Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    عالمی ماہرین عسکریات و جنگ اور سیاست کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں دو طاقتیں یعنی امریکہ اور ایران کا مبینہ ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ پھیل کر جی سی سی ممالک کے دروازے تک جائے گا۔

    بیشک یہ جنگ یا ٹکراؤ ہو یا نہ ہو پر ایک بات روز روشن کی طرح ان دونوں ممالک کے تمام سابقہ بیانات, اقدامات اور اشتراکات کے بعد واضح ہے کہ ٹکرانے والی دونوں ریاستوں کے اس ٹکراؤ کے پھیلنے سے ان کے دیرینہ اور مشترکہ مفادات مکمل ہونگے جیسے کہ

    —چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور اقتصادی و تجارتی گرفت کمزور ہوگی۔

    —سی پیک منصوبہ سبوتاژ ہوگا۔

    —پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی و اقتصادی اور دفاعی ترجیحات و توقعات بند گلی میں رک جائیں گی۔

    —خطے میں عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوگی جو گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل کو سہل بنائے گی۔

    —جنگ پھیلے گی تو یقیناً جنگ ذدہ ممالک کی عوام بھوک, افلاس اور تباہی کی شکار ہوگی جہاں این جی اوز کی بھرمار کرکے مائنڈ کنٹرول گیم کا مرحلہ وار آغاز کیا جائے گا۔

    —خطے کے غیور اور طاقتور ممالک کی غیرت اور طاقت بالائے طاق رکھ دی جائے گی یا گروی۔

    —جنگ پھیلنے کے بعد بہت ممکن ہےکہ ٹکرانے والے دونوں ممالک حریف سے حلیف بن جائیں اعلانیہ ان ممالک کے خلاف جہاں ان کی شروع کی جنگ پھیل کر پہنچے گی اور جن کی تباہی سے ان کے مفادات کی تکمیل ممکن ہوگی۔

    —ہر دو صورتوں یعنی جنگ یا جنگی ڈرامے میں یمن, چین اور پاکستان بہرحال نشانے پر ہیں, تھے اور رہیں گے کہ اتنا تام جھام فقط آپس میں ایسی جنگ لڑنے کے لیئے نہیں کیا گیا جس میں کوئی فائدہ نہیں۔

    اب بھی کسی کو شک ہے کہ یہ عالمی مینوپولیوشن نہیں ہورہی آجکل ایران امریکہ تنازعے کی آڑ میں تو وہ پوگو دیکھے۔

  • ماہ رمضان کے تقاضے، تحریر: پروفیسر زید حارث

    ماہ رمضان کے تقاضے، تحریر: پروفیسر زید حارث

    رمضان مسلمانوں کی جسمانی و روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مبارک اور مقدس مہینے کا ایک اہم تربیتی پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے مخلص کرے اور یہ اخلاص اس کے دل میں موجود ہو۔

    محترم قارئین: ہم درج ذیل سطور میں ان احادیث کا جائزہ لیتے ہیں جو اس پہلو کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے ساتھ کوئی جھگڑا کرے تو کہہ دو کہ "میں روزے سے ہوں "۔ ایک مسلمان روزے کی حالت میں اپنے آپ کو اس قدر متواضع بنا لے اور دوسرے انسان کے حق میں ایسا نرم ہو۔

    اور حدیث مبارکہ میں یہ ذکر نہیں کہ کوئی مسلمان گالی دے بلکہ فرمایا; فإن شتمه أحد ” اگر اس کو کوئی بھی گالی دے تو وہ کہے : میں روزہ دار ہوں۔ بلکہ بعض روایات میں فرمایا کہ ” اگر اس سے کوئی لڑائی بھی کرے یعنی معاشرے میں رہنے والا ہر فرد صرف اس کی برائی اور زیادتی سے محفوظ ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ زیادتی کرنے والے کو بھی جواب مسکراہٹ میں ملے گا۔ایک انسانی معاشرے کو ایسا شاندار حسن فراہم کرنے والی عبادت روزہ ہے کہ روزہ رکھنے والا پورا مہینہ اس بات پہ اپنی تربیت کرے کہ زیادتی گالی کا جواب پتھر سے نہیں بلکہ اخلاق کی اعلی اقدار کا مظاہرہ کرکے دیا جائے۔دنیا میں اس کردار سے بڑھ کر اعلی کردار کیا ہو سکتا ہے؟ لیکن افسوس کہ زندگی کے کئی رمضان گزارنے کے باوجود ہم اس کردار سے عاری اور ہمارا معاشرہ ان اقدار سے محروم نظر آتا ہے۔ دوسری حدیث میں تو روزہ ایک مسلمان کی زندگی کو صداقت و اخلاص کے اعلی معیار پہ لے جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة أن يدع طعامه و شرابه ".

    روزہ ایک مسلمان کی زندگی کے قول و فعل میں صداقت و سچائی پیدا کر دیتا ہے اور اگر ایک روزے دار اپنے اقوال یا اعمال میں سچائی کا رنگ پیدا نہیں کرتا تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔کیا ہم اپنے اقوال میں ہمیشہ سچ بولتے ہیں؟

    ہم تکلفا کہہ دیتے ہیں کہ نہیں جی مجھے بھوک نہیں میں نے کھانا کھا لیا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہم مشورہ دینے میں بھی بہت زیادہ جھوٹ کا استعمال کر جاتے ہیں۔ بالخصوص دفاتر میں یا آفس میں افسر اور ذمہ دار کو مشورہ دینے کا وقت ہو تو ہم اپنا قیمتی اور خیرخواہی کا مشورہ نہیں بلکہ اس کے مزاج اور اس کی پسند کا خیال کرتے ہوئے اس کی رائے کا موافقت کرتے رہتے ہیں حالانکہ ہم جانتے بوجھتے ہوئے ایسا کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح عدالتوں کے دروازے اور کچہریوں کے ٹیبل گواہوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ہماری گواہی کا اثر کیا ہو گا۔ ہمیں صرف پیسہ کمانے سے غرض ہے۔

    اس طرح کی کئی ایک مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ ہمیں رمضان کی ابتدا ہی سے اپنے نفس کی تربیت پہ محنت کرنا ہو گی تاکہ رمضان کے آخر میں عبادات میں واضح تبدیلی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد میں بھی تبدیلی کا واضح اثر ہمارے تعاملات اور سلوک میں موجود ہو۔ رمضان کا مقدس مہینہ حقوق العباد کی ادائیگی پہ ترغیب دیتے ہوئے ہمیں اس بات کا بھی درس دیتا ہے کہ ہم اپنے ارد گرد غرباء اور فقراء مساکین کا مالی تعاون کریں ۔صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں تیز آندھی سے بھی زیادہ رفتار سے سخاوت کرتے تھے۔

    تو اس سخاوت سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ بہت زیادہ مال ودولت کی ملکیت کے بعد ہی اس پہ عمل ہو سکتا ہے۔

    بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کی حالت تو واضح ہے کہ بہت زیادہ وافر غذا یا مال میسر نہیں تھا ۔ اس کے باوجود جو کچھ موجود ہو اس میں سے اللہ کے رستے میں دیتے رہنا اور اپنے مال کو پاک کرنا اور اللہ کے بندوں کی پریشانی کو خوشی اور مسرت میں بدل دینا رمضان کا شعار ہے۔اسی طرح روزے دار کو افطاری کروانا بھی ایک روزے دار کے اجر کی مقدار کے برابر ہے۔

    اس میں بھی اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ ان لوگوں کو افطاری کروائی جائے جو مستحق ہیں۔ اس طرح رمضان کے مقدس مہینے میں ہم لوگوں کی بھوک دور کر کے اس معاشرے میں عدل اور اخوت کا ایک خوبصورت منظر پیش کر سکتے ہیں ۔ یہ مہینہ حقوق اللہ میں مسابقت اور حقوق العباد کی ادائیگی میں اپنی کمی و کوتاہی کو دور کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔

  • ہم کیا کر رہے ہیں؟؟؟ بنت مہر

    ہم کیا کر رہے ہیں؟؟؟ بنت مہر

    حکایات بوستان سعدی میں شیخ سعدی ؒ بیان کرتے ہیں کہ سلطان محمود غزنوی کےاکثر درباری اس بات پر بہت تعجب کا اظہار کرتے تھے کہ وہ اپنے غلام ایاز پر اس قدر فریفتہ ہے انہیں ایاز میں ایسی کوئی خوبی نظر نہ آتی تھی جو اسے دوسروں سے ممتاز کر کے سلطان کی سلطان کی توجہ کا مستحق بناتی ہو سلطان کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو اس نے فیصلہ کیا کہ مناسب موقع پر اس اعتراض کا جواب دوں گا اور اتفاق سے جلد ہی ایسا موقع پیدا ہو گیا ایک دن دوران سفر لدے ہوئے ایک اونٹ کا پاؤں پھسلا تو وہ زمین پر گر گیا اور اس پر لدا ہوا سارا سامان بکھر گیا سلطان نے حکم دیا کہ اس بکھرے ہوئے سامان میں سے جو شخص جو چیز اٹھائے وہ اسی کی ہو جائے گی یہ حکم دے کر سلطان آگے بڑھ گیا اور اس کے تمام ہمراہی سامان لوٹنے میں مصروف ہو گئے بس ایک ایاز اس کے ساتھ رہا ۔محمود نے پوچھا ایاز تم نے بھی کچھ حاصل کیا ؟ اس نے ادب سے جواب دیا میں تو حضور کے جلو میں تھا اب سلطان نے حاسد درباریوں کو بتایا کہ ایاز کی یہی خوبی ہے جس نے اسے ہماری نظروں میں معتبر بنایا ہے۔حضرت سعدی یہ حکایت بیان کرنے کے بعد توجہ دلاتے ہیں کہ انسان کو اسی انداز سے اللہ سے اپنا رشتہ استوار کرنا چاہیے کہ اس کے سوا کسی کا خیال دل میں نہ رہے
    کچھ یہی مثال صادق آتی ہے اسلام کی ان شاخوں پہ جنہیں ہم فرقوں کا نام دیکر اپنی انا اور نفرت کی بھینٹ چڑھا کر فرقہ وارانہ فسادات پھیلاتے ہیں اور اسلام کے اصل مقصد سے دور ہوتے جارہے ہیں کوئی فرقہ عاشق رسول کہلاتا ہے تو کوئی توحیدی فرقہ کے نام سے مشہور ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عشق رسولﷺ سے سرشار دل میں رسولﷺ کے خیال کے علاوہ کوئی خیال دل میں کیسے سما سکتا ہے؟ یااہل توحید اللہ پاک کی وحدانیت سے ہٹ کر فرقہ واریت پہ کیونکر لب کشائی کر سکتا ہے اللہ اور نبیﷺ سے رشتہ رکھنے والوں کے دل میں اس کے علاوہ کوئی خیال نہ آئے یہی تو حقیقی محبت ہے لیکن صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے ہم ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں برداشت اور احترام کے فقدان کے باعث ایک دوسرے پر کافر کافر کے فقرے کسے جاتے ہیں ایک دوسرے کے مسلکی عقائد کا مذاق بنایا جاتا ہے اور اس کے لیے گالم گلوچ سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا یہاں تک کہ مسجد کے منبر و محراب پر بیٹھ کر بھی محبتیں بانٹنے کی بجائے فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دیا جاتا ہےحالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اتفاق و یگانگت سے رہنا ہی اسلام کی خوبصورتی ہے جیسا کہ سورۃ الحجرات آیت نمبر 10 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے
    "یقینا تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں”
    جب کسی ملک پر بیرونی طاقتیں حملہ آور ہوتی ہیں تو پورا ملک متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرتا ہے لیکن جب اس ملک کے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیےنفرت و بیزاری کے جذبات پروان چڑھنے لگیں تو پھر کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی اسی طرح مسلمانوں کے فرقہ وارانہ فسادات کا اسلام دشمن عناصر نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور فرقہ وارانہ فسادات کی جو چنگاری کچھ شدت پسندوں نے لگائی تھی اسلام دشمن عناصر نے اس چنگاری کو بھڑکا کر شعلے کی شکل دے دی ایک دوسرے پر کافر کافر کی صدائیں بلند کرتے ہم لوگ پیارے آقاﷺ کی گئی تلقین کو بھول گئے جو خطبہ حجتہ الوادع کے موقع پر ان الفاظ میں کی گئی
    "لوگو تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو”
    فرقہ واریت کی آڑ میں دوسروں کی عزتیں اچھالتے ہوئے ہم اللہ اور اس کے نبی ﷺ کی تعلیمات کو فراموش کر گئے ایک بزرگ سے فرقہ واریت کی حقیقت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ فرقوں کے ذریعےاللہ پاک نے اپنے محبو بﷺ کی سنتوں کو زندہ رکھنے کا سبب بنایا ہوا ہے اور غور کیا جائے تو ایسا ہی ہے کہ ہر فرقہ کسی ایک سنت پر سختی سے کاربند ہے اور یہی فرقوں کی اصل خوبصورتی ہے جسے ہم اپنے رویوں اور نفرتوں کے زہر سے فسادات کی بدصورتی میں تبدیل کر چکے ہیں کیا کبھی کوئی مرد آہن آئے گا جو ہمیں نفرتوں کی اس دلدل سے نکال کراپنے عقائد دل میں رکھتے ہوئے دوسروں کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے اتفاق و محبت سے جینا سکھائے گا یا ہم یونہی اسلام کی خوبصورتی کو مسخ کرتے رہیں گے؟

    اسے تم اس طرح پوجو اسے تم اس طرح چاہو
    وہی منزل وہی مقصد وہی مطلوب بن جائے
    نہ مانگو اس سے کچھ اس کے سوا شرط وفا یہ ہے
    وہ محبوب حقیقی اس طرح محبوب بن جائے

  • کیا خوشی ہے کہ رمضان آگیا ہے،وہ رمضان کہ جس کی برکتیں اور رحمیتں سیل رواں کی طرح بے قابو ہوتی ہیں ،اس سیل رواں سے نہ تو بچا جاتا ہے اور نہ اس کی لہروں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ اس میں غوطہ زن ہوا جاتا ہے اور رحمتوں کہ لہروں کے بہاؤ کے ساتھ بہنے کے لیے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا جاتا ہے، رحمتوں اور برکتوں کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ جیسے ہی یہ ماہ مقدس شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، آسمان کے دروازے سے مراد برکت کے دروازوں کا کھلنا ہے، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ رمضان شروع ہوتے ہی ہر طرف اشیاء خوردونوش کی فروانی ہو جاتی ہے، موسمی پھلوں کی بہتات ہوتی ہے، کھجور جو پورا سال پتہ نہیں کہاں غائب ہوتی ہے رمضان میں جگہ جگہ میسر ہوتی ہے،دودھ دہی کی جتنی بکری اس ماہ میں ہوتی ہے کسی اور ماہ میں نہیں ہوتی، کپڑے اور جوتے کا کاروبار سب سے زیادہ اسی مہینے میں ہوتا ہے، غریب، امیر ہر گھر میں خوشحالی آتی ہے، اسی طرح تقریبا ہر چیز دوگنی ہوجاتی ہے مزید یہ کہ ہر شخص کی آمدنی دوگنی ہوجاتی ہے، ان سب سے رمضان کی برکتیں روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہیں ۔
    حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ "جنت کے سارے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور پورا مہینا ان میں سے ایک بھی بند نہیں رکھا جاتا ” ان الفاظ میں یہ واضح پیغام ہے کہ یہ مہینا جنت کمانے کا ہے، وہ جنت جو مسلمانوں کی منزل مراد اور ابدی قرار گاہ ہے، جس کے حصول کے لیے تمام عبادات کو بنیاد بنایا گیا ہے، جو نعمتوں سے بھرپور ہے، جس میں فواکہ، حور و غلمان اور سلسبیل و زنجبیل ہے، جس کا عرض دنیا وما فیہا سے زیادہ ہے، جس میں باغات ہیں اور ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، دودھ کی نہریں، شراب اور شہد کی نہریں ۔جس کا ایک ایک خیمہ ساٹھ ساٹھ میل لمبا ہے، جس کا لالچ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ دیا ہے، وہ جنت جس کا سب سے اونچا مقام "محمود ” ہے، جو کہ کائنات کی اعلی ترین ہستی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے گا ۔اس جنت کے دروازے رمضان میں فقط اس لیے کھولے جاتے ہیں کہ مسلمانوں کو بتا دیا جائے کہ ان کا ٹھکانہ یہی اور بس یہی ہے، اس کے سوا اور کہیں نہیں جانا ہے، لہذا اس ماہ مقدس میں مسلمان اس جنت کے حصول کے لیے تگ و دو کریں، دعائیں کریں، جدوجہد کریں بلکہ قرآن مجید میں تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں ” دوڑو، بھاگو، لپکو اس جنت کی جانب ۔ایک مقام میں ہے "کہ اس جنت کے حصول کے لیے آپس میں مسابقہ کرو، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو، چنانچہ پورا رمضان اس جنت کے حصول کے لیے کوشاں رہنے کا نام ہی رمضان ہے،اور اس میں جنت کے دروازوں کا کھلنا رمضان کی برکت اور رحمت ہے ۔
    حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ” جہنم کے سارے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک بھی کھلا نہیں رکھا جاتا "اس میں بھی رمضان کے توسط سے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اب تمہاری زندگی میں رمضان آگیا ہے، اب تم جہنم میں نہیں جا سکتے، جہنم کے دروازے بند کرنے کا پہلا اور آخری مقصد یہی ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی شخص کی زندگی میں رمضان آجائے اور اس کے باوجود وہ جہنم میں چلا جائے ۔وہ جہنم جس کی ہولناکی اور ہیبت ناکی کی مثل اور کوئی شے نہیں ہے، وہ جہنم جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، مطلب جتنے انسان اس میں ڈالتے جائیں گے اس کی آگ اتنی بھڑکتی جائے گی، وہ جہنم جس کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر گنا زیادہ تیز ہے، وہ جہنم جس کا بعض بعض کو کھا رہا ہے، وہ جہنم جس کی آگ کے نام سقر، ھاویہ، سعیر ہے اور جو چمڑوں کو جلا دینے اور دلوں تک پہنچنے والی ہے، وہ جہنم جو رہنے کا سب سے برا ٹھکانہ ہے، وہ جہنم جو سانس باہر پھینکتی ہے تو دنیا گرمی سے جھلسنے لگ پڑتی ہے اور سانس اندر کھینچتی ہے تو دنیا سردی سے ٹھٹھرنے لگ پڑتی ہے، وہ جہنم جس کی گہرائی ستر سال کی مسافت جتنی ہے اور طول و عرض کا تو حساب ہی نہیں ۔ایسی ہولناک جہنم کے دروازے بند ہوتے ہیں تو فقط رمضان المبارک کی بدولت، یہ رمضان کی برکتیں اور رحمتیں ہی تو ہیں ۔
    حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ” ہر سرکش شیطان اور شریر جن کو قید کردیا جاتا ہے”ایسا کر کے بھی مسلمانوں کو یہ واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ تمہارا ازلی وابدی دشمن سرکش شیطان زنجیروں میں جکڑ دیا گیا، لہذا اب تم نیکیاں کرنے کے لیے مکمل آزاد اور خود مختار ہو، تمہارے رستے کا سب سے بڑا کانٹا نکال دیا گیا ہے اور اٹکن ہٹا دی گئی ہے، اب تم شیطان کے وسوسوں، اس کی پھونکوں، بہکاووں اور تحریض سے پرے اور محفوظ ہو ،چنانچہ نیکیاں کرو، نمازیں پڑھو، دن کا صیام اور رات کا قیام کرو، صدقہ خیرات کرو، زکوہ ادا کرو، جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہو، غرض ہر طرح کی نیکی کرو اور ہر طرح کے گناہ سے بچو، کیونکہ شیطان جکڑ دیا گیا ہے، اور تمہارے پاس نیکی نہ کرنے اور گناہ سے نہ بچنے کا کوئی عذر اور جواز نہیں ہے، حیرت ہے اس شخص پر شیطان باندھ دیا گیا ہو، جہنم کے دروازے بند کردیے گئے ہوں اور جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہوں اور وہ اس کے باوجود نیکی نہ کرے، تو سوائے محرومی کے اس شخص کے مقدر میں کچھ نہیں ۔
    قارئین کرام! حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ رمضان شروع ہوتے ہی ایک منادی لگانے والا یہ منادی لگاتا ہے، اے نیکیاں اور خیر چاہنے والے! آگے بڑھ، کر ہر وہ نیکی جو تجھے پسند ہے، کیونکہ رمضان آیا ہی نیکیوں کے لیے ہے، پھر وہ منادی اگلی منادی یہ کرتا ہے کہ اے گناہ کرنے اور شر چاہنے والے رک جا! بس کر جا، بہت گناہ کر لیے، اور کتنے کرے گا، اس غلاظت میں اور کتنا گندا ہوگا، اس گناہ کی بستی میں اور کتنا رسوا ہوگا، دیکھ رمضان آگیا ہے، نیکیوں کا موسم بہار آگیا ہے، اب گناہ ترک کر. معصیت چھوڑ، رسوائیوں والے اعمال کو ٹھوکر مار اور رشدو ہدایت، ایمان، اعمال صالحہ اور تقوی کی طرف آجا۔منادی کرنے والے کی روز کی یہ منادی بھی رمضان کی رحمتوں برکتوں میں شامل ہے

    قارئین کرام! رمضان المبارک وہ ماہ مقدس ہے جس کا انتظار اسلاف صلحاءکو سال بھر رہتا ہے ،جس کو پانے کی وہ اللہ سے دعائیں و التجائیں کرتے رہتے تھے، پھر جب رمضان کو پالیتے تو اس میں عبادات اتنی شدت سے کرتے کہ رمضان کا کما حقہ حق ادا کر دیتے تھے، آج وہ رمضان میری اور آپ کی زندگی میں آیا ہے، دیکھیے، شیاطین باندھ دیے گئے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہیں ۔آگے بڑھیے! بذریعہ رمضان جنت کمالیجیے اور جہنم سے آزاد ہو جائیے۔

  • آفتاب جو غروب ہوا ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    آفتاب جو غروب ہوا ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    وہ ہمت جرات غیرت کا پیکر مجسم تھا۔وہ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کا متلاشی تھا۔وہ نور کرنوں میں لپٹا چہرا ہزاروں دلوں کی امیدوں کا محور تھا۔وہ صحابہ کرام کے رستوں پر چلنے والا ایک مرد مسلم تھا۔وہ خزاں کے دور میں بہار کی آخری امید تھا۔وہ لاکھوں بہنوں ،ماؤں اور بیٹیوں کی عفت و عصمت کا محافظ تھا۔وہ فتح علی بن حیدر علی ٹیپو تھا۔
                              اس نے بچپن سے ہی شیروں سے کھیلنا سیکھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی اپنے باپ سے عزت کی زندگی گزارنا سیکھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی انگریزوں اور مرہٹوں سے ان ہزاروں لاکھوں خون کے قطروں کا انتقام لینے کا عزم کیا ہوا تھا جو بنگال کی مٹی پی گئی تھی۔اس نے بچپن سے ہی مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف آخری قلعہ سمجھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی طاقت و جرات کے غیر معمولی جوہر سیکھے تھے۔
            سلطان کی عمر ابھی کم ہی تھی کہ انہیں ان کے والد نے مختلف محاذوں مرہٹوں اور انگریزوں کے خلاف بھیج دیا۔سلطان معظم کی بہادری اور جرات کے اوپر سارا میسور رشک کرتا تھا۔پھر ایک تاریک رات میں،ایک ٹمٹماتا چراغ بھج گیا۔میسور کی عزت کا محافظ اور سلطان ٹیپو کے والد نواب حیدر علی وفات پاگئے۔جنگی صورتحال تھی۔میسور ایک وقت میں مرہٹوں، میر نظام علی اور انگریزوں کے خلاف مد مقابل تھا۔ایسی صورتحال میں جب حیدر علی وفات پاگئے، میسور کو انتہائ خطرناک نتائج مل سکتے تھے لیکن سلطان فتح علی حیدر ٹیپو کی مدبرانہ پالیسی نے میسور کے گرتے قلعے کو سنبھالا۔
         اس اولوالعزم مجاہد نے ہندوستان کے مسلمانوں کے دور انحتاط میں محمد بن قاسم کی غیرت،محمود غزنوی کے جاہ و جلال اور احمد شاہ ابدالی کے عزم و استقلال کی یاد تازہ کر دی تھی۔ہندوستان کے مسلمانوں پر جب مایوسی و بے بسی چھا رہی تھی، تب سلطان ٹیپو کی ریاست میں امیدوں اور ولولوں کی نئ دنیا آباد ہورہی تھی۔جب ہندوستان پر مسلمانوں کے قلعے مسمار کیے جارہے تھے تب میسور میں سرنگا پٹم، چتل ڈرگ اور منگلور میں سلطنت خداداد کے معمار نئے قلعے اور حصار تعمیر کر رہے تھے۔
                           سلطان ٹیپو کا تمام دور عہد جنگوں میں گزری۔سلطان کے خلاف تین طاقتیں تھی۔مگر جس ایک طاقت سے سلطان لڑنا نہیں چاہتا تھا وہ میر نظام علی کی طاقت تھی۔تاریخ گواہ ہے کہ میر نظام علی ہی وہ حکمران تھا جو مسلمانوں کے چراغ بھجا رہا تھا اور انہیں غلامی کی تاریکیوں میں دھکا دے رہا تھا۔اس حکمران نے اپنے مفاد، فقط اپنے مفاد کیلیے لاکھوں عزتوں کا سودا کیا۔سلطان ٹیپو اس سے اس لیے نہیں لڑنا چاہتے تھے کہ اس کے ساتھ فوج مسلمان تھی۔سلطان ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی فوج کے ہاتھ مسلمان کے خون سے رنگے جائیں۔تاریخ گواہ ہے سلطان معظم نے ہر ممکن کوشش کی کہ اگر ان کا ساتھ حاصل نہ ہوسکے تو کم از کم انہیں میدان جنگ میں نہ لایا جائے۔مگر میر نظام علی کا تو مقصد صرف خزانے بھرنا تھا۔
                  بالآخر ٹیپو کی ایک ریاست، تین دشمنوں کے ساتھ محو جنگ ہوئ۔اب یہ ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔سلطان ٹیپو اس جنگ کو فتح کرسکتے تھے مگر ایمان فروشوں نے سلطان کی مخبریاں کرکے اسے شکست دلوائ۔میر صادق، پورنیا، میر قمر الدین اور میر معین الدین جیسے غداروں نے صرف میسور کا ہی سودا نہیں کیا تھا بلکہ تمام ہندوستان کے  مسلمانوں کی عزت کا سودا کیا تھا۔تاریخ گواہ ہے کہ اس سودے سے انکے اپنے گھر محفوظ نہ رہے۔جنگ جیتنے کے بعد انگریزوں نے انکی اپنی بہنوں،بیٹیوں کو نہیں چھوڑا تھا۔
                                ٹیپو سلطان 4 مئی 1799ء کو انگریزوں کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے میدان میں آئے۔سلطان نے میسور کے  ہراول دستوں کیساتھ لڑا۔سلطان معظم پر ایک انگریز نے گولی چلائ۔مگر سلطان نے زخم کی فکر نہ کی۔سلطان کے جسم نے خون نکل رہا تھا مگر سلطان معظم اس خون سے سرنگاپٹم کی زمین کو سیراب کرنا چاہتے تھے۔سلطان پر ایک اور گولی لگی اور سلطان پر نقاہت کے آثار ظاہر ہونے لگے مگر وہ لڑتے رہے۔جب زخموں کھ باعث سلطان کی ہمت جواب دینے لگی تو سلطان کے باڈی گارڈ دستے نے سلطان سے کہا "عالی جاہ!اب اس کے سوا کوئ چارہ نہیں کہ آپ اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کردیں”
      سلطان نے جواب دیا؛ "نہیں______میرے لیے شیر کی زندگی کا ایک لمحہ گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے!”
                                  سلطان کے گھوڑے پر ایک گولی لگی تو اس نے گرتے ہی دم توڑ دیا۔گھوڑے کیساتھ گرتے وقت سلطان کی دستار ان سے علحیدہ ہوگئ۔سلطان نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ایک گولی سلطان کے سینے پے لگی۔پاس ہی ایک انگریز نے سلطان کی کمر سے مرصع پیٹی اتارنے کی کوشش کی۔لیکن سلطان میں ابھی زندگی کے چند سانس باقی تھے۔انہوں نے یہ توہین برداشت نہ کی۔سلطان نے اچانک اٹھ کر تلوار بلند کی اور پوری شدت کیساتھ اس پر وار کیا۔انگریز نے اپنی بندوق آگے کی۔اس کے ساتھ ہی سلطان کی تلوار ٹوٹ گئ۔اس کے ساتھ ہی ایک اور انگریز نے اپنی بندوق کی نالی کا سرا سلطان کی کنپٹی کے ساتھ لگاتے ہوئے فائر کردیا اور وہ آفتاب جس کی روشنی میں اہل میسور نے آذادی کی حسین منازل دیکھی تھیں، ہمیشہ کیلیے غروب ہوگیا۔اس آفتاب کے روپوش ہونے کے ساتھ ہی ہندی مسلمانوں کے اوپر ایک تاریک دور آگیا۔
                                اگلے روز سلطان کا جنازہ جب محل سے نکلا تو سرنگاپٹم کا ہر بچہ اس جنازے میں شریک ہوا۔ہر چشم سلطان کے غم میں پرنم تھی۔اس روز شدید آندھی کے آثار آسمان پر تھے۔جیسے ہی سلطان کے مقدس جسم کی تدفین ہوئ ویسے ہی بادلوں نے اشک جاری کردیے۔
                           تاریخ گواہ ہے کہ اس دن اتنی بارش ہوئ کہ سرنگاپٹم کی گلیاں بازار ندیوں کا منظر پیش کر رہے تھے۔
                                دیکھنے والوں نے دریائے کاویری کی طغیانی دیکھی۔کاش وہ غدار جنہوں نے قوم کے مستقبل کا سودا کیا تھا، ایک دن اور انتظار کرلیتے تو دشمن کی فوج اسی دریا میں ڈوب جاتی______کاش،
                           سلطان معظم!
                            قوم کی جس آذادی کا آپنے خواب دیکھا تھا،وہ آذادی ایک ایسی قوم کو ملی ہوئ ہے جس کو دنیا پاکستانی کے نام سے جانتی ہے۔جو ریاست میسور آپنے قائم کی تھی، اور جو پورے ہند کے مسلمانوں کی محافظ تھی، آج اس جیسی ایک اور ریاست قائم ہے جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔اور یہ ریاست تمام عالم اسلام کی محافظ ہے۔قوم کے جو رضاکار آپکے قافلے میں شامل تھے، وہی رضاکار اس قافلے میں شامل ہیں۔یہ آفت و مصیبت کے وقت، یہ زلزلے اود سیلاب کے وقت امداد کی ناقابل یقین داستانیں رقم کردیتے ہیں۔اور میدان جنگ میں وہ افواج کے دوش دبدوش لڑتے ہیں۔اگر اس ریاست میں کہیں باغیانہ شعور بیدار ہو تو یہ رضاکار اٹھتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کیلیے چل دوڑتے ہیں۔مصائب جھیلتے ہیں، آہنی چٹانوں کو سر کرتے ہیں، اپنے لوگوں کے طعنے سنتے ہیں مگر آپکی طرح،آپکے رضاکاروں کی طرح،آپکی قوم کی طرح یہ لوگ اپنے حوصلے کم نہیں ہونے دیتے،اپنے منشور میں پیچھے نہیں ہٹتے۔
                             سلطان معظم!
                                           جس طرح آپکی ریاست اہل کفر اور انکے ہاتھوں میں کھیلتے نام نہاد مسلمانوں کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی اسی طرح یہ ریاست کفار اور ان کے چیلے نام نہاد مسلمانوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی۔
                                                  جس طرح آپ کی فوج کم تعداد ہوتے ہوئے بھی دشمن پر غالب رہتی تھی،اسی طرح اس ریاست کی فوج بھی بہادری کے جوہر دکھاتی ہے۔دشمن یہ سوچ کر ان پر حملہ کرتا ہے کہ یہ سو رہے ہوں گے، مگر یہ بیدار رہتے ہیں اور دشمن کو ایسا سبق سکھا جاتے ہیں کہ وہ کبھی بھول نہ پائے۔
                          سلطان معظم!
                                     جس طرح آپکی ریاست میں غدار تھے جو آپکی ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کوششیشیں کر رہے تھے اسی طرح اس ریاست میں بھی غدار پائے جاتے ہیں۔کچھ پہلے حکمران بن کر آتے ہیں،کچھ  الگ بھیس میں آتے ہیں-مگر پھر آفریں کہ اس ریاست کی چاک و چوبند افواج اور اس کے ساتھ ساتھ اس ریاست کی عوام ان غداروں کو انجام تلک پہنچاتے ہیں۔
                   اس ریاست کے لوگ اے سلطان معظم! آپکو بہت یاد کرتے ہیں۔اس ریاست کے لوگ آپ کو اپنی انسپائریشن سمجھتے ہیں۔اس ریاست کے لوگ آپکے ہی اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ:
      "شیر کی ایک لمحہ کی زندگی،گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”
                 اللہ سلطان معظم اور انکے ساتھیوں کے درجات بلند فرمائے جو آج کے دن یعنی 4 مئی کو انگریزوں کے خلاف لڑتے لڑتے شہید ہوئے اور ہماری اس ریاست پاکستان میں ان جیسے حکمران پیدا فرمائے۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر۔
    آخر میں علامہ اقبال کے کچھ اشعار:
    آں شہیدان محبت را امام
    آبروئے ہند و چین و روم شام

    نامشں از خورشید و مہ تابندہ تر
    خاک قبرش از من و تو زندہ تر

    ازنگاہ خواجہ بدر و حنین
    فقر سلطان وارث جذب حسین ؓ