Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • "انسان واپس لوٹ سکتا ہے؟ ” تحریر: عائشہ اسحاق

    "انسان واپس لوٹ سکتا ہے؟ ” تحریر: عائشہ اسحاق

    بسنت جیسے خونی تہوار کی اجازت اقتدار میں بیٹھی ہوئی عورت نے دے کر فضا میں موت کے پروانے آزاد کر دیے۔ چھتوں پر اڑتی پتنگیں ،،سڑکوں پر چلنے والوں کی موت کا سامان ھیں میڈیا پر بسنت کے جشن اور اس خونی تہوار کے نام پر کاروباری سطح پراربوں کے منافع اور دیگر تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں مگر تمام چینلز اور میڈیا پتنگ بازی کے باعث کئی زخمی اور مرنے والے بے زبان معصوم پرندوں ، چھت سے گر کر ، کرنٹ لگنے سے اور گلے پر ڈور پھرنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والے انسانوں کے متعلق بات کرنے سے قاصر ہیں۔ کیا اربوں روپے کسی مرنے والے ایک بھی شخص کو واپس لا سکتے ہیں؟

    کیا پتنگ بازی کا شوق انسانی جان سے زیادہ اہم ہے؟ڈور کی صورت فضا میں موت کا رقص کوئی تہوار یا جشن کہلا سکتا ہے؟ انسانی جانیں گنوا کر پیسہ کمانا منافع کہلا سکتا ہے؟ اقتدار میں بیٹھا ٹولہ ان متاثرین کے درد کا مداوا کر سکتا ہے؟ افسوس ہے ایسی بے حسی پر اور ایسی غافل غلام عوام پر جو اپنے حقوق کے بارے میں سوال نہیں اٹھا سکتے وہ ایسے تماشوں پر تین روز تک ناچتے رہے۔ یاد رکھیں ڈور سے مرنے والوں کے قاتلوں میں اپ سبھی شامل ہیں۔

  • بسنت خوشی کا تہوار یا فضول خرچی؟تحریر:آپا منزہ جاوید ،اسلام آباد

    بسنت خوشی کا تہوار یا فضول خرچی؟تحریر:آپا منزہ جاوید ،اسلام آباد

    بسنت کو ہم بہار کی خوشی، روایت اور تہوار کا نام دیتے ہیں، مگر جب اسی بسنت کے نام پر خرچ ہونے والی رقم، دکھاوا اور بے حسی سامنے آتی ہے تو دل سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ تہوار ہے یا کھلی فضول خرچی؟

    حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تحریر گردش کرتی رہی جس میں طنز کے پیرائے میں اس مقروض قوم کے “بسنت پیکجز” پیش کیے گئے۔ نام تھا “شاہ بسنت مینجمنٹ (SBM)”اور پیکجز کے نرخ ایسے کہ آدمی مہنگائی، قرض اور غربت سب ایک ساتھ بھول جائے۔ کہیں ڈائمنڈ کلاس بسنت پیکج پچیس لاکھ روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جہاں کشادہ چھت، دن رات کی ضیافتیں، ڈھول، رقص، سینکڑوں پتنگیں اور ہزاروں میٹر ڈور شامل ہیں۔ کہیں گولڈ اور سلور کلاس کے نام پر لاکھوں روپے کی بسنت، اور کہیں نام نہاد ‘غریب نواز پیکج’ بھی تین لاکھ روپے سے کم نہیں۔

    طنز یہ ہے کہ جس قوم کے بچے تعلیم، علاج اور دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہوں، وہ قوم بسنت کے نام پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ہوا میں اڑا دیتی ہے۔ ایک طرف قرض، بجلی کے بل، مہنگائی اور بے روزگاری کا رونا ہے، اور دوسری طرف جرمن پیپر کی پتنگیں، برما کے بانس، پلاٹینئیم مانجھا اور سیاسی نعروں والی گڈیاں۔ یہ سب محض ایک مذاق یا تحریر نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویے کا آئینہ ہے۔ ہم خوشی منانے کے نام پر یہ بھول جاتے ہیں کہ انہی رنگوں کے پیچھے کتنی جانیں جاتی ہیں، کتنے گھر اجڑتے ہیں، کتنے باپ اپنے بیٹوں کے جنازے اٹھاتے ہیں، اور کتنی مائیں بسنت کے بعد خاموش ہو جاتی ہیں۔

    میں یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ بسنت کے نام پر بنائے گئے یہ تمام پیکجز حقیقت میں اسی طرح موجود ہیں یا واقعی اتنی بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں، مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اس میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور پوشیدہ ہے، کیونکہ یہ ہمارے معاشرتی رویوں سے بالکل مختلف نہیں۔روز بروز بڑھتی بے روزگاری، بھوکے خاندانوں میں اضافہ، اور فاقوں سے تنگ آ کر ہونے والی خودکشیاں،یہ سب خبریں اب سنائی نہیں دیتیں، دکھائی دیتی ہیں۔ کہیں بھوک سے عاجز آ کر کوئی اپنی جان لے لیتا ہے، کہیں ماں باپ بچوں کو زہر دے کر خود بھی موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ کہیں غریب ہسپتال میں علاج کے اخراجات کے بوجھ تلے ہار مان لیتا ہے، اور کہیں بچے علاج کے انتظار میں دم توڑ دیتے ہیں۔

    ایسے میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسی ملک کے باسی بسنت کے نام پر لاکھوں روپے پتنگوں اور ڈور پر اڑا دیتے ہیں تو یہ محض فضول خرچی نہیں، بلکہ اجتماعی بے حسی کا کھلا اظہار بن جاتی ہے۔ وہی پیسہ کسی غریب کے گھر کا سال بھر کا راشن بن سکتا تھا، کسی کے بچوں کی پوری سال کی اسکول فیس ادا ہو سکتی تھی، کئی غریب بچیوں کی شادیاں ہو سکتی تھیں۔

    رمضان المبارک چند دن کی دوری پر ہے۔ یہی لوگ اگر چاہیں تو سفید پوش گھرانوں میں راشن پہنچا سکتے تھے تاکہ روزے آسانی سے گزر سکیں، مگر ترجیح پھر بھی تفریح، نمود و نمائش اور فضول خرچی ہی ٹھہرتی ہے۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بسنت صرف ایک تہوار ہے یا ایک معاشرتی مظہر جس میں ہم اپنی ترجیحات، اخلاق اور انسانی ہمدردی کا امتحان لیتے ہیں؟ کیونکہ اگر واقعی ہم خوشی منانے کے لیے اتنی رقم خرچ کر سکتے ہیں، تو پھر ضرورت مندوں کے لیے اتنی محنت کیوں نہیں کی جاتی؟

    اگر واقعی اس ملک کے لوگ اتنے امیر ہیں کہ بسنت کے نام پر لاکھوں روپے صرف پتنگوں اور ڈور پر خرچ کر سکتے ہیں، تو پھر ہر چوک پر بے روزگار کیوں نظر آتے ہیں؟ ہر محلے میں بھیک مانگتے ہاتھ کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ زکوٰۃ کے راشن کی تقسیم کے وقت لمبی قطاریں کیوں لگتی ہیں؟ یا جب ہمارے نوجوان، روزگار کے لیے ہونڈی کے ذریعے دوسرے ملک جانے نکلیں تو بے رحم پانی میں کشتی الٹ جانے سے اپنی زندگی گنوا دیتے ہیں، تب بھی کسی کے دل پر یہ رقم خرچ کرنے کا سوال کیوں نہیں آتا؟

    یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ جب کوئی ضرورت مند مدد کے لیے دستک دیتا ہے تو یہی فضول خرچی کرنے والے لوگ مدد کے وقت حساب کتاب میں پڑ جاتے ہیں۔ بڑی سوچ بچار کے بعد کوئی دو ہزار، کوئی پانچ یا دس ہزار دے کر ایسے دیکھتا ہے جیسے اس نے لاکھوں کی خیرات کر دی ہو—حالانکہ انہی ہاتھوں سے کچھ دن پہلے لاکھوں روپے پتنگوں کی نذر کر دیے گئے ہوتے ہیں۔

    یہاں بسنت کے نام پر ہونے والی یہ فضول خرچی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ہماری ترجیحات کہاں کھو گئی ہیں۔ ایک طرف قرض، بل اور روزگار کی جدوجہد ہے، اور دوسری طرف چند خوش قسمتوں کے لیے دن رات کی ضیافتیں، ہزاروں میٹر ڈور اور لاکھوں روپے کی پتنگیں۔ یہ تضاد ہمارے سماجی شعور پر ایک واضح سوال چھوڑ دیتا ہے: ہم واقعی کس کے لیے اور کس مقصد کے لیے خوشی مناتے ہیں؟
    اصل سوال یہی ہے کہ
    کیا مسئلہ وسائل کی کمی ہے،
    یا احساس کی کمی؟

    یہ مضمون ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ خوشی منانے کے نام پر خرچ ہونے والی رقم، اگر سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ استعمال کی جائے، تو کتنا بڑا فرق ڈال سکتی ہے۔ کسی غریب بچے کی تعلیم مکمل ہو سکتی ہے، کسی بیمار کی زندگی بچائی جا سکتی ہے، اور کسی خاندان کے چہروں پر مسکراہٹ آ سکتی ہے۔ بسنت کے نام پر اڑائے جانے والے کروڑوں روپے، اگر معاشرتی بھلائی کے لیے خرچ ہوں، تو شاید یہی اصل خوشی ہو، جس کی ہمیں تلاش ہے۔
    شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں—
    بسنت خوشی کا تہوار ہے،
    یا ایک ایسی فضول خرچی
    جو ہر سال ہماری توجہ اور ہمدردی کی کمی کو سامنے لے آتی ہے۔
    اور اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ خوشی سب کے لیے خوشی بنے،
    تو بسنت کے رنگوں کے ساتھ اپنے اعمال اور ترجیحات بھی رنگیں ہونا ضروری ہیں

  • عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    پنجاب کے زرعی شعبے کے لیے حالیہ دنوں میں بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب، محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں کی جانے والی زرعی اصلاحات نے آلو کے کاشتکاروں کے لیے نہ صرف امید کی کرن روشن کی بلکہ ان کی محنت کو منافع بخش بنانے کا عملی راستہ بھی کھولا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں آلو کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ اور 12 ملین میٹرک ٹن کی تاریخی پیداوار نے پنجاب کو آلو کی عالمی منڈی میں ایک اہم کھلاڑی بنانے کی بنیاد رکھی ہے۔

    آلو کی بمپر فصل، اگرچہ کاشتکاروں کے لیے خوشی کی خبر ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑا چیلنج بھی جڑا ہوا ہے: پیداوار کے ضائع ہونے کا خطرہ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان سے آلو کی برآمد کی اجازت طلب کی۔ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ اپنے کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گی اور انہیں مناسب معاوضہ دلانے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔

    پنجاب حکومت کی کوششیں صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر برآمدات کے لیے قازقستان سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ مریم نواز شریف کے مطابق، قازقستان پہلا قدم ہے اور اس کے بعد مزید بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے گی تاکہ آلو کی ریکارڈ پیداوار کو کوڑیوں کے بھاؤ نہ بیچا جائے۔

    کسانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ فصل کی منڈیوں تک آسان رسائی ہے۔ زمین کی تیاری، فصل کی اگائی، دیکھ بھال، کھاد اسپرے اور پانی کی فراہمی جیسے اقدامات میں محنت کے باوجود، کئی بار کسان منافع نہ کما پاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے ہیں تاکہ آلو کی پیداوار نہ صرف ملک میں بلکہ عالمی منڈی میں بھی مناسب قیمت اور استحکام کے ساتھ فروخت ہو۔

    اس تمام عمل کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ پنجاب کے کسان اپنی محنت کا پوری قیمت حاصل کریں اور ان کی فصلیں ضائع نہ ہوں۔ آلو کی بمپر پیداوار اب کسان کے لیے پریشانی نہیں بلکہ خوشحالی اور معاشی استحکام کا پیغام لائے گی۔ پنجاب کی حکومت کی یہ حکمت عملی نہ صرف زرعی شعبے میں انقلاب لانے کی طرف ایک مضبوط قدم ہے بلکہ پاکستان کے زرعی برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈی میں مقام بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔

    مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب کی زرعی اصلاحات نے آلو کی پیداوار کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا ہے اور عالمی منڈی میں برآمدات کی راہیں کھول دی ہیں۔ یہ اقدامات کسانوں کے مالی استحکام، پیداوار کی حفاظت اور ملک کی معیشت میں زبردست بہتری کا سبب بن سکتے ہیں۔ آلو کی بمپر فصل اب صرف ایک زرعی کامیابی نہیں بلکہ پنجاب کے کسانوں کے لیے خوشحالی کا حقیقی پیغام ہے۔

  • رحم جرم بن گیا، جو کتوں کو بچائیں وہی مجرم ٹھہرے،تحریر:صدف برار

    رحم جرم بن گیا، جو کتوں کو بچائیں وہی مجرم ٹھہرے،تحریر:صدف برار

    ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سا تاثر عام کر دیا گیا ہے کہ جو لوگ گلی محلوں میں موجود اسٹریٹ ڈاگز کو کھانا کھلاتے ہیں، زخمی جانوروں کا علاج کرواتے ہیں یا ان کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ کوئی “ممی ڈیڈی” قسم کے لوگ ہیں جنہیں انسانوں سے زیادہ کتوں کی فکر ہے۔ رحم کرنا جیسے کوئی جرم بن گیا ہو۔ لیکن اگر ہم ذرا اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں سی ڈی اے کی پالیسیوں پر تحقیق کریں تو حقیقت اس تاثر سے کہیں زیادہ خوفناک نظر آتی ہے۔ یہاں مسئلے کا حل ویکسینیشن، نیوٹرنگ یا بہتر شیلٹرز نہیں بلکہ گولیاں، زہر اور اجتماعی ہلاکتیں ہیں۔ کتوں کو پکڑ کر مار دیا جاتا ہے، زہر دے کر ہلاک کیا جاتا ہے، ماؤں کو ان کے بچوں سے جدا کر دیا جاتا ہے اور بڑی تعداد میں انہیں نام نہاد شیلٹرز میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں نہ مناسب خوراک ہے، نہ صاف پانی، نہ چھت اور نہ ہی موسم کی شدت سے بچنے کا کوئی انتظام۔ یہاں تک کہ پانی تک میسر نہیں ہے اور جانور پیاس سے تڑپتے رہتے ہیں۔ یہ شیلٹر نہیں بلکہ اذیت گاہیں ہیں۔

    سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ نومولود پلے جب ماں سے جدا کیے جاتے ہیں تو یا تو بھوک سے بلک بلک کر مر جاتے ہیں یا بڑے کتوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ کئی زخمی ہو کر سڑتے رہتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ دوسری طرف ہم روز اخبارات میں یہ خبریں پڑھتے ہیں کہ ریبیز کے باعث کتوں نے لوگوں کو کاٹا اور اسپتالوں میں ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کتا ہے یا ہمارا ناکام ہیلتھ سسٹم؟ ریبیز ویکسین مہیا کرنا حکومت اور محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ ہر گلی کے کتے کو گولی مار دینا۔ ایک جانور کی غلطی کی سزا پورے علاقے کے تمام جانوروں کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟

    یہاں سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ “کتا نظر آئے تو پتھر مار دو، ڈنڈا اٹھاؤ، بھگا دو۔” ظاہر ہے جب جانور کو خطرہ محسوس ہوگا تو وہ اپنے دفاع میں بھونکے گا یا کاٹے گا۔ زیادہ تر واقعات جارحیت نہیں بلکہ خوف کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جانور بھی زندہ مخلوق ہیں، ان میں بھی درد، خوف اور محبت کا احساس ہوتا ہے۔ جو لوگ انہیں کھانا کھلاتے ہیں، وہ شوقیہ نہیں کرتے بلکہ انہیں بھی جینے کا حق دیتے ہیں۔ کیونکہ ماں، ماں ہوتی ہے، چاہے انسان کی ہو یا کسی جانور کی۔ ذرا سوچئے اگر کسی انسان کے بچے کو زہر دے کر مار دیا جائے تو والدین پر کیا گزرے گی؟ تو پھر ایک بے زبان جانور کی ماں کا درد ہمیں کیوں نظر نہیں آتا؟

    افسوس کی بات یہ ہے کہ عدالتیں بھی واضح احکامات دے چکی ہیں کہ کتوں کو مارنے کے بجائے نیوٹر کیا جائے، ویکسینیشن کی جائے اور آبادی کو انسانی طریقے سے کنٹرول کیا جائے، مگر ان احکامات پر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔ گولی چلانا آسان ہے، نظام بنانا مشکل۔ دنیا بھر میں کامیاب ماڈلز موجود ہیں جہاں نیوٹرنگ اور ویکسینیشن کے ذریعے مسئلہ حل کیا گیا، لیکن ہم اب بھی قتل عام کو حل سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنے کتے مارے جائیں گے، اتنی ہی تیزی سے نئے پیدا ہو جائیں گے، کیونکہ مسئلہ قتل سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے حل ہوتا ہے۔

    سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمین صرف انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے؟ کیا باقی مخلوق کو جینے کا حق نہیں؟ ہمارا مذہب بھی ہمیں بے زبان جانوروں پر رحم کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم پورے ملک سے تمام کتوں کا خاتمہ بھی کر دیں تو کیا ہمارے اسپتال بہتر ہو جائیں گے؟ کیا ویکسین دستیاب ہو جائے گی؟ کیا ہمارا نظام ٹھیک ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ ہم صرف مزید بے حس ہو جائیں گے۔ کیونکہ جس معاشرے میں رحم ختم ہو جائے، وہاں انسانیت بھی مر جاتی ہے۔

  • جہیز .تحریر:تابندہ طارق عکس

    جہیز .تحریر:تابندہ طارق عکس

    لخت جگر دے دینا کوئی کم تھوڑی ہے جس کے ساتھ جہیز دینا اہم قرار دے دیا گیا ہے۔انسان کی قیمت تو ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے پھر بھی انسان کو چیزوں کے ترازو میں تولنا کہاں کا انصاف ہے۔لڑکی والے تو نہیں کہہ سکتے لیکن لڑکے والے تو آگے بڑھ کر دل بڑا کر ہی سکتے ہیں کے انھیں جہیز نہیں چاہیے ہے۔ان کے گھر میں ضرورت کی ہر چیز موجود ہوتے ہوئے بھی کیسے فخر سے سب لے جاتے ہیں۔کاش یہ سوچیں کچھ بدلیں ایک دفعہ خود کو اس بات پر رکھ کر سوچیں کہ اگر بہو گھر لے جانے کے بجائے انھیں اپنے بیٹوں کو گھر سے رخصت کرنا پڑے اور صرف بیٹا نہیں بلکہ اس کے ساتھ سود کے طور پر جہیز بھی دینا پڑے اور پھر ساس سسر کی خدمت اور سالیوں اور سالوں کی باتیں بھی سننی پڑیں۔بچے ہونے کے بعد وہ بھی سنبھالیں پڑیں گھر کے کام بھی جدوجہد سے کرنے پڑ جائیں تو یہ سب وہ کر سکیں گے؟ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ انتہائی ناقابل قبول حقیقت ہے۔ایک بہو،ایک بیوی ایک بھابھی یہ سب کچھ کرتی ہے لیکن پھر بھی اسے عزت نہیں ملتی کیوں؟ کیا وہ عزت کی حق دار نہیں ہے؟

    ہمارے معاشرے کا الگ ہی المیہ ہے اپنی بیٹی کو اپنی بیٹی ہی سمجھتے رہتے ہیں جس نے کل کو کسی اور کے گھر کی زینت بننا ہوتا ہے اور جو ان کے گھر آتی ہے اسے کبھی بیٹی کا درجہ نہیں دیتے۔حالانکہ کے قابل غور تو یہ حقیقت ہے کے اصل بیٹی تو بہو ہی ہوتی ہے اسے بیٹی کا مقام دیں بیٹی کی طرح رکھیں اور بہو کو بھی چاہیے وہ بیٹی بننے کی کوشش کرے کچھ سمجھوتے تو سب کو کرنے پڑتے ہیں۔

    جہیز کی بنیاد پر رشتوں کی تعمیر مت کریں جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے لڑکوں کو انکار کی صورت میں پہل کرنی چاہیے تاکہ اس کا ہمارے معاشرے سے خاتمہ ہو سکے۔

  • "بسنت خونی کھیل ” تحریر: عائشہ اسحاق

    "بسنت خونی کھیل ” تحریر: عائشہ اسحاق

    حکومت پنجاب کی طرف سے پتنگ بازی پر عائد پابندی ہٹا کر بسنت منانے کا اعلان نہایت نا معقول فیصلہ ہے۔ بسنت کا اسلامی تہواروں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا اربوں روپے بسنت جیسے تہوار پر خرچ کرنے کا اعلان نہایت غلط ھے۔ اس کے علاوہ یہ بات کیسے فراموش کی جا سکتی ہے کہ پتنگ بازی جیسا قاتل شوق بہت سے خاندانوں کے چراغ گل کر چکا ہے۔ اتنی جلدی خون میں نہائے بچے اور افراد کو فراموش کر دیا گیا۔ فضول شرائط کے ساتھ ایسے قاتل کھیل کی اجازت دینا سراسر عوام دشمنی ہے۔ کیا آپ اس حقیقت سے نا واقف ہیں کہ پاکستان میں بااثرلوگ کس طرح سے قانون اور قواعدہ شرائط کی خلاف ورزیاں کر کے دندناتے پھرتے ہیں۔

    یہ مت بھولیے کہ ان شرائط کی خلاف ورزی پر جوتے اور جرمانے بھی صرف مڈل کلاس بے وقوف پتنگ باز ؤں کہ حصے میں ہی آئیں گے۔ کیونکہ بااثرلوگ قانون کو اپنے والدین کی میراث سمجھتے ہیں۔جہاں غریب کو روٹی میسر نہیں وہاں ایسے فضول اور خونی شوق پر اربوں روپے لگانا شرمناک ہے ۔افسوس اس بات پر بھی ہے کہ ایسے نامعقول اقدامات میں ہم عوام میں سے کئی پڑھے لکھے لوگ بھی شامل حال دکھائی دیتے ہیں۔

  • تلہ گنگ  کی خونی یہاڑیاں اور  ایثار کے جزبوں سے مالا مال لوگ،​تحریر:فیضان شیخ

    تلہ گنگ کی خونی یہاڑیاں اور ایثار کے جزبوں سے مالا مال لوگ،​تحریر:فیضان شیخ

    ​آج صبح جب بستر کی تپش میں وٹس ایپ اوپن کیا تو کسی صحافی دوست کی بھیجی گئی ایک خونریز خبر نے گویا روح تک کو لرزا دیا۔ اسکرین پر بکھری لاشوں اور زخمیوں کی تصاویر دیکھ کر دماغ سن ہو گیا اور ماضی کے وہ تمام زخم ہرے ہو گئے جو تلہ گنگ کی ان سڑکوں نے ہمیں دیے ہیں۔

    ​اس دلخراش منظر کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں ہمارے پیارے ناصر محمود شیخ کی آواز گونجنے لگی۔ وہ شخص جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ناصر صاحب اکثر کہتے ہیں کہ "گاڑیوں کے مالکان کو صرف وقت کی فکر ہوتی ہے، انسانی جان کی نہیں”۔ مالکان کا ڈرائیورز پر ‘ٹائم’ پر پہنچنے کا دباؤ دراصل موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہے۔ خاص طور پر ان دنوں جب پنجاب کی فضاؤں پر دھند کا راج ہے، کیا ہم چار سے چھ گھنٹے کا وقفہ نہیں کر سکتے؟ کیا چند گھنٹوں کا انتظار ان قیمتی جانوں سے زیادہ قیمتی ہے؟

    ​تلہ گنگ کی جغرافیائی صورتحال بتاتی ہے کہ تلہ گنگ کی کی دو خونی پہاڑیاں ڈھوک پٹھان اور انکڑ کی پہاڑی اب انسانی زندگیوں کے لیے مقتل بن چکی ہیں۔ ماضی قریب میں کوہاٹ سے آنے والی تبلیغی جماعت کی بس کا وہ ہولناک حادثہ جس میں 18 اموات ہوئیں، آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے (NHA) ان مقامات پر محض ‘خطرناک موڑ’ کے بورڈ لگانے کے بجائے ٹھوس حفاظتی بندوبست کرے۔ ان پہاڑیوں پر جدید ترین کیٹ آئیز، فلیشرز، اور حفاظتی دیواروں کی اشد ضرورت ہے تاکہ دھند میں راستہ بھٹکنے والے ڈرائیورز کسی بڑی کھائی میں نہ جا گریں۔

    ​جہاں یہ حادثات ہمیں غمگین کرتے ہیں، وہیں تلہ گنگ کی عوام کا ایثار دیکھ کر انسانیت پر مان بڑھ جاتا ہے۔ میں تلہ گنگ کے غیرت مند عوام اور نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو ہر مشکل گھڑی میں فرشتے بن کر نمودار ہوتے ہیں۔ چاہے وہ کوہاٹ کے بد قسمت مسافروں کے لیے تابوت بنوانا ہو یا آج کے حادثے میں اپنے نرم گرم بستر چھوڑ کر زخمیوں کو ملبے سے نکالنا، خان سعادت خان جیسے سماجی کارکنوں اور حاجی شیخ ندیم جیسے تاجروں نے ثابت کیا کہ تلہ گنگ کے لوگ مہمان نوازی اور ہمدردی میں اپنی مثال آپ ہیں۔​اسسٹنٹ کمشنر سلیمان منشاء، ڈی ایس پی ملک عزیز اور ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ذیشان اعوان کی ٹیم نے جس طرح اس ایمرجنسی کو سنبھالا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حادثے کے بعد امداد فراہم کرنے کے بجائے حادثہ ہونے سے روکنے کی طرف جائیں۔

    ​حکومت سے مطالبہ ہے کہ ڈھوک پٹھان اور انکڑ کی پہاڑیوں کے ڈیزائن پر نظرِ ثانی کی جائے اور ٹرانسپورٹ مالکان کو پابند کیا جائے کہ دھند کے دوران سفر روک کر انسانی جانوں کو تحفظ دیا جائے۔ ناصر محمود شیخ کی باتیں آج پکار پکار کر کہہ رہی ہیں: "وقت بچائیں، مگر زندگی کی قیمت پر نہیں”۔

  • دوستی، انسان سے انسان تک کا خاموش سفر.تحریر:جان محمد رمضان

    دوستی، انسان سے انسان تک کا خاموش سفر.تحریر:جان محمد رمضان

    دوستی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ نہ یہ چہروں کی کشش پر رکتی ہے، نہ عمروں کے فرق پر ٹھہرتی ہے، اور نہ ہی دولت و غربت کے ترازو میں تولی جا سکتی ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جو نظر سے پہلے دل میں اترتا ہے اور لفظوں سے پہلے احساس میں بولتا ہے۔ دوستی دراصل انسان کے اندر موجود انسانیت کو پہچان لینے کا نام ہے۔اس معاشرے میں جہاں اکثر رشتے فائدے اور ضرورت کے سہارے پنپتے ہیں، وہاں دوستی ایک ایسا نازک مگر سچا جذبہ ہے جو کسی شرط کے بغیر قبول کر لیا جاتا ہے۔ یہاں نہ لباس کی قیمت پوچھی جاتی ہے، نہ گھر کی وسعت دیکھی جاتی ہے۔ بس سامنے والے کا رویہ، اس کی نیت اور اس کا اخلاق ہی سب کچھ کہہ جاتا ہے۔ شائستگی وہ پہلا دروازہ ہے جس سے گزرے بغیر کوئی بھی دوستی کے صحن میں داخل نہیں ہو سکتا۔

    دیانتداری دوستی کی وہ بنیاد ہے جو نظر نہیں آتی مگر پوری عمارت کو سنبھالے رکھتی ہے۔ جھوٹ کے سہارے قائم ہونے والا تعلق وقتی ہو سکتا ہے، مگر دیرپا نہیں۔ سچا دوست وہ ہوتا ہے جو مشکل بات بھی سچ کے ساتھ کہہ دے، مگر انداز ایسا رکھے کہ سامنے والا ٹوٹنے کے بجائے سنبھل جائے۔ یہی دیانت رشتے کو مضبوط بناتی ہے اور اعتماد کو وقت کے تھپیڑوں سے محفوظ رکھتی ہے۔خلوص دوستی کی روح ہے۔ یہ وہ خاموش کیفیت ہے جو کسی دکھاوے کی محتاج نہیں۔ خلوص نہ بلند آواز میں بولتا ہے، نہ تعریف کا طالب ہوتا ہے۔ یہ بس موجود رہتا ہے ہر حال میں، ہر موڑ پر۔ خلوص ہی وہ قوت ہے جو دو اجنبی دلوں کو آہستہ آہستہ ایک دوسرے کا مانوس بنا دیتی ہے۔ جہاں خلوص نہ ہو، وہاں قربت بھی بے معنی لگتی ہے۔باہمی احترام کے بغیر کوئی بھی تعلق زیادہ دیر سانس نہیں لے سکتا۔ احترام وہ حد ہے جو دوستی کو بگاڑ سے بچاتی ہے۔ اختلاف رائے ہو سکتا ہے، مگر لہجے کی شائستگی، سوچ کی وسعت اور دل کی نرمی رشتے کو سلامت رکھتی ہے۔ سچا دوست وہ نہیں جو ہر بات پر متفق ہو، بلکہ وہ ہے جو اختلاف کے باوجود عزت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔

    دوستی میں عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ کبھی کوئی ہم سے بہت بڑا ہو کر بھی ہمارے دل کی بات سمجھ لیتا ہے، اور کبھی ہم سے چھوٹا ہو کر بھی ہمیں جینے کا ہنر سکھا دیتا ہے۔ تجربہ اور معصومیت جب ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں تو دوستی کا رنگ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ یہاں سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ خاموشی سے چلتا رہتا ہے۔اسی طرح دولت کی کمی یا فراوانی بھی دوستی کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ امیر کا خلوص غریب کے خلوص سے کم یا زیادہ نہیں ہوتا۔ اصل فرق نیت کا ہے۔ وہ دوست جو خالی جیب کے ساتھ بھی مسکرا کر ساتھ بیٹھ جائے، اس سے قیمتی کوئی دولت نہیں۔ کیونکہ دوستی سکوں سے نہیں، سکون سے خریدی جاتی ہے۔سچی دوستی میں مقابلہ نہیں ہوتا، ساتھ چلنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ وہاں کامیابی پر حسد نہیں، بلکہ دل سے نکلنے والی خوشی ہوتی ہے۔ وہاں ناکامی پر طعنے نہیں، بلکہ سہارا ہوتا ہے۔ ایک اچھا دوست وہ سایہ ہے جو دھوپ میں لمبا اور اندھیرے میں قریب ہو جاتا ہے۔

    یہ رشتہ وقت کے ساتھ بدلتا ضرور ہے، مگر ختم نہیں ہوتا۔ کبھی باتیں کم ہو جاتی ہیں، کبھی ملاقاتیں، مگر دل کا رشتہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ خاموشی بھی اگر اعتماد سے بھری ہو تو دوستی کا حسن بڑھا دیتی ہے۔ دوستی کسی معیار، کسی شکل، کسی حیثیت کی پابند نہیں۔ یہ بس ایک احساس ہےصاف، سچا اور بے لوث۔ اگر شائستگی، دیانتداری، خلوص اور احترام موجود ہوں تو دوستی خود راستہ بنا لیتی ہے۔ کیونکہ اصل میں دوستی انسان کو انسان سے جوڑنے کا سب سے خوبصورت ذریعہ ہے۔

  • قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں،تحریر:رقیہ غزل

    قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں،تحریر:رقیہ غزل

    قوموں کی ترقی محض قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع یا آبادی کی کثرت سے مشروط نہیں ہوتی بلکہ اصل قوت انسانی سرمایہ ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنی افرادی قوت کو تعلیم، مہارت اور پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ کیا، وہی ترقی کی دوڑ میں آگے نکلے۔ چین، جاپان، سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنے عوام کو ہنرمند بنا کر عالمی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔چین کی معاشی ترقی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہاں کی قیادت نے یہ ادراک کر لیا کہ اگر آبادی کو بوجھ بننے سے بچانا ہے تو اسے زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہوگا۔ تعلیم کو محض ڈگری تک محدود رکھنے کی بجائے فنی تربیت کو قومی ترجیح بنایا گیا۔ کرپشن کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے گئے، بدعنوانی کو ناقابلِ معافی جرم قرار دیا گیا اور نتیجتاً عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک بن چکا ہے اور عالمی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔اسی طرح جاپان کی ترقی بھی کسی معجزے کا نتیجہ نہیں بلکہ علم و ہنر کے امتزاج کا ثمر ہے۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جاپانی ماہرین نے صدیوں قبل چین سے فنی مہارتیں سیکھیں اور بعد ازاں مغربی ٹیکنالوجی کو اپنے ہنر سے ہم آہنگ کیا۔ یہی حکمتِ عملی جاپان کو جدید صنعتی ریاست بنانے کا سبب بنی۔بدقسمتی سے پاکستان، جسے اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور اسٹریٹجک محلِ وقوع جیسی بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے، آج بھی معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ ہماری تعلیمی پالیسیاں زیادہ تر نظریاتی اور کتابی حد تک محدود ہیں، جن کا عملی زندگی سے براہِ راست تعلق کمزور ہے۔ نتیجتاً ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں حاصل کر کے روزگار کی تلاش میں در بدر پھرتے ہیں، جبکہ مارکیٹ کو درحقیقت ہنرمند افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ حکومت اتنی ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جتنے گریجویٹس تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کا واحد راستہ ووکیشنل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن ہے، جو نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت میں عملی کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی ہنر سیکھنے کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں فنی تعلیم کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔


    تاہم اس گھپ اندھیرے میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو شکوہ نہیں کرتے بلکہ عمل سے چراغ جلاتے ہیں۔چند روز قبل صحافیوں کے ایک وفد کو ایک ایسے آفاقی وژن کے حامل شخص کے منصوبے دیکھنے کا موقع ملا۔وفد کی قیادت صحافیوں کی ایک تنظیم(ساک)کے جنرل سیکیرٹری ضمیر آفاقی نے کی اورلیفٹیننٹ کمانڈر راشد محمود (ر)پاکستان نیوی بھی ہمارے ساتھ تھے جو کہ سوشل میڈیا انٹلیکچوئل انفلوئنسر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تنظیم (کاسب) کے پلیٹ فارم سے ملت کے مقدر کے ستارے بھی تراش رہے ہیں کیونکہ ان کا پختہ یقین ہے کہ ہنر مند ہاتھو ں سے مقدر بدلا جا سکتا ہے درحقیقت ایسے ہی ہنر مند ہاتھوں کی جستجو اور قدر افزائی کے لیے دانشوروں کا یہ قافلہ نکلا تھا تاکہ قوم کے اصل اثاثوں کو سامنے لایا جا سکے۔

    پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد بیرونِ ملک آرام دہ زندگی اختیار کرنے کے بجائے اپنے وطن کے پسماندہ طبقات کی خدمت کو مقصدِ حیات بنایا۔ شیخوپورہ کے نواحی علاقے مہموں والی میں دو سرکاری اسکولوں کو اڈاپٹ کر کے انہوں نے جو سفر شروع کیا، وہ آج ایک قومی ماڈل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان اسکولوں میں نہ صرف تعلیمی معیار نمایاں طور پر بہتر ہوا بلکہ ان کے ساتھ قائم ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز نے نوجوانوں کو باعزت روزگار کے قابل بنا دیا۔

    شیخوپورہ کے ایک گاؤں سے شروع ہونے والا یہ سفرمعاون فاؤنڈیشن کے زیر انتظام آج ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکا ہے۔ یہاں بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے، بلکہ زندگی جینے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ یہاں بچیاں صرف تعلیم حاصل نہیں کرتیں بلکہ خودمختار بننے کی تیاری کرتی ہیں۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات تقریباًاسی فیصد تک نجی شعبے میں باعزت روزگارحاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ مزید برآں“اخوت”کے تعاون سے بلاسود قرضوں کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ نوجوان اپنا روزگار خود شروع کر سکیں۔وفاقی و صوبائی تعلیمی محکموں، نجی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے اشتراک سے چلنے والے یہ منصوبے اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اگر نیت درست ہو تو پسماندگی کو شکست دی جا سکتی ہے۔یہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز دراصل ان نوجوانوں کے لیے نئی زندگی کا دروازہ ہیں جو حالات کے ہاتھوں تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ سلائی مشین سے کمپیوٹر لیب تک، کلاس روم سے ورکشاپ تک ہر جگہ ایک ہی پیغام ہے کہ ہنر عزت دیتا ہے، خودداری سکھاتا ہے۔


    یہ ادارے خاص طور پر ان بچوں اور بچیوں کے لیے امید کا سہارا ہیں جو غربت، گھریلو ذمہ داریوں یا وسائل کی کمی کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کوجزو لازم بنایا گیا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس وقت اس نیٹ ورک کے تحت ملک بھر میں تقریباً تین سوسے زائد تعلیمی و ووکیشنل ادارے کام کر رہے ہیں، جہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نجی شعبے میں روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ان اداروں کی ایک نمایاں خصوصیت طالبات کی بڑی تعداد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ماحول محفوظ اور شفاف ہو تو والدین اپنی بچیوں کو تعلیم اور ہنر حاصل کرنے سے نہیں روکتے۔ مزید برآں، بلاسود قرضوں اور نجی و سرکاری اداروں کے تعاون نے اس ماڈل کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو اگر معاشی خودمختاری اور سماجی استحکام درکار ہے تو اسے تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تربیت کو قومی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔

    ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ کے منصوبے اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ درست سمت، مخلص قیادت اور عملی اقدامات سے قومی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ان اداروں سے نکلنے والے نوجوان جب اپنے خاندان کا سہارا بنتے ہیں تو اصل ترقی کی تصویر سامنے آتی ہے۔بلاشبہ ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ کے تعلیمی و تربیتی منصوبے پاکستان کے لیے روشنی کے مینارہیں جو حکمرانوں کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ پیشہ ورانہ تربیت سے ہی قومی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔یہ منصوبے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ قوموں کا مستقبل تقریروں، سوالوں اور موازنوں میں نہیں بلکہ ہنر مند ہاتھوں، باعمل ذہنوں اور مخلص قیادت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہی وہ ماڈل ہے جو بتاتا ہے کہ اگر نیت درست ہو تو وسائل خود راستہ بنا لیتے ہیں۔شاید یہی وہ چراغ ہیں جن کی روشنی ایک دن پورے معاشرے کو منور کرے گی۔اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان چین یا جاپان بن سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب اپنی صلاحیتوں پر یقین کر کے ہنر مند پاکستان کی بنیاد رکھیں گے۔کیونکہ قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں۔

    رقیہ غزل
    رقیہ غزل
  • اب آگ گھر کے آنگن میں ہے،تحریر:رقیہ غزل

    اب آگ گھر کے آنگن میں ہے،تحریر:رقیہ غزل

    یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں ہر حادثہ اپنے ساتھ ایک اور سانحہ لاتا ہے اور وہ ذمہ داروں کی بے حسی اور انسانیت سے عاری ردعمل ہوتا ہے۔ کسی بھی سانحے کی پہلی چیخ سڑک پر گونجتی ہے۔ دوسری سوشل میڈیا پر اور تیسری کسی پریس ریلیز میں دب کر رہ جاتی ہے۔ باقی سب ایک ایسی خاموشی میں گم ہو جاتا ہے جسے ہم ’’قومی مزاج‘‘ کا نام دے کر خود کو تسلی دے دیتے ہیں۔ جیسے ہم نے اجتماعی طور پر یہ طے کر لیا ہو کہ مسئلہ حل کرنے سے بہتر ہے کہ وقت کے ڈھیر تلے دبا دیا جائے اگر بدبو اٹھے بھی تو ناک پر ہاتھ رکھ کر گزر جائیں مگر کچھ بدبوئیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف ناک نہیں، روح کو بھی جلا دیتی ہیں اورجب روح جلتی ہے تو سوال اٹھتے ہیں جس کا جواب یوں ملتا ہے کہ اب میں ڈھکن کہاں کہاں لگائوں ؟

    کراچی کے دل گلشن اقبال میں تین سالہ بچے کا کھلے گٹر میں گر جانا ایسا ہی حادثہ تھا۔ منظر کوئی ڈرامائی نہیں بلکہ روز مرہ کی حقیقت ہے۔ چیخ اٹھتی ہے، لوگ بھاگتے ہیں، کالیں کی جاتی ہیں مگر پھر شہر کی پوری انتظامی مشینری ایک اندھی تلاش میں گھومتی رہتی ہے کہ تاریک سرنگ میں ہاتھ پیر مارتے ہوئے پندرہ گھنٹے گزرنے کے بعد اس بچے کی لاش کئی سو میٹر دور ایک دوسرے کھلے مین ہول سے خاکروب نکالتا ہے جسے شاباش نہیں الٹا ہتک آمیز رویہ تحفے میں ملتا ہے جیسے کوئی گناہ کر دیا ہو۔ دکھ اپنی جگہ، ملال اپنی جگہ، مگر خوف اس بات کا ہے کہ یہ المناکیاں ہمیں اب حیران بھی نہیں کرتیں ؟ جیسے ہم نے شہر کی بدنظمی کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ کر لیا ہو کہ ’’تم بے حس رہو، ہم صبر کرتے رہیں گے۔‘‘ریسکیو ادارے صاف کہتے ہیں کہ وہ بلائنڈ آپریشن کرتے ہیں۔ یعنی شہر کی نالیاں آج بھی کسی پراسرار غار کے نقشے کی طرح ہیں جنہیں شاید بنانے والوں نے بھی کبھی مکمل نہیں دیکھا۔ برسوں کے سیاسی جوڑ توڑ نے نالوں کا ایسا تھیلا بنا دیا ہے جسے محکمے خود کھولنے سے گھبراتے ہیں۔ اوپر سے حکم کہ رات کو سرچ کرنا ممنوع ہے۔ یعنی کہ شہر رات میں حادثے کرے مگر ادارے صبح کے سورج کے بغیر آنکھ نہیں کھول سکتے۔

    بالفرض کھل بھی گئی تو بیانات کا سیلاب اور عمل کی قحط سالی کے سواکچھ نہیں ملتا۔ یہ درد کے لمحے پہلے ہی طویل تھے ہی کہ ایک اور دلخراش واقعے نے کہانی کا رخ موڑ دیا جب اسلام آباد کی ایک سجی ہوئی سڑک پر، ایک جج صاحب کا سولہ سالہ شہزادہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ گاڑی میں مستیاں کرتے ہوئے دو نوجوان لڑکیوں کو سکوٹی سمیت کچل گیا۔ ایک لمحہ، ذرا سی بے احتیاطی اور دو گھر ہمیشہ کے لیے لاوارث ہوگئے۔ مگر ہمارے پاس پھر وہی روایتی ہلچل، وہی کاغذی کارروائیاں، سیاسی اور قانونی بحثیں اور پھر وہی سوال جو ہر شہری کی آنکھ میں ٹھہر گیا ہے کہ اس بار بھی انصاف طاقتور کے جوتے کے نیچے دب جائے گا؟ کیونکہ یہاں جرم کا تعین عدالت نہیں بلکہ جیب اور عہدہ کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ہاں گٹر کا ڈھانچہ ضروری نہیں رہابلکہ پورا نظام اب اصلاح چاہتا ہے تاکہ طاقتوروں کی غلطیاں واقعات اور کمزوروں کی لغزشیں جرائم نہ کہلائیں۔

    ایسے کڑے حالات میں ریاستی ترجیحات مزید سوالات کو جنم دیتی ہیں کہ عوام کا ذکر روزمرہ ایجنڈے میں تو دور کی بات کسی ضمنی خانے میں بھی نہیں ملتا۔ ہر روز کوئی نئی خبر ملتی ہے کہ فلاں سیاسی رہنما کا سیل بدل دیا گیا، فلاں کے بیان کو مبینہ طور پر اے آئی کے ذریعے مسخ کر کے پھیلایا گیا، فلاں کی بہنوں کے بیانات کو ریاستی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جیسے پوری قوم صرف تین چار شخصیات کے آس پاس گھومتی ہو، اور باقی کروڑوں لوگ کسی اور کائنات کی مخلوق ہوں جن کا وجود صرف بل اور ٹیکس کی حد تک مانا جاتا ہے حالانکہ آئی ایم ایف کی رپورٹ ایک واضح تنبیہ ہے کہ سنبھل جانے کا وقت ابھی ہے! درحقیقت معیشت کا حال بھی کسی سے نہیں چھپا کہ بازاروں میں قیمتیں دیکھ کر بھی انسان سوچتا ہے کہ شاید ٹیگ غلط لگ گیا ہو، مگر پھر معلوم ہوتا ہے کہ غلطی ٹیگ کی نہیں، امید کی تھی۔ تنخواہیں دھوپ میں رکھے پانی کی طرح اڑ رہی ہیں، ٹیکسوں کی یلغار کسی موسم کی طرح نہیں رکتی، ٹریفک چالان آندھی کی طرح آتے ہیں اور پٹرول کی قیمتیں یوں اچھلتی ہیں جیسے رسّی تڑوا کر بھاگا ہوا گھوڑا کسی کو روندتا ہوا آگے نکل جائے۔ بجلی کے بل عوام کی جیب میں نہیں، دل میں بجلی گراتے ہیں۔ مگر۔۔ریاست اپنی دنیا میں گم کہ نوٹیفکیشن آیا یا نہیں اور اگلی باری کس کی؟ گویا ملک کے تمام مسائل حل ہوچکے !جس میں ذاتی مفاد مقدم ہو، زمینی حقائق کی پرواہ نہ کی جائے جس میں ملکیت و قومی مفادات کو ذاتی خواہشات کے سامنے قربان کیا جائے دراصل یہی رویہ کہ پہلے ہم، بعد میں عوام اصل’’ کھلا گٹر ‘‘ہے اورگٹر تو ایک جان لیتا ہے مگر بے حسی پوری قوم کی امید کا جنازہ اٹھا دیتی ہے۔ فیصلے طاقت کے کمروں میں تیار ہوتے ہیں، سیاست سکرینوں پر کھیلی جاتی ہے اور عوام کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا جاتا، سوائے اس کے کہ وہ اندھیری سرنگ میں چلتے رہیں، اس امید پر کہ شاید کبھی روشنی نظر آ جائے جبکہ نہ رہنمائی ہے، نہ نقشہ، نہ کوئی سمت۔ بس تجربے پر تجربہ، جیسے ملک نہیں کوئی لیبارٹری ہو جس میں ہر روز ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔ کبھی سیاسی انجینئرنگ، کبھی انتظامی اکھاڑ پچھاڑ، کبھی معاشی نسخے جنہیں آزماتے آزماتے عوام کی کمر ٹوٹی جا رہی ہے لیکن ناکامیوں پر عوام ہنس بھی نہیں سکتے، کیونکہ ہنسی بھی مہنگی پڑتی ہے کہ ناکامی کا پھندا گلے میں ڈال کر کہا جاتا ہے کہ۔۔گھبرائیں نہیں، یہ سب آپ کی بہتری کے لیے ہے۔۔مگر عوام اب اس جملے پر ایمان نہیں رکھتے اوروہ جانتے ہیں کہ آگ اب صرف گلی کے گٹر تک محدود نہیں رہی، بجلی کے بلوں میں جھلستی ہے، بچوں کی فیسوں میں روتی ہے، دکانوں کی مہنگی روشنیوں میں تڑپتی ہے، گیس، پیٹرول، پانی، روزگا رسب اس آگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔ آگ اب دہلیز پر نہیں، گھر کے آنگن میں دہک رہی ہے۔بہر حال اگر ہم آج بھی نہ جاگے تو کل اخبار میں یہ نہیں لکھا جائے گا کہ ’’ایک بچہ گٹر میں گر کر جاں بحق ہوا‘‘ ممکن ہے یہ لکھا جائے کہ یہ قوم بہت پہلے اپنے اجتماعی گٹر میں گر چکی تھی، فرق صرف اتنا ہے کہ اسے گرنے کا احساس ہی نہ تھاکیونکہ وہ تماشے دیکھنے میں مصروف تھی اور جب قومیں تماشوں میں گم ہو جائیں ،خوف آخرت سے خالی ہوں، وہ خود اپنی بربادی لکھتی ہیں۔ لہذااب سوال یہ نہیں رہاکہ جگر گوشے کیوں نہ بچ سکے بلکہ سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم اپنا باقی بچا ہوا شعور، بچی ہوئی غیرت اوربچا ہوا ملک‘ بچا سکیں گے یا نہیں؟