Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • علمبردارِ فکرِ حسینؑ، سید علی حسینی خامنہ ایؒ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    علمبردارِ فکرِ حسینؑ، سید علی حسینی خامنہ ایؒ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    فرمانِ امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ ابن علی علیہ السلام ہے؛
    ”مجھ (حسینؑ) جیسا کسی (یزید) جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔“

    سیاہ عمامہ اور ہاتھ میں عقیق پہنے ، باوقار مسکراہٹ، پُرنور روحانی باریش چہرے اور دور اندیشی و فکری شعور سے روشن آنکھوں والے مشفق رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی حسینیؒ خامنہ ای شہید وہ حق پرست شخصیت تھے جنہوں نے اول دن سے راہِ حق کے امامؑ کے اس قولِ مبارک کو اپنے لئیے مشعلِ راہ بنائے رکھا اور شہادت تک اسی راہ پر ثابت‌ قدم رہے۔ آپ مفسرِ قرآن، مفکرِ اسلام اور کئی کتب کے مؤلف تھے۔ "علمبردارِ فکرِ حسینی ہونا آپ کا وصف تھا۔

    ملتِ اسلامیہ کی ہر دل عزیز شخصیت اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ایؒ 19 اپریل 1939ء کو ایک علمی و دینی سادات گھرانے میں ایرانی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب جناب سیدنا امام حسین علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ سید علی خامنہ ایؒ نے قم اور نجف سے علمی و دینی تربیت پائی۔ اور 1963ء اسلامی انقلاب میں بھرپور شرکت کی ۔ آپ کو آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

    اسلامی انقلاب سے قبل آپ مشہد مقدس کے مؤثر ترین علمائے دین میں شمار ہوتے تھے۔ ایران کے رہبرِ اعلی منتخب ہونے سے قبل آپ مجلس شورائے اسلامی کے رکن بھی رہے۔ اور اکتوبر 1981ء سے 1989ء تک دو بار ایرانی صدر منتخب ہوئے۔ 1989ء میں امام خمینی کی رحلت کے بعد آپ ایرانی سپریم لیڈر منتخب ہوئے۔ اور 36 سال 6 ماہ ایران کے رہبرِ معظم رہے۔ آپ کو ریاستی پالیسی میں اہم و فیصلہ کن کردار حاصل تھا۔ آپ کسی بھی حکومتی معاملے کو ویٹو کرنے اور ملٹری و عدلیہ اعلیٰ حکام کی تقرری میں اہم مشاورت دینے کا اختیار رکھتے تھے۔ آپ 4 دہائیوں تک یہود و نصارٰی کے لئیے آہنی دیوار بنے رہے۔ 28 فروری 2026ء کو دو سو امریکی طیاروں نے سید علی خامنہ ای کے آفس پہ حملہ کر کے آپ کو اپنے بیٹے، بہو، بیٹی ، داماد ، نواسی اور اہم اعلی ملٹری حکام اور ساتھیوں کے ہمراہ شہید کر دیا۔ اور مسلم امہ ایک دلیر رہنما اور عالمِ دین سے محروم ہو گئی ۔ آہ! مولا علیؑ کا شیر چلا گیا۔

    اک وہ شخصیت جن سے ملنے کی، میرے دل نے ہمیشہ ارادہ و امید رکھی۔ جن کی حق گوئی ہمیشہ محترم رہی ، جن کے عمل و استقامت میں خونِ سادات کا جلال دکھائی دیتا، جن کی جرات نےعلمِ جہاد کو سربلند رکھا ، جہنوں نے ثابت کیا۔ کہ زندگی کسی مقصد کے لئیے جہدوجہد کا نام ہے۔ اور موت اس مقصد کو سیراب کر دینے کی منزل، وہ شیر تھا امت کا شیر ۔۔۔ایسے شیر کی موت کبھی بھی عام ہو ہی نہیں سکتی۔ جسے شہادت بھی سلامی دینے آتی ہے۔ مجھے تو عرصہ دراز پہلے ہی ان کی بایو گرافی پڑھنے کے بعد معلوم ہو چکا تھا۔ کہ ان کا شمار شہداء میں ہو گا۔ عام موت تو ان کو چھو بھی نہیں سکتی۔

    مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گرد غیر قانونی ریاست اسرائیل کی طرف سے ایک طویل سے جاری جارحیت کے خلاف سید علی حسینی خامنہ ایؒ مردِ آہن ثابت ہوتے رہے۔ دہشت گرد صہیونی و امریکی مسلم دشمن پروپیگنڈے کی راہ میں سید کو مقاومت و مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے۔ کہ آپ کی شخصیت سرحدوں سے بالاتر ہو کر پوری مسلم دنیا بالخصوص فلسطین میں انتہائی محترم سمجھی جاتی تھی۔

    یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ امریکہ ہمیشہ سے صیہونی دہشت گردی کا سہولت کار رہا ہے۔ 2015ء سے ایٹمی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر امریکہ ایران سے کشیدگی کو بڑھاوا دیتا آیا ہے۔ اور اب ایرانی رجیم کو بدلنے کے نام پہ ایران پہ جارحیت کی انتہاء ڈھا دی گئی۔ امریکی و اسرائیلی مشترکہ مشن ایپک فیوری کا نام سے دہشت گردی و جارحیت کا آغاز کیا گیا۔ جس میں ایران کے 24 صوبوں میں اہم وزارتوں ، تنصیبات، اسپتالوں ، سکولوں اور آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ صرف میناب میں ہی لڑکیوں کے ایک سکول پہ حملے میں 148 سے زائد بچیاں شہید ہو گئیں۔ ان معصوم بچیوں کی شہادت پہ مجھے ملالہ یوسفزئی یاد ائی۔ ان معصوموں میں زندگی چھیننے والے نام نہاد "مہذبوں” کو کوئی ایک بھی ملالہ نظر نہ آئی ۔۔۔

    سوال یہ ہے۔ کہ جب ایک ملک ایٹمی ٹیکنالوجی رکھتا ہے۔ تو کوئی دوسرا ملک وہ ٹیکنالوجی کیوں نہیں رکھ سکتا۔ ؟ صرف اس لئیے کہ ایسا ہونے سے جارحیت کے دلدادہ ممالک کی راہ میں رکاوٹ آ جائے گی۔ دنیا کا کونسا مہذب اصول اسے درست مانتا ہے۔ کہ ایک ملک کا سربراہ میڈیا پہ آ کر دوسرے آزاد ملک کی رجیم ختم کرنے کا دعویٰ کرے۔ اور باقاعدہ اپنی فورسز بھیج کر اس ملک کے سربراہ کا قتل کروا دے۔

    آج ایک اہم اور نڈر مسلم رہنما و عالم دین کے ناحق قتل پہ ہر باضمیر سراپا احتجاج اور غم و غصہ میں مبتلا ہے۔ وہیں برادران یوسفؑ کی طرح کئی خلیجی ممالک بھی سہولت کار ہیں ۔ جنہوں نے اپنی سرزمین امریکی اڈوں کے لئیے فراہم کی ہوئی ہے۔ ایران نے جب جوابی کارروائی میں ان اڈوں کو نشانہ بنایا۔ تو خبر بنا دی گئی کہ ایران نے عرب ممالک پہ حملہ کیا ہے۔ عقل کے اندھوں کو یہ نہیں معلوم کہ ایران، عرب ممالک پہ نہیں۔ بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ سوال تو یہ بھی ہے۔ کہ ان عرب ممالک نے اسلام دشمن کفار کو بیسز کے لئیے جگہ کیوں فراہم کی ہے ؟؟؟ منافقت کون کر رہا ہے۔
    گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے!!

    کچھ زندہ رہ کے بھی مردہ ہی رہتے ہیں۔ اور کچھ مر کے بھی سوچ و فکر اور دلوں میں ہمیشہ کے لئیے بس کے امر ہو جاتے ہیں۔ ایک درویش صفت انسان جن کی آخری دعا ہی یہ تھی۔”یا اللہ ہمیں شہیدوں کے ساتھ ملا دے”, جو اکیلے نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم امہ کے لئیے لڑتے رہے، اپنے ساتھیوں کے لاشے اٹھاتے رہے، جنازے پڑھاتے رہے، یتیموں کے سر پہ دستِ شفقت رکھتے رہے، مگر تنہا ڈٹے رہے۔۔۔ آج ہر مسلک و مکتبِ فکر سے آزاد ہو کر ہر آنکھ ایک عظیم مسلم رہنما کے ناحق قتل پہ اشک بار ہے۔ آغا خامنہ ایؒ کو ان جرات ، مقاومت اور حق پرستی کے نظریے کے سبب آج تاریخ اپنے سینے میں تمغے کے طور پہ سجا رہی ہے۔ یہی وہ عزت ہے۔ جو میرا رب اپنے محبوب بندوں جو صرف اس کی رضا کے طالب ہوں، کو عنایت فرماتا ہے۔

    محترم سید علی حسینی خامنہ ایؒ شہید نے اپنے سید و مومن ہونے کا حق ادا کر دیا۔ آپ نے ثابت کر دیا۔ کہ حق کے متوالے باطل و طاغوتی طاقتوں سے ڈرا نہیں کرتے۔ بلکہ ان سے نبرد آزما ہو جاتے ہیں۔ آپ کے نظریات و فکر اور مقاومت ہمیشہ زندہ رہے گی۔
    اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائیں۔ اور آپ کے مشن کو کامیابی عطا فرمائیں ۔
    آمین
    ؂
    ہم کو حسینؑ ایسا بہادر بنا گئے
    سر کٹ گئے یزید کی بیعت مگر نہ کی

  • راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سن 1982 کا راولپنڈی یاد آتا ہے تو ایک مختلف منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ اُس وقت نہ سوشل میڈیا تھا، نہ ہر ہاتھ میں موبائل فون۔ اطلاعات کے ذرائع محدود تھے — پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی)، ریڈیو پاکستان اور چند قومی اخبارات۔ مگر اس کے باوجود ریاستی رِٹ واضح دکھائی دیتی تھی۔ قانون کا خوف تھا، نظم و ضبط کا احساس تھا، اور عوام کو یہ یقین تھا کہ ادارے موجود ہیں اور متحرک ہیں۔

    آج 2026 کا راولپنڈی دیکھیے — بظاہر ترقی یافتہ، مصروف اور پھیلتا ہوا شہر — مگر اندرونی طور پر بے چینی، عدم تحفظ اور بداعتمادی کا شکار۔ سوال یہ نہیں کہ مسائل ہیں؛ سوال یہ ہے کہ مسائل پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کیوں نظر نہیں آتی؟

    راولپنڈی ایک حساس ترین شہر ہے۔ یہ صرف ایک ضلع نہیں بلکہ ملک کے سیاسی و عسکری تناظر میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں قانون کی کمزوری صرف مقامی مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ قومی سطح پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔

    قبضہ مافیا اور منشیات کا پھیلاؤ
    شہر میں قبضہ مافیا کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کمزور اور متوسط طبقہ اپنی جائیداد کے تحفظ کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ منشیات فروشی ایک ناسور کی طرح نوجوان نسل کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ گلی محلوں میں مشکوک سرگرمیاں عام ہیں، مگر کارروائیاں یا تو وقتی ہوتی ہیں یا غیر مؤثر۔

    یہ تاثر عام ہے کہ کچھ عناصر کو "پشت پناہی” حاصل ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر کارروائیوں کا تسلسل کیوں نہیں؟ مستقل مزاجی کیوں نہیں؟
    غیر قانونی مقیم افراد اور چیک اینڈ بیلنس کا فقدان
    غیر قانونی مقیم افراد کا مسئلہ بھی زیرِ بحث رہتا ہے۔ اگر کوئی غیر قانونی طور پر مقیم ہے تو قانون کے مطابق اس کا اندراج اور کارروائی ہونی چاہیے۔ مگر جب قانون کا اطلاق منتخب انداز میں ہو، تو سوالات جنم لیتے ہیں۔
    چیک اینڈ بیلنس کا نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔ عوام کو یہ احساس نہیں کہ ان کی شکایت سنی جائے گی، اس پر عمل ہوگا اور انہیں انصاف ملے گا۔

    کیا پولیس عوام کی خدمتگار ہے یا حاکم؟
    یہ تاثر کہ راولپنڈی میں ہر افسر اپنی "سلطنت” کا مالک ہے اور عوام رعایا — ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر عوام کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ادارے ان کے نہیں رہے، تو ریاستی اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔

    تھانہ کلچر کی شکایات نئی نہیں، مگر اصلاحات کے دعوؤں کے باوجود عام شہری کو فوری ریلیف کیوں نہیں ملتا؟ ایک ایس ایچ او کا رویہ پورے نظام کی تصویر بن جاتا ہے۔ اگر دروازے پر انصاف نہ ملے تو پھر شہری کہاں جائے؟

    ذمہ داران سے سوال
    یہ سوال براہِ راست متعلقہ حکام سے ہے:
    پنجاب پولیس کی قیادت کیا راولپنڈی کی صورتِ حال سے مکمل طور پر آگاہ ہے؟
    (وزیراعلیٰ پنجاب) اور حکومت پنجاب کی ترجیحات میں راولپنڈی کہاں کھڑا ہے؟
    کیا مؤثر احتسابی نظام موجود ہے جو اختیارات کے غلط استعمال کو روکے؟
    راولپنڈی کو الگ سلطنت بنانے کا تاثر ختم کرنا ہوگا۔ قانون کی بالادستی صرف بیانات سے نہیں، عملی اقدامات سے قائم ہوتی ہے۔

    حل کیا ہے؟
    پولیسنگ کا شفاف نظام — تھانوں کی کارکردگی عوام کے سامنے لائی جائے۔
    قبضہ مافیا اور منشیات کے خلاف مستقل آپریشن — نمائشی نہیں، نتیجہ خیز۔
    شکایات کے فوری ازالے کا نظام — شہریوں کو آن لائن اور آف لائن مؤثر پلیٹ فارم۔
    افسران کا احتساب — اختیارات کے ساتھ جوابدہی بھی لازم۔
    ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے۔ اگر ماں اپنے بچوں میں فرق کرے یا ان کی فریاد نہ سنے تو گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ راولپنڈی پاکستان کا اہم شہر ہے، اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔
    اب سوال یہ نہیں کہ مسائل کب تک چلیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز کب ہوگا؟
    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے — اور جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

  • اعتماد یا بدتمیزی؟ جین زی کا بدلتا  رویہ،تحریر: صدف ابرار

    اعتماد یا بدتمیزی؟ جین زی کا بدلتا رویہ،تحریر: صدف ابرار

    ہر دور کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے، مگر آج کی نسل کو دیکھ کر اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں یا صرف چمک دمک کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ جین زی کو عموماً بااعتماد، بولڈ اور بے باک کہا جاتا ہے، لیکن روزمرہ زندگی میں ان کا رویہ دیکھیں تو میری بات شاید اپکو تلخ لگے لیکن یہ اعتماد کم اور بدتمیزی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

    کبھی اعتماد کا مطلب یہ تھا کہ انسان باوقار ہو، نرم لہجے میں بات کرے اور اپنے کردار سے پہچانا جائے۔ استاد اور سینئرز کا احترام تربیت کا لازمی حصہ تھا۔ اختلافِ رائے بھی ہوتا تھا تو تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا تھا۔ مگر اب حالات بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اونچی آواز، تلخ لہجہ اور دوسروں کو نیچا دکھانا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے، اور اسے ہی “کنفیڈنس” کا نام دے دیا گیا ہے۔

    دفاتر، تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا،ہر جگہ ایک عجیب سی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر کسی کو بس آگے نکلنا ہے۔ کس کی گاڑی بہتر ہے، کس کا موبائل نیا ہے، کس کا لباس زیادہ مہنگا ہے اور کس کا طرزِ زندگی زیادہ جدید ہے۔یہی کامیابی کے پیمانے بن چکے ہیں۔ زندگی جیسے ایک مقابلہ بن گئی ہے، جہاں اصل انسان نہیں بلکہ نمائش جیتتی ہے۔
    اس نسل کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ سادگی یا متوسط پس منظر کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے، جیسے غریب گھرانے سے ہونا کوئی عیب ہو۔ اسی احساسِ برتری اور مقابلہ بازی میں لوگ جائز اور ناجائز کی تمیز بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ مقصد صرف یہ رہ گیا ہے کہ کسی بھی طرح اس دوڑ میں شامل رہیں، چاہے اس کے لیے اصول ہی کیوں نہ قربان کرنے پڑیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ اصل اعتماد شور نہیں کرتا۔ مہذب لوگ چیختے نہیں، وہ اپنے رویے سے پہچانے جاتے ہیں۔ عزت دینا کمزوری نہیں بلکہ مضبوط کردار کی علامت ہے۔ دکھاوا وقتی تالیاں تو سمیٹ سکتا ہے، مگر مستقل عزت صرف اخلاق اور تربیت سے حاصل ہوتی ہے۔
    جدید ہونا یقیناً اچھی بات ہے، مگر اگر جدیدیت تہذیب، احترام اور اقدار کے بغیر ہو تو وہ محض ایک کھوکھلا خول بن جاتی ہے۔ شاید ہمیں دوبارہ یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کامیابی صرف آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا نام ہے۔

  • "انسان واپس لوٹ سکتا ہے؟ ” تحریر: عائشہ اسحاق

    "انسان واپس لوٹ سکتا ہے؟ ” تحریر: عائشہ اسحاق

    بسنت جیسے خونی تہوار کی اجازت اقتدار میں بیٹھی ہوئی عورت نے دے کر فضا میں موت کے پروانے آزاد کر دیے۔ چھتوں پر اڑتی پتنگیں ،،سڑکوں پر چلنے والوں کی موت کا سامان ھیں میڈیا پر بسنت کے جشن اور اس خونی تہوار کے نام پر کاروباری سطح پراربوں کے منافع اور دیگر تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں مگر تمام چینلز اور میڈیا پتنگ بازی کے باعث کئی زخمی اور مرنے والے بے زبان معصوم پرندوں ، چھت سے گر کر ، کرنٹ لگنے سے اور گلے پر ڈور پھرنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والے انسانوں کے متعلق بات کرنے سے قاصر ہیں۔ کیا اربوں روپے کسی مرنے والے ایک بھی شخص کو واپس لا سکتے ہیں؟

    کیا پتنگ بازی کا شوق انسانی جان سے زیادہ اہم ہے؟ڈور کی صورت فضا میں موت کا رقص کوئی تہوار یا جشن کہلا سکتا ہے؟ انسانی جانیں گنوا کر پیسہ کمانا منافع کہلا سکتا ہے؟ اقتدار میں بیٹھا ٹولہ ان متاثرین کے درد کا مداوا کر سکتا ہے؟ افسوس ہے ایسی بے حسی پر اور ایسی غافل غلام عوام پر جو اپنے حقوق کے بارے میں سوال نہیں اٹھا سکتے وہ ایسے تماشوں پر تین روز تک ناچتے رہے۔ یاد رکھیں ڈور سے مرنے والوں کے قاتلوں میں اپ سبھی شامل ہیں۔

  • بسنت خوشی کا تہوار یا فضول خرچی؟تحریر:آپا منزہ جاوید ،اسلام آباد

    بسنت خوشی کا تہوار یا فضول خرچی؟تحریر:آپا منزہ جاوید ،اسلام آباد

    بسنت کو ہم بہار کی خوشی، روایت اور تہوار کا نام دیتے ہیں، مگر جب اسی بسنت کے نام پر خرچ ہونے والی رقم، دکھاوا اور بے حسی سامنے آتی ہے تو دل سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ تہوار ہے یا کھلی فضول خرچی؟

    حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تحریر گردش کرتی رہی جس میں طنز کے پیرائے میں اس مقروض قوم کے “بسنت پیکجز” پیش کیے گئے۔ نام تھا “شاہ بسنت مینجمنٹ (SBM)”اور پیکجز کے نرخ ایسے کہ آدمی مہنگائی، قرض اور غربت سب ایک ساتھ بھول جائے۔ کہیں ڈائمنڈ کلاس بسنت پیکج پچیس لاکھ روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جہاں کشادہ چھت، دن رات کی ضیافتیں، ڈھول، رقص، سینکڑوں پتنگیں اور ہزاروں میٹر ڈور شامل ہیں۔ کہیں گولڈ اور سلور کلاس کے نام پر لاکھوں روپے کی بسنت، اور کہیں نام نہاد ‘غریب نواز پیکج’ بھی تین لاکھ روپے سے کم نہیں۔

    طنز یہ ہے کہ جس قوم کے بچے تعلیم، علاج اور دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہوں، وہ قوم بسنت کے نام پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ہوا میں اڑا دیتی ہے۔ ایک طرف قرض، بجلی کے بل، مہنگائی اور بے روزگاری کا رونا ہے، اور دوسری طرف جرمن پیپر کی پتنگیں، برما کے بانس، پلاٹینئیم مانجھا اور سیاسی نعروں والی گڈیاں۔ یہ سب محض ایک مذاق یا تحریر نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویے کا آئینہ ہے۔ ہم خوشی منانے کے نام پر یہ بھول جاتے ہیں کہ انہی رنگوں کے پیچھے کتنی جانیں جاتی ہیں، کتنے گھر اجڑتے ہیں، کتنے باپ اپنے بیٹوں کے جنازے اٹھاتے ہیں، اور کتنی مائیں بسنت کے بعد خاموش ہو جاتی ہیں۔

    میں یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ بسنت کے نام پر بنائے گئے یہ تمام پیکجز حقیقت میں اسی طرح موجود ہیں یا واقعی اتنی بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں، مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اس میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور پوشیدہ ہے، کیونکہ یہ ہمارے معاشرتی رویوں سے بالکل مختلف نہیں۔روز بروز بڑھتی بے روزگاری، بھوکے خاندانوں میں اضافہ، اور فاقوں سے تنگ آ کر ہونے والی خودکشیاں،یہ سب خبریں اب سنائی نہیں دیتیں، دکھائی دیتی ہیں۔ کہیں بھوک سے عاجز آ کر کوئی اپنی جان لے لیتا ہے، کہیں ماں باپ بچوں کو زہر دے کر خود بھی موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ کہیں غریب ہسپتال میں علاج کے اخراجات کے بوجھ تلے ہار مان لیتا ہے، اور کہیں بچے علاج کے انتظار میں دم توڑ دیتے ہیں۔

    ایسے میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسی ملک کے باسی بسنت کے نام پر لاکھوں روپے پتنگوں اور ڈور پر اڑا دیتے ہیں تو یہ محض فضول خرچی نہیں، بلکہ اجتماعی بے حسی کا کھلا اظہار بن جاتی ہے۔ وہی پیسہ کسی غریب کے گھر کا سال بھر کا راشن بن سکتا تھا، کسی کے بچوں کی پوری سال کی اسکول فیس ادا ہو سکتی تھی، کئی غریب بچیوں کی شادیاں ہو سکتی تھیں۔

    رمضان المبارک چند دن کی دوری پر ہے۔ یہی لوگ اگر چاہیں تو سفید پوش گھرانوں میں راشن پہنچا سکتے تھے تاکہ روزے آسانی سے گزر سکیں، مگر ترجیح پھر بھی تفریح، نمود و نمائش اور فضول خرچی ہی ٹھہرتی ہے۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بسنت صرف ایک تہوار ہے یا ایک معاشرتی مظہر جس میں ہم اپنی ترجیحات، اخلاق اور انسانی ہمدردی کا امتحان لیتے ہیں؟ کیونکہ اگر واقعی ہم خوشی منانے کے لیے اتنی رقم خرچ کر سکتے ہیں، تو پھر ضرورت مندوں کے لیے اتنی محنت کیوں نہیں کی جاتی؟

    اگر واقعی اس ملک کے لوگ اتنے امیر ہیں کہ بسنت کے نام پر لاکھوں روپے صرف پتنگوں اور ڈور پر خرچ کر سکتے ہیں، تو پھر ہر چوک پر بے روزگار کیوں نظر آتے ہیں؟ ہر محلے میں بھیک مانگتے ہاتھ کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ زکوٰۃ کے راشن کی تقسیم کے وقت لمبی قطاریں کیوں لگتی ہیں؟ یا جب ہمارے نوجوان، روزگار کے لیے ہونڈی کے ذریعے دوسرے ملک جانے نکلیں تو بے رحم پانی میں کشتی الٹ جانے سے اپنی زندگی گنوا دیتے ہیں، تب بھی کسی کے دل پر یہ رقم خرچ کرنے کا سوال کیوں نہیں آتا؟

    یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ جب کوئی ضرورت مند مدد کے لیے دستک دیتا ہے تو یہی فضول خرچی کرنے والے لوگ مدد کے وقت حساب کتاب میں پڑ جاتے ہیں۔ بڑی سوچ بچار کے بعد کوئی دو ہزار، کوئی پانچ یا دس ہزار دے کر ایسے دیکھتا ہے جیسے اس نے لاکھوں کی خیرات کر دی ہو—حالانکہ انہی ہاتھوں سے کچھ دن پہلے لاکھوں روپے پتنگوں کی نذر کر دیے گئے ہوتے ہیں۔

    یہاں بسنت کے نام پر ہونے والی یہ فضول خرچی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ہماری ترجیحات کہاں کھو گئی ہیں۔ ایک طرف قرض، بل اور روزگار کی جدوجہد ہے، اور دوسری طرف چند خوش قسمتوں کے لیے دن رات کی ضیافتیں، ہزاروں میٹر ڈور اور لاکھوں روپے کی پتنگیں۔ یہ تضاد ہمارے سماجی شعور پر ایک واضح سوال چھوڑ دیتا ہے: ہم واقعی کس کے لیے اور کس مقصد کے لیے خوشی مناتے ہیں؟
    اصل سوال یہی ہے کہ
    کیا مسئلہ وسائل کی کمی ہے،
    یا احساس کی کمی؟

    یہ مضمون ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ خوشی منانے کے نام پر خرچ ہونے والی رقم، اگر سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ استعمال کی جائے، تو کتنا بڑا فرق ڈال سکتی ہے۔ کسی غریب بچے کی تعلیم مکمل ہو سکتی ہے، کسی بیمار کی زندگی بچائی جا سکتی ہے، اور کسی خاندان کے چہروں پر مسکراہٹ آ سکتی ہے۔ بسنت کے نام پر اڑائے جانے والے کروڑوں روپے، اگر معاشرتی بھلائی کے لیے خرچ ہوں، تو شاید یہی اصل خوشی ہو، جس کی ہمیں تلاش ہے۔
    شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں—
    بسنت خوشی کا تہوار ہے،
    یا ایک ایسی فضول خرچی
    جو ہر سال ہماری توجہ اور ہمدردی کی کمی کو سامنے لے آتی ہے۔
    اور اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ خوشی سب کے لیے خوشی بنے،
    تو بسنت کے رنگوں کے ساتھ اپنے اعمال اور ترجیحات بھی رنگیں ہونا ضروری ہیں

  • عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    پنجاب کے زرعی شعبے کے لیے حالیہ دنوں میں بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب، محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں کی جانے والی زرعی اصلاحات نے آلو کے کاشتکاروں کے لیے نہ صرف امید کی کرن روشن کی بلکہ ان کی محنت کو منافع بخش بنانے کا عملی راستہ بھی کھولا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں آلو کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ اور 12 ملین میٹرک ٹن کی تاریخی پیداوار نے پنجاب کو آلو کی عالمی منڈی میں ایک اہم کھلاڑی بنانے کی بنیاد رکھی ہے۔

    آلو کی بمپر فصل، اگرچہ کاشتکاروں کے لیے خوشی کی خبر ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑا چیلنج بھی جڑا ہوا ہے: پیداوار کے ضائع ہونے کا خطرہ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان سے آلو کی برآمد کی اجازت طلب کی۔ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ اپنے کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گی اور انہیں مناسب معاوضہ دلانے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔

    پنجاب حکومت کی کوششیں صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر برآمدات کے لیے قازقستان سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ مریم نواز شریف کے مطابق، قازقستان پہلا قدم ہے اور اس کے بعد مزید بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے گی تاکہ آلو کی ریکارڈ پیداوار کو کوڑیوں کے بھاؤ نہ بیچا جائے۔

    کسانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ فصل کی منڈیوں تک آسان رسائی ہے۔ زمین کی تیاری، فصل کی اگائی، دیکھ بھال، کھاد اسپرے اور پانی کی فراہمی جیسے اقدامات میں محنت کے باوجود، کئی بار کسان منافع نہ کما پاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے ہیں تاکہ آلو کی پیداوار نہ صرف ملک میں بلکہ عالمی منڈی میں بھی مناسب قیمت اور استحکام کے ساتھ فروخت ہو۔

    اس تمام عمل کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ پنجاب کے کسان اپنی محنت کا پوری قیمت حاصل کریں اور ان کی فصلیں ضائع نہ ہوں۔ آلو کی بمپر پیداوار اب کسان کے لیے پریشانی نہیں بلکہ خوشحالی اور معاشی استحکام کا پیغام لائے گی۔ پنجاب کی حکومت کی یہ حکمت عملی نہ صرف زرعی شعبے میں انقلاب لانے کی طرف ایک مضبوط قدم ہے بلکہ پاکستان کے زرعی برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈی میں مقام بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔

    مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب کی زرعی اصلاحات نے آلو کی پیداوار کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا ہے اور عالمی منڈی میں برآمدات کی راہیں کھول دی ہیں۔ یہ اقدامات کسانوں کے مالی استحکام، پیداوار کی حفاظت اور ملک کی معیشت میں زبردست بہتری کا سبب بن سکتے ہیں۔ آلو کی بمپر فصل اب صرف ایک زرعی کامیابی نہیں بلکہ پنجاب کے کسانوں کے لیے خوشحالی کا حقیقی پیغام ہے۔

  • رحم جرم بن گیا، جو کتوں کو بچائیں وہی مجرم ٹھہرے،تحریر:صدف برار

    رحم جرم بن گیا، جو کتوں کو بچائیں وہی مجرم ٹھہرے،تحریر:صدف برار

    ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سا تاثر عام کر دیا گیا ہے کہ جو لوگ گلی محلوں میں موجود اسٹریٹ ڈاگز کو کھانا کھلاتے ہیں، زخمی جانوروں کا علاج کرواتے ہیں یا ان کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ کوئی “ممی ڈیڈی” قسم کے لوگ ہیں جنہیں انسانوں سے زیادہ کتوں کی فکر ہے۔ رحم کرنا جیسے کوئی جرم بن گیا ہو۔ لیکن اگر ہم ذرا اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں سی ڈی اے کی پالیسیوں پر تحقیق کریں تو حقیقت اس تاثر سے کہیں زیادہ خوفناک نظر آتی ہے۔ یہاں مسئلے کا حل ویکسینیشن، نیوٹرنگ یا بہتر شیلٹرز نہیں بلکہ گولیاں، زہر اور اجتماعی ہلاکتیں ہیں۔ کتوں کو پکڑ کر مار دیا جاتا ہے، زہر دے کر ہلاک کیا جاتا ہے، ماؤں کو ان کے بچوں سے جدا کر دیا جاتا ہے اور بڑی تعداد میں انہیں نام نہاد شیلٹرز میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں نہ مناسب خوراک ہے، نہ صاف پانی، نہ چھت اور نہ ہی موسم کی شدت سے بچنے کا کوئی انتظام۔ یہاں تک کہ پانی تک میسر نہیں ہے اور جانور پیاس سے تڑپتے رہتے ہیں۔ یہ شیلٹر نہیں بلکہ اذیت گاہیں ہیں۔

    سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ نومولود پلے جب ماں سے جدا کیے جاتے ہیں تو یا تو بھوک سے بلک بلک کر مر جاتے ہیں یا بڑے کتوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ کئی زخمی ہو کر سڑتے رہتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ دوسری طرف ہم روز اخبارات میں یہ خبریں پڑھتے ہیں کہ ریبیز کے باعث کتوں نے لوگوں کو کاٹا اور اسپتالوں میں ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کتا ہے یا ہمارا ناکام ہیلتھ سسٹم؟ ریبیز ویکسین مہیا کرنا حکومت اور محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ ہر گلی کے کتے کو گولی مار دینا۔ ایک جانور کی غلطی کی سزا پورے علاقے کے تمام جانوروں کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟

    یہاں سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ “کتا نظر آئے تو پتھر مار دو، ڈنڈا اٹھاؤ، بھگا دو۔” ظاہر ہے جب جانور کو خطرہ محسوس ہوگا تو وہ اپنے دفاع میں بھونکے گا یا کاٹے گا۔ زیادہ تر واقعات جارحیت نہیں بلکہ خوف کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جانور بھی زندہ مخلوق ہیں، ان میں بھی درد، خوف اور محبت کا احساس ہوتا ہے۔ جو لوگ انہیں کھانا کھلاتے ہیں، وہ شوقیہ نہیں کرتے بلکہ انہیں بھی جینے کا حق دیتے ہیں۔ کیونکہ ماں، ماں ہوتی ہے، چاہے انسان کی ہو یا کسی جانور کی۔ ذرا سوچئے اگر کسی انسان کے بچے کو زہر دے کر مار دیا جائے تو والدین پر کیا گزرے گی؟ تو پھر ایک بے زبان جانور کی ماں کا درد ہمیں کیوں نظر نہیں آتا؟

    افسوس کی بات یہ ہے کہ عدالتیں بھی واضح احکامات دے چکی ہیں کہ کتوں کو مارنے کے بجائے نیوٹر کیا جائے، ویکسینیشن کی جائے اور آبادی کو انسانی طریقے سے کنٹرول کیا جائے، مگر ان احکامات پر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔ گولی چلانا آسان ہے، نظام بنانا مشکل۔ دنیا بھر میں کامیاب ماڈلز موجود ہیں جہاں نیوٹرنگ اور ویکسینیشن کے ذریعے مسئلہ حل کیا گیا، لیکن ہم اب بھی قتل عام کو حل سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنے کتے مارے جائیں گے، اتنی ہی تیزی سے نئے پیدا ہو جائیں گے، کیونکہ مسئلہ قتل سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے حل ہوتا ہے۔

    سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمین صرف انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے؟ کیا باقی مخلوق کو جینے کا حق نہیں؟ ہمارا مذہب بھی ہمیں بے زبان جانوروں پر رحم کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم پورے ملک سے تمام کتوں کا خاتمہ بھی کر دیں تو کیا ہمارے اسپتال بہتر ہو جائیں گے؟ کیا ویکسین دستیاب ہو جائے گی؟ کیا ہمارا نظام ٹھیک ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ ہم صرف مزید بے حس ہو جائیں گے۔ کیونکہ جس معاشرے میں رحم ختم ہو جائے، وہاں انسانیت بھی مر جاتی ہے۔

  • جہیز .تحریر:تابندہ طارق عکس

    جہیز .تحریر:تابندہ طارق عکس

    لخت جگر دے دینا کوئی کم تھوڑی ہے جس کے ساتھ جہیز دینا اہم قرار دے دیا گیا ہے۔انسان کی قیمت تو ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے پھر بھی انسان کو چیزوں کے ترازو میں تولنا کہاں کا انصاف ہے۔لڑکی والے تو نہیں کہہ سکتے لیکن لڑکے والے تو آگے بڑھ کر دل بڑا کر ہی سکتے ہیں کے انھیں جہیز نہیں چاہیے ہے۔ان کے گھر میں ضرورت کی ہر چیز موجود ہوتے ہوئے بھی کیسے فخر سے سب لے جاتے ہیں۔کاش یہ سوچیں کچھ بدلیں ایک دفعہ خود کو اس بات پر رکھ کر سوچیں کہ اگر بہو گھر لے جانے کے بجائے انھیں اپنے بیٹوں کو گھر سے رخصت کرنا پڑے اور صرف بیٹا نہیں بلکہ اس کے ساتھ سود کے طور پر جہیز بھی دینا پڑے اور پھر ساس سسر کی خدمت اور سالیوں اور سالوں کی باتیں بھی سننی پڑیں۔بچے ہونے کے بعد وہ بھی سنبھالیں پڑیں گھر کے کام بھی جدوجہد سے کرنے پڑ جائیں تو یہ سب وہ کر سکیں گے؟ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ انتہائی ناقابل قبول حقیقت ہے۔ایک بہو،ایک بیوی ایک بھابھی یہ سب کچھ کرتی ہے لیکن پھر بھی اسے عزت نہیں ملتی کیوں؟ کیا وہ عزت کی حق دار نہیں ہے؟

    ہمارے معاشرے کا الگ ہی المیہ ہے اپنی بیٹی کو اپنی بیٹی ہی سمجھتے رہتے ہیں جس نے کل کو کسی اور کے گھر کی زینت بننا ہوتا ہے اور جو ان کے گھر آتی ہے اسے کبھی بیٹی کا درجہ نہیں دیتے۔حالانکہ کے قابل غور تو یہ حقیقت ہے کے اصل بیٹی تو بہو ہی ہوتی ہے اسے بیٹی کا مقام دیں بیٹی کی طرح رکھیں اور بہو کو بھی چاہیے وہ بیٹی بننے کی کوشش کرے کچھ سمجھوتے تو سب کو کرنے پڑتے ہیں۔

    جہیز کی بنیاد پر رشتوں کی تعمیر مت کریں جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے لڑکوں کو انکار کی صورت میں پہل کرنی چاہیے تاکہ اس کا ہمارے معاشرے سے خاتمہ ہو سکے۔

  • "بسنت خونی کھیل ” تحریر: عائشہ اسحاق

    "بسنت خونی کھیل ” تحریر: عائشہ اسحاق

    حکومت پنجاب کی طرف سے پتنگ بازی پر عائد پابندی ہٹا کر بسنت منانے کا اعلان نہایت نا معقول فیصلہ ہے۔ بسنت کا اسلامی تہواروں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا اربوں روپے بسنت جیسے تہوار پر خرچ کرنے کا اعلان نہایت غلط ھے۔ اس کے علاوہ یہ بات کیسے فراموش کی جا سکتی ہے کہ پتنگ بازی جیسا قاتل شوق بہت سے خاندانوں کے چراغ گل کر چکا ہے۔ اتنی جلدی خون میں نہائے بچے اور افراد کو فراموش کر دیا گیا۔ فضول شرائط کے ساتھ ایسے قاتل کھیل کی اجازت دینا سراسر عوام دشمنی ہے۔ کیا آپ اس حقیقت سے نا واقف ہیں کہ پاکستان میں بااثرلوگ کس طرح سے قانون اور قواعدہ شرائط کی خلاف ورزیاں کر کے دندناتے پھرتے ہیں۔

    یہ مت بھولیے کہ ان شرائط کی خلاف ورزی پر جوتے اور جرمانے بھی صرف مڈل کلاس بے وقوف پتنگ باز ؤں کہ حصے میں ہی آئیں گے۔ کیونکہ بااثرلوگ قانون کو اپنے والدین کی میراث سمجھتے ہیں۔جہاں غریب کو روٹی میسر نہیں وہاں ایسے فضول اور خونی شوق پر اربوں روپے لگانا شرمناک ہے ۔افسوس اس بات پر بھی ہے کہ ایسے نامعقول اقدامات میں ہم عوام میں سے کئی پڑھے لکھے لوگ بھی شامل حال دکھائی دیتے ہیں۔

  • تلہ گنگ  کی خونی یہاڑیاں اور  ایثار کے جزبوں سے مالا مال لوگ،​تحریر:فیضان شیخ

    تلہ گنگ کی خونی یہاڑیاں اور ایثار کے جزبوں سے مالا مال لوگ،​تحریر:فیضان شیخ

    ​آج صبح جب بستر کی تپش میں وٹس ایپ اوپن کیا تو کسی صحافی دوست کی بھیجی گئی ایک خونریز خبر نے گویا روح تک کو لرزا دیا۔ اسکرین پر بکھری لاشوں اور زخمیوں کی تصاویر دیکھ کر دماغ سن ہو گیا اور ماضی کے وہ تمام زخم ہرے ہو گئے جو تلہ گنگ کی ان سڑکوں نے ہمیں دیے ہیں۔

    ​اس دلخراش منظر کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں ہمارے پیارے ناصر محمود شیخ کی آواز گونجنے لگی۔ وہ شخص جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ناصر صاحب اکثر کہتے ہیں کہ "گاڑیوں کے مالکان کو صرف وقت کی فکر ہوتی ہے، انسانی جان کی نہیں”۔ مالکان کا ڈرائیورز پر ‘ٹائم’ پر پہنچنے کا دباؤ دراصل موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہے۔ خاص طور پر ان دنوں جب پنجاب کی فضاؤں پر دھند کا راج ہے، کیا ہم چار سے چھ گھنٹے کا وقفہ نہیں کر سکتے؟ کیا چند گھنٹوں کا انتظار ان قیمتی جانوں سے زیادہ قیمتی ہے؟

    ​تلہ گنگ کی جغرافیائی صورتحال بتاتی ہے کہ تلہ گنگ کی کی دو خونی پہاڑیاں ڈھوک پٹھان اور انکڑ کی پہاڑی اب انسانی زندگیوں کے لیے مقتل بن چکی ہیں۔ ماضی قریب میں کوہاٹ سے آنے والی تبلیغی جماعت کی بس کا وہ ہولناک حادثہ جس میں 18 اموات ہوئیں، آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے (NHA) ان مقامات پر محض ‘خطرناک موڑ’ کے بورڈ لگانے کے بجائے ٹھوس حفاظتی بندوبست کرے۔ ان پہاڑیوں پر جدید ترین کیٹ آئیز، فلیشرز، اور حفاظتی دیواروں کی اشد ضرورت ہے تاکہ دھند میں راستہ بھٹکنے والے ڈرائیورز کسی بڑی کھائی میں نہ جا گریں۔

    ​جہاں یہ حادثات ہمیں غمگین کرتے ہیں، وہیں تلہ گنگ کی عوام کا ایثار دیکھ کر انسانیت پر مان بڑھ جاتا ہے۔ میں تلہ گنگ کے غیرت مند عوام اور نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو ہر مشکل گھڑی میں فرشتے بن کر نمودار ہوتے ہیں۔ چاہے وہ کوہاٹ کے بد قسمت مسافروں کے لیے تابوت بنوانا ہو یا آج کے حادثے میں اپنے نرم گرم بستر چھوڑ کر زخمیوں کو ملبے سے نکالنا، خان سعادت خان جیسے سماجی کارکنوں اور حاجی شیخ ندیم جیسے تاجروں نے ثابت کیا کہ تلہ گنگ کے لوگ مہمان نوازی اور ہمدردی میں اپنی مثال آپ ہیں۔​اسسٹنٹ کمشنر سلیمان منشاء، ڈی ایس پی ملک عزیز اور ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ذیشان اعوان کی ٹیم نے جس طرح اس ایمرجنسی کو سنبھالا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حادثے کے بعد امداد فراہم کرنے کے بجائے حادثہ ہونے سے روکنے کی طرف جائیں۔

    ​حکومت سے مطالبہ ہے کہ ڈھوک پٹھان اور انکڑ کی پہاڑیوں کے ڈیزائن پر نظرِ ثانی کی جائے اور ٹرانسپورٹ مالکان کو پابند کیا جائے کہ دھند کے دوران سفر روک کر انسانی جانوں کو تحفظ دیا جائے۔ ناصر محمود شیخ کی باتیں آج پکار پکار کر کہہ رہی ہیں: "وقت بچائیں، مگر زندگی کی قیمت پر نہیں”۔