Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • ابو بکر البغدادی کی ہلاکت –از –صابر ابو مریم

    ابو بکر البغدادی ذرائع ابلاغ اور دنیا کے لئے ایک معروف نام ہے کیونکہ یہی وہ شخص تھا کہ جس کو داعش نامی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ اور قائد کی حیثیت سے پیش کیا گیا تھا۔ابھی گذشتہ دنوں امریکی صدر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ کچھ بہت بڑا ہوا ہے۔اس جملے کے لکھنے کے بعد مغربی ذرائع ابلاغ اور ان سے متاثر خلیجی ذرائع ابلاغ نے ایک ہی خبر کی رٹ لگا دی کہ شام اور عراق میں دہشت گرد گروہ داعش کا سربراہ ابو بکر البغدادی امریکی حملوں میں مارا گیا ہے۔دراصل دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ پر امریکی وصہیونی لابی کا مضبوط کنٹرول دنیا کے ایک بہت بڑے حصہ کو جس سمت چاہتا ہے موڑ دیتا ہے اور اہمیشہ مغربی سامراج نے ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کے ذریعہ دنیا میں بسنے والے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی رائے کو بدلنے اور ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ امریکی صدر نے جو ابو بکر البغدادی کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے آخر کس حد تک سچائی رکھتا ہے یا یہ کہ اس کے پس پردہ مقاصد کیا ہو سکتے ہیں؟دنیا اس حقیقت کو اب بخوبی جان چکی ہے کہ امریکہ نے پہلے طالبان قیادت بنائی اور بعد میں اسی طالبان قیادت اسامہ بن لادن کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک فوجی آپریشن کے ذریعہ ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔اب شام اور عراق میں خود امریکہ کی بنائی ہوئی داعش نامی دہشت گردتنظیم کے سرغنہ ابو بکر البغدادی کو امریکہ نے ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔آج امریکی صدر نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے پیش رو امریکی صدور نے عراق اور شام پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لئے داعش نامی دہشت گرد تنظیم بنائی تھی۔

    یہ بات بھی واضح رہے کہ ابو بکر البغدادی کے پہلے بھی کئی مرتبہ مارے جانے کی اطلاعات مل چکی ہیں جن کی کبھی تصدیق نہیں ہو سکی اور اسی طرح حالیہ امریکی آپریشن میں بھی دہشتگرد تنظیم داعش کے سرغنہ ابو بکر البغدادی کے قتل ہونے کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
    امریکہ جو غرب ایشیا کے خطے میں سنہ2001ء کے بعد سے مسلسل فلسطین، لبنان، شام، افغانستان، عراق و ایران میں شکست کھا رہاہے اور خطے پر اپنا تسلط قائم رکھنے میں ناکام ہے داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کی مدد سے بھی اپنے ناپا ک عزائم کی تکمیل تک نہیں پہنچ پایا ہے۔امریکی سرکار نے داعش کو اس لئے بنایا تھا تا کہ شام و عراق کو کنٹرول کر سکیں اور اسی طرح اس خطے کو کئی حصو ں میں تقسیم کریں جبکہ اس سارے عمل کا فائدہ صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے حق میں تھا کہ اسے تحفظ فراہم ہو سکے لیکن اب حقیقت یہ ہے کہ کئی سال تک داعش نے شام و عراق اور لبنان کے علاقوں میں اپنا قبضہ جمانے کی کوشش کرنے کے باوجود شکست کھا گئی ہے اور اب حال ہی میں امریکی صدر کا ابو بکر البغدادی کو قتل کردینے کے دعویٰ نے امریکی سرکار پر مزید سوالات اٹھا دئیے ہیں۔

    غرب ایشیائی ممالک کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین امور سیاسیات کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایسے وقت میں شام کے علاقہ ادلب میں کاروائی کی ہے کہ جب پہلے ہی ترکی کی فوجیں اس علاقہ میں فوجی چڑھائی کر چکی ہیں۔یہ امریکی آپریش بھی ترکی میں موجود امریکی بیس سے کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شاید امریکہ کو یہ خطرہ بھی تھا کہ اگر ابو بکر البغداد ی ترک افواج کے ہاتھ زندہ سلامت آ جاتا ہے تو پھر امریکیوں کے بہت سارے ایسے راز جو دنیا کے سامنے نہیں آئے ہیں وہ سب کے سب آشکار ہو جائیں گے اور امریکہ کا سیاہ چہرہ مزید دنیا کے سامنے عیاں ہو جائے گا تاہم امریکی سرکار نے اس علاقہ میں جلد بازی میں کاروائی کرتے ہوئے ابو بکر البغدادی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر لیا ہے۔

    کچھ ماہرین سیاسیات کاکہنا ہے کہ امریکہ کیونکہ شام و عراق میں داعش کا بانی ہے اور دنیا کو باور کروانے کی کوشش کر رہاہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں سرگرم عمل ہے تاہم اب ایسے حالات میں کہ جب شام، ایران، روس اور حزب اللہ نے مشترکہ طور پر لبنان، شام اور عراق میں داعش کا صفایا کیا ہے تو امریکہ خطے میں داعش کے خلا ف اس کامیابی کو اسلامی مزاحمتی بلاک کے حصہ میں نہیں جانے دینا چاہتا اور یہی وجہ ہے کہ امریکی سرکار نے بغدادی جیست دہشت گرد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر کے خطے میں داعش پر فتح حاصل کرنے کا تمغہ اپنے سینہ پر سجانے کی ایک ناکام کوشش کی ہے لیکن دنیا پہلے ہی اس بات کو جانتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ہی ہیں کہ جنہوں نے خطے کے عرب خلیجی ممالک کے اشتراک سے نہ صرف داعش بلکہ متعدد کئی دہشت گرد گروہ تشکیل دئیے تھے کہ جن کا کام شام کی تقسیم، عراق کی تقسم اور فلسطین کاز کو نقصان پہنچا کر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی بقاء کویقینی بنانا تھا۔

    چند ایک ماہرین نے امریکی سرکار کے داعش کے سرغنہ کو ہلاک کرنے کے دعویٰ پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر ایسی کون سی قیامت آئی ہے کہ امریکہ نے گذشتہ سات برس میں تمام تر ٹیکنالوجی اور وسائل کے باوجود داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ کو نشانہ نہیں بنایا اور سات سال تک شام و عراق میں داعش کی جانب سے جاری خونریزی پر کوئی ایسا حملہ سامنے نہیں آیا کہ جس میں داعش کے عمومی دہشت گردوں کو بھی قتل کیا گیا ہو۔آخر اب کس طرح امریکہ کو معلوم تھا کہ داعش کا دہشت گرد ابو بکر البغدادی ادلب کے علاقہ میں عین اسی مقام پر موجود تھاکہ جہاں امریکی فوج نے حملہ کیا او ر اسے ہلاک بھی کر دیا۔آخر یہ حملہ داعش کے شام و عراق میں قابض ہوتے وقت کیوں نہیں کیا گیا تھا کہ جس زمانے میں ابو بکر البغدادی جیسے دہست گرد کھلم کھلا علاقوں میں خون کا بازار گرم کر رہے تھے۔یہ رائے رکھنے والے ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکہ دراصل روز اول سے ہی ابو بکر البغدادی کے ساتھ رابطے میں تھا اور خطے میں انارکی اور دہشت گردی کروانے کے لئے سرگرم عمل تھا تاہم اب بغدادی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر کے امریکہ کھیل کو اپنی طرف پلٹ کر دنیا کے سامنے ہیروبننے کی ناکام کوشش کر رہا ہے اور شاید ایک بہانہ بھی تلاش کر لیا گیا ہے تا کہ شام سے امریکی فوج کے انخلاء کو باعزت طور پر انجام دے پائے۔

    ایک اور سیاسی رائے کے مطابق ماضی میں امریکی صدر نے طالبان دہشت گردوں کے سرغنہ اسامہ بن لادن کو پاکستان میں ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کرنے کے اعلان کے بعد دوسرا امریکی الیکشن جیت لیا تھا تاہم موجودہ امریکی صدر نے بھی اپنے پیش روصدر کی روایت کے مطابق خود اپنے ہی پیدا کردہ دہشت گرد سرغنہ ابو بکر البغدادی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاکہ امریکی عوام آنے والے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ڈونالڈ ٹرمپ کا انتخاب کر سکیں۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس خبر کو صرف ذرائع ابلاغ سے لیا گیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں کہ اس ہلاکت کی تصدیق کی جائے۔بہر حال امریکہ خطے میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور اپنے دہشت گردانہ عزائم پرپردہ ڈالنے کے لئے چاہے اپنے بنائے ہوئے ہزاروں ابو بکر البغدادی بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ کر لے تو امریکہ کے انسانیت مخالف جرائم میں کسی طرح کمی نہیں آئے گی۔دنیا کی نظر میں امریکہ کل بھی لاکھوں مظلوم انسانوں کا قاتل تھا اور آج بھی امریکہ کی پوزیشن دنیا کے عوام کی نگاہوں میں ایک قاتل اور ظالم سے بڑھ کر نہیں ہے۔

    تحریر:صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • عراق میں احتجاجی مظاہروں کی حقیقت!—از—صابرابومریم

    حالیہ دنوں عراق میں احتجاجی مظاہروں کا دوسرا دور شروع ہو اہے اس سے قبل شروع ہونے والا احتجاجی مظاہروں کا دور بیس اکتوبر سے ایک ہفتہ قبل اس لئے روک دیا گیا تھا کیوں کہ ختمی مرتبت حضرت محمدمصطفی (ص) کے نواسہ جناب امام حسین کے چہلم کے ایام کی وجہ سے دنیا بھر سے کروڑوں افراد کی کربلا و نجف جیسے مقدس شہروں میں آمد و رفت تھی۔البتہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ چہلم امام حسین کے بعد 25اکتوبر سے ان مظاہروں کا دوبارہ آغاز کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مظاہروں کے پہلے دور میں بھی درجنوں افراد مارے گئے تھے جو کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور ہینڈ گرنیڈ جیسے ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے پائے گئے تھے۔

    بہر حال حالیہ دنوں میں عراق میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔سوشل میڈیا پر عراق سے موصول ہونے والی سیکڑوں ویڈیوز اور تصاویر تک سب کی رسائی ہے۔ہم اس مقالہ میں کوشش کریں گے عراق میں ہونے والے ان مظاہروں کے پس پردہ عوامل کو آشکار کریں۔

    یہ مظاہرے کیوں شروع ہوئے اور ان کی قیادت کون کر رہا ہے؟ اس سوال کا آسان سا جواب یہی ہے کہ مہنگائی، کرپشن جیسے دیرینہ مسائل ان مظاہروں کی بنیاد بنے ہیں جبکہ ان مظاہروں کی قیادت کے عنوان سے تاحال کوئی بھی سیاسی قیادت کھل کر سامنے نہیں آ رہی ہے کہ جو علی الاعلان یہ کہہ سکے کہ ان مظاہروں کی قیادت کر رہی ہے۔جو کچھ بتایا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام جمع ہوئے ہیں اور حکمران طبقہ کی کرپشن اور بد عنوانیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بظاہر اگر ان باتو ں کو مان لیا جائے تو یقینا کوئی بھی سمجھدار انسان یا سیاسی سوج بوجھ رکھنے والا انسان ان باتوں کو رد نہیں کر سکتا لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے جو کہ پردے کے پیچھے ہے۔

    حقیقت میں مظاہرین جو بغیر کسی قیادت کے سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور مسلسل ایسی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں کہ جس میں سرکاری عہدیداروں کو مارا پیٹا جا رہاہے۔حتیٰ یہاں تک کہ کربلا میں ایک رضا کار کو ایمبولینس سے نکال کر قتل کر دیا گیا، جبکہ ایمبولینس کے دیگر عملہ کو بھی اس کے ساتھ ساتھ قتل کیا گیا یہ مناظر آج سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔اسی طرح ایک اور منظر میں بغداد کی گلیوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس وین کو روک کر پولیس والوں کو اتار کر انہیں چند شر پسند عناصر گرفتار کر کے لے جا رہے ہیں جبکہ ان پر بہیمانہ تشدد بھی کیا جا رہاہے۔ایسی کئی ایک ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین کے اندر چھپے ہوئے شرپسند عناصر ہینڈ گرنیڈ جیسے ہتھیار بھی استعمال کر رہے ہیں۔بصرہ میں کچھ ایسے مظاہرین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو مظاہرین کے اندر رہتے ہوئے مظاہرین اور پولیس والوں پر گولیاں چلا رہے تھے اور انہیں خفیہ انداز میں قتل کر رہے تھے۔

    بہر حال ان مظاہروں کے احوا سے ہٹ کر جو اصل مدعا ہے وہ یہ ہے کہ رفتہ رفتہ ان مظاہرین کے مطالبات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جن میں مہنگائی اور کرپشن سمیت حکمرانوں کی بد عنوانی جیسے الزامات کہیں دور دور بھی نظر نہیں آ رہے ہیں۔اب ان مطالبات میں ایران کے خلاف نعرے بازی، داعش کے خلاف جدوجہد اور جنگ کرنے والی رضا کار فورس کے خلاف نعرے، عراق کے بزرگ علمائے کرام کی تصاویر کو نذر آتش کرنے سمیت ان کے خلاف نعرے لگانا سمیت ایسے نعرے لگائے جا رہے ہیں کہ جو خود ان احتجاجی مظاہروں کی جڑ اور بنیاد کا پتہ دیتے ہیں۔

    عرا ق سے امریکی افواج کا انخلاء او پھر یہاں داعش کی حکومت قائم ہونے سے داعش کے خاتمہ کے بعد تک عراق اور اس کا نظامکافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ایک عرا ق جو امریکی سرکار کا محتاج تھا آج امریکی فوج کو عراق میں قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔دوسری طرف امریکہ چاہتا ہے کہ عراق کے ایران سمیت چین اور روس اور دیگر ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو بھی ضرب لگائی جائے،حالیہ مظاہرو ں میں لگائے جانے والے نعروں میں اس سازش کی کھلی تصویر نظر آ رہی ہے۔

    امریکی صدر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نے عراق اور شام پر تسلط حاصل کرنے کے لئے سات ٹریلین ڈالر خرچ کئے ہیں اب ٹرمپ یہ کہتے ہیں کہ ان سات ٹریلین ڈالرز کی واپسی وہ عراق کے تیل کو دنیا بھر میں فروخت کر کے حاصل کریں گے۔یعنی مقاصد صاف نظر آرہے ہیں کہ عرا ق کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔جیسا کہ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ یورپ میں کسی ایک دکاندار سے ایک سو ٖڈالر نکلوانے سے کہی زیادہ آسان سعودی عرب کے حکمرانوں سے ملین ڈالرز نکلوانا ہے۔یہی فارمولا وہ عراق میں لا گو کرنا چاہتے ہیں لیکن عراق کی حکومت اور اکثریت اس فارمولہ کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔امریکی سرکار کا عراق میں حال یہ ہے کہ اب صرف ساڑھے چھ ہزار امریکی فوجی سفارتخانوں اور دیگر شخصیات کی سیکیورٹی کے نام پر عرا ق میں موجود ہیں جن کے بارے میں بھی عراق نئی منتخب حکومت کہہ چکی ہے کہ ان کی سیکیورٹی کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    دراصل امریکہ عراق و شام اور لبنان و فلسطین سمیت پورے غرب ایشیاء میں تنہا اور بد ترین شکست خوردہ ہو چکا ہے اور اس شکست کا اعتراف اکشر اوقات ٹرمپ کی تقاریر میں بھی سننے کو ملتا ہے۔عراق کو غیر مستحکم کرنے اور سیاسی بھونچال پیدا کرنے کے لئے امریکی و صہیونی اسکیم نے کرپشن اور بد عنوانی کو آلہ کار بناتے ہوئے چند شر پسند گروہوں کو سوشل میڈیا کے ذریعہ سڑکوں پر نکالنے میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم عراق حکومت اور اس کے ادارے مسلسل اس فتنہ سے نمٹنے کی مکمل کوشش کر رہے ہیں۔

    راقم نے ان احتجاجی مظاہروں کو شرپسند عناصر اس لئے کہا ہے کہ اگر یہ مظاہرے عوامی ہوتے تو پھر ان کے نعرے بھی عوامی ہوتے نہ کہ ایسے نعرے جو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت میں لگائے جا رہے ہوں۔اگر واقعی یہ مظاہرے عراق کے عوام کے ہیں تو پھر ان کو ملک کی سلامتی اور سرحدوں کی خلاف ورزی جیسے مسائل پر نعرے لگانے چاہئیں کہ جہاں متعدد مرتبہ صہیونی اسرائیل نے ڈرون حملوں میں عراقی افراد کو قتل کیا ہے۔سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ مظاہروں کی خفیہ قیادت اور مظاہرین نے تا حال کسی قسم کا کوئی ایسا پلے کارڈ نہیں اٹھا یا ہے کہ جس میں داعش کے خلاف جنگ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہویا عراق کی سیکیورٹی کے خلاف صہیونی سرگرمیوں کی مذمت کی گئی ہو۔

    خلاصہ یہ ہے کہ عرا ق کا احتجاجی مظاہروں کا پہلا دور ہو یا اب چلنے والا دوسرا دور، دونوں ادوار میں جو ایک بات سوشل میڈیا پر واضح طور پر نظر آ رہی ہے وہ امریکہ و اسرائیل سمیت یورپی ممالک اور بالخصوص خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب سے حمایت کی جا رہی ہے جو واضح طور پر اس بات کی روشن دلیل ہے کہ عراق میں موجود چند ایسے عناصر جو امریکہ، اسرائیل اور خطے کی عرب ریاستوں کے اشاروں پر عراق کے مستقبل کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں اور امریکی ایجنڈا کی تکمیل کی خاطر عراق کی سڑکوں پر معصوم او ر بے گناہ لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل و غارت کر رہے ہیں۔

    ایسے کسی بھی احتجاج کو جمہوری احتجاج نہیں کہا جاتا لہذا ہر عقل مند جو عرا ق کی سیاسی صورتحال سے آشنا ہو گا وہ یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ عراق میں جاری مظاہرے در اصل امریکی خلفشار ہیں جس کا مقصد امریکی ناپاک عزائم کی تکمیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔امریکہ اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے عرا ق میں نئے انداز سے وارد ہو رہاہے تا کہ اپنی شکست کو چھپا سکے اور اس کام کے لئے امریکی حکومت پر اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتنے بے گناہوں کا خون بہاناپڑے گا۔کیونکہ امریکہ پہلے ہی نائن الیون کے بعد افغانستان او ر عراق میں لاکھوں انسانوں کو موت کی نیند سلا چکا ہے

    عراق میں احتجاجی مظاہروں کی حقیقت!
    تحریر:صابرابومریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • 14-اکتوبر1092یوم وفات نظام الملک طوسی—-از— تاریخ کے سنہری اوراق سے

    14-اکتوبر1092یوم وفات نظام الملک طوسی—-از— تاریخ کے سنہری اوراق سے

    تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے،آج 2019 ہے اور اکتوبر کی 14 تاریخ ، یہ پہلی مرتبہ نہیں‌بلکہ جب سے شمسی مہینوں کا نظام شروع ہوا ہے ہر سال آتی ہے ، اسی 14 اکتوبر کوعالم اسلام کے ایک بہت بڑے مدبر حکمران نظام الملک طوسی اس دنیا فانی سے کوچ کرتے ہیں اور ایک تاریخ چھوڑ جاتے ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے رقم ہوگئی

    قبل اس کے کہ نظام الملک طوسی کی سنہری زندگی کے اوراق کھولے جائیں ہارون الرشید کا دور برامکہ کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے اسی طرح سلجوقیوں کا عہد نظام الملک طوسی کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ نظام الملک کا اصل نام حسن بن علی اور لقب نظام الملک تھا۔ وہ طوس کے ایک زمیندار علی کا بیٹا تھا۔ 408ھ میں پیدا ہوا اور بچپن سے ہی بہت ذہین اور کئی خوبیوں کا مالک تھا۔ اپنی ذہانت سے انتہائی کم عمری میں کئی علوم پر عبور حاصل کیا۔ سلجوقی عہد میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوا۔

    مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 71 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم ، کشمیریوں کی مزاحمت جاری

    اس عہد کے تمام کارنامے نظام الملک کے تیس سالہ دور وزارت کے مرہون منت ہیں۔ یہ عہد سلجوقیوں کا درخشاں عہد کہلاتا ہے۔ الپ ارسلان جو ایک مجاہدانہ صفت رکھنے والا بادشاہ تھا نے اپنے کمسن بیٹےملک شاہ کو نظام الملک کے سپرد کردیا تا کہ وہ اسکی تربیت کرے اور عصری علوم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حکومت کرنے کے ڈھنگ بھی سکھائے۔ انہی دنوں گرجستان کی مہم پیش آئی جس کیلئے فوج کو نظام الملک کی سربراہی میں بھیجا گیا ۔ گرجستان والوں نے ہتھیار پھینک دئے اور مسلم فوج کی شرائط پر صلح کرلی۔ جارجیا کے بادشاہ بقراط کی بھتیجی ہیلینا جو ایک حسین و دلکش دوشیزہ تھی مگر راہبانہ زندگی گزاررہی تھی۔

    خواجہ حسن نظام الملک اس سے شادی کرنے کا خواہش مند تھا مگر حالات کے برعکس اس شہزادی ہیلینا کو الپ ارسلان سے نکاح کیلئے مخصوص کرلیا گیا اور شرائط میں اس شرط کو بھی شامل کیا گیا جس پر عیسائی آبادی میں غم و غصہ پایا جانے لگا جبکہ دوسری طرف گرجستان کے اعلیٰ و شاہی خاندان کے نوجوان بھی شہزادی کے طالب تھے مگر اسکی راہبانہ زندگی کے پیش نظر اس سے مدعا بیان نہ کرسکتے تھے۔

    پردیسیوں کی قسمت جاگ اٹھی ، یونان میں موقع مل گیا

    شہزادی کوالپ ارسلان کے نکاح میں دے دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد ایک گرجستانی شاعر جو الپ ارسلان کے دربار میں آیا ہوا تھا نے ایک قصیدہ موزوں کرکے گوش گزارنے کی اجازت طلب کی۔ الپ ارسلان نے اجازت دے دی تو اس گرجستانی شاعر نے انتہائی واہیات انداز میں شہزادی ہیلینا اور نظام الملک طوسی کی کردار کشی کی جس کے بعد الپ ارسلان نے اس شرط پر شہزادی ہیلینا کو طلاق دے دی کہ نظام الملک اس سے شادی کرے یا شہزادی گرجستان واپس چلی جائے مگر شہازدی نے واپس جانے سے اس بنا پر انکار کیا کہ اب میری وہاں پہلے والی عزت نہیں رہے گی اور یہ کہ وہ خود کو مسلمانوں میں محفوظ و مامون محسوس کرتی ہے لہذا اس نے نظام الملک سے شادی کرلی سلجوقی سلطان الپ ارسلان نے نظام الملک کی صلاحیتوں کا اندازا لگاتے ہوئے وزارت کا منصب اس کے سپرد کردیا۔

    اس نے الپ ارسلان کے عہد میں ایسے جوہر دکھائے کہ تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کی ہزاروں شمعیں روشن ہوگئیں۔ اس نے ملک کو گوشے گوشے میں مدارس کا جال بچھا دیا اور سب سے بڑا اور اہم مدرسہ بغداد کا مدرسہ نظامیہ تھا جس کی تعمیر پر بے پناہ روپیہ صرف کیا گیا۔ اس کے علمی و ادبی کارناموں کی طویل فہرست کے ساتھ مذہبی اور دینی خدمات بھی بے شمار ہیں اور رفاہ عامہ کے کارنامے تاریخ پر انمٹ نقوش ثبت کرتے ہیں۔ اس کی تحریر کردہ کتاب “سیاست نامہ” کو انتہائی شہرت حاصل ہوئی اور اس سے آج بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ یورپ کی مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے۔

    فیصل واڈا کو ترس آگیا

    عروج کی انتہائی بلندیوں تک پہنچنے کے بعد برامکہ کی طرح اس کی قسمت کا ستارہ بھی زوال میں آگیا اور ملک شاہ اول نے اسے وزارت سے علاحدہ کردیا۔ زوال کے اسباب بھی برامکہ کے اسباب کی طرح تھے۔ بہرحال اس کے کارنامے سلجوقی حکومت کے لئے لاتعداد ہیں بلکہ اس درخشاں دور کی کامیابیاں سلجوقی سلاطین کے علاوہ اس کی مرہون منت بھی ہیں۔وہ 1063ء تا 1072ء الپ ارسلان کے دور حکومت اور 1072ء تا 1092ء ملک شاہ اول کے دور حکومت میں وزارت کے عہدے پر فائز رہا۔

    نظام الملک نے اپنی مشہور تصنیف “سیاست نامہ” میں سلطنت کو قانونی شکل دینے کے لئے ایک جدید نظریے کی بنیاد رکھی اور سلطان کو نئے معنی سے مدلل کرنے کی کوشش کی۔ مصنف نے سلطنت کی ابتدا اور سلطان کے معنی پر بحث کی ہے۔
    علاوہ ازیں اس نے اپنے بیٹے ابو الفتح فخر الملک کے لئے ایک کتاب “دستور الوزراء” بھی تحریر کی۔ نظام الملک 10 رمضان 485ھ بمطابق 14 اکتوبر 1092ء کو اصفہان سے بغداد جاتے ہوئے حسن بن صباح کے فدائین “حشاشین” کے ہاتھوں شہید ہوا۔ مؤرخوں کیمطابق ملک شاہ اول جو خواجہ حسن نظام الملک کو خواجہ بزرگ اور پدر معنوی جیسے القاب سے نوازتا تھا اور خواجہ حسن کو خاص مقام حاصل تھا کہ وہ بادشاہ کےکمرہء خاص یا آرام کرنے کے کمرےمیں بھی آمد و رفت رکھتے تھے۔

    چونکہ وہ ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے اور انکو علوم خاص و عام میں رسوخ حاصل تھا۔ ملک شاہ اول کی شادی سلجوقی خاندان کی ایک خاتون جن کا نام زبیدہ خاتون تھا سےہوئی اور انکے بطن سے ملک شاہ اول کا سب سے بڑا بیٹا تولد ہوا۔ ملک شاہ اول نے ایک شادی خانان قاراخانی یا قاراخانی شہزادی سے بھی کی تھی جس کا نام ترکان خاتون تھا۔ کہتے ہیں کہ ملک شاہ اول کے دو بڑے بیٹوں داوود اور احمد جن کا بالترتیب 1082 اور 1088میں انتقال ہوا۔

    انکے انتقال کے بعد ترکان خاتون اپنے بیٹےمحمود جو سب سے کم سن تھا کو ولی عہد نامزد کروانا چاہتی تھی جبکہ خواجہ حسن نظام الملک طوسی نے ترکان خاتون کی مخالفت کی اور زبیدہ خاتون کے بڑے بیٹے برکیارق کو ملک شاہ اول کا جانشین و ولی عہد نامزد کرنے پر اصرار کیا جس پر ترکان خاتون کی نظام الملک کے ساتھ سرد جنگ شروع ہوگئی اور اس نے اپنے معتمد خاص تاج الملک االمعروف بہ المزرزبان کے ساتھ جوڑ توڑ کرکے نظام المک کو ان کے عہدہء وزارت سے ہٹانے کی سازشیں شروع کیں مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکی۔

    خواجہ حسن نظام الملک کی وفات کے بارے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ بہت سوں کا کہنا ہے کہ ایک دن ملک شاہ اول جو پہلے ہی وزیر مملکت کے خلاف ہونے والی محلاتی سازشوں سے دلبرداشتہ ہورہا تھا کو وزارت سے معزول کردیا اور معزولی کا حکم سننے کے بعد نظام الملک واپس اپنی جاگیر یا بغداد جارہے تھے ۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ ملک شاہ اول کے حکم پر ضروری کام سے بغداد جارہے تھے کہ اچانک ایک درویش نے ان سے دادرسی چاہی ، شفیق و مہربان نظام الملک نے دادرسی کرنے کی خاطر اس درویش کو قریب بلایا مگر وہ درویش کے روپ میں قلعہ الموت کی طرف سے بھیجا گیا ایک فدائی تھا اسکا وار خواجہ حسن نظام الملک کیلئے جان لیوا ثابت ہوا۔

    پولیس آفیسر وحشی گجر، بیٹے بھی باپ کے نقش قدم پر ، پھر کیا ہوا، ضرور جانیئے

    خواجہ حسن جانبر نہ ہوسکے اور خالق حقیقی سے جا ملے انکی وفات پر پورا عالم اسلام اور بالخصوص رے غمزدہ و اداس ہوگیا۔ نوحہ گروں نے نوحہ کیا اور مرثیہ لکھنے والوں نے مرثئے لکھے۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ان دنوں شیعہ سنی مناظرے منعقد ہوا کرتے تھے جن میں ملک شاہ اول اور نظام الملک طوسی بھی بہ نفس نفیس شریک ہوتے تھے خواجہ حسن بزرگ نظام الملک طوسی کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا اور جس دن ان پر حملہ ہوا اسی دن ملک شاہ اول کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا مگر ملک شاہ اول پر حملہ کامیاب نہ ہوسکا۔

  • ترکی کی کردوں پر چڑھائی اور کشمیر ایشو پر عالمی طاقتوں کا ردعمل !!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    ترکی کی کردوں پر چڑھائی اور کشمیر ایشو پر عالمی طاقتوں کا ردعمل !!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    ٹرمپ انتظامیہ نے کرد ترکی کشیدگی کا نوٹس لیا،
    یو این کی سلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس بھی بلا لیا گیا.
    مزید یہ کہ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے دونوں ممالک میں پیدا ہونے والے بحران کے تین حل پیش کیے ہیں.
    1- شام میں امریکی فوج کے ذریعے بغاوتوں کا خاتمہ
    2- ترکی پر معاشی پابندیاں حتیٰ کہ وہ جنگ لڑنے کے قابل نہ رہے.
    3- کردوں اور ترکی کے درمیان ثالثی.
    .
    تو قارئین یہ ہے منظر نامہ.
    نہ ہی ترکی سے کوئی سفیر و مندوب یو این کی خدمت میں حاضر ہوا.. نہ شام کو مضبوط سفارت کاری کا سہارا لینا پڑا. اور پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ آپکے سامنے ہے.
    .
    جناب غور کیجیے گا کہ ترکی کا نقصان ہو یا کردوں یا پھر شام کا امریکہ کسی جگہ بھی براہ راست متاثرین میں شمار نہیں.
    .
    ناظرین یہ بھی دیکھیے کہ ثالثی تیسرا آپشن ہے. پہلے دو آپشنز انتہائی بیہودہ اور جابرانہ ہیں.
    .
    خیر یہ تو تھا پس منظر جس پر آپکو ماضی قریب کی جھلک دکھانی ہے.
    .
    تنازعہ کشمیر یو این میں 1948 سے پیش ہے.
    بھارتی فورسز کشمیریوں پر جلاد کی طرح مسلط ہیں.
    لاکھوں شہید، لاکھوں یتیم، بے شمار بیوہ و نیم بیوہ.
    سکول کالج مدارس تباہ
    کم عمر بچوں کا قتل عام
    پیلٹ گن کے چھروں سے معذور ہزاروں
    غیر قانونی و غیر انسانی حراست میں ہزاروں قید اور قید بھی جانے کب سے.
    .
    مقبوضہ کشمیر کی امتیازی حیثیت ختم ہو چکی.
    70 دن کا کرفیو ہو چکا
    ادویات، خوراک کی قلت
    ہسپتال، سکول، مدارس بند
    اور ہماری سفارت کاری تاریخ کی بلند ترین سطح پر.
    .
    ترلوں سے سلامی کونسل کا کشمیر پر اجلاس بلایا،
    پوری دنیا کو آن بورڈ لیا.
    یو این کی جنرل اسمبلی میں ثریا کو چھوتی تقریر کی.
    اور ٹرمپ اور یو این نے فقط مذمت کی.
    اور دونوں راضی ہوں تو ثالثی کی پیشکش ہے.
    اور فیر کیس انہی پرانی فائلوں کی طرح تہہ خاک میں چھپ جائے گا جو 1948 سے شنوائی اور عملدرآمد کی منتظر ہیں.
    .
    وزیراعظم عمران خان صاحب.. گلوب کو بھی دیکھیں اور اپنے حالات کو بھی.. دنیا کے دہرے معیار کو جاننے کی کوشش بھی کریں. جو بھاشن آپ دنیا کو دے رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ دنیا کے خدا آپکو تاج پہنا دیں گے. یہ بھاشن شاید یہ فرعون زمانہ اپنے ٹوائلٹ کے پیپرز پر چھپوا کر اس سے اپنی غلاظت صاف کرتے ہیں.
    .
    فرعونوں کو بس طاقت کا نشہ آور ظلم کا چسکا ہوتا ہے.
    آپ کاہے امید لگائے بیٹھے ہیں. اور اپنے کشمیری بھائیوں کو موت کے منہ میں چھوڑ رہے ہیں…
    اللہ کے لیے اللہ سے ڈرتے ہوئے دل سے "ایاک نعبد و ایاک نستعین” کہہ کر فیصلہ کریں.

  • اقوام متحدہ میں فلسطین کا مقدمہ —از –صابر ابو مریم

    اقوام متحدہ میں فلسطین کا مقدمہ —از –صابر ابو مریم

    مسئلہ فلسطین کی ابتداء کو آئندہ ماہ ایک سو دو برس مکم ہو جائیں گے۔ تاریخ میں عام طور پر مسئلہ فلسطین کی ابتداء 1948ء سے کی جاتی ہے جب غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کا ناپاک وجود قیام عمل میں آیا تھا تاہم اگر دقیق نگاہ سے ا س مسئلہ کا مشاہدہ کیا جائے تو اس کی ابتداء تو اسی دن ہو گئی تھی جب بوڑھے استعمار برطانیہ کے اعلیٰ عہدیدارجیمز بالفور نے ایک اعلان نامہ کے ذریعہ فلسطین کی تقسیم صہیونیوں کے حق میں کرنے کے لئے حکومت برطانیہ کو خط لکھا تھا۔ اس اعلان کو اعلان بالفور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ 2نومبر سنہ1917ء کی بات ہے کہ جب پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے فوری بعد صہیونیوں نے فلسطین پر قبضہ کی ٹھان لی تھی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک بھر کے لیے بہت بڑا حکم جاری کردیا، کیا ہے یہ حکم ؟…

    اقوام متحدہ جو اس وقت لیگ آف نیشن کے نام سے کام کر رہی تھی،فلسطین کا مقدمہ پیش کیا گیا تو عالمی طاقتوں کی ایماء پر اس مقدمہ کو صہیونیوں کے مقابلہ میں زیادہ پذیرائی حاصل نہ ہو پائی۔سنہ1922ء کے بعد 1947ء میں نئی اقوام متحدہ نے قرار داد نمبر 181کے ذریعہ فلسطین کی ناجائز تقسیم کا اعلان کر ڈالا۔نتیجہ میں دنیا بھر سے لا کر بسائے جانے والے صہیونیوں کے لئے جعلی ریاست اسرائیل سنہ1948ء میں قیام عمل میں آ گئی۔

     

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین ہمیشہ بنیادی مسائل کی فہرست میں ٹاپ پر رہا ہے اور اس عنوان سے اقوام متحدہ نے کئی ایک قرار دادیں منظور کی ہیں جن کو بعد ازاں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی جانب سے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا رہاہے۔

    بہرحال ہم بات کرتے ہیں اقوام متحدہ کے 74ویں سالانہ اجلاس کی کہ جو فلسطین پر صہیونیو ں کے غاصبانہ تسلط کے 72سال مکمل ہو نے پر ہو رہا ہے۔اس اجلاس کی تمام تر روئیداد کو دیکھنے اور طائرانہ نظر دوڑانے پر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر دنیا کے سب سے اہم ترین اور پہلے مسئلہ کی طرف کسی نے توجہ مبذول کروائی ہے تو ایران اور ترکی تھے کہ جن کے سربراہان مملکت نے اپنی تقاریر میں فلسطین پر صہیونیوں کے غاصبانہ تسلط کے خلاف بات کی اور فلسطینیوں کے لئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

    مخالفین نہیں‌ اپنے ہی وزیراعظم کی کشتی ڈبو رہے ہیں ، ایماندار وزیراعظم کو6 چیزیں

    ایران کی اگر بات کریں تو ایران، سنہ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت فلسطینیوں کی تحریک آزادی اور فلسطین کی آزادی کا سب سے بڑا خواہاں ہونے کے ساتھ ساتھ عملی طور ر فلسطین کاز کا مدد گار بھی ہے، حتیٰ کہ ایران کے دستور میں فلسطین سمیت دنیا کے تمام مظلوموں کی حمایت بنیادی اصولوں کی دستاویز کے طور پر درج بھی ہے۔لہذا ایران کے صدر روحانی نے اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے بھی فلسطین کاز کی حمایت کو اقوام متحدہ کے فورم پر بیان کیا اور فلسطین کا مقدمہ پیش کیا ہے۔

    دوسری طرف ترکی کے سربراہ مملکت رجب اردگان ہیں کہ جو ایران کے ہمسایہ بھی ہیں۔ماضی میں بھی فلسطین کا زکی حمایت میں پیش پیش رہے ہیں حالانکہ حکومتی سطح پر ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات موجودہیں لیکن اردگان حکومت نے گاہے بہ گاہے فلسطین کاز کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ترکی کے صدر کے طرز حکومت اور دنیا کے بدلتے سیاسی حالات میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔حالانکہ شروع شروع میں ترکی شام کے خلاف سرگرم تھا اور یہی اردگان کہتے تھے کہ بشار الاسد کی حکومت کو جانا ہو گا لیکن اب ان کا موقف تبدیل ہو چکا ہے اور یہ سمجھ چکے ہیں کہ شام سمیت عراق کو غیر مستحکم کرنے کا امریکی منصوبہ جہاں شام و عراق کو تباہ کر دیتا وہاں ساتھ ساتھ ترکی بھی اس کا شکار بنے بغیر نہ رہتا۔

    بات کرتے ہیں اقوام متحدہ کے حالیہ سالانہ اجلاس کی اور اس میں فلسطین کا مقدمہ پیش کرنے کی تو ایران کے بعد ترک صدر تھے کہ جنہوں نے فلسطین کا زکی کھل کر حمایت کی اور صہیونی جرائم کو آشکار کرتے ہوئے صہیونیوں کی مکاریوں اور ظلم و ستم کی داستانوں کو بیان کیا۔اردگان کی تقریر کے تاریخی جملوں میں قابل ذکر جملے یہ تھے کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ نا انصافی فلسطینیوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔

    ڈان کے سابق سٹی ایڈیٹر ابوالحسنات انتقال کر گئے

    آج مقبوضہ فلسطین صہیونی مظالم کی زدمیں ہے اور سب سے زیادہ ناانصافی فلسطینی عوام کے ساتھ ہو رہی ہے جبکہ غاصب اسرائیل کہ جو سنہ1947ء سے پہلے کوئی وجود نہ رکھتا تھا آج تک ظلم و ستم کے ساتھ مقبوضہ فلسطین پر قابض ہے اور فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی داستانیں رقم کر رہاہے۔یہاں اردگان کے جملوں کو تاریخی جملے کہنے کا ایک ہدف یہ بھی ہے کہ انہوں نے صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کی اصل حقیقت کی قلعی کھول دی ہے اور بتایا ہے کہ سنہ1947ء سے پہلے اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہ تھی، اس کا واضح مطلب یہی بنتا ہے کہ اردگان نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے فلسطین کی آزاد ریاست کہ جس کی بنیاد سنہ1948ء سے قبل کی ہے اس کی حمایت کی ہے جس میں اسرائیل نام کی کوئی ریاست وجود نہیں رکھتی۔

    اردگان نے اسرائیل کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ رسید کرتے ہوئے اقوام عالم سے سوال کیا کہ یہ بات کیسے ممکن ہے کہ جولان کی پہاڑی علاقوں کو جعلی ریاست اسرائیل دنیا کی آنکھوں کے سامنے اپنے اندر ضم کر لے جیسا کہ پہلے بھی اسرائیل نے فلسطینی علاقوں کو مقبوضہ بنا رکھا ہے۔یعنی اس عنوان سے اردگان کا موقف شام کی حمایت میں بھی سامنے آیا ہے جو بہت بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

    اردگان کی تقریر میں اہم ترین بات جو غاصب صہیونیوں کے جھوٹے پراپیگنڈے کو زائل کرنے کے لئے کافی تھی وہ اردگان کا تقریر کے دوران ہاتھوں میں مقبوضہ فلسطین کا نقشہ اٹھا کر اقوام عالم کو دکھانا تھا۔اردگان کے ہاتھوں میں موجود فلسطین کا نقشہ در اصل صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ان جھوٹے اور منفی پراپیگنڈوں کا جواب بھی تھا کہ جس میں وہ گذشتہ برس ہاتھوں میں ایسی من گھڑت تصاویر لے کرآئے تھے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات اور دیگر بتا رہے تھے تاہم اس مرتبہ اردگان کے ہاتھوں میں فلسطین کا نقشہ صہیونی ریاست کے وجود کی نفی کے ساتھ بہترین حربہ تھا جس پر اب تک صہیونی ذرائع ابلاغ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

    اسرائیل کی تکلیف کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نیتن یاہو کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں انہوں نے ترک صدر کو فلسطین کے حقائق بیان کرنے اور صہیونی ریاست کی نفی کرنے کو جھوٹ کا پلندا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اردگان نے فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی نفی کے معاملے میں جھوٹ بیان کیا ہے۔واضح رہے کہ اردگان نے کہا تھا کہ سنہ1947ء سے قبل دنیا میں کسی بھی جگہ اسرائیل نام کی کوئی ریاست وجود نہ رکھتی تھی۔یقینا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے تاہم صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو اس بات پر شدید برہم ہیں۔نیتن یاہو نے ساتھ ساتھ ترک صدر کو کرد عوام کا قاتل بھی قرار دیا ہے۔

    نیتن یاہو کے جواب میں ترک صدر کے ترجمان ابراھیم کالن نے نیتن یاہو کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صدر کی جانب سے تاریخی حقائق بیان کرنے پر لگتا ہے کہ نیتن یاہو کا دماغی توازن خراب ہو چکا ہے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے حالیہ سالانہ اجلاس میں مسلم دنیا کے 57ممالک میں سے صرف ایران اور ترکی ہی واضح طور پر فلسطین کی حمایت میں کھڑے نظر آئے ہیں جبکہ امید یہ کی جا رہی تھی کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اپنی تقریر میں کشمیر کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کے اولین مسئلہ فلسطین کو بھی اجاگر کریں گے۔

    اقوام متحدہ میں فلسطین کا مقدمہ —
    تحریر:صابر ابو مریم صابر ابو مریم


    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • "انسانی حقوق کی تنظیمیں اور انسانیت کی اُڑتی دھجیاں” تحریر . جویریہ رزاق

    "انسانی حقوق کی تنظیمیں اور انسانیت کی اُڑتی دھجیاں” تحریر . جویریہ رزاق

    یوں تو مغربی معاشرے نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے بہت سی تنظیمیں بنائیں
    بہت سے دن متعارف کروا دئیے
    مگر ان تنظیموں کے ہوتے ہوئے مسلمان ہر جگہ ظلم و ستم کی چکی میں پستا ہے
    یہ تنظیمیں ہیومن رائٹس کے سبھی ادارے ہمیشہ مسلمانوں کی زبوں حالی پہ منہ پہ تالے لگائے ہوئے ہیں
    افسوس بین الاقوامی سطح پر یہ دن محض دکھاوے کے لئے منائے تو جاتے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے
    جس کا منہ بولتا ثبوت مسلمانوں پر ہوتے بدترین تشدد سے لگایا جا سکتا ہے
    چاہے وہ کشمیر ہو برما ہو فلسطین ہو شام ہو الغرض پوری دنیا میں مسلمانوں پر ہوتا ظلم و ستم مغرب کے ایجاد کردہ انسانی حقوق کے یہ دن کو منہ چڑاتا ہے
    ایسا کونسا بدترین تشدد ہے جو آج کشمیر کے نہتے مظلوم مسلمانوں پر نہیں کیا جا رہا
    لیکن دوسری طرف مغرب میں کسی غیر مسلم کا اگر کوئی کتا بھی مر جاتا ہے تو دنیا تہس نہس کر دی جاتی ہے
    جانوروں کے لئے انکی اتنی ہمدردیاں جبکہ مسلمان انہی کے نزدیک کیڑے مکوڑے
    جب چاہا جس نے چاہا مسلمانوں کو کچل دیا..
    فلسطین کی تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں
    برما ,شام ,عراق اور کشمیر کی تاریخ دیکھ لیں
    جہاں معصوم کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مسل دی جاتی ہیں
    مسلمان عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے
    حتی کہ بوڑھے ضعیف مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کیا جاتا ہے
    پوری دنیا میں مسلمانوں کے خون کے ندیاں بہائی جا رہی ہیں لیکن ہیومن رائٹس کی سبھی تنظیمں ہنوز خاموش ہیں
    حقوق حقوق کے کھوکھلے دعوے آج تک مسلمانوں پہ ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کو نہیں روک پائے
    بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہوگا
    مغرب کی بنائی ہوئی یہ تنظیمیں صرف غیرمسلموں کے لئے ہیں انہی کے حقوق کے لئے ہیں
    مسلمانوں کی ان کی نظر میں نہ کوئی حیثیت کل تھی نہ آج ہے
    کہیں مسلمانوں کی مساجد کی بے حُرمتی
    کہیں انبیاء کی توہین..

    اس کے باوجود بھی اسلام کو ہی دہشت گرد کہا جاتا ہے
    آج تک ان کھوکھلی جھوٹی تنظیموں سے اسلام کے لئے نہ کوئی نرم گوشہ ملا نہ انصاف ملا..
    تو پھر کیوں یہ تنظیمیں بنائی گئیں؟؟؟
    کیوں انہیں عالمی امن کی
    انسانی حقوق کی تنظیم کا نام دیا گیا ؟؟
    اگر یہ پورے عالم کے لئے ہیں تو پھر مسلمانوں کے ساتھ انکا ناروا سلوک کیوں؟؟
    پوری انسانیت کے حقوق کی تنظیمیں ہیں تو پھر مسلمان کو کچل کر انسانیت کی دھجیاں کیوں اُڑائی جا رہی ہیں آخر؟؟
    مسلمانوں کا سانس تک روک دینا انہیں کیوں دکھائی نہیں دیتا؟؟
    معصوم بچوں کی آہیں
    مظلوم بہنوں بیٹیوں کی سسکیاں
    بوڑھے ضعیفوں کی چیخیں انہیں کیوں سنائی نہیں دیتیں
    آخر کیوں؟؟
    عالمی بین الاقوامی حقوق کا راگ الاپنے والو کہہ کیوں نہیں دیتے یہ دن
    یہ جھوٹے کھوکھلے نعرے اور تنظیمیں محض مغرب کے لئے ہیں
    مسلمانوں کے لئے ہرگز نہیں ہیں”

  • تاریخ نے آج پھر فاتح بیت القدس صلاح الدین ایوبی کے معرکہ کی یاد تازہ کردی ، 2- اکتوبر 1187ء کو بیت المقدس فتح کیا

    تاریخ نے آج پھر فاتح بیت القدس صلاح الدین ایوبی کے معرکہ کی یاد تازہ کردی ، 2- اکتوبر 1187ء کو بیت المقدس فتح کیا

    لاہور : تاریخ اپنےآپ کو دہراتی ہے ، اور ہمیشہ تاریخ شخصیات اور کرداروں سے بنتی ہے جیسے بیت المقدس 583ھ بمطابق 1187ء میں ایوبی سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں صلیبیوں کی شکست کے ساتھ فتح ہوا۔ صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین میں کامیابی حاصل کرنے کے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا اور 20 ستمبر سے 2 اکتوبر تک جاری محاصرے کے بعد شہر فتح کرلیا۔ فتح بیت المقدس کے بعد سلطان نے کسی قسم کا خون خرابا نہیں کیا جس کا مظاہرہ پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر صلیبیوں نے کیا تھا۔

    میں ہمیشہ شادی کے خیال سے بھاگتا تھا ، دوبول میں‌ مقبول ” حرا” ایک آئینہ ہے ، کس اداکار نے راز کی باتیں افشاں کردیں‌ ؟

    تاریخ حقائق کے مطابق 4 جولائی 1187ء کو جنگ حطین میں زبردست شکست کے بعد عیسائیوں کی مملکت یروشلم کمزور پڑگئی اور کئی اہم شخصیات صلاح الدین کی قید میں چلی گئی۔ ستمبر کے وسط میں صلاح الدین نے عکہ، نابلوس، یافہ، سیدون، بیروت اور دیگر شہر فتح کرلئے۔ جنگ کے شکست خوردہ عیسائی صور پہنچ گئے۔ جہاں حطین کے معرکے کے شکست خوردہ کئی عیسائی جنگجو بھی تھے جن میں بیلین ابیلنی بھی شامل تھا اس نے اپنے اہل خانہ کو واپس لانے کے لئے صلاح الدین سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے بیت المقدس جانے کی اجازت دے۔ صلاح الدین نے اس شرط پر اجازت دی کہ وہ ایک دن سے زیادہ قیام نہیں کرے گا لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو ملکہ سبلیا نے اس سے شہر کا دفاع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فوج کی کمان سنبھالنے کی ہدایت کی۔ بیلین نے ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے جنگ کی تیاریاں شروع کردیں اور شہر میں اشیائے خورد و نوش اور اسلحے کا ذخیرہ جمع کرنا شروع کردیا۔

     

    صلاح الدین کی زیر قیادت شام و مصر کی افواج صور کے ناکام محاصرے کے بعد 20 ستمبر 1187ء کو بیت المقدس پہنچ گئیں۔صلاح الدین اور بیلین کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ صلاح الدین بغیر خون خرابے کے شہر حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن شہر کے عیسائیوں نے بغیر لڑے مقدس شہر چھوڑنے سے انکار کردیا اور دھمکی دی کہ وہ پرامن طور پر شہر دشمن کے حوالے کرنے پر اسے تباہ کرنے اور خود مرجانے کو ترجیح دیں گے۔

    مذاکرات میں ناکامی پر صلاح الدین نے شہر کا محاصرہ کرلیا۔ صلاح الدین کی افواج برج داؤد اور باب دمشق کے سامنے کھڑی ہوگئی اور تیر اندازوں نے حملے کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ منجنیقوں کے ذریعے شہر پر سنگ باری کی گئی۔ صلاح الدین کی افواج نے کئی مرتبہ دیواریں توڑنے کی کوشش کی لیکن عیسائیوں نے اسے ناکام بنادیا۔ 6 روزہ محاصرے کے بعد صلاح الدین نے افواج کو شہر کے دوسرے حصے کی جانب منتقل کردیا اور حملہ جبل زیتون کی جانب سے کیا جانے لگا۔ 29 ستمبر کو مسلم افواج شہر کی فصیل کا ایک حصہ گرانے میں کامیاب ہوگئیں تاہم وہ فوری طور پر شہر میں داخل نہ ہوئیں اور دشمن کی عسکری قوت کو ختم کرتی رہیں۔

    “یااللہ میری توبہ ! خطرناک گٹکے کے 3 لاکھ 62 ہزار 106 پیکٹس پکڑلیے گئے ، فوڈ اتھارٹی کی کامیاب کاروائی” لاک ہے

    یااللہ میری توبہ ! خطرناک گٹکے کے 3 لاکھ 62 ہزار 106 پیکٹس پکڑلیے گئے ، فوڈ اتھارٹی کی کامیاب کاروائی

    ستمبر کے اختتام پر بیلین نے صلاح الدین سے مذاکرات کے دوران ہتھیار ڈال دیئے۔ صلاح الدین نے مردوں کے لئے 20، عورتوں کے لئے 10 اور بچوں کے لئے 5 اشرفیوں کا فدیہ طلب کیا اور جو لوگ فدیہ نہیں دے سکے ان کا فدیہ سلطان صلاح الدین نے خود ادا کیا یا انہیں غلام بنالیا گیا۔ بعد ازاں سلطان نے فدیہ کی رقم مزید کم کرکے مردوں کے لئے 10، عورتوں کے لئے 5 اور بچوں کے لئے صرف ایک اشرفی مقرر کردی۔ بیلین نے اس پر بھی اعتراض کیا کہ یہ بھی بہت زیادہ ہے جس پر سلطان نے صرف 30 ہزار اشرفیوں کے بدلے تمام عیسائیوں کو چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

    دو اکتوبر کو بیلین نے برج داؤد کی چابیاں سلطان کے حوالے کردیں۔ اس موقع پر اعلان کیاگیا کہ تمام عیسائیوں کو فدیہ کی ادائیگی کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا جارہا ہے جس میں 50 دن تک کی توسیع کی گئی۔صلاح الدین ایک رعایا پرور اور رحم دل بادشاہ تھا اس نے غلام بنائے گئے عیسائیوں کا فدیہ خود ادا کرکے انہیں رہا کردیا۔

    “بریکنگ : پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ، بزدار حکومت اقدامات کی بجائے اختیارات استعمال کرنے لگی” لاک ہے

    بریکنگ : پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ، بزدار حکومت اقدامات کی بجائے اختیارات استعمال کرنے لگی

    فتح بیت المقدس کے بعد صلاح الدین کا سب سے بڑا کارنامہ یہی تھا کہ اس نے عیسائیوں سے مسلمانوں کے اس قتل عام کا بدلہ نہیں لیا جو انہوں نے 1099ء میں بیت المقدس کے فتح کے بعد کیا تھا بلکہ اس نے انہیں حد درجہ رعایت دی۔
    فتح کے بعد سلطان نے مسجد اقصی کو عرق گلاب سے دھلوایا۔

     

  • مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان  :علی چاند

    مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان :علی چاند

    امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں امریکیوں اور ہندوستانیوں سے بھرے سٹیڈیم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک دوسرے کو تھپکی دیتے ہوٸے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ دونوں مل کر دنیا سے اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ۔ یہ بات امریکی صدر نے کہی ہے کہ
    ” ہم بےقصور شہریوں کی انتہا پسند اسلامی دہشت گردی کے خطرہ سے حفاظت کے لئے پرعزم ہیں ”

    کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنا عقل و شعور اور سمجھ ہوتی کہ کافر ، عیساٸی اور یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنی غیرت ہوتی کہ وہ اپنے مظلوم مسلمان بہن بھاٸیوں کی جہاد کے ساتھ مدد کرتے ہمارے حکمرانوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ صرف معیشیت کا ہی رونا روتے رہتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ جنگیں ہار جیت اور معشیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑی جاتی ہیں ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت بہتر بنانے کے چکروں اپنا وقار مٹی میں ملا دیا ہے ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت کی خاطر ان ہندوٶں کو اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف مندر تعمیر کر کے دٸیے ہیں بلکہ ان مندروں کا افتتاح بھی اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں ۔ یہی مسلمان حکمران ان یہود و ہنود کو نہ صرف مندر تعمیر کر کے دے رہے ہیں بلکہ انہیں اپنے اعلی سول اعزازات سے بھی نواز رہے ہیں ۔ کسی کو پچاس لاکھ ڈالر مالیت کا سونے کا ہار پہنایا جارہا ہے اور کسی کو سول اعزاز دیا جارہا ہے ۔ اور بدلے میں کیا مل رہا ہے ان مسلمان حکمرانوں کو ۔ خود ہم پاکستانی حکمران اپنی نمک جیسی نعمت کو انہی یہود و ہنود کو کوڑیوں کے دام دے رہے ہیں ۔ بدلے میں مسلمانوں کو کیا مل رہا ہے سود در سود قرض تلے ساری قوم جھکڑی جارہی ہے ۔

    کشمیر ، فلسطین ، عراق ، برما ، وہ کون سا علاقہ ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں ۔ ؟ امریکہ ہو یا بھارت جیسا ملک مسلمانوں کو کہاں سکون لینے دے رہے ہیں ۔ اور مسلمان شہید ہورہے ہیں ، بچے یتیم ہورہے ہیں ، بہنوں بیٹیوں کے ساتھ جو ہو رہا اس پر تو اب تک شاید آسمان بھی پھٹ جاتا لیکن ان مسلمان بزدل حکمرانوں نے غیرت مند مسلمانوں کی بھی غیرت ڈالر اور معیشیت کے بدلے گروی رکھ دی ۔ ہر جگہ مسلمان اپنی عزتیں لٹا رہے ہیں ، جانیں دے رہے ہیں پھر بھی ملا کیا اسلامی دہشت گردی کا طعنہ ؟ بزدل حکمرانوں نے جتنا امن امن کا راگ الاپا اتنا ہی ہم دہشت گرد ٹھہرے ۔ وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمرانوں کی بزدلی اور پھر اس بزدلی کو امن کا نام دینا ۔ محمد بن قاسم صرف ایک مسلمان بچی کی فریاد پر پورا سندھ ہلا گے ۔ نا معیشیت کا سوچا نہ امن کا سوچا ۔ ہے کسی کی جرأت کے محمد بن قاسم کو دہشت گرد لکھے ؟ محمود غزنوی جس نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے سو منات کا مندر توڑا ، سترہ حملے کرتے وقت محمود غزنوی نے معیشیت کا سوچا ؟ سو منات کا مندر توڑتے وقت محمود غزنوی نے سوچا کہ دنیا مجھے دہشت گردکہے گی ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان بزدلی کو امن کا نام نہیں دیتے بلکہ غیرت مند ہوتے ہیں ۔ہے کسی کی جرأت کے محمود غزنوی کو دہشت گرد لکھے ؟ ٹیپو سلطان نے جنگ کی جنگ ہار گے لیکن کسی بزدل یہود وہنود کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے ۔ ہے کسی کی جرأت کہ ٹیپو سلطان کو ہارا ہوا لکھے ۔ تاریخ ہارا ہوا اور دہشت گرد صرف اسی کو لکھتی ہے جو بزدلی کو امن کا نام دے کر گھٹنے ٹیک لے ۔

    غیرت مندوں کو ہارا ہوا اور دہشت گرد لکھنے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی ۔ طارق بن زیاد ، صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، ٹیپو سلطان ان سب کو کیا اسلام امن کا درس نہیں دیتا تھا ؟ کیا اسلام امن کا درس صرف آج کے ڈرپوک بزدل اور ڈالر کے غلام مسلمان حکمرانوں کو دیتا ہے ؟ مسلمان دہشت گرد نہیں ۔ نہ ہی بزدل ہوتا ہے ۔ مسلمان صرف اور صرف غیرت مند ہوتا ہے ۔

    مودی اور ٹرمپ کے بیان کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حکمران غیرت کی گولی کھاٸیں اور ایسے غیرت اور جرأت مندانہ خطاب کریں کہ ان نمک حرام یہود و ہنود کی نیندیں حرام ہو جاٸیں ۔ اور انہیں نہ صرف مسلم مقبوضہ علاقے خالی کرنے پڑیں بلکہ اپنی معیشیت کی بھی فکر لاحق ہوجاٸے ۔ لیکن ایسا صرف تبھی ممکن ہوگا جب مسلمان حکمران غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ ابھی ساری دنیا کی نظریں وزیر اعظم عمران خاں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پر لگی ہوٸی ہیں ۔ عرب حکمران تو ان یہود و ہنود کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بن کر انہیں اعلی اعزازات سے نواز رہے ہیں وہ کیا جواب دیں گے اور کیا غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ یہ ہی وقت ہے جب عمران خان پوری امت کا دل جیت بھی سکتے ہیں اور پوری امت کے دل سے اتر بھی سکتے ہیں ۔ یہی وہ وقت ہے جب عمران خاں یا تو ہیرو بن جاٸے گا یا پھر زیرو ۔

    اللہ پاک مسلمان حکمرانوں کے دل سے یہود و ہنود اور ڈالر کی محبت نکال کر انہیں جرأت مندی اور غیرت کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن ابڑو بیٹا ہمیں معاف کرنا ہم نے کبھی اس پاک وطن سے بھٹو کو کبھی مرنے ہی نہیں دیا ۔ ہم نے تو آپ جیسے غریبوں ، بے بس لاچاروں کے ٹیکس کا پیسہ وہ ٹیکس جو آپ لوگ ایک روپے کی ٹافی ، پانچ روپے کی چاکلیٹ پر دیتے ہو وہ سارے کا سارا پیسہ بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دیا ہے ۔ ہم نے ساری محنت بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دی ہے ۔ بیٹا معاف کرنا ہم نے تو تمہارے ایک روپے کی ٹافی سے بھی ٹیکس لیا اور پھر وہ سارا ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتے پالنے پر لگا دیا ۔ میر حسن ابڑو بیٹا اس بات کا قصور وار کون ہے ؟ وہ لوگ جو آج بھی دو دو سو لے کر جٸیے بھٹو کا نعرہ لگا رہے ہیں یا وہ لوگ قصور وار ہیں جن کا آج بھی کہنا ہے کہ اگر کبھی سنو کے پی پی پی کا صرف ایک ہی ووٹر ہے تو یقین کر لینا کہ وہ میں ہی ہوں ۔

    سندھ کا میر حسن ابڑو جسے کتے نے کاٹا اور کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملنے پر وہ کمشنر آفس کے سامنے سسک سسک کر ماں کی گود میں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گیا ۔ دکھ صرف میر حسن ابڑو کی موت کا نہیں دکھ تو اس بات کا ہے کہ میر حسن کی سسکیاں ، اس کی ماں کی آہیں ، اس کی والدہ کی تڑپ بھی بے ضمیر اور بے شرم حکمرانوں کو نہیں جگا سکی ۔ میر حسن جیسے بچے تو موت کے منہ میں چلتے جارہے ہیں ، تھر میں ہزاروں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں پہنچ گٸے لیکن بے ضمیر اور مردہ دل والوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ بھٹو کل بھی زندہ تھا ، بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔ بھٹو کے نواسے نواسیوں کو ان کے کتوں کے ساتھ دیکھ کر ، ان کتوں کے ساتھ ان کا پیار محبت دیکھ کر بھی کیا سندھ کے لوگوں کو کبھی خیال نہیں آیا کہ لوگ یہی سمجھ لیں کہ ان لوگوں کے نزدیک اہم کون ہے ۔ اپنے ایک ایک روپے کے ٹیکس ادا کرتے ہوٸے کبھی خیال نہیں آیا کہ یہ ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتوں پر تو خرچ ہو گا لیکن سندھ کی عوام پر حرام سمجھا جاٸے گا ۔

    میر حسن ابڑو کی سسکیاں بھی اگر ہم لوگوں کو ہمارے حکمرانوں کی اوقات دکھا کر ہمارے مردہ ضمیروں کو نہ جگا سکیں تو سمجھ جانا کہ کل کو ہمارا اپنا خون ، ہمارا اپنا لخت جگر ، ہماری گود میں پلنے والا میر حسن بھی ایسی اذیت سے گزر سکتا ہے ۔ آج اگر میر حسن کی آہیں ہمیں نہ جگا پاٸیں تو سمجھ لینا کہ ہم نے بھی اپنی اولاد کو اذیت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ میر حسن کی موت یہ پیغام دے کر جا رہی ہے کہ آٶ پکڑو ان مردہ ضمیر حکمرانوں کے گریبان اور لو ان سے اپنے بچوں کی ایک ایک روپے کی ٹافی پر دٸیے گے ٹیکس کا حساب ، لو ان سے اپنے بچوں کی پانچ پانچ روپے والی چاکلیٹ کے ٹیکس کا حساب ۔ اگر آج نہیں بولو گے تو کل بھگتو گے ۔ میر حسن کی سکیاں بتا رہی ہیں کہ ہمیں بھٹو کو مارنا ہوگا ورنہ ہماری نسلیں اسی طرح تڑپ تڑپ کر جان دیں گی اور حکمرانوں کے کتے عیاشیاں کریں گے ۔ میر حسن ابڑو کی تڑپ بتا رہی ہے کہ آنکھیں کھولو اس سے پہلے کہ تمہارے بچوں کی آنکھیں بند ہوجاٸیں ۔

    کیا قیامت گزر رہی ہوگی اس ماں کے دل پر جس کا بھٹو زندہ تھا مگر اس کا پیارا بیٹا اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے رہا تھا اور بے بس ماں اپنے لخت جگر کے لیے کچھ کر نہیں پا رہی تھی ۔ میر حسن کی ماں بھی سوچ رہی ہوگی کاش بھٹو اس کے سامنے ہوتا تو اسے خود اپنے ہاتھوں سے مار دیتی تاکہ اس کے جگر کا ٹکڑا آج ایسی بے بسی کی موت نہ مرتا ۔ ماں بھی سوچ رہی ہوگی کہ کاش بھٹو کے نواسے نواسیاں اس کے سامنے ہوتے یہ بھی ان کو ایسے تڑپاتی ، یہ بھی ان کو ایسی اذیت سے گزارتی تاکہ انہیں بھی پتہ ہوتا کہ انہیں ووٹ ان کے پالے ہوٸے کتے نہیں بلکہ سندھ کے غریب عوام دیتے ہیں ۔ عوام خوراک کی کمی سے مرتی ہے تو مرے ، عوام ادویات نہ ہونے کی وجہ سے مرتی ہے تو مرے لیکن سندھی عوام کے ووٹ سے جیتنے والی جماعت کا ایک ہی منشور ، ایک ہی مقصد ایک ہی نعرہ ہے کہ بھٹو زندہ ہے ۔ خدا جانے کب بھٹو مرے گا اور سندھ کی عوام کی طرف توجہ دی جاٸے ۔

    اپنے ووٹ کا جسے پاکستانی عوام محض ایک پرچی سمجھتی ہے اس کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں ۔ تاکہ ہم سب کے میر حسن کبھی ہماری گودوں میں اس طرح دم نہ توڑیں ۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے کبھی سوچا ہے کہ جسے ووٹ دے رہے ہو اس کا منشور کیا ہے ، اس کے بچے پاکستان میں ہیں یا کسی انگریز ملک میں کتوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔

    نہیں سوچا تو آٸیندہ ضرور سوچنا کیونکہ کتوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے کتوں کا تو خیال رکھیں گے لیکن آپ کا نہیں ۔

    اللہ پاک ہمارے پیارے پاکستان پر مسلط ایسے لوگوں کو نیست و نابود کرے اور پاکستان کی عوام کو کوٸی ایک ہمدرد عطا فرما دے جو ان کے دکھ درد کا ازالہ کر سکے ۔ آمین

  • اقوام متحدہ کی مکاریاں اور دہرا معیار !!! تحریر عبدالرحمن مبشر

    اقوام متحدہ کی مکاریاں اور دہرا معیار !!! تحریر عبدالرحمن مبشر

    آج کا وقت اپنے آپ کو دوہرا رہا ہے جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا ایک بہت بڑی تباہی سے گزر کر امن تلاش کرنے میں مصروف عمل ہوئی۔ دنیا میں طے پانے لگا کہ اب جنگوں کی بجاے امن کے راستے کو اختیار کیا جائے اقوام متحدہ کا ادارہ معرض وجود میں آیا۔ تمام ممالک کو شامل کیا جانے لگا۔26 اکتوبر 1945 میں قائم ہونے والے یو این او کے وہ کردار جو اپنے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آرٹیکل 2 کے تحت تمام ممالک کو برابری کی حیثیت حا صل ہو گی۔ تمام دنیا کے ممالک کو جنگوں سے محفوظ کیا جائے گا۔یو این او کی مکاری اور ظلم پر مبنی ضابطے آج فلسطین پون صدی کا قصہ بن چکا نسلوں کی نسلیں گزر گئی ان کا کردار صفررہا۔ اس موقع پر یو این کاکردار اسرئیل کی لونڈی کا ہے۔نوے کی دہا ئی میں امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا اس کے بعد دوبارہ بیس سو دس کی دہائی میں دوسرا حملہ کر دیا یو این کی نیٹو فورسزنے پورا کردار ادا کیا اور امریکہ کے شانہ بشانہ لڑے ۔روس نے 1979 میں افعانستان میں فو جیں داخل کر دیں یو این او نے گونگے شیطان کا کردار ادا کیا۔ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی پچھلے ستر برس سے جاری ہے موجودہ دور کے جدید میڈیا نے اس یو این کا پول کھول دیا کہ لاکھوں انسان قتل کر دیے گئے مگریو این اوتماشائی بنا رہا، شام اجڑ گیا مگر اس یواین کی ایک دن بھی غیرتنہیں جاگی، بوسنیا میں لاکھوں افراد کا اجتماعی قتل عام کر کے انسانوں کو زندہ اس لیے گاڑ دیا گیا کہ کہ وہ مسلمان تھے 1527 عیسوی میں بننے والی بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 ء میں منہدم کر دیا گیا پورے ہند وستان میں فسادات شروع ہو گئے صرف گجرات میں 28 ہزرا مسلمانوں کابے دردی کے ساتھ قتل عام کیا گیا آج یو این ایسے شحص کو گجرات کا جو قصائی نازی ہٹلر تھا اور جو قتل عام مین پیش پیش تھا اسے وزیر اعظم تسلیم کرلیتی ہے۔ یو این منہ چڑہاتی رہ گئی 84 ء میں آپریشن بلیو سٹار کیا گیا معصوم اور نہتے لوگوں کو سرعام ٹینکوں کے گولوں کا نشانہ بنایا گیا یو این او یہاں مائی میسنی کا کردار ادا کرتی رہی، عراق میں امریکی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد 10 لاکھ ہے فلسطین میں اسرئیل کی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والے مسلمانوں تعداد 5 لاکھ ہے، افغانستان میں امریکی اور روسی دہشت گردوں کے ہا تھوں مرنے والے مسلمانوں کی تعداد 21 لاکھ ہے،شام میں ایک اندازے کیمطابق 2 لاکھ پچاس ہزار افرد مارے گئے 80 لاکھ لوگ مہاجر ہیں کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔کشمیر میں 47ء سے اب تک 4 لاکھ لوگ دہشت گردی کیبھینٹ چڑھ گئے۔ اب تک پچھلے 35 سالوں میں چالیس لاکھ مسلمان شہید کردیے گئے اور اقوم متحدہ کا کردار اور فیصلہ کیا مسلمان دہشت گردہیں دنیا کے مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا اوراس دھوکے سے باہر نکل کر اپنے مسائل کے کے لیے مل بیٹھنا ہو گا اپنی علیحدہ یو این او بنانا ہوگی۔ یہ والی یواین او دنیا کے عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے ہے انہی کے مسائل حل کرتی ہے۔ مشرقی تیمور ہو جنوبی سوڈان آج کشمیر میں چالیسواں دن ہے کرفیوکا یہ کرفیوں عیسائیوں کے کسی ملک میں لگا ہوتا آج یو این کی نیندیں حرام ہوتیں۔ آج کوئی ایسا لمحہ نہیں کہ وزیراعظم عمران خان او ر انکی ٹیم ہمہ وقت ۰۴دن یو این کو صدا دے رہی ہے مگر طاقتوروں کی لونڈی کان دھرنے کے لیے تیارہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے کمزور لوگوں کو بڑا فیصلہ کرناہوگا اور کمزوروں کومل کر ایک بڑی قوت بننا ہوگا جو عالمی ظالم سامراجی قوتوں سے ٹکرا کر اسے پاش پاش کردے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مشورہ دیتا ہوں کہ اگر27 ستمبر سے پہلے پہلے کشمیر میں کرفیو ہٹا کر ان کے بنیادی حقوق بحال نہیں کیے جاتے تو یو این او کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کریں۔جب اس یو این او نے مسئلہ حل ہی نہیں کرنا وہاں جا کر صرف تقریر کر کے آجانا ہے تو بائیکاٹ بہتر ین پیغام ہو گا کر کے دیکھ لو جن کے پیچھے آپ بھاگ رہے ہیں یہ چل کر آپ کے پاس آئیں گے۔