاب آتے رہتے تھے
    ہم اللہ کے آخری نبی کی آخری امت ہیں اور ہمارا مقام دوسری امتوں سے افضل ہے مگر افسوس کہ ہم پہلی امتوں سے بڑھ کر معزز تو ہیں مگر ہم میں پہلی امتوں والی ساری برائیاں موجود ہیں حالانکہ پہلی امتوں میں ایک آدھ برائی ہوتی تھی مگر وہ پھر بھی ہلاک وبرباد ہو جایا کرتی تھیں مگر ہم میں سب برائیاں ہیں مگر ہم پھر بھی قائم ہیں تو اس کی وجہ میرے نبی ذیشان نبی رحمت کی وہ دعا ہے کہ جس میں میرے نبی نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی تھی کہ اے اللہ تعالیٰ تو ان سب کو ایک ساتھ بھوک و افلاس و قحط سے نا مارنا سو آج دیکھ لیجئے ساڑھے چودہ سو سال سے کئی عذاب آئے مگر میرے نبی کی دعا کے مطابق سارے ایک دم ہلاک نا ہوئے مگر افسوس کہ ہم اپنی برگزیدہ نبی خاتم النبیین کی دعا کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اپنے رب کو ناراض کر رہے ہیں
    اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں
    اس نے تمہیں برگزیدہ بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی ۔۔الحج 78
    اس آیت میں اللہ تعالی اپنے نبی کے ذریعے ہمیں پیغام دے رہے ہیں کہ ہم امت محمدی دوسری امتوں سے بہتر اور اعلی ہیں اور ہمارے ساتھ دین میں کوئی تنگی بھی نہیں اور جو آسانیاں ہمیں اس دین میں عطا ہوئیں وہ پہلی امتوں کو نا تھیں
    مگر آج پہلی امتوں کی طرح ہم میں بھی سرکشی و تکبر ،چوری و زنا ،شراب و شباب اور ذخیرہ اندوزی جیسے جرائم عام ہو گئے ہیں اسی لئے ہمارے سمجھانے کیلئے اللہ تعالی نے فرقان حمید میں فرمایا ہے
    اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کر لیتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو ( کچھ ) حکم دیتے ہیں اور وہ اس بستی میں کھلی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر ( عذاب کی ) بات ثابت ہو جاتی ہے پھر ہم اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں ۔ بنی اسرائیل 16
    آج اس آیت کو سامنے رکھ کر دیکھیں اللہ نے ہمیں ساری نعمتوں سے نوازہ مگر پھر بھی ہم حد سے بڑھ گئے ہیں ہم اللہ کے عذاب کو بھول گئے ہیں سو اللہ نے ہمیں سمجھانے کیلئے ہلکا سا عذاب کرونا اور ٹڈی دل کی شکل میں بیجھا تاکہ ہم توبہ کر سکیں اور معاشرتی برائیوں سے تائب ہو جائیں خوش قسمتی سے ہم سب نبی کی مانگی گئی دعا کے مطابق بچے ہوئے ہیں ورنہ ہم سارے کے سارے پہلی امتوں کی طرح ہلاک ہو جاتے مگر افسوس ہم پھر بھی نہیں سمجھ رہے ہمارے اندر ،زنا،چوری،ڈکیتی،قتل و غارت گیری،ذخیرہ اندوزی،شرک و بدعت اور پہلی امتوں کی سی ہر برائی آ گئی ہے
    انہیں برائیوں پر اللہ نے فرمایا ہے
    پھر ہم نے ان پر طوفان بیجھا اور ٹڈیاں اور گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون ،کہ یہ سب کھلے کھلے معجزے تھے سو وہ تکبر کرتے رہے اور وہ لوگ کچھ تھے ہی جرائم پیشہ ۔۔الاعراف 133
    اللہ تعالی ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ باز آ جاؤ ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے جرائم پیشہ نا بنو اور تکبر سے بچوں تو اس لئے آج ہم پر کرونا وائرس کی شکل میں وباء مسلط ہے اور ٹڈیاں ہمارے کھیت کھلیان چاٹ رہی ہیں لہذہ اب وقت ہے عذاب الٰہی سے ڈرنے کا توبہ کرنے کا اور جرائم سے بچنے کا
    یہاں ایک وضاحت کرتا چلو کہ اللہ نے ہمیں عذاب دے کر بھی ایک احسان ہی کیا ہے جیسے کرونا سے صحت یاب ہونے پر ہمیں پلازمہ کی شکل میں اللہ کی طرف سے احسان ملا اسی طرح ٹڈی دل کے لشکر غریب اور لاک ڈاؤن سے متاثرہ لوگوں کیلئے احسان بن کر آئے کہ ہم اس حلال ٹڈی دل کو پکڑ کر کھا سکیں یا پھر اس کو پکڑ کر جانوروں اور پرندوں کی فیڈ بنانے والی فیکٹریوں کو بیچ کر کمائی کر سکیں کیونکہ ٹڈی دل پروٹین،کیلشیم،فاسفورس اور دیگر قدرتی اجزاء ہر مشتمل ایک انمول خزانہ ہے تو اب یہ ہمارے لئے سمجھنا انتہائی لازم ہے کہ اللہ تعالی ناراض ہیں اور ہم پر ہلکا سا عذاب مسلط کرکے ہماری اصلاح کر رہے ہیں سو ہمیں بھی اصلاح کی طرف آنا چاہئیے تاکہ ہم اخروی زندگی اچھی کر سکیں اللہ تعالی ہمیں اس وباء سے محفوظ رکھے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • کرونا وائرس کے مسئلے میں الجھی دنیا کے نام رمضان کا پیغام!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    کرونا وائرس کے مسئلے میں الجھی دنیا کے نام رمضان کا پیغام!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان کا ہے اس مقدس مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا
    اللہ تعالی فرماتے ہیں
    یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا ۔ سورہ القدر 1
    اس لئے اس مہینے کی حرمت باقی مہینوں سے زیادہ ہے اس مہینے میں مسلمان اپنے رب کو راضی کرنے کیلئے روزہ رکھتے ہیں سحری سے لے کر نماز مغرب تک مسلمان اپنے رب کے حکم سے کھانے پینے سے رک جاتے ہیں اس مہینے کی فرضیت بارے اللہ تعالی فرماتے ہیں
    اے ایمان والوں تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کر سکو! سورہ البقرہ 183
    اس آیت میں اللہ تعالی نے وضع کر دیا کہ پہلی امتوں پر بھی روزے فرض تھے جیسے ہم پر فرض ہیں اور روزہ رکھنے سے بندہ متقی پرہیز گار بنتا ہے سو پرہیز گاری کو قائم رکھنے کیلئے اور اسلام پر ڈٹ جانے کیلئے روزے فرض کر دئیے گئے ہیں اللہ رب العزت کا مقصد روزے فرض کرکے ہمیں متقی اور پرہیز گار بنانا ہے جب بندہ متقی اور پرہیز گار بنتا ہے تب وہ جھوٹ ،غیبت،زنا ،چوری،ڈاکا غرضیکہ ہر برائی سے بچتا ہے اور نیکی کی طرف راغب ہوتا ہے
    انسان پورا سال غلطیاں گناہ کرتا رہتا ہے مگر وہ اس سے بے خبر رہتا ہے اور متقی بننے کی کوشش نہیں کرتا مگر آمد رمضان کیساتھ ہی مساجد نمازیوں سے بھر جاتی ہیں صدقہ و خیرات کی بہتات ہو جاتی ہے اور ہر بندہ تزکیہ نفس کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ متقی بن جائے اور اللہ کی طرف سے متقیوں کے لئے طے کردہ انعام جنت الفردوس کا حق دار ٹھہرے
    یہ مہینہ بہت برکتوں رحمتوں والا ہے اس مہینے اگر مسلمانوں کی عبادات بڑھ جاتی ہے تو اللہ رب العزت بھی اپنے بندوں کیلئے نیکیوں کا خزانہ کھول دیتے ہیں ایک کی گئی نیکی کے اجر کو بڑھا کر ستر گناہ یا اس سے بھی زیادہ اجر کر دیا جاتا ہے
    اس مہینے میں جہاں حقوق اللہ پر زور دیا گیا ہے وہاں حقوق العباد پر بھی خوب زور دیا گیا ہے اور شرک سے بچنے کے بعد اللہ تعالٰی نے سب سے زیادہ زور حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق پر دیا ہے
    اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتًا اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالٰی پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے غلاموں کو آزاد کرے نماز کی پابندی اور زکٰوۃ کی ادائیگی کرے جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچّے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں ۔ سورہ البقرہ 177
    اس مہینے میں ہماری عبادات کا دائرہ کار تو وسیع ہونا ہی ہے مگر اس کیساتھ لوگوں کے حقوق بھی ہم پر بڑھ جاتے ہیں اپنے اردگرد قرب و جوار خاندان برادری گلی محلے کے لوگوں کی مدد ہم پر نفلی و فرضی عبادت کی طرح بڑھ جاتی ہے سو ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے سے کم اور غریب لوگوں کا زیادہ سے زیادہ مالی و ہر طرح کا خیال رکھیں تاکہ وہ بھی ماہ مقدس کے روزے رکھ کر سکون حاصل کر سکیں کیونکہ فرمان مصطفی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں اس وقت تک لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے یہاں بھائی سے مراد تمام مسلمان ہیں
    چونکہ اس وقت پوری دنیا کووڈ 19 یعنی کرونا وائرس کی لپٹ میں ہے جس سے لوگوں کے کاروبار ختم ہو چکے ہیں لوگ کھانے پینے سے محروم ہیں اس صورت میں جہاں فرضی و نفلی عبادت ہم پر فرض ہے ویسے ہی اپنے بھائیوں کی مالی مدد اور اپنی عبادات کے دوران ان کے لئے دعا بھی ہم پر فرض ہے تاکہ اللہ رب العزت راضی ہو کر ہماری مدد میں لگے رہیں اور ہم اپنے بھائیوں کی مدد کی بدولت رحمت الہی سے فیض یاب ہوتے رہیں سو رمضان گزر رہا ہے اپنے بھائیوں کی مدد میں لگ جائیں ان کے کھانے پینے ان کی رہائش و آسائش کا اہتمام جلد سے جلد کیجئے تاکہ ایک نیکی کے بدلے ہم ستر گناہ اجر پا سکیں اور فرض روزے رکھنے میں ان کے معاون بن سکیں اللہ ہم سب سے راضی ہو جائے اور ہماری نفلی فرضی عبادات کیساتھ اپنے بھائیوں کی مدد کرنا بھی قبول فرمائے آمین

  • رمضان کیسے گزاریں؟ —-از—سید عتیق الرحمن 

    رمضان کیسے گزاریں؟ —-از—سید عتیق الرحمن 

    حضرتِ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے“(صحیح بخاری)  رمضان المبارک ایک ایسا مقدس مہینہ جو کہ رحمتوں، برکتوں اور انعامات سے بھرا ہے۔اللہ تعالیٰ نے12 مہینے بنائے ایک کو دوسرے پر فضیلت بخشی، ہر مہینے کو عظیم سے عظیم انعامات دیکر بھیجا۔مگر رمضان المبارک کا ماہ مقدس ایسا ہے جس میں ربِّ ذولجلال نے کسی خاص انعام کا ذکر نہیں کیا بلکہ آسمان کے تمام دروازے کھول کر ثابت کردیا کہ یہ مہینہ برکتیں ہی برکتیں سمیٹے ہوئے ہے۔

    اب غور طلب بات یہ کہ کیا محض دروازہ کھل جانا ہی اس امر کی دلیل ہے کہ آپ داخل ہوگے۔بھلے ہی آپ حرکت نہ کریں دروازے کی جانب نہ لپکیں، آپ سمجھیں گے کہ داخل ہوگئے۔ایسا نہیں ہے۔دروازے کا کُھل جانا ایک موقع مل جانے کے مترادف ہے اب ہم پر ہے کہ ہم اس موقعے سے کس قدر فائدہ اٹھا کر اندر داخل ہوسکتے ہیں۔ تو ہمیں کرنا کیا ہے؟  اللہ کی ذات نے فرمایا کہ”اے ایمان والو! روزے تم پر فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض ہوئے تاکہ تم پرہیز گار بن جاو“ سوال یہ ہے کہ کیا نماز پرہیز گار نہیں بناتی،

    حج پرہیز گار نہیں کرتا، زکوٰۃ پرہیز گار نہیں بناتی، دیگر عبادات پرہیز گاری کی ضامن نہیں ہیں؟؟  تو بات دراصل یہ ہے کہ روزہ درحقیقت ان تمام عبادات کا مجموعہ ہے اسلیے فرمایا گیا تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ، کیسے؟  ایسے کہ جب انسان حالتِ روزہ میں ہوتا ہے وہ کھانے، پینے سے رک جاتا ہے کیوں؟ اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے۔اور اللہ کے حکم کی تعمیل ہی دراصل تقویٰ ہے۔نماز ہم پڑھتے ہیں کہ فرض ہے۔زکوٰۃ دیتے ہیں کہ فرض ہے نہ ادا کی تو مال حرام ہو گا۔حج ادا کرتے ہیں کبھی بخشش طلب کرنے کے لیے کبھی زیارت کی غرض سے۔روزہ وہ واحدعبادت ہے جو محض اللہ کے حکم کی تعمیل ہے اور اس دوران جن امور سے اجتناب کرتے ہیں وہ فقط اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے کیا جاتا ہے۔

    تقویٰ سے مراد یہ کہ انسان ”منہیات“ سے تو پرہیز کرتا ہی ہے اسکے ساتھ ساتھ مشتبہات سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔روزے کی حالت میں بھی بالکل اسی طرح روزہ دار ہر اس عمل سے اس چیز سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اسکے روزہ کو خراب کرے۔تو ثابت ہوا کہ روزے اسلیے فرض کیے گئے تاکہ ہم پرہیز گار بن جائیں۔اب ہمارا نقطہ یہ تھا کہ جنت کے دروازے کھول دیے گ?ے تو ہمیں داخل کیسے ہونا ہے؟ہم نے قیام و سجود کو، سحر و افطار کو، صدقات و خیرات کو، حرکت کا وسیلہ بنا کر جھوٹ، غیبت، چغلی، چوری اور اس جیسی دیگر آلائشوں کے کانٹوں کو اپنی راہ سے چن کر رستے کو صاف کر کے اس دروازے کی جانب بڑھنا ہے۔اور پھر اللہ کے احکام بجا لاتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچنا ہے یوں ہم نے اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر خوش نصیبی کو اپنا مقدر بنانا ہے۔

    اس ماہِ مقدس کا استقبال کیجیے۔خود کو عبادات کے لیے تیار کر کے، روزہ کے لیے عزمِ مصمم کر کے، ضرورتمندوں طعام کا حسبِ استطاعت انتظام کر کے، اپنے گھروں کو اس ماہِ مقدس کی آمد کی خوشی میں امن و سلامتی کا گہوارہ بنا کر۔اب سوال یہ کہ ہم روزہ کس حالت میں قضا کر سکتے ہیں اس فرض کی چھوٹ کن صورتوں میں ہے؟تو فرمایا(یہ) گنتی کے چند دن  (ہیں)،  پس اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں  (کے روزوں)  سے گنتی پوری کر لے،  اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو ان کے ذمے ایک مسکین کے کھانے کا بدلہ ہے،  پھر جو کوئی اپنی خوشی سے (زیادہ)  نیکی کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے،  اور تمہارا روزہ رکھ لینا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھ سکو۔

    (ترجمہ آیات) تو اس میں حکم دیا گیا کہ کن حالات میں تم اس فرض کی قضا کرسکتے ہو۔یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ دین اسلام آسان دین ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بے جا ظلم نہیں کرتا۔ویسے تو روزے کے فضائل اور اسکی اہمیت بے شمار کے اسے احاطہ تحریر میں لانا ناممکن ہے کیونکہ اللہ کی ذات فرماتی ہے کہ ”روزہ میرے لیے ہے اسکا اجر بھی میں دونگا تو پھر سوچیے جس چیزکا اجر واضح الفاظ میں اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا اسے بیان نہیں کیا اسے احاطہ تحریر میں لانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اسکی اہمیت وفضیلت کی ایک جھلک دیکھیے۔

    حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ سے کلام کرتے ہوئے پوچھا کہ”اے اللہ کوئی ایسا بھی ہے کوئی مجھ سے زیادہ تیرے قریب ہو؟“  تو اللہ کی ذات نے فرمایا کہ ”اے موسیٰ!ایک ایسی امت آئے گی ایک مہینہ ایسا ہوگا جسمیں انکے حلق خشک ہونگے، لب سوکھے ہونگے آنکھیں تھکی ہونگی جب وہ افطار کے لیے بیٹھیں گے اسوقت جب ہاتھ اٹھائیں گے تو میں انکے اتنا قریب ہونگا کہ کوئی پردہ حلال نہیں ہوگا۔آئیے ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔اللہ پاک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • رمضان آگیا,آئیے خود کو بدلیں…تحریر :خنیس الرحمٰن

    رمضان آگیا,آئیے خود کو بدلیں…تحریر :خنیس الرحمٰن

    وہ موقع آن پہنچا ہے جس کا ہر مسلمان کو بے تابی سے انتظار تھا. آپ سمجھ تو گئے ہونگے. وہ برکتوں, سعادتوں اور رحمتوں والا مہینہ…..!
    سحری و افطاری کا اہتمام کرنا .. !
    دن بھر کا بھوکا رہنا….!
    ہر اس کام سے رک جانا جس کا اللہ اور نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا….!
    امر بالمعروف کے لیے اپنی کمر کو کس لینا….!
    قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنا…!
    تراویح کا اہتمام کرنا…. !
    رب کے حضور اپنی التجائیں پیش کرنا….!
    صدقات وخیرات کا ادا کرنا….!
    اپنی انا کی قربانی دینا…. !
    تمام ان رشتوں کو پھر سے گلے لگا لینا جن سے گلے شکوے ہوا کرتے تھے….!
    توبہ و استغفار کے لیے اپنے رب کے آگے ہاتھ پھیلانا….!
    بھوکوں اور مستحقین کو روزہ افطار کروانا …!
    دوستوں اور رشتہ داروں کو افطار کرانا…..!
    رمضان المبارک کا محبتوں بھرا مہینہ اللہ پاک بھی پھر اپنے بندے سے خوش ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا بندہ اللہ کے احکامات کو کس طرح سے بجالارہا ہے…. اللہ رب العزت اپنے بندے پر انعامات کی بارش برسا دیتا ہے….اللہ کہے گا اے میرے بندے تو نے دن بھر بھوک کے ساتھ میری خاطر گزارا جا میں تجھ سے جنت کا وعدہ کرتا ہوں… اے میرے بندے تو نے میری خاطر روزہ رکھا تیرے دل میں دنیا کا لالچ نہیں تا صرف میری رضا مقصود تھی میں تیرے سارے گذشتہ سال کے گناہ معاف کرتا ہوں…. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو نے میری خاطر روزہ رکھا, رات کا قیام کیا, نمازیں ادا کیں , زکوۃ ادا کی جا میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں روز قیامت تجھے صدیقین اور شہداء کے ساتھ کھڑا کروں گا….. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو نے میری خاطر روزہ رکھ کر نہ کسی کی غیبت کی ,نہ جھوٹ بولا, نہ کسی کو زبان سے تکلیف پہنچائی تیرے منہ کی بو میرے ہاں کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہے….. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو جو مانگنا چاہتا ہے میں عطاء کروں گا تو مانگ کر تو دیکھ….. !
    آئیے اس سعادت سے محروم نہ رہ جائیں آگے بڑھ کر اپنے رب سے جنت کا سودا کریں….!
    اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کریں….!
    میں اللہ سے دعاگو ہوں کہ مالک سب سے پہلے مجھے اور اس کے بعد آپ سب کو عمل کرنے کی توفیق دے آمین….
    گنہگار ہیں سب…. اللہ ہمیں موقع دے رہا ہے ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس سے ضائع نہ ہونے دیں….

  • الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر اور وبا سے بچاو کی حفاظتی تدابیر کے لیے الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر حلال ہے

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں پھیلی کورونا وبا کے پیش نظر حفاظتی تدابیر کے طور پر ماہرین نے سینیٹائزر استعمال کرنے پر زور دیا ہے وبا سے بچاو کے لیے بازار میں دستیاب ان ہیینڈ سینیٹائزر کو فوقیت دی جا رہی ہے جس میں۔الکوحل کی ایک خاص مقدار شامل ہے لیکن بحثیت مسلمان یہ بات ہمیں شک میں مبتلا کر دیتی ہے کہ اگر ہم الکوحل ملے سینیٹائزر کو ہاتھوں پر استعمال کریں تو ان ہاتھوں سے ہم کو ئی چیز کھاتے ہیں تو وہ ذرات ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں کیا اس میں کوئی قباحت ہو سکتی ہے اس حوالے سے پروگرام سماء ود عفیفہ راو میں مفتی عبدالقوی جلوہ گر ہوئے انہوں نے انٹر ویو کے دوران الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر حلال ہے یا حرام اس پر روشنی ڈالی

    مفتی عبدالقوی نے بتایا کہ وبا سے بچنے کے لیے ہر قسم کی احتیاطی تدابیر تو ہر حال میں اختیار کرنی ہیں کیونکہ قرآن پاک یہ درس پوری دنیا کو دے رہا ہے کہ جس نے ایک انسانیت کی جان بچائی احترام کیا گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی احترام کیا انہوں نے کہا پوری دنیا کی۔کیفیت ہمارے سامنے ہے چین نے احتیاطی تدابیر اپنا کر اس وبا سے نجاے حاصل کی پاکستان میں بھی حکومت علماء ماہرین طب اور فن سب نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں اور عوام۔کو بھی زور دیا

    مفتی قوی نے کہا کہ احتیاطی تدابیر میں گرم۔پانی کا استعمال۔اور صاف ستھرائی شامل ہے انہوں نے کہا جراثیم کش الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنے کا فتوی کسی عالم دین کا نہیں بلکہ ماہرین طب اور ماہرین فن کا ہے

    مفتی عبدالقوی نے کہا کہ ہر چیز جو حرام ہے وہ پلید بھی ہے نہیں ہر حرام چیز پلید نہیں ہے انہوں نے کہا نجاست پلیدی اور حرمت یہ تینوں الگ چیزیں ہیں الکوحل اس لیے حرام ہے کیونکہ اس کا خمر ہے اور خمر کے معنی عقل کے اوپر خمار جب کوئی خمر استعمال کرےتو اسے اردگرد کا ہوش نہیں رہتا

    مفتی عبدالقوی نے کہا الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر کا ہلکا سا سپرے جب ہم ہاتھوں پر کرتے ہیں تو اس کا اثر دماغ پر نہیں چڑھتا اس کے اثرات ذہن پر اثر انداز نہیں ہوتے وہ ہاتھ کے اوپر موجود رہتا ہے خمار نہیں ہوا تو اس کا مطلب حرام نہیں ہے اور ہر حرام چیز پلید نہیں ہے اگر سینیٹائزر کو استعمال کرنے کے بعد کھانا کھائیں گےتو اس کہ ہلکی سی مقدار اثرات مرتب نہیں کرے گی کسی مرض میں خاص شرط خاص وقت احتیاطی تدابیر کے لیے پلید چیزیں بھی پاک ہو جاتی ہیں

    مفتی قوی نے کہا کہ اپنی تسلی کے لیے جراثیم کش ہینڈسینیٹائزر جو حرام اور پلید ہے استعمال کرنے کے بعد اس پلیدی سے بچنے کے لیے کھانا کھانے سے پہلے گرم۔پانی سے ہاتھ دھولیں کیونکہ گرم۔پانی کا استعمال بھی احتیاطی تدابیر میں ماہرین نے بتایا ہے

    جبکہ مفتی عبدالقوی نے کہا میں دین میں آسانی ڈھنڈنے کا قائل ہوں میری رائے یہ ہے کہ آپ سینیٹائزر استعمال کرنے کے بعد بغیر ہاتھ دھوئے بھی کھانا کھا سکتے ہیں وہ حرام بھی نہیں نجس بھی

    مفتی قوی نے مزید کہا کہ اگر ماہرین طب اور فن نے کہا ہے ک. الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر جراثیم کش ہے اس سے وبا سے بچے رہیں گے تو یہ حلال ہے اسی طرح اگر ماہرین طب وبا سے بچاو کے لیےاور حفاظتی تدابیر کے تحت الکوحل پینے کو کہیں گے تو میں برملا کہوں گا کہ تب بھی پینا حلا ل ہے اور پاک بھی

    گھر میں ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا سستا اور آسان طریقہ

    گھر میں کورونا وائرس ختم کرنے کے طریقے

    این ڈی ایم اے کا کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی سامان کی خریداری لوکل مارکیٹ سے کرنیکا فیصلہ