Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی

    ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی

    سورۃ المائدہ میں ارشادِ ربانی ہے:
    ” اور تم انصاف کے ساتھ قائم رہو، یہ تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے۔” انصاف کو تلاش کرنا بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بنجر زمین سے فصل کی امید رکھنا۔ ہمارا نظامِ انصاف گویا بانجھ ہو چکا ہے جو اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے۔ انصاف کی تلاش میں انسان منوں مٹی تلے دفن ہو جاتا ہے اور اس کی نسلیں بھی دہائیاں دیتی رہتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا۔
    سننِ ابی داؤد میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    "انصاف کرو، کیونکہ انصاف اللہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔”
    عدل و انصاف کے بارے میں اس سے بڑھ کر مثال کیا ہو سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    "اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتے ہوئے پکڑی جاتی، تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔”انصاف میں تاخیر انسان کے اندر شدید اضطراب پیدا کر دیتی ہے۔ یہی اضطراب بعض اوقات اسے انتہائی اقدامات پر مجبور کر دیتا ہے۔ احاطۂ عدالت میں ہونے والے تشدد اور قتل و غارت اس کی واضح مثال ہیں۔ جب انصاف بروقت نہ ملے تو لوگ خود ہی انصاف کی مسند پر بیٹھنے لگتے ہیں جو معاشرے میں مزید بگاڑ اور انتشار کا باعث بنتا ہے۔
    لیکن کیا یہ نظام ہمیشہ ایسا ہی رہے گا؟ نظامِ انصاف کو بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ سنجیدگی سے اصلاحات کی جائیں۔ سب سے پہلے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو ختم کرنا ہو گا۔ مقدمات کا برسوں تک لٹکے رہنا ظلم کے مترادف ہے۔ اس لیے فوری اور بروقت فیصلوں کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔

    دوسرا، عدلیہ کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کرنا ہو گا، چاہے وہ سیاسی ہو یا معاشرتی۔ ہمارے آئینِ پاکستان میں بھی عدلیہ کی آزادی پر زور دیا گیا ہے، تاکہ فیصلے صرف حق اور سچ کی بنیاد پر ہوں۔ عدلیہ غیر جانبدار رہ کر فیصلے دے۔
    جب تک انصاف کے اداروں میں بدعنوانی موجود رہے گی، انصاف کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور، سب ایک ہی ترازو میں تولے جائیں۔ یہی حقیقی عدل ہے۔

    ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو جو راہِ انصاف میں رکاوٹ بنیں اور اقربا پروری یا برادری ازم کو فروغ دیں۔حقیقت یہ ہے کہ انصاف کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جہاں انصاف زندہ ہو، وہاں امن، سکون اور اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اور جہاں انصاف کمزور پڑ جائے، وہاں ظلم، بے چینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ کیونکہ ایک منصفانہ معاشرہ فرد کی اصلاح سے ہی وجود میں آتا ہے۔ آج عمر کے خاندان والے صرف عمر کے انصاف کے لیے دہائی نہیں دے رہے۔ ان کی آہوں میں ہر اس ماں کا درد شامل ہے جس کا کلیجہ یوں چیرا گیا ہر اس باپ کی خاموشی شامل ہے جو اپنے لختِ جگر کا جنازہ اٹھانے پر مجبور ہوا۔ یہ نوحہ ہے ہر اس گھر کا، جہاں بچے ہنستے کھیلتے نکلتے ہیں اور پلک جھپکتے میں اوجھل ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کے کفن میں لپٹے معصوم چہرے ہی گھر لوٹتے ہیں۔ شاید ظالموں کو اندازہ نہیں کہ اپنے ہاتھوں سے پلے ہوئے ننھے پھول کا جنازہ اٹھانا کاندھوں پر کتنا بھاری ہوتا ہے اور دل پر کتنا زخم۔یہ کفن میں لپٹے شکایت زدہ چہرے آج بھی سسک سسک کر کہہ رہے ہیں:
    اک پھول تھا میں، جو کھل نہ سکا!!
    اپنی منزل سے مل نہ سکا!
    مجھ کو یوں کچل ڈالا تم نے
    اک پل میں مسل ڈالا تم نے
    روئیں گے بدن کے زخم میرے
    جب روح کے زخم دکھاؤں گا
    میں خدا کو بتاؤں گا
    میں خدا کو بتاؤں گا
    جب تک ہم یہ آواز نہ سنیں گے انصاف کا ترازو سیدھا نہیں ہو گا۔ اور ہر جگہ سے ایک ہی آواز آئے گی ۔
    "عمر کو انصاف دو ۔”

  • پھول جو بِن کھِلے مُرجھا گیا ،تحریر: بینا علی

    پھول جو بِن کھِلے مُرجھا گیا ،تحریر: بینا علی

    کچھ سانحے اور المیے ایسے ہوتے ہیں جن کا بظاہر ہم سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا مگر وہ دل کو اس شدت سے جھنجھوڑ دیتے ہیں کہ خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا۔ اگر انسان اپنے احساسات کو لفظوں میں نہ ڈھالے تو اندر ہی اندر ایک گھٹن، ایک کرب، ایک بے بسی مسلسل روح کو زخمی کرتی رہتی ہے۔عمر مختار راٹھور سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں۔ میں نے اسے کبھی دیکھا نہیں، اس کی آواز کبھی نہیں سنی مگر اس معصوم بچے کی تصویر اور اس کے ساتھ ہونے والی درندگی نے دل کے نہاں خانوں میں ایسا درد جگایا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سانحہ میرے اپنے گھر کے آنگن میں پیش آیا ہو۔

    پانچ برس پہلے جب میرے والدین کا سایہ سر سے اٹھا تو مجھے لگتا تھا کہ شاید دنیا میں میرے غم سے بڑا کوئی غم نہیں۔ والدین کی جدائی ایک ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھر تو جاتا ہے، مگر اس کا نشان ہمیشہ دل پر باقی رہتا ہے۔ لیکن عمر کے واقعے نے یہ احساس دلایا کہ کچھ دکھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کے ذاتی غموں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میں نے ایک ہفتے تک مختلف ذرائع سے اس مقدمے کی تفصیلات پڑھیں۔ ہر نئی خبر کے ساتھ دل مزید بوجھل ہوتا گیا، اور روح سوال کرتی رہی کہ آخر ایک معصوم بچہ کس جرم کی سزا بھگتا رہا؟

    کل ہی میں نے دو آدم خور بھائیوں کے بارے میں ایک تحریر پڑھی۔ وہ قبروں سے مردے نکالتے، ان کا گوشت پکاتے اور کھاتے تھے۔ چونکہ آئین میں "مردے کا گوشت کھانے” کے حوالے سے کوئی واضح سزا موجود نہ تھی اس لیے انہیں صرف قبروں کی بے حرمتی کے جرم میں چند ماہ قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔ سزا پوری ہونے کے بعد وہ دوبارہ اسی بھیانک عمل میں مصروف ہو گئے۔یہ مثال ذہن میں ایک سوال پیدا کرتی ہے: کیا فاضل جج صاحبان واقعی یہ یقین رکھتے ہیں کہ جو درندے ایک معصوم بچے پر ظلم کی انتہا کر سکتے ہیں وہ رہائی کے بعد معاشرے کے لیے خطرہ نہیں رہیں گے؟ کیا اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ کل کسی اور ماں کی گود اجڑنے سے محفوظ رہے گی؟

    حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ محض مجرم نہیں ہوتے بلکہ معاشرے کے ناسور بن جاتے ہیں۔ ناسور اگر وقت پر نہ کاٹا جائے تو پورے جسم کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ اسی طرح اگر ایسے سفاک کرداروں کو سخت ترین سزا نہ دی جائے تو معاشرہ عدم تحفظ، خوف اور بے یقینی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔آج عمر کی فیملی صرف اپنے بیٹے کے لیے انصاف نہیں مانگ رہی بلکہ میرے اور آپ کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ لڑ رہی ہے۔ عمر تو جنت کا ایک معصوم پھول تھا جو اپنے رب کے پاس لوٹ گیا۔ مگر اس کے والدین کے آنسو، اس کی ماں کی سسکیاں، اور اس کے گھر کی خاموشی ہم سب سے یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا ہمارے بچے واقعی محفوظ ہیں؟ عمر کو انصاف دلانا دراصل اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ ایک خاندان کی جنگ نہیں، ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید کسی اور ماں کی گود اجڑ جائے، کسی اور باپ کی امیدوں کا چراغ بجھ جائے، اور کسی اور گھر کی ہنسی ہمیشہ کے لیے ماتم میں بدل جائے۔ اسی لیے آج اسلام آباد پریس کلب میں عمر کی فیملی پریس کانفرنس کر رہی ہے تاکہ اس معصوم بچے کے لیے انصاف کی آواز بلند کی جا سکے۔میری تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، اہلِ قلم، اور دردِ دل رکھنے والے انسانوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ آج اپنی ایک پوسٹ اس ہیش ٹیگ کے ساتھ ضرور شیئر کریں: "عمرکوانصاف دو۔”آئیے، ہم سب مل کر آواز اٹھائیں تاکہ قانون کی گرفت اتنی مضبوط ہو کہ کوئی درندہ دوبارہ کسی معصوم کلی کو مسلنے کی جرات نہ کر سکے اور ہماری آنے والی نسلیں ایک محفوظ، پُرامن اور باوقار معاشرے میں سانس لے سکیں۔

  • انصاف کے در پر بکھرتی امیدیں،تحریر: بینا علی

    انصاف کے در پر بکھرتی امیدیں،تحریر: بینا علی

    کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایسی کئی تحریریں اور خبریں نظر سے گزریں جنہوں نے دل کو بے حد بوجھل کر دیا۔ واقعی بعض سانحات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے اندر تک اتر جاتے ہیں، روح کو زخمی کر دیتے ہیں اور دل کے نہاں خانوں میں ایک مستقل درد چھوڑ جاتے ہیں۔ دو دن سے طبیعت سخت بیزار رہی۔ دل عجیب سی اداسی اور شکستگی کا شکار رہا۔ آج ارادہ کیا تھا کہ کسی ادبی گروپ کی سرگرمی میں حصہ نہیں لوں گی۔ دل کے دروازے پر ایک نوحہ مسلسل دستک دے رہا تھا، اور قلم خودبخود ہاتھ میں آ گیا۔

    "میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟”
    چھ سال قبل، مختار راٹھور صاحب کے کم سن فرزند معصوم عمر راٹھور جن کی عمر پانچ سال سے بھی کم تھی، 21 دسمبر کو اسلام آباد کے علاقے بہارہ کہو میں اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اغوا کر لیے گئے۔ اغوا کا مقصد تاوان وصول کرنا تھا۔مرکزی ملزم حمزہ جہانگیر، جو عمر راٹھور کا قریبی کزن تھا اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ اس گھناؤنے جرم میں شریک تھا۔ ظلم کی انتہا دیکھیے کہ یہ سفاک لوگ چار دن تک اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر بچے کو تلاش کرنے کا ڈھونگ کرتے رہے۔ وہ والدین کے ساتھ ہمدردی جتاتے رہے جبکہ حقیقت میں انہی کے ہاتھ معصوم کلی کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔

    شدید سردی کے موسم میں عمر کو ایک کرائے کے مکان میں رکھا گیا۔ جب معصوم بچہ خوف اور تکلیف سے رونے لگا تو ظالموں نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے، منہ پر ٹیپ لگا دی، اور اسے الماری میں بند کر دیا۔ اندھیرے، گھٹن اور خوف کے اس عالم میں وہ ننھا فرشتہ دم گھٹنے سے اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔
    سوچیے وہ بچہ کس قدر خوفزدہ ہوگا۔ اس نے اپنی ماں کو پکارا ہوگا، اپنے باپ کو یاد کیا ہوگا، اور شاید آخری لمحوں میں یہ امید بھی کی ہوگی کہ کوئی آ کر اسے اس اندھیرے سے نکال لے گا۔ مگر افسوس! اس کی معصوم صدائیں الماری کی بند دیواروں میں دفن ہو گئیں۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ عمر کے والدین نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ برسوں کی پیشیاں، انتظار، امید اور آنسوؤں کے بعد جون 2023ء میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھیوں کو دو، دو مرتبہ سزائے موت سنائی۔ یوں محسوس ہوا کہ شاید اب انصاف کا سورج طلوع ہو گا، شاید عمر کی بے بسی کا حساب لیا جائے گا شاید ایک ماں کے دل کو کچھ قرار ملے گا۔لیکن دو دن قبل سپریم کورٹ نے ان ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ یہ خبر سن کر دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور ذہن میں بار بار یہی سوال گونجتا رہا کہ آخر ایک معصوم جان کی قیمت کیا ہے؟ کیا چند برس قید کاٹ لینا اس ظلم کا کفارہ ہو سکتا ہے؟ کیا ایک ماں کے خالی آغوش اور ایک باپ کے اجڑے ہوئے خوابوں کا کوئی نعم البدل ہے؟

    ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
    عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیے

    ہمارا نظامِ عدل اس قدر کھوکھلا، فرسودہ اور دیمک زدہ محسوس ہوتا ہے کہ مظلوم کو انصاف کی امید بھی ایک خواب لگتی ہے۔ آج وہ والدین، جن کے زخموں پر مرہم رکھا جانا چاہیے تھا، ایک ایسے فیصلے کے سامنے کھڑے ہیں جس نے ان کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔چھ سال تک ہر صبح انصاف کی امید اور ہر رات آنسوؤں کے ساتھ گزارنے والے ماں باپ پر کیا گزری ہوگی؟ کتنی بار انہوں نے اپنے بیٹے کی تصویروں کو سینے سے لگایا ہوگا؟ کتنی بار اس کے کھلونوں کو دیکھ کر سسکے ہوں گے؟ کتنی بار دروازے کی طرف بے اختیار دیکھا ہوگا کہ شاید عمر دوڑتا ہوا آ جائے۔

    مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ کاش! ہمارے معاشرے میں ایسا نظامِ انصاف نافذ ہو جو مجرم کے دل میں جرم سے پہلے ہی خوف پیدا کر دے۔ ایسی سزائیں ہوں کہ کوئی درندہ کسی معصوم بچے کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے سو بار سوچے۔
    اللہ تعالیٰ عمر راٹھور کے درجات بلند فرمائے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے والدین کو صبرِ جمیل دے۔ آمیناور اللہ ہمارے نظامِ انصاف کو حقیقی معنوں میں انصاف کا گہوارہ بنائے،کیونکہ جب معصوم بچوں کے قاتل رعایت پانے لگیں تو معاشرے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ پھر ہر ماں اپنے بچے کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوف زدہ رہتی ہے، اور ہر باپ کے دل میں ایک انجانا سا ڈر جاگ اٹھتا ہے۔
    آخر میں دل سے بس یہی صدا نکلتی ہے:
    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟

    ظالم کی رسی دراز ہے اور ڈھیل بھی دے دی جاتی ہے ۔منصفو کا منصف بھی موجود ہے ۔جب عمر اپنے رب سے شکایت کرے گا تو یہ ڈھیل بھی ختم ہو جائے گی ۔اللہ پاک بہترین انصاف کرنے والے ہیں۔

  • دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی

    دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی

    میں بینا علی ہوں۔ میرا دل ایک ایسا آشیانہ ہے جسے اندر ہی اندر دیمک چاٹ رہی ہے۔ باہر سے دیکھو تو سب نارمل لگتا ہے۔ چہرے پر معمول کی مسکراہٹ، روزمرہ کے کام، لوگوں سے ملنا جلنا۔ لیکن اندر ہر دیوار پر ہجر کا سایہ لکھا ہے، ہر کونے میں ایک خاموش چیخ دبی ہوئی ہے۔ درد ٹھہر گیا ہے، آنسو بہنا چھوڑ گئے ہیں اور دل نے رونا بھی سیکھ لیا ہے خاموشی سے۔
    میں نے حقیقت میں جا کر سمجھا کہ شاعر نے کیوں کہا تھا:
    "ادھیڑ ڈالے ہیں بخیے میرے جدائی نے!
    کہ کھا گیا ہے تیرا غم کتر کتر کر مجھ کو!”

    موت تو ارواح کا وصل ہے، ایک سفر کا اختتام اور دوسرے کا آغاز۔ اصل قیامت تو جدائی ہے۔ عرب کہتے ہیں: "الفراق أشد من الموت”۔ ہجر موت سے زیادہ بے رحم ہے۔ کیونکہ موت ایک بار مارتی ہے، جبکہ جدائی روز مارتی ہے۔ میں نے یہ بے رحمی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور اپنے سینے میں محسوس کی ہے۔ یوسفؑ کے ہجر میں یعقوب علیہ السّلام کی آنکھوں کا نور چھن گیا تھا۔ کربلا کے بعد امام زین العابدین کی پلکیں تا عمر بھیگی رہیں۔ سوگ کی میعاد چند دن ہوتی ہے، مگر غم کی میعاد پوری عمر ہوتی ہے۔ یہ غم ایک بار وار کر کے نہیں جاتا۔ یہ روز تھوڑا تھوڑا مار کر زندہ رکھتا ہے، کتر کتر کر، لمحہ لمحہ، سانس سانس۔

    دنیا کہتی ہے کہ وقت مرہم ہے، زخم بھر جاتے ہیں۔ کاش یہ سچ ہوتا۔ میرے لیے وقت مرہم نہیں بنا، وہ صرف عادت بنا گیا ہے۔ ہم سانس لیتے ہیں، جیتے نہیں۔ ہم مسکراتے ہیں، خوش نہیں ہوتے۔ ہر عید، ہر تہوار، ہر شادی، ہر جنازہ، ہر موقع ان کی کمی کا نوحہ بن جاتا ہے۔ ہم یادوں سے بھاگتے ہیں، اور بھاگتے بھاگتے خود کو کھو دیتے ہیں۔ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر لگتا ہے جیسے کوئی اجنبی کھڑا ہو۔

    والدہ محترمہ کو دیکھے بنا تین سال چھے مہینے ہو گئے۔ تین سال چھے مہینے سے گھر کی دیواریں بھی خاموش ہیں۔ ان کی دعاؤں کی چادر سر سے سرک گئی ہے اور اب دھوپ بھی کاٹتی ہے۔ جس گھر میں کبھی ان کی آواز گونجتی تھی وہاں اب سناٹا ہے۔ ہر کونا ان کی خوشبو مانگتا ہے، ہر کمرہ ان کے قدموں کا منتظر ہے، مگر جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے۔ اسی دن آج سے پانچ سال پہلے، میرے چچا محترم اور میرے جواں سال کزن بھی چپکے سے اس دنیا سے چلے گئے۔ ایک ہی دن دو جنازے اٹھے، اور گھر کے آنگن میں ایک ساتھ دو قبریں بنیں۔ اس دن سے یتیمی کا سفر شروع ہوا۔ یتیمی صرف والدین کا سایہ اٹھنا نہیں، یہ اس کربناک آزمائش کا نام ہے جس میں انسان خود کو بے سہارا، بے آسرا محسوس کرتا ہے۔ دنیا بڑی لگتی ہے، اور دل بہت چھوٹا۔ پانچ سال ہو گئے۔ پانچ سال سے میں باپ کی شفقت اور ماں کی مامتا، دونوں کو ترس رہی ہوں۔ اپریل اور مئی میرے لیے "شھر الحزن” بن گئے ہیں۔ یہ کیلنڈر کے مہینے آتے ہیں تو دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ ہوا بھی بھاری لگتی ہے، سانس سینے میں اٹکتی ہے، اور نیند آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے۔ راتیں کروٹیں بدلتے گزرتی ہیں، اور صبح ایسے ہوتی ہے جیسے دل پہ مزید بوجھ بڑھ گیا ہو ۔ وقت گزرتا ہے، مگر درد نہیں گزرتا۔ درد ٹھہر جاتا ہے۔

    لوگ کہتے ہیں صبر کرو مگر صبر کرنا سیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ صبر وہ سبق ہے جو کتابوں سے نہیں، ٹوٹے ہوئے دل سے پڑھا جاتا ہے۔ میں نے سیکھا ہے، آہستہ آہستہ، ٹوٹ کر اور جڑ کر۔ ربِ کریم کا شکر ہے جس نے ہمت دی۔ شکر ہے کہ یہ جدائی دائمی نہیں۔ یہ فراق عارضی ہے۔ یہی امیدِ واثق، یہی یقینِ کامل میرے ٹوٹے دل کو جوڑے ہوئے ہے کہ ہم پھر ملیں گے۔ جنت کے کسی ایسے باغ میں ملیں گے جہاں وہ پھر سے سر پر ہاتھ رکھیں گے، مسکرا کر گلے لگائیں گے، اور قہقہے گونجیں گے۔ جہاں نہ کوئی مئی ہو گا نہ اپریل، نہ فراق ہو گا نہ اشک۔ صرف وصل ہو گا، ابدی وصل۔

    میں وہ بدنصیب ہوں جس نے ایک ہی سال میں ماں اور باپ دونوں کا سایہ کھو دیا۔

    کتابِ زیست کا سب سے اداس اور اذیتوں سے بھرا صفحہ وہی ہوتا ہے جب ماں اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ دعاؤں کا آنچل سرک جاتا ہے، اور ماں کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے۔ اس کے بعد دنیا کی گرمی براہِ راست لگتی ہے۔

    آپ اداس ہوں، تنہائی محسوس کر رہے ہوں، ذہنی طور پر منتشر ہوں، دل بے نام دکھوں سے بوجھل ہو، اور ایسے میں آپ کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لینے والی، ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دینے والی، اور اپنے لمس سے روح تک کو سکون پہنچانے والی ماں موجود نہ ہو تو یہ اذیت لفظوں کے دائرہ بیان سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ درد ہے جو لکھا نہیں جاتا، صرف جیا جاتا ہے۔ ماں آپ کی پہلی محبت ہے، پہلا لمس ہے، پہلا شفقت بھرا بوسہ ہے۔ وہ ہستی ہے جس کی گود میں دنیا کے تمام غم سمٹ کر سکون میں بدل جاتے ہیں۔ میری بدقسمتی ہے کہ ماں کے بچھڑ جانے کے بعد میں اس کے عشق میں اس شدت سے مبتلا ہوں کہ ماں کی کمی ایک مستقل کسک بن گئی ہے۔ یہ کسک نہ بڑھتی ہے نہ کم ہوتی ہے، بس ساتھ رہتی ہے۔

    اب اس شعر کی گہرائی سمجھ آتی ہے:
    "وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا
    اب اس کا حال سنائیں کیا!
    اک آگ غمِ تنہائی کی
    جو سارے بدن میں پھیل گئی
    جب جسم ہی سارا جلتا ہو
    پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
    اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے
    تادیر اسے دہرائیں کیا!
    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا…”

    میرے انتظار میں مضمر، میرا راستہ تکنے والی آنکھیں نہ رہیں۔ بائیک کی آواز سنتے ہی پردہ ہٹا کر مسکرانے والے ہونٹ نہ رہے۔ تمام عمر باپ کو پہلا عشق بنائے رکھا، مگر یہ احساس ہی نہ ہوا کہ ماں کے جانے کے بعد اس کی محبت کا خلا دل کو اس طرح جکڑ لے گا کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جائے گا۔ اب اس احساس کے ساتھ کہ ماں نہیں ہے، سانسیں جیسے رکنے لگتی ہیں۔ الفاظ لبوں پر آ کر دم توڑ دیتے ہیں، اور اظہارِ محبت بھی خاموش ہو جاتا ہے۔ بانو قدسیہ لکھتی ہیں: "ماں نہ ہو تو کوئی خواہ مخواہ بلانے والا نہیں رہتا۔”

    مجھے اس خواہ مخواہ کی سمجھ اب آئی ہے۔ واقعی ماں کے بعد انسان کو اس ایک جملے کی معنویت پوری شدت سے سمجھ آتی ہے۔ دنیا میں سب کچھ مل سکتا ہے، مگر ماں جیسی بے غرض محبت دوبارہ نہیں ملتی۔ آج میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جن کے اضطراب ماں کے لمس اور شفقت بھرے بوسوں سے دور ہوتے ہیں، ان کے سروں پر دعاؤں کا یہ آنچل ہمیشہ سلامت رہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی ماؤں کو صحت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھیں اور جو مائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین۔

    میں آج بھی سیکھ رہی ہوں کہ غم کے ساتھ جینا کیسے ہوتا ہے۔ یہ کوئی آسان فن نہیں۔ کبھی دل ماننے کو تیار نہیں ہوتا، کبھی عقل سمجھا دیتی ہے۔ مگر میں نے مان لیا ہے کہ یہ غم میری کمزوری نہیں، میری محبت کی گہرائی ہے۔ جس سے جتنی محبت ہو، اس کا غم بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔

    جب تک دل دھڑکتا ہے، ماں کی یاد زندہ ہے۔ اور جب تک یاد ہے جدائی کا زخم بھی ہے۔ یہ زخم مجھے یاد دلاتا ہے کہ میں کتنی محبت کی گئی ہوں، اور میں نے کتنی محبت کی ہے۔

    بس ایک یقین ہے جو مجھے تھامے ہوئے ہے ہم پھر ملیں گے۔ ان شاء اللہ۔ اس یقین پر ہی دل کا آشیانہ کھڑا ہے، ورنہ دیمک تو اسے کب کا کھا چکی ہوتی۔

  • مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    مزدور کے لیے مزدور ہونا اتنا تلخ احساس نہیں جتنا مجبور ہونا ہے مہنگائی بے روزگاری وہ سیاسی دہشت گردی ہے جو ایک مزدور کو مجبور بنا کر اُسی کے ہاتھوں مروا دیتی ہے اس بے حسی و بے یارو مددگار دور میں جی کر زندگی پہ احسان کرنے والے مزدور کے ہاتھوں کے چھالے ایک عبادت گزار کے ماتھے پر بنے سجدوں کے نشان سے زیادہ خدا کو محبوب ہیں۔

    حقیقی مزدور وہ ہے جو محنت میں دیانتدار ہو مزدور کی اُجرت کے بارے میں ایک حدیث بہت بیان کی جاتی ہے کہ مزدور کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو اس حدیث کی حقیقی وضاحت سے آشنا ہونا ہی ایک حقیقی مزدور کی پہچان کرواتا ہے یعنی مزدوری اس ایمانداری سے کی جائے کہ پسینے سے شرابور ہو جائے جو مزدوری کے ساتھ مخلص نہیں وہ محنت چور ہے اُس کی اُجرت برکت سے محروم ہے سب سے بہترین کمائی انسانی ہاتھوں کی محنت ہے مزدور حادثے کا شکار تو ہو سکتا ہے مگر بیماری کا نہیں۔مزدوری کا جسم ورزش کا محتاج نہیں ہوتا۔مزدوری انبیاء اکرام کا پیشہ رہا ہے۔حضرت سلیمان ؑ کو خدا نے زمین کی ہر مخلوق پر حکومت عطا کی تھی مگر وہ اپنا گزارا ٹوکریاں بنانے کی مزدوری سے کیا کرتے تھے۔حضرت داود ؑ نے خدا سے مزدوری مانگ کر لی تھی اُن کے ہاتھوں میں لوہا موم کی طرح نرم ہو جایا کرتا وہ جنگی لباس زرا بناتے گویا بکریاں اونٹ چرانے سمیت ہر قسم کی مزدوری خدا کے محبوب بندوں کا پیشہ رہی وہ پیشہ جو خدا کی دوستی پر فائز کرتا ہے مزدور مزدوری سے نہیں حکومت کی طرف سے پیدا کیے گئے سخت حالات کی مجبوری سے مارا جاتا ہے۔روز کمانا،روز کھانا، مزدور ڈے کی چھٹی کے دن بھی کام پر لا کھڑا کرتا ہے اس دن چھٹی کی بجائے اُجرت دوگنی دے کر مزدور ں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

    میں نے ایسے انصاف پسند مزدور بھی دیکھے ہیں جو اپنی روٹی ساتھ لیکر کام پہ جاتے ہیں مزدور کی روٹی جواس کی ہتھیلی کی چنگیر پر رکھی ہے اس کے اوپر ایک پیاز ہوتا ہے تازہ پیاز وٹامن اے بی اور سی کا مجموعہ ہوتا ہے کسی اور غذا میں یہ تینوں وٹامن یکجا نہیں پائے جاتے پیاز مزدور کی مادری خوراک ہے۔

    مزدور کسی بھی ریاست کے حسن سلوک کا خاص مستحق طبقہ ہے مزدوروں کی تعداد اُس ملک میں سب سے زیادہ ہوتی ہے جہاں عام عوام کے لیے ماہر و قابل احباب کے زیرسایہ تعلیم و تربیت کے معیاری فری انتظامات نہ ہوں اور اگر ہوں تو وہ اتنے مہنگے ہوں کہ ایک مزدور باآسانی اپنے بچوں کو پرائیویٹ طور پر ترقی کے مقام پر نہ پہنچا سکے۔ترقی یافتہ ممالک میں مزدور بھی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور ان کی یومیہ اُجرت اتنی پرکشش ہوتی ہے کہ انہیں مزدوری احساس کمتری کی نظر سے دیکھا جانے والا پیشہ نہیں لگتا۔حقوق کی فراوانی میں باوقار زندگی گزارنے والے مزدوری پیشے میں رہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو شاندار مستقبل سے ہمکنار کر سکتے ہیں ہمارے ہاں انسانی حقوق کے فقدان نے مزدور کو صلہ رحمی کا مستحق بنا کے رکھا ہوا ہے کسی بھی دولت یافتہ کاروباری شخص کی ترقی کے پیچھے مزدورں کی محنت کا ہاتھ ہوتا ہے۔

    مزدور کے حالات زندگی کی عکاسی ایک دردناک کیفیت ہے جیسے بیان کرتے قلم بھی اشک بار ہو جاتا ہے مگر احساس مزدور اجاگر کرنے کے لیے اس کرب سے گزرنا بہت ضروری ہے تاکہ صاحب اختیار لوگ کی رُوحوں کو جھنجھوڑا جا سکے مزدور اور مجبور ایک ہی تصویر کے دورُخ ہیں وہ مزدور ہی ہوتا ہے جو بھیک میں ملے پانی کو ٹھکرا کر صبر کے گھونٹ پی کر سفید پوشی کی لاج رکھتا ہے بھٹے پر مزدوری کرتی ماں کو دیکھ کر اس کا بچہ اپنے نصیب کو اس لیے کوستا ہے کہ وہ اپنی جنت کو دھوپ میں جلتا دیکھ رہا ہوتا ہے اس مزدور ماں کے احساس و جذبات کی قیمت کاغذ کے نوٹ ادا نہیں کر سکتے اسی لیے خدا نے اپنی دوستی کا اجر قائم کر رکھا ہے۔جہاں مزدوری کی اُجرت سے زیادہ ضروریات زندگی مہنگی ہوں وہاں ناانصافی کی حکومت قائم ہوتی ہے۔زمین پر قائم ملکوں کے نام پر اُن انسانوں کی قربانیاں دی جاتیں ہیں جن کے لیے خدا نے زمین تخلیق کی ہے گویا حساب زمین کا نہیں زمین پر بسنے والے انسانوں کا لیا جائے گا۔اس زمین پر بسنے والی مزدورں کی لاتعداد گنتی نے خدا کو بتانا ہے کہ بجلی گیس پانی راشن دوائی انصاف سمیت تمام ضروریات زندگی اتنی مہنگی تھیں کہ ہم پسینے کی جگہ خون بھی بہا دیں تب بھی ساری سہولتیں خرید نہیں سکتے اور جنہوں نے یہ ظلم مسلط کیے ہیں اُن کے لیے یہ سب مفت دستیاب ہوتی ہیں اُس دن محب وطنی کا لبادے میں چھپے انسانی حقوق کے مجرموں کو حسرت ہو گئی کہ کا ش ہم بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھنے کی بجائے وہ مزدور ہی ہوتے جن کا دوست خدا آج ہم سے ان کے حقوق کا حساب مانگ رہا ہے۔مزدور سمیت تمام پیشوں سے وابستہ انسانوں کے جائز حقوق کی زمہ داری ریاست کو چلانے والوں پر ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے وہ ریاست انہی کے حقوق کی چوری سے اپنی نسلوں کے مقدر سنوار رہی ہے اس ناانصافی کے نظام میں کئی صاحب کردار لوگ بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے مزدور ابھی تک جیے جارہے ہیں۔ مزدور ملکی و عوامی ترقی کے معمار ہیں ان کو مہنگائی کی سولی سے اتار کر سستی ضروریات زندگی سے وابستہ کرنا ہی ان کا حق دینا ہے۔

  • نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں میں ذہنی دباؤ میں خطرناک اضافہ

    نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں میں ذہنی دباؤ میں خطرناک اضافہ

    ایک نئی تحقیق نے یہ بات واضح کی ہے کہ اگر والدین کو لگتا ہے کہ ان کے نوعمر بچے ایک “راز” ہیں تو تازہ ڈیٹا ان کی اندرونی دنیا کو بہتر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    یہ سروے امریکی ادارے نے 18 ستمبر سے 10 اکتوبر کے درمیان کیا، جس میں 13 سے 17 سال کی عمر کے 1,391 نوجوانوں سے سوالات کیے گئے۔ تحقیق کے مطابق اگرچہ لڑکے اور لڑکیاں کئی بنیادی مسائل جیسے اسکول کا دباؤ اور ذہنی صحت کے چیلنجز میں ایک جیسے تجربات رکھتے ہیں، لیکن ان کی مدد اور سماجی دباؤ کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اچھے نمبرز لینے کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ دونوں گروہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عام طور پر لڑکیاں بہتر گریڈ حاصل کرتی ہیں اور اساتذہ کی طرف سے زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ حقیقت پہلے سے موجود تعلیمی اعداد و شمار سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جن میں لڑکیوں کی تعلیمی کارکردگی اوسطاً بہتر دیکھی گئی ہے۔

    تاہم ماہر نفسیات ڈاکٹر اینی ماہیوکس کے مطابق یہ فرق اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ تعلیمی نظام ہر طالب علم کے لیے یکساں طور پر مؤثر نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسکول کا نظام زیادہ تر ایسے بچوں کے لیے موزوں ہوتا ہے جو زیادہ صبر اور کم بے چینی کے ساتھ بیٹھ کر کام کر سکیں، جبکہ لڑکوں میں اس عمر میں دماغی نشوونما مختلف رفتار سے ہوتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اپنے مستقبل کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہیں۔ دونوں گروہ ایک اچھی نوکری، بہتر آمدنی اور دوستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ماہر نفسیات ڈاکٹر لیزا ڈیمور کے مطابق یہ تصور غلط ہے کہ نوجوان صرف سطحی چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوعمر نوجوان اپنی تعلیم اور مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوچ رکھتے ہیں۔سروے کے مطابق صرف 2 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ ان کا کوئی دوست نہیں ہے، جو ایک مثبت بات سمجھی جا رہی ہے۔تاہم فرق یہاں بھی موجود ہے 95 فیصد لڑکیوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسا قریبی دوست موجود ہے جس سے وہ مدد لے سکتی ہیں،جبکہ لڑکوں میں یہ شرح 85 فیصد تھی،ماہرین کے مطابق اس فرق کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لڑکوں کو بچپن سے جذباتی کمزوری ظاہر نہ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی مشکلات شیئر کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ لڑکیوں میں اضطراب اور ڈپریشن زیادہ رپورٹ ہوتا ہے، جبکہ لڑکوں میں نشہ آور اشیاء کا استعمال، لڑائی جھگڑے اور کلاس میں خلل ڈالنے جیسے رویے زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لڑکے ذہنی دباؤ کا کم شکار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیمور کے مطابق جب لڑکیاں دباؤ میں ہوتی ہیں تو وہ اندرونی طور پر ٹوٹنے لگتی ہیں، جبکہ لڑکے اکثر اپنے دباؤ کو غصے یا خطرناک رویے کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نوعمر لڑکوں کے جارحانہ یا خطرناک رویوں کو صرف “بدتمیزی” سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے ذہنی دباؤ کی علامت بھی سمجھنا چاہیے۔اسی طرح ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کی تربیت میں جذباتی اظہار کو بھی اہمیت دینی چاہیے تاکہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں صحت مند سماجی اور ذہنی نشوونما حاصل کر سکیں۔یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ نوعمر لڑکے اور لڑکیاں ایک جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے تجربات اور ردعمل مختلف ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بہتر تعلیم، جذباتی رہنمائی اور کھلے ماحول کے ذریعے نوجوانوں کی بہتر مدد کی جا سکتی ہے۔

  • اوکاڑہ: انجینئر راؤ وسیم عابد اور راؤ عاصم تسلیم کو شادی کی خوشی پر مبارکباد، نیک تمناؤں کا اظہار

    اوکاڑہ: انجینئر راؤ وسیم عابد اور راؤ عاصم تسلیم کو شادی کی خوشی پر مبارکباد، نیک تمناؤں کا اظہار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) انجینئر راؤ وسیم عابد اور راؤ عاصم تسلیم کو شادی کی پُرمسرت تقریب کے موقع پر عزیز و اقارب، دوست احباب اور سماجی شخصیات کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کی گئی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔

    مبارکباد دینے والوں کا کہنا تھا کہ شادی زندگی کا ایک خوبصورت اور اہم مرحلہ ہے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نئے جوڑے کی زندگی کو خوشیوں، محبتوں اور کامیابیوں سے بھر دے اور انہیں ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔

    اس موقع پر راؤ عارف، راؤ سجاد، راؤ عامر، راؤ قاسم (سافٹ ویئر انجینئر)، ذیشان مغل، راؤ کلیم، راؤ اسد (سعودیہ عرب)، سینئر مینیجر راؤ شبیر، انجینئر حافظ مختار احمد، آئی ٹی انجینئر راؤ تنویر، راؤ اسد (الیکٹریکل انجینئر)، راؤ کلیم اللہ (مکینیکل انجینئر)، راؤ نجی اللہ (مکینیکل انجینئر)، راؤ اکرام، راؤ معین، راؤ ذیشان، راؤ راشد، محمد آصف (کیمیکل انجینئر)، علی حسن، کیمیکل انجینئر ثقلین عباس، ایم ڈی ابرہیم فائر پروٹیکشن ارشد علی، انجینئر محمد وقار (ملتان)، علی حسن چینوٹی، فیضان علی، حیدر عباس خان فاروق آبادی، ٹرانسپورٹر عرفان علی، نعمان راؤ، میثم بنی، رضائے حسین لاہوری، سردار امتیاز علی بھٹی، عمار بخاری، رانا اکرم ہڑپہ، مشتاق علی ایبٹ آبادی، چوہدری طارق ہڑپہ، یاسر ملک اوکاڑوی، محمد فیصل سمندری، چوہدری سہیل خانقاہ ڈوگراں، ساجد علی مظفرگڑھی، سجاد حسین، مدثر علی، سلطان (گولڈن گگو منڈی)، محمد نواز اوکاڑہ، عامر ریحان شاہ لاہوری، ملک ظفر اقبال بھوہڑ اوکاڑہ، نعیم ظفر گل، احمد شہزاد، بابر علی، سید ارسلان علی شاہ، کنٹریکٹر ادریس تبسم، خالق روکڑی اور کامران راجپوت سمیت دیگر نے بھی مبارکباد دی۔

    تمام شرکاء نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس نئے جوڑے کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے اور ان کی ازدواجی زندگی کو محبت، سکون اور خوشیوں سے بھر دے۔

  • علمبردارِ فکرِ حسینؑ، سید علی حسینی خامنہ ایؒ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    علمبردارِ فکرِ حسینؑ، سید علی حسینی خامنہ ایؒ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    فرمانِ امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ ابن علی علیہ السلام ہے؛
    ”مجھ (حسینؑ) جیسا کسی (یزید) جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔“

    سیاہ عمامہ اور ہاتھ میں عقیق پہنے ، باوقار مسکراہٹ، پُرنور روحانی باریش چہرے اور دور اندیشی و فکری شعور سے روشن آنکھوں والے مشفق رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی حسینیؒ خامنہ ای شہید وہ حق پرست شخصیت تھے جنہوں نے اول دن سے راہِ حق کے امامؑ کے اس قولِ مبارک کو اپنے لئیے مشعلِ راہ بنائے رکھا اور شہادت تک اسی راہ پر ثابت‌ قدم رہے۔ آپ مفسرِ قرآن، مفکرِ اسلام اور کئی کتب کے مؤلف تھے۔ "علمبردارِ فکرِ حسینی ہونا آپ کا وصف تھا۔

    ملتِ اسلامیہ کی ہر دل عزیز شخصیت اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ایؒ 19 اپریل 1939ء کو ایک علمی و دینی سادات گھرانے میں ایرانی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب جناب سیدنا امام حسین علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ سید علی خامنہ ایؒ نے قم اور نجف سے علمی و دینی تربیت پائی۔ اور 1963ء اسلامی انقلاب میں بھرپور شرکت کی ۔ آپ کو آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

    اسلامی انقلاب سے قبل آپ مشہد مقدس کے مؤثر ترین علمائے دین میں شمار ہوتے تھے۔ ایران کے رہبرِ اعلی منتخب ہونے سے قبل آپ مجلس شورائے اسلامی کے رکن بھی رہے۔ اور اکتوبر 1981ء سے 1989ء تک دو بار ایرانی صدر منتخب ہوئے۔ 1989ء میں امام خمینی کی رحلت کے بعد آپ ایرانی سپریم لیڈر منتخب ہوئے۔ اور 36 سال 6 ماہ ایران کے رہبرِ معظم رہے۔ آپ کو ریاستی پالیسی میں اہم و فیصلہ کن کردار حاصل تھا۔ آپ کسی بھی حکومتی معاملے کو ویٹو کرنے اور ملٹری و عدلیہ اعلیٰ حکام کی تقرری میں اہم مشاورت دینے کا اختیار رکھتے تھے۔ آپ 4 دہائیوں تک یہود و نصارٰی کے لئیے آہنی دیوار بنے رہے۔ 28 فروری 2026ء کو دو سو امریکی طیاروں نے سید علی خامنہ ای کے آفس پہ حملہ کر کے آپ کو اپنے بیٹے، بہو، بیٹی ، داماد ، نواسی اور اہم اعلی ملٹری حکام اور ساتھیوں کے ہمراہ شہید کر دیا۔ اور مسلم امہ ایک دلیر رہنما اور عالمِ دین سے محروم ہو گئی ۔ آہ! مولا علیؑ کا شیر چلا گیا۔

    اک وہ شخصیت جن سے ملنے کی، میرے دل نے ہمیشہ ارادہ و امید رکھی۔ جن کی حق گوئی ہمیشہ محترم رہی ، جن کے عمل و استقامت میں خونِ سادات کا جلال دکھائی دیتا، جن کی جرات نےعلمِ جہاد کو سربلند رکھا ، جہنوں نے ثابت کیا۔ کہ زندگی کسی مقصد کے لئیے جہدوجہد کا نام ہے۔ اور موت اس مقصد کو سیراب کر دینے کی منزل، وہ شیر تھا امت کا شیر ۔۔۔ایسے شیر کی موت کبھی بھی عام ہو ہی نہیں سکتی۔ جسے شہادت بھی سلامی دینے آتی ہے۔ مجھے تو عرصہ دراز پہلے ہی ان کی بایو گرافی پڑھنے کے بعد معلوم ہو چکا تھا۔ کہ ان کا شمار شہداء میں ہو گا۔ عام موت تو ان کو چھو بھی نہیں سکتی۔

    مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گرد غیر قانونی ریاست اسرائیل کی طرف سے ایک طویل سے جاری جارحیت کے خلاف سید علی حسینی خامنہ ایؒ مردِ آہن ثابت ہوتے رہے۔ دہشت گرد صہیونی و امریکی مسلم دشمن پروپیگنڈے کی راہ میں سید کو مقاومت و مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے۔ کہ آپ کی شخصیت سرحدوں سے بالاتر ہو کر پوری مسلم دنیا بالخصوص فلسطین میں انتہائی محترم سمجھی جاتی تھی۔

    یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ امریکہ ہمیشہ سے صیہونی دہشت گردی کا سہولت کار رہا ہے۔ 2015ء سے ایٹمی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر امریکہ ایران سے کشیدگی کو بڑھاوا دیتا آیا ہے۔ اور اب ایرانی رجیم کو بدلنے کے نام پہ ایران پہ جارحیت کی انتہاء ڈھا دی گئی۔ امریکی و اسرائیلی مشترکہ مشن ایپک فیوری کا نام سے دہشت گردی و جارحیت کا آغاز کیا گیا۔ جس میں ایران کے 24 صوبوں میں اہم وزارتوں ، تنصیبات، اسپتالوں ، سکولوں اور آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ صرف میناب میں ہی لڑکیوں کے ایک سکول پہ حملے میں 148 سے زائد بچیاں شہید ہو گئیں۔ ان معصوم بچیوں کی شہادت پہ مجھے ملالہ یوسفزئی یاد ائی۔ ان معصوموں میں زندگی چھیننے والے نام نہاد "مہذبوں” کو کوئی ایک بھی ملالہ نظر نہ آئی ۔۔۔

    سوال یہ ہے۔ کہ جب ایک ملک ایٹمی ٹیکنالوجی رکھتا ہے۔ تو کوئی دوسرا ملک وہ ٹیکنالوجی کیوں نہیں رکھ سکتا۔ ؟ صرف اس لئیے کہ ایسا ہونے سے جارحیت کے دلدادہ ممالک کی راہ میں رکاوٹ آ جائے گی۔ دنیا کا کونسا مہذب اصول اسے درست مانتا ہے۔ کہ ایک ملک کا سربراہ میڈیا پہ آ کر دوسرے آزاد ملک کی رجیم ختم کرنے کا دعویٰ کرے۔ اور باقاعدہ اپنی فورسز بھیج کر اس ملک کے سربراہ کا قتل کروا دے۔

    آج ایک اہم اور نڈر مسلم رہنما و عالم دین کے ناحق قتل پہ ہر باضمیر سراپا احتجاج اور غم و غصہ میں مبتلا ہے۔ وہیں برادران یوسفؑ کی طرح کئی خلیجی ممالک بھی سہولت کار ہیں ۔ جنہوں نے اپنی سرزمین امریکی اڈوں کے لئیے فراہم کی ہوئی ہے۔ ایران نے جب جوابی کارروائی میں ان اڈوں کو نشانہ بنایا۔ تو خبر بنا دی گئی کہ ایران نے عرب ممالک پہ حملہ کیا ہے۔ عقل کے اندھوں کو یہ نہیں معلوم کہ ایران، عرب ممالک پہ نہیں۔ بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ سوال تو یہ بھی ہے۔ کہ ان عرب ممالک نے اسلام دشمن کفار کو بیسز کے لئیے جگہ کیوں فراہم کی ہے ؟؟؟ منافقت کون کر رہا ہے۔
    گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے!!

    کچھ زندہ رہ کے بھی مردہ ہی رہتے ہیں۔ اور کچھ مر کے بھی سوچ و فکر اور دلوں میں ہمیشہ کے لئیے بس کے امر ہو جاتے ہیں۔ ایک درویش صفت انسان جن کی آخری دعا ہی یہ تھی۔”یا اللہ ہمیں شہیدوں کے ساتھ ملا دے”, جو اکیلے نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم امہ کے لئیے لڑتے رہے، اپنے ساتھیوں کے لاشے اٹھاتے رہے، جنازے پڑھاتے رہے، یتیموں کے سر پہ دستِ شفقت رکھتے رہے، مگر تنہا ڈٹے رہے۔۔۔ آج ہر مسلک و مکتبِ فکر سے آزاد ہو کر ہر آنکھ ایک عظیم مسلم رہنما کے ناحق قتل پہ اشک بار ہے۔ آغا خامنہ ایؒ کو ان جرات ، مقاومت اور حق پرستی کے نظریے کے سبب آج تاریخ اپنے سینے میں تمغے کے طور پہ سجا رہی ہے۔ یہی وہ عزت ہے۔ جو میرا رب اپنے محبوب بندوں جو صرف اس کی رضا کے طالب ہوں، کو عنایت فرماتا ہے۔

    محترم سید علی حسینی خامنہ ایؒ شہید نے اپنے سید و مومن ہونے کا حق ادا کر دیا۔ آپ نے ثابت کر دیا۔ کہ حق کے متوالے باطل و طاغوتی طاقتوں سے ڈرا نہیں کرتے۔ بلکہ ان سے نبرد آزما ہو جاتے ہیں۔ آپ کے نظریات و فکر اور مقاومت ہمیشہ زندہ رہے گی۔
    اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائیں۔ اور آپ کے مشن کو کامیابی عطا فرمائیں ۔
    آمین
    ؂
    ہم کو حسینؑ ایسا بہادر بنا گئے
    سر کٹ گئے یزید کی بیعت مگر نہ کی

  • راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سن 1982 کا راولپنڈی یاد آتا ہے تو ایک مختلف منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ اُس وقت نہ سوشل میڈیا تھا، نہ ہر ہاتھ میں موبائل فون۔ اطلاعات کے ذرائع محدود تھے — پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی)، ریڈیو پاکستان اور چند قومی اخبارات۔ مگر اس کے باوجود ریاستی رِٹ واضح دکھائی دیتی تھی۔ قانون کا خوف تھا، نظم و ضبط کا احساس تھا، اور عوام کو یہ یقین تھا کہ ادارے موجود ہیں اور متحرک ہیں۔

    آج 2026 کا راولپنڈی دیکھیے — بظاہر ترقی یافتہ، مصروف اور پھیلتا ہوا شہر — مگر اندرونی طور پر بے چینی، عدم تحفظ اور بداعتمادی کا شکار۔ سوال یہ نہیں کہ مسائل ہیں؛ سوال یہ ہے کہ مسائل پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کیوں نظر نہیں آتی؟

    راولپنڈی ایک حساس ترین شہر ہے۔ یہ صرف ایک ضلع نہیں بلکہ ملک کے سیاسی و عسکری تناظر میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں قانون کی کمزوری صرف مقامی مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ قومی سطح پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔

    قبضہ مافیا اور منشیات کا پھیلاؤ
    شہر میں قبضہ مافیا کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کمزور اور متوسط طبقہ اپنی جائیداد کے تحفظ کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ منشیات فروشی ایک ناسور کی طرح نوجوان نسل کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ گلی محلوں میں مشکوک سرگرمیاں عام ہیں، مگر کارروائیاں یا تو وقتی ہوتی ہیں یا غیر مؤثر۔

    یہ تاثر عام ہے کہ کچھ عناصر کو "پشت پناہی” حاصل ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر کارروائیوں کا تسلسل کیوں نہیں؟ مستقل مزاجی کیوں نہیں؟
    غیر قانونی مقیم افراد اور چیک اینڈ بیلنس کا فقدان
    غیر قانونی مقیم افراد کا مسئلہ بھی زیرِ بحث رہتا ہے۔ اگر کوئی غیر قانونی طور پر مقیم ہے تو قانون کے مطابق اس کا اندراج اور کارروائی ہونی چاہیے۔ مگر جب قانون کا اطلاق منتخب انداز میں ہو، تو سوالات جنم لیتے ہیں۔
    چیک اینڈ بیلنس کا نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔ عوام کو یہ احساس نہیں کہ ان کی شکایت سنی جائے گی، اس پر عمل ہوگا اور انہیں انصاف ملے گا۔

    کیا پولیس عوام کی خدمتگار ہے یا حاکم؟
    یہ تاثر کہ راولپنڈی میں ہر افسر اپنی "سلطنت” کا مالک ہے اور عوام رعایا — ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر عوام کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ادارے ان کے نہیں رہے، تو ریاستی اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔

    تھانہ کلچر کی شکایات نئی نہیں، مگر اصلاحات کے دعوؤں کے باوجود عام شہری کو فوری ریلیف کیوں نہیں ملتا؟ ایک ایس ایچ او کا رویہ پورے نظام کی تصویر بن جاتا ہے۔ اگر دروازے پر انصاف نہ ملے تو پھر شہری کہاں جائے؟

    ذمہ داران سے سوال
    یہ سوال براہِ راست متعلقہ حکام سے ہے:
    پنجاب پولیس کی قیادت کیا راولپنڈی کی صورتِ حال سے مکمل طور پر آگاہ ہے؟
    (وزیراعلیٰ پنجاب) اور حکومت پنجاب کی ترجیحات میں راولپنڈی کہاں کھڑا ہے؟
    کیا مؤثر احتسابی نظام موجود ہے جو اختیارات کے غلط استعمال کو روکے؟
    راولپنڈی کو الگ سلطنت بنانے کا تاثر ختم کرنا ہوگا۔ قانون کی بالادستی صرف بیانات سے نہیں، عملی اقدامات سے قائم ہوتی ہے۔

    حل کیا ہے؟
    پولیسنگ کا شفاف نظام — تھانوں کی کارکردگی عوام کے سامنے لائی جائے۔
    قبضہ مافیا اور منشیات کے خلاف مستقل آپریشن — نمائشی نہیں، نتیجہ خیز۔
    شکایات کے فوری ازالے کا نظام — شہریوں کو آن لائن اور آف لائن مؤثر پلیٹ فارم۔
    افسران کا احتساب — اختیارات کے ساتھ جوابدہی بھی لازم۔
    ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے۔ اگر ماں اپنے بچوں میں فرق کرے یا ان کی فریاد نہ سنے تو گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ راولپنڈی پاکستان کا اہم شہر ہے، اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔
    اب سوال یہ نہیں کہ مسائل کب تک چلیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز کب ہوگا؟
    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے — اور جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

  • اعتماد یا بدتمیزی؟ جین زی کا بدلتا  رویہ،تحریر: صدف ابرار

    اعتماد یا بدتمیزی؟ جین زی کا بدلتا رویہ،تحریر: صدف ابرار

    ہر دور کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے، مگر آج کی نسل کو دیکھ کر اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں یا صرف چمک دمک کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ جین زی کو عموماً بااعتماد، بولڈ اور بے باک کہا جاتا ہے، لیکن روزمرہ زندگی میں ان کا رویہ دیکھیں تو میری بات شاید اپکو تلخ لگے لیکن یہ اعتماد کم اور بدتمیزی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

    کبھی اعتماد کا مطلب یہ تھا کہ انسان باوقار ہو، نرم لہجے میں بات کرے اور اپنے کردار سے پہچانا جائے۔ استاد اور سینئرز کا احترام تربیت کا لازمی حصہ تھا۔ اختلافِ رائے بھی ہوتا تھا تو تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا تھا۔ مگر اب حالات بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اونچی آواز، تلخ لہجہ اور دوسروں کو نیچا دکھانا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے، اور اسے ہی “کنفیڈنس” کا نام دے دیا گیا ہے۔

    دفاتر، تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا،ہر جگہ ایک عجیب سی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر کسی کو بس آگے نکلنا ہے۔ کس کی گاڑی بہتر ہے، کس کا موبائل نیا ہے، کس کا لباس زیادہ مہنگا ہے اور کس کا طرزِ زندگی زیادہ جدید ہے۔یہی کامیابی کے پیمانے بن چکے ہیں۔ زندگی جیسے ایک مقابلہ بن گئی ہے، جہاں اصل انسان نہیں بلکہ نمائش جیتتی ہے۔
    اس نسل کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ سادگی یا متوسط پس منظر کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے، جیسے غریب گھرانے سے ہونا کوئی عیب ہو۔ اسی احساسِ برتری اور مقابلہ بازی میں لوگ جائز اور ناجائز کی تمیز بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ مقصد صرف یہ رہ گیا ہے کہ کسی بھی طرح اس دوڑ میں شامل رہیں، چاہے اس کے لیے اصول ہی کیوں نہ قربان کرنے پڑیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ اصل اعتماد شور نہیں کرتا۔ مہذب لوگ چیختے نہیں، وہ اپنے رویے سے پہچانے جاتے ہیں۔ عزت دینا کمزوری نہیں بلکہ مضبوط کردار کی علامت ہے۔ دکھاوا وقتی تالیاں تو سمیٹ سکتا ہے، مگر مستقل عزت صرف اخلاق اور تربیت سے حاصل ہوتی ہے۔
    جدید ہونا یقیناً اچھی بات ہے، مگر اگر جدیدیت تہذیب، احترام اور اقدار کے بغیر ہو تو وہ محض ایک کھوکھلا خول بن جاتی ہے۔ شاید ہمیں دوبارہ یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کامیابی صرف آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا نام ہے۔