Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • خلیفہ ثانی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ – جویریہ بتول

    خلیفہ ثانی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ – جویریہ بتول

    خلیفۂ ثانی حضرت عمر ابنِ خطاب رضی اللّٰــــہ عنہ
    ✍🏻:جویریہ بتول

    مرادِ نبیﷺ تھا جو خود چل کر وہ آ گیا…
    آتے ہی کلمہ پڑھ کر غرورِ کفر پر چھا گیا…
    اِک حوصلہ دیا جس نے بے بس مسلمانوں کو…
    بیت اللّٰــــہ کے آنگن میں وہ نغمۂ توحید گا گیا…

    جس راستے عمر چلے، وہاں بھاگتا شیطان ہے…
    عمر کے دل کی خواہشوں پر اُترتا قرآن ہے…
    کوئی ہوتا بعد میرے گر نبی اس جہاں میں…
    ہوتا وہ فقط عمر،یہ پیارے نبیﷺ کا فرمان ہے…

    جس طرف بھی بڑھ گیا عمر آ گیا اِک انقلاب…
    ہر دیار میں چہار جانب اُبھرا اسلام کا آفتاب…
    قبلہ اول کےقابض دَنگ تھے دیکھ کر مردِ درویش…
    بن کر فاتح وہاں داخل ہوا تھا جب ابنِ خطاب…

    شرق سے غرب تک پھیل گئی تھی آسودگی…
    خلیفہ جاگتا تھا ،جب قوم پر چھاتی غنودگی…
    بچوں کے رونے پر بھی جو ہو جاتا تھا بے قرار…
    اُس گرم مزاج میں یوں رچی تھی عاجزی…

    اسلام کا اِک عظیم خادم سدا رہے گا میرا عمر…
    چکنا چُور کر دی جس نے کفر کی ہر سُو کمر…
    آج بھی دہل جاتے ہیں جس کے نام سے وہ دل…
    ڈریں جس کاثانی ہونےسے،تھا وہ تقویٰ کاپیکر…

    ہیں سسرِ نبیﷺ بھی وہ، جو ہیں دامادِ علی…
    کردار سدا تاریخ کے ورق پر ہے اُن کا جلی…
    اطاعتِ نبیﷺ میں تھی یوں زندگی گزاری…
    بعد شہادت کے جگہ نبی کے پہلو میں ملی…

    ذکرِ عمر جب بھی ہوا،سادگی پہ چشمِ نم ہوئی…
    کہ واسطے اسلام کے تھی جس کی گردن خم ہوئی…
    عمر کے کردار نے بھر دی مہک سانسوں میں…
    اِسی یقین میں زندگی اُن کی خوشی و غم ہوئی…!
    (رضی اللّٰــــہ عنہ).

  • وزیز اعظم پاکستان کا خواب ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ  تحریر چوہدری عطا محمد

    وزیز اعظم پاکستان کا خواب ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ تحریر چوہدری عطا محمد

    جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے تمام لیڈران اور ان کی پارٹی کسی کے منشور میں بھی ریاست مدینہ کا زکر نہیں کیا گیا پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین اور اسلامی جہموریہ پاکستان کے وزیز اعظم جناب عمران خان نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے وہ اپنے ہر خطاب انٹرویو میں ہر جگہ ریاست مدینہ کی بات کرتے نظر آتے ہیں ریاست مدینہ ہے کیا ہمارے آقا دوجہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخِ انسانیت کی 23سالہ قلیل ترین مدت میں جو عظیم الشان انقلاب برپا کیا وہ اپنی نوعیت ، کیفیت، جدوجہد اور نتائج کے اعتبار سے اتنا حیران کن ہے کہ اس کی نظیر اقوام عالم میں کہیں موجود نہیں ہے۔ جب ہم ریاست مدینہ کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں وہ معاشرہ جس میں خدا ترسی، ہمدردی، اخوت، مساوات، بھائی چارہ آخرت پر ایمان کی جواب دہی، نیکی اور خیرخواہی کا جزبہ پیدا ہو جائیں۔ ظالم اور جابر حکام کی بجائے خدا ترس اور نیک سچا ایماندار محب وطن اور اپنے لوگوں سے پیار کرنے والا حاکم میسر آجائے اور جانب غریب کے لئے ایک قانون اور غریب کے لئے علیحدہ قانون نہ ہو بلکہ انسانیت کے لئے انصاف پر مبنی غیر جانب دار قوانین کا رائج ہو تو پھر اسی راستہ پر چلنے کو حقیقی طور پر ریاست مدینہ کے نقشہ قدم پر چلنا کہا جا سکتا ہے جہاں تک ہمارے معاشرہ کی بات کی جاۓ تو زرا ہمیں خود کا بھی جائزہ لینا ہوگا
    ہمارے کچھ لوگ ریاست مدینہ کی بات پر وزیز اعظم پر تنز کے نشتر بھی برساتے ہیں اگر ہم بحیثیت قوم اپنی بات کریں تو رشوت ،ملاوٹ ،ظلم وجبر ،زنا ،بے حیائی جھوٹ اور منافقت ،ناپ تول میں کمی ،والدین سے گستاخی کے عوامل ہم سب میں عام پاۓ جاتے ہیں لیکن وزیز اعظم سے ہم ریاست مدینہ کی امید لگاۓ بیٹھے ہیں کیا ہمارے یہ جو عمال اوپر بتاۓ ہیں جن کو ہم سر عام کرتے نظر آتے ہیں اپنے ان عوامل کے ساتھ چپکے کریں اور خود کو نہ بدلیں تو کسی بھی حکمران کی موجودگی اور ریاستی قوانین کی موجودگی میں ریاست مدینہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے ۔۔؟تو اسکا جواب ہے بلکل بھی نہیں ریاست مدینہ کے لئے جہاں حکمران کی سوچ ریاست مدینہ والی ہونی چاہئے وہاں پر ہمیں ایک قوم کی حثیت سے بھی خوداپنی سوچ اور اپنے عمل بدلنے ہوں ہماری سوچ ریاست مدینہ کے لئے کیسی ہونی چائیے وہ ان شاءاللہ نیکسٹ پارٹ میں اس کا زکر کریں گے
    اللہ پاک ہم سب کو ریاست مدینہ کو صیح سمجھنے اور ریاست مدینہ کی سوچ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • ذکر الہی ٰکی فضیلت تحریر: محمد آصف شفیق

    ذکر الہی ٰکی فضیلت تحریر: محمد آصف شفیق

    دین اسلام میں ذکر الٰہی کی بہت فضیلت ہے نبی مہربان ﷺ نے ہمیں ذکر الٰہی پر اللہ رب العالمین کی طرف سے بے شمار انعامات اور درجات کی بلندی کا وعدہ کیا ہے نبی کریم ﷺ ذکرالٰہی کرنے والوں کے درجات جہاد کرنے والوں سے بھی زیادہ بتائے ہیں اور ذکر الٰہی کو گناہوں کو مٹانے والا کہا ہے نبی مہربان ﷺ کثرت کلام سے منع فرمایا ہے اور ہر وقت ذکر الہی میں مشغول رہنے کا حکم دیا ہے
    حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے مالک (یعنی اللہ) کے نزدیک اچھا اور پاکیزہ ہے اور تمہارے درجات میں سب سے بلند اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے تمہارے کفار کی گردنیں مارنے اور ان کے تمہاری گردنیں مارنے سے بھی افضل ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے عذاب سے بچانے والی ذکر الہی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1329
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ذکر الہی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ذکر ان پر سے گناہوں کے بوجھ اتار دیتا ہے۔ لہذا وہ قیامت کے دن ہلکے پھلکے ہو کر حاضر ہوں گے۔جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1553
    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نامہ اعمال لکھنے والوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو زمین پر پھرتے ہیں، جب وہ کسی جماعت کو ذکر الہی میں مشغول دیکھتے ہیں تو آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ اپنے مقصود کی طرف آجاؤ۔ چنانچہ وہ آتے ہیںاور انہیں دنیا کے آسمان تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ اللہ رب العالمین پوچھتے ہیں کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں آپ کی تعریف اور بزرگی بیان کرتے اور آپ کا ذکر کرتے چھوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ لوگ مجھے دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ شدت سے تحمید وبزرگی بیان کرنے اور اس سے زیادہ شدت سے ذکر کرنے لگیں۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ عرض کرتے ہیں کہ تیری جنت کے طلبگار ہیں، اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے؟ عرض کرتے ہیں نہیں، اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ جنت دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو؟ عرض کرتےہیں کہ اگر وہ دیکھ لیں تو اور زیادہ شدت سے حرص سے مانگنے لگیں۔ پھر اللہ پوچھتے ہیں کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں۔ عرض کرتے ہیں کہ دوزخ سے۔ اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ کیا انہوں نے دوزخ دیکھی ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ دوزخ دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اس سے بھی زیادہ بھاگیں، زیادہ دوڑیں اور پہلے سے بھی زیادہ پناہ مانگیں۔جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1557

    حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان میں سے ایک نے پوچھا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل اچھا ہو، دوسرے نے کہا کہ احکام اسلام تو بہت زیادہ ہیں ، کوئی ایسی جامع بات بتا دیجئے جسے ہم مضبوطی سے تھام لیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری زبان ہر وقت ذکر الٰہی سے تر رہے۔مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 812
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ذکر الہی کے علاوہ کثرت کلام سے پرہیز کرو کیونکہ اس سے دل سخت ہو جاتا ہے اور سخت دل والا اللہ تعالیٰ سے بہت دور رہتا ہے
    جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 305
    جو بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے رب کریم بھی اسے یاد کرتے ہیں قرآن کریم میں فرمان الہیٰ ہے
    فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ ١٥٢؁ۧ
    لہٰذا تم مجھے یاد رکھو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا ، اور میرا شکر ادا کرو ، کفرانِ نعمت نہ کرو ۔ (سورۃ البقرہ 152)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو میرے متعلق وہ رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرے اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر مجھے جماعت میں یاد کرے تو میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہو تو میں ایک گز اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2303
    ہم اپنے رب کریم سے دعا گو ہیں کہ ہمیں کم گو اور حق گو بننے کی توفیق دیں اور ہم اپنے زیادہ وقت کو رب کریم کے ذکر میں گزار سکیں جو کہ کل یوم قیامت ہمارے کام آسکے ۔ آمین یا رب العالمین

    @mmasief

  • ریاکاری اور دکھاوا روح کے دشمن . تحریر:  زہراء مرزا

    ریاکاری اور دکھاوا روح کے دشمن . تحریر: زہراء مرزا

    ریاکاری بہت ساری خباثتوں کی ماں ہے، ممتاز نظر آنے کی دھن، خبروں میں رہنا، فضول خرچی، تکبر اور اس جیسے دیگر بیماریوں کی بنیادی وجہ ریاکاری ہے.

    ممتاز نظر آنے کی دھن جب سر پر سوار ہو جائے تو انسان وہ کچھ بھی کر گزرتا ہے جو کوئی ذی شعور انسان سوچ بھی نہیں سکتا. انسان کی نفسیات پر یہ چیز اس قدر بری طرح اثرانداز ہوتی ہے کہ انسان اچھی سے اچھی چیز میں نقص نکالنے لگتا ہے. اپنے معاشرے اور اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں سے الگ تھلگ ہو جاتا ہے. ممتاز نظر آنے کا بخار جب سر چڑھ جاتا ہے تو انسان اپنی تہذیب تمدن ثقافت کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کو بھی بائی پاس کر دیتا ہے. کسی فلم ڈرامہ یا ماڈرن سوسائٹی کا اثر لے کر آجکل لوگ منفرد نظر آنے کی خاطر انگریزی کے ایسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جو پنجابی یا اردو میں ادا کیے جائیں تو کسی بھی شخص کے لیے ناقابل برداشت ہوں، ایسا لباس ذیب تن کرتے ہیں کہ جو نہ تو ہماری معاشرتی روایات کا عکاس ہوتا ہے نہ ہی مذہبی، بلکہ بسا اوقات انسان ایک کارٹون کی مانند نظر آنے لگاتا. ایسا انسان اپنی ذات سے بھی مطمئن نہیں ہوتا. اور ہر وقت ایک ٹراما میں رہتا ہے.

    ریاکاری ایک ایسی بیماری ہے جو آپکو فضول خرچ بناتی ہے.
    میری گاڑی باقیوں سے اچھی ہو. میرا لباس میری بیٹھک، میری پارٹیز میری ڈریسنگ یہ سب ایسا ہونا چاہیے کہ دیکھنے والا عش عش کر اٹھے. اپنے الیٹ لائف سٹائل کو مینٹین کرنے کے لیے جب وسائل کم پڑتے ہیں تو انسان جائز و ناجائز کی تمیز کو بھولنا شروع کر دیتا ہے. چور رستوں سے رقم کما کر اپنا شملا بلند رکھنا اور خود کو امیر اور سپیریر مخلوق ثابت کرنا اس کی مجبوری ہوتی ہے. ریاکار شخص کو ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں اس کی ناک نہ لگ جائے. اپنی ناک بچانے کی سعی کرتے کرتے وہ رب کے عطا کردہ وسائل کا بے جا استعمال کرتا ہے. اور معاشرے کے کمزور طبقے کی حق تلفی کرتا ہے. ریاکار انسان جب فضول خرچی میں تجاوز کرتا ہے تو غریب انسان کی عزت نفس کو قتل کرتا ہے. معاشرے میں طبقاتی تقسیم کی وجہ بنتا ہے. یہ عوامل معاشرے کا شیرازہ بکھیر دیتے ہیں.

    ریاکاری تکبر کی جانب لے جانے والی موٹر وے ہے. جونہی انسان ریاکاری کی جانب چلا اس کی منزل تکبر ٹھہرے گی. ایسا شخص اپنے سے زیادہ مالدار سے حسد اور اپنے سے کم مالدار سے نفرت کرنے لگتا ہے. تکبر کا مارا انسان ہمیشہ اپنے سے امیر اور زیادہ اثر والوں سے تعلق استوار کرتا ہے. تاکہ معاشرے میں اسے ممتاز سمجھا جائے. اور جب اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک ممتاز شخصیت ہے تو وہ اپنے سے نیچلے طبقے کی نہ صرف تضحیک کرتا ہے بلکہ انہیں انسان سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے. ایسا فرد تکبر کی آگ میں اس قدر جلتا ہے کہ اپنے تمام تعلقات کو ختم کر دیتا ہے. اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے. تکبر کا مارا شخص عزت دینے سے محروم ہو جاتا ہے. یوں ایسے شخص سے محنت کرنے والے کم ہو جاتے ہیں.

    ریاکاری جب معاشرے کا چلن بننے لگے تو نفرتیں عام ہونے لگتی ہیں.، طبقاتی تقسیم کو ہوا ملتی ہے، کرائم ریشو بڑھنے لگتی ہے، اعتماد کی فضا ختم ہونے لگتی ہے. جہالت کے بادل گہرے ہونے لگتے ہیں.

    اگر ہم معاشرے کو حقیقی معنوں میں تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ذات سے ریاکاری کو نکال پھینکنا ہوگا. ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم ایک جیسے انسان ہیں، کسی کے غریب یا امیر ہونے میں اس کا کوئی کمال نہیں. ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ مالک کی تقسیم ہے. اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ اہم یا دوسرے غیر اہم ہیں.

    @zaramiirza

  • یوم جمعہ کی فضیلت، اہمیت اور آداب.  تحریر: احسان الحق

    یوم جمعہ کی فضیلت، اہمیت اور آداب. تحریر: احسان الحق

    یوم جمعہ افضل الایام اور سید الایام ہے. جمعہ کا دن تمام ایام کا سردار اور تمام ایام سے افضل دن ہے. جمعہ کی نماز ہم پر فرض ہے. اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ کی آیت نمبر 62 میں فرمایا "اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑو اور اپنی تجارت بند کر دو”. اذان سننے کے بعد کاروبار جاری رکھنا حرام ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ جمعہ ترک کرنے سے بعض آ جائیں ورنہ بغیر عذر کے جمعہ ترک کرنے والوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیں گے اور پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے.

    یوم جمعہ کی بہت بڑی فضیلت ہے. یوم جمعہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا. جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں داخل فرمایا. اسی دن یعنی جمعہ کے دن ہی آپ آدم علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا گیا. جمعہ کے دن ہی قیامت قائم ہوگی.

    جمعہ کے آداب اور سنتوں کے متعلق احادیث میں تفصیل موجود ہے. جمعہ کے دن ہر مسلمان پر غسل کرنا واجب ہے. جمعہ کے دن تمام مسلمانوں کو غسل کا خاص اہتمام کرنا چاہئے. ناخن تراشنے چاہیئں. دستیاب کپڑوں میں سے سب سے عمدہ لباس کا انتخاب کرنا چاہئے. تیل اور خوشبو اگر دستیاب ہو تو ان کا استعمال کرنا چاہئے. جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کرتا ہے اور چل کر پہلی فرصت میں مسجد میں پہنچتا ایسے شخص کے لئے اونٹ کی قربانی کا اجر ہے. دوسرے وقت میں جانے والے کے لئے ایک گائے، تیسری گھڑی میں جانے والے کے لئے سینگ والے مینڈھے کی قربانی کا اجر ملے گا. چوتھے نمبر پر جانے والے کے لئے ایک مرغی کی قربانی کا ثواب ہے اور سب سے آخر میں جانے والے کے لئے ایک مرغی کے انڈے برابر ثواب ہے. خطبہ جمعہ شروع ہوتے ہی فرشتے رجسٹر بند کر کے خطبہ سننا شروع کر دیتے ہیں.

    مسجد میں داخل ہونے کے بعد جتنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق ہو اتنی نوافل پڑھ لیں. خطبہ شروع ہونے کے بعد 2 رکعات نفل لازمی ادا کرنی چاہیئں. لوگوں کی گردنوں کو نہیں پھلانگنا چاہئے ہاں اگر آگے جگہ خالی ہو تو پھر پہلے اگلی صفوں میں بیٹھنا مناسب ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو بندہ خلوص نیت، خاموشی اور توجہ سے خطبہ جمعہ سنتا ہے تو اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک کے درمیان ہفتے بھر کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ کوئی کبیرہ گناہ نہ ہو. ارشاد نبویؐ ہے کہ خطبہ شروع ہونے کے بعد اگر کسی نے کسی دوسرے بندے کو گفتگو کرنے سے منع کرنے کے لئے صرف اتنا کہا کہ خاموش ہو جاؤ تو یہ بھی لغو بات ہے اور لغو بات کرنے والے کا جمعہ نہیں.

    جمعہ کے روز کرنے والے کاموں میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والا انتہائی اہم اور افضل کام ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو. آپ لوگوں کے درود مجھ تک پہنچائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن میں ان لوگوں کی شفاعت کروں گا جو کثرت سے درود بھیجتے ہیں. جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرنے کا بھی اہتمام کرنا چاہئے. جو بندہ سورہ کہف کی تلاوت کرتا ہے تو ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اس کے لئے ایک نور چمکتا رہتا ہے. اللہ سبحانہ وتعالیٰ جمعہ کے لئے آنے والے شخص کے ہر ایک قدم کے بدلے ایک سال کی تہجد اور ایک سال کے روزوں کے برابر ثواب عطا فرماتے ہیں.

    @mian_ihsaan

  • قصہ سلیمان علیہ السلام تحریر:شاندانہ فریدون

    قصہ سلیمان علیہ السلام تحریر:شاندانہ فریدون

    "اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاو ! ایسا نہ ہو کہ سلیمان علیہ السلام کا لشکر تمہیں روند ڈالے۔ اور ان کو خبر تک نہ ہو” ایک ننھی چیونٹی نے اپنی ساتھیوں سے کہا یہ مدھم آواز خضرت سلیمان علیہ السلام نے سنی اور مسکرا دئیے اور اللہ کا شکر ادا کیا حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے عظیم الشان لشکر کے ساتھ وہاں سے گزر رہے تھے اللہ تعالٰی نے انہیں نہایت وسیع و عریض سلطنت کا بادشاہ بنایا تھا اور نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں، پرندوں، جنات اور ہوا تک کو ان کا تابع کر دیا تھا ۔ اللہ نے انہیں اتنی عظیم سلطنت بخشنے کے ساتھ اور حکمت اور غیر معمولی قوت فیصلہ بھی عطا فرمائی تھی
    حضرت سلیمان علیہ السلام ،حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے اور 992 قبل مسیح میں پیدا ہوئے (قبل مسیح کا مطلب ہے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش سے 992 سال پہلے) وہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد تحت پر بیٹھے ۔ شروع کے تین سال مشکلات کے تھے۔جس میں مختلف معرکے پیش آئے ۔ بالآخر آپ نے سب مخالفین پر قابو پایا اور ایک نہایت مستحکم اور وسیع حکومت قائم کی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو تعمیرات کا بہت شوق تھا ۔انھوں نے ہیکل سلیمانی اور بہت سے نئے شہر تعمیر کروائے
    ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار لگا ہوا تھا۔ سوائے ہد ہد کے سب حاضر تھے۔ ” ہد ہد کہاں ہے؟” حضرت سلیمان علیہ السلام نے ناراضگی سے دریافت فرمایا، "وہ آکر غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کرے ورنہ اسے سخت سزا دوں گا” کچھ ہی دیر میں ہد ہد آگیا ۔ اور اس نے یوں گفتگو شروع کی۔ "میں ابھی بھی ملک یمن سے آرہا ہوں ۔ وہاں میں نے ایک قوم دیکھی جو بہت خوشحال ہے۔ اس کی حکمران ایک عورت ہے۔ یہ قوم گمراہ اور مشرک ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں”
    حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ حال سن کر ہد ہد کے ذریعے وہاں کی ملکہ کو خط بھیجا۔ اس خط کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے کیا گیا تھا۔ اور اس میں ملکہ اور اس کی قوم کو سیدھے راستے پہ آنے کی دعوت دی گئی تھی ۔ یمن کی ملکہ کا نام ” بلقیس” تھا اور اس ملک میں جو قوم آباد تھی۔ وہ "سبا” کہلاتی تھی ۔ ملکہ کو جب یہ خط ملا تو اس نے اپنے درباریوں سے اس خط کے بارے میں رائے طلب کی۔ سب نے ایک زبان ہوکر یہی مشورہ دیا کہ ہمیں اس بادشاہ سے جنگ کرنی چاہیے۔ ہم سب بہادر بھی ہیں۔ اور ہمارے پاس بہت سا سامان جنگ بھی ہے
    ملکہ ذہین اور دانا تھی۔ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عظیم سلطنت کے بارے میں پہلے سن چکی تھی۔ اس نے اپنے درباریوں کو سمجھایا کہ جلدی کرنا درست نہیں۔ جنگ کوئی بھی جیت سکتا ہے۔ اور جو جیت جاتا ہے وہ بستیوں کو تباہ اور عزت دار لوگوں کو ذلیل کر دیتا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو کچھ تحائف بھیجے جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ بات یہیں ختم ہو جائے
    یوں ایک وفد پیش قیمت تحائف لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا” اللہ تعالٰی نے دین و دنیا کی جو نعمتیں مجھے عطا فرمائی ہیں وہ تمہارے تحائف سے بہت بہتر ہے۔ مجھے ان کی ضرورت نہیں، تم ان کو واپس لے جاو۔ اور اپنی ملکہ سے کہہ دینا کہ اس نے شرک اور گمراہی کا راستہ نہ چھوڑا اور اللہ کا دین قبول نہ کیا تو ہم ایسے لشکروں سے حملہ کریں گے جن کے مقابلے کی تم میں طاقت نہ ہو گی”
    ملکہ سمجھ گئی کہ یہ معاملہ دنیاوی مال و دولت کی حرص کا نہیں ہے۔ چنانچہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے ملنے کیلئے خود روانہ ہو گئی۔ جب وہ پروشم کے قریب پہنچی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے سوچا کہ اس کو اپنے پیغمبر ہونے کی نشانی دکھائی جائے تاکہ اس کو سچائی قبول کرنے میں آسانی ہو۔ آپ علیہ السلام نے دربار کے حاضرین سے پوچھا کہ کوئی ہے جو ملکہ کے یہاں پہنچے سے پہلے اس کا تحت یہاں لے آئے۔ ایک جن نے کہا کہ وہ دربار برخاست ہونے سے پہلے تحت لے آئے گا۔ ایک شخص نے، جو کتاب کا علم رکھتا تھا، کہا کہ میں پلک جھپکنے میں تحت یہاں لا سکتا ہوں۔ اور اگلے لمحے تحت وہاں موجود تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اور اپنے درباریوں سے فرمایا کہ اس میں تھوڑی تبدیلی کر دو تاکہ ہم آزمائیں کہ ملکہ کتنی ذہین ہے۔ جب ملکہ پہنچی تو اپنا تحت دیکھ کر کہنے لگی۔” یہ تو میرا تحت معلوم ہوتا ہے۔ میں آپ کی عظمت پہلے ہی پہچان گئی تھی۔ ہم نے آپ کی اطاعت قبول کر لی ہے”
    ملکہ نے ظاہری اور دنیاوی اعتبار سے تو اطاعت قبول کر لی تھی۔ لیکن اس کی سوچ میں ابھی گہرائی پیدا نہ ہوئی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو سمجھانے کے لیے ایک اور طریقہ اختیار کر لیا۔ ان کے محل کا فرش شیشے کا تھا۔ جس کے نیچے نہر بہہ رہی تھی
    اوپر سے دیکھنے پر شیشہ نظر آتا تھا۔ صرف پانی ہی بہتا نظر آتا تھا۔حضرت سلیمان علیہ السلام ملکہ کو اپنے محل لے گئے۔ ملکہ نے نیچے دیکھا تو اس نے فورا اپنے پائنچے اٹھا لیے۔ وہ سمجھی کہ نیچے پانی بہہ رہا ہے۔ کہیں میرے کپڑے بھیگ نہ جائیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔” تم دھوکے میں ہو یہ پانی نہیں شیشہ ہے”۔ ملکہ نے ان کی اس جملے پر غور کیا۔ تو اس کا ذہین روشن ہو گیا۔ وہ سمجھ گئی کہ سورج کو سجدہ کرنا بھی ایک دھوکہ ہے۔ وہ ہستی ہی سجدے کے لائق ہے ۔ جس نے اس سورج اور تمام کائنات کو بنایا ہے۔ اور یوں وہ ایمان لے آئی۔
    حضرت سلیمان علیہ السلام اکتالیس سال حکومت کرنے کے بعد 924 قبل مسیح میں وفات پاگئے۔ وفات کا واقعہ بھی بہت عجیب ہے۔ آپ علیہ السلام نے جنوں کو ایک نیا شہر تعمیر کرنے کے کام پر مامور کیا تھا۔ یہ کام ابھی نامکمل تھا ۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا آخری وقت آگیا۔ آپ علیہ السلام اپنے عصا کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ اور اسی حالت میں آپ علیہ السلام کی وفات ہو گئی۔ سب سمجھتے رہے کہ آپ علیہ السلام کام کی نگرانی فرما رہے ہیں ۔عصا میں آہستہ آہستہ گھن لگ رہا تھا۔ایک دن عصا گھن کی وجہ سے ٹوٹ گیا۔ تب جنوں اور تمام مخلوقات کو معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کا انتقال ہو گیا ہے۔

    @Shandana_Twitts

  • حضرت عمر فاروق رض تحریر:  محمد طلحہ رفاقت

    حضرت عمر فاروق رض تحریر: محمد طلحہ رفاقت

    خلیفہ دوم امیر المومنین حضرت عمر فاروق رض عنہا کمال رعب و جلال اور دبدبہ رکھنے والے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خاص صحابی تھے
    تاریخ نے ہزاروں جرنیل اور بڑے بڑے سپہ سالار پیدا کیے لیکن دنیا جہاں کے فاتحین، دنیا جہاں ہے سپہ سالار حضرت عمر فاروق رض کے سامنے طِفلِ مکتب لگتے ہیں

    انکا شمار خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ میں سے ہوتا ہے آپ خلفاء راشدین میں سے دوسرے نمبر پر ہیں
    حضرت عمر فاروق رض وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی خاص دعاؤں میں گڑ گڑا کر اللہ رب العزت سے مانگا اور اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول کرتے ہوئے حضرت عمر فاروق رض کی صورت میں ہیرا صحابی میسر کیا
    حضرت عمر فاروق رض واہ واحد صحابی ہیں جن کو آتا دیکھ کر شیطان مردود اپنا راستہ تبدیل کرلیتا تھا
    مسلمان تو یقیناً حضرت عمر فاروق رض کی شخصیت سے بے حد متاثر ہیں جبکہ بیسوں غیر مسلم حضرت عمر فاروق رض کی شخصیت سے بھی متاثر ہیں جب حضرت عمر فاروق نے اسلام قبول کیا اسلام کو ترقی کی جانب جو پروان ملی وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروفوں میں درج ہے

    حضرت عمر فاروق رض نے اپنے دورِ حکومت میں اسلام کو پوری دنیا کے کونے کونے میں پہنچا کر اپنی سر توڑ کوشش کی اور کوششیں بجا لاتی ہوئی مقصد میں کامیابی ملی آج انہی کی ہی مرہونِ منت ہمارے پاس اسلام کی صورت میں خوبصورت ترین دین ہے
    یقیناً حضرت عمر فاروق رض اور ہزاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیوں کی بدولت ہمارے پاس خوبصورت ترین دین میسر ہوا

    ایک عالم دین نے کیا خوب کہا کہ حضرت عمر فاروق رض عطاء اے خداوندی ہیں جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اللہ ربّ العزت سے حیران کن طور پر یہ دعا مانگی کہ اے اللّٰهُ عمرو بن ہشام یا پھر حضرت عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کو اسلام کی زینت بنا تو اللہ ربّ العزت نے عمر فاروق رض کی صورت میں دین اسلام کو رونق بخشی

    شہادت کے وقت آپ رض کی عمر تریسٹھ برس تھی حضرت صہیب رض نے آپ رض کی نماز جنازہ پڑھائی روضہ نبوی میں حضرت ابو بکر صدیق رض کے پہلو میں آپ کی قبر مبارک بنائی گئی۔ رض

    خادمِ نورالہدی بے شک ہیں وہ تنویر پھول
    نکہتِ باغ نبوت حضرت فاروق ہیں

    @Talha0fficial1

  • حضرت خالد بن ولید تحریر : سیف اللہ عمران

    حضرت خالد بن ولید تحریر : سیف اللہ عمران

    حضور کے عظیم ساتھی حضرت خالد بن ولید ایک عظیم جرنیل اور ایک عظیم فاتح تھے۔
    میدان جنگ میں آپ کی مہارت حیران کن تھی۔ اپ کی کنیت ابو سلیمان اور ابو ولیدہ تھی اور آپ کا لقب سیف اللہ تھا (اللہ کی تلوار)
    اپ کا نسب ساتویں پشت میں حضرت ابوبکر صدیق سے ملتا ہے عباس کی والدہ لباب الکبرا کی بہن تھیں۔
    آپ کے والد ، قریش کے سرداروں میں سے تھے اور مکہ کے امیر ترین افراد میں سے تھے۔
    حضرت خالد بن ولید شروع سے ہی ایک بہادر ، محنتی اور سخت آدمی تھے۔ آپ نے یہ آرام چھوڑ دیا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کے بل بوتے پر کام کیا۔
    جب اسلام کا ظہور ہوا تو آپ قریش قبیلے کے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پیغمبر اسلام اور اہل اسلام کی سخت مخالفت کی تھی۔
    آپ حدیبیہ کے امن تک اہل اسلام کے خلاف کفار کی طرف سے لڑی جانے والی تمام جنگوں میں بھی شریک تھے۔
    جنگ احد میں آپ مکہ کے قریشی گھڑسواروں کی قیادت کر رہے تھے۔ جب اپ نے پہاڑی راستے میں ایک اہم مقام چھوڑا اور پیچھے سے ائے اور لشکر اسلام پر حملہ کیا ، جس نے جنگ کا رخ موڑ دیا۔
    حضور کے فوجی نظم و ضبط اور سوچ سے آپ اس قدر متاثر ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور پیار ان کے دل میں ا گئی جس نے بعد میں ان کے لیے اسلام کے جھنڈے تلے آنا آسان بنا دیا۔
    حضرت الولید نے اپنے بھائی کو اسلام کی دعوت دی۔
    آپ کے بھائی نے کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کریں گے تو انھوں نے اپنے ایک ساتھی حضرت عثمان بن طلحہ سے مشورہ کیا اور دونوں حق کی تلاش میں مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے۔
    حضرت عمر بن العاص اور حبشیہ کے نجاشی شاہ سے اسلام کی صداقت پر یقین کرنے کے بعد ، وہ راستے میں حضرت خالد اور حضرت عثمان سے ملے اور اپ تینوں اپنے پیروکاروں کے ساتھ مل کر خدمت مصطفیٰ پہنچے۔
    جب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ تینوں کو دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: اہل مکہ نے اپنے جگر آپ پر پھینکے ہیں۔
    حضرت خالد بن ولید نے پہلے ان سے اور پھر دوسروں سے بیعت کی۔ اور تینوں اسلام کی عظیم فوج میں شامل ہو گئے۔
    اسلام قبول کرنے کے بعد ، حضرت خالد بن ولید نے نبوت کے زمانے ، حق اور حضرت عمر فاروق دور میں مختلف لڑائیوں میں لشکر اسلام کی قیادت کی۔
    آپ نے جمادی الاولیا ہجری میں موطا کی جنگ میں بھی حصہ لیا تین دیگر جرنیلوں حضرت زید بن حارثہ ، حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت جعفر طیار کی شہادت کے بعد انہوں نے لشکر اسلام کی قیادت سنبھالی۔
    آپ کہتے تھے کہ ایک جنگ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹ گئیں اور آخر میں صرف ایک یمنی تلوار باقی رہ گئی۔
    حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں اندرونی اور بیرونی محاذوں پر حضرت خالد بن ولید کی عظیم خدمات اسلامی تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں۔
    حضرت ابوبکر صدیق نے مرتدین کے خلاف لشکر روانہ کیا اور ایک لشکر کی قیادت آپ کے حوالے کی۔
    اپ نے مسلمان کو جھوٹوں کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا۔ ایک سخت لڑائی کے بعد ، مسلمہ مارا گیا اور اس کے لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے۔
    اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے رومیوں کے خلاف شام اور عراق میں فوجیں بھیجیں لیکن حضرت خالد بن ولید کا رخ نے ایرانیوں کی طرف کیا ۔
    پہلی لڑائی ایرانی افواج اور مجاہدین اسلامیہ کے درمیان البلات میں حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں لڑی گئی جس میں رب کائنات نے لشکر اسلام کو فتح عطا کی۔
    حضرت خالد بن ولید ایک سال اور دو ماہ تک عراق میں رہے اور 15 جنگیں لڑیں ، ان میں سے سب جیتے ، پھر یہاں سے انہیں یرموک پہنچنے کا حکم دیا گیا۔
    حضرت خالد بن ولید مارشل آرٹس می رول ماڈل ان کے عظیم کارنامے اب بھی تاریخ کے انمٹ نقوش میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
    ان کی وفات 5 ہجری میں ہوئی جب وہ ساٹھ برس کے تھے۔ بعض روایات کے مطابق ان کی وفات حمص میں ہوئی اور بعض کے مطابق مدینہ منورہ میں۔
    اپنی موت کے وقت ، آپ نے کہا: "میں نے تقریبا تین سو لڑائیاں لڑی ہیں۔ میں اپنے جسم کے ہر حصے میں تلوار ، نیزہ اور تیر سے زخمی ہوا ہوں لیکن میں شہادت سے محروم رہا ہوں اور میں آج بستر پر مر رہا ہوں۔ اللہ تعالی بزدلوں کو امن نہ دے۔ ”
    آپ نے وصیت کی تھی کہ میرے بازو اور گھوڑے کو اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کے لیے وقف کیا جائے اور اپ کے تمام اثاثے ایک غلام ، گھوڑا تھا۔
    حضرت خالد بن ولید کو اللہ کے رسول سے بے پناہ محبت تھی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں فرمایا: "خالد کو نقصان نہ پہنچاؤ کیونکہ وہ اللہ تعالی کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو اس نے کفار کے خلاف کھینچی ہے۔ ”

    @Patriot_Mani

  • ابوجہل کا قتل  تحریر: محمد معوّذ

    ابوجہل کا قتل تحریر: محمد معوّذ

    ابوجہل ایک ایسے گروہ میں تھا جنہوں نے اس کے گرد اپنی تلواروں اور نیزوں کی باڑھ قائم کر رکھی تھی ۔ ادھر مسلمانوں کی صف میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جن کے اردگرد دو انصاری نوجوان تھے ، جن کی موجودگی سے وہ مطمئن نہ تھے کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپا کر ان سے کہا : چچا جان ! مجھے ابوجہل تو دکھلا دیجے ۔“
    انہوں نے کہا : ” اسے کیا کرو گے ؟
    اس نے کہا : مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللّٰه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دیتا ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے جدا نہ ہو گا یہاں تک کہ ہم میں سے جس کی موت پہلے ہے وہ مر جائے۔
    اتنے میں دوسرے نے بھی یہی بات کہی ۔ اس کے بعد جب6 صفیں پھٹ گئیں تو عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ابوجہل چکر کاٹ رہا ہے ، انہوں نے دونوں جوانوں کو اسے دکھلا دیا ۔ دونوں جھپٹ پڑے اور تلوار مار کر قتل کردیا ۔ ایک نے پنڈلی پر ضرب لگائی اور اس کا پاؤں یوں اڑ گیا جیسے موسل کی مار پڑنے پر گٹھلی اڑ جاتی ہے ۔ دوسرے نے بری طرح زخمی کردیا اور اس حال میں چھوڑا کہ صرف سانس آجارہی تھی ۔ اس کے بعد دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ میں نے قتل کیا ہے ۔ یہ دونوں عفراء کے صاحبزادے معاذ اور معوّذ رضی اللہ عنہ تھے ۔ معوذ رضی اللہ عنہ تو اسی غزوے میں شہید ہو گئے البتہ معاذ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک باقی رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کو ابوجہل کا سامان دیا۔
    معرکہ ختم ہو گیا لوگ ابوجہل کی تلاش میں نکلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے اسے پا لیا ابھی اس کی سانس آ جا رہی تھی انہوں نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا سر کاٹنے کے لئے داڑھی پکڑی اور فرمایا
    اللہ کے دشمن آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا اس نے کہا
    مجھے کاہے کو رسوا کیا؟
    کیا جس شخص کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے اوپر بھی کوئی آدمی ہے پھر بولا کاش مجھے کسانوں کی بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔
    اس کے بعد کہنے لگا مجھے بتاؤ آج فتح کس کی ہوئی؟
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی۔
    ابوجہل نے کہا: او بکری کے چرواہے تو بڑی مشکل جگہ پر چڑھ گیا
    اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کا سر کاٹ لیا اور خدمت نبوی میں حاضر کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    تمام حمد اللہ کے لئے ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دے دی ۔
    پھر فرمایا: یہ اس امت کا فرعون ہے۔

    @muhammadmoawaz_

  • حقیقی اسلام اور غیر مسلم کے ذہنی خاکوں کی تعمیر کی وجوہات۔ تحریر بشارت حسین

    دنیا میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس کی تعلیمات میں سراسر ہدایت ، انسان اور انسانیت کا تحفظ حتی کہ جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔
    دنیا کی نوے سے پچانوے فیصد لوگوں کے ذہن میں اسلام کی وہ تصویر وہ نقشہ موجود ہے جو کہ وہ اپنے قریب رہنے والے مسلمانوں کے طور طریقوں کو دیکھ کر بنایا ہے۔
    حالانکہ اسلام کسی شخص کے ذاتی کردار کا نام نہیں اور نہ مسلمانوں کی ابادی، انکے طور طریقے اور رسم و رواج کا نام اسلام ہے۔
    اسلام تو اللہ کا عطا کردہ نظام زندگی ہے جو کہ اللہ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ نازل کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے اس کو دنیا میں متعارف کروایا۔
    اسلام انسان اور انسانیت کی بقاء کا دوسرا نام ہے۔ اسلامی تعلیمات انسانیت قدر عزت اور تحفظ کو یقینی بنانے پہ زور دیتی ہیں۔ اسلام میں کسی چھوٹے بڑے ، امیر غریب ، کالے اور سفید کا کوئی تصور نہیں اور نہ کسی کالے کو سفید پر ، امیر کو غریب پر عجمی کو عربی پر اور نہ کسی بڑے کو چھوٹے پر کوئی فوقیت و برتری حاصل ہے۔
    اسلام میں سب مسلمان ایک جیسے ہیں سب کے حقوق برابر ہیں کسی کیلئے کوئی امتیازی قوانین کا کوئی تصور اور گنجائش نہیں۔
    اسلام نہ تو کسی دوسرے مذہب کا دشمن ہے اور کسی بھی مذہب کے لوگوں کو ان کی مذہبی عبادات سے روکتا ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ مسلمانوں جب بھی کسی ملک و قوم پہ حکمرانی کی تو وہاں دوسرے مذاہب کے لوگوں کا پورا پورا خیال رکھا گیا وہاں انسانیت کو عزت دی گئی بغیر کسی امتیازی فرق کے مسلم اور غیر مسلم کو ایک نظام کے تابع کیا گیا ظالم اور مظلوم کو ہر نسلی و مذہبی امتیاز سے بالا تر ہو کر انصاف فراہم کیا گیا۔
    اسلام صرف ایک خدا کی عبادت کا حکم دیتا ہے جس نے کل کائنات کو پیدا کی جس نے تمام مخلوقات کو انکے رزق کے بندوبست کے ساتھ پیدا کیا۔ اسلام میں اس کی ہی عبادت کی جاتی ہے۔
    یعنی اسلام میں داخل ہونے کیلئے اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول ماننا ضروری ہے جس کا اقرار ان الفاظ یعنی کلمہ طیبہ کا پڑھ کر کیا جاتا ہے۔
    لا إله الا الله محمد رسول الله.
    جس کے معنی ہیں
    اللہ۔کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
    جو شخص اسلام کو قبول کر لیتا ہے اس کو مسلمان کہا جاتا ہے۔ ایک مسلمان کی زندگی گزارنے کا طریقہ اللہ نے اپنی کتاب قرآن کریم اور اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ذریعے وضع فرما دیا۔
    دنیا میں سب مزہبوں سے زیادہ فوقیت اسلام کو اپنی تعلیمات کی وجہ سے حاصل ہے۔
    اسلام کے اندر ہر انسان کی عزت نفس وقار اور تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ جانوروں کو حقوق دیے گئے ایک دوسرے کی مدد کا درس دیا گیا۔ اسلام میں کسی کو کسی سے زیادتی یا ظلم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اب وہ چاہے مسلمان مسلمان پہ کرے یا مسلمان کسی دوسرے انسان پہ کرے یا جانور پہ کرے۔

    اسلام کے بارے میں دنیا کے غلط تاثرات
    دنیا کے تقریبا ہر ملک میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ہر ملک ہر جگہ کے اپنے رسم و رواج ہیں۔ جب لوگ جہاں مسلمانوں کو دیکھتے ہیں انکے رسم و رواج ، رہن سہن انکے بودوباش تو جو خاکہ انکے ذہن میں بنتا ہے وہی وہ اسلام کے متعلق قائم کر لیتے ہیں کہ یہی اسلام اور اسکی تعلیمات ہیں۔
    حالانکہ اسلام کسی قوم کے رس و رواج یا ذاتی زندگی اور سوچ کا نام نہیں۔
    اگر وہاں کے مسلمانوں کا رہن سہن اچھا ہے کردار واقعی اسلام کے اصولوں کے عین مطابق ہے تو وہاں کے رہنے والے لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں سراہتے ہیں اور اسلام کے بارے میں ایک اچھی سوچ رکھتے ہیں اور عموما یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے مذاہب ترک کر کے اسلام کو دل سے قبول کر لیتے ہیں۔
    اب جہاں مسلمانوں کے قول و فعل میں تضاد ہو انکی زندگی اسلامی تعلیمات کے منافی ہوں وہاں کے لوگ اپنے ذہن میں اس کو اسلام مانتے ہیں اور اسلام سے متنفر ہو جاتے ہیں۔
    حالانکہ یہ انکا ذاتی کردار ہے۔ اسلام جھوٹ ، چوری ، دھوکہ فراڈ ، فتنہ اور فسادات سے منع کرتا ہے۔
    اسلام ہر اس کام سے منع کرتا ہے جس سے کسی دوسرے انسان یا حیوان کو تکلیف پہنچے اب اگر کوئی شخص اس طرح کے کاموں میں ملوث ہے تو یہ اسلام نہیں بلکہ اس کا ذاتی کردار ہے۔
    آئیے ہم اسلام کو بدنام کرنے کی بجائے وہ کام کریں جو کہ بحیثیت مسلمان ہمیں کرنے چاہئیں تاکہ غیرمسلم اسلام کے بارے میں کوئی غلط تاثر نہ لیں انکے سامنے اسلام کا اصل منظر پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
    اسلام کی اصل تبلیغ ایک مسلمان کی زندگی اس کا قول اور فعل ہے۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09