Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • ناداں گر گئے سجدے میں،متنازعہ شہریت بل پرمذہبی وسیاسی قیادت کی غفلت کوعیاں کرتی ..تحریراز..ثاقب سبحانی

    ناداں گر گئے سجدے میں،متنازعہ شہریت بل پرمذہبی وسیاسی قیادت کی غفلت کوعیاں کرتی ..تحریراز..ثاقب سبحانی

    ایم اے جواہر لال نہرو یونیورسٹی

    جے این یو ،جامعہ اے ایم یو اور مختلف یونیورسٹیز کے جیالوں تمہاری عظمتوں کو سلام ۔
    تمہاری بہادری و بے خوفی و بے باکی کو سلام ۔
    تمہاری اسلام سے محبت کو ہزاروں سلام۔
    تمہارے جذبۂ ایمانی حرارت ایمانی کو ہزاروں سلام ۔

    تم نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جس کو مورخ سنہرے قلم سے سنہری روشنائی سے قرطاس زریں پر تحریر کرے گا ۔
    زمانہ تمہارے کارنامے کو سالہا سال عقیدت کی نظر سے دیکھے گا۔

    جامعہ اور علی گڑھ کی بہنوں نے اپنی حمیت اسلامی کا ایسا شاندار مظاہرہ کیا کہ انہوں نے مردوں کو مُردوں میں بدل دیا۔ بزدلی کی خزاں کو امید کی بہادری کا لبادہ پہنادیا ۔ مایوسی کی تیرگی کو اجالوں کا پیرہن پہنادیا ۔ مردوں کے ہاتھ سے زندگی کی شمشیریں چھین کر انہیں چوڑیاں پہنادیں۔

    میری بہنوں تم نے مصر کی زینب الغزالی کی شجاعت کی یاد تازہ کردی ۔ الجیسیا کی جمیلہ بو پاشاہ کی دلیری کی یاد تازہ کردی ۔ تم نے لیلیٰ خالد کی جانبازی کی یادوں کی شمع کو پھر فروزاں کردیا ۔ تم نے حضرت صفیہؓ کی جرأت رندانہ کو پھر یاد دلادیا۔
    آفریں صد آفریں!

    آج اسلام کو ایسی ہی دختران کی ضرورت ہے جو ا پنے آنچل کو پرچم انقلاب بنالیں۔ جو اپنے ڈوپٹے کو ا پنا کفن بنالیں۔
    کم ہمتی بزدلی، ایمان فروش ضمیر فروش، مفاد پرست ، مفادات ملی کے سوداگروں کی زندگی گیدڑوں کی زندگی ہوتی ہے ۔ شیرنیوں کی طرح جینا تو تم نے سکھادیا۔
    زندہ باد ۔ زندہ باد

    اللہ کے شیروں نے حق گوئی و بیباکی بھول کر روباہی کی زندگی سیکھ لی ہے، اور اپنے چہروں پر مصلحت پسندی کا گھونگھٹ ڈال لیا ہے، انہوں نے اپنے ضمیر کا سودا کرلیا ہے۔
    جو قال اللہ اور قال الرسول کا درس دیتے تھے۔

    جو وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ کی تفسیر کرتے تھکتے نہیں تھے۔
    جو شاملی کے میدان کے رن کو اس طرح بیان کرتے تھے، جیسے بنفس نفیس وہ خود اس میں شریک رہے ہوں۔
    جو معرکہ بالاکوٹ کے خود کو پشتینی وارث سمجھتے تھے۔
    جو خود کو سید احمد شہید کے خاندان سے ہونے کا بلند دعوی کرتے تھے۔
    جو اپنے آپ کو انبیا کا وارث شمار کراتے تھے۔
    جو الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر کی عملی تفسیر پیش کرنے کا ببانگ دہل دعویٰ کرتے تھے۔
    جو پینٹ شرٹ والوں کو نجس سمجھتے تھے آج یہی ان کے اور ان کی آنے والی نسلوں کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔

    جن یونیورسٹیز اور کالجز کی طالبات کو یہ ترچھی نگاہوں سے دیکھتے تھے، آج وہی اسلام کی حفاظت کے لیے نکل کھڑی ہوئی ہیں۔

    یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا
    ان نام نہاد مصلحت پسند قائدین کو اتنی موٹی بات سمجھ نہیں آتی……
    جب اسلام ہی نہیں رہے گا اس دیش میں تو تم مدارس اور خانقاہیں لے کر کیا کروگے؟
    جب تمہارا وجود ہی خطرے میں پڑجائے گا تو تم ایسے دسیوں مسلم پرسنل لا کیا کروگے؟
    جب تم ہی نہیں رہوگے تو امارات کا لے کر کیا کروگے؟
    جب تمہارے بچے ہی نہیں رہیں گے تو تم دارالعلوم، ندوہ اور سلفیہ میں کسے پڑھاؤگے؟
    حرم فروش فقیہوں کے حوض کوثر سے
    مغنیہ کے لبوں کی شراب بہتر ہے
    (آغا شورش کاشمیری)

    شیخ الہند رح کی یہ عبارت بار بار پڑھیے اور نام نہاد قائدین کا جائزہ لیجیے۔
    اے نونہالانِ وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار (جس سے میری ہڈیاں پگھلی جا رہی ہیں) مدرسوں خانقاہوں میں کم اور سکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اس طرح ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقاموں (دیوبند اور علی گڑھ) کا رشتہ جوڑا۔

    چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی پھر ایک بار ٹکرانے والا ہے۔ عصائے موسیٰ اور فرعون کے اژدہوں کی پھر ٹکر ہونے والی ہے ۔حق وباطل کے معرکے بگل بج چکا ہے۔

    کیب دونوں ایوانوں میں پاس ہوکر، صدر جمہوریہ کی دستخط سے بالآخر ہندوستانی ایکٹ(CAA) بن چکا،جس کی میں سارا ہندوستان آج سڑک پہ جا اترا ہے، یہ کوشش مختلف یونیورسٹیز کے طالب علموں سے شروع ہوئی اور ہوتے ہوتے پورے ملک کے پھیل گئی اور اس کی مخالفت میں لوگ سڑکوں پہ آگئے،

    اس کی مخالفت میں دار العلوم کے طلبہ نے بھی احتجاج میں حصہ لیا اور جی ٹی روڈ جام کیا، پولیس افسران نے جب دار العلوم کی انتظامیہ سے سوال کیا، تو وہ بھیگی بلی بن گئے اور سیدھا مکر گئے کہ وہ ہمارے بچے نہیں تھے، ناظم دار الاقامہ منیر صاحب نے اجازت دے دی کہ آپ ان پر لاٹھی چارج کر سکتے ہیں اور مہتمم صاحب نے بتلایا کہ سڑکوں کو جام کرنا غیر اسلامی ہے۔

    بھائی آپ تو اسی احتجاج، مظاہرہ اور پروٹیسٹ کی پیداوار ہیں، اگر یہ غیر اسلامی ہے تو آپ بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیجیے، کیوں کہ یہ عہدہ بھی آپ کو اسی احتجاج اور مظاہرے کے سبب ملی ہے۔

    مجھے یاد پڑتا ہے کہ اہتمام ملنے کے چند دن کے بعد بھورا سویٹس والے سے طلبہ دار العلوم کی کچھ جھڑپ ہوئی، بات انتظامیہ تک پہنچی، مغرب بعد مسجد رشید میں جلسہ بلایا گیا، اس میں مہتمم صاحب نے کہا کہ اب تک جو ہو چکا وہ ہو چکا؛ آج سے کسی اسٹودینٹس یونین کا وجود نہیں رہے گا اور جو اس میں ملوث پایا گیا، اس کا بلا چوں چرا اخراج کردیا جائے گا، اسی اسٹودینٹس یونین نے آپ کو تخت اور گدی تک پہنچایا، آپ نے ایک دون کے اندر بہانہ ڈھونڈ کر اسے ہی ختم کردیا کہ کل کہیں یہی طلبہ ہمارے خلاف متحد نا ہوجائے۔

    سب تاج اچھالے جائیں گے
    سب تخت گرائے جائیں گے۔
    دوسری طرف ارشد مدنی صاحب ہیں، جو دوران درس، جلسوں اور تقریروں میں اپنے ابا شیخ الاسلام حسین احمد مدنی رح کی بہادری اور انگریزوں کے سامنے ان کی جرات و بے باکی کے قصے سناتے نہیں تھکتے، جب ایک بار پھر یہ انگریز اور ساوکر کی اولاد ان سے وہی قربانی اور بہادری دہرانے کو کہا، تو حضرت گوشہ نشیں ہوگئے۔
    ‏باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
    پھر پسر صاحبِ میراثِ پدر کیونکر ہو ؟؟

    ایک ہیں محمود مدنی صاحب جو ہمیشہ اپنے متنازع بیان کی وجہ سے سرخی میں رہتے ہیں، جب گورنمنٹ نے کشمیر پہ لاک ڈاؤن کیا تو حضرت کو اتنی پریشانی ہوئی کہ حضرت نے جنیوا میں جاکر گورنمنٹ کے اشتراک سے اردو میں کانفرنس کیا اور حکومت کے موقف کو سراہا، جب گورمنٹ نے کیب کو لانا چاہا، تو انہوں نے اسے سراہا اور مستحسن قرار دیا، جس کے نتیجے میں حضرت کو ایل سی ٹی گھوٹالے میں ضمانت ملی ہے اور آج جب سارے لوگ سڑکوں پہ اتر گئےاور دباؤ بنایا تو تو احتجاجی ریلی کی کال دی اور اسے غیر دستوری قرار دیا۔

    شرم تم کو مگر آتی نہیں۔
    مجھے یاد پڑتا ہے کہ 2010-2011 کی بات ہوگی میں دار العلوم میں داخلہ کے لیے گیا ہوا تھا، رمضان کا مہینہ تھا، مسجد رشید میں ہم طلبہ اپنی تیاری کررہے تھے ہم چند طلبہ نے مسجد رشید میں ہی اپنی سورہ تراویح پڑھ لی تھی، حضرت 27 پارہ تراویح میں سنارہے تھے، جب سورہ رحمن کی آیت يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ پہ پہنچے،

    حضرت آیت کو بار بار دہراتے رہے اور روتے رہے اتنا روئے کہ آواز میں گھگی بندھ گئی اور ایک سما طاری ہوگیا سارے متوسلین معتکفین اور مصلیین رونے لگے، ہم طلبہ بھی رونے لگے.. اور عقیدت کی مالا اپنے گلے میں ڈال لی. وہ تو اچھا ہوا کہ داخلہ ہونے کے بعد جب پرانے طلبہ سے اس واقعہ کا ذکر کیا،

    انہوں نے کہا کہ پگلے یہ سب مولویوں کے ڈھکوسلے ہیں چونکہ ان سے پہلے ان کے ابا فدائے ملت رح یہاں مسجد رشید میں رمضان میں خانقاہ لگاتے تھے، تو اب ان کی جگہ انہوں نے لے لی ہے تو کچھ تو کرنا پڑے گا نا انہیں اپنے قابو میں کرنے کے لیے، یہ ابو زید سروجی (ابو زید سروجی کے نام کا استعمال اعلی درجہ کی منافقت کے لیے کیا جاتا ہے) کے بھی دادا ہیں میں نے ناک بھوں چڑھائی، تو اس نے کہا کہ سارا مطلع دھیرے دھیرے صاف ہوجائے گا، کچھ وقت لگا الحمد للہ دارالعلوم کے زمانے میں ہی سارا مطلع صاف ہوگیا۔

    اور ایک عالم دین ہیں امیر شریعت جی جنہوں نے لاکھوں لوگوں لوگوں سےطلاق کے نام پہ چندہ لیا، اپنی طاقت دکھانے کے لیے انہیں سڑکوں پہ اتارا اور ایک ایم ایل سی کی ٹکٹ کے عوض ساری قوم کا سودا کردیا حضرت جی اتنے بڑے شیر ہیں کہ ایک دو اردو نیوز چینل کے بونے رپورٹرز کو بلاتے ہیں، چیخ چلاتے ہیں ان پر اور شیر بن کر بل میں گھس جاتے ہیں۔
    وہ زہر دیتا تو سب کی نگاہ میں آجاتا،

    سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں۔
    اور ایک ہیں اصغر علی امام مہدی سلفی جو ابن الوقت، بے غیرت، بزدلی اور ضمیر فروشی کے لیے جانے جاتے ہیں، جنہوں نے حال ہی میں 370 کی تائید کے دوران ہندوستان کو سارے دنیا کا باپ کہا ہے، کسی بل میں جا گھسے ہیں۔
    اے مجھ کو فریب دینے والے،میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں۔

    ایک ہیں مقر آتش فشاں سلمان صاحب جو یمن پر سعودی ظلم وستم، فلسطین پر صہیونی زیادتی اور شام پر بشار الاسد کی درندگی مصر پر السیسی کی ڈکٹیٹر شپ اور لیبیا تیونس پر ظلم و زیادتی اور عالم اسلام کی خاموشی پر ہر جلسہ میں ایمانی حمیت کا چورن بیچتے نہیں تھکتے تھے اور لگتا تھا کہ حضرت جی کے بس میں نہیں ہے اگر حضرت کے پاس وہاں کی شہریت ہوتی تو ابھی جاتے اور نوجوانوں کو لے کر رن میں کود پڑتے؛ یہ ایسے بزدل ڈھکوسلے باز ثابت ہوئے کہ جب خود اپنی سر زمین پر طاغوتی طاقتوں سے مقابلہ کرنے کا وقت آیا تو بھیگی بلی بن گئے ؛فیسبک کے ذریعے ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں اور امت کے نوجوانوں کو راستہ دکھاتے ہیں، تففف ہے۔
    تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں ،
    ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں۔

    تفف ہے ایسے قائدین پر جو اسٹیج پر آتے ہی ببر شیر بن جاتے ہیں اور ایمانیات، اور مجاہدات کا جعلی چورن بیچتے ہیں اور جب وہی جعلی چورن انہیں کھانے کے لیے کہا جاتا ہے، تو چیں بہ جبیں ہوتے ہیں۔
    اے طائر لاہوتی اس رزق سے ہے موت اچھی
    جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔

    میں عموماً قائدین پر لکھنے سے بچتا ہوں لیکن اب کیا کیا جائے سو……
    رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
    آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے۔

    یہ ناداں گر گئے سجدوں میں
    تحریر!ثاقب سبحانی

  • بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟ …از…سلمان جاوید

    بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟ …از…سلمان جاوید

    بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟

    ایک معاملہ ختم نہیں ہوتا اور دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔

    نہ پالیسی سازوں کو سمجھ آرہی ہے کہ کس سمت میں چلیں۔ نہ ان لوگوں کو جو ان پالیسی سازوں کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔ میڈیا ویسے ہی بریکنگ نیوز syndrome سے باہر نہیں نکلتا اور عوام کو تو ہر وقت کوئی نہ کوئی واقعہ اور خبر چاہئیے اپنی آنکھوں اور کانوں کا "چسکا” پورا کرنے کے لئیے۔

    بھارت نے Citizen amendment Bill کو پاس کرنے کے لئیے آخری سٹیج کی تیاری بھی کر لی ہے۔ امیت شاہ نے اپنے پارلیمانی خطاب میں کھل کر اس بات کا اعادہ اور اظہار کیا کہ ان کا مسلمانوں اور بالخصوص "برصغیر” کے مسلمانوں کے بارے میں کیا خیالات ہیں۔ اور جی جناب، برصغیر میں پاک و ہند دونوں ہی آتے ہیں۔ کشمیر کے کرفیو کے بعد اب آسام کی باری آئی ہے۔ وہاں پر پیراملٹری فورسز کو بھیج دیا گیا ہے۔

    آخری خبریں آنے تک وہاں عوام الناس اور بالخصوص مسلمانوں پر کچھ حربے انھوں نے آزمایا شروع کر دئیے ہیں۔ انھوں نے اس بات کو نہیں دیکھا کہ دنیا ان کے بارے میں کیا رائے بنا رہی ہے۔ انھوں نے اس بات کو بھی خاطر میں نہیں لایا کہ ہندو راشڑیہ کا خواب پورا کرنے کے چکر میں شاید ان کی معیشت مسلسل نیچے جارہی ہے۔ انھوں نے چین و عرب کی پرواہ نہیں کی۔

    یا شاید ان کو پتہ ہے، کہ دنیا میں انسانوں کی منڈی کی اہمیت تو ہے، انسانوں کی نہیں۔

    بھارت کو مسلسل اگر کوئی ملک اس مسئلے پر ایکسپوز کر سکتا تھا تو وہ پاکستان تھا۔ میں "تھا” اس لئیے استعمال کر رہا ہوں کیوں کہ جو کچھ پاکستان میں اس وقت ہورہا ہے وہ کسی طور پر بھی بحثیت ملک اس قابل نہیں رہا کہ بھارت کو کسی بھی بات پر کھل کر چیلنج کر سکے۔ جب آپ قلم اور تلوار دونوں ہی نیچے رکھ دیں اور ملکوں کے معاملے صرف زبانی جمع خرچ سے چلانے کی کوشش کریں تو وہی ہوتا ہے جو اس وقت ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ شاید کسی عالی دماغ کو یہ بات پڑھائی گئی ہے کہ defence is the best strategy۔ اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

    پاکستان کو پہلے معاشی طور پر دیوالیہ پن کے قریب پہنچایا گیا۔ اب آپ اس میں پچھلی حکومتوں کو مورد الزام ٹھرائیں یا اس حکومت کی ناقص حکمت عملی کو، ہر دو صورت میں پاکستان کی طاقت کو زک پہنچائی گئی۔ پھر معاشی حالات کو درست کرنے کے لئیے پاکستان پر شرائط لاگو کی گئیں۔ چاہے وہ IMF ہو یا FATF۔ دونوں ہی پاکستان کے بازو کو مڑوڑنے کے بہانے ہیں۔ پاکستان اس بات پر ہی اکتفا کر کے بھیٹا ہوا ہے کہ کشمیر پر صرف تقریر ہی کرسکے اور کشمیر کے حل کے لئیے کچھ بھی عملی میدان میں کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دلوا کر کشمیر کے معاملے کو ہمیشہ کے لئیے پیچھے چھوڑ دے۔

    اس وقت عملی طور پر peace doctrine کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے ان لوگوں کو ضائع کر رہا ہے جو اس کے لئیے دفاع کی پہلی لکیر بنتے رہے ہیں۔جو کسمیر کی تحریک کو کسی نہ کسی صورت میں گرم رکھتے تھے۔ ہم ایک کرتار پور کھولا جس کا شاید ٹورزم سے زیادہ اور کوئی فائدہ ہمیں نہ ملے۔ اور اس پر سب سے بڑھ کر یہ بات کہ ہم اس بات پر خوشیوں کے شادیاں بجا رہے تھے کہ بین الااقوامی میڈیا نے کشمیر کو بہت اٹھایا ہے۔ سو سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ خود پاکستان میں کشمیر اور مسلمانان ہند کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس پر وزیر اعظم صاحب کے ٹویٹس کے علاوہ کیا حکمت عملی نظر آرہی ہے؟

    مگر اس سب کے دوران پاکستان کے اندر جو کچھ پچھلے دو ماہ میں ہوا اس ہر ایک طائرانہ نظر ڈالیں۔ مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد آنا، فوج کے سربراہ کے بارے میں سیاست کا ہونا، لاہور کے دنگل اور اس سے پہلے سٹوڈنٹ مارچ کے نام پر انارکسٹس کا اکھٹا ہونا، اسلامی یونیورسٹی میں انھی انارکسٹس کا دوبارہ سے تعلیمی اداروں میں اسلحے کا استعمال کرنا، پی ٹی ایم کا مسلسل پاکستان کو عالمی اداروں کے سامنے گندا کرنے کی کوشش کرنا، محسن داوڑ کا پاکستان کو الجزیرہ میں لکھے کالم میں مقبوضہ کہنا اور الجزیرہ کے ہی سب سے بڑے ڈرامہ باز اینکر مہدی حسن کا شیری مزاری کو بے عزت کر کے بلوچستان اور کشمیر کو ایک ہی پلڑے میں رکھ کر کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا۔

    یہ سب کیا محض چند واقعات ہیں؟ یا یہ انارکی کا ایک بھیانک چہرہ ہے؟

    یاد رکھئے انارکی کے اندر شاید واقعات کا ایک دوسرے سے ربط نظر نہ آئے مگر انارکی بات خود کسی بھی معاشرے میں آپ کے دشمنوں کی ایک حکمت عملی کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔

    پاکستان کو ضرورت ہے ان آوازوں کی جو اس کے معاشرے میں دوبارہ سے اصلاح اور امن کا کام کر سکیں۔ ضرورت ہے ان لوگوں کی جو اپنی پیٹھ ننگی کر کے ہر وار سہہ سکیں اور پاکستان کو بیرونی قوتوں سے جیتنے نہ دیں۔ ضرورت ہے ان لوگوں کی جو اس کا کیس عالمی عدالتوں اور فورمز پر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے لڑ سکیں۔

    یہ جنگ جس کی آگ بھارت مسلسل لگا رہا ہے، اس سے صرف سوشل میڈیا اور میڈیا کے ذریعے نہیں لڑا جاسکتا۔ محاذ بہت ہیں۔ دماغ بھی سب کے چاہئیں اور جسم بھی۔ اس پر جتنا جلدی ہم سوچ کر آگے بڑھیں گے اتنا ہی ہم اپنے آپ کو افغانستان،عراق اور لیبیا بننے سے روک پائیں گے۔

    بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟

    از قلم سلمان جاوید

  • سقوط ڈھاکہ..عیاری وغداری کی شرمناک داستان..از..سید زید زمان حامد….قسط -2

    سقوط ڈھاکہ..عیاری وغداری کی شرمناک داستان..از..سید زید زمان حامد….قسط -2

    پچھلے کالم میں بات ہورہی تھی کہ 71 ءکی جنگ کے بعد کس نے اورکیوں افواج پاکستان کے قیدیوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اس پر مزید بات کرتے ہیں۔

    جیسے کہ بتایا جاچکا ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کی صرف ایک کور تھی۔ عام حالات میں ایک کور میں 50 ہزار کے قریب فوج ہوتی ہے، مگر مشرقی پاکستان میں ٹینکوں اور توپخانے کے دستوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ ایک کور بھی پوری نہ تھی۔ اس کے علاوہ پاک فوج میں موجود کئی بنگالی رجمنٹوں نے بغاوت بھی کردی تھی اور بھارتی فوج اور مکتی باہنی کے ساتھ ملکر پاک فوج کے خلاف ہی لڑنا شروع ہوگئے تھے۔

    اس صورتحال میں پاک فوج کی زیادہ سے زیادہ تعداد صرف 32 ہزار سے 35 ہزار تک تھی۔ 8 ماہ کی جنگ میں اس میں سے بھی کوئی 5 ہزار کے قریب شہید یا زخمی ہوچکے تھے۔ لہذا کسی صورت میں بھی پاک فوج کی تعداد 30-35 سے زیادہ نہ تھی۔ اگر ان کے خاندانوں، عورتوں اوربچوں اور حکومت پاکستان کے دیگر سویلین ملازمین کو بھی شامل کرلیا جائے تو کل ملا کر قیدیوں کی تعداد 40-45 ہزار کے درمیان ہی بنتی تھی۔ دشمن، عالمی طاقتیں اور خود ذوالفقار علی بھٹو بھی اس حقیقت سے بہت اچھی طرح واقف تھے۔

    ”اگر پاکستان میں جمہوریت جاری رہتی تو اسلام آباد کو اس سانحے سے گزرنا ہی نہ پڑتا کہ جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں 40 ہزار فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔“
    کرشن چندر پنت ، سابق بھارتی وزیر دفاع

    ”1971 ءمیں ڈھاکہ میں 35 ہزار پاکستانی فوجیوں کا 2 لاکھ بھارتی فوجیوں اورا ن کے تربیت یافتہ ایک لاکھ سے زائد بنگالیوں کے خلاف لڑنا، یقینی طور پر ناممکن تھا“
    چارلس ولسن ، رکن امریکی کانگریس

    اب سوال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے ”90 ہزار“ قیدیوں کا پراپیگنڈہ تو سمجھ میں آتا ہے، مگر اس وقت کی حکومت کیوں اس جھوٹ کولیکر آگے پھیلاتی رہی۔

    پاکستان میں اس وقت بھٹوکی حکومت تھی کہ جو خود سقوط ڈھاکہ کا ایک مرکزی مجرم تھا۔اس کی زندگی کا مقصد ہی پاکستان کو توڑ کر اور پاک فوج کو رسوا کرکے اقتدار پر قبضہ کرنا تھا۔ لہذا بھارت کے شرمناک بیانیے کے جواب میں حقیقت اور سچائی پر مبنی بیانیے کو پیش کرنا ہی بھٹو کے ذاتی و سیاسی مفادات کے خلاف تھا،

    چنانچہ پاکستان میں سانحہ مشرقی پاکستان پر ایک طرح سے سرکاری خاموشی اختیار کرلی گئی، نہ تو حقیقت بیان کی گئی، نہ ہی دشمن کے بیانیے کو رد کیا گیا اور نہ ہی سرکاری طور پر سانحہ مشرقی پاکستان کے مجرموں کو کوئی سزا دی گئی۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ بھٹو نے صرف اس لیے بنوائی تھی کہ اپنے پسندیدہ جج کے ذریعے شکست اور ذلت کا سارا ملبہ پاک فوج پر گرا کر اپنے اوردیگر سیاسی جماعتوں کے ناپاک کردار پر پردہ ڈال سکے۔

    بھٹو اور مجیب کا پاکستان توڑنے میں ناپاک کردار 1965 ءکی جنگ کے بعد ہی شروع ہوچکا تھا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب پاکستان پوری دنیا میں عزت ووقار کے ساتھ ایک عظیم ترعالمی صنعتی طاقت کے طور پر ابھر رہا تھا۔ ایوب خان کا سنہری دور حکومت پاکستان میں زرعی اور صنعتی انقلاب برپا کرچکا تھا۔ دس سے زائد ڈیم بنائے جاچکے تھے،

    دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام تعمیر کیا جارہا تھا اور پاکستان کی صنعتیں اس قدر ترقی کرچکی تھیں کہ ہم ملک میں ہی ڈیزل انجن اور ٹینک بنانے جارہے تھے۔ 65 ءکی جنگ میں پاکستان نے پوری دنیا کو حیران بھی کیا تھا اور دشمنوں کوپریشان بھی۔ اسی لیے اس جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد ہی عالمی طاقتوں نے پاکستان کے خلاف بھرپور سازشوں کا آغاز کردیا تھا کہ جن کا مقصد یہ تھا:

    -1 ایوب خان کو فوری طورپر اقتدار سے ہٹا کر ایسے افراد کو طاقت میں لایا جائے کہ جو پاکستان کی صنعتی ترقی کو تباہ وبرباد کرسکیں۔

    -2 مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کردیا جائے۔

    -3 65 ءکی جنگ میں افواج پاکستان نے جو دنیا میں عزت کمائی تھی اسے مٹی میں ملا کر قوم کے سامنے اسے رسوا کیا جائے۔

    اس مشن کو پورا کرنے کیلئے بھارت، روس، امریکہ اور اسرائیل نے ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کا انتخاب کیا۔ 65 ءکی جنگ کے فوراً بعد ہی ذواالفقار علی بھٹو کہ جو ایوب خان کو اپنا ”ڈیڈی“ کہتا تھا، اور ایوب حکومت میں وزیر خارجہ تھا، حکومت سے الگ ہوکر سوشلسٹ نظریات پر پاکستان پیپلز پارٹی قائم کرتا ہے اور پورے ملک میں ایوب خان کو ہٹانے کیلئے تحریک کا آغاز کردیتا ہے۔

    دوسری جانب مشرقی پاکستان میں اگرتلہ سازش پکڑی جاتی ہے کہ جس میں واضح ہوجاتا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن بھارت کے ساتھ ملکر مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت برپا کرنا چاہتا ہے اور ا س کیلئے مکتی باہنی جیسے دہشت گرد گروہ کو تیار کیا جارہا تھا۔
    اب کھیل بالکل واضح ہوچکا تھا، مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت برپا ہونی تھی، اور مغربی پاکستان میں ایوب خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کا کام بھٹو کو دیا جاچکا تھا، تاکہ اسے اقتدار میں لا کر پاکستان کی تمام صنعتوں کو حکومتی ملکیت میں لے کر تباہ کردیا جائے۔واضح رہے کہ بھٹو نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ہی پاکستان کی تمام صنعتوں کو قومیا کر مکمل تباہ و برباد کردیا کہ جس بربادی سے آج تک پاکستان نکل نہیں سکا ہے۔

    سقوط ڈھاکہ
    عیاری وغداری کی شرمناک داستان
    تحریر: سید زید زمان حامد
    قسط-2
    جاری ہے۔۔۔

  • سقوط ڈھاکہ!عیاری وغداری کی شرمناک داستان…از..سید زید زمان حامد

    سقوط ڈھاکہ!عیاری وغداری کی شرمناک داستان…از..سید زید زمان حامد

    سقوط ڈھاکہ ہماری تاریخ کا ایک المناک اورعبرتناک باب ہے۔ غیروں اور دشمنوں کی مکاری اور سازشوں سے تو ہمیں کوئی شکایت نہیں کہ ان کا تو قیام پاکستان سے ہی یہی کردار رہا ہے، مگر دکھ تو اپنوں کی غداری اور حماقتوں کا ہے کہ جس کے سبب پاک سرزمین کو اس قدر گہرا زخم برداشت کرنا پڑا کہ مشرک دشمن بھی اپنے تکبر میں بول پڑا کہ ”آج ہم نے مسلمانوں کے ہزار سالہ دور حکمرانی کا بدلہ لے لیا ہے“۔

    سقوط ڈھاکہ کا دکھ تو اپنی جگہ، مزید تکلیف دہ امر یہ ہے کہ سانحہ کے تقریباً نصف صدی کے بعد بھی ہم بحیثیت ریاست اور قوم نہ تو اس سانحے سے کوئی سبق سیکھ سکے اور نہ ہی ریکارڈ ہی درست کرسکے کہ وہاں ہوا کیا تھا۔

    پچھلے پچاس برس سے ایک شرمناک پراپیگنڈہ دشمن کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے کہ جسے ہماری صفوں میں موجود غدار اور جاہل دونوں ہی بغیر سوچے سمجھے آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں زہر کی طرح گھولتے رہے ہیں۔ نہ توریاست پاکستان نے، نہ حکومتوں نے، نہ میڈیا نے اور نہ ہی دانشوروں نے تاریخ و دلیل کی بنیاد پر دشمنوں کے ناپاک پراپیگنڈے کا جواب دیا۔ حیرانی اور ا فسوس کی بات تو یہ ہے کہ خود پاک فوج نے بھی سرکاری طور پر مشرقی پاکستان کی تاریخ اور حقائق پر کوئی مستند بیانیہ قائم نہیں کیا۔دو نسلیں گزر گئیں اور ابھی تک جھوٹ، افواہ، پراپیگنڈہ اور خرافات پر مبنی بیانیہ نسل در نسل آگے لے جایا جارہا ہے۔

    سقوط ڈھاکہ کے بعد حکومت پاکستان اور پاک فوج کے تمام ریکارڈ اورکاغذات دشمن کے قبضے میں چلے گئے تھے۔ دنیا نے پھر وہی بیانیہ قبول کیا کہ جو جنگ میں کامیابی حاصل کرنے والے مکار دشمن نے پیش کیا۔
    مشرقی پاکستان کے حوالے سے بھارت کا سب سے ناپاک پراپیگنڈہ کہ جو آج تک جاری ہے وہ یہ ہے:

    ٭ 92 ہزار پاکستانی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔

    ٭ پاک فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کا قتل عام کیا۔

    ٭ پاک فوج نے دس لاکھ بنگالی عورتوں کی عصمت دری کی۔

    حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کی صرف ایک ”کور“ تھی کہ جس کی کمانڈ ایک لیفٹیننٹ جنرل کررہا تھا۔ مشرقی کمانڈ میں موجود اس کور میں بھی مکمل نفری نہیں تھی۔ توپخانے اور ٹینکوں کی رجمنٹوں کے بغیر صرف انفنٹری (پیادہ فوج) کے تین ڈویژن تھے، کہ جن میں سپاہ کی کل تعداد 36 ہزار سے بھی کم تھی۔ جب فوج کی مکمل تعداد ہی 36 ہزار سے کم تھی تو 92 ہزار سپاہیوں نے کس طرح ہتھیار ڈال دیئے؟

    یہ ایک ایسی تاریخی گمراہی ہے کہ جسے نسل در نسل خود پاکستانی قوم میں ایک منظم سازش کے تحت پھیلایا جاتا رہا کہ جس کا مقصد قوم میں احساس ذلت و رسوائی بڑھانا اور پاک فوج کو ذلیل کرنا تھا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ آج تک سرکاری طور پر پاکستان کی جانب سے اس جھوٹے بھارتی بیانیے کو رد کرکے تاریخ کو از سر نو بیان ہی نہیں کیا گیا۔ کیوں حکومتیں اور فوج اس جھوٹے بیانیے پر خاموش رہے، اس کا جواب تو انہی کو دینا ہے، مگر حقیقت وہی ہے کہ جو ہم بیان کررہے ہیں۔

    32 سے 35 ہزار عسکری جنگی قیدیوں کے ساتھ چند ہزار سویلین بھی تھے کہ جو حکومت پاکستان کے ملازم تھے کہ جو مشرقی پاکستان میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور اپنے خاندان، عورتوں اور بچوں کے ساتھ وہیں رہائش پذیر تھے۔ کل ملا کر یہ تعداد 45 ہزارکے قریب تھی۔ 45 ہزار کو بڑھا چڑھا کر 92 ہزار کیوں بنایا گیا، اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اس شرمناک پراپیگنڈے کو پاکستان میں پروان کس نے چڑھایا؟ اگلے کالم میں بیان کریں گے۔

    جاری ہے۔۔۔

    سقوط ڈھاکہ……….عیاری وغداری کی شرمناک داستان……………قسط-1

    تحریر: سید زید زمان حامد

  • بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں‌ !….از… مشرّف عالم ذوقی

    بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں‌ !….از… مشرّف عالم ذوقی

    یہی مرگ انبوہ ہے . جب زیادہ تر لوگ اس بات پر متفق نہیں تھے کہ اس ملک کے مسلمانوں کو مالک مکان کے درجہ سے خارج کر کے کرایہ دار بنا دیا جائے گا ، میں چھ برس قبل اس منظر کو دیکھ رہا تھا ، اور اسی لئے جب شہری ترمیم بل پاس ہوا ، تو مجھے کویی حیرت نہیں ہوئی .

    2002 میں گجرات حادثہ ہوا .ایک بڑی پلاننگ پر کام شروع ہوا . ایک وزیر اعظم نے مسلمانوں کو کتے کا پلا کہا ، ہم اس وقت بھی نہیں سمجھے کہ حکومت نے مسلمانوں کو ان کی اوقات سمجھانے کے لئے مہرے چلنے شروع کر دیے ہیں . تین طلاق ، ہجومی تشدد ، اشتعال انگیز بیانات ، میڈیا کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کرنا .. ہم یہ سب دیکھ رہے تھے اور بابری مسجد میں الجھے ہوئے تھے . کرایہ داروں کی نہ زمین نہ ہوتی ہے نہ مسجد.اس طاقت کا اندازہ لگائیے کہ کسی مذھب کے خلاف کھل کر بولنا کیسا ہوتا ہے ؟

    اس میں ہمت تھی .پارلیمنٹ میں سب کے سامنے جھوٹ بولنے کی . جبکہ ابھی کویی وقت نہیں تھا اس بل کو لانے کے لئے . جب معیشت دم توڑ رہی ہو ، بھوک ہر دروازے پر دستک دے رہی ہو ، نوجوان روزگار کو لے کر بے حال ہوں ، کسان خود کشی کر رہے ہوں ، ایسے ماحول میں ملک کے معیار کو بلند کرنے کی جگہ نفرت کے ایسے بل کو سامنے لایا گیا ، جس نے ساری حدیں توڑ دیں . یہ ہونا تھا یہ ہو گیا . یہ پہلے بھی ہو رہا تھا .چھ برسوں سے . وہ شخص ہر جگہ ، ہر اجلاس میں بھگوڑوں کو نکال باہر کرنے کی باتیں کرتا تھا اور ہماری ملی تنظیمیں ایسے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف متحد نہیں ہو سکیں .

    جناح جیتے ، ہٹلر جیتا ، یا بی جے پی جیتی سوال اس کا نہیں . اب ماضی اور تاریخ کے حوالے بدل جاییں گے .سوچئے آگے کیا ہوگا ؟ مستقبل کا کیا ہوگا ..؟اگر اب بھی نہیں سوچ رہے تو وہ گیس چیمبر زیادہ دور نہیں جس کی پیشن گویئی میں نے مرگ انبوہ میں کی ہے . انکے لئے یہ سوال ہے ہی نہیں کہ تیس کروڑ مسلمان کہاں جاہیں گے ؟ وہ جہنم میں جاییں ، اس بات سے انھیں کویی سروکار نہیں . لیکن اس بات سے سروکار اب ضرور ہے کہ فلم ، میڈیا ، سپورٹس ، سرکاری نوکری ، ملک کے اہم منصب اور عھدوں پر مسلمان نہ ہوں .

    مسلمانوں کی سماجی ، سیاسی حیثیت کو زیرو بنا دیا جائے . ابھی وقت تاریخ کے مجرے دیکھنے کا نہیں ہے .ابھی وقت مولانا ابو الکلام آزاد جیسوں کو یاد کرنے کا نہیں ہے . یہ حالات مختلف ہیں . ہندوستان کو میانمار یا روہنگیا میں تبدیل کیا جا سکتا ہے . آگے کچھ بھی ہو سکتا ہے . اس لئے کہ لوک سبھا سے راجیہ سبھا تک انھیں روکنے والا کویی نہیں .

    چار دسمبر کو کچھ ہندی اخباروں کی سرخی تھی –مسلماں نا منظور . دینک بھاسکر نے سرخی لگاکتے کا پلا یی – غیر مسلم منظور .. آزاد ہندوتان میں آج پہلا دن ہے ، جب مسلمان نا منظور کی سرخیاں اخباروں کی زینت بنی ہیں . ہم ابھی بھی اس وہم میں مبتلا ہیں کہ این آر سی اور شہری ترمیم بل دو علیحدہ بل ہیں . جبکہ اس ملک کی حقیقت یہ ہے کہ سی این جی اور نوٹ بندی کی شروعات بھی مسلمانوں کو ذہن میں رکھ کر کی گیی .

    اپ مغالطے میں ہیں اگر اب بھی آپ کو احساس ہے کہ دوسرے درجے کے شہری ہو کر آپ کامیابی کی سیدھیاں طئے کر سکتے ہیں ، کویی انقلاب لا سکتے ہیں، کویی کرشمہ دکھا سکتے ہیں . شہری ترمیم بل کو کسی راجیہ سبھا میں بھیجے جانے کی ضرورت نہیں. وہ اپنی طاقت ، اپنے منصوبوں ، اپنے ارادوں سے واقف ہیں اور اب کھلے طور پر انہوں نے اعلان کر دیا کہ ہندو راشٹر میں مسلمان دوئم درجے کے شہری ہیں .

    اس کا احساس 2014 میں ہو چکا تھا .لیکن یہ یقین نہیں تھا کہ کویی بھی حکومت اس طرح کھلے عام مسلمانوں کو ملک سے باہر کا راستہ دیکھا سکتی ہے . کیا غیر مسلم جنہیں تلاش کر کر کے اس ملک میں جگہ دی جائے گی م کیا وہ صرف ہندو ہوں گے ؟ کیا سکھ طبقہ اپنے مذھب کو قربان کر دیگا ؟ کیا بودھ اپنا مذھب بھول جاہیں گے ؟ کیا جین مذھب کے پیروکار اپنے مذھب کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ؟

    بھاجپایی ایکٹر اور لیڈر روی کشن نے بیان دیا کہ 100 کروڑ ہندو آبادی والے ملک کو ہندو راشٹر ہی کہا جائے گا . میڈیا تو پہلے دیںسے مسلمانوں کے خلاف ہے . مودی خاموش ہیں وزیر داخلہ نے اب شطرنج کی نیی بساط پر وزیر کو اتار دیا ہے ،مہرے پٹ رھے ہیں . اور مسلمان سیاسی تماشا دیکھنے کو مجبور — امبیڈکر کے آیین سے آھستہ آھستہ مساوات ، ملت ، برابری کے حقوق کا صفحہ غایب ہو جائے گا .

    پھر ہماری مسجدیں ، ہمارے مدرسے سب ان کی تحویل میں ہوں گے . فرض کیجئے ، ہم سڑکوں پر اترتے ہیں . سو کروڑ آبادی کے سامنے ہماری کویی بساط نہیں .وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان سڑکوں پر آییں اور اکثریت کو اپنی مضبوطی کا شدید احساس ہو . اس وقت معاشی اعتبار سے ملک کی موت ہو چکی ہے . لیکن اکثریت میں جشن کا ماحول ہوگا کہ آخر مسلمانوں کو حقیر درجے تک پہچا دیا گیا . پھر عدالتیں رہ جاتی ہیں .

    اب ملی تنظیموں کو اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاہئے کہ عدالت کا رخ کریں . ہماری طاقت بچے گی تو ہماری شناخت بھی محفوظ ہوگی . ہماری مسجدیں بھی — میں نے مرگ انبوہ میں لکھا کہ مسلمان گھر اور بیشمار مسلمان اچانک راتوں رات غائب ہو جاتے ہیں . میرے ایک قاری نے سوال کیا ، ایسا کیسے ممکن ہے ؟ میرا جواب تھا ، شہری ترمیم بل اور این آر سی پر عمل ہونے دیجئے .

    جرمن آج بھی مرگ انبوہ کو فراموش نہیں کر سکے .لاکھوں کی تعداد میں سیاح تاریخ کے المناک مناظر کی یاد تازہ کرنے آتے ہیں جبکہ جرمنوں کو مرگ انبوہ کا لفظ سننا بھی گوارا نہیں . کل یہی ہوگا . تاریخ یاد رکھے گی کہ پچیس کروڑ آبادی والی اقلیت کے ساتھ مرگ انبوہ کی ریہرسل کی گیی . میں نے ناول مرگ انبوہ لکھتے ہوئے ان تمام حقیقتوں کو سامنے رکھا تھا .مجھے یقین تھا ، کہ اس کے بعد ہندو راشٹر اور این آر سی کا ہر سفر آسان ہو جائے گا . ابھی صرف ریہرسل ہے .
    ملک کا نوے فیصد میڈیا ہندو راشٹر کی بحالی کے لئے مسلمانوںکے خلاف ہے—

    اس وقت ملک کے صفحہ پر مسلمانوں کے خون سے جو کہانی لکھی جا رہی ہے .اسے روکنا ہوگا .۔اشتعال انگیز بیانات اور روز روز ہونے والی ہلاکت کے قصّوں کو ختم کرنا ہوگا .لیکن کیا یہ آسان ہے ؟ –آپ ڈرینگے تو حکومت ڈرائیگی-آپ جس دن ڈرنا چھوڑ دینگے ،اس دن سے حکومت ڈرنے لگے گی —نفسیات کا یہ معمولی نکتہ ہے کہ ہر ہٹلر اندر سے کمزور ہوتا ہے .وہ مجمع میں دہاڑتا ہے ۔سچ بولنے والے ایک معمولی سے آدمی سے بھی وہ ڈر جاتا ہے۔

    میڈیا ،ٹی وی چنیلس اور حکومت نے مسلمانوں کو دوسرے بلکہ تیسرے درجے کی مخلوق گرداننا شروع کر دیا ہے .ایک ایسی مخلوق جسے بس اس سر زمین سے باہر نکالنا باقی رہ گیا ہے .آنکھیں بدل گیی ہیں .کچھ دن اسی طرح گزرے تو مسلمان اس ملک میں نمائش کی چیز بن کر رہ جاینگے ..دیکھووہ جا رہا ہے مسلمان ..یہ ہونے جا رہا ہے .سوالات کے رخ خطرناک طور پر مسلمانوں کے لئے مایوسی کی فضا تیار کر رہے ہیں …ہندوستان کی مقدّس سر زمین نفرت کی متحمل نہیں ہو سکتی ..اور .مشن اپنے نظریہ میں تبدیلی لاے ،یہ ممکن نہیں .

    سوال بہت سے ہیں .ہندوستان کے چوراہوں اوردیواروں پر صرف یہ عبارت لکھی جانی باقی ہے کہ ہندو راشٹر میں آپ کا سواگت ہے۔مسلمانوں اور دلتوں کا قتل ، ہر روز نئے مظالم ، صرف میڈیا کی آنکھ بند ہے .اسلئے کہ مکمل میڈیا خریدا جا چکا ہے .حکومت ہر شعبہ کو خرید چکی ہے .انصاف کی عمارت پر بھی زعفرانی پرچم چند دہشت گرد لہرا چکے ہیں .

    2002 تک ہندستانی سماج اس مقام تک نہیں پہنچا تھا، جہاں وہ اب پہنچتا نظر آرہا ہے۔ اور اب شہری ترمیم بل نے ہندو راشٹر کے سفر کو آسان بنا دیا . پھر دیکھتے ہی دیکھتے امبیڈکر کا آیین غائب ہو جائے گا .. یہی تو مرگ انبوہ ہے ..میں نے مرگ انبوہ میں ہندوستان کے مستقبل کو دیکھا ہے .

    بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں‌

    مشرّف عالم ذوقی

  • مسئلہ فلسطین کا حل اور مسلم امہ کا اتحاد –از..صابر ابو مریم

    مسئلہ فلسطین کا حل اور مسلم امہ کا اتحاد –از..صابر ابو مریم

    دور حاضر میں مسئلہ فلسطین نت نئے پیچیدہ سیاسی نشیب و فراز کا شکار ہے۔ایک طرف عالمی سامراجی حکومت شیطان بزرگ امریکہ ہے کہ جس نے صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے قیام سے تاحال اس جعلی ریاست کی بے پناہ پشت پناہی کی ہے اور فلسطین پر ناجائز تسلط کا دفاع کیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ امریکہ نے صہیونیوں نے فلسطین میں عرب فلسطینیوں کا قتل عام کرنے اور ان کو کچلنے کے لئے کھربوں ڈالر کا اسلحہ صرف امداد کے نام پر فراہم کیا ہے جس کے نتیجہ میں صہیونیوں نے گذشتہ ستر برس سے فلسطین کے مظلوم عوام کا خون پانی کی طرح بہایا ہے۔صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل نے صرف فلسطین کے عوام کا قتل عام ہی نہیں کیا بلکہ لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے اپنی گھروں سے بھی نکال باہر کیا ہے۔آج فلسطینیوں کی زمینوں پر صہیونی بستیاں آباد ہیں جبکہ اس زمین کے اصل باسی مہاجر اور پناہ گزین بن کر دنیا کے مختلف ممالک میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی حکومتوں نے جہاں اسرائیل جیسی جعلی ریاست کے تحفظ کے لئے براہ راست سالانہ بنیادوں پر اسرائیل کو کھربوں ڈالر کی امداد اور اسلحہ فراہم کیا ہے وہاں دوسری طرف اسی غاصب و جعلی صہیونی ریاست اسرائیل کے تحفظ کے لئے خطے میں عدم استحکام پھیلانے اور خطے کی ریاستوں کو اسرائیل کے سامنے تسلیم کرنے کے لئے سات ٹریلین ڈالرز گذشتہ چند ایک سالوں میں شام، عراق اور لبنان جیسے ممالک میں دہشت گرد تنظیم داعش اور اس کے ہمنواؤں کے لئے خرچ کئے ہیں اور اس بات کا اعتراف امریکی حکومت کے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ خود اپنی ایک تقریر میں کر چکے ہیں۔

    آج مسلمان دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سب سے اہم ترین مسئلہ فلسطین کا ہے۔ مسلم دنیا کے تمام مسائل کی فہرست میں فلسطین کا مسئلہ پہلے نمبر پر موجود ہے اور اس کے حل کے لئے اگر کوئی آسان اور موثر طریقہ اپنایا جا سکتا ہے وہ صرف اور صرف مسلما ن ممالک کی حکومتوں اور عوام کا باہمی اتحاد اور وحدت ہے کہ جو نہ صرف دنیائے اسلام کے سب سے بڑے اور اہم ترین مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لئے کارگر ثابت ہو گا بلکہ دنیائے اسلام کے دیگر تمام مسائل جو دشمن کی جانب سے صرف اسلئے پیدا کئے گئے ہیں کہ مسلمان حکومتوں کو ان میں الجھا کر رکھا جائے تا کہ صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل محفوظ ہو جائے۔

    یہا ں پر مجھے ایک واقعہ یا د آ رہا ہے کہ جب گذشتہ سالوں میں ایران اور یورپی ممالک کے پانچ ممالک کے مذاکرات یعنی پی فائیو پلس ون جاری تھے اور پھر ایک اہم ترین معاہدے پر پہنچے تھے تو اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک تقریر کے دوران کہا کہ اسرائیل آئندہ پچیس برس کے لئے مسلمان دنیا کے خطرے اور بالخصوص اسرائیل کے دشمن ایران سے محفوظ ہو گیاہے لیکن دوسری جانب ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای کا ایک بیان سامنے آیا تھا کہ جس میں انہوں نے ہمیشہ کی طرح فلسطین کے عوام کے حقوق کا دفاع کرنے اور فلسطین کی آزادی کو یقینی اور حتمی ہونے کے ساتھ ساتھ وعدہ الہی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اسرائیل ان شاء اللہ آئندہ پچیس سال نہیں دیکھ پائے گا۔اس بیان کے بعد عرب دنیا میں بالخصوص اور یور پ میں مسلمان نوجوانوں میں جوش اور جذبہ کی نئی لہر دوڑ گئی تھی اور فلسطین کی آزادی کی تحریکیوں حماس، جہاد اسلامی اور حزب اللہ نے اس بات کا خیر مقدم کرتے ہوئے عزم کیا تھا کہ خطے میں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے ناپاک عزائم کو ہر سطح پر ناکام بنایا جائے گا۔

    بہر حال یہ بات اب روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ دنیائے اسلام کے سب سے اہم مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لئے اسلامی دنیا کا اتحاد او آئی سی کی رسمی کاروائیوں سے بڑھ کر ہونا چاہئیے۔اس عنوان سے مسلمان و اسلامی حکومتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ وہ فلسطین سمیت دنیائے اسلام کے تماممسائل کے حل کے لئے مشترکہ حکمت عملی وضع کریں۔

    حالیہ دنوں ہی ذرائع ابلاغ پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے دنیا بھر سے ایران میں جمع ہونے والے اسلامی دنیا کے مایہ ناز مفکروں، مفتیان کرام، خطباء عظام اور اسکالروں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کی اہمیت کو اجاگر کیا اور فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کے نابودی کو یقینی قرار دیتے ہوئے عالم اسلام کی سربلندی کو حتمی و خدا کا وعدہ قرار دیا۔انہوں نے مسلم دنیا کے اسکالروں اور مفتیان کرام سمیت سیاسی ومذہبی شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے حل اور امت اسلامی کے اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ مسلمان حکومتوں کو چاہئیے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے اپنی متحدہ اور مشترکہ کوششوں کو سرانجام دیں اور باہم اتحاد اور وحدت کو عملی بنانے کے لئے کم سے کم درجہ کا اتحاد یہ ہے کہ مسلمان و اسلامی ممالک کی حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کریں۔

    آج وقت کی اہم ترین ضرورت یہی ہے کہ مسلم دنیا کے مشترکہ دشمن کو پہچانا جائے۔آج امریکہ جن مسلم ممالک کی پشت پناہی کرتے ہوئے مسلمان ممالک کو باہم دست و گریباں کرنے میں مصروف ہے کل یہی امریکہ ان مسلمان حکومتوں اور ملکوں کے خلاف بھی کسی قسم کے اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔لہذا مسلمانوں کی نجات باہمی اتحاد میں ہے اور مسئلہ فلسطین کے درست راہ حل کے لئے مسلمانوں کا کم سے کم اتحاد یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کریں اور اتحاد کا بلند ترین مرتبہ یہ ہے کہ تمام مسلمان حکومتیں اپنے علم و تمد ن سے ایک دوسرے کی مدد کریں اور ترقی کی راہیں ہموار کریں۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اگر آج مسلمان حکومتیں اتحاد و یکجہتی کے کم سے کم درجہ کو اپناتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھولنے کی بجائے اپنی تمام تر توانائیوں کو عالم اسلام و انسانیت کے سب سے اہم ترین مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے اور فلسطین سمیت دنیا کے مظلوموں کی مدد کے لئے خرچ کریں تو یقینا یہ بات درست ہو گی کہ اسرائیل کی جعلی ریاست آئندہ پچیس برسوں میں دنیا کے نقشہ پر نہیں ہوگی۔آج مسلم دنیا میں فلسطین، کشمیر، یمن، عراق، افغانستان، برما اور دیگر کئی ایک مقامات پر مسلمان اقوام صرف اور صرف عالم اسلام کے کم سے کم درجہ کے اتحاد یعنی ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی سے پرہیز کرنے کے متمنی ہیں۔

    مسئلہ فلسطین کا حل اور مسلم امہ کا اتحاد
    تحریر: صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • مولانا شبلی نعمانی وفات پاگئے ، تاریخ‌ اپنے آپ کو دہراتی ہے !

    اعظم گڑھ:تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اور آج کے دن 105سال قبل اٹھارہ نومبر 1914ء کو اردو زبان کو علمی سرمائے سے مالا مال کرنے والے نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ۔علامہ شبلی نعمانی کا مزار اعظم گڑھ میں واقع ہے۔

    علامہ شبلی نعمانی کا اصل نام محمد شبلی تھا تاہم حضرت امام ابو حنیفہ کے اصل نام نعمان بن ثابت کی نسبت سے انہوں نے اپنا نام شبلی نعمانی رکھ لیا تھا۔ وہ 1857ء میں اعظم گڑھ کے ایک نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بڑے اچھے ماحول اور اپنے عہد کے اعلیٰ ترین درس گاہوں میں ہوئی۔

    1882ء میں وہ علی گڑھ کالج کے شعبۂ عربی سے منسلک ہوگئے، یہاں انہیں سرسید احمد خان اور دوسرے علمی اکابر کی صحبت میسر آئی، جس نے ان کے ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ علامہ شبلی نعمانی کا ایک بڑا کارنامہ ندوۃ العلما کا قیام ہے۔

    ان کی زندگی کا حاصل ان کی تصنیف سیرت النبی سمجھی جاتی ہے تاہم بدقسمتی سے ان کی زندگی میں اس معرکہ آرا کتاب کی فقط ایک جلد شائع ہوسکی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ کام ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی نے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ شبلی نعمانی کی دیگر تصانیف میں شعر العجم، الفاروق، سیرت النعمان، موازنۂ انیس و ادبیر اور الغزالی کے نام سرفہرست ہیں۔

    بزرگوں کی سیرت کا مطالعہ شخصیت کی تعمیر میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے اور کسی بھی زبان کے لٹریچر میں اس سرمایہ کی موجودگی اس کی عظمت کی دلیل ہے۔ مولانا شبلی نعمانی اس اعتابر سے بڑے نامور ہیں۔ کہ انھوں نے اردو میں بزرگوں کی سیرت کا سرمایہ فراہم کیا۔ ان کا شمار اردو نثر کے عناصر خمسہ میں ہوتا ہے۔

    سیرت النبی، الفاروق، المامون، الغزالی، شعرالعجم، سوانح مولانا روم، سیرت النعمان، موازنہ انیس و دبیر، علم الکام ، اورنگ زیب عالم گیر پر ایک نظر اور بے شمار مقالات ان میں سے یادگار ہیں۔ شاعری میں مثنوی صبح امید، قطعات اور دیوان شبلی موجود ہیں۔

  • فیصلہ بابری مسجد کا یا مسلم کشی کا ! تحریر: غنی محمود قصوری

    مغل دور میں تعمیر ہونے والی مشہور مسجد بابری کا تنازعہ ہندوءوں اور مسلمانوں کے درمیان آج سے 70 سال قبل یعنی 1949 سے چلا آ رہا ہے حالانکہ یہ مسجد مسلمان دور حکومت میں تعمیر ہوئی ہے
    بابری مسجد کو مغل دور حکومت میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر فیض آباد کے علاقے ایودھیا میں 1527 کو اس وقت کے مغل سالار میر باقی نے تعمیر کروایا تھا اور اس کو ہندوستان کے مشہور بادشاہ ظہیر الدین بابر کی نسبت سے بابری مسجد کا نام دیا گیا
    ویسے تو ہندو مغل دور کی اس عظیم مسجد بابری کے خلاف 1949 سے ہی سازشیں کر رہے ہیں مگر حیرت تو اس بات کی ہے کہ کم و بیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی حکومت میں کسی ہندو پنڈت اور تنظیم نے یہ نا بتایا کہ اس مسجد کو رام للا یعنی ہندو بھگوان ،رام کی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندو بے ایمان مغل دور کی غلامی کی یادیں مٹانا چاہتا ہے اور اپنے آقا انگریز کی رسم پوری کرنا چاہتا ہے کہ جس نے اپنے ہندوستان پر جبری قبضے کے دوران ہزاروں مساجد کو شہید کیا اور گرجا گھروں میں بدلا تھا
    1980 میں ہندو انتہا پسند تنظیموں نے اس مسجد کے خلاف سازشیں مذید تیز کر دیں اور ہندوءوں کو بھڑکایا جانے لگا کہ یہ مسجد ہندو بھگوان ،رام کی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کی گئی ہے اور 1949 تک اس مسجد میں دو مورتیاں بھی موجود تھیں جنہیں مسلمانوں نے باہر پھینک دیا تھا
    رفتہ رفتہ اس مسجد کے خلاف مہم تیز ہوتی گئی اور ہندو پنڈت و لیڈران ہندوءوں کو اس مسجد کے خلاف اکساتے رہے اور مسجد کو گرا کر رام مندر بنانے کی باتیں سرعام جلسوں میں کرتے رہے مگر ہندوستان سرکار اور اعلی عدالتیں خاموش رہیں اور پھر آخر کار 6 دسمبر 1992 کو ہندو انتہا پسند تنظیم وشو ہند پریشد نے ہندو سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر ایل کے ایڈوانی کی زیر قیادت تقریبا 150000 سے زائد ہندوءوں کو جمع کرکے اس عظیم مسجد پر حملہ کر دیا ہندو تنظیموں نے جنونی ہندوءوں کو باقاعدہ ٹریننگ دی اور انہیں پورے ہندوستان سے اکھٹا کرکے ایودھیا لایا گیا حملے کے نتیجے میں مسجد کا کافی حصہ مسمار ہو گیا اور مسلمانوں نے اپنی پیاری مسجد کی خاطر پورے ہندوستان میں مزاحمت کی تو ہندو بلوائیوں نے تقریبا بیس ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا اس پر ہندو سرکار نے ایکشن لیتے ہوئے صرف 68 بندوں کے خلاف فرد جرم عائد کی اور بعد میں انہیں بھی رفتہ رفتہ بے گناہ قرار دیا جاتا رہا
    مسلمانوں نے بابری مسجد کی مسماری پر ہندوءوں کے خلاف مقدمہ درج کروایا جس پر فیصلے آتے رہے مگر 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے شرمناک فیصلہ سنا کر مسلمانوں کو مذید دکھی کر دیا الہ آباد ہائی کورٹ کے 3 ججوں نے فیصلہ سنایا کہ بابری مسجد رام للا کو گرا کر بنائی گئی ہے لحاظہ اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جائے بابری مسجد کے کل رقبہ 2.77 ایکڑ کا ایک تہائی حصہ رام للا کو دیا جائے اور وہاں رام مندر تعمیر کیا جائے ایک تہائی مسلمانوں کے سنی وقف بورڈ کو دیا جائے اور باقی جگہ ہندو انتہا پسند تنظیم ،نرموہی اکھاڑے کو دی جائے ہندوستانی ہائیکورٹ کے اس شرمناک فیصلے پر مسلمانوں میں شدید اضطراب پایا گیا اور مسلمانوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہندوستانی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جس پر ہندوستانی سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے آج 9 نومبر 2019 کو فیصلہ سنایا کہ آثار قدیمہ کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بابری مسجد رام للا کو گرا کر بنائی گئی ہے اور اس پر مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہندو بابری مسجد کی جگہ بگھوان رام کا مندر بنائیں اور مسلمانوں کے سنی بورڈ کو 5 ایکڑ زمین کسی اور علاقے میں دی جائے جہاں وہ اپنی مسجد تعمیر کریں
    ویسے ہندوستان کا جمہوری اور مذہبی نظام تو شدید متعصب تھا ہی مگر عدالتی نظام شدید متعصب اور گھٹیا نکلا اس عدالت نے یہ تحقیق نا کی کے 1000 سال تک ہندو رام للا کا واویلا کیوں نا کر سکے حالانکہ ان مغل اداواروں میں بہت زیادہ ہندو مندر تعمیر ہوئے جنہیں خود مغل بادشاہوں نے ہندو کیلئے تعمیر کروایا تاکہ ہندو اپنے مذہب کے مطابق اپنی پوجا کر سکیں نیز ہندوءوں کی مسلمانوں کی خدمت کی بدولت انہیں بہت زیادہ زمینوں اور جاگیروں سے نوازا جاتا رہا اگر اس وقت ایسی کوئی بات ہوتی تو ضرور مسلم بادشاہوں کی طرف سے دیگر مندروں کی طرح اس مندر کی تعمیر کا مسئلہ بھی حل کیا جاتا تاریخ گواہ ہے اگر مسلمان خاض طور پر مغل بادشاہ ہندو کی طرح متعصب اور جنونی ہوتے تو آج کرہ ارض پر ایک بھی ہندو زندہ نا ہوتا مگر تاریخ نے مسلمانوں کا ہندوءوں کیساتھ اعلی پائے کا اخلاص اور انصاف دیکھا ہے
    اور پھر بیس ہزار مسلمانوں کے قاتل اور مسلمانوں کی تاریخی مسجد کو مسمار کرنے والے ڈیڑھ لاکھ جنونی ہندوءوں میں سے کسی کو بھی قابل قدر سزا کیوں نا ہو سکی درحقیقت ہندو ناپاک پلید کی طرح اس کا سارا عدالتی نظام بھی گھٹیا اور پلید ہے انہیں معلوم ہے کہ مسلمان اس فیصلے کو کبھی بھی تسلیم نا کرینگے اور اسی بدولت ماضی کی طرح پھر ہندو مسلم فسادات ہونگے جن میں سراسر نقصان مسلمان کا ہی ہوتا رہا ہے کیونکہ ہندوستان میں مسلمان ایک اقلیت ہیں اور ہندوءوں کے ستائے ہوئے محکوم بھی جبکہ ہندو باقاعدہ تربیت یافتہ اور مسلح ہیں مگر پھر بھی اس غلیظ عدالت نے جھوٹ اور افسانوں کو مانتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا اور ہندو مسلم فسادات کی راہ ہموار کی ہے

  • شہنشاہ اکبر نےاقتدارسنبھال لیا ، تاریخ نے پھروہ دن دکھا بھی دہرا بھی دیا

    لاہور:ویسے تو مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کی زندگی کےبارے میں تاریخ میں ہر کسی نے اپنے انداز سے تصویر کشی کی ہے ،مگریہاں صرف اس کی زندگی کے ایک پہلوپر روشنی ڈالی جارہی ہے،یہاں جو اصل بات بیان کرنے جارہے ہیں وہ ہےکہ آج کے ہی دن 5 نومبر 1556 کو عظیم مغل بادشاہ شہنشاہ جلال الدین اکبر نے باقاعدہ اقتدارسمبھال لیا ، تاریخ کے مطابق سلطنت مغلیہ کے تیسرے فرماں روا (بابر اعظم اور ہمایوں کے بعد)، ہمایوں کابیٹا تھا۔ ہمایوں نے اپنی جلاوطنی کے زمانے میں سندھ کے تاریخی شہر دادو کے قصبے “پاٹ” کی عورت حمیدہ بانو سے شادی کی تھی ۔ اکبر اُسی کے بطن سے 1542ء میں عمر کوٹ کے مقام پر پیدا ہوا۔

    مولانا اے پی سی کا حال دیکھ کر ہکے بکے رہ گئے،9 میں سے 5 ساتھی غائب

    مورخین لکھتے ہیں کہ ہمایوں کی وفات کے وقت اکبر کی عمر تقریباً چودہ برس تھی اور وہ اس وقت اپنے اتالیق بیرم خان کےساتھ کوہ شوالک میں سکندر سوری کے تعاقب میں مصروف تھا۔ باپ کی موت کی خبر اسے کلانور ضلع گروداسپور (مشرقی پنجاب) میں ملی۔ بیرم خان نے وہیں اینٹوں کا ایک چبوترا بنوا کر اکبر کی رسم تخت نشینی ادا کی اور خود اس کا سرپرست بنا۔ تخت نشین ہوتے ہی چاروں طرف سے دشمن کھڑے ہوگئے ۔ ہیموں بقال کو پانی پت کی دوسری لڑائی میں شکست دی۔ مشرق میں عادل شاہ سوری کو کھدیڑا۔ پھر اس نے اپنی سلطنت کو وسعت دینی شروع کی۔

    اخوت اس کو کہتے ہیں!طیب اردوان نے پاکستان سے دوستی کاحق اداکردیا

    1556ء میں دہلی ، آگرہ ، پنجاب پھر گوالیار ، اجمیر اور جون پور بیرم خان نے فتح کیے۔ 1562ء میں مالوہ، 1564ء میں گونڈدانہ ، 1568ء میں چتوڑ، 1569ء میں رنتھمپور اور النجر ، 1572ء میں گجرات ، 1576ء میں بنگال، 1585ء میں کابل، کشمیر اور سندھ، 1592ء میں اڑیسہ ، 1595ء میں قندہار کا علاقہ ، پھر احمد نگر ، اسیر گڑھ اور دکن کے دوسرے علاقے فتح ہوئے اور اکبر کی سلطنت بنگال سے افغانستان تک اور کشمیر سے دکن میں دریائے گوداوری تک پھیل گئی۔

    اکبر نے نہایت اعلٰی دماغ پایا تھا۔ ابوالفضل اور فیضی جیسے عالموں کی صحبت نے اس کی ذہنی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی ۔ اس نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا تھا کہ ایک اقلیت کسی اکثریت پر اس کی مرضی کے بغیر زیادہ عرصے تک حکومت نہیں کر سکتی۔ اس نے ہندوؤں کی تالیف قلوب کی خاطر انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات دیں اور ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اکبر نے ایک ہندو عورت جودھا بائی سے بھی شادی کی جو اس کے بیٹے جہانگیر کی ماں تھی۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے ڈرافٹ تیار ، تفصیلات آگئیں

    جودھا بائی نے مرتے دم تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ نیز دین الہٰی کے نام سے ایک نیا مذہب بھی جاری کیا۔ جو ایک انتہا پسندانہ اقدام تھا اور اکبر کے ہندو رتنوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا۔ دین الہًی کی وجہ سے اکبر مسلمان امراء اور بزرگان دین کی نظروں میں ایک ناپسندیدہ شخصیت قرار پایا۔ وہ خود ان پڑھ تھا۔ لیکن اس نے دربار میں ایسے لوگ جمع کر لیے تھے جو علم و فن میں نابغہ روزگار تھے۔ انہی کی بدولت اس نے بچاس سال بڑی شان و شوکت سے حکومت کی اور مرنے کے بعد اپنے جانشینوں کے لیے ایک عظیم و مستحکم سلطنت چھوڑ گیا۔

    مغل حکمرانوں کے طرز زندگی کے آثارآج بھی برصغیر پاک وہند میں ملتے ہیں ، ان کے محلات، فوجی چھاونیاں اور خوبصورت اندازمیں تاریخی عمارتیں تو پاکستان کے حصے میں بھی آئی ہیں‌، لاہور کا شاہی قلعہ ، شاہی مسجد اور اس کے علاوہ ملک کے اور کئی مقامات پر ان کی حکومت کے اثار ابھی تک باقی ہیں‌ ، آج بھی اور آج کے دن کے حوالے سے بھی مغل بادشاہ اکبراسلامی تاریخ میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، مورخین کے مطابق آج کے دن 5 نومبر 1556 کو اسی شہنشاہ اکبر نے مغل سلطنت کا باقاعدہ کنٹرول سنبھال لیا

  • 2-نومبر کو عالم اسلام کے سلطان کی پیدائش نے خطے کا نقشہ ہی بدل دیا ،

    غزنی :تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ، آج دنیا کی تاریخ میں میں 2 نومبر2019 کا دن ہے، اور آج سے تقریبا ایک ہزارسال قبل عالم اسلام کی ایک ممتاز ایک تاریخ بدلنے والے اور رقم کرنے والی شخصیت پیداہوائی اس شخصیت کا نام ہے سلطان محمود غزنوی ، مورخین کے مطابق سلطان محمود غزنوی دو نومبر 971ء کو افغانستان کے شہرغزنی میں پیدا ہوئے

    ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید

    سلطان محمود غزنوی جن کا مکمل نام یمین الدولہ ابو القاسم محمود ابن سبکتگین ہے اور جنہیں المعروف محمود غزنوی کے نام سے تاریخ میں یاد کیا جاتاہے 997ء سے اپنی وفات تک سلطنت غزنویہ کا حکمران تھے۔ وه دسویں صدی عیسوی میں غزنی کے مسلمان بہادر ، محب رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلم بادشاه گزرے هیں

    آج کا انسان…… از….نعیم شہزاد

    سلطان محمود غزنوی نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کردیا اور اس کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا۔ وہ تاریخ اسلامیہ کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے سلطان کا لقب اختیار کیا۔

    پنجاب کے سکولوں میں کون سی مہم شروع ہونی والی ہے،سیکرٹری ایجوکیشن نے بتاددیا

    وہ پہلے مسلمان حکمران تھے جنہوں نے ہندوستان پر 22 حملے کئے اور ہر حملے میں فتح حاصل کی ۔اس عظیم مجاہد کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے ہندوستان کے بت کدے لرز اٹھتے تھے ۔ اسلامی تاریخ میں سلطان محمود غزنوی کو برصغیر پاک وہند میں اسلام کا داعی حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے