فرمانِ امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ ابن علی علیہ السلام ہے؛
”مجھ (حسینؑ) جیسا کسی (یزید) جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔“
سیاہ عمامہ اور ہاتھ میں عقیق پہنے ، باوقار مسکراہٹ، پُرنور روحانی باریش چہرے اور دور اندیشی و فکری شعور سے روشن آنکھوں والے مشفق رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی حسینیؒ خامنہ ای شہید وہ حق پرست شخصیت تھے جنہوں نے اول دن سے راہِ حق کے امامؑ کے اس قولِ مبارک کو اپنے لئیے مشعلِ راہ بنائے رکھا اور شہادت تک اسی راہ پر ثابت قدم رہے۔ آپ مفسرِ قرآن، مفکرِ اسلام اور کئی کتب کے مؤلف تھے۔ "علمبردارِ فکرِ حسینی ہونا آپ کا وصف تھا۔
ملتِ اسلامیہ کی ہر دل عزیز شخصیت اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ایؒ 19 اپریل 1939ء کو ایک علمی و دینی سادات گھرانے میں ایرانی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب جناب سیدنا امام حسین علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ سید علی خامنہ ایؒ نے قم اور نجف سے علمی و دینی تربیت پائی۔ اور 1963ء اسلامی انقلاب میں بھرپور شرکت کی ۔ آپ کو آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
اسلامی انقلاب سے قبل آپ مشہد مقدس کے مؤثر ترین علمائے دین میں شمار ہوتے تھے۔ ایران کے رہبرِ اعلی منتخب ہونے سے قبل آپ مجلس شورائے اسلامی کے رکن بھی رہے۔ اور اکتوبر 1981ء سے 1989ء تک دو بار ایرانی صدر منتخب ہوئے۔ 1989ء میں امام خمینی کی رحلت کے بعد آپ ایرانی سپریم لیڈر منتخب ہوئے۔ اور 36 سال 6 ماہ ایران کے رہبرِ معظم رہے۔ آپ کو ریاستی پالیسی میں اہم و فیصلہ کن کردار حاصل تھا۔ آپ کسی بھی حکومتی معاملے کو ویٹو کرنے اور ملٹری و عدلیہ اعلیٰ حکام کی تقرری میں اہم مشاورت دینے کا اختیار رکھتے تھے۔ آپ 4 دہائیوں تک یہود و نصارٰی کے لئیے آہنی دیوار بنے رہے۔ 28 فروری 2026ء کو دو سو امریکی طیاروں نے سید علی خامنہ ای کے آفس پہ حملہ کر کے آپ کو اپنے بیٹے، بہو، بیٹی ، داماد ، نواسی اور اہم اعلی ملٹری حکام اور ساتھیوں کے ہمراہ شہید کر دیا۔ اور مسلم امہ ایک دلیر رہنما اور عالمِ دین سے محروم ہو گئی ۔ آہ! مولا علیؑ کا شیر چلا گیا۔
اک وہ شخصیت جن سے ملنے کی، میرے دل نے ہمیشہ ارادہ و امید رکھی۔ جن کی حق گوئی ہمیشہ محترم رہی ، جن کے عمل و استقامت میں خونِ سادات کا جلال دکھائی دیتا، جن کی جرات نےعلمِ جہاد کو سربلند رکھا ، جہنوں نے ثابت کیا۔ کہ زندگی کسی مقصد کے لئیے جہدوجہد کا نام ہے۔ اور موت اس مقصد کو سیراب کر دینے کی منزل، وہ شیر تھا امت کا شیر ۔۔۔ایسے شیر کی موت کبھی بھی عام ہو ہی نہیں سکتی۔ جسے شہادت بھی سلامی دینے آتی ہے۔ مجھے تو عرصہ دراز پہلے ہی ان کی بایو گرافی پڑھنے کے بعد معلوم ہو چکا تھا۔ کہ ان کا شمار شہداء میں ہو گا۔ عام موت تو ان کو چھو بھی نہیں سکتی۔
مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گرد غیر قانونی ریاست اسرائیل کی طرف سے ایک طویل سے جاری جارحیت کے خلاف سید علی حسینی خامنہ ایؒ مردِ آہن ثابت ہوتے رہے۔ دہشت گرد صہیونی و امریکی مسلم دشمن پروپیگنڈے کی راہ میں سید کو مقاومت و مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے۔ کہ آپ کی شخصیت سرحدوں سے بالاتر ہو کر پوری مسلم دنیا بالخصوص فلسطین میں انتہائی محترم سمجھی جاتی تھی۔
یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ امریکہ ہمیشہ سے صیہونی دہشت گردی کا سہولت کار رہا ہے۔ 2015ء سے ایٹمی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر امریکہ ایران سے کشیدگی کو بڑھاوا دیتا آیا ہے۔ اور اب ایرانی رجیم کو بدلنے کے نام پہ ایران پہ جارحیت کی انتہاء ڈھا دی گئی۔ امریکی و اسرائیلی مشترکہ مشن ایپک فیوری کا نام سے دہشت گردی و جارحیت کا آغاز کیا گیا۔ جس میں ایران کے 24 صوبوں میں اہم وزارتوں ، تنصیبات، اسپتالوں ، سکولوں اور آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ صرف میناب میں ہی لڑکیوں کے ایک سکول پہ حملے میں 148 سے زائد بچیاں شہید ہو گئیں۔ ان معصوم بچیوں کی شہادت پہ مجھے ملالہ یوسفزئی یاد ائی۔ ان معصوموں میں زندگی چھیننے والے نام نہاد "مہذبوں” کو کوئی ایک بھی ملالہ نظر نہ آئی ۔۔۔
سوال یہ ہے۔ کہ جب ایک ملک ایٹمی ٹیکنالوجی رکھتا ہے۔ تو کوئی دوسرا ملک وہ ٹیکنالوجی کیوں نہیں رکھ سکتا۔ ؟ صرف اس لئیے کہ ایسا ہونے سے جارحیت کے دلدادہ ممالک کی راہ میں رکاوٹ آ جائے گی۔ دنیا کا کونسا مہذب اصول اسے درست مانتا ہے۔ کہ ایک ملک کا سربراہ میڈیا پہ آ کر دوسرے آزاد ملک کی رجیم ختم کرنے کا دعویٰ کرے۔ اور باقاعدہ اپنی فورسز بھیج کر اس ملک کے سربراہ کا قتل کروا دے۔
آج ایک اہم اور نڈر مسلم رہنما و عالم دین کے ناحق قتل پہ ہر باضمیر سراپا احتجاج اور غم و غصہ میں مبتلا ہے۔ وہیں برادران یوسفؑ کی طرح کئی خلیجی ممالک بھی سہولت کار ہیں ۔ جنہوں نے اپنی سرزمین امریکی اڈوں کے لئیے فراہم کی ہوئی ہے۔ ایران نے جب جوابی کارروائی میں ان اڈوں کو نشانہ بنایا۔ تو خبر بنا دی گئی کہ ایران نے عرب ممالک پہ حملہ کیا ہے۔ عقل کے اندھوں کو یہ نہیں معلوم کہ ایران، عرب ممالک پہ نہیں۔ بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ سوال تو یہ بھی ہے۔ کہ ان عرب ممالک نے اسلام دشمن کفار کو بیسز کے لئیے جگہ کیوں فراہم کی ہے ؟؟؟ منافقت کون کر رہا ہے۔
گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے!!
کچھ زندہ رہ کے بھی مردہ ہی رہتے ہیں۔ اور کچھ مر کے بھی سوچ و فکر اور دلوں میں ہمیشہ کے لئیے بس کے امر ہو جاتے ہیں۔ ایک درویش صفت انسان جن کی آخری دعا ہی یہ تھی۔”یا اللہ ہمیں شہیدوں کے ساتھ ملا دے”, جو اکیلے نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم امہ کے لئیے لڑتے رہے، اپنے ساتھیوں کے لاشے اٹھاتے رہے، جنازے پڑھاتے رہے، یتیموں کے سر پہ دستِ شفقت رکھتے رہے، مگر تنہا ڈٹے رہے۔۔۔ آج ہر مسلک و مکتبِ فکر سے آزاد ہو کر ہر آنکھ ایک عظیم مسلم رہنما کے ناحق قتل پہ اشک بار ہے۔ آغا خامنہ ایؒ کو ان جرات ، مقاومت اور حق پرستی کے نظریے کے سبب آج تاریخ اپنے سینے میں تمغے کے طور پہ سجا رہی ہے۔ یہی وہ عزت ہے۔ جو میرا رب اپنے محبوب بندوں جو صرف اس کی رضا کے طالب ہوں، کو عنایت فرماتا ہے۔
محترم سید علی حسینی خامنہ ایؒ شہید نے اپنے سید و مومن ہونے کا حق ادا کر دیا۔ آپ نے ثابت کر دیا۔ کہ حق کے متوالے باطل و طاغوتی طاقتوں سے ڈرا نہیں کرتے۔ بلکہ ان سے نبرد آزما ہو جاتے ہیں۔ آپ کے نظریات و فکر اور مقاومت ہمیشہ زندہ رہے گی۔
اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائیں۔ اور آپ کے مشن کو کامیابی عطا فرمائیں ۔
آمین
ہم کو حسینؑ ایسا بہادر بنا گئے
سر کٹ گئے یزید کی بیعت مگر نہ کی










