Baaghi TV

Category: مذہب

  • میں قربانی کیوں کروں؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    میں قربانی کیوں کروں؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی جہاں لوگ سنت ابراہیمی کو ادا کرنے کے لیے قُربانی کی تیاریوں کا آغاز کر دیتے ہیں وہیں کچھ مذہب بیزار قسم کے لوگ اس فریضے سے اپنی بیزاری کا اظہار بھی کرتے ہیں، یہ انسانیت کے نام نہاد علمبردار انتہائی جذباتی انداز میں پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ حج و قربانی پر اربوں روپے ضائع کرنے کی بجائے غریبوں کی مدد کی جائے۔

    یہ نام نہاد سکالرز سوشل میڈیا پر طرح طرح کی تاویلیں پیش کرتے ہیں جن میں سے چند ایک آپکی خدمت میں حاضر ہیں۔
    ایک بھائی صاحب کی پوسٹ دیکھی، جس میں وہ فرما رہے تھے کہ اس بار وہ قربانی نہیں کریں گے بلکہ اُنہی پیسوں سے اُنہوں نے ایک واٹر کولر لگوا دیا ہے۔

    کوئی یہ رونا رو رہا تھا کہ غریب ہمسائے کی لڑکی کی شادی کے لئے مدد نہ دینے والے حاجی صاحب دو لاکھ کا بکرا لے آئے ہیں۔ اور ساتھ یہ عزم بھی کیا کہ وہ حاجی صاحب کی طرح قُربانی نہیں کریں گے بلکہ کسی غریب لڑکی کی شادی کروائیں گے۔

    ایک اور صاحب نے لکھا کہ اس بار وہ عید پر قربانی نہیں کریں گے، کیوں کہ انہیں جانور ذبح ہوتے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، مزید کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اتنی خوبصورت تخلیق کو کیوں مارا جاتا ہے۔

    ایک بھائی نے لکھا کہ مجھے کافر کہہ لو لیکن مجھے یہ نہیں پسند کہ 72 گھنٹوں میں کئی لاکھ پیارے پیارے اور معصوم جانوروں کا سرِ عام اتنے بڑے پیمانے پر قتلِ عام ہو۔ لیکن ساتھ اس بات پر بھی افسردہ تھے کہ اب کُچھ دن کے لیے انہیں سبزیوں پر گزارہ کرنا پڑے گا۔

    ایک مشہور شخصیت نے پوسٹ کی کہ لوگوں کو عید الاضحی پر لاکھوں جانوروں کو قربان / ذبح کرنے کی بجائے اپنے آئی فون توڑ (قربان کر) دینے چاہیے۔ مزید یہ بھی کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ ہر سال کروڑوں جانوروں کو قربانی کے نام پر ذبح کر دیا جاتا ہے اور وہ بھی بچوں کے سامنے۔

    جانوروں کے حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اُسے عید الاضحی پر کروڑوں جانوروں کے قتلِ عام پر تشویش ہے، قُربانی کے نام پر بڑے پیمانے پر جانوروں کی نسل کشی کی جاتی ہے، اس سے بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جانوروں کی باقیات سے نہ صرف ماحول آلودہ ہوتا ہے بلکہ قربانی کے دوران پانی کے استعمال سے پانی بھی ضائع ہوتا ہے۔

    ایک شخص نے لکھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ایسے لوگ مسلمانوں کے لیڈر بن چُکے ہیں جو قُربانی کی حمایت کرتے ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ بجائے قربانی کرنے کے وہی رقم کسی غریب کو عطیہ کر دیں، اور ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہمیں انسانیت کے نام پر پُر امن رہنا چاہئے، اور قربانی کے نام پر نمود و نمائش کی بجائے دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔

    بدقسمتی سے یہ چند بیان کیے گئے نظریات کچھ نام نہاد دیسی لبرل مسلمانوں کے ہیں۔ ایک طرف تو یہ لوگ آزادئ اظہار رائے کا پرچار کرتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ دوسروں کے عقائد پر تنقید کرتے ہیں۔ اگر کوئی قربانی نہیں کرنا چاہتا تو نہ کرے لیکن اُسے دین کا مذاق بنانے یا اپنے عقائد اور مذہب پر عمل کرنے کی وجہ سے دوسروں پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ انسانیت کے ان ہمدردوں کو غریبوں کی مدد کے لئے صرف حج و قربانی ہی کیوں نظر آتی ہے؟

    اپنی بڑی بڑی گاڑیاں، 24 گھنٹے اے سی چلتے کمرے، محل جیسے پرتعیش گھر، ہر رات آباد ہوتے مہنگے ترین ہوٹل، ہزاروں روپوں کا میک اپ، لاکھوں i جیولری اور کاسمیٹیکس، لاکھوں کی مالیت کے موبائل فون کیوں نظر نہیں آتے؟ ان نام نہاد لوگوں کے لیے یہ سب جائز ہے، لیکن سال بھر میں ایک بار قربانی کرنا غلط؟

    قربانی ایک اہم مالی عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ اس عمل کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہےبارگاہ الہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔

    سورت الحج آیت نمبر 34 میں اللّٰہ نے فرمایا ہے کہ (ترجمہ !) "اور ہم نے ہر اُمت کیلئے قربانی اس غرض کیلئے مقرر کی ہے کہ وہ مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللّٰہ نے اُنہیں عطا فرمائے ہیں”۔

    قربانی کی ایک عظیم الشان صورت اللّٰہ تعالی نے امت محمدیہ ﷺ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے جو کہ حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے، عید الاضحی پر ایک خاص جانور کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا اور تقرب کی نیت سے سے ذبح کیا جاتا ہے۔

    دین درحقیقت اتباع کا نام ہے اور اصل مقصد اللّٰہ تعالی کے حکم کی بجا آوری ہے، قرآن مجید میں سورت الحج کی آیت نمبر 37 میں بیان کیا گیا ہے کہ ترجمہ ! "اللّٰہ کو ہرگز نہ اُن کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اُسے تمہاری طرف سے تقوی پہنچے گا۔اسی لئے اس نے اُنہیں تمہارے لئے مسخر کر دیا،تاکہ تم اُس پر اللّٰہ کی بڑائی بیان کرو ،کہ اُس نےتمہیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والے کو خوشخبری سنا دیجیئے”۔

    سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو وسعت ہو (صاحب نصاب ہو) اس کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ )

    جو لوگ مالی وسعت یعنی قربانی کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی قربانی ادا نہیں کرتے وہ آنکھیں کھولیں!اور اپنے ایمان کی خیر منائیں، عیدگاہیں اور مساجد اللّٰہ تعالی کی محبوب جگہیں ہیں، جہاں جمع ہونے والوں پر بارگاہ الہی سے رحمت کی برستی ہے، یہاں کی حاضری سے کسی بدنصیب کو ہی روکا جا سکتا ہے۔

    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو بڑے موٹے تازے سینگوں والے سیاہ و سفید رنگت والے دو خصی مینڈے خریدتے، اُن میں سے ایک اپنے اُن امتیوں کیطرف سے قربان کرتے جنھوں نے اللّٰہ کی توحید اور آپ کی تبلیغ کی گواہی دی،اور دوسرا اپنی اور اپنے اہل وعیال کیطرف سے قربان کرتے ۔

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کیا کرو اور خوش دلی سے کیا کرو کیوں کہ جب مسلمان اپنی قربانی کا رُخ قبلے کی طرف کرتا ہے تو اس کا خون،گوبر اور اُون قیامت کے دن میزان میں نیکیوں کی صورت میں حاضر کیے جائیں گے۔

    حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! یہ قربانی کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی سنت ہے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے ؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا (تمہارا فائدہ یہ ہے کہ تمہارے قربانی کے جانور کے)ہر بال کےبدلےمیں ایک نیکی ملے گی ۔ صحابہؓ نے پھر عرض کیا یارسول اللہﷺ !(جن جانوروں کے بدن پر اُون ہے اُس) اُون کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اُون کے ہر بال کے عوض میں بھی نیکی ملے گی۔

    ہماری بد قسمتی ہے کہ یہاں ہر دوسرا بندہ دین اور مذہبی معاملات پر بغیر کسی تحقیق رائے دینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ آج پاکستانی معاشرے کو ایسے خود کو عقل کل سمجھنے والے نام نہاد سکالرز کا سامنا ہے جو مغربی سوچ سے اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ یہ ہر چیز کو سیکولرازم کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ انہیں مذہب سے متعلق سب کچھ ہی برا لگتا ہے، انکا حجاب میں دم گھٹتا ہے، ہر داڑھی والا دہشت گرد نظر آتا ہے، مدارس تمام مسائل کی جڑ لگتے ہیں اور قربانی کے وقت انہیں غریب غربا یاد آ جاتے ہیں۔

    ہر سال شادیوں کے نام پر لاکھوں کا خرچہ کرتے وقت ان لوگوں کو غریب کی بیٹی یاد نہیں آتی۔ لاکھوں روپے مالیت کے موبائیل سے غریبوں سے ہمدردی کا ڈھنڈورا پیٹتے انہیں واٹر کولر لگوانا اچھا نہیں لگتا۔ ان کے میک اپ، پرفیوم اور کاسمیٹکس کے لاکھوں کے خرچے سے کئی گھروں کے چولہے جل سکتے ہیں، لیکن اس وقت غریب کا احساس ضروری نہیں ہوتا۔

    عید پر انہیں غریب کی بیٹی کی شادی کی فکر ضرور ستاتی ہے لیکن سارا سال اِن کے بوتیک سے کوئی غریب اپنی بیٹی کی شادی کا جوڑا نہیں خرید سکتا۔ عید پر جانوروں کے ذبح ہونے پر انہیں ظلم ضرور یاد آتا ہے لیکن سارا سال جب یہ گوشت کھاتے ہیں اُس وقت یہ ظلم نہیں ہوتا۔ انہیں قربانی کے وقت پانی کا استعمال ضیاع لگتا ہے لیکن سال بھر اِنکے سوئمنگ پولز میں پانی کا استعمال نظر نہیں آتا، اور انکی مہنگی گاڑیاں ہوا سے دھوئی جاتی ہیں۔

    یہ لوگ فضول خرچی روکنے کے لئے سمارٹ فونز کی خریدو وفروخت پر پابندی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ بیوٹی پارلرز اور لاکھوں کا ایک ایک جوڑا فروخت کرنیوالے بوتیکوں پر اخراجات کی بجائے غریب بچیوں کے گھر بسانے کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ پارٹیوں پر لاکھوں خرچ کرنے کی بجائے غریبوں کی مدد کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟

    قربانی کو متنازعہ بنانے والے یہ سیکولر زکوۃ کی ادائیگی کیوں نہیں شروع کرتے؟ دراصل مسئلہ غریبوں کی حمایت کا نہیں ہے، بلکہ ان کو تکلیف صرف سنت نبویﷺ پر عمل کی ہے۔ یہ لوگ سنت نبویﷺ کو بزور طاقت تو نہیں روک سکتے اور نہ ہی براہ راست تنقید کر سکتے ہیں اس لیے یہ لوگ ایک جذباتی ماحول بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بیچارے مغرب کی تقلید میں ان سے بھی بڑھ کر روشن خیال بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

    عیدِ قربان نہ صرف ایک مذہبی تہوار ہے بلکہ ایک بڑی معاشی اور فلاحی سرگرمی کا دن بھی ہے۔ عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔

    ہر سال عید الاضحیٰ پر 200 سے 300 ارب روپے تک کی رقم ہر شہری علاقوں سے دیہی علاقوں کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ قربانی کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں عارضی نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔ جانوروں کو منڈیوں اور گھروں میں پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے استعمال سے لے کر انہیں چارے کی فراہمی اور قصابوں تک، لاکھوں لوگ اس معاشی سرگرمی کا حصہ بنتے ہیں۔

    مُلک میں چمڑے کی کل ضروریات کا تقریباً 40 فیصد قربانی کے تین دنوں میں پورا ہو جاتا ہے۔عیدِ قرباں پر بیرون ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں بھی اضافہ ہوتا ہے کیونکہ امریکہ اور یورپ سمیت مشرق وسطیٰ میں رہائش پذیر پاکستانی اپنی قربانی کی رقومات پاکستان بھیجتے ہیں تاکہ قربانی کا فائدہ ملک کے پسماندہ طبقات کو ہو۔

    دیکھا جائے تو قربانی دراصل غریبوں کے لئے ہی روزگار پیدا کرتی ہے، بُہت سے لوگ جو گوشت افورڈ نہیں کر سکتے اُنہیں ہر سال عید الاضحی پر کھانے کے لیے گوشت ضرور ملتا ہے، قُربانی کی کھالوں سے ایسے فلاحی ادارے چلتے ہیں جو غریبوں کے بچوں کو پڑھاتے ہیں یا پھر ہسپتالوں میں غریبوں کا مفت علاج کرواتے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالی مسلمانانِ عالم کو سنت ابراھیمی ( علیہ السلام) اور سنت رسولﷺ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور قربانی کے مبارک عمل کو بارگاہ جلیلہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔

  • حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ.تحریر: مزمل مسعود دیو

    حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ.تحریر: مزمل مسعود دیو

    بلال تجھ پر نثار جاؤں کہ خود نبی نے تجھے خریدا
    نصیب ھو تونصیب ایسا غلام ھو تو غلا م ایسا

    آپ کا پیدائشی نام بلال، کنیت ابوعبداللہ تھی۔ والد کا نام رباح اوروالدہ کانام حمامہ تھا، آپ حبشی نژاد غلام تھے اور آپ کی پیدائش مکہ ہی میں پیدا ہوئے، بنی جمح کے غلام تھے۔ آپ کا قد نہایت طویل، جسم چست، رنگ نہایت گندم گوں بلکہ سیاہی مائل، سر کے بال نہایت گھنے خمدار اور اکثر سفید تھے۔

    حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب صرف سات آدمیوں کو اس کے اعلان کی توفیق ہوئی تھی جس کی وجہ سے طرح طرح کے مظالم سے ان کے استقلال واستقامت کی آزمائش ہوئی، کبھی تپتی ہوئی ریت پر ننگے بدن لٹایا گیا تو کبھی جلتے ہوئے سنگریزوں اوردہکتے ہوئے انگاروں پر لٹائے گئے۔ ابوجہل ان کو منہ کے بل سنگریزوں پر لٹا کر اوپر سے پتھر کی چکی رکھ دیتا اورجب آفتاب کی تمازت بیقرار کردیتی تو کہتا، بلال اب بھی محمد ﷺ کے خدا سے بازآجا لیکن اس وقت بھی دہن مبارک سے یہی کلمہ احد احد نکلتا۔

    ایک دن بلال کو ایسی ہی اذیتیں دی جا رہی تھیں کہ ادھر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گذر ہوااور حضرت بلال کی قسمت کا ستارہ چمک گیا۔ آپ سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ پر یہ ظلم برداشت نہ کرسکے۔ لہذا سیدنا ابوبکر سے کہا کہ وہ بلال کو اس مصیبت سے نجات دلائیں۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر نے امیہ بن خلف کو بلال کی منہ مانگی قیمت ادا کرکے خریدا، پھر آزاد کر دیا۔ ایک روایت کے مطابق یہ قیمت ایک کلو سے زائد چاندی تھی۔اس آزادی کے بعد پھر حضرت بلال نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در کی غلامی کرلی اور اتنا اعلی مقام پایا کہ اللہ کے حبیب نے کہا کہ جب میں معراج پر گیا تو میں نے بلال کے قدموں کی آہٹ جنت میں سنی۔جب ہجرت ہوئی تو مکہ سے نبی پاک کے ساتھ مدینہ چلے گئے۔

    حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ تمام مشہور غزوات میں شریک تھے، غزوۂ بدر میں انہوں نے امیہ کو تہِہ تیغ کیا جو اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اورخود ان کی ایذارسانی میں بھی اس کا ہاتھ سب سے پیش پیش تھا۔

    اسلام کے پہلے مُؤذن کا اعزاز بھی حضرت بلال کے پاس ہے۔حضرت بلال سب سے پہلے شخص ہیں جو اذان دینے پر مامور ہوئے۔سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کھانے پینے کا انتظام بلال کے سپرد ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ایک بار حضرت عمر کے اصرار پر جب بیت المقدس فتح کیا تو اذان کہی۔ اس روز اذان میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام آیا تو غش کھا کر گر پڑے۔ حضرت بلال کی آواز نہایت بلند وبالا ودلکش تھی، ان کی ایک صدا توحید کے متوالوں تک پہنچتی، مرد اپنا کاروبار، اوربچے کھیل کود چھوڑ کرمسجد میں جمع ہوجاتے تو نہایت ادب کے ساتھ آستانہ نبوت پر کھڑے ہوکر کہتے یارسول اللہ نماز تیار ہے، غرض آپ تشریف لاتے اوربلال اقامت کہتے اہل ایمان سربسجود ہونے کے لیے صف بصف کھڑے ہو جاتے۔
    فتح مکہ کے دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال سے کہا کہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہوکر اذان پڑھو۔ حضرت بلال نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منہ کس طرف کروں تو
    نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جدھر جدھر میں جاؤں تم بھی اسی طرف گھوم جانا اس طرح اذان مکمل کی۔

    نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پردہ پوشی کے بعد شام کے شہر حلب چلے گئے، کہتے تھے اب مدینہ میں دل نہیں لگتا۔ ایک رات خواب میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ نے فرمایا بلال ایسی بھی کیا بے رخی ہمیں ملنے کیوں نہیں آتے۔ صبح ہوتے ہی شہر نبی کی جانب روانہ ہو گئے جونہی حضرت بلال کی اونٹنی مدینہ شریف داخل ہوئی شہر بھر میں شور مچ گیا مؤذن رسول آگئے۔ آپ سیدھے قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گئے لپٹ کر زارو قطار روئے اور کہنے لگے یارسول اللہ میں آگیا۔
    نماز کاوقت ہوا تو صحابہ نے اصرار کیا کہ اذان دیں تو آپ نے منع کردیا آخرکار حسنین کریمین کے اصرار پر راضی ہوئے اور اذان شروع کی۔ حضرت بلال نے اللہ اکبر کہا تو مدینہ شریف میں کہرام مچ گیا لوگ گلیوں میں روتے ہوئے مسجد نبوی کی جانب چلنے لگے۔ جب اشہد ان محمد رسول اللہ کہا تو منبر رسول کی جانب نگاہ کی ۔ منبر رسول خالی دیکھا تو غش کھا کر گر گئے۔ یہ حضرت بلال کی زندگی کی آخری اذان تھی۔

    کہتے ہیں کہ جب آپکے وصال کا وقت قریب آیا تو نئے کپڑے سلوائے اور سرمہ لگایا۔ لوگوں نے پوچھا آج کیا بات ہے تو کہنے لگے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کا وقت جو آگیا ہے۔ 20 محرم سن 20 ہجری کو یہ ماہتاب عشق نبوی غروب ہوگیا۔دمشق کے محلہ باب الصغیر میں آپ ؓ نے وفات پائی، اس وقت عمر تقریبا تریسٹھ برس تھی۔ آپ کا مزار دمشق میں ہے۔

  • سنہرا پیکج.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    سنہرا پیکج.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    اللہ رب العزت اپنے بندے سے بہت محبت کرتا ہے. اللہ اپنے بندے کو اپنے قریب کرنے کے مواقع فراہم کرتا رہتا ہے. دوماہ قبل رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہمیں عطاء کیا. کمال کا لازوال پیکج تھا. ہم نے رب کو منایا, مناجات کیں, نیک و صالح اعمال کئے لیکن اللہ کہتا ہے میرے بندے بس تو اتنے میں ہی راضی ہوگیا .نہیں بلکہ دس دن کا تجھے مزید پیکج دے رہا ہوں . تو جی ہاں ذی الحجہ کا بابرکت مہینہ آن پہنچا ہے. کل ذی الحجہ کا پہلا دن ہوگا. لیکن سنئے تو سہی انعامات کون سے ہیں.. پیکج میں کیا کیا اللہ نے ہمیں دیا ہے. سب سے پہلے تو اللہ رب العزت ان ایام کی قسمیں کھاتا ہے. اللہ رب العزت سورۃ فجر میں قسم کی دس راتوں کی قسم کھاتے ہیں. تفسیر طبری میں لکھا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن دس راتوں کی قسم کھائی ہے ,یہ ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں. پھر ان ایام میں نیک اعمال کرنے والے کے لیے بڑے بڑے انعامات ہیں. ان ایام میں ہر عمل کا دہرا اجر ہے. صحیح بخاری کی حدیث ہے, حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں کیے گئے اعمالِ صالحہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام ایام میں کیے گئے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہیں۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! اگر ان دس دنوں کے علاوہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے تب بھی؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں! تب بھی اِن ہی اَیام کا عمل زیادہ محبوب ہے، البتہ اگر کوئی شخص اپنی جان و مال دونوں چیزیں لے کر جہاد میں نکلا اور ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی واپس نہ ہوا (یعنی شہید ہوگیاتو یہ افضل ہے)۔اسی طرح اس بابرکت مہینے میں عرفات کا دن بھی اہمیت کا حامل ہے. عرفہ کے دن کی بھی اللہ نے قسم اٹھائی .عرفہ کے دن کے روزے کی بھی بہت اہمیت ہے. حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:”مجھے اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ وہ یوم عرفہ کے روزے رکھنے کی صورت میں گزشتہ سال اور اگلے سال کے گناہ بخش دے گا۔اسی مہینے میں سب سے بڑا عمل حج ہے. لیکن کورونا کی عالمی وباء کی وجہ سے کروڑوں مسلمان اس عمل سے محروم ہیں, اللہ رب العزت حالات کو صحیح کرے تاکہ ایک بار پھر حرم کی رونقیں بحال ہوں.

    اسی ماہ مقدس میں سب اہم فریضہ اسوہ ابراہیمی پر عمل پیرا ہونا ہے. قربانی کا وہ عظیم دن ہے جس دن سب جانوروں کی گردنوں پر چھری پھیر کر اپنی انا کو قربان کرتے ہیں. اسماعیل علیہ السلام کی یادگار اطاعت و فرمانبرداری کی سنت کو دہراتے ہیں.
    باقی اس ماہ مقدس میں زیادہ سے زیادہ ذکر و اذکار کو ترجیح دیں.تکبیرات پڑھیں .ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما عشرہ ذوالحجہ میں بازار جا کر تکبیرات کہتے، تو لوگ بھی انکی تکبیروں کے ساتھ تکبیرات کہتے۔ عمر بن خطاب، آپکے صاحبزادے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منی کے دنوں میں مسجد، اور خیمہ ہر جگہ بلند آواز سے تکبیرات کہتے، حتی کہ پورا منی تکبیروں سے گونج اٹھتا۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ ساتھ متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن [9 ذوالحجہ]کی نماز فجر سے لیکر 13 ذوالحجہ کی عصر تک پانچوں نمازوں کے بعد تکبیرات کہتے تھے، یہ عمل ان لوگوں کیلئے ہے جو حج نہیں کر رہے.

    قارئین! ایک ڈائری یا نوٹ بک لے لیجئے اور ایک ترتیب سے لکھ لیجئے کہ ہم نے اپنے ان دس ایام کو کس طرح سے بہتر بنانا ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے دے کہ ہم اپنے ان ایام کو بابرکت بناسکیں اور ہمارا یہ پیکج بھی رمضان کے پیکج کی طرح مقبول پیکج ثابت ہو.

  • مشکل کشا صرف رب کی زات.تحریر: ارم رائے

    مشکل کشا صرف رب کی زات.تحریر: ارم رائے

    صرف عقل و شعور والوں کے لئے۔
    کیا اللہ کے سوا کوئی اور مشکل کشا حاجت روا یا مشکلات حل کرنے پر قادر ہے؟
    اکثر مذہبی حلقوں میں یہ بحث سر اٹھاتی ہے کہ کیا اللہ کے سوا کوئی غیر اللہ مشکل حل کرسکتا ہے؟ یا صرف اللہ ہی اس پر قادر ہے؟ دونوں فریقین میں سے کوئی بھی قائل نہیں ہوتا،جب ایک ذی شعور انسان کے ذہن میں یہ سوال اُبھرتا ہے تو وہ اس سوال کو مختلف پہلووں سے جانچتا اور پرکھتا ہے کہ کس طرح اللہ کے سوا کوئی اور ہستی مشکل کشا ہو سکتی ہے اس سوال کی مختلف صورتیں ہیں۔

    مثلا کسی انسان کو ایک مشکل کا سامنا ہے وہ چاہتا ہے کہ میری مشکل دور ہو، وہ اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو پکارنا چاہتا ہے جو اس کی مشکل دُور کر دے اب ۔۔
    1۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور ہستی مشکل حل کر سکتی ہے تو بتایئے کہ انسان اور مشکل کُشا کے درمیان ہزاروں میلوں کی دُوری پر وہ زندگی میں یا زندگی کے بعد قبر میں آواز سُن سکتا ہے؟
    2۔ بالفرض یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اتنے فاصلوں سے بھی آواز سُن سکتا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ دنیا کی ہر زبان سے واقف ہے یا نہیں مثلاً سرائیکی والا سرائیکی میں مشکل پیش کرے گا، جرمن جرمنی زبان میں، انگریز انگریزی میں اور پٹھان پشتو میں آواز دے گا
    3۔ اگر یہ بات بھی ثابت کر دی جائے کہ وہ ہستی ہر زبان سے واقف ہے تو پھر سوال پیدا ہو گا کہ اگر ایک لمحہ میں سینکڑوں یا ہزاروں لوگ اپنی مشکلیں اس کے سامنے پیش کریں تو کیا وہ ان سب کی مشکلات اسی لمحہ سُن اور سمجھ لے گا؟ یا اس کے لیے قطار بنانے کی ضرورت پیش آئے گی ؟
    4۔ کیا اس ہستی کو کبھی نیند بھی آتی ہے یا وہ ہمیشہ جاگتی رہتی ہے؟ اگر کبھی نیند آتی ہے تو ہمارے پاس ایک ٹائم ٹیبل ہونا چاہیئے کہ کب اس کو نیند آتی ہے اور کب وہ جاگ رہی ہوتی ہے تاکہ ہم اپنی مشکل صرف اسی وقت پیش کریں جب وہ ہستی جاگ رہی ہو ، یا وہ نیند میں بھی سنتی ہے؟
    5۔ ایک دوسرا انسان ہے جو بولنے سے قاصر ہے، وہ ایسی مشکل میں مبتلا ہے کہ اس کا گلا بند ہو چکا ہے، اگر وہ دل ہی دل میں اپنی مشکل پیش کرے تو کیا وہ ہستی اس کی دلی فریاد بھی سُن لے گی ؟
    6۔ انسان کو پیدائش سے لے کر موت تک چھوٹی بڑی تمام مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اگر اللہ تمام مشکلات حل کر سکتا ہے تو پھر غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر غیر اللہ ان تمام مشکلات کو حل کرنے پر قادر ہے تو پھر اللہ کی کیا حاجت ہے؟
    7۔ اگر غیر اللہ مشکل کُشا یا مشکلات حل کرنے پر قادر نہیں، تو ہو سکتا ہے کہ کچھ مشکلات حل کرنے کا بیڑا اللہ نے اُٹھایا ہوا ہو اور کچھ مشکلات حل کرنے کے اختیارات اس نے کسی غیر کو دے رکھے ہوں، ایسی صورت میں تو ہمارے پاس یہ فہرست ہونی چاہیئے کہ کون کون سی مشکلات اللہ تعالیٰ حل کرنے پر قادر ہے اور کون کون سی مشکلات غیر اللہ حل کرسکتا ہے تاکہ مسائل اور مشکلات اسی کے سامنے پیش کر سکیں جو اس کو حل کرنے پر قادر ہو
    8۔ کیا اللہ کے سوا جو ہستی مشکل سے نکال سکتی ہے وہ مشکل میں ڈال بھی سکتی ہے یا اس کی ڈیوٹی صرف حل کرنے پر ہے؟ اگر وہ مشکل حل کر سکتی ہے تو پھر مشکل میں ڈالنے والا کون ہے؟
    9۔ بالآخر نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ مشکلات میں ڈالنے والا ہے اور غیر اللہ مشکل حل کرنے والا ، بالفرض ایک ہستی مشکل میں ڈالنے والی ہو اور دوسری مشکل حل کرنے والی تو دونوں میں سے کونسی ہستی اپنا فیصلہ واپس لے لے گی؟
    10۔ کسی بھی برگزیدہ یا گناہ گار ہستی کا جنازہ پڑھنا ہو تو اس کی بخشش کے لئے اللہ کو آواز دی جائے گی یا مشکل کشا کو؟

    ساری دنیا کے انسان مل کر بھی آپ کو کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے، ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی آپ کو عزت یا ذلیل نہیں کر سکتے ، ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی آپ کے لئے مشکل یا آسانی پیدا نہیں کر سکتے مگر صرف اللہ ،بے شک وہ یکتا ہی مشکل کشا ہے۔اسکے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔کسی غیر الله کی گنجائش نہیں ہے اس لیے مانگنا صرف اللہ سے ہےلیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ جو لوگ صوفیاء کرام اور اولیاء کرام کے کمالات کی وجہ سے انکو نعوز باللہ مشکل کشا یا دینے والے کا درجہ دیتے ہیں تو یہ شرک اور گناہ عظیم ہے۔لیکن ان بزرگان دین کو گالی نہیں دی جا سکتی جو لوگ انکو گالی دیتے ہیں وہ بھی اتنے ہی گنہگار ہیں جتنے ان سے مانگنے والے۔ آپ غیر جانبداری سے ان تمام اولیاء کرام کو پڑھیں انکی تعلیمات کو پڑھیں تو آپ کو صرف واحدنیت ملےگی۔ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیمات ملیں گی۔ کس طرح اپنی زات کی نفی کر کے دوسروں کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے ملےگا۔ انکے قبروں کو جن لوگوں نے پیسہ بنانے کا زریعہ بنایا وہ انکی تعلیمات کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں اسلام پھیلا ہی ان بزرگان دین کی وجہ سے ہے۔ آئیں ان سے مانگنے کے بجائے انکی تعلیمات پر عمل کریں پھر ان شاء الله ہماری دنیوی زندگی بھی کامیاب ہوگی اور آخروی بھی۔

  • اسلام اور تصورِ علم .تحریر :شاہ زیب

    اسلام اور تصورِ علم .تحریر :شاہ زیب

    اسلام جس کی ابتداء ہی اقراء سے ہوئی دراصل بنیادی طور پر ایک تعلیمی تحریک ہے.
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ” انما بعثت معلما ” بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے, مزید فرمایا "علماء انبیاء کے وارث ہیں ",
    گویا نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد تعلیم دینا قیامت تک علماء کا فریضہ ٹھہرا ہے.

    اسلام واحد مذہب ہے جس نے تمام انسانوں کے لئے علم حاصل کرنا فرض قرار دیا اور اس فرض کی انجام دہی کو معاشرے کی ایک ذمہ داری بنایا.

    آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ علم کے مقام اور اسکی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے.
    اسلامی تعلیمات کی بنیادی خصوصیات ہیں کہ انکا محور روحانی, دنیاوی اور شعوری معراج ہے.

    اسلامی تعلیم کے مطابق علم کا سرچشمہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے.
    اشیاء و ہدایت سب اسی کی طرف سے ہے.
    علم کو مقصد حیات کا درجہ رکھتا ہے, دنیا میں انسان کی حیثیت توحید, رسالت, آخرت اور انفرادی و اجتماعی زندگی کی تربیت اور اخلاقیات کے آفاقی اصول اسلامی تعلیمات کا بنیادی جزو ہیں.
    اسلام تربیت کو تعلیم سے علیحدہ نہیں کرتا تربیت ہی انسان کو اللہ کا خاص بندہ بناتی ہے.

    اسلام فکر و تدبر کی دعوت دیتا ہے علم و بصیرت کی پذیرائی کرتا ہے.روحانیت اور سائنسی و معاشرتی قوانین فطرت کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے.

    اسلام میں تعلیم اور علم کسی ایک کے لئے یا مخصوص طبقے کے لئے نہیں جیسے برہمن اور پادری وغیرہ کے لئے ہوتا ہے بلکہ کل انسانیت کے لیے فرض ہے.
    اور علم کو بغیر عمل فتنہ قرار دیا گیا ہے
    اسلام کی نظر میں تعلیم تحریک ہے
    تعلیم تبلیغ ہے
    تعلیم دینے اور لینے میں بے ایمانی اور کنجوسی کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اسلام میں.
    اپنی اگلی نسلوں کے لئے خود بھی تعلیم حاصل کرنا چاہئے اور اسلامی خطوط پر بچوں کی پرورش کے لئے تگ و دو کرنی چاہئے.
    وما علینا الا البلاغ المبین.
    @shahzeb___

  • دورِ فِتن، ہم اور ہمارے علماء کی ذمہ داری۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

    دورِ فِتن، ہم اور ہمارے علماء کی ذمہ داری۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

    دورِ فِتن کی علامات جو احادیث میں بیان کی گئی ہیں وہ اب ظاہر ہوتی جارہی ہیں۔ اب آنے والا وقت سخت سے سخت تر ہوتا جائے گا ہر نئی آنے والی مصیبت کے مقابلے میں گزشتہ مصیبت ہلکی معلوم ہوگی۔ لہٰذا نجات اِسی میں ہے کہ دنیا کی محبت دل سے نکال کر آخرت کی تیاری کی جائے اللّه کے حضور صدقِ دل سے توبہ کی جائے اور رسول اللہ ﷺ کی سُنتوں کو اپنایا جائے ۔ آپ آج اپنئ اِردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو محسوس ہوگا کتنا مشکل ہے کہ میں اِن وجوہات سے بچ سکوں مگر مشکل نظر آئے گا ،کیونکہ سب سے بڑا فتنے باز ہمارا موبائل ہی ہے جو ہر چند سیکنڈ بعد ہمیں موصول ہونے والے میسیجز ہیں جو بنا تصدیق ہم تک پہنچ جاتے ہیں اور بنا تحقیق کئے وہی میسج یا تحریر ویسے ہی آپ آگے فارورڈ کرتے ہیں ، لیکن اِن گناہوں سے بچنے کا اور خُود کو اِن فتنوں سے بچانے کیلئے آسان سا حل ہے کے ہم دین کے اُن ارکان اُن باتوں کو اپنائیں جن اعمال کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ، اب یہاں بات آتی ہے کہ ہمارے علماء کا کردار کتنا ضروری ہے اور کیا وہ اپنا کردار ٹھیک سے ادا کر رہے ہیں ۔۔؟ اگر نہیں تو ہمیں خُود چاہئے کے اپنے محلے کی مسجد کے عالم یا مولوی سے سوال کریں کے کہ جناب اِس طرف بھی کچھ بیان کیا کریں ، ہمارے مُعاشرے میں بُرائی بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی رہی ہے کے ہم نے اپنے علماء سے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے ، اُس سے ہُوا کیا۔۔؟ اُس سے یہ ہُوا کے علماء بھی ڈھیلے پڑ گئے اپنی اصل ذمہ داری سے ، اب اگر اِن مسائل پر بات کی جائے تو مجھے ایک پوری کتاب لکھنا پڑ جائے گی ، اور ہم نے کتاب کو تو ہاتھ لگانا نہیں کیوں کے زمانہ بدلتا جا رہا ہے اور اِسی بدلتے زمانے میں فتنے بپا ہوتے جائیں گے اب چند احادیث کے حوالے اور قُرآن کریم سے آیات پیشِ خدمت ہیں ۔
    انِّی لَأَرَی مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُیُوتِکُمْ کَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ
    صحیح البخاری رقم الحدیث۵۳۱۵۔صحیح مسلم رقم الحدیث۵۸۸۲
    بے شک میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں کی جگہوں میں فتنے ایسے گر یں گے جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں
    عن کعب(رض) قال أظلمتکم فتنۃ کقطع اللیل المظلم لایبقی بیت من بیوت المسلمین بین المشرق والمغرب الادخلتہ
    الفتن لنعیم بن حماد:ج۱ص۴۵۲رقم الحدیث۴۱۷
    حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اندھیری رات کے مانند تم پر ایسا فتنہ آئے گا جو نہیں چھوڑے گا کوئی گھر مسلمانوں کے گھروں میں سے مشرق و مغرب کے درمیان مگر یہ کہ وہ ہو امیں داخل ہوجائے گا
    ہر صاحب بصیرت جس کو اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم اور اپنے دین کے صحیح فہم سے نوازا ہو ، وہ اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ایسے گونگے اور بہرے ،گھٹا ٹوپ اور تیرہ و تاریک فتنے ظہور پذیر ہوں گے جو ایسے رگڑا دیں گے جیسے چمڑے کو زمین پر پٹخااور رگڑا جاتا ہے، جو ایسے اُدھیڑ کر رکھ دیں گے جیسے بالوں کو اُدھیڑا اور رگڑا جاتا ہے، جو ایسے ریزہ ریزہ کردیں گے جیسے خشک اور سوکھی مینگنی کو ریزہ ریزہ کردیا جاتا ہے یا جیسے روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ثریدمیں ڈالا جاتا ہے ،جوایسی چوٹیں لگائیں گے جن کی تاب کوئی نہ لاسکے گا،اور ان فتنوں میں سب سے بد ترین فتنہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی اُمت کو ڈرایا اور فرمایا کے مجھ سے پہلے آنے والے ہر نبی اور پیغمبر نے اپنی قوم کو ڈرایا وہ ہے ’’دجال اکبر ‘‘کا فتنہ اور اس فتنے کو دنیا میں ہونے والے ہر فتنے کا موجب اور منبع قرار دیا

    وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَۃٌ مُنْذُ کَانَتْ الدُّنْیَا صَغِیرَۃٌ وَلَا کَبِیرَۃٌالَّا لِفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ
    مسنداحمد:ج۵ص۹۸۳رقم الحدیث:۲۵۳۳۲۔مجمع الزوائد:ج۷ص۵۳۳رجالہ رجال الصحیح
    اور آج تک دنیامیں جو کوئی چھوٹا بڑا فتنہ رونماہوتا ہے وہ دجال کے فتنے کی وجہ سے ہے
    فتنہ چھوٹا ہو یا بڑا وہ دجال کے فتنے پر ہی منتج ہوگا۔سو جو اس کے فتنے سے پہلے فتنوں سے بچ گیا وہ دجال کے فتنوں سے بھی بچ جائے گا
    احادیث فی الفتن والحوادث ج:۱ ص۶۵۲بحوالہ تیسری عالمی جنگ اور دجال

    اس افسوس ناک صورتحال سے زیادہ کرب کی بات یہ ہے کہ اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم جو دنیا کا واحد گروہ ہے جسے ماضی ،حال اور مستقبل کا قُرآن و سنت کی صورت میں کافی علم دیا گیا ہے ،آج حیران اور ناواقف راہ ہیں اور بھٹک رہی ہے اور دنیا کی تاریکیوں سے روشنی کی بھیک مانگ رہی ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعد اب ان فتنوں کے ظہور کی رفتار تیز ہوتی محسوس ہورہی ہے گویا ہمیں خُود محنت کرنا ہے اِن فِتنوں سے جتنا ہو سکے خُود کو اور اپنے اردگرد دوست احباب کو ہر چھوٹے چھوٹے برے عمل سے روکنا ہے اور مسلمان وہی ہے جو برائی کو روکے اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمیں ہر بات ہر آنے والے دور کے بارے میں کُھلے الفاظ میں بتایا گیا ہے کیا ہم اتنے قاہل ہو گئے ہیں کے اپنے ایمان کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے جبکہ قُرآن میں اللہ فرما رہا ہے۔ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ
    (سُورۃمحمد:۱۸)
    تو کیا یہ قیامت کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ اِن کے پاس اچانک آجائے ،یقیناً اس کی نشانیاں تو ظاہر ہوہی چکی ہیں۔پھر جب اُن کے پاس قیامت آجائے تو انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا ۔
    نشانیوں کا خروج یکے بعد دیگرے ہوگا ،اس طرح پے درپے آئیں گی جس طرح لڑی ٹوٹنے کے بعدپروئے ہوئے دانے آتے ہیں
    ان حالات کا تقاضا ہے کہ قُرآن و احادیث مبارکہ کی روشنی میں اس صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے ،موجودہ حالات کی تبدیلی کو صحیح زاویہ سے دیکھاجائے اور آئندہ کے لئے صحیح نشاندہی کی جائے تاکہ اُمت اپنے فرضِ منصبی کو پیش آنے والے عظیم معرکہء خیر وشر میں کماحقہ سرانجام دے کر پوری انسانیت کو کامیابی سے ہمکنار کرے ۔
    اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ میری اِس کوشش کو قبول فرمائے اور اللہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو سچی توبہ اور استقامت نصیب فرمائے ۔آمین
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

  • ‏اسوۂ رسول اور ہم.تحریر:۔محمد عادل حسین

    ‏اسوۂ رسول اور ہم.تحریر:۔محمد عادل حسین

    ہم مسلمان ہیں اورمسلمان کا مطلب فرمانبردار ہے
    اصطلاح میں اس سے مراد وہ شخص ہےجو اللہ کےاحکامات اور اس کے رسولؐ کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرے
    فرمان الہی ہے

    "لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡہِمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ ؕ”

    یقیناً تمہارے لئے رسولُ اللّٰهﷺ اچھا نمونہ ہیں ( اور عمدہ پیروی ہے خاص کر ) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو

    سورة الممتحنة – Ayat No 6

    یہ سیدھا سااصول بیان کردیا کہ ہم اپنے ہر قول وفعل ولادت سے وفات تک ہرکام میں رسولُ اللّٰهﷺ کی پیروی کریں
    اپنی عبادت اور نیکی کے بارے میں کہ اگر اس کا طریقۂ و ہئیت آپ طریقے کے مطابق نہ تو وہ قبول نہیں۔

    اسی طرح تجارت،سیاست،عدالت خلوت،جلوت،رشتہ داری،دوستی ،بیوی ،بچوں، والدین،اولاد کے حقوق الغرض زندگی کاکوئی معاملہ بھی ایسا نہیں کہ جس کی راہنمائی رسولُ اللّٰهﷺ نے نا کی ہو

    اصحابؐ محمدﷺ کاانداز کیاان کو مقام ومرتبہ کس وجہ سے ملا کہ اسؤہ رسول پہ اپنی زندگی بسرکرتے تھے جوبھی حکم ملتا ان کا کام "سمعناواطعنا” (سننااور فورا عمل کرنا) تھا شراب کی حرمت کامعاملہ دیکھ لیں حکم جاری ہوتے ہی ذخیرہ شدہ کو فورا بہادیا
    ایک دن آپؐ خطبہ ارشاد فرما رہے آپ نے کہا "اجلسوا”!
    بیٹھ جاؤ ایک صحابی کہ جو دروازے کی دہلیز پہ تھے وہی بیٹھ گۓایک قدم اٹھانا بھی گوارہ ناکیا
    اللہ تعالی نے پھر مقام کیا دیا
    انکو رضی اللہ عنہ کاسرٹیفیکٹ زندگی میں ہی عطاء کردیا

    ہم بھی نیک اعمال کس وجہ سے کرتے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجاۓ

    آج ہماری حالت کاایک سبب یہ کہ ہم نے اسؤہ رسولؐ سے روگردانی کی اور جن کی مخالفت کا حکم ملا تھا(یہود ونصری)ان کو اپنا آئیڈیل بنا لیا۔

    شاعر نے بھی کیاخوب عکاسی کی
    تمہاری تہذیب اپنےہی خنجر سے خود کشی کرے گی
    شاخ نازک یہ جو آشیانہ بنے گا ناپائدار ہوگا

    اللہ ہمیں اسؤہ رسول پہ زندگی بسر کرنے کی توفیق دے،آمین

  • حلیمہ سعدیہ ؓ کی گود میں. تحریر: فاطمہ بلوچ

    حلیمہ سعدیہ ؓ کی گود میں. تحریر: فاطمہ بلوچ

    اس زمانے میں عرب کا دستور یہ تھاکہ جب ان کے ہاں کوئی بچہ ہوتا تو وہ دیہات سے آنیوالی دائیوں کے حوالے کردیتے تھے تاکہ دیہات میں بچے کی نشوونمابہتر ہواوروہ خالص عربی زبان سیکھ سکے-
    دائیوں کا قافلہ مکہ میں داخل ہوا_انہوں نے ان گھروں کی تلاش شروع کی جن میں بچے پیدا ہوئے تھے-اس طرح بہت سی دائیاں جناب عبد المطلب کے گھر بھی آئیں-نبی کریمﷺکو دیکھالیکن جب انہیں معلوم ہواکہ یہ بچہ تو یتیم پیدا ہواہے تو اس خیال سے چھوڑکر آگے بڑھ گئیں کہ یتیم بچے کے گھرانے سے انہیں کیاملے گا-اس طرح دائیاں آتی رہیں، جاتی رہیں…کسی نے آپ کو دودھ پلانامنظور نہ کیااور کرتیں بھی کیسے؟ یہ سعادت تو حضرت حلیمہؓ کے حصے میں آناتھی-
    جب حلیمہ ؓ مکہ پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا، سب عورتوں کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیاہے اور اب صرف وہ بغیر بچے کے رہ گئیں ہیں اور اب کوئی بچہ باقی نہیں بچا، ہاں ایک یتیم بچہ ضرور باقی ہے جسے دوسری عورتیں چھوڑ گئیں ہیں-
    حلیمہ سعدیہؓ نے اپنے شوہر عبد اللہ ابن حارث سے کہا:
    خدا کی قسم! مجھے یہ بات بہت ناگوار گزر رہی ہے کہ میں بچے کے بغیر جاؤں دوسری سب عورتیں بچے لے کر جائیں، یہ مجھے طعنے دیں گے، اس لیے کیوں نہ ہم اسی یتیم بچے کو لے لیں۔”
    عبداللہ بن حارث بولے:
    "کوئی حرج نہیں! ہوسکتا ہے، اللہ اسی بچے کے ذریعے ہمیں خیروبرکت عطا فرمادیں۔”
    چنانچہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا عبدالمطلب کے گھر گئیں۔جناب عبدالمطلب اور حضرت آمنہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔پھر آمنہ انہیں بچے کے پاس لے آئیں۔آپ اس وقت ایک اونی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔وہ چادر سفید رنگ کی تھی۔آپ کے نیچے ایک سبز رنگ کا ریشمی کپڑا تھا۔آپ سیدھے لیٹے ہوئے تھے، آپ کے سانس کی آواز کے ساتھ مشک کی سی خوشبو نکل کر پھیل رہی تھی۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں۔آپ اس وقت سوئے ہوئے تھے، انہوں نے جگانا مناسب نہ سمجھا۔لیکن جونہی انہوں نے پیار سے اپنا ہاتھ آپ کے سینے پر رکھا، آپ مسکرادیے اور آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "میں نے دیکھا، آپ کی آنکھوں سے ایک نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا، میں نے آپ کو گود میں اٹھا کر آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیانی جگہ پر پیار کیا۔پھر میں نے آپ کی والدہ اور عبدالمطلب سے اجازت چاہی، بچے کے لیے قافلے میں آئی۔میں نے آپ کو دودھ پلانے کے لیے گود میں لٹایا تو آپ دائیں طرف سے دودھ پینے لگے، پہلے میں نے بائیں طرف سے دودھ پلانا چاہا، لیکن آپ نے اس طرف سے دودھ نہ پیا، دائیں طرف سے آپ فوراً دودھ پینے لگے۔بعد میں بھی آپ کی یہی عادت رہی، آپ صرف دائیں طرف سے دودھ پیتے رہے، بائیں طرف سے میرا بچہ دودھ پیتا رہا۔

    پھر قافلہ روانہ ہوا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "میں اپنے خچر پر سوار ہوئی۔آپ کو ساتھ لے لیا۔اب جو ہمارا خچر چلا تو اس قدر تیز چلا کہ اس نے پورے قافلے کی سواریوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔پہلے وہ مریل ہونے کی بنا پر سب سے پیچھے رہتا تھا۔میری خواتین ساتھی حیرانگی سے مخاطب ہوئیں:
    "اے حلیمہ! یہ آج کیا ہورہا ہے، تمہارا خچر اس قدر تیز کیسے چل رہا ہے، کیا یہ وہی خچر ہے، جس پر تم آئیں تھیں اور جس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل تھا؟ ”
    جواب میں میں ان سے کہا:
    "بےشک! یہ وہی خچر ہے، اللہ کی قسم! اس کا معاملہ عجیب ہے۔”

    پھر یہ لوگ بنو سعد کی بستی پہنچ گئے، ان دنوں یہ علاقہ خشک اور قحط زدہ تھا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "اس شام جب ہماری بکریاں چر کر واپس آئیں تو ان کے تھن دودھ سے بھرے تھے جب کہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا، ان میں سے دودھ بہت کم اور بہت مشکل سے نکلتا تھا۔ہم نے اس دن اپنی بکریوں کا دودھ دوہا تو ہمارے سارے برتن بھرگئے اور ہم نے جان لیا کہ یہ ساری برکت اس بچے کی وجہ سے ہے۔آس پاس کی عورتوں میں بھی یہ بات پھیل گئی، ان کی بکریوں بدستور بہت کم دودھ دے رہی تھیں۔
    غرض ہمارے گھر میں ہر طرف، ہر چیز میں برکت نظر آنے لگی۔دوسرے لوگ تعجب میں رہے۔اس طرح دو ماہ گزر گئے۔دو ماہ ہی میں آپ چلنے پھرنے لگے۔آپ آٹھ ماہ کے ہوئے تو باتیں کرنے لگے اور آپ کی باتیں سمجھ میں آتیں تھیں۔نو ماہ کی عمر میں تو آپ بہت صاف گفتگو کرنے لگے۔

    اس دوران آپ کی بہت سی برکات دیکھنے میں آئیں۔حلیمہ سعدیہ فرماتی ہیں:
    "جب میں آپ کو اپنے گھر لے آئی تو بنو سعد کا کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا۔جس سے مشک کی خوشبو نہ آتی ہو، اس طرح سب لوگ آپ سے محبت کرنے لگے ۔جب ہم نے آپ کا دودھ چھڑایا تو آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے:
    اللہ اکبرکبیراوالحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا
    یعنی اللہ تعالٰی بہت بڑاہے، اللہ تعالی کے لئے بے حد تعريف ہے، اور اس کےلئے صبح وشام پاکی ہے،، ۔
    پھر جب آپ ﷺدو سال کے ہو گئے تو ہم آپ کو لےکر آپ کی والدہ کے پاس آئے، اس عمر کو پہنچنے کے بعد بچوں کو ماں باپ کے حوالہ کردیا جاتاتھا ۔ادھر ہم آپکی برکات. دیکھ چکےتھے اور ہماری آرزو تھی کہ ابھی آپ کچھ اور مدت ہمارے پاس رہیں، چنانچہ ہم نے اس بارے میں آپ کی والدہ سے بات کی، ان سے یوں کہا ;
    ،، آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم بچےکو ایک سال اوراپنے پاس رکھیں، میں ڈرتی ہوں، کہیں اس پر مکہ کی بيماريوں اور آب و ہوا کااثر نہ ہوجائے،، ۔
    جب ہم نے ان سے باربار کہا تو حضرت آمنہ مان گئیں اورہم آپ کو پھر اپنے گھر لے آئے۔جب آپ کچھ بڑے ہو گئے تو باہر نکل کر بچو ں کو دیکھتے تھے ۔وہ آپ کو کھیلتے نظر آتے، آپ ان کے نزدیک نہ جاتے، ایک روز آپ نے مجھ سے پو چھا;
    ،، امی جان ” کیا بات ہے دن میں میرے بھائ بہن نظر نہیں آتے? آپ اپنے دودھ شریک بھائ عبداللہ اور بہنوں انیسہ اور شیما کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں; میں نے آپ کو بتایا، وہ صبح سویرے بکریاں چرانے جاتےہیں، شام کے بعد گھر آتے ہیں: یہ جان کر آپ نے فرمایا:
    "تب مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیا کریں”
    اسکے بعد آپ اپنے بھائ بہنوں کے ساتھ جانے لگے ۔آپ خوش خوش جاتے اور واپس آتے، ایسے میں ایک دن میرے بچے خوف زدہ انداز میں دوڑتے ہوئے آئے اور گھبرا کر بولے:
    "امی جان! جلدی چلئے… ورنہ بھائ محمدﷺ ختم ہو جائیں گے۔”
    یہ سن کر ہمارے تو ہوش اڑ گئے، دوڑ کر وہاں پہنچے، ہم نے آپ کو دیکھا، آپ کھڑے ہوئے تھے، رنگ اڑا ہوا تھا، چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی – اور یہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ کو سینہ چاک کئے جانے سے کوئی تکلیف ہوئی تھی بلکہ ان فرشتوں کو دیکھ کر آپ کی حالت ہوئی تھی -”
    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، ہم نے آپ سے پوچھا:
    "کیا ہوا تھا؟”
    آپ نے بتایا:
    "میرے پاس دو آدمی آئے تھے – وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے – (وہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تھے) ان دونوں میں سے ایک نے کہا:
    ” کیا یہ وہی ہیں؟”
    دوسرے نے جواب دیا:
    "ہاں یہ وہی ہیں -”
    پھر وہ دونوں میرے قریب آئے، مجھے پکڑا اور لٹادیا – اس کے بعد انہوں نے میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے کوئی چیز تلاش کرنے لگے – آخر انہیں وہ چیز مل گئی اور انہوں نے اسے باہر نکال کر پھینک دیا، میں نہیں جانتا، وہ کیا چیز تھی -”
    اس چیز کے بارے میں دوسری روایات میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا ایک دانہ سا تھا – یہ انسان کے جسم میں شیطان کا گھر ہوتا ہے اور شیطان انسان کے بدن میں یہیں سے اثرات ڈالتا ہے –
    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، پھر ہم آپ کو گھر لے آئے – اس وقت وہ میرے شوہر عبد اللہ بن حارث نے مجھے سے کہا:
    "حلیمہ! مجھے ڈر ہے، کہیں اس بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے، اس لیے اسے اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو

  • ماہِ نبوت طلوع ہوا .تحریر :فاطمہ بلوچ

    ماہِ نبوت طلوع ہوا .تحریر :فاطمہ بلوچ

    سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی
    سب سے بالا و وَالا ہمَارا نبی
    اپنے مولیٰ کا پیارا ہمَارا نبی
    دونوں عالَم کا دُولہا ہمَارا نبی
    بزمِ آخر کا شمع فَروزاں ہوا
    نُورِ اوّل کا جلوہ ہمَارا نبی

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ کی آنول نال کٹی ہوئی تھی۔{آنول نال کو بچے پیدا ہونے کے بعد دایہ کاٹتی ہے۔}
    آپ ختنہ شدہ پیدا ہوئے۔عبدالمطلب یہ دیکھ کر بےحد حیران ہوئے اور خوش بھی۔وہ کہا کرتے تھے، میرا بیٹا نرالی شان کا ہوگا۔{الہدایہ}
    آپ کی پیدائش سے پہلے مکّہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے۔لیکن جونہی آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا۔بارشیں شروع ہوگئیں، خشک سالی دور ہوگئی۔درخت ہرے بھرے ہوگئے اور پھلوں سے لد گئے۔زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔
    پیدائش کے وقت آپ اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے۔سر آسمان کی طرف تھا۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے۔مطلب یہ کہ سجدے کی سی حالت میں تھے۔{طبقات}
    آپ کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔جیسا کہ ہم نماز میں اٹھاتے ہیں۔
    حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    "جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا۔اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے۔” ( طبقات )
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں:
    "محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی میں مجھے بصری میں چلنے والے اونٹوں کی گردنیں تک نظر آئیں۔”
    علامہ سہلی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ نے اللہ کی تعریف کی۔ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں:
    "اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا ۔
    "اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالیٰ کی بےحد تعریف ہے اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں۔”
    آپ کی ولادت کس دن ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔آپ صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔
    تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بہت سے قول ہیں۔ایک روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ایک روایت 8 ربیع الاول کی ہے، ایک روایت 2 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔اس سلسلے میں اور بھی بہت سی روایات ہیں۔زیادہ تر مورخین کا خیال ہے کہ آپ 8 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔تقویم کے طریقہ کے حساب سے جب تاریخ نکالی گئی تو 9 ربیع الاول نکلی۔مطلب یہ کہ اس بارے میں بالکل صیح بات کسی کو معلوم نہیں۔اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مہینہ ربیع الاول کا تھا اور دن پیر کا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو پیر کے دن ہی نبوت ملی۔پیر کے روز ہی آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پیر کے روز ہی آپ کی وفات ہوئی۔
    آپ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔یعنی ہاتھیوں والے سال میں۔اس سال کو ہاتھیوں والا سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی۔
    آپ کی پیدائش اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ہوئی تھی –
    واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ
    ابرہہ یمن کا عیسائی حاکم تھا – حج کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں – اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا :
    ” یہ لوگ کہاں جاتے ہیں ”
    اسے جواب ملا:
    ” بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں ”
    اس نے پوچھا:
    ” بیت اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے”
    اسے بتایا گیا :
    ” پتھروں کا ہے ”
    اس نے پوچھا :
    ” اس کا لباس کیا ”
    بتایا گیا
    ” ہمارے ہاں سے جو دھاری دار کپڑا جاتا ہے اس سے اس کی پوشاک تیار ہوتی ہے ”
    ابرہہ عیسائی تھا – ساری بات سن کر اس نے کہا ":
    "مسیح کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے اس سے اچھا گھر تعمیر کروں گا ”
    اس طرح اس نے سرخ ” سفید ” زرد ” اور سیاہ پتھروں سے ایک گھر بنوایا – سونے اور چاندی سے اس کو سجایا اس میں کئی دروازے رکھوائے اس میں سونے کے پترے جڑوائے – اس کے درمیان میں جواہر لگوائے – اس مکان میں ایک بڑا سا یاقوت لگوایا – پردے لگوائے ” وہاں خوشبوئیں سلگانے کا انتظام کیا – اس کی دیواروں پر اس قدر مشک ملا جاتا تھا کہ وہ سیاہ رنگ کی ہوگئیں – یہاں تک کہ جواہر بھی نظر نہیں آتے تھے۔
    پھر لوگوں سے کہا:
    ” اب تمہیں بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جانے کی ضرورت نہیں رہی, میں نے یہیں تمہارے لیے بیت اللہ بنوادیا ہے لہٰذا اب تم اس کا طواف کرو ”
    اس طرح کچھ قبائل کئی سال تک اس کا حج کرتے رہے – اس میں اعتکاف کرتے رہے – حج والے مناسک بھی یہیں ادا کرتے رہے –
    عرب کے ایک شخص نفیل خشمی سے یہ بات برداشت نا ہوسکی – وہ اس مصنوعی خانۂ کعبہ کے خلاف دل ہی دل میں کڑھتا رہا -آخر اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ابرہہ کی اس عمارت کو گندہ کرکے چھوڑے گا -پھر ایک رات اس نے چوری چھپے بہت سی گندگی اس میں ڈال دی -ابرہہ کو معلوم ہوا تو سخت غضب ناک ہوا کہنے لگا :
    "یہ کاروائی کسی عرب نے اپنے کعبہ کے لیے کی ہے , میں اسے ڈھادوں گا اس کا ایک ایک پتھر توڑدوں گا ”
    اس نے شام و حبشہ کو یہ تفصیلات لکھ دیں , اس سے درخواست کی کہ وہ اپنا ہاتھی بھیج دے – اس ہاتھی کا نام محمود تھا – یہ اس قدر بڑا تھا کہ اتنا بڑا ہاتھی روئے زمین پر دیکھنے میں نہیں آیا تھا – جب ہاتھی اس کے پاس پہنچ گیا تو وہ اپنی فوج لیکر نکلا اور مکہ کا رخ کیا – یہ لشکر جب مکہ کے قرب و جوار میں پہنچا تو ابرہہ نے فوج کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے جانور لوٹ لیے جائیں – اس کے حکم پر فوجیوں نے جانور پکڑ لیے – ان میں عبدالمطلِّب کے اونٹ بھی تھے –
    نفیل بھی اس لشکر میں ابرہہ کے ساتھ موجود تھا اور یہ عبدالمطلِّب کا دوست تھا – عبدالمطلِّب اس سے ملے – اونٹوں کے سلسلے میں بات کی – نفیل نے ابرہہ سے کہا :
    ” قریش کا سردار عبدالمطلِّب ملنا چاہتا ہے یہ شخص تمام عرب کا سردار ہے ” شرف اور بزرگی اسے حاصل ہے – لوگوں میں اس کا بہت بڑا اثر ہے -لوگوں کو اچھے اچھے گھوڑے دیتا ہے, انہیں عطیات دیتا ہے, کھانا کھلاتا ہے- ”
    یہ گویا عبدالمطلِّب کا تعارف تھا – ابرہہ نے انہیں ملاقات کے لیے بلالیا – ابرہہ نے ان سے پوچھا
    ” بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں؟”
    انہوں نے جواب دیا :
    ” میں چاہتا ہوں میرے اونٹ مجھے واپس مل جائیں ”
    ان کی بات سن کر ابرہہ بہت حیران ہوا – اس نے کہا :
    ” مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ عرب کے سردار ہے ” بہت عِزّت اور بزرگی کے مالک ہیں ” لیکن لگتا ہے مجھ سے غلط بیانی کی گئی ہے- کیونکہ میرا خیال تھا آپ مجھ سے بیت اللہ کے بارے میں بات کریں گے جس کو میں گرانے آیا ہوں اور جس کے ساتھ آپ سب کی عِزّت وابستہ ہے – لیکن آپ نے تو سرے سے اس کی بات ہی نہیں کی اور اپنے اونٹوں کا رونا لیکر بیٹھ گئے – یہ کیا بات ہوئی ”
    اس کی بات سن کر عبدالمطلِّب بولے
    "آپ میرے اونٹ مجھے واپس دے دیں بیت اللہ کے ساتھ جو چاہیں کریں ” اس لیے کہ اس گھر کا ایک پروردگار ہے – وہ خود ہی اس کی حفاظت کرے گا – مجھے اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ”
    ان کی بات سن کر ابرہہ نے حکم دیا :
    "ان کے اونٹ واپس دے دیے جائیں ”
    جب انہیں ان کے اونٹ واپس مل گئے ” تو انھوں نے ان کے سموں پر چمڑے چڑھا دیے – ان پر نشان لگادیے – انہیں قربانی کے لیے وقف کرکے حرم میں چھوڑ دیا تاکہ پھر کوئی انہیں پکڑ لے تو حرم کا پروردگار اس پر غضب ناک ہو –
    پھر عبدالمطلِّب حِرا پہاڑ پر چڑھ گئے – ان کے ساتھ ان کے کچھ دوست تھے – انہوں نے اللہ سے درخواست کی :
    "اے اللہ! انسان اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے، تو اپنے سامان کی حفاظت کر۔”
    ادھر سے ابرہہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھا۔وہ خود ہاتھی پر سوار لشکر کے درمیان موجود تھا۔ایسے میں اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ہاتھی بانوں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ اٹھا۔انہوں نے اس کے سر پر ضربیں لگائیں۔آنکس چبھوئے مگر وہ کھڑا نہ ہوا۔کچھ سوچ کر انہوں نے اس کا رخ یمن کی طرف کیا تو وہ فوراً اس طرف چلنے لگا۔اس کا رخ پھر مکہ کی طرف کیا گیا تو پھر رک گیا۔ہاتھی بانوں نے یہ تجربہ بار بار کیا۔آخر ابرہہ نے حکم دیا، ہاتھی کو شراب پلائی جائے تاکہ نشے میں اسے کچھ ہوش نہ رہ جائے اور ہم اسے مکہ کی طرف آگے بڑھاسکیں۔چنانچہ اسے شراب پلائی گئی، لیکن اس پر اس کا بھی اثر نہ ہوا۔

  • خواتین کو وراثت میں حق دیا جائے صدر پاکستان

    خواتین کو وراثت میں حق دیا جائے صدر پاکستان

    صدر عارف علوی سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے وفد کی چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی قیادت میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی، زونل رویت ہلال کمیٹی کے ممبران اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی ہے.
    صدر پاکستان کا کہنا ہے کہ علماء مساجد کے ذریعے لوگوں میں اہم سماجی موضوعات پر اسلام کی تعلیمات واضح کریں، اسلام نے سب سے پہلے خواتین کو وراثت کا حق دیا ہے، علماء وراثت میں خواتین کے حقوق پر مساجد کے ذریعے لوگوں میں آگاہی پیدا کریں، علماء بڑھتی ہوئی آبادی اور صحت کے مسائل کے متعلق لوگوں کو تعلیم دیں، علماء معاشرتی اصلاح اور اخلاقی اقدار کے فروغ کیلئے کام کریں، علماء منبر و محراب کے ذریعے بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیں، علماء نےکورونا کے دوران لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے ،ایس او پیز پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کیا، تمام رویت ہلال کمیٹیوں کو فعال بنانے پر چیئرمین، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے کردار کو سراہا ہے.