Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • افغانستان اور دنیا تحریر : سکندر ذوالقرنین پارٹ نمبر ون

    امریکہ 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے ہونے کے بعد جس میں تین ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی اس کا الزام اسامہ بن لادن کو لگا دیا گیا اور اس کو ایک مسلم ٹیرارسٹ کا نام دیا گیا تھا اور امریکا افغانستان آپہنچا میرے خیال میں یہ صرف مسلمانوں کو تنگ کرنےاور پاکستان چین ایران اور روس کا راستہ روکنے کے لئے کیا کیا اور بعد  ایسے ہی پاکستان بھی کسی کی لڑائی میں کود پڑا

    کسی کی جنگ میں ہم نے اپنے ستر ہزار لوگوں کو کھو دیا اور ایک ڈیڑھ سو ارب  کا نقصان ہوا

    اور ہم پر ہی الزام ڈال دیا کہ سارا قصور ہمارا ہے

    امریکہ نے بیس سال تک جنگ کی اور اس بیس سالوں میں بہت سارے واقعات ہوئے اور اس میں ایک واقعہ اسامہ بن لادن کو مارنے کا ڈرامہ بھی ہوا جو 2011 میں پاکستان میں ہوا

    بیس سال بعد امریکہ کو شکست نظر آئی اور امریکہ کا جنازہ دھوم دھام سےنکلا
     امریکا نے طالبان سے معاہدہ کیا جو معاہدہ ہوا تھا اس کے مطابق ایک مئی  دو ہزاراکیس کو امریکہ کو افغانستان میں نکلنا تھا لیکن وہاں حکومت تبدیل ہونے کی وجہ سے اس معاہدے کو  توسیع دی گئ اس پر عمل درآمد کرنے کا وقت آچکا تو انحلا شروع ہوچکا تھا

    تو آہستہ آہستہ طالبان نے افغانستان کو فتح کرنا شروع کردیا ایک مہینے پہلے افغان حکومت بتا رہی تھی کہ  طالبان سے ہم اپنا قبضہ واپس لے رہے ہیں اصل مسئلہ یہ تھا کہ افغان حکومت ایک کرپٹ تھی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے
    پورے افغانستان پر قبضہ ہوتا جارہا تھا

    طالبان نے ایک حکمت عملی کے تحت افغانستان کے بارڈر پر اپنا کنٹرول حاصل کیا اور بعد میں لشکر گاہ قندھار اور ہرات پر قبضہ کرلیا اور افعان حکومت پاکستان پر الزام اور ٹیوٹر پر بس پاکستان سے جنگ کرنے میں مصروف رہے ہیں

    بڑی بڑی باتیں کی گئی امریکہ کی انٹیلیجنس کا دعویٰ یہ تھا کہ طالبان  کا دو ماہ تک قبضہ ہو گا بعد میں ان کے اپنے اندازے غلط ثابت ہوئے ایک ماہ قبلُُ طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے پاس  80پرسنٹ علاقہ موجود ہے جو کہ وقت نے ثابت کیا کہ ان کی بات درست تھی

    بڑی بڑھکیں مارنے والے نظر ہی نہ آئے اشرف غنی اور محب اس طرح غائب ہوئے کہ جس طرح گدھےکے سر سے سینگ ہوتے ہیں پانچ چھ دن بعد پتہ چلا کے اشرف غنی دبئی میں موجود ہیں اور  بہت سارا مال   لے کر فرار ہوئے تھے اشرف غنی کی حکومت کی نااہلی تھی اور امریکہ کو یقین دہانیاں کرانے رہے کہ ہم لڑیں گے لیکن وہ تو چند دن بھی لڑ نہ کہ سکے اور پندرہ دن میں ہی طالبان نے کنٹرول حاصل کرلیا اور طالبان کابل پہنچے کی تاریخ بڑی دلچسپ ہیں پندرہ اگست 2019 تھی تھی

    کہتے ہیں کسی ملک کے لیے یہ  سرپرائز سے کم نہیں تھا امریکہ اور یورپ کے اور بہت سارے ملک کو دیکھتے رہ گے

    افغانستان طالبان کے قدموں میں پڑھا تھا امریکہ اور مغربی ممالک کو لینے کے دینے پڑ گیا اور اپنے فوجیوں اور شہریوں کو نکالنے کیلئے صبح و شام کوشش شروع کر دی 31 اگست سے پہلے نکلا جا سکیں اور کابل  ایئرپورٹ لوگوں سے بھر چکا تھا

    سکیورٹی کے بہت خدشات تھے اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا اوردو دھماکے ہو گئے جس میں 178 افغانی تیرا امریکی مارے گئے

    31اگست کے بعد طالبان کے پاس پنجشیر   کے علاوه تمام علاقے کنٹرول میں تھا  اور  احمد مسود کے ساتھ مذاکرات  کا سلسہ شروع ہوا اور بیس دن بعد مذاکرت ناکام ہونے کے بعد  جنگ شروع ہوئی اور چھ ستمبر کو پنجشیر فتح بھی
    ہوگیا@sikander037 #sikander037

  • افغانستان پر طالبان کی حکومت؛ پاکستان کیلئے سیکورٹی کے خطرات  تحریر۔ شعیب احمد 

    افغانستان پر طالبان کی حکومت؛ پاکستان کیلئے سیکورٹی کے خطرات تحریر۔ شعیب احمد 

    15 اگست کا دن افغانستان کی تاریخ میں وہ دن تھا جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے  دنیا کا طاقتور ملک امریکہ جو یہاں 20سال سے اسکو مضبوط کر رہا تھا تاکہ یہاں کوئی ایسی قوت جگہ نہ بنائیں جو انکے خلاف ہوں ۔طالبان سے امن معاہدہ ہوا کیا جس کے تحت امریکہ کو افغانستان چھوڑنا تھا لیکن کسی کے وہم گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ امریکہ یہاں سے بھاگنے پر مجبور ہوگا۔ اور مخلوط حکومت کا امکان ختم ہوگا۔

    15اگست 2021 کو اشرف غنی ملک چھوڑ گئی اور بغیر کسی مزاحمت کے افغانستان طالبان کے قبضے میں آگیا دنیا حیران ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا آیا طالبان کے 60 سے 80 ہزار لوگ اتنے مضبوط ہے کہ افغانستان کی لاکھوں سیکورٹی فورسز چند گھنٹوں میں شکست کھا گئ۔ ان میں کچھ تو طالبان کے ساتھ شامل ہوے اور نے اسلحہ ڈال کر روپوش ہوے۔امریکہ کی 3ٹریلین ڈالرز اور 2700 فوجیوں کی ہلاکت کا قوم اس سے جواب مانگ رہی ہے ۔اور امریکہ نے پھر اپنے شہریوں کی باحفاظت نکالنے کیلئے طالبان سے درخواستیں کیں۔

    امریکہ یہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا لیکن اس خطے میں آنے والا وقت بہت مشکل نظر آرہا ہے ۔پاکستان افغانستان کا قریبی ملک ہے جس کے ساتھ اسکا 2611کلومیٹر کا مشترک بارڈر ہے یہ بارڈر نہایت مشکل قسم کا ہے جس کا کنٹرول نہایت مشکل ہے اگرچہ پاکستان نے اسکو خاردار تاروں کے ذریعے 90فیصد محفوظ کیا ہے اور 700سے زیادہ فوجی چوکیاں بنائی ہیں لیکن پھر بھی اسکو شرپسندوں سے محفوظ سمجھنا ایک خواب ہوگا

    افغان طالبان کا امریکہ کے ساتھ  ڈیل کے کئی محرکات ہیں یہ ڈیل اپنے اصل روح میں لاگو نہیں ہوا طالبان نے وقت سے پہلے ہی افغانستان کا کنٹرول بغیر کسی مزاحمت کے  سنبھال لیا بہت سے لوگوں کو جیل سے رہا کیا گیا جس میں 2000 تحریک طالبان پاکستان کے لوگ بھی شامل تھے جیسے جیسے افغانستان میں طالبان کا کنٹرول  بڑھتا چلا گیا ادھر TTPنے بھی پاکستان میں کاروائیاں تیز کیں جسکی مثال ہمیں کوئٹہ کے Serena Hotel اور چینی انجنیئرز پر حملوں کی صورت میں ملی۔ پچھلے دو ماہ میں طالبان کی طرف سے 50 سے زائد کی ذمہ داری قبول کر نا اس بات کی دلیل ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد پاکستان میں TTP کی کاروائیاں تیز ہورہی ہیں 

    پاکستان نے TTPکو دعوت دی ہے کہ اگر وہ اسلحہ ڈال کر پاکستان کے آئین کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے تیار ہیں تو حکومت ان کو غیر مشروط معافی دے گی جو انہوں نے مسترد کردیا اور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ تک جہاد جاری رکھنے کا اعلان کیا

    تحریک طالبان پاکستان  کے علاوہ پاکستان اور افغانستان دونوں میں IS-Kکے حملوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں کیونکہ IS-K اپنی مرضی کا اسلامی نظام کے نفاذ تک جہاد جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے امریکہ خود بھی طالبان سے اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ طالبان ISKاور القاعدہ کو دوبارہ مضبوط نہیں ہونے دیں گے 

    دوسری طرف بھارت کا افغانستان میں رول کٹھائی میں پڑھ گیا ہے اور وہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گا کیونکہ بلوچستان Insurgency کا سیدھا لنک بھارت سے ملتا ہے 

    خطے کے حالات اور پاکستان پر اس کے اثرات کا اندازہ نیوزی لینڈ کے کرکٹ ٹیم کے عین میچ شروع ہونے سے پہلے اپنا ٹور کینسل کرنے سے لگایا جاسکتا ہے  جو انہوں سیکورٹی کو جواز بنا کر کیا۔آنے والے وقتوں میں طالبان کے افغانستان میں آنے کے پاکستان پر دوررس نتائج ہونگے ۔

    @shoaibahmadsh

  • سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت     تحریر اصغر علی

    سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت     تحریر اصغر علی

     

    حصہ اول:-                                                             

    یہ بات آج سے سات سو بیس سال پہلے سنہ 1390 کی ہے جب دنیا کی دو طاقتور ترین سلطنتوں کی سرحدیں آپس میں ملتی تھی ایک طرف سلطنت عثمانیہ تھی اور دوسری طرف تیموری سلطنت اس وقت سلطنت عثمانیہ کا سلطان بایزید اول تھا اور تیموری سلطنت کا سلطان ایک منجھا ہوا جنگجو امیر تیمور تھا ایک وہ تھا جو ایشیا کے بعد یورپ کے بڑے بڑے امپائر گرا رہا تھا اور دوسری طرف امیر تیمور جو بغداد سے دہلی تک اور عرب کے صحراؤں سے لیکر ازبکستان کے پہاڑوں تک تمام علاقے فتح کا چکا تھا اور اب یہ دونوں ایک دوسرے کی سرحد پر دستک دے رہے تھے یہاں پر آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتے ہیں کہ جب یہ دونوں سلطان آمنے سامنے ہوئے تو ایک سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور کچھ سالوں بعد دوسرے کی سلطنت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی یہ کیسے ہوا بایزید اول اپنے بھائی کو قتل کر کے سلطنت عثمانیہ کا سلطان بن گیا تھا یہاں پر سلطنت عثمانیہ کو دو خطرے تھے ایک طرف کرمانی سلطنت  جو کہ سلطنت عثمانیہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھی اور اس وقت کرمانی سلطنت کو مملوک سلطنت جو کہ مکہ اور مدینہ پر قائم تھی کی حمایت حاصل تھی اور اس وقت سلطنت عثمانیہ  نے کرمانی سلطنت کےپر حملہ کردیا اور کرمانی سلطان کے دونوں بیٹوں کو قتل کر دیا قریب تھا کہ کرمانی سلطنت سرے سے ہی ختم ہو جاتی مگر ایسے میں آج کے ازبکستان سے ایک طوفان اٹھا اور خود عثمانی سلطنت ہی خطرے میں پڑ گئی اس کا نام تھا امیر تیمور لنگ

    امیر تیمور ایک جنگجو سردار تھا جس نے اپنی جنگی مہارت کے باعث سمرقند پر قبضہ کر لیا اور اس کو اپنا ہیڈکوارٹر بنا دیا اور اس نے اپنی تیموری سلطنت کو  از بکستان پاکستان انڈیا افغانستان ایران ایراق آذربائیجان روس شام تک پھیلا لیا تھا  کل ملا کر بات کریں تو امیر تیمور چالیس سے زیادہ چھوٹے بڑے ملکوں اور ریاستوں پر قبضہ کر چکا تھا سن 1399  میں  تیموری سلطنت کی سرحدیں عثمانی سلطنت کو چھونے لگی تھی جو جو علاقے  عثمانیوں نے اپنے قبضے میں لیے تھے ان کے حکمران امیر تیمور کے پاس گئے اور جا کر عثمانی سلطان کے بارے میں بتایا امیر تیمور نے عثمانی سلطان کو خط لکھا اور خط میں اس  نے کہا کہ جو علاقے تم نے فتح کیے ہیں وہ اپنے پاس رکھو اور جو باقی علاقے رہ گئے وہ ان لوگوں کو واپس کر دو اگر نہیں تو میں خدا کا قہر بن کر تم پر نازل ہو جاؤں گا یہ خط عثمانی سلطان کے پاس پہنچا  تو اس خط کو پڑھ کر سلطان بایزید اول کو کہر چڑھ گیا کیونکہ آج تک کسی نے ایک سوپر پاور کو اس طرح نہیں للکارا تھا غصے میں آگ بھگولا  سلطان بایزید اول نے پہلا کام یہ کیا ک جو قاصد تیمور کا خط لے کر آئے تھے  ان کی داڑھیاں کاٹ دی اس کے بعد ان کو خوب بےعزت کیا اور دربار سے نکال کر واپس بھیج دیا یہ اس بات کا پیغام تھا کہ عثمانی سلطان بایزید اول کسی سے نہیں ڈرتا یہ ایک طرح کا طبل جنگ تھا لیکن جنگ سے پہلے آگ کو اور بھی بھڑکنا تھا اس کے بعد سلطان بایزید اول نے امیر تیمور کو ایک خط لکھااور اس خط میں لکھا کیوں کہ تمہاری لا محدود لالچ کی کشتی خود غرضی کے گھڑے میں اتر چکی ہے تو تمہارے لیے بہتر یہی ہوگا کہ اپنی گستاخی کے بادبانوں کو نیچے کر لو ورنہ ہمارے انتقام طوفان سے تم سزا کے اس سمندر میں غرق ہو جاؤ گے جس کے تم حقدار ہو یہ خط جب امیر تیمور تک پہنچا تو اس نے یہ خط پڑھ کر عثمان سلطان کو جنگ کا پیغام بھجوا دیا ادھر یورپی لوگ جو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ لڑ رہے تھے اور اس جنگ کو مسلمان اور عیسائیت کی جنگ کہہ رہے تھے وہ بھی امیر تیمور کو خفیہ پیغام بھیجنے لگے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں سلطنت عثمانیہ پر حملہ کر دیں اس کے علاوہ ایک چھوٹی سی سلطنت بیزنٹائن امپائر بھی تیمور کے ساتھ مل گئی اور اس نے چودہ سو ایک میں ترکی کے ایک علاقے پر قبضہ کر لیا اور بہانہ اس کا یہ تھا کہ یہ علاقہ اسی کی ملکیت تھی جو عثمانیوں نے اس سے زبردستی چھین لی تھی اس کے بعد امیر تیمور نے عثمانی سلطنت کے ایک علاقے پر حملہ کر دیا اور زبردست جنگ کے بعد اس علاقے پر قبضہ کرلیا اور وہاں پر اپنا ٹریڈمارک چھوڑ دیا امیر تیمور کا ٹریڈ مارک خوف اور دہشت پھیلانا تھا اس نے چار ہزار لوگوں کو زندہ گاڑ دیا جس جگہ پر امیر تیمور نے قبضہ کیا اس کی ذمہ داری سلطان بایزید اول نے اپنے بیٹے ارطغرل کو دی ہوئی تھی تیمور نے بایزید اول کے بیٹے سمیت تمام جنگجوؤں کو ہلاک کردیا اور جب یہ خبر سلطان تک پہنچی تو ظاہر ہے اس کے پاس مقابلے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں تھا اور وہ امیر تیمور کے تعاقب میں نکل پڑا اس کے ساتھ ستر ہزار فوج کا لشکر تھا بایزید اول ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ امیر تیمور کے لشکر کی جانب بڑھتا گیا اور انقرہ پہنچ کر اس نے ڈیرے ڈال دیئے اس کے بعد بایزید اول انقرہ سے آگے بڑھا اور امیر تیمور کے لشکر کے قریب ہوتا چلا گیا امیر تیمور اپنی فوج سمیت پیچھے ہٹنے لگا اور آہستہ آہستہ وہ اپنی تیموری سلطنت کے قریب پہنچ گیا اور یہاں پر آکر امیر تیمور اپنے لشکر سمیت اچانک کہیں غائب ہو گیا بایزید اول ہفتوں اس کا انتظار کرتا رہا کہ اتنے بڑے لشکر سمیت تیمور کدھر چلا گیا آخر کار چار مہینوں انتظار کے بعد سن چودہ سو دو میں میں بایزید اول کو پتہ لگ گیا کہ تیمور کا لشکر کہاں ہے مگر یہ خبر بایزید اول پر بجلی بن کر گری تیمور کا لشکر اس کے پیچھے سلطنت عثمانیہ کے شہر اور موجودہ ترکی کے دارالحکومت وقت انقرہ شہر پہنچ چکا تھا اور انقرہ شہر کا محاصرہ کر لیا تھا

    جاری ہے……… 

    Twitter id:  @Ali_AJKPTI 

    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

  • دعا ایک عظیم نعمت   تحریر: اسد ملک 

    دعا ایک عظیم نعمت  تحریر: اسد ملک 

    انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے یہ شرف حاصل ہے کہ وہ دعا کے ذریعے اللہ سے دنیا کی کوئی بھی چیز حاصل مانگ سکتا۔ اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت دعا ہے اور خاص عبادت بھی گردانی جاتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ پورے دل اور اخلاص کے ساتھ اللہ سے دعا مانگے۔انسان کا مانگنا اللہ کو ویسے بھی بہت پسند ہے وہ خود چاہتا ہے کہ انسان صرف اسی سے مانگے کیوں کہ دینے والی ذات بھی صرف اللہ ہی کی ہے۔ اللہ سے مانگ کر کبھی بھی شرمندگی یا ندامت نہیں ہوتی ، جو بھی مانگا جاتا ہے وہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ہی رہتا ہے ۔

    اللہ تعالی سے جب بھی مانگا جائے تو اس پہ پورے یقین اور توکل سے مانگنا چاہیے۔ مومن صرف اللہ ہی پر توکل کرتا ہے کیوں کہ قرآن میں بھی اللہ فرماتا ہے ، "وعلی ربّھم یتوکلون” (اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں)۔ بحثیت مومن اس بات پہ یقین ہونا کہ کائنات میں ایک پتہ بھی اللہ کی مرضی کے بنا نہیں ہل سکتا اور کوئی بھی اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر سکتا ، سب اللہ ہی کی رضا سے ہوتا ہے لہذا وہ صرف اسی پہ یقین اور بھروسہ کرتا ہے۔ اور اس کامل بھروسے کی وجہ سے اس کے اندر کی امید کبھی مدھم نہیں پڑتی اور نہ ہی انسان کبھی کسی خوف کا شکار ہوتا۔ بے شک اللہ پہ توکل اور یقین رکھنے والوں کو آزمایا جاتا ہے مگر امید کا جو دامن اس وقت مومن کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ ہزار مشکلات کے باوجود بھی اس کے قدم ڈگمگانے نہیں دیتا ، نہ اس میں کسی قسم کی کوئی اکڑ ہوتی ہے نہ اسے کوئی چیز اللہ کے علاوہ کسی کے آگے جھکنے پہ مجبور کر سکتی ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے جو بھی ہوتا ہے وہ اللہ کی مرضی اور رضا سے ہوتا ہے اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ستر ماوں سے زیادہ محبت کرنے والا اس کے لیے کچھ برا کرے گا اسی لئے وہ ہر حال میں بہت مطمئن ہو کر وہ زندگی بسر کرتا ۔

    اللہ سے یقین کے ساتھ مانگنا چاہیے۔ دعا کرتے ہوئے انسان کو اس کی قبولیت کا یقین ہونا چاہیے کیوں کہ مایوس دل سے نکلی دعا اللہ کو پسند نہیں لہذا دعا اس یقین سے مانگنی چاہیے کہ دینے والی ذات صرف اللہ ہی کی ہے، وہ ہر شہ پہ قادر ہے اور وہ "کن فیکون” کا مالک ہے اسی لیے اس سے نا ممکن کو بھی مانگتے ہوئے ہچکچانا نہیں چاہیے اللہ عزوجل کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں۔اور جب یقینِ کامل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جاتی ہے تو وہ کریم اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ کوئی بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا دے تو وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو خالی اور ناکام و نامراد واپس کر دے۔

    انسان زندگی میں ہر چیز حتی کہ اپنے مسائل اور خواہشات میں بھی اللہ تعالی کے حکم کا محتاج ہے ۔ دراصل انسا ن بہت بے بس اور لاچار ہے اور جب انسان کو یہ چیز محسوس ہوتی ہے تو وہ دعاوں کا سہارا لے کے اللہ کے آگے گرگراتا ہے اور اللہ کی قدرت پہ کامل یقین کے ساتھ اپنے تمام معملات اس کے سپرد کر دیتا ہے ، اس مقام پر انسان اپنی محرومی اللہ کے ہاں پیش کر دیتا ہے اور اس کی مدد کا طالب ہو جاتا ہے۔ مگر دعا قبول نہ ہونے کی صورت میں ناشکری اور نا امیدی اللہ کی ناراضی مول لینے کی مترادف ہے ۔ اللہ سے مانگنا ضرور چاہیے اور مکمل یقین کے سا تھ مانگنا چاہیے مگر ضد نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ یہ اللہ جانتا ہے کہ انسان کے حق میں کیا بہتر ہے اور کچھ دعائیں انسان کے لیے نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔ ایمان اور کامل یقین کا تقاضا دعا کی قبولیت سے ہر گز مشروط نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پہ ہونا چاہیے کہ جو بھی ہوگا وہ میرے لیے بہتر ہی ہوگا کیوں کہ میں نے اپنا معاملہ اس ذات کے سپرد کیا ہے جو تمام کائنات کا مالک ہے اور اپنی مخلوق سے بے انتہا محبت کرتا ہے اسی لیے دعا جیسی عظیم نعمت سے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔

    @asad_malik333

    https://twitter.com/asad_malik333?s=09

  • معاہدہِ لوزان اور حجازِ مقدس کی میزبانی تحریر: محمد اسعد لعل

    معاہدہِ لوزان اور حجازِ مقدس کی میزبانی تحریر: محمد اسعد لعل

    ارطغرل غازی کے بیٹے عثمان نے خلافتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ بڑے تگڑے اور پکے مسلمان تھے۔ انہوں نے سوا چھ سو سال تک اپنے اصولوں کے مطابق حکمرانی کی اور خلافت چلائی۔ مسلمانوں اور اسلام کا جھنڈا انہوں نے ہمیشہ بلند رکھا۔ جنگیں لڑ کر بہت سارے علاقے فتح کیے اور اسلام کو بے شمار علاقوں تک پھیلایا۔ لیکن اُس کے بعد پھر زوال آیا اور سو سال کے بعد اب وہ معاہدہ ختم ہونے جا رہا ہے جس کو معاہدہِ لوزان کہتے ہیں۔

    جب عثمانیہ خلافت کا خاتمہ ہوتا ہے تو برطانیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ترکی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی حدود کے اندر ہی بند ہو جائے، اور کچھ شرائط رکھتا ہے جن کو آج بھی فرانس کے اندر ایک مخصوص جگہ پر لکھ کر سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔

    اور یوں ترکی کو سو سال کے معاہدے میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ جن شرائط پر ہوا وہ شرائط یہ ہیں۔۔۔

    خلافتِ عثمانیہ ختم کر دی جائے گی۔ عثمانیہ خلافت جب ختم ہوئی تو اس کے جانشینوں کو قتل کیا گیا، انہیں غیب کیا گیا، ان کو جلاوطن کیا گیا اور ان کے اثاثے ضبط کر لیے گئے۔ یہ اثاثے جب ضبط کیے گئے تو تین براعظموں کے اندر بے شمار مال و دولت تھی، بہت ساری جائیدادیں تھیں جو ساری برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس چلی گئیں۔

    اس کے بعد ترکی کو ایک سیکولر ریاست بنا دیا گیا۔ اُس میں سے اسلام کو ختم کر دیا اور خلافت کے اوپر پابندی لگا دی گئی۔

    اس کے بعد ایک اور پابندی یہ لگائی گئی کہ ترکی پیٹرول نہیں نکال سکتا۔ یعنی ترکی نہ تو اپنے ملک سے معدنیات نکال سکتا ہے اور نہ ہی اپنے ملک سے باہر کہیں سے معدنیات نکال سکتا ہے۔ یہ بہت بڑی زیادتی تھی۔ کیوں کہ ترکی کی زمین کے اندر تیل موجود ہے، اس کے باوجود وہ دوسرے ممالک سے تیل خریدنے پر مجبور ہے۔

    ترکی کے پاس ایک باسفورس سمندر ہے اور ساحل سمندر ایک بہت ہی زبردست بندرگاہ ہے، اُس کو بین الاقوامی قرار دے دیا گیا۔ یعنی کوئی بھی یہاں سے اپنی مرضی سے آ جا سکتا ہے، اور ترکی کسی سے بھی ٹیکس نہیں لے سکتا۔ یہ بہت بڑی پابندی تھی جو ترکی پر لگا دی گئی۔

    نہر سوئز کو دنیا بھر کی تجارت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، اسی طرح باسفورس تجارت کے حوالے سے دوسری سب سے اہم جگہ ہے۔ اور آنے والے وقت میں یہ پہلے نمبر پر آ جائے گی۔

    اگر آپ نے کبھی عمرہ کیا ہو یا حج کیا ہو تو آپ ترکوں کو وہاں پر عمرہ یا حج پر آتے ہوۓ دیکھیں تو ان کے ہاتھ میں ایک نقشہ ہوتا ہے۔ کیوں کے انہوں نے بہت عرصے تک حجاز مقدس پر اپنی ذمہ داری ادا کی ہے۔ مدینہ اور مکہ میں آنے والے لوگوں کی میزبانی کی ہے۔ اس جگہ سے ان کا اتنا زیادہ اُنس اور لگاؤ ہے کہ جب بھی سعودی عرب وہاں نقشے میں تبدیلی کرتا ہے تو وہ معاہدے کے مطابق ایک ایک پتھر واپس ترکی لے جا کر ایک بہت بڑے میوزیم میں سنبھال کر رکھتے ہیں تاکہ ان کے لوگوں کو یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی کی میزبانی کی ذمہ داری ان کے پاس سوا چھ سو سال تک رکھی تھی۔

    وہاں جب ترک جاتے ہیں تو ان کے پاس نقشہ ہوتا ہے اور انہیں اس نقشے کو دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے کہ کون سے صحابہ کا گھر کہاں ہے۔

    پچھلے سو سالوں سے ترک خانہ کعبہ میں اللہ تعالیٰ سے رو رو کر یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم سے ناراضگی ختم کر دیجئے، جو میزبانی کا شرف ہمیں دیا تھا وہ واپس دے دیں۔ یہ ذمہ داری اس وقت آل سعود کے پاس ہے۔ ترک یہ کہتے ہیں کہ یہ ذمہ داری ہم سے چھین لی گئی تھی اور ہمیں اس کا شدید افسوس اور دکھ ہے۔

    دونوں ہی پاکستان کے برادر ملک ہیں، ترکوں کی اپنی ایک خواہش ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں اور جو ذمہ داری آلِ سعود کے پاس ہے اس کا بھی احترام کرتے ہیں۔ لیکن ان دونوں میں سے اس کا اہل کون ہے اس کا فیصلہ آپ سب اپنی جگہ پر کر سکتے ہیں۔

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • طالبان اور ان کے خلاف ہونے والا جھوٹا پروپیگنڈا تحریر: محمد رمضان

    طالبان اور ان کے خلاف ہونے والا جھوٹا پروپیگنڈا تحریر: محمد رمضان


    دیکھا جائے تو جب سے کابل فتح ہوا ہے تب سے اسلامی امارات کے خلاف بے بنیاد پروپیگینڈا شروع ہے ۔یہ پروپیگینڈا وہ لوگ کررہے ہیں جو تادم مرگ رہنے کا سوچ کر  افغانستان آئے تھے لیکن ان کے خواب خاک میں مل گئے 

    وہ چاہتے تھے کہ ہم افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان کے خلاف گھٹیا حرکات سرانجام دیں

    اس میں درج ذیل نکات شامل ہیں

    1.سب سے پہلا پروپیگنڈہ یہ تھا کہ یہ لوگ عورتوں کو کام پر نہیں جانے دیں گے لیکن انہوں نے عورتوں کے لیے نرس اور مختلف شعبوں میں کام جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی اور یہ پروپیگنڈہ بھی اپنی موت آپ مر گیا

    2۔دوسرا پروپیگنڈا یہ تھا کہ یہ لوگ بہت ظالم لوگ ہیں کابل فتح ہونے کے چند دنوں بعد اور امریکی اسلحہ اور ہیلی کاپٹر ہاتھ لگنے کے بعد طالبانوں نے ایک ہیلی کاپٹر اڑایا اور اس کے ساتھ نیچے رسی کےساتھ ایک مجاہد  کو لٹکا کر مشقیں کیں۔ تو انڈین میڈیا نے پروپیگنڈا کیا کہ یہ ایک امریکی ٹرانسلیٹر کو پھانسی دی جا رہی ہے

    3۔افغانستان کا ایک صوبہ پنجشیر جس پر نہ ہی سوویت یونین قبضہ کر سکی اور نہ ہی امریکہ اس کو حاصل کر سکا لیکن چند دنوں میں طالبان نے  اس پر قبضہ کرلیا  تو اس کے خلاف یہ پروپیگنڈا چلایا گیا کہ یہ سراسر پاکستانی مداخلت کی وجہ سے قبضہ ہوا ہے ورنہ طالبان کے اندر اتنی پاور کہاں سے آئی کہ جس کو سوویت یونین قبضے میں لے سکا اور نہ ہی امریکہ  قبضے میں لے سکا اس جنگ میں پاکستان کی مداخلت قرار دیدیا گیا اور کہا گیا کہ اس کے اندر پاکستان کے F16 جہاز اور  ڈرون استعمال ہوئے ہیں ۔جس کی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے واضح الفاظ میں تردید کی

    4۔ااور پھر ملا حسن اخوند کے وزیراعظم بنتے ہی یہ کہا گیا کہ ایک میٹنگ کے دوران طالبان رہنماؤں کے لڑائی ہوئی جس میں ملا عبد الغنی برادر شدید زخمی ہوئے اور شاید فوت بھی ہوگئے 

    اس پرپیگنڈا کے پھیلنے کے بعد ملا عبد الغنی برادر کو بذات خود بیان جاری کرنا پڑا کہ وہ الحمداللہ خیریت سے ۔ وہ سفر میں تھے کہ شر پسند عناصر نے ان کے مرنے کی خبر چلادی

    لیکن ان کرپٹ لوگوں کو کوئی نہیں پوچھتا جو اپنے ساتھ 169ملین ڈالر لےکر افغانستان سےفرار ہوئےتھے۔ ان کےنائب امراللہ صالح کےپاس اتنا کچھ تھاکہ فرار ہونےسے پہلے 6.5 ملین ڈالر نقد اور سونےکی اینٹیں گھر پر چھوڑ دیں

    یہ وہ لوگ ہیں  جو کرپشن کو اپنا وتیرہ سمجھتے ہیں لیکن ان  کی 90فیصد آبادی 2 ڈالر یومیہ سے کم کماتی ہے۔

    جن کو کوئی کام نہ ملے وہ پردے پر پروپیگنڈہ شروع کردیتا ہے ۔ بندہ ان سے پوچھے ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے 

    مسلمانوں نے اسلام کے اصولوں پر چلنا ہے ۔جس طرح مسلمان آپ کے مذہب میں مداخلت نہیں کرتے اس طرح یورپ کو چاہیے کہ اسلام میں مداخلت نہ کریں

    اسی سلسلے میں ٹرمپ نے ایک بیان دیا کہ

    ہم چاہتے ہیں کہ

     خواتین نقاب نہ پہنیں لیکن پھر میں نے انٹرویو دیکھا جس میں انھوں نے کہا کہ ہم یہ پہننا چاہتی ہیں، اور ایک ہزار سال سے پہن رہی ہیں، کوئی ہمیں کیوں بتاتا ہے کہ اسے نہ پہنیں۔ جب وہ پہننچا چاہتی ہیں تو ہمیں کیا پڑی ہے کہ ہم اس میں دخل اندازی کریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ

    جتنا پروپیگنڈا کرنا ہے کر لو لیکن طالبان افغانستان میں ایک حقیقت بن چکی ہے جسے تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی افغانستان کے اندر امن قائم رکھے

     آمین

    ‎@MRamzan26

  • ماہ صفر المظفر کی بدشگونی اور توھمات  تحریر: تیمور خان

    ماہ صفر المظفر کی بدشگونی اور توھمات تحریر: تیمور خان

    صفر المظفر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور اس مہینے کے حوالے سے میں آج چند گذارشات تحریر کر رہا ہوں، اور وہ گذارشات یہ ہیں، کہ جہالت کی وجہ سے عام طور پر اس مہینے کو منحوس مہینا کہا جاتا ہے، اور کم علمی کی وجہ سے جہالت کی وجہ سے اس مہینے کے ساتھ بہت سارے شکوک اور تھمات وابستہ کیے جاتے ہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ شعریت اسلامیہ کی روشنی میں یہ دیکھا جائے کہ ماہ صفر المظفر کے متعلق جو شکوک اور جہالت والی باتیں ہیں ان کی کیا حقیقت ہے،

    یاد رکھیں انسان پہ جو بھی مصیبت آتی ہے تکالیف اور بیماریاں آتی ہے اس کے آنے کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں، اللہ تعالیٰ نے پانچویں پارہ کے سورۃ نساء میں واضح طور پہ فرمایا۔ ٫٫ اے لوگوں تم میں سے جس پر بھی دنیا میں جو بلائی اور خیر ملتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، اور تمہیں دنیا میں جو تکلیفات مشکلات اور مصیبتیں ملتی ہے تو تمہارے اپنے کئے ہوئے شامت اعمال کی وجہ سے ملتی ہیں؛؛

    تو پہلی بنیادی وجہ انسان کو دنیا میں جو تکلیف اور اذیت ملتی ہیں وہ انسان کے اپنے اعمال ہوا کرتے ہیں حالانکہ اللہ تمہارے گناہ اور تکسیرات کو معاف بھی کر دیتا ہے،اور  دوسری بنیادی وجہ انسان پہ جو مصیبتیں اور تکالیف آتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائشی کے طور پر آتی ہے، ان میں گناہوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ میرے اس بندے کے دراجات بلند ہوں اور جب اللہ اپنے بندے کو اپنا قرب دینا چاہتا ہے اپنا نزدیک بنانا چاہتا ہے، تو پھر بندے پہ اللہ اپنے امتحانات مقرر کر دیتا ہے، اور جب ان تکالیف اور امتحانات کے باوجود بندہ صبر سے کام لیتا ہے اور اللہ سے محبت کرتا ہے اللہ سے لو لگائی رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے درجات بلند کرتا ہے۔ 

    اسی کے متعلق اللہ تبارک وتعالٰی نے دوسرے پارہ میں ارشاد فرمایا٫٫ اے لوگوں ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور آزمائیں گے ڈر کی وجہ سے، اس ڈر کی وجہ سے تمہیں آزمائیں گے، کبھی تمہیں بھوکا رکھیں وہ تمہاری آزمائش ہوگی، تمہارے مالوں میں ہم کمی کر دینگے ، تمہاری جانوں کا بھی ہم امتحان لینگے، اور کبھی کبھی میووں کے ذریعے تمہاری آزمائش لیں گے، اولاد چین کے تمہارا امتحان لیں گے، لیکن اللہ نے فرمایا اے میرے حبیب ان تکالیف میں جو صبر کرنے والے ہیں آپ ان کو خوشخبری دے دیجیے۔

    یہی وجہ ہے انبیاء کرام جو کے تمام انسانوں میں سب سے افضل اور اشرف جماعت ہیں ان پہ سب سے زیادہ تکلیفات اور مصیبتیں آئیں سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا جتنی تکلیفات اور مصیبتیں انبیاء اور سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں مجھ پہ آئیں اتنی آج تک کسی بھی نبی پہ  نہیں آئیں، تو جو اللہ کا جتنا ہی زیادہ مقرب ہوگا اس کی مشکلات بھی اتنی ہی زیادہ ہونگی لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ جب عام انسان پہ مشکلات اور مصیبتیں آتی ہیں تو وہ شور مچائے گا وہ اللہ سے شکوہ کرے گا، لیکن جب اللہ کا نیک بندہ ہوگا اس کے ظاہری چہرے سے بھی کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ یہ تکلیف میں ہے وہ صبر اور تحمل سے کام لے گا، اسی لئے اللہ فرماتا ہے کہ انہیں لوگوں پہ اللہ کی رحمت پھر اترتی ہے۔

    تو اسی لئے میں نے شروع میں تحریر کیا کہ صفر المظفر کا مہینہ ہے لوگ جہالت کی وجہ سے منحوس کا لقب دیتے ہیں زمانہ جاہلیت میں جب بھی صفر المظفر کا مہینہ آتا لوگ تجارت کے لئے نہیں جاتے تھے لوگ سوچتے تھے اگر تجارت کے لئے جاؤں گا تو مجھے تجارت میں نقصان ملے گا، لوگ اس مہینے میں شادیاں روک لیتے تھے ان کا کہنا تھا یہ شادی ناکام ہو جائے گی یہاں تک کہ اس مہینے میں کوئی بھی فیصلہ جس میں انسان اپنے کامیابی کی طرف جاتے تھے وہ اس مہینے میں وہ فیصلے نہیں کرتے تھے، لیکن جب اسلام آیا تو اسلام نے اسے قسم کے شکوک تھمات کو ختم کر دیا اسلام نے کہا یہ سب توھمات ہیں، اسلام نے کہا سارے مہینے اللہ کہ محرم الحرام بھی اللہ کا مہینہ ہے صفر المظفر بھی اللہ کا مہینہ ہے ذی الحجہ تک جتنے بھی قمری مہینے ہیں یہ سب اللہ کے مہینے ہیں کوئی بھی نحوست کی بات نہیں بلکہ اسلام نے لفظ نحوست کو ختم کیا۔ ، جب اسلام نے کسی چیز میں کمی نہیں چوڑی تو پھر توھم کس بات کا، جب تم اللہ پہ توکل کرو گے کوئی وسوسہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا توھم کے بت سرکارِ دوعالم ﷺ نے دفنا دیے ہیں

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا بخآری مسلم شریف کی حدیث ہے، آپ نے فرمایا چار چیزیں جن کو عرب نے منحوس قرار دیا وہ کہتے تھے بیماری خود بخود ایک انسان سے دوسرے کو لگتی ہیں اسلام نے اس کو ختم کر دیا یہ توھم والی بات ہے ایک بیماری اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بغیر دوسرے انسان کو کبھی بھی نہیں لگتی محدیثین فرماتے ہیں بلکہ اللہ کا ارادہ اس میں شامل ہوتا ہے، حضور نے فرمایا بدفغالی اسلام میں نہیں٫ مثال کے طور پر میں راستے میں جا رہا تھا کالی بلی میرے سامنے سے گزر گئی اس لئے میں بیمار ہوا؛ فلاں میرے ماتھے پہ لگا صبحِ صبح،، البتہ نیک فعا لی  ہے، مثال کے طور پر آج میرا دن بہت اچھا گزرا کیوں کہ میں نے اپنی ماں کے چہرے کی زیارت کی۔ حضور نے فرمایا علو میں بھی کوئی نحوسیت نہیں، ٫٫علو ایک پرندہ ہے؛؛ جس کو عرب والے نحوس پرندہ کہتے تھے، جب کوئی راستہ پہ جاتا تو اگر راستے میں اس کو علو کی آواز آتی یا اسکا نظر علو پر لگتا تو وہ واپس آتے تھے، اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ صفر المظفر میں بھی کوئی نحوسیت نہیں ، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں صفر المظفر کو نحوس مہینہ کہا جاتا تھا خصوصاً صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو منحوس کہا جاتا ہے یہ رسم ہمارے معاشرے میں ہندستان سے آئی ہے چونکہ ہم متحدہ ہندوستان میں تھے پہلے ہمارے بڑے اکٹھے رہتے تھے سکوں اور ہندوؤں کے ساتھ کیونکہ یہ ان کے ہی توھمات  تھے اور یہی توھمات زمانہ جاہلیت میں عرب کے بھی تھے اور ہمارے برصغیر میں صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو تیرہ تیزی بھی کہتے ہیں، تیرہ تیزی کا مطلب کی اس مہینے کے پہلے تیرہ دن سخت ہوتے ہیں،، تو سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ ان باتوں کا کوئی بھی اصل نہیں ہے یہ جھوٹ اور جہالت والی باتیں ہیں سارے دن اللہ کے ہیں اور اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں اسی لئے علماء نے کہا کہ صفر کے نام کے ساتھ  المظفر کا نام بھی لگا دیا کرو آپ نے اکثر دیکھا بھی ہوگا، المظفر کا مطلب کامیابی،، تو صفر المظفر یعنی وہ مہینہ جس میں انسان کو کامیابیاں ملتی ہیں، یہ المظفر کا لفظ ساتھ میں اس لئے لگایا گیا تاکہ لوگوں کے دلوں سے وہ توھمات اور بد شگونیاں نکل جائیں۔ اس لئے اس مہینے میں اس قسم کی باتیں کرنا یہ جہالت والی باتیں اس قسم کی باتوں کا اسلام میں کوئی حقیقت نہیں۔ صفر المظفر کے پورے مہینے میں اکثر لوگ پورا مہینہ یا صفر کے آخری بدھ کو کیر پکھاتے ہیں یا کوئی خیرات کرتے ہیں، اگر یہ اپنے بڑوں کے ایصالِ ثواب کے لئے کرتے ہیں اور اس کے لئے کوئی دن بھی مقرر نہیں یعنی پورے مہینے میں ہر وقت کرے پھر جائز ہے اور اگر نہیں صرف اس کے لئے خاص دن یعنی بدھ رکھا گیا ہو تو پھر ناجائز ہے اگرچہ ہمیں اس کا اصلاح کرنا چاہیے کہ آپ جو بھی خیرات دے رہے ہو وہ اللہ کی رضا اور بڑوں کے ایصالِ سواب کے لئے اگر وہ بدھ ہو گا جمعرات تو پھر جائز ہے۔ بعض غیر مستند کتب او رسالوں میں ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ اس آخری بدھ والے دن ہم چوری یا خیرات اس لئے کرتے ہیں کہ یہ بیبیوں نے کی تھی اور خاص کر حضرت فاطمہ خاتون جنت کے متعلق اس قسم کی روایات بیان کی جاتی ہے یاد رکھیں یہ روایت غلط ہے اس کی بھی کوئی اصل نہیں۔٫٫ اور روایت یہ پیش کی جاتی ہے کہ صفر کا جو آخری بدھ تھا سرکارِ دوعالم ﷺ چونکہ اس بدھ سے پہلے بیمار تھے اور اس آخری بدھ کو آپ کی تبعیت زرہ سی ٹھیک ہوئی تھی اور آپ گھر سے باہر تشریف لائے تھے، تو اس خوشی میں خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہرہ نے کچھ خیرات کیا تھا، تو یاد رکھیں صدقہ اور خیرات بلکل جائز ہے لیکن اس روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قسم کی بنیاد پر یہ بلکل ناجائز ہے، ہمارے برصغیر پاک و ہند میں جتنے بھی بڑے بڑے علماء ہیں انھوں نے اس روایت سے یکسر انکار کیا ہے یہاں تک کہ مستند کتابوں میں بھی اس کا کوئی اصل نہیں بلکہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ نے اپنے تصانیف میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آخری بدھ تھا صفر المظفر کا اس میں سرکارِ دوعالم ﷺ کی بیماری اور بھی زیادہ ہو گئی تھی، بعض لوگ لا علمی کی وجہ سے کہ آپ کی بیماری شائد کم ہوئی تھی تو اس لئے اگر کوئی  اس نیت سے کہ آخری بدھ والے دن  صدقہ یا خیرات کرتا ہے تو یہ ناجائز ہے باقی اگر کوئی اچھے نیت سے محرم سے لے کر ذی الحجہ تک اور صفر المظفر کے پورے مہینے خیرات کرتا ہے اس کو منع نہیں کرنا چاہیے یہ جائز ہے اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کے توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @ImTaimurKhan

  • طب، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کون کون سے ادویہ کا ذکر قرآن وحدیث میں آیا تحریر اکرام اللہ نسیم

    قرآن مجید اللہ پاک کی آخری نازل شدہ آسمانی کتاب ہے جو نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ وسلم پر تیس سال کے عرصے میں نازل ہوئی اللہ پاک نے ہر مسلمان کو قرآن مجید کو پڑھنے اور اسکو سمجھنے کے لئے بھیجا تاکہ اسکو سمجھ کر صحیح معنوں میں دین اسلام پر چلنے کا سلیقہ آئے

     اسکے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں طبی ادویات کا ذکر کیا تاکہ انسان بیماری کی صورت میں ان ادویات سے فائدہ   اٹھا سکے

    اللہ پاک نے قرآن مجید میں  انجیر ، زیتون ، کافور، کھجور، دودھ ،انار ، مچھلی ، یاقوت، مرجان، شہد، پیاز مٹی ریشم سونا چاندی ترنجبین  زنجبیل مونگا موتی الحدید پرندوں کا گوشت بیر ریحان جانوروں کا گوشت مختلف پھلوں میوں اور بارش کے پانی کا بھی ذکر کیا 

    طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد وہ تمام ادویہ اغذیہ بقاء صحت کی تدابیر اور وہ چیزیں جو قرآن وحدیث سے ثابت ہو

    حدیث میں ان ادویہ کا ذکر ہے کھمبی سناء شہد سویا تلبینہ قسط زیتون مہندی سرمہ اونٹنی کا دودھ کافور زعفران تربوز گھی بیر ریحان کستوری  ریشم لوبان ثرید آب بارش  زم زم چقندر کاسنی  کا ذکر ہے اسکے علاوہ بھی دیگر اشیاء کا ذکر ہے 

    عطائی معالج کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے علاج کیا حالانکہ اس سے علاج معالجے کا کچھ علم نہ تھا  اس حال میں زمہ داری اس معالج پر آئے گی  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے طب کا علم نہ ہونے کے باوجود معالجے کی زمہ داری لی تو وہ ہر طرح کے نقصان کا ذمہ دار ہوگا 

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار کے بیمار کے لئے جو کا دلیا بنانے کا حکم دیتے اور وہ مریض کو کھلایا جاتا  

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھمبی کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء بخش ہے اور تلبینہ دل کے بیمار کے لئے تسکین بخش ہے اور یہ غم کو زائل کرتاہے بہی کے بارے میں فرمایا کہ یہ دل کو مضبوط کرتی ہے روح کو نشاط بخشتی ہے اور سینے کی گھٹن کو دور کرتی ہے

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کلونجی میں ہر بیماری کے لئے شفاء ہے سماء اور شہد کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں کو استعمال کرو اسمیں سوائے موت کہ ہر بیماری کی شفاء ہے 

    اسہال کی شکایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نے ایک شخص کو شہد تین بار پینے کا کہا تین مرتبہ پینے کے بعد اسکو شفاء مل گئی

    زم زم کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں ہر بیماری کی شفاء ہے 

    زیتون کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسمیں 72بیماریوں کی شفاء ہے

    ہر انار کے اندر جنت کے پانی کا ایک قطر ہے 

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمہ میں بہترین سرمہ اثمد ہے یہ بینائی کو روشن کرتا ہے اور بال اگاتا ہے

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے کاسنی موجود ہے کیونکہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا  کہ جب جنت کے پانی کے قطرے اس پر نہ گرتے ہوںکاسنی کھاؤ مگر اسے جھاڑو متکاسنی بچھو کے کاٹے پر لگانا مفید ہے اور آنکھ میں ڈالنا موتیا کو فایدہ دیتا ہے

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل  ‎@realikramnaseem

  • امت محمدی ﷺپانچ نمازیں تحریر:محمد آصف شفیق

    امت محمدی ﷺپانچ نمازیں تحریر:محمد آصف شفیق

    امت محمدی ﷺپانچ نمازیں  اجرثواب پچاس نمازوں کا
    نبی کریم ﷺ کو اللہ رب العالمین کی طرف سے پانچ نمازوں کا تحفہ  ملا  ، جو ہیں تو پانچ مگرثواب  میں  پچاس کے برابر ہیں اسی حوالے سے  صحیح احادیث  کی روشنی میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں  
    یحیی بن بکیر، لیث، یونس، ابن شہاب، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شب میرے گھر کی چھت پھٹ گئی اور میں مکہ میں تھا، پھر جبرائیل علیہ السلام  اترے اور انہوں نے میرے سینہ کو چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر ایک طشت سونے کا حکمت وایمان سے بھرا ہوا لائے اور اسے میرے سینہ میں ڈال دیا، پھر سینہ کو بند کر دیا، اس کے بعد میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے آسمان پر چڑھا لے گئے، جب میں دنیا کے آسمان پر پہنچا، تو جبرائیل علیہ السلام  نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ (دروازہ) کھول دے، اس نے کہا کون ہے؟ وہ بولے جبرائیل علیہ السلام  ہے، پھر اس نے کہا، کیا تمہارے ساتھ کوئی (اور بھی) ہے، جبرائیل علیہ السلام  نے کہا ہاں! میرے ہمراہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس نے کہا وہ بلائے گئے تھے؟ جبرائیل علیہ السلام  علیہ السلام نے کہا ہاں! جب دروازہ کھول دیا گیا، تو ہم آسمان دنیا کے اوپر چڑھے، یکایک ایک ایسے شخص پر نظر پڑی، جو بیٹھا ہوا تھا، اس کی داہنی جانب کچھ لوگ تھے، اور اس کی بائیں جانب (بھی) کچھ لوگ تھے، جب وہ اپنے داہنی جانب دیکھتے تو ہنس دیتے اور جب بائیں جانب دیکھتے تو رو دیتے، انہوں نے (مجھے دیکھ کر) کہا کہ مرحبا بالنبی الصالح والابن الصالح میں نے جبرائیل علیہ السلام  سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے یہ آدم ہیں، اور یہ لوگ ان کے دائیں اور بائیں ان کی اولاد کی روحیں ہیں، دائیں جانب جنت والے ہیں اور بائیں جانب دوزخ والے، اسی لئے جب وہ اپنی داہنی جانب نظر کرتے ہیں، تو ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں، تو رونے لگتے ہیں، یہاں تک کہ مجھے دوسرے آسمان تک لے گئے، اور اس کے داروغہ سے کہا کہ (دروازے) کھول دے، تو ان سے داروغہ نے اسی قسم کی گفتگو کی، جیسے پہلے نے کی تھی، پھر (دروازہ) کھول دیا گیا، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، پھر ابوذر نے ذکر کیا کہ آپﷺ نے آسمانوں میں آدم علیہ السلام، ادریس علیہ السلام، موسٰی علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام اور ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات کی، اور یہ نہیں بیان کیا کہ ان کے مدارج کس طرح ہیں، سوا اس کے کہ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ آدم علیہ السلام کو آسمان دنیا میں، اور ابراہیم علیہ السلام  سے چھٹے آسمان میں پایا، انس کہتے ہیں پھر جب جبرائیل علیہ السلام  نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر حضرت ادریس علیہ السلام  کے پاس سے گذرے تو انہوں نے کہامَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ (آپ فرماتے ہیں) میں نے جبرائیل علیہ السلام  سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا یہ ادریس علیہ السلام  ہیں، پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، تو انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ میں نے (جبریل سے) پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام  ہیں، پھر میں عیسیٰ علیہ السلام  کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا یہ عیسیٰ علیہ السلام  ہیں، پھر میں ابراہیم علیہ السلام  کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا، یہ ابراہیم علیہ السلام  ہیں، ابن شہاب کہتے ہیں مجھے ابن حزم نے خبر دی کہ ابن عباس اور ابوحبہ انصاری کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے چڑھا لے گئے، یہاں تک کہ میں ایک ایسے بلند مقام میں پہنچا، جہاں (فرشتوں کے) قلموں کی کشش کی آواز میں نے سنی، ابن حزم اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، جب میں یہ فریضہ لے کر لوٹا، تو موسیٰ علیہ السلام پر گذرا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اللہ نے آپﷺ کے لئے آپ کی امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا کہ پچاس نمازیں فرض کی ہیں، انہوں نے (یہ سن کر) کہا کہ اپنے اللہ کے پاس لوٹ جائیے، اس لئے کہ آپﷺ کی امت (اس قدر عبادت کی) طاقت نہیں رکھتی، تب میں لوٹ گیا، تو اللہ نے اس کا ایک حصہ معاف کردیا، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس لوٹ کر آیا، اور کہا کہ اللہ نے اس کا ایک حصہ معاف کردیا ہے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر وہی کہا کہ اپنے پروردگار سے رجوع کیجئے، کیونکہ آپ ﷺکی امت (اس کی بھی) طاقت نہیں رکھتی، پھر میں نے رجوع کیا تو اللہ نے ایک حصہ اس کا (اور) معاف کر دیا، پھر میں ان کے پاس لوٹ کر آیا اور بیان کیا تو وہ بولے کہ آپﷺ اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جائیں، کیونکہ آپﷺ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی، چنانچہ پھر میں نے اللہ سے رجوع کیا تو اللہ نے فرمایا کہ اچھا (اب) یہ پانچ (رکھی) جاتی ہیں اور یہ (در حقیقت با اعتبار ثواب کے) پچاس ہیں، میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی، پھر میں موسیٰ کے پاس لوٹ کر آیا، انہوں نے کہا پھر اپنے پرودگار سے رجوع کیجئے، میں نے کہا (اب) مجھے اپنے پروردگار سے باربار کہتے ہوئے شرم آتی ہے، پھر مجھے روانہ کیا گیا، یہاں تک کہ میں سدرۃ المنتہی پہنچایا گیا اور اس پر بہت سے رنگ چھا رہے تھے، میں نہ سمجھا کہ یہ کیا ہیں؟ پھر میں جنت میں داخل کیا گیا (تو کیا دیکھتا ہوں) کہ اس میں موتی کی لڑیاں ہیں اور ان کی مٹی مشک ہے۔
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 346           

    @mmasief

  • 7ستمبر یوم الفتح، یوم تحفظ ختم نبوت  تحریر : احسان اللہ خان

    7ستمبر یوم الفتح، یوم تحفظ ختم نبوت تحریر : احسان اللہ خان

    جب قومی اسمبلی میں فیصلہ ہوا کہ قادیانیت کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنا موقف اور دلائل دینے قومی اسمبلی میں آئیں تو۔۔۔

    مرزا ناصر قادیانی سفید شلوار کرتے میں ملبوس طرے دار پگڑی باندھ کر آیا۔متشرع سفید داڑهی۔قرآن کی آیتیں بهی پڑھ رہے تهے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اسم مبارک زبان پر لاتے تو پورے ادب کے ساتھ درودشریف بهی پڑہتے۔ مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسے میں ارکان اسمبلی کہ ذہنوں کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں تها۔ماہ نامہ "الحق اکوڑہ خٹک” کے شمارہ جنوری 1975 کے صفحہ نمبر 41 پر بیان فرماتے ہیں۔۔۔ 

    "یہ مسلہ بہت بڑا اور مشکل تها” 

    اللہ کی شان کہ پورے ایوان کی طرف سے مفتی محمود صاحب کو ایوان کی ترجمانی کا شرف ملا اور مفتی صاحب نے راتوں کو جاگ جاگ کر مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔حوالے نوٹ کیئے۔سوالات ترتیب دیئے۔ اسی کا نتیجہ تها کہ مرزا طاہرقادیانی کے طویل بیان کے بعد جرح کا جب آغاز ہوا تو اسی "الحق رسالے” میں مفتی محمود صاحب فرماتے ہیں کہ 

    "ہمارا کام پہلے ہی دن بن گیا”

    اب سوالات مفتی صاحب کی طرف سے اور جوابات مرزا طاہر قادیانی کی طرف سے آپ کی خدمت میں۔۔۔

    سوال۔مرزا غلام احمد کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

    جواب۔وہ امتی نبی تهے۔امتی نبی کا معنی یہ ہے کہ امت محمدیہ کا فرد جو آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل کر لے۔

    سوال۔اس پر وحی آتی تهی؟

    جواب۔آتی تهی۔

    سوال۔ (اس میں) خطا کا کوئی احتمال؟

    جواب۔بالکل نہیں۔

    سوال۔مرزا قادیانی نے لکها ہے جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا” خواہ اس کو میرا نام نہ پہنچا ہو (وہ) کافر ہے۔پکا کافر۔دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اس عبارت سے تو ستر کروڑ مسلمان سب کافر ہیں؟

    جواب ۔کافر تو ہیں۔لیکن چهوٹے کافر ہیں”جیسا کہ امام بخاری نے اپنے صحیح میں "کفردون کفر” کی روایت درج کی ہے۔

    سوال۔آگے مرزا نے لکها ہے۔پکا کافر؟

    جواب۔اس کا مطلب ہے اپنے کفر میں پکے ہیں۔

    سوال۔آگے لکها ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔حالانکہ چهوٹا کفر ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے؟

    جواب۔دراصل دائرہ اسلام کے کئیں کٹیگیریاں ہیں۔اگر بعض سے نکلا ہے تو بعض سے نہیں نکلا ہے۔

    سوال ایک جگہ اس نے لکها ہے کہ جہنمی بهی ہیں؟

    (یہاں مفتی صاحب فرماتے ہیں جب قوی اسمبلی کے ممبران نے جب یہ سنا تو سب کے کان کهڑے ہوگئے کہ اچها ہم جہنمی ہیں اس سے ممبروں کو دهچکا لگا)

    اسی موقع پر دوسرا سوال کیا کہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا ہے جو امتی نبی ہو؟ کیا صدیق اکبر ؓ یا حضرت عمر فاروق ؓ امتی نبی تهے؟

    جواب۔ نہیں تھے۔

    اس جواب پر مفتی صاحب نے کہا پهرتو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد آپ کا ہمارا عقیدہ ایک ہوگیا۔بس فرق یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہیں۔تم مرزا غلام قادیانی کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہو۔تو گویا تمہارا خاتم النبیین مرزا غلام قادیانی ہے۔اور ہمارے خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

    جواب۔وہ فنا فی الرسول تهے۔یہ ان کا اپنا کمال تها۔وہ عین محمد ہوگئے تهے (معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی تهی )

    سوال۔مرزا غلام قادیانی نے اپنے کتابوں کے بارے میں لکها ہے۔اسے ہر مسلم محبت و مودت کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔اور ان کے معارف سے نفع اٹهاتا ہے۔ مجهے قبول کرتا ہے۔اور(میرے) دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔مگر (ذزیتہ البغایا ) بدکار عورتوں کی اولاد وہ لوگ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا رکهی ہے۔وہ مجهے قبول نہیں کرتے۔؟

    جواب۔بغایا کہ معنی سرکشوں کے ہیں۔

    سوال۔بغایا کا لفظ قرآن پاک میں آیا ہے” و ما کانت امک بغیا” سورہ مریم ) ترجمہ ہے تیری ماں بدکارہ نہ تهی”

    جواب۔قرآن میں بغیا ہے۔بغایا نہیں۔

    اس جواب پر مفتی صاحب نے فرمایا کہ صرف مفرد اور جمع کا فرق ہے۔نیز جامع ترمذی شریف میں اس مفہوم میں لفظ بغایا بهی مذکور ہے یعنی "البغایا للاتی ینکحن انفسهن بغیر بینه” )پھر جوش سےکہا) میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اس لفظ بغیه کا استعمال اس معنی (بدکارہ) کے علاوہ کسی دوسرے معنی میں ہر گز نہیں کر کے دکها سکتے۔!!!

    (اور مرزا طاہر لاجواب ہوا یہاں )

    13 دن کے سوال جواب کے بعد جب فیصلہ کی گهڑی آئی تو 22 اگست1974 کو اپوزیشن کی طرف سے 6 افراد پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔جن میں مفتی محمود صاحب، مولانا شاہ احمدنورانی صاحب، پروفیسر غفور احمد صاحب، چودہری ظہور الہی صاحب، مسٹر غلام فاروق صاحب”سردار مولا بخش سومرو صاحب اور حکومت کی طرف سے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تهے۔ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ یہ آئینی و قانون طور پر اس کا حل نکالیں۔تاکہ آئین پاکستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کے کفر کو درج کردیا جائے۔لیکن اس موقع پر ایک اور مناظرہ منتظر تها۔۔۔

    کفرِ قادیانیت و لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح تیرہ روز تک جاری رہی۔گیارہ دن ربوہ گروپ پر اور دو دن لاہوری گروپ پر۔ہرروز آٹھ گھنٹے جرح ہوئی۔اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بےنقاب کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک اور مناظرہ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئین پاکستان میں اس مقدمہ کا "حاصل مغز "کیسے لکھا جائے۔؟

    مسلسل بحث مباحثہ کے بعد۔۔۔

    22 اگست سے 5 ستمبر 1974 کی شام تک اس کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے۔مگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہوسکی۔سب سے زیادہ جهگڑا دفعہ 106 میں ترمیم کے مسلے پر ہوا۔حکومت چاہتی تھی اس میں ترمیم نہ ہو۔اس دفعہ 106 کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی تهی۔ ایک بلوچستان میں۔ایک سرحد میں۔ایک دو سندھ میں اور پنجاب میں تین سیٹیں اور کچھ 6 اقلیتوں کے نام بهی لکهے ہیں۔عیسائی۔ہندو پارسی۔بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچهوت۔

    مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان یہ چاہتے تهے کہ ان 6 کی قطار میں قادیانیوں کو بهی شامل کیا جائے۔تاکہ کوئی "شبہ” باقی نہ رہے۔

    اس کے لیے بهٹو حکومت تیار نہ تهی۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا اس بات کو رہنے دو۔

    مفتی محمود صاحب نے کہا جب اور اقلیتوں اور فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بهی لکھ دیں۔

    پیرزادہ نے جواب دیا کہ ان اقلیتوں کا خود کا مطالبہ تها کہ ہمارا نام لکھا جائے۔ جب کہ مرزائیوں کی یہ ڈیمانڈ نہیں ہے۔

    مفتی صاحب نے کہا کہ یہ تو تمہاری تنگ نظری اور ہماری فراخ دلی کا ثبوت ہے کہ ہم ان مرزائیوں کو بغیر ان کی ڈیمانڈ کے انہیں دے رہے ہیں (کمال کا جواب )

    اس بحث مباحثہ کا 5 ستمبر کی شام تک کمیٹی کوئی فیصلہ ہی نہ کرسکی۔چنانچہ 6 ستمبر کو وزیراعظم بهٹو نے مفتی محمود سمیت پوری کمیٹی کے ارکان کو پرائم منسٹر ہاوس بلایا۔لیکن یہاں بهی بحث و مباحثہ کا نتیجہ صفر نکلا۔حکومت کی کوشش تهی کہ دفعہ 106 میں ترمیم کا مسلہ رہنے دیا جائے۔

    جب کہ مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان سمجهتے تهے کہ اس کے بغیر حل ادهورا رہے گا۔

    بڑے بحث و مباحثہ کے بعد بهٹو صاحب نے کہا کہ میں سوچوں گا۔

    عصر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے مفتی صاحب اور دیگر کمیٹی ارکان کو اسپیکر کے کمرے میں بلایا۔ مفتی محمود صاحب اور کمیٹی نے وہاں بهی اپنے اسی موقف کو دهرایا کہ دفعہ 106 میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ مرزائیوں کا نام لکها اور اس کی تصریح کی جائے۔

    اور بریکٹ میں قادیانی اور لاہوری گروپ لکها جائے۔

    پیرزادہ صاحب نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے، احمدی کہتے ہیں۔

    مفتی محمود صاحب نے کہا کہ احمدی تو ہم ہیں۔ہم ان کو احمدی تسلیم نہیں کرتے۔پهر کہا کہ چلو مرزا غلام احمد کے پیرو کار لکھ دو۔

    وزیرقانون نے نکتہ اٹهایا کہ آئین میں کسی شخص کا نام نہیں ہوتا (حالانکہ محمد علی جناح کا نام آئین میں موجود ہے ) اور پهر سوچ کر بولے کہ مفتی صاحب مرزا کا نام ڈال کر کیوں آئین کو پلید کرتے ہو؟۔وزیر قانون کا خیال تها شاید مفتی محمود صاحب اس حیلے سے ٹل جائیں گے۔ (لیکن مفتی تو پهر مفتی صاحب تهے )

    مفتی صاحب نے جواب دیا کہ شیطان۔ابلیس۔خنزیر اور فرعون کے نام تو قرآن پاک میں موجود ہیں۔کیا ان ناموں سے نعوذ باللہ قرآن پاک کی صداقت و تقدس پر کوئی اثر پڑا ہے۔؟ 

    اس موقع پر وزیر قانون پیرزادہ صاحب لاجواب ہو کر کہنے لگے۔

    چلو ایسا لکھ دو جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔

    مفتی صاحب نے کہا بریکٹ بند ثانوی درجہ کی حیثیت رکهتا ہے۔صرف وضاحت کے لیے ہوتا ہے۔لہذا یوں لکھ دو قادیانی گروپ۔لاہوری گروپ جو اپنے کو احمدی کہلاتے ہیں۔اور پهر الحمدللہ اس پر فیصلہ ہوگیا۔

    تاریخی فیصلہ۔۔۔

    7 ستمبر 1974 ہمارے ملک پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ یادگار دن تها جب 1953 اور 74 کے شہیدانِ ختم نبوت کا خون رنگ لایا۔اور ہماری قومی اسمبلی نے ملی امنگوں کی ترجمانی کی اور عقیدہ ختم نبوت کو آئینی تحفظ دے کر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔

    دستور کی دفعہ 260 میں اس تاریخی شق کا اضافہ یوں ہوا ہے۔

    "جو شخص خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط ایمان نہ رکهتا ہو۔اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی بهی معنی و مطلب یا کسی بهی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو۔وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں۔

    اور دفعہ 106 کی نئی شکل کچھ یوں بنی۔۔۔۔۔

    بلوچستان پنجاب سرحد اور سندھ کے صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کے لیے مخصوص نشستیں ہوں گی جو عیسائی۔ہندو سکھ۔بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانیوں گروہ یا لاہوری افراد( جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ) یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکهتے ہیں۔ (ان کی) بلوچستان میں ایک۔سرحد میں ایک۔پنجاب میں تین۔اور سندھ میں دو سیٹیں ہوں گی، یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر ہے۔کہ اس ترمیم کے حق میں 130 ووٹ آئے اور مخالفت میں ایک بهی ووٹ نہیں آیا ۔( آجاتا اگر غامدی صاحب اس وقت موجود ہوتے ) اس موقع پر اس مقدمہ کے قائد مفتی محمود رحمہ اللہ نے فرمایا۔۔۔۔

    اس فیصلے پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔میرے خیال میں مرزائیوں کو بهی اس فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیئے۔کیونکہ اب انہیں غیر مسلم کے جائز حقوق ملیں گے۔

    Twitter | @IhsanMarwat_786